بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ الطور — Surah Tur
آیت نمبر 32
کل آیات: 49
قرآن کریم الطور آیت 32
آیت نمبر: 32 — سورۃ الطور islamicurdubooks.com ↗
اَمۡ تَاۡمُرُہُمۡ اَحۡلَامُہُمۡ بِہٰذَاۤ اَمۡ ہُمۡ قَوۡمٌ طَاغُوۡنَ ﴿ۚ۳۲﴾
کیا اِن کی عقلیں اِنہیں ایسی ہی باتیں کرنے کے لیے کہتی ہیں؟ یا در حقیقت یہ عناد میں حد سے گزرے ہوئے لوگ ہیں؟
کیا ان کی عقلیں انہیں یہی سکھاتی ہیں؟ یا یہ لوگ ہی سرکش ہیں
کیا ان کی عقلیں انہیں یہی بتاتی ہیں یا وہ سرکش لوگ ہیں
کیا ان کی عقلیں ان کو ان (فضول) باتوں کا حُکم دیتی ہیںیا یہ سرکش لوگ ہیں؟
یا انھیںان کی عقلیں اس بات کا حکم دیتی ہیں، یا وہ خود ہی حد سے گزرنے والے لوگ ہیں؟

📖 تفسیر ابن کثیر

کاہن کی پہچان ٭٭

اللہ تعالیٰ اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیتا ہے کہ اللہ کی رسالت اللہ کے بندوں تک پہنچاتے رہیں، ساتھ ہی بدکاروں نے جو بہتان آپ پر باندھ رکھے تھے ان سے آپ کی صفائی کرتا ہے۔ «کاہن» اسے کہتے ہیں جس کے پاس کبھی کبھی کوئی خبر جن پہنچا دیتا ہے تو ارشاد ہوا کہ دین حق کی تبلیغ کیجئے۔ «الحمداللہ» آپ نہ تو جنات والے ہیں، نہ جنوں والے۔ پھر کافروں کا قول نقل فرماتا ہے کہ یہ کہتے ہیں کہ آپ (‏‏‏‏صلی اللہ علیہ وسلم ) ایک شاعر ہیں انہیں کہنے دو جو کہہ رہے ہیں ان کے انتقال کے بعد ان کی سی کون کہے گا؟ ان کا یہ دین ان کے ساتھ ہی فنا ہو جائے گا، پھر اپنے نبی کو اس کا جواب دینے کو فرماتا ہے کہ اچھا ادھر تم انتظار کرتے ہو، ادھر میں بھی منتظر ہوں، دنیا دیکھ لے گی کہ انجام کار غلبہ اور غیر فانی کامیابی کسے حاصل ہوتی ہے؟ دارالندوہ میں قریش کا مشورہ ہوا کہ آپ (‏‏‏‏صلی اللہ علیہ وسلم ) بھی مثل اور شاعروں کے ایک شعر گو ہیں انہیں قید کر لو، وہیں یہ ہلاک ہو جائیں گے جس طرح زہیر اور نابغہ شاعروں کا حشر ہوا۔ اس پر یہ آیتیں اتریں۔

پھر فرماتا ہے کیا ان کی دانائی انہیں یہی سمجھاتی ہے کہ باوجود جاننے کے پھر بھی تیری نسبت غلط افواہیں اڑائیں اور بہتان بازی کریں، حقیقت یہ ہے کہ یہ بڑے سرکش گمراہ اور عناد رکھنے والے لوگ ہیں، دشمنی میں آ کر واقعات سے چشم پوشی کر کے آپ کو مفت میں برا بھلا کہتے ہیں، کیا یہ کہتے ہیں کہ اس قرآن کو محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے خود بنا لیا ہے؟ فی الواقع ایسا تو نہیں لیکن ان کا کفر ان کے منہ سے یہ غلط اور جھوٹ بات نکلوا رہا ہے اگر یہ سچے ہیں تو پھر یہ خود بھی مل جل کر ہی ایک ایسی بات بنا کر دکھا دیں، یہ کفار قریش تو کیا؟ اگر ان کے ساتھ روئے زمین کے جنات و انسان مل جائیں جب بھی اس قرآن کی نظیر سے وہ سب عاجز رہیں گے اور پورا قرآن تو بڑی چیز ہے اس جیسی دس سورتیں بلکہ ایک سورت بھی قیامت تک بنا کر نہیں لا سکتے۔

📖 احسن البیان

32۔ 1 یعنی یہ تیرے بارے میں جو اناپ شناپ جھوٹ اور غلط سلط باتیں کرتے رہتے ہیں، کیا ان کی عقلیں ان کو یہی سجھاتی ہیں۔ 32۔ 2 نہیں بلکہ یہ سرکش اور گمراہ لوگ ہیں، اور یہی سرکشی اور گمراہی انہیں ان باتوں پر بڑھکاتی ہے۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 32) {اَمْ تَاْمُرُهُمْ اَحْلَامُهُمْ بِهٰذَاۤ …: ” أَحْلَامٌ”حِلْمٌ“} کی جمع ہے، جو دراصل غصہ بھڑکنے کے وقت ضبطِ نفس کو کہتے ہیں۔ عقل کو {”حلم“} اس لیے کہتے ہیں کہ ایسے وقت میں وہی طبیعت پر ضبط کا باعث ہوتی ہے۔ مشرکین اپنے آپ کو بڑا عقل مند باور کرواتے تھے، اللہ تعالیٰ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق ان کی تین باتیں ذکر فرمائیں، کاہن، مجنون اور شاعر، پھر ان کی عقلوں پر چوٹ فرمائی کہ کیا کوئی عاقل ایسی بات کہہ سکتا ہے؟ اوّل تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پوری زندگی اور آپ کا لایا ہوا قرآن سب کے سامنے ہے، کوئی شخص جس کی عقل قائم ہو وہ آپ کے متعلق یا قرآن کے متعلق ان میں سے کوئی بات بھی نہیں کہہ سکتا، کیونکہ قرآن کریم کا اور رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا کہانت، جنون یا شعر کے ساتھ کوئی تعلق ہی نہیں۔ دوسری بات یہ ہے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق جو باتیں کہہ رہے ہیں وہ آپس میں اتنی متضاد ہیں کہ ایک شخص میں جمع ہو ہی نہیں سکتیں۔ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ کوئی شخص شاعر بھی ہو، کاہن بھی اور پھر پاگل بھی اور اس کا پیش کیا ہوا کلام شعر بھی ہو، کہانت بھی اور دیوانگی بھی؟ پھر یہ کون سی عقل مندی ہے کہ کسی شاعر یا کاہن یا دیوانے سے اتنے شدید خوف زدہ ہو جاؤ کہ کسی کو اس کی بات نہ سننے دو؟ بھلا آج تک کسی شاعر، کاہن یا دیوانے کی اتنی شدید مخالفت کی گئی ہے جتنی یہ لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی کر رہے ہیں۔ فرمایا، کیا ان کی عقلیں انھیں اس کا حکم دیتی ہیں؟ جواب ذکر نہیں فرمایا، کیونکہ وہ خود بخود ظاہر ہے کہ یہ جو کچھ کہہ رہے ہیں وہ ان کی عقلوں کا فیصلہ نہیں بلکہ بات کچھ اور ہے اور وہ یہ ہے کہ دراصل یہ سرکش لوگ ہیں اور ان کی سرکشی انھیں حق قبول نہیں کرنے دیتی۔
← پچھلی آیت (31) پوری سورۃ اگلی آیت (33) →