بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ الطور — Surah Tur
آیت نمبر 38
کل آیات: 49
قرآن کریم الطور آیت 38
آیت نمبر: 38 — سورۃ الطور islamicurdubooks.com ↗
اَمۡ لَہُمۡ سُلَّمٌ یَّسۡتَمِعُوۡنَ فِیۡہِ ۚ فَلۡیَاۡتِ مُسۡتَمِعُہُمۡ بِسُلۡطٰنٍ مُّبِیۡنٍ ﴿ؕ۳۸﴾
کیا اِن کے پاس کوئی سیڑھی ہے جس پر چڑھ کر یہ عالم بالا کی سن گن لیتے ہیں؟ اِن میں سے جس نے سن گن لی ہو وہ لائے کوئی کھلی دلیل
یا کیا ان کے پاس کوئی سیڑھی ہے جس پر چڑھ کر سنتے ہیں؟ (اگر ایسا ہے) تو ان کا سننے واﻻ کوئی روشن دلیل پیش کرے
یا ان کے پاس کوئی زینہ ہے جس میں چڑھ کر سن لیتے ہیں تو ان کا سننے والا کوئی روشن سند لائے،
یا ان کے پاس کوئی سیڑھی ہے (جس پر چڑھ کر) وہ (آسمانی خفیہ باتیں) سن لیتے ہیں؟ (اگر ایسا ہے) تو پھر ان کا سننے والا کوئی کھلی ہوئی دلیل پیش کرے۔
یا ان کے پاس کوئی سیڑھی ہے جس پر وہ اچھی طرح سن لیتے ہیں؟تو ان کا سننے والا کوئی واضح دلیل پیش کرے۔

📖 تفسیر ابن کثیر

توحید ربوبیت اور الوہیت ٭٭

توحید ربوبیت اور توحید الوہیت کا ثبوت دیا جا رہا ہے، فرماتا ہے کیا یہ بغیر موجد کے موجود ہو گئے؟ یا یہ خود اپنے موجد آپ ہی ہیں؟ دراصل دونوں باتیں نہیں بلکہ ان کا خالق اللہ تعالیٰ ہے، یہ کچھ نہ تھے اللہ تعالیٰ نے انہیں پیدا کر دیا۔ { سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مغرب کی نماز میں سورۃ والطور کی تلاوت کر رہے تھے میں کان لگائے سن رہا تھا جب آپ آیت «أَمْ عِندَهُمْ خَزَائِنُ رَبِّكَ أَمْ هُمُ الْمُصَيْطِرُونَ» ’ یا کیا ان کے پاس تیرے رب کے خزانے ہیں؟ یا [ان خزانوں کے] ‏‏‏‏ یہ داروغہ ہیں ‘ [52-الطور:37] ‏‏‏‏ تک پہنچے تو میری حالت ہو گئی کہ گویا میرا دل اڑا جا رہا ہے }۔ [صحیح بخاری:4854] ‏‏‏‏ بدری قیدیوں میں ہی یہ سیدنا جبیر رضی اللہ عنہ آئے تھے یہ اس وقت کا واقعہ ہے جب یہ کافر تھے، قرآن پاک کی ان آیتوں کا سننا ان کے لیے اسلام کا ذریعہ بن گیا۔ پھر فرمایا ہے کیا آسمان و زمین کے پیدا کرنے والے یہ ہیں؟ یہ بھی نہیں بلکہ یہ جانتے ہوئے کہ خود ان کا اور کل مخلوقات کا بنانے والا اللہ تعالیٰ ہی ہے پھر بھی یہ اپنی بےیقینی سے باز نہیں آتے، پھر فرماتا ہے کیا دنیا میں تصرف ان کا ہے؟ کیا ہر چیز کے خزانوں کے مالک یہ ہیں؟ یا مخلوق کے محاسب یہ ہیں حقیقت میں ایسا نہیں بلکہ مالک و متصرف صرف اللہ عزوجل ہی ہے وہ قادر ہے جو چاہے کر گزرے۔

پھر فرماتا ہے کیا اونچے آسمانوں تک چڑھ جانے کا کوئی زینہ ان کے پاس ہے؟ اگر یوں ہے تو ان میں سے جو وہاں پہنچ کر کلام سن آتا ہے وہ اپنے اقوال و افعال کی کوئی آسمانی دلیل پیش کرے لیکن نہ وہ پیش کر سکتا ہے، نہ وہ کسی حقانیت کے پابند ہیں، یہ بھی ان کی بڑی بھاری غلطی ہے کہ کہتے ہیں فرشتے اللہ کی لڑکیاں ہیں، کیا مزے کی بات ہے کہ اپنے لیے تو لڑکیاں ناپسند ہیں اور اللہ تعالیٰ کے لیے ثابت کریں، انہیں اگر معلوم ہو جائے کہ ان کے ہاں لڑکی ہوئی تو غم کے مارے چہرہ سیاہ پڑ جائے اور اللہ تعالیٰ کے مقرب فرشتوں کو اس کی لڑکیاں بتائیں، اتنا ہی نہیں بلکہ ان کی پرستش کریں، پس نہایت ڈانٹ ڈپٹ کے ساتھ فرماتا ہے کیا اللہ کی لڑکیاں ہیں اور تمہارے لڑکے ہیں؟ پھر فرمایا کیا تو اپنی تبلیغ پر ان سے کچھ معاوضہ طلب کرتا ہے جو ان پر بھاری پڑے؟ یعنی نبی اللہ، دین اللہ کے پہنچانے پر کسی سے کوئی اجرت نہیں مانگتے پھر انہیں یہ پہنچانا کیوں بھاری پڑتا ہے؟ کیا یہ لوگ غیب دان ہیں؟ نہیں! بلکہ زمین و آسمان کی تمام مخلوق میں سے کوئی بھی غیب کی باتیں نہیں جانتا۔ کیا یہ لوگ دین اللہ اور رسول اللہ کی نسبت بکواس کر کے خود رسول کو مومنوں اور عام لوگوں کو دھوکا دینا چاہتے ہیں؟ یاد رکھو یہی دھوکے باز دھوکے میں رہ جائیں گے اور اخروی عذاب سمیٹیں گے۔ پھر فرمایا کیا اللہ کے سوا ان کے اور معبود ہیں؟ اللہ کی عبادت میں بتوں کو اور دوسری چیزوں کو یہ کیوں شریک کرتے ہیں؟ اللہ تو شرکت سے مبرا، شرک سے پاک اور مشرکوں کے اس فعل سے سخت بیزار ہے۔

📖 احسن البیان

38۔ 1 یعنی کیا ان کا دعویٰ ہے کہ سیڑھی کے ذریعے سے یہ بھی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی طرح آسمانوں پر جاکر ملائکہ کی باتیں یا ان کی طرف جو وحی کی جاتی ہے، وہ سن آئے ہیں۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 38) {اَمْ لَهُمْ سُلَّمٌ يَّسْتَمِعُوْنَ فِيْهِ …:} یا ان کے پاس کوئی سیڑھی ہے جس پر چڑھ کر وہ عالمِ بالا کی طرف کان لگائے رکھتے ہیں اور وہاں سے سن آئے ہیں کہ جو کچھ وہ کہہ رہے ہیں وہی حق ہے اور یہ بھی سن آئے ہیں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول نہیں اور نہ اس نے انھیں بھیجا ہے، بلکہ انھوں نے قرآن خود ہی تصنیف کر کے اللہ تعالیٰ کے ذمہ لگا دیا ہے۔ اگر کسی کا یہ دعویٰ ہے تو وہ اس کی واضح دلیل پیش کرے، جس سے معلوم ہو کہ وہ واقعی آسمان تک گیا تھا اور وہاں اس نے واقعی اللہ تعالیٰ کی اور فرشتوں کی باتیں سنی ہیں۔ دیکھیے سورۂ احقاف (۴)اور سورۂ فاطر (۴۰) اس آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ کفار کے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان نہ لانے کے لیے کوئی نقلی دلیل بھی نہیں۔
← پچھلی آیت (37) پوری سورۃ اگلی آیت (39) →