مُحَمَّدُ بنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبةُ ، عَاصِمِ بنِ كُلَيْب ، أَبيهِ ، رَجُلٍ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبةُ ، عَنْ عَاصِمِ بنِ كُلَيْب ، عَنْ أَبيهِ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ مُزَيْنَةَ، أَوْ جهينة، قَالَ: كَانَ أَصْحَاب النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا كَانَ قَبلَ الْأَضْحَى بيَوْمٍ، أَوْ بيَوْمَيْنِ أَعْطَوْا جَذَعَيْنِ، وَأَخَذُوا ثَنِيًّا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ الْجَذَعَةَ تُجْزِئُ مِمَّا تُجْزِئُ مِنْهُ الثَّنِيَّةُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
مزینہ یا جہینہ کے ایک آدمی کا کہنا ہے کہ بقر عید ایک دو دن قبل صحابہ کرام رضی اللہ عنہم چھ ماہ کے دو بھیڑ دے کر پورے سال کا ایک جانور لے لیتے تھے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جس کی طرف سے ایک سال کا جانور کفایت کرتا ہے چھ ماہ کا بھی اس کی طرف سے کفایت کرجاتا ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23123]
الحكم: إسناده قوي