بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ الطور — Surah Tur
آیت نمبر 25
کل آیات: 49
قرآن کریم الطور آیت 25
آیت نمبر: 25 — سورۃ الطور islamicurdubooks.com ↗
وَ اَقۡبَلَ بَعۡضُہُمۡ عَلٰی بَعۡضٍ یَّتَسَآءَلُوۡنَ ﴿۲۵﴾
یہ لوگ آپس میں ایک دوسرے سے (دنیا میں گزرے ہوئے) حالات پوچھیں گے
اور آپس میں ایک دوسرے کی طرف متوجہ ہو کر سوال کریں گے
اور ان میں ایک نے دوسرے کی طرف منہ کیا پوچھتے ہوئے
وہ (جنتی) ایک دوسرے کی طرف متوجہ ہو کر باہم سوال و جواب کریں گے۔
اور ان کے بعض بعض پر متوجہ ہوں گے، ایک دوسرے سے سوال کرتے ہوں گے۔

📖 تفسیر ابن کثیر

ان کے غلام کمسن نوعمر بچے جو حسن و خوبی میں ایسے ہیں جیسے مروارید ہوں اور وہ بھی ڈبے میں بند رکھے گئے ہوں، کسی کا ہاتھ بھی نہ لگا ہو اور ابھی ابھی تازے تازے نکالے ہوں، ان کی آبداری، صفائی، چمک دمک، روپ رنگ کا کیا پوچھنا؟ لیکن ان غلمان کے حسین چہرے انہیں بھی ماند کر دیتے ہیں اور جگہ یہ مضمون ان الفاظ میں ادا کیا گیا ہے «يَطُوفُ عَلَيْهِمْ وِلْدَانٌ مُّخَلَّدُونَ» * «بِأَكْوَابٍ وَأَبَارِيقَ وَكَأْسٍ مِّن مَّعِينٍ» [56-الواقعة:18،17] ‏‏‏‏ یعنی ہمیشہ نوعمر اور کمسن رہنے والے بچے آبخورے آفتابے اور ایسی شراب صاف کے جام کہ جن کے پینے سے نہ سر میں درد ہو، نہ بہکیں اور جس قسم کا میوہ یہ پسند کریں اور جس پرند کا گوشت یہ چاہیں ان کے پاس باربار لانے کے لیے چاروں طرف کمربستہ چل رہے ہیں اس دور شراب کے وقت آپس میں گھل مل کر طرح طرح کی باتیں کریں گے، دنیا کے احوال یاد آئیں گے، کہیں گے کہ ہم دنیا میں جب اپنے والوں میں تھے، تو اپنے رب کے آج کے دن کے عذاب سے سخت لرزاں و ترساں تھے، الحمداللہ رب نے ہم پر خاص احسان کیا اور ہمارے خوف کی چیز سے ہمیں امن دیا، ہم اسی سے دعائیں اور التجائیں کرتے رہے، اس نے ہماری دعائیں قبول فرمائیں اور ہمارا قول پورا کر دیا یقیناً وہ بہت ہی نیک سلوک اور رحم والا ہے۔ مسند بزار میں ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جنتی اپنے دوستوں سے ملنا چاہے گا تو ادھر دوست کے دل میں بھی یہی خواہش پیدا ہو گی اس کا تخت اڑے گا اور راستہ میں دونوں مل جائیں گے، اپنے اپنے تختوں پر آرام سے بیٹھے ہوئے باتیں کرنے لگیں گے، دنیا کے ذکر کو چھیڑیں گے اور کہیں گے کہ فلاں دن فلاں جگہ ہم نے اپنی بخشش کی دعا مانگی تھی اللہ نے اسے قبول فرمایا }۔ [مسند بزار:3553:ضعیف] ‏‏‏‏ اس حدیث کی سند کمزور ہے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے جب اس آیت کی تلاوت کی تو یہ دعا پڑھی «اللَّهُمَّ مُنَّ عَلَيْنَا وَقِنَا عَذَاب السَّمُوم إِنَّك أَنْتَ الْبَرّ الرَّحِيم» اعمش راوی حدیث سے پوچھا گیا کہ اس آیت کو پڑھ کر یہ دعا ام المؤمنین نے نماز میں مانگی تھی؟ جواب دیا ہاں۔

📖 احسن البیان

25۔ 1 ایک دوسرے سے دنیا کے حالات پوچھیں گے کہ دنیا میں وہ کن حالات میں زندگی گزارتے اور ایمان و عمل کے تقاضے کس طرح پورے کرتے رہے۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 25) {وَ اَقْبَلَ بَعْضُهُمْ عَلٰى بَعْضٍ يَّتَسَآءَلُوْنَ:} یعنی اہلِ جنت ان نعمتوں سے جن کا ذکر اوپر گزرا شاد کام ہوتے ہوئے ایک دوسرے سے سوال کریں گے۔ ان میں سے ہر ایک پوچھنے والا بھی ہو گا اور دوسرے کو جواب دینے والا بھی کہ سناؤ دنیا میں تم پر کیا کچھ گزرا؟ پھر اس کی مصیبتوں اور فتنوں سے بچتے بچاتے یہاں جنت میں کیسے پہنچے؟ اس سے معلوم ہوا کہ انھیں گزشتہ تمام واقعات یاد ہوں گے، چنانچہ وہ اپنی حالت کا ذکر کرتے ہوئے کہیں گے۔ ایک دوسرے سے اس سوال و جواب میں ان کے آباء اور ان کی اولاد کی گفتگو بھی شامل ہے جو ایک درجے میں اکٹھے ہوں گے۔ تو خوشی سے ایک دوسرے سے گزرے ہوئے احوال کے متعلق سوال کریں گے اور موجودہ حالت کے بارے میں بھی کہ اللہ تعالیٰ نے ہم جیسے گناہ گاروں پر اتنا بڑا انعام کیسے کر دیا کہ ہمیں جنت میں داخل فرمایا اور پھر ہم میں سے بعض کے عمل کی کوتاہی کے باوجود سب کو یکجا کر دیا۔
← پچھلی آیت (24) پوری سورۃ اگلی آیت (26) →