بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ الطور — Surah Tur
آیت نمبر 28
کل آیات: 49
قرآن کریم الطور آیت 28
آیت نمبر: 28 — سورۃ الطور islamicurdubooks.com ↗
اِنَّا کُنَّا مِنۡ قَبۡلُ نَدۡعُوۡہُ ؕ اِنَّہٗ ہُوَ الۡبَرُّ الرَّحِیۡمُ ﴿٪۲۸﴾
ہم پچھلی زندگی میں اُسی سے دعائیں مانگتے تھے، وہ واقعی بڑا ہی محسن اور رحیم ہے
ہم اس سے پہلے ہی اس کی عبادت کیا کرتے تھے، بیشک وه محسن اور مہربان ہے
بیشک ہم نے اپنی پہلی زندگی میں اس کی عبادت کی تھی، بیشک وہی احسان فرمانے والا مہربان ہے،
بےشک ہم اس سے پہلے (دنیا میں) بھی اسی سے دعا مانگا کرتے تھے یقیناً وہ بڑا احسان کرنے والا، بڑا رحم کرنے والا ہے۔
بے شک ہم اس سے پہلے ہی اسے پکارا کرتے تھے، بے شک وہی تو بہت احسان کرنے والا، نہایت رحم والا ہے۔

📖 تفسیر ابن کثیر

ان کے غلام کمسن نوعمر بچے جو حسن و خوبی میں ایسے ہیں جیسے مروارید ہوں اور وہ بھی ڈبے میں بند رکھے گئے ہوں، کسی کا ہاتھ بھی نہ لگا ہو اور ابھی ابھی تازے تازے نکالے ہوں، ان کی آبداری، صفائی، چمک دمک، روپ رنگ کا کیا پوچھنا؟ لیکن ان غلمان کے حسین چہرے انہیں بھی ماند کر دیتے ہیں اور جگہ یہ مضمون ان الفاظ میں ادا کیا گیا ہے «يَطُوفُ عَلَيْهِمْ وِلْدَانٌ مُّخَلَّدُونَ» * «بِأَكْوَابٍ وَأَبَارِيقَ وَكَأْسٍ مِّن مَّعِينٍ» [56-الواقعة:18،17] ‏‏‏‏ یعنی ہمیشہ نوعمر اور کمسن رہنے والے بچے آبخورے آفتابے اور ایسی شراب صاف کے جام کہ جن کے پینے سے نہ سر میں درد ہو، نہ بہکیں اور جس قسم کا میوہ یہ پسند کریں اور جس پرند کا گوشت یہ چاہیں ان کے پاس باربار لانے کے لیے چاروں طرف کمربستہ چل رہے ہیں اس دور شراب کے وقت آپس میں گھل مل کر طرح طرح کی باتیں کریں گے، دنیا کے احوال یاد آئیں گے، کہیں گے کہ ہم دنیا میں جب اپنے والوں میں تھے، تو اپنے رب کے آج کے دن کے عذاب سے سخت لرزاں و ترساں تھے، الحمداللہ رب نے ہم پر خاص احسان کیا اور ہمارے خوف کی چیز سے ہمیں امن دیا، ہم اسی سے دعائیں اور التجائیں کرتے رہے، اس نے ہماری دعائیں قبول فرمائیں اور ہمارا قول پورا کر دیا یقیناً وہ بہت ہی نیک سلوک اور رحم والا ہے۔ مسند بزار میں ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جنتی اپنے دوستوں سے ملنا چاہے گا تو ادھر دوست کے دل میں بھی یہی خواہش پیدا ہو گی اس کا تخت اڑے گا اور راستہ میں دونوں مل جائیں گے، اپنے اپنے تختوں پر آرام سے بیٹھے ہوئے باتیں کرنے لگیں گے، دنیا کے ذکر کو چھیڑیں گے اور کہیں گے کہ فلاں دن فلاں جگہ ہم نے اپنی بخشش کی دعا مانگی تھی اللہ نے اسے قبول فرمایا }۔ [مسند بزار:3553:ضعیف] ‏‏‏‏ اس حدیث کی سند کمزور ہے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے جب اس آیت کی تلاوت کی تو یہ دعا پڑھی «اللَّهُمَّ مُنَّ عَلَيْنَا وَقِنَا عَذَاب السَّمُوم إِنَّك أَنْتَ الْبَرّ الرَّحِيم» اعمش راوی حدیث سے پوچھا گیا کہ اس آیت کو پڑھ کر یہ دعا ام المؤمنین نے نماز میں مانگی تھی؟ جواب دیا ہاں۔

📖 احسن البیان

28۔ 1 یعنی صرف اسی ایک کی عبادت کرتے تھے، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہراتے تھے، یا یہ مطلب ہے کہ اس سے عذاب جہنم سے بچنے کے لیے دعا کرتے تھے۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 28) ➊ { اِنَّا كُنَّا مِنْ قَبْلُ نَدْعُوْهُ:} یعنی ہم اس سے پہلے دنیا میں ڈرتے تھے، مگر ڈرنے کے باوجود اس کی رحمت سے کبھی مایوس نہیں ہوئے، بلکہ اپنی امیدیں اسی سے وابستہ رکھیں۔ اس لیے اسی کو پکارتے رہے، اسی سے دعا کرتے رہے اور اسی سے جنت میں داخلے اور جہنم سے پناہ کی درخواست کرتے رہے۔ ➋ { اِنَّهٗ هُوَ الْبَرُّ الرَّحِيْمُ: ”إِنَّ“} تعلیل کے لیے آتا ہے، یعنی اس نے ہماری خطائیں معاف فرمائیں، ہمیں جہنم کی زہریلی لو سے بچایا، ہمیں جنت کی نعمتیں عطا کیں اور ہمارے پیاروں کو ہمارے ساتھ یکجا کر دیا، اس لیے کہ وہی ہے جو بے حد احسان کرنے والا اور نہایت رحم والا ہے، ہمیں جو کچھ عطا ہوا وہ محض اسی کے احسان اور رحم کا نتیجہ ہے۔
← پچھلی آیت (27) پوری سورۃ اگلی آیت (29) →