حَدَّثَنَا عَفَّانُ، حَدَّثَنَا شُعْبةُ، قَالَ: عَاصِمُ بنُ كُلَيْب أَخْبرَنِي، قَالَ: سَمِعْتُ عِيَاضَ بنَ مَرْثَدٍ، أَوْ مَرْثَدَ بنَ عِيَاضٍ، عَنْ رَجُلٍ مِنْهُمْ , أَنَّهُ سَأَلَ النَّبيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ عَمَلٍ يُدْخِلُهُ الْجَنَّةَ، فَذَكَرَهُ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ:" تَكْفِيهِمْ آلَتَهُمْ إِذَا حَضَرُوهُ، وَتَحْمِلُهُ إِلَيْهِمْ إِذَا غَابوا عَنْهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ایک آدمی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے عرض کیا یا رسول اللہ! مجھے کسی ایسے عمل کے بارے میں بتائیے، جو مجھے جنت میں داخل کروا دے۔۔۔۔۔ پھر راوی نے پوری حدیث ذکر کی اور کہا لوگ جب موجود ہوں تو ان کے پانی نکالنے کے برتن کی حفاظت کرو اور غیر موجود ہوں (بھلے چھوڑ کر چلے چائیں) تو ان کے پاس وہ اٹھا کر پہنچا دو۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23126]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لجهالة عياض أبن مرثد
الحكم: إسناده ضعيف لجهالة عياض أبن مرثد