مُحَمَّدُ بنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبةُ ، عَاصِمِ بنِ كُلَيْب ، عِيَاضِ بنِ مَرْثَدٍ، أَوْ مَرْثَدِ بنِ عِيَاضٍ ، رَجُلٍ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبةُ ، عَنْ عَاصِمِ بنِ كُلَيْب ، عَنْ عِيَاضِ بنِ مَرْثَدٍ، أَوْ مَرْثَدِ بنِ عِيَاضٍ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْهُمْ أَنَّهُ سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَخْبرْنِي بعَمَلٍ يُدْخِلُنِي الْجَنَّةَ، قَالَ: " هَلْ مِنْ وَالِدَيْكَ مِنْ أَحَدٍ حَيٌّ؟"، قَالَه لَهُ مَرَّاتٍ، قَالَ: لَا، قَالَ:" فَاسْقِ الْمَاءَ"، قَالَ: كَيْفَ أَسْقِيهِ؟ قَالَ:" اكْفِهِمْ آلَتَهُ إِذَا حَضَرُوهُ، وَاحْمِلْهُ إِلَيْهِمْ إِذَا غَابوا عَنْهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ایک آدمی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے عرض کیا یا رسول اللہ! مجھے کسی ایسے عمل کے بارے میں بتائیے جو مجھے جنت میں داخل کروا دے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس سے پوچھا کیا تمہارے والدین میں سے کوئی حیات ہے؟ اس نے کہا نہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا پھر تم لوگوں کو پانی پلایا کرو اس نے پوچھا وہ کس طرح؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا لوگ جب موجود ہوں تو ان کے پانی نکالنے کے برتن کی حفاظت کرو اور غیرموجود ہوں (بھولے سے چھوڑ کر چلے جائیں) تو ان کے پاس وہ اٹھا کر پہنچا دو۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23124]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لجهالة عياض أبن مرثد
الحكم: إسناده ضعيف لجهالة عياض أبن مرثد