بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
الطور
سورۃ الطور — 49 آیات
قرآن کریم Surah 52
وَ الطُّوۡرِ ۙ﴿۱﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
قسم ہے طور کی
مولانا محمد جوناگڑھی
قسم ہے طور کی
احمد رضا خان بریلوی
طور کی قسم
علامہ محمد حسین نجفی
قَسم ہے طور کی۔
عبدالسلام بن محمد
قسم ہے طور کی!
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
تفسیر سورۂ طور ٭٭

اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق میں سے ان چیزوں کی قسم کھا کر جو اس کی عظیم الشان قدرت کی نشانیاں ہیں فرماتا ہے کہ اس کا عذاب ہو کر ہی رہے گا، جب وہ آئے گا کسی کی مجال نہ ہو گی کہ اسے ہٹا سکے۔ «طور» اس پہاڑ کو کہتے ہیں جس پر درخت ہوں جیسے وہ پہاڑ جس پر اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام سے کلام کیا اور جہاں سے عیسیٰ علیہ السلام کو بھیجا تھا اور جو خشک پہاڑ ہو اسے «جبل» کہا جاتا ہے «طور» نہیں کہا جاتا۔ «كِتَابٍ مَسْطُور» سے مراد یا تو لوح محفوظ ہے یا اللہ کی اتاری ہوئی، لکھی ہوئی کتابیں ہیں جو انسانوں پر پڑھی جاتی ہیں اسی لیے ساتھ ہی فرما دیا کھلے ہوئے اوراق میں۔ «الْبَيْتِ الْمَعْمُور» کی بابت معراج والی حدیث میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”ساتویں آسمان سے آگے بڑھنے کے بعد مجھے بیت المعمور دکھلایا گیا جس میں ہر روز ستر ہزار فرشتے عبادت اللہ کے لیے جاتے ہیں، دوسرے دن اتنے ہی اور لیکن جو آج گئے ان کی باری پھر قیامت تک نہیں آتی۔“ } [صحیح بخاری:3207] ‏‏‏‏

جس طرح زمین پر کعبتہ اللہ کا طواف ہوتا ہے اسی طرح آسمانوں کے طواف کی اور عبادت کی جگہ وہ ہے۔ اسی حدیث میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت ابراہیم علیہ السلام کو دیکھا کہ بیت العمور سے کمر لگائے بیٹھے ہیں اس میں ایک باریک نکتہ یہ ہے کہ چونکہ خلیل اللہ بانی بیت اللہ تھے جن کے ہاتھوں زمین میں کعبۃ اللہ بنا تھا تو انہیں وہاں بھی اس کے کعبے سے لگے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا۔ تو گویا اس عمل کی جزا اسی جیسی پروردگار نے اپنے خلیل کو دی، یہ بیت المعمور ٹھیک خانہ کعبہ کے اوپر ہے اور ہے ساتویں آسمان پر، یوں تو ہر آسمان میں ایک ایسا گھر ہے جہاں اس آسمان کے فرشتے اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتے ہیں پہلے آسمان جو اسی جگہ ہے اس کا نام بیت العزت ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

ابن ابی حاتم میں حدیث ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آسمان میں ایک گھر ہے جسے «معمور» کہتے ہیں جو کعبہ کی سمت میں ہے، چوتھے آسمان میں ایک نہر ہے جس کا نام نہر «حیوان» ہے، جبرائیل علیہ السلام ہر روز اس میں غوطہٰ لگاتے ہیں اور نکل کر بدن جھاڑتے ہیں، جس سے ستر ہزار قطرے جھڑتے ہیں ایک ایک قطرے سے اللہ تعالیٰ ایک ایک فرشتہ پیدا کرتا ہے جنہیں حکم ہوتا ہے کہ وہ بیت المعمور میں جائیں اور نماز ادا کریں، پھر وہ وہاں سے نکل آتے ہیں اب انہیں دوبارہ جانے کی نوبت نہیں آتی، ان کا ایک سردار ہوتا ہے جسے حکم دیا جاتا ہے کہ انہیں لے کر کسی جگہ کھڑا ہو جائے پھر وہ اللہ کی تسبیح کے بیان میں لگ جاتے ہیں، قیامت تک ان کا یہی شغل رہتا ہے، } [الموضاعات لابن الجوزی:147/1،موضوع] ‏‏‏‏ یہ حدیث بہت ہی غریب ہے اس کے راوی روح بن صباح اس میں منفرد ہیں، حافظوں کی ایک جماعت نے ان پر ایک حدیث کا انکار کیا ہے، جیسے جوزجانی، عقیلی، حاکم وغیرہ امام حاکم ابوعبداللہ نیشاپوری رحمہ اللہ اسے بالکل بے اصل بتاتے ہیں سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے ایک شخص نے پوچھا کہ بیت المعمور کیا ہے؟ آپ نے فرمایا: وہ آسمان میں ہے، اسے «صراح» کہا جاتا ہے کعبہ کے ٹھیک اوپر ہے جس طرح زمین کا کعبہ حرمت کی جگہ ہے اسی طرح وہ آسمانوں میں حرمت کی جگہ ہے، ہر روز اس میں ستر ہزار فرشتے نماز ادا کرتے ہیں لیکن جو آج گئے ہیں ان کی باری قیامت تک دوبارہ نہیں آتی کیونکہ فرشتوں کی تعداد ہی اس قدر ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:480/11:مرسل] ‏‏‏‏ ایک روایت میں ہے یہ پوچھنے والے ابن کواء رحمہ اللہ تھے۔

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے منقول ہے کہ { یہ عرش کے محاذ میں سے ہے ایک مرفوع روایت میں ہے کہ صحابہ رضی اللہ عنہم کو ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیت المعمور کو جانتے ہو؟“ انہوں نے کہا: اللہ اور اس کا رسول جانتے ہیں، فرمایا: ”وہ آسمانی کعبہ ہے اور زمینی کعبہ کے بالکل اوپر ہے ایسا کہ اگر وہ گرے تو اسی پر گرے اس میں ہر روز ستر ہزار فرشتے نماز ادا کرتے ہیں جن کی باری قیامت تک پھر نہیں آتی۔ } [تفسیر ابن جریر الطبری:32297:مرسل] ‏‏‏‏ ضحاک رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ فرشتے ابلیس کے قبیلے کے جنات میں سے ہیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» اونچی چھت سے مراد آسمان ہے جیسے اور جگہ ہے «وَجَعَلْنَا السَّمَاءَ سَقْفًا مَّحْفُوْظًا وَّهُمْ عَنْ اٰيٰـتِهَا مُعْرِضُوْنَ» [21-الأنبياء:32] ‏‏‏‏ ربیع بن انس رحمہ اللہ فرماتے ہیں مراد اس سے عرش ہے اس لیے کہ وہ تمام مخلوق کی چھت ہے، اس قول کی توجیہ اس طرح ہو سکتی ہے کہ مراد عام ہو، «الْبَحْرِ الْمَسْجُورِ» (‏‏‏‏ «بحر مسجور» سے مراد وہ پانی ہے جو عرش تلے ہے، جو بارش کی طرح برسے گا، جس سے قیامت کے دن مردے اپنی اپنی قبروں سے اٹھیں گے)۔ جمہور کہتے ہیں یہی دریا مراد ہیں، انہیں جو «الْمَسْجُور» کہا گیا ہے یہ اس لیے قیامت کے دن ان میں آگ لگا دی جائے گی جیسے اور جگہ ہے «وَاِذَا الْبِحَارُ سُجِّرَتْ» [81-التكوير:6] ‏‏‏‏ جبکہ دریا بھڑکا دیئے جائیں اور ان میں آگ لگ جائے گی، جو پھیل کر تمام اہل محشر کو گھیر لے گی - علاء بن بدر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ بھڑکتے ہوئے دریا اس لیے کہا گیا کہ نہ اس کا پانی پینے کے کام میں آئے اور نہ کھیتی کو دیا جائے یہی حال قیامت کے دن دریاؤں کا ہو گا، یہ معنی بھی کئے گئے ہیں کہ دریا بہتا ہوا اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ دریا پرُشُدہ ادھر ادھر جاری۔

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں «مسجور» سے مراد فارغ یعنی خالی ہے، کوئی لونڈی پانی لینے کو جائے پھر لوٹ کر کہے کہ حوض «مسجور» ہے اس سے مراد یہی ہے کہ خالی ہے، یہ بھی کہا گیا ہے کہ معنی یہ ہیں کہ اسے زمین سے روک دیا گیا ہے، اس لیے کہ ڈبو نہ سکے۔ مسند احمد کی ایک مرفوع حدیث میں ہے کہ { ہر رات تین مرتبہ دریا اللہ تعالیٰ سے اجازت طلب کرتا ہے کہ اگر حکم ہو تو تمام لوگوں کو ڈبو دوں لیکن اللہ تعالیٰ اسے روک دیتا ہے۔ } [مسند احمد:43/1:ضعیف] ‏‏‏‏ دوسری روایت میں ہے کہ ایک بزرگ مجاہد جو سمندر کی سرحد کے لشکروں میں تھے وہ جہاد کی تیاری میں وہیں رہتے تھے، فرماتے ہیں: ایک رات میں چوکیداری کے لیے نکلا، اس رات کوئی اور پہرے پر نہ تھا، میں گشت کرتا ہوا میدان میں پہنچا اور وہاں سے سمندر پر نظریں ڈالیں، تو ایسا معلوم ہوا کہ گویا سمندر پہاڑ کی چوٹیوں سے ٹکرا رہا ہے، باربار یہی نظارہ میں نے دیکھا۔ میں نے ابوصالح سے یہ واقعہ بیان کیا انہوں نے بروایت سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ اوپر والی حدیث مجھے سنائی لیکن اس کی سند میں ایک راوی مبہم ہے جس کا نام نہیں لیا گیا۔ ان قسموں کے بعد اب جس چیز پر قسمیں کھائی گئی تھیں ان کا بیان ہو رہا ہے کہ کافروں کو جو عذاب الہٰی ہونے والا ہے وہ یقینی طور پر آنے والا ہی ہے، جب وہ آئے گا کسی کے بس میں اس کا روکنا نہ ہو گا۔ ابن ابی الدنیا میں ہے کہ ایک رات سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ شہر کی دیکھ بھال کے لیے نکلے تو ایک مکان سے کسی مسلمان کی قرآن خوانی کی آواز کان میں پڑی وہ سورۃ والطور پڑھ رہے تھے، آپ نے سواری روک لی اور کھڑے ہو کر قرآن سننے لگے، جب وہ اس آیت پر پہنچے تو زبان سے نکل گیا کہ ”رب کعبہ کی قسم سچی ہے“، پھر اپنے گدھے سے اتر پڑے اور دیوار سے تکیہ لگا کر بیٹھ گئے، چلنے پھرنے کی طاقت نہ رہی، دیر تک بیٹھے رہنے کے بعد جب ہوش و حواس ٹھکانے آئے، وہ اپنے گھر پہنچے لیکن اللہ کے کلام کی اس ڈراؤنی آیت کے اثر سے دل کی کمزوری کی یہ حالت تھی کہ مہینہ بھر تک بیمار پڑے رہے اور ایسے کہ لوگ بیمار پرسی کو آتے تھے گو کسی کو معلوم نہ تھا کہ بیماری کیا ہے؟۔

ایک روایت میں ہے آپ رضی اللہ عنہ کی تلاوت میں ایک مرتبہ یہ آیت آئی، اسی وقت ہچکی بندھ گئی اور اس قدر قلب پر اثر پڑا کہ بیمار ہو گئے، چنانچہ بیس دن تک عیادت کی جاتی رہی۔ اس دن آسمان تھرتھرائے گا، پھٹ جائے گا، چکر کھانے لگے گا، پہاڑ اپنی جگہ سے ہل جائیں گے، ہٹ جائیں گے، ادھر کے ادھر ہو جائیں گے، کانپ کانپ کر ٹکڑے ٹکڑے ہو کر پھر ریزہ ریزہ ہو جائیں گے، آخر روئی کے گالوں کی طرح ادھر ادھر اتر جائیں گے اور بےنام و نشان ہو جائیں گے اس دن ان لوگوں پر جو اس دن کو نہ مانتے تھے ویل، و حسرت،خرابی ہلاکت ہو گی۔
قسم ہے طور کی (1)
(آیت 1) ➊ { وَ الطُّوْرِ:} اللہ تعالیٰ نے یہاں اپنی پانچ عظیم الشان مخلوقات کی قسم کھائی ہے، اس بات کا یقین دلانے کے لیے کہ اس کا عذاب قیامت کے دن اس کے دشمنوں پر واقع ہو کر رہنے والا ہے، اسے کوئی ہٹانے والا نہیں۔ یہ پانچوں مخلوقات اللہ تعالیٰ کی عظیم اور لامحدود قوت و قدرت کی شاہد ہیں اور اس بات کی دلیل ہیں کہ ان عظیم مخلوقات کے خالق کے لیے قیامت برپا کرنا اور اپنے منکروں کو عذاب دینا معمولی بات ہے۔ ➋ { ” الطُّوْرِ “} کا معنی وہ پہاڑ جس پر پودے اگتے ہوں۔ ایک خاص پہاڑ کا نام بھی ”طور“ ہے جس کے دامن میں اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام سے کلام کیا اور اگر اس پر ”الف لام“ جنس کا ہو تو تمام پہاڑ مراد ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی عظمت کی طرف توجہ دلانے کے لیے متعدد مقامات پر پہاڑوں کا ذکر فرمایا ہے۔ ان کا زمین میں گڑا ہوا ہونا، آسمان کی طرف بلند ہونا، سمندر سے ہزاروں فٹ بلند ہونے کے باوجود ان پر چشموں، پودوں اور درختوں کا اور اتنی بلندی پر گلیشیروں کی صورت میں پانی کے بے حساب ذخیروں کا موجود ہونا، ان کے اندر چھپے ہوئے معدنیات کے بے شمار خزانے، اتنے بلند اور ٹھوس ہونے کے باوجود ان میں راستوں کا موجود ہونا، غرض پہاڑوں میں اللہ تعالیٰ کی قدرت و عظمت کی بے شمار نشانیاں ہیں۔ مزید دیکھیے سورئہ رعد(۳)، حجر(۱۹)، نحل(81،15)، لقمان(۱۰)، فاطر(۲۷)، مرسلات (۲۷)، نبا(۷)، نازعات(۳۲) اور غاشیہ(۱۹)۔
وَ کِتٰبٍ مَّسۡطُوۡرٍ ۙ﴿۲﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اور ایک ایسی کھلی کتاب کی
مولانا محمد جوناگڑھی
اور لکھی ہوئی کتاب کی
احمد رضا خان بریلوی
اور اس نوشتہ کی
علامہ محمد حسین نجفی
اور ایک کتاب کی جو لکھی ہوئی ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اور ایک کتاب کی جو لکھی ہوئی ہے!
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
تفسیر سورۂ طور ٭٭

اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق میں سے ان چیزوں کی قسم کھا کر جو اس کی عظیم الشان قدرت کی نشانیاں ہیں فرماتا ہے کہ اس کا عذاب ہو کر ہی رہے گا، جب وہ آئے گا کسی کی مجال نہ ہو گی کہ اسے ہٹا سکے۔ «طور» اس پہاڑ کو کہتے ہیں جس پر درخت ہوں جیسے وہ پہاڑ جس پر اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام سے کلام کیا اور جہاں سے عیسیٰ علیہ السلام کو بھیجا تھا اور جو خشک پہاڑ ہو اسے «جبل» کہا جاتا ہے «طور» نہیں کہا جاتا۔ «كِتَابٍ مَسْطُور» سے مراد یا تو لوح محفوظ ہے یا اللہ کی اتاری ہوئی، لکھی ہوئی کتابیں ہیں جو انسانوں پر پڑھی جاتی ہیں اسی لیے ساتھ ہی فرما دیا کھلے ہوئے اوراق میں۔ «الْبَيْتِ الْمَعْمُور» کی بابت معراج والی حدیث میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”ساتویں آسمان سے آگے بڑھنے کے بعد مجھے بیت المعمور دکھلایا گیا جس میں ہر روز ستر ہزار فرشتے عبادت اللہ کے لیے جاتے ہیں، دوسرے دن اتنے ہی اور لیکن جو آج گئے ان کی باری پھر قیامت تک نہیں آتی۔“ } [صحیح بخاری:3207] ‏‏‏‏

جس طرح زمین پر کعبتہ اللہ کا طواف ہوتا ہے اسی طرح آسمانوں کے طواف کی اور عبادت کی جگہ وہ ہے۔ اسی حدیث میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت ابراہیم علیہ السلام کو دیکھا کہ بیت العمور سے کمر لگائے بیٹھے ہیں اس میں ایک باریک نکتہ یہ ہے کہ چونکہ خلیل اللہ بانی بیت اللہ تھے جن کے ہاتھوں زمین میں کعبۃ اللہ بنا تھا تو انہیں وہاں بھی اس کے کعبے سے لگے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا۔ تو گویا اس عمل کی جزا اسی جیسی پروردگار نے اپنے خلیل کو دی، یہ بیت المعمور ٹھیک خانہ کعبہ کے اوپر ہے اور ہے ساتویں آسمان پر، یوں تو ہر آسمان میں ایک ایسا گھر ہے جہاں اس آسمان کے فرشتے اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتے ہیں پہلے آسمان جو اسی جگہ ہے اس کا نام بیت العزت ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

ابن ابی حاتم میں حدیث ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آسمان میں ایک گھر ہے جسے «معمور» کہتے ہیں جو کعبہ کی سمت میں ہے، چوتھے آسمان میں ایک نہر ہے جس کا نام نہر «حیوان» ہے، جبرائیل علیہ السلام ہر روز اس میں غوطہٰ لگاتے ہیں اور نکل کر بدن جھاڑتے ہیں، جس سے ستر ہزار قطرے جھڑتے ہیں ایک ایک قطرے سے اللہ تعالیٰ ایک ایک فرشتہ پیدا کرتا ہے جنہیں حکم ہوتا ہے کہ وہ بیت المعمور میں جائیں اور نماز ادا کریں، پھر وہ وہاں سے نکل آتے ہیں اب انہیں دوبارہ جانے کی نوبت نہیں آتی، ان کا ایک سردار ہوتا ہے جسے حکم دیا جاتا ہے کہ انہیں لے کر کسی جگہ کھڑا ہو جائے پھر وہ اللہ کی تسبیح کے بیان میں لگ جاتے ہیں، قیامت تک ان کا یہی شغل رہتا ہے، } [الموضاعات لابن الجوزی:147/1،موضوع] ‏‏‏‏ یہ حدیث بہت ہی غریب ہے اس کے راوی روح بن صباح اس میں منفرد ہیں، حافظوں کی ایک جماعت نے ان پر ایک حدیث کا انکار کیا ہے، جیسے جوزجانی، عقیلی، حاکم وغیرہ امام حاکم ابوعبداللہ نیشاپوری رحمہ اللہ اسے بالکل بے اصل بتاتے ہیں سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے ایک شخص نے پوچھا کہ بیت المعمور کیا ہے؟ آپ نے فرمایا: وہ آسمان میں ہے، اسے «صراح» کہا جاتا ہے کعبہ کے ٹھیک اوپر ہے جس طرح زمین کا کعبہ حرمت کی جگہ ہے اسی طرح وہ آسمانوں میں حرمت کی جگہ ہے، ہر روز اس میں ستر ہزار فرشتے نماز ادا کرتے ہیں لیکن جو آج گئے ہیں ان کی باری قیامت تک دوبارہ نہیں آتی کیونکہ فرشتوں کی تعداد ہی اس قدر ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:480/11:مرسل] ‏‏‏‏ ایک روایت میں ہے یہ پوچھنے والے ابن کواء رحمہ اللہ تھے۔

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے منقول ہے کہ { یہ عرش کے محاذ میں سے ہے ایک مرفوع روایت میں ہے کہ صحابہ رضی اللہ عنہم کو ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیت المعمور کو جانتے ہو؟“ انہوں نے کہا: اللہ اور اس کا رسول جانتے ہیں، فرمایا: ”وہ آسمانی کعبہ ہے اور زمینی کعبہ کے بالکل اوپر ہے ایسا کہ اگر وہ گرے تو اسی پر گرے اس میں ہر روز ستر ہزار فرشتے نماز ادا کرتے ہیں جن کی باری قیامت تک پھر نہیں آتی۔ } [تفسیر ابن جریر الطبری:32297:مرسل] ‏‏‏‏ ضحاک رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ فرشتے ابلیس کے قبیلے کے جنات میں سے ہیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» اونچی چھت سے مراد آسمان ہے جیسے اور جگہ ہے «وَجَعَلْنَا السَّمَاءَ سَقْفًا مَّحْفُوْظًا وَّهُمْ عَنْ اٰيٰـتِهَا مُعْرِضُوْنَ» [21-الأنبياء:32] ‏‏‏‏ ربیع بن انس رحمہ اللہ فرماتے ہیں مراد اس سے عرش ہے اس لیے کہ وہ تمام مخلوق کی چھت ہے، اس قول کی توجیہ اس طرح ہو سکتی ہے کہ مراد عام ہو، «الْبَحْرِ الْمَسْجُورِ» (‏‏‏‏ «بحر مسجور» سے مراد وہ پانی ہے جو عرش تلے ہے، جو بارش کی طرح برسے گا، جس سے قیامت کے دن مردے اپنی اپنی قبروں سے اٹھیں گے)۔ جمہور کہتے ہیں یہی دریا مراد ہیں، انہیں جو «الْمَسْجُور» کہا گیا ہے یہ اس لیے قیامت کے دن ان میں آگ لگا دی جائے گی جیسے اور جگہ ہے «وَاِذَا الْبِحَارُ سُجِّرَتْ» [81-التكوير:6] ‏‏‏‏ جبکہ دریا بھڑکا دیئے جائیں اور ان میں آگ لگ جائے گی، جو پھیل کر تمام اہل محشر کو گھیر لے گی - علاء بن بدر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ بھڑکتے ہوئے دریا اس لیے کہا گیا کہ نہ اس کا پانی پینے کے کام میں آئے اور نہ کھیتی کو دیا جائے یہی حال قیامت کے دن دریاؤں کا ہو گا، یہ معنی بھی کئے گئے ہیں کہ دریا بہتا ہوا اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ دریا پرُشُدہ ادھر ادھر جاری۔

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں «مسجور» سے مراد فارغ یعنی خالی ہے، کوئی لونڈی پانی لینے کو جائے پھر لوٹ کر کہے کہ حوض «مسجور» ہے اس سے مراد یہی ہے کہ خالی ہے، یہ بھی کہا گیا ہے کہ معنی یہ ہیں کہ اسے زمین سے روک دیا گیا ہے، اس لیے کہ ڈبو نہ سکے۔ مسند احمد کی ایک مرفوع حدیث میں ہے کہ { ہر رات تین مرتبہ دریا اللہ تعالیٰ سے اجازت طلب کرتا ہے کہ اگر حکم ہو تو تمام لوگوں کو ڈبو دوں لیکن اللہ تعالیٰ اسے روک دیتا ہے۔ } [مسند احمد:43/1:ضعیف] ‏‏‏‏ دوسری روایت میں ہے کہ ایک بزرگ مجاہد جو سمندر کی سرحد کے لشکروں میں تھے وہ جہاد کی تیاری میں وہیں رہتے تھے، فرماتے ہیں: ایک رات میں چوکیداری کے لیے نکلا، اس رات کوئی اور پہرے پر نہ تھا، میں گشت کرتا ہوا میدان میں پہنچا اور وہاں سے سمندر پر نظریں ڈالیں، تو ایسا معلوم ہوا کہ گویا سمندر پہاڑ کی چوٹیوں سے ٹکرا رہا ہے، باربار یہی نظارہ میں نے دیکھا۔ میں نے ابوصالح سے یہ واقعہ بیان کیا انہوں نے بروایت سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ اوپر والی حدیث مجھے سنائی لیکن اس کی سند میں ایک راوی مبہم ہے جس کا نام نہیں لیا گیا۔ ان قسموں کے بعد اب جس چیز پر قسمیں کھائی گئی تھیں ان کا بیان ہو رہا ہے کہ کافروں کو جو عذاب الہٰی ہونے والا ہے وہ یقینی طور پر آنے والا ہی ہے، جب وہ آئے گا کسی کے بس میں اس کا روکنا نہ ہو گا۔ ابن ابی الدنیا میں ہے کہ ایک رات سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ شہر کی دیکھ بھال کے لیے نکلے تو ایک مکان سے کسی مسلمان کی قرآن خوانی کی آواز کان میں پڑی وہ سورۃ والطور پڑھ رہے تھے، آپ نے سواری روک لی اور کھڑے ہو کر قرآن سننے لگے، جب وہ اس آیت پر پہنچے تو زبان سے نکل گیا کہ ”رب کعبہ کی قسم سچی ہے“، پھر اپنے گدھے سے اتر پڑے اور دیوار سے تکیہ لگا کر بیٹھ گئے، چلنے پھرنے کی طاقت نہ رہی، دیر تک بیٹھے رہنے کے بعد جب ہوش و حواس ٹھکانے آئے، وہ اپنے گھر پہنچے لیکن اللہ کے کلام کی اس ڈراؤنی آیت کے اثر سے دل کی کمزوری کی یہ حالت تھی کہ مہینہ بھر تک بیمار پڑے رہے اور ایسے کہ لوگ بیمار پرسی کو آتے تھے گو کسی کو معلوم نہ تھا کہ بیماری کیا ہے؟۔

ایک روایت میں ہے آپ رضی اللہ عنہ کی تلاوت میں ایک مرتبہ یہ آیت آئی، اسی وقت ہچکی بندھ گئی اور اس قدر قلب پر اثر پڑا کہ بیمار ہو گئے، چنانچہ بیس دن تک عیادت کی جاتی رہی۔ اس دن آسمان تھرتھرائے گا، پھٹ جائے گا، چکر کھانے لگے گا، پہاڑ اپنی جگہ سے ہل جائیں گے، ہٹ جائیں گے، ادھر کے ادھر ہو جائیں گے، کانپ کانپ کر ٹکڑے ٹکڑے ہو کر پھر ریزہ ریزہ ہو جائیں گے، آخر روئی کے گالوں کی طرح ادھر ادھر اتر جائیں گے اور بےنام و نشان ہو جائیں گے اس دن ان لوگوں پر جو اس دن کو نہ مانتے تھے ویل، و حسرت،خرابی ہلاکت ہو گی۔
2۔ 1 مَسْطُوْرِ کے معنی ہیں مکتوب، لکھی ہوئی چیز۔ اس کا مصداق مختلف بیان کئے گئے ہیں۔ قرآن مجید، لوح محفوظ، تمام کتب منزلہ یا انسانی اعمال نامے جو فرشتے لکھتے ہیں۔
(آیت 3،2) {وَ كِتٰبٍ مَّسْطُوْرٍ (2) فِيْ رَقٍّ مَّنْشُوْرٍ:” مَسْطُوْرٍ “} ترتیب اور خوب صورتی کے ساتھ سطر میں لکھی ہوئی کتاب۔ {” رَقٍّ “} کا مادہ رقت اور باریکی کے لیے استعمال ہوتا ہے، مراد باریک چمڑا یا جھلی ہے جو مضبوط اور دیرپا ہونے کی وجہ سے لکھنے کے لیے استعمال ہوتے تھے۔ کاغذ یا کسی طرح کا باریک ورق بھی {” رَقٍّ “} ہے۔ {” مَنْشُوْرٍ “} کھلا ہوا، جسے کھول کر پڑھا جا سکے۔ اس ”کتاب مسطور“ کے متعلق مفسرین کے متعدد اقوال ہیں، لوح محفوظ، اعمال نامے، تورات، آسمانی کتابیں اور قرآن مجید وغیرہ۔ لفظ عام ہونے کی وجہ سے ”کتاب مسطور“ میں یہ تمام کتابیں اور انسان، جن یا فرشتے جو کچھ لکھتے ہیں وہ سب کچھ شامل ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ لکھنا اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے بہت بڑی نشانی ہے، خواہ اس نے خود لکھا ہو، جیسے لوح محفوظ ہے، یا اس کے فرشتوں نے لکھا ہو، جیسے نامہ ہائے اعمال ہیں، یا اس کے سکھانے سے انسانوں نے لکھا ہو۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے اپنے ”اکرم“ ہونے کا ذکر لکھنے کی تعلیم دینے کے حوالے سے فرمایا: «‏‏‏‏اِقْرَاْ وَ رَبُّكَ الْاَكْرَمُ (3) الَّذِيْ عَلَّمَ بِالْقَلَمِ» [ العلق: ۳،۴ ] ”پڑھ اور تیرا رب ہی سب سے زیادہ کرم والا ہے۔ وہ جس نے قلم کے ساتھ سکھایا۔“ اور سورۂ قلم میں تمام لکھنے والوں کی لکھی ہوئی تحریروں کو شاہد کے طور پر پیش کرنے کے لیے ان کی قسم کھائی، جیسا کہ فرمایا: «‏‏‏‏نٓ وَ الْقَلَمِ وَ مَا يَسْطُرُوْنَ» ‏‏‏‏ [ القلم: ۱ ] ”{نٓ}۔قسم ہے قلم کی! اور اس کی جو وہ لکھتے ہیں!“ یہاں قیامت کے قیام اور اس میں عذاب واقع ہونے کا ایک شاہد ”کتاب مسطور“ کو قرار دیا ہے۔
فِیۡ رَقٍّ مَّنۡشُوۡرٍ ۙ﴿۳﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
جو رقیق جلد میں لکھی ہوئی ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
جو جھلی کے کھلے ہوئے ورق میں ہے
احمد رضا خان بریلوی
جو کھلے دفتر میں لکھا ہے
علامہ محمد حسین نجفی
کھلے ورق میں۔
عبدالسلام بن محمد
ایسے ورق میں جو کھلا ہوا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
تفسیر سورۂ طور ٭٭

اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق میں سے ان چیزوں کی قسم کھا کر جو اس کی عظیم الشان قدرت کی نشانیاں ہیں فرماتا ہے کہ اس کا عذاب ہو کر ہی رہے گا، جب وہ آئے گا کسی کی مجال نہ ہو گی کہ اسے ہٹا سکے۔ «طور» اس پہاڑ کو کہتے ہیں جس پر درخت ہوں جیسے وہ پہاڑ جس پر اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام سے کلام کیا اور جہاں سے عیسیٰ علیہ السلام کو بھیجا تھا اور جو خشک پہاڑ ہو اسے «جبل» کہا جاتا ہے «طور» نہیں کہا جاتا۔ «كِتَابٍ مَسْطُور» سے مراد یا تو لوح محفوظ ہے یا اللہ کی اتاری ہوئی، لکھی ہوئی کتابیں ہیں جو انسانوں پر پڑھی جاتی ہیں اسی لیے ساتھ ہی فرما دیا کھلے ہوئے اوراق میں۔ «الْبَيْتِ الْمَعْمُور» کی بابت معراج والی حدیث میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”ساتویں آسمان سے آگے بڑھنے کے بعد مجھے بیت المعمور دکھلایا گیا جس میں ہر روز ستر ہزار فرشتے عبادت اللہ کے لیے جاتے ہیں، دوسرے دن اتنے ہی اور لیکن جو آج گئے ان کی باری پھر قیامت تک نہیں آتی۔“ } [صحیح بخاری:3207] ‏‏‏‏

جس طرح زمین پر کعبتہ اللہ کا طواف ہوتا ہے اسی طرح آسمانوں کے طواف کی اور عبادت کی جگہ وہ ہے۔ اسی حدیث میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت ابراہیم علیہ السلام کو دیکھا کہ بیت العمور سے کمر لگائے بیٹھے ہیں اس میں ایک باریک نکتہ یہ ہے کہ چونکہ خلیل اللہ بانی بیت اللہ تھے جن کے ہاتھوں زمین میں کعبۃ اللہ بنا تھا تو انہیں وہاں بھی اس کے کعبے سے لگے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا۔ تو گویا اس عمل کی جزا اسی جیسی پروردگار نے اپنے خلیل کو دی، یہ بیت المعمور ٹھیک خانہ کعبہ کے اوپر ہے اور ہے ساتویں آسمان پر، یوں تو ہر آسمان میں ایک ایسا گھر ہے جہاں اس آسمان کے فرشتے اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتے ہیں پہلے آسمان جو اسی جگہ ہے اس کا نام بیت العزت ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

ابن ابی حاتم میں حدیث ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آسمان میں ایک گھر ہے جسے «معمور» کہتے ہیں جو کعبہ کی سمت میں ہے، چوتھے آسمان میں ایک نہر ہے جس کا نام نہر «حیوان» ہے، جبرائیل علیہ السلام ہر روز اس میں غوطہٰ لگاتے ہیں اور نکل کر بدن جھاڑتے ہیں، جس سے ستر ہزار قطرے جھڑتے ہیں ایک ایک قطرے سے اللہ تعالیٰ ایک ایک فرشتہ پیدا کرتا ہے جنہیں حکم ہوتا ہے کہ وہ بیت المعمور میں جائیں اور نماز ادا کریں، پھر وہ وہاں سے نکل آتے ہیں اب انہیں دوبارہ جانے کی نوبت نہیں آتی، ان کا ایک سردار ہوتا ہے جسے حکم دیا جاتا ہے کہ انہیں لے کر کسی جگہ کھڑا ہو جائے پھر وہ اللہ کی تسبیح کے بیان میں لگ جاتے ہیں، قیامت تک ان کا یہی شغل رہتا ہے، } [الموضاعات لابن الجوزی:147/1،موضوع] ‏‏‏‏ یہ حدیث بہت ہی غریب ہے اس کے راوی روح بن صباح اس میں منفرد ہیں، حافظوں کی ایک جماعت نے ان پر ایک حدیث کا انکار کیا ہے، جیسے جوزجانی، عقیلی، حاکم وغیرہ امام حاکم ابوعبداللہ نیشاپوری رحمہ اللہ اسے بالکل بے اصل بتاتے ہیں سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے ایک شخص نے پوچھا کہ بیت المعمور کیا ہے؟ آپ نے فرمایا: وہ آسمان میں ہے، اسے «صراح» کہا جاتا ہے کعبہ کے ٹھیک اوپر ہے جس طرح زمین کا کعبہ حرمت کی جگہ ہے اسی طرح وہ آسمانوں میں حرمت کی جگہ ہے، ہر روز اس میں ستر ہزار فرشتے نماز ادا کرتے ہیں لیکن جو آج گئے ہیں ان کی باری قیامت تک دوبارہ نہیں آتی کیونکہ فرشتوں کی تعداد ہی اس قدر ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:480/11:مرسل] ‏‏‏‏ ایک روایت میں ہے یہ پوچھنے والے ابن کواء رحمہ اللہ تھے۔

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے منقول ہے کہ { یہ عرش کے محاذ میں سے ہے ایک مرفوع روایت میں ہے کہ صحابہ رضی اللہ عنہم کو ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیت المعمور کو جانتے ہو؟“ انہوں نے کہا: اللہ اور اس کا رسول جانتے ہیں، فرمایا: ”وہ آسمانی کعبہ ہے اور زمینی کعبہ کے بالکل اوپر ہے ایسا کہ اگر وہ گرے تو اسی پر گرے اس میں ہر روز ستر ہزار فرشتے نماز ادا کرتے ہیں جن کی باری قیامت تک پھر نہیں آتی۔ } [تفسیر ابن جریر الطبری:32297:مرسل] ‏‏‏‏ ضحاک رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ فرشتے ابلیس کے قبیلے کے جنات میں سے ہیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» اونچی چھت سے مراد آسمان ہے جیسے اور جگہ ہے «وَجَعَلْنَا السَّمَاءَ سَقْفًا مَّحْفُوْظًا وَّهُمْ عَنْ اٰيٰـتِهَا مُعْرِضُوْنَ» [21-الأنبياء:32] ‏‏‏‏ ربیع بن انس رحمہ اللہ فرماتے ہیں مراد اس سے عرش ہے اس لیے کہ وہ تمام مخلوق کی چھت ہے، اس قول کی توجیہ اس طرح ہو سکتی ہے کہ مراد عام ہو، «الْبَحْرِ الْمَسْجُورِ» (‏‏‏‏ «بحر مسجور» سے مراد وہ پانی ہے جو عرش تلے ہے، جو بارش کی طرح برسے گا، جس سے قیامت کے دن مردے اپنی اپنی قبروں سے اٹھیں گے)۔ جمہور کہتے ہیں یہی دریا مراد ہیں، انہیں جو «الْمَسْجُور» کہا گیا ہے یہ اس لیے قیامت کے دن ان میں آگ لگا دی جائے گی جیسے اور جگہ ہے «وَاِذَا الْبِحَارُ سُجِّرَتْ» [81-التكوير:6] ‏‏‏‏ جبکہ دریا بھڑکا دیئے جائیں اور ان میں آگ لگ جائے گی، جو پھیل کر تمام اہل محشر کو گھیر لے گی - علاء بن بدر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ بھڑکتے ہوئے دریا اس لیے کہا گیا کہ نہ اس کا پانی پینے کے کام میں آئے اور نہ کھیتی کو دیا جائے یہی حال قیامت کے دن دریاؤں کا ہو گا، یہ معنی بھی کئے گئے ہیں کہ دریا بہتا ہوا اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ دریا پرُشُدہ ادھر ادھر جاری۔

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں «مسجور» سے مراد فارغ یعنی خالی ہے، کوئی لونڈی پانی لینے کو جائے پھر لوٹ کر کہے کہ حوض «مسجور» ہے اس سے مراد یہی ہے کہ خالی ہے، یہ بھی کہا گیا ہے کہ معنی یہ ہیں کہ اسے زمین سے روک دیا گیا ہے، اس لیے کہ ڈبو نہ سکے۔ مسند احمد کی ایک مرفوع حدیث میں ہے کہ { ہر رات تین مرتبہ دریا اللہ تعالیٰ سے اجازت طلب کرتا ہے کہ اگر حکم ہو تو تمام لوگوں کو ڈبو دوں لیکن اللہ تعالیٰ اسے روک دیتا ہے۔ } [مسند احمد:43/1:ضعیف] ‏‏‏‏ دوسری روایت میں ہے کہ ایک بزرگ مجاہد جو سمندر کی سرحد کے لشکروں میں تھے وہ جہاد کی تیاری میں وہیں رہتے تھے، فرماتے ہیں: ایک رات میں چوکیداری کے لیے نکلا، اس رات کوئی اور پہرے پر نہ تھا، میں گشت کرتا ہوا میدان میں پہنچا اور وہاں سے سمندر پر نظریں ڈالیں، تو ایسا معلوم ہوا کہ گویا سمندر پہاڑ کی چوٹیوں سے ٹکرا رہا ہے، باربار یہی نظارہ میں نے دیکھا۔ میں نے ابوصالح سے یہ واقعہ بیان کیا انہوں نے بروایت سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ اوپر والی حدیث مجھے سنائی لیکن اس کی سند میں ایک راوی مبہم ہے جس کا نام نہیں لیا گیا۔ ان قسموں کے بعد اب جس چیز پر قسمیں کھائی گئی تھیں ان کا بیان ہو رہا ہے کہ کافروں کو جو عذاب الہٰی ہونے والا ہے وہ یقینی طور پر آنے والا ہی ہے، جب وہ آئے گا کسی کے بس میں اس کا روکنا نہ ہو گا۔ ابن ابی الدنیا میں ہے کہ ایک رات سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ شہر کی دیکھ بھال کے لیے نکلے تو ایک مکان سے کسی مسلمان کی قرآن خوانی کی آواز کان میں پڑی وہ سورۃ والطور پڑھ رہے تھے، آپ نے سواری روک لی اور کھڑے ہو کر قرآن سننے لگے، جب وہ اس آیت پر پہنچے تو زبان سے نکل گیا کہ ”رب کعبہ کی قسم سچی ہے“، پھر اپنے گدھے سے اتر پڑے اور دیوار سے تکیہ لگا کر بیٹھ گئے، چلنے پھرنے کی طاقت نہ رہی، دیر تک بیٹھے رہنے کے بعد جب ہوش و حواس ٹھکانے آئے، وہ اپنے گھر پہنچے لیکن اللہ کے کلام کی اس ڈراؤنی آیت کے اثر سے دل کی کمزوری کی یہ حالت تھی کہ مہینہ بھر تک بیمار پڑے رہے اور ایسے کہ لوگ بیمار پرسی کو آتے تھے گو کسی کو معلوم نہ تھا کہ بیماری کیا ہے؟۔

ایک روایت میں ہے آپ رضی اللہ عنہ کی تلاوت میں ایک مرتبہ یہ آیت آئی، اسی وقت ہچکی بندھ گئی اور اس قدر قلب پر اثر پڑا کہ بیمار ہو گئے، چنانچہ بیس دن تک عیادت کی جاتی رہی۔ اس دن آسمان تھرتھرائے گا، پھٹ جائے گا، چکر کھانے لگے گا، پہاڑ اپنی جگہ سے ہل جائیں گے، ہٹ جائیں گے، ادھر کے ادھر ہو جائیں گے، کانپ کانپ کر ٹکڑے ٹکڑے ہو کر پھر ریزہ ریزہ ہو جائیں گے، آخر روئی کے گالوں کی طرح ادھر ادھر اتر جائیں گے اور بےنام و نشان ہو جائیں گے اس دن ان لوگوں پر جو اس دن کو نہ مانتے تھے ویل، و حسرت،خرابی ہلاکت ہو گی۔
3۔ 1 رق یہ متعلق ہے مَسْطُورِ کے۔ رَقِ وہ باریک چمڑا جس پر لکھا جاتا تھا۔ منشور بمعنی مبسوط پھیلا یا کھلا ہوا۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
وَّ الۡبَیۡتِ الۡمَعۡمُوۡرِ ۙ﴿۴﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اور آباد گھر کی
مولانا محمد جوناگڑھی
اورآباد گھر کی
احمد رضا خان بریلوی
اور بیت معمور
علامہ محمد حسین نجفی
اور قَسم ہے اس گھر کی جو آباد ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اور آباد گھر کی!
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
تفسیر سورۂ طور ٭٭

اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق میں سے ان چیزوں کی قسم کھا کر جو اس کی عظیم الشان قدرت کی نشانیاں ہیں فرماتا ہے کہ اس کا عذاب ہو کر ہی رہے گا، جب وہ آئے گا کسی کی مجال نہ ہو گی کہ اسے ہٹا سکے۔ «طور» اس پہاڑ کو کہتے ہیں جس پر درخت ہوں جیسے وہ پہاڑ جس پر اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام سے کلام کیا اور جہاں سے عیسیٰ علیہ السلام کو بھیجا تھا اور جو خشک پہاڑ ہو اسے «جبل» کہا جاتا ہے «طور» نہیں کہا جاتا۔ «كِتَابٍ مَسْطُور» سے مراد یا تو لوح محفوظ ہے یا اللہ کی اتاری ہوئی، لکھی ہوئی کتابیں ہیں جو انسانوں پر پڑھی جاتی ہیں اسی لیے ساتھ ہی فرما دیا کھلے ہوئے اوراق میں۔ «الْبَيْتِ الْمَعْمُور» کی بابت معراج والی حدیث میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”ساتویں آسمان سے آگے بڑھنے کے بعد مجھے بیت المعمور دکھلایا گیا جس میں ہر روز ستر ہزار فرشتے عبادت اللہ کے لیے جاتے ہیں، دوسرے دن اتنے ہی اور لیکن جو آج گئے ان کی باری پھر قیامت تک نہیں آتی۔“ } [صحیح بخاری:3207] ‏‏‏‏

جس طرح زمین پر کعبتہ اللہ کا طواف ہوتا ہے اسی طرح آسمانوں کے طواف کی اور عبادت کی جگہ وہ ہے۔ اسی حدیث میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت ابراہیم علیہ السلام کو دیکھا کہ بیت العمور سے کمر لگائے بیٹھے ہیں اس میں ایک باریک نکتہ یہ ہے کہ چونکہ خلیل اللہ بانی بیت اللہ تھے جن کے ہاتھوں زمین میں کعبۃ اللہ بنا تھا تو انہیں وہاں بھی اس کے کعبے سے لگے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا۔ تو گویا اس عمل کی جزا اسی جیسی پروردگار نے اپنے خلیل کو دی، یہ بیت المعمور ٹھیک خانہ کعبہ کے اوپر ہے اور ہے ساتویں آسمان پر، یوں تو ہر آسمان میں ایک ایسا گھر ہے جہاں اس آسمان کے فرشتے اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتے ہیں پہلے آسمان جو اسی جگہ ہے اس کا نام بیت العزت ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

ابن ابی حاتم میں حدیث ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آسمان میں ایک گھر ہے جسے «معمور» کہتے ہیں جو کعبہ کی سمت میں ہے، چوتھے آسمان میں ایک نہر ہے جس کا نام نہر «حیوان» ہے، جبرائیل علیہ السلام ہر روز اس میں غوطہٰ لگاتے ہیں اور نکل کر بدن جھاڑتے ہیں، جس سے ستر ہزار قطرے جھڑتے ہیں ایک ایک قطرے سے اللہ تعالیٰ ایک ایک فرشتہ پیدا کرتا ہے جنہیں حکم ہوتا ہے کہ وہ بیت المعمور میں جائیں اور نماز ادا کریں، پھر وہ وہاں سے نکل آتے ہیں اب انہیں دوبارہ جانے کی نوبت نہیں آتی، ان کا ایک سردار ہوتا ہے جسے حکم دیا جاتا ہے کہ انہیں لے کر کسی جگہ کھڑا ہو جائے پھر وہ اللہ کی تسبیح کے بیان میں لگ جاتے ہیں، قیامت تک ان کا یہی شغل رہتا ہے، } [الموضاعات لابن الجوزی:147/1،موضوع] ‏‏‏‏ یہ حدیث بہت ہی غریب ہے اس کے راوی روح بن صباح اس میں منفرد ہیں، حافظوں کی ایک جماعت نے ان پر ایک حدیث کا انکار کیا ہے، جیسے جوزجانی، عقیلی، حاکم وغیرہ امام حاکم ابوعبداللہ نیشاپوری رحمہ اللہ اسے بالکل بے اصل بتاتے ہیں سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے ایک شخص نے پوچھا کہ بیت المعمور کیا ہے؟ آپ نے فرمایا: وہ آسمان میں ہے، اسے «صراح» کہا جاتا ہے کعبہ کے ٹھیک اوپر ہے جس طرح زمین کا کعبہ حرمت کی جگہ ہے اسی طرح وہ آسمانوں میں حرمت کی جگہ ہے، ہر روز اس میں ستر ہزار فرشتے نماز ادا کرتے ہیں لیکن جو آج گئے ہیں ان کی باری قیامت تک دوبارہ نہیں آتی کیونکہ فرشتوں کی تعداد ہی اس قدر ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:480/11:مرسل] ‏‏‏‏ ایک روایت میں ہے یہ پوچھنے والے ابن کواء رحمہ اللہ تھے۔

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے منقول ہے کہ { یہ عرش کے محاذ میں سے ہے ایک مرفوع روایت میں ہے کہ صحابہ رضی اللہ عنہم کو ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیت المعمور کو جانتے ہو؟“ انہوں نے کہا: اللہ اور اس کا رسول جانتے ہیں، فرمایا: ”وہ آسمانی کعبہ ہے اور زمینی کعبہ کے بالکل اوپر ہے ایسا کہ اگر وہ گرے تو اسی پر گرے اس میں ہر روز ستر ہزار فرشتے نماز ادا کرتے ہیں جن کی باری قیامت تک پھر نہیں آتی۔ } [تفسیر ابن جریر الطبری:32297:مرسل] ‏‏‏‏ ضحاک رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ فرشتے ابلیس کے قبیلے کے جنات میں سے ہیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» اونچی چھت سے مراد آسمان ہے جیسے اور جگہ ہے «وَجَعَلْنَا السَّمَاءَ سَقْفًا مَّحْفُوْظًا وَّهُمْ عَنْ اٰيٰـتِهَا مُعْرِضُوْنَ» [21-الأنبياء:32] ‏‏‏‏ ربیع بن انس رحمہ اللہ فرماتے ہیں مراد اس سے عرش ہے اس لیے کہ وہ تمام مخلوق کی چھت ہے، اس قول کی توجیہ اس طرح ہو سکتی ہے کہ مراد عام ہو، «الْبَحْرِ الْمَسْجُورِ» (‏‏‏‏ «بحر مسجور» سے مراد وہ پانی ہے جو عرش تلے ہے، جو بارش کی طرح برسے گا، جس سے قیامت کے دن مردے اپنی اپنی قبروں سے اٹھیں گے)۔ جمہور کہتے ہیں یہی دریا مراد ہیں، انہیں جو «الْمَسْجُور» کہا گیا ہے یہ اس لیے قیامت کے دن ان میں آگ لگا دی جائے گی جیسے اور جگہ ہے «وَاِذَا الْبِحَارُ سُجِّرَتْ» [81-التكوير:6] ‏‏‏‏ جبکہ دریا بھڑکا دیئے جائیں اور ان میں آگ لگ جائے گی، جو پھیل کر تمام اہل محشر کو گھیر لے گی - علاء بن بدر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ بھڑکتے ہوئے دریا اس لیے کہا گیا کہ نہ اس کا پانی پینے کے کام میں آئے اور نہ کھیتی کو دیا جائے یہی حال قیامت کے دن دریاؤں کا ہو گا، یہ معنی بھی کئے گئے ہیں کہ دریا بہتا ہوا اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ دریا پرُشُدہ ادھر ادھر جاری۔

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں «مسجور» سے مراد فارغ یعنی خالی ہے، کوئی لونڈی پانی لینے کو جائے پھر لوٹ کر کہے کہ حوض «مسجور» ہے اس سے مراد یہی ہے کہ خالی ہے، یہ بھی کہا گیا ہے کہ معنی یہ ہیں کہ اسے زمین سے روک دیا گیا ہے، اس لیے کہ ڈبو نہ سکے۔ مسند احمد کی ایک مرفوع حدیث میں ہے کہ { ہر رات تین مرتبہ دریا اللہ تعالیٰ سے اجازت طلب کرتا ہے کہ اگر حکم ہو تو تمام لوگوں کو ڈبو دوں لیکن اللہ تعالیٰ اسے روک دیتا ہے۔ } [مسند احمد:43/1:ضعیف] ‏‏‏‏ دوسری روایت میں ہے کہ ایک بزرگ مجاہد جو سمندر کی سرحد کے لشکروں میں تھے وہ جہاد کی تیاری میں وہیں رہتے تھے، فرماتے ہیں: ایک رات میں چوکیداری کے لیے نکلا، اس رات کوئی اور پہرے پر نہ تھا، میں گشت کرتا ہوا میدان میں پہنچا اور وہاں سے سمندر پر نظریں ڈالیں، تو ایسا معلوم ہوا کہ گویا سمندر پہاڑ کی چوٹیوں سے ٹکرا رہا ہے، باربار یہی نظارہ میں نے دیکھا۔ میں نے ابوصالح سے یہ واقعہ بیان کیا انہوں نے بروایت سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ اوپر والی حدیث مجھے سنائی لیکن اس کی سند میں ایک راوی مبہم ہے جس کا نام نہیں لیا گیا۔ ان قسموں کے بعد اب جس چیز پر قسمیں کھائی گئی تھیں ان کا بیان ہو رہا ہے کہ کافروں کو جو عذاب الہٰی ہونے والا ہے وہ یقینی طور پر آنے والا ہی ہے، جب وہ آئے گا کسی کے بس میں اس کا روکنا نہ ہو گا۔ ابن ابی الدنیا میں ہے کہ ایک رات سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ شہر کی دیکھ بھال کے لیے نکلے تو ایک مکان سے کسی مسلمان کی قرآن خوانی کی آواز کان میں پڑی وہ سورۃ والطور پڑھ رہے تھے، آپ نے سواری روک لی اور کھڑے ہو کر قرآن سننے لگے، جب وہ اس آیت پر پہنچے تو زبان سے نکل گیا کہ ”رب کعبہ کی قسم سچی ہے“، پھر اپنے گدھے سے اتر پڑے اور دیوار سے تکیہ لگا کر بیٹھ گئے، چلنے پھرنے کی طاقت نہ رہی، دیر تک بیٹھے رہنے کے بعد جب ہوش و حواس ٹھکانے آئے، وہ اپنے گھر پہنچے لیکن اللہ کے کلام کی اس ڈراؤنی آیت کے اثر سے دل کی کمزوری کی یہ حالت تھی کہ مہینہ بھر تک بیمار پڑے رہے اور ایسے کہ لوگ بیمار پرسی کو آتے تھے گو کسی کو معلوم نہ تھا کہ بیماری کیا ہے؟۔

ایک روایت میں ہے آپ رضی اللہ عنہ کی تلاوت میں ایک مرتبہ یہ آیت آئی، اسی وقت ہچکی بندھ گئی اور اس قدر قلب پر اثر پڑا کہ بیمار ہو گئے، چنانچہ بیس دن تک عیادت کی جاتی رہی۔ اس دن آسمان تھرتھرائے گا، پھٹ جائے گا، چکر کھانے لگے گا، پہاڑ اپنی جگہ سے ہل جائیں گے، ہٹ جائیں گے، ادھر کے ادھر ہو جائیں گے، کانپ کانپ کر ٹکڑے ٹکڑے ہو کر پھر ریزہ ریزہ ہو جائیں گے، آخر روئی کے گالوں کی طرح ادھر ادھر اتر جائیں گے اور بےنام و نشان ہو جائیں گے اس دن ان لوگوں پر جو اس دن کو نہ مانتے تھے ویل، و حسرت،خرابی ہلاکت ہو گی۔
4۔ 1 یہ بیت معمور، ساتویں آسمان پر وہ عبادت خانہ ہے جس میں فرشتے عبادت کرتے ہیں، یہ عبادت خانہ فرشتوں سے اس طرح بھرا ہوتا ہے کہ روزانہ اس میں ستر ہزار فرشتے عبادت کے لئے آتے ہیں جن کی پھر دوبارہ قیامت تک باری نہیں آتی۔ جیسا کہ احادیث معراج میں بیان کیا گیا۔ بعض بیت معمور سے خانہ کعبہ مراد لیتے ہیں۔ جو عبادت کے لیے آنے والے انسانوں سے ہر وقت بھرا رہتا ہے معمور کے معنی ہی آباد اور بھرے ہوئے کے ہیں۔
(آیت 4){ وَ الْبَيْتِ الْمَعْمُوْرِ:} آباد گھر۔ اس کے متعلق بھی مفسرین کے مختلف اقوال ہیں، بعض نے فرمایا، اس سے مراد حدیث میں مذکور ساتویں آسمان پر موجود ایک مکان ہے۔ انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے معراج کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: [ ثُمَّ عَرَجَ بِنَا إِلَی السَّمَاءِ السَّابِعَةِ فَاسْتَفْتَحَ جِبْرِيْلُ فَقِيْلَ مَنْ هٰذَا؟ قَالَ جِبْرِيْلُ، قِيْلَ وَمَنْ مَعَكَ؟ قَالَ مُحَمَّدٌ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قِيْلَ وَقَدْ بُعِثَ إِلَيْهِ؟ قَالَ قَدْ بُعِثَ إِلَيْهِ، فَفُتِحَ لَنَا فَإِذَا أَنَا بِإِبْرَاهِيْمَ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُسْنِدًا ظَهْرَهُ إِلَی الْبَيْتِ الْمَعْمُوْرِ وَإِذَا هُوَ يَدْخُلُهُ كُلَّ يَوْمٍ سَبْعُوْنَ أَلْفَ مَلَكٍ لَا يَعُوْدُوْنَ إِلَيْهِ ] [مسلم، الإیمان، باب الإسراء برسول اللّٰہ صلی اللہ علیہ وسلم إلی السمٰوات…: ۱۶۲ ] ”پھر ہمارے ساتھ ساتویں آسمان کی طرف چڑھے تو جبریل نے دروازہ کھولنے کے لیے کہا، کہا گیا: ”کون ہے؟“ کہا: ”جبریل ہوں۔“ کہا گیا: ”اور آپ کے ساتھ کون ہے؟“ کہا: ”محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔“ کہا گیا: ”کیا ان کی طرف پیغام بھیجا گیا ہے؟“ کہا: ”ہاں، پیغام بھیجا گیا ہے۔“ تو ہمارے لیے دروازہ کھول دیا گیا تو میں نے ابراہیم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ وہ اپنی پیٹھ کی ٹیک بیت المعمور (آباد گھر) کے ساتھ لگا کر بیٹھے ہوئے تھے اور اس گھر میں ہر روز ستر ہزار فرشتے داخل ہوتے ہیں، (اور جو ایک دفعہ داخل ہو جاتے ہیں وہ) پھر دوبارہ کبھی اس میں داخل نہیں ہوتے۔ “ بعض مفسرین نے فرمایا اس سے مراد کعبہ ہے جو ہر وقت عمرہ، حج، قیام اور طواف کرنے والوں کے ساتھ آباد رہتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ {” الْبَيْتِ الْمَعْمُوْرِ “} کے لفظ میں ان دونوں عظیم الشان گھروں کے علاوہ ہر آباد گھر بھی شامل ہے اور یہ اللہ تعالیٰ کی زبردست قدرت کا کھلا نشان ہے کہ اس نے زمین کے ہر حصے کو آباد کر دیا ہے۔ شہروں، بستیوں، میدانوں، صحراؤں، پہاڑوں، سمندروں غرض زمین کے جس حصے کو دیکھو وہیں آبادی نظر آئے گی۔ حتیٰ کہ قطب شمالی، جہاں ہر طرف برف ہی برف ہے، وہاں بھی آبادی ملے گی۔ یعنی یہ آباد گھر (زمین) شاہد ہے کہ جس نے ابتداءً اتنی آبادی پھیلا دی ہے جب کچھ بھی نہیں تھا، تو وہ انھیں دوبارہ زندہ کر کے مجرموں کو عذاب دے سکتا ہے اور یقینا دے گا، کیونکہ اگر وہ ایسا نہ کرے تو انسان کو پیدا کرنا بے مقصد ٹھہرتا ہے، جبکہ ایسا نہیں، فرمایا: «‏‏‏‏اَيَحْسَبُ الْاِنْسَانُ اَنْ يُّتْرَكَ سُدًى» [ القیامۃ: ۳۶ ] ”کیا انسان گمان کرتا ہے کہ اسے بغیر پوچھے ہی چھوڑ دیا جائے گا؟“
وَ السَّقۡفِ الۡمَرۡفُوۡعِ ۙ﴿۵﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اور اونچی چھت کی
مولانا محمد جوناگڑھی
اور اونچی چھت کی
احمد رضا خان بریلوی
اور بلند چھت
علامہ محمد حسین نجفی
اور اس چھت کی جو بلند ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اور اونچی اٹھائی ہوئی چھت کی!
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
تفسیر سورۂ طور ٭٭

اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق میں سے ان چیزوں کی قسم کھا کر جو اس کی عظیم الشان قدرت کی نشانیاں ہیں فرماتا ہے کہ اس کا عذاب ہو کر ہی رہے گا، جب وہ آئے گا کسی کی مجال نہ ہو گی کہ اسے ہٹا سکے۔ «طور» اس پہاڑ کو کہتے ہیں جس پر درخت ہوں جیسے وہ پہاڑ جس پر اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام سے کلام کیا اور جہاں سے عیسیٰ علیہ السلام کو بھیجا تھا اور جو خشک پہاڑ ہو اسے «جبل» کہا جاتا ہے «طور» نہیں کہا جاتا۔ «كِتَابٍ مَسْطُور» سے مراد یا تو لوح محفوظ ہے یا اللہ کی اتاری ہوئی، لکھی ہوئی کتابیں ہیں جو انسانوں پر پڑھی جاتی ہیں اسی لیے ساتھ ہی فرما دیا کھلے ہوئے اوراق میں۔ «الْبَيْتِ الْمَعْمُور» کی بابت معراج والی حدیث میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”ساتویں آسمان سے آگے بڑھنے کے بعد مجھے بیت المعمور دکھلایا گیا جس میں ہر روز ستر ہزار فرشتے عبادت اللہ کے لیے جاتے ہیں، دوسرے دن اتنے ہی اور لیکن جو آج گئے ان کی باری پھر قیامت تک نہیں آتی۔“ } [صحیح بخاری:3207] ‏‏‏‏

جس طرح زمین پر کعبتہ اللہ کا طواف ہوتا ہے اسی طرح آسمانوں کے طواف کی اور عبادت کی جگہ وہ ہے۔ اسی حدیث میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت ابراہیم علیہ السلام کو دیکھا کہ بیت العمور سے کمر لگائے بیٹھے ہیں اس میں ایک باریک نکتہ یہ ہے کہ چونکہ خلیل اللہ بانی بیت اللہ تھے جن کے ہاتھوں زمین میں کعبۃ اللہ بنا تھا تو انہیں وہاں بھی اس کے کعبے سے لگے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا۔ تو گویا اس عمل کی جزا اسی جیسی پروردگار نے اپنے خلیل کو دی، یہ بیت المعمور ٹھیک خانہ کعبہ کے اوپر ہے اور ہے ساتویں آسمان پر، یوں تو ہر آسمان میں ایک ایسا گھر ہے جہاں اس آسمان کے فرشتے اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتے ہیں پہلے آسمان جو اسی جگہ ہے اس کا نام بیت العزت ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

ابن ابی حاتم میں حدیث ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آسمان میں ایک گھر ہے جسے «معمور» کہتے ہیں جو کعبہ کی سمت میں ہے، چوتھے آسمان میں ایک نہر ہے جس کا نام نہر «حیوان» ہے، جبرائیل علیہ السلام ہر روز اس میں غوطہٰ لگاتے ہیں اور نکل کر بدن جھاڑتے ہیں، جس سے ستر ہزار قطرے جھڑتے ہیں ایک ایک قطرے سے اللہ تعالیٰ ایک ایک فرشتہ پیدا کرتا ہے جنہیں حکم ہوتا ہے کہ وہ بیت المعمور میں جائیں اور نماز ادا کریں، پھر وہ وہاں سے نکل آتے ہیں اب انہیں دوبارہ جانے کی نوبت نہیں آتی، ان کا ایک سردار ہوتا ہے جسے حکم دیا جاتا ہے کہ انہیں لے کر کسی جگہ کھڑا ہو جائے پھر وہ اللہ کی تسبیح کے بیان میں لگ جاتے ہیں، قیامت تک ان کا یہی شغل رہتا ہے، } [الموضاعات لابن الجوزی:147/1،موضوع] ‏‏‏‏ یہ حدیث بہت ہی غریب ہے اس کے راوی روح بن صباح اس میں منفرد ہیں، حافظوں کی ایک جماعت نے ان پر ایک حدیث کا انکار کیا ہے، جیسے جوزجانی، عقیلی، حاکم وغیرہ امام حاکم ابوعبداللہ نیشاپوری رحمہ اللہ اسے بالکل بے اصل بتاتے ہیں سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے ایک شخص نے پوچھا کہ بیت المعمور کیا ہے؟ آپ نے فرمایا: وہ آسمان میں ہے، اسے «صراح» کہا جاتا ہے کعبہ کے ٹھیک اوپر ہے جس طرح زمین کا کعبہ حرمت کی جگہ ہے اسی طرح وہ آسمانوں میں حرمت کی جگہ ہے، ہر روز اس میں ستر ہزار فرشتے نماز ادا کرتے ہیں لیکن جو آج گئے ہیں ان کی باری قیامت تک دوبارہ نہیں آتی کیونکہ فرشتوں کی تعداد ہی اس قدر ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:480/11:مرسل] ‏‏‏‏ ایک روایت میں ہے یہ پوچھنے والے ابن کواء رحمہ اللہ تھے۔

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے منقول ہے کہ { یہ عرش کے محاذ میں سے ہے ایک مرفوع روایت میں ہے کہ صحابہ رضی اللہ عنہم کو ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیت المعمور کو جانتے ہو؟“ انہوں نے کہا: اللہ اور اس کا رسول جانتے ہیں، فرمایا: ”وہ آسمانی کعبہ ہے اور زمینی کعبہ کے بالکل اوپر ہے ایسا کہ اگر وہ گرے تو اسی پر گرے اس میں ہر روز ستر ہزار فرشتے نماز ادا کرتے ہیں جن کی باری قیامت تک پھر نہیں آتی۔ } [تفسیر ابن جریر الطبری:32297:مرسل] ‏‏‏‏ ضحاک رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ فرشتے ابلیس کے قبیلے کے جنات میں سے ہیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» اونچی چھت سے مراد آسمان ہے جیسے اور جگہ ہے «وَجَعَلْنَا السَّمَاءَ سَقْفًا مَّحْفُوْظًا وَّهُمْ عَنْ اٰيٰـتِهَا مُعْرِضُوْنَ» [21-الأنبياء:32] ‏‏‏‏ ربیع بن انس رحمہ اللہ فرماتے ہیں مراد اس سے عرش ہے اس لیے کہ وہ تمام مخلوق کی چھت ہے، اس قول کی توجیہ اس طرح ہو سکتی ہے کہ مراد عام ہو، «الْبَحْرِ الْمَسْجُورِ» (‏‏‏‏ «بحر مسجور» سے مراد وہ پانی ہے جو عرش تلے ہے، جو بارش کی طرح برسے گا، جس سے قیامت کے دن مردے اپنی اپنی قبروں سے اٹھیں گے)۔ جمہور کہتے ہیں یہی دریا مراد ہیں، انہیں جو «الْمَسْجُور» کہا گیا ہے یہ اس لیے قیامت کے دن ان میں آگ لگا دی جائے گی جیسے اور جگہ ہے «وَاِذَا الْبِحَارُ سُجِّرَتْ» [81-التكوير:6] ‏‏‏‏ جبکہ دریا بھڑکا دیئے جائیں اور ان میں آگ لگ جائے گی، جو پھیل کر تمام اہل محشر کو گھیر لے گی - علاء بن بدر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ بھڑکتے ہوئے دریا اس لیے کہا گیا کہ نہ اس کا پانی پینے کے کام میں آئے اور نہ کھیتی کو دیا جائے یہی حال قیامت کے دن دریاؤں کا ہو گا، یہ معنی بھی کئے گئے ہیں کہ دریا بہتا ہوا اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ دریا پرُشُدہ ادھر ادھر جاری۔

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں «مسجور» سے مراد فارغ یعنی خالی ہے، کوئی لونڈی پانی لینے کو جائے پھر لوٹ کر کہے کہ حوض «مسجور» ہے اس سے مراد یہی ہے کہ خالی ہے، یہ بھی کہا گیا ہے کہ معنی یہ ہیں کہ اسے زمین سے روک دیا گیا ہے، اس لیے کہ ڈبو نہ سکے۔ مسند احمد کی ایک مرفوع حدیث میں ہے کہ { ہر رات تین مرتبہ دریا اللہ تعالیٰ سے اجازت طلب کرتا ہے کہ اگر حکم ہو تو تمام لوگوں کو ڈبو دوں لیکن اللہ تعالیٰ اسے روک دیتا ہے۔ } [مسند احمد:43/1:ضعیف] ‏‏‏‏ دوسری روایت میں ہے کہ ایک بزرگ مجاہد جو سمندر کی سرحد کے لشکروں میں تھے وہ جہاد کی تیاری میں وہیں رہتے تھے، فرماتے ہیں: ایک رات میں چوکیداری کے لیے نکلا، اس رات کوئی اور پہرے پر نہ تھا، میں گشت کرتا ہوا میدان میں پہنچا اور وہاں سے سمندر پر نظریں ڈالیں، تو ایسا معلوم ہوا کہ گویا سمندر پہاڑ کی چوٹیوں سے ٹکرا رہا ہے، باربار یہی نظارہ میں نے دیکھا۔ میں نے ابوصالح سے یہ واقعہ بیان کیا انہوں نے بروایت سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ اوپر والی حدیث مجھے سنائی لیکن اس کی سند میں ایک راوی مبہم ہے جس کا نام نہیں لیا گیا۔ ان قسموں کے بعد اب جس چیز پر قسمیں کھائی گئی تھیں ان کا بیان ہو رہا ہے کہ کافروں کو جو عذاب الہٰی ہونے والا ہے وہ یقینی طور پر آنے والا ہی ہے، جب وہ آئے گا کسی کے بس میں اس کا روکنا نہ ہو گا۔ ابن ابی الدنیا میں ہے کہ ایک رات سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ شہر کی دیکھ بھال کے لیے نکلے تو ایک مکان سے کسی مسلمان کی قرآن خوانی کی آواز کان میں پڑی وہ سورۃ والطور پڑھ رہے تھے، آپ نے سواری روک لی اور کھڑے ہو کر قرآن سننے لگے، جب وہ اس آیت پر پہنچے تو زبان سے نکل گیا کہ ”رب کعبہ کی قسم سچی ہے“، پھر اپنے گدھے سے اتر پڑے اور دیوار سے تکیہ لگا کر بیٹھ گئے، چلنے پھرنے کی طاقت نہ رہی، دیر تک بیٹھے رہنے کے بعد جب ہوش و حواس ٹھکانے آئے، وہ اپنے گھر پہنچے لیکن اللہ کے کلام کی اس ڈراؤنی آیت کے اثر سے دل کی کمزوری کی یہ حالت تھی کہ مہینہ بھر تک بیمار پڑے رہے اور ایسے کہ لوگ بیمار پرسی کو آتے تھے گو کسی کو معلوم نہ تھا کہ بیماری کیا ہے؟۔

ایک روایت میں ہے آپ رضی اللہ عنہ کی تلاوت میں ایک مرتبہ یہ آیت آئی، اسی وقت ہچکی بندھ گئی اور اس قدر قلب پر اثر پڑا کہ بیمار ہو گئے، چنانچہ بیس دن تک عیادت کی جاتی رہی۔ اس دن آسمان تھرتھرائے گا، پھٹ جائے گا، چکر کھانے لگے گا، پہاڑ اپنی جگہ سے ہل جائیں گے، ہٹ جائیں گے، ادھر کے ادھر ہو جائیں گے، کانپ کانپ کر ٹکڑے ٹکڑے ہو کر پھر ریزہ ریزہ ہو جائیں گے، آخر روئی کے گالوں کی طرح ادھر ادھر اتر جائیں گے اور بےنام و نشان ہو جائیں گے اس دن ان لوگوں پر جو اس دن کو نہ مانتے تھے ویل، و حسرت،خرابی ہلاکت ہو گی۔
5۔ 1 اس سے مراد آسمان ہے جو زمین کے لئے بمنزلہ چھت کے ہے۔ قرآن نے دوسرے مقام پر اسے ' محفوظ چھت ' کہا ہے، بعض نے اس سے عرش مراد لیا ہے جو تمام مخلوقات کے لئے چھت ہے۔ (وَجَعَلْنَا السَّمَاۗءَ سَقْفًا مَّحْفُوْظًا) 21۔ الانبیاء:32)۔ بعض نے اس سے عرش مراد لیا ہے جو تمام مخلوقات کے لیے چھت ہے۔
(آیت 5) {وَ السَّقْفِ الْمَرْفُوْعِ:} اس سے مراد آسمان ہے جو زمین کے لیے چھت کی طرح ہے، جیسا کہ فرمایا: «‏‏‏‏وَ جَعَلْنَا السَّمَآءَ سَقْفًا مَّحْفُوْظًا وَّ هُمْ عَنْ اٰيٰتِهَا مُعْرِضُوْنَ» ‏‏‏‏ [ الأنبیاء: ۳۲ ] ”اور ہم نے آسمان کو محفوظ چھت بنایا اور وہ اس کی نشانیوں سے منہ پھیرنے والے ہیں۔ “ جسے اللہ تعالیٰ نے اتنی بلندی پر کسی ستون کے بغیر محض اپنے حکم کے ساتھ تھام کر رکھا ہوا ہے، فرمایا: «‏‏‏‏اَللّٰهُ الَّذِيْ رَفَعَ السَّمٰوٰتِ بِغَيْرِ عَمَدٍ تَرَوْنَهَا» ‏‏‏‏ [ الرعد: ۲ ] ”اللہ وہ ہے جس نے آسمانوں کو بلند کیا بغیر ستونوں کے، جنھیں تم دیکھتے ہو۔“ اور فرمایا: «‏‏‏‏وَ يُمْسِكُ السَّمَآءَ اَنْ تَقَعَ عَلَى الْاَرْضِ اِلَّا بِاِذْنِهٖ» [ الحج: ۶۵] ”اور وہ آسمان کو تھام کر رکھتا ہے اس سے کہ زمین پر گر پڑے مگر اس کے اذن سے۔“ پھر اس بلند چھت کو سورج، چاند اور ستاروں کے ساتھ سجا رکھا ہے، فرمایا: «وَ لَقَدْ زَيَّنَّا السَّمَآءَ الدُّنْيَا بِمَصَابِيْحَ» ‏‏‏‏ [ الملک: ۵ ] ”اور بلاشبہ یقینا ہم نے قریب کے آسمان کو چراغوں کے ساتھ زینت بخشی۔“ اللہ تعالیٰ نے متعدد مقامات پر آسمان کے پیدا کرنے کو انسان کی دوبارہ پیدائش کی دلیل کے طور پر ذکر فرمایا ہے، فرمایا: «ءَاَنْتُمْ اَشَدُّ خَلْقًا اَمِ السَّمَآءُ بَنٰىهَا (27) رَفَعَ سَمْكَهَا فَسَوّٰىهَا (28) وَ اَغْطَشَ لَيْلَهَا وَ اَخْرَجَ ضُحٰىهَا» ‏‏‏‏ [ النازعات: ۲۷ تا ۲۹ ] ”کیا پیدا کرنے میں تم زیادہ مشکل ہو یا آسمان؟ اس نے اسے بنایا۔ اس کی چھت کو بلند کیا، پھر اسے برابر کیا۔ اور اس کی رات کو تاریک کر دیا اور اس کے دن کی روشنی کو ظاہر کر دیا۔“
وَ الۡبَحۡرِ الۡمَسۡجُوۡرِ ۙ﴿۶﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اور موجزن سمندر کی
مولانا محمد جوناگڑھی
اور بھڑکائے ہوئے سمندر کی
احمد رضا خان بریلوی
اور سلگائے ہوئے سمندر کی
علامہ محمد حسین نجفی
اور اس سمندر کی جو موجزن ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اور لبا لب بھرے ہوئے سمندر کی!
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
تفسیر سورۂ طور ٭٭

اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق میں سے ان چیزوں کی قسم کھا کر جو اس کی عظیم الشان قدرت کی نشانیاں ہیں فرماتا ہے کہ اس کا عذاب ہو کر ہی رہے گا، جب وہ آئے گا کسی کی مجال نہ ہو گی کہ اسے ہٹا سکے۔ «طور» اس پہاڑ کو کہتے ہیں جس پر درخت ہوں جیسے وہ پہاڑ جس پر اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام سے کلام کیا اور جہاں سے عیسیٰ علیہ السلام کو بھیجا تھا اور جو خشک پہاڑ ہو اسے «جبل» کہا جاتا ہے «طور» نہیں کہا جاتا۔ «كِتَابٍ مَسْطُور» سے مراد یا تو لوح محفوظ ہے یا اللہ کی اتاری ہوئی، لکھی ہوئی کتابیں ہیں جو انسانوں پر پڑھی جاتی ہیں اسی لیے ساتھ ہی فرما دیا کھلے ہوئے اوراق میں۔ «الْبَيْتِ الْمَعْمُور» کی بابت معراج والی حدیث میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”ساتویں آسمان سے آگے بڑھنے کے بعد مجھے بیت المعمور دکھلایا گیا جس میں ہر روز ستر ہزار فرشتے عبادت اللہ کے لیے جاتے ہیں، دوسرے دن اتنے ہی اور لیکن جو آج گئے ان کی باری پھر قیامت تک نہیں آتی۔“ } [صحیح بخاری:3207] ‏‏‏‏

جس طرح زمین پر کعبتہ اللہ کا طواف ہوتا ہے اسی طرح آسمانوں کے طواف کی اور عبادت کی جگہ وہ ہے۔ اسی حدیث میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت ابراہیم علیہ السلام کو دیکھا کہ بیت العمور سے کمر لگائے بیٹھے ہیں اس میں ایک باریک نکتہ یہ ہے کہ چونکہ خلیل اللہ بانی بیت اللہ تھے جن کے ہاتھوں زمین میں کعبۃ اللہ بنا تھا تو انہیں وہاں بھی اس کے کعبے سے لگے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا۔ تو گویا اس عمل کی جزا اسی جیسی پروردگار نے اپنے خلیل کو دی، یہ بیت المعمور ٹھیک خانہ کعبہ کے اوپر ہے اور ہے ساتویں آسمان پر، یوں تو ہر آسمان میں ایک ایسا گھر ہے جہاں اس آسمان کے فرشتے اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتے ہیں پہلے آسمان جو اسی جگہ ہے اس کا نام بیت العزت ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

ابن ابی حاتم میں حدیث ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آسمان میں ایک گھر ہے جسے «معمور» کہتے ہیں جو کعبہ کی سمت میں ہے، چوتھے آسمان میں ایک نہر ہے جس کا نام نہر «حیوان» ہے، جبرائیل علیہ السلام ہر روز اس میں غوطہٰ لگاتے ہیں اور نکل کر بدن جھاڑتے ہیں، جس سے ستر ہزار قطرے جھڑتے ہیں ایک ایک قطرے سے اللہ تعالیٰ ایک ایک فرشتہ پیدا کرتا ہے جنہیں حکم ہوتا ہے کہ وہ بیت المعمور میں جائیں اور نماز ادا کریں، پھر وہ وہاں سے نکل آتے ہیں اب انہیں دوبارہ جانے کی نوبت نہیں آتی، ان کا ایک سردار ہوتا ہے جسے حکم دیا جاتا ہے کہ انہیں لے کر کسی جگہ کھڑا ہو جائے پھر وہ اللہ کی تسبیح کے بیان میں لگ جاتے ہیں، قیامت تک ان کا یہی شغل رہتا ہے، } [الموضاعات لابن الجوزی:147/1،موضوع] ‏‏‏‏ یہ حدیث بہت ہی غریب ہے اس کے راوی روح بن صباح اس میں منفرد ہیں، حافظوں کی ایک جماعت نے ان پر ایک حدیث کا انکار کیا ہے، جیسے جوزجانی، عقیلی، حاکم وغیرہ امام حاکم ابوعبداللہ نیشاپوری رحمہ اللہ اسے بالکل بے اصل بتاتے ہیں سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے ایک شخص نے پوچھا کہ بیت المعمور کیا ہے؟ آپ نے فرمایا: وہ آسمان میں ہے، اسے «صراح» کہا جاتا ہے کعبہ کے ٹھیک اوپر ہے جس طرح زمین کا کعبہ حرمت کی جگہ ہے اسی طرح وہ آسمانوں میں حرمت کی جگہ ہے، ہر روز اس میں ستر ہزار فرشتے نماز ادا کرتے ہیں لیکن جو آج گئے ہیں ان کی باری قیامت تک دوبارہ نہیں آتی کیونکہ فرشتوں کی تعداد ہی اس قدر ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:480/11:مرسل] ‏‏‏‏ ایک روایت میں ہے یہ پوچھنے والے ابن کواء رحمہ اللہ تھے۔

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے منقول ہے کہ { یہ عرش کے محاذ میں سے ہے ایک مرفوع روایت میں ہے کہ صحابہ رضی اللہ عنہم کو ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیت المعمور کو جانتے ہو؟“ انہوں نے کہا: اللہ اور اس کا رسول جانتے ہیں، فرمایا: ”وہ آسمانی کعبہ ہے اور زمینی کعبہ کے بالکل اوپر ہے ایسا کہ اگر وہ گرے تو اسی پر گرے اس میں ہر روز ستر ہزار فرشتے نماز ادا کرتے ہیں جن کی باری قیامت تک پھر نہیں آتی۔ } [تفسیر ابن جریر الطبری:32297:مرسل] ‏‏‏‏ ضحاک رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ فرشتے ابلیس کے قبیلے کے جنات میں سے ہیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» اونچی چھت سے مراد آسمان ہے جیسے اور جگہ ہے «وَجَعَلْنَا السَّمَاءَ سَقْفًا مَّحْفُوْظًا وَّهُمْ عَنْ اٰيٰـتِهَا مُعْرِضُوْنَ» [21-الأنبياء:32] ‏‏‏‏ ربیع بن انس رحمہ اللہ فرماتے ہیں مراد اس سے عرش ہے اس لیے کہ وہ تمام مخلوق کی چھت ہے، اس قول کی توجیہ اس طرح ہو سکتی ہے کہ مراد عام ہو، «الْبَحْرِ الْمَسْجُورِ» (‏‏‏‏ «بحر مسجور» سے مراد وہ پانی ہے جو عرش تلے ہے، جو بارش کی طرح برسے گا، جس سے قیامت کے دن مردے اپنی اپنی قبروں سے اٹھیں گے)۔ جمہور کہتے ہیں یہی دریا مراد ہیں، انہیں جو «الْمَسْجُور» کہا گیا ہے یہ اس لیے قیامت کے دن ان میں آگ لگا دی جائے گی جیسے اور جگہ ہے «وَاِذَا الْبِحَارُ سُجِّرَتْ» [81-التكوير:6] ‏‏‏‏ جبکہ دریا بھڑکا دیئے جائیں اور ان میں آگ لگ جائے گی، جو پھیل کر تمام اہل محشر کو گھیر لے گی - علاء بن بدر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ بھڑکتے ہوئے دریا اس لیے کہا گیا کہ نہ اس کا پانی پینے کے کام میں آئے اور نہ کھیتی کو دیا جائے یہی حال قیامت کے دن دریاؤں کا ہو گا، یہ معنی بھی کئے گئے ہیں کہ دریا بہتا ہوا اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ دریا پرُشُدہ ادھر ادھر جاری۔

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں «مسجور» سے مراد فارغ یعنی خالی ہے، کوئی لونڈی پانی لینے کو جائے پھر لوٹ کر کہے کہ حوض «مسجور» ہے اس سے مراد یہی ہے کہ خالی ہے، یہ بھی کہا گیا ہے کہ معنی یہ ہیں کہ اسے زمین سے روک دیا گیا ہے، اس لیے کہ ڈبو نہ سکے۔ مسند احمد کی ایک مرفوع حدیث میں ہے کہ { ہر رات تین مرتبہ دریا اللہ تعالیٰ سے اجازت طلب کرتا ہے کہ اگر حکم ہو تو تمام لوگوں کو ڈبو دوں لیکن اللہ تعالیٰ اسے روک دیتا ہے۔ } [مسند احمد:43/1:ضعیف] ‏‏‏‏ دوسری روایت میں ہے کہ ایک بزرگ مجاہد جو سمندر کی سرحد کے لشکروں میں تھے وہ جہاد کی تیاری میں وہیں رہتے تھے، فرماتے ہیں: ایک رات میں چوکیداری کے لیے نکلا، اس رات کوئی اور پہرے پر نہ تھا، میں گشت کرتا ہوا میدان میں پہنچا اور وہاں سے سمندر پر نظریں ڈالیں، تو ایسا معلوم ہوا کہ گویا سمندر پہاڑ کی چوٹیوں سے ٹکرا رہا ہے، باربار یہی نظارہ میں نے دیکھا۔ میں نے ابوصالح سے یہ واقعہ بیان کیا انہوں نے بروایت سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ اوپر والی حدیث مجھے سنائی لیکن اس کی سند میں ایک راوی مبہم ہے جس کا نام نہیں لیا گیا۔ ان قسموں کے بعد اب جس چیز پر قسمیں کھائی گئی تھیں ان کا بیان ہو رہا ہے کہ کافروں کو جو عذاب الہٰی ہونے والا ہے وہ یقینی طور پر آنے والا ہی ہے، جب وہ آئے گا کسی کے بس میں اس کا روکنا نہ ہو گا۔ ابن ابی الدنیا میں ہے کہ ایک رات سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ شہر کی دیکھ بھال کے لیے نکلے تو ایک مکان سے کسی مسلمان کی قرآن خوانی کی آواز کان میں پڑی وہ سورۃ والطور پڑھ رہے تھے، آپ نے سواری روک لی اور کھڑے ہو کر قرآن سننے لگے، جب وہ اس آیت پر پہنچے تو زبان سے نکل گیا کہ ”رب کعبہ کی قسم سچی ہے“، پھر اپنے گدھے سے اتر پڑے اور دیوار سے تکیہ لگا کر بیٹھ گئے، چلنے پھرنے کی طاقت نہ رہی، دیر تک بیٹھے رہنے کے بعد جب ہوش و حواس ٹھکانے آئے، وہ اپنے گھر پہنچے لیکن اللہ کے کلام کی اس ڈراؤنی آیت کے اثر سے دل کی کمزوری کی یہ حالت تھی کہ مہینہ بھر تک بیمار پڑے رہے اور ایسے کہ لوگ بیمار پرسی کو آتے تھے گو کسی کو معلوم نہ تھا کہ بیماری کیا ہے؟۔

ایک روایت میں ہے آپ رضی اللہ عنہ کی تلاوت میں ایک مرتبہ یہ آیت آئی، اسی وقت ہچکی بندھ گئی اور اس قدر قلب پر اثر پڑا کہ بیمار ہو گئے، چنانچہ بیس دن تک عیادت کی جاتی رہی۔ اس دن آسمان تھرتھرائے گا، پھٹ جائے گا، چکر کھانے لگے گا، پہاڑ اپنی جگہ سے ہل جائیں گے، ہٹ جائیں گے، ادھر کے ادھر ہو جائیں گے، کانپ کانپ کر ٹکڑے ٹکڑے ہو کر پھر ریزہ ریزہ ہو جائیں گے، آخر روئی کے گالوں کی طرح ادھر ادھر اتر جائیں گے اور بےنام و نشان ہو جائیں گے اس دن ان لوگوں پر جو اس دن کو نہ مانتے تھے ویل، و حسرت،خرابی ہلاکت ہو گی۔
6۔ 1 مسجور کے معنی ہیں بھڑکے ہوئے۔ بعض کہتے ہیں، اس سے وہ پانی مراد ہے جو زیر عرش ہے جس سے قیامت والے دن بارش نازل ہوگی، اس سے مردہ جسم زندہ ہوجائیں گے۔ بعض کہتے ہیں اس سے مراد سمندر ہیں ان میں قیامت والے دن آگ بھڑک اٹھے گی۔ جیسے فرمایا واذا البحار سجرت اور جب سمندر بھڑکا دیئے جائیں گے امام شوکانی نے اسی مفہوم کو اولی قرار دیا ہے اور بعض نے مسجور کے معنی مملوء بھرے ہوئے کے لیے ہیں یعنی فی الحال سمندروں میں آگ تو نہیں ہے البتہ وہ پانی سے بھرے ہوئے ہیں امام طبری نے اس قول کو اختیار کیا ہے اس کے اور بھی کئی معنی بیان کیے گئے ہیں۔ (تفسیر ابن کثیر)
(آیت 6) {وَ الْبَحْرِ الْمَسْجُوْرِ: ”سَجَرَ يَسْجُرُ“} (ن) کئی معنوں میں آتا ہے۔ {”سَجَرَ التَّنُّوْرَ“} ”اس نے تنور ایندھن سے بھر کر بھڑکا دیا۔“ {”سَجَرَ الْمَاءُ النَّهْرَ“} ”پانی نے نہر کو بھر دیا۔“ {”سَجَرَ الْكَلْبَ ({شَدَّهُ بِالسَّاجُوْرِ})“} ”اس نے کتے کو پٹے کے ساتھ باندھ دیا۔“ اس آیت میں زمین کی سطح پر پائی جانے والی سب سے عظیم مخلوق سمندر کی قسم کھا کر اسے قیامت کے دن عذاب دینے پر قادر ہونے کی دلیل کے طور پر پیش فرمایا ہے۔ لفظ {” الْمَسْجُوْرِ “} لغت کے لحاظ سے جن کیفیتوں کا اظہار کرتا ہے وہ تینوں یہاں مراد لی جا سکتی ہیں۔ ایک یہ کہ وہ لبالب بھرا ہوا ہے، مدتیں گزرنے کے باوجود اس کی لبریزی میں کوئی کمی نہیں آئی۔ قتادہ نے فرمایا: {” اَلْمُمْتَلِيْ“} [ طبري: ۳۲۵۹۴، بسند صحیح ] ”بھرا ہوا۔“ پھر وہ ساکن نہیں بلکہ اس میں ہر وقت ابلنے اور جوش مارنے کی سی کیفیت جاری رہتی ہے۔ مجاہد نے فرمایا: {”اَلْمُوْقَدُ “} [ طبري: ۳۲۵۹۲، بسند حسن ] ”بھڑکایا ہوا۔ “ مزید دیکھیے سورۂ تکویر کی آیت (۶): «وَ اِذَا الْبِحَارُ سُجِّرَتْ» ‏‏‏‏ کی تفسیر۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اسے خشکی پر چڑھ دوڑنے سے باندھ کر رکھا ہوا ہے۔ اگر کبھی اسے طوفان کی صورت میں نکلنے کی تھوڑی سی اجازت ملتی ہے تو شہروں کے شہر صفحۂ ہستی سے ناپید ہو جاتے ہیں۔ طبری نے علی بن ابی طلحہ کی معتبر سند کے ساتھ ابن عباس رضی اللہ عنھما کا قول نقل کیا ہے: [ {” الْبَحْرِ الْمَسْجُوْرِ “} اَلْمَحْبُوْسُ ] [ طبري: ۳۲۵۹۶ ]
اِنَّ عَذَابَ رَبِّکَ لَوَاقِعٌ ۙ﴿۷﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
کہ تیرے رب کا عذاب ضرور واقع ہونے والا ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
بیشک آپ کے رب کا عذاب ہو کر رہنے واﻻ ہے
احمد رضا خان بریلوی
بیشک تیرے رب کا عذاب ضرور ہونا ہے
علامہ محمد حسین نجفی
بےشک تمہارے پروردگار کا عذاب واقع ہونے والا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
کہ یقینا تیرے رب کا عذاب ضرور واقع ہونے والا ہے ۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
تفسیر سورۂ طور ٭٭

اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق میں سے ان چیزوں کی قسم کھا کر جو اس کی عظیم الشان قدرت کی نشانیاں ہیں فرماتا ہے کہ اس کا عذاب ہو کر ہی رہے گا، جب وہ آئے گا کسی کی مجال نہ ہو گی کہ اسے ہٹا سکے۔ «طور» اس پہاڑ کو کہتے ہیں جس پر درخت ہوں جیسے وہ پہاڑ جس پر اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام سے کلام کیا اور جہاں سے عیسیٰ علیہ السلام کو بھیجا تھا اور جو خشک پہاڑ ہو اسے «جبل» کہا جاتا ہے «طور» نہیں کہا جاتا۔ «كِتَابٍ مَسْطُور» سے مراد یا تو لوح محفوظ ہے یا اللہ کی اتاری ہوئی، لکھی ہوئی کتابیں ہیں جو انسانوں پر پڑھی جاتی ہیں اسی لیے ساتھ ہی فرما دیا کھلے ہوئے اوراق میں۔ «الْبَيْتِ الْمَعْمُور» کی بابت معراج والی حدیث میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”ساتویں آسمان سے آگے بڑھنے کے بعد مجھے بیت المعمور دکھلایا گیا جس میں ہر روز ستر ہزار فرشتے عبادت اللہ کے لیے جاتے ہیں، دوسرے دن اتنے ہی اور لیکن جو آج گئے ان کی باری پھر قیامت تک نہیں آتی۔“ } [صحیح بخاری:3207] ‏‏‏‏

جس طرح زمین پر کعبتہ اللہ کا طواف ہوتا ہے اسی طرح آسمانوں کے طواف کی اور عبادت کی جگہ وہ ہے۔ اسی حدیث میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت ابراہیم علیہ السلام کو دیکھا کہ بیت العمور سے کمر لگائے بیٹھے ہیں اس میں ایک باریک نکتہ یہ ہے کہ چونکہ خلیل اللہ بانی بیت اللہ تھے جن کے ہاتھوں زمین میں کعبۃ اللہ بنا تھا تو انہیں وہاں بھی اس کے کعبے سے لگے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا۔ تو گویا اس عمل کی جزا اسی جیسی پروردگار نے اپنے خلیل کو دی، یہ بیت المعمور ٹھیک خانہ کعبہ کے اوپر ہے اور ہے ساتویں آسمان پر، یوں تو ہر آسمان میں ایک ایسا گھر ہے جہاں اس آسمان کے فرشتے اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتے ہیں پہلے آسمان جو اسی جگہ ہے اس کا نام بیت العزت ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

ابن ابی حاتم میں حدیث ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آسمان میں ایک گھر ہے جسے «معمور» کہتے ہیں جو کعبہ کی سمت میں ہے، چوتھے آسمان میں ایک نہر ہے جس کا نام نہر «حیوان» ہے، جبرائیل علیہ السلام ہر روز اس میں غوطہٰ لگاتے ہیں اور نکل کر بدن جھاڑتے ہیں، جس سے ستر ہزار قطرے جھڑتے ہیں ایک ایک قطرے سے اللہ تعالیٰ ایک ایک فرشتہ پیدا کرتا ہے جنہیں حکم ہوتا ہے کہ وہ بیت المعمور میں جائیں اور نماز ادا کریں، پھر وہ وہاں سے نکل آتے ہیں اب انہیں دوبارہ جانے کی نوبت نہیں آتی، ان کا ایک سردار ہوتا ہے جسے حکم دیا جاتا ہے کہ انہیں لے کر کسی جگہ کھڑا ہو جائے پھر وہ اللہ کی تسبیح کے بیان میں لگ جاتے ہیں، قیامت تک ان کا یہی شغل رہتا ہے، } [الموضاعات لابن الجوزی:147/1،موضوع] ‏‏‏‏ یہ حدیث بہت ہی غریب ہے اس کے راوی روح بن صباح اس میں منفرد ہیں، حافظوں کی ایک جماعت نے ان پر ایک حدیث کا انکار کیا ہے، جیسے جوزجانی، عقیلی، حاکم وغیرہ امام حاکم ابوعبداللہ نیشاپوری رحمہ اللہ اسے بالکل بے اصل بتاتے ہیں سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے ایک شخص نے پوچھا کہ بیت المعمور کیا ہے؟ آپ نے فرمایا: وہ آسمان میں ہے، اسے «صراح» کہا جاتا ہے کعبہ کے ٹھیک اوپر ہے جس طرح زمین کا کعبہ حرمت کی جگہ ہے اسی طرح وہ آسمانوں میں حرمت کی جگہ ہے، ہر روز اس میں ستر ہزار فرشتے نماز ادا کرتے ہیں لیکن جو آج گئے ہیں ان کی باری قیامت تک دوبارہ نہیں آتی کیونکہ فرشتوں کی تعداد ہی اس قدر ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:480/11:مرسل] ‏‏‏‏ ایک روایت میں ہے یہ پوچھنے والے ابن کواء رحمہ اللہ تھے۔

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے منقول ہے کہ { یہ عرش کے محاذ میں سے ہے ایک مرفوع روایت میں ہے کہ صحابہ رضی اللہ عنہم کو ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیت المعمور کو جانتے ہو؟“ انہوں نے کہا: اللہ اور اس کا رسول جانتے ہیں، فرمایا: ”وہ آسمانی کعبہ ہے اور زمینی کعبہ کے بالکل اوپر ہے ایسا کہ اگر وہ گرے تو اسی پر گرے اس میں ہر روز ستر ہزار فرشتے نماز ادا کرتے ہیں جن کی باری قیامت تک پھر نہیں آتی۔ } [تفسیر ابن جریر الطبری:32297:مرسل] ‏‏‏‏ ضحاک رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ فرشتے ابلیس کے قبیلے کے جنات میں سے ہیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» اونچی چھت سے مراد آسمان ہے جیسے اور جگہ ہے «وَجَعَلْنَا السَّمَاءَ سَقْفًا مَّحْفُوْظًا وَّهُمْ عَنْ اٰيٰـتِهَا مُعْرِضُوْنَ» [21-الأنبياء:32] ‏‏‏‏ ربیع بن انس رحمہ اللہ فرماتے ہیں مراد اس سے عرش ہے اس لیے کہ وہ تمام مخلوق کی چھت ہے، اس قول کی توجیہ اس طرح ہو سکتی ہے کہ مراد عام ہو، «الْبَحْرِ الْمَسْجُورِ» (‏‏‏‏ «بحر مسجور» سے مراد وہ پانی ہے جو عرش تلے ہے، جو بارش کی طرح برسے گا، جس سے قیامت کے دن مردے اپنی اپنی قبروں سے اٹھیں گے)۔ جمہور کہتے ہیں یہی دریا مراد ہیں، انہیں جو «الْمَسْجُور» کہا گیا ہے یہ اس لیے قیامت کے دن ان میں آگ لگا دی جائے گی جیسے اور جگہ ہے «وَاِذَا الْبِحَارُ سُجِّرَتْ» [81-التكوير:6] ‏‏‏‏ جبکہ دریا بھڑکا دیئے جائیں اور ان میں آگ لگ جائے گی، جو پھیل کر تمام اہل محشر کو گھیر لے گی - علاء بن بدر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ بھڑکتے ہوئے دریا اس لیے کہا گیا کہ نہ اس کا پانی پینے کے کام میں آئے اور نہ کھیتی کو دیا جائے یہی حال قیامت کے دن دریاؤں کا ہو گا، یہ معنی بھی کئے گئے ہیں کہ دریا بہتا ہوا اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ دریا پرُشُدہ ادھر ادھر جاری۔

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں «مسجور» سے مراد فارغ یعنی خالی ہے، کوئی لونڈی پانی لینے کو جائے پھر لوٹ کر کہے کہ حوض «مسجور» ہے اس سے مراد یہی ہے کہ خالی ہے، یہ بھی کہا گیا ہے کہ معنی یہ ہیں کہ اسے زمین سے روک دیا گیا ہے، اس لیے کہ ڈبو نہ سکے۔ مسند احمد کی ایک مرفوع حدیث میں ہے کہ { ہر رات تین مرتبہ دریا اللہ تعالیٰ سے اجازت طلب کرتا ہے کہ اگر حکم ہو تو تمام لوگوں کو ڈبو دوں لیکن اللہ تعالیٰ اسے روک دیتا ہے۔ } [مسند احمد:43/1:ضعیف] ‏‏‏‏ دوسری روایت میں ہے کہ ایک بزرگ مجاہد جو سمندر کی سرحد کے لشکروں میں تھے وہ جہاد کی تیاری میں وہیں رہتے تھے، فرماتے ہیں: ایک رات میں چوکیداری کے لیے نکلا، اس رات کوئی اور پہرے پر نہ تھا، میں گشت کرتا ہوا میدان میں پہنچا اور وہاں سے سمندر پر نظریں ڈالیں، تو ایسا معلوم ہوا کہ گویا سمندر پہاڑ کی چوٹیوں سے ٹکرا رہا ہے، باربار یہی نظارہ میں نے دیکھا۔ میں نے ابوصالح سے یہ واقعہ بیان کیا انہوں نے بروایت سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ اوپر والی حدیث مجھے سنائی لیکن اس کی سند میں ایک راوی مبہم ہے جس کا نام نہیں لیا گیا۔ ان قسموں کے بعد اب جس چیز پر قسمیں کھائی گئی تھیں ان کا بیان ہو رہا ہے کہ کافروں کو جو عذاب الہٰی ہونے والا ہے وہ یقینی طور پر آنے والا ہی ہے، جب وہ آئے گا کسی کے بس میں اس کا روکنا نہ ہو گا۔ ابن ابی الدنیا میں ہے کہ ایک رات سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ شہر کی دیکھ بھال کے لیے نکلے تو ایک مکان سے کسی مسلمان کی قرآن خوانی کی آواز کان میں پڑی وہ سورۃ والطور پڑھ رہے تھے، آپ نے سواری روک لی اور کھڑے ہو کر قرآن سننے لگے، جب وہ اس آیت پر پہنچے تو زبان سے نکل گیا کہ ”رب کعبہ کی قسم سچی ہے“، پھر اپنے گدھے سے اتر پڑے اور دیوار سے تکیہ لگا کر بیٹھ گئے، چلنے پھرنے کی طاقت نہ رہی، دیر تک بیٹھے رہنے کے بعد جب ہوش و حواس ٹھکانے آئے، وہ اپنے گھر پہنچے لیکن اللہ کے کلام کی اس ڈراؤنی آیت کے اثر سے دل کی کمزوری کی یہ حالت تھی کہ مہینہ بھر تک بیمار پڑے رہے اور ایسے کہ لوگ بیمار پرسی کو آتے تھے گو کسی کو معلوم نہ تھا کہ بیماری کیا ہے؟۔

ایک روایت میں ہے آپ رضی اللہ عنہ کی تلاوت میں ایک مرتبہ یہ آیت آئی، اسی وقت ہچکی بندھ گئی اور اس قدر قلب پر اثر پڑا کہ بیمار ہو گئے، چنانچہ بیس دن تک عیادت کی جاتی رہی۔ اس دن آسمان تھرتھرائے گا، پھٹ جائے گا، چکر کھانے لگے گا، پہاڑ اپنی جگہ سے ہل جائیں گے، ہٹ جائیں گے، ادھر کے ادھر ہو جائیں گے، کانپ کانپ کر ٹکڑے ٹکڑے ہو کر پھر ریزہ ریزہ ہو جائیں گے، آخر روئی کے گالوں کی طرح ادھر ادھر اتر جائیں گے اور بےنام و نشان ہو جائیں گے اس دن ان لوگوں پر جو اس دن کو نہ مانتے تھے ویل، و حسرت،خرابی ہلاکت ہو گی۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 7){ اِنَّ عَذَابَ رَبِّكَ لَوَاقِعٌ:} یہ جواب قسم ہے، جس کا یقین دلانے کے لیے پانچوں قسمیں کھائی گئی ہیں۔
مَّا لَہٗ مِنۡ دَافِعٍ ۙ﴿۸﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
جسے کوئی دفع کرنے والا نہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
اسے کوئی روکنے واﻻ نہیں
احمد رضا خان بریلوی
اسے کوئی ٹالنے والا نہیں
علامہ محمد حسین نجفی
جس کو ٹالنے والا کوئی نہیں ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اسے کوئی ہٹانے والا نہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
تفسیر سورۂ طور ٭٭

اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق میں سے ان چیزوں کی قسم کھا کر جو اس کی عظیم الشان قدرت کی نشانیاں ہیں فرماتا ہے کہ اس کا عذاب ہو کر ہی رہے گا، جب وہ آئے گا کسی کی مجال نہ ہو گی کہ اسے ہٹا سکے۔ «طور» اس پہاڑ کو کہتے ہیں جس پر درخت ہوں جیسے وہ پہاڑ جس پر اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام سے کلام کیا اور جہاں سے عیسیٰ علیہ السلام کو بھیجا تھا اور جو خشک پہاڑ ہو اسے «جبل» کہا جاتا ہے «طور» نہیں کہا جاتا۔ «كِتَابٍ مَسْطُور» سے مراد یا تو لوح محفوظ ہے یا اللہ کی اتاری ہوئی، لکھی ہوئی کتابیں ہیں جو انسانوں پر پڑھی جاتی ہیں اسی لیے ساتھ ہی فرما دیا کھلے ہوئے اوراق میں۔ «الْبَيْتِ الْمَعْمُور» کی بابت معراج والی حدیث میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”ساتویں آسمان سے آگے بڑھنے کے بعد مجھے بیت المعمور دکھلایا گیا جس میں ہر روز ستر ہزار فرشتے عبادت اللہ کے لیے جاتے ہیں، دوسرے دن اتنے ہی اور لیکن جو آج گئے ان کی باری پھر قیامت تک نہیں آتی۔“ } [صحیح بخاری:3207] ‏‏‏‏

جس طرح زمین پر کعبتہ اللہ کا طواف ہوتا ہے اسی طرح آسمانوں کے طواف کی اور عبادت کی جگہ وہ ہے۔ اسی حدیث میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت ابراہیم علیہ السلام کو دیکھا کہ بیت العمور سے کمر لگائے بیٹھے ہیں اس میں ایک باریک نکتہ یہ ہے کہ چونکہ خلیل اللہ بانی بیت اللہ تھے جن کے ہاتھوں زمین میں کعبۃ اللہ بنا تھا تو انہیں وہاں بھی اس کے کعبے سے لگے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا۔ تو گویا اس عمل کی جزا اسی جیسی پروردگار نے اپنے خلیل کو دی، یہ بیت المعمور ٹھیک خانہ کعبہ کے اوپر ہے اور ہے ساتویں آسمان پر، یوں تو ہر آسمان میں ایک ایسا گھر ہے جہاں اس آسمان کے فرشتے اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتے ہیں پہلے آسمان جو اسی جگہ ہے اس کا نام بیت العزت ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

ابن ابی حاتم میں حدیث ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آسمان میں ایک گھر ہے جسے «معمور» کہتے ہیں جو کعبہ کی سمت میں ہے، چوتھے آسمان میں ایک نہر ہے جس کا نام نہر «حیوان» ہے، جبرائیل علیہ السلام ہر روز اس میں غوطہٰ لگاتے ہیں اور نکل کر بدن جھاڑتے ہیں، جس سے ستر ہزار قطرے جھڑتے ہیں ایک ایک قطرے سے اللہ تعالیٰ ایک ایک فرشتہ پیدا کرتا ہے جنہیں حکم ہوتا ہے کہ وہ بیت المعمور میں جائیں اور نماز ادا کریں، پھر وہ وہاں سے نکل آتے ہیں اب انہیں دوبارہ جانے کی نوبت نہیں آتی، ان کا ایک سردار ہوتا ہے جسے حکم دیا جاتا ہے کہ انہیں لے کر کسی جگہ کھڑا ہو جائے پھر وہ اللہ کی تسبیح کے بیان میں لگ جاتے ہیں، قیامت تک ان کا یہی شغل رہتا ہے، } [الموضاعات لابن الجوزی:147/1،موضوع] ‏‏‏‏ یہ حدیث بہت ہی غریب ہے اس کے راوی روح بن صباح اس میں منفرد ہیں، حافظوں کی ایک جماعت نے ان پر ایک حدیث کا انکار کیا ہے، جیسے جوزجانی، عقیلی، حاکم وغیرہ امام حاکم ابوعبداللہ نیشاپوری رحمہ اللہ اسے بالکل بے اصل بتاتے ہیں سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے ایک شخص نے پوچھا کہ بیت المعمور کیا ہے؟ آپ نے فرمایا: وہ آسمان میں ہے، اسے «صراح» کہا جاتا ہے کعبہ کے ٹھیک اوپر ہے جس طرح زمین کا کعبہ حرمت کی جگہ ہے اسی طرح وہ آسمانوں میں حرمت کی جگہ ہے، ہر روز اس میں ستر ہزار فرشتے نماز ادا کرتے ہیں لیکن جو آج گئے ہیں ان کی باری قیامت تک دوبارہ نہیں آتی کیونکہ فرشتوں کی تعداد ہی اس قدر ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:480/11:مرسل] ‏‏‏‏ ایک روایت میں ہے یہ پوچھنے والے ابن کواء رحمہ اللہ تھے۔

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے منقول ہے کہ { یہ عرش کے محاذ میں سے ہے ایک مرفوع روایت میں ہے کہ صحابہ رضی اللہ عنہم کو ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیت المعمور کو جانتے ہو؟“ انہوں نے کہا: اللہ اور اس کا رسول جانتے ہیں، فرمایا: ”وہ آسمانی کعبہ ہے اور زمینی کعبہ کے بالکل اوپر ہے ایسا کہ اگر وہ گرے تو اسی پر گرے اس میں ہر روز ستر ہزار فرشتے نماز ادا کرتے ہیں جن کی باری قیامت تک پھر نہیں آتی۔ } [تفسیر ابن جریر الطبری:32297:مرسل] ‏‏‏‏ ضحاک رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ فرشتے ابلیس کے قبیلے کے جنات میں سے ہیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» اونچی چھت سے مراد آسمان ہے جیسے اور جگہ ہے «وَجَعَلْنَا السَّمَاءَ سَقْفًا مَّحْفُوْظًا وَّهُمْ عَنْ اٰيٰـتِهَا مُعْرِضُوْنَ» [21-الأنبياء:32] ‏‏‏‏ ربیع بن انس رحمہ اللہ فرماتے ہیں مراد اس سے عرش ہے اس لیے کہ وہ تمام مخلوق کی چھت ہے، اس قول کی توجیہ اس طرح ہو سکتی ہے کہ مراد عام ہو، «الْبَحْرِ الْمَسْجُورِ» (‏‏‏‏ «بحر مسجور» سے مراد وہ پانی ہے جو عرش تلے ہے، جو بارش کی طرح برسے گا، جس سے قیامت کے دن مردے اپنی اپنی قبروں سے اٹھیں گے)۔ جمہور کہتے ہیں یہی دریا مراد ہیں، انہیں جو «الْمَسْجُور» کہا گیا ہے یہ اس لیے قیامت کے دن ان میں آگ لگا دی جائے گی جیسے اور جگہ ہے «وَاِذَا الْبِحَارُ سُجِّرَتْ» [81-التكوير:6] ‏‏‏‏ جبکہ دریا بھڑکا دیئے جائیں اور ان میں آگ لگ جائے گی، جو پھیل کر تمام اہل محشر کو گھیر لے گی - علاء بن بدر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ بھڑکتے ہوئے دریا اس لیے کہا گیا کہ نہ اس کا پانی پینے کے کام میں آئے اور نہ کھیتی کو دیا جائے یہی حال قیامت کے دن دریاؤں کا ہو گا، یہ معنی بھی کئے گئے ہیں کہ دریا بہتا ہوا اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ دریا پرُشُدہ ادھر ادھر جاری۔

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں «مسجور» سے مراد فارغ یعنی خالی ہے، کوئی لونڈی پانی لینے کو جائے پھر لوٹ کر کہے کہ حوض «مسجور» ہے اس سے مراد یہی ہے کہ خالی ہے، یہ بھی کہا گیا ہے کہ معنی یہ ہیں کہ اسے زمین سے روک دیا گیا ہے، اس لیے کہ ڈبو نہ سکے۔ مسند احمد کی ایک مرفوع حدیث میں ہے کہ { ہر رات تین مرتبہ دریا اللہ تعالیٰ سے اجازت طلب کرتا ہے کہ اگر حکم ہو تو تمام لوگوں کو ڈبو دوں لیکن اللہ تعالیٰ اسے روک دیتا ہے۔ } [مسند احمد:43/1:ضعیف] ‏‏‏‏ دوسری روایت میں ہے کہ ایک بزرگ مجاہد جو سمندر کی سرحد کے لشکروں میں تھے وہ جہاد کی تیاری میں وہیں رہتے تھے، فرماتے ہیں: ایک رات میں چوکیداری کے لیے نکلا، اس رات کوئی اور پہرے پر نہ تھا، میں گشت کرتا ہوا میدان میں پہنچا اور وہاں سے سمندر پر نظریں ڈالیں، تو ایسا معلوم ہوا کہ گویا سمندر پہاڑ کی چوٹیوں سے ٹکرا رہا ہے، باربار یہی نظارہ میں نے دیکھا۔ میں نے ابوصالح سے یہ واقعہ بیان کیا انہوں نے بروایت سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ اوپر والی حدیث مجھے سنائی لیکن اس کی سند میں ایک راوی مبہم ہے جس کا نام نہیں لیا گیا۔ ان قسموں کے بعد اب جس چیز پر قسمیں کھائی گئی تھیں ان کا بیان ہو رہا ہے کہ کافروں کو جو عذاب الہٰی ہونے والا ہے وہ یقینی طور پر آنے والا ہی ہے، جب وہ آئے گا کسی کے بس میں اس کا روکنا نہ ہو گا۔ ابن ابی الدنیا میں ہے کہ ایک رات سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ شہر کی دیکھ بھال کے لیے نکلے تو ایک مکان سے کسی مسلمان کی قرآن خوانی کی آواز کان میں پڑی وہ سورۃ والطور پڑھ رہے تھے، آپ نے سواری روک لی اور کھڑے ہو کر قرآن سننے لگے، جب وہ اس آیت پر پہنچے تو زبان سے نکل گیا کہ ”رب کعبہ کی قسم سچی ہے“، پھر اپنے گدھے سے اتر پڑے اور دیوار سے تکیہ لگا کر بیٹھ گئے، چلنے پھرنے کی طاقت نہ رہی، دیر تک بیٹھے رہنے کے بعد جب ہوش و حواس ٹھکانے آئے، وہ اپنے گھر پہنچے لیکن اللہ کے کلام کی اس ڈراؤنی آیت کے اثر سے دل کی کمزوری کی یہ حالت تھی کہ مہینہ بھر تک بیمار پڑے رہے اور ایسے کہ لوگ بیمار پرسی کو آتے تھے گو کسی کو معلوم نہ تھا کہ بیماری کیا ہے؟۔

ایک روایت میں ہے آپ رضی اللہ عنہ کی تلاوت میں ایک مرتبہ یہ آیت آئی، اسی وقت ہچکی بندھ گئی اور اس قدر قلب پر اثر پڑا کہ بیمار ہو گئے، چنانچہ بیس دن تک عیادت کی جاتی رہی۔ اس دن آسمان تھرتھرائے گا، پھٹ جائے گا، چکر کھانے لگے گا، پہاڑ اپنی جگہ سے ہل جائیں گے، ہٹ جائیں گے، ادھر کے ادھر ہو جائیں گے، کانپ کانپ کر ٹکڑے ٹکڑے ہو کر پھر ریزہ ریزہ ہو جائیں گے، آخر روئی کے گالوں کی طرح ادھر ادھر اتر جائیں گے اور بےنام و نشان ہو جائیں گے اس دن ان لوگوں پر جو اس دن کو نہ مانتے تھے ویل، و حسرت،خرابی ہلاکت ہو گی۔
8۔ 1 یہ مذکورہ قسموں کا جواب ہے یعنی یہ تمام چیزیں جو اللہ تعالیٰ کی عظیم قدرت کی مظہر ہیں اس بات کی دلیل ہیں کہ اللہ کا وہ عذاب بھی یقینا واقع ہو کر رہے گا جس کا اس نے وعدہ کیا ہے اسے کوئے ٹالنے پر قادر نہیں ہوگا۔
(آیت 8){ مَا لَهٗ مِنْ دَافِعٍ:} اس کی تفصیل کے لیے دیکھیے سورئہ روم (۴۳) اور سورۂ معارج(2،1) کی تفسیر۔
یَّوۡمَ تَمُوۡرُ السَّمَآءُ مَوۡرًا ۙ﴿۹﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
وہ اُس روز واقع ہوگا جب آسمان بری طرح ڈگمگائے گا
مولانا محمد جوناگڑھی
جس دن آسمان تھرتھرانے لگے گا
احمد رضا خان بریلوی
جس دن آسمان ہلنا سا ہلنا ہلیں گے
علامہ محمد حسین نجفی
جس دن آسمان تھرتھرانے لگے گا۔
عبدالسلام بن محمد
جس دن آسمان لرزے گا، سخت لرزنا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
تفسیر سورۂ طور ٭٭

اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق میں سے ان چیزوں کی قسم کھا کر جو اس کی عظیم الشان قدرت کی نشانیاں ہیں فرماتا ہے کہ اس کا عذاب ہو کر ہی رہے گا، جب وہ آئے گا کسی کی مجال نہ ہو گی کہ اسے ہٹا سکے۔ «طور» اس پہاڑ کو کہتے ہیں جس پر درخت ہوں جیسے وہ پہاڑ جس پر اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام سے کلام کیا اور جہاں سے عیسیٰ علیہ السلام کو بھیجا تھا اور جو خشک پہاڑ ہو اسے «جبل» کہا جاتا ہے «طور» نہیں کہا جاتا۔ «كِتَابٍ مَسْطُور» سے مراد یا تو لوح محفوظ ہے یا اللہ کی اتاری ہوئی، لکھی ہوئی کتابیں ہیں جو انسانوں پر پڑھی جاتی ہیں اسی لیے ساتھ ہی فرما دیا کھلے ہوئے اوراق میں۔ «الْبَيْتِ الْمَعْمُور» کی بابت معراج والی حدیث میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”ساتویں آسمان سے آگے بڑھنے کے بعد مجھے بیت المعمور دکھلایا گیا جس میں ہر روز ستر ہزار فرشتے عبادت اللہ کے لیے جاتے ہیں، دوسرے دن اتنے ہی اور لیکن جو آج گئے ان کی باری پھر قیامت تک نہیں آتی۔“ } [صحیح بخاری:3207] ‏‏‏‏

جس طرح زمین پر کعبتہ اللہ کا طواف ہوتا ہے اسی طرح آسمانوں کے طواف کی اور عبادت کی جگہ وہ ہے۔ اسی حدیث میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت ابراہیم علیہ السلام کو دیکھا کہ بیت العمور سے کمر لگائے بیٹھے ہیں اس میں ایک باریک نکتہ یہ ہے کہ چونکہ خلیل اللہ بانی بیت اللہ تھے جن کے ہاتھوں زمین میں کعبۃ اللہ بنا تھا تو انہیں وہاں بھی اس کے کعبے سے لگے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا۔ تو گویا اس عمل کی جزا اسی جیسی پروردگار نے اپنے خلیل کو دی، یہ بیت المعمور ٹھیک خانہ کعبہ کے اوپر ہے اور ہے ساتویں آسمان پر، یوں تو ہر آسمان میں ایک ایسا گھر ہے جہاں اس آسمان کے فرشتے اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتے ہیں پہلے آسمان جو اسی جگہ ہے اس کا نام بیت العزت ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

ابن ابی حاتم میں حدیث ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آسمان میں ایک گھر ہے جسے «معمور» کہتے ہیں جو کعبہ کی سمت میں ہے، چوتھے آسمان میں ایک نہر ہے جس کا نام نہر «حیوان» ہے، جبرائیل علیہ السلام ہر روز اس میں غوطہٰ لگاتے ہیں اور نکل کر بدن جھاڑتے ہیں، جس سے ستر ہزار قطرے جھڑتے ہیں ایک ایک قطرے سے اللہ تعالیٰ ایک ایک فرشتہ پیدا کرتا ہے جنہیں حکم ہوتا ہے کہ وہ بیت المعمور میں جائیں اور نماز ادا کریں، پھر وہ وہاں سے نکل آتے ہیں اب انہیں دوبارہ جانے کی نوبت نہیں آتی، ان کا ایک سردار ہوتا ہے جسے حکم دیا جاتا ہے کہ انہیں لے کر کسی جگہ کھڑا ہو جائے پھر وہ اللہ کی تسبیح کے بیان میں لگ جاتے ہیں، قیامت تک ان کا یہی شغل رہتا ہے، } [الموضاعات لابن الجوزی:147/1،موضوع] ‏‏‏‏ یہ حدیث بہت ہی غریب ہے اس کے راوی روح بن صباح اس میں منفرد ہیں، حافظوں کی ایک جماعت نے ان پر ایک حدیث کا انکار کیا ہے، جیسے جوزجانی، عقیلی، حاکم وغیرہ امام حاکم ابوعبداللہ نیشاپوری رحمہ اللہ اسے بالکل بے اصل بتاتے ہیں سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے ایک شخص نے پوچھا کہ بیت المعمور کیا ہے؟ آپ نے فرمایا: وہ آسمان میں ہے، اسے «صراح» کہا جاتا ہے کعبہ کے ٹھیک اوپر ہے جس طرح زمین کا کعبہ حرمت کی جگہ ہے اسی طرح وہ آسمانوں میں حرمت کی جگہ ہے، ہر روز اس میں ستر ہزار فرشتے نماز ادا کرتے ہیں لیکن جو آج گئے ہیں ان کی باری قیامت تک دوبارہ نہیں آتی کیونکہ فرشتوں کی تعداد ہی اس قدر ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:480/11:مرسل] ‏‏‏‏ ایک روایت میں ہے یہ پوچھنے والے ابن کواء رحمہ اللہ تھے۔

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے منقول ہے کہ { یہ عرش کے محاذ میں سے ہے ایک مرفوع روایت میں ہے کہ صحابہ رضی اللہ عنہم کو ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیت المعمور کو جانتے ہو؟“ انہوں نے کہا: اللہ اور اس کا رسول جانتے ہیں، فرمایا: ”وہ آسمانی کعبہ ہے اور زمینی کعبہ کے بالکل اوپر ہے ایسا کہ اگر وہ گرے تو اسی پر گرے اس میں ہر روز ستر ہزار فرشتے نماز ادا کرتے ہیں جن کی باری قیامت تک پھر نہیں آتی۔ } [تفسیر ابن جریر الطبری:32297:مرسل] ‏‏‏‏ ضحاک رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ فرشتے ابلیس کے قبیلے کے جنات میں سے ہیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» اونچی چھت سے مراد آسمان ہے جیسے اور جگہ ہے «وَجَعَلْنَا السَّمَاءَ سَقْفًا مَّحْفُوْظًا وَّهُمْ عَنْ اٰيٰـتِهَا مُعْرِضُوْنَ» [21-الأنبياء:32] ‏‏‏‏ ربیع بن انس رحمہ اللہ فرماتے ہیں مراد اس سے عرش ہے اس لیے کہ وہ تمام مخلوق کی چھت ہے، اس قول کی توجیہ اس طرح ہو سکتی ہے کہ مراد عام ہو، «الْبَحْرِ الْمَسْجُورِ» (‏‏‏‏ «بحر مسجور» سے مراد وہ پانی ہے جو عرش تلے ہے، جو بارش کی طرح برسے گا، جس سے قیامت کے دن مردے اپنی اپنی قبروں سے اٹھیں گے)۔ جمہور کہتے ہیں یہی دریا مراد ہیں، انہیں جو «الْمَسْجُور» کہا گیا ہے یہ اس لیے قیامت کے دن ان میں آگ لگا دی جائے گی جیسے اور جگہ ہے «وَاِذَا الْبِحَارُ سُجِّرَتْ» [81-التكوير:6] ‏‏‏‏ جبکہ دریا بھڑکا دیئے جائیں اور ان میں آگ لگ جائے گی، جو پھیل کر تمام اہل محشر کو گھیر لے گی - علاء بن بدر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ بھڑکتے ہوئے دریا اس لیے کہا گیا کہ نہ اس کا پانی پینے کے کام میں آئے اور نہ کھیتی کو دیا جائے یہی حال قیامت کے دن دریاؤں کا ہو گا، یہ معنی بھی کئے گئے ہیں کہ دریا بہتا ہوا اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ دریا پرُشُدہ ادھر ادھر جاری۔

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں «مسجور» سے مراد فارغ یعنی خالی ہے، کوئی لونڈی پانی لینے کو جائے پھر لوٹ کر کہے کہ حوض «مسجور» ہے اس سے مراد یہی ہے کہ خالی ہے، یہ بھی کہا گیا ہے کہ معنی یہ ہیں کہ اسے زمین سے روک دیا گیا ہے، اس لیے کہ ڈبو نہ سکے۔ مسند احمد کی ایک مرفوع حدیث میں ہے کہ { ہر رات تین مرتبہ دریا اللہ تعالیٰ سے اجازت طلب کرتا ہے کہ اگر حکم ہو تو تمام لوگوں کو ڈبو دوں لیکن اللہ تعالیٰ اسے روک دیتا ہے۔ } [مسند احمد:43/1:ضعیف] ‏‏‏‏ دوسری روایت میں ہے کہ ایک بزرگ مجاہد جو سمندر کی سرحد کے لشکروں میں تھے وہ جہاد کی تیاری میں وہیں رہتے تھے، فرماتے ہیں: ایک رات میں چوکیداری کے لیے نکلا، اس رات کوئی اور پہرے پر نہ تھا، میں گشت کرتا ہوا میدان میں پہنچا اور وہاں سے سمندر پر نظریں ڈالیں، تو ایسا معلوم ہوا کہ گویا سمندر پہاڑ کی چوٹیوں سے ٹکرا رہا ہے، باربار یہی نظارہ میں نے دیکھا۔ میں نے ابوصالح سے یہ واقعہ بیان کیا انہوں نے بروایت سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ اوپر والی حدیث مجھے سنائی لیکن اس کی سند میں ایک راوی مبہم ہے جس کا نام نہیں لیا گیا۔ ان قسموں کے بعد اب جس چیز پر قسمیں کھائی گئی تھیں ان کا بیان ہو رہا ہے کہ کافروں کو جو عذاب الہٰی ہونے والا ہے وہ یقینی طور پر آنے والا ہی ہے، جب وہ آئے گا کسی کے بس میں اس کا روکنا نہ ہو گا۔ ابن ابی الدنیا میں ہے کہ ایک رات سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ شہر کی دیکھ بھال کے لیے نکلے تو ایک مکان سے کسی مسلمان کی قرآن خوانی کی آواز کان میں پڑی وہ سورۃ والطور پڑھ رہے تھے، آپ نے سواری روک لی اور کھڑے ہو کر قرآن سننے لگے، جب وہ اس آیت پر پہنچے تو زبان سے نکل گیا کہ ”رب کعبہ کی قسم سچی ہے“، پھر اپنے گدھے سے اتر پڑے اور دیوار سے تکیہ لگا کر بیٹھ گئے، چلنے پھرنے کی طاقت نہ رہی، دیر تک بیٹھے رہنے کے بعد جب ہوش و حواس ٹھکانے آئے، وہ اپنے گھر پہنچے لیکن اللہ کے کلام کی اس ڈراؤنی آیت کے اثر سے دل کی کمزوری کی یہ حالت تھی کہ مہینہ بھر تک بیمار پڑے رہے اور ایسے کہ لوگ بیمار پرسی کو آتے تھے گو کسی کو معلوم نہ تھا کہ بیماری کیا ہے؟۔

ایک روایت میں ہے آپ رضی اللہ عنہ کی تلاوت میں ایک مرتبہ یہ آیت آئی، اسی وقت ہچکی بندھ گئی اور اس قدر قلب پر اثر پڑا کہ بیمار ہو گئے، چنانچہ بیس دن تک عیادت کی جاتی رہی۔ اس دن آسمان تھرتھرائے گا، پھٹ جائے گا، چکر کھانے لگے گا، پہاڑ اپنی جگہ سے ہل جائیں گے، ہٹ جائیں گے، ادھر کے ادھر ہو جائیں گے، کانپ کانپ کر ٹکڑے ٹکڑے ہو کر پھر ریزہ ریزہ ہو جائیں گے، آخر روئی کے گالوں کی طرح ادھر ادھر اتر جائیں گے اور بےنام و نشان ہو جائیں گے اس دن ان لوگوں پر جو اس دن کو نہ مانتے تھے ویل، و حسرت،خرابی ہلاکت ہو گی۔
9۔ 1 مور کے معنی ہیں حرکت و اضطراب، قیامت والے دن آسمان کے نظم میں جو اختلال اور ستارے و سیاروں کی ٹوٹ پھوٹ کی وجہ سے جو اضطراب واقع ہوگا، اس کو ان الفاظ سے تعبیر کیا گیا ہے، اور یہ مذکورہ عذاب کے لئے ظرف ہے۔ یعنی عذاب اس روز واقع ہوگا جب آسمان تھر تھرائے گا اور پہاڑ اپنی جگہ چھوڑ کر روئی کے گالوں اور ریت کے ذروں کی طرح اڑ جائیں گے۔
(آیت 9) {يَوْمَ تَمُوْرُ السَّمَآءُ مَوْرًا: ”مَارَ يَمُوْرُ مَوْرًا“} (ن) کسی چیز کا تیزی سے حرکت کرنا اور آگے پیچھے اور دائیں بائیں زور سے ہلنا، الٹ پلٹ ہونا، چکر کھانا۔ {” مَوْرًا “} مصدر تاکید کے لیے ہے، اس لیے ترجمہ ”سخت لرزنا“ کیا گیا ہے۔ {” يَوْمَ “ ” لَوَاقِعٌ “} کا ظرف ہے، یعنی تیرے رب کا عذاب اس دن واقع ہونے والا ہے جب آسمان میں سخت لرزہ پیدا ہو گا اور وہ نہایت تیزی سے چکر کھائے گا اور آخر کار پھٹ جائے گا۔ قیامت کے دن آسمان پر گزرنے والے احوال کے لیے دیکھیے سورۂ فرقان(۲۵)، رحمن(۳۷)، حاقہ(۱۶)، معارج(۸)، مزمل(۱۸)، مرسلات(۹)، نبا(۱۹)، تکویر(۱۱)، انفطار(۱)، انشقاق(۱)، ابراہیم(۴۸)، انبیاء(۱۰۴) اور سورۂ زمر(۶۷)۔
وَّ تَسِیۡرُ الۡجِبَالُ سَیۡرًا ﴿ؕ۱۰﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اور پہاڑ اڑے اڑے پھریں گے
مولانا محمد جوناگڑھی
اور پہاڑ چلنے پھرنے لگیں گے
احمد رضا خان بریلوی
اور پہاڑ چلنا سا چلنا چلیں گے
علامہ محمد حسین نجفی
اور پہاڑ چلنے لگیں گے۔
عبدالسلام بن محمد
اور پہاڑ چلیں گے، بہت چلنا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
تفسیر سورۂ طور ٭٭

اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق میں سے ان چیزوں کی قسم کھا کر جو اس کی عظیم الشان قدرت کی نشانیاں ہیں فرماتا ہے کہ اس کا عذاب ہو کر ہی رہے گا، جب وہ آئے گا کسی کی مجال نہ ہو گی کہ اسے ہٹا سکے۔ «طور» اس پہاڑ کو کہتے ہیں جس پر درخت ہوں جیسے وہ پہاڑ جس پر اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام سے کلام کیا اور جہاں سے عیسیٰ علیہ السلام کو بھیجا تھا اور جو خشک پہاڑ ہو اسے «جبل» کہا جاتا ہے «طور» نہیں کہا جاتا۔ «كِتَابٍ مَسْطُور» سے مراد یا تو لوح محفوظ ہے یا اللہ کی اتاری ہوئی، لکھی ہوئی کتابیں ہیں جو انسانوں پر پڑھی جاتی ہیں اسی لیے ساتھ ہی فرما دیا کھلے ہوئے اوراق میں۔ «الْبَيْتِ الْمَعْمُور» کی بابت معراج والی حدیث میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”ساتویں آسمان سے آگے بڑھنے کے بعد مجھے بیت المعمور دکھلایا گیا جس میں ہر روز ستر ہزار فرشتے عبادت اللہ کے لیے جاتے ہیں، دوسرے دن اتنے ہی اور لیکن جو آج گئے ان کی باری پھر قیامت تک نہیں آتی۔“ } [صحیح بخاری:3207] ‏‏‏‏

جس طرح زمین پر کعبتہ اللہ کا طواف ہوتا ہے اسی طرح آسمانوں کے طواف کی اور عبادت کی جگہ وہ ہے۔ اسی حدیث میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت ابراہیم علیہ السلام کو دیکھا کہ بیت العمور سے کمر لگائے بیٹھے ہیں اس میں ایک باریک نکتہ یہ ہے کہ چونکہ خلیل اللہ بانی بیت اللہ تھے جن کے ہاتھوں زمین میں کعبۃ اللہ بنا تھا تو انہیں وہاں بھی اس کے کعبے سے لگے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا۔ تو گویا اس عمل کی جزا اسی جیسی پروردگار نے اپنے خلیل کو دی، یہ بیت المعمور ٹھیک خانہ کعبہ کے اوپر ہے اور ہے ساتویں آسمان پر، یوں تو ہر آسمان میں ایک ایسا گھر ہے جہاں اس آسمان کے فرشتے اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتے ہیں پہلے آسمان جو اسی جگہ ہے اس کا نام بیت العزت ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

ابن ابی حاتم میں حدیث ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آسمان میں ایک گھر ہے جسے «معمور» کہتے ہیں جو کعبہ کی سمت میں ہے، چوتھے آسمان میں ایک نہر ہے جس کا نام نہر «حیوان» ہے، جبرائیل علیہ السلام ہر روز اس میں غوطہٰ لگاتے ہیں اور نکل کر بدن جھاڑتے ہیں، جس سے ستر ہزار قطرے جھڑتے ہیں ایک ایک قطرے سے اللہ تعالیٰ ایک ایک فرشتہ پیدا کرتا ہے جنہیں حکم ہوتا ہے کہ وہ بیت المعمور میں جائیں اور نماز ادا کریں، پھر وہ وہاں سے نکل آتے ہیں اب انہیں دوبارہ جانے کی نوبت نہیں آتی، ان کا ایک سردار ہوتا ہے جسے حکم دیا جاتا ہے کہ انہیں لے کر کسی جگہ کھڑا ہو جائے پھر وہ اللہ کی تسبیح کے بیان میں لگ جاتے ہیں، قیامت تک ان کا یہی شغل رہتا ہے، } [الموضاعات لابن الجوزی:147/1،موضوع] ‏‏‏‏ یہ حدیث بہت ہی غریب ہے اس کے راوی روح بن صباح اس میں منفرد ہیں، حافظوں کی ایک جماعت نے ان پر ایک حدیث کا انکار کیا ہے، جیسے جوزجانی، عقیلی، حاکم وغیرہ امام حاکم ابوعبداللہ نیشاپوری رحمہ اللہ اسے بالکل بے اصل بتاتے ہیں سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے ایک شخص نے پوچھا کہ بیت المعمور کیا ہے؟ آپ نے فرمایا: وہ آسمان میں ہے، اسے «صراح» کہا جاتا ہے کعبہ کے ٹھیک اوپر ہے جس طرح زمین کا کعبہ حرمت کی جگہ ہے اسی طرح وہ آسمانوں میں حرمت کی جگہ ہے، ہر روز اس میں ستر ہزار فرشتے نماز ادا کرتے ہیں لیکن جو آج گئے ہیں ان کی باری قیامت تک دوبارہ نہیں آتی کیونکہ فرشتوں کی تعداد ہی اس قدر ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:480/11:مرسل] ‏‏‏‏ ایک روایت میں ہے یہ پوچھنے والے ابن کواء رحمہ اللہ تھے۔

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے منقول ہے کہ { یہ عرش کے محاذ میں سے ہے ایک مرفوع روایت میں ہے کہ صحابہ رضی اللہ عنہم کو ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیت المعمور کو جانتے ہو؟“ انہوں نے کہا: اللہ اور اس کا رسول جانتے ہیں، فرمایا: ”وہ آسمانی کعبہ ہے اور زمینی کعبہ کے بالکل اوپر ہے ایسا کہ اگر وہ گرے تو اسی پر گرے اس میں ہر روز ستر ہزار فرشتے نماز ادا کرتے ہیں جن کی باری قیامت تک پھر نہیں آتی۔ } [تفسیر ابن جریر الطبری:32297:مرسل] ‏‏‏‏ ضحاک رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ فرشتے ابلیس کے قبیلے کے جنات میں سے ہیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» اونچی چھت سے مراد آسمان ہے جیسے اور جگہ ہے «وَجَعَلْنَا السَّمَاءَ سَقْفًا مَّحْفُوْظًا وَّهُمْ عَنْ اٰيٰـتِهَا مُعْرِضُوْنَ» [21-الأنبياء:32] ‏‏‏‏ ربیع بن انس رحمہ اللہ فرماتے ہیں مراد اس سے عرش ہے اس لیے کہ وہ تمام مخلوق کی چھت ہے، اس قول کی توجیہ اس طرح ہو سکتی ہے کہ مراد عام ہو، «الْبَحْرِ الْمَسْجُورِ» (‏‏‏‏ «بحر مسجور» سے مراد وہ پانی ہے جو عرش تلے ہے، جو بارش کی طرح برسے گا، جس سے قیامت کے دن مردے اپنی اپنی قبروں سے اٹھیں گے)۔ جمہور کہتے ہیں یہی دریا مراد ہیں، انہیں جو «الْمَسْجُور» کہا گیا ہے یہ اس لیے قیامت کے دن ان میں آگ لگا دی جائے گی جیسے اور جگہ ہے «وَاِذَا الْبِحَارُ سُجِّرَتْ» [81-التكوير:6] ‏‏‏‏ جبکہ دریا بھڑکا دیئے جائیں اور ان میں آگ لگ جائے گی، جو پھیل کر تمام اہل محشر کو گھیر لے گی - علاء بن بدر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ بھڑکتے ہوئے دریا اس لیے کہا گیا کہ نہ اس کا پانی پینے کے کام میں آئے اور نہ کھیتی کو دیا جائے یہی حال قیامت کے دن دریاؤں کا ہو گا، یہ معنی بھی کئے گئے ہیں کہ دریا بہتا ہوا اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ دریا پرُشُدہ ادھر ادھر جاری۔

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں «مسجور» سے مراد فارغ یعنی خالی ہے، کوئی لونڈی پانی لینے کو جائے پھر لوٹ کر کہے کہ حوض «مسجور» ہے اس سے مراد یہی ہے کہ خالی ہے، یہ بھی کہا گیا ہے کہ معنی یہ ہیں کہ اسے زمین سے روک دیا گیا ہے، اس لیے کہ ڈبو نہ سکے۔ مسند احمد کی ایک مرفوع حدیث میں ہے کہ { ہر رات تین مرتبہ دریا اللہ تعالیٰ سے اجازت طلب کرتا ہے کہ اگر حکم ہو تو تمام لوگوں کو ڈبو دوں لیکن اللہ تعالیٰ اسے روک دیتا ہے۔ } [مسند احمد:43/1:ضعیف] ‏‏‏‏ دوسری روایت میں ہے کہ ایک بزرگ مجاہد جو سمندر کی سرحد کے لشکروں میں تھے وہ جہاد کی تیاری میں وہیں رہتے تھے، فرماتے ہیں: ایک رات میں چوکیداری کے لیے نکلا، اس رات کوئی اور پہرے پر نہ تھا، میں گشت کرتا ہوا میدان میں پہنچا اور وہاں سے سمندر پر نظریں ڈالیں، تو ایسا معلوم ہوا کہ گویا سمندر پہاڑ کی چوٹیوں سے ٹکرا رہا ہے، باربار یہی نظارہ میں نے دیکھا۔ میں نے ابوصالح سے یہ واقعہ بیان کیا انہوں نے بروایت سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ اوپر والی حدیث مجھے سنائی لیکن اس کی سند میں ایک راوی مبہم ہے جس کا نام نہیں لیا گیا۔ ان قسموں کے بعد اب جس چیز پر قسمیں کھائی گئی تھیں ان کا بیان ہو رہا ہے کہ کافروں کو جو عذاب الہٰی ہونے والا ہے وہ یقینی طور پر آنے والا ہی ہے، جب وہ آئے گا کسی کے بس میں اس کا روکنا نہ ہو گا۔ ابن ابی الدنیا میں ہے کہ ایک رات سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ شہر کی دیکھ بھال کے لیے نکلے تو ایک مکان سے کسی مسلمان کی قرآن خوانی کی آواز کان میں پڑی وہ سورۃ والطور پڑھ رہے تھے، آپ نے سواری روک لی اور کھڑے ہو کر قرآن سننے لگے، جب وہ اس آیت پر پہنچے تو زبان سے نکل گیا کہ ”رب کعبہ کی قسم سچی ہے“، پھر اپنے گدھے سے اتر پڑے اور دیوار سے تکیہ لگا کر بیٹھ گئے، چلنے پھرنے کی طاقت نہ رہی، دیر تک بیٹھے رہنے کے بعد جب ہوش و حواس ٹھکانے آئے، وہ اپنے گھر پہنچے لیکن اللہ کے کلام کی اس ڈراؤنی آیت کے اثر سے دل کی کمزوری کی یہ حالت تھی کہ مہینہ بھر تک بیمار پڑے رہے اور ایسے کہ لوگ بیمار پرسی کو آتے تھے گو کسی کو معلوم نہ تھا کہ بیماری کیا ہے؟۔

ایک روایت میں ہے آپ رضی اللہ عنہ کی تلاوت میں ایک مرتبہ یہ آیت آئی، اسی وقت ہچکی بندھ گئی اور اس قدر قلب پر اثر پڑا کہ بیمار ہو گئے، چنانچہ بیس دن تک عیادت کی جاتی رہی۔ اس دن آسمان تھرتھرائے گا، پھٹ جائے گا، چکر کھانے لگے گا، پہاڑ اپنی جگہ سے ہل جائیں گے، ہٹ جائیں گے، ادھر کے ادھر ہو جائیں گے، کانپ کانپ کر ٹکڑے ٹکڑے ہو کر پھر ریزہ ریزہ ہو جائیں گے، آخر روئی کے گالوں کی طرح ادھر ادھر اتر جائیں گے اور بےنام و نشان ہو جائیں گے اس دن ان لوگوں پر جو اس دن کو نہ مانتے تھے ویل، و حسرت،خرابی ہلاکت ہو گی۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 10) { وَ تَسِيْرُ الْجِبَالُ سَيْرًا:} قیامت کے دن پہاڑوں پر گزرنے والے احوال کے لیے دیکھیے سورۂ نبا (۲۰) کی تفسیر۔
فَوَیۡلٌ یَّوۡمَئِذٍ لِّلۡمُکَذِّبِیۡنَ ﴿ۙ۱۱﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
تباہی ہے اُس روز اُن جھٹلانے والوں کے لیے
مولانا محمد جوناگڑھی
اس دن جھٹلانے والوں کو (پوری) خرابی ہے
احمد رضا خان بریلوی
تو اس دن جھٹلانے والوں کی خرابی ہے
علامہ محمد حسین نجفی
پس تباہی ہوگی اس دن جھٹلانے والوں کیلئے۔
عبدالسلام بن محمد
تو اس دن جھٹلانے والوں کے لیے بڑی ہلاکت ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
تفسیر سورۂ طور ٭٭

اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق میں سے ان چیزوں کی قسم کھا کر جو اس کی عظیم الشان قدرت کی نشانیاں ہیں فرماتا ہے کہ اس کا عذاب ہو کر ہی رہے گا، جب وہ آئے گا کسی کی مجال نہ ہو گی کہ اسے ہٹا سکے۔ «طور» اس پہاڑ کو کہتے ہیں جس پر درخت ہوں جیسے وہ پہاڑ جس پر اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام سے کلام کیا اور جہاں سے عیسیٰ علیہ السلام کو بھیجا تھا اور جو خشک پہاڑ ہو اسے «جبل» کہا جاتا ہے «طور» نہیں کہا جاتا۔ «كِتَابٍ مَسْطُور» سے مراد یا تو لوح محفوظ ہے یا اللہ کی اتاری ہوئی، لکھی ہوئی کتابیں ہیں جو انسانوں پر پڑھی جاتی ہیں اسی لیے ساتھ ہی فرما دیا کھلے ہوئے اوراق میں۔ «الْبَيْتِ الْمَعْمُور» کی بابت معراج والی حدیث میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”ساتویں آسمان سے آگے بڑھنے کے بعد مجھے بیت المعمور دکھلایا گیا جس میں ہر روز ستر ہزار فرشتے عبادت اللہ کے لیے جاتے ہیں، دوسرے دن اتنے ہی اور لیکن جو آج گئے ان کی باری پھر قیامت تک نہیں آتی۔“ } [صحیح بخاری:3207] ‏‏‏‏

جس طرح زمین پر کعبتہ اللہ کا طواف ہوتا ہے اسی طرح آسمانوں کے طواف کی اور عبادت کی جگہ وہ ہے۔ اسی حدیث میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت ابراہیم علیہ السلام کو دیکھا کہ بیت العمور سے کمر لگائے بیٹھے ہیں اس میں ایک باریک نکتہ یہ ہے کہ چونکہ خلیل اللہ بانی بیت اللہ تھے جن کے ہاتھوں زمین میں کعبۃ اللہ بنا تھا تو انہیں وہاں بھی اس کے کعبے سے لگے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا۔ تو گویا اس عمل کی جزا اسی جیسی پروردگار نے اپنے خلیل کو دی، یہ بیت المعمور ٹھیک خانہ کعبہ کے اوپر ہے اور ہے ساتویں آسمان پر، یوں تو ہر آسمان میں ایک ایسا گھر ہے جہاں اس آسمان کے فرشتے اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتے ہیں پہلے آسمان جو اسی جگہ ہے اس کا نام بیت العزت ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

ابن ابی حاتم میں حدیث ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آسمان میں ایک گھر ہے جسے «معمور» کہتے ہیں جو کعبہ کی سمت میں ہے، چوتھے آسمان میں ایک نہر ہے جس کا نام نہر «حیوان» ہے، جبرائیل علیہ السلام ہر روز اس میں غوطہٰ لگاتے ہیں اور نکل کر بدن جھاڑتے ہیں، جس سے ستر ہزار قطرے جھڑتے ہیں ایک ایک قطرے سے اللہ تعالیٰ ایک ایک فرشتہ پیدا کرتا ہے جنہیں حکم ہوتا ہے کہ وہ بیت المعمور میں جائیں اور نماز ادا کریں، پھر وہ وہاں سے نکل آتے ہیں اب انہیں دوبارہ جانے کی نوبت نہیں آتی، ان کا ایک سردار ہوتا ہے جسے حکم دیا جاتا ہے کہ انہیں لے کر کسی جگہ کھڑا ہو جائے پھر وہ اللہ کی تسبیح کے بیان میں لگ جاتے ہیں، قیامت تک ان کا یہی شغل رہتا ہے، } [الموضاعات لابن الجوزی:147/1،موضوع] ‏‏‏‏ یہ حدیث بہت ہی غریب ہے اس کے راوی روح بن صباح اس میں منفرد ہیں، حافظوں کی ایک جماعت نے ان پر ایک حدیث کا انکار کیا ہے، جیسے جوزجانی، عقیلی، حاکم وغیرہ امام حاکم ابوعبداللہ نیشاپوری رحمہ اللہ اسے بالکل بے اصل بتاتے ہیں سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے ایک شخص نے پوچھا کہ بیت المعمور کیا ہے؟ آپ نے فرمایا: وہ آسمان میں ہے، اسے «صراح» کہا جاتا ہے کعبہ کے ٹھیک اوپر ہے جس طرح زمین کا کعبہ حرمت کی جگہ ہے اسی طرح وہ آسمانوں میں حرمت کی جگہ ہے، ہر روز اس میں ستر ہزار فرشتے نماز ادا کرتے ہیں لیکن جو آج گئے ہیں ان کی باری قیامت تک دوبارہ نہیں آتی کیونکہ فرشتوں کی تعداد ہی اس قدر ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:480/11:مرسل] ‏‏‏‏ ایک روایت میں ہے یہ پوچھنے والے ابن کواء رحمہ اللہ تھے۔

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے منقول ہے کہ { یہ عرش کے محاذ میں سے ہے ایک مرفوع روایت میں ہے کہ صحابہ رضی اللہ عنہم کو ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیت المعمور کو جانتے ہو؟“ انہوں نے کہا: اللہ اور اس کا رسول جانتے ہیں، فرمایا: ”وہ آسمانی کعبہ ہے اور زمینی کعبہ کے بالکل اوپر ہے ایسا کہ اگر وہ گرے تو اسی پر گرے اس میں ہر روز ستر ہزار فرشتے نماز ادا کرتے ہیں جن کی باری قیامت تک پھر نہیں آتی۔ } [تفسیر ابن جریر الطبری:32297:مرسل] ‏‏‏‏ ضحاک رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ فرشتے ابلیس کے قبیلے کے جنات میں سے ہیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» اونچی چھت سے مراد آسمان ہے جیسے اور جگہ ہے «وَجَعَلْنَا السَّمَاءَ سَقْفًا مَّحْفُوْظًا وَّهُمْ عَنْ اٰيٰـتِهَا مُعْرِضُوْنَ» [21-الأنبياء:32] ‏‏‏‏ ربیع بن انس رحمہ اللہ فرماتے ہیں مراد اس سے عرش ہے اس لیے کہ وہ تمام مخلوق کی چھت ہے، اس قول کی توجیہ اس طرح ہو سکتی ہے کہ مراد عام ہو، «الْبَحْرِ الْمَسْجُورِ» (‏‏‏‏ «بحر مسجور» سے مراد وہ پانی ہے جو عرش تلے ہے، جو بارش کی طرح برسے گا، جس سے قیامت کے دن مردے اپنی اپنی قبروں سے اٹھیں گے)۔ جمہور کہتے ہیں یہی دریا مراد ہیں، انہیں جو «الْمَسْجُور» کہا گیا ہے یہ اس لیے قیامت کے دن ان میں آگ لگا دی جائے گی جیسے اور جگہ ہے «وَاِذَا الْبِحَارُ سُجِّرَتْ» [81-التكوير:6] ‏‏‏‏ جبکہ دریا بھڑکا دیئے جائیں اور ان میں آگ لگ جائے گی، جو پھیل کر تمام اہل محشر کو گھیر لے گی - علاء بن بدر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ بھڑکتے ہوئے دریا اس لیے کہا گیا کہ نہ اس کا پانی پینے کے کام میں آئے اور نہ کھیتی کو دیا جائے یہی حال قیامت کے دن دریاؤں کا ہو گا، یہ معنی بھی کئے گئے ہیں کہ دریا بہتا ہوا اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ دریا پرُشُدہ ادھر ادھر جاری۔

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں «مسجور» سے مراد فارغ یعنی خالی ہے، کوئی لونڈی پانی لینے کو جائے پھر لوٹ کر کہے کہ حوض «مسجور» ہے اس سے مراد یہی ہے کہ خالی ہے، یہ بھی کہا گیا ہے کہ معنی یہ ہیں کہ اسے زمین سے روک دیا گیا ہے، اس لیے کہ ڈبو نہ سکے۔ مسند احمد کی ایک مرفوع حدیث میں ہے کہ { ہر رات تین مرتبہ دریا اللہ تعالیٰ سے اجازت طلب کرتا ہے کہ اگر حکم ہو تو تمام لوگوں کو ڈبو دوں لیکن اللہ تعالیٰ اسے روک دیتا ہے۔ } [مسند احمد:43/1:ضعیف] ‏‏‏‏ دوسری روایت میں ہے کہ ایک بزرگ مجاہد جو سمندر کی سرحد کے لشکروں میں تھے وہ جہاد کی تیاری میں وہیں رہتے تھے، فرماتے ہیں: ایک رات میں چوکیداری کے لیے نکلا، اس رات کوئی اور پہرے پر نہ تھا، میں گشت کرتا ہوا میدان میں پہنچا اور وہاں سے سمندر پر نظریں ڈالیں، تو ایسا معلوم ہوا کہ گویا سمندر پہاڑ کی چوٹیوں سے ٹکرا رہا ہے، باربار یہی نظارہ میں نے دیکھا۔ میں نے ابوصالح سے یہ واقعہ بیان کیا انہوں نے بروایت سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ اوپر والی حدیث مجھے سنائی لیکن اس کی سند میں ایک راوی مبہم ہے جس کا نام نہیں لیا گیا۔ ان قسموں کے بعد اب جس چیز پر قسمیں کھائی گئی تھیں ان کا بیان ہو رہا ہے کہ کافروں کو جو عذاب الہٰی ہونے والا ہے وہ یقینی طور پر آنے والا ہی ہے، جب وہ آئے گا کسی کے بس میں اس کا روکنا نہ ہو گا۔ ابن ابی الدنیا میں ہے کہ ایک رات سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ شہر کی دیکھ بھال کے لیے نکلے تو ایک مکان سے کسی مسلمان کی قرآن خوانی کی آواز کان میں پڑی وہ سورۃ والطور پڑھ رہے تھے، آپ نے سواری روک لی اور کھڑے ہو کر قرآن سننے لگے، جب وہ اس آیت پر پہنچے تو زبان سے نکل گیا کہ ”رب کعبہ کی قسم سچی ہے“، پھر اپنے گدھے سے اتر پڑے اور دیوار سے تکیہ لگا کر بیٹھ گئے، چلنے پھرنے کی طاقت نہ رہی، دیر تک بیٹھے رہنے کے بعد جب ہوش و حواس ٹھکانے آئے، وہ اپنے گھر پہنچے لیکن اللہ کے کلام کی اس ڈراؤنی آیت کے اثر سے دل کی کمزوری کی یہ حالت تھی کہ مہینہ بھر تک بیمار پڑے رہے اور ایسے کہ لوگ بیمار پرسی کو آتے تھے گو کسی کو معلوم نہ تھا کہ بیماری کیا ہے؟۔

ایک روایت میں ہے آپ رضی اللہ عنہ کی تلاوت میں ایک مرتبہ یہ آیت آئی، اسی وقت ہچکی بندھ گئی اور اس قدر قلب پر اثر پڑا کہ بیمار ہو گئے، چنانچہ بیس دن تک عیادت کی جاتی رہی۔ اس دن آسمان تھرتھرائے گا، پھٹ جائے گا، چکر کھانے لگے گا، پہاڑ اپنی جگہ سے ہل جائیں گے، ہٹ جائیں گے، ادھر کے ادھر ہو جائیں گے، کانپ کانپ کر ٹکڑے ٹکڑے ہو کر پھر ریزہ ریزہ ہو جائیں گے، آخر روئی کے گالوں کی طرح ادھر ادھر اتر جائیں گے اور بےنام و نشان ہو جائیں گے اس دن ان لوگوں پر جو اس دن کو نہ مانتے تھے ویل، و حسرت،خرابی ہلاکت ہو گی۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 12،11) {فَوَيْلٌ يَّوْمَىِٕذٍ لِّلْمُكَذِّبِيْنَ (11) الَّذِيْنَ هُمْ فِيْ خَوْضٍ يَّلْعَبُوْنَ: ”خَاضَ يَخُوْضُ خَوْضًا“} (ن) اصل میں پانی کے اندر داخل ہونے کو کہتے ہیں، پھر یہ لفظ فضول اور بے ہودہ اقوال و اعمال میں مشغولیت کے معنی میں استعمال ہونے لگا کہ جس طرح پانی میں جانے والے کو معلوم نہیں ہوتا کہ اس کا پاؤں کہاں پڑے گا، فضول کام یا بات کرنے والا بھی اس سے بے خبر ہوتا ہے کہ اس کا پاؤں کہاں پڑ رہا ہے۔ مزید دیکھیے سورۂ مدثر (۴۵) کی تفسیر۔
الَّذِیۡنَ ہُمۡ فِیۡ خَوۡضٍ یَّلۡعَبُوۡنَ ﴿ۘ۱۲﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
جو آج کھیل کے طور پر اپنی حجت بازیوں میں لگے ہوئے ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
جو اپنی بیہوده گوئی میں اچھل کود کر رہے ہیں
احمد رضا خان بریلوی
وہ جو مشغلہ میں کھیل رہے ہیں،
علامہ محمد حسین نجفی
جو بےہودہ اور فضول باتوں میں کھیل رہے ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
وہ جو فضول بحث میں کھیل رہے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
اللہ کا عذاب، فرشتوں کی مار، جہنم کی آگ ان کے لیے ہو گی جو دنیا میں مشغول تھے اور دین کو ایک کھیل تماشہ مقرر کر رکھا تھا، اس دن انہیں دھکے دے کر نار جہنم کی طرف دھکیلا جائے گا اور داروغہ جہنم ان سے کہے گا کہ یہ وہ جہنم ہے جسے تم نہیں مانتے تھے پھر مزید ڈانٹ ڈپٹ کے طور پر کہیں گے، اب بولو! کیا یہ جادو ہے یا تم اندھے ہو؟ جاؤ! اس میں ڈوب جاؤ، یہ تمہیں چاروں طرف سے گھیر لے گی، اب اس کے عذاب کی تمہیں سہار ہو یا نہ ہو، ہائے وائے کرو، خواہ خاموش رہو، اسی میں پڑے جھلستے رہو گے، کوئی ترکیب فائدہ نہ دے گی، کسی طرح چھوٹ نہ سکو گے، یہ اللہ کا ظلم نہیں بلکہ صرف تمہارے اعمال کا بدلہ ہے۔
12۔ 1 یعنی اپنے کفر و باطل میں مصروف اور حق کی تکذیب استہزاء میں لگے ہوئے ہیں۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
یَوۡمَ یُدَعُّوۡنَ اِلٰی نَارِ جَہَنَّمَ دَعًّا ﴿ؕ۱۳﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
جس دن انہیں دھکے مار مار کر نار جہنم کی طرف لے چلا جائے گا
مولانا محمد جوناگڑھی
جس دن وه دھکے دے دے کر آتش جہنم کی طرف ﻻئیں جائیں گے
احمد رضا خان بریلوی
جس دن جہنم کی طرف دھکا دے کر دھکیلے جائیں گے
علامہ محمد حسین نجفی
جس دن ان کو دھکیل دھکیل کر آتشِ دوزخ کی طرف لایا جائے گا۔
عبدالسلام بن محمد
جس دن انھیں جہنم کی آگ کی طرف دھکیلا جائے گا، سخت دھکیلا جانا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
اللہ کا عذاب، فرشتوں کی مار، جہنم کی آگ ان کے لیے ہو گی جو دنیا میں مشغول تھے اور دین کو ایک کھیل تماشہ مقرر کر رکھا تھا، اس دن انہیں دھکے دے کر نار جہنم کی طرف دھکیلا جائے گا اور داروغہ جہنم ان سے کہے گا کہ یہ وہ جہنم ہے جسے تم نہیں مانتے تھے پھر مزید ڈانٹ ڈپٹ کے طور پر کہیں گے، اب بولو! کیا یہ جادو ہے یا تم اندھے ہو؟ جاؤ! اس میں ڈوب جاؤ، یہ تمہیں چاروں طرف سے گھیر لے گی، اب اس کے عذاب کی تمہیں سہار ہو یا نہ ہو، ہائے وائے کرو، خواہ خاموش رہو، اسی میں پڑے جھلستے رہو گے، کوئی ترکیب فائدہ نہ دے گی، کسی طرح چھوٹ نہ سکو گے، یہ اللہ کا ظلم نہیں بلکہ صرف تمہارے اعمال کا بدلہ ہے۔
13۔ 1 الدَّعُّ کے معنی ہیں نہایت سختی کے ساتھ دھکیلنا۔
(آیت 13) {يَوْمَ يُدَعُّوْنَ اِلٰى نَارِ جَهَنَّمَ دَعًّا: ”دَعَّ يَدُعُّ“} سختی کے ساتھ دھکیلنا۔ {” دَعًّا “} مصدر مجہول برائے تاکید ہے، بری طرح دھکیلا جانا۔ یعنی فرشتے انھیں نہایت سختی کے ساتھ بری طرح دھکیلتے ہوئے جہنم کی آگ کی طرف لے جائیں گے۔ مزید دیکھیے سورۂ دخان (۴۷)، رحمان (۴۱)، قمر(۴۸) اور سورۂ مومن(۷۰ تا ۷۲)۔
ہٰذِہِ النَّارُ الَّتِیۡ کُنۡتُمۡ بِہَا تُکَذِّبُوۡنَ ﴿۱۴﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اُس وقت اُن سے کہا جائے گا کہ "یہ وہی آگ ہے جسے تم جھٹلایا کرتے تھے
مولانا محمد جوناگڑھی
یہی وه آتش دوزخ ہے جسے تم جھوٹ بتلاتے تھے
احمد رضا خان بریلوی
یہ ہے وہ آگ جسے تم جھٹلاتے تھے
علامہ محمد حسین نجفی
یہی ہے وہ آگ جسے تم جھٹلاتے تھے۔
عبدالسلام بن محمد
یہی ہے وہ آگ جسے تم جھٹلاتے تھے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
اللہ کا عذاب، فرشتوں کی مار، جہنم کی آگ ان کے لیے ہو گی جو دنیا میں مشغول تھے اور دین کو ایک کھیل تماشہ مقرر کر رکھا تھا، اس دن انہیں دھکے دے کر نار جہنم کی طرف دھکیلا جائے گا اور داروغہ جہنم ان سے کہے گا کہ یہ وہ جہنم ہے جسے تم نہیں مانتے تھے پھر مزید ڈانٹ ڈپٹ کے طور پر کہیں گے، اب بولو! کیا یہ جادو ہے یا تم اندھے ہو؟ جاؤ! اس میں ڈوب جاؤ، یہ تمہیں چاروں طرف سے گھیر لے گی، اب اس کے عذاب کی تمہیں سہار ہو یا نہ ہو، ہائے وائے کرو، خواہ خاموش رہو، اسی میں پڑے جھلستے رہو گے، کوئی ترکیب فائدہ نہ دے گی، کسی طرح چھوٹ نہ سکو گے، یہ اللہ کا ظلم نہیں بلکہ صرف تمہارے اعمال کا بدلہ ہے۔
14۔ 1 یہ جہنم پر مقرر فرشتے انہیں کہیں گے۔
(آیت 14){ هٰذِهِ النَّارُ الَّتِيْ كُنْتُمْ بِهَا تُكَذِّبُوْنَ:} یعنی فرشتے انھیں ذلیل کرنے کے لیے کہیں گے، یہی وہ جہنم ہے جسے تم دنیا میں مسلسل جھٹلاتے رہے۔ {” كَانَ “} استمرار کے لیے ہے۔
اَفَسِحۡرٌ ہٰذَاۤ اَمۡ اَنۡتُمۡ لَا تُبۡصِرُوۡنَ ﴿ۚ۱۵﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اب بتاؤ یہ جادو ہے یا تمہیں سوجھ نہیں رہا ہے؟
مولانا محمد جوناگڑھی
(اب بتاؤ) کیا یہ جادو ہے؟ یا تم دیکھتے ہی نہیں ہو
احمد رضا خان بریلوی
تو کیا یہ جادو ہے یا تمہیں سوجھتا نہیں
علامہ محمد حسین نجفی
کیا یہ(آگ) جادو ہے؟ یا تمہیں نظر نہیں آتا؟
عبدالسلام بن محمد
تو کیا یہ جادو ہے، یا تم نہیں دیکھ رہے؟
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
اللہ کا عذاب، فرشتوں کی مار، جہنم کی آگ ان کے لیے ہو گی جو دنیا میں مشغول تھے اور دین کو ایک کھیل تماشہ مقرر کر رکھا تھا، اس دن انہیں دھکے دے کر نار جہنم کی طرف دھکیلا جائے گا اور داروغہ جہنم ان سے کہے گا کہ یہ وہ جہنم ہے جسے تم نہیں مانتے تھے پھر مزید ڈانٹ ڈپٹ کے طور پر کہیں گے، اب بولو! کیا یہ جادو ہے یا تم اندھے ہو؟ جاؤ! اس میں ڈوب جاؤ، یہ تمہیں چاروں طرف سے گھیر لے گی، اب اس کے عذاب کی تمہیں سہار ہو یا نہ ہو، ہائے وائے کرو، خواہ خاموش رہو، اسی میں پڑے جھلستے رہو گے، کوئی ترکیب فائدہ نہ دے گی، کسی طرح چھوٹ نہ سکو گے، یہ اللہ کا ظلم نہیں بلکہ صرف تمہارے اعمال کا بدلہ ہے۔
15۔ 1 جس طرح تم دنیا میں پیغمبروں کو جادوگر کہا کرتے تھے، بتلاؤ! کیا یہ بھی کوئی جادو کا کرتب ہے؟ 15۔ 2 یا جس طرح تم دنیا میں حق کے دیکھنے سے اندھے تھے یہ عذاب بھی تمہیں نظر نہیں آرہا ہے؟ یہ تقریع وتوبیخ کے لیے انہیں کہا جائے گا ورنہ ہر چیز ان کے مشاہدے میں آچکی ہوگی۔
(آیت 15){ اَفَسِحْرٌ هٰذَاۤ اَمْ اَنْتُمْ لَا تُبْصِرُوْنَ:} یعنی جس طرح تم دنیا میں ہر معجزے کو جادو کہہ کر جھٹلا دیتے تھے، اب اس آگ کو بھی جادو کہہ کر جھٹلا دو، تو بتاؤ کیا یہ جادو ہے؟ یا جس طرح تم دنیا میں کہتے تھے: «‏‏‏‏وَ مِنْۢ بَيْنِنَا وَ بَيْنِكَ حِجَابٌ» ‏‏‏‏ [حٰمٓ السجدۃ: ۵ ] کہ ہمارے اور تمھارے درمیان ایک پردہ ہے، جو کچھ تم بتاتے ہو ہمیں دکھائی نہیں دیتا، تو بتاؤ کیا اب بھی تم نہیں دیکھ رہے؟ یہ ساری بات کفار کو دنیا میں ان کی جھٹلانے کے لیے کہی ہوئی باتیں یاد کروا کر ذلیل کرنے کے لیے کہی جائے گی۔
اِصۡلَوۡہَا فَاصۡبِرُوۡۤا اَوۡ لَا تَصۡبِرُوۡا ۚ سَوَآءٌ عَلَیۡکُمۡ ؕ اِنَّمَا تُجۡزَوۡنَ مَا کُنۡتُمۡ تَعۡمَلُوۡنَ ﴿۱۶﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
جاؤ اب جھلسو اِس کے اندر، تم خواہ صبر کرو یا نہ کرو، تمہارے لیے یکساں ہے، تمہیں ویسا ہی بدلہ دیا جا رہا ہے جیسے تم عمل کر رہے تھے
مولانا محمد جوناگڑھی
جاؤ دوزخ میں اب تمہارا صبر کرنا اور نہ کرنا تمہارے لیے یکساں ہے تمہیں فقط تمہارے کیے کا بدلہ دیا جائے گا
احمد رضا خان بریلوی
اس میں جاؤ اب چاہے صبر کرو یا نہ کرو، سب تم پر ایک سا ہے تمہیں اسی کا بدلہ جو تم کرتے تھے
علامہ محمد حسین نجفی
پس اس میں داخل ہو جاؤ! اب تم صبر کرویا نہ کرو دونوں تمہارے حق میں برابر ہیں تمہیں ویسا ہی بدلہ دیا جائے گا جیسا تم کیا کرتے تھے۔
عبدالسلام بن محمد
اس میں داخل ہو جاؤ، پھر صبر کرو یا صبر نہ کرو، تم پر برابر ہے، تمھیں صرف اسی کا بدلہ دیا جائے گا جو تم کیا کرتے تھے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
اللہ کا عذاب، فرشتوں کی مار، جہنم کی آگ ان کے لیے ہو گی جو دنیا میں مشغول تھے اور دین کو ایک کھیل تماشہ مقرر کر رکھا تھا، اس دن انہیں دھکے دے کر نار جہنم کی طرف دھکیلا جائے گا اور داروغہ جہنم ان سے کہے گا کہ یہ وہ جہنم ہے جسے تم نہیں مانتے تھے پھر مزید ڈانٹ ڈپٹ کے طور پر کہیں گے، اب بولو! کیا یہ جادو ہے یا تم اندھے ہو؟ جاؤ! اس میں ڈوب جاؤ، یہ تمہیں چاروں طرف سے گھیر لے گی، اب اس کے عذاب کی تمہیں سہار ہو یا نہ ہو، ہائے وائے کرو، خواہ خاموش رہو، اسی میں پڑے جھلستے رہو گے، کوئی ترکیب فائدہ نہ دے گی، کسی طرح چھوٹ نہ سکو گے، یہ اللہ کا ظلم نہیں بلکہ صرف تمہارے اعمال کا بدلہ ہے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 16) ➊ { اِصْلَوْهَا:} ظاہر ہے وہ یہی کہیں گے کہ پروردگارا! نہ یہ جادو ہے اور نہ اسے دیکھنے سے ہم اندھے ہیں، بس ایک دفعہ ہمیں واپس جانے دے، ہم کبھی انکار نہیں کریں گے۔ (دیکھیے انعام: ۲۷تا۳۰) مگر حکم ہو گا اب اس میں داخلے کے بغیر چارہ نہیں، اسی میں جھلستے رہو۔ ➋ { فَاصْبِرُوْۤا اَوْ لَا تَصْبِرُوْا سَوَآءٌ عَلَيْكُمْ:} یعنی تمھارے لیے صبر کرنا یا نہ کرنا دونوں برابر ہیں، کیونکہ نہ صبر سے تمھارے عذاب میں تخفیف ہوگی اور نہ جزع فزع اور واویلا کرنے سے، کیونکہ اب نہ عذاب میں کمی ہو گی، نہ اس میں وقفہ ہو گا اور نہ اس سے نکل سکو گے۔ مزید دیکھیے سورۂ بقرہ (۱۶۲)، زخرف (۷۵) اور سورۂ ابراہیم (۲۱)۔ ➌ { اِنَّمَا تُجْزَوْنَ مَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ:} یعنی جس طرح تم نے طے کر رکھا تھا کہ کسی صورت ایمان نہیں لائیں گے، اب اس کی جزا یہی ہے کہ کسی صورت آگ سے نکل نہیں سکو گے۔
اِنَّ الۡمُتَّقِیۡنَ فِیۡ جَنّٰتٍ وَّ نَعِیۡمٍ ﴿ۙ۱۷﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
متقی لوگ وہاں باغوں اور نعمتوں میں ہوں گے
مولانا محمد جوناگڑھی
یقیناً پرہیزگار لوگ جنتوں میں اور نعمتوں میں ہیں
احمد رضا خان بریلوی
بیشک پرہیزگار باغوں اور چین میں ہیں
علامہ محمد حسین نجفی
بےشک پرہیزگار لوگ باغہائے بہشت اور نعمتوں میں ہوں گے۔
عبدالسلام بن محمد
بے شک متقی لو گ باغوں اور بڑی نعمت میں ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
جنت کے مناظر ٭٭

اللہ تعالیٰ نیک بختوں کا انجام بیان فرما رہا ہے کہ عذاب و سزا جو ان بدبختوں کو ہو رہا ہے یہ اس سے محفوظ کر کے جنتوں میں پہنچا دئیے گئے، جہاں کی بہترین نعمتوں سے فائدہ اٹھا رہے ہیں اور ہر طرح خوش حال، خوش دل ہیں، قسم قسم کے کھانے، طرح طرح کے پینے، بہترین لباس، عمدہ عمدہ سواریاں، بلند و بالا مکانات اور ہر طرح کی نعمتیں انہیں مہیا ہیں، کسی قسم کا ڈر خوف نہیں اللہ فرما چکا ہے کہ تمہیں میرے عذابوں سے نجات مل گئی، غرض دکھ سے دور، سکھ سے مسرور، راحت و لذت میں مخمور ہیں، جو چیز سامنے آتی ہے وہ ایسی ہے جسے نہ کسی آنکھ نے دیکھا ہو، نہ کسی کان نے سنا ہو، نہ کسی دل پر خیال تک گزرا ہو، پھر اللہ کی طرف سے باربار مہمان نوازی کے طور پر ان سے کہا جاتا ہے «كُلُوا وَاشْرَبُوا هَنِيئًا بِمَا أَسْلَفْتُمْ فِي الْأَيَّامِ الْخَالِيَةِ» [69-الحاقة:24] ‏‏‏‏ کھاتے پیتے رہو، خوش گوار، خوش ذائقہ، بےتکلف مزید مرغوب چیزیں تمہارے لیے مہیا ہیں۔

پھر ان کا دل خوش کرنے حوصلہ بڑھانے اور طبیعت میں امنگ پیدا کرنے کے لیے ساتھ ہی اعلان ہوتا ہے کہ یہ تو تمہارے اعمال کا بدلہ ہے جو تم اس جہان میں کر آئے ہو «عَلَىٰ سُرُرٍ مُّتَقَابِلِينَ» [37-الصفات:45] ‏‏‏‏ مرصع اور جڑاؤ شاہانہ تخت پر بڑی بےفکری اور فارغ البالی سے تکئے لگائے بیٹھے ہوں گے، ستر ستر سال گزر جائیں گے انہیں ضرورت نہ ہو گی کہ اٹھیں یا ہلیں جلیں، بےشمار سلیقہ شعار، ادب دان خدام ہر طرح کی خدمت کے لیے کمربستہ جس چیز کو جی چاہے آن کی آن میں موجود، آنکھوں کا نور، دل کا سرور، وافر و موفور سامنے بے انتہاء خوبصورت، خوب سیرت، گورے گورے پنڈے والی، بڑی بڑی رسیلی آنکھوں والی، بہت سی حوریں پاک دل، عفت مآب عصمت، خوش دل بہلانے اور خواہش پوری کرنے کے لیے سامنے کھڑی ہر ایک نعمت و رحمت چاروں طرف بکھری ہوئی، پھر بھلا انہیں کس چیز کی کمی۔ ستر سال کے بعد جب دوسری طرف مائل ہوتے ہیں تو دیکھتے ہیں کہ وہاں اور ہی منظر ہے، ہر چیز نئی ہے، ہر نعمت جوبن پر ہے، اس طرف کی حوروں پر نظریں ڈالتے ہیں تو ان کے نور کی چکا چوند حیرت میں ڈال دیتی ہے، ان کی پیاری پیاری، بھولی بھالی شکلیں، اچھوتے پنڈے اور کنوار پن کی شرمیلی نظریں اور جوانی کا بانکپن دل پر مقناطیسی اثر ڈالتا ہے جنتی کچھ کہے اس سے پہلے ہی وہ اپنی شیریں کلامی سے عجیب انداز سے کہتی ہیں، شکر ہے کہ آپ کا التفات ہماری طرف بھی ہوا، غرض اسی طرح من مانی نعمتوں سے مست ہو رہے ہیں۔ پھر ان جنتیوں کے تخت باوجود قطار وار ہونے کے اس طرح نہ ہوں گے کہ کسی کو کسی کی پیٹھ ہو بلکہ آمنے سامنے ہوں گے جیسے اور جگہ ہے «وَنَزَعْنَا مَا فِيْ صُدُوْرِهِمْ مِّنْ غِلٍّ اِخْوَانًا عَلٰي سُرُرٍ مُّتَقٰبِلِيْنَ» [15-الحجر:47] ‏‏‏‏ تختوں پر ہوں گے اور ایک دوسرے کے سامنے ہوں گے۔ پھر فرماتا ہے ہم نے ان کے نکاح میں حوریں دے رکھی ہیں جو کبھی دل میلا نہ کریں، جب آنکھ پڑے، جی خوش ہو جائے اور ظاہری خوبصورتی کی تو کسی سے تعریف ہی کیا ہو سکتی ہے؟ ان کے اوصاف کے بیان کی حدیثیں وغیرہ کئی مقامات پر گزر چکی ہیں اس لئے انہیں یہاں وارد کرنا کچھ چنداں ضروری نہیں۔
17۔ 1 اہل کفر و اہل شقاوت کے بعد اہل ایمان و اہل سعادت کا تذکرہ کیا جا رہا ہے۔
(آیت 17){ اِنَّ الْمُتَّقِيْنَ فِيْ جَنّٰتٍ وَّ نَعِيْمٍ:} مکذبین کے برے انجام کے ذکر کے بعد متقین کے حسنِ انجام کا ذکر فرمایا۔ مزید دیکھیے سورۂ حجر (۴۵)۔
فٰکِہِیۡنَ بِمَاۤ اٰتٰہُمۡ رَبُّہُمۡ ۚ وَ وَقٰہُمۡ رَبُّہُمۡ عَذَابَ الۡجَحِیۡمِ ﴿۱۸﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
لطف لے رہے ہوں گے اُن چیزوں سے جو اُن کا رب انہیں دے گا، اور اُن کا رب اُنہیں دوزخ کے عذاب سے بچا لے گا
مولانا محمد جوناگڑھی
جو انہیں ان کے رب نے دے رکھی ہیں اس پر خوش خوش ہیں، اوران کے پروردگار نے انہیں جہنم کے عذاب سے بھی بچا لیا ہے
احمد رضا خان بریلوی
اپنے رب کے دین پر شاد شاد اور انہیں ان کے رب نے آگ کے عذاب سے بچالیا
علامہ محمد حسین نجفی
وہ خوش و خرم ہوں گے ان نعمتوں سے جو ان کا پروردگار انہیں عطا فر مائے گا اور ان کا پروردگار انہیں دوزخ کے عذاب سے بچائے گا۔
عبدالسلام بن محمد
لطف اٹھانے والے اس سے جو ان کے رب نے انھیں دیا اور ان کے رب نے انھیں بھڑکتی ہوئی آگ کے عذاب سے بچا لیا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
جنت کے مناظر ٭٭

اللہ تعالیٰ نیک بختوں کا انجام بیان فرما رہا ہے کہ عذاب و سزا جو ان بدبختوں کو ہو رہا ہے یہ اس سے محفوظ کر کے جنتوں میں پہنچا دئیے گئے، جہاں کی بہترین نعمتوں سے فائدہ اٹھا رہے ہیں اور ہر طرح خوش حال، خوش دل ہیں، قسم قسم کے کھانے، طرح طرح کے پینے، بہترین لباس، عمدہ عمدہ سواریاں، بلند و بالا مکانات اور ہر طرح کی نعمتیں انہیں مہیا ہیں، کسی قسم کا ڈر خوف نہیں اللہ فرما چکا ہے کہ تمہیں میرے عذابوں سے نجات مل گئی، غرض دکھ سے دور، سکھ سے مسرور، راحت و لذت میں مخمور ہیں، جو چیز سامنے آتی ہے وہ ایسی ہے جسے نہ کسی آنکھ نے دیکھا ہو، نہ کسی کان نے سنا ہو، نہ کسی دل پر خیال تک گزرا ہو، پھر اللہ کی طرف سے باربار مہمان نوازی کے طور پر ان سے کہا جاتا ہے «كُلُوا وَاشْرَبُوا هَنِيئًا بِمَا أَسْلَفْتُمْ فِي الْأَيَّامِ الْخَالِيَةِ» [69-الحاقة:24] ‏‏‏‏ کھاتے پیتے رہو، خوش گوار، خوش ذائقہ، بےتکلف مزید مرغوب چیزیں تمہارے لیے مہیا ہیں۔

پھر ان کا دل خوش کرنے حوصلہ بڑھانے اور طبیعت میں امنگ پیدا کرنے کے لیے ساتھ ہی اعلان ہوتا ہے کہ یہ تو تمہارے اعمال کا بدلہ ہے جو تم اس جہان میں کر آئے ہو «عَلَىٰ سُرُرٍ مُّتَقَابِلِينَ» [37-الصفات:45] ‏‏‏‏ مرصع اور جڑاؤ شاہانہ تخت پر بڑی بےفکری اور فارغ البالی سے تکئے لگائے بیٹھے ہوں گے، ستر ستر سال گزر جائیں گے انہیں ضرورت نہ ہو گی کہ اٹھیں یا ہلیں جلیں، بےشمار سلیقہ شعار، ادب دان خدام ہر طرح کی خدمت کے لیے کمربستہ جس چیز کو جی چاہے آن کی آن میں موجود، آنکھوں کا نور، دل کا سرور، وافر و موفور سامنے بے انتہاء خوبصورت، خوب سیرت، گورے گورے پنڈے والی، بڑی بڑی رسیلی آنکھوں والی، بہت سی حوریں پاک دل، عفت مآب عصمت، خوش دل بہلانے اور خواہش پوری کرنے کے لیے سامنے کھڑی ہر ایک نعمت و رحمت چاروں طرف بکھری ہوئی، پھر بھلا انہیں کس چیز کی کمی۔ ستر سال کے بعد جب دوسری طرف مائل ہوتے ہیں تو دیکھتے ہیں کہ وہاں اور ہی منظر ہے، ہر چیز نئی ہے، ہر نعمت جوبن پر ہے، اس طرف کی حوروں پر نظریں ڈالتے ہیں تو ان کے نور کی چکا چوند حیرت میں ڈال دیتی ہے، ان کی پیاری پیاری، بھولی بھالی شکلیں، اچھوتے پنڈے اور کنوار پن کی شرمیلی نظریں اور جوانی کا بانکپن دل پر مقناطیسی اثر ڈالتا ہے جنتی کچھ کہے اس سے پہلے ہی وہ اپنی شیریں کلامی سے عجیب انداز سے کہتی ہیں، شکر ہے کہ آپ کا التفات ہماری طرف بھی ہوا، غرض اسی طرح من مانی نعمتوں سے مست ہو رہے ہیں۔ پھر ان جنتیوں کے تخت باوجود قطار وار ہونے کے اس طرح نہ ہوں گے کہ کسی کو کسی کی پیٹھ ہو بلکہ آمنے سامنے ہوں گے جیسے اور جگہ ہے «وَنَزَعْنَا مَا فِيْ صُدُوْرِهِمْ مِّنْ غِلٍّ اِخْوَانًا عَلٰي سُرُرٍ مُّتَقٰبِلِيْنَ» [15-الحجر:47] ‏‏‏‏ تختوں پر ہوں گے اور ایک دوسرے کے سامنے ہوں گے۔ پھر فرماتا ہے ہم نے ان کے نکاح میں حوریں دے رکھی ہیں جو کبھی دل میلا نہ کریں، جب آنکھ پڑے، جی خوش ہو جائے اور ظاہری خوبصورتی کی تو کسی سے تعریف ہی کیا ہو سکتی ہے؟ ان کے اوصاف کے بیان کی حدیثیں وغیرہ کئی مقامات پر گزر چکی ہیں اس لئے انہیں یہاں وارد کرنا کچھ چنداں ضروری نہیں۔
18۔ 1 یعنی جنت کے گھر، لباس، کھانے، سواریاں، حسین جمیل بیویاں (حورعین) اور دیگر نعمتیں، ان سب پر وہ خوش ہونگے، کیونکہ یہ نعمتیں دنیا کی نعمتوں سے بدرجہا بڑھ کر ہوں گی۔ اور ما لا عین رأت ولا اذن سمعت ولا خطر علی قلب بشر کا مصداق۔
(آیت 18) ➊ { ” فٰكِهِيْنَ “ ” فَكِهَ يَفْكَهُ فَكَهًا وَ فُكَاهَةً “} (ع) سے اسم فاعل ہے، خوش ہونا، لطف اٹھانا، لذت لینا، ظریف الطبع ہونا۔ ➋ { بِمَاۤ اٰتٰىهُمْ رَبُّهُمْ:} اس کی وضاحت کے لیے دیکھیے سورۂ ذاریات(۱۶) کی تفسیر۔ ➌ { وَ وَقٰىهُمْ رَبُّهُمْ عَذَابَ الْجَحِيْمِ:} اس کی تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ دخان (۵۶) کی تفسیر۔
کُلُوۡا وَ اشۡرَبُوۡا ہَنِیۡٓـًٔۢا بِمَا کُنۡتُمۡ تَعۡمَلُوۡنَ ﴿ۙ۱۹﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
(ان سے کہا جائے گا) کھاؤ اور پیو مزے سے اپنے اُن اعمال کے صلے میں جو تم کرتے رہے ہو
مولانا محمد جوناگڑھی
تم مزے سے کھاتے پیتے رہو ان اعمال کے بدلے جو تم کرتے تھے
احمد رضا خان بریلوی
کھاؤ اور پیو خوشگواری سے صِلہ اپنے اعمال کا
علامہ محمد حسین نجفی
(ارشاد ہوگا) کھاؤ اور پیؤ مبارک ہو! ان اعمال کے صلہ میں جو تم کرتے تھے۔
عبدالسلام بن محمد
کھاؤ اور پیو خوب مزے سے، اس کے بدلے جو تم کیا کرتے تھے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
جنت کے مناظر ٭٭

اللہ تعالیٰ نیک بختوں کا انجام بیان فرما رہا ہے کہ عذاب و سزا جو ان بدبختوں کو ہو رہا ہے یہ اس سے محفوظ کر کے جنتوں میں پہنچا دئیے گئے، جہاں کی بہترین نعمتوں سے فائدہ اٹھا رہے ہیں اور ہر طرح خوش حال، خوش دل ہیں، قسم قسم کے کھانے، طرح طرح کے پینے، بہترین لباس، عمدہ عمدہ سواریاں، بلند و بالا مکانات اور ہر طرح کی نعمتیں انہیں مہیا ہیں، کسی قسم کا ڈر خوف نہیں اللہ فرما چکا ہے کہ تمہیں میرے عذابوں سے نجات مل گئی، غرض دکھ سے دور، سکھ سے مسرور، راحت و لذت میں مخمور ہیں، جو چیز سامنے آتی ہے وہ ایسی ہے جسے نہ کسی آنکھ نے دیکھا ہو، نہ کسی کان نے سنا ہو، نہ کسی دل پر خیال تک گزرا ہو، پھر اللہ کی طرف سے باربار مہمان نوازی کے طور پر ان سے کہا جاتا ہے «كُلُوا وَاشْرَبُوا هَنِيئًا بِمَا أَسْلَفْتُمْ فِي الْأَيَّامِ الْخَالِيَةِ» [69-الحاقة:24] ‏‏‏‏ کھاتے پیتے رہو، خوش گوار، خوش ذائقہ، بےتکلف مزید مرغوب چیزیں تمہارے لیے مہیا ہیں۔

پھر ان کا دل خوش کرنے حوصلہ بڑھانے اور طبیعت میں امنگ پیدا کرنے کے لیے ساتھ ہی اعلان ہوتا ہے کہ یہ تو تمہارے اعمال کا بدلہ ہے جو تم اس جہان میں کر آئے ہو «عَلَىٰ سُرُرٍ مُّتَقَابِلِينَ» [37-الصفات:45] ‏‏‏‏ مرصع اور جڑاؤ شاہانہ تخت پر بڑی بےفکری اور فارغ البالی سے تکئے لگائے بیٹھے ہوں گے، ستر ستر سال گزر جائیں گے انہیں ضرورت نہ ہو گی کہ اٹھیں یا ہلیں جلیں، بےشمار سلیقہ شعار، ادب دان خدام ہر طرح کی خدمت کے لیے کمربستہ جس چیز کو جی چاہے آن کی آن میں موجود، آنکھوں کا نور، دل کا سرور، وافر و موفور سامنے بے انتہاء خوبصورت، خوب سیرت، گورے گورے پنڈے والی، بڑی بڑی رسیلی آنکھوں والی، بہت سی حوریں پاک دل، عفت مآب عصمت، خوش دل بہلانے اور خواہش پوری کرنے کے لیے سامنے کھڑی ہر ایک نعمت و رحمت چاروں طرف بکھری ہوئی، پھر بھلا انہیں کس چیز کی کمی۔ ستر سال کے بعد جب دوسری طرف مائل ہوتے ہیں تو دیکھتے ہیں کہ وہاں اور ہی منظر ہے، ہر چیز نئی ہے، ہر نعمت جوبن پر ہے، اس طرف کی حوروں پر نظریں ڈالتے ہیں تو ان کے نور کی چکا چوند حیرت میں ڈال دیتی ہے، ان کی پیاری پیاری، بھولی بھالی شکلیں، اچھوتے پنڈے اور کنوار پن کی شرمیلی نظریں اور جوانی کا بانکپن دل پر مقناطیسی اثر ڈالتا ہے جنتی کچھ کہے اس سے پہلے ہی وہ اپنی شیریں کلامی سے عجیب انداز سے کہتی ہیں، شکر ہے کہ آپ کا التفات ہماری طرف بھی ہوا، غرض اسی طرح من مانی نعمتوں سے مست ہو رہے ہیں۔ پھر ان جنتیوں کے تخت باوجود قطار وار ہونے کے اس طرح نہ ہوں گے کہ کسی کو کسی کی پیٹھ ہو بلکہ آمنے سامنے ہوں گے جیسے اور جگہ ہے «وَنَزَعْنَا مَا فِيْ صُدُوْرِهِمْ مِّنْ غِلٍّ اِخْوَانًا عَلٰي سُرُرٍ مُّتَقٰبِلِيْنَ» [15-الحجر:47] ‏‏‏‏ تختوں پر ہوں گے اور ایک دوسرے کے سامنے ہوں گے۔ پھر فرماتا ہے ہم نے ان کے نکاح میں حوریں دے رکھی ہیں جو کبھی دل میلا نہ کریں، جب آنکھ پڑے، جی خوش ہو جائے اور ظاہری خوبصورتی کی تو کسی سے تعریف ہی کیا ہو سکتی ہے؟ ان کے اوصاف کے بیان کی حدیثیں وغیرہ کئی مقامات پر گزر چکی ہیں اس لئے انہیں یہاں وارد کرنا کچھ چنداں ضروری نہیں۔
19۔ 1 دوسرے مقام پر فرمایا (كُلُوْا وَاشْرَبُوْا هَنِيْۗئًۢا بِمَآ اَسْلَفْتُمْ فِي الْاَيَّامِ الْخَالِيَةِ) 69۔ الحاقہ:24) اس سے معلوم ہوا کہ اللہ کی رحمت حاصل کرنے کے لئے ایمان کے ساتھ اعمال صالحہ بہت ضروری ہیں۔
(آیت 19) {كُلُوْا وَ اشْرَبُوْا هَنِيْٓـًٔا …: ”هَنَأَ يَهْنِئُ وَ يَهْنَأُ وَيَهْنُؤُ الطَّعَامُ“} کا مفہوم صرف مزیدار ہونے کے لفظ سے پورا ادا نہیں ہوتا، بلکہ لغت میں {”هَنِيْئٌ“} سے مراد وہ چیز ہے جو کسی مشقت کے بغیر آسانی سے حاصل ہو جائے، کھانے میں لذیذ ہو اور گلے سے آسانی سے اتر جائے، اس سے بدہضمی یا بیماری کا کوئی اندیشہ نہ ہو اور اس کے ساتھ کوئی غم یا فکر نہ ہو۔
مُتَّکِئِیۡنَ عَلٰی سُرُرٍ مَّصۡفُوۡفَۃٍ ۚ وَ زَوَّجۡنٰہُمۡ بِحُوۡرٍ عِیۡنٍ ﴿۲۰﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
وہ آمنے سامنے بچھے ہوئے تختوں پر تکیے لگائے بیٹھے ہوں گے اور ہم خوبصورت آنکھوں والی حوریں اُن سے بیاہ دیں گے
مولانا محمد جوناگڑھی
برابر بچھے ہوئے شاندار تختے پر تکیے لگائے ہوئے۔ اور ہم نے ان کے نکاح بڑی بڑی آنکھوں والی (حوروں) سے کر دیئے ہیں
احمد رضا خان بریلوی
تختوں پر تکیہ لگائے جو قطار لگا کر بچھے ہیں اور ہم نے انہیں بیاہ دیا بڑی آنکھوں والی حوروں سے،
علامہ محمد حسین نجفی
وہ بچھے ہوئے پلنگوں پر تکیہ لگائے ہوئے ہوں گے اور ہم ان کی حور العین (یعنی گوری رنگت کی کشادہ چشم عورتوں) سے شادی کر دیں گے۔
عبدالسلام بن محمد
ایسے تختوں پر تکیہ لگائے ہوئے ہوں گے جو قطاروں میں بچھائے ہوئے ہیں اور ہم نے ان کا نکاح سفید جسم، سیاہ آنکھوں والی عورتوں سے کر دیا، جو بڑی بڑی آنکھوں والی ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
جنت کے مناظر ٭٭

اللہ تعالیٰ نیک بختوں کا انجام بیان فرما رہا ہے کہ عذاب و سزا جو ان بدبختوں کو ہو رہا ہے یہ اس سے محفوظ کر کے جنتوں میں پہنچا دئیے گئے، جہاں کی بہترین نعمتوں سے فائدہ اٹھا رہے ہیں اور ہر طرح خوش حال، خوش دل ہیں، قسم قسم کے کھانے، طرح طرح کے پینے، بہترین لباس، عمدہ عمدہ سواریاں، بلند و بالا مکانات اور ہر طرح کی نعمتیں انہیں مہیا ہیں، کسی قسم کا ڈر خوف نہیں اللہ فرما چکا ہے کہ تمہیں میرے عذابوں سے نجات مل گئی، غرض دکھ سے دور، سکھ سے مسرور، راحت و لذت میں مخمور ہیں، جو چیز سامنے آتی ہے وہ ایسی ہے جسے نہ کسی آنکھ نے دیکھا ہو، نہ کسی کان نے سنا ہو، نہ کسی دل پر خیال تک گزرا ہو، پھر اللہ کی طرف سے باربار مہمان نوازی کے طور پر ان سے کہا جاتا ہے «كُلُوا وَاشْرَبُوا هَنِيئًا بِمَا أَسْلَفْتُمْ فِي الْأَيَّامِ الْخَالِيَةِ» [69-الحاقة:24] ‏‏‏‏ کھاتے پیتے رہو، خوش گوار، خوش ذائقہ، بےتکلف مزید مرغوب چیزیں تمہارے لیے مہیا ہیں۔

پھر ان کا دل خوش کرنے حوصلہ بڑھانے اور طبیعت میں امنگ پیدا کرنے کے لیے ساتھ ہی اعلان ہوتا ہے کہ یہ تو تمہارے اعمال کا بدلہ ہے جو تم اس جہان میں کر آئے ہو «عَلَىٰ سُرُرٍ مُّتَقَابِلِينَ» [37-الصفات:45] ‏‏‏‏ مرصع اور جڑاؤ شاہانہ تخت پر بڑی بےفکری اور فارغ البالی سے تکئے لگائے بیٹھے ہوں گے، ستر ستر سال گزر جائیں گے انہیں ضرورت نہ ہو گی کہ اٹھیں یا ہلیں جلیں، بےشمار سلیقہ شعار، ادب دان خدام ہر طرح کی خدمت کے لیے کمربستہ جس چیز کو جی چاہے آن کی آن میں موجود، آنکھوں کا نور، دل کا سرور، وافر و موفور سامنے بے انتہاء خوبصورت، خوب سیرت، گورے گورے پنڈے والی، بڑی بڑی رسیلی آنکھوں والی، بہت سی حوریں پاک دل، عفت مآب عصمت، خوش دل بہلانے اور خواہش پوری کرنے کے لیے سامنے کھڑی ہر ایک نعمت و رحمت چاروں طرف بکھری ہوئی، پھر بھلا انہیں کس چیز کی کمی۔ ستر سال کے بعد جب دوسری طرف مائل ہوتے ہیں تو دیکھتے ہیں کہ وہاں اور ہی منظر ہے، ہر چیز نئی ہے، ہر نعمت جوبن پر ہے، اس طرف کی حوروں پر نظریں ڈالتے ہیں تو ان کے نور کی چکا چوند حیرت میں ڈال دیتی ہے، ان کی پیاری پیاری، بھولی بھالی شکلیں، اچھوتے پنڈے اور کنوار پن کی شرمیلی نظریں اور جوانی کا بانکپن دل پر مقناطیسی اثر ڈالتا ہے جنتی کچھ کہے اس سے پہلے ہی وہ اپنی شیریں کلامی سے عجیب انداز سے کہتی ہیں، شکر ہے کہ آپ کا التفات ہماری طرف بھی ہوا، غرض اسی طرح من مانی نعمتوں سے مست ہو رہے ہیں۔ پھر ان جنتیوں کے تخت باوجود قطار وار ہونے کے اس طرح نہ ہوں گے کہ کسی کو کسی کی پیٹھ ہو بلکہ آمنے سامنے ہوں گے جیسے اور جگہ ہے «وَنَزَعْنَا مَا فِيْ صُدُوْرِهِمْ مِّنْ غِلٍّ اِخْوَانًا عَلٰي سُرُرٍ مُّتَقٰبِلِيْنَ» [15-الحجر:47] ‏‏‏‏ تختوں پر ہوں گے اور ایک دوسرے کے سامنے ہوں گے۔ پھر فرماتا ہے ہم نے ان کے نکاح میں حوریں دے رکھی ہیں جو کبھی دل میلا نہ کریں، جب آنکھ پڑے، جی خوش ہو جائے اور ظاہری خوبصورتی کی تو کسی سے تعریف ہی کیا ہو سکتی ہے؟ ان کے اوصاف کے بیان کی حدیثیں وغیرہ کئی مقامات پر گزر چکی ہیں اس لئے انہیں یہاں وارد کرنا کچھ چنداں ضروری نہیں۔
20۔ 1 مَصْفُوفَۃِ، ایک دوسرے کے ساتھ ملے ہوئے، گویا ایک صف میں ہیں۔ بعض نے مفہوم بیان کیا ہے، کہ چہرے ایک دوسرے کے سامنے ہونگے۔ جیسے میدان جنگ میں فوجیں ایک دوسرے کے سامنے ہوتی ہیں اس مفہوم کو قرآن میں دوسری جگہ ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے " علی سرر متقابلین " ایک دوسرے کے سامنے تختوں پر فروکش ہوں گے۔
(آیت 20) ➊ { مُتَّكِـِٕيْنَ عَلٰى سُرُرٍ مَّصْفُوْفَةٍ:} ابن کثیر رحمہ اللہ نے فرمایا کہ وہ تخت قطار در قطار آمنے سامنے بچھے ہوں گے، جیسا کہ فرمایا: «عَلٰى سُرُرٍ مُّتَقٰبِلِيْنَ» [الصافات: ۴۴] ”تختوں پر آمنے سامنے بیٹھے ہوں گے۔“ ➋ { وَ زَوَّجْنٰهُمْ بِحُوْرٍ عِيْنٍ:} اس کے لیے دیکھیے سورۂ دخان (۵۴) کی تفسیر۔
وَ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ اتَّبَعَتۡہُمۡ ذُرِّیَّتُہُمۡ بِاِیۡمَانٍ اَلۡحَقۡنَا بِہِمۡ ذُرِّیَّتَہُمۡ وَ مَاۤ اَلَتۡنٰہُمۡ مِّنۡ عَمَلِہِمۡ مِّنۡ شَیۡءٍ ؕ کُلُّ امۡرِیًٔۢ بِمَا کَسَبَ رَہِیۡنٌ ﴿۲۱﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
جو لوگ ایمان لائے ہیں اور اُن کی اولاد بھی کسی درجہ ایمان میں ان کے نقش قدم پر چلی ہے ان کی اُس اولاد کو بھی ہم (جنت میں) اُن کے ساتھ ملا دیں گے اور اُن کے عمل میں کوئی گھاٹا ان کو نہ دیں گے ہر شخص اپنے کسب کے عوض رہن ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
اور جو لوگ ایمان ﻻئے اور ان کی اوﻻد نے بھی ایمان میں ان کی پیروی کی ہم ان کی اوﻻد کو ان تک پہنچا دیں گے اور ان کے عمل سے ہم کچھ کم نہ کریں گے، ہر شخص اپنے اپنے اعمال کا گروی ہے
احمد رضا خان بریلوی
اور جو ایمان لائے اور ان کی اولاد نے ایمان کے ساتھ ان کی پیروی کی ہم نے ان کی اولاد ان سے ملادی اور ان کے عمل میں انہیں کچھ کمی نہ دی سب آدمی اپنے کیے میں گرفتار ہیں
علامہ محمد حسین نجفی
اور جو لوگ ایمان لائے اور ان کی اولاد نے بھی ایمان کے ساتھ ان کی اتباع (پیروی) کی تو ہم ان کی اولاد کو (جنت میں) ان کے ساتھ ملا دیں گے اور ان کے اعمال میں کچھ بھی کمی نہیں کریں گے ہر شخص اپنے عمل کے بدلے میں گروی ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اور جو لوگ ایمان لائے اور ان کی اولاد کسی بھی درجے کے ایمان کے ساتھ ان کے پیچھے چلی، ہم ان کی اولاد کو ان کے ساتھ ملا دیں گے اور ان سے ان کے عمل میں کچھ کمی نہ کریں گے، ہر آدمی اس کے عوض جو اس نے کمایا گروی رکھا ہوا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
صالح اولاد انمول اثاثہ ٭٭

اللہ تعالیٰ جل شانہ اپنے فضل و کرم اور لطف و رحم اپنے احسان اور انعام کا بیان فرماتا ہے کہ جن مومنوں کی اولاد بھی ایمان میں اپنے باپ دادا کی راہ میں لگ جائے لیکن اعمال صالحہ میں اپنے بڑوں سے کم ہو پروردگار ان کے نیک اعمال کا بدلہ بڑھا چڑھا کر انہیں ان کے بڑوں کے درجے میں پہنچا دے گا تاکہ بڑوں کی آنکھیں چھوٹوں کو اپنے پاس دیکھ کر ٹھنڈی رہیں اور چھوٹے بھی اپنے بڑوں کے پاس ہشاش بشاش رہیں۔ ان کے عملوں کی بڑھوتری ان کے بزرگوں کے اعمال کی کمی سے نہ کی جائے گی بلکہ محسن و مہربان اللہ انہیں اپنے معمور خزانوں میں سے عطا فرمائے گا۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اس آیت کی تفسیر یہی فرماتے ہیں۔ ایک مرفوع حدیث بھی اس مضمون کی مروی ہے ایک اور روایت میں ہے کہ جب جنتی شخص جنت میں جائے گا اور اپنے ماں باپ اور بیوی بچوں کو نہ پائے گا تو دریافت کرے گا کہ وہ کہاں ہیں جواب ملے گا کہ وہ تمہارے مرتبہ تک نہیں پہنچے یہ کہے گا باری تعالیٰ میں نے تو اپنے لیے اور ان کے لیے نیک اعمال کئے تھے چنانچہ حکم دیا جائے گا اور انہیں بھی ان کے درجے میں پہنچا دیا جائے گا۔ یہ بھی مروی ہے کہ جنتیوں کے بچوں نے ایمان قبول کیا اور نیک کام کئے وہ تو ان کے ساتھ ملا دئیے جائیں گے لیکن ان کے جو چھوٹے بچے بچپن ہی میں انتقال کر گئے تھے وہ بھی ان کے پاس پہنچا دئیے جائیں گے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما، شعبی، سعید بن جبیر، ابراہیم، قتادہ، ابوصالح، ربیع بن انس، ضحاک بن زید رحمہم اللہ بھی یہی کہتے ہیں امام ابن جریر رحمہ اللہ بھی اسی کو پسند فرماتے ہیں۔ مسند احمد میں ہے کہ سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنے دو بچوں کی نسبت دریافت کیا جو زمانہ جاہلیت میں مرے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ دونوں جہنم میں ہیں“، پھر جب مائی صاحبہ کو غمگین دیکھا تو فرمایا اگر تم ان کی جگہ دیکھ لیتیں تو تمہارے دل میں ان کا بغض پیدا ہو جاتا، مائی صاحبہ نے پوچھا: یا رسول اللہ! میرا بچہ جو آپ سے ہوا وہ کہاں ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ جنت میں ہے مومن مع اپنی اولاد کے جنت میں ہیں۔‏‏‏‏“ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کی تلاوت کی۔ یہ تو ہوئی ماں باپ کے اعمال صالحہ کی وجہ سے اولاد کی بزرگی اب اولاد کی دعا خیر کی وجہ سے ماں باپ کی بزرگی ملاحظہ ہو۔ مسند احمد میں حدیث ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ اپنے نیک بندے کا درجہ جنت میں دفعۃً بڑھاتا ہے، وہ دریافت کرتا ہے کہ اللہ میرا یہ درجہ کیسے بڑھ گیا؟ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے کہ تیری اولاد نے تیرے لیے استغفار کیا اس بنا پر میں نے تیرا درجہ بڑھا دیا“ }۔ [مسند احمد:509/2:حسن] ‏‏‏‏ اس حدیث کی اسناد بالکل صحیح ہیں گو بخاری مسلم میں ان لفظوں سے نہیں آئی۔ لیکن اس جیسی ایک روایت صحیح مسلم میں اسی طرح مروی ہے کہ { ابن آدم کے مرتے ہی اس کے اعمال موقوف ہو جاتے ہیں لیکن تین عمل کہ وہ مرنے کے بعد بھی ثواب پہنچاتے رہتے ہیں، صدقہ جاریہ، علم دین جس سے نفع پہنچتا ہے، نیک اولاد جو مرنے والے کے لیے دعائے خیر کرتی رہے }۔ [صحیح مسلم:1631] ‏‏‏‏ چونکہ یہاں بیان ہوا تھا کہ مومنوں کی اولاد کے درجے بےعمل بڑھا دئیے گئے تھے تو ساتھ ہی ساتھ اپنے اس فضل کے بعد اپنے عدل کا بیان فرماتا ہے کہ کسی کو کسی کے اعمال میں پکڑا نہ جائے گا بلکہ ہر شخص اپنے اپنے عمل میں رہن ہو گا، باپ کا بوجھ بیٹے پر اور بیٹے کا باپ پر نہ ہو گا۔

جیسے اور جگہ ہے «كُلُّ نَفْسٍ بِمَا كَسَبَتْ رَهِينَةٌ» * «إِلَّا أَصْحَابَ الْيَمِينِ» * «فِي جَنَّاتٍ يَتَسَاءَلُونَ» * «عَنِ الْمُجْرِمِينَ» [74-المدثر:41-38] ‏‏‏‏ ہر شخص اپنے اعمال کے بدلے میں گروی ہے مگر وہ جن کے دائیں ہاتھ میں نامہ اعمال پہنچے وہ جنتوں میں بیٹھے ہوئے گنہگاروں سے دریافت کرتے ہیں۔ پھر ارشاد ہوتا ہے کہ ان جنتیوں کو قسم قسم کے میوے اور طرح طرح کے گوشت دئیے جاتے ہیں، جس چیز کو جی چاہے، جس پر دل آئے وہ یک لخت موجود ہو جاتی ہے، شراب طہور کے چھلکتے ہوئے جام ایک دوسرے کو پلا رہے ہیں، جس کے پینے سے سرور اور کیف لطف اور بہار حاصل ہوتا ہے لیکن بدزبانی بےہودہ گوئی نہیں ہوتی، ہذیان نہیں بکتے، بیہوش نہیں ہوتے، سچا سرور اور پوری خوشی حاصل، بک جھک سے دور، گناہ سے غافل، باطل وکذب سے دور، غیبت و گناہ سے نفور، دنیا میں شرابیوں کی حالت دیکھی ہو گی کہ ان کے سر میں چکر، پیٹ میں درد، عقل زائل، بکواس بہت، بو بری، چہرے بے رونق، اسی طرح شراب کے بدذائقہ اور بدبو یہاں جنت کی شراب ان تمام گندگیوں سے کوسوں دور ہے «بَيْضَاءَ لَذَّةٍ لِّلشَّارِبِينَ» * «لَا فِيهَا غَوْلٌ وَلَا هُمْ عَنْهَا يُنزَفُونَ» [37-الصافات:46،47] ‏‏‏‏ یہ رنگ میں سفید، پینے میں خوش ذائقہ، نہ اس کے پینے سے حواس معطل ہوں، نہ بک جھک ہو، نہ بہکیں، نہ بھٹکیں، نہ مستی ہو، نہ اور کسی طرح ضرر پہنچائے، ہنسی خوشی اس پاک شراب کے جام پلا رہے ہوں گے۔
21۔ 1 یعنی جن کے باپ اپنے اخلاص و تقوٰی اور عمل و کردار کی بنیاد پر جنت کے اعلٰی درجوں پر فائز ہوں گے، اللہ تعالیٰ ان کی ایماندار اولاد کے بھی درجے بلند کرکے، ان کو ان کے باپوں کے ساتھ ملا دے گا یہ نہیں کرے گا کہ ان کے باپوں کے درجے کم کرکے ان کی اولاد والے کمتر درجوں میں انہیں لے آئے یعنی اہل ایمان پر دو گونہ احسان فرمائے گا۔ ایک تو باپ بیٹوں کو آپس میں ملا دے گا تاکہ ان کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں، بشرطیکہ دونوں ایماندار ہوں دوسرا یہ کہ کم درجے والوں کو اٹھا کر اونچے درجوں پر فائز فرما دے گا۔ ورنہ دونوں کے ملاپ کا یہ طریقہ بھی ہوسکتا ہے کہ اے کلاس والوں کو بی کلاس دے دے، یہ بات چونکہ اس کے فضل واحسان سے فروتر ہوگی اس لیے وہ ایسا نہیں کرے گا بلکہ بی کلاس والوں کا اے کلاس عطا فرمائے گا۔ یہ تو اللہ کا وہ احسان ہے جو اولاد پر آبا کے عملوں کی برکت سے ہوگا اور حدیث میں آتا ہے کہ اولاد کی دعا واستغفار سے آبا کے درجات میں بھی اضافہ ہوتا ہے ایک شخص کے جب جنت میں درجے بلند ہوتے ہیں تو وہ اللہ سے اس کا سبب پوچھتا ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے تیری اولاد کی تیرے لیے دعائے مغفرت کرنے کی وجہ سے (مسند احمد) اس کی تأیید اس حدیث سے بھی ہوتی ہے جس میں آتا ہے کہ جب انسان مرجاتا ہے تو اس کے عمل کا سلسلہ منقطع ہوجاتا ہے البتہ تین چیزوں کا ثواب موت کے بعد بھی جاری رہتا ہے ایک صدقہ جاریہ دوسرا وہ علم جس سے لوگ فیض یاب ہوتے رہیں اور تیسری نیک اولاد جو اس کے لیے دعا کرتی ہو۔ (صحیح مسلم) 21۔ 2 رھین بمعنی مرھون (گروی شدہ چیز) ہر شخص اپنے عمل کا گروی ہوگا۔ یہ عام ہے۔ مومن اور کافر دونوں کو شامل ہے اور مطلب ہے کہ جو جیسا اچھا یا برا عمل کرے گا۔ اس کے مطابق اچھی یا بری جزاء پائے گا۔ یا اس سے مراد صرف کافر ہیں کہ وہ اپنے اعمال میں گرفتار ہوں گے، جیسے دوسرے مقام پر فرمایا " كُلُّ نَفْسٍۢ بِمَا كَسَبَتْ رَهِيْنَةٌ" 74۔ المدثر:38) ہر شخص اپنے اعمال میں گرفتار ہوگا۔
(آیت 21) ➊ {وَ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَ اتَّبَعَتْهُمْ ذُرِّيَّتُهُمْ بِاِيْمَانٍ:بِاِيْمَانٍ “} پر تنوین تنکیر و تقلیل کے لیے ہے، اس لیے ترجمہ ”اور ان کی اولاد کسی بھی درجے کے ایمان کے ساتھ ان کے پیچھے چلی“ کیا گیا ہے۔ ➋ { اَلْحَقْنَا بِهِمْ ذُرِّيَّتَهُمْ:} طبری نے علی بن ابی طلحہ کی معتبر سند کے ساتھ ابن عباس رضی اللہ عنھما سے اس کی تفسیر نقل فرمائی ہے: [ إِنَّ اللّٰهَ تَبَارَكَ وَتَعَالٰی يَرْفَعُ لِلْمُؤْمِنِ ذُرِّيَّتَهُ، وَإِنْ كَانُوْا دُوْنَهُ فِي الْعَمَلِ، لِيُقِرَّ اللّٰهُ بِهِمْ عَيْنَهُ ] [ طبري: ۳۲۶۲۲ ] ”اللہ تعالیٰ مومن کی خاطر اس کی اولاد کو اُونچا لے جائے گا، خواہ وہ عمل میں اس سے کم ہوں گے، تاکہ اللہ تعالیٰ ان کے ذریعے سے اس کی آنکھ ٹھنڈی کرے۔“ اس سے پہلے سورۂ رعد (۲۳) میں بیان فرمایا کہ اہلِ جنت کے آباء اور بیوی بچوں میں سے جو بھی صالح ہوں گے وہ ان کے ساتھ جنت میں جائیں گے اور سورۂ مومن(۸) میں فرمایا کہ فرشتے اللہ تعالیٰ سے ایمان والوں کے حق میں دعا کرتے ہیں کہ وہ انھیں اور ان کے آباء، بیویوں اور اولادوں کو جنت میں داخل کر دے۔ زیرِ تفسیر آیت میں جنت کے داخلے کے ساتھ ایک اور بڑی خوش خبری دی ہے کہ اگر اولاد کسی نہ کسی درجے کا ایمان لا کر اپنے صالح آباء کے نقشِ قدم پر چلتی رہی ہو تو خواہ وہ ایمان یا عمل کے لحاظ سے اس بلند درجے کے مستحق نہ بھی ہوئے جو ان کے آباء کو حاصل ہو گا، پھر بھی اللہ تعالیٰ انھیں ان کے آباء کے ساتھ ملا دے گا۔ ➌ { وَ مَاۤ اَلَتْنٰهُمْ مِّنْ عَمَلِهِمْ مِّنْ شَيْءٍ: ”أَلَتَ يَأْلِتُ أَلْتًا“ (ض) ” اَلشَّيْءُ “} کسی چیزکا کم ہونا۔ {”أَلَتَ الرَّجُلَ حَقَّهُ“} ”کسی آدمی کے حق میں کمی کرنا، پورا نہ دینا۔“ یعنی یہ نہیں ہو گا کہ ہم آباء کو ان کے اعلیٰ درجے سے نیچے لا کر ان کی اولاد کے ساتھ ملا دیں، کیونکہ اس سے لازم آتا ہے کہ ان کے عمل کا اجر کم کر دیا جائے۔ اس لیے ہم ان کے عمل میں کسی طرح کمی نہیں کریں گے، بلکہ محض اپنے فضل سے اولاد کا درجہ بڑھا کر آباء کے اعلیٰ درجے میں پہنچا دیں گے۔ ➍ جس طرح آباء کے عمل کی برکت سے اولاد کے درجات میں اضافہ ہو گا اسی طرح اولاد کی دعا کی بدولت اللہ تعالیٰ آباء پر بھی فضل فرمائے گا۔ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ إِنَّ اللّٰهَ عَزَّ وَجَلَّ لَيَرْفَعُ الدَّرَجَةَ لِلْعَبْدِ الصَّالِحِ فِي الْجَنَّةِ، فَيَقُوْلُ يَا رَبِّ! أَنّٰی لِيْ هٰذِهِ؟ فَيَقُوْلُ بِاسْتِغْفَارِ وَلَدِكَ لَكَ ] [ مسند أحمد: 509/2، ح: ۱۰۶۱۰، مسند احمد کے محققین نے اس کی سند کو حسن اور ابن کثیر نے صحیح قرار دیا ہے ] ”اللہ عز و جل جنت میں صالح بندے کا درجہ بلند فرمائے گا تو وہ کہے گا: ”اے میرے رب! مجھے یہ درجہ کیسے مل گیا؟“ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: ”تیری اولاد کے تیرے لیے استغفار کی وجہ سے۔“ اس کی تائید اس مشہور حدیث سے ہوتی ہے جو ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ إِذَا مَاتَ الْإِنْسَانُ انْقَطَعَ عَنْهُ عَمَلُهُ إِلَّا مِنْ ثَلَاثَةٍ إِلَّا مِنْ صَدَقَةٍ جَارِيَةٍ أَوْ عِلْمٍ يُنْتَفَعُ بِهِ أَوْ وَلَدٍ صَالِحٍ يَدْعُوْ لَهُ ] [مسلم، الوصیۃ، باب ما یلحق الإنسان من الثواب بعد وفاتہ: ۱۶۳۱ ] ”جب انسان فوت ہو جاتا ہے تو اس کا عمل اس سے کٹ جاتا ہے، سوائے تین اعمال کے، صدقہ جاریہ یا وہ علم جس سے نفع حاصل کیا جاتا رہے یا صالح اولاد جو اس کے لیے دعا کرے۔“ ➎ {كُلُّ امْرِئٍۭ بِمَا كَسَبَ رَهِيْنٌ: ”رَهَنَ يَرْهَنُ رَهْنًا“} (ف) گروی رکھنا۔ {” رَهِيْنٌ “} گروی رکھا ہوا۔ اگر کوئی شخص کسی سے کچھ قرض لے اور قرض دینے والا اپنے حق کی وصولی کے لیے ضمانت کے طور پر اس کی کوئی چیز اپنے پاس رہن (گروی) رکھ لے تو جب تک وہ قرض ادا نہ کرے اس کی گروی رکھی ہوئی چیز چھوڑی نہیں جاتی اور اگر ادا کر ہی نہ سکے تو ضبط کر لی جاتی ہے۔ یہاں اللہ تعالیٰ نے پہلے اپنا فضل بیان فرمایا کہ صالح اولاد کے اعمال ان کے آباء کے درجے کے لائق نہ بھی ہوئے تو انھیں ان کے آباء کے ساتھ ملا دیا جائے گا۔ اب اپنے عدل کا بیان فرمایا کہ کسی شخص کو دوسرے کے گناہ میں نہیں پکڑا جائے گا، بلکہ ہر آدمی اپنے کمائے ہوئے عمل کے بدلے ہی گرفتار ہو گا، خواہ وہ باپ ہو یا بیٹا۔ پھر یا تو آدمی وہ عمل پیش کر کے چھوٹ جائے گا جس کی ادائیگی اس کے ذمے تھی یا پیش نہ کر سکنے کی وجہ سے گرفتار رہے گا۔ مزید دیکھیے سورۂ انعام (۱۶۴)، فاطر (۱۸) اور سورۂ مدثر (۳۸)۔
وَ اَمۡدَدۡنٰہُمۡ بِفَاکِہَۃٍ وَّ لَحۡمٍ مِّمَّا یَشۡتَہُوۡنَ ﴿۲۲﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
ہم اُن کو ہر طرح کے پھل اور گوشت، جس چیز کو بھی ان کا جی چاہے گا، خوب دیے چلے جائیں گے
مولانا محمد جوناگڑھی
ہم ان کے لیے میوے اورمرغوب گوشت کی ریل پیل کردیں گے
احمد رضا خان بریلوی
اور ہم نے ان کی مدد فرمائی میوے اور گوشت سے جو چاہیں
علامہ محمد حسین نجفی
اور ہم انہیں پسند کے میوے اور گوشت دیتے رہیں گے۔
عبدالسلام بن محمد
اور ہم انھیں پھل اور گوشت زیادہ دیں گے اس میں سے جو وہ چاہیں گے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
صالح اولاد انمول اثاثہ ٭٭

اللہ تعالیٰ جل شانہ اپنے فضل و کرم اور لطف و رحم اپنے احسان اور انعام کا بیان فرماتا ہے کہ جن مومنوں کی اولاد بھی ایمان میں اپنے باپ دادا کی راہ میں لگ جائے لیکن اعمال صالحہ میں اپنے بڑوں سے کم ہو پروردگار ان کے نیک اعمال کا بدلہ بڑھا چڑھا کر انہیں ان کے بڑوں کے درجے میں پہنچا دے گا تاکہ بڑوں کی آنکھیں چھوٹوں کو اپنے پاس دیکھ کر ٹھنڈی رہیں اور چھوٹے بھی اپنے بڑوں کے پاس ہشاش بشاش رہیں۔ ان کے عملوں کی بڑھوتری ان کے بزرگوں کے اعمال کی کمی سے نہ کی جائے گی بلکہ محسن و مہربان اللہ انہیں اپنے معمور خزانوں میں سے عطا فرمائے گا۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اس آیت کی تفسیر یہی فرماتے ہیں۔ ایک مرفوع حدیث بھی اس مضمون کی مروی ہے ایک اور روایت میں ہے کہ جب جنتی شخص جنت میں جائے گا اور اپنے ماں باپ اور بیوی بچوں کو نہ پائے گا تو دریافت کرے گا کہ وہ کہاں ہیں جواب ملے گا کہ وہ تمہارے مرتبہ تک نہیں پہنچے یہ کہے گا باری تعالیٰ میں نے تو اپنے لیے اور ان کے لیے نیک اعمال کئے تھے چنانچہ حکم دیا جائے گا اور انہیں بھی ان کے درجے میں پہنچا دیا جائے گا۔ یہ بھی مروی ہے کہ جنتیوں کے بچوں نے ایمان قبول کیا اور نیک کام کئے وہ تو ان کے ساتھ ملا دئیے جائیں گے لیکن ان کے جو چھوٹے بچے بچپن ہی میں انتقال کر گئے تھے وہ بھی ان کے پاس پہنچا دئیے جائیں گے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما، شعبی، سعید بن جبیر، ابراہیم، قتادہ، ابوصالح، ربیع بن انس، ضحاک بن زید رحمہم اللہ بھی یہی کہتے ہیں امام ابن جریر رحمہ اللہ بھی اسی کو پسند فرماتے ہیں۔ مسند احمد میں ہے کہ سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنے دو بچوں کی نسبت دریافت کیا جو زمانہ جاہلیت میں مرے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ دونوں جہنم میں ہیں“، پھر جب مائی صاحبہ کو غمگین دیکھا تو فرمایا اگر تم ان کی جگہ دیکھ لیتیں تو تمہارے دل میں ان کا بغض پیدا ہو جاتا، مائی صاحبہ نے پوچھا: یا رسول اللہ! میرا بچہ جو آپ سے ہوا وہ کہاں ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ جنت میں ہے مومن مع اپنی اولاد کے جنت میں ہیں۔‏‏‏‏“ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کی تلاوت کی۔ یہ تو ہوئی ماں باپ کے اعمال صالحہ کی وجہ سے اولاد کی بزرگی اب اولاد کی دعا خیر کی وجہ سے ماں باپ کی بزرگی ملاحظہ ہو۔ مسند احمد میں حدیث ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ اپنے نیک بندے کا درجہ جنت میں دفعۃً بڑھاتا ہے، وہ دریافت کرتا ہے کہ اللہ میرا یہ درجہ کیسے بڑھ گیا؟ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے کہ تیری اولاد نے تیرے لیے استغفار کیا اس بنا پر میں نے تیرا درجہ بڑھا دیا“ }۔ [مسند احمد:509/2:حسن] ‏‏‏‏ اس حدیث کی اسناد بالکل صحیح ہیں گو بخاری مسلم میں ان لفظوں سے نہیں آئی۔ لیکن اس جیسی ایک روایت صحیح مسلم میں اسی طرح مروی ہے کہ { ابن آدم کے مرتے ہی اس کے اعمال موقوف ہو جاتے ہیں لیکن تین عمل کہ وہ مرنے کے بعد بھی ثواب پہنچاتے رہتے ہیں، صدقہ جاریہ، علم دین جس سے نفع پہنچتا ہے، نیک اولاد جو مرنے والے کے لیے دعائے خیر کرتی رہے }۔ [صحیح مسلم:1631] ‏‏‏‏ چونکہ یہاں بیان ہوا تھا کہ مومنوں کی اولاد کے درجے بےعمل بڑھا دئیے گئے تھے تو ساتھ ہی ساتھ اپنے اس فضل کے بعد اپنے عدل کا بیان فرماتا ہے کہ کسی کو کسی کے اعمال میں پکڑا نہ جائے گا بلکہ ہر شخص اپنے اپنے عمل میں رہن ہو گا، باپ کا بوجھ بیٹے پر اور بیٹے کا باپ پر نہ ہو گا۔

جیسے اور جگہ ہے «كُلُّ نَفْسٍ بِمَا كَسَبَتْ رَهِينَةٌ» * «إِلَّا أَصْحَابَ الْيَمِينِ» * «فِي جَنَّاتٍ يَتَسَاءَلُونَ» * «عَنِ الْمُجْرِمِينَ» [74-المدثر:41-38] ‏‏‏‏ ہر شخص اپنے اعمال کے بدلے میں گروی ہے مگر وہ جن کے دائیں ہاتھ میں نامہ اعمال پہنچے وہ جنتوں میں بیٹھے ہوئے گنہگاروں سے دریافت کرتے ہیں۔ پھر ارشاد ہوتا ہے کہ ان جنتیوں کو قسم قسم کے میوے اور طرح طرح کے گوشت دئیے جاتے ہیں، جس چیز کو جی چاہے، جس پر دل آئے وہ یک لخت موجود ہو جاتی ہے، شراب طہور کے چھلکتے ہوئے جام ایک دوسرے کو پلا رہے ہیں، جس کے پینے سے سرور اور کیف لطف اور بہار حاصل ہوتا ہے لیکن بدزبانی بےہودہ گوئی نہیں ہوتی، ہذیان نہیں بکتے، بیہوش نہیں ہوتے، سچا سرور اور پوری خوشی حاصل، بک جھک سے دور، گناہ سے غافل، باطل وکذب سے دور، غیبت و گناہ سے نفور، دنیا میں شرابیوں کی حالت دیکھی ہو گی کہ ان کے سر میں چکر، پیٹ میں درد، عقل زائل، بکواس بہت، بو بری، چہرے بے رونق، اسی طرح شراب کے بدذائقہ اور بدبو یہاں جنت کی شراب ان تمام گندگیوں سے کوسوں دور ہے «بَيْضَاءَ لَذَّةٍ لِّلشَّارِبِينَ» * «لَا فِيهَا غَوْلٌ وَلَا هُمْ عَنْهَا يُنزَفُونَ» [37-الصافات:46،47] ‏‏‏‏ یہ رنگ میں سفید، پینے میں خوش ذائقہ، نہ اس کے پینے سے حواس معطل ہوں، نہ بک جھک ہو، نہ بہکیں، نہ بھٹکیں، نہ مستی ہو، نہ اور کسی طرح ضرر پہنچائے، ہنسی خوشی اس پاک شراب کے جام پلا رہے ہوں گے۔
22۔ 1 زِدْنَاہُمْ، یعنی خوب دیں گے
(آیت 22) {وَ اَمْدَدْنٰهُمْ بِفَاكِهَةٍ …:} اس کی تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ صافات (۴۲) کی تفسیر۔
یَتَنَازَعُوۡنَ فِیۡہَا کَاۡسًا لَّا لَغۡوٌ فِیۡہَا وَ لَا تَاۡثِیۡمٌ ﴿۲۳﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
وہاں وہ ایک دوسرے سے جام شراب لپک لپک کر لے رہے ہوں گے جس میں نہ یاوہ گوئی ہوگی نہ بد کرداری
مولانا محمد جوناگڑھی
(خوش طبعی کے ساتھ) ایک دوسرے سے جام (شراب) کی چھینا جھپٹی کریں گے جس شراب کے سرور میں تو بیہوده گوئی ہوگی نہ گناه
احمد رضا خان بریلوی
ایک دوسرے سے لیتے ہیں وہ جام جس میں نہ بیہودگی اور گنہگاری
علامہ محمد حسین نجفی
اور وہ وہاں ایسے جامِ شراب پر چھینا جھپٹی بھی کریں گے جس میں نہ کوئی لغو بات ہوگی اور نہ گنہگار ٹھہرانے کی۔
عبدالسلام بن محمد
وہ اس میںایک دوسرے سے شراب کا پیالہ چھینیں جھپٹیں گے، جس میں نہ بے ہودہ گوئی ہو گی اور نہ گناہ میں ڈالنا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
صالح اولاد انمول اثاثہ ٭٭

اللہ تعالیٰ جل شانہ اپنے فضل و کرم اور لطف و رحم اپنے احسان اور انعام کا بیان فرماتا ہے کہ جن مومنوں کی اولاد بھی ایمان میں اپنے باپ دادا کی راہ میں لگ جائے لیکن اعمال صالحہ میں اپنے بڑوں سے کم ہو پروردگار ان کے نیک اعمال کا بدلہ بڑھا چڑھا کر انہیں ان کے بڑوں کے درجے میں پہنچا دے گا تاکہ بڑوں کی آنکھیں چھوٹوں کو اپنے پاس دیکھ کر ٹھنڈی رہیں اور چھوٹے بھی اپنے بڑوں کے پاس ہشاش بشاش رہیں۔ ان کے عملوں کی بڑھوتری ان کے بزرگوں کے اعمال کی کمی سے نہ کی جائے گی بلکہ محسن و مہربان اللہ انہیں اپنے معمور خزانوں میں سے عطا فرمائے گا۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اس آیت کی تفسیر یہی فرماتے ہیں۔ ایک مرفوع حدیث بھی اس مضمون کی مروی ہے ایک اور روایت میں ہے کہ جب جنتی شخص جنت میں جائے گا اور اپنے ماں باپ اور بیوی بچوں کو نہ پائے گا تو دریافت کرے گا کہ وہ کہاں ہیں جواب ملے گا کہ وہ تمہارے مرتبہ تک نہیں پہنچے یہ کہے گا باری تعالیٰ میں نے تو اپنے لیے اور ان کے لیے نیک اعمال کئے تھے چنانچہ حکم دیا جائے گا اور انہیں بھی ان کے درجے میں پہنچا دیا جائے گا۔ یہ بھی مروی ہے کہ جنتیوں کے بچوں نے ایمان قبول کیا اور نیک کام کئے وہ تو ان کے ساتھ ملا دئیے جائیں گے لیکن ان کے جو چھوٹے بچے بچپن ہی میں انتقال کر گئے تھے وہ بھی ان کے پاس پہنچا دئیے جائیں گے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما، شعبی، سعید بن جبیر، ابراہیم، قتادہ، ابوصالح، ربیع بن انس، ضحاک بن زید رحمہم اللہ بھی یہی کہتے ہیں امام ابن جریر رحمہ اللہ بھی اسی کو پسند فرماتے ہیں۔ مسند احمد میں ہے کہ سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنے دو بچوں کی نسبت دریافت کیا جو زمانہ جاہلیت میں مرے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ دونوں جہنم میں ہیں“، پھر جب مائی صاحبہ کو غمگین دیکھا تو فرمایا اگر تم ان کی جگہ دیکھ لیتیں تو تمہارے دل میں ان کا بغض پیدا ہو جاتا، مائی صاحبہ نے پوچھا: یا رسول اللہ! میرا بچہ جو آپ سے ہوا وہ کہاں ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ جنت میں ہے مومن مع اپنی اولاد کے جنت میں ہیں۔‏‏‏‏“ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کی تلاوت کی۔ یہ تو ہوئی ماں باپ کے اعمال صالحہ کی وجہ سے اولاد کی بزرگی اب اولاد کی دعا خیر کی وجہ سے ماں باپ کی بزرگی ملاحظہ ہو۔ مسند احمد میں حدیث ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ اپنے نیک بندے کا درجہ جنت میں دفعۃً بڑھاتا ہے، وہ دریافت کرتا ہے کہ اللہ میرا یہ درجہ کیسے بڑھ گیا؟ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے کہ تیری اولاد نے تیرے لیے استغفار کیا اس بنا پر میں نے تیرا درجہ بڑھا دیا“ }۔ [مسند احمد:509/2:حسن] ‏‏‏‏ اس حدیث کی اسناد بالکل صحیح ہیں گو بخاری مسلم میں ان لفظوں سے نہیں آئی۔ لیکن اس جیسی ایک روایت صحیح مسلم میں اسی طرح مروی ہے کہ { ابن آدم کے مرتے ہی اس کے اعمال موقوف ہو جاتے ہیں لیکن تین عمل کہ وہ مرنے کے بعد بھی ثواب پہنچاتے رہتے ہیں، صدقہ جاریہ، علم دین جس سے نفع پہنچتا ہے، نیک اولاد جو مرنے والے کے لیے دعائے خیر کرتی رہے }۔ [صحیح مسلم:1631] ‏‏‏‏ چونکہ یہاں بیان ہوا تھا کہ مومنوں کی اولاد کے درجے بےعمل بڑھا دئیے گئے تھے تو ساتھ ہی ساتھ اپنے اس فضل کے بعد اپنے عدل کا بیان فرماتا ہے کہ کسی کو کسی کے اعمال میں پکڑا نہ جائے گا بلکہ ہر شخص اپنے اپنے عمل میں رہن ہو گا، باپ کا بوجھ بیٹے پر اور بیٹے کا باپ پر نہ ہو گا۔

جیسے اور جگہ ہے «كُلُّ نَفْسٍ بِمَا كَسَبَتْ رَهِينَةٌ» * «إِلَّا أَصْحَابَ الْيَمِينِ» * «فِي جَنَّاتٍ يَتَسَاءَلُونَ» * «عَنِ الْمُجْرِمِينَ» [74-المدثر:41-38] ‏‏‏‏ ہر شخص اپنے اعمال کے بدلے میں گروی ہے مگر وہ جن کے دائیں ہاتھ میں نامہ اعمال پہنچے وہ جنتوں میں بیٹھے ہوئے گنہگاروں سے دریافت کرتے ہیں۔ پھر ارشاد ہوتا ہے کہ ان جنتیوں کو قسم قسم کے میوے اور طرح طرح کے گوشت دئیے جاتے ہیں، جس چیز کو جی چاہے، جس پر دل آئے وہ یک لخت موجود ہو جاتی ہے، شراب طہور کے چھلکتے ہوئے جام ایک دوسرے کو پلا رہے ہیں، جس کے پینے سے سرور اور کیف لطف اور بہار حاصل ہوتا ہے لیکن بدزبانی بےہودہ گوئی نہیں ہوتی، ہذیان نہیں بکتے، بیہوش نہیں ہوتے، سچا سرور اور پوری خوشی حاصل، بک جھک سے دور، گناہ سے غافل، باطل وکذب سے دور، غیبت و گناہ سے نفور، دنیا میں شرابیوں کی حالت دیکھی ہو گی کہ ان کے سر میں چکر، پیٹ میں درد، عقل زائل، بکواس بہت، بو بری، چہرے بے رونق، اسی طرح شراب کے بدذائقہ اور بدبو یہاں جنت کی شراب ان تمام گندگیوں سے کوسوں دور ہے «بَيْضَاءَ لَذَّةٍ لِّلشَّارِبِينَ» * «لَا فِيهَا غَوْلٌ وَلَا هُمْ عَنْهَا يُنزَفُونَ» [37-الصافات:46،47] ‏‏‏‏ یہ رنگ میں سفید، پینے میں خوش ذائقہ، نہ اس کے پینے سے حواس معطل ہوں، نہ بک جھک ہو، نہ بہکیں، نہ بھٹکیں، نہ مستی ہو، نہ اور کسی طرح ضرر پہنچائے، ہنسی خوشی اس پاک شراب کے جام پلا رہے ہوں گے۔
23۔ 1 یتنازعون یتعاطون ویتناولون ایک دوسرے سے لیں گے۔ یا پھر وہ معنی ہیں جو فاضل مترجم نے کیے ہیں، کس اس پیالے اور جام کو کہتے ہیں جو شراب یا کسی اور مشروب سے بھرا ہوا ہو خالی برتن کو کس نہیں کہتے۔ 23۔ 2 اس شراب میں دنیا کی شراب کی تاثیر نہیں ہوگی اسے پی کر نہ کوئی بہکے گا اور نہ اتنا مدہوش ہوگا۔
(آیت 23) ➊ {يَتَنَازَعُوْنَ فِيْهَا كَاْسًا:كَاْسًا “} کی وضاحت کے لیے دیکھیے سورۂ صافات (۴۵) کی تفسیر۔ اہلِ جنت ایک دوسرے سے شراب کے پیالے اس لیے نہیں چھینیں جھپٹیں گے کہ وہاں کسی کمی کا یا ختم ہونے کا اندیشہ ہو گا، بلکہ محض خوش طبعی کے طور پر ایسا کریں گے، کیونکہ چھیننے جھپٹنے کا الگ مزا ہے۔ ➋ { لَا لَغْوٌ فِيْهَا وَ لَا تَاْثِيْمٌ:} دنیا کی شراب میں کئی قباحتیں ہیں، جن میں سب سے بڑی قباحت یہ ہے کہ آدمی کی عقل پر پردہ پڑ جاتا ہے، حالانکہ عقل ہی اسے جانوروں سے امتیاز اور ان پر برتری عطا کرتی ہے۔ پھر وہ نشہ کی حالت میں بکواس کرنے لگتا ہے، گناہ کے کام کر بیٹھتا ہے، حتیٰ کہ بعض اوقات اپنی محرم عورتوں تک کی عزت برباد کر بیٹھتا ہے۔ جنت کی شراب میں دنیا کی شراب والی کوئی قباحت نہیں ہو گی، مگر اس میں وہ تمام خوبیاں بدرجہ اتم موجود ہوں گی جن کی وجہ سے یہ لوگ اس کی تلخی، بدبو اور بعد کے برے اثرات کے باوجود اسے پیتے ہیں۔ مزید دیکھیے سورۂ صافات (۴۷)۔
وَ یَطُوۡفُ عَلَیۡہِمۡ غِلۡمَانٌ لَّہُمۡ کَاَنَّہُمۡ لُؤۡلُؤٌ مَّکۡنُوۡنٌ ﴿۲۴﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اور اُن کی خدمت میں وہ لڑکے دوڑتے پھر رہے ہوں گے جو انہی کے لیے مخصوص ہوں گے ایسے خوبصورت جیسے چھپا کر رکھے ہوئے موتی
مولانا محمد جوناگڑھی
اور ان کے اردگرد ان کے نو عمر غلام چل پھر رہے ہوں گے، گویا کہ وه موتی تھے جو ڈھکے رکھے تھے
احمد رضا خان بریلوی
اور ان کے خدمت گار لڑکے ان کے گرد پھریں گے گویا وہ موتی ہیں چھپا کر رکھے گئے
علامہ محمد حسین نجفی
اور ان کے غلام (خدمت کیلئے) چکر لگا رہے ہوں گے (جو حُسن و جمال میں) گویا چھپے ہوئے موتی ہوں گے۔
عبدالسلام بن محمد
اور ان پر چکر لگاتے رہیں گے انھی کے لڑکے، جیسے وہ چھپائے ہوئے موتی ہوں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
ان کے غلام کمسن نوعمر بچے جو حسن و خوبی میں ایسے ہیں جیسے مروارید ہوں اور وہ بھی ڈبے میں بند رکھے گئے ہوں، کسی کا ہاتھ بھی نہ لگا ہو اور ابھی ابھی تازے تازے نکالے ہوں، ان کی آبداری، صفائی، چمک دمک، روپ رنگ کا کیا پوچھنا؟ لیکن ان غلمان کے حسین چہرے انہیں بھی ماند کر دیتے ہیں اور جگہ یہ مضمون ان الفاظ میں ادا کیا گیا ہے «يَطُوفُ عَلَيْهِمْ وِلْدَانٌ مُّخَلَّدُونَ» * «بِأَكْوَابٍ وَأَبَارِيقَ وَكَأْسٍ مِّن مَّعِينٍ» [56-الواقعة:18،17] ‏‏‏‏ یعنی ہمیشہ نوعمر اور کمسن رہنے والے بچے آبخورے آفتابے اور ایسی شراب صاف کے جام کہ جن کے پینے سے نہ سر میں درد ہو، نہ بہکیں اور جس قسم کا میوہ یہ پسند کریں اور جس پرند کا گوشت یہ چاہیں ان کے پاس باربار لانے کے لیے چاروں طرف کمربستہ چل رہے ہیں اس دور شراب کے وقت آپس میں گھل مل کر طرح طرح کی باتیں کریں گے، دنیا کے احوال یاد آئیں گے، کہیں گے کہ ہم دنیا میں جب اپنے والوں میں تھے، تو اپنے رب کے آج کے دن کے عذاب سے سخت لرزاں و ترساں تھے، الحمداللہ رب نے ہم پر خاص احسان کیا اور ہمارے خوف کی چیز سے ہمیں امن دیا، ہم اسی سے دعائیں اور التجائیں کرتے رہے، اس نے ہماری دعائیں قبول فرمائیں اور ہمارا قول پورا کر دیا یقیناً وہ بہت ہی نیک سلوک اور رحم والا ہے۔ مسند بزار میں ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جنتی اپنے دوستوں سے ملنا چاہے گا تو ادھر دوست کے دل میں بھی یہی خواہش پیدا ہو گی اس کا تخت اڑے گا اور راستہ میں دونوں مل جائیں گے، اپنے اپنے تختوں پر آرام سے بیٹھے ہوئے باتیں کرنے لگیں گے، دنیا کے ذکر کو چھیڑیں گے اور کہیں گے کہ فلاں دن فلاں جگہ ہم نے اپنی بخشش کی دعا مانگی تھی اللہ نے اسے قبول فرمایا }۔ [مسند بزار:3553:ضعیف] ‏‏‏‏ اس حدیث کی سند کمزور ہے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے جب اس آیت کی تلاوت کی تو یہ دعا پڑھی «اللَّهُمَّ مُنَّ عَلَيْنَا وَقِنَا عَذَاب السَّمُوم إِنَّك أَنْتَ الْبَرّ الرَّحِيم» اعمش راوی حدیث سے پوچھا گیا کہ اس آیت کو پڑھ کر یہ دعا ام المؤمنین نے نماز میں مانگی تھی؟ جواب دیا ہاں۔
24۔ 1 یعنی جنتیوں کی خدمت کے لئے انہیں نو عمر خادم بھی دیئے جائیں گے جو ان کی خدمت کے لئے پھر رہے ہونگے اور حسن و جمال اور صفائی و رعنائی میں وہ ایسے ہونگے جیسے موتی، جسے ڈھک کر رکھا گیا ہو، تاکہ ہاتھ لگنے سے اس کی چمک دمک ماند نہ پڑے۔
(آیت 24) ➊ { وَ يَطُوْفُ عَلَيْهِمْ غِلْمَانٌ لَّهُمْ:} اس کی وضاحت کے لیے دیکھیے سورۂ دہر (۱۹) اور سورۂ واقعہ (18،17) کی تفسیر۔ ➋ { كَاَنَّهُمْ لُؤْلُؤٌ مَّكْنُوْنٌ:} یعنی ان کی خوب صورتی، سفیدی اور پاکیزگی کا یہ عالم ہو گا جیسے موتی ابھی اپنی سیپ ہی میں محفوظ ہوں، یا جواہرات والی ڈبیا میں اس طرح چھپا کر رکھے ہوئے ہوں کہ نہ ان پر گرد و غبار کا کوئی ذرہ پڑا ہو اور نہ وہ ہاتھ لگنے سے میلے ہوئے ہوں۔ دوسرے لفظوں میں وہ اتنے خوب صورت اور صاف ستھرے ہوں گے کہ چھونے سے میلے ہوتے ہوں گے۔
وَ اَقۡبَلَ بَعۡضُہُمۡ عَلٰی بَعۡضٍ یَّتَسَآءَلُوۡنَ ﴿۲۵﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
یہ لوگ آپس میں ایک دوسرے سے (دنیا میں گزرے ہوئے) حالات پوچھیں گے
مولانا محمد جوناگڑھی
اور آپس میں ایک دوسرے کی طرف متوجہ ہو کر سوال کریں گے
احمد رضا خان بریلوی
اور ان میں ایک نے دوسرے کی طرف منہ کیا پوچھتے ہوئے
علامہ محمد حسین نجفی
وہ (جنتی) ایک دوسرے کی طرف متوجہ ہو کر باہم سوال و جواب کریں گے۔
عبدالسلام بن محمد
اور ان کے بعض بعض پر متوجہ ہوں گے، ایک دوسرے سے سوال کرتے ہوں گے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
ان کے غلام کمسن نوعمر بچے جو حسن و خوبی میں ایسے ہیں جیسے مروارید ہوں اور وہ بھی ڈبے میں بند رکھے گئے ہوں، کسی کا ہاتھ بھی نہ لگا ہو اور ابھی ابھی تازے تازے نکالے ہوں، ان کی آبداری، صفائی، چمک دمک، روپ رنگ کا کیا پوچھنا؟ لیکن ان غلمان کے حسین چہرے انہیں بھی ماند کر دیتے ہیں اور جگہ یہ مضمون ان الفاظ میں ادا کیا گیا ہے «يَطُوفُ عَلَيْهِمْ وِلْدَانٌ مُّخَلَّدُونَ» * «بِأَكْوَابٍ وَأَبَارِيقَ وَكَأْسٍ مِّن مَّعِينٍ» [56-الواقعة:18،17] ‏‏‏‏ یعنی ہمیشہ نوعمر اور کمسن رہنے والے بچے آبخورے آفتابے اور ایسی شراب صاف کے جام کہ جن کے پینے سے نہ سر میں درد ہو، نہ بہکیں اور جس قسم کا میوہ یہ پسند کریں اور جس پرند کا گوشت یہ چاہیں ان کے پاس باربار لانے کے لیے چاروں طرف کمربستہ چل رہے ہیں اس دور شراب کے وقت آپس میں گھل مل کر طرح طرح کی باتیں کریں گے، دنیا کے احوال یاد آئیں گے، کہیں گے کہ ہم دنیا میں جب اپنے والوں میں تھے، تو اپنے رب کے آج کے دن کے عذاب سے سخت لرزاں و ترساں تھے، الحمداللہ رب نے ہم پر خاص احسان کیا اور ہمارے خوف کی چیز سے ہمیں امن دیا، ہم اسی سے دعائیں اور التجائیں کرتے رہے، اس نے ہماری دعائیں قبول فرمائیں اور ہمارا قول پورا کر دیا یقیناً وہ بہت ہی نیک سلوک اور رحم والا ہے۔ مسند بزار میں ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جنتی اپنے دوستوں سے ملنا چاہے گا تو ادھر دوست کے دل میں بھی یہی خواہش پیدا ہو گی اس کا تخت اڑے گا اور راستہ میں دونوں مل جائیں گے، اپنے اپنے تختوں پر آرام سے بیٹھے ہوئے باتیں کرنے لگیں گے، دنیا کے ذکر کو چھیڑیں گے اور کہیں گے کہ فلاں دن فلاں جگہ ہم نے اپنی بخشش کی دعا مانگی تھی اللہ نے اسے قبول فرمایا }۔ [مسند بزار:3553:ضعیف] ‏‏‏‏ اس حدیث کی سند کمزور ہے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے جب اس آیت کی تلاوت کی تو یہ دعا پڑھی «اللَّهُمَّ مُنَّ عَلَيْنَا وَقِنَا عَذَاب السَّمُوم إِنَّك أَنْتَ الْبَرّ الرَّحِيم» اعمش راوی حدیث سے پوچھا گیا کہ اس آیت کو پڑھ کر یہ دعا ام المؤمنین نے نماز میں مانگی تھی؟ جواب دیا ہاں۔
25۔ 1 ایک دوسرے سے دنیا کے حالات پوچھیں گے کہ دنیا میں وہ کن حالات میں زندگی گزارتے اور ایمان و عمل کے تقاضے کس طرح پورے کرتے رہے۔
(آیت 25) {وَ اَقْبَلَ بَعْضُهُمْ عَلٰى بَعْضٍ يَّتَسَآءَلُوْنَ:} یعنی اہلِ جنت ان نعمتوں سے جن کا ذکر اوپر گزرا شاد کام ہوتے ہوئے ایک دوسرے سے سوال کریں گے۔ ان میں سے ہر ایک پوچھنے والا بھی ہو گا اور دوسرے کو جواب دینے والا بھی کہ سناؤ دنیا میں تم پر کیا کچھ گزرا؟ پھر اس کی مصیبتوں اور فتنوں سے بچتے بچاتے یہاں جنت میں کیسے پہنچے؟ اس سے معلوم ہوا کہ انھیں گزشتہ تمام واقعات یاد ہوں گے، چنانچہ وہ اپنی حالت کا ذکر کرتے ہوئے کہیں گے۔ ایک دوسرے سے اس سوال و جواب میں ان کے آباء اور ان کی اولاد کی گفتگو بھی شامل ہے جو ایک درجے میں اکٹھے ہوں گے۔ تو خوشی سے ایک دوسرے سے گزرے ہوئے احوال کے متعلق سوال کریں گے اور موجودہ حالت کے بارے میں بھی کہ اللہ تعالیٰ نے ہم جیسے گناہ گاروں پر اتنا بڑا انعام کیسے کر دیا کہ ہمیں جنت میں داخل فرمایا اور پھر ہم میں سے بعض کے عمل کی کوتاہی کے باوجود سب کو یکجا کر دیا۔
قَالُوۡۤا اِنَّا کُنَّا قَبۡلُ فِیۡۤ اَہۡلِنَا مُشۡفِقِیۡنَ ﴿۲۶﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
یہ کہیں گے کہ ہم پہلے اپنے گھر والوں میں ڈرتے ہوئے زندگی بسر کرتے تھے
مولانا محمد جوناگڑھی
کہیں گے کہ اس سے پہلے ہم اپنے گھر والوں کے درمیان بہت ڈرا کرتے تھے
احمد رضا خان بریلوی
بولے بیشک ہم اس سے پہلے اپنے گھروں میں سہمے ہوئے تھے
علامہ محمد حسین نجفی
وہ کہیں گے کہ ہم اس سے پہلے اپنے گھر بار میں (اپنے انجام سے) ڈرتے رہتے تھے۔
عبدالسلام بن محمد
کہیں گے بلاشبہ ہم اس سے پہلے اپنے گھر والوں میں ڈرنے والے تھے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
ان کے غلام کمسن نوعمر بچے جو حسن و خوبی میں ایسے ہیں جیسے مروارید ہوں اور وہ بھی ڈبے میں بند رکھے گئے ہوں، کسی کا ہاتھ بھی نہ لگا ہو اور ابھی ابھی تازے تازے نکالے ہوں، ان کی آبداری، صفائی، چمک دمک، روپ رنگ کا کیا پوچھنا؟ لیکن ان غلمان کے حسین چہرے انہیں بھی ماند کر دیتے ہیں اور جگہ یہ مضمون ان الفاظ میں ادا کیا گیا ہے «يَطُوفُ عَلَيْهِمْ وِلْدَانٌ مُّخَلَّدُونَ» * «بِأَكْوَابٍ وَأَبَارِيقَ وَكَأْسٍ مِّن مَّعِينٍ» [56-الواقعة:18،17] ‏‏‏‏ یعنی ہمیشہ نوعمر اور کمسن رہنے والے بچے آبخورے آفتابے اور ایسی شراب صاف کے جام کہ جن کے پینے سے نہ سر میں درد ہو، نہ بہکیں اور جس قسم کا میوہ یہ پسند کریں اور جس پرند کا گوشت یہ چاہیں ان کے پاس باربار لانے کے لیے چاروں طرف کمربستہ چل رہے ہیں اس دور شراب کے وقت آپس میں گھل مل کر طرح طرح کی باتیں کریں گے، دنیا کے احوال یاد آئیں گے، کہیں گے کہ ہم دنیا میں جب اپنے والوں میں تھے، تو اپنے رب کے آج کے دن کے عذاب سے سخت لرزاں و ترساں تھے، الحمداللہ رب نے ہم پر خاص احسان کیا اور ہمارے خوف کی چیز سے ہمیں امن دیا، ہم اسی سے دعائیں اور التجائیں کرتے رہے، اس نے ہماری دعائیں قبول فرمائیں اور ہمارا قول پورا کر دیا یقیناً وہ بہت ہی نیک سلوک اور رحم والا ہے۔ مسند بزار میں ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جنتی اپنے دوستوں سے ملنا چاہے گا تو ادھر دوست کے دل میں بھی یہی خواہش پیدا ہو گی اس کا تخت اڑے گا اور راستہ میں دونوں مل جائیں گے، اپنے اپنے تختوں پر آرام سے بیٹھے ہوئے باتیں کرنے لگیں گے، دنیا کے ذکر کو چھیڑیں گے اور کہیں گے کہ فلاں دن فلاں جگہ ہم نے اپنی بخشش کی دعا مانگی تھی اللہ نے اسے قبول فرمایا }۔ [مسند بزار:3553:ضعیف] ‏‏‏‏ اس حدیث کی سند کمزور ہے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے جب اس آیت کی تلاوت کی تو یہ دعا پڑھی «اللَّهُمَّ مُنَّ عَلَيْنَا وَقِنَا عَذَاب السَّمُوم إِنَّك أَنْتَ الْبَرّ الرَّحِيم» اعمش راوی حدیث سے پوچھا گیا کہ اس آیت کو پڑھ کر یہ دعا ام المؤمنین نے نماز میں مانگی تھی؟ جواب دیا ہاں۔
26۔ 1 یعنی اللہ کے عذاب سے۔ اس لئے اس عذاب سے بچنے کا اہتمام بھی کرتے رہے، اس لئے کہ انسان کو جس چیز کا ڈر ہوتا ہے، اس سے بچنے کے لئے وہ تگ و دو کرتا ہے۔
(آیت 26) {قَالُوْۤا اِنَّا كُنَّا قَبْلُ فِيْۤ اَهْلِنَا مُشْفِقِيْنَ:} یعنی وہ کہیں گے کہ ہم اس سے پہلے دنیا میں اپنے گھر والوں میں رہتے ہوئے ہر قسم کی آسائشوں کے باوجود ڈرتے رہتے تھے کہ کہیں ہم سے اللہ کی نافرمانی نہ ہو جائے، ہماری نیکیاں نامقبول نہ ہو جائیں اور ہمارے اعمال کی شامت سے ہمارا خاتمہ خراب نہ ہو جائے۔ {” فِيْۤ اَهْلِنَا “} (اپنے گھر والوں میں) کے مفہوم میں یہ بھی شامل ہے کہ ہم اپنے گھر والوں کے بارے میں ڈرتے رہتے تھے کہ وہ اللہ کے نافرمان نہ بن جائیں اور نافرمانی کے نتیجے میں جہنم کا ایندھن نہ بن جائیں، اور یہ بھی کہ ان کی وجہ سے کہیں ہم راہِ راست سے نہ بہک جائیں، ان کی خاطر کمائی کرتے کرتے حرام کاموں کا ارتکاب نہ کر بیٹھیں، انھیں نمازی اور رب تعالیٰ کا فرماں بردار بنانے کی کوشش میں کوتاہی نہ کر بیٹھیں اور ان کی محبت اللہ کی اطاعت پر غالب نہ آ جائے۔
فَمَنَّ اللّٰہُ عَلَیۡنَا وَ وَقٰىنَا عَذَابَ السَّمُوۡمِ ﴿۲۷﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
آخر کار اللہ نے ہم پر فضل فرمایا اور ہمیں جھلسا دینے والی ہوا کے عذاب سے بچا لیا
مولانا محمد جوناگڑھی
پس اللہ تعالیٰ نے ہم پر بڑا احسان کیا اور ہمیں تیز وتند گرم ہواؤں کے عذاب سے بچا لیا
احمد رضا خان بریلوی
تو اللہ نے ہم پر احسان کیا اور ہمیں لُو کے عذاب سے بچالیا
علامہ محمد حسین نجفی
پس اللہ نے ہم پر (اپنا) فضل و کرم فرمایا اور ہمیں گرم لو کے عذاب سے بچا لیا۔
عبدالسلام بن محمد
پھر اللہ نے ہم پر احسان کیا اور ہمیں زہریلی لو کے عذاب سے بچا لیا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
ان کے غلام کمسن نوعمر بچے جو حسن و خوبی میں ایسے ہیں جیسے مروارید ہوں اور وہ بھی ڈبے میں بند رکھے گئے ہوں، کسی کا ہاتھ بھی نہ لگا ہو اور ابھی ابھی تازے تازے نکالے ہوں، ان کی آبداری، صفائی، چمک دمک، روپ رنگ کا کیا پوچھنا؟ لیکن ان غلمان کے حسین چہرے انہیں بھی ماند کر دیتے ہیں اور جگہ یہ مضمون ان الفاظ میں ادا کیا گیا ہے «يَطُوفُ عَلَيْهِمْ وِلْدَانٌ مُّخَلَّدُونَ» * «بِأَكْوَابٍ وَأَبَارِيقَ وَكَأْسٍ مِّن مَّعِينٍ» [56-الواقعة:18،17] ‏‏‏‏ یعنی ہمیشہ نوعمر اور کمسن رہنے والے بچے آبخورے آفتابے اور ایسی شراب صاف کے جام کہ جن کے پینے سے نہ سر میں درد ہو، نہ بہکیں اور جس قسم کا میوہ یہ پسند کریں اور جس پرند کا گوشت یہ چاہیں ان کے پاس باربار لانے کے لیے چاروں طرف کمربستہ چل رہے ہیں اس دور شراب کے وقت آپس میں گھل مل کر طرح طرح کی باتیں کریں گے، دنیا کے احوال یاد آئیں گے، کہیں گے کہ ہم دنیا میں جب اپنے والوں میں تھے، تو اپنے رب کے آج کے دن کے عذاب سے سخت لرزاں و ترساں تھے، الحمداللہ رب نے ہم پر خاص احسان کیا اور ہمارے خوف کی چیز سے ہمیں امن دیا، ہم اسی سے دعائیں اور التجائیں کرتے رہے، اس نے ہماری دعائیں قبول فرمائیں اور ہمارا قول پورا کر دیا یقیناً وہ بہت ہی نیک سلوک اور رحم والا ہے۔ مسند بزار میں ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جنتی اپنے دوستوں سے ملنا چاہے گا تو ادھر دوست کے دل میں بھی یہی خواہش پیدا ہو گی اس کا تخت اڑے گا اور راستہ میں دونوں مل جائیں گے، اپنے اپنے تختوں پر آرام سے بیٹھے ہوئے باتیں کرنے لگیں گے، دنیا کے ذکر کو چھیڑیں گے اور کہیں گے کہ فلاں دن فلاں جگہ ہم نے اپنی بخشش کی دعا مانگی تھی اللہ نے اسے قبول فرمایا }۔ [مسند بزار:3553:ضعیف] ‏‏‏‏ اس حدیث کی سند کمزور ہے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے جب اس آیت کی تلاوت کی تو یہ دعا پڑھی «اللَّهُمَّ مُنَّ عَلَيْنَا وَقِنَا عَذَاب السَّمُوم إِنَّك أَنْتَ الْبَرّ الرَّحِيم» اعمش راوی حدیث سے پوچھا گیا کہ اس آیت کو پڑھ کر یہ دعا ام المؤمنین نے نماز میں مانگی تھی؟ جواب دیا ہاں۔
27۔ 1 سَمُوم لو، جھلس ڈالنے والی گرم ہوا کو کہتے ہیں، جہنم کے ناموں میں سے ایک نام بھی ہے۔
(آیت 27) {فَمَنَّ اللّٰهُ عَلَيْنَا وَ وَقٰىنَا عَذَابَ السَّمُوْمِ:السَّمُوْمِ”سَمٌّ“} (زہر) سے مشتق ہے، زہریلی لو۔ اس کی جمع {”سَمَائِمُ“} آتی ہے۔ بعض کہتے ہیں یہ {” مَسَامُّ “} سے ہے جو جسم کے ہر مسام میں داخل ہو جائے۔ یعنی ہم تو شدید خائف تھے کہ اپنی کوتاہیوں اور نافرمانیوں کی وجہ سے جہنم میں نہ پھینک دیے جائیں، مگر اللہ تعالیٰ نے ہم پر احسان فرمایا اور ہماری خطائیں معاف فرما کر ہمیں جہنم کی زہریلی لو سے بچا لیا۔
اِنَّا کُنَّا مِنۡ قَبۡلُ نَدۡعُوۡہُ ؕ اِنَّہٗ ہُوَ الۡبَرُّ الرَّحِیۡمُ ﴿٪۲۸﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
ہم پچھلی زندگی میں اُسی سے دعائیں مانگتے تھے، وہ واقعی بڑا ہی محسن اور رحیم ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
ہم اس سے پہلے ہی اس کی عبادت کیا کرتے تھے، بیشک وه محسن اور مہربان ہے
احمد رضا خان بریلوی
بیشک ہم نے اپنی پہلی زندگی میں اس کی عبادت کی تھی، بیشک وہی احسان فرمانے والا مہربان ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
بےشک ہم اس سے پہلے (دنیا میں) بھی اسی سے دعا مانگا کرتے تھے یقیناً وہ بڑا احسان کرنے والا، بڑا رحم کرنے والا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
بے شک ہم اس سے پہلے ہی اسے پکارا کرتے تھے، بے شک وہی تو بہت احسان کرنے والا، نہایت رحم والا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
ان کے غلام کمسن نوعمر بچے جو حسن و خوبی میں ایسے ہیں جیسے مروارید ہوں اور وہ بھی ڈبے میں بند رکھے گئے ہوں، کسی کا ہاتھ بھی نہ لگا ہو اور ابھی ابھی تازے تازے نکالے ہوں، ان کی آبداری، صفائی، چمک دمک، روپ رنگ کا کیا پوچھنا؟ لیکن ان غلمان کے حسین چہرے انہیں بھی ماند کر دیتے ہیں اور جگہ یہ مضمون ان الفاظ میں ادا کیا گیا ہے «يَطُوفُ عَلَيْهِمْ وِلْدَانٌ مُّخَلَّدُونَ» * «بِأَكْوَابٍ وَأَبَارِيقَ وَكَأْسٍ مِّن مَّعِينٍ» [56-الواقعة:18،17] ‏‏‏‏ یعنی ہمیشہ نوعمر اور کمسن رہنے والے بچے آبخورے آفتابے اور ایسی شراب صاف کے جام کہ جن کے پینے سے نہ سر میں درد ہو، نہ بہکیں اور جس قسم کا میوہ یہ پسند کریں اور جس پرند کا گوشت یہ چاہیں ان کے پاس باربار لانے کے لیے چاروں طرف کمربستہ چل رہے ہیں اس دور شراب کے وقت آپس میں گھل مل کر طرح طرح کی باتیں کریں گے، دنیا کے احوال یاد آئیں گے، کہیں گے کہ ہم دنیا میں جب اپنے والوں میں تھے، تو اپنے رب کے آج کے دن کے عذاب سے سخت لرزاں و ترساں تھے، الحمداللہ رب نے ہم پر خاص احسان کیا اور ہمارے خوف کی چیز سے ہمیں امن دیا، ہم اسی سے دعائیں اور التجائیں کرتے رہے، اس نے ہماری دعائیں قبول فرمائیں اور ہمارا قول پورا کر دیا یقیناً وہ بہت ہی نیک سلوک اور رحم والا ہے۔ مسند بزار میں ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جنتی اپنے دوستوں سے ملنا چاہے گا تو ادھر دوست کے دل میں بھی یہی خواہش پیدا ہو گی اس کا تخت اڑے گا اور راستہ میں دونوں مل جائیں گے، اپنے اپنے تختوں پر آرام سے بیٹھے ہوئے باتیں کرنے لگیں گے، دنیا کے ذکر کو چھیڑیں گے اور کہیں گے کہ فلاں دن فلاں جگہ ہم نے اپنی بخشش کی دعا مانگی تھی اللہ نے اسے قبول فرمایا }۔ [مسند بزار:3553:ضعیف] ‏‏‏‏ اس حدیث کی سند کمزور ہے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے جب اس آیت کی تلاوت کی تو یہ دعا پڑھی «اللَّهُمَّ مُنَّ عَلَيْنَا وَقِنَا عَذَاب السَّمُوم إِنَّك أَنْتَ الْبَرّ الرَّحِيم» اعمش راوی حدیث سے پوچھا گیا کہ اس آیت کو پڑھ کر یہ دعا ام المؤمنین نے نماز میں مانگی تھی؟ جواب دیا ہاں۔
28۔ 1 یعنی صرف اسی ایک کی عبادت کرتے تھے، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہراتے تھے، یا یہ مطلب ہے کہ اس سے عذاب جہنم سے بچنے کے لیے دعا کرتے تھے۔
(آیت 28) ➊ { اِنَّا كُنَّا مِنْ قَبْلُ نَدْعُوْهُ:} یعنی ہم اس سے پہلے دنیا میں ڈرتے تھے، مگر ڈرنے کے باوجود اس کی رحمت سے کبھی مایوس نہیں ہوئے، بلکہ اپنی امیدیں اسی سے وابستہ رکھیں۔ اس لیے اسی کو پکارتے رہے، اسی سے دعا کرتے رہے اور اسی سے جنت میں داخلے اور جہنم سے پناہ کی درخواست کرتے رہے۔ ➋ { اِنَّهٗ هُوَ الْبَرُّ الرَّحِيْمُ: ”إِنَّ“} تعلیل کے لیے آتا ہے، یعنی اس نے ہماری خطائیں معاف فرمائیں، ہمیں جہنم کی زہریلی لو سے بچایا، ہمیں جنت کی نعمتیں عطا کیں اور ہمارے پیاروں کو ہمارے ساتھ یکجا کر دیا، اس لیے کہ وہی ہے جو بے حد احسان کرنے والا اور نہایت رحم والا ہے، ہمیں جو کچھ عطا ہوا وہ محض اسی کے احسان اور رحم کا نتیجہ ہے۔
فَذَکِّرۡ فَمَاۤ اَنۡتَ بِنِعۡمَتِ رَبِّکَ بِکَاہِنٍ وَّ لَا مَجۡنُوۡنٍ ﴿ؕ۲۹﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
پس اے نبیؐ، تم نصیحت کیے جاؤ، اپنے رب کے فضل سے نہ تم کاہن ہو اور نہ مجنون
مولانا محمد جوناگڑھی
تو آپ سمجھاتے رہیں کیونکہ آپ اپنے رب کے فضل سے نہ تو کاہن ہیں نہ دیوانہ
احمد رضا خان بریلوی
تو اے محبوب! تم نصیحت فرماؤ کہ تم اپنے رب کے فضل سے نہ کاہن ہو نہ مجنون،
علامہ محمد حسین نجفی
آپ(ص) یاددہانی کرتے رہیے! کہ آپ اپنے پروردگار کے فضل و کرم سے نہ کاہن ہیں اور نہ مجنون۔
عبدالسلام بن محمد
پس نصیحت کر، کیونکہ تو اپنے رب کی مہربانی سے ہرگز نہ کسی طرح کاہن ہے اور نہ کوئی دیوانہ۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
کاہن کی پہچان ٭٭

اللہ تعالیٰ اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیتا ہے کہ اللہ کی رسالت اللہ کے بندوں تک پہنچاتے رہیں، ساتھ ہی بدکاروں نے جو بہتان آپ پر باندھ رکھے تھے ان سے آپ کی صفائی کرتا ہے۔ «کاہن» اسے کہتے ہیں جس کے پاس کبھی کبھی کوئی خبر جن پہنچا دیتا ہے تو ارشاد ہوا کہ دین حق کی تبلیغ کیجئے۔ «الحمداللہ» آپ نہ تو جنات والے ہیں، نہ جنوں والے۔ پھر کافروں کا قول نقل فرماتا ہے کہ یہ کہتے ہیں کہ آپ (‏‏‏‏صلی اللہ علیہ وسلم ) ایک شاعر ہیں انہیں کہنے دو جو کہہ رہے ہیں ان کے انتقال کے بعد ان کی سی کون کہے گا؟ ان کا یہ دین ان کے ساتھ ہی فنا ہو جائے گا، پھر اپنے نبی کو اس کا جواب دینے کو فرماتا ہے کہ اچھا ادھر تم انتظار کرتے ہو، ادھر میں بھی منتظر ہوں، دنیا دیکھ لے گی کہ انجام کار غلبہ اور غیر فانی کامیابی کسے حاصل ہوتی ہے؟ دارالندوہ میں قریش کا مشورہ ہوا کہ آپ (‏‏‏‏صلی اللہ علیہ وسلم ) بھی مثل اور شاعروں کے ایک شعر گو ہیں انہیں قید کر لو، وہیں یہ ہلاک ہو جائیں گے جس طرح زہیر اور نابغہ شاعروں کا حشر ہوا۔ اس پر یہ آیتیں اتریں۔

پھر فرماتا ہے کیا ان کی دانائی انہیں یہی سمجھاتی ہے کہ باوجود جاننے کے پھر بھی تیری نسبت غلط افواہیں اڑائیں اور بہتان بازی کریں، حقیقت یہ ہے کہ یہ بڑے سرکش گمراہ اور عناد رکھنے والے لوگ ہیں، دشمنی میں آ کر واقعات سے چشم پوشی کر کے آپ کو مفت میں برا بھلا کہتے ہیں، کیا یہ کہتے ہیں کہ اس قرآن کو محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے خود بنا لیا ہے؟ فی الواقع ایسا تو نہیں لیکن ان کا کفر ان کے منہ سے یہ غلط اور جھوٹ بات نکلوا رہا ہے اگر یہ سچے ہیں تو پھر یہ خود بھی مل جل کر ہی ایک ایسی بات بنا کر دکھا دیں، یہ کفار قریش تو کیا؟ اگر ان کے ساتھ روئے زمین کے جنات و انسان مل جائیں جب بھی اس قرآن کی نظیر سے وہ سب عاجز رہیں گے اور پورا قرآن تو بڑی چیز ہے اس جیسی دس سورتیں بلکہ ایک سورت بھی قیامت تک بنا کر نہیں لا سکتے۔
29۔ 1 اس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی دی جا رہی ہے کہ آپ وعظ و تبلیغ اور نصیحت کا کام کرتے رہیں اور یہ آپ کی بابت جو کچھ کہتے رہتے ہیں، ان کی طرف کان نہ دھریں، اس لئے کہ آپ اللہ کے فضل سے کاہن ہیں نہ دیوانہ (جیسا کہ یہ کہتے ہیں) بلکہ آپ پر باقاعدہ ہماری طرف سے وحی آتی ہے جو کہ کاہن پر نہیں آتی آپ جو کلام لوگوں کو سناتے ہیں وہ دانش و بصیرت کا آئینہ دار ہوتا ہے ایک دیوانے سے اس طرح گفتگو کیوں کر ممکن ہے۔
(آیت 29) ➊ {فَذَكِّرْ فَمَاۤ اَنْتَ بِنِعْمَتِ رَبِّكَ بِكَاهِنٍ وَّ لَا مَجْنُوْنٍ:} ”كاہن“ وہ شخص جو شیاطین سے تعلق رکھتا ہے اور ان سے سن کر غیب کی خبریں دیتا ہے، جن میں ایک آدھ وہ سچی خبر بھی ہوتی ہے جو انھوں نے آسمان کے نیچے فرشتوں کی باہمی گفتگو سے چُرائی ہوتی ہے، پھر اس کے ساتھ سو باتیں جھوٹی ملا کر اپنے دوستوں کو بتاتے ہیں۔ ➋ سورت کے شروع سے قیامت، جزا و سزا اور جنت و جہنم کی تفصیل اور دلائل ذکر کرنے کے بعد فرمایا: {” فَذَكِّرْ “} (پس نصیحت کر) یعنی جب ہم نے یہ سب کچھ آپ کو وحی کے ذریعے سے بتا دیا تو اب آپ کی ذمہ داری ہے کہ اس کے ساتھ تمام لوگوں کو نصیحت کریں اور کفار و مشرکین کی بے ہودہ باتوں اور تہمتوں کی پروا نہ کریں۔ وہ آپ کو کاہن کہیں یا مجنون، آپ اللہ کے فضل سے کسی طرح بھی نہ کاہن ہیں نہ مجنون۔ کہانت یا دیوانگی کی کوئی بھی بات آپ میں ہرگز نہیں پائی جاتی۔ {” فَمَاۤ اَنْتَ بِنِعْمَتِ رَبِّكَ بِكَاهِنٍ “} میں {”مَا “} نافیہ کے بعد ”باء“ نفی کی تاکید کے لیے ہے اور {” بِكَاهِنٍ “} پر تنوین تنکیر کے لیے ہے، اس لیے ترجمہ کیا گیا ہے ”تو اپنے رب کی مہربانی سے ہرگز نہ کسی طرح کاہن ہے اور نہ کوئی دیوانہ۔“ ➌ اللہ تعالیٰ نے اور مقامات پر بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہانت اور جنون کی نفی فرمائی ہے۔ دیکھیے سورۂ حاقہ (۴۱، ۴۲)، قلم (۲) اور سورۂ تکویر (۲۲)۔ سورۂ شعراء میں یہ بات کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کاہن نہیں اور یہ کہ کاہن کس طرح کے لوگ ہوتے ہیں، تفصیل سے گزر چکی ہے، دیکھیے سورۂ شعراء کی آیات (۲۱۰ تا ۲۲۳) اور ان کی تفسیر۔
اَمۡ یَقُوۡلُوۡنَ شَاعِرٌ نَّتَرَبَّصُ بِہٖ رَیۡبَ الۡمَنُوۡنِ ﴿۳۰﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
کیا یہ لوگ کہتے ہیں کہ یہ شخص شاعر ہے جس کے حق میں ہم گردش ایام کا انتظار کر رہے ہیں؟
مولانا محمد جوناگڑھی
کیا کافر یوں کہتے ہیں کہ یہ شاعر ہے ہم اس پر زمانے کے حوادث (یعنی موت) کا انتظار کر رہے ہیں
احمد رضا خان بریلوی
یا کہتے ہیں یہ شاعر ہیں ہمیں ان پر حوادثِ زمانہ کا انتظارہے
علامہ محمد حسین نجفی
کیا وہ یہ کہتے ہیں کہ یہ ایک شاعر ہیں (اور) ہم ان کے بارے میں گردشِ زمانہ کا انتظار کر رہے ہیں؟
عبدالسلام بن محمد
یا وہ کہتے ہیں کہ یہ ایک شاعر ہے جس پر ہم زمانے کے حوادث کا انتظار کرتے ہیں؟
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
کاہن کی پہچان ٭٭

اللہ تعالیٰ اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیتا ہے کہ اللہ کی رسالت اللہ کے بندوں تک پہنچاتے رہیں، ساتھ ہی بدکاروں نے جو بہتان آپ پر باندھ رکھے تھے ان سے آپ کی صفائی کرتا ہے۔ «کاہن» اسے کہتے ہیں جس کے پاس کبھی کبھی کوئی خبر جن پہنچا دیتا ہے تو ارشاد ہوا کہ دین حق کی تبلیغ کیجئے۔ «الحمداللہ» آپ نہ تو جنات والے ہیں، نہ جنوں والے۔ پھر کافروں کا قول نقل فرماتا ہے کہ یہ کہتے ہیں کہ آپ (‏‏‏‏صلی اللہ علیہ وسلم ) ایک شاعر ہیں انہیں کہنے دو جو کہہ رہے ہیں ان کے انتقال کے بعد ان کی سی کون کہے گا؟ ان کا یہ دین ان کے ساتھ ہی فنا ہو جائے گا، پھر اپنے نبی کو اس کا جواب دینے کو فرماتا ہے کہ اچھا ادھر تم انتظار کرتے ہو، ادھر میں بھی منتظر ہوں، دنیا دیکھ لے گی کہ انجام کار غلبہ اور غیر فانی کامیابی کسے حاصل ہوتی ہے؟ دارالندوہ میں قریش کا مشورہ ہوا کہ آپ (‏‏‏‏صلی اللہ علیہ وسلم ) بھی مثل اور شاعروں کے ایک شعر گو ہیں انہیں قید کر لو، وہیں یہ ہلاک ہو جائیں گے جس طرح زہیر اور نابغہ شاعروں کا حشر ہوا۔ اس پر یہ آیتیں اتریں۔

پھر فرماتا ہے کیا ان کی دانائی انہیں یہی سمجھاتی ہے کہ باوجود جاننے کے پھر بھی تیری نسبت غلط افواہیں اڑائیں اور بہتان بازی کریں، حقیقت یہ ہے کہ یہ بڑے سرکش گمراہ اور عناد رکھنے والے لوگ ہیں، دشمنی میں آ کر واقعات سے چشم پوشی کر کے آپ کو مفت میں برا بھلا کہتے ہیں، کیا یہ کہتے ہیں کہ اس قرآن کو محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے خود بنا لیا ہے؟ فی الواقع ایسا تو نہیں لیکن ان کا کفر ان کے منہ سے یہ غلط اور جھوٹ بات نکلوا رہا ہے اگر یہ سچے ہیں تو پھر یہ خود بھی مل جل کر ہی ایک ایسی بات بنا کر دکھا دیں، یہ کفار قریش تو کیا؟ اگر ان کے ساتھ روئے زمین کے جنات و انسان مل جائیں جب بھی اس قرآن کی نظیر سے وہ سب عاجز رہیں گے اور پورا قرآن تو بڑی چیز ہے اس جیسی دس سورتیں بلکہ ایک سورت بھی قیامت تک بنا کر نہیں لا سکتے۔
30۔ 1 رَیْب کے معنی ہیں حوادث، موت کے ناموں سے ایک نام۔ مطلب ہے قریش مکہ اس انتظار میں ہیں کہ زمانے کے حوادث سے شاید اس (محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو موت آجائے اور ہمیں چین نصیب ہوجائے، جو اس کی دعوت توحید نے ہم سے چھین لیا ہے۔
(آیت 30) {اَمْ يَقُوْلُوْنَ شَاعِرٌ نَّتَرَبَّصُ بِهٖ رَيْبَ الْمَنُوْنِ: ”تَرَبَّصَ يَتَرَبَّصُ“} (تفعّل) ”آنے والے کسی شر یا خیر کا انتظار کرنا۔“ {” الْمَنُوْنِ”مَنَّ يَمُنُّ مَنًّا“} (ن) کا معنی ”قطع کرنا“ ہے۔ {” الْمَنُوْنِ “} بروزن {”فَعُوْلٌ“} (کاٹنے والا) موت کو کہتے ہیں، کیونکہ وہ زندگی کی رسی کو کاٹ دیتی ہے، اور زمانے کو بھی، کیونکہ وہ بھی زندگی کے ایام کو کاٹتا چلا جاتا ہے۔ {” رَيْبَ “} کا اصل معنی شک اور بے چینی ہے، لیکن جب اس کا استعمال زمانے کے ساتھ ہو تو مراد زمانے کے حوادث ہوتے ہیں، کیونکہ وہ آدمی کو بے چین رکھتے ہیں۔ یہاں سے اللہ تعالیٰ نے انکار اور تعجب کے انداز میں ان مشرکین کی جہالت کی باتوں کا پندرہ (۱۵) دفعہ لفظ {” اَمْ “} کے ساتھ ذکر فرمایا ہے اور ہر {” اَمْ “} کے بعد سوال کرتے ہوئے ان پر الزام قائم کیا ہے، جس کا جواب ان میں سے کسی کے پاس نہیں۔ چنانچہ اس آیت میں فرمایا: «اَمْ يَقُوْلُوْنَ شَاعِرٌ» ‏‏‏‏ ”یا وہ کہتے ہیں کہ یہ شاعر ہے۔“ کفار کا یہ قول نقل فرما کر تردید کی ضرورت نہیں سمجھی، کیونکہ قرآن مجید کا وجود ہی اس کی تردید کے لیے کافی ہے۔ البتہ ان کی اس بات کا جواب دیا ہے کہ ہم اس پر زمانے کے حوادث کا انتظار کرتے ہیں کہ اس پر کوئی آفت آ جائے، یا اس کی موت کا وقت آ جائے، جس کے ساتھ اس کی دعوت کا سلسلہ ختم ہو جائے۔
قُلۡ تَرَبَّصُوۡا فَاِنِّیۡ مَعَکُمۡ مِّنَ الۡمُتَرَبِّصِیۡنَ ﴿ؕ۳۱﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اِن سے کہو اچھا انتظار کرو، میں بھی تمہارے ساتھ انتظار کرتا ہوں
مولانا محمد جوناگڑھی
کہہ دیجئے! تم منتظر رہو میں بھی تمہارے ساتھ انتظار کرنے والوں میں ہوں
احمد رضا خان بریلوی
تم فرماؤ انتظار کیے جاؤ میں بھی تمہارے انتظار میں ہوں
علامہ محمد حسین نجفی
آپ کہئے! کہ تم انتظار کرو میں بھی تمہارے ساتھ انتظار کرنے والوں میں سے ہوں۔
عبدالسلام بن محمد
کہہ دے انتظار کرو، پس بے شک میں (بھی) تمھارے ساتھ انتظار کرنے والوں سے ہوں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
کاہن کی پہچان ٭٭

اللہ تعالیٰ اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیتا ہے کہ اللہ کی رسالت اللہ کے بندوں تک پہنچاتے رہیں، ساتھ ہی بدکاروں نے جو بہتان آپ پر باندھ رکھے تھے ان سے آپ کی صفائی کرتا ہے۔ «کاہن» اسے کہتے ہیں جس کے پاس کبھی کبھی کوئی خبر جن پہنچا دیتا ہے تو ارشاد ہوا کہ دین حق کی تبلیغ کیجئے۔ «الحمداللہ» آپ نہ تو جنات والے ہیں، نہ جنوں والے۔ پھر کافروں کا قول نقل فرماتا ہے کہ یہ کہتے ہیں کہ آپ (‏‏‏‏صلی اللہ علیہ وسلم ) ایک شاعر ہیں انہیں کہنے دو جو کہہ رہے ہیں ان کے انتقال کے بعد ان کی سی کون کہے گا؟ ان کا یہ دین ان کے ساتھ ہی فنا ہو جائے گا، پھر اپنے نبی کو اس کا جواب دینے کو فرماتا ہے کہ اچھا ادھر تم انتظار کرتے ہو، ادھر میں بھی منتظر ہوں، دنیا دیکھ لے گی کہ انجام کار غلبہ اور غیر فانی کامیابی کسے حاصل ہوتی ہے؟ دارالندوہ میں قریش کا مشورہ ہوا کہ آپ (‏‏‏‏صلی اللہ علیہ وسلم ) بھی مثل اور شاعروں کے ایک شعر گو ہیں انہیں قید کر لو، وہیں یہ ہلاک ہو جائیں گے جس طرح زہیر اور نابغہ شاعروں کا حشر ہوا۔ اس پر یہ آیتیں اتریں۔

پھر فرماتا ہے کیا ان کی دانائی انہیں یہی سمجھاتی ہے کہ باوجود جاننے کے پھر بھی تیری نسبت غلط افواہیں اڑائیں اور بہتان بازی کریں، حقیقت یہ ہے کہ یہ بڑے سرکش گمراہ اور عناد رکھنے والے لوگ ہیں، دشمنی میں آ کر واقعات سے چشم پوشی کر کے آپ کو مفت میں برا بھلا کہتے ہیں، کیا یہ کہتے ہیں کہ اس قرآن کو محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے خود بنا لیا ہے؟ فی الواقع ایسا تو نہیں لیکن ان کا کفر ان کے منہ سے یہ غلط اور جھوٹ بات نکلوا رہا ہے اگر یہ سچے ہیں تو پھر یہ خود بھی مل جل کر ہی ایک ایسی بات بنا کر دکھا دیں، یہ کفار قریش تو کیا؟ اگر ان کے ساتھ روئے زمین کے جنات و انسان مل جائیں جب بھی اس قرآن کی نظیر سے وہ سب عاجز رہیں گے اور پورا قرآن تو بڑی چیز ہے اس جیسی دس سورتیں بلکہ ایک سورت بھی قیامت تک بنا کر نہیں لا سکتے۔
31۔ 1 یعنی دیکھو! موت پہلے کسے آتی ہے؟ اور ہلاکت کس کا مقدر ہے۔
(آیت 31) {قُلْ تَرَبَّصُوْا فَاِنِّيْ مَعَكُمْ مِّنَ الْمُتَرَبِّصِيْنَ:} اس کا یہ مطلب نہیں کہ انتظار کر کے دیکھ لو، تم ہی مرو گے میں نہیں مروں گا، بلکہ مطلب یہ ہے کہ تم میرا انجام دیکھو میں تمھارا انجام دیکھتا ہوں۔ تمھارا انجام ناکامی اور ہلاکت ہے، میرا انجام کامیابی اور نجات ہے۔
اَمۡ تَاۡمُرُہُمۡ اَحۡلَامُہُمۡ بِہٰذَاۤ اَمۡ ہُمۡ قَوۡمٌ طَاغُوۡنَ ﴿ۚ۳۲﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
کیا اِن کی عقلیں اِنہیں ایسی ہی باتیں کرنے کے لیے کہتی ہیں؟ یا در حقیقت یہ عناد میں حد سے گزرے ہوئے لوگ ہیں؟
مولانا محمد جوناگڑھی
کیا ان کی عقلیں انہیں یہی سکھاتی ہیں؟ یا یہ لوگ ہی سرکش ہیں
احمد رضا خان بریلوی
کیا ان کی عقلیں انہیں یہی بتاتی ہیں یا وہ سرکش لوگ ہیں
علامہ محمد حسین نجفی
کیا ان کی عقلیں ان کو ان (فضول) باتوں کا حُکم دیتی ہیںیا یہ سرکش لوگ ہیں؟
عبدالسلام بن محمد
یا انھیںان کی عقلیں اس بات کا حکم دیتی ہیں، یا وہ خود ہی حد سے گزرنے والے لوگ ہیں؟
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
کاہن کی پہچان ٭٭

اللہ تعالیٰ اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیتا ہے کہ اللہ کی رسالت اللہ کے بندوں تک پہنچاتے رہیں، ساتھ ہی بدکاروں نے جو بہتان آپ پر باندھ رکھے تھے ان سے آپ کی صفائی کرتا ہے۔ «کاہن» اسے کہتے ہیں جس کے پاس کبھی کبھی کوئی خبر جن پہنچا دیتا ہے تو ارشاد ہوا کہ دین حق کی تبلیغ کیجئے۔ «الحمداللہ» آپ نہ تو جنات والے ہیں، نہ جنوں والے۔ پھر کافروں کا قول نقل فرماتا ہے کہ یہ کہتے ہیں کہ آپ (‏‏‏‏صلی اللہ علیہ وسلم ) ایک شاعر ہیں انہیں کہنے دو جو کہہ رہے ہیں ان کے انتقال کے بعد ان کی سی کون کہے گا؟ ان کا یہ دین ان کے ساتھ ہی فنا ہو جائے گا، پھر اپنے نبی کو اس کا جواب دینے کو فرماتا ہے کہ اچھا ادھر تم انتظار کرتے ہو، ادھر میں بھی منتظر ہوں، دنیا دیکھ لے گی کہ انجام کار غلبہ اور غیر فانی کامیابی کسے حاصل ہوتی ہے؟ دارالندوہ میں قریش کا مشورہ ہوا کہ آپ (‏‏‏‏صلی اللہ علیہ وسلم ) بھی مثل اور شاعروں کے ایک شعر گو ہیں انہیں قید کر لو، وہیں یہ ہلاک ہو جائیں گے جس طرح زہیر اور نابغہ شاعروں کا حشر ہوا۔ اس پر یہ آیتیں اتریں۔

پھر فرماتا ہے کیا ان کی دانائی انہیں یہی سمجھاتی ہے کہ باوجود جاننے کے پھر بھی تیری نسبت غلط افواہیں اڑائیں اور بہتان بازی کریں، حقیقت یہ ہے کہ یہ بڑے سرکش گمراہ اور عناد رکھنے والے لوگ ہیں، دشمنی میں آ کر واقعات سے چشم پوشی کر کے آپ کو مفت میں برا بھلا کہتے ہیں، کیا یہ کہتے ہیں کہ اس قرآن کو محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے خود بنا لیا ہے؟ فی الواقع ایسا تو نہیں لیکن ان کا کفر ان کے منہ سے یہ غلط اور جھوٹ بات نکلوا رہا ہے اگر یہ سچے ہیں تو پھر یہ خود بھی مل جل کر ہی ایک ایسی بات بنا کر دکھا دیں، یہ کفار قریش تو کیا؟ اگر ان کے ساتھ روئے زمین کے جنات و انسان مل جائیں جب بھی اس قرآن کی نظیر سے وہ سب عاجز رہیں گے اور پورا قرآن تو بڑی چیز ہے اس جیسی دس سورتیں بلکہ ایک سورت بھی قیامت تک بنا کر نہیں لا سکتے۔
32۔ 1 یعنی یہ تیرے بارے میں جو اناپ شناپ جھوٹ اور غلط سلط باتیں کرتے رہتے ہیں، کیا ان کی عقلیں ان کو یہی سجھاتی ہیں۔ 32۔ 2 نہیں بلکہ یہ سرکش اور گمراہ لوگ ہیں، اور یہی سرکشی اور گمراہی انہیں ان باتوں پر بڑھکاتی ہے۔
(آیت 32) {اَمْ تَاْمُرُهُمْ اَحْلَامُهُمْ بِهٰذَاۤ …: ” أَحْلَامٌ”حِلْمٌ“} کی جمع ہے، جو دراصل غصہ بھڑکنے کے وقت ضبطِ نفس کو کہتے ہیں۔ عقل کو {”حلم“} اس لیے کہتے ہیں کہ ایسے وقت میں وہی طبیعت پر ضبط کا باعث ہوتی ہے۔ مشرکین اپنے آپ کو بڑا عقل مند باور کرواتے تھے، اللہ تعالیٰ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق ان کی تین باتیں ذکر فرمائیں، کاہن، مجنون اور شاعر، پھر ان کی عقلوں پر چوٹ فرمائی کہ کیا کوئی عاقل ایسی بات کہہ سکتا ہے؟ اوّل تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پوری زندگی اور آپ کا لایا ہوا قرآن سب کے سامنے ہے، کوئی شخص جس کی عقل قائم ہو وہ آپ کے متعلق یا قرآن کے متعلق ان میں سے کوئی بات بھی نہیں کہہ سکتا، کیونکہ قرآن کریم کا اور رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا کہانت، جنون یا شعر کے ساتھ کوئی تعلق ہی نہیں۔ دوسری بات یہ ہے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق جو باتیں کہہ رہے ہیں وہ آپس میں اتنی متضاد ہیں کہ ایک شخص میں جمع ہو ہی نہیں سکتیں۔ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ کوئی شخص شاعر بھی ہو، کاہن بھی اور پھر پاگل بھی اور اس کا پیش کیا ہوا کلام شعر بھی ہو، کہانت بھی اور دیوانگی بھی؟ پھر یہ کون سی عقل مندی ہے کہ کسی شاعر یا کاہن یا دیوانے سے اتنے شدید خوف زدہ ہو جاؤ کہ کسی کو اس کی بات نہ سننے دو؟ بھلا آج تک کسی شاعر، کاہن یا دیوانے کی اتنی شدید مخالفت کی گئی ہے جتنی یہ لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی کر رہے ہیں۔ فرمایا، کیا ان کی عقلیں انھیں اس کا حکم دیتی ہیں؟ جواب ذکر نہیں فرمایا، کیونکہ وہ خود بخود ظاہر ہے کہ یہ جو کچھ کہہ رہے ہیں وہ ان کی عقلوں کا فیصلہ نہیں بلکہ بات کچھ اور ہے اور وہ یہ ہے کہ دراصل یہ سرکش لوگ ہیں اور ان کی سرکشی انھیں حق قبول نہیں کرنے دیتی۔
اَمۡ یَقُوۡلُوۡنَ تَقَوَّلَہٗ ۚ بَلۡ لَّا یُؤۡمِنُوۡنَ ﴿ۚ۳۳﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
کیا یہ کہتے ہیں کہ اِس شخص نے یہ قرآن خود گھڑ لیا ہے؟ اصل بات یہ ہے کہ یہ ایمان نہیں لانا چاہتے
مولانا محمد جوناگڑھی
کیا یہ کہتے ہیں کہ اس نبی نے (قرآن) خود گھڑ لیا ہے، واقعہ یہ ہے کہ وه ایمان نہیں ﻻتے
احمد رضا خان بریلوی
یا کہتے ہیں انہوں نے یہ قرآن بنالیا، بلکہ وہ ایمان نہیں رکھتے
علامہ محمد حسین نجفی
یا وہ یہ کہتے ہیں کہ انہوں (رسول(ص)) نے خود قرآن گھڑ لیا ہے بلکہ (اصل بات یہ ہے کہ) وہ ایمان لانا ہی نہیں چاہتے۔
عبدالسلام بن محمد
یا وہ کہتے ہیں کہ اس نے یہ خود گھڑ لیا ہے؟ بلکہ وہ ایمان نہیں لاتے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
کاہن کی پہچان ٭٭

اللہ تعالیٰ اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیتا ہے کہ اللہ کی رسالت اللہ کے بندوں تک پہنچاتے رہیں، ساتھ ہی بدکاروں نے جو بہتان آپ پر باندھ رکھے تھے ان سے آپ کی صفائی کرتا ہے۔ «کاہن» اسے کہتے ہیں جس کے پاس کبھی کبھی کوئی خبر جن پہنچا دیتا ہے تو ارشاد ہوا کہ دین حق کی تبلیغ کیجئے۔ «الحمداللہ» آپ نہ تو جنات والے ہیں، نہ جنوں والے۔ پھر کافروں کا قول نقل فرماتا ہے کہ یہ کہتے ہیں کہ آپ (‏‏‏‏صلی اللہ علیہ وسلم ) ایک شاعر ہیں انہیں کہنے دو جو کہہ رہے ہیں ان کے انتقال کے بعد ان کی سی کون کہے گا؟ ان کا یہ دین ان کے ساتھ ہی فنا ہو جائے گا، پھر اپنے نبی کو اس کا جواب دینے کو فرماتا ہے کہ اچھا ادھر تم انتظار کرتے ہو، ادھر میں بھی منتظر ہوں، دنیا دیکھ لے گی کہ انجام کار غلبہ اور غیر فانی کامیابی کسے حاصل ہوتی ہے؟ دارالندوہ میں قریش کا مشورہ ہوا کہ آپ (‏‏‏‏صلی اللہ علیہ وسلم ) بھی مثل اور شاعروں کے ایک شعر گو ہیں انہیں قید کر لو، وہیں یہ ہلاک ہو جائیں گے جس طرح زہیر اور نابغہ شاعروں کا حشر ہوا۔ اس پر یہ آیتیں اتریں۔

پھر فرماتا ہے کیا ان کی دانائی انہیں یہی سمجھاتی ہے کہ باوجود جاننے کے پھر بھی تیری نسبت غلط افواہیں اڑائیں اور بہتان بازی کریں، حقیقت یہ ہے کہ یہ بڑے سرکش گمراہ اور عناد رکھنے والے لوگ ہیں، دشمنی میں آ کر واقعات سے چشم پوشی کر کے آپ کو مفت میں برا بھلا کہتے ہیں، کیا یہ کہتے ہیں کہ اس قرآن کو محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے خود بنا لیا ہے؟ فی الواقع ایسا تو نہیں لیکن ان کا کفر ان کے منہ سے یہ غلط اور جھوٹ بات نکلوا رہا ہے اگر یہ سچے ہیں تو پھر یہ خود بھی مل جل کر ہی ایک ایسی بات بنا کر دکھا دیں، یہ کفار قریش تو کیا؟ اگر ان کے ساتھ روئے زمین کے جنات و انسان مل جائیں جب بھی اس قرآن کی نظیر سے وہ سب عاجز رہیں گے اور پورا قرآن تو بڑی چیز ہے اس جیسی دس سورتیں بلکہ ایک سورت بھی قیامت تک بنا کر نہیں لا سکتے۔
33۔ 1 یعنی قرآن گھڑنے کے الزام پر ان کو آمادہ کرنے والا بھی ان کا کفر ہی ہے۔
(آیت 33) {اَمْ يَقُوْلُوْنَ تَقَوَّلَهٗ بَلْ لَّا يُؤْمِنُوْنَ: ”تَقَوَّلَ يَتَقَوَّلُ تَقَوُّلًا“} (تفعّل) تکلف سے بات بنانا اور گھڑنا۔ {”فُلَانٌ تَقَوَّلَ عَلٰي فُلَانٍ“} ”فلاں نے فلاں پر جھوٹ گھڑ دیا۔“ یعنی یا وہ قرآن کے متعلق کہتے ہیں کہ نبی نے یہ کلام اپنے پاس سے بنا کر اللہ کے ذمے لگا دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس پر یہ نہیں فرمایا کہ نہیں یہ نبی کا بنایا ہوا نہیں بلکہ اللہ کا کلام ہے، کیونکہ خود ان کا دل جانتا ہے کہ یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنا کلام نہیں ہو سکتا۔ جو لوگ اہلِ زبان ہیں وہ اسے سن کر سمجھ لیتے ہیں کہ یہ انسان کا کلام نہیں ہو سکتا۔ پھر جو شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جانتا ہے وہ سوچ بھی نہیں سکتا کہ نبوت سے پہلے چالیس برس تک کسی انسان پر بھی جھوٹ نہ باندھنے والا شخص اللہ پر جھوٹ باندھ سکتا ہے۔ اس لیے فرمایا: «‏‏‏‏بَلْ لَّا يُؤْمِنُوْنَ» یعنی ان کی مخالفت کی وجہ یہ نہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ قرآن خود گھڑ لیا ہے، بلکہ اصل بات یہ ہے کہ یہ لوگ مانتے ہی نہیں، انھوں نے فیصلہ کر رکھا ہے کہ ہم کسی صورت ایمان نہیں لائیں گے۔
فَلۡیَاۡتُوۡا بِحَدِیۡثٍ مِّثۡلِہٖۤ اِنۡ کَانُوۡا صٰدِقِیۡنَ ﴿ؕ۳۴﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اگر یہ اپنے اِس قول میں سچے ہیں تو اِسی شان کا ایک کلام بنا لائیں
مولانا محمد جوناگڑھی
اچھا اگر یہ سچے ہیں تو بھلا اس جیسی ایک (ہی) بات یہ (بھی) تو لے آئیں
احمد رضا خان بریلوی
تو اس جیسی ایک بات تو لے آئیں اگر سچے ہیں،
علامہ محمد حسین نجفی
اگر وہ سچے ہیں تو پھر ایسا کلاملے آئیں۔
عبدالسلام بن محمد
پس وہ اس جیسی ایک ہی بات بنا کر لے آئیں، اگر سچے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
کاہن کی پہچان ٭٭

اللہ تعالیٰ اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیتا ہے کہ اللہ کی رسالت اللہ کے بندوں تک پہنچاتے رہیں، ساتھ ہی بدکاروں نے جو بہتان آپ پر باندھ رکھے تھے ان سے آپ کی صفائی کرتا ہے۔ «کاہن» اسے کہتے ہیں جس کے پاس کبھی کبھی کوئی خبر جن پہنچا دیتا ہے تو ارشاد ہوا کہ دین حق کی تبلیغ کیجئے۔ «الحمداللہ» آپ نہ تو جنات والے ہیں، نہ جنوں والے۔ پھر کافروں کا قول نقل فرماتا ہے کہ یہ کہتے ہیں کہ آپ (‏‏‏‏صلی اللہ علیہ وسلم ) ایک شاعر ہیں انہیں کہنے دو جو کہہ رہے ہیں ان کے انتقال کے بعد ان کی سی کون کہے گا؟ ان کا یہ دین ان کے ساتھ ہی فنا ہو جائے گا، پھر اپنے نبی کو اس کا جواب دینے کو فرماتا ہے کہ اچھا ادھر تم انتظار کرتے ہو، ادھر میں بھی منتظر ہوں، دنیا دیکھ لے گی کہ انجام کار غلبہ اور غیر فانی کامیابی کسے حاصل ہوتی ہے؟ دارالندوہ میں قریش کا مشورہ ہوا کہ آپ (‏‏‏‏صلی اللہ علیہ وسلم ) بھی مثل اور شاعروں کے ایک شعر گو ہیں انہیں قید کر لو، وہیں یہ ہلاک ہو جائیں گے جس طرح زہیر اور نابغہ شاعروں کا حشر ہوا۔ اس پر یہ آیتیں اتریں۔

پھر فرماتا ہے کیا ان کی دانائی انہیں یہی سمجھاتی ہے کہ باوجود جاننے کے پھر بھی تیری نسبت غلط افواہیں اڑائیں اور بہتان بازی کریں، حقیقت یہ ہے کہ یہ بڑے سرکش گمراہ اور عناد رکھنے والے لوگ ہیں، دشمنی میں آ کر واقعات سے چشم پوشی کر کے آپ کو مفت میں برا بھلا کہتے ہیں، کیا یہ کہتے ہیں کہ اس قرآن کو محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے خود بنا لیا ہے؟ فی الواقع ایسا تو نہیں لیکن ان کا کفر ان کے منہ سے یہ غلط اور جھوٹ بات نکلوا رہا ہے اگر یہ سچے ہیں تو پھر یہ خود بھی مل جل کر ہی ایک ایسی بات بنا کر دکھا دیں، یہ کفار قریش تو کیا؟ اگر ان کے ساتھ روئے زمین کے جنات و انسان مل جائیں جب بھی اس قرآن کی نظیر سے وہ سب عاجز رہیں گے اور پورا قرآن تو بڑی چیز ہے اس جیسی دس سورتیں بلکہ ایک سورت بھی قیامت تک بنا کر نہیں لا سکتے۔
34۔ 1 یعنی اگر یہ اپنے دعوے میں سچے ہیں کہ یہ قرآن محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنا گھڑا ہوا ہے تو پھر یہ بھی اس جیسی کتاب بنا کر پیش کردیں جو نظم، اعجاز، حسن بیان، حقائق کے مسائل میں اس کا مقابلہ کرسکیں۔
(آیت 34) {فَلْيَاْتُوْا بِحَدِيْثٍ مِّثْلِهٖۤ اِنْ كَانُوْا صٰدِقِيْنَ:} یعنی اگر یہ اسے رسول کا اپنے پاس سے گھڑا ہوا انسانی کلام سمجھتے ہیں تو وہ بھی اس جیسی ایک بات ہی بنا کر لے آئیں، اگر سچے ہیں۔ آخر وہ بھی اہلِ زبان ہیں، انھیں اپنی فصاحت و بلاغت پر ناز ہے، پھر انھیں یہ بھی پیش کش ہے کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ ساری کائنات کو ساتھ ملا کر اس جیسی ایک بات بنا کر لے آئیں۔ قرآن مجید کے ان مقامات پر بھی نظر ڈال لیں، سورۂ بقرہ (۲۳)، یونس (۳۸)، ہود (۱۳) اور بنی اسرائیل (۸۸)۔
اَمۡ خُلِقُوۡا مِنۡ غَیۡرِ شَیۡءٍ اَمۡ ہُمُ الۡخٰلِقُوۡنَ ﴿ؕ۳۵﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
کیا یہ کسی خالق کے بغیر خود پیدا ہو گئے ہیں؟ یا یہ خود اپنے خالق ہیں؟
مولانا محمد جوناگڑھی
کیا یہ بغیر کسی (پیدا کرنے والے) کے خود بخود پیدا ہوگئے ہیں؟ یا یہ خود پیدا کرنے والے ہیں؟
احمد رضا خان بریلوی
کیا وہ کسی اصل سے نہ بنائے گئے یا وہی بنانے والے ہیں
علامہ محمد حسین نجفی
آیا وہ بغیر کسی (خالق) کے پیدا کئے گئے ہیںیا وہ خود (اپنے) پیدا کرنے والے ہیں؟
عبدالسلام بن محمد
یا وہ کسی چیز کے بغیر ہی پیدا ہوگئے ہیں، یا وہ (خود) پیدا کرنے والے ہیں؟
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
توحید ربوبیت اور الوہیت ٭٭

توحید ربوبیت اور توحید الوہیت کا ثبوت دیا جا رہا ہے، فرماتا ہے کیا یہ بغیر موجد کے موجود ہو گئے؟ یا یہ خود اپنے موجد آپ ہی ہیں؟ دراصل دونوں باتیں نہیں بلکہ ان کا خالق اللہ تعالیٰ ہے، یہ کچھ نہ تھے اللہ تعالیٰ نے انہیں پیدا کر دیا۔ { سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مغرب کی نماز میں سورۃ والطور کی تلاوت کر رہے تھے میں کان لگائے سن رہا تھا جب آپ آیت «أَمْ عِندَهُمْ خَزَائِنُ رَبِّكَ أَمْ هُمُ الْمُصَيْطِرُونَ» ’ یا کیا ان کے پاس تیرے رب کے خزانے ہیں؟ یا [ان خزانوں کے] ‏‏‏‏ یہ داروغہ ہیں ‘ [52-الطور:37] ‏‏‏‏ تک پہنچے تو میری حالت ہو گئی کہ گویا میرا دل اڑا جا رہا ہے }۔ [صحیح بخاری:4854] ‏‏‏‏ بدری قیدیوں میں ہی یہ سیدنا جبیر رضی اللہ عنہ آئے تھے یہ اس وقت کا واقعہ ہے جب یہ کافر تھے، قرآن پاک کی ان آیتوں کا سننا ان کے لیے اسلام کا ذریعہ بن گیا۔ پھر فرمایا ہے کیا آسمان و زمین کے پیدا کرنے والے یہ ہیں؟ یہ بھی نہیں بلکہ یہ جانتے ہوئے کہ خود ان کا اور کل مخلوقات کا بنانے والا اللہ تعالیٰ ہی ہے پھر بھی یہ اپنی بےیقینی سے باز نہیں آتے، پھر فرماتا ہے کیا دنیا میں تصرف ان کا ہے؟ کیا ہر چیز کے خزانوں کے مالک یہ ہیں؟ یا مخلوق کے محاسب یہ ہیں حقیقت میں ایسا نہیں بلکہ مالک و متصرف صرف اللہ عزوجل ہی ہے وہ قادر ہے جو چاہے کر گزرے۔

پھر فرماتا ہے کیا اونچے آسمانوں تک چڑھ جانے کا کوئی زینہ ان کے پاس ہے؟ اگر یوں ہے تو ان میں سے جو وہاں پہنچ کر کلام سن آتا ہے وہ اپنے اقوال و افعال کی کوئی آسمانی دلیل پیش کرے لیکن نہ وہ پیش کر سکتا ہے، نہ وہ کسی حقانیت کے پابند ہیں، یہ بھی ان کی بڑی بھاری غلطی ہے کہ کہتے ہیں فرشتے اللہ کی لڑکیاں ہیں، کیا مزے کی بات ہے کہ اپنے لیے تو لڑکیاں ناپسند ہیں اور اللہ تعالیٰ کے لیے ثابت کریں، انہیں اگر معلوم ہو جائے کہ ان کے ہاں لڑکی ہوئی تو غم کے مارے چہرہ سیاہ پڑ جائے اور اللہ تعالیٰ کے مقرب فرشتوں کو اس کی لڑکیاں بتائیں، اتنا ہی نہیں بلکہ ان کی پرستش کریں، پس نہایت ڈانٹ ڈپٹ کے ساتھ فرماتا ہے کیا اللہ کی لڑکیاں ہیں اور تمہارے لڑکے ہیں؟ پھر فرمایا کیا تو اپنی تبلیغ پر ان سے کچھ معاوضہ طلب کرتا ہے جو ان پر بھاری پڑے؟ یعنی نبی اللہ، دین اللہ کے پہنچانے پر کسی سے کوئی اجرت نہیں مانگتے پھر انہیں یہ پہنچانا کیوں بھاری پڑتا ہے؟ کیا یہ لوگ غیب دان ہیں؟ نہیں! بلکہ زمین و آسمان کی تمام مخلوق میں سے کوئی بھی غیب کی باتیں نہیں جانتا۔ کیا یہ لوگ دین اللہ اور رسول اللہ کی نسبت بکواس کر کے خود رسول کو مومنوں اور عام لوگوں کو دھوکا دینا چاہتے ہیں؟ یاد رکھو یہی دھوکے باز دھوکے میں رہ جائیں گے اور اخروی عذاب سمیٹیں گے۔ پھر فرمایا کیا اللہ کے سوا ان کے اور معبود ہیں؟ اللہ کی عبادت میں بتوں کو اور دوسری چیزوں کو یہ کیوں شریک کرتے ہیں؟ اللہ تو شرکت سے مبرا، شرک سے پاک اور مشرکوں کے اس فعل سے سخت بیزار ہے۔
35۔ 1 یعنی اگر واقعی ایسا ہے تو پھر کسی کو یہ حق نہیں ہے کہ انہیں کسی بات کا حکم دے یا کسی بات سے منع کرے۔ لیکن جب ایسا نہیں ہے بلکہ انہیں ایک پیدا کرنے والے نے پیدا کیا ہے تو ظاہر ہے اس کا انہیں پیدا کرنے کا ایک خاص مقصد ہے، وہ انہیں پیدا کر کے یوں کس طرح چھوڑ دے گا۔ 35۔ 2 یعنی یہ خود بھی اپنے خالق نہیں ہیں، بلکہ یہ اللہ کے خالق ہونے کا اعتراف کرتے ہیں۔
(آیت 36،35) ➊ {اَمْ خُلِقُوْا مِنْ غَيْرِ شَيْءٍ ٔ…:} اس سے پہلے تین سوال یہ ثابت کرنے کے لیے تھے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے سچے رسول اور قرآن اللہ کی سچی کتاب ہے، اب یہاں سے اللہ تعالیٰ کے وجود، اس کی وحدانیت اور قدرتِ کاملہ کو ثابت کرنے کی بات کا آغاز فرمایا۔ یعنی محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے سامنے جو دعوت پیش کی ہے وہ یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ تمھارا خالق ہے، اس لیے تمھیں اسی کی عبادت کرنی چاہیے، اس کے ساتھ کسی اور کو شریک نہیں کرنا چاہیے۔ آخر اس پر ان کے بگڑنے کی کیا کوئی معقول وجہ ہے؟ اگر یہ رب تعالیٰ کو خالق نہیں مانتے تو بتائیں کہ کیا وہ کسی بنانے والے کے بغیر ہی بن گئے ہیں؟ ظاہر ہے یہ ہو ہی نہیں سکتا، کیونکہ سب جانتے ہیں کہ ہر بنی ہوئی چیز کا کوئی بنانے والا ضرور ہوتا ہے۔ یا پھر انھوں نے اپنے آپ کو خود بنا لیا ہے؟ یہ پہلی بات سے بھی زیادہ ناممکن بات ہے، کیونکہ یہ نہیں ہو سکتا کہ ایک ہی چیز خالق بھی ہو اور مخلوق بھی۔ یا پھر یہ بتائیں کہ یہ آسمان و زمین انھوں نے بنائے ہیں؟ ظاہر ہے ایسا بھی نہیں، کیونکہ یہ کائنات اس وقت کی بنی ہوئی ہے جب ان لوگوں کا نام و نشان بھی نہیں تھا۔ ان دونوں آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے تین سوال کیے ہیں جن کا جواب ذکر نہیں فرمایا، کیونکہ وہ بالکل ظاہر ہے کہ نہ یہ لوگ کسی بنانے والے کے بغیر بنے ہیں، نہ یہ اپنے آپ کو خود بنانے والے ہیں اور نہ کائنات ان کی بنائی ہوئی ہے، بلکہ انھیں اور ساری کائنات کو بنانے والا کوئی اور ہے اور وہ اللہ تعالیٰ ہے۔ اس حقیقت کو وہ بھی مانتے تھے، جیسا کہ فرمایا: «‏‏‏‏وَ لَىِٕنْ سَاَلْتَهُمْ مَّنْ خَلَقَهُمْ لَيَقُوْلُنَّ اللّٰهُ فَاَنّٰى يُؤْفَكُوْنَ» [ الزخرف: ۸۷ ] ”اور یقینا اگر تو ان سے پوچھے کہ انھیں کس نے پیدا کیا تو بلاشبہ ضرور کہیں گے کہ اللہ نے،پھر کہاں بہکائے جاتے ہیں۔ “ اور فرمایا: «وَ لَىِٕنْ سَاَلْتَهُمْ مَّنْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ لَيَقُوْلُنَّ اللّٰهُ» ‏‏‏‏ [ لقمان: ۲۵ ] ”اوربلاشبہ اگر تو ان سے پوچھے کہ آسمانوں کو اور زمین کو کس نے پیدا کیا تو ضرور ہی کہیں گے کہ اللہ نے۔“ ➋ { بَلْ لَّا يُوْقِنُوْنَ:} یعنی بات یہ نہیں کہ یہ لوگ اللہ تعالیٰ کو اپنا خالق نہیں مانتے اور اس کا اقرار نہیں کرتے، بلکہ اصل یہ ہے کہ اقرار کے باوجود انھیں اس بات کا یقین نہیں ہے، کیونکہ اگر انھیں واقعی یقین ہوتا کہ ہمارا خالق اللہ تعالیٰ ہے تو اسی کی عبادت کرتے، نہ اس کے ساتھ کسی کو شریک بناتے اور نہ اس کی طرف دعوت دینے والے کی اس طرح مخالفت کرتے۔
اَمۡ خَلَقُوا السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضَ ۚ بَلۡ لَّا یُوۡقِنُوۡنَ ﴿ؕ۳۶﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
یا زمین اور آسمانوں کو اِنہوں نے پیدا کیا ہے؟ اصل بات یہ ہے کہ یہ یقین نہیں رکھتے
مولانا محمد جوناگڑھی
کیا انہوں نے ہی آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ہے؟ بلکہ یہ یقین نہ کرنے والے لوگ ہیں
احمد رضا خان بریلوی
یا آسمان اور زمین انہوں نے پیدا کیے بلکہ انہیں یقین نہیں
علامہ محمد حسین نجفی
یا انہوں نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ہے؟ بلکہ وہ یقین ہی نہیں رکھتے۔
عبدالسلام بن محمد
یا انھوں نے آسمانوں کو اور زمین کو پیدا کیا ہے؟ بلکہ وہ یقین نہیں کرتے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
توحید ربوبیت اور الوہیت ٭٭

توحید ربوبیت اور توحید الوہیت کا ثبوت دیا جا رہا ہے، فرماتا ہے کیا یہ بغیر موجد کے موجود ہو گئے؟ یا یہ خود اپنے موجد آپ ہی ہیں؟ دراصل دونوں باتیں نہیں بلکہ ان کا خالق اللہ تعالیٰ ہے، یہ کچھ نہ تھے اللہ تعالیٰ نے انہیں پیدا کر دیا۔ { سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مغرب کی نماز میں سورۃ والطور کی تلاوت کر رہے تھے میں کان لگائے سن رہا تھا جب آپ آیت «أَمْ عِندَهُمْ خَزَائِنُ رَبِّكَ أَمْ هُمُ الْمُصَيْطِرُونَ» ’ یا کیا ان کے پاس تیرے رب کے خزانے ہیں؟ یا [ان خزانوں کے] ‏‏‏‏ یہ داروغہ ہیں ‘ [52-الطور:37] ‏‏‏‏ تک پہنچے تو میری حالت ہو گئی کہ گویا میرا دل اڑا جا رہا ہے }۔ [صحیح بخاری:4854] ‏‏‏‏ بدری قیدیوں میں ہی یہ سیدنا جبیر رضی اللہ عنہ آئے تھے یہ اس وقت کا واقعہ ہے جب یہ کافر تھے، قرآن پاک کی ان آیتوں کا سننا ان کے لیے اسلام کا ذریعہ بن گیا۔ پھر فرمایا ہے کیا آسمان و زمین کے پیدا کرنے والے یہ ہیں؟ یہ بھی نہیں بلکہ یہ جانتے ہوئے کہ خود ان کا اور کل مخلوقات کا بنانے والا اللہ تعالیٰ ہی ہے پھر بھی یہ اپنی بےیقینی سے باز نہیں آتے، پھر فرماتا ہے کیا دنیا میں تصرف ان کا ہے؟ کیا ہر چیز کے خزانوں کے مالک یہ ہیں؟ یا مخلوق کے محاسب یہ ہیں حقیقت میں ایسا نہیں بلکہ مالک و متصرف صرف اللہ عزوجل ہی ہے وہ قادر ہے جو چاہے کر گزرے۔

پھر فرماتا ہے کیا اونچے آسمانوں تک چڑھ جانے کا کوئی زینہ ان کے پاس ہے؟ اگر یوں ہے تو ان میں سے جو وہاں پہنچ کر کلام سن آتا ہے وہ اپنے اقوال و افعال کی کوئی آسمانی دلیل پیش کرے لیکن نہ وہ پیش کر سکتا ہے، نہ وہ کسی حقانیت کے پابند ہیں، یہ بھی ان کی بڑی بھاری غلطی ہے کہ کہتے ہیں فرشتے اللہ کی لڑکیاں ہیں، کیا مزے کی بات ہے کہ اپنے لیے تو لڑکیاں ناپسند ہیں اور اللہ تعالیٰ کے لیے ثابت کریں، انہیں اگر معلوم ہو جائے کہ ان کے ہاں لڑکی ہوئی تو غم کے مارے چہرہ سیاہ پڑ جائے اور اللہ تعالیٰ کے مقرب فرشتوں کو اس کی لڑکیاں بتائیں، اتنا ہی نہیں بلکہ ان کی پرستش کریں، پس نہایت ڈانٹ ڈپٹ کے ساتھ فرماتا ہے کیا اللہ کی لڑکیاں ہیں اور تمہارے لڑکے ہیں؟ پھر فرمایا کیا تو اپنی تبلیغ پر ان سے کچھ معاوضہ طلب کرتا ہے جو ان پر بھاری پڑے؟ یعنی نبی اللہ، دین اللہ کے پہنچانے پر کسی سے کوئی اجرت نہیں مانگتے پھر انہیں یہ پہنچانا کیوں بھاری پڑتا ہے؟ کیا یہ لوگ غیب دان ہیں؟ نہیں! بلکہ زمین و آسمان کی تمام مخلوق میں سے کوئی بھی غیب کی باتیں نہیں جانتا۔ کیا یہ لوگ دین اللہ اور رسول اللہ کی نسبت بکواس کر کے خود رسول کو مومنوں اور عام لوگوں کو دھوکا دینا چاہتے ہیں؟ یاد رکھو یہی دھوکے باز دھوکے میں رہ جائیں گے اور اخروی عذاب سمیٹیں گے۔ پھر فرمایا کیا اللہ کے سوا ان کے اور معبود ہیں؟ اللہ کی عبادت میں بتوں کو اور دوسری چیزوں کو یہ کیوں شریک کرتے ہیں؟ اللہ تو شرکت سے مبرا، شرک سے پاک اور مشرکوں کے اس فعل سے سخت بیزار ہے۔
36۔ 1 بلکہ اللہ کے وعدوں اور وعیدوں کے بارے میں شک میں مبتلا ہیں۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
اَمۡ عِنۡدَہُمۡ خَزَآئِنُ رَبِّکَ اَمۡ ہُمُ الۡمُصَۜیۡطِرُوۡنَ ﴿ؕ۳۷﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
کیا تیرے رب کے خزانے اِن کے قبضے میں ہیں؟ یا اُن پر اِنہی کا حکم چلتا ہے؟
مولانا محمد جوناگڑھی
یا کیا ان کے پاس تیرے رب کے خزانے ہیں؟ یا (ان خزانوں کے) یہ داروغہ ہیں
احمد رضا خان بریلوی
یا ان کے پاس تمہارے رب کے خزانے ہیں یا وہ کڑوڑے (حاکمِ اعلیٰ) ہیں
علامہ محمد حسین نجفی
یا ان کے پاس آپ(ص) کے پروردگار کے خزانے ہیںیا یہ ان پر حاکم (مجاز) ہیں؟
عبدالسلام بن محمد
یا ان کے پاس تیرے رب کے خزانے ہیں، یا وہی حکم چلانے والے ہیں ؟
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
توحید ربوبیت اور الوہیت ٭٭

توحید ربوبیت اور توحید الوہیت کا ثبوت دیا جا رہا ہے، فرماتا ہے کیا یہ بغیر موجد کے موجود ہو گئے؟ یا یہ خود اپنے موجد آپ ہی ہیں؟ دراصل دونوں باتیں نہیں بلکہ ان کا خالق اللہ تعالیٰ ہے، یہ کچھ نہ تھے اللہ تعالیٰ نے انہیں پیدا کر دیا۔ { سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مغرب کی نماز میں سورۃ والطور کی تلاوت کر رہے تھے میں کان لگائے سن رہا تھا جب آپ آیت «أَمْ عِندَهُمْ خَزَائِنُ رَبِّكَ أَمْ هُمُ الْمُصَيْطِرُونَ» ’ یا کیا ان کے پاس تیرے رب کے خزانے ہیں؟ یا [ان خزانوں کے] ‏‏‏‏ یہ داروغہ ہیں ‘ [52-الطور:37] ‏‏‏‏ تک پہنچے تو میری حالت ہو گئی کہ گویا میرا دل اڑا جا رہا ہے }۔ [صحیح بخاری:4854] ‏‏‏‏ بدری قیدیوں میں ہی یہ سیدنا جبیر رضی اللہ عنہ آئے تھے یہ اس وقت کا واقعہ ہے جب یہ کافر تھے، قرآن پاک کی ان آیتوں کا سننا ان کے لیے اسلام کا ذریعہ بن گیا۔ پھر فرمایا ہے کیا آسمان و زمین کے پیدا کرنے والے یہ ہیں؟ یہ بھی نہیں بلکہ یہ جانتے ہوئے کہ خود ان کا اور کل مخلوقات کا بنانے والا اللہ تعالیٰ ہی ہے پھر بھی یہ اپنی بےیقینی سے باز نہیں آتے، پھر فرماتا ہے کیا دنیا میں تصرف ان کا ہے؟ کیا ہر چیز کے خزانوں کے مالک یہ ہیں؟ یا مخلوق کے محاسب یہ ہیں حقیقت میں ایسا نہیں بلکہ مالک و متصرف صرف اللہ عزوجل ہی ہے وہ قادر ہے جو چاہے کر گزرے۔

پھر فرماتا ہے کیا اونچے آسمانوں تک چڑھ جانے کا کوئی زینہ ان کے پاس ہے؟ اگر یوں ہے تو ان میں سے جو وہاں پہنچ کر کلام سن آتا ہے وہ اپنے اقوال و افعال کی کوئی آسمانی دلیل پیش کرے لیکن نہ وہ پیش کر سکتا ہے، نہ وہ کسی حقانیت کے پابند ہیں، یہ بھی ان کی بڑی بھاری غلطی ہے کہ کہتے ہیں فرشتے اللہ کی لڑکیاں ہیں، کیا مزے کی بات ہے کہ اپنے لیے تو لڑکیاں ناپسند ہیں اور اللہ تعالیٰ کے لیے ثابت کریں، انہیں اگر معلوم ہو جائے کہ ان کے ہاں لڑکی ہوئی تو غم کے مارے چہرہ سیاہ پڑ جائے اور اللہ تعالیٰ کے مقرب فرشتوں کو اس کی لڑکیاں بتائیں، اتنا ہی نہیں بلکہ ان کی پرستش کریں، پس نہایت ڈانٹ ڈپٹ کے ساتھ فرماتا ہے کیا اللہ کی لڑکیاں ہیں اور تمہارے لڑکے ہیں؟ پھر فرمایا کیا تو اپنی تبلیغ پر ان سے کچھ معاوضہ طلب کرتا ہے جو ان پر بھاری پڑے؟ یعنی نبی اللہ، دین اللہ کے پہنچانے پر کسی سے کوئی اجرت نہیں مانگتے پھر انہیں یہ پہنچانا کیوں بھاری پڑتا ہے؟ کیا یہ لوگ غیب دان ہیں؟ نہیں! بلکہ زمین و آسمان کی تمام مخلوق میں سے کوئی بھی غیب کی باتیں نہیں جانتا۔ کیا یہ لوگ دین اللہ اور رسول اللہ کی نسبت بکواس کر کے خود رسول کو مومنوں اور عام لوگوں کو دھوکا دینا چاہتے ہیں؟ یاد رکھو یہی دھوکے باز دھوکے میں رہ جائیں گے اور اخروی عذاب سمیٹیں گے۔ پھر فرمایا کیا اللہ کے سوا ان کے اور معبود ہیں؟ اللہ کی عبادت میں بتوں کو اور دوسری چیزوں کو یہ کیوں شریک کرتے ہیں؟ اللہ تو شرکت سے مبرا، شرک سے پاک اور مشرکوں کے اس فعل سے سخت بیزار ہے۔
37۔ 1 کہ یہ جس کو چاہیں روزی دیں جس کو چاہیں نہ دیں یا جس کو چاہیں نبوت سے نوازیں۔ 37۔ 2 مصیطر یا مسیطر سَطْرً سے ہے، لکھنے والا، جو محافظ و نگران ہو، وہ چونکہ ساری تفیصلات لکھتا ہے، اس لئے یہ محافظ اور نگران کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے۔ یعنی کیا اللہ کے خزانوں یا اس کی رحمتوں پر ان کا تسلط ہے کہ جس کو چاہیں دیں یا نہ دیں۔
(آیت 37) ➊ {اَمْ عِنْدَهُمْ خَزَآىِٕنُ رَبِّكَ …:} یہ کفار کے اس اعتراض کا جواب ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہی کو کیوں رسول بنایا گیا، مکہ اور طائف کے سرداروں میں سے کسی کو رسالت کے لیے کیوں نہ چنا گیا؟ فرمایا، یہ فیصلہ کرنا کہ کس کو رسول بنا کر بھیجا جائے مالک کا کام ہے۔ اب یہ لوگ اگر اللہ تعالیٰ کے بنائے ہوئے رسول کا انکار کرتے ہیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ یا تو تیرے رب کے خزانوں کے مالک یہ ہیں، جسے چاہیں دیں جسے چاہیں نہ دیں، یا یہ کہ مالک تو اللہ تعالیٰ ہی ہے مگر اس پر حکم انھی کا چلتا ہے۔اب یہ خود ہی بتائیں کہ ان دونوں میں سے ان کا دعویٰ کیا ہے؟ مزید دیکھیے سورۂ ص(۸ تا ۱۰) اور سورۂ زخرف(۳۱،۳۲)۔ خلاصہ یہ کہ کفار کے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت سے انکار کی کوئی عقلی دلیل نہیں۔ ➋ آیت کی تفسیر اس طرح بھی ہو سکتی ہے کہ یا یہ لوگ اس لیے اکیلے رب کی عبادت نہیں کرتے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو رسول نہیں مانتے کہ تیرے رب کے خزانوں کے مالک وہی ہیں، یا ان پر انھی کا حکم چلتا ہے، اس لیے وہ اپنی مرضی کے مالک ہیں، جو چاہیں کرتے پھریں؟ ظاہر ہے ایسا بھی ہرگز نہیں۔
اَمۡ لَہُمۡ سُلَّمٌ یَّسۡتَمِعُوۡنَ فِیۡہِ ۚ فَلۡیَاۡتِ مُسۡتَمِعُہُمۡ بِسُلۡطٰنٍ مُّبِیۡنٍ ﴿ؕ۳۸﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
کیا اِن کے پاس کوئی سیڑھی ہے جس پر چڑھ کر یہ عالم بالا کی سن گن لیتے ہیں؟ اِن میں سے جس نے سن گن لی ہو وہ لائے کوئی کھلی دلیل
مولانا محمد جوناگڑھی
یا کیا ان کے پاس کوئی سیڑھی ہے جس پر چڑھ کر سنتے ہیں؟ (اگر ایسا ہے) تو ان کا سننے واﻻ کوئی روشن دلیل پیش کرے
احمد رضا خان بریلوی
یا ان کے پاس کوئی زینہ ہے جس میں چڑھ کر سن لیتے ہیں تو ان کا سننے والا کوئی روشن سند لائے،
علامہ محمد حسین نجفی
یا ان کے پاس کوئی سیڑھی ہے (جس پر چڑھ کر) وہ (آسمانی خفیہ باتیں) سن لیتے ہیں؟ (اگر ایسا ہے) تو پھر ان کا سننے والا کوئی کھلی ہوئی دلیل پیش کرے۔
عبدالسلام بن محمد
یا ان کے پاس کوئی سیڑھی ہے جس پر وہ اچھی طرح سن لیتے ہیں؟تو ان کا سننے والا کوئی واضح دلیل پیش کرے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
توحید ربوبیت اور الوہیت ٭٭

توحید ربوبیت اور توحید الوہیت کا ثبوت دیا جا رہا ہے، فرماتا ہے کیا یہ بغیر موجد کے موجود ہو گئے؟ یا یہ خود اپنے موجد آپ ہی ہیں؟ دراصل دونوں باتیں نہیں بلکہ ان کا خالق اللہ تعالیٰ ہے، یہ کچھ نہ تھے اللہ تعالیٰ نے انہیں پیدا کر دیا۔ { سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مغرب کی نماز میں سورۃ والطور کی تلاوت کر رہے تھے میں کان لگائے سن رہا تھا جب آپ آیت «أَمْ عِندَهُمْ خَزَائِنُ رَبِّكَ أَمْ هُمُ الْمُصَيْطِرُونَ» ’ یا کیا ان کے پاس تیرے رب کے خزانے ہیں؟ یا [ان خزانوں کے] ‏‏‏‏ یہ داروغہ ہیں ‘ [52-الطور:37] ‏‏‏‏ تک پہنچے تو میری حالت ہو گئی کہ گویا میرا دل اڑا جا رہا ہے }۔ [صحیح بخاری:4854] ‏‏‏‏ بدری قیدیوں میں ہی یہ سیدنا جبیر رضی اللہ عنہ آئے تھے یہ اس وقت کا واقعہ ہے جب یہ کافر تھے، قرآن پاک کی ان آیتوں کا سننا ان کے لیے اسلام کا ذریعہ بن گیا۔ پھر فرمایا ہے کیا آسمان و زمین کے پیدا کرنے والے یہ ہیں؟ یہ بھی نہیں بلکہ یہ جانتے ہوئے کہ خود ان کا اور کل مخلوقات کا بنانے والا اللہ تعالیٰ ہی ہے پھر بھی یہ اپنی بےیقینی سے باز نہیں آتے، پھر فرماتا ہے کیا دنیا میں تصرف ان کا ہے؟ کیا ہر چیز کے خزانوں کے مالک یہ ہیں؟ یا مخلوق کے محاسب یہ ہیں حقیقت میں ایسا نہیں بلکہ مالک و متصرف صرف اللہ عزوجل ہی ہے وہ قادر ہے جو چاہے کر گزرے۔

پھر فرماتا ہے کیا اونچے آسمانوں تک چڑھ جانے کا کوئی زینہ ان کے پاس ہے؟ اگر یوں ہے تو ان میں سے جو وہاں پہنچ کر کلام سن آتا ہے وہ اپنے اقوال و افعال کی کوئی آسمانی دلیل پیش کرے لیکن نہ وہ پیش کر سکتا ہے، نہ وہ کسی حقانیت کے پابند ہیں، یہ بھی ان کی بڑی بھاری غلطی ہے کہ کہتے ہیں فرشتے اللہ کی لڑکیاں ہیں، کیا مزے کی بات ہے کہ اپنے لیے تو لڑکیاں ناپسند ہیں اور اللہ تعالیٰ کے لیے ثابت کریں، انہیں اگر معلوم ہو جائے کہ ان کے ہاں لڑکی ہوئی تو غم کے مارے چہرہ سیاہ پڑ جائے اور اللہ تعالیٰ کے مقرب فرشتوں کو اس کی لڑکیاں بتائیں، اتنا ہی نہیں بلکہ ان کی پرستش کریں، پس نہایت ڈانٹ ڈپٹ کے ساتھ فرماتا ہے کیا اللہ کی لڑکیاں ہیں اور تمہارے لڑکے ہیں؟ پھر فرمایا کیا تو اپنی تبلیغ پر ان سے کچھ معاوضہ طلب کرتا ہے جو ان پر بھاری پڑے؟ یعنی نبی اللہ، دین اللہ کے پہنچانے پر کسی سے کوئی اجرت نہیں مانگتے پھر انہیں یہ پہنچانا کیوں بھاری پڑتا ہے؟ کیا یہ لوگ غیب دان ہیں؟ نہیں! بلکہ زمین و آسمان کی تمام مخلوق میں سے کوئی بھی غیب کی باتیں نہیں جانتا۔ کیا یہ لوگ دین اللہ اور رسول اللہ کی نسبت بکواس کر کے خود رسول کو مومنوں اور عام لوگوں کو دھوکا دینا چاہتے ہیں؟ یاد رکھو یہی دھوکے باز دھوکے میں رہ جائیں گے اور اخروی عذاب سمیٹیں گے۔ پھر فرمایا کیا اللہ کے سوا ان کے اور معبود ہیں؟ اللہ کی عبادت میں بتوں کو اور دوسری چیزوں کو یہ کیوں شریک کرتے ہیں؟ اللہ تو شرکت سے مبرا، شرک سے پاک اور مشرکوں کے اس فعل سے سخت بیزار ہے۔
38۔ 1 یعنی کیا ان کا دعویٰ ہے کہ سیڑھی کے ذریعے سے یہ بھی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی طرح آسمانوں پر جاکر ملائکہ کی باتیں یا ان کی طرف جو وحی کی جاتی ہے، وہ سن آئے ہیں۔
(آیت 38) {اَمْ لَهُمْ سُلَّمٌ يَّسْتَمِعُوْنَ فِيْهِ …:} یا ان کے پاس کوئی سیڑھی ہے جس پر چڑھ کر وہ عالمِ بالا کی طرف کان لگائے رکھتے ہیں اور وہاں سے سن آئے ہیں کہ جو کچھ وہ کہہ رہے ہیں وہی حق ہے اور یہ بھی سن آئے ہیں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول نہیں اور نہ اس نے انھیں بھیجا ہے، بلکہ انھوں نے قرآن خود ہی تصنیف کر کے اللہ تعالیٰ کے ذمہ لگا دیا ہے۔ اگر کسی کا یہ دعویٰ ہے تو وہ اس کی واضح دلیل پیش کرے، جس سے معلوم ہو کہ وہ واقعی آسمان تک گیا تھا اور وہاں اس نے واقعی اللہ تعالیٰ کی اور فرشتوں کی باتیں سنی ہیں۔ دیکھیے سورۂ احقاف (۴)اور سورۂ فاطر (۴۰) اس آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ کفار کے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان نہ لانے کے لیے کوئی نقلی دلیل بھی نہیں۔
اَمۡ لَہُ الۡبَنٰتُ وَ لَکُمُ الۡبَنُوۡنَ ﴿ؕ۳۹﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
کیا اللہ کے لیے تو ہیں بیٹیاں اور تم لوگوں کے لیے ہیں بیٹے؟
مولانا محمد جوناگڑھی
کیا اللہ کی تو سب لڑکیاں ہیں اور تمہارے ہاں لڑکے ہیں؟
احمد رضا خان بریلوی
کیا اس کو بیٹیاں اور تم کو بیٹے
علامہ محمد حسین نجفی
کیا اللہ کے لئے بیٹیاں ہیں اور تمہارے لئے بیٹے؟
عبدالسلام بن محمد
یا اس کے لیے تو بیٹیاں ہیں اور تمھارے لیے بیٹے؟
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
توحید ربوبیت اور الوہیت ٭٭

توحید ربوبیت اور توحید الوہیت کا ثبوت دیا جا رہا ہے، فرماتا ہے کیا یہ بغیر موجد کے موجود ہو گئے؟ یا یہ خود اپنے موجد آپ ہی ہیں؟ دراصل دونوں باتیں نہیں بلکہ ان کا خالق اللہ تعالیٰ ہے، یہ کچھ نہ تھے اللہ تعالیٰ نے انہیں پیدا کر دیا۔ { سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مغرب کی نماز میں سورۃ والطور کی تلاوت کر رہے تھے میں کان لگائے سن رہا تھا جب آپ آیت «أَمْ عِندَهُمْ خَزَائِنُ رَبِّكَ أَمْ هُمُ الْمُصَيْطِرُونَ» ’ یا کیا ان کے پاس تیرے رب کے خزانے ہیں؟ یا [ان خزانوں کے] ‏‏‏‏ یہ داروغہ ہیں ‘ [52-الطور:37] ‏‏‏‏ تک پہنچے تو میری حالت ہو گئی کہ گویا میرا دل اڑا جا رہا ہے }۔ [صحیح بخاری:4854] ‏‏‏‏ بدری قیدیوں میں ہی یہ سیدنا جبیر رضی اللہ عنہ آئے تھے یہ اس وقت کا واقعہ ہے جب یہ کافر تھے، قرآن پاک کی ان آیتوں کا سننا ان کے لیے اسلام کا ذریعہ بن گیا۔ پھر فرمایا ہے کیا آسمان و زمین کے پیدا کرنے والے یہ ہیں؟ یہ بھی نہیں بلکہ یہ جانتے ہوئے کہ خود ان کا اور کل مخلوقات کا بنانے والا اللہ تعالیٰ ہی ہے پھر بھی یہ اپنی بےیقینی سے باز نہیں آتے، پھر فرماتا ہے کیا دنیا میں تصرف ان کا ہے؟ کیا ہر چیز کے خزانوں کے مالک یہ ہیں؟ یا مخلوق کے محاسب یہ ہیں حقیقت میں ایسا نہیں بلکہ مالک و متصرف صرف اللہ عزوجل ہی ہے وہ قادر ہے جو چاہے کر گزرے۔

پھر فرماتا ہے کیا اونچے آسمانوں تک چڑھ جانے کا کوئی زینہ ان کے پاس ہے؟ اگر یوں ہے تو ان میں سے جو وہاں پہنچ کر کلام سن آتا ہے وہ اپنے اقوال و افعال کی کوئی آسمانی دلیل پیش کرے لیکن نہ وہ پیش کر سکتا ہے، نہ وہ کسی حقانیت کے پابند ہیں، یہ بھی ان کی بڑی بھاری غلطی ہے کہ کہتے ہیں فرشتے اللہ کی لڑکیاں ہیں، کیا مزے کی بات ہے کہ اپنے لیے تو لڑکیاں ناپسند ہیں اور اللہ تعالیٰ کے لیے ثابت کریں، انہیں اگر معلوم ہو جائے کہ ان کے ہاں لڑکی ہوئی تو غم کے مارے چہرہ سیاہ پڑ جائے اور اللہ تعالیٰ کے مقرب فرشتوں کو اس کی لڑکیاں بتائیں، اتنا ہی نہیں بلکہ ان کی پرستش کریں، پس نہایت ڈانٹ ڈپٹ کے ساتھ فرماتا ہے کیا اللہ کی لڑکیاں ہیں اور تمہارے لڑکے ہیں؟ پھر فرمایا کیا تو اپنی تبلیغ پر ان سے کچھ معاوضہ طلب کرتا ہے جو ان پر بھاری پڑے؟ یعنی نبی اللہ، دین اللہ کے پہنچانے پر کسی سے کوئی اجرت نہیں مانگتے پھر انہیں یہ پہنچانا کیوں بھاری پڑتا ہے؟ کیا یہ لوگ غیب دان ہیں؟ نہیں! بلکہ زمین و آسمان کی تمام مخلوق میں سے کوئی بھی غیب کی باتیں نہیں جانتا۔ کیا یہ لوگ دین اللہ اور رسول اللہ کی نسبت بکواس کر کے خود رسول کو مومنوں اور عام لوگوں کو دھوکا دینا چاہتے ہیں؟ یاد رکھو یہی دھوکے باز دھوکے میں رہ جائیں گے اور اخروی عذاب سمیٹیں گے۔ پھر فرمایا کیا اللہ کے سوا ان کے اور معبود ہیں؟ اللہ کی عبادت میں بتوں کو اور دوسری چیزوں کو یہ کیوں شریک کرتے ہیں؟ اللہ تو شرکت سے مبرا، شرک سے پاک اور مشرکوں کے اس فعل سے سخت بیزار ہے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 39) {اَمْ لَهُ الْبَنٰتُ وَ لَكُمُ الْبَنُوْنَ:} پھر جب انھیں عالمِ بالا تک رسائی نہیں تو انھیں کیسے معلوم ہو گیا کہ اللہ تعالیٰ کو کائنات کا نظام چلانے کے لیے اولاد کی ضرورت ہے اور انھوں نے یہ کیسے طے کر دیا کہ اولاد بناتے وقت اس نے اپنے لیے بیٹوں کے بجائے بیٹیوں کا چناؤ کیا ہے اور انھیں بیٹوں کے لیے منتخب کیا ہے؟ حالانکہ یہ لوگ اپنے لیے کبھی بیٹیاں پسند نہیں کرتے۔ دیکھیے سورۂ نحل (۵۷ تا ۶۰) اور سورۂ زخرف (۱۶ تا ۱۸)۔
اَمۡ تَسۡـَٔلُہُمۡ اَجۡرًا فَہُمۡ مِّنۡ مَّغۡرَمٍ مُّثۡقَلُوۡنَ ﴿ؕ۴۰﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
کیا تم اِن سے کوئی اجر مانگتے ہو کہ یہ زبردستی پڑی ہوئی چٹی کے بوجھ تلے دبے جاتے ہیں؟
مولانا محمد جوناگڑھی
کیا تو ان سے کوئی اجرت طلب کرتا ہے کہ یہ اس کے تاوان سے بوجھل ہو رہے ہیں
احمد رضا خان بریلوی
یا تم ان سے کچھ اجرت مانگتے ہہو تو وہ چٹی کے بوجھ میں دبے ہیں
علامہ محمد حسین نجفی
کیا آپ ان سے کوئی اجرت مانگتے ہیں کہ وہ تاوان کے بوجھ سے دبےجا رہے رہیں؟
عبدالسلام بن محمد
یا تو ان سے کوئی اجرت مانگتا ہے؟ پس وہ تاوان سے بوجھل کیے جانے والے ہیں ۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
توحید ربوبیت اور الوہیت ٭٭

توحید ربوبیت اور توحید الوہیت کا ثبوت دیا جا رہا ہے، فرماتا ہے کیا یہ بغیر موجد کے موجود ہو گئے؟ یا یہ خود اپنے موجد آپ ہی ہیں؟ دراصل دونوں باتیں نہیں بلکہ ان کا خالق اللہ تعالیٰ ہے، یہ کچھ نہ تھے اللہ تعالیٰ نے انہیں پیدا کر دیا۔ { سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مغرب کی نماز میں سورۃ والطور کی تلاوت کر رہے تھے میں کان لگائے سن رہا تھا جب آپ آیت «أَمْ عِندَهُمْ خَزَائِنُ رَبِّكَ أَمْ هُمُ الْمُصَيْطِرُونَ» ’ یا کیا ان کے پاس تیرے رب کے خزانے ہیں؟ یا [ان خزانوں کے] ‏‏‏‏ یہ داروغہ ہیں ‘ [52-الطور:37] ‏‏‏‏ تک پہنچے تو میری حالت ہو گئی کہ گویا میرا دل اڑا جا رہا ہے }۔ [صحیح بخاری:4854] ‏‏‏‏ بدری قیدیوں میں ہی یہ سیدنا جبیر رضی اللہ عنہ آئے تھے یہ اس وقت کا واقعہ ہے جب یہ کافر تھے، قرآن پاک کی ان آیتوں کا سننا ان کے لیے اسلام کا ذریعہ بن گیا۔ پھر فرمایا ہے کیا آسمان و زمین کے پیدا کرنے والے یہ ہیں؟ یہ بھی نہیں بلکہ یہ جانتے ہوئے کہ خود ان کا اور کل مخلوقات کا بنانے والا اللہ تعالیٰ ہی ہے پھر بھی یہ اپنی بےیقینی سے باز نہیں آتے، پھر فرماتا ہے کیا دنیا میں تصرف ان کا ہے؟ کیا ہر چیز کے خزانوں کے مالک یہ ہیں؟ یا مخلوق کے محاسب یہ ہیں حقیقت میں ایسا نہیں بلکہ مالک و متصرف صرف اللہ عزوجل ہی ہے وہ قادر ہے جو چاہے کر گزرے۔

پھر فرماتا ہے کیا اونچے آسمانوں تک چڑھ جانے کا کوئی زینہ ان کے پاس ہے؟ اگر یوں ہے تو ان میں سے جو وہاں پہنچ کر کلام سن آتا ہے وہ اپنے اقوال و افعال کی کوئی آسمانی دلیل پیش کرے لیکن نہ وہ پیش کر سکتا ہے، نہ وہ کسی حقانیت کے پابند ہیں، یہ بھی ان کی بڑی بھاری غلطی ہے کہ کہتے ہیں فرشتے اللہ کی لڑکیاں ہیں، کیا مزے کی بات ہے کہ اپنے لیے تو لڑکیاں ناپسند ہیں اور اللہ تعالیٰ کے لیے ثابت کریں، انہیں اگر معلوم ہو جائے کہ ان کے ہاں لڑکی ہوئی تو غم کے مارے چہرہ سیاہ پڑ جائے اور اللہ تعالیٰ کے مقرب فرشتوں کو اس کی لڑکیاں بتائیں، اتنا ہی نہیں بلکہ ان کی پرستش کریں، پس نہایت ڈانٹ ڈپٹ کے ساتھ فرماتا ہے کیا اللہ کی لڑکیاں ہیں اور تمہارے لڑکے ہیں؟ پھر فرمایا کیا تو اپنی تبلیغ پر ان سے کچھ معاوضہ طلب کرتا ہے جو ان پر بھاری پڑے؟ یعنی نبی اللہ، دین اللہ کے پہنچانے پر کسی سے کوئی اجرت نہیں مانگتے پھر انہیں یہ پہنچانا کیوں بھاری پڑتا ہے؟ کیا یہ لوگ غیب دان ہیں؟ نہیں! بلکہ زمین و آسمان کی تمام مخلوق میں سے کوئی بھی غیب کی باتیں نہیں جانتا۔ کیا یہ لوگ دین اللہ اور رسول اللہ کی نسبت بکواس کر کے خود رسول کو مومنوں اور عام لوگوں کو دھوکا دینا چاہتے ہیں؟ یاد رکھو یہی دھوکے باز دھوکے میں رہ جائیں گے اور اخروی عذاب سمیٹیں گے۔ پھر فرمایا کیا اللہ کے سوا ان کے اور معبود ہیں؟ اللہ کی عبادت میں بتوں کو اور دوسری چیزوں کو یہ کیوں شریک کرتے ہیں؟ اللہ تو شرکت سے مبرا، شرک سے پاک اور مشرکوں کے اس فعل سے سخت بیزار ہے۔
40۔ 1 یعنی اس کی ادائیگی ان کے لئے مشکل ہو۔
(آیت 40){ اَمْ تَسْـَٔلُهُمْ اَجْرًا …: ” اَلْغُرْمُ وَ الْغَرَامَةُ وَ الْمَغْرَمُ“} تاوان، چٹی، جو مال آدمی کو نہ چاہنے کے باوجود دینا پڑ جائے۔ {” اَجْرًا “} پر تنوین تنکیر کے لیے ہے، کسی بھی طرح کی اجرت۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت قبول نہ کرنے کی ایک وجہ یہ ہو سکتی تھی کہ آپ ان سے کسی طرح کی اجرت کا مطالبہ کرتے ہوں اور وہ تاوان سمجھ کر بوجھ برداشت کرنے کے لیے تیار نہ ہوں۔ جب آپ ان سے کسی طرح کی اجرت یا معاوضے کا مطالبہ نہیں کرتے بلکہ اپنی مزدوری صرف اللہ تعالیٰ کے ذمے سمجھتے ہیں اور اپنی کمائی یا کاروبار کی بھی پروا نہ کرتے ہوئے ہر وقت ان کی خیرخواہی کے لیے ان کے پیچھے پھرتے ہیں تو پھر وہ آپ سے دور کیوں بھاگتے ہیں؟ مزید دیکھیے سورۂ مومنون (۷۲)۔
اَمۡ عِنۡدَہُمُ الۡغَیۡبُ فَہُمۡ یَکۡتُبُوۡنَ ﴿ؕ۴۱﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
کیا اِن کے پاس غیب کے حقائق کا علم ہے کہ اُس کی بنا پر یہ لکھ رہے ہوں؟
مولانا محمد جوناگڑھی
کیا ان کے پاس علم غیب ہے جسے یہ لکھ لیتے ہیں؟
احمد رضا خان بریلوی
یا ان کے پاس غیب ہیں جس سے وہ حکم لگاتے ہیں
علامہ محمد حسین نجفی
یاان کے پاس غیب کا علم ہے کہ وہ (اس کی بناء پر) لکھتے جاتے ہیں؟
عبدالسلام بن محمد
یا ان کے پاس غیب ہے؟ پس وہ لکھتے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
توحید ربوبیت اور الوہیت ٭٭

توحید ربوبیت اور توحید الوہیت کا ثبوت دیا جا رہا ہے، فرماتا ہے کیا یہ بغیر موجد کے موجود ہو گئے؟ یا یہ خود اپنے موجد آپ ہی ہیں؟ دراصل دونوں باتیں نہیں بلکہ ان کا خالق اللہ تعالیٰ ہے، یہ کچھ نہ تھے اللہ تعالیٰ نے انہیں پیدا کر دیا۔ { سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مغرب کی نماز میں سورۃ والطور کی تلاوت کر رہے تھے میں کان لگائے سن رہا تھا جب آپ آیت «أَمْ عِندَهُمْ خَزَائِنُ رَبِّكَ أَمْ هُمُ الْمُصَيْطِرُونَ» ’ یا کیا ان کے پاس تیرے رب کے خزانے ہیں؟ یا [ان خزانوں کے] ‏‏‏‏ یہ داروغہ ہیں ‘ [52-الطور:37] ‏‏‏‏ تک پہنچے تو میری حالت ہو گئی کہ گویا میرا دل اڑا جا رہا ہے }۔ [صحیح بخاری:4854] ‏‏‏‏ بدری قیدیوں میں ہی یہ سیدنا جبیر رضی اللہ عنہ آئے تھے یہ اس وقت کا واقعہ ہے جب یہ کافر تھے، قرآن پاک کی ان آیتوں کا سننا ان کے لیے اسلام کا ذریعہ بن گیا۔ پھر فرمایا ہے کیا آسمان و زمین کے پیدا کرنے والے یہ ہیں؟ یہ بھی نہیں بلکہ یہ جانتے ہوئے کہ خود ان کا اور کل مخلوقات کا بنانے والا اللہ تعالیٰ ہی ہے پھر بھی یہ اپنی بےیقینی سے باز نہیں آتے، پھر فرماتا ہے کیا دنیا میں تصرف ان کا ہے؟ کیا ہر چیز کے خزانوں کے مالک یہ ہیں؟ یا مخلوق کے محاسب یہ ہیں حقیقت میں ایسا نہیں بلکہ مالک و متصرف صرف اللہ عزوجل ہی ہے وہ قادر ہے جو چاہے کر گزرے۔

پھر فرماتا ہے کیا اونچے آسمانوں تک چڑھ جانے کا کوئی زینہ ان کے پاس ہے؟ اگر یوں ہے تو ان میں سے جو وہاں پہنچ کر کلام سن آتا ہے وہ اپنے اقوال و افعال کی کوئی آسمانی دلیل پیش کرے لیکن نہ وہ پیش کر سکتا ہے، نہ وہ کسی حقانیت کے پابند ہیں، یہ بھی ان کی بڑی بھاری غلطی ہے کہ کہتے ہیں فرشتے اللہ کی لڑکیاں ہیں، کیا مزے کی بات ہے کہ اپنے لیے تو لڑکیاں ناپسند ہیں اور اللہ تعالیٰ کے لیے ثابت کریں، انہیں اگر معلوم ہو جائے کہ ان کے ہاں لڑکی ہوئی تو غم کے مارے چہرہ سیاہ پڑ جائے اور اللہ تعالیٰ کے مقرب فرشتوں کو اس کی لڑکیاں بتائیں، اتنا ہی نہیں بلکہ ان کی پرستش کریں، پس نہایت ڈانٹ ڈپٹ کے ساتھ فرماتا ہے کیا اللہ کی لڑکیاں ہیں اور تمہارے لڑکے ہیں؟ پھر فرمایا کیا تو اپنی تبلیغ پر ان سے کچھ معاوضہ طلب کرتا ہے جو ان پر بھاری پڑے؟ یعنی نبی اللہ، دین اللہ کے پہنچانے پر کسی سے کوئی اجرت نہیں مانگتے پھر انہیں یہ پہنچانا کیوں بھاری پڑتا ہے؟ کیا یہ لوگ غیب دان ہیں؟ نہیں! بلکہ زمین و آسمان کی تمام مخلوق میں سے کوئی بھی غیب کی باتیں نہیں جانتا۔ کیا یہ لوگ دین اللہ اور رسول اللہ کی نسبت بکواس کر کے خود رسول کو مومنوں اور عام لوگوں کو دھوکا دینا چاہتے ہیں؟ یاد رکھو یہی دھوکے باز دھوکے میں رہ جائیں گے اور اخروی عذاب سمیٹیں گے۔ پھر فرمایا کیا اللہ کے سوا ان کے اور معبود ہیں؟ اللہ کی عبادت میں بتوں کو اور دوسری چیزوں کو یہ کیوں شریک کرتے ہیں؟ اللہ تو شرکت سے مبرا، شرک سے پاک اور مشرکوں کے اس فعل سے سخت بیزار ہے۔
41۔ 1 کہ ضرور ان سے پہلے محمد صلی اللہ علیہ وسلم مرجائیں گے اور ان کو موت اس کے بعد آئیگی
(آیت 41) {اَمْ عِنْدَهُمُ الْغَيْبُ فَهُمْ يَكْتُبُوْنَ:عِنْدَهُمْ“} پہلے لانے سے حصر پیدا ہو گیا ہے، اس لیے ترجمہ ”یا انھی کے پاس غیب ہے“ کیا گیا ہے۔ یعنی یا پھر انھیں آپ کے اتباع کی ضرورت اس لیے نہیں کہ سارا غیب انھی کے پاس ہے اور وہ اپنے معاملات کے فیصلے خود ہی وہاں سے لکھ لیتے ہیں، اس لیے انھیں اس کتاب کی ضرورت ہی نہیں جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کی طرف سے لے کر آئے ہیں۔ یہاں بھی سوال ہی پر اکتفا فرمایا ہے، کیونکہ اس کا جواب ظاہر ہے کہ سارے غیب کا بلاشرکت غیرے مالک ہونا تو بہت ہی دور ہے، یہ تو غیب کے ایک ذرے سے بھی آگاہ نہیں۔ پھر یہ اللہ کی کتاب اور اس کے رسول سے کس طرح مستغنی ہو سکتے ہیں۔
اَمۡ یُرِیۡدُوۡنَ کَیۡدًا ؕ فَالَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا ہُمُ الۡمَکِیۡدُوۡنَ ﴿ؕ۴۲﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
کیا یہ کوئی چال چلنا چاہتے ہیں؟ (اگر یہ بات ہے) تو کفر کرنے والوں پر ان کی چال الٹی ہی پڑے گی
مولانا محمد جوناگڑھی
کیا یہ لوگ کوئی فریب کرنا چاہتے ہیں؟ تو یقین کرلیں کہ فریب خورده کافر ہی ہیں
احمد رضا خان بریلوی
یا کسی داؤ ں (فریب) کے ارادہ میں ہیں تو کافروں پر ہی داؤں (فریب) پڑنا ہے
علامہ محمد حسین نجفی
یا وہ کوئی چال چلنا چاہتے ہیں؟ تو جو لوگ کافر ہیں وہ خود اپنی چال کا شکار ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
یا وہ کوئی چال چلنا چاہتے ہیں؟ تو جن لوگوں نے کفر کیا وہی چال میں آنے والے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
توحید ربوبیت اور الوہیت ٭٭

توحید ربوبیت اور توحید الوہیت کا ثبوت دیا جا رہا ہے، فرماتا ہے کیا یہ بغیر موجد کے موجود ہو گئے؟ یا یہ خود اپنے موجد آپ ہی ہیں؟ دراصل دونوں باتیں نہیں بلکہ ان کا خالق اللہ تعالیٰ ہے، یہ کچھ نہ تھے اللہ تعالیٰ نے انہیں پیدا کر دیا۔ { سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مغرب کی نماز میں سورۃ والطور کی تلاوت کر رہے تھے میں کان لگائے سن رہا تھا جب آپ آیت «أَمْ عِندَهُمْ خَزَائِنُ رَبِّكَ أَمْ هُمُ الْمُصَيْطِرُونَ» ’ یا کیا ان کے پاس تیرے رب کے خزانے ہیں؟ یا [ان خزانوں کے] ‏‏‏‏ یہ داروغہ ہیں ‘ [52-الطور:37] ‏‏‏‏ تک پہنچے تو میری حالت ہو گئی کہ گویا میرا دل اڑا جا رہا ہے }۔ [صحیح بخاری:4854] ‏‏‏‏ بدری قیدیوں میں ہی یہ سیدنا جبیر رضی اللہ عنہ آئے تھے یہ اس وقت کا واقعہ ہے جب یہ کافر تھے، قرآن پاک کی ان آیتوں کا سننا ان کے لیے اسلام کا ذریعہ بن گیا۔ پھر فرمایا ہے کیا آسمان و زمین کے پیدا کرنے والے یہ ہیں؟ یہ بھی نہیں بلکہ یہ جانتے ہوئے کہ خود ان کا اور کل مخلوقات کا بنانے والا اللہ تعالیٰ ہی ہے پھر بھی یہ اپنی بےیقینی سے باز نہیں آتے، پھر فرماتا ہے کیا دنیا میں تصرف ان کا ہے؟ کیا ہر چیز کے خزانوں کے مالک یہ ہیں؟ یا مخلوق کے محاسب یہ ہیں حقیقت میں ایسا نہیں بلکہ مالک و متصرف صرف اللہ عزوجل ہی ہے وہ قادر ہے جو چاہے کر گزرے۔

پھر فرماتا ہے کیا اونچے آسمانوں تک چڑھ جانے کا کوئی زینہ ان کے پاس ہے؟ اگر یوں ہے تو ان میں سے جو وہاں پہنچ کر کلام سن آتا ہے وہ اپنے اقوال و افعال کی کوئی آسمانی دلیل پیش کرے لیکن نہ وہ پیش کر سکتا ہے، نہ وہ کسی حقانیت کے پابند ہیں، یہ بھی ان کی بڑی بھاری غلطی ہے کہ کہتے ہیں فرشتے اللہ کی لڑکیاں ہیں، کیا مزے کی بات ہے کہ اپنے لیے تو لڑکیاں ناپسند ہیں اور اللہ تعالیٰ کے لیے ثابت کریں، انہیں اگر معلوم ہو جائے کہ ان کے ہاں لڑکی ہوئی تو غم کے مارے چہرہ سیاہ پڑ جائے اور اللہ تعالیٰ کے مقرب فرشتوں کو اس کی لڑکیاں بتائیں، اتنا ہی نہیں بلکہ ان کی پرستش کریں، پس نہایت ڈانٹ ڈپٹ کے ساتھ فرماتا ہے کیا اللہ کی لڑکیاں ہیں اور تمہارے لڑکے ہیں؟ پھر فرمایا کیا تو اپنی تبلیغ پر ان سے کچھ معاوضہ طلب کرتا ہے جو ان پر بھاری پڑے؟ یعنی نبی اللہ، دین اللہ کے پہنچانے پر کسی سے کوئی اجرت نہیں مانگتے پھر انہیں یہ پہنچانا کیوں بھاری پڑتا ہے؟ کیا یہ لوگ غیب دان ہیں؟ نہیں! بلکہ زمین و آسمان کی تمام مخلوق میں سے کوئی بھی غیب کی باتیں نہیں جانتا۔ کیا یہ لوگ دین اللہ اور رسول اللہ کی نسبت بکواس کر کے خود رسول کو مومنوں اور عام لوگوں کو دھوکا دینا چاہتے ہیں؟ یاد رکھو یہی دھوکے باز دھوکے میں رہ جائیں گے اور اخروی عذاب سمیٹیں گے۔ پھر فرمایا کیا اللہ کے سوا ان کے اور معبود ہیں؟ اللہ کی عبادت میں بتوں کو اور دوسری چیزوں کو یہ کیوں شریک کرتے ہیں؟ اللہ تو شرکت سے مبرا، شرک سے پاک اور مشرکوں کے اس فعل سے سخت بیزار ہے۔
42۔ 1 یعنی ہمارے پیغمبر کے ساتھ، جس سے اس کی ہلاکت واقع ہوجائے۔ 42۔ 1 یعنی کید ومکر ان پر ہی الٹ پڑے گا اور سارا نقصان انہیں کو ہوگا جیسے فرمایا ولا یحیق المکر السیء الا باھلہ چناچہ بدر میں یہ کافر مارے گئے اور بھی بہت سی جگہوں پر ذلت و رسوائی سے دوچار ہوئے۔
(آیت 42){ اَمْ يُرِيْدُوْنَ كَيْدًا فَالَّذِيْنَ كَفَرُوْا …: ” الْمَكِيْدُوْنَ”كَادَ يَكِيْدُ كَيْدًا“} سے اسم مفعول ہے، جو کسی کی چال میں آ چکے ہوں۔ یعنی یا وہ آپ کے خلاف کوئی چال چلنا چاہتے ہیں تو سن لیں کہ وہ لوگ جو حق کا انکار کر رہے ہیں، یا اس کے خلاف سازشیں کر رہے ہیں اور کئی طرح کی چالیں چل رہے ہیں وہ خود ہی چال میں آنے والے ہیں۔ چنانچہ کفار نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجرت کے وقت یا کسی بھی موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف جو بھی سازش کی وہ ناکام ہوئی اور ان کی ہر چال انھی پر الٹی پڑی اور کفر پر اڑنے والے بدر اور دوسرے مواقع پر بری طرح قتل ہوئے۔ سعید روحوں نے اسلام قبول کر لیا اور پورا جزیرۂ عرب اسلام کے زیر نگیں آ گیا۔
اَمۡ لَہُمۡ اِلٰہٌ غَیۡرُ اللّٰہِ ؕ سُبۡحٰنَ اللّٰہِ عَمَّا یُشۡرِکُوۡنَ ﴿۴۳﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
کیا اللہ کے سوا یہ کوئی اور معبود رکھتے ہیں؟ اللہ پاک ہے اُس شرک سے جو یہ لوگ کر رہے ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
کیا اللہ کے سوا ان کا کوئی معبود ہے؟ (ہرگز نہیں) اللہ تعالیٰ ان کے شرک سے پاک ہے
احمد رضا خان بریلوی
یا اللہ کے سوا ان کا کوئی اور خدا ہے اللہ کو پاکی ان کے شرک سے،
علامہ محمد حسین نجفی
یا اللہ کے سوا ان کا کوئی اور خدا ہے؟ پاک ہے اللہ اس شرک سے جو وہ کرتے ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
یا ان کا اللہ کے سوا کوئی معبود ہے؟ پاک ہے اللہ اس سے جو وہ شریک بناتے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
توحید ربوبیت اور الوہیت ٭٭

توحید ربوبیت اور توحید الوہیت کا ثبوت دیا جا رہا ہے، فرماتا ہے کیا یہ بغیر موجد کے موجود ہو گئے؟ یا یہ خود اپنے موجد آپ ہی ہیں؟ دراصل دونوں باتیں نہیں بلکہ ان کا خالق اللہ تعالیٰ ہے، یہ کچھ نہ تھے اللہ تعالیٰ نے انہیں پیدا کر دیا۔ { سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مغرب کی نماز میں سورۃ والطور کی تلاوت کر رہے تھے میں کان لگائے سن رہا تھا جب آپ آیت «أَمْ عِندَهُمْ خَزَائِنُ رَبِّكَ أَمْ هُمُ الْمُصَيْطِرُونَ» ’ یا کیا ان کے پاس تیرے رب کے خزانے ہیں؟ یا [ان خزانوں کے] ‏‏‏‏ یہ داروغہ ہیں ‘ [52-الطور:37] ‏‏‏‏ تک پہنچے تو میری حالت ہو گئی کہ گویا میرا دل اڑا جا رہا ہے }۔ [صحیح بخاری:4854] ‏‏‏‏ بدری قیدیوں میں ہی یہ سیدنا جبیر رضی اللہ عنہ آئے تھے یہ اس وقت کا واقعہ ہے جب یہ کافر تھے، قرآن پاک کی ان آیتوں کا سننا ان کے لیے اسلام کا ذریعہ بن گیا۔ پھر فرمایا ہے کیا آسمان و زمین کے پیدا کرنے والے یہ ہیں؟ یہ بھی نہیں بلکہ یہ جانتے ہوئے کہ خود ان کا اور کل مخلوقات کا بنانے والا اللہ تعالیٰ ہی ہے پھر بھی یہ اپنی بےیقینی سے باز نہیں آتے، پھر فرماتا ہے کیا دنیا میں تصرف ان کا ہے؟ کیا ہر چیز کے خزانوں کے مالک یہ ہیں؟ یا مخلوق کے محاسب یہ ہیں حقیقت میں ایسا نہیں بلکہ مالک و متصرف صرف اللہ عزوجل ہی ہے وہ قادر ہے جو چاہے کر گزرے۔

پھر فرماتا ہے کیا اونچے آسمانوں تک چڑھ جانے کا کوئی زینہ ان کے پاس ہے؟ اگر یوں ہے تو ان میں سے جو وہاں پہنچ کر کلام سن آتا ہے وہ اپنے اقوال و افعال کی کوئی آسمانی دلیل پیش کرے لیکن نہ وہ پیش کر سکتا ہے، نہ وہ کسی حقانیت کے پابند ہیں، یہ بھی ان کی بڑی بھاری غلطی ہے کہ کہتے ہیں فرشتے اللہ کی لڑکیاں ہیں، کیا مزے کی بات ہے کہ اپنے لیے تو لڑکیاں ناپسند ہیں اور اللہ تعالیٰ کے لیے ثابت کریں، انہیں اگر معلوم ہو جائے کہ ان کے ہاں لڑکی ہوئی تو غم کے مارے چہرہ سیاہ پڑ جائے اور اللہ تعالیٰ کے مقرب فرشتوں کو اس کی لڑکیاں بتائیں، اتنا ہی نہیں بلکہ ان کی پرستش کریں، پس نہایت ڈانٹ ڈپٹ کے ساتھ فرماتا ہے کیا اللہ کی لڑکیاں ہیں اور تمہارے لڑکے ہیں؟ پھر فرمایا کیا تو اپنی تبلیغ پر ان سے کچھ معاوضہ طلب کرتا ہے جو ان پر بھاری پڑے؟ یعنی نبی اللہ، دین اللہ کے پہنچانے پر کسی سے کوئی اجرت نہیں مانگتے پھر انہیں یہ پہنچانا کیوں بھاری پڑتا ہے؟ کیا یہ لوگ غیب دان ہیں؟ نہیں! بلکہ زمین و آسمان کی تمام مخلوق میں سے کوئی بھی غیب کی باتیں نہیں جانتا۔ کیا یہ لوگ دین اللہ اور رسول اللہ کی نسبت بکواس کر کے خود رسول کو مومنوں اور عام لوگوں کو دھوکا دینا چاہتے ہیں؟ یاد رکھو یہی دھوکے باز دھوکے میں رہ جائیں گے اور اخروی عذاب سمیٹیں گے۔ پھر فرمایا کیا اللہ کے سوا ان کے اور معبود ہیں؟ اللہ کی عبادت میں بتوں کو اور دوسری چیزوں کو یہ کیوں شریک کرتے ہیں؟ اللہ تو شرکت سے مبرا، شرک سے پاک اور مشرکوں کے اس فعل سے سخت بیزار ہے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 43) ➊ { اَمْ لَهُمْ اِلٰهٌ غَيْرُ اللّٰهِ:} یا پھر اللہ تعالیٰ کے سوا ان کا کوئی اور معبود ہے جو عبادت کا مستحق ہے اور نفع و نقصان کا اختیار رکھتا ہے۔ ➋ { سُبْحٰنَ اللّٰهِ عَمَّا يُشْرِكُوْنَ: ”مَا“} موصولہ بھی ہو سکتا ہے اور مصدریہ بھی۔ موصولہ ہو تو معنی ہے ”پاک ہے اللہ اس سے جو وہ شریک بناتے ہیں۔“ مصدریہ ہو تو معنی ہے ”پاک ہے اللہ ان کے شریک بنانے سے۔“ یعنی اللہ تعالیٰ ان کے شرک سے اور بنائے ہوئے شریکوں سے پاک ہے، اس کا کوئی شریک نہیں۔ ان لوگوں کے بنائے ہوئے معبودوں کا حقیقت میں کوئی وجود نہیں، یہ محض اپنے وہم و گمان کی پوجا کر رہے ہیں۔
وَ اِنۡ یَّرَوۡا کِسۡفًا مِّنَ السَّمَآءِ سَاقِطًا یَّقُوۡلُوۡا سَحَابٌ مَّرۡکُوۡمٌ ﴿۴۴﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
یہ لوگ آسمان کے ٹکڑے بھی گرتے ہوئے دیکھ لیں تو کہیں گے یہ بادل ہیں جو امڈے چلے آ رہے ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
اگر یہ لوگ آسمان کے کسی ٹکڑے کو گرتا ہوا دیکھ لیں تب بھی کہہ دیں کہ یہ تہ بہ تہ بادل ہے
احمد رضا خان بریلوی
اور اگر آسمان سے کوئی ٹکڑا گرتا دیکھیں تو کہیں گے تہ بہ تہ بادل ہے
علامہ محمد حسین نجفی
اور اگر وہ آسمان سے کوئی ٹکڑا گرتا ہوا دیکھیں تو کہتے ہیں کہ یہ تہہ در تہہ بادل ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اور اگر وہ آسمان سے گرتاہو ا کوئی ٹکڑا دیکھ لیں تو کہہ دیں گے یہ ایک تہ بہ تہ بادل ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
طے شدہ بدنصیب اور نشست و برخواست کے آداب ٭٭

مشرکوں اور کافروں کے عناد کا بیان ہو رہا ہے کہ یہ اپنی سرکشی، ضد اور ہٹ دھرمی میں اس قدر بڑھ گئے ہیں کہ اللہ کے عذاب کو محسوس کر لینے کے بعد بھی انہیں ایمان کی توفیق نہ ہو گی، یہ اگر دیکھ لیں گے کہ آسمان کا کوئی ٹکڑا اللہ کا عذاب بن کر ان کے سروں پر گر رہا ہے، تو بھی انہیں تصدیق و یقین نہ ہو گا بلکہ صاف کہہ دیں گے کہ غلیظ ابر ہے جو پانی برسانے کو آ رہا ہے۔ جیسے اور جگہ فرمایا «وَلَوْ فَتَحْنَا عَلَيْهِم بَابًا مِّنَ السَّمَاءِ فَظَلُّوا فِيهِ يَعْرُجُونَ» * «لَقَالُوا إِنَّمَا سُكِّرَتْ أَبْصَارُنَا بَلْ نَحْنُ قَوْمٌ مَّسْحُورُونَ» [15-الحجر:15،14] ‏‏‏‏ ’ اور اگر ہم ان پر آسمان کا دروازه کھول بھی دیں اور یہ وہاں چڑھنے بھی لگ جائیں، تب بھی یہی کہیں گے کہ ہماری نظر بندی کر دی گئی ہے بلکہ ہم لوگوں پر جادو کر دیا گیا ہے ‘، یعنی معجزات جو یہ طلب کر رہے ہیں اگر ان کی چاہت کے مطابق ہی دکھا دئیے جائیں بلکہ خود انہیں آسمانوں پر چڑھا دیا جائے جب بھی یہ کوئی بات بنا کر ٹال دیں گے اور ایمان نہ لائیں گے۔ اے نبی! آپ انہیں چھوڑ دیجئیے قیامت والے دن خود انہیں معلوم ہو جائے گا اس دن ان کی ساری فریب کاریاں دھری کی دھری رہ جائیں گی، کوئی مکاری وہاں کام نہ دے گی، چوکڑی بھول جائیں گے اور چالاکی بھول جائیں گے۔ آج جن جن کو یہ پکارتے ہیں اور اپنا مددگار جانتے ہیں اس دن سب کے منہ تکیں گے اور کوئی نہ ہو گا جو ان کی ذرا سی بھی مدد کر سکے بلکہ ان کی طرف سے کچھ عذر بھی پیش کر سکے یہی نہیں کہ انہیں صرف قیامت کے دن ہی عذاب ہو اور یہاں اطمینان و آرام کے ساتھ زندگی گزار لیں بلکہ ان ناانصافوں کے لیے اس سے پہلے دنیا میں بھی عذاب تیار ہیں۔
44۔ 1 مطلب ہے کہ اپنے کفر وعناد سے پھر بھی باز نہ آئیں گے، بلکہ ڈھٹائی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہیں گے کہ یہ عذاب نہیں، بلکہ ایک پر ایک بادل چڑھا آرہا ہے، جیسا کہ بعض موقعوں پر ایسا ہوتا ہے۔
(آیت 44) {وَ اِنْ يَّرَوْا كِسْفًا مِّنَ السَّمَآءِ سَاقِطًا …: ” كِسْفًا “} سین کی جزم کے ساتھ واحد ہے، ٹکڑا۔ بعض کہتے ہیں جمع ہے، جیسا کہ {”سِدْرَةٌ “} کی جمع {”سِدْرٌ“} ہے، ٹکڑے۔ (اعراب القرآن از درویش) یعنی ان لوگوں نے ہر قیمت پر انکار کا تہیہ کر رکھا ہے اور ایمان لانے کی شرط کے طور پر جن معجزات کا مطالبہ کرتے ہیں وہ صرف لاجواب کرنے کے لیے کرتے ہیں۔ اگر ان کے تمام طلب کردہ معجزات بھی دکھا دیے جائیں پھر بھی یہ ایمان نہیں لائیں گے۔ (دیکھیے انعام: ۱۱۔ یونس: 97،96) پھر یا تو اسے آنکھوں پر جادو کہہ کر ردّ کر دیں گے (دیکھیے حجر: ۱۵) یا کوئی اور بہانہ بنا کر ایمان لانے سے انکار کر دیں گے۔ مثلاً ان کا مطالبہ ہے کہ ہم پر آسمان کو ٹکڑے کر کے گرا دے (دیکھیے بنی اسرائیل: ۹۲) اگر ہم ان کا یہ مطالبہ بھی پورا کر دیں اور آسمان کا کوئی ٹکڑا گرا دیں تو اسے تہ بہ تہ بادل کہہ کر ایمان لانے سے انکار کر دیں گے، حالانکہ وہ دیکھ رہے ہوں گے اور انھیں یقین ہو گا کہ وہ تہ بہ تہ بادل نہیں ہے۔
فَذَرۡہُمۡ حَتّٰی یُلٰقُوۡا یَوۡمَہُمُ الَّذِیۡ فِیۡہِ یُصۡعَقُوۡنَ ﴿ۙ۴۵﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
پس اے نبیؐ، اِنہیں اِن کے حال پر چھوڑ دو یہاں تک کہ یہ اپنے اُس دن کو پہنچ جائیں جس میں یہ مار گرائے جائیں گے
مولانا محمد جوناگڑھی
تو انہیں چھوڑ دے یہاں تک کہ انہیں اس دن سے سابقہ پڑے جس میں یہ بے ہوش کر دیئے جائیں گے
احمد رضا خان بریلوی
تو تم انہیں چھوڑ دو یہاں تک کہ وہ اپنے اس دن سے ملیں جس میں بے ہوش ہوں گے
علامہ محمد حسین نجفی
پس انہیں (اپنے حال پر) چھوڑ دیجئے یہاں تک کہ وہ اپنے اس دن تک پہنچ جائیں جس میں وہ غش کھا کر گر جائیں گے۔
عبدالسلام بن محمد
پس انھیں چھوڑ دے، یہاں تک کہ وہ اپنے اس دن کو جا ملیں جس میں وہ بے ہوش کیے جائیں گے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
طے شدہ بدنصیب اور نشست و برخواست کے آداب ٭٭

مشرکوں اور کافروں کے عناد کا بیان ہو رہا ہے کہ یہ اپنی سرکشی، ضد اور ہٹ دھرمی میں اس قدر بڑھ گئے ہیں کہ اللہ کے عذاب کو محسوس کر لینے کے بعد بھی انہیں ایمان کی توفیق نہ ہو گی، یہ اگر دیکھ لیں گے کہ آسمان کا کوئی ٹکڑا اللہ کا عذاب بن کر ان کے سروں پر گر رہا ہے، تو بھی انہیں تصدیق و یقین نہ ہو گا بلکہ صاف کہہ دیں گے کہ غلیظ ابر ہے جو پانی برسانے کو آ رہا ہے۔ جیسے اور جگہ فرمایا «وَلَوْ فَتَحْنَا عَلَيْهِم بَابًا مِّنَ السَّمَاءِ فَظَلُّوا فِيهِ يَعْرُجُونَ» * «لَقَالُوا إِنَّمَا سُكِّرَتْ أَبْصَارُنَا بَلْ نَحْنُ قَوْمٌ مَّسْحُورُونَ» [15-الحجر:15،14] ‏‏‏‏ ’ اور اگر ہم ان پر آسمان کا دروازه کھول بھی دیں اور یہ وہاں چڑھنے بھی لگ جائیں، تب بھی یہی کہیں گے کہ ہماری نظر بندی کر دی گئی ہے بلکہ ہم لوگوں پر جادو کر دیا گیا ہے ‘، یعنی معجزات جو یہ طلب کر رہے ہیں اگر ان کی چاہت کے مطابق ہی دکھا دئیے جائیں بلکہ خود انہیں آسمانوں پر چڑھا دیا جائے جب بھی یہ کوئی بات بنا کر ٹال دیں گے اور ایمان نہ لائیں گے۔ اے نبی! آپ انہیں چھوڑ دیجئیے قیامت والے دن خود انہیں معلوم ہو جائے گا اس دن ان کی ساری فریب کاریاں دھری کی دھری رہ جائیں گی، کوئی مکاری وہاں کام نہ دے گی، چوکڑی بھول جائیں گے اور چالاکی بھول جائیں گے۔ آج جن جن کو یہ پکارتے ہیں اور اپنا مددگار جانتے ہیں اس دن سب کے منہ تکیں گے اور کوئی نہ ہو گا جو ان کی ذرا سی بھی مدد کر سکے بلکہ ان کی طرف سے کچھ عذر بھی پیش کر سکے یہی نہیں کہ انہیں صرف قیامت کے دن ہی عذاب ہو اور یہاں اطمینان و آرام کے ساتھ زندگی گزار لیں بلکہ ان ناانصافوں کے لیے اس سے پہلے دنیا میں بھی عذاب تیار ہیں۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 46،45) {فَذَرْهُمْ حَتّٰى يُلٰقُوْا يَوْمَهُمُ الَّذِيْ فِيْهِ يُصْعَقُوْنَ …:} اس دن سے مراد قیامت کا دن ہے جب صور میں پھونک کے ساتھ سب لوگ بے ہوش ہو کر مر جائیں گے۔ (دیکھیے سورۂ زمر: ۶۸) مزید دیکھیے سورۂ زخرف (۸۳) اور سورۂ معارج (۴۲،۴۳)۔
یَوۡمَ لَا یُغۡنِیۡ عَنۡہُمۡ کَیۡدُہُمۡ شَیۡئًا وَّ لَا ہُمۡ یُنۡصَرُوۡنَ ﴿ؕ۴۶﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
جس دن نہ اِن کی اپنی کوئی چال اِن کے کسی کام آئے گی نہ کوئی اِن کی مدد کو آئے گا
مولانا محمد جوناگڑھی
جس دن انہیں ان کا مکر کچھ کام نہ دے گا اور نہ وه مدد کیے جائیں گے
احمد رضا خان بریلوی
جس دن ان کا داؤ ں (فریب) کچھ کام نہ دے گا اور نہ ان کی مدد ہو
علامہ محمد حسین نجفی
جس دن ان کی کوئی چال ان کے کسی کام نہ آئے گی اور نہ ہی ان کی کوئی مدد کی جائے گی۔
عبدالسلام بن محمد
جس دن نہ ان کی چال ان کے کسی کام آئے گی اور نہ ان کی مدد کی جائے گی۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
طے شدہ بدنصیب اور نشست و برخواست کے آداب ٭٭

مشرکوں اور کافروں کے عناد کا بیان ہو رہا ہے کہ یہ اپنی سرکشی، ضد اور ہٹ دھرمی میں اس قدر بڑھ گئے ہیں کہ اللہ کے عذاب کو محسوس کر لینے کے بعد بھی انہیں ایمان کی توفیق نہ ہو گی، یہ اگر دیکھ لیں گے کہ آسمان کا کوئی ٹکڑا اللہ کا عذاب بن کر ان کے سروں پر گر رہا ہے، تو بھی انہیں تصدیق و یقین نہ ہو گا بلکہ صاف کہہ دیں گے کہ غلیظ ابر ہے جو پانی برسانے کو آ رہا ہے۔ جیسے اور جگہ فرمایا «وَلَوْ فَتَحْنَا عَلَيْهِم بَابًا مِّنَ السَّمَاءِ فَظَلُّوا فِيهِ يَعْرُجُونَ» * «لَقَالُوا إِنَّمَا سُكِّرَتْ أَبْصَارُنَا بَلْ نَحْنُ قَوْمٌ مَّسْحُورُونَ» [15-الحجر:15،14] ‏‏‏‏ ’ اور اگر ہم ان پر آسمان کا دروازه کھول بھی دیں اور یہ وہاں چڑھنے بھی لگ جائیں، تب بھی یہی کہیں گے کہ ہماری نظر بندی کر دی گئی ہے بلکہ ہم لوگوں پر جادو کر دیا گیا ہے ‘، یعنی معجزات جو یہ طلب کر رہے ہیں اگر ان کی چاہت کے مطابق ہی دکھا دئیے جائیں بلکہ خود انہیں آسمانوں پر چڑھا دیا جائے جب بھی یہ کوئی بات بنا کر ٹال دیں گے اور ایمان نہ لائیں گے۔ اے نبی! آپ انہیں چھوڑ دیجئیے قیامت والے دن خود انہیں معلوم ہو جائے گا اس دن ان کی ساری فریب کاریاں دھری کی دھری رہ جائیں گی، کوئی مکاری وہاں کام نہ دے گی، چوکڑی بھول جائیں گے اور چالاکی بھول جائیں گے۔ آج جن جن کو یہ پکارتے ہیں اور اپنا مددگار جانتے ہیں اس دن سب کے منہ تکیں گے اور کوئی نہ ہو گا جو ان کی ذرا سی بھی مدد کر سکے بلکہ ان کی طرف سے کچھ عذر بھی پیش کر سکے یہی نہیں کہ انہیں صرف قیامت کے دن ہی عذاب ہو اور یہاں اطمینان و آرام کے ساتھ زندگی گزار لیں بلکہ ان ناانصافوں کے لیے اس سے پہلے دنیا میں بھی عذاب تیار ہیں۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(1) «وان للذین ظلموا عذاباً دون ذلک» : یعنی کفار کے لئے قیامت سے پہلے بھی ایک عذاب ہے۔ اس سے مراد دنیا میں آنے والے عذاب ہیں۔ دیکھیے سورة توبہ [١٢٦] اور سورة سجدہ [٢١] کی تفسیر۔ (2) «‏‏‏‏ولکن اکثرھم لایعلمون» : یعنی دنیا میں ان پر مختلف مصیبتیں اور عذب آتے ہیں، جن کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ وہ پلٹ آئیں اور توبہ کر لیں، مگر ان میں سے زیادہ تر لوگ نہیں جانتے کہ ہم پر یہ مصیبتیں کیوں آئیں۔ اس لئے جیسے ہی گرفت ڈھیلی ہوتی ہے پہلے کی طرح بلکہ اس سے بھی زیادہ نافرمان بن جاتے ہیں اور عذاب کو نہ عذاب سمجھتے ہیں نہ تنبیہ، بلکہ وہ عذاب کا کوئی سائنسی سبب اور نافرمانی پر جمے رہنے کا کوئی نہ کوئی بہانہ ڈھونڈ لیتے ہیں۔ بعض اہل علم نے یہاں «ون ذلک» ”قیامت سے پہلے“ کے الفاظ میں دنیا کے عذابوں کے علاوہ موت کے فرشتوں کی مار کو اور عذاب قبر کو بھی شامل فرمایا ہے۔
وَ اِنَّ لِلَّذِیۡنَ ظَلَمُوۡا عَذَابًا دُوۡنَ ذٰلِکَ وَ لٰکِنَّ اَکۡثَرَہُمۡ لَا یَعۡلَمُوۡنَ ﴿۴۷﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اور اُس وقت کے آنے سے پہلے بھی ظالموں کے لیے ایک عذاب ہے، مگر اِن میں سے اکثر جانتے نہیں ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
بیشک ﻇالموں کے لیے اس کے علاوه اور عذاب بھی ہیں۔ لیکن ان لوگوں میں سے اکثر بےعلم ہیں
احمد رضا خان بریلوی
اور بیشک ظالموں کے لیے اس سے پہلے ایک عذاب ہے مگر ان میں اکثر کو خبر نہیں
علامہ محمد حسین نجفی
بےشک جو لوگ ظالم ہیں ان کیلئے اس سے پہلے (دنیا میں) بھی ایک عذاب ہے لیکن ان میں سے اکثر جانتے نہیں ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
اور یقینا ان لوگوں کے لیے جنھوں نے ظلم کیا، اس (آخرت) سے پہلے بھی ایک عذاب ہے، اور لیکن ان کے اکثر نہیں جانتے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
ظالموں کا حال ٭٭

جیسے اور جگہ فرمان ہے «وَلَنُذِيقَنَّهُم مِّنَ الْعَذَابِ الْأَدْنَى دُونَ الْعَذَابِ الْأَكْبَرِ لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُونَ» [32-السجدة:21] ‏‏‏‏ یعنی ’ بالیقین ہم انہیں قریب کے چھوٹے سے بعض عذاب اس بڑے عذاب کے سوا چکھائیں گے تاکہ وه لوٹ آئیں ‘ لیکن ان میں سے اکثر بےعلم ہیں نہیں جانتے کہ یہ دنیوی مصیبتوں میں بھی مبتلا ہوں گے اور اللہ کی نافرمانیاں رنگ لائیں گی۔ یہی بےعلمی ہے جو انہیں اس بات پر آمادہ کرتی ہے کہ گناہ پر گناہ، ظلم پر ظلم کرتے جائیں۔ پکڑے جانے پر عبرت حاصل ہوتی ہے لیکن جیسے ہی پکڑ ہٹی یہ پھر ویسے کے ویسے، سخت دل بدکار بن گئے۔ بعض احادیث میں ہے کہ منافق کی مثال اونٹ کی سی ہے جس طرح اونٹ نہیں جانتا کہ اسے کیوں باندھا اور کیوں کھولا؟ [سنن ابوداود:3089،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏‏‏‏ اسی طرح منافق بھی نہیں جانتا کہ کیوں بیمار کیا گیا؟ اور کیوں تندرست کر دیا گیا؟ اثر الٰہی میں ہے کہ میں کتنی ایک تیری نافرمانیاں کروں گا اور تو مجھے سزا نہ دے گا اللہ تعالیٰ نے فرمایا اے میرے بندے کتنی مرتبہ میں نے تجھے عافیت دی اور تجھے علم بھی نہ ہوا۔
(1) یعنی دنیا میں، جیسے دوسرے مقام پر فرمایا (وَلَنُذِيْـقَنَّهُمْ مِّنَ الْعَذَابِ الْاَدْنٰى دُوْنَ الْعَذَابِ الْاَكْبَرِ لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُوْنَ) 32۔ السجدہ:21) 47۔ 2 اس بات سے کہ دنیا کے یہ عذاب اور مصائب، اس لئے ہیں تاکہ انسان اللہ کی طرف رجوع کریں یہ نکتہ چونکہ نہیں سمجھتے اس لئے گناہوں سے تائب نہیں ہوتے بلکہ بعض دفعہ پہلے سے بھی زیادہ گناہ کرنے لگ جاتے ہیں۔ جس طرح ایک حدیث میں فرمایا کہ ' منافق جب بیمار ہو کر صحت مند ہوجاتا ہے تو اسکی مثال اونٹ کی سی ہے۔ وہ نہیں جانتا کہ اسے کیوں رسیوں سے باندھا گیا۔ اور کیوں کھلا چھوڑ دیا گیا؟ (ابوداؤد کتاب الجنائز نمبر 389)
(آیت 47) ➊ {وَ اِنَّ لِلَّذِيْنَ ظَلَمُوْا عَذَابًا دُوْنَ ذٰلِكَ:} یعنی کفار کے لیے قیامت سے پہلے بھی ایک عذاب ہے۔ اس سے مراد دنیا میں آنے والے عذاب ہیں۔ دیکھیے سورۂ توبہ (۱۲۶) اور سورۂ سجدہ (۲۱) کی تفسیر۔ ➋ { وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ لَا يَعْلَمُوْنَ:} یعنی دنیا میں ان پر مختلف مصیبتیں اور عذاب آتے ہیں، جن کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ وہ پلٹ آئیں اور توبہ کر لیں، مگر ان میں سے زیادہ تر لوگ نہیں جانتے کہ ہم پر یہ مصیبتیں کیوں آئیں۔ اس لیے جیسے ہی گرفت ڈھیلی ہوتی ہے پہلے کی طرح بلکہ اس سے بھی زیادہ نافرمان بن جاتے ہیں اور عذاب کو نہ عذاب سمجھتے ہیں نہ تنبیہ، بلکہ وہ عذاب کا کوئی سائنسی سبب اور نافرمانی پر جمے رہنے کا کوئی نہ کوئی بہانہ ڈھونڈ لیتے ہیں۔ بعض اہلِ علم نے یہاں {” دُوْنَ ذٰلِكَ “} (قیامت سے پہلے) کے الفاظ میں دنیا کے عذابوں کے علاوہ موت کے فرشتوں کی مار کو اور عذابِ قبر کو بھی شامل فرمایا ہے۔
وَ اصۡبِرۡ لِحُکۡمِ رَبِّکَ فَاِنَّکَ بِاَعۡیُنِنَا وَ سَبِّحۡ بِحَمۡدِ رَبِّکَ حِیۡنَ تَقُوۡمُ ﴿ۙ۴۸﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اے نبیؐ، اپنے رب کا فیصلہ آنے تک صبر کرو، تم ہماری نگاہ میں ہو تم جب اٹھو تو اپنے رب کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح کرو
مولانا محمد جوناگڑھی
تو اپنے رب کے حکم کے انتظار میں صبر سے کام لے، بیشک تو ہماری آنکھوں کے سامنے ہے۔ صبح کو جب تو اٹھے اپنے رب کی پاکی اور حمد بیان کر
احمد رضا خان بریلوی
اور اے محبوب! تم اپنے رب کے حکم پر ٹھہرے رہو کہ بیشک تم ہماری نگہداشت میں ہو اور اپنے رب کی تعریف کرتے ہوئے اس کی پاکی بولو جب تم کھڑے ہو
علامہ محمد حسین نجفی
آپ(ص) اپنے پروردگار کے فیصلے کیلئے صبر کیجئے! آپ(ص) ہماری نظروں (نگہبانی) میں ہیں آپ(ص) اپنے پروردگار کی تسبیح کیجئے اس کی حمد کے ساتھ۔
عبدالسلام بن محمد
اور اپنے رب کا حکم آنے تک صبر کر، پس بے شک تو ہماری آنکھوں کے سامنے ہے اور اپنے رب کی تعریف کے ساتھ تسبیح کر جب توکھڑا ہو۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
حمد باری کا حکم ٭٭

پھر فرماتا ہے کہ اے نبی! آپ صبر کیجئے ان کی ایذاء دہی سے تنگ دل نہ ہو جائیے، ان کی طرف سے کوئی خطرہ بھی دل میں نہ لائیے، سنئیے آپ ہماری حفاظت میں ہیں، آپ ہماری آنکھوں کے سامنے ہیں، آپ کی نگہبانی کے ذمہ دار ہم ہیں، تمام دشمنوں سے آپ کو بچانا ہمارے سپرد ہے، پھر حکم دیتا ہے کہ جب آپ کھڑے ہوں تو اللہ کی پاکی اور تعریف بیان کیجئے اس کا ایک مطلب یہ کیا گیا ہے کہ جب رات کو جاگیں۔ دونوں مطلب درست ہیں چنانچہ ایک حدیث میں ہے کہ { نماز کو شروع کرتے ہی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے «سُبْحَانَکَ اللّٰهُمَّ وَبِحَمْدِکَ، وَتَبَارَکَ اسْمُکَ، وَتَعَالٰی جَدُّکَ، وَلَا اِلٰهَ غَيْرُکَ» یعنی اے اللہ تو پاک ہے تمام تعریفوں کا مستحق ہے تیرا نام برکتوں والا ہے تیری بزرگی بہت بلند و بالا ہے، تیرے سوا معبود برحق کوئی اور نہیں }۔ مسند احمد اور سنن میں بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ کہنا مروی ہے۔ مسند احمد میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص رات کو جاگے اور کہے «لا إله إلا الله وحده لا شريك له،‏‏‏‏ له الملك،‏‏‏‏ وله الحمد،‏‏‏‏ وهو على كل شىء قدير‏.‏ الحمد لله،‏‏‏‏ وسبحان الله،‏‏‏‏ ولا إله إلا الله،‏‏‏‏ والله أكبر،‏‏‏‏ ولا حول ولا قوة إلا بالله‏» پھر خواہ اپنے لیے بخشش کی دعا کرے خواہ جو چاہے طلب کرے اللہ تعالیٰ اس کی دعا قبول فرماتا ہے پھر اگر اس نے پختہ ارادہ کیا اور وضو کر کے نماز بھی ادا کی تو وہ نماز قبول کی جاتی ہے۔ یہ حدیث صحیح بخاری شریف میں اور سنن میں بھی ہے“ }۔ [صحیح بخاری:1154] ‏‏‏‏

مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں اللہ کی تسبیح اور حمد کے بیان کرنے کا حکم ہر مجلس سے کھڑے ہونے کے وقت ہے۔ ابوالاحوص رحمہ اللہ کا قول بھی یہی ہے کہ جب مجلس سے اٹھنا چاہے یہ پڑھے «سُبْحَانَکَ اللّٰهُمَّ وَبِحَمْدِکَ» عطا بن ابورباح رحمہ اللہ بھی یہی فرماتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ اگر اس مجلس میں نیکی ہوئی ہے تو وہ اور بڑھ جاتی ہے اور اگر کچھ اور ہوا ہے تو یہ کلمہ اس کا کفارہ ہو جاتا ہے۔ جامع عبدالرزاق میں ہے کہ { جبرائیل علیہ السلام نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو تعلیم دی کہ جب کبھی کسی مجلس سے کھڑے ہوں تو «سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وبَحَمْدكَ أشْهدُ أنْ لا إلهَ إلا أنْتَ أَسْتَغْفِرُكَ وأتُوبُ إِلَيْكَ» پڑھو۔ اس کے راوی معمر رحمہ اللہ فرماتے ہیں میں نے یہ بھی سنا ہے کہ یہ قول اس مجلس کا کفارہ ہو جاتا ہے }۔ [عبدالرزاق:19796مرسل] ‏‏‏‏ یہ حدیث تو مرسل ہے لیکن مسند حدیثیں بھی اس بارے میں بہت سی مروی ہیں جن کی سندیں ایک دوسری کو تقویت پہنچاتی ہیں۔ ایک حدیث میں ہے { جو شخص کسی مجلس میں بیٹھے وہاں کچھ بک جھک ہو اور کھڑا ہونے سے پہلے ان کلمات کو کہہ لے تو اس مجلس میں جو کچھ ہوا ہے اس کا کفارہ ہو جاتا ہے }۔ [سنن ترمذي:3433،قال الشيخ الألباني:حسن] ‏‏‏‏ اس حدیث کو امام ترمذی حسن صحیح کہتے ہیں۔ امام حاکم اسے مستدرک میں روایت کر کے فرماتے ہیں اس کی سند شرط مسلم پر ہے، ہاں امام بخاری نے اس میں علت نکالی ہے، میں کہتا ہوں امام احمد، امام مسلم، امام ابوحاتم، امام ابوزرعہ، امام دارقطنی رحمہم اللہ وغیرہ نے بھی اسے معلول کہا ہے اور وہم کی نسبت ابن جریج کی طرف کی ہے مگر یہ روایت ابوداؤد میں جس سند سے مروی ہے اس میں ابن جریج رحمہ اللہ ہیں ہی نہیں، اور حدیث میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی آخری عمر میں جس مجلس سے کھڑے ہوتے ان کلمات کو کہتے بلکہ ایک شخص نے پوچھا بھی کہ یا رسول اللہ! آپ اس سے پہلے تو اسے نہیں کہتے تھے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجلس میں جو کچھ ہوا ہو یہ کلمات اس کا کفارہ ہو جاتے ہیں“ }، یہ روایت مرسل سند سے بھی ابوالعالیہ رحمہ اللہ سے مروی ہے «واللہ اعلم» نسائی وغیرہ۔ [سنن ابوداود:4859،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏

سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں یہ کلمات ایسے ہیں کہ جو انہیں مجلس سے اٹھتے وقت تین مرتبہ کہہ لے اس کے لیے یہ کفارہ ہو جاتے ہیں، مجلس خیر اور مجلس ذکر میں انہیں کہنے سے یہ مثل مہر کے ہو جاتے ہیں [ ابوداؤد وغیرہ ] ‏‏‏‏ الحمداللہ میں نے ایک علیحدہ جزو میں ان تمام احادیث کو ان کے الفاظ کو اور ان کی سندوں کو جمع کر دیا ہے اور ان کی علتیں بھی بیان کر دی ہیں اور اس کے متعلق جو کچھ لکھنا تھا لکھ دیا ہے۔ پھر ارشاد ہوتا ہے کہ رات کے وقت اس کی یاد اور اس کی عبادت تلاوت اور نماز کے ساتھ کرتے رہو جیسے فرمان ہے «وَمِنَ اللَّيْلِ فَتَهَجَّدْ بِهِ نَافِلَةً لَّكَ عَسَى أَن يَبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامًا مَّحْمُودًا» [17-الإسراء:79] ‏‏‏‏ رات کے وقت تہجد پڑھا کرو، یہ تیرے لیے نفل ہے، ممکن ہے تیرا رب تجھے مقام محمود پر اٹھائے۔ ستاروں کے ڈوبتے وقت سے مراد صبح کی فرض نماز سے پہلے کی دو رکعتیں ہیں کہ وہ دونوں ستاروں کے غروب ہونے کے لیے جھک جانے کے وقت پڑھی جاتی ہیں چنانچہ ایک مرفوع حدیث میں ہے ان سنتوں کو نہ چھوڑو گو تمہیں گھوڑے کچل ڈالیں۔ [سنن ابوداود:1258،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏‏‏‏ اسی حدیث پر نظریں رکھ کر امام احمد رحمہ اللہ کے بعض اصحاب نے تو انہیں واجب کہا ہے لیکن یہ ٹھیک نہیں، اس لیے کہ حدیث میں ہے دن رات میں پانچ نمازیں ہیں، سننے والے نے کہا: کیا مجھ پر اس کے سوا اور کچھ بھی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں مگر یہ کہ تو نفل ادا کرے۔‏‏‏‏“ [صحیح بخاری:1891] ‏‏‏‏ بخاری و مسلم میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نوافل میں سے کسی نفل کی بہ نسبت صبح کی دو سنتوں کے زیادہ پابندی اور نگرانی نہ کرتے تھے۔ [صحیح بخاری:1169] ‏‏‏‏ صحیح مسلم شریف میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”صبح کے فرضوں سے پہلے یہ دو سنتیں ساری دنیا سے اور جو کچھ اس میں ہے اس سے بہتر ہیں“ }۔ [صحیح مسلم:96] ‏‏‏‏ «الحمداللہ» سورۃ الطور کی تفسیر پوری ہوئی۔
48۔ 1 اس کھڑے ہونے سے کونسا کھڑا ہونا مراد ہے؟ بعض کہتے ہیں جب نماز کے لئے کھڑے ہوں جیسے آغاز نماز میں سُبْحَانَکَ اللّٰھُمَّ وَ بِحَمْدِکَ پڑھی جاتی ہے۔ بعض کہتے ہیں کہ جب کسی مجلس میں کھڑے ہوں جیسے حدیث میں آتا ہے جو شخص کسی مجلس سے اٹھتے وقت یہ دعا پڑھ لے تو یہ اسکی مجلس کے گناہوں کا کفارہ ہوجائے گا۔ سبحانک اللہم وبحمدک اشھد ان لا الہ انت أستغفرک واتوب الیک۔
(آیت 48) ➊ {وَ اصْبِرْ لِحُكْمِ رَبِّكَ:} یہاں ”لام“ {”عَلٰي“} کے معنی میں ہو تو مطلب یہ ہے کہ اپنے رب کے حکم پر عمل کرنے میں صبر و استقامت اختیار کرو اور دعوت کا کام جاری رکھو، جیسے فرمایا: «‏‏‏‏وَ اصْبِرْ عَلٰى مَا يَقُوْلُوْنَ» ‏‏‏‏ [ المزمل: ۱۰ ] ”اور اس پر صبر کر جو وہ کہتے ہیں۔“ اور اگر {”إِلٰي“} کے معنی میں ہو تو مطلب یہ ہے کہ ان ظالموں کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا فیصلہ آنے تک صبر کرو، جیسا کہ فرمایا: «‏‏‏‏وَ اصْبِرْ حَتّٰى يَحْكُمَ اللّٰهُ» [یونس: ۱۰۹] ”اور صبر کر یہاں تک کہ اللہ فیصلہ کر دے۔“ اس مقام پر حرف ”لام“ لانے سے ایسا جامع مفہوم پیدا ہو رہا ہے جو کوئی اور حرف لانے سے پیدا نہیں ہوتا۔ {”وَاصْبِرْ لِحُكْمِنَا “} (اور ہمارے حکم پر صبر کر) کے بجائے فرمایا: «وَ اصْبِرْ لِحُكْمِ رَبِّكَ» ‏‏‏‏ (اور اپنے رب کے حکم پر صبر کر) مطلب یہ ہے کہ اس کے رب ہونے کا تقاضا ہے کہ وہ تیری نگہداشت اور حفاظت کرے۔ ➋ { فَاِنَّكَ بِاَعْيُنِنَا:} کیونکہ تو ہماری آنکھوں کے سامنے ہے، ہم ہر وقت تجھے دیکھ رہے ہیں اور تیری نگرانی اور حفاظت کر رہے ہیں، کسی کی مجال نہیں کہ تجھے نقصان پہنچا سکے۔ مزید دیکھیے سورۂ ہود (۳۷)۔ ➌ { وَ سَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ:} صبر کے ساتھ تسبیح و تحمید یعنی نماز کی تاکید فرمائی، کیونکہ ان دونوں کے ساتھ آدمی کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے مدد حاصل ہوتی ہے، جیسا کہ فرمایا: «‏‏‏‏وَ اسْتَعِيْنُوْا بِالصَّبْرِ وَ الصَّلٰوةِ» [ البقرۃ: ۴۵ ] ”اور صبر اور نماز کے ساتھ مدد طلب کرو۔“ ➍ {” سَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ “ } کا لفظی معنی اگرچہ یہ ہے کہ ”اپنے رب کی حمد کے ساتھ تسبیح کر“ مگر اس سے مراد نماز ہے۔ دلیل اور تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ طٰہٰ (۱۳۰) کی تفسیر۔ ➎ {حِيْنَ تَقُوْمُ:} اکثر مفسرین نے {” سَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ “} سے ”سبحان الله“ اور ”الحمد لله“ کہنا مراد لیا ہے اور {” حِيْنَ تَقُوْمُ “} سے مراد بعض نے یہ لیا ہے کہ نیند کے بعد بستر سے اٹھتے وقت {”سُبْحَانَ اللّٰهِ،اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ“ } کہو۔ بعض نے اس سے مجلس سے اٹھتے وقت کفارۂ مجلس کی دعا {” سُبْحَانَكَ اللّٰهُمَّ وَبِحَمْدِكَ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلٰهَ إِلاَّ أَنْتَ أَسْتَغْفِرُكَ وَ أَتُوْبُ إِلَيْكَ “} مراد لی ہے اور بعض نے فرمایا کہ اس سے مراد نماز شروع کرتے وقت {”سُبْحَانَكَ اللّٰهُمَّ وَبِحَمْدِكَ“ } (دعائے استفتاح) ہے۔ بعض نے کہا کہ ہر خطاب کے لیے کھڑے ہوتے وقت تسبیح و تحمید کرنا مراد ہے۔ مگر انھی مفسرین نے اگلی آیت {” وَ مِنَ الَّيْلِ فَسَبِّحْهُ “} میں تسبیح سے مراد نمازِ تہجد اور {” وَ اِدْبَارَ النُّجُوْمِ “} سے مراد نمازِ فجر لی ہے۔ حق یہ ہے کہ {”سَبَّحَ“} کا جو معنی {” مِنَ الَّيْلِ “} اور {” اِدْبَارَ النُّجُوْمِ “} کے ساتھ کیا گیا ہے وہی معنی {” حِيْنَ تَقُوْمُ “} کے ساتھ ہونا چاہیے۔ طبری نے یہاں پہلے دو قول ذکر فرمائے ہیں، ایک یہ کہ نیند سے اٹھ کر تسبیح و تحمید کرے، دوسرا یہ کہ جب فرض نماز کے لیے کھڑا ہو تو {”سُبْحَانَكَ اللّٰهُمَّ وَبِحَمْدِك…“} دعا پڑھے۔ پھر فرمایا: ”صواب کے سب سے زیادہ قریب ان کا قول ہے جو کہتے ہیں کہ {” سَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ “} کا معنی ہے {”صَلِّ بِحَمْدِ رَبِّكَ حِيْنَ تَقُوْمُ مِنْ مَنَامِكَ وَ ذٰلِكَ نَوْمُ الْقَائِلَةِ، وَ إِنَّمَا عَنٰي صَلَاةَ الظُّهْرِ“} یعنی اپنے رب کی حمد کے ساتھ نماز پڑھ جب تو اپنی نیند سے اٹھے۔ نیند سے مراد دوپہر کی نیند ہے اور نماز سے مراد ظہر کی نماز ہے۔“ فرماتے ہیں: ”ہم نے اس قول کو اس لیے ترجیح دی ہے کہ نماز شروع کرتے وقت {”سُبْحَانَكَ اللّٰهُمَّ“} پڑھنا کسی کے نزدیک بھی فرض نہیں اور ہم نے دوپہر کی نیند سے اٹھنا اس لیے مراد لیا ہے کہ لوگوں کا معروف نیند سے اٹھنا یا تو رات کی نیند کے بعد ہوتا ہے اور وہ نمازِ فجر کا وقت ہے یا دوپہر کی نیند کے بعد ہوتا ہے اور وہ نمازِ ظہر کا وقت ہے۔ تو جب {” سَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ حِيْنَ تَقُوْمُ “} کے بعد {” اِدْبَارَ النُّجُوْمِ “} کے وقت تسبیح کا حکم دیا جو رات کی نیند سے اٹھ کر نمازِ فجر کی دو رکعتیں ہیں، تو معلوم ہوا کہ {” حِيْنَ تَقُوْمُ “} سے مراد وہ نماز ہے جو رات کی نیند سے اٹھنے کے علاوہ ہے اور وہ نمازِ ظہر ہے۔ “ (طبری) بعض حضرات نے لکھا ہے کہ طبری نے اس قول کو ترجیح دی ہے کہ {” حِيْنَ تَقُوْمُ “} سے مراد نیند سے اٹھ کر تسبیح و تحمید ہے، لیکن اوپر کی تفصیل سے معلوم ہوا کہ طبری کی ترجیح یہ نہیں ہے۔
وَ مِنَ الَّیۡلِ فَسَبِّحۡہُ وَ اِدۡبَارَ النُّجُوۡمِ ﴿٪۴۹﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
رات کو بھی اس کی تسبیح کیا کرو اور ستارے جب پلٹتے ہیں اُس وقت بھی
مولانا محمد جوناگڑھی
اور رات کو بھی اس کی تسبیح پڑھ اور ستاروں کے ڈوبتے وقت بھی
احمد رضا خان بریلوی
اور کچھ رات میں اس کی پاکی بولو اور تاروں کے پیٹھ دیتے
علامہ محمد حسین نجفی
جس وقت آپ(ص) اٹھتے ہیں اوررات کے کچھ حصہ میں بھی اس کی تسبیح کریں اور ستاروں کے پیچھے ہٹتے وقت بھی۔
عبدالسلام بن محمد
اور رات کے کچھ حصے میں پھر اس کی تسبیح کر اور ستاروں کے جانے کے بعد بھی۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
حمد باری کا حکم ٭٭

پھر فرماتا ہے کہ اے نبی! آپ صبر کیجئے ان کی ایذاء دہی سے تنگ دل نہ ہو جائیے، ان کی طرف سے کوئی خطرہ بھی دل میں نہ لائیے، سنئیے آپ ہماری حفاظت میں ہیں، آپ ہماری آنکھوں کے سامنے ہیں، آپ کی نگہبانی کے ذمہ دار ہم ہیں، تمام دشمنوں سے آپ کو بچانا ہمارے سپرد ہے، پھر حکم دیتا ہے کہ جب آپ کھڑے ہوں تو اللہ کی پاکی اور تعریف بیان کیجئے اس کا ایک مطلب یہ کیا گیا ہے کہ جب رات کو جاگیں۔ دونوں مطلب درست ہیں چنانچہ ایک حدیث میں ہے کہ { نماز کو شروع کرتے ہی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے «سُبْحَانَکَ اللّٰهُمَّ وَبِحَمْدِکَ، وَتَبَارَکَ اسْمُکَ، وَتَعَالٰی جَدُّکَ، وَلَا اِلٰهَ غَيْرُکَ» یعنی اے اللہ تو پاک ہے تمام تعریفوں کا مستحق ہے تیرا نام برکتوں والا ہے تیری بزرگی بہت بلند و بالا ہے، تیرے سوا معبود برحق کوئی اور نہیں }۔ مسند احمد اور سنن میں بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ کہنا مروی ہے۔ مسند احمد میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص رات کو جاگے اور کہے «لا إله إلا الله وحده لا شريك له،‏‏‏‏ له الملك،‏‏‏‏ وله الحمد،‏‏‏‏ وهو على كل شىء قدير‏.‏ الحمد لله،‏‏‏‏ وسبحان الله،‏‏‏‏ ولا إله إلا الله،‏‏‏‏ والله أكبر،‏‏‏‏ ولا حول ولا قوة إلا بالله‏» پھر خواہ اپنے لیے بخشش کی دعا کرے خواہ جو چاہے طلب کرے اللہ تعالیٰ اس کی دعا قبول فرماتا ہے پھر اگر اس نے پختہ ارادہ کیا اور وضو کر کے نماز بھی ادا کی تو وہ نماز قبول کی جاتی ہے۔ یہ حدیث صحیح بخاری شریف میں اور سنن میں بھی ہے“ }۔ [صحیح بخاری:1154] ‏‏‏‏

مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں اللہ کی تسبیح اور حمد کے بیان کرنے کا حکم ہر مجلس سے کھڑے ہونے کے وقت ہے۔ ابوالاحوص رحمہ اللہ کا قول بھی یہی ہے کہ جب مجلس سے اٹھنا چاہے یہ پڑھے «سُبْحَانَکَ اللّٰهُمَّ وَبِحَمْدِکَ» عطا بن ابورباح رحمہ اللہ بھی یہی فرماتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ اگر اس مجلس میں نیکی ہوئی ہے تو وہ اور بڑھ جاتی ہے اور اگر کچھ اور ہوا ہے تو یہ کلمہ اس کا کفارہ ہو جاتا ہے۔ جامع عبدالرزاق میں ہے کہ { جبرائیل علیہ السلام نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو تعلیم دی کہ جب کبھی کسی مجلس سے کھڑے ہوں تو «سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وبَحَمْدكَ أشْهدُ أنْ لا إلهَ إلا أنْتَ أَسْتَغْفِرُكَ وأتُوبُ إِلَيْكَ» پڑھو۔ اس کے راوی معمر رحمہ اللہ فرماتے ہیں میں نے یہ بھی سنا ہے کہ یہ قول اس مجلس کا کفارہ ہو جاتا ہے }۔ [عبدالرزاق:19796مرسل] ‏‏‏‏ یہ حدیث تو مرسل ہے لیکن مسند حدیثیں بھی اس بارے میں بہت سی مروی ہیں جن کی سندیں ایک دوسری کو تقویت پہنچاتی ہیں۔ ایک حدیث میں ہے { جو شخص کسی مجلس میں بیٹھے وہاں کچھ بک جھک ہو اور کھڑا ہونے سے پہلے ان کلمات کو کہہ لے تو اس مجلس میں جو کچھ ہوا ہے اس کا کفارہ ہو جاتا ہے }۔ [سنن ترمذي:3433،قال الشيخ الألباني:حسن] ‏‏‏‏ اس حدیث کو امام ترمذی حسن صحیح کہتے ہیں۔ امام حاکم اسے مستدرک میں روایت کر کے فرماتے ہیں اس کی سند شرط مسلم پر ہے، ہاں امام بخاری نے اس میں علت نکالی ہے، میں کہتا ہوں امام احمد، امام مسلم، امام ابوحاتم، امام ابوزرعہ، امام دارقطنی رحمہم اللہ وغیرہ نے بھی اسے معلول کہا ہے اور وہم کی نسبت ابن جریج کی طرف کی ہے مگر یہ روایت ابوداؤد میں جس سند سے مروی ہے اس میں ابن جریج رحمہ اللہ ہیں ہی نہیں، اور حدیث میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی آخری عمر میں جس مجلس سے کھڑے ہوتے ان کلمات کو کہتے بلکہ ایک شخص نے پوچھا بھی کہ یا رسول اللہ! آپ اس سے پہلے تو اسے نہیں کہتے تھے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجلس میں جو کچھ ہوا ہو یہ کلمات اس کا کفارہ ہو جاتے ہیں“ }، یہ روایت مرسل سند سے بھی ابوالعالیہ رحمہ اللہ سے مروی ہے «واللہ اعلم» نسائی وغیرہ۔ [سنن ابوداود:4859،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏

سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں یہ کلمات ایسے ہیں کہ جو انہیں مجلس سے اٹھتے وقت تین مرتبہ کہہ لے اس کے لیے یہ کفارہ ہو جاتے ہیں، مجلس خیر اور مجلس ذکر میں انہیں کہنے سے یہ مثل مہر کے ہو جاتے ہیں [ ابوداؤد وغیرہ ] ‏‏‏‏ الحمداللہ میں نے ایک علیحدہ جزو میں ان تمام احادیث کو ان کے الفاظ کو اور ان کی سندوں کو جمع کر دیا ہے اور ان کی علتیں بھی بیان کر دی ہیں اور اس کے متعلق جو کچھ لکھنا تھا لکھ دیا ہے۔ پھر ارشاد ہوتا ہے کہ رات کے وقت اس کی یاد اور اس کی عبادت تلاوت اور نماز کے ساتھ کرتے رہو جیسے فرمان ہے «وَمِنَ اللَّيْلِ فَتَهَجَّدْ بِهِ نَافِلَةً لَّكَ عَسَى أَن يَبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامًا مَّحْمُودًا» [17-الإسراء:79] ‏‏‏‏ رات کے وقت تہجد پڑھا کرو، یہ تیرے لیے نفل ہے، ممکن ہے تیرا رب تجھے مقام محمود پر اٹھائے۔ ستاروں کے ڈوبتے وقت سے مراد صبح کی فرض نماز سے پہلے کی دو رکعتیں ہیں کہ وہ دونوں ستاروں کے غروب ہونے کے لیے جھک جانے کے وقت پڑھی جاتی ہیں چنانچہ ایک مرفوع حدیث میں ہے ان سنتوں کو نہ چھوڑو گو تمہیں گھوڑے کچل ڈالیں۔ [سنن ابوداود:1258،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏‏‏‏ اسی حدیث پر نظریں رکھ کر امام احمد رحمہ اللہ کے بعض اصحاب نے تو انہیں واجب کہا ہے لیکن یہ ٹھیک نہیں، اس لیے کہ حدیث میں ہے دن رات میں پانچ نمازیں ہیں، سننے والے نے کہا: کیا مجھ پر اس کے سوا اور کچھ بھی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں مگر یہ کہ تو نفل ادا کرے۔‏‏‏‏“ [صحیح بخاری:1891] ‏‏‏‏ بخاری و مسلم میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نوافل میں سے کسی نفل کی بہ نسبت صبح کی دو سنتوں کے زیادہ پابندی اور نگرانی نہ کرتے تھے۔ [صحیح بخاری:1169] ‏‏‏‏ صحیح مسلم شریف میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”صبح کے فرضوں سے پہلے یہ دو سنتیں ساری دنیا سے اور جو کچھ اس میں ہے اس سے بہتر ہیں“ }۔ [صحیح مسلم:96] ‏‏‏‏ «الحمداللہ» سورۃ الطور کی تفسیر پوری ہوئی۔
49۔ 1 اس سے مراد قیام اللیل۔ یعنی نماز تہجد، جو عمر بھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا معمول رہا۔
(آیت 49) ➊ { وَ مِنَ الَّيْلِ فَسَبِّحْهُ:} اس سے مراد مغرب اور عشاء ہے۔ ➋ {وَ اِدْبَارَ النُّجُوْمِ:} اس سے مراد فجر کی فرض نماز ہے۔ بعض حضرات نے اس سے مراد فجر کی نماز سے پہلے کی دو رکعتیں لی ہیں، مگر امام طبری فرماتے ہیں کہ یہاں {” فَسَبِّحْهُ “} امر کا صیغہ ہے جو فرض کے لیے ہے، اس لیے اس سے مراد فرض رکعتیں ہیں۔ خلاصہ یہ ہے کہ ان آیات میں پانچوں نمازوں کا حکم ہے، اس طرح کہ {” حِيْنَ تَقُوْمُ “} میں ظہر و عصر کا، {” مِنَ الَّيْلِ “} میں مغرب و عشاء کا اور {” اِدْبَارَ النُّجُوْمِ “} میں فجر کی نماز کا ذکر ہے۔ (واللہ اعلم)