يَزِيدُ ، يَحْيَى ، بشَيْرِ بنِ يَسَارٍ ، رَجُلٍ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبرَنَا يَحْيَى ، أَنْ بشَيْرِ بنِ يَسَارٍ أَخْبرَهُ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَاب رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بيْعِ الثَّمَرِ بالتَّمْرِ، وَرَخَّصَ فِي الْعَرِيَّةِ" ، قَالَ: وَالْعَرِيَّةُ: النَّخْلَةُ وَالنَّخْلَتَانِ يَشْتَرِيهِمَا الرَّجُلُ بخَرْصِهِمَا مِنَ التَّمْرِ فَيَضْمَنُهُمَا، فَرَخَّصَ فِي ذَلِكَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے درخت پر لگے ہوئے پھل کو کٹے ہوئے پھل کے بدلے بیچنے سے منع فرمایا البتہ " عرایا " میں رخصت دی ہے اور '' عرایا " کا مطلب یہ ہے کہ ایک آدمی کسی باغ میں ایک دو درخت خرید لے اور اس کے بدلے میں اندازے سے کٹی ہوئی کھجور دے دے اور وہ درخت اپنے درختوں میں شامل کرلے صرف اتنی مقدار میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس کی اجازت دی ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23091]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1540
الحكم: إسناده صحيح، م: 1540