بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
أَحَادِيثُ رِجَالٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 137
صفحہ 4 از 7
حدیث نمبر: 23122 مسند احمد
مُحَمَّدُ بنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبةُ ، يَزِيدَ بنِ أَبي زِيَادٍ ، زَيْدِ بنِ وَهْب ، رَجُلٍ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبةُ ، عَنْ يَزِيدَ بنِ أَبي زِيَادٍ ، عَنْ زَيْدِ بنِ وَهْب ، عَنْ رَجُلٍ , أَنَّ أَعْرَابيًّا أَتَى النَّبيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَكَلَتْنَا الضَّبعُ! فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " غَيْرُ الضَّبعِ عِنْدِي أَخْوَفُ عَلَيْكُمْ مِنَ الضَّبعِ، إِنَّ الدُّنْيَا سَتُصَب عَلَيْكُمْ صَبا، فَيَا لَيْتَ أُمَّتِي لَا تَلْبسُ الذَّهَب" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک دیہاتی آدمی ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا یا رسول اللہ! ہمیں قحط سالی نے کھالیا ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا میرے نزدیک تمہارے متعلق قحط سالی سے زیادہ ایک اور چیز خطرناک ہے عنقریب تم پر دنیا انڈیل دی جائے گی کاش! میرے امتی سونا نہ پہنیں۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23122]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف يزيد بن أبى زياد، والرجل المبهم فى الإسناد هو أبو ذر الغفاري
الحكم: إسناده ضعيف لضعف يزيد بن أبى زياد، والرجل المبهم فى الإسناد هو أبو ذر الغفاري
حدیث نمبر: 23123 مسند احمد
مُحَمَّدُ بنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبةُ ، عَاصِمِ بنِ كُلَيْب ، أَبيهِ ، رَجُلٍ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبةُ ، عَنْ عَاصِمِ بنِ كُلَيْب ، عَنْ أَبيهِ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ مُزَيْنَةَ، أَوْ جهينة، قَالَ: كَانَ أَصْحَاب النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا كَانَ قَبلَ الْأَضْحَى بيَوْمٍ، أَوْ بيَوْمَيْنِ أَعْطَوْا جَذَعَيْنِ، وَأَخَذُوا ثَنِيًّا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ الْجَذَعَةَ تُجْزِئُ مِمَّا تُجْزِئُ مِنْهُ الثَّنِيَّةُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
مزینہ یا جہینہ کے ایک آدمی کا کہنا ہے کہ بقر عید ایک دو دن قبل صحابہ کرام رضی اللہ عنہم چھ ماہ کے دو بھیڑ دے کر پورے سال کا ایک جانور لے لیتے تھے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جس کی طرف سے ایک سال کا جانور کفایت کرتا ہے چھ ماہ کا بھی اس کی طرف سے کفایت کرجاتا ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23123]
حکم دارالسلام
إسناده قوي
الحكم: إسناده قوي
حدیث نمبر: 23124 مسند احمد
مُحَمَّدُ بنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبةُ ، عَاصِمِ بنِ كُلَيْب ، عِيَاضِ بنِ مَرْثَدٍ، أَوْ مَرْثَدِ بنِ عِيَاضٍ ، رَجُلٍ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبةُ ، عَنْ عَاصِمِ بنِ كُلَيْب ، عَنْ عِيَاضِ بنِ مَرْثَدٍ، أَوْ مَرْثَدِ بنِ عِيَاضٍ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْهُمْ أَنَّهُ سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَخْبرْنِي بعَمَلٍ يُدْخِلُنِي الْجَنَّةَ، قَالَ: " هَلْ مِنْ وَالِدَيْكَ مِنْ أَحَدٍ حَيٌّ؟"، قَالَه لَهُ مَرَّاتٍ، قَالَ: لَا، قَالَ:" فَاسْقِ الْمَاءَ"، قَالَ: كَيْفَ أَسْقِيهِ؟ قَالَ:" اكْفِهِمْ آلَتَهُ إِذَا حَضَرُوهُ، وَاحْمِلْهُ إِلَيْهِمْ إِذَا غَابوا عَنْهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ایک آدمی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے عرض کیا یا رسول اللہ! مجھے کسی ایسے عمل کے بارے میں بتائیے جو مجھے جنت میں داخل کروا دے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس سے پوچھا کیا تمہارے والدین میں سے کوئی حیات ہے؟ اس نے کہا نہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا پھر تم لوگوں کو پانی پلایا کرو اس نے پوچھا وہ کس طرح؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا لوگ جب موجود ہوں تو ان کے پانی نکالنے کے برتن کی حفاظت کرو اور غیرموجود ہوں (بھولے سے چھوڑ کر چلے جائیں) تو ان کے پاس وہ اٹھا کر پہنچا دو۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23124]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لجهالة عياض أبن مرثد
الحكم: إسناده ضعيف لجهالة عياض أبن مرثد
حدیث نمبر: 23125 مسند احمد
مُحَمَّدُ بنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبةُ ، عَبدِ الْمَلِكِ بنِ عُمَيْرٍ ، شَبِيبًا أَبَا رَوْحٍ ، رَجُلٍ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبةُ ، عَنْ عَبدِ الْمَلِكِ بنِ عُمَيْرٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ شَبِيبًا أَبَا رَوْحٍ يُحَدِّثُ , عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَاب النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَنِ النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنَّهُ صَلَّى الصُّبحَ، فَقَرَأَ فِيهَا فِيهَا، فَقَالَ:" وَمَا يَمْنَعُنِي" ، قَالَ شُعْبةُ: فَذَكَرَ الرُّقَعَ وَمَعْنَى قَوْلِهِ: إِنَّكُمْ لَسْتُمْ بمُتَنَظِّفِينَ..
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو روح رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہمیں فجر کی نماز پڑھائی جس میں سورت روم کی تلاوت فرمائی دوران تلاوت آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر کچھ اشتباہ ہوگیا نماز کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ شیطان نے ہمیں قرأت کے دوران اشتباہ میں ڈال دیا جس کی وجہ وہ لوگ ہیں جو نماز میں بغیر وضو کے آجاتے ہیں اس لئے جب تم نماز کے لئے آیا کرو تو خوب اچھی طرح وضو کیا کرو۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23125]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 23126 مسند احمد
حَدَّثَنَا عَفَّانُ، حَدَّثَنَا شُعْبةُ، قَالَ: عَاصِمُ بنُ كُلَيْب أَخْبرَنِي، قَالَ: سَمِعْتُ عِيَاضَ بنَ مَرْثَدٍ، أَوْ مَرْثَدَ بنَ عِيَاضٍ، عَنْ رَجُلٍ مِنْهُمْ , أَنَّهُ سَأَلَ النَّبيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ عَمَلٍ يُدْخِلُهُ الْجَنَّةَ، فَذَكَرَهُ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ:" تَكْفِيهِمْ آلَتَهُمْ إِذَا حَضَرُوهُ، وَتَحْمِلُهُ إِلَيْهِمْ إِذَا غَابوا عَنْهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ایک آدمی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے عرض کیا یا رسول اللہ! مجھے کسی ایسے عمل کے بارے میں بتائیے، جو مجھے جنت میں داخل کروا دے۔۔۔۔۔ پھر راوی نے پوری حدیث ذکر کی اور کہا لوگ جب موجود ہوں تو ان کے پانی نکالنے کے برتن کی حفاظت کرو اور غیر موجود ہوں (بھلے چھوڑ کر چلے چائیں) تو ان کے پاس وہ اٹھا کر پہنچا دو۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23126]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لجهالة عياض أبن مرثد
الحكم: إسناده ضعيف لجهالة عياض أبن مرثد
حدیث نمبر: 23127 مسند احمد
مُحَمَّدُ بنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبةُ ، مَنْصُورٍ ، رِبعِيِّ بنِ حِرَاشٍ ، رَجُلٍ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبةُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ رِبعِيِّ بنِ حِرَاشٍ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ بنِي عَامِرٍ , أَنَّهُ اسْتَأْذَنَ عَلَى النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: أَأَلِجُ؟ فَقَالَ النَّبيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِخَادِمِهِ: " اخْرُجِي إِلَيْهِ، فَإِنَّهُ لَا يُحْسِنُ الِاسْتِئْذَانَ، فَقُولِي لَهُ، فَلْيَقُلْ: السَّلَامُ عَلَيْكُمْ، أَدْخُلُ؟"، قَالَ: فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ ذَلِكَ، فَقُلْتُ: السَّلَامُ عَلَيْكُمْ، أَدْخُلُ؟ قَالَ: فَأَذِنَ، أَوْ قَالَ: فَدَخَلْتُ، فَقُلْتُ: بمَ أَتَيْتَنَا بهِ؟ قَالَ:" لَمْ آتِكُمْ إِلَّا بخَيْرٍ، أَتَيْتُكُمْ أَنْ تَعْبدُوا اللَّهَ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ"، قَالَ شُعْبةُ: وَأَحْسِبهُ قَالَ: وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، وَأَنْ تَدَعُوا اللَّاتَ وَالْعُزَّى، وَأَنْ تُصَلُّوا باللَّيْلِ وَالنَّهَارِ خَمْسَ صَلَوَاتٍ، وَأَنْ تَصُومُوا مِنَ السَّنَةِ شَهْرًا، وَأَنْ تَحُجُّوا الْبيْتَ، وَأَنْ تَأْخُذُوا مِنْ مَالِ أَغْنِيَائِكُمْ فَتَرُدُّوهَا عَلَى فُقَرَائِكُمْ"، قَالَ: فَقَالَ: فهَلْ بقِيَ مِنَ الْعِلْمِ شَيْءٌ لَا تَعْلَمُهُ؟ قَالَ:" قَدْ عَلِمَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ خَيْرًا، وَإِنَّ مِنَ الْعِلْمِ مَا لَا يَعْلَمُهُ إِلَّا اللَّهُ، الخمس: إِنَّ اللَّهَ عِنْدَهُ عِلْمُ السَّاعَةِ وَيُنَزِّلُ الْغَيْثَ وَيَعْلَمُ مَا فِي الأَرْحَامِ وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ مَاذَا تَكْسِبُ غَدًا وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ بِأَيِّ أَرْضٍ تَمُوتُ إِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ خَبِيرٌ سورة لقمان آية 34" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
بنوعامر کے ایک آدمی سے مروی ہے کہ انہوں نے ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے اجازت لیتے ہوئے عرض کیا کہ کیا میں داخل ہوسکتا ہوں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنی خادمہ سے فرمایا کہ اس کے پاس جاؤ کہ یہ اچھے انداز میں اجازت نہیں مانگ رہا اور اس سے کہو کہ تمہیں یوں کہنا چاہئے " السلام علیکم کیا میں اندر آسکتا ہوں " میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سن لیا چناچہ میں نے عرض کیا السلام علیکم کیا میں اندر آسکتا ہوں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اجازت دے دی اور میں اندر چلا گیا میں نے پوچھا کہ آپ ہمارے پاس کیا پیغام لے کر آئے ہیں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ میں تو تمہارے پاس صرف خیر کا پیغام لے کر آیا ہوں اور وہ یہ کہ تم اللہ کی عبادت کرو جو اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں اور تم لات وعزیٰ کو چھوڑ دو رات دن میں پانچ نمازیں پڑھو، سال میں ایک مہینے کے روزے رکھو بیت اللہ کا حج کرو اپنے مالداروں کا مال لے کر اپنے ہی فقراء پر واپس تقسیم کردو میں نے پوچھا کیا کوئی چیز ایسی بھی ہے جسے آپ نہیں جانتے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے ہی خیر کا علم عطاء فرمایا ہے اور بعض چیزیں ایسی ہیں جنہیں اللہ کے علاوہ کوئی نہیں جانتا وہ پانچ چیزیں ہیں پھر یہ آیت تلاوت فرمائی کہ قیامت کا علم اللہ ہی کے پاس ہے وہی بارش برساتا ہے وہی جانتا ہے کہ رحم مادر میں کیا ہے؟ اور کوئی شخص نہیں جانتا کہ کل وہ کیا کمائے گا؟ اور کسی کو معلوم نہیں کہ وہ کس علاقے میں مرے گا؟ بیشک اللہ بڑا جاننے والا باخبر ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23127]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، ربعي بن حراش لم يسمعه من الرجل العامري
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، ربعي بن حراش لم يسمعه من الرجل العامري
حدیث نمبر: 23128 مسند احمد
مُحَمَّدُ بنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبةُ ، مَنْصُورٍ ، هِلَالِ بنِ يَسَافٍ ، الْقَاسِمِ بنِ مُخَيْمِرَةَ ، رَجُلٍ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبةُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ هِلَالِ بنِ يَسَافٍ ، عَنِ الْقَاسِمِ بنِ مُخَيْمِرَةَ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَاب النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَنِ النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: " مَنْ قَتَلَ رَجُلًا مِنْ أَهْلِ الذِّمَّةِ لَمْ يَرَحْ رَائِحَةَ الْجَنَّةِ لَمْ يَجِدْ رِيحَ الْجَنَّةِ، مَنْصُورٌ الشَّاكُّ إِنَّ رِيحَهَا تُوجَدُ مِنْ قَدْرِ سَبعِينَ عَامًا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص کسی ذمی کو قتل کرے وہ جنت کی مہک بھی نہیں پاسکے گا حالانکہ جنت کی مہک تو ستر سال کی مسافت سے بھی محسوس کی جاسکتی ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23128]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 23129 مسند احمد
مُحَمَّدُ بنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبةُ ، أَبي إِسْحَاقَ ، أَبا حُذَيْفَةَ ، رَجُلٍ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبةُ ، عَنْ أَبي إِسْحَاقَ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبا حُذَيْفَةَ يُحَدِّثُ , عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَاب النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَنِ النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " نَظَرْتُ إِلَى الْقَمَرِ صَبيحَةَ لَيْلَةِ الْقَدْرِ، فَرَأَيْتُهُ كَأَنَّهُ فِلْقُ جَفْنَةٍ" ، وقَالَ أَبو إِسْحَاقَ: إِنَّمَا يَكُونُ الْقَمَرُ كَذَاكَ صَبيحَةَ لَيْلَة َثَلَاثٍ وَعِشْرِينَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا میں نے شب قدر کی صبح کو چاند کی طرف دیکھا تو وہ آدھے پیالے کی طرح تھا ابو اسحاق کہتے ہیں کہ چاند کی یہ صورت ٢٣ ویں شب کو ہوتی ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23129]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 23130 مسند احمد
مُحَمَّدُ بنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبةُ ، أَبي بشْرٍ ، يَزِيدَ بنَ أَبي كَبشَةَ ، رَجُلًا
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبةُ ، عَنْ أَبي بشْرٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ يَزِيدَ بنَ أَبي كَبشَةَ يَخْطُب بالشَّامِ، قَالَ: سَمِعْتُ رَجُلًا مِنْ أَصْحَاب النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحَدِّثُ عَبدَ الْمَلِكِ بنَ مَرْوَانَ أَنَّهُ قَالَ فِي الْخَمْرِ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فِي الْخَمْرِ: " إِنْ شَرِبهَا فَاجْلِدُوهُ، ثُمَّ إِنْ عَادَ فَاجْلِدُوهُ، ثُمَّ إِنْ عَادَ فَاجْلِدُوهُ، ثُمَّ إِنْ عَادَ الرَّابعَةَ فَاقْتُلُوهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت شرجیل بن اوس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص شراب نوشی کرے اسے کوڑے مارو دوسری مرتبہ پینے پر بھی کوڑے مارو تیسری مرتبہ پینے پر بھی کوڑے مارو اور چوتھی مرتبہ پینے پر اسے قتل کردو۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23130]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 23131 مسند احمد
مُحَمَّدُ بنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبةُ ، أَبي بشْرٍ ، عَبدِ اللَّهِ بنِ شَقِيقٍ ، رَجُلٍ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبةُ ، عَنْ أَبي بشْرٍ ، عَنْ عَبدِ اللَّهِ بنِ شَقِيقٍ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَاب النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَنِ النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " أَلَا أَدُلُّكُمْ عَلَى أَهْلِ الْجَنَّةِ؟" , قَالُوا: بلَى، قَالَ:" الضُّعَفَاءُ الْمُتَظَلِّمُونَ"، ثُمَّ قَالَ:" أَلَا أَدُلُّكُمْ عَلَى أَهْلِ النَّارِ؟" , قَالُوا: بلَى، قَالَ:" كُلُّ شَدِيدٍ جَعْظَرِيٍّ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کیا میں تمہیں اہل جنت کے متعلق نہ بتاؤں؟ ہر وہ آدمی جو کمزور ہو اور اسے دبایا جاتا ہو، کیا میں تمہیں اہل جہنم کے متعلق نہ بتاؤں؟ ہر وہ بدخلق آدمی جو کینہ پرور اور متکبر ہو۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23131]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 23132 مسند احمد
سُرَيْجٌ ، أَبو عَوَانَةَ ، دَاوُدَ بنِ عَبدِ اللَّهِ الْأَوْدِيِّ ، حُمَيْدِ بنِ عَبدِ الرَّحْمَنِ ، رَجُلًا
حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ ، أَخْبرَنَا أَبو عَوَانَةَ ، عَنْ دَاوُدَ بنِ عَبدِ اللَّهِ الْأَوْدِيِّ ، عَنْ حُمَيْدِ بنِ عَبدِ الرَّحْمَنِ ، قَالَ: لَقِيتُ رَجُلًا صَحِب النَّبيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَمَا صَحِبهُ أَبو هُرَيْرَةَ أَرْبعَ سِنِينَ، قَالَ:" نَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَتَمَشَّطَ أَحَدُنَا كُلَّ يَوْمٍ، أَوْ يَبولَ فِي مُغْتَسَلِهِ، أَوْ تَغْتَسِلَ الْمَرْأَةُ بفَضْلِ الرَّجُلِ، أَوْ يَغْتَسِلَ الرَّجُلُ بفَضْلِ الْمَرْأَةِ، وَلْيَغْتَرِفَا جَمِيعًا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حمید حمیری (رح) کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میری ملاقات نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے ہوئی جنہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی طرح چار سال نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی رفاقت پائی تھی، انہوں نے تین باتوں سے زیادہ کوئی بات مجھ سے نہیں کہی نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا مرد عورت کے بچائے ہوئے پانی سے غسل کرسکتا ہے لیکن عورت مرد کے بچائے ہوئے پانی سے غسل نہ کرے غسل خانہ میں پیشاب نہ کرے اور روزانہ کنگھی (بناؤ سنگھار) نہ کرے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23132]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 23133 مسند احمد
سُلَيْمَانُ بنُ دَاوُدَ ، إِسْمَاعِيلُ يَعْنِي ابنَ جَعْفَرٍ ، مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابنَ أَبي حَرْمَلَةَ ، عَطَاءٍ ، رَجُلًا
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بنُ دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ يَعْنِي ابنَ جَعْفَرٍ ، أَخْبرَنِي مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابنَ أَبي حَرْمَلَةَ ، عَنْ عَطَاءٍ ، أَنَّ رَجُلًا أَخْبرَهُ أَنَّهُ رَأَى النَّبيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَضُمُّ إِلَيْهِ حَسَنًا وَحُسَيْنًا، يَقُولُ: " اللَّهُمَّ إِنِّي أُحِبهُمَا فَأَحِبهُمَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اپنے جسم کے ساتھ حضرات حسنین رضی اللہ عنہ کو چمٹاتے ہوئے دیکھا اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم یہ فرما رہے تھے کہ اے اللہ! میں ان دونوں سے محبت کرتا ہوں تو بھی ان دونوں سے محبت فرما۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23133]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 23134 مسند احمد
إِسْحَاقُ بنُ عِيسَى ، مَالِكٌ ، زَيْدِ بنِ أَسْلَمَ ، رَجُلٍ ، أَبيهِ
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بنُ عِيسَى ، أَخْبرَنِي مَالِكٌ ، عَنْ زَيْدِ بنِ أَسْلَمَ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ بنِي ضَمْرَةَ، عَنْ أَبيهِ أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ عَنِ الْعَقِيقَةِ، فَقَالَ:" لَا أُحِب الْعُقُوقَ"، كَأَنَّهُ كَرِهَ الِاسْمَ، وَقَالَ: " مَنْ وُلِدَ لَهُ، فَأَحَب أَنْ يَنْسُكَ عَنْ وَلَدِهِ فَلْيَفْعَلْ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ کسی شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے عقیقہ کے متعلق پوچھا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا میں عقوق (جس سے یہ لفظ نکلا ہے اور جس کا معنی والدین کی نافرمانی ہے) کو پسند نہیں کرتا گویا اس لفظ پر ناپسندیدگی کا اظہار فرمایا اور فرمایا جس شخص کے یہاں کوئی بچہ پیدا ہو اور وہ اس کی طرف سے کوئی جانور ذبح کرنا چاہئے تو اسے ایسا کرلینا چاہئے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23134]
حکم دارالسلام
حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لإبهام الرجل الضمري
الحكم: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لإبهام الرجل الضمري
حدیث نمبر: 23135 مسند احمد
أَبو سَلَمَةَ الْخُزَاعِيُّ ، سُلَيْمَانُ يَعْنِي ابنَ بلَالٍ ، عَمْرِو بنِ يَحْيَى بنِ عُمَارَةَ ، سَعيد بنِ يَسَارٍ ، رَجُلٍ
حَدَّثَنَا أَبو سَلَمَةَ الْخُزَاعِيُّ ، أَخْبرَنَا سُلَيْمَانُ يَعْنِي ابنَ بلَالٍ ، عَنْ عَمْرِو بنِ يَحْيَى بنِ عُمَارَةَ ، عَنْ سَعيد بنِ يَسَارٍ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ جُهَيْنَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " إِنَّ الْكَافِرَ يَشْرَب فِي سَبعَةِ أَمْعَاءٍ، وَإِنَّ الْمُؤْمِنَ يَشْرَب فِي مِعًى وَاحِدٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ایک جہنی صحابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ کافر سات آنتوں سے میں پیتا ہے اور مؤمن ایک آنت میں پیتا ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23135]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 23136 مسند احمد
إِسْحَاقُ بنُ عِيسَى ، مَالِكٌ ، يَزِيدَ بنِ رُومَانَ ، صَالِحِ بنِ خَوَّاتِ بنِ جُبيْرٍ ، عَمَّنْ
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بنُ عِيسَى ، أَخْبرَنِي مَالِكٌ ، عَنْ يَزِيدَ بنِ رُومَانَ ، عَنْ صَالِحِ بنِ خَوَّاتِ بنِ جُبيْرٍ ، عَمَّنْ صَلَّى مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمِ الرِّقاعِ صَلَاةَ الْخَوْفِ: " أَنَّ طَائِفَةً صَفَّتْ مَعَهُ، وَطَائِفَةً وِجَاهَ الْعَدُوِّ، فَصَلَّى بالَّتِي مَعَهُ رَكْعَةً، ثُمَّ ثَبتَ قَائِمًا وَأَتَمُّوا لِأَنْفُسِهِمْ، ثُمَّ انْصَرَفُوا، فَصَفُّوا وِجَاهَ الْعَدُوِّ، وَجَاءَتْ الطَّائِفَةُ الْأُخْرَى، فَصَلَّى بهِمْ الرَّكْعَةَ الَّتِي بقِيَتْ مِنْ صَلَاتِهِ، ثُمَّ ثَبتَ جَالِسًا وَأَتَمُّوا لِأَنْفُسِهِمْ، ثُمَّ سَلَّمَ" ، قَالَ مَالِكٌ: وَهَذَا أَحَب مَا سَمِعْتُ إِلَيَّ فِي صَلَاةِ الْخَوْفِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے " جنہوں نے غزوہ ذات الرقاع کے موقع پر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ہمراہ نماز خوف پڑھی تھی " مروی ہے کہ ایک گروہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ صف بندی کی اور دوسرا گروہ دشمن کے سامنے چلا گیا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنے ساتھ والے گروہ کو ایک رکعت پڑھائی پھر کھڑے رہے حتیٰ کہ پیچھے والوں نے اپنی نماز مکمل کی اور واپس جا کر دشمن کے سامنے صف بستہ ہوگئے اور دوسرا گروہ آگیا جسے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنی نماز میں سے باقی رہ جانے والی رکعت پڑھائی پھر بیٹھے رہے حتیٰ کہ انہوں نے اپنی نماز مکمل کرلی پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں ساتھ لے سلام پھیر دیا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23136]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 4129، م: 842
الحكم: إسناده صحيح، خ: 4129، م: 842
حدیث نمبر: 23137 مسند احمد
حُسَيْنُ بنُ مُحَمَّدٍ ، ابنُ أَبي الزِّنَادِ ، أَبيهِ ، عُرْوَةَ ، الْأَحْنَفِ بنِ قَيْسٍ ، ابنُ عَمٍّ
حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بنُ مُحَمَّدٍ ، حدثنا ابنُ أَبي الزِّنَادِ ، عَنْ أَبيهِ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ الْأَحْنَفِ بنِ قَيْسٍ ، قَالَ: أَخْبرَنِي ابنُ عَمٍّ لِي، قَالَ: قُلْتُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، قُلْ لِي قَوْلًا، وَأَقْلِلْ، لَعَلِّي أَعْقِلُهُ، قَالَ: " لَا تَغْضَب"، قَالَ: فَعُدْتُ لَهُ مِرَارًا كُلُّ ذَلِكَ يَعُودُ إِلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا تَغْضَب" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
احنف بن قیس (رح) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میرے چچازاد بھائی نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ! مجھے کوئی مختصر نصیحت فرمائیے شاید میری عقل میں آجائے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا غصہ نہ کیا کرو، اس نے کئی مرتبہ اپنی درخواست دہرائی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہر مرتبہ یہی جواب دیا کہ غصہ نہ کیا کرو۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23137]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 23138 مسند احمد
مَكِّيُّ بنُ إِبرَاهِيمَ ، الْجُعَيْدُ ، مُوسَى بنِ عَبدِ الرَّحْمَنِ الْخَطْمِيِّ ، عَبدُ الرَّحْمَنِ ، أَبي
حَدَّثَنَا مَكِّيُّ بنُ إِبرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا الْجُعَيْدُ ، عَنْ مُوسَى بنِ عَبدِ الرَّحْمَنِ الْخَطْمِيِّ ، أَنَّهُ سَمِعَ مُحَمَّدَ بنَ كَعْب وَهُوَ يَسْأَلُ عَبدَ الرَّحْمَنِ، يَقُولُ: أَخْبرْنِي مَا سَمِعْتَ أَباكَ يَقُولُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَقَالَ عَبدُ الرَّحْمَنِ : سَمِعْتُ أَبي يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَثَلُ الَّذِي يَلْعَب بالنَّرْدِ، ثُمَّ يَقُومُ فَيُصَلِّي، مَثَلُ الَّذِي يَتَوَضَّأُ بالْقَيْحِ وَدَمِ الْخِنْزِيرِ، ثُمَّ يَقُومُ فَيُصَلِّي" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
محمد بن کعب (رح) نے ایک مرتبہ عبدالرحمن رضی اللہ عنہ کہا کہ آپ نے اپنے والد صاحب سے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی کوئی حدیث سنی ہو تو مجھے بھی سنائیے انہوں نے اپنے والد صاحب کے حوالے سے نقل کیا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے جو شخص بارہ ٹانی کے ساتھ کھیلتا ہے پھر کھڑا ہو کر نماز پڑھتا ہے تو اس کی مثال اس شخص کی سی ہے جو قے اور خنزیر کے خون سے وضو کر کے نماز پڑھنے کھڑا ہوجائے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23138]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لجهالة موسي بن عبدالرحمن، واختلف عليه فى إسناده
الحكم: إسناده ضعيف لجهالة موسي بن عبدالرحمن، واختلف عليه فى إسناده
حدیث نمبر: 23139 مسند احمد
مُحَمَّدُ بنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبةُ ، أَبي إِسْحَاقَ ، جُرَيٍّ النَّهْدِيِّ ، رَجُلٍ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبةُ ، عَنْ أَبي إِسْحَاقَ ، عَنْ جُرَيٍّ النَّهْدِيِّ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ بنِي سُلَيْمٍ أَنّ النَّبيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَقَدَ فِي يَدِهِ، أَوْ فِي يَدِ السُّلَمِيِّ، فَقَالَ: " سُبحَانَ اللَّهِ نِصْفُ الْمِيزَانِ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ يَمْلَأُ الْمِيزَانَ، وَاللَّهُ أَكْبرُ يَمْلَأُ مَا بيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ، وَالطُّهُورُ نِصْفُ الإيمانِ، وَالصَّوْمُ نِصْفُ الصَّبرِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
بنو سلیم کے ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنے دست مبارک کی انگلیوں پر یہ چیزیں شمار کیں سبحان اللہ نصف میزان عمل کے برابر ہے " الحمدللہ " میزان عمل کو بھر دے گا " اللہ اکبر " کا لفظ زمین و آسمان کے درمیان ساری فضاء کو بھر دیتا ہے صفائی نصف ایمان ہے اور روزہ نصف صبر ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23139]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره ، وللتحقيق انظر: 18287
الحكم: صحيح لغيره ، وللتحقيق انظر: 18287
حدیث نمبر: 23140 مسند احمد
حَجَّاجٌ ، شُعْبةُ ، عَمْرِو بنِ دِينَارٍ ، عَمْرِو بنِ أَوْسٍ ، رَجُلٍ
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبةُ ، عَنْ عَمْرِو بنِ دِينَارٍ ، عَنْ عَمْرِو بنِ أَوْسٍ ، عَنْ رَجُلٍ حَدَّثَهُ مُؤَذِّنُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: نَادَى مُنَادِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي يَوْمٍ مَطِيرٍ: " صَلُّوا فِي الرِّحَالِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ایک شخص کو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے مؤذن نے بتایا کہ ایک دن بارش ہو رہی تھی نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے منادی نے نداء لگائی کہ لوگو! اپنے خیموں میں ہی نماز پڑھ لو۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23140]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، الرجل المبهم هو صحابي الذى روى عنه عمرو بن أوس
الحكم: حديث صحيح، الرجل المبهم هو صحابي الذى روى عنه عمرو بن أوس
حدیث نمبر: 23141 مسند احمد
رَوْحٌ ، ابنُ جُرَيْجٍ ، عَمْرُو بنُ يَحْيَى بنِ عُمَارَةَ بنِ أَبي حَسَنٍ ، مَرْيَمُ ابنَةُ إِيَاسِ بنِ الْبكَيْرِ ، بعْضِ
حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا ابنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبرَنِي عَمْرُو بنُ يَحْيَى بنِ عُمَارَةَ بنِ أَبي حَسَنٍ ، حَدَّثَتْنِي مَرْيَمُ ابنَةُ إِيَاسِ بنِ الْبكَيْرِ صَاحِب النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَنْ بعْضِ أَزْوَاجِ النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ النَّبيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَيْهَا، فَقَالَ:" أَعِنْدَكِ ذَرِيرَةٌ؟"، قَالَتْ: نَعَمْ، فَدَعَا بهَا، فَوَضَعَهَا عَلَى بثْرَةٍ بيْنَ أَصَابعِ رِجْلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: " اللَّهُمَّ مُطْفِئَ الْكَبيرِ، وَمُكَبرَ الصَّغِيرِ، أَطْفِهَا عَنِّي" , فَطُفِئَتْ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ایاس بن بکیر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنی کسی زوجہ محترمہ کے یہاں تشریف لے گئے اور ان سے پوچھا کیا تمہارے پاس " ذریرہ " نامی خوشبو ہے؟ انہوں نے عرض کیا جی ہاں! نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے منگوایا اور اپنے پاؤں کی انگلیوں کے درمیان پھنسیوں پر لگانے لگے پھر یہ دعا کی اے بڑے کو بجھانے والے اور چھوٹے کو بڑا کرنے والے اللہ! اس پھنسی کو دور فرما چناچہ وہ پھنسیاں دور ہوگئیں۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23141]
حکم دارالسلام
إسناده إلى مريم بنت إياس صحيح، وقد اختلف فى صحبتها
الحكم: إسناده إلى مريم بنت إياس صحيح، وقد اختلف فى صحبتها