بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

مسند احمد

حدیث نمبر: 23093
کتب مسند احمد ابواب باب حدیث 23093
حدیث نمبر: 23093 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
يَزِيدُ ، هِشَامٌ ، حَفْصَةَ بنْتِ سِيرِينَ ، أَبي الْعَالِيَةِ ، رَجُلٍ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبرَنَا هِشَامٌ ، عَنْ حَفْصَةَ بنْتِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبي الْعَالِيَةِ ، عَنْ رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ، قَالَ: خَرَجْتُ مَعَ أَهْلِي أُرِيدُ النَّبيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَإِذَا أَنَا بهِ قَائِمٌ، وَإِذَا رَجُلٌ مُقْبلٌ عَلَيْهِ، فَظَنَنْتُ أَنَّ لَهُمَا حَاجَةً، فَجَلَسْتُ، فَوَاللَّهِ لَقَدْ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى جَعَلْتُ أَرْثِي لَهُ مِنْ طُولِ الْقِيَامِ، ثُمَّ انْصَرَفَ، فَقُمْتُ إِلَيْهِ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَقَدْ قَامَ بكَ هَذَا الرَّجُلُ حَتَّى جَعَلْتُ أَرْثِي لَكَ مِنْ طُولِ الْقِيَامِ، قَالَ:" أَتَدْرِي مَنْ هَذَا؟"، قُلْتُ: لَا، قَالَ: " ذَاكَ جِبرِيلُ يُوصِينِي بالْجَارِ، حَتَّى ظَنَنْتُ أَنَّهُ سَيُوَرِّثُهُ، أَمَا إِنَّكَ لَوْ كُنْتَ سَلَّمْتَ عَلَيْهِ لَرَدَّ عَلَيْكَ السَّلَامَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ایک انصاری صحابی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضری کے ارادے سے اپنے گھر سے نکلا وہاں پہنچا تو دیکھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کھڑے ہیں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ ایک اور آدمی بھی ہے جس کا چہرہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی طرف ہے میں سمجھا کہ شاید یہ دونوں کوئی ضروری بات کر رہے ہیں بخدا! نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اتنی دیر کھڑے رہے کہ مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر ترس آنے لگا جب وہ آدمی چلا گیا تو میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! یہ آدمی آپ کو اتنی دیر لے کر کھڑا رہا کہ مجھے آپ پر ترس آنے لگا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کیا تم نے اسے دیکھا تھا؟ میں نے عرض کیا جی ہاں! نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کیا تم جانتے ہو کہ وہ کون تھا؟ میں نے عرض کیا نہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا وہ جبرائیل علیہ السلام تھے جو مجھے مسلسل پڑوسی کے متعلق وصیت کر رہے تھے حتیٰ کہ مجھے اندیشہ ہونے لگا کہ وہ اسے وراثت میں بھی حصہ دار قرار دے دیں گے پھر فرمایا اگر تم انہیں سلام کرتے تو وہ تمہیں جواب ضرور دیتے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23093]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
← پچھلی حدیث (23092) باب پر واپس اگلی حدیث (23094) →