مُحَمَّدُ بنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبةُ ، سَلْمٌ ، عَبدَ اللَّهِ بنَ أَبي الْهُذَيْلِ ، صَاحِب
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبةُ ، حَدَّثَنِي سَلْمٌ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبدَ اللَّهِ بنَ أَبي الْهُذَيْلِ ، قَالَ: حَدَّثَنِي صَاحِب لِي أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " تَبا لِلذَّهَب وَالْفِضَّةِ"، قَالَ: فَحَدَّثَنِي صَاحِبي: أَنَّهُ انْطَلَقَ مَعَ عُمَرَ بنِ الْخَطَّاب رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَوْلُكَ:" تَبا لِلذَّهَب وَالْفِضَّةِ" مَاذَا؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لِسَانًا ذَاكِرًا، وَقَلْبا شَاكِرًا، وَزَوْجَةً تُعِينُ عَلَى الْآخِرَةِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا سونے چاندی کے لئے ہلاکت ہے وہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا یا رسول اللہ! آپ نے جو یہ فرمایا ہے کہ سونے چاندی کے لئے ہلاکت ہے تو پھر انسان کے پاس کیا ہو؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ذکر کرنے والی زبان، شکر کرنے والا دل اور آخرت کے کاموں میں تعاون کرنے والی بیوی۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23101]
حکم دارالسلام
حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف من أجل سلم بن عطية
الحكم: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف من أجل سلم بن عطية