بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

مسند احمد

حدیث نمبر: 23122
کتب مسند احمد ابواب باب حدیث 23122
حدیث نمبر: 23122 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
مُحَمَّدُ بنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبةُ ، يَزِيدَ بنِ أَبي زِيَادٍ ، زَيْدِ بنِ وَهْب ، رَجُلٍ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبةُ ، عَنْ يَزِيدَ بنِ أَبي زِيَادٍ ، عَنْ زَيْدِ بنِ وَهْب ، عَنْ رَجُلٍ , أَنَّ أَعْرَابيًّا أَتَى النَّبيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَكَلَتْنَا الضَّبعُ! فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " غَيْرُ الضَّبعِ عِنْدِي أَخْوَفُ عَلَيْكُمْ مِنَ الضَّبعِ، إِنَّ الدُّنْيَا سَتُصَب عَلَيْكُمْ صَبا، فَيَا لَيْتَ أُمَّتِي لَا تَلْبسُ الذَّهَب" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک دیہاتی آدمی ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا یا رسول اللہ! ہمیں قحط سالی نے کھالیا ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا میرے نزدیک تمہارے متعلق قحط سالی سے زیادہ ایک اور چیز خطرناک ہے عنقریب تم پر دنیا انڈیل دی جائے گی کاش! میرے امتی سونا نہ پہنیں۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23122]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف يزيد بن أبى زياد، والرجل المبهم فى الإسناد هو أبو ذر الغفاري
الحكم: إسناده ضعيف لضعف يزيد بن أبى زياد، والرجل المبهم فى الإسناد هو أبو ذر الغفاري
← پچھلی حدیث (23121) باب پر واپس اگلی حدیث (23123) →