بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ الطور — Surah Tur
آیت نمبر 30
کل آیات: 49
قرآن کریم الطور آیت 30
آیت نمبر: 30 — سورۃ الطور islamicurdubooks.com ↗
اَمۡ یَقُوۡلُوۡنَ شَاعِرٌ نَّتَرَبَّصُ بِہٖ رَیۡبَ الۡمَنُوۡنِ ﴿۳۰﴾
کیا یہ لوگ کہتے ہیں کہ یہ شخص شاعر ہے جس کے حق میں ہم گردش ایام کا انتظار کر رہے ہیں؟
کیا کافر یوں کہتے ہیں کہ یہ شاعر ہے ہم اس پر زمانے کے حوادث (یعنی موت) کا انتظار کر رہے ہیں
یا کہتے ہیں یہ شاعر ہیں ہمیں ان پر حوادثِ زمانہ کا انتظارہے
کیا وہ یہ کہتے ہیں کہ یہ ایک شاعر ہیں (اور) ہم ان کے بارے میں گردشِ زمانہ کا انتظار کر رہے ہیں؟
یا وہ کہتے ہیں کہ یہ ایک شاعر ہے جس پر ہم زمانے کے حوادث کا انتظار کرتے ہیں؟

📖 تفسیر ابن کثیر

کاہن کی پہچان ٭٭

اللہ تعالیٰ اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیتا ہے کہ اللہ کی رسالت اللہ کے بندوں تک پہنچاتے رہیں، ساتھ ہی بدکاروں نے جو بہتان آپ پر باندھ رکھے تھے ان سے آپ کی صفائی کرتا ہے۔ «کاہن» اسے کہتے ہیں جس کے پاس کبھی کبھی کوئی خبر جن پہنچا دیتا ہے تو ارشاد ہوا کہ دین حق کی تبلیغ کیجئے۔ «الحمداللہ» آپ نہ تو جنات والے ہیں، نہ جنوں والے۔ پھر کافروں کا قول نقل فرماتا ہے کہ یہ کہتے ہیں کہ آپ (‏‏‏‏صلی اللہ علیہ وسلم ) ایک شاعر ہیں انہیں کہنے دو جو کہہ رہے ہیں ان کے انتقال کے بعد ان کی سی کون کہے گا؟ ان کا یہ دین ان کے ساتھ ہی فنا ہو جائے گا، پھر اپنے نبی کو اس کا جواب دینے کو فرماتا ہے کہ اچھا ادھر تم انتظار کرتے ہو، ادھر میں بھی منتظر ہوں، دنیا دیکھ لے گی کہ انجام کار غلبہ اور غیر فانی کامیابی کسے حاصل ہوتی ہے؟ دارالندوہ میں قریش کا مشورہ ہوا کہ آپ (‏‏‏‏صلی اللہ علیہ وسلم ) بھی مثل اور شاعروں کے ایک شعر گو ہیں انہیں قید کر لو، وہیں یہ ہلاک ہو جائیں گے جس طرح زہیر اور نابغہ شاعروں کا حشر ہوا۔ اس پر یہ آیتیں اتریں۔

پھر فرماتا ہے کیا ان کی دانائی انہیں یہی سمجھاتی ہے کہ باوجود جاننے کے پھر بھی تیری نسبت غلط افواہیں اڑائیں اور بہتان بازی کریں، حقیقت یہ ہے کہ یہ بڑے سرکش گمراہ اور عناد رکھنے والے لوگ ہیں، دشمنی میں آ کر واقعات سے چشم پوشی کر کے آپ کو مفت میں برا بھلا کہتے ہیں، کیا یہ کہتے ہیں کہ اس قرآن کو محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے خود بنا لیا ہے؟ فی الواقع ایسا تو نہیں لیکن ان کا کفر ان کے منہ سے یہ غلط اور جھوٹ بات نکلوا رہا ہے اگر یہ سچے ہیں تو پھر یہ خود بھی مل جل کر ہی ایک ایسی بات بنا کر دکھا دیں، یہ کفار قریش تو کیا؟ اگر ان کے ساتھ روئے زمین کے جنات و انسان مل جائیں جب بھی اس قرآن کی نظیر سے وہ سب عاجز رہیں گے اور پورا قرآن تو بڑی چیز ہے اس جیسی دس سورتیں بلکہ ایک سورت بھی قیامت تک بنا کر نہیں لا سکتے۔

📖 احسن البیان

30۔ 1 رَیْب کے معنی ہیں حوادث، موت کے ناموں سے ایک نام۔ مطلب ہے قریش مکہ اس انتظار میں ہیں کہ زمانے کے حوادث سے شاید اس (محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو موت آجائے اور ہمیں چین نصیب ہوجائے، جو اس کی دعوت توحید نے ہم سے چھین لیا ہے۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 30) {اَمْ يَقُوْلُوْنَ شَاعِرٌ نَّتَرَبَّصُ بِهٖ رَيْبَ الْمَنُوْنِ: ”تَرَبَّصَ يَتَرَبَّصُ“} (تفعّل) ”آنے والے کسی شر یا خیر کا انتظار کرنا۔“ {” الْمَنُوْنِ”مَنَّ يَمُنُّ مَنًّا“} (ن) کا معنی ”قطع کرنا“ ہے۔ {” الْمَنُوْنِ “} بروزن {”فَعُوْلٌ“} (کاٹنے والا) موت کو کہتے ہیں، کیونکہ وہ زندگی کی رسی کو کاٹ دیتی ہے، اور زمانے کو بھی، کیونکہ وہ بھی زندگی کے ایام کو کاٹتا چلا جاتا ہے۔ {” رَيْبَ “} کا اصل معنی شک اور بے چینی ہے، لیکن جب اس کا استعمال زمانے کے ساتھ ہو تو مراد زمانے کے حوادث ہوتے ہیں، کیونکہ وہ آدمی کو بے چین رکھتے ہیں۔ یہاں سے اللہ تعالیٰ نے انکار اور تعجب کے انداز میں ان مشرکین کی جہالت کی باتوں کا پندرہ (۱۵) دفعہ لفظ {” اَمْ “} کے ساتھ ذکر فرمایا ہے اور ہر {” اَمْ “} کے بعد سوال کرتے ہوئے ان پر الزام قائم کیا ہے، جس کا جواب ان میں سے کسی کے پاس نہیں۔ چنانچہ اس آیت میں فرمایا: «اَمْ يَقُوْلُوْنَ شَاعِرٌ» ‏‏‏‏ ”یا وہ کہتے ہیں کہ یہ شاعر ہے۔“ کفار کا یہ قول نقل فرما کر تردید کی ضرورت نہیں سمجھی، کیونکہ قرآن مجید کا وجود ہی اس کی تردید کے لیے کافی ہے۔ البتہ ان کی اس بات کا جواب دیا ہے کہ ہم اس پر زمانے کے حوادث کا انتظار کرتے ہیں کہ اس پر کوئی آفت آ جائے، یا اس کی موت کا وقت آ جائے، جس کے ساتھ اس کی دعوت کا سلسلہ ختم ہو جائے۔
← پچھلی آیت (29) پوری سورۃ اگلی آیت (31) →