وَكِيعٌ ، سُفْيَانَ ، أَشْعَثَ ، عَمَّتِهِ ، عَمِّهَا
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ أَشْعَثَ ، عَنْ عَمَّتِهِ ، عَنْ عَمِّهَا ، قَالَ: إِنِّي لَبسُوقِ ذِي الْمَجَازِ، عَلَيَّ برْدَةٌ لِي مَلْحَاءُ أَسْحَبهَا، قَالَ: فَطَعَنَنِي رَجُلٌ بمِخْصَرَةٍ، فَقَالَ: " ارْفَعْ إِزَارَكَ، فَإِنَّهُ أَبقَى وَأَنْقَى"، فَنَظَرْتُ، فَإِذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَنَظَرْتُ، فَإِذَا إِزَارُهُ إِلَى أَنْصَافِ سَاقَيْهِ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں " ذوالمجاز " کے بازار میں تھا میں نے سرخ وسفید رنگ کی ایک خوبصورت چادر اپنے جسم پر پہن رکھی تھی اچانک ایک آدمی نے اپنی چھڑی مجھے چھبو کر کہا کہ اپنا تہبند اوپر کرو کیونکہ اس سے کپڑا دیر تک ساتھ دیتا ہے اور صاف رہتا ہے میں نے دیکھا تو وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تھے اور میں نے غور کیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا تہبند نصف پنڈلی تک تھا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23086]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لجهالة عمة أشعث
الحكم: إسناده ضعيف لجهالة عمة أشعث