اللہ کا عذاب، فرشتوں کی مار، جہنم کی آگ ان کے لیے ہو گی جو دنیا میں مشغول تھے اور دین کو ایک کھیل تماشہ مقرر کر رکھا تھا، اس دن انہیں دھکے دے کر نار جہنم کی طرف دھکیلا جائے گا اور داروغہ جہنم ان سے کہے گا کہ یہ وہ جہنم ہے جسے تم نہیں مانتے تھے پھر مزید ڈانٹ ڈپٹ کے طور پر کہیں گے، اب بولو! کیا یہ جادو ہے یا تم اندھے ہو؟ جاؤ! اس میں ڈوب جاؤ، یہ تمہیں چاروں طرف سے گھیر لے گی، اب اس کے عذاب کی تمہیں سہار ہو یا نہ ہو، ہائے وائے کرو، خواہ خاموش رہو، اسی میں پڑے جھلستے رہو گے، کوئی ترکیب فائدہ نہ دے گی، کسی طرح چھوٹ نہ سکو گے، یہ اللہ کا ظلم نہیں بلکہ صرف تمہارے اعمال کا بدلہ ہے۔
📖 احسن البیان
15۔ 1 جس طرح تم دنیا میں پیغمبروں کو جادوگر کہا کرتے تھے، بتلاؤ! کیا یہ بھی کوئی جادو کا کرتب ہے؟ 15۔ 2 یا جس طرح تم دنیا میں حق کے دیکھنے سے اندھے تھے یہ عذاب بھی تمہیں نظر نہیں آرہا ہے؟ یہ تقریع وتوبیخ کے لیے انہیں کہا جائے گا ورنہ ہر چیز ان کے مشاہدے میں آچکی ہوگی۔
📖 القرآن الکریم
(آیت 15){ اَفَسِحْرٌ هٰذَاۤ اَمْ اَنْتُمْ لَا تُبْصِرُوْنَ:} یعنی جس طرح تم دنیا میں ہر معجزے کو جادو کہہ کر جھٹلا دیتے تھے، اب اس آگ کو بھی جادو کہہ کر جھٹلا دو، تو بتاؤ کیا یہ جادو ہے؟ یا جس طرح تم دنیا میں کہتے تھے: «وَ مِنْۢ بَيْنِنَا وَ بَيْنِكَ حِجَابٌ» [حٰمٓ السجدۃ: ۵ ] کہ ہمارے اور تمھارے درمیان ایک پردہ ہے، جو کچھ تم بتاتے ہو ہمیں دکھائی نہیں دیتا، تو بتاؤ کیا اب بھی تم نہیں دیکھ رہے؟ یہ ساری بات کفار کو دنیا میں ان کی جھٹلانے کے لیے کہی ہوئی باتیں یاد کروا کر ذلیل کرنے کے لیے کہی جائے گی۔