يَزِيدُ ، هِشَامُ بنُ أَبي عَبدِ اللَّهِ الدَّسْتُوَائِيُّ ، يَحْيَى بنِ أَبي كَثِيرٍ ، أَبي سَلَّامٍ ، رَجُلًا
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بنُ أَبي عَبدِ اللَّهِ الدَّسْتُوَائِيُّ ، عَنْ يَحْيَى بنِ أَبي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبي سَلَّامٍ أَنَّ رَجُلًا حَدَّثَهُ , أَنَّهُ سَمِعَ النَّبيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " بخٍ بخٍ لِخَمْسٍ مَا أَثْقَلَهُنَّ فِي الْمِيزَانِ"، قَالَ رَجُلٌ: مَا هُنَّ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ:" لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَاللَّهُ أَكْبرُ، وَسُبحَانَ اللَّهِ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ، وَالْوَلَدُ الصَّالِحُ يُتَوَفَّى فَيَحْتَسِبهُ وَالِدُهُ، خَمْسٌ مَنْ اتَّقَى اللَّهَ بهِنَّ مُسْتَيْقِنًا دَخَلَ الْجَنَّةَ: مَنْ شَهِدَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبدُهُ وَرَسُولُهُ، وَأَيْقَنَ بالْمَوْتِ، وَالْبعْثِ، وَالْحِسَاب" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ایک آزاد کردہ غلام صحابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا پانچ چیزیں کیا خوب ہیں؟ اور میزان عمل میں کتنی بھاری ہیں؟ لا الہ اللہ واللہ اکبر و سبحان اللہ والحمدللہ اور وہ نیک اولاد جو فوت ہوجائے اور اس کا باپ اس پر صبر کرے اور فرمایا پانچ چیزیں کیا خوب ہیں؟ جو شخص ان پانچ، چیزوں پر یقین رکھتے ہوئے اللہ سے ملے گا وہ جنت میں داخل ہوگا اللہ پر ایمان رکھتا ہو، آخرت کے دن پر، جنت اور جہنم پر، موت کے بعد دوبارہ زندہ ہونے پر اور حساب کتاب پر ایمان رکھتا ہو۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23100]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد منقطع، يحيى بن أبى كثير لم يسمعه من أبى سلام
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد منقطع، يحيى بن أبى كثير لم يسمعه من أبى سلام