بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ الطور — Surah Tur
آیت نمبر 13
کل آیات: 49
قرآن کریم الطور آیت 13
آیت نمبر: 13 — سورۃ الطور islamicurdubooks.com ↗
یَوۡمَ یُدَعُّوۡنَ اِلٰی نَارِ جَہَنَّمَ دَعًّا ﴿ؕ۱۳﴾
جس دن انہیں دھکے مار مار کر نار جہنم کی طرف لے چلا جائے گا
جس دن وه دھکے دے دے کر آتش جہنم کی طرف ﻻئیں جائیں گے
جس دن جہنم کی طرف دھکا دے کر دھکیلے جائیں گے
جس دن ان کو دھکیل دھکیل کر آتشِ دوزخ کی طرف لایا جائے گا۔
جس دن انھیں جہنم کی آگ کی طرف دھکیلا جائے گا، سخت دھکیلا جانا۔

📖 تفسیر ابن کثیر

اللہ کا عذاب، فرشتوں کی مار، جہنم کی آگ ان کے لیے ہو گی جو دنیا میں مشغول تھے اور دین کو ایک کھیل تماشہ مقرر کر رکھا تھا، اس دن انہیں دھکے دے کر نار جہنم کی طرف دھکیلا جائے گا اور داروغہ جہنم ان سے کہے گا کہ یہ وہ جہنم ہے جسے تم نہیں مانتے تھے پھر مزید ڈانٹ ڈپٹ کے طور پر کہیں گے، اب بولو! کیا یہ جادو ہے یا تم اندھے ہو؟ جاؤ! اس میں ڈوب جاؤ، یہ تمہیں چاروں طرف سے گھیر لے گی، اب اس کے عذاب کی تمہیں سہار ہو یا نہ ہو، ہائے وائے کرو، خواہ خاموش رہو، اسی میں پڑے جھلستے رہو گے، کوئی ترکیب فائدہ نہ دے گی، کسی طرح چھوٹ نہ سکو گے، یہ اللہ کا ظلم نہیں بلکہ صرف تمہارے اعمال کا بدلہ ہے۔

📖 احسن البیان

13۔ 1 الدَّعُّ کے معنی ہیں نہایت سختی کے ساتھ دھکیلنا۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 13) {يَوْمَ يُدَعُّوْنَ اِلٰى نَارِ جَهَنَّمَ دَعًّا: ”دَعَّ يَدُعُّ“} سختی کے ساتھ دھکیلنا۔ {” دَعًّا “} مصدر مجہول برائے تاکید ہے، بری طرح دھکیلا جانا۔ یعنی فرشتے انھیں نہایت سختی کے ساتھ بری طرح دھکیلتے ہوئے جہنم کی آگ کی طرف لے جائیں گے۔ مزید دیکھیے سورۂ دخان (۴۷)، رحمان (۴۱)، قمر(۴۸) اور سورۂ مومن(۷۰ تا ۷۲)۔
← پچھلی آیت (12) پوری سورۃ اگلی آیت (14) →