رَوْحٌ ، ابنُ جُرَيْجٍ ، عَمْرُو بنُ يَحْيَى بنِ عُمَارَةَ بنِ أَبي حَسَنٍ ، مَرْيَمُ ابنَةُ إِيَاسِ بنِ الْبكَيْرِ ، بعْضِ
حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا ابنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبرَنِي عَمْرُو بنُ يَحْيَى بنِ عُمَارَةَ بنِ أَبي حَسَنٍ ، حَدَّثَتْنِي مَرْيَمُ ابنَةُ إِيَاسِ بنِ الْبكَيْرِ صَاحِب النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَنْ بعْضِ أَزْوَاجِ النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ النَّبيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَيْهَا، فَقَالَ:" أَعِنْدَكِ ذَرِيرَةٌ؟"، قَالَتْ: نَعَمْ، فَدَعَا بهَا، فَوَضَعَهَا عَلَى بثْرَةٍ بيْنَ أَصَابعِ رِجْلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: " اللَّهُمَّ مُطْفِئَ الْكَبيرِ، وَمُكَبرَ الصَّغِيرِ، أَطْفِهَا عَنِّي" , فَطُفِئَتْ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ایاس بن بکیر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنی کسی زوجہ محترمہ کے یہاں تشریف لے گئے اور ان سے پوچھا کیا تمہارے پاس " ذریرہ " نامی خوشبو ہے؟ انہوں نے عرض کیا جی ہاں! نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے منگوایا اور اپنے پاؤں کی انگلیوں کے درمیان پھنسیوں پر لگانے لگے پھر یہ دعا کی اے بڑے کو بجھانے والے اور چھوٹے کو بڑا کرنے والے اللہ! اس پھنسی کو دور فرما چناچہ وہ پھنسیاں دور ہوگئیں۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23141]
حکم دارالسلام
إسناده إلى مريم بنت إياس صحيح، وقد اختلف فى صحبتها
الحكم: إسناده إلى مريم بنت إياس صحيح، وقد اختلف فى صحبتها