بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ الطور — Surah Tur
آیت نمبر 37
کل آیات: 49
قرآن کریم الطور آیت 37
آیت نمبر: 37 — سورۃ الطور islamicurdubooks.com ↗
اَمۡ عِنۡدَہُمۡ خَزَآئِنُ رَبِّکَ اَمۡ ہُمُ الۡمُصَۜیۡطِرُوۡنَ ﴿ؕ۳۷﴾
کیا تیرے رب کے خزانے اِن کے قبضے میں ہیں؟ یا اُن پر اِنہی کا حکم چلتا ہے؟
یا کیا ان کے پاس تیرے رب کے خزانے ہیں؟ یا (ان خزانوں کے) یہ داروغہ ہیں
یا ان کے پاس تمہارے رب کے خزانے ہیں یا وہ کڑوڑے (حاکمِ اعلیٰ) ہیں
یا ان کے پاس آپ(ص) کے پروردگار کے خزانے ہیںیا یہ ان پر حاکم (مجاز) ہیں؟
یا ان کے پاس تیرے رب کے خزانے ہیں، یا وہی حکم چلانے والے ہیں ؟

📖 تفسیر ابن کثیر

توحید ربوبیت اور الوہیت ٭٭

توحید ربوبیت اور توحید الوہیت کا ثبوت دیا جا رہا ہے، فرماتا ہے کیا یہ بغیر موجد کے موجود ہو گئے؟ یا یہ خود اپنے موجد آپ ہی ہیں؟ دراصل دونوں باتیں نہیں بلکہ ان کا خالق اللہ تعالیٰ ہے، یہ کچھ نہ تھے اللہ تعالیٰ نے انہیں پیدا کر دیا۔ { سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مغرب کی نماز میں سورۃ والطور کی تلاوت کر رہے تھے میں کان لگائے سن رہا تھا جب آپ آیت «أَمْ عِندَهُمْ خَزَائِنُ رَبِّكَ أَمْ هُمُ الْمُصَيْطِرُونَ» ’ یا کیا ان کے پاس تیرے رب کے خزانے ہیں؟ یا [ان خزانوں کے] ‏‏‏‏ یہ داروغہ ہیں ‘ [52-الطور:37] ‏‏‏‏ تک پہنچے تو میری حالت ہو گئی کہ گویا میرا دل اڑا جا رہا ہے }۔ [صحیح بخاری:4854] ‏‏‏‏ بدری قیدیوں میں ہی یہ سیدنا جبیر رضی اللہ عنہ آئے تھے یہ اس وقت کا واقعہ ہے جب یہ کافر تھے، قرآن پاک کی ان آیتوں کا سننا ان کے لیے اسلام کا ذریعہ بن گیا۔ پھر فرمایا ہے کیا آسمان و زمین کے پیدا کرنے والے یہ ہیں؟ یہ بھی نہیں بلکہ یہ جانتے ہوئے کہ خود ان کا اور کل مخلوقات کا بنانے والا اللہ تعالیٰ ہی ہے پھر بھی یہ اپنی بےیقینی سے باز نہیں آتے، پھر فرماتا ہے کیا دنیا میں تصرف ان کا ہے؟ کیا ہر چیز کے خزانوں کے مالک یہ ہیں؟ یا مخلوق کے محاسب یہ ہیں حقیقت میں ایسا نہیں بلکہ مالک و متصرف صرف اللہ عزوجل ہی ہے وہ قادر ہے جو چاہے کر گزرے۔

پھر فرماتا ہے کیا اونچے آسمانوں تک چڑھ جانے کا کوئی زینہ ان کے پاس ہے؟ اگر یوں ہے تو ان میں سے جو وہاں پہنچ کر کلام سن آتا ہے وہ اپنے اقوال و افعال کی کوئی آسمانی دلیل پیش کرے لیکن نہ وہ پیش کر سکتا ہے، نہ وہ کسی حقانیت کے پابند ہیں، یہ بھی ان کی بڑی بھاری غلطی ہے کہ کہتے ہیں فرشتے اللہ کی لڑکیاں ہیں، کیا مزے کی بات ہے کہ اپنے لیے تو لڑکیاں ناپسند ہیں اور اللہ تعالیٰ کے لیے ثابت کریں، انہیں اگر معلوم ہو جائے کہ ان کے ہاں لڑکی ہوئی تو غم کے مارے چہرہ سیاہ پڑ جائے اور اللہ تعالیٰ کے مقرب فرشتوں کو اس کی لڑکیاں بتائیں، اتنا ہی نہیں بلکہ ان کی پرستش کریں، پس نہایت ڈانٹ ڈپٹ کے ساتھ فرماتا ہے کیا اللہ کی لڑکیاں ہیں اور تمہارے لڑکے ہیں؟ پھر فرمایا کیا تو اپنی تبلیغ پر ان سے کچھ معاوضہ طلب کرتا ہے جو ان پر بھاری پڑے؟ یعنی نبی اللہ، دین اللہ کے پہنچانے پر کسی سے کوئی اجرت نہیں مانگتے پھر انہیں یہ پہنچانا کیوں بھاری پڑتا ہے؟ کیا یہ لوگ غیب دان ہیں؟ نہیں! بلکہ زمین و آسمان کی تمام مخلوق میں سے کوئی بھی غیب کی باتیں نہیں جانتا۔ کیا یہ لوگ دین اللہ اور رسول اللہ کی نسبت بکواس کر کے خود رسول کو مومنوں اور عام لوگوں کو دھوکا دینا چاہتے ہیں؟ یاد رکھو یہی دھوکے باز دھوکے میں رہ جائیں گے اور اخروی عذاب سمیٹیں گے۔ پھر فرمایا کیا اللہ کے سوا ان کے اور معبود ہیں؟ اللہ کی عبادت میں بتوں کو اور دوسری چیزوں کو یہ کیوں شریک کرتے ہیں؟ اللہ تو شرکت سے مبرا، شرک سے پاک اور مشرکوں کے اس فعل سے سخت بیزار ہے۔

📖 احسن البیان

37۔ 1 کہ یہ جس کو چاہیں روزی دیں جس کو چاہیں نہ دیں یا جس کو چاہیں نبوت سے نوازیں۔ 37۔ 2 مصیطر یا مسیطر سَطْرً سے ہے، لکھنے والا، جو محافظ و نگران ہو، وہ چونکہ ساری تفیصلات لکھتا ہے، اس لئے یہ محافظ اور نگران کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے۔ یعنی کیا اللہ کے خزانوں یا اس کی رحمتوں پر ان کا تسلط ہے کہ جس کو چاہیں دیں یا نہ دیں۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 37) ➊ {اَمْ عِنْدَهُمْ خَزَآىِٕنُ رَبِّكَ …:} یہ کفار کے اس اعتراض کا جواب ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہی کو کیوں رسول بنایا گیا، مکہ اور طائف کے سرداروں میں سے کسی کو رسالت کے لیے کیوں نہ چنا گیا؟ فرمایا، یہ فیصلہ کرنا کہ کس کو رسول بنا کر بھیجا جائے مالک کا کام ہے۔ اب یہ لوگ اگر اللہ تعالیٰ کے بنائے ہوئے رسول کا انکار کرتے ہیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ یا تو تیرے رب کے خزانوں کے مالک یہ ہیں، جسے چاہیں دیں جسے چاہیں نہ دیں، یا یہ کہ مالک تو اللہ تعالیٰ ہی ہے مگر اس پر حکم انھی کا چلتا ہے۔اب یہ خود ہی بتائیں کہ ان دونوں میں سے ان کا دعویٰ کیا ہے؟ مزید دیکھیے سورۂ ص(۸ تا ۱۰) اور سورۂ زخرف(۳۱،۳۲)۔ خلاصہ یہ کہ کفار کے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت سے انکار کی کوئی عقلی دلیل نہیں۔ ➋ آیت کی تفسیر اس طرح بھی ہو سکتی ہے کہ یا یہ لوگ اس لیے اکیلے رب کی عبادت نہیں کرتے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو رسول نہیں مانتے کہ تیرے رب کے خزانوں کے مالک وہی ہیں، یا ان پر انھی کا حکم چلتا ہے، اس لیے وہ اپنی مرضی کے مالک ہیں، جو چاہیں کرتے پھریں؟ ظاہر ہے ایسا بھی ہرگز نہیں۔
← پچھلی آیت (36) پوری سورۃ اگلی آیت (38) →