اور ایسے سب لوگ ہمیشہ اس کے وبال میں گرفتار رہیں گے، اور قیامت کے دن اُن کے لیے (اِس جرم کی ذمہ داری کا بوجھ) بڑا تکلیف دہ بوجھ ہوگا
مولانا محمد جوناگڑھی
جس میں ہمیشہ ہی رہے گا، اور ان کے لئے قیامت کے دن (بڑا) برا بوجھ ہے
احمد رضا خان بریلوی
وہ ہمیشہ اس میں رہیں گے اور وہ قیامت کے دن ان کے حق میں کیا ہی بڑا بوجھ ہوگا،
علامہ محمد حسین نجفی
ایسے لوگ ہمیشہ اسی حالت میں گرفتار رہیں گے اور قیامت کے دن یہ بوجھ بڑا برا بوجھ ہوگا۔
عبدالسلام بن محمد
ہمیشہ اس میں رہنے والے ہوں گے اور وہ ان کے لیے قیامت کے دن برا بوجھ ہوگا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
سب سے اعلی کتاب ٭٭
فرمان ہے کہ جیسے موسیٰ علیہ السلام کا قصہ اصلی رنگ میں آپ کے سامنے بیان ہوا، ایسے ہی اور بھی حالات گزشتہ آپ کے سامنے ہم ہو بہو بیان فرما رہے ہیں۔ ہم نے تو آپ کو قرآن عظیم دے رکھا ہے، جس کے پاس باطل پھٹک بھی نہیں سکتا کیونکہ آپ حکمت و حمد والے ہیں۔ کسی نبی کو کوئی کتاب اس سے زیادہ کمال والی اور اس سے زیادہ جامع اور اس سے زیادہ بابرکت نہیں ملی۔ ہرطرح سب سے اعلیٰ کتاب یہی کلام اللہ شریف ہے جس میں گذشتہ کی خبریں، آئندہ کے امور اور ہر کام کے طریقے مذکور ہیں۔ اسے نہ ماننے والا، اس سے منہ پھیرنے والا، اس کے احکام سے بھاگنے والا، اس کے سوا کسی اور میں ہدایت کو تلاش کرنے والا گمراہ ہے اور جہنم کی طرف جانے والا ہے۔ قیامت کو وہ اپنا بوجھ آپ اٹھائے گا اور اس میں دب جائے گا۔ اس کے ساتھ جو بھی کفر کرے، وہ جہنمی ہے، کتابی ہو یا غیر کتابی، عجمی ہو یا عربی، اس کا منکر جہنمی ہے۔ جیسے فرمان ہے کہ میں تمہیں بھی ہوشیار کرنے والا ہوں اور جسے بھی یہ پہنچے۔ پس اس کا متبع ہدایت والا اور اس کا مخالف ضلالت و شقاوت والا۔ جو یہاں برباد ہوا، وہ وہاں دوزخی بنا۔ اس عذاب سے اسے نہ تو کبھی چھٹکارا حاصل ہو، نہ بچ سکے، برا بوجھ ہے جو اس پر اس دن ہو گا۔
اُس دن جبکہ صُور پھُونکا جائے گا اور ہم مجرموں کو اِس حال میں گھیر لائیں گے کہ ان کی آنکھیں (دہشت کے مارے) پتھرائی ہوئی ہوں گی
مولانا محمد جوناگڑھی
جس دن صور پھونکا جائے گا اور گناه گاروں کو ہم اس دن (دہشت کی وجہ سے) نیلی پیلی آنکھوں کے ساتھ گھیر ﻻئیں گے
احمد رضا خان بریلوی
جس دن صُور پھونکا جائے گا اور ہم اس دن مجرموں کو اٹھائیں گے نیلی آنکھیں
علامہ محمد حسین نجفی
جس دن صور پھونکا جائے گا تو ہم مجرموں کو اس طرح محشور کریں گے کہ ان کی آنکھیں نیلی ہوں گی۔
عبدالسلام بن محمد
جس دن صور میں پھونکا جائے گا اور ہم مجرموں کو اس دن اس حال میں اکٹھا کریں گے کہ نیلی آنکھوں والے ہوں گے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
صور کیا ہے ؟ ٭٭
{ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال ہوتا ہے کہ صور کیا چیز ہے؟ آپ نے فرمایا وہ ایک قرن ہے جو پھونکا جائے گا۔ } ۱؎ [سنن ترمذي:3244،قال الشيخ الألباني:صحیح] اور حدیث میں ہے کہ { اس کا دائرہ بقدر آسمانوں اور زمینوں کے ہے۔ اسرافیل علیہ السلام اسے پھونکیں گے۔} اور روایت میں ہے کہ آپ نے فرمایا، { میں کیسے آرام حاصل کروں حالانکہ صور پھونکنے والے فرشتے نے صور کا لقمہ بنا لیا ہے، پیشانی جھکا دی ہے اور انتظار میں ہے کہ کب حکم دیا جائے۔ لوگوں نے کہا، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہم کیا پڑھیں؟ فرمایا کہو «حَسبُنَا اللہُ وَنِعمَ الوَکِیلُ عَلَی اللہِ تَوَکَّلنَا» ۔ } ۱؎ [سنن ترمذي:3243،قال الشيخ الألباني:صحیح] اس وقت تمام لوگوں کا حشر ہو گا کہ مارے ڈر اور گھبراہٹ کے گنہگاروں کی آنکھیں ٹیڑھی ہو رہی ہوں گی۔ ایک دوسرے سے پوشیدہ پوشیدہ کہہ رہے ہوں گے کہ دنیا میں تو ہم بہت ہی کم رہے، زیادہ سے زیادہ شاید دس دن وہاں گزرے ہونگے۔ ہم ان کی اس رازداری کی گفتگو کو بھی بخوبی جانتے ہیں جب کہ ان میں سے بڑا عاقل اور کامل انسان کہے گا کہ میاں دس دن بھی کہاں رکے؟ ہم تو صرف ایک دن ہی دنیا میں رہے۔ غرض کفار کو دنیا کی زندگی ایک سپنے کی طرح معلوم ہو گی۔ اس وقت وہ قسمیں کھا کھا کر کہیں گے کہ صرف ایک ساعت ہی دنیا میں ہم تو ٹھہرے ہوں گے۔ چنانچہ اور آیت میں ہے «اَوَلَمْ نُعَمِّرْكُمْ مَّا يَتَذَكَّرُ فِيْهِ» ۱؎ [35-فاطر:37] الخ۔ ہم نے تمہیں عبرت حاصل کرنے کے قابل عمر بھی دی تھی۔ پھر ہوشیار کرنے والے بھی تمہارے پاس آچکے تھے۔ اور آیتوں میں ہے کہ «قَالَ كَمْ لَبِثْتُمْ فِي الْأَرْضِ عَدَدَ سِنِينَ قَالُوا لَبِثْنَا يَوْمًا أَوْ بَعْضَ يَوْمٍ فَاسْأَلِ الْعَادِّينَ قَالَ إِن لَّبِثْتُمْ إِلَّا قَلِيلًا ۖ لَّوْ أَنَّكُمْ كُنتُمْ تَعْلَمُونَ» ۱؎ [23-المؤمنون:112] اس سوال پر کہ تم کتنا عرصہ زمین پر گزار آئے؟ ان کا جواب ہے ایک دن بلکہ اس سے بھی کم۔ فی الواقع دنیا ہے بھی آخرت کے مقابلے میں ایسی ہی۔ لیکن اگر اس بات کو پہلے سے باور کر لیتے تو اس فانی کو اس باقی پر، اس تھوڑی کو اس بہت پر پسند نہ کرتے بلکہ آخرت کا سامان اس دنیا میں کرتے۔
12۔ 1 صور سے مراد وہ (نرسنگا) ہے، جس میں اسرافیل ؑ اللہ کے حکم سے پھونک ماریں گے تو قیامت برپا ہوجائے گی، حضرت اسرافیل ؑ کے پہلے پھونکنے سے سب پر موت طاری ہو جائیگی، اور دوسرے پھونکنے سے بحکم الٰہی سب زندہ اور میدان محشر میں جمع ہوجائیں گے۔ آیت میں یہی دوسرا پھونکنا مراد ہے۔
(آیت 102) {يَوْمَ يُنْفَخُ فِي الصُّوْرِ …:} یہ پچھلی آیات میں مذکور {” يَوْمَ الْقِيٰمَةِ “} سے بدل ہے جو قیامت کے دن کی وضاحت کر رہا ہے۔ {” الصُّوْرِ “} کی تشریح کے لیے دیکھیے سورۂ انعام (۷۳) اور کہف (۹۹)۔ {” زُرْقًا“ ”أَزْرَقُ“} کی جمع ہے، جس کا معنی نیلے رنگ والا ہے۔ یہاں اس کے دو معنی مراد ہو سکتے ہیں، ایک نیلے جسم اور نیلے چہروں والے، مراد سیاہ رنگ والے، کیونکہ جلی ہوئی جلد نیلگوں کالی ہو جاتی ہے۔ اس کی ہم معنی آیت کے لیے دیکھیے سورۂ آل عمران (۱۰۶)۔ دوسرا معنی ”اندھے“ ہے، کیونکہ بہت نیلی آنکھ اندھے آدمی کی ہوتی ہے، یعنی قیامت کے دن اندھے اٹھائے جائیں گے، اس کی ہم معنی آیت کے لیے دیکھیے سورۂ طٰہٰ (۱۲۴، ۱۲۵)۔ طبری نے صرف یہی معنی بیان فرمایا ہے۔
آپس میں چپکے چپکے کہیں گے کہ دُنیا میں مشکل ہی سے تم نے کوئی دس دن گزارے ہوں گے
مولانا محمد جوناگڑھی
وه آپس میں چپکے چپکے کہہ رہے ہوں گے کہ ہم تو (دنیا میں) صرف دس دن ہی رہے
احمد رضا خان بریلوی
آپس میں چپکے چپکے کہتے ہوں گے کہ تم دنیا میں نہ رہے مگر دس رات
علامہ محمد حسین نجفی
وہ آپس میں چپکے چپکے کہیں گے کہ تم (دنیا و برزخ میں) کوئی دس دن ہی رہے ہوگے۔
عبدالسلام بن محمد
آپس میں چپکے چپکے کہہ رہے ہوں گے تم دس راتوں کے سوا نہیں ٹھہرے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
صور کیا ہے ؟ ٭٭
{ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال ہوتا ہے کہ صور کیا چیز ہے؟ آپ نے فرمایا وہ ایک قرن ہے جو پھونکا جائے گا۔ } ۱؎ [سنن ترمذي:3244،قال الشيخ الألباني:صحیح] اور حدیث میں ہے کہ { اس کا دائرہ بقدر آسمانوں اور زمینوں کے ہے۔ اسرافیل علیہ السلام اسے پھونکیں گے۔} اور روایت میں ہے کہ آپ نے فرمایا، { میں کیسے آرام حاصل کروں حالانکہ صور پھونکنے والے فرشتے نے صور کا لقمہ بنا لیا ہے، پیشانی جھکا دی ہے اور انتظار میں ہے کہ کب حکم دیا جائے۔ لوگوں نے کہا، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہم کیا پڑھیں؟ فرمایا کہو «حَسبُنَا اللہُ وَنِعمَ الوَکِیلُ عَلَی اللہِ تَوَکَّلنَا» ۔ } ۱؎ [سنن ترمذي:3243،قال الشيخ الألباني:صحیح] اس وقت تمام لوگوں کا حشر ہو گا کہ مارے ڈر اور گھبراہٹ کے گنہگاروں کی آنکھیں ٹیڑھی ہو رہی ہوں گی۔ ایک دوسرے سے پوشیدہ پوشیدہ کہہ رہے ہوں گے کہ دنیا میں تو ہم بہت ہی کم رہے، زیادہ سے زیادہ شاید دس دن وہاں گزرے ہونگے۔ ہم ان کی اس رازداری کی گفتگو کو بھی بخوبی جانتے ہیں جب کہ ان میں سے بڑا عاقل اور کامل انسان کہے گا کہ میاں دس دن بھی کہاں رکے؟ ہم تو صرف ایک دن ہی دنیا میں رہے۔ غرض کفار کو دنیا کی زندگی ایک سپنے کی طرح معلوم ہو گی۔ اس وقت وہ قسمیں کھا کھا کر کہیں گے کہ صرف ایک ساعت ہی دنیا میں ہم تو ٹھہرے ہوں گے۔ چنانچہ اور آیت میں ہے «اَوَلَمْ نُعَمِّرْكُمْ مَّا يَتَذَكَّرُ فِيْهِ» ۱؎ [35-فاطر:37] الخ۔ ہم نے تمہیں عبرت حاصل کرنے کے قابل عمر بھی دی تھی۔ پھر ہوشیار کرنے والے بھی تمہارے پاس آچکے تھے۔ اور آیتوں میں ہے کہ «قَالَ كَمْ لَبِثْتُمْ فِي الْأَرْضِ عَدَدَ سِنِينَ قَالُوا لَبِثْنَا يَوْمًا أَوْ بَعْضَ يَوْمٍ فَاسْأَلِ الْعَادِّينَ قَالَ إِن لَّبِثْتُمْ إِلَّا قَلِيلًا ۖ لَّوْ أَنَّكُمْ كُنتُمْ تَعْلَمُونَ» ۱؎ [23-المؤمنون:112] اس سوال پر کہ تم کتنا عرصہ زمین پر گزار آئے؟ ان کا جواب ہے ایک دن بلکہ اس سے بھی کم۔ فی الواقع دنیا ہے بھی آخرت کے مقابلے میں ایسی ہی۔ لیکن اگر اس بات کو پہلے سے باور کر لیتے تو اس فانی کو اس باقی پر، اس تھوڑی کو اس بہت پر پسند نہ کرتے بلکہ آخرت کا سامان اس دنیا میں کرتے۔
13۔ 1 شدت ہول اور دہشت کی وجہ سے ایک دوسرے سے چپکے چپکے باتیں کریں گے۔
(آیت 103){ يَتَخَافَتُوْنَ بَيْنَهُمْ …:} اسمائے عدد میں قاعدہ ہے کہ تین سے دس تک کی گنتی میں اگر کوئی چیز مذکر ہو تو عدد مؤنث آئے گا اور اگر کوئی چیز مؤنث ہو تو عدد مذکر ہو گا، جیسا کہ فرمایا: «{ سَخَّرَهَا عَلَيْهِمْ سَبْعَ لَيَالٍ وَّ ثَمٰنِيَةَ اَيَّامٍ حُسُوْمًا}» [الحاقۃ: ۷ ] ”اس نے اس (آندھی) کو ان پر سات راتیں اور آٹھ دن مسلسل چلائے رکھا۔“ اس لیے یہاں {” عَشْرًا “} کا معنی دس راتیں ہو گا۔ {” تَخَافُتْ “} (تفاعل) کا معنی خوف وغیرہ کی وجہ سے آہستہ آواز سے بات کرنا ہے۔ ان کی یہ حالت قیامت کی ہولناکی کی وجہ سے ہوگی۔
ہمیں خوب معلوم ہے کہ وہ کیا باتیں کر رہے ہوں گے (ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ) اُس وقت ان میں سے جو زیادہ سے زیادہ محتاط اندازہ لگانے والا ہوگا وہ کہے گا کہ نہیں، تمہاری دنیا کی زندگی بس ایک دن کی تھی
مولانا محمد جوناگڑھی
جوکچھ وه کہہ رہے ہیں اس کی حقیقت سے ہم باخبر ہیں ان میں سب سے زیاده اچھی راه واﻻ کہہ رہا ہو گا کہ تم تو صرف ایک ہی دن رہے
احمد رضا خان بریلوی
ہم خوب جانتے ہیں جو وہ کہیں گے جبکہ ان میں سب سے بہتر رائے والا کہے گا کہ تم صرف ایک ہی دن رہے تھے
علامہ محمد حسین نجفی
ہم خوب جانتے ہیں جو وہ کہہ رہے ہوں گے جبکہ ان کا سب سے زیادہ صائب الرائے یہ کہتا ہوگا کہ تم تو بس ایک دن رہے ہو۔
عبدالسلام بن محمد
ہم زیادہ جاننے والے ہیں جو کچھ وہ کہہ رہے ہوں گے، جب ان کا سب سے اچھے طریقے والا کہہ رہا ہوگا کہ تم ایک دن کے سوا نہیں ٹھہرے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
صور کیا ہے ؟ ٭٭
{ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال ہوتا ہے کہ صور کیا چیز ہے؟ آپ نے فرمایا وہ ایک قرن ہے جو پھونکا جائے گا۔ } ۱؎ [سنن ترمذي:3244،قال الشيخ الألباني:صحیح] اور حدیث میں ہے کہ { اس کا دائرہ بقدر آسمانوں اور زمینوں کے ہے۔ اسرافیل علیہ السلام اسے پھونکیں گے۔} اور روایت میں ہے کہ آپ نے فرمایا، { میں کیسے آرام حاصل کروں حالانکہ صور پھونکنے والے فرشتے نے صور کا لقمہ بنا لیا ہے، پیشانی جھکا دی ہے اور انتظار میں ہے کہ کب حکم دیا جائے۔ لوگوں نے کہا، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہم کیا پڑھیں؟ فرمایا کہو «حَسبُنَا اللہُ وَنِعمَ الوَکِیلُ عَلَی اللہِ تَوَکَّلنَا» ۔ } ۱؎ [سنن ترمذي:3243،قال الشيخ الألباني:صحیح] اس وقت تمام لوگوں کا حشر ہو گا کہ مارے ڈر اور گھبراہٹ کے گنہگاروں کی آنکھیں ٹیڑھی ہو رہی ہوں گی۔ ایک دوسرے سے پوشیدہ پوشیدہ کہہ رہے ہوں گے کہ دنیا میں تو ہم بہت ہی کم رہے، زیادہ سے زیادہ شاید دس دن وہاں گزرے ہونگے۔ ہم ان کی اس رازداری کی گفتگو کو بھی بخوبی جانتے ہیں جب کہ ان میں سے بڑا عاقل اور کامل انسان کہے گا کہ میاں دس دن بھی کہاں رکے؟ ہم تو صرف ایک دن ہی دنیا میں رہے۔ غرض کفار کو دنیا کی زندگی ایک سپنے کی طرح معلوم ہو گی۔ اس وقت وہ قسمیں کھا کھا کر کہیں گے کہ صرف ایک ساعت ہی دنیا میں ہم تو ٹھہرے ہوں گے۔ چنانچہ اور آیت میں ہے «اَوَلَمْ نُعَمِّرْكُمْ مَّا يَتَذَكَّرُ فِيْهِ» ۱؎ [35-فاطر:37] الخ۔ ہم نے تمہیں عبرت حاصل کرنے کے قابل عمر بھی دی تھی۔ پھر ہوشیار کرنے والے بھی تمہارے پاس آچکے تھے۔ اور آیتوں میں ہے کہ «قَالَ كَمْ لَبِثْتُمْ فِي الْأَرْضِ عَدَدَ سِنِينَ قَالُوا لَبِثْنَا يَوْمًا أَوْ بَعْضَ يَوْمٍ فَاسْأَلِ الْعَادِّينَ قَالَ إِن لَّبِثْتُمْ إِلَّا قَلِيلًا ۖ لَّوْ أَنَّكُمْ كُنتُمْ تَعْلَمُونَ» ۱؎ [23-المؤمنون:112] اس سوال پر کہ تم کتنا عرصہ زمین پر گزار آئے؟ ان کا جواب ہے ایک دن بلکہ اس سے بھی کم۔ فی الواقع دنیا ہے بھی آخرت کے مقابلے میں ایسی ہی۔ لیکن اگر اس بات کو پہلے سے باور کر لیتے تو اس فانی کو اس باقی پر، اس تھوڑی کو اس بہت پر پسند نہ کرتے بلکہ آخرت کا سامان اس دنیا میں کرتے۔
14۔ 1 یعنی سب سے زیادہ عاقل اور سمجھدار۔ یعنی دنیا کی زندگی انھیں چند دن بلکہ گھڑی دو گھڑی کی محسوس ہوگی۔ جس طرح دوسرے مقام پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا (وَيَوْمَ تَــقُوْمُ السَّاعَةُ يُـقْسِمُ الْمُجْرِمُوْنَ ڏ مَا لَبِثُوْا غَيْرَ سَاعَةٍ ۭ كَذٰلِكَ كَانُوْا يُؤْفَكُوْنَ) 30۔ الروم۔ 55) جس دن قیامت برپا ہوگی کافر قسمیں کھا کر کہیں گے کہ وہ (دنیا میں ایک گھڑی سے زیادہ نہیں رہے یہی مضمون اور بھی متعدد جگہ بیان کیا گیا ہے۔ مثلا سورة فاطر، 37 سورة المؤمنون۔، 112۔ 114 سورة النازعات وغیرہ مطلب یہی ہے فانی زندگی کو پاقی رہنے والی زندگی پر ترجیح نہ دی جائے۔
(آیت 104) {نَحْنُ اَعْلَمُ بِمَا يَقُوْلُوْنَ …: ”اَمْثَلُ“} بمعنی {”أَفْضَلُ“} ہے۔ {” اَلْمَثَالَةُ “} یعنی {” اَلْفَضْلُ۔“ ” طَرِيْقَةً “} سب سے اچھے طریقے والا سے مراد یہاں سب سے اچھی رائے والا ہے۔ اسے زیادہ اچھی رائے والا اور عقل مند اس لیے فرمایا کہ اس نے دنیا کے عارضی اور ختم ہونے کو اور آخرت کے ہمیشہ اور باقی رہنے کو دوسروں سے زیادہ سمجھا، اس لیے اس نے کہا کہ دس راتیں کہاں، تم تو ایک دن سے زیادہ دنیا میں نہیں ٹھہرے۔ طبری نے فرمایا کہ قیامت کی ہولناکی انھیں دنیا کا عیش و عشرت ایسا بھلائے گی کہ وہ دنیا میں رہنے کی صحیح مدت بھی نہیں بتا سکیں گے۔ دیکھیے سورۂ مومنون (۱۱۲ تا ۱۱۴) اور روم (۵۵)۔
یہ لوگ تم سے پُوچھتے ہیں کہ آخر اُس دن یہ پہاڑ کہاں چلے جائیں گے؟ کہو کہ میرا رب ان کو دھول بنا کر اڑا دے گا
مولانا محمد جوناگڑھی
وه آپ سے پہاڑوں کی نسبت سوال کرتے ہیں، تو آپ کہہ دیں کہ انہیں میرا رب ریزه ریزه کر کے اڑا دے گا
احمد رضا خان بریلوی
اور تم سے پہاڑوں کو پوچھتے ہیں تم فرماؤ انہیں میرا رب ریزہ ریزہ کرکے اڑا دے گا،
علامہ محمد حسین نجفی
(اے رسول(ص)) لوگ آپ سے پہاڑوں کے بارے میں پوچھتے ہیں کہ (قیامت کے دن کہاں جائیں گے)؟ تو آپ کہہ دیجئے! کہ میرا پروردگار ان کو (ریزہ ریزہ کرکے) اڑا دے گا۔
عبدالسلام بن محمد
اور وہ تجھ سے پہاڑوں کے بارے میں پوچھیں گے تو توُکہہ دے میرا رب انھیں اڑا کر بکھیر دے گا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
پہاڑوں کا کیا ہو گا؟ ٭٭
لوگوں نے پوچھا کہ قیامت کے دن یہ پہاڑ باقی رہیں گے یا نہیں؟ ان کا سوال نقل کر کے جواب دیا جاتا ہے کہ یہ ہٹ جائیں گے، چلتے پھرتے نظر آئیں گے اور آخر ریزہ ریزہ ہو جائیں گے۔ زمین صاف چٹیل ہموار میدان کی صورت میں ہو جائے گی۔ «قاع» کے معنی ہموار صاف میدان ہے۔ «صفصفا» اسی کی تاکید ہے اور «صفصف» کے معنی بغیر روئیدگی کی زمین کے بھی ہیں لیکن پہلے معنی زیادہ اچھے ہیں اور دوسرے مرادی اور لازمی ہیں۔ نہ اس میں کوئی وادی رہے گی نہ ٹیلہ، نہ اونچان رہے گی نہ نیچائی۔ ان دہشت ناک امور کے ساتھ ہی ایک آواز دینے والا آواز دے گا جس کی آواز پر ساری مخلوق لگ جائے گی، دوڑتی ہوئی حسب فرمان ایک طرف چلی جا رہی ہو گی، نہ ادھر ادھر ہو گی نہ ٹیڑھی بان کی چلے گی۔ کاش کہ یہی روش دنیا میں رکھتے اور اللہ کے احکام کی بجا آوری میں مشغول رہتے۔ لیکن آج کی یہ روش بالکل بےسود ہے۔ «أَسْمِعْ بِهِمْ وَأَبْصِرْ يَوْمَ يَأْتُونَنَا» ۱؎ [19-مريم:38] اس دن تو خوب دیکھتے سنتے بن جائیں گے اور آواز کے ساتھ فرماں برداری کریں گے۔ اندھیری جگہ حشر ہو گا۔ آسمان لپیٹ لیا جائے گا، ستارے جھڑ پڑیں گے، سورج چاند مٹ جائے گا۔ «مُّهْطِعِينَ إِلَى الدَّاعِ ۖ يَقُولُ الْكَافِرُونَ هَـٰذَا يَوْمٌ عَسِرٌ» ۱؎ [54-القمر:8] آواز دینے والے کی آواز پر سب چل کھڑے ہوں گے۔ اس ایک میدان میں ساری مخلوق جمع ہو گی مگر اس غضب کا سناٹا ہو گا کہ آداب بارگاہ الٰہی کی وجہ سے ایک آواز نہ اٹھے گی۔ بالکل سکون وسکوت ہو گا، صرف پیروں کی چاپ ہو گی اور کانا پھوسی۔ چل کر جا رہے ہوں گے تو پیروں کی چاپ تو لامحالہ ہونی ہی ہے اور بااجازت الٰہی کبھی کبھی کسی کسی حال میں بولیں گے بھی۔ لیکن چلنا بھی باادب اور بولنا بھی باادب۔ جیسے ارشاد ہے، «يَوْمَ يَاْتِ لَا تَكَلَّمُ نَفْسٌ اِلَّا بِاِذْنِهٖ ۚ فَمِنْهُمْ شَقِيٌّ وَّسَعِيْدٌ» ۔ [11-هود:105] ’ یعنی جس دن وہ میرے سامنے حاضر ہوں گے، کسی کی مجال نہ ہو گی کہ بغیرمیری اجازت کے زبان کھول لے۔ بعض نیک ہوں گے اور بعض بد ہوں گے۔‘
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 106،105) ➊ {وَ يَسْـَٔلُوْنَكَ عَنِ الْجِبَالِ …:} قرطبی نے فرمایا کہ قرآن مجید میں جہاں بھی کسی سوال کا ذکر آیا ہے اس کے لیے جواب میں {”قُلْ“} کا لفظ آیا ہے۔ صرف اس مقام پر فاء کے ساتھ {” فَقُلْ “} آیا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ دوسرے تمام مقامات پر ان سوالات کا جواب ہے جو ہو چکے تھے، یہاں فاء اس لیے ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آئندہ ہونے والے سوال کا جواب دیا کہ {” فَإِنْ سَأَلُوْكَ فَقُلْ… “} یعنی اگر وہ تجھ سے پوچھیں تو کہہ دینا…۔ یعنی فاء دلیل ہے کہ اس سے پہلے شرط محذوف ہے۔ ➋ { فَقُلْ يَنْسِفُهَا رَبِّيْ نَسْفًا …:} صور پھونکنے کے ساتھ قیامت قائم ہونے اور تمام لوگوں کے جمع کرنے کے ذکر پر منکرین قیامت کی طرف سے سوال آنے والا تھا، اللہ تعالیٰ نے اس کا جواب پہلے ہی دے دیا کہ ان کے خیال میں اتنے بلند و بالا اور محکم پہاڑوں کو ان کی جگہ سے کوئی ہلا نہیں سکتا، اس لیے وہ پوچھیں گے کہ ان پہاڑوں کا کیا بنے گا؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اگر یہ لوگ پوچھیں تو آپ ان سے کہہ دیں کہ میرا رب انھیں اڑا کر بکھیر دے گا۔ {” يَنْسِفُهَا “} کی تاکید {” نَسْفًا “} کے ساتھ فرمائی، تاکہ کوئی یہ نہ سمجھے کہ {”يَنْسِفُ“} اپنے اصل معنی میں نہیں ہے بلکہ مجاز ہے۔ یعنی فی الحقیقت اللہ تعالیٰ انھیں ریزہ ریزہ کرکے اڑا دے گا۔ پہاڑوں پر گزرنے والی حالتوں کی تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ نبا (۲۰) کی تفسیر۔ {” قَاعًا “} میدان۔ {” صَفْصَفًا “} ہموار۔
پھر ان کی جگہ زمین کو اس طرح چٹیل میدان بنا دے گا۔
عبدالسلام بن محمد
پھر انھیں ایک چٹیل میدان بنا کرچھوڑے گا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
پہاڑوں کا کیا ہو گا؟ ٭٭
لوگوں نے پوچھا کہ قیامت کے دن یہ پہاڑ باقی رہیں گے یا نہیں؟ ان کا سوال نقل کر کے جواب دیا جاتا ہے کہ یہ ہٹ جائیں گے، چلتے پھرتے نظر آئیں گے اور آخر ریزہ ریزہ ہو جائیں گے۔ زمین صاف چٹیل ہموار میدان کی صورت میں ہو جائے گی۔ «قاع» کے معنی ہموار صاف میدان ہے۔ «صفصفا» اسی کی تاکید ہے اور «صفصف» کے معنی بغیر روئیدگی کی زمین کے بھی ہیں لیکن پہلے معنی زیادہ اچھے ہیں اور دوسرے مرادی اور لازمی ہیں۔ نہ اس میں کوئی وادی رہے گی نہ ٹیلہ، نہ اونچان رہے گی نہ نیچائی۔ ان دہشت ناک امور کے ساتھ ہی ایک آواز دینے والا آواز دے گا جس کی آواز پر ساری مخلوق لگ جائے گی، دوڑتی ہوئی حسب فرمان ایک طرف چلی جا رہی ہو گی، نہ ادھر ادھر ہو گی نہ ٹیڑھی بان کی چلے گی۔ کاش کہ یہی روش دنیا میں رکھتے اور اللہ کے احکام کی بجا آوری میں مشغول رہتے۔ لیکن آج کی یہ روش بالکل بےسود ہے۔ «أَسْمِعْ بِهِمْ وَأَبْصِرْ يَوْمَ يَأْتُونَنَا» ۱؎ [19-مريم:38] اس دن تو خوب دیکھتے سنتے بن جائیں گے اور آواز کے ساتھ فرماں برداری کریں گے۔ اندھیری جگہ حشر ہو گا۔ آسمان لپیٹ لیا جائے گا، ستارے جھڑ پڑیں گے، سورج چاند مٹ جائے گا۔ «مُّهْطِعِينَ إِلَى الدَّاعِ ۖ يَقُولُ الْكَافِرُونَ هَـٰذَا يَوْمٌ عَسِرٌ» ۱؎ [54-القمر:8] آواز دینے والے کی آواز پر سب چل کھڑے ہوں گے۔ اس ایک میدان میں ساری مخلوق جمع ہو گی مگر اس غضب کا سناٹا ہو گا کہ آداب بارگاہ الٰہی کی وجہ سے ایک آواز نہ اٹھے گی۔ بالکل سکون وسکوت ہو گا، صرف پیروں کی چاپ ہو گی اور کانا پھوسی۔ چل کر جا رہے ہوں گے تو پیروں کی چاپ تو لامحالہ ہونی ہی ہے اور بااجازت الٰہی کبھی کبھی کسی کسی حال میں بولیں گے بھی۔ لیکن چلنا بھی باادب اور بولنا بھی باادب۔ جیسے ارشاد ہے، «يَوْمَ يَاْتِ لَا تَكَلَّمُ نَفْسٌ اِلَّا بِاِذْنِهٖ ۚ فَمِنْهُمْ شَقِيٌّ وَّسَعِيْدٌ» ۔ [11-هود:105] ’ یعنی جس دن وہ میرے سامنے حاضر ہوں گے، کسی کی مجال نہ ہو گی کہ بغیرمیری اجازت کے زبان کھول لے۔ بعض نیک ہوں گے اور بعض بد ہوں گے۔‘
کہ تم اس میں نہ کوئی ناہمواری دیکھوگے اور نہ بلندی۔
عبدالسلام بن محمد
جس میں تو نہ کوئی کجی دیکھے گا اور نہ کوئی ابھری جگہ۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
پہاڑوں کا کیا ہو گا؟ ٭٭
لوگوں نے پوچھا کہ قیامت کے دن یہ پہاڑ باقی رہیں گے یا نہیں؟ ان کا سوال نقل کر کے جواب دیا جاتا ہے کہ یہ ہٹ جائیں گے، چلتے پھرتے نظر آئیں گے اور آخر ریزہ ریزہ ہو جائیں گے۔ زمین صاف چٹیل ہموار میدان کی صورت میں ہو جائے گی۔ «قاع» کے معنی ہموار صاف میدان ہے۔ «صفصفا» اسی کی تاکید ہے اور «صفصف» کے معنی بغیر روئیدگی کی زمین کے بھی ہیں لیکن پہلے معنی زیادہ اچھے ہیں اور دوسرے مرادی اور لازمی ہیں۔ نہ اس میں کوئی وادی رہے گی نہ ٹیلہ، نہ اونچان رہے گی نہ نیچائی۔ ان دہشت ناک امور کے ساتھ ہی ایک آواز دینے والا آواز دے گا جس کی آواز پر ساری مخلوق لگ جائے گی، دوڑتی ہوئی حسب فرمان ایک طرف چلی جا رہی ہو گی، نہ ادھر ادھر ہو گی نہ ٹیڑھی بان کی چلے گی۔ کاش کہ یہی روش دنیا میں رکھتے اور اللہ کے احکام کی بجا آوری میں مشغول رہتے۔ لیکن آج کی یہ روش بالکل بےسود ہے۔ «أَسْمِعْ بِهِمْ وَأَبْصِرْ يَوْمَ يَأْتُونَنَا» ۱؎ [19-مريم:38] اس دن تو خوب دیکھتے سنتے بن جائیں گے اور آواز کے ساتھ فرماں برداری کریں گے۔ اندھیری جگہ حشر ہو گا۔ آسمان لپیٹ لیا جائے گا، ستارے جھڑ پڑیں گے، سورج چاند مٹ جائے گا۔ «مُّهْطِعِينَ إِلَى الدَّاعِ ۖ يَقُولُ الْكَافِرُونَ هَـٰذَا يَوْمٌ عَسِرٌ» ۱؎ [54-القمر:8] آواز دینے والے کی آواز پر سب چل کھڑے ہوں گے۔ اس ایک میدان میں ساری مخلوق جمع ہو گی مگر اس غضب کا سناٹا ہو گا کہ آداب بارگاہ الٰہی کی وجہ سے ایک آواز نہ اٹھے گی۔ بالکل سکون وسکوت ہو گا، صرف پیروں کی چاپ ہو گی اور کانا پھوسی۔ چل کر جا رہے ہوں گے تو پیروں کی چاپ تو لامحالہ ہونی ہی ہے اور بااجازت الٰہی کبھی کبھی کسی کسی حال میں بولیں گے بھی۔ لیکن چلنا بھی باادب اور بولنا بھی باادب۔ جیسے ارشاد ہے، «يَوْمَ يَاْتِ لَا تَكَلَّمُ نَفْسٌ اِلَّا بِاِذْنِهٖ ۚ فَمِنْهُمْ شَقِيٌّ وَّسَعِيْدٌ» ۔ [11-هود:105] ’ یعنی جس دن وہ میرے سامنے حاضر ہوں گے، کسی کی مجال نہ ہو گی کہ بغیرمیری اجازت کے زبان کھول لے۔ بعض نیک ہوں گے اور بعض بد ہوں گے۔‘
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 107){ لَا تَرٰى فِيْهَا عِوَجًا وَّ لَاۤ اَمْتًا: ” عِوَجًا “} کجی، مراد نیچی جگہ ہے۔ {” اَمْتًا “} معمولی ابھری ہوئی جگہ، یعنی ہر بلندی اور پستی، حتیٰ کہ سمندروں کی گہرائی اور پہاڑوں کی بلندی ختم ہو کر پوری زمین بالکل ہموار ہو جائے گی، جس میں ذرہ برابر نیچی یا اونچی جگہ دکھائی نہ دے گی۔
اس روز سب لوگ منادی کی پکار پر سیدھے چلے آئیں گے، کوئی ذرا اکڑ نہ دکھا سکے گا اور آوازیں رحمان کے آگے دب جائیں گی، ایک سرسراہٹ کے سوا تم کچھ نہ سنو گے
مولانا محمد جوناگڑھی
جس دن لوگ پکارنے والے کے پیچھے چلیں گے جس میں کوئی کجی نہ ہوگی اور اللہ رحمنٰ کے سامنے تمام آوازیں پست ہو جائیں گی سوائے کھسر پھسر کے تجھے کچھ بھی سنائی نہ دے گا
احمد رضا خان بریلوی
اس دن پکارنے والے کے پیچھے دوڑیں گے اس میں کجی نہ ہوگی اور سب آوازیں رحمن کے حضو ر پست ہوکر رہ جائیں گی تو تُو نہ سنے گا مگر بہت آہستہ آواز
علامہ محمد حسین نجفی
اس روز لوگ ایک پکارنے والے (اسرافیل) کے پیچھے اس طرح سیدھے آئیں گے جس میں کوئی کجی نہ ہوگی اور خدا کے سامنے اور سب آوازیں دب جائیں گی پس تم قدموں کی آہٹ کے سوا کچھ نہیں سنوگے۔
عبدالسلام بن محمد
اس دن وہ پکارنے والے کے پیچھے چلے آئیں گے، جس کے لیے کوئی کجی نہ ہوگی اور سب آوازیں رحمان کے لیے پست ہو جائیں گی، سو تو ایک نہایت آہستہ آواز کے سوا کچھ نہیں سنے گا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
پہاڑوں کا کیا ہو گا؟ ٭٭
لوگوں نے پوچھا کہ قیامت کے دن یہ پہاڑ باقی رہیں گے یا نہیں؟ ان کا سوال نقل کر کے جواب دیا جاتا ہے کہ یہ ہٹ جائیں گے، چلتے پھرتے نظر آئیں گے اور آخر ریزہ ریزہ ہو جائیں گے۔ زمین صاف چٹیل ہموار میدان کی صورت میں ہو جائے گی۔ «قاع» کے معنی ہموار صاف میدان ہے۔ «صفصفا» اسی کی تاکید ہے اور «صفصف» کے معنی بغیر روئیدگی کی زمین کے بھی ہیں لیکن پہلے معنی زیادہ اچھے ہیں اور دوسرے مرادی اور لازمی ہیں۔ نہ اس میں کوئی وادی رہے گی نہ ٹیلہ، نہ اونچان رہے گی نہ نیچائی۔ ان دہشت ناک امور کے ساتھ ہی ایک آواز دینے والا آواز دے گا جس کی آواز پر ساری مخلوق لگ جائے گی، دوڑتی ہوئی حسب فرمان ایک طرف چلی جا رہی ہو گی، نہ ادھر ادھر ہو گی نہ ٹیڑھی بان کی چلے گی۔ کاش کہ یہی روش دنیا میں رکھتے اور اللہ کے احکام کی بجا آوری میں مشغول رہتے۔ لیکن آج کی یہ روش بالکل بےسود ہے۔ «أَسْمِعْ بِهِمْ وَأَبْصِرْ يَوْمَ يَأْتُونَنَا» ۱؎ [19-مريم:38] اس دن تو خوب دیکھتے سنتے بن جائیں گے اور آواز کے ساتھ فرماں برداری کریں گے۔ اندھیری جگہ حشر ہو گا۔ آسمان لپیٹ لیا جائے گا، ستارے جھڑ پڑیں گے، سورج چاند مٹ جائے گا۔ «مُّهْطِعِينَ إِلَى الدَّاعِ ۖ يَقُولُ الْكَافِرُونَ هَـٰذَا يَوْمٌ عَسِرٌ» ۱؎ [54-القمر:8] آواز دینے والے کی آواز پر سب چل کھڑے ہوں گے۔ اس ایک میدان میں ساری مخلوق جمع ہو گی مگر اس غضب کا سناٹا ہو گا کہ آداب بارگاہ الٰہی کی وجہ سے ایک آواز نہ اٹھے گی۔ بالکل سکون وسکوت ہو گا، صرف پیروں کی چاپ ہو گی اور کانا پھوسی۔ چل کر جا رہے ہوں گے تو پیروں کی چاپ تو لامحالہ ہونی ہی ہے اور بااجازت الٰہی کبھی کبھی کسی کسی حال میں بولیں گے بھی۔ لیکن چلنا بھی باادب اور بولنا بھی باادب۔ جیسے ارشاد ہے، «يَوْمَ يَاْتِ لَا تَكَلَّمُ نَفْسٌ اِلَّا بِاِذْنِهٖ ۚ فَمِنْهُمْ شَقِيٌّ وَّسَعِيْدٌ» ۔ [11-هود:105] ’ یعنی جس دن وہ میرے سامنے حاضر ہوں گے، کسی کی مجال نہ ہو گی کہ بغیرمیری اجازت کے زبان کھول لے۔ بعض نیک ہوں گے اور بعض بد ہوں گے۔‘
18۔ 1 یعنی جس دن اونچے نیچے پہاڑ، وادیاں، فلک بوس عمارتیں، سب صاف ہوجائیں گی، سمندر اور دریا خشک ہوجائیں گے، اور ساری زمین صاف چٹیل میدان ہو جائی گی۔ پھر ایک آواز آئیگی، جس کے پیچھے سارے لوگ لگ جائیں گے یعنی جس طرف وہ بلائے گا، جائیں گے۔
(آیت 108) ➊ {يَوْمَىِٕذٍ يَّتَّبِعُوْنَ الدَّاعِيَ …:} یعنی قیامت کے دن سب لوگ حشر کے لیے قبروں سے نکل کر پکارنے والے کی آواز کی طرف نہایت تیزی کے ساتھ سر اٹھائے ہوئے دوڑتے جائیں گے، جیسا کہ فرمایا: «{ مُهْطِعِيْنَ مُقْنِعِيْ رُءُوْسِهِمْ }» [إبراہیم: ۴۳ ] ”اس حال میں کہ تیز دوڑنے والے، اپنے سروں کو اوپر اٹھانے والے ہوں گے۔“ اس کی طرف جانے میں کوئی کجی نہ ہو گی، یعنی تیر کی طرح سیدھے جائیں گے اور ذرہ بھر ادھر ادھر نہ ہوں گے۔ اس حالت کا نقشہ سورۂ ابراہیم (۴۲، ۴۳)، سورۂ قمر (۶ تا ۸) اور سورۂ قٓ (۴۱، ۴۲) میں دیکھیے۔ {”لَا عِوَجَ لَهٗ “} کا دوسرا معنی یہ ہے کہ پکارنے والے کی پکار میں کوئی کجی نہ ہو گی کہ کسی تک پہنچے اور کسی تک نہ پہنچے، ہر شخص تک سیدھی پہنچے گی۔ ➋ { وَ خَشَعَتِ الْاَصْوَاتُ …:} یعنی اتنی بے شمار مخلوق کے دوڑنے اور اکٹھے ہونے پر کوئی شور و غل نہ ہو گا۔ سب آوازیں رحمان کے لیے پست ہو جائیں گی۔ ”رحمان“ کے لیے پست ہونے کا مطلب یہ ہے کہ اس بے حد رحم والے رب کی رحمت اور اس کے کرم کی طلب میں سب عاجزی سے خاموش ہوں گے۔ {” هَمْسًا “} ہلکی سے ہلکی آواز یا قدموں کی ہلکی سے ہلکی آہٹ، کھسکھساہٹ۔
اُس روز شفاعت کارگر نہ ہو گی، اِلّا یہ کہ کسی کو رحمان اس کی اجازت دے اور اس کی بات سننا پسند کرے
مولانا محمد جوناگڑھی
اس دن سفارش کچھ کام نہیں آئے گی مگر جسے رحمنٰ حکم دے اور اس کی بات کو پسند فرمائے
احمد رضا خان بریلوی
اس دن کسی کی شفاعت کام نہ دے گی، مگر اس کی جسے رحمن نے اذن دے دیا ہے اور اس کی بات پسند فرمائی،
علامہ محمد حسین نجفی
اس دن کوئی شفاعت فائدہ نہیں دے گی سوائے اس کے جس کو خدا اجازت دے گا اور اس کے بولنے کو پسند کرے گا۔
عبدالسلام بن محمد
اس دن سفارش نفع نہ دے گی مگر جس کے لیے رحمان اجازت دے اور جس کے لیے وہ بات کرنا پسند فرمائے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
نوعیت شفاعت اور روز قیامت ٭٭
قیامت کے دن کسی کی مجال نہ ہو گی کہ «مَن ذَا الَّذِي يَشْفَعُ عِندَهُ إِلَّا بِإِذْنِهِ» ۱؎ [2-البقرة:255] ’ دوسرے کے لیے شفاعت کرے ہاں جسے اللہ اجازت دے۔ ‘ «وَكَم مِّن مَّلَكٍ فِي السَّمَاوَاتِ لَا تُغْنِي شَفَاعَتُهُمْ شَيْئًا إِلَّا مِن بَعْدِ أَن يَأْذَنَ اللَّـهُ لِمَن يَشَاءُ وَيَرْضَىٰ» ۱؎ [53-النجم:26] ’ نہ آسمان کے فرشتے بے اجازت کسی کی سفارش کر سکیں نہ اور کوئی بزرگ بندہ۔ سب کو خود خوف لگا ہو گا، بے اجازت کسی کی سفارش نہ ہو گی۔ ‘ «يَوْمَ يَقُومُ الرُّوحُ وَالْمَلَائِكَةُ صَفًّا ۖ لَّا يَتَكَلَّمُونَ إِلَّا مَنْ أَذِنَ لَهُ الرَّحْمَـٰنُ وَقَالَ صَوَابًا» ۱؎ [78-النبأ:38] ’ فرشتے اور روح صف بستہ کھڑے ہوں گے، بے اجازت الٰہی کوئی لب نہ کھول سکے گا۔ ‘ { خود سید الناس اکرم الناس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی عرش تلے اللہ کے سامنے سجدے میں گر پڑیں گے، اللہ کی خوب حمد و ثنا کریں گے، دیر تک سجدے میں پڑے رہیں گے۔ پھر اللہ تعالیٰ فرمائے گا، اے محمد [ صلی اللہ علیہ وسلم ] اپنا سر اٹھاؤ، کہو تمہاری بات سنی جائے گی، شفاعت کرو تمہاری شفاعت قبول کی جائے گی۔ پھر حد مقرر ہو گی آپ ان کی شفاعت کر کے جنت میں لے جائیں گے، پھر لوٹیں گے پھر یہی حکم ہو گا۔ } «صلوات اللہ وسلامہ علیہ وعلی سائر الانبیاء» ۔ اور حدیث میں ہے کہ { حکم ہو گا کہ جہنم سے ان لوگوں کو بھی نکال لاؤ جن کے دل میں ایک مثقال ایمان ہو، پس بہت سے لوگوں کو نکال لائیں گے۔ پھر فرمائے گا جس کے دل میں آدھا مثقال ایمان ہو اسے بھی نکال لاؤ۔ جس کے دل میں بقدر ایک ذرے کے ایمان ہو اسے بھی نکال لاؤ۔ جس کے دل میں اس سے بھی کم اس سے بھی کم، اس سے بھی کم ایمان ہو، اسے بھی جہنم سے آزاد کرو، الخ۔ } ۱؎ [صحیح مسلم:183] اس نے تمام مخلوق کا اپنے علم سے احاطہٰ کر رکھا ہے، مخلوق اس کے علم کا احاطہٰ کر ہی نہیں سکتی۔
جیسے فرمان ہے «وَلَا يُحِيطُونَ بِشَيْءٍ مِّنْ عِلْمِهِ إِلَّا بِمَا شَاءَ» [2-البقرة:265] ’ اس کے علم میں سے صرف وہی معلوم کر سکتے ہیں جو وہ چاہے۔ ‘ تمام مخلوق کے چہرے عاجزی پستی ذلت و نرمی کے ساتھ اس کے سامنے پست ہیں، اس لیے کہ وہ موت و فوت سے پاک ہے، ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ ہی رہنے والا ہے، وہ نہ سوئے نہ اونگھے۔ خود اپنے آپ قائم رہنے والا اور ہرچیز کو اپنی تدبیر سے قائم رکھنے والا ہے۔ سب کی دیکھ بھال حفاظت اور سنبھال وہی کرتا ہے، وہ تمام کمالات رکھتا ہے اور ساری مخلوق اس کی محتاج ہے، بغیر رب کی مرضی کے نہ پیدا ہو سکے نہ باقی رہ سکے۔ جس نے یہاں ظلم کئے ہوں گے وہ وہاں برباد ہو گا۔ کیونکہ ہر حقدار کو اللہ تعالیٰ اس دن اس کے حق دلوائے گا یہاں تک کہ بے سینگ کی بکری کو سینگ والی بکری سے بدلہ دلوایا جائے گا۔ حدیث قدسی میں ہے کہ { اللہ تعالیٰ عزوجل فرمائے گا، مجھے اپنی عزت وجلال کی قسم، کسی ظالم کے ظلم کو میں اپنے سامنے سے نہ گزرنے دوں گا۔ } صحیح حدیث میں ہے { لوگو! ظلم سے بچو۔ ظلم قیامت کے دن اندھیرا بن کر آئے گا } ۱؎ [صحیح مسلم:2578] اور سب سے بڑھ کرنقصان یافتہ وہ ہے جو اللہ سے شرک کرتا ہوا مرا، وہ تباہ و برباد ہوا، اس لیے کہ «إِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ» ۱؎ [31-لقمان:13] ’ شرک ظلم عظیم ہے۔ ‘ ظالموں کا بدلہ بیان فرما کر متقیوں کا ثواب بیان ہو رہا ہے کہ نہ ان کی برائیاں بڑھائی جائیں نہ ان کی نیکیاں گھٹائی جائیں۔ گناہ کی زیادتی اور نیکی کی کمی سے وہ بے کھٹکے ہیں۔
19۔ 1 یعنی اس دن کسی کی سفارش کسی کو فائدہ نہیں پہنچائے گی، سوائے ان کے جن کو رحمٰن شفاعت کرنے کی اجازت دے گا، اور وہ بھی ہر کسی کی سفارش نہیں کریں گے بلکہ صرف ان کی سفارش کریں گے جن کی بابت سفارش کو اللہ پسند فرمائے گا اور یہ کون لوگ ہونگے؟ صرف اہل توحید، جن کے حق میں اللہ تعالیٰ سفارش کرنے کی اجازت دے گا۔ یہ مضمون قرآن میں متعدد جگہ بیان فرمایا گیا ہے۔ مثلا سورة نجم، 2 6 ، سورة انبیاء، 28۔ سورة سباء، 23۔ سورة النباء 38۔ اور آیت الکرسی۔
(آیت 109) ➊ {يَوْمَىِٕذٍ لَّا تَنْفَعُ الشَّفَاعَةُ …:} اس آیت میں اس دن کی مزید ہیبت اور عظمت بیان ہوئی ہے کہ مشرکین کا کہنا کہ ہمارے معبود ہماری سفارش کرکے ہمیں بچا لیں گے، بالکل غلط ہے۔ وہاں کوئی سفارش نفع نہ دے گی۔ ➋ { اِلَّا مَنْ اَذِنَ لَهُ الرَّحْمٰنُ …:} اس کے دو مطلب ہیں، دونوں مراد ہیں اور دونوں کی تائید آیات قرآن سے ہوتی ہے۔ یہ قرآن کا اعجاز ہے کہ نہایت مختصر لفظوں میں بہت زیادہ معانی ہوتے ہیں۔ ایک معنی یہ ہے کہ اس دن سفارش نفع نہ دے گی مگر اس کی جس کو رحمان سفارش کرنے کی اجازت دے اور جس کے بات کرنے کو پسند فرمائے۔ دوسرا یہ کہ اس دن سفارش نفع نہ دے گی مگر اس کو جس کے حق میں رحمان سفارش کی اجازت دے اور جس کے حق میں بات کرنے کو پسند فرمائے۔ دیکھیے سورۂ مریم (۸۷)، سبا (۲۳)، زخرف (۸۶)، نجم (۲۶) اور نبا (۳۸)۔
وہ لوگوں کا اگلا پچھلا سب حال جانتا ہے اور دُوسروں کو اس کا پورا عِلم نہیں ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
جو کچھ ان کے آگے پیچھے ہے اسے اللہ ہی جانتا ہے مخلوق کا علم اس پر حاوی نہیں ہو سکتا
احمد رضا خان بریلوی
وہ جانتا ہے جو کچھ ان کے آگے ہے اور جو کچھ ان کے پیچھے اور ان کا علم اسے نہیں گھیر سکتا
علامہ محمد حسین نجفی
جو کچھ لوگوں کے آگے ہے (آنے والے حالات) اور جو کچھ ان کے پیچھے ہے (گزرے ہوئے واقعات) وہ سب کچھ جانتا ہے مگر لوگ اپنے علم سے اس کا احاطہ نہیں کر سکتے۔
عبدالسلام بن محمد
وہ جانتا ہے جو ان کے سامنے ہے اور جو ان کے پیچھے ہے اور وہ علم سے اس کا احاطہ نہیں کرسکتے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
نوعیت شفاعت اور روز قیامت ٭٭
قیامت کے دن کسی کی مجال نہ ہو گی کہ «مَن ذَا الَّذِي يَشْفَعُ عِندَهُ إِلَّا بِإِذْنِهِ» ۱؎ [2-البقرة:255] ’ دوسرے کے لیے شفاعت کرے ہاں جسے اللہ اجازت دے۔ ‘ «وَكَم مِّن مَّلَكٍ فِي السَّمَاوَاتِ لَا تُغْنِي شَفَاعَتُهُمْ شَيْئًا إِلَّا مِن بَعْدِ أَن يَأْذَنَ اللَّـهُ لِمَن يَشَاءُ وَيَرْضَىٰ» ۱؎ [53-النجم:26] ’ نہ آسمان کے فرشتے بے اجازت کسی کی سفارش کر سکیں نہ اور کوئی بزرگ بندہ۔ سب کو خود خوف لگا ہو گا، بے اجازت کسی کی سفارش نہ ہو گی۔ ‘ «يَوْمَ يَقُومُ الرُّوحُ وَالْمَلَائِكَةُ صَفًّا ۖ لَّا يَتَكَلَّمُونَ إِلَّا مَنْ أَذِنَ لَهُ الرَّحْمَـٰنُ وَقَالَ صَوَابًا» ۱؎ [78-النبأ:38] ’ فرشتے اور روح صف بستہ کھڑے ہوں گے، بے اجازت الٰہی کوئی لب نہ کھول سکے گا۔ ‘ { خود سید الناس اکرم الناس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی عرش تلے اللہ کے سامنے سجدے میں گر پڑیں گے، اللہ کی خوب حمد و ثنا کریں گے، دیر تک سجدے میں پڑے رہیں گے۔ پھر اللہ تعالیٰ فرمائے گا، اے محمد [ صلی اللہ علیہ وسلم ] اپنا سر اٹھاؤ، کہو تمہاری بات سنی جائے گی، شفاعت کرو تمہاری شفاعت قبول کی جائے گی۔ پھر حد مقرر ہو گی آپ ان کی شفاعت کر کے جنت میں لے جائیں گے، پھر لوٹیں گے پھر یہی حکم ہو گا۔ } «صلوات اللہ وسلامہ علیہ وعلی سائر الانبیاء» ۔ اور حدیث میں ہے کہ { حکم ہو گا کہ جہنم سے ان لوگوں کو بھی نکال لاؤ جن کے دل میں ایک مثقال ایمان ہو، پس بہت سے لوگوں کو نکال لائیں گے۔ پھر فرمائے گا جس کے دل میں آدھا مثقال ایمان ہو اسے بھی نکال لاؤ۔ جس کے دل میں بقدر ایک ذرے کے ایمان ہو اسے بھی نکال لاؤ۔ جس کے دل میں اس سے بھی کم اس سے بھی کم، اس سے بھی کم ایمان ہو، اسے بھی جہنم سے آزاد کرو، الخ۔ } ۱؎ [صحیح مسلم:183] اس نے تمام مخلوق کا اپنے علم سے احاطہٰ کر رکھا ہے، مخلوق اس کے علم کا احاطہٰ کر ہی نہیں سکتی۔
جیسے فرمان ہے «وَلَا يُحِيطُونَ بِشَيْءٍ مِّنْ عِلْمِهِ إِلَّا بِمَا شَاءَ» [2-البقرة:265] ’ اس کے علم میں سے صرف وہی معلوم کر سکتے ہیں جو وہ چاہے۔ ‘ تمام مخلوق کے چہرے عاجزی پستی ذلت و نرمی کے ساتھ اس کے سامنے پست ہیں، اس لیے کہ وہ موت و فوت سے پاک ہے، ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ ہی رہنے والا ہے، وہ نہ سوئے نہ اونگھے۔ خود اپنے آپ قائم رہنے والا اور ہرچیز کو اپنی تدبیر سے قائم رکھنے والا ہے۔ سب کی دیکھ بھال حفاظت اور سنبھال وہی کرتا ہے، وہ تمام کمالات رکھتا ہے اور ساری مخلوق اس کی محتاج ہے، بغیر رب کی مرضی کے نہ پیدا ہو سکے نہ باقی رہ سکے۔ جس نے یہاں ظلم کئے ہوں گے وہ وہاں برباد ہو گا۔ کیونکہ ہر حقدار کو اللہ تعالیٰ اس دن اس کے حق دلوائے گا یہاں تک کہ بے سینگ کی بکری کو سینگ والی بکری سے بدلہ دلوایا جائے گا۔ حدیث قدسی میں ہے کہ { اللہ تعالیٰ عزوجل فرمائے گا، مجھے اپنی عزت وجلال کی قسم، کسی ظالم کے ظلم کو میں اپنے سامنے سے نہ گزرنے دوں گا۔ } صحیح حدیث میں ہے { لوگو! ظلم سے بچو۔ ظلم قیامت کے دن اندھیرا بن کر آئے گا } ۱؎ [صحیح مسلم:2578] اور سب سے بڑھ کرنقصان یافتہ وہ ہے جو اللہ سے شرک کرتا ہوا مرا، وہ تباہ و برباد ہوا، اس لیے کہ «إِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ» ۱؎ [31-لقمان:13] ’ شرک ظلم عظیم ہے۔ ‘ ظالموں کا بدلہ بیان فرما کر متقیوں کا ثواب بیان ہو رہا ہے کہ نہ ان کی برائیاں بڑھائی جائیں نہ ان کی نیکیاں گھٹائی جائیں۔ گناہ کی زیادتی اور نیکی کی کمی سے وہ بے کھٹکے ہیں۔
110۔ 1 گزشتہ آیت میں شفاعت کے لیے جو اصول بیان فرمایا گیا ہے اس میں اس کی وجہ اور علت بیان کردی گئی ہے کہ چونکہ اللہ کے سوا کسی کو بھی کسی کی بابت پورا علم نہیں ہے کہ کون کتنا بڑا مجرم ہے؟ اور وہ اس بات کا مستحق ہے بھی یا نہیں کہ اس کی سفارش کی جاسکے؟ اس لیے اس بات کا فیصلہ بھی اللہ تعالیٰ ہی فرمائے گا کہ کون کون لوگ انبیاء وصلحا کی سفارش کے مستحق ہیں؟ کیونکہ ہر شخص کے جرائم کی نوعیت و کیفیت کو اس کے سواء کوئی نہیں جانتا اور نہ جان ہی سکتا ہے۔
(آیت 110) ➊ { يَعْلَمُ مَا بَيْنَ اَيْدِيْهِمْ وَ مَا خَلْفَهُمْ:} دیکھیے آیت الکرسی (بقرہ: ۲۵۵) کی تفسیر۔ ➋ {وَ لَا يُحِيْطُوْنَ بِهٖ عِلْمًا: ” بِهٖ “} کی ضمیر کے مرجع کے لحاظ سے اس کے تین مطلب ہو سکتے ہیں اور تینوں صحیح ہیں۔ ایک یہ کہ{ ” بِهٖ “} میں {”هٖ“} ضمیر اللہ تعالیٰ کے لیے قرار دی جائے۔ معنی یہ ہو گا کہ کسی کا علم اتنا نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ذات و صفات کا احاطہ کر سکے، مخلوق کا محدود علم خالق کا احاطہ کیسے کر سکتا ہے؟ دوسرا یہ کہ یہ ضمیر {” يَعْلَمُ “} کے مصدر{ ”عِلْمٌ“} کے لیے قرار دی جائے۔ اس صورت میں معنی یہ ہو گا کہ کوئی شخص اللہ کے علم کا احاطہ نہیں کر سکتا اور اس صورت میں یہ آیت الکرسی کے جملہ{ ” وَ لَا يُحِيْطُوْنَ بِشَيْءٍ مِّنْ عِلْمِهٖۤ اِلَّا بِمَا شَآءَ “} کا ہم معنی ہو گا۔ تیسرا یہ ہے کہ {”هٖ“} ضمیر{” مَا بَيْنَ اَيْدِيْهِمْ وَ مَا خَلْفَهُمْ“} میں موجود {” مَا “ } کی طرف لوٹ رہی ہو۔ اس صورت میں مطلب یہ ہو گا کہ ان میں سے کسی کا علم بھی اس کا احاطہ نہیں کر سکتا جو لوگوں کے سامنے ہے اور جو ان کے پیچھے ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ کے سوا دوسروں کو (چاہے وہ فرشتے ہوں یا جن یا انسان یا کوئی اور) لوگوں کے اگلے پچھلے حال کا پورا علم نہیں ہے کہ جان سکیں کہ کس کے حق میں شفاعت کرنی چاہیے اور کس کے حق میں نہیں کرنی چاہیے، اس لیے شفاعت کو اللہ تعالیٰ کے اذن (اجازت) پر موقوف رکھا گیا ہے۔ اس میں ان لوگوں کے لیے تنبیہ ہے جو فرشتوں یا انبیاء و اولیاء اور بزرگوں کی پرستش اس امید پر کرتے ہیں کہ وہ قیامت کے دن ہماری سفارش کریں گے۔
لوگوں کے سر اُس حیّ و قیّوم کے آگے جھک جائیں گے نامراد ہوگا جو اُس وقت کسی ظلم کا بار گناہ اٹھائے ہوئے ہو
مولانا محمد جوناگڑھی
تمام چہرے اس زنده اور قائم دائم مدبر، اللہ کے سامنے کمال عاجزی سے جھکے ہوئے ہونگے، یقیناً وه برباد ہوا جس نے ﻇلم ﻻد لیا
احمد رضا خان بریلوی
اور سب منہ جھک جائیں گے اس زندہ قائم رکھنے والے کے حضور اور بیشک نامراد رہا جس نے ظلم کا بوجھ لیا
علامہ محمد حسین نجفی
سب کے چہرے حی و قیوم کے سامنے جھکے ہوئے ہوں گے اور جو شخص ظلم کا بوجھ اٹھائے گا وہ ناکام و نامراد ہو جائے گا۔
عبدالسلام بن محمد
اور سب چہرے اس زندہ رہنے والے، قائم رکھنے والے کے لیے جھک جائیں گے اور یقینا ناکام ہوا جس نے بڑے ظلم کا بوجھ اٹھایا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
نوعیت شفاعت اور روز قیامت ٭٭
قیامت کے دن کسی کی مجال نہ ہو گی کہ «مَن ذَا الَّذِي يَشْفَعُ عِندَهُ إِلَّا بِإِذْنِهِ» ۱؎ [2-البقرة:255] ’ دوسرے کے لیے شفاعت کرے ہاں جسے اللہ اجازت دے۔ ‘ «وَكَم مِّن مَّلَكٍ فِي السَّمَاوَاتِ لَا تُغْنِي شَفَاعَتُهُمْ شَيْئًا إِلَّا مِن بَعْدِ أَن يَأْذَنَ اللَّـهُ لِمَن يَشَاءُ وَيَرْضَىٰ» ۱؎ [53-النجم:26] ’ نہ آسمان کے فرشتے بے اجازت کسی کی سفارش کر سکیں نہ اور کوئی بزرگ بندہ۔ سب کو خود خوف لگا ہو گا، بے اجازت کسی کی سفارش نہ ہو گی۔ ‘ «يَوْمَ يَقُومُ الرُّوحُ وَالْمَلَائِكَةُ صَفًّا ۖ لَّا يَتَكَلَّمُونَ إِلَّا مَنْ أَذِنَ لَهُ الرَّحْمَـٰنُ وَقَالَ صَوَابًا» ۱؎ [78-النبأ:38] ’ فرشتے اور روح صف بستہ کھڑے ہوں گے، بے اجازت الٰہی کوئی لب نہ کھول سکے گا۔ ‘ { خود سید الناس اکرم الناس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی عرش تلے اللہ کے سامنے سجدے میں گر پڑیں گے، اللہ کی خوب حمد و ثنا کریں گے، دیر تک سجدے میں پڑے رہیں گے۔ پھر اللہ تعالیٰ فرمائے گا، اے محمد [ صلی اللہ علیہ وسلم ] اپنا سر اٹھاؤ، کہو تمہاری بات سنی جائے گی، شفاعت کرو تمہاری شفاعت قبول کی جائے گی۔ پھر حد مقرر ہو گی آپ ان کی شفاعت کر کے جنت میں لے جائیں گے، پھر لوٹیں گے پھر یہی حکم ہو گا۔ } «صلوات اللہ وسلامہ علیہ وعلی سائر الانبیاء» ۔ اور حدیث میں ہے کہ { حکم ہو گا کہ جہنم سے ان لوگوں کو بھی نکال لاؤ جن کے دل میں ایک مثقال ایمان ہو، پس بہت سے لوگوں کو نکال لائیں گے۔ پھر فرمائے گا جس کے دل میں آدھا مثقال ایمان ہو اسے بھی نکال لاؤ۔ جس کے دل میں بقدر ایک ذرے کے ایمان ہو اسے بھی نکال لاؤ۔ جس کے دل میں اس سے بھی کم اس سے بھی کم، اس سے بھی کم ایمان ہو، اسے بھی جہنم سے آزاد کرو، الخ۔ } ۱؎ [صحیح مسلم:183] اس نے تمام مخلوق کا اپنے علم سے احاطہٰ کر رکھا ہے، مخلوق اس کے علم کا احاطہٰ کر ہی نہیں سکتی۔
جیسے فرمان ہے «وَلَا يُحِيطُونَ بِشَيْءٍ مِّنْ عِلْمِهِ إِلَّا بِمَا شَاءَ» [2-البقرة:265] ’ اس کے علم میں سے صرف وہی معلوم کر سکتے ہیں جو وہ چاہے۔ ‘ تمام مخلوق کے چہرے عاجزی پستی ذلت و نرمی کے ساتھ اس کے سامنے پست ہیں، اس لیے کہ وہ موت و فوت سے پاک ہے، ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ ہی رہنے والا ہے، وہ نہ سوئے نہ اونگھے۔ خود اپنے آپ قائم رہنے والا اور ہرچیز کو اپنی تدبیر سے قائم رکھنے والا ہے۔ سب کی دیکھ بھال حفاظت اور سنبھال وہی کرتا ہے، وہ تمام کمالات رکھتا ہے اور ساری مخلوق اس کی محتاج ہے، بغیر رب کی مرضی کے نہ پیدا ہو سکے نہ باقی رہ سکے۔ جس نے یہاں ظلم کئے ہوں گے وہ وہاں برباد ہو گا۔ کیونکہ ہر حقدار کو اللہ تعالیٰ اس دن اس کے حق دلوائے گا یہاں تک کہ بے سینگ کی بکری کو سینگ والی بکری سے بدلہ دلوایا جائے گا۔ حدیث قدسی میں ہے کہ { اللہ تعالیٰ عزوجل فرمائے گا، مجھے اپنی عزت وجلال کی قسم، کسی ظالم کے ظلم کو میں اپنے سامنے سے نہ گزرنے دوں گا۔ } صحیح حدیث میں ہے { لوگو! ظلم سے بچو۔ ظلم قیامت کے دن اندھیرا بن کر آئے گا } ۱؎ [صحیح مسلم:2578] اور سب سے بڑھ کرنقصان یافتہ وہ ہے جو اللہ سے شرک کرتا ہوا مرا، وہ تباہ و برباد ہوا، اس لیے کہ «إِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ» ۱؎ [31-لقمان:13] ’ شرک ظلم عظیم ہے۔ ‘ ظالموں کا بدلہ بیان فرما کر متقیوں کا ثواب بیان ہو رہا ہے کہ نہ ان کی برائیاں بڑھائی جائیں نہ ان کی نیکیاں گھٹائی جائیں۔ گناہ کی زیادتی اور نیکی کی کمی سے وہ بے کھٹکے ہیں۔
111۔ 1 اس لئے کہ اس روز اللہ تعالیٰ مکمل انصاف فرمائے گا اور ہر صاحب حق کو اس کا حق دلائے گا۔ حتٰی کہ اگر ایک سینگ والی بکری نے بغیر سینگ والی بکری پر ظلم کیا ہوگا، تو اس کا بھی بدلہ دلایا جائے گا، اسی لئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی حدیث میں یہ بھی فرمایا " لتؤدن الحقوق الی اھلھا " ' ہر صاحب حق کو اس کا حق دے دو ' ورنہ قیامت کو دینا پڑے گا۔ دوسری حدیث میں فرمایا (اِیَّاکُمْ و الظُّلْمَ فَاِنَّ الظُلْمَ ظُلُمَات، ُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ)
(آیت 11) ➊ {وَ عَنَتِ الْوُجُوْهُ لِلْحَيِّ الْقَيُّوْمِ: ” عَنَتْ “ ”عَنَا يَعْنُوْ عُنُوًّا“} (ن) سے واحد مؤنث غائب، ماضی معلوم ہے، اصل میں {”عَنَوَتْ“} تھا، ذلیل اور عاجز ہو کر جھک جانا۔ اس میں سے اسم فاعل {”عَانٍ“} یا {”اَلْعَانِيْ“} آتا ہے، جس کا معنی قیدی ہے، کیونکہ قیدی بے حد عاجز، بے بس اور ذلیل ہوتا ہے۔ یعنی اس دن صرف تمام آوازیں ہی رحمان کے لیے پست نہیں ہوں گی بلکہ تمام چہرے، حتیٰ کہ ان سرکش متکبر لوگوں کے چہرے بھی اس حی و قیوم کے سامنے ذلیل قیدیوں کی طرح جھکے ہوں گے جن کی پیشانی دنیا میں کبھی اللہ کے سامنے جھکی نہ تھی۔ کیونکہ وہ سب فانی و محتاج ہیں اور انھیں حی و قیوم کے سامنے جھکے بغیر کوئی چارہ ہی نہیں۔ {” لِلْحَيِّ الْقَيُّوْمِ “} کی تفسیر آیت الکرسی (بقرہ: ۲۵۵) میں دیکھیے۔ ➋ { وَ قَدْ خَابَ مَنْ حَمَلَ ظُلْمًا:} یہاں {” ظُلْمًا “} پر تنوین تعظیم کی ہے، اس لیے ترجمہ ”بڑے ظلم کا بوجھ اٹھایا“ کیا ہے۔ بڑے ظلم سے مراد مشرک ہونا اور مسلمان نہ ہونا ہے۔ (طبری) اس کا ترجمہ ”کسی ظلم کا بوجھ اٹھایا“ درست نہیں، کیونکہ گناہ گار مومن و موحد سزا پا کر یا سزا کے بغیر اللہ کے اذن سے جنت میں چلے جائیں گے اور جنت میں پہنچ جانے والا ناکام نہیں۔ دلیل اور تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ انعام (۸۲)، بقرہ (۲۵۴) اور یونس (۱۰۶) کی تفسیر۔
اور کسی ظلم یا حق تلفی کا خطرہ نہ ہوگا اُس شخص کو جو نیک عمل کرے اور اِس کے ساتھ وہ مومن بھی ہو
مولانا محمد جوناگڑھی
اور جو نیک اعمال کرے اور ایمان واﻻ بھی ہو تو نہ اسے بے انصافی کا کھٹکا ہوگا نہ حق تلفی کا
احمد رضا خان بریلوی
اور جو کچھ نیک کام کرے اور ہو مسلمان تو اسے نہ زیادتی کا خوف ہوگا اور نہ نقصان کا
علامہ محمد حسین نجفی
اور جو کوئی نیک کام کرے درآنحالیکہ وہ مؤمن بھی ہو تو اسے نہ ظلم و زیادتی کا اندیشہ ہوگا اور نہ کمی و حق تلفی کا۔
عبدالسلام بن محمد
اور جو شخص کچھ نیک اعمال کرے اور وہ مومن ہو تو وہ نہ کسی بے انصافی سے ڈرے گا اور نہ حق تلفی سے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
نوعیت شفاعت اور روز قیامت ٭٭
قیامت کے دن کسی کی مجال نہ ہو گی کہ «مَن ذَا الَّذِي يَشْفَعُ عِندَهُ إِلَّا بِإِذْنِهِ» ۱؎ [2-البقرة:255] ’ دوسرے کے لیے شفاعت کرے ہاں جسے اللہ اجازت دے۔ ‘ «وَكَم مِّن مَّلَكٍ فِي السَّمَاوَاتِ لَا تُغْنِي شَفَاعَتُهُمْ شَيْئًا إِلَّا مِن بَعْدِ أَن يَأْذَنَ اللَّـهُ لِمَن يَشَاءُ وَيَرْضَىٰ» ۱؎ [53-النجم:26] ’ نہ آسمان کے فرشتے بے اجازت کسی کی سفارش کر سکیں نہ اور کوئی بزرگ بندہ۔ سب کو خود خوف لگا ہو گا، بے اجازت کسی کی سفارش نہ ہو گی۔ ‘ «يَوْمَ يَقُومُ الرُّوحُ وَالْمَلَائِكَةُ صَفًّا ۖ لَّا يَتَكَلَّمُونَ إِلَّا مَنْ أَذِنَ لَهُ الرَّحْمَـٰنُ وَقَالَ صَوَابًا» ۱؎ [78-النبأ:38] ’ فرشتے اور روح صف بستہ کھڑے ہوں گے، بے اجازت الٰہی کوئی لب نہ کھول سکے گا۔ ‘ { خود سید الناس اکرم الناس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی عرش تلے اللہ کے سامنے سجدے میں گر پڑیں گے، اللہ کی خوب حمد و ثنا کریں گے، دیر تک سجدے میں پڑے رہیں گے۔ پھر اللہ تعالیٰ فرمائے گا، اے محمد [ صلی اللہ علیہ وسلم ] اپنا سر اٹھاؤ، کہو تمہاری بات سنی جائے گی، شفاعت کرو تمہاری شفاعت قبول کی جائے گی۔ پھر حد مقرر ہو گی آپ ان کی شفاعت کر کے جنت میں لے جائیں گے، پھر لوٹیں گے پھر یہی حکم ہو گا۔ } «صلوات اللہ وسلامہ علیہ وعلی سائر الانبیاء» ۔ اور حدیث میں ہے کہ { حکم ہو گا کہ جہنم سے ان لوگوں کو بھی نکال لاؤ جن کے دل میں ایک مثقال ایمان ہو، پس بہت سے لوگوں کو نکال لائیں گے۔ پھر فرمائے گا جس کے دل میں آدھا مثقال ایمان ہو اسے بھی نکال لاؤ۔ جس کے دل میں بقدر ایک ذرے کے ایمان ہو اسے بھی نکال لاؤ۔ جس کے دل میں اس سے بھی کم اس سے بھی کم، اس سے بھی کم ایمان ہو، اسے بھی جہنم سے آزاد کرو، الخ۔ } ۱؎ [صحیح مسلم:183] اس نے تمام مخلوق کا اپنے علم سے احاطہٰ کر رکھا ہے، مخلوق اس کے علم کا احاطہٰ کر ہی نہیں سکتی۔
جیسے فرمان ہے «وَلَا يُحِيطُونَ بِشَيْءٍ مِّنْ عِلْمِهِ إِلَّا بِمَا شَاءَ» [2-البقرة:265] ’ اس کے علم میں سے صرف وہی معلوم کر سکتے ہیں جو وہ چاہے۔ ‘ تمام مخلوق کے چہرے عاجزی پستی ذلت و نرمی کے ساتھ اس کے سامنے پست ہیں، اس لیے کہ وہ موت و فوت سے پاک ہے، ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ ہی رہنے والا ہے، وہ نہ سوئے نہ اونگھے۔ خود اپنے آپ قائم رہنے والا اور ہرچیز کو اپنی تدبیر سے قائم رکھنے والا ہے۔ سب کی دیکھ بھال حفاظت اور سنبھال وہی کرتا ہے، وہ تمام کمالات رکھتا ہے اور ساری مخلوق اس کی محتاج ہے، بغیر رب کی مرضی کے نہ پیدا ہو سکے نہ باقی رہ سکے۔ جس نے یہاں ظلم کئے ہوں گے وہ وہاں برباد ہو گا۔ کیونکہ ہر حقدار کو اللہ تعالیٰ اس دن اس کے حق دلوائے گا یہاں تک کہ بے سینگ کی بکری کو سینگ والی بکری سے بدلہ دلوایا جائے گا۔ حدیث قدسی میں ہے کہ { اللہ تعالیٰ عزوجل فرمائے گا، مجھے اپنی عزت وجلال کی قسم، کسی ظالم کے ظلم کو میں اپنے سامنے سے نہ گزرنے دوں گا۔ } صحیح حدیث میں ہے { لوگو! ظلم سے بچو۔ ظلم قیامت کے دن اندھیرا بن کر آئے گا } ۱؎ [صحیح مسلم:2578] اور سب سے بڑھ کرنقصان یافتہ وہ ہے جو اللہ سے شرک کرتا ہوا مرا، وہ تباہ و برباد ہوا، اس لیے کہ «إِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ» ۱؎ [31-لقمان:13] ’ شرک ظلم عظیم ہے۔ ‘ ظالموں کا بدلہ بیان فرما کر متقیوں کا ثواب بیان ہو رہا ہے کہ نہ ان کی برائیاں بڑھائی جائیں نہ ان کی نیکیاں گھٹائی جائیں۔ گناہ کی زیادتی اور نیکی کی کمی سے وہ بے کھٹکے ہیں۔
112۔ 1 بےانصافی یہ ہے کہ اس پر دوسروں کے گناہوں کا بوجھ بھی ڈال دیا جائے اور حق تلفی یہ ہے کہ نیکیوں کا اجر کم دیا جائے۔ یہ دونوں باتیں وہاں نہیں ہونگی۔
(آیت 112) ➊ { وَ مَنْ يَّعْمَلْ مِنَ الصّٰلِحٰتِ وَ هُوَ مُؤْمِنٌ: ” مِنَ الصّٰلِحٰتِ “} میں {” مِنْ “} تبعیض کے لیے ہے، اس لیے ترجمہ ”کچھ نیک اعمال“ کیا ہے۔ انسان اپنی کمزوری کی وجہ سے تمام اعمال صالحہ تو کر ہی نہیں سکتا، جیسا کہ فرمایا: «{ كَلَّا لَمَّا يَقْضِ مَاۤ اَمَرَهٗ }» [عبس: ۲۳ ] ”ہر گز نہیں، ابھی تک اس نے وہ کام پورا نہیں کیا جس کا اس نے اسے حکم دیا۔“ اس لیے وہ اتنے عمل ہی کا مکلف ہے جتنی اس میں طاقت ہے، فرمایا: «{لَا يُكَلِّفُ اللّٰهُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَهَا}» [البقرۃ: ۲۸۶ ] ”اللہ کسی جان کو تکلیف نہیں دیتا مگر اس کی طاقت کے مطابق۔“ اور فرمایا: «{ فَاتَّقُوا اللّٰهَ مَا اسْتَطَعْتُمْ }» [ التغابن: ۱۶ ] ”سو اللہ سے ڈرو جتنی طاقت رکھو۔“ مفسرین نے اس سے مراد فرائض لیے ہیں۔ ➋ عمل کی قبولیت کے لیے دو شرطیں بیان فرمائیں۔ عمل کا صالح ہونا یعنی کتاب و سنت کے مطابق ہونا اور عمل کرنے والے کا صاحب ایمان ہونا۔ نہ کافر کا کوئی عمل قبول ہے اور نہ وہ عمل جو کتاب و سنت سے ثابت نہ ہو۔ دیکھیے سورۂ کہف کی آخری آیت۔ ➌ {فَلَا يَخٰفُ ظُلْمًا وَّ لَا هَضْمًا:} بے انصافی یہ ہے کہ کسی کو ان گناہوں پر سزا دی جائے جو اس نے نہیں کیے اور حق تلفی یہ ہے کہ کی ہوئی نیکیوں پر پانی پھیر دیا جائے۔ اسی کو سورۂ جن (۱۳) میں {” بَخْسًا “} اور {” رَهَقًا “} سے تعبیر کیا گیا ہے۔ قرآن نے متعدد آیات میں جزا و سزا میں عدل و انصاف کا اعلان کیا ہے، مگر گناہ گار مومنوں کو معاف کر دینا فضل ہے جو عدل کے منافی نہیں۔
اور اے محمدؐ، اِسی طرح ہم نے اِسے قرآن عربی بنا کر نازل کیا ہے اور اس میں طرح طرح سے تنبیہات کی ہیں شاید کہ یہ لوگ کج روی سے بچیں یا ان میں کچھ ہوش کے آثار اِس کی بدولت پیدا ہوں
مولانا محمد جوناگڑھی
اسی طرح ہم نے تجھ پر عربی قرآن نازل فرمایا ہے اور طرح طرح سے اس میں ڈر کا بیان سنایا ہے تاکہ لوگ پرہیز گار بن جائیں یا ان کے دل میں سوچ سمجھ تو پیدا کرے
احمد رضا خان بریلوی
اور یونہی ہم نے اسے عربی قرآن اتارا اور اس میں طرح طرح سے عذاب کے وعدے دیے کہ کہیں انہیں ڈر ہو یا ان کے دل میں کچھ سوچ پیدا کرے
علامہ محمد حسین نجفی
اور اس طرح ہم نے اس (کتاب) کو عربی زبان میں قرآن بنا کر نازل کیا ہے اس میں وعید و تہدید بیان کی ہے تاکہ وہ پرہیزگار بن جائیں یا وہ ان میں نصیحت پذیری پیدا کر دے۔
عبدالسلام بن محمد
اور اسی طرح ہم نے اسے عربی قرآن بنا کرنازل کیا اور اس میں ڈرانے کی باتیں پھیر پھیر کر بیان کیں، شاید کہ وہ ڈر جائیں، یا یہ ان کے لیے کوئی نصیحت پیدا کردے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
وعدہ حق وعید حق ٭٭
چونکہ قیامت کا دن آنا ہی ہے اور اس دن نیک و بد اعمال کا بدلہ ملنا ہی ہے، لوگوں کو ہوشیار کرنے کے لیے ہم نے بشارت والا اور دھمکانے والا اپنا پاک کلام عربی صاف زبان میں اتارا تاکہ ہر شخص سمجھ سکے اور اس میں گو ناگوں طور پر لوگوں کو ڈرایا، طرح طرح سے ڈراوے سنائے۔ تاکہ لوگ برائیوں سے بچیں، بھلائیوں کے حاصل کرنے میں لگ جائیں یا ان کے دلوں میں غور و فکر نصیحت و پند پیدا ہو، اطاعت کی طرف جھک جائیں، نیک کاموں کی کوشش میں لگ جائیں۔ پس پاک اور برتر ہے وہ اللہ جو حقیقی شہنشاہ ہے، دونوں جہاں کا تنہا مالک ہے، وہ خود حق ہے، اس کا وعدہ حق ہے، اس کی وعید حق ہے، اس کے رسول علیہم السلام حق ہیں، جنت دوزخ حق ہے، اس کے سب فرمان اور اس کی طرف سے جو ہو سراسر عدل و حق ہے۔ اس کی ذات اس سے پاک ہے کہ آگاہ کئے بغیر کسی کوسزا دے، وہ سب کے عذر کاٹ دیتا ہے کسی کے شبہ کو باقی نہیں رکھتا، حق کو کھول دیتا ہے پھر سرکشوں کو عدل کے ساتھ سزا دیتا ہے۔ جب ہماری وحی اتر رہی ہو، اس وقت تم ہمارے کلام کو پڑھنے میں جلدی نہ کرو، پہلے پوری طرح سن لیا کرو۔ جیسے سورۃ القیامہ میں فرمایا «لَا تُحَرِّكْ بِهِ * لِسَانَكَ لِتَعْجَلَ بِهِ إِنَّ عَلَيْنَا جَمْعَهُ وَقُرْآنَهُ * فَإِذَا قَرَأْنَاهُ فَاتَّبِعْ قُرْآنَهُ * ثُمَّ إِنَّ عَلَيْنَا بَيَانَهُ» ۱؎ [75-القيامة:16-19] ’ یعنی جلدی کر کے بھول جانے کے خوف سے وحی اترتے ہوئے ساتھ ہی ساتھ اسے نہ پڑھنے لگو۔ اس کا آپ کے سینے میں جمع کرنا اور آپ کی زبان سے تلاوت کرانا ہمارے ذمے ہے۔ جب ہم اسے پڑھیں تو آپ اس پڑھنے کے تابع ہو جائیں پھر اس کا سمجھا دینا بھی ہمارے ذمہ ہے۔ ‘
حدیث میں ہے کہ { پہلے آپ جبرائیل علیہ السلام کے ساتھ ساتھ پڑھتے تھے جس میں آپ کودقت ہوتی تھی، جب یہ آیت اتری تو آپ اس مشقت سے چھوٹ گئے } ۱؎ [صحیح بخاری:5] اور اطمینان ہو گیا کہ وحی الٰہی جتنی نازل ہو گی، مجھے یاد ہو جایا کرے گی۔ ایک حرف بھی نہ بھولوں گا کیونکہ اللہ کا وعدہ ہو چکا۔ یہی فرمان یہاں ہے کہ فرشتے کی قرأت چپکے سے سنو۔ جب وہ پڑھ چکے پھر تم پڑھو اور مجھ سے اپنے علم کی زیادتی کی دعا کیا کرو۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی، اللہ نے قبول کی اور انتقال تک علم میں بڑھتے ہی رہے۔ حدیث میں ہے کہ { وحی برابر پے در پے آتی رہی یہاں تک کہ جس دن آپ فوت ہونے کو تھے، اس دن بھی بکثرت وحی اتری۔} ۱؎ [صحیح بخاری:4982] ابن ماجہ کی حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ دعا منقول ہے «اللَّهُمَّ اِنْفَعْنِي بِمَا عَلَّمْتنِي وَعَلِّمْنِي مَا يَنْفَعنِي وَزِدْنِي عِلْمًا وَالْحَمْد لِلَّهِ عَلَى كُلّ حَال» ترمذی میں بھی یہ حدیث ہے اور آخر میں یہ الفاظ زیادہ ہیں «وَأَعُوذ بِاَللَّهِ مِنْ حَال أَهْل النَّار» ۔ ۱؎ [سنن ترمذي:3599،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
113۔ 1 یعنی گناہ، محرمات اور فواحش کے ارتکاب سے باز آجائیں۔
(آیت 113) ➊ { وَ كَذٰلِكَ اَنْزَلْنٰهُ قُرْاٰنًا عَرَبِيًّا:} ”اسی طرح“ کا اشارہ اس سورت میں مذکور آیات کی طرف ہے کہ ہم نے پورا قرآن ہی ان آیات کی طرح نازل کیا ہے۔{ ” قُرْاٰنًا عَرَبِيًّا “ } کی تفسیر سورۂ یوسف (۲) میں دیکھیے۔ ➋ {وَ صَرَّفْنَا فِيْهِ مِنَ الْوَعِيْدِ:} یعنی بار بار اور مختلف طریقوں کے ساتھ دنیا اور آخرت میں اپنی گرفت اور عذاب سے ڈرایا ہے۔ ➌ { لَعَلَّهُمْ يَتَّقُوْنَ …: } تاکہ وہ ڈر جائیں، یا کم از کم یہ ان کے دل میں کسی طرح کی عبرت و نصیحت پیدا کر دے اور وہ سوچیں کہ پچھلی امتوں کا کیا انجام ہوا اگر ہم بھی گناہ کریں گے تو انھی کی طرح تباہ و برباد ہوں گے۔ (ابن کثیر) {” ذِكْرًا “} کی تنوین تنکیر کی وجہ سے ”کسی طرح کی نصیحت“ ترجمہ کیا ہے۔
پس بالا و برتر ہے اللہ، پادشاہ حقیقی اور دیکھو، قرآن پڑھنے میں جلدی نہ کیا کرو جب تک کہ تمہاری طرف اُس کی وحی تکمیل کو نہ پہنچ جائے، اور دُعا کرو کہ اے پروردگار مجھے مزید علم عطا کر
مولانا محمد جوناگڑھی
پس اللہ عالی شان واﻻ سچا اور حقیقی بادشاه ہے۔ تو قرآن پڑھنے میں جلدی نہ کر اس سے پہلے کہ تیری طرف جو وحی کی جاتی ہے وه پوری کی جائے، ہاں یہ دعا کر کہ پروردگار! میرا علم بڑھا
احمد رضا خان بریلوی
تو سب سے بلند ہے ا لله سچا بادشاہ اور قرآن میں جلدی نہ کرو جب تک اس کی وحی تمہیں پوری نہ ہولے اور عرض کرو کہ اے میرے رب! مجھے علم زیادہ دے،
علامہ محمد حسین نجفی
بلند و برتر ہے اللہ جو حقیقی بادشاہ ہے اور (اے پیغمبر(ص)) جب تک قرآن کی وحی آپ پر پوری نہ ہو جائے اس (کے پڑھنے) میں جلدی نہ کیا کیجئے۔ اور دعا کیجئے کہ (اے پروردگار) میرے علم میں اور اضافہ فرما۔
عبدالسلام بن محمد
پس بہت بلند ہے اللہ جو حقیقی بادشاہ ہے، اور قرآن پڑھنے میں جلدی نہ کر، اس سے پہلے کہ تیری طرف اس کی وحی پوری کی جائے اور کہہ اے میرے رب! مجھے علم میں زیادہ کر۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
وعدہ حق وعید حق ٭٭
چونکہ قیامت کا دن آنا ہی ہے اور اس دن نیک و بد اعمال کا بدلہ ملنا ہی ہے، لوگوں کو ہوشیار کرنے کے لیے ہم نے بشارت والا اور دھمکانے والا اپنا پاک کلام عربی صاف زبان میں اتارا تاکہ ہر شخص سمجھ سکے اور اس میں گو ناگوں طور پر لوگوں کو ڈرایا، طرح طرح سے ڈراوے سنائے۔ تاکہ لوگ برائیوں سے بچیں، بھلائیوں کے حاصل کرنے میں لگ جائیں یا ان کے دلوں میں غور و فکر نصیحت و پند پیدا ہو، اطاعت کی طرف جھک جائیں، نیک کاموں کی کوشش میں لگ جائیں۔ پس پاک اور برتر ہے وہ اللہ جو حقیقی شہنشاہ ہے، دونوں جہاں کا تنہا مالک ہے، وہ خود حق ہے، اس کا وعدہ حق ہے، اس کی وعید حق ہے، اس کے رسول علیہم السلام حق ہیں، جنت دوزخ حق ہے، اس کے سب فرمان اور اس کی طرف سے جو ہو سراسر عدل و حق ہے۔ اس کی ذات اس سے پاک ہے کہ آگاہ کئے بغیر کسی کوسزا دے، وہ سب کے عذر کاٹ دیتا ہے کسی کے شبہ کو باقی نہیں رکھتا، حق کو کھول دیتا ہے پھر سرکشوں کو عدل کے ساتھ سزا دیتا ہے۔ جب ہماری وحی اتر رہی ہو، اس وقت تم ہمارے کلام کو پڑھنے میں جلدی نہ کرو، پہلے پوری طرح سن لیا کرو۔ جیسے سورۃ القیامہ میں فرمایا «لَا تُحَرِّكْ بِهِ * لِسَانَكَ لِتَعْجَلَ بِهِ إِنَّ عَلَيْنَا جَمْعَهُ وَقُرْآنَهُ * فَإِذَا قَرَأْنَاهُ فَاتَّبِعْ قُرْآنَهُ * ثُمَّ إِنَّ عَلَيْنَا بَيَانَهُ» ۱؎ [75-القيامة:16-19] ’ یعنی جلدی کر کے بھول جانے کے خوف سے وحی اترتے ہوئے ساتھ ہی ساتھ اسے نہ پڑھنے لگو۔ اس کا آپ کے سینے میں جمع کرنا اور آپ کی زبان سے تلاوت کرانا ہمارے ذمے ہے۔ جب ہم اسے پڑھیں تو آپ اس پڑھنے کے تابع ہو جائیں پھر اس کا سمجھا دینا بھی ہمارے ذمہ ہے۔ ‘
حدیث میں ہے کہ { پہلے آپ جبرائیل علیہ السلام کے ساتھ ساتھ پڑھتے تھے جس میں آپ کودقت ہوتی تھی، جب یہ آیت اتری تو آپ اس مشقت سے چھوٹ گئے } ۱؎ [صحیح بخاری:5] اور اطمینان ہو گیا کہ وحی الٰہی جتنی نازل ہو گی، مجھے یاد ہو جایا کرے گی۔ ایک حرف بھی نہ بھولوں گا کیونکہ اللہ کا وعدہ ہو چکا۔ یہی فرمان یہاں ہے کہ فرشتے کی قرأت چپکے سے سنو۔ جب وہ پڑھ چکے پھر تم پڑھو اور مجھ سے اپنے علم کی زیادتی کی دعا کیا کرو۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی، اللہ نے قبول کی اور انتقال تک علم میں بڑھتے ہی رہے۔ حدیث میں ہے کہ { وحی برابر پے در پے آتی رہی یہاں تک کہ جس دن آپ فوت ہونے کو تھے، اس دن بھی بکثرت وحی اتری۔} ۱؎ [صحیح بخاری:4982] ابن ماجہ کی حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ دعا منقول ہے «اللَّهُمَّ اِنْفَعْنِي بِمَا عَلَّمْتنِي وَعَلِّمْنِي مَا يَنْفَعنِي وَزِدْنِي عِلْمًا وَالْحَمْد لِلَّهِ عَلَى كُلّ حَال» ترمذی میں بھی یہ حدیث ہے اور آخر میں یہ الفاظ زیادہ ہیں «وَأَعُوذ بِاَللَّهِ مِنْ حَال أَهْل النَّار» ۔ ۱؎ [سنن ترمذي:3599،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
114۔ 1 جس کا وعدہ اور وعید حق ہے، جنت دوزخ حق ہے اور اس کی ہر بات حق ہے۔
(آیت 114) ➊ {فَتَعٰلَى اللّٰهُ الْمَلِكُ الْحَقُّ …:” فَتَعٰلَى “ ”عَلاَ يَعْلُوْ عُلُوًّا“} بلند ہونا۔ باب تفاعل میں تاء اور الف کے اضافے سے معنی میں مبالغہ پیدا ہو گیا ”پس بہت بلند ہے۔“ {” الْمَلِكُ الْحَقُّ “ ”حَقَّ يَحِقُّ“} ثابت ہونا۔ لفظ حق باطل کے مقابلے میں آتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی بادشاہی حقیقی، سچی اور پائدار ہے۔ دوسرے تمام بادشاہ دنیا میں نہایت محدود اختیارات کے مالک ہیں اور وہ بھی اللہ تعالیٰ کی مرضی سے، وہ نہ چاہے تو کچھ بھی نہیں کر سکتے اور آخرت میں ان کے وہ اختیار بھی ختم ہو جائیں گے۔ پھر اس میں کیا شک ہے کہ حقیقی بادشاہ اللہ تعالیٰ ہی ہے اور باقی سب باطل ہیں۔ سروری زیبا فقط اس ذات بے ہمتا کو ہے حکمران ہے اک وہی باقی بتانِ آزری صحیح بخاری (۱۱۲۰) میں تہجد کے لیے اٹھتے وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک لمبی دعا مذکور ہے، اس دعا میں ہے: [ وَلَكَ الْحَمْدُ أَنْتَ الْحَقُّ وَوَعْدُكَ الْحَقُّ، وَلِقَاءُكَ حَقٌّ ] دعاؤں کی کسی کتاب یا اصل صحیح بخاری سے یہ مکمل دعا یاد کر لیں، یہ دعا تہجد کے وقت پڑھنا مسنون اور بے حد برکت کا باعث ہے۔ ➋ { وَ لَا تَعْجَلْ بِالْقُرْاٰنِ …:} یہ وہی مضمون ہے جو سورۂ قیامہ (۱۶ تا ۱۹) میں بیان ہوا ہے۔ یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ جب ایک دفعہ جلدی کرنے اور جبریل علیہ السلام کے ساتھ ساتھ پڑھنے سے منع فرما دیا، تو دوبارہ اس حکم کی کیا ضرورت تھی؟ شاہ عبد القادر رحمہ اللہ نے اسے یوں حل فرمایا ہے: ”جبرئیل جب قرآن لاتے آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پڑھنے کے ساتھ پڑھنے لگتے کہ بھول نہ جاویں۔ اس کو پہلے منع فرمایا تھا سورۂ قیامہ میں اور تسلی کر دی تھی کہ اس کا یاد رکھوانا اور لوگوں تک پہنچوانا ذمہ ہمارا ہے، لیکن بندہ بشر ہے، شاید بھول گئے ہوں، پھر تقید کیا اور بھولنے پر مثل فرمائی آدم علیہ السلام کی۔“ (موضح) ➌ { وَ قُلْ رَّبِّ زِدْنِيْ عِلْمًا:} رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے جبرئیل علیہ السلام کے ساتھ ساتھ جلدی پڑھنے کے پیچھے اصل جذبہ زیادہ سے زیادہ علم کے حصول اور حفظ کا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے صرف جلدی کرنے سے منع فرمایا، مگر اصل جذبے کی تعریف کی اور اس کی تکمیل کے لیے دعا سکھائی، جیسا کہ ابوبکرہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز پڑھاتے ہوئے رکوع کی حالت میں پایا تو صف میں ملنے سے پہلے ہی رکوع میں چلے گئے اور پھر اسی حالت میں رکوع میں مل گئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ زَادَكَ اللّٰهُ حِرْصًا وَلَا تَعُدْ ] [ بخاري، الأذان، باب إذا رکع دون الصف: ۷۸۳ ] ”اللہ تمھاری حرص زیادہ کرے اور دوبارہ ایسا نہ کرنا۔“ دوبارہ ایسی جلدی سے منع کرنے کے ساتھ نیکی میں حرص کی تعریف فرمائی۔ {” رَبِّ زِدْنِيْ عِلْمًا “} میں {” عِلْمًا “} عام ہے اور اس سے مراد علم نافع ہے۔ دین یعنی قرآن و حدیث کا علم ہو یا دنیا کا ایسا علم جو دنیا و آخرت دونوں میں نافع ہو، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دعا فرمایا کرتے تھے: [ اَللّٰهُمَّ انْفَعْنِيْ بِمَا عَلَّمْتَنِيْ وَ عَلِّمْنِيْ مَا يَنْفَعُنِيْ وَ زِدْنِيْ عِلْمًا ] [ ترمذي، الدعوات، باب سبق المفردون …: ۳۵۹۹، عن أبي ھریرۃ رضی اللہ عنہ و صححہ الألباني ] ”اے اللہ! مجھے اس کے ساتھ نفع دے جس کا تو نے مجھے علم دیا اور مجھے اس کا علم دے جو مجھے نفع دے اور مجھے علم میں زیادہ کر۔“ انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اکثر دعا یہ تھی: [ اَللّٰهُمَّ رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَّ فِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَّقِنَا عَذَابَ النَّارِ ] [ بخاري، الدعوات، باب قول النبی صلی اللہ علیہ وسلم : ربنا آتنا…: ۶۳۸۹ ] ”اے اللہ! اے ہمارے رب! ہمیں دنیا میں بھلائی عطا کر اور آخرت میں بھلائی عطا کر اور ہمیں دوزخ سے بچا۔“ مسلمانوں پر دنیا کی ہر ضرورت کا علم حاصل کرنا فرض کفایہ ہے، تاکہ انھیں غیر مسلموں کا محتاج نہ ہونا پڑے اور وہ دنیا میں اسلام کو غالب رکھ سکیں، مثلاً طب، زراعت، ہیئت، جغرافیہ، ہندسہ، سائنس، اسلحہ سازی وغیرہ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جو بھی نئی چیز معلوم ہوتی اس سے جہاد میں فائدہ اٹھایا کرتے تھے، جیسا کہ جنگ احزاب میں خندق تیار فرمائی اور صحابہ اور تابعین مجاہدین نے جنگوں میں منجنیق کا استعمال فرمایا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کے بحری جہاد کی خوشخبری دی اور امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے بحری بیڑا تیار کیا، جس کے نتیجے میں بحر روم پر مسلمانوں کا غلبہ ہو گیا اور جدید سے جدید ایجادات اور تدابیر کے نتیجے میں سلطان محمد الفاتح رحمہ اللہ نے قسطنطنیہ کو فتح کیا۔ ظاہر ہے کہ تیس فیصد خشکی پر بھی اسی کی حکومت ہو گی جو ستر فیصد سمندر پر اپنا تسلط منوا سکے۔ داؤد علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے زرہ سازی کا فن سکھایا اور اسے بطور احسان قرآن مجید میں ذکر فرمایا۔ قرآن مجید میں احکام کی آیات اتنی نہیں جتنی زمین و آسمان، سورج، چاند، بحر و بر، نباتات و جمادات و حیوانات اور اللہ تعالیٰ کی مخلوقات میں غور کرنے کی تاکید والی آیات ہیں۔ مسلمانوں نے اس میں غفلت کی اور کفار نے ان پر محنت کرکے جدید سے جدید ایجادات، مثلاً مشین، موٹر، ریل، ہوائی جہاز، بجلی، بارود، بم، میزائل، ایٹم، کمپیوٹروغیرہ تیار کرکے مسلمانوں کو اپنا محتاج بلکہ غلام بنا لیا۔ اب مسلمانوں پر لازم ہے کہ ان تمام علوم میں مہارت حاصل کریں جو کفار کے ساتھ جہاد کے لیے ضروری ہیں اور اس طرح یہ سب کچھ علم دنیا ہونے کے باوجود علم آخرت بن جائے گا، کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کے حکم {” وَ اَعِدُّوْا لَهُمْ مَّا اسْتَطَعْتُمْ مِّنْ قُوَّةٍ “} کی تعمیل ہو گی۔ البتہ اس بات کا اہتمام نہایت ضروری ہے کہ یہ علوم سیکھنے والے قرآن و حدیث کے علم سے آراستہ اور یقین و ایمان اور جہاد فی سبیل اللہ کے جذبے سے سرشار ہوں، تاکہ وہ سائنس پڑھتے پڑھتے کفار سے متاثر ہو کر محض دنیا پرست اور ملحد نہ بن جائیں۔ کیونکہ یہ سب کچھ اس وقت مذموم ہو جائے گا جب اس سے مقصود صرف دنیا ہو اور آخرت سے غفلت اختیار کی جائے۔ ایسی صورت میں یہ تمام علوم رکھنے والا اللہ تعالیٰ کے فرمان کے مطابق بے علم ہو گا، جیسا کہ فرمایا: «{ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُوْنَ (6) يَعْلَمُوْنَ ظَاهِرًا مِّنَ الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا وَ هُمْ عَنِ الْاٰخِرَةِ هُمْ غٰفِلُوْنَ }» [ الروم: ۶، ۷ ] ”اور لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے (علم نہیں رکھتے)۔ وہ دنیا کی زندگی کے ظاہر کا علم رکھتے ہیں اور وہ آخرت سے وہی غافل ہیں۔“ اور فرمایا: «{ فَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَّقُوْلُ رَبَّنَاۤ اٰتِنَا فِي الدُّنْيَا وَ مَا لَهٗ فِي الْاٰخِرَةِ مِنْ خَلَاقٍ }» [ البقرۃ: ۲۰۰ ] ”پھر لوگوں میں سے کوئی تو وہ ہے جو کہتا ہے، اے ہمارے رب! ہمیں دنیا میں دے دے اور آخرت میں اس کا کوئی حصہ نہیں۔“ ان لوگوں کا علم، علم نافع نہیں، اس لیے اس سے پناہ مانگنی چاہیے، جیسا کہ زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا کیا کرتے تھے: [ اَللّٰهُمَّ إِنِّيْ أَعُوْذُ بِكَ مِنْ عِلْمٍ لَّا يَنْفَعُ وَ مِنْ قَلْبٍ لَّا يَخْشَعُ وَمِنْ نَفْسٍ لَّا تَشْبَعُ وَمِنْ دَعْوَةٍ لَّا يُسْتَجَابُ لَهَا ] [ مسلم، الذکر و الدعاء، باب في الأدعیۃ: ۲۷۲۲ ] ”اے اللہ! بے شک میں تیری پناہ چاہتا ہوں ایسے علم سے جو نفع نہ دے اور ایسے دل سے جو خشوع نہ رکھے اور ایسے نفس سے جو سیر نہ ہو اور ایسی دعا سے جو قبول نہ کی جائے۔“
ہم نے اِس سے پہلے آدمؑ کو ایک حکم دیا تھا، مگر وہ بھول گیا اور ہم نے اُس میں عزم نہ پایا
مولانا محمد جوناگڑھی
ہم نے آدم کو پہلے ہی تاکیدی حکم دیا تھا لیکن وه بھول گیا اور ہم نے اس میں کوئی عزم نہیں پایا
احمد رضا خان بریلوی
اور بیشک ہم نے آدم کو اس سے پہلے ایک تاکیدی حکم دیا تھا تو وہ بھول گیا اور ہم نے اس کا قصد نہ پایا،
علامہ محمد حسین نجفی
اور ہم نے اس سے پہلے آدم سے عہد لیا تھا مگر وہ بھول گئے اور ہم نے ان میں عزم و ثبات نہ پایا۔
عبدالسلام بن محمد
اور بلاشبہ یقینا ہم نے آدم کو اس سے پہلے تاکید کی، پھر وہ بھول گیا اور ہم نے اس میں ارادے کی کچھ پختگی نہ پائی۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
انسان کو انسان کیوں کہا جاتا ہے ؟ ٭٭
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں انسان کو انسان اس لیے کہا جاتا ہے کہ اسے جو حکم سب سے پہلے فرمایا گیا یہ اسے بھول گیا۔ مجاہد اور حسن رحمہ اللہ علیہم فرماتے ہیں اس حکم کو آدم علیہ السلام نے چھوڑ دیا۔ پھر آدم علیہ السلام کی شرافت و بزرگی کا بیان ہو رہا ہے۔ «سورۃ البقرہ» ، «سورۃ الاعراف» ، «سورۃ الحجر» اور «سورۃ الکہف» میں شیطان کے سجدہ نہ کرنے والے واقعہ کی پوری تفسیر بیان کی جا چکی ہے اور سورۃ ص میں بھی اس کا بیان آئے گا ان شاءاللہ تعالیٰ۔ ان تمام سورتوں میں آدم علیہ السلام کی پیدائش کا، پھر ان کی بزرگی کے اظہار کے لیے فرشتوں کو انہیں سجدہ کرنے کے حکم کا اور ابلیس کی مخفی عداوت کے اظہار کا بیان ہوا ہے، اس نے تکبر کیا اور حکم الٰہی کا انکار کر دیا۔ اس وقت آدم علیہ السلام کو سمجھا دیا گیا کہ دیکھ یہ تیرا اور تیری بیوی حواء علیہا السلام کا دشمن ہے، اس کے بہکاوے میں نہ آ جانا ورنہ محروم ہو کر جنت سے نکال دیے جاؤ گے اور سخت مشقت میں پڑ جاؤ گے۔ روزی کی تلاش کی محنت سر پڑ جائے گی۔ یہاں تو بے محنت و مشقت روزی پہنچ رہی ہے۔ یہاں تو ناممکن ہے کہ بھوکے رہو، ناممکن ہے کہ ننگے رہو۔ اس اندورنی اور بیرونی تکلیف سے بچے ہوئے ہو۔ پھر یہاں نہ پیاس کی گرمی اندرونی طور سے ستائے، نہ دھوپ کی تیزی کی گرمی بیرونی طور پر پریشان کرے۔ اگر شیطان کے بہکاوے میں آ گئے تو یہ راحتیں چھین لی جائیں گی اور ان کے مقابل کی تکلیفیں سامنے آ جائیں گی۔ لیکن شیطان نے اپنے جال میں انہیں پھانس لیا اور مکاری سے انہیں اپنی باتوں میں لے لیا قسمیں کھا کھا کر انہیں اپنی خیر خواہی کا یقین دلا دیا۔
15۔ 1 نسیان، (بھول جانا) ہر انسان کی سرشت میں داخل ہے اور ارادے کی کمزوری یعنی فقدان عزم۔ یہ بھی انسانی خصلت میں بالعموم پائی جاتی ہے۔ یہ دونوں کمزوریاں ہی شیطان کے وسوسوں میں پھنس جانے کا باعث بنتی ہیں۔ اگر ان کمزوریوں میں اللہ کے حکم سے بغاوت و سرکشی کا جذبہ اور اللہ کی نافرمانی کا عزم مصمم شامل نہ ہو، تو بھول اور ضعف ارادہ سے ہونے والی غلطی عصمت و کمال نبوت کے منافی نہیں، کیونکہ اس کے بعد انسان فوراً نادم ہو کر اللہ کی بارگاہ میں جھک جاتا اور توبہ و استفغار میں مصروف ہوجاتا ہے۔ (جیسا کہ حضرت آدم ؑ نے کیا) حضرت آدم ؑ کو اللہ نے سمجھایا تھا کہ شیطان تیرا اور تیری بیوی کا دشمن ہے، یہ تمہیں جنت سے نہ نکلوا دے گا۔ یہی وہ بات ہے جسے یہاں عہد سے تعبیر کیا گیا ہے۔ آدم ؑ اس عہد کو بھول گئے اور اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم ؑ کو ایک درخت کے قریب جانے یعنی اس سے کچھ کھانے سے منع فرمایا تھا۔ حضرت آدم ؑ کے دل میں یہ بات تھی کہ وہ اس درخت کے قریب نہیں جائیں گے۔ لیکن جب شیطان نے اللہ کی قسمیں کھا کر انھیں یہ باور کرایا کہ اس کا پھل تو یہ تاثیر رکھتا ہے کہ جو کھا لیتا ہے، اسے زندگی جاوداں اور دائمی بادشاہت مل جاتی ہے۔ تو ارادے پر قائم نہ رہ سکے اور اس فقدان عزم کی وجہ سے شیطانی وسوسے کا شکار ہوگئے۔
(آیت 115) ➊ {وَ لَقَدْ عَهِدْنَاۤ اِلٰۤى اٰدَمَ …: ” عَهِدَ إِلَيْهِ “} کا معنی {” أَوْصَاهُ “} ہے کہ اس نے اسے تاکید کی۔ تاکید سے مراد مخصوص درخت کے قریب نہ جانے کا حکم ہے۔ {”نَسِيَ“} کا معنی عام طور پر ”وہ بھول گیا“ آتا ہے، مگر یہاں مراد جان بوجھ کر عمل ترک کرنا ہے۔ اس کی دلیل یہ ہے کہ ابلیس نے آدم و حوا علیھما السلام کے دل میں یہ وسوسہ ڈالا اور ان دونوں کے لیے اپنے خیر خواہ ہونے کی قسم کھائی تھی: «{ مَا نَهٰىكُمَا رَبُّكُمَا عَنْ هٰذِهِ الشَّجَرَةِ اِلَّاۤ اَنْ تَكُوْنَا مَلَكَيْنِ اَوْ تَكُوْنَا مِنَ الْخٰلِدِيْنَ}» [ الأعراف: ۲۰ ] ”تم دونوں کے رب نے تمھیں اس درخت سے منع نہیں کیا مگر اس لیے کہ کہیں تم دونوں فرشتے بن جاؤ یا ہمیشہ رہنے والوں میں سے ہو جاؤ۔“ معلوم ہوا کہ آدم علیہ السلام کو وہ درخت کھاتے وقت اللہ تعالیٰ کا حکم یاد تھا، مگر شیطان کے وسوسے سے لالچ میں آ کر حکم عدولی کر بیٹھے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کے فعل کو عصیان (نافرمانی) قرار دیا، فرمایا: «{ وَ عَصٰۤى اٰدَمُ رَبَّهٗ فَغَوٰى }» [ طٰہٰ: ۱۲۱ ] ”اور آدم نے اپنے رب کی نافرمانی کی تو وہ بھٹک گیا۔“ بھول کر کیے ہوئے عمل کو نافرمانی نہیں کہا جاتا۔ طبری نے حسن سند کے ساتھ ابن عباس رضی اللہ عنھما کا قول نقل فرمایا ہے کہ {” فَنَسِيَ يَقُوْلُ فَتَرَكَ“} یعنی {” فَنَسِيَ “} کا معنی ”اس نے عمل ترک کر دیا“ ہے۔ اس واقعہ کی تفصیل آگے آ رہی ہے۔ ➋ قرآن میں آدم علیہ السلام کا یہ قصہ چھٹی بار بیان ہو رہا ہے، اول سورۂ بقرہ، دوم اعراف، سوم حجر، چہارم بنی اسرائیل، پنجم کہف اور ششم یہاں اور ہر جگہ ایک خاص مقصد کے تحت مختلف انداز سے اس قصے کو دہرایا گیا ہے۔ یہاں ماقبل سے اس کی مناسبت کے سلسلہ میں چند وجوہ بیان کی گئی ہیں، ان میں سے ایک یہ ہے کہ اس کا تعلق آیت: «كَذٰلِكَ نَقُصُّ عَلَيْكَ مِنْ اَنْۢبَآءِ مَا قَدْ سَبَقَ» [ طٰہٰ: ۹۹ ] (اسی طرح ہم تجھ سے ان چیزوں کی کچھ خبریں بیان کرتے ہیں جو پہلے گزر چکیں) سے ہے، یعنی اس آیت میں اشارہ فرمایا ہے کہ ہم قصے بیان فرمائیں گے، چنانچہ اس کے تحت آدم علیہ السلام کا قصہ بیان فرما دیا۔ ایک مناسبت یہ ہے کہ {” رَبِّ زِدْنِيْ عِلْمًا “} کہنے کا حکم دینے کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے علم میں اضافے کے لیے آدم علیہ السلام کا قصہ بیان فرمایا اور ایک مناسبت وہ ہے جو اوپر شاہ عبد القادر رحمہ اللہ کی توضیح میں گزر چکی ہے۔
یاد کرو وہ وقت جبکہ ہم نے فرشتوں سے کہا تھا کہ آدمؑ کو سجدہ کرو وہ سب تو سجدہ کر گئے، مگر ایک ابلیس تھا کہ انکار کر بیٹھا
مولانا محمد جوناگڑھی
اور جب ہم نے فرشتوں سے کہا کہ آدم (علیہ السلام) کو سجده کرو تو ابلیس کے سوا سب نے کیا، اس نے صاف انکار کر دیا
احمد رضا خان بریلوی
اور جب ہم نے فرشتوں سے فرمایا کہ آدم کو سجدہ کرو تو سب سجدہ میں گرے مگر ابلیس، اس نے نہ مانا،
علامہ محمد حسین نجفی
اور (وہ وقت یاد کرو) جب ہم نے فرشتوں سے کہا کہ آدم (ع) کے سامنے سجدہ میں گر جاؤ۔ (چنانچہ) ابلیس کے سوا سب سجدے میں گر گئے۔
عبدالسلام بن محمد
اور جب ہم نے فرشتوں سے کہا آدم کو سجدہ کرو تو انھوں نے سجدہ کیا مگر ابلیس، اس نے انکار کیا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
انسان کو انسان کیوں کہا جاتا ہے ؟ ٭٭
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں انسان کو انسان اس لیے کہا جاتا ہے کہ اسے جو حکم سب سے پہلے فرمایا گیا یہ اسے بھول گیا۔ مجاہد اور حسن رحمہ اللہ علیہم فرماتے ہیں اس حکم کو آدم علیہ السلام نے چھوڑ دیا۔ پھر آدم علیہ السلام کی شرافت و بزرگی کا بیان ہو رہا ہے۔ «سورۃ البقرہ» ، «سورۃ الاعراف» ، «سورۃ الحجر» اور «سورۃ الکہف» میں شیطان کے سجدہ نہ کرنے والے واقعہ کی پوری تفسیر بیان کی جا چکی ہے اور سورۃ ص میں بھی اس کا بیان آئے گا ان شاءاللہ تعالیٰ۔ ان تمام سورتوں میں آدم علیہ السلام کی پیدائش کا، پھر ان کی بزرگی کے اظہار کے لیے فرشتوں کو انہیں سجدہ کرنے کے حکم کا اور ابلیس کی مخفی عداوت کے اظہار کا بیان ہوا ہے، اس نے تکبر کیا اور حکم الٰہی کا انکار کر دیا۔ اس وقت آدم علیہ السلام کو سمجھا دیا گیا کہ دیکھ یہ تیرا اور تیری بیوی حواء علیہا السلام کا دشمن ہے، اس کے بہکاوے میں نہ آ جانا ورنہ محروم ہو کر جنت سے نکال دیے جاؤ گے اور سخت مشقت میں پڑ جاؤ گے۔ روزی کی تلاش کی محنت سر پڑ جائے گی۔ یہاں تو بے محنت و مشقت روزی پہنچ رہی ہے۔ یہاں تو ناممکن ہے کہ بھوکے رہو، ناممکن ہے کہ ننگے رہو۔ اس اندورنی اور بیرونی تکلیف سے بچے ہوئے ہو۔ پھر یہاں نہ پیاس کی گرمی اندرونی طور سے ستائے، نہ دھوپ کی تیزی کی گرمی بیرونی طور پر پریشان کرے۔ اگر شیطان کے بہکاوے میں آ گئے تو یہ راحتیں چھین لی جائیں گی اور ان کے مقابل کی تکلیفیں سامنے آ جائیں گی۔ لیکن شیطان نے اپنے جال میں انہیں پھانس لیا اور مکاری سے انہیں اپنی باتوں میں لے لیا قسمیں کھا کھا کر انہیں اپنی خیر خواہی کا یقین دلا دیا۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 116){ وَ اِذْ قُلْنَا لِلْمَلٰٓىِٕكَةِ۠ اسْجُدُوْا …:} اس کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورۂ بقرہ (۳۴ تا ۳۶) اور اعراف (۱۱، ۱۲)۔
اس پر ہم نے آدمؑ سے کہا کہ "دیکھو، یہ تمہارا اور تمہاری بیوی کا دشمن ہے، ایسا نہ ہو کہ یہ تمہیں جنت سے نکلوا دے اور تم مصیبت میں پڑ جاؤ
مولانا محمد جوناگڑھی
تو ہم نے کہا اے آدم! یہ تیرا اور تیری بیوی کا دشمن ہے (خیال رکھنا) ایسا نہ ہو کہ وه تم دونوں کو جنت سے نکلوا دے کہ تو مصیبت میں پڑ جائے
احمد رضا خان بریلوی
تو ہم نے فرمایا، اے آدم! بیشک یہ تیرا اور تیری بی بی کا دشمن ہے تو ایسا نہ ہو کہ وہ تم دونوں کو جنت سے نکال دے پھر تو مشقت میں پڑے
علامہ محمد حسین نجفی
سو ہم نے کہا اے آدم (ع)! یہ آپ کا اور آپ کی زوجہ کا دشمن ہے یہ کہیں آپ دونوں کو جنت سے نکلوا نہ دے؟ ورنہ مشقت میں پڑ جائیں گے۔
عبدالسلام بن محمد
تو ہم نے کہا اے آدم! بے شک یہ تیرا اور تیری بیوی کا دشمن ہے، سو کہیں تم دونوں کو جنت سے نہ نکال دے کہ تو مصیبت میں پڑ جائے گا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
انسان کو انسان کیوں کہا جاتا ہے ؟ ٭٭
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں انسان کو انسان اس لیے کہا جاتا ہے کہ اسے جو حکم سب سے پہلے فرمایا گیا یہ اسے بھول گیا۔ مجاہد اور حسن رحمہ اللہ علیہم فرماتے ہیں اس حکم کو آدم علیہ السلام نے چھوڑ دیا۔ پھر آدم علیہ السلام کی شرافت و بزرگی کا بیان ہو رہا ہے۔ «سورۃ البقرہ» ، «سورۃ الاعراف» ، «سورۃ الحجر» اور «سورۃ الکہف» میں شیطان کے سجدہ نہ کرنے والے واقعہ کی پوری تفسیر بیان کی جا چکی ہے اور سورۃ ص میں بھی اس کا بیان آئے گا ان شاءاللہ تعالیٰ۔ ان تمام سورتوں میں آدم علیہ السلام کی پیدائش کا، پھر ان کی بزرگی کے اظہار کے لیے فرشتوں کو انہیں سجدہ کرنے کے حکم کا اور ابلیس کی مخفی عداوت کے اظہار کا بیان ہوا ہے، اس نے تکبر کیا اور حکم الٰہی کا انکار کر دیا۔ اس وقت آدم علیہ السلام کو سمجھا دیا گیا کہ دیکھ یہ تیرا اور تیری بیوی حواء علیہا السلام کا دشمن ہے، اس کے بہکاوے میں نہ آ جانا ورنہ محروم ہو کر جنت سے نکال دیے جاؤ گے اور سخت مشقت میں پڑ جاؤ گے۔ روزی کی تلاش کی محنت سر پڑ جائے گی۔ یہاں تو بے محنت و مشقت روزی پہنچ رہی ہے۔ یہاں تو ناممکن ہے کہ بھوکے رہو، ناممکن ہے کہ ننگے رہو۔ اس اندورنی اور بیرونی تکلیف سے بچے ہوئے ہو۔ پھر یہاں نہ پیاس کی گرمی اندرونی طور سے ستائے، نہ دھوپ کی تیزی کی گرمی بیرونی طور پر پریشان کرے۔ اگر شیطان کے بہکاوے میں آ گئے تو یہ راحتیں چھین لی جائیں گی اور ان کے مقابل کی تکلیفیں سامنے آ جائیں گی۔ لیکن شیطان نے اپنے جال میں انہیں پھانس لیا اور مکاری سے انہیں اپنی باتوں میں لے لیا قسمیں کھا کھا کر انہیں اپنی خیر خواہی کا یقین دلا دیا۔
117۔ 1 یہ شقا، محنت ومشقت کے معنی میں ہے، یعنی جنت میں کھانے پینے، لباس اور مسکن جو سہولتیں بغیر کسی محنت کے حاصل ہیں۔ جنت سے نکل جانے کی صورت میں ان چاروں چیزوں کے لئے محنت و مشقت کرنی پڑے گی، جس طرح کہ ہر انسان کو دنیا میں ان بنیادی ضروریات کی فراہمی کے لئے محنت کرنی پڑ رہی ہے۔ علاوہ ازیں صرف آدم ؑ سے کہا گیا کہ محنت مشقت میں پڑجائیگا۔ دونوں کو نہیں کہا گیا حالانکہ درخت کا پھل کھانے والے آدم ؑ و حوا دونوں ہی تھے۔ اس لئے اصل مخاطب آدم ہی تھے۔ نیز بنیادی ضروریات کی فراہمی بھی مرد ہی کی ذمہ داری ہے عورت کی نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے عورت کو اس محنت و مشقت سے بچا کر گھر کی ملکہ کا اعزاز عطا فرمایا ہے۔ لیکن آج عورت کو یہ " اعزاز الہٰی "" طوق غلامی " نظر آتا ہے جس سے آزاد ہونے کے لیے وہ بےقرار اور مصروف جہد ہے آہ! اغوائے شیطانی بھی کتنا موثر اور اس کا جال بھی کتنا حسین اور دلفریب ہے۔
(آیت 117){ فَقُلْنَا يٰۤاٰدَمُ اِنَّ هٰذَا عَدُوٌّ لَّكَ …:} عداوت کا اظہار سجدے سے انکار کے ساتھ ہی ہو گیا تھا۔ مزید تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ اعراف (۲۲) {” فَتَشْقٰى “} تو مصیبت میں پڑ جائے گا، یعنی روزی کے لیے محنت مشقت کرنا پڑے گی اور جنت کی تمام آسائشیں اور نعمتیں چھین لی جائیں گی۔ آدم علیہ السلام کی طرف خاص شقاوت کی نسبت اس لیے ہے کہ مرد کو عورت کا منتظم اور اس کے اخراجات کا ذمہ دار ٹھہرایا گیا ہے۔ اس لیے اصل آدم علیہ السلام ہی ہیں اور حوا علیھا السلام ان کے تابع۔
یہاں تو تمہیں یہ آسائشیں حاصل ہیں کہ نہ بھوکے ننگے رہتے ہو
مولانا محمد جوناگڑھی
یہاں تو تجھے یہ آرام ہے کہ نہ تو بھوکا ہوتا ہے نہ ننگا
احمد رضا خان بریلوی
بیشک تیرے لیے جنت میں یہ ہے کہ نہ تو بھوکا ہو اور نہ ننگا ہو،
علامہ محمد حسین نجفی
بیشک تم اس میں نہ کبھی بھوکے رہوگے اور نہ ننگے۔
عبدالسلام بن محمد
بے شک تیرے لیے یہ ہے کہ تو اس میں نہ بھوکا ہو گا اور نہ ننگا ہوگا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
انسان کو انسان کیوں کہا جاتا ہے ؟ ٭٭
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں انسان کو انسان اس لیے کہا جاتا ہے کہ اسے جو حکم سب سے پہلے فرمایا گیا یہ اسے بھول گیا۔ مجاہد اور حسن رحمہ اللہ علیہم فرماتے ہیں اس حکم کو آدم علیہ السلام نے چھوڑ دیا۔ پھر آدم علیہ السلام کی شرافت و بزرگی کا بیان ہو رہا ہے۔ «سورۃ البقرہ» ، «سورۃ الاعراف» ، «سورۃ الحجر» اور «سورۃ الکہف» میں شیطان کے سجدہ نہ کرنے والے واقعہ کی پوری تفسیر بیان کی جا چکی ہے اور سورۃ ص میں بھی اس کا بیان آئے گا ان شاءاللہ تعالیٰ۔ ان تمام سورتوں میں آدم علیہ السلام کی پیدائش کا، پھر ان کی بزرگی کے اظہار کے لیے فرشتوں کو انہیں سجدہ کرنے کے حکم کا اور ابلیس کی مخفی عداوت کے اظہار کا بیان ہوا ہے، اس نے تکبر کیا اور حکم الٰہی کا انکار کر دیا۔ اس وقت آدم علیہ السلام کو سمجھا دیا گیا کہ دیکھ یہ تیرا اور تیری بیوی حواء علیہا السلام کا دشمن ہے، اس کے بہکاوے میں نہ آ جانا ورنہ محروم ہو کر جنت سے نکال دیے جاؤ گے اور سخت مشقت میں پڑ جاؤ گے۔ روزی کی تلاش کی محنت سر پڑ جائے گی۔ یہاں تو بے محنت و مشقت روزی پہنچ رہی ہے۔ یہاں تو ناممکن ہے کہ بھوکے رہو، ناممکن ہے کہ ننگے رہو۔ اس اندورنی اور بیرونی تکلیف سے بچے ہوئے ہو۔ پھر یہاں نہ پیاس کی گرمی اندرونی طور سے ستائے، نہ دھوپ کی تیزی کی گرمی بیرونی طور پر پریشان کرے۔ اگر شیطان کے بہکاوے میں آ گئے تو یہ راحتیں چھین لی جائیں گی اور ان کے مقابل کی تکلیفیں سامنے آ جائیں گی۔ لیکن شیطان نے اپنے جال میں انہیں پھانس لیا اور مکاری سے انہیں اپنی باتوں میں لے لیا قسمیں کھا کھا کر انہیں اپنی خیر خواہی کا یقین دلا دیا۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 119،118) ➊ { اِنَّ لَكَ اَلَّا تَجُوْعَ …:} گویا آدم اور حوا علیھما السلام کو بتا دیا گیا کہ تمھاری تمام بنیادی ضروریات کا یہاں انتظام کر دیا گیا ہے۔ ظاہر ہے کہ انسان کی بنیادی ضرورتیں یہی چار چیزیں ہیں: بھوک دور کرنے کے لیے کھانا، پیاس بجھانے کے لیے پانی، ستر ڈھانپنے کے لیے لباس اور سردی گرمی سے بچنے کے لیے مکان۔ یہ دراصل شقاوت کی تفسیر ہے اور اس شقاوت سے مراد دنیوی شقاوت ہے نہ کہ اخروی۔ شقاوت کی تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ طٰہٰ (۲)۔ ➋ ان دو آیات میں اللہ تعالیٰ نے بھوک کے بعد پیاس کے بجائے ننگا ہونے کا ذکر کیا اور پیاس کے بعد دھوپ میں جلنے کا ذکر فرمایا۔ اس میں ایک تو آیات کے آخری الفاظ کی مناسبت مقصود ہے اور ایک یہ کہ اگر بھوک، پیاس اور ننگے ہونے اور دھوپ میں جلنے کو اکٹھا ذکر کیا جاتا تو پہلی دونوں اور دوسری دونوں کا مجموعہ ہم شکل ہونے کی وجہ سے ایک ایک نعمت نظر آتا، الگ الگ ذکر کرنے سے چار نعمتیں نمایاں ہو گئیں۔ (قاسمی)
اور نہ تو یہاں پیاسا ہوتا ہے نہ دھوپ سے تکلیف اٹھاتا ہے
احمد رضا خان بریلوی
اور یہ کہ تجھے نہ اس میں پیاس لگے نہ دھوپ
علامہ محمد حسین نجفی
اور نہ یہاں پیاسے رہوگے اور نہ دھوپ کھاؤگے۔
عبدالسلام بن محمد
اور یہ کہ تو اس میں نہ پیاسا ہو گا اور نہ دھوپ کھائے گا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
پہلے ہی سے اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان سے فرما دیا تھا کہ جنت کے تمام میوے کھانا لیکن اس درخت کے نزدیک بھی نہ جانا۔ مگر شیطان نے انہیں اس قدر پھسلایا کہ آخرکار یہ اس درخت میں سے کھا بیٹھے۔ اس نے دھوکہ کرتے ہوئے ان سے کہا کہ جو اس درخت کو کھا لیتا ہے، وہ ہمیشہ یہیں رہتا ہے۔ صادق و مصدوق { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ جنت میں ایک درخت ہے جس کے سائے تلے سوار سو سال تک چلا جائے گا لیکن تاہم وہ ختم نہ ہو گا، اس کا نام شجرۃ الخلد ہے۔ } ۱؎ [مسند احمد:455/2:صحیح دون الجملہ]
دونوں نے درخت میں سے کچھ کھایا ہی تھا کہ لباس اتر گیا اور اعضاء ظاہر ہو گئے۔ ابن ابی حاتم میں ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں، { اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کو گندمی رنگ کا لمبے قد و قامت والا زیادہ بالوں والا بنایا تھا۔ کھجور کے درخت جتنا قد تھا۔ ممنوع درخت کو کھاتے ہی لباس چھن گیا۔ اپنے ستر کو دیکھتے ہی مارے شرم کے ادھر ادھر چھپنے لگے، ایک درخت میں بال الجھ گئے، جلدی سے چھڑانے کی کوشش کر رہے تھے۔ جب اللہ تعالیٰ نے آواز دی کہ آدم (علیہ السلام) کیا مجھ سے بھاگ رہا ہے؟ کلام رحمان سن کر ادب سے عرض کیا کہ اے اللہ! مارے شرمندگی کے سر چھپانا چاہتا ہوں۔ اچھا اب یہ تو فرما دے کہ توبہ اور رجوع کے بعد بھی جنت میں پہنچ سکتا ہوں؟ جواب ملا کہ ہاں۔ }
یہی معنی ہیں اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے۔ آدم علیہ السلام نے اپنے رب سے چند کلمات لے لیے جس کی بنا پر اللہ نے اسے پھر سے اپنی مہربانی میں لے لیا۔ یہ روایت منقطع ہے اور اس کے مرفوع ہونے میں بھی کلام ہے۔ جب آدم علیہ السلام وحضرت حواء علیہا السلام سے لباس چھن گیا تو اب جنت کے درختوں کے پتے اپنے جسم پر چپکانے لگے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں، انجیر کے پتوں سے اپنا آپ چھپانے لگے۔ اللہ کی نافرمانی کی وجہ سے راہ راست سے ہٹ گئے۔ لیکن آخرکار اللہ تعالیٰ نے پھر ان کی رہنمائی کی۔ توبہ قبول فرمائی اور اپنے خاص بندوں میں شامل کر لیا۔ صحیح بخاری شریف وغیرہ میں ہے، { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ موسیٰ علیہ السلام اور آدم علیہ السلام میں گفتگو ہوئی۔ موسیٰ علیہ السلام فرمانے لگے آپ نے اپنے گناہ کی وجہ سے تمام انسانوں کو جنت سے نکلوا دیا اور انہیں مشقت میں ڈال دیا۔ آدم علیہ السلام نے جواب دیا، اے موسیٰ آپ کو اللہ تعالیٰ نے اپنی رسالت سے اور اپنے کلام سے ممتاز فرمایا آپ مجھے اس بات پر الزام دیتے ہیں جسے اللہ تعالیٰ نے میری پیدائش سے پہلے ہی مقدر اور مقرر کر لیا تھا۔ پس آدم علیہ السلام نے اس گفتگو میں موسیٰ علیہ السلام کو لاجواب کر دیا۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:6614] اور روایت میں موسیٰ علیہ السلام کا یہ فرمان بھی ہے کہ آپ کو اللہ تعالیٰ نے اپنے ہاتھ سے پیدا کیا تھا اور آپ میں آپ کی روح اس نے پھونکی تھی اور آپ کے سامنے اپنے فرشتوں کو سجدہ کرایا تھا اور آپ کو اپنی جنت میں بسایا تھا۔ آدم علیہ السلام کے اس جواب میں یہ بھی مروی ہے کہ اللہ نے آپ کو وہ تختیاں دیں جن میں ہر چیز کا بیان تھا اور سرگوشی کرتے ہوئے آپ کو قریب کر لیا۔ بتلاؤ اللہ نے تورات کب لکھی تھی؟ جواب دیا آپ سے چالیس سال پہلے۔ پوچھا کیا اس میں یہ لکھا ہوا تھا کہ آدم علیہ السلام نے اپنے رب کی نافرمانی کی اور راہ بھول گیا کہا ہاں۔ فرمایا پھر تم مجھے اس امر کا الزام کیوں دیتے ہو؟ جو میری تقدیر میں اللہ تعالیٰ نے میری پیدائش سے بھی چالیس سال پہلے لکھ دیا تھا۔
لیکن شیطان نے اس کو پھُسلایا کہنے لگا "آدم، بتاؤں تمہیں وہ درخت جس سے ابدی زندگی اور لازوال سلطنت حاصل ہوتی ہے؟"
مولانا محمد جوناگڑھی
لیکن شیطان نے اسے وسوسہ ڈاﻻ، کہنے لگا کہ میں تجھے دائمی زندگی کا درخت اور بادشاہت بتلاؤں کہ جو کبھی پرانی نہ ہو
احمد رضا خان بریلوی
تو شیطان نے اسے وسوسہ دیا بولا، اے آدم! کیا میں تمہیں بتادوں ہمیشہ جینے کا پیڑ اور وہ بادشاہی کہ پرانی نہ پڑے
علامہ محمد حسین نجفی
پھر شیطان نے ان کے دل میں وسوسہ ڈالا (اور) کہا اے آدم! کیا میں تمہیں بتاؤں ہمیشگی والا درخت اور نہ زائل ہونے والی سلطنت؟
عبدالسلام بن محمد
پس شیطان نے اس کے دل میں خیال ڈالا، کہنے لگا اے آدم ! کیا میں تجھے دائمی زندگی کا درخت اور ایسی بادشاہی بتاؤں جو پرانی نہ ہو؟
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
پہلے ہی سے اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان سے فرما دیا تھا کہ جنت کے تمام میوے کھانا لیکن اس درخت کے نزدیک بھی نہ جانا۔ مگر شیطان نے انہیں اس قدر پھسلایا کہ آخرکار یہ اس درخت میں سے کھا بیٹھے۔ اس نے دھوکہ کرتے ہوئے ان سے کہا کہ جو اس درخت کو کھا لیتا ہے، وہ ہمیشہ یہیں رہتا ہے۔ صادق و مصدوق { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ جنت میں ایک درخت ہے جس کے سائے تلے سوار سو سال تک چلا جائے گا لیکن تاہم وہ ختم نہ ہو گا، اس کا نام شجرۃ الخلد ہے۔ } ۱؎ [مسند احمد:455/2:صحیح دون الجملہ]
دونوں نے درخت میں سے کچھ کھایا ہی تھا کہ لباس اتر گیا اور اعضاء ظاہر ہو گئے۔ ابن ابی حاتم میں ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں، { اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کو گندمی رنگ کا لمبے قد و قامت والا زیادہ بالوں والا بنایا تھا۔ کھجور کے درخت جتنا قد تھا۔ ممنوع درخت کو کھاتے ہی لباس چھن گیا۔ اپنے ستر کو دیکھتے ہی مارے شرم کے ادھر ادھر چھپنے لگے، ایک درخت میں بال الجھ گئے، جلدی سے چھڑانے کی کوشش کر رہے تھے۔ جب اللہ تعالیٰ نے آواز دی کہ آدم (علیہ السلام) کیا مجھ سے بھاگ رہا ہے؟ کلام رحمان سن کر ادب سے عرض کیا کہ اے اللہ! مارے شرمندگی کے سر چھپانا چاہتا ہوں۔ اچھا اب یہ تو فرما دے کہ توبہ اور رجوع کے بعد بھی جنت میں پہنچ سکتا ہوں؟ جواب ملا کہ ہاں۔ }
یہی معنی ہیں اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے۔ آدم علیہ السلام نے اپنے رب سے چند کلمات لے لیے جس کی بنا پر اللہ نے اسے پھر سے اپنی مہربانی میں لے لیا۔ یہ روایت منقطع ہے اور اس کے مرفوع ہونے میں بھی کلام ہے۔ جب آدم علیہ السلام وحضرت حواء علیہا السلام سے لباس چھن گیا تو اب جنت کے درختوں کے پتے اپنے جسم پر چپکانے لگے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں، انجیر کے پتوں سے اپنا آپ چھپانے لگے۔ اللہ کی نافرمانی کی وجہ سے راہ راست سے ہٹ گئے۔ لیکن آخرکار اللہ تعالیٰ نے پھر ان کی رہنمائی کی۔ توبہ قبول فرمائی اور اپنے خاص بندوں میں شامل کر لیا۔ صحیح بخاری شریف وغیرہ میں ہے، { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ موسیٰ علیہ السلام اور آدم علیہ السلام میں گفتگو ہوئی۔ موسیٰ علیہ السلام فرمانے لگے آپ نے اپنے گناہ کی وجہ سے تمام انسانوں کو جنت سے نکلوا دیا اور انہیں مشقت میں ڈال دیا۔ آدم علیہ السلام نے جواب دیا، اے موسیٰ آپ کو اللہ تعالیٰ نے اپنی رسالت سے اور اپنے کلام سے ممتاز فرمایا آپ مجھے اس بات پر الزام دیتے ہیں جسے اللہ تعالیٰ نے میری پیدائش سے پہلے ہی مقدر اور مقرر کر لیا تھا۔ پس آدم علیہ السلام نے اس گفتگو میں موسیٰ علیہ السلام کو لاجواب کر دیا۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:6614] اور روایت میں موسیٰ علیہ السلام کا یہ فرمان بھی ہے کہ آپ کو اللہ تعالیٰ نے اپنے ہاتھ سے پیدا کیا تھا اور آپ میں آپ کی روح اس نے پھونکی تھی اور آپ کے سامنے اپنے فرشتوں کو سجدہ کرایا تھا اور آپ کو اپنی جنت میں بسایا تھا۔ آدم علیہ السلام کے اس جواب میں یہ بھی مروی ہے کہ اللہ نے آپ کو وہ تختیاں دیں جن میں ہر چیز کا بیان تھا اور سرگوشی کرتے ہوئے آپ کو قریب کر لیا۔ بتلاؤ اللہ نے تورات کب لکھی تھی؟ جواب دیا آپ سے چالیس سال پہلے۔ پوچھا کیا اس میں یہ لکھا ہوا تھا کہ آدم علیہ السلام نے اپنے رب کی نافرمانی کی اور راہ بھول گیا کہا ہاں۔ فرمایا پھر تم مجھے اس امر کا الزام کیوں دیتے ہو؟ جو میری تقدیر میں اللہ تعالیٰ نے میری پیدائش سے بھی چالیس سال پہلے لکھ دیا تھا۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 121،120) ➊ { فَوَسْوَسَ اِلَيْهِ الشَّيْطٰنُ …:} قرآن میں شیطان کے وسوسہ انداز ہونے اور پھسلانے کی نسبت بعض آیات میں صرف آدم علیہ السلام کی طرف کی گئی ہے اور بعض میں آدم و حوا دونوں کی طرف۔ معلوم ہوتا ہے کہ اصل میں تو شیطان آدم علیہ السلام ہی کے دل میں وسوسہ انداز ہوا ہے، حوا علیھا السلام کا ذکر ان کے تابع ہونے کی حیثیت سے ہے، لہٰذا عوام میں جو یہ بات مشہور ہو گئی ہے کہ شیطان نے پہلے حوا علیھا السلام کو پھسلایا اور پھر ان کے ذریعے سے آدم علیہ السلام کو قابو کیا، وہ قطعی غلط اور لغو ہے اور اسرائیلیات سے ماخوذ ہے۔ دونوں آیات کی تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ اعراف (۲۰، ۲۱)۔ ➋ {وَ عَصٰۤى اٰدَمُ رَبَّهٗ فَغَوٰى …:} آدم علیہ السلام کا واقعہ نہایت عجیب ہے کہ اتنا عظیم شخص، جسے اللہ تعالیٰ نے اپنے ہاتھوں سے بنایا، فرشتوں سے اس کو سجدہ کروایا، کمال عقل بخشی، اپنی جنت میں ہر نعمت عطا فرمائی، اسے صاف لفظوں میں شیطان کی دشمنی سے آگاہ کر دیا اور دشمن کی بات ماننے پر جنت سے نکلنے کی تنبیہ بھی فرما دی، اتنے عظیم شخص کو اس کے اتنے مہربان پروردگار نے صرف ایک چیز سے منع فرمایا، مگر وہ اپنے رب کی اتنی عنایتوں اور شیطان کی واضح دشمنی کے علم کے باوجود اس کے ورغلانے سے اپنے رب کی حکم عدولی کیسے کر گزرا؟ جو شخص بھی اس واقعہ میں غور و فکر کرے گا اس کا تعجب بڑھتا ہی جائے گا اور آخر کار اس نتیجے پر پہنچے گا کہ اللہ کی تقدیر کو نہ کوئی روک سکتا ہے اور نہ ہٹا سکتا ہے اور یہ کہ دلیل جتنی بھی واضح اور مضبوط ہو اس سے تبھی فائدہ حاصل ہوتا ہے جب اللہ تعالیٰ نے اس کا فیصلہ فرمایا ہو اور اسے مقدر فرمایا ہو۔ (رازی) صحیح بخاری اور صحیح مسلم وغیرہ میں موسیٰ علیہ السلام کے آدم علیہ السلام سے سوال اور ان کے جواب سے بھی یہی بات سمجھ میں آتی ہے۔ اس حدیث سے اگر کوئی یہ استدلال کرے کہ گناہ جب اللہ تعالیٰ نے تقدیر میں لکھ دیا ہے تو ہمارا کیا قصور ہے اور ہمیں ملامت کیوں کی جاتی ہے؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ آدم علیہ السلام نے توبہ قبول ہونے اور گناہ معاف ہونے کے بعد یہ جواب دیا ہے، اس سے پہلے اللہ تعالیٰ نے جب ان سے پوچھا: «{ اَلَمْ اَنْهَكُمَا عَنْ تِلْكُمَا الشَّجَرَةِ }» [ الأعراف: ۲۲ ] کہ کیا میں نے تمھیں اس درخت سے منع نہیں کیا تھا تو انھوں نے نہ تقدیر کا بہانہ بنایا اور نہ اپنا قصور اللہ تعالیٰ کے ذمے لگایا، بلکہ صاف تسلیم کیا: «{ رَبَّنَا ظَلَمْنَاۤ اَنْفُسَنَا وَ اِنْ لَّمْ تَغْفِرْ لَنَا وَ تَرْحَمْنَا لَنَكُوْنَنَّ مِنَ الْخٰسِرِيْنَ }» [ الأعراف: ۲۳ ] ”اے ہمارے رب! ہم نے اپنی جانوں پر ظلم کیا اور اگر تو نے ہمیں نہ بخشا اور ہم پر رحم نہ کیا تو یقینا ہم ضرور خسارہ پانے والوں سے ہو جائیں گے۔“ اس کے برعکس ابلیس نے اپنا گناہ ماننے کے بجائے اسے اللہ تعالیٰ کے ذمے لگا دیا: «{ قَالَ فَبِمَاۤ اَغْوَيْتَنِيْ لَاَقْعُدَنَّ لَهُمْ صِرَاطَكَ الْمُسْتَقِيْمَ }» [ الأعراف: ۱۶ ] ”اس نے کہا پھر اس وجہ سے کہ تو نے مجھے گمراہ کیا میں ضرور ان کے لیے تیرے سیدھے راستے پر بیٹھوں گا۔“ گناہ کی معافی کے بغیر تقدیر کا عذر غلط ہے۔ ایک اور جواب جو اس سے بھی قوی ہے، یہ ہے کہ موسیٰ علیہ السلام نے آدم علیہ السلام سے یہ نہیں پوچھا تھا کہ آپ نے نافرمانی کیوں کی تھی؟ بلکہ انھوں نے انھیں اپنی اولاد کو جنت سے نکالنے اور مصیبت میں ڈالنے پر ملامت کی تھی، حالانکہ مصیبت پر ملامت نہیں کی جاتی، خواہ وہ کسی غلطی کی وجہ سے آئی ہو، بلکہ تسلی دی جاتی ہے، مثلاً اگر کسی کی غلطی کی وجہ سے کوئی حادثہ ہو جائے تو اسے غلطی پر ملامت کے بجائے مصیبت میں تعزیت کی جاتی ہے کہ اللہ کی تقدیر میں ایسا ہی لکھا تھا، اس لیے غم مت کرو۔ چنانچہ صحیح مسلم میں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ اِحْتَجَّ آدَمُ وَ مُوْسٰی، فَقَالَ مُوْسَی يَا آدَمُ! أَنْتَ أَبُوْنَا، أَنْتَ خَيَّبْتَنَا وَأَخْرَجْتَنَا مِنَ الْجَنَّةِ، فَقَالَ لَهُ آدَمُ أَنْتَ مُوْسَی، اصْطَفَاكَ اللّٰهُ بِكَلَامِهِ، وَخَطَّ لَكَ بِيَدِهِ، أَتَلُوْمُنِیْ عَلٰی أَمْرٍ قَدَّرَهُ اللّٰهُ عَلَيَّ قَبْلَ أَنْ يَخْلُقَنِيْ بِأَرْبَعِيْنَ سَنَةً؟ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: فَحَجَّ آدَمُ مُوْسَی، فَحَجَّ آدَمُ مُوْسَی] ”آدم اور موسیٰ علیھما السلام کی بحث ہو گئی تو موسیٰ علیہ السلام نے کہا، تم ہمارے باپ ہو، تم نے ہمیں نامراد کر دیا اور ہمیں جنت سے نکال دیا۔ “ تو آدم علیہ السلام نے ان سے کہا: ”اے موسیٰ! اللہ عز وجل نے تمھیں اپنے کلام کے لیے چنا اور تمھارے لیے اپنے ہاتھ سے (کتاب) لکھی۔ اے موسیٰ! کیا تم مجھے ایک ایسے کام پر ملامت کرتے ہو جو اللہ تعالیٰ نے مجھے پیدا کرنے سے چالیس سال پہلے مجھ پر طے کر دیا تھا۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو آدم، موسیٰ پر دلیل میں غالب آ گئے، تو آدم، موسیٰ پر دلیل میں غالب آ گئے۔“ [ مسلم، القدر، باب حجاج آدم و موسٰی صلی اللہ علیہما وسلم: ۲۶۵۲ ]
آخرکار وہ دونوں (میاں بیوی) اُس درخت کا پھل کھا گئے نتیجہ یہ ہُوا کہ فوراً ہی ان کے ستر ایک دوسرے کے آگے کھُل گئے اور لگے دونوں اپنے آپ کو جنّت کے پتّوں سے ڈھانکنے آدمؑ نے اپنے رب کی نافرمانی کی اور راہِ راست سے بھٹک گیا
مولانا محمد جوناگڑھی
چنانچہ ان دونوں نے اس درخت سے کچھ کھا لیا پس ان کے ستر کھل گئے اور بہشت کے پتے اپنے اوپر ٹانکنے لگے۔ آدم (علیہ السلام) نے اپنے رب کی نافرمانی کی، پس بہک گیا
احمد رضا خان بریلوی
تو ان دونوں نے اس میں سے کھالیا اب ان پر ان کی شرم کی چیزیں ظاہر ہوئیں اور جنت کے پتے اپنے اوپر چپکانے لگے اور آدم سے اپنے رب کے حکم میں لغزش واقع ہوئی تو جو مطلب چاہا تھا اس کی راہ نہ پائی
علامہ محمد حسین نجفی
پس ان دونوں نے اس (درخت) میں سے کچھ کھایا۔ تو ان پر ان کے قابل ستر مقامات ظاہر ہوگئے اور وہ اپنے اوپر جنت کے پتے چپکانے لگے اور آدم نے اپنے پروردگار (کے امر ارشادی) کی خلاف ورزی کی اور (اپنے مقصد میں) ناکام ہوئے۔
عبدالسلام بن محمد
پس دونوں نے اس میں سے کھا لیا تو دونوں کے لیے ان کی شرم گاہیں ظاہر ہوگئیں اور وہ دونوں اپنے آپ پر جنت کے پتے چپکانے لگے اور آدم نے اپنے رب کی نافرمانی کی تو وہ بھٹک گیا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
پہلے ہی سے اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان سے فرما دیا تھا کہ جنت کے تمام میوے کھانا لیکن اس درخت کے نزدیک بھی نہ جانا۔ مگر شیطان نے انہیں اس قدر پھسلایا کہ آخرکار یہ اس درخت میں سے کھا بیٹھے۔ اس نے دھوکہ کرتے ہوئے ان سے کہا کہ جو اس درخت کو کھا لیتا ہے، وہ ہمیشہ یہیں رہتا ہے۔ صادق و مصدوق { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ جنت میں ایک درخت ہے جس کے سائے تلے سوار سو سال تک چلا جائے گا لیکن تاہم وہ ختم نہ ہو گا، اس کا نام شجرۃ الخلد ہے۔ } ۱؎ [مسند احمد:455/2:صحیح دون الجملہ]
دونوں نے درخت میں سے کچھ کھایا ہی تھا کہ لباس اتر گیا اور اعضاء ظاہر ہو گئے۔ ابن ابی حاتم میں ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں، { اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کو گندمی رنگ کا لمبے قد و قامت والا زیادہ بالوں والا بنایا تھا۔ کھجور کے درخت جتنا قد تھا۔ ممنوع درخت کو کھاتے ہی لباس چھن گیا۔ اپنے ستر کو دیکھتے ہی مارے شرم کے ادھر ادھر چھپنے لگے، ایک درخت میں بال الجھ گئے، جلدی سے چھڑانے کی کوشش کر رہے تھے۔ جب اللہ تعالیٰ نے آواز دی کہ آدم (علیہ السلام) کیا مجھ سے بھاگ رہا ہے؟ کلام رحمان سن کر ادب سے عرض کیا کہ اے اللہ! مارے شرمندگی کے سر چھپانا چاہتا ہوں۔ اچھا اب یہ تو فرما دے کہ توبہ اور رجوع کے بعد بھی جنت میں پہنچ سکتا ہوں؟ جواب ملا کہ ہاں۔ }
یہی معنی ہیں اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے۔ آدم علیہ السلام نے اپنے رب سے چند کلمات لے لیے جس کی بنا پر اللہ نے اسے پھر سے اپنی مہربانی میں لے لیا۔ یہ روایت منقطع ہے اور اس کے مرفوع ہونے میں بھی کلام ہے۔ جب آدم علیہ السلام وحضرت حواء علیہا السلام سے لباس چھن گیا تو اب جنت کے درختوں کے پتے اپنے جسم پر چپکانے لگے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں، انجیر کے پتوں سے اپنا آپ چھپانے لگے۔ اللہ کی نافرمانی کی وجہ سے راہ راست سے ہٹ گئے۔ لیکن آخرکار اللہ تعالیٰ نے پھر ان کی رہنمائی کی۔ توبہ قبول فرمائی اور اپنے خاص بندوں میں شامل کر لیا۔ صحیح بخاری شریف وغیرہ میں ہے، { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ موسیٰ علیہ السلام اور آدم علیہ السلام میں گفتگو ہوئی۔ موسیٰ علیہ السلام فرمانے لگے آپ نے اپنے گناہ کی وجہ سے تمام انسانوں کو جنت سے نکلوا دیا اور انہیں مشقت میں ڈال دیا۔ آدم علیہ السلام نے جواب دیا، اے موسیٰ آپ کو اللہ تعالیٰ نے اپنی رسالت سے اور اپنے کلام سے ممتاز فرمایا آپ مجھے اس بات پر الزام دیتے ہیں جسے اللہ تعالیٰ نے میری پیدائش سے پہلے ہی مقدر اور مقرر کر لیا تھا۔ پس آدم علیہ السلام نے اس گفتگو میں موسیٰ علیہ السلام کو لاجواب کر دیا۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:6614] اور روایت میں موسیٰ علیہ السلام کا یہ فرمان بھی ہے کہ آپ کو اللہ تعالیٰ نے اپنے ہاتھ سے پیدا کیا تھا اور آپ میں آپ کی روح اس نے پھونکی تھی اور آپ کے سامنے اپنے فرشتوں کو سجدہ کرایا تھا اور آپ کو اپنی جنت میں بسایا تھا۔ آدم علیہ السلام کے اس جواب میں یہ بھی مروی ہے کہ اللہ نے آپ کو وہ تختیاں دیں جن میں ہر چیز کا بیان تھا اور سرگوشی کرتے ہوئے آپ کو قریب کر لیا۔ بتلاؤ اللہ نے تورات کب لکھی تھی؟ جواب دیا آپ سے چالیس سال پہلے۔ پوچھا کیا اس میں یہ لکھا ہوا تھا کہ آدم علیہ السلام نے اپنے رب کی نافرمانی کی اور راہ بھول گیا کہا ہاں۔ فرمایا پھر تم مجھے اس امر کا الزام کیوں دیتے ہو؟ جو میری تقدیر میں اللہ تعالیٰ نے میری پیدائش سے بھی چالیس سال پہلے لکھ دیا تھا۔
121۔ 1 یعنی درخت کا پھل کھا کر نافرمانی کی، جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ مطلوب یا راہ راست سے بہک گئے
پھر اُس کے رب نے اُسے برگزیدہ کیا اور اس کی توبہ قبول کر لی اور اسے ہدایت بخشی
مولانا محمد جوناگڑھی
پھر اس کے رب نے نوازا، اس کی توبہ قبول کی اور اس کی رہنمائی کی
احمد رضا خان بریلوی
پھر اس کے رب نے چن لیا تو اس پر اپنی رحمت سے رجوع فرمائی اور اپنے قرب خاص کی راہ دکھائی،
علامہ محمد حسین نجفی
اس کے بعد ان کے پروردگار نے انہیں برگزیدہ کیا (چنانچہ) ان کی توبہ قبول کی اور ہدایت بخشی۔
عبدالسلام بن محمد
پھر اس کے رب نے اسے چن لیا، تو اس پر مہربانی فرمائی اور ہدایت دی۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
پہلے ہی سے اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان سے فرما دیا تھا کہ جنت کے تمام میوے کھانا لیکن اس درخت کے نزدیک بھی نہ جانا۔ مگر شیطان نے انہیں اس قدر پھسلایا کہ آخرکار یہ اس درخت میں سے کھا بیٹھے۔ اس نے دھوکہ کرتے ہوئے ان سے کہا کہ جو اس درخت کو کھا لیتا ہے، وہ ہمیشہ یہیں رہتا ہے۔ صادق و مصدوق { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ جنت میں ایک درخت ہے جس کے سائے تلے سوار سو سال تک چلا جائے گا لیکن تاہم وہ ختم نہ ہو گا، اس کا نام شجرۃ الخلد ہے۔ } ۱؎ [مسند احمد:455/2:صحیح دون الجملہ]
دونوں نے درخت میں سے کچھ کھایا ہی تھا کہ لباس اتر گیا اور اعضاء ظاہر ہو گئے۔ ابن ابی حاتم میں ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں، { اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کو گندمی رنگ کا لمبے قد و قامت والا زیادہ بالوں والا بنایا تھا۔ کھجور کے درخت جتنا قد تھا۔ ممنوع درخت کو کھاتے ہی لباس چھن گیا۔ اپنے ستر کو دیکھتے ہی مارے شرم کے ادھر ادھر چھپنے لگے، ایک درخت میں بال الجھ گئے، جلدی سے چھڑانے کی کوشش کر رہے تھے۔ جب اللہ تعالیٰ نے آواز دی کہ آدم (علیہ السلام) کیا مجھ سے بھاگ رہا ہے؟ کلام رحمان سن کر ادب سے عرض کیا کہ اے اللہ! مارے شرمندگی کے سر چھپانا چاہتا ہوں۔ اچھا اب یہ تو فرما دے کہ توبہ اور رجوع کے بعد بھی جنت میں پہنچ سکتا ہوں؟ جواب ملا کہ ہاں۔ }
یہی معنی ہیں اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے۔ آدم علیہ السلام نے اپنے رب سے چند کلمات لے لیے جس کی بنا پر اللہ نے اسے پھر سے اپنی مہربانی میں لے لیا۔ یہ روایت منقطع ہے اور اس کے مرفوع ہونے میں بھی کلام ہے۔ جب آدم علیہ السلام وحضرت حواء علیہا السلام سے لباس چھن گیا تو اب جنت کے درختوں کے پتے اپنے جسم پر چپکانے لگے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں، انجیر کے پتوں سے اپنا آپ چھپانے لگے۔ اللہ کی نافرمانی کی وجہ سے راہ راست سے ہٹ گئے۔ لیکن آخرکار اللہ تعالیٰ نے پھر ان کی رہنمائی کی۔ توبہ قبول فرمائی اور اپنے خاص بندوں میں شامل کر لیا۔ صحیح بخاری شریف وغیرہ میں ہے، { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ موسیٰ علیہ السلام اور آدم علیہ السلام میں گفتگو ہوئی۔ موسیٰ علیہ السلام فرمانے لگے آپ نے اپنے گناہ کی وجہ سے تمام انسانوں کو جنت سے نکلوا دیا اور انہیں مشقت میں ڈال دیا۔ آدم علیہ السلام نے جواب دیا، اے موسیٰ آپ کو اللہ تعالیٰ نے اپنی رسالت سے اور اپنے کلام سے ممتاز فرمایا آپ مجھے اس بات پر الزام دیتے ہیں جسے اللہ تعالیٰ نے میری پیدائش سے پہلے ہی مقدر اور مقرر کر لیا تھا۔ پس آدم علیہ السلام نے اس گفتگو میں موسیٰ علیہ السلام کو لاجواب کر دیا۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:6614] اور روایت میں موسیٰ علیہ السلام کا یہ فرمان بھی ہے کہ آپ کو اللہ تعالیٰ نے اپنے ہاتھ سے پیدا کیا تھا اور آپ میں آپ کی روح اس نے پھونکی تھی اور آپ کے سامنے اپنے فرشتوں کو سجدہ کرایا تھا اور آپ کو اپنی جنت میں بسایا تھا۔ آدم علیہ السلام کے اس جواب میں یہ بھی مروی ہے کہ اللہ نے آپ کو وہ تختیاں دیں جن میں ہر چیز کا بیان تھا اور سرگوشی کرتے ہوئے آپ کو قریب کر لیا۔ بتلاؤ اللہ نے تورات کب لکھی تھی؟ جواب دیا آپ سے چالیس سال پہلے۔ پوچھا کیا اس میں یہ لکھا ہوا تھا کہ آدم علیہ السلام نے اپنے رب کی نافرمانی کی اور راہ بھول گیا کہا ہاں۔ فرمایا پھر تم مجھے اس امر کا الزام کیوں دیتے ہو؟ جو میری تقدیر میں اللہ تعالیٰ نے میری پیدائش سے بھی چالیس سال پہلے لکھ دیا تھا۔
122۔ 1 اس سے بعض لوگ استدال کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ حضرت آدم ؑ سے مذکورہ غلطیوں کا ہونا، نبوت سے قبل ہوا، اور نبوت سے اس کے بعد آپ کو نوازا گیا۔ لیکن ہم نے گزشتہ صفحے میں اس ' معصیت ' کی حقیقت بیان کی ہے، وہ عصمت کے منافی نہیں رہتی۔ کیونکہ ایسا وعظ و نصیحت، جس کا تعلق تبلیغ رسالت اور تشریع سے نہ ہو، بلکہ ذاتی افعال سے ہو اور اس میں بھی اس کا سبب ضعف کا اطلاق کیا گیا ہے تو محض ان کی عظمت شان اور مقام بلند کی وجہ سے کہ بڑوں کی معمولی غلطی کو بھی بڑا سمجھ لیا جاتا ہے، اس لئے آیت کا مطلب یہ نہیں کہ ہم نے اس کے بعد اسے نبوت کے لئے چن لیا، بلکہ مطلب یہ ہے کہ ندامت اور توبہ کے بعد ہم نے اسے پھر اسی مقام پر فائز کردیا، جو پہلے انھیں حاصل تھا۔ ان کو زمین پر اتار نے کا فیصلہ، ہماری مشیت اور حکمت و مصلحت پر مبنی تھا، اس سے یہ نہ سمجھ لیا جائے کہ یہ ہمارا غضب ہے جو آدم پر نازل ہوا ہے۔
(آیت 122) ➊ { ثُمَّ اجْتَبٰهُ رَبُّهٗ: ”جَبَي يَجْبِيْ“} (ض) کا معنی کھینچ کر لانا ہے، جیسا کہ فرمایا: «{ اَوَ لَمْ نُمَكِّنْ لَّهُمْ حَرَمًا اٰمِنًا يُّجْبٰۤى اِلَيْهِ ثَمَرٰتُ كُلِّ شَيْءٍ }» [ القصص: ۵۷ ] ”اور کیا ہم نے انھیں ایک باامن حرم میں جگہ نہیں دی؟ جس کی طرف ہر چیز کے پھل کھینچ کر لائے جاتے ہیں۔“ {”اِجْتَبَي“} (افتعال) کا معنی کسی چیز کو اپنے لیے لے لینا، چن لینا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے آدم علیہ السلام کو اپنے لیے کھینچ لینے اور چن لینے کا مطلب یہ ہے کہ ان کے دل میں توبہ کا خیال ڈالا، انھیں توبہ کی توفیق دی اور توبہ کے کلمات کی تعلیم دی، جیسا کہ فرمایا: «فَتَلَقّٰۤى اٰدَمُ مِنْ رَّبِّهٖ كَلِمٰتٍ فَتَابَ عَلَيْهِ» [ البقرۃ: ۳۷ ] ”پھر آدم نے اپنے رب سے چند کلمات سیکھ لیے تو اس نے اس کی توبہ قبول فرما لی۔“ قرآن کے مطابق وہ کلمات یہ تھے: «{ رَبَّنَا ظَلَمْنَاۤ اَنْفُسَنَا وَ اِنْ لَّمْ تَغْفِرْ لَنَا وَ تَرْحَمْنَا لَنَكُوْنَنَّ مِنَ الْخٰسِرِيْنَ }» [ الأعراف: ۲۳ ] {” اجْتَبٰهُ رَبُّهٗ “} میں لفظ {” رَبُّهٗ “} اس چننے کے سبب کی طرف اشارہ کر رہا ہے۔ ➋ { فَتَابَ عَلَيْهِ وَ هَدٰى:} یعنی اس کی توبہ قبول فرمائی اور ہدایت دی، یعنی صراط مستقیم پر گامزن کر دیا اور اس پر ثابت قدمی عطا فرمائی۔ ابن عاشور نے لکھا ہے کہ قرآن مجید میں جہاں {”اِجْتِبَاء“} اور ”ہدایت“ کے الفاظ اکٹھے آئیں وہاں نبوت عطا کرنا مراد ہوتا ہے، جیسا کہ فرمایا: «{ وَ اجْتَبَيْنٰهُمْ وَ هَدَيْنٰهُمْ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِيْمٍ }» [ الأنعام: ۸۷ ] اور فرمایا: «{ اِجْتَبٰىهُ وَ هَدٰىهُ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِيْمٍ }» [ النحل: ۱۲۱ ] اور تیسری آیت یہ ہے۔ ➌ آدم علیہ السلام کا گناہ توبہ و استغفار کی وجہ سے ان کے لیے پہلے سے بھی زیادہ بلند مقام کا ذریعہ بن گیا۔ اس سے اللہ تعالیٰ کی حکمت ظاہر ہوتی ہے کہ اس نے انبیاء سے غلطی کا صادر ہونا ناممکن کیوں نہیں بنا دیا اور وہ ہے رسول کا غلطی سرزد ہونے کے بعد توبہ و استغفار میں اپنی امت کے لیے اسوہ اور نمونہ بننا۔ کیونکہ غلطی کے بعد والی ندامت، آہ و زاری، آئندہ نہ کرنے کا عزم اور پچھلی غلطی پر دن رات استغفار اللہ تعالیٰ کو اس قدر پسند ہے کہ اگر انسان سے غلطی نہ ہو، جس کے بعد وہ توبہ و استغفار کرے، تو اللہ تعالیٰ بنی آدم کی صف لپیٹ کر گناہ کرنے والی کوئی اور قوم لے آئے، جوگناہ کرے، پھر استغفار کرے اور اللہ تعالیٰ انھیں معاف فرمائے۔ [ مسلم، التوبۃ، باب سقوط الذنوب بالاستغفار والتوبۃ: ۲۷۴۹، عن أبي ھریرۃ رضی اللہ عنہ ] پھر اس مہربان رب کی رحمت اور لطف و کرم کی کیا حد ہے جو توبہ کے بعد پہلے گناہوں کو بھی نیکیوں میں بدل دیتا ہے۔ دیکھیے سورۂ فرقان (۷۰) اللہ تعالیٰ ہم گناہ گاروں کو بھی ایسی ہی توبہ کرنے والوں میں شامل فرما لے۔ (آمین) ➍ درخت میں سے کھانے کے بعد یہاں توبہ قبول کرنے کا ذکر پہلے ہے اور زمین پر اترنے کا حکم بعد میں، حالانکہ اصل ترتیب یہ تھی کہ درخت میں سے کھاتے ہی انھیں جنت سے نکال دیا گیا، مگر یہاں آدم علیہ السلام کی توبہ کا قبول ہونا اور نبوت عطا ہونا پہلے اس لیے ذکر فرمایا کہ سننے والوں کو آدم علیہ السلام کا انجام معلوم ہو جائے کہ وہ کس قدر اچھا ہوا۔
اور فرمایا "تم دونوں (فریق، یعنی انسان اور شیطان) یہاں سے اتر جاؤ تم ایک دُوسرے کے دشمن رہو گے اب اگر میری طرف سے تمہیں کوئی ہدایت پہنچے تو جو کوئی میری اُس ہدایت کی پیروی کرے گا وہ نہ بھٹکے گا نہ بد بختی میں مبتلا ہو گا
مولانا محمد جوناگڑھی
فرمایا، تم دونوں یہاں سےاتر جاؤ تم آپس میں ایک دوسرے کے دشمن ہو، اب تمہارے پاس کبھی میری طرف سے ہدایت پہنچے تو جو میری ہدایت کی پیروی کرے نہ تو وه بہکے گا نہ تکلیف میں پڑے گا
احمد رضا خان بریلوی
فرمایا تم دونوں مل کر جنت سے اترو تم میں ایک دوسرے کا دشمن ہے، پھر اگر تم سب کو میری طرف سے ہدایت آئے، تو جو میری ہدایت کا پیرو ہو ا وہ نہ بہکے نہ بدبخت ہو
علامہ محمد حسین نجفی
فرمایا (اب) تم زمین پر اتر جاؤ ایک دوسرے کے دشمن ہوکر پھر اگر تمہارے پاس میری طرف سے کوئی ہدایت پہنچے تو جو کوئی میری ہدایت کی پیروی کرے گا وہ نہ گمراہ ہوگا اور نہ بدبخت ہوگا۔
عبدالسلام بن محمد
فرمایا تم دونوں اکٹھے اس سے اتر جائو، تم میں سے بعض بعض کا دشمن ہے، پھر اگر کبھی واقعی تمھارے پاس میری طرف سے کوئی ہدایت آئے تو جس نے میری ہدایت کی پوری طرح پیروی کی تو نہ وہ گمراہ ہوگا اور نہ مصیبت میں پڑے گا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
ایک دوسرے کے دشمن ٭٭
آدم علیہ السلام و حواء علیہا السلام اور ابلیس لعین سے اسی وقت فرما دیا گیا کہ تم سب جنت سے نکل جاؤ۔ سورۃ البقرہ میں اس کی پوری تفسیر گزر چکی ہے۔ تم آپس میں ایک دوسرے کے دشمن ہو یعنی اولاد آدم اور اولاد ابلیس۔ تمہارے پاس میرے رسول اور میری کتابیں آئیں گی۔ میری بتائی ہوئی راہ کی پیروی کرنے والے نہ تو دنیا میں رسوا ہوں گے نہ آخرت میں ذلیل ہوں گے۔ ہاں حکموں کے مخالف، میرے رسول کی راہ کے تارک، دوسری راہوں پہ چلنے والے دنیا میں بھی تنگ رہیں گے، اطمینان اور کشادہ دلی میسر نہ ہو گی۔ اپنی گمراہی کی وجہ سے تنگیوں میں ہی رہیں گے گو بظاہر کھانے پینے پہننے اوڑھنے رہنے سہنے کی فراخی ہو لیکن دل میں یقین و ہدایت نہ ہونے کی وجہ سے ہمیشہ شک و شبہے اور تنگی اور قلت میں مبتلا رہیں گے۔ بدنصیب، رحمت الٰہی سے محروم، خیر سے خالی۔ کیونکہ اللہ پر ایمان نہیں، اس کے وعدوں کا یقین نہیں، مرنے کے بعد کی نعمتوں میں کوئی حصہ نہیں۔ اللہ کے ساتھ بدگمان ہیں، گئی ہوئی چیز کو آنے والی نہیں سمجھتے۔ خبیث روزیاں ہیں، گندے عمل ہیں، قبر تنگ و تاریک ہے۔ وہاں اس طرح دبوچا جائے گا کہ دائیں پسلیاں بائیں میں اور بائیں طرف کی دائیں طرف میں گھس جائیں گی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں، { مومن کی قبر ہرا بھرا سرسبز باغیچہ ہے، ستر (70) ہاتھ کی کشادہ ہے، ایسا معلوم ہوتا ہے گویا چاند اس میں ہے، خوب نور اور روشنی پھیل رہی ہے جیسے چودھویں رات کا چاند چڑھا ہوا ہو۔ اس آیت کا شان نزول معلوم ہے کہ میرے ذکر سے منہ پھیرنے والوں کی معیشت تنگ ہے۔ اس سے مراد کافر کی قبر میں اس پر عذاب ہے۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:227/16:ضعیف] اللہ کی قسم اس پر ننانوے اژدھے مقرر کئے جاتے ہیں ہر ایک کے سات سات سر ہوتے ہیں جو اسے قیامت تک ڈستے رہتے ہیں۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:24426:ضعیف] اس حدیث کا مرفوع ہونا بالکل منکر ہے۔ }
ایک عمدہ سند سے بھی مروی ہے کہ { اس سے مراد عذاب قبر ہے۔} ۱؎ [مستدرک حاکم:381/2:حسن] یہ قیامت کے دن اندھا بنا کر اٹھایا جائے گا سوائے جہنم کے کوئی چیز اسے نظر نہ آئے گی۔ نابینا ہو گا اور میدان حشر کی طرف چلایا جائے گا اور جہنم کے سامنے کھڑا کر دیا جائے گا۔ جیسے فرمان ہے «وَنَحْشُرُهُمْ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ عَلٰي وُجُوْهِهِمْ عُمْيًا وَّبُكْمًا وَّصُمًّا ۭ مَاْوٰىهُمْ جَهَنَّمُ ۭ كُلَّمَا خَبَتْ زِدْنٰهُمْ سَعِيْرًا» ۱؎ [17-الإسراء:97] ۔ ’ یعنی ہم انہیں قیامت کے دن اوندھے منہ اندھے گونگے بہرے بنا کر حشر میں لے جائیں گے ان کا اصلی ٹھکانہ دوزخ ہے۔ ‘ یہ کہیں گے کہ میں تو دنیا میں آنکھوں والا خوب دیکھتا بھالتا تھا، پھر مجھے اندھا کیوں کر دیا گیا؟ جواب ملے گا کہ یہ بدلہ ہے اللہ کی آیتوں سے منہ موڑ لینے کا اور ایسا ہو جانے کا گویا خبر ہی نہیں۔ پس آج ہم بھی تیرے ساتھ ایسا معاملہ کریں گے کہ جیسے تو ہماری یاد سے اتر گیا۔ جیسے فرمان ہے «فَالْيَوْمَ نَنْسٰىهُمْ كَمَا نَسُوْا لِقَاۗءَ يَوْمِهِمْ ھٰذَا ۙ وَمَا كَانُوْا بِاٰيٰتِنَا يَجْحَدُوْنَ» ۱؎ [7-الأعراف:51] ۔ ’ آج ہم انہیں ٹھیک اسی طرح بھلا دیں گے جیسے انہوں نے آج کے دن کی ملاقات کو بھلا دیا تھا۔ ‘ پس یہ برابر کا اور عمل کی طرح کا بدلہ ہے۔ قرآن پر ایمان رکھتے ہوئے اس کے احکام کا عامل ہوتے ہوئے کسی شخص سے اگر اس کے الفاظ حفظ سے نکل جائیں تو وہ اس وعید میں داخل نہیں۔ اس کے لیے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ وہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ سے جذامی ہونے کی حالت میں ملاقات کرے گا۔} ۱؎ [سنن ابوداود:1474:ضعیف]
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 123) ➊ { قَالَ اهْبِطَا مِنْهَا جَمِيْعًۢا بَعْضُكُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ:} اس کی تفسیر سورۂ بقرہ کی آیت (۳۶) میں دیکھیے، یعنی توبہ قبول ہونے کے باوجود زمین پر رہنے کا فیصلہ قائم رہا، کیونکہ انھیں پیدا ہی زمین کی خلافت کے لیے کیا گیا تھا۔ ➋ {فَمَنِ اتَّبَعَ هُدَايَ …:} سورۂ بقرہ (۳۸) میں {” فَمَنْ تَبِعَ هُدَايَ “ } ہے، یعنی جس نے میری ہدایت کی پیروی کی اور یہاں {”اتَّبَعَ“} (افتعال) ہے، اس میں حروف زیادہ ہونے کی وجہ سے تکلف اور مبالغہ ہے، یعنی جس نے میری ہدایت کی پوری طرح پیروی کی تو وہ نہ دنیا میں جنت کے راستے سے بھٹکے گا اور نہ آخرت میں جنت سے محروم رہ کر بدنصیب ہو گا، بلکہ سیدھا چلتا ہوا اپنے گھر جنت میں پہنچ جائے گا۔ ابن عباس رضی اللہ عنھما نے فرمایا: [ ضَمِنَ اللّٰهُ لِمَنْ قَرَأَ الْقُرْآنَ أَلاَّ يَضِلَّ فِی الدُّنْيَا وَلاَ يَشْقٰی فِی الْآخِرَةِ ثُمَّ تَلاَ: «{ فَمَنِ اتَّبَعَ هُدَايَ فَلَا يَضِلُّ وَ لَا يَشْقٰى}» ] [ مصنف ابن أبي شیبۃ: 467/10، ح: ۳۰۵۷۵۔ مستدرک حاکم: 381/2، ح: ۳۴۳۸ و صححہ ووافقہ الذھبی ] ”جو شخص قرآن کی پیروی کرے اللہ تعالیٰ اس کا ضامن ہے کہ وہ نہ دنیا میں گمراہ ہو گا اور نہ آخرت میں بد نصیب۔“ پھر آپ نے یہ آیت پڑھی: ” تو جو میری ہدایت کے پیچھے چلا تو وہ نہ گمراہ ہو گا اور نہ مصیبت میں پڑے گا۔“ معلوم ہوا ہدایت وہی ہے جو اللہ کی طرف سے آئے، اللہ تعالیٰ نے ہدایت خود بھیجنے کا وعدہ کیا اور اسے پورا فرمایا ہے۔ اللہ کے سوا کسی کی رہنمائی منزل پر نہیں پہنچا سکتی، خواہ کوئی عالم ہو یا درویش، انسان ہو یا جن یا کوئی اور، اللہ کی کتاب کے مطابق زندگی گزارنا دنیا وآخرت دونوں میں کامیاب زندگی کا ضامن ہے، فرمایا: «{ مَنْ عَمِلَ صَالِحًا مِّنْ ذَكَرٍ اَوْ اُنْثٰى وَ هُوَ مُؤْمِنٌ فَلَنُحْيِيَنَّهٗ حَيٰوةً طَيِّبَةً وَ لَنَجْزِيَنَّهُمْ اَجْرَهُمْ بِاَحْسَنِ مَا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ }» [ النحل: ۹۷ ] ”جو بھی نیک عمل کرے، مرد ہو یا عورت اور وہ مومن ہو تو یقینا ہم اسے ضرور زندگی بخشیں گے، پاکیزہ زندگی اور یقینا ہم انھیں ان کا اجر ضرور بدلے میں دیں گے، ان بہترین اعمال کے مطابق جو وہ کرتے تھے۔“
اور جو میرے "ذِکر"(درسِ نصیحت) سے منہ موڑے گا اُس کے لیے دنیا میں تنگ زندگی ہو گی اور قیامت کے روز ہم اسے اندھا اٹھائیں گے"
مولانا محمد جوناگڑھی
اور (ہاں) جو میری یاد سے روگردانی کرے گا اس کی زندگی تنگی میں رہے گی، اور ہم اسے بروز قیامت اندھا کر کے اٹھائیں گے
احمد رضا خان بریلوی
اور جس نے میری یاد سے منہ پھیرا تو بیشک اس کے لیے تنگ زندگانی ہے اور ہم اسے قیامت کے دن اندھا اٹھائیں گے،
علامہ محمد حسین نجفی
اور جو کوئی میری یاد سے روگردانی کرے گا تو اس کے لئے تنگ زندگی ہوگی۔ اور ہم اسے قیامت کے دن اندھا محشور کریں گے۔
عبدالسلام بن محمد
اور جس نے میری نصیحت سے منہ پھیرا تو بے شک اس کے لیے تنگ گزران ہے اور ہم اسے قیامت کے دن اندھا کر کے اٹھائیں گے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
ایک دوسرے کے دشمن ٭٭
آدم علیہ السلام و حواء علیہا السلام اور ابلیس لعین سے اسی وقت فرما دیا گیا کہ تم سب جنت سے نکل جاؤ۔ سورۃ البقرہ میں اس کی پوری تفسیر گزر چکی ہے۔ تم آپس میں ایک دوسرے کے دشمن ہو یعنی اولاد آدم اور اولاد ابلیس۔ تمہارے پاس میرے رسول اور میری کتابیں آئیں گی۔ میری بتائی ہوئی راہ کی پیروی کرنے والے نہ تو دنیا میں رسوا ہوں گے نہ آخرت میں ذلیل ہوں گے۔ ہاں حکموں کے مخالف، میرے رسول کی راہ کے تارک، دوسری راہوں پہ چلنے والے دنیا میں بھی تنگ رہیں گے، اطمینان اور کشادہ دلی میسر نہ ہو گی۔ اپنی گمراہی کی وجہ سے تنگیوں میں ہی رہیں گے گو بظاہر کھانے پینے پہننے اوڑھنے رہنے سہنے کی فراخی ہو لیکن دل میں یقین و ہدایت نہ ہونے کی وجہ سے ہمیشہ شک و شبہے اور تنگی اور قلت میں مبتلا رہیں گے۔ بدنصیب، رحمت الٰہی سے محروم، خیر سے خالی۔ کیونکہ اللہ پر ایمان نہیں، اس کے وعدوں کا یقین نہیں، مرنے کے بعد کی نعمتوں میں کوئی حصہ نہیں۔ اللہ کے ساتھ بدگمان ہیں، گئی ہوئی چیز کو آنے والی نہیں سمجھتے۔ خبیث روزیاں ہیں، گندے عمل ہیں، قبر تنگ و تاریک ہے۔ وہاں اس طرح دبوچا جائے گا کہ دائیں پسلیاں بائیں میں اور بائیں طرف کی دائیں طرف میں گھس جائیں گی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں، { مومن کی قبر ہرا بھرا سرسبز باغیچہ ہے، ستر (70) ہاتھ کی کشادہ ہے، ایسا معلوم ہوتا ہے گویا چاند اس میں ہے، خوب نور اور روشنی پھیل رہی ہے جیسے چودھویں رات کا چاند چڑھا ہوا ہو۔ اس آیت کا شان نزول معلوم ہے کہ میرے ذکر سے منہ پھیرنے والوں کی معیشت تنگ ہے۔ اس سے مراد کافر کی قبر میں اس پر عذاب ہے۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:227/16:ضعیف] اللہ کی قسم اس پر ننانوے اژدھے مقرر کئے جاتے ہیں ہر ایک کے سات سات سر ہوتے ہیں جو اسے قیامت تک ڈستے رہتے ہیں۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:24426:ضعیف] اس حدیث کا مرفوع ہونا بالکل منکر ہے۔ }
ایک عمدہ سند سے بھی مروی ہے کہ { اس سے مراد عذاب قبر ہے۔} ۱؎ [مستدرک حاکم:381/2:حسن] یہ قیامت کے دن اندھا بنا کر اٹھایا جائے گا سوائے جہنم کے کوئی چیز اسے نظر نہ آئے گی۔ نابینا ہو گا اور میدان حشر کی طرف چلایا جائے گا اور جہنم کے سامنے کھڑا کر دیا جائے گا۔ جیسے فرمان ہے «وَنَحْشُرُهُمْ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ عَلٰي وُجُوْهِهِمْ عُمْيًا وَّبُكْمًا وَّصُمًّا ۭ مَاْوٰىهُمْ جَهَنَّمُ ۭ كُلَّمَا خَبَتْ زِدْنٰهُمْ سَعِيْرًا» ۱؎ [17-الإسراء:97] ۔ ’ یعنی ہم انہیں قیامت کے دن اوندھے منہ اندھے گونگے بہرے بنا کر حشر میں لے جائیں گے ان کا اصلی ٹھکانہ دوزخ ہے۔ ‘ یہ کہیں گے کہ میں تو دنیا میں آنکھوں والا خوب دیکھتا بھالتا تھا، پھر مجھے اندھا کیوں کر دیا گیا؟ جواب ملے گا کہ یہ بدلہ ہے اللہ کی آیتوں سے منہ موڑ لینے کا اور ایسا ہو جانے کا گویا خبر ہی نہیں۔ پس آج ہم بھی تیرے ساتھ ایسا معاملہ کریں گے کہ جیسے تو ہماری یاد سے اتر گیا۔ جیسے فرمان ہے «فَالْيَوْمَ نَنْسٰىهُمْ كَمَا نَسُوْا لِقَاۗءَ يَوْمِهِمْ ھٰذَا ۙ وَمَا كَانُوْا بِاٰيٰتِنَا يَجْحَدُوْنَ» ۱؎ [7-الأعراف:51] ۔ ’ آج ہم انہیں ٹھیک اسی طرح بھلا دیں گے جیسے انہوں نے آج کے دن کی ملاقات کو بھلا دیا تھا۔ ‘ پس یہ برابر کا اور عمل کی طرح کا بدلہ ہے۔ قرآن پر ایمان رکھتے ہوئے اس کے احکام کا عامل ہوتے ہوئے کسی شخص سے اگر اس کے الفاظ حفظ سے نکل جائیں تو وہ اس وعید میں داخل نہیں۔ اس کے لیے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ وہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ سے جذامی ہونے کی حالت میں ملاقات کرے گا۔} ۱؎ [سنن ابوداود:1474:ضعیف]
124۔ 1 اس تنگی سے بعض نے عذاب قبر اور بعض نے وہ، قلق واضطراب، بےچینی اور بےکلی مراد لی ہے جس میں اللہ کی یاد سے غافل بڑے بڑے دولت مند مبتلا رہتے ہیں۔
(آیت 124) ➊ {وَ مَنْ اَعْرَضَ عَنْ ذِكْرِيْ:} ذکر سے مراد اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہونے والی نصیحت ہے، جیسا کہ فرمایا: «{ اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَ اِنَّا لَهٗ لَحٰفِظُوْنَ }» [ الحجر: ۹ ] ”بے شک ہم، ہم نے ہی یہ ذکر یعنی نصیحت نازل کی ہے اور بے شک ہم اس کی ضرور حفاظت کرنے والے ہیں۔“ ➋ {فَاِنَّ لَهٗ مَعِيْشَةً ضَنْكًا: ” مَعِيْشَةً “} زندگی، وہ چیزیں جن پر زندگی گزرتی ہے، مثلاً کھانا پینا اور دوسری ضروریات۔ (قاموس) {” ضَنْكًا “ ” ضَنُكَ يَضْنُكُ ضَنْكًا وَضُنَاكًا وَ ضَنَاكَةً “} مصدر بمعنی اسم فاعل ہے، اس لیے {” مَعِيْشَةً “} کی صفت ہونے کے باوجود لفظ میں تبدیلی نہیں ہوئی، یہ واحد و جمع اور مذکر و مؤنث سب کے لیے ایک ہی رہتا ہے، یعنی وہ تنگی والی زندگی گزارے گا۔ اس کی تفسیر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے، اس لیے وہ سب سے راجح ہے۔ صحیح ابن حبان میں ہے کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اللہ عزو جل کے اس قول {” فَاِنَّ لَهٗ مَعِيْشَةً ضَنْكًا “} کے متعلق روایت کیا، آپ نے فرمایا: ({عَذَابُ الْقَبْرِ }) ”(مراد) عذاب قبر ہے۔“ {” اَلتَّفْسِيْرُ الصَّحِيْحُ الْمَسْبُوْرُ “} میں اسے الاحسان (۳۱۱۹)، مستدرک حاکم (۱؍۳۸۱، ح: ۱۴۰۵) اور کئی کتابوں سے نقل کیا گیا ہے اور مختلف ائمہ سے اس کا حسن، جید یا صحیح ہونا بھی نقل کیا گیا ہے۔ امام طبری نے ابن عباس رضی اللہ عنھما سے حسن سند کے ساتھ اس کی تفسیر ”الشقاء“ فرمائی ہے۔ ”الشقاء“ کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورۂ طہ (۲) {” مَعِيْشَةً ضَنْكًا “} کے الفاظ میں دنیا اور قبر دونوں کی تنگ زندگی شامل ہے۔ اللہ کی نصیحت سے منہ موڑنے والا شخص اللہ پر توکل اور اس کے عطا کردہ پر قناعت سے محرومی کی وجہ سے ہر وقت زیادہ سے زیادہ مال و جاہ کی ہوس میں مبتلا رہتا ہے۔ مال کی دو وادیاں ملنے پر تیسری کی تلاش میں چل نکلتا ہے۔ باؤلے کتے کی پیاس کی طرح اس کی حرص ختم نہیں ہوتی۔ اربوں کھربوں کا مالک ہونے کے باوجود فقیر ہوتا ہے، حرص اور بخل کی کمینگی کی وجہ سے اسے کسی کی دلی محبت حاصل نہیں رہتی۔ اموال و اولاد اس کے لیے راحت بننے کے بجائے اللہ کی طرف سے عذاب بن جاتے ہیں۔ دیکھیے سورۂ توبہ (۵۵، ۸۵) پھر وہ وقت آ جاتا ہے کہ اسے گولیوں کے بغیر نیند نہیں آتی اور ہر آسائش حاصل ہوتے ہوئے بھی اسے اس رنج و الم سے بھری ہوئی زندگی سے چھٹکارے کی کوئی صورت خود کشی کے سوا نظر نہیں آتی۔ یقین نہ ہو تو جاپان، سویڈن، ناروے وغیرہ میں خود کشی کا تناسب دیکھ لیں۔ ➌ { وَ نَحْشُرُهٗ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ اَعْمٰى:} دنیا میں اللہ تعالیٰ کی آیات سے کان اور آنکھیں بند کر لینے اور حق کو تسلیم نہ کرنے کی پاداش میں قیامت کے دن اسے اندھا، گونگا اور بہرا کرکے اٹھایا جائے گا۔ (بنی اسرائیل: ۹۷) قیامت کا دن پچاس ہزار سال کا ہے۔ دیکھیے سورۂ معارج (۴) اس کے مختلف اوقات میں لوگوں کے احوال مختلف ہوں گے۔ قبر سے اٹھتے وقت وہ اندھا ہو گا، پھر جہنم کی ہولناکی اور اہل ایمان کی عزت دکھانے کے لیے بینا کر دیا جائے گا۔ دیکھیے سورۂ طور (۱۴، ۱۵) اور سورۂ مریم (۳۸)۔
وہ کہے گا "پروردگار، دُنیا میں تو میں آنکھوں والا تھا، یہاں مجھے اندھا کیوں اُٹھایا؟"
مولانا محمد جوناگڑھی
وه کہے گا کہ الٰہی! مجھے تو نے اندھا بنا کر کیوں اٹھایا؟ حاﻻنکہ میں تو دیکھتا بھالتا تھا
احمد رضا خان بریلوی
کہے گا اے رب میرے! مجھے تو نے کیوں اندھا اٹھایا میں تو انکھیارا (بینا) تھا
علامہ محمد حسین نجفی
وہ کہے گا اے میرے پروردگار! تو نے مجھے اندھا کیوں محشور کیا ہے حالانکہ میں آنکھوں والا تھا؟
عبدالسلام بن محمد
کہے گا اے میرے رب! تو نے مجھے اندھا کر کے کیوں اٹھایا؟ حالانکہ میں تو دیکھنے والا تھا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
ایک دوسرے کے دشمن ٭٭
آدم علیہ السلام و حواء علیہا السلام اور ابلیس لعین سے اسی وقت فرما دیا گیا کہ تم سب جنت سے نکل جاؤ۔ سورۃ البقرہ میں اس کی پوری تفسیر گزر چکی ہے۔ تم آپس میں ایک دوسرے کے دشمن ہو یعنی اولاد آدم اور اولاد ابلیس۔ تمہارے پاس میرے رسول اور میری کتابیں آئیں گی۔ میری بتائی ہوئی راہ کی پیروی کرنے والے نہ تو دنیا میں رسوا ہوں گے نہ آخرت میں ذلیل ہوں گے۔ ہاں حکموں کے مخالف، میرے رسول کی راہ کے تارک، دوسری راہوں پہ چلنے والے دنیا میں بھی تنگ رہیں گے، اطمینان اور کشادہ دلی میسر نہ ہو گی۔ اپنی گمراہی کی وجہ سے تنگیوں میں ہی رہیں گے گو بظاہر کھانے پینے پہننے اوڑھنے رہنے سہنے کی فراخی ہو لیکن دل میں یقین و ہدایت نہ ہونے کی وجہ سے ہمیشہ شک و شبہے اور تنگی اور قلت میں مبتلا رہیں گے۔ بدنصیب، رحمت الٰہی سے محروم، خیر سے خالی۔ کیونکہ اللہ پر ایمان نہیں، اس کے وعدوں کا یقین نہیں، مرنے کے بعد کی نعمتوں میں کوئی حصہ نہیں۔ اللہ کے ساتھ بدگمان ہیں، گئی ہوئی چیز کو آنے والی نہیں سمجھتے۔ خبیث روزیاں ہیں، گندے عمل ہیں، قبر تنگ و تاریک ہے۔ وہاں اس طرح دبوچا جائے گا کہ دائیں پسلیاں بائیں میں اور بائیں طرف کی دائیں طرف میں گھس جائیں گی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں، { مومن کی قبر ہرا بھرا سرسبز باغیچہ ہے، ستر (70) ہاتھ کی کشادہ ہے، ایسا معلوم ہوتا ہے گویا چاند اس میں ہے، خوب نور اور روشنی پھیل رہی ہے جیسے چودھویں رات کا چاند چڑھا ہوا ہو۔ اس آیت کا شان نزول معلوم ہے کہ میرے ذکر سے منہ پھیرنے والوں کی معیشت تنگ ہے۔ اس سے مراد کافر کی قبر میں اس پر عذاب ہے۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:227/16:ضعیف] اللہ کی قسم اس پر ننانوے اژدھے مقرر کئے جاتے ہیں ہر ایک کے سات سات سر ہوتے ہیں جو اسے قیامت تک ڈستے رہتے ہیں۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:24426:ضعیف] اس حدیث کا مرفوع ہونا بالکل منکر ہے۔ }
ایک عمدہ سند سے بھی مروی ہے کہ { اس سے مراد عذاب قبر ہے۔} ۱؎ [مستدرک حاکم:381/2:حسن] یہ قیامت کے دن اندھا بنا کر اٹھایا جائے گا سوائے جہنم کے کوئی چیز اسے نظر نہ آئے گی۔ نابینا ہو گا اور میدان حشر کی طرف چلایا جائے گا اور جہنم کے سامنے کھڑا کر دیا جائے گا۔ جیسے فرمان ہے «وَنَحْشُرُهُمْ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ عَلٰي وُجُوْهِهِمْ عُمْيًا وَّبُكْمًا وَّصُمًّا ۭ مَاْوٰىهُمْ جَهَنَّمُ ۭ كُلَّمَا خَبَتْ زِدْنٰهُمْ سَعِيْرًا» ۱؎ [17-الإسراء:97] ۔ ’ یعنی ہم انہیں قیامت کے دن اوندھے منہ اندھے گونگے بہرے بنا کر حشر میں لے جائیں گے ان کا اصلی ٹھکانہ دوزخ ہے۔ ‘ یہ کہیں گے کہ میں تو دنیا میں آنکھوں والا خوب دیکھتا بھالتا تھا، پھر مجھے اندھا کیوں کر دیا گیا؟ جواب ملے گا کہ یہ بدلہ ہے اللہ کی آیتوں سے منہ موڑ لینے کا اور ایسا ہو جانے کا گویا خبر ہی نہیں۔ پس آج ہم بھی تیرے ساتھ ایسا معاملہ کریں گے کہ جیسے تو ہماری یاد سے اتر گیا۔ جیسے فرمان ہے «فَالْيَوْمَ نَنْسٰىهُمْ كَمَا نَسُوْا لِقَاۗءَ يَوْمِهِمْ ھٰذَا ۙ وَمَا كَانُوْا بِاٰيٰتِنَا يَجْحَدُوْنَ» ۱؎ [7-الأعراف:51] ۔ ’ آج ہم انہیں ٹھیک اسی طرح بھلا دیں گے جیسے انہوں نے آج کے دن کی ملاقات کو بھلا دیا تھا۔ ‘ پس یہ برابر کا اور عمل کی طرح کا بدلہ ہے۔ قرآن پر ایمان رکھتے ہوئے اس کے احکام کا عامل ہوتے ہوئے کسی شخص سے اگر اس کے الفاظ حفظ سے نکل جائیں تو وہ اس وعید میں داخل نہیں۔ اس کے لیے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ وہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ سے جذامی ہونے کی حالت میں ملاقات کرے گا۔} ۱؎ [سنن ابوداود:1474:ضعیف]
اللہ تعالیٰ فرمائے گا "ہاں، اِسی طرح تو ہماری آیات کو، جبکہ وہ تیرے پاس آئی تھیں، تُو نے بھُلا دیا تھا اُسی طرح آج تو بھلایا جا رہا ہے"
مولانا محمد جوناگڑھی
(جواب ملے گا کہ) اسی طرح ہونا چاہئے تھا تو میری آئی ہوئی آیتوں کو بھول گیا تو آج تو بھی بھلا دیا جاتا ہے
احمد رضا خان بریلوی
فرمائے گا یونہی تیرے پاس ہماری آیتیں آئیں تھیں تو نے انہیں بھلادیا اور ایسے ہی آج تیری کوئی نہ لے گا
علامہ محمد حسین نجفی
ارشاد ہوگا اسی طرح ہماری آیات تیرے پاس آئی تھیں اور تو نے انہیں بھلا دیا تھا اسی طرح آج تجھے بھی بھلا دیا جائے گا اور نظر انداز کر دیا جائے گا۔
عبدالسلام بن محمد
وہ فرمائے گا اسی طرح تیرے پاس ہماری آیات آئیں تو توُ انھیں بھول گیا اور اسی طرح آج تو بھلایا جائے گا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
ایک دوسرے کے دشمن ٭٭
آدم علیہ السلام و حواء علیہا السلام اور ابلیس لعین سے اسی وقت فرما دیا گیا کہ تم سب جنت سے نکل جاؤ۔ سورۃ البقرہ میں اس کی پوری تفسیر گزر چکی ہے۔ تم آپس میں ایک دوسرے کے دشمن ہو یعنی اولاد آدم اور اولاد ابلیس۔ تمہارے پاس میرے رسول اور میری کتابیں آئیں گی۔ میری بتائی ہوئی راہ کی پیروی کرنے والے نہ تو دنیا میں رسوا ہوں گے نہ آخرت میں ذلیل ہوں گے۔ ہاں حکموں کے مخالف، میرے رسول کی راہ کے تارک، دوسری راہوں پہ چلنے والے دنیا میں بھی تنگ رہیں گے، اطمینان اور کشادہ دلی میسر نہ ہو گی۔ اپنی گمراہی کی وجہ سے تنگیوں میں ہی رہیں گے گو بظاہر کھانے پینے پہننے اوڑھنے رہنے سہنے کی فراخی ہو لیکن دل میں یقین و ہدایت نہ ہونے کی وجہ سے ہمیشہ شک و شبہے اور تنگی اور قلت میں مبتلا رہیں گے۔ بدنصیب، رحمت الٰہی سے محروم، خیر سے خالی۔ کیونکہ اللہ پر ایمان نہیں، اس کے وعدوں کا یقین نہیں، مرنے کے بعد کی نعمتوں میں کوئی حصہ نہیں۔ اللہ کے ساتھ بدگمان ہیں، گئی ہوئی چیز کو آنے والی نہیں سمجھتے۔ خبیث روزیاں ہیں، گندے عمل ہیں، قبر تنگ و تاریک ہے۔ وہاں اس طرح دبوچا جائے گا کہ دائیں پسلیاں بائیں میں اور بائیں طرف کی دائیں طرف میں گھس جائیں گی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں، { مومن کی قبر ہرا بھرا سرسبز باغیچہ ہے، ستر (70) ہاتھ کی کشادہ ہے، ایسا معلوم ہوتا ہے گویا چاند اس میں ہے، خوب نور اور روشنی پھیل رہی ہے جیسے چودھویں رات کا چاند چڑھا ہوا ہو۔ اس آیت کا شان نزول معلوم ہے کہ میرے ذکر سے منہ پھیرنے والوں کی معیشت تنگ ہے۔ اس سے مراد کافر کی قبر میں اس پر عذاب ہے۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:227/16:ضعیف] اللہ کی قسم اس پر ننانوے اژدھے مقرر کئے جاتے ہیں ہر ایک کے سات سات سر ہوتے ہیں جو اسے قیامت تک ڈستے رہتے ہیں۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:24426:ضعیف] اس حدیث کا مرفوع ہونا بالکل منکر ہے۔ }
ایک عمدہ سند سے بھی مروی ہے کہ { اس سے مراد عذاب قبر ہے۔} ۱؎ [مستدرک حاکم:381/2:حسن] یہ قیامت کے دن اندھا بنا کر اٹھایا جائے گا سوائے جہنم کے کوئی چیز اسے نظر نہ آئے گی۔ نابینا ہو گا اور میدان حشر کی طرف چلایا جائے گا اور جہنم کے سامنے کھڑا کر دیا جائے گا۔ جیسے فرمان ہے «وَنَحْشُرُهُمْ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ عَلٰي وُجُوْهِهِمْ عُمْيًا وَّبُكْمًا وَّصُمًّا ۭ مَاْوٰىهُمْ جَهَنَّمُ ۭ كُلَّمَا خَبَتْ زِدْنٰهُمْ سَعِيْرًا» ۱؎ [17-الإسراء:97] ۔ ’ یعنی ہم انہیں قیامت کے دن اوندھے منہ اندھے گونگے بہرے بنا کر حشر میں لے جائیں گے ان کا اصلی ٹھکانہ دوزخ ہے۔ ‘ یہ کہیں گے کہ میں تو دنیا میں آنکھوں والا خوب دیکھتا بھالتا تھا، پھر مجھے اندھا کیوں کر دیا گیا؟ جواب ملے گا کہ یہ بدلہ ہے اللہ کی آیتوں سے منہ موڑ لینے کا اور ایسا ہو جانے کا گویا خبر ہی نہیں۔ پس آج ہم بھی تیرے ساتھ ایسا معاملہ کریں گے کہ جیسے تو ہماری یاد سے اتر گیا۔ جیسے فرمان ہے «فَالْيَوْمَ نَنْسٰىهُمْ كَمَا نَسُوْا لِقَاۗءَ يَوْمِهِمْ ھٰذَا ۙ وَمَا كَانُوْا بِاٰيٰتِنَا يَجْحَدُوْنَ» ۱؎ [7-الأعراف:51] ۔ ’ آج ہم انہیں ٹھیک اسی طرح بھلا دیں گے جیسے انہوں نے آج کے دن کی ملاقات کو بھلا دیا تھا۔ ‘ پس یہ برابر کا اور عمل کی طرح کا بدلہ ہے۔ قرآن پر ایمان رکھتے ہوئے اس کے احکام کا عامل ہوتے ہوئے کسی شخص سے اگر اس کے الفاظ حفظ سے نکل جائیں تو وہ اس وعید میں داخل نہیں۔ اس کے لیے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ وہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ سے جذامی ہونے کی حالت میں ملاقات کرے گا۔} ۱؎ [سنن ابوداود:1474:ضعیف]
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 126) ➊ {قَالَ كَذٰلِكَ اَتَتْكَ …: ” كَذٰلِكَ “} (اسی طرح) سے مراد ”اندھا ہونا“ ہے، جس کا ذکر سوال میں ہے کہ پروردگارا! تو نے مجھے اندھا کیوں اٹھایا؟ جواب ملے گا: «{قَالَ كَذٰلِكَ اَتَتْكَ اٰيٰتُنَا فَنَسِيْتَهَا}» کہ اسی طرح تیرے پاس ہماری آیات آئیں تو تو انھیں بھول گیا۔ دونوں آیتوں کے الفاظ سے ظاہر ہے کہ ایک لمبی بات کو اس طرح مختصر کیا گیا ہے کہ حذف شدہ الفاظ خود بخود سمجھ میں آ رہے ہیں۔ سوال میں اندھے ہونے کا ذکر ہے، جواب میں بھلانے کا ذکر ہے۔ یہ اختصار تین جگہوں پر ہے، پہلا اختصار {” وَ نَحْشُرُهٗ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ اَعْمٰى ({وَ نَنْسَاهُ}) “} ”ہم قیامت کے دن اسے اندھا کر کے اٹھائیں گے (اور اسے بھلا دیں گے)“ دوسرا اور تیسرا اختصار {” قَالَ كَذٰلِكَ اَتَتْكَ اٰيٰتُنَا فَنَسِيْتَهَا ({وَ عَمِيْتَ عَنْهَا}) وَ كَذٰلِكَ الْيَوْمَ ({وَ تُحْشَرُ أَعْمٰي})“} ”وہ فرمائے گا، اسی طرح تیرے پاس ہماری آیات آئیں تو تو انھیں بھول گیا (اور ان سے اندھا بن گیا) اور اسی طرح آج تو بھلایا جائے گا (اور اندھا کرکے اٹھایا جائے گا)۔“ اسے بلاغت کی اصطلاح میں {” اِحْتِبَاكٌ “} کہتے ہیں۔ (ابن عاشور) ➋ واضح رہے کہ آیات کو بھلانے سے مراد یہاں ان پر ایمان نہ لانا اور عمل نہ کرنا ہے، حفظ کرنے کے بعد بھول جانا مراد نہیں۔ اس کی دلیل اگلی آیت ہے: «{وَ كَذٰلِكَ نَجْزِيْ مَنْ اَسْرَفَ وَ لَمْ يُؤْمِنْۢ بِاٰيٰتِ رَبِّهٖ}» [ طٰہٰ: ۱۲۷ ] ”اور اسی طرح ہم اس شخص کو جزا دیتے ہیں جو حد سے گزرے اور اپنے رب کی آیات پر ایمان نہ لائے۔“ ایمان لانے والا شخص جو حفظ کے بعد کسی بیماری یا مصروفیت کی وجہ سے کچھ آیات بھول جائے وہ اس میں داخل نہیں ہے۔ ➌ قرآن یاد کرنے کے بعد بھول جانے پر وعید کی کوئی حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت نہیں۔ چند ضعیف روایات درج ذیل ہیں: (1) مسند احمد (۵؍۲۸۵، ح: ۲۲۵۲۴) میں سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ وَمَا مِنْ رَجُلٍ قَرَأَ الْقُرْآنَ فَنَسِيَهٗ إِلاَّ لَقِيَ اللّٰهَ يَوْمَ يَلْقَاهٗ وَهُوَ أَجْذَمُ ] ”اور کوئی بھی شخص جو قرآن پڑھے پھر اسے بھول جائے وہ اللہ تعالیٰ سے جس دن ملے گا تو اس حال میں ملے گا کہ کوڑھی ہو گا۔“ اس کی ایک سند میں عیسیٰ بن فائد مجہول راوی ہے، اس کا شیخ بھی مجہول ہے۔ دوسری سند میں بھی عیسیٰ بن فائد مجہول ہے۔ (2) سنن ابو داؤد (۴۶۱) اور ترمذی (۲۹۱۶) میں انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ عُرِضَتْ عَلَيَّ أَجُوْرُ أُمَّتِيْ حَتَّی الْقَذَاةُ يُخْرِجُهَا الرَّجُلُ مِنَ الْمَسْجِدِ وَعُرِضَتْ عَلَيَّ ذُنُوْبُ أُمَّتِيْ فَلَمْ أَرَ ذَنْبًا أَعْظَمَ مِنْ سُوْرَةٍ مِنَ الْقُرْآنِ أُوْتِيَهَا رَجُلٌ ثُمَّ نَسِيَهَا ] ”میرے سامنے میری امت کے اجر پیش کیے گئے، یہاں تک کہ وہ تنکا بھی جسے آدمی مسجد سے نکالے اور میرے سامنے میری امت کے گناہ پیش کیے گئے، تو میں نے اس سے بڑا کوئی گناہ نہیں دیکھا کہ کسی آدمی کو قرآن کی کوئی سورت یا آیت عطا کی گئی پھر اس نے اسے بھلا دیا۔“ شیخ ناصر الدین البانی رحمہ اللہ نے فرمایا کہ اس کی سند ضعیف ہے، کیونکہ ابن جریج اور مطلب بن عبد اللہ دونوں مدلس ہیں اور اسے ”عن“ کے لفظ سے روایت کرتے ہیں اور بخاری اور ترمذی نے اسے ضعیف قرار دیا۔ تفصیل کے لیے دیکھیں ضعیف ابی داؤد (۷۱)۔ ➍ ضعیف اور موضوع روایات نے امت کو کس قدر نقصان پہنچایا اس کا اندازہ نہیں ہو سکتا۔ میں نے بہت سے مردوں اور عورتوں کو دیکھا کہ وہ ان روایات ہی کی وجہ سے قرآن حفظ کرنے سے محروم رہے، حالانکہ یہ بات صاف ظاہر ہے کہ جسے کسی مصروفیت یا بیماری یا غفلت کی وجہ سے قرآن بھول جائے وہ اس شخص سے ہزار گنا بہتر ہے جس نے قرآن پڑھا ہی نہیں، یا یاد ہی نہیں کیا، کیونکہ وہ اس سے تو ہر حال میں قرآن کا علم زیادہ رکھتا ہے اور اللہ تعالیٰ غفور و رحیم ہے۔ اسے سب سے بڑے گناہ شرک کے قائم مقام قرار دینا یا کوڑھی ہونے کا باعث قرار دینا راویوں کی جہالت اور تدلیس ہی کا کارنامہ ہے۔
اِس طرح ہم حد سے گزرنے والے اور اپنے رب کی آیات نہ ماننے والے کو (دُنیا میں) بدلہ دیتے ہیں، اور آخرت کا عذاب زیادہ سخت اور زیادہ دیر پا ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
ہم ایسا ہی بدلہ ہر اس شخص کو دیا کرتے ہیں جو حد سے گزر جائے اور اپنے رب کی آیتوں پر ایمان نہ ﻻئے، اور بیشک آخرت کا عذاب نہایت ہی سخت اور باقی رہنے واﻻ ہے
احمد رضا خان بریلوی
اور ہم ایسا ہی بدلہ دیتے ہیں جو حد سے بڑھے اور اپنے رب کی آیتوں پر ایمان نہ لائے، اور بیشک آخرت کا عذاب سب سے سخت تر اور سب سے دیرپا ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
اور جو کوئی حد سے تجاوز کرے اور اپنے پروردگار کی بات پر ایمان نہ لائے تو ہم اسے اسی طرح (دنیا میں) سزا دیتے ہیں اور آخرت کا عذاب تو اور بھی بڑا سخت اور پائیدار ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اور اسی طرح ہم اس شخص کو جزا دیتے ہیں جو حد سے گزرے اور اپنے رب کی آیات پر ایمان نہ لائے اور یقینا آخرت کا عذاب زیادہ سخت اور زیادہ باقی رہنے والا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
دنیا کی سزائیں ٭٭
جو حدود الٰہی کی پرواہ نہ کریں، اللہ کی آیتوں کو جھٹلائیں، انہیں ہم اسی طرح دنیا و آخرت کے عذابوں میں مبتلاکرتے ہیں۔ خصوصا آخرت کا عذاب تو بہت ہی بھاری ہے اور وہاں کوئی نہ ہو گا جو بچا سکے۔ دنیا کے عذاب نہ تو سختی میں اس کے مقابلے کے ہیں نہ مدت میں دائمی اور نہایت المناک ہیں۔ { ملاعنہ کرنے والوں کو سمجھاتے ہوئے رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی فرمایا تھا کہ دنیا کی سزا آخرت کے عذابوں کے مقابلے میں بہت ہی ہلکی اور ناچیز ہے۔ } [صحیح مسلم:1493]
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 127) ➊ {وَ كَذٰلِكَ نَجْزِيْ …:} یعنی اسی طرح ہر ایک مجرم کو اس کے جرم کے موافق جزا دی جائے گی۔ ➋ { مَنْ اَسْرَفَ …:} حد سے گزرنے والا سب سے بڑھ کر وہ ہے جو اللہ تعالیٰ کی ذات یا صفات میں کسی کو اس کا شریک ٹھہرائے، پھر وہ ہے جو عبودیت (بندگی) کے مقام سے بڑھ کر اتنا بڑا (متکبر) بنے کہ اپنی خواہش نفس کے پیچھے لگ کر اپنے خالق و مالک کی کوئی بات نہ مانے۔ ➌ {وَ لَعَذَابُ الْاٰخِرَةِ …:} یعنی اگرچہ دنیا اور قبر کی تنگی والی زندگی اور محشر میں اندھا کرکے اٹھایا جانا اور قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کا فراموش کر دینا، ان میں سے ہر ایک بہت بڑا عذاب ہے، مگر آخرت یعنی سب سے آخری مرحلے کا عذاب (جہنم) سب سے زیادہ سخت اور سب سے زیادہ باقی رہنے والا ہے۔ سخت اتنا کہ اس کی آگ دنیا کی آگ سے ستر گنا تیز اور باقی رہنے والا ایسا کہ جہنمی اس سے خلاصی کے لیے موت کی تمنا کریں گے، مگر موت ذبح کی جا چکی ہو گی، اسی لیے فرمایا: «{ لَا يَمُوْتُ فِيْهَا وَ لَا يَحْيٰى }» [ طٰہٰ: ۷۴ ] ”نہ وہ اس میں مرے گا اور نہ جیے گا۔“ جہنم سے ان کے نکلنے کی کوئی صورت نہ ہو گی۔
پھر کیا اِن لوگوں کو (تاریخ کے اس سبق سے) کوئی ہدایت نہ ملی کہ اِن سے پہلے کتنی ہی قوموں کو ہم ہلاک کر چکے ہیں جن کی (برباد شدہ) بستیوں میں آج یہ چلتے پھرتے ہیں؟ در حقیقت اِس میں بہت سی نشانیاں ہیں اُن لوگوں کے لیے جو عقل سلیم رکھنے والے ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
کیا ان کی رہبری اس بات نے بھی نہیں کی کہ ہم نے ان سے پہلے بہت سی بستیاں ہلاک کر دی ہیں جن کے رہنے سہنے کی جگہ یہ چل پھر رہے ہیں۔ یقیناً اس میں عقلمندوں کے لئے بہت سی نشانیاں ہیں
احمد رضا خان بریلوی
تو کیا انہیں اس سے راہ نہ ملی کہ ہم نے ان سے پہلے کتنی سنگتیں (قومیں) ہلاک کردیں کہ یہ ان کے بسنے کی جگہ چلتے پھرتے ہیں بیشک اس میں نشانیاں ہیں عقل والوں کو
علامہ محمد حسین نجفی
کیا (اس بات سے بھی) انہیں ہدایت نہ ملی کہ ہم نے ان سے پہلے کتنی نسلیں (ان گناہوں کی پاداش میں) ہلاک کر دیں جن کے مکانوں میں (آج) یہ چلتے پھرتے ہیں بےشک اس میں صاحبان عقل کیلئے خدا کی قدرت کی بڑی نشانیاں ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
پھر کیا اس بات نے ان کی رہنمائی نہیں کی کہ ہم نے ان سے پہلے کتنے زمانوں کے لوگ ہلاک کر دیے، جن کے رہنے کی جگہوں میں یہ چلتے پھرتے ہیں، بے شک اس میں عقلوں والوں کے لیے یقینا کئی عظیم نشانیاں ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
ویرانوں سے عبرت حاصل کرو ٭٭
جو لوگ تجھے نہیں مان رہے اور تیری شریعت کا انکار کر رہے ہیں، کیا وہ اس بات سے بھی عبرت حاصل نہیں کرتے کہ ان سے پہلے جنہوں نے یہ ڈھنگ نکالے تھے، ہم نے انہیں تباہ و برباد کر دیا؟ آج ان کی ایک آنکھ جھپکتی ہوئی اور ایک سانس چلتا ہوا اور ایک زبان بولتی ہوئی باقی نہیں بچی۔ ان کے بلند و بالا، پختہ اور خوبصورت، کشادہ اور زینت دار محل ویران کھنڈر پڑے ہوئے ہیں جہاں سے ان کی آمد ورفت رہتی ہے۔ اگر یہ عقلمند ہوتے تو یہ سامان عبرت ان کے لیے بہت کچھ تھا۔ کیا یہ زمین میں چل پھر کر قدرت کی ان نشانیوں پر دل سے غور فکر نہیں کرتے؟ کیا کانوں سے ان کے درد ناک فسانے سن کرعبرت حاصل نہیں کرتے؟ کیا ان کی اجڑی ہوئی بستیاں دیکھ کر بھی آنکھیں نہیں کھولتے؟ یہ آنکھوں کے ہی اندھے نہیں بلکہ دل کے بھی اندھے ہیں۔ سورۃ «الم السجدہ» میں بھی مندرجہ بالا آیت جیسی آیت ہے۔ اللہ تعالیٰ یہ بات مقرر کر چکا ہے کہ جب تک بندوں پر اپنی حجت ختم نہ کر دے انہیں عذاب نہیں کرتا۔ ان کے لیے اس نے ایک وقت مقرر کر دیا ہے، اسی وقت ان کو ان کے اعمال کی سزا ملے گی۔ اگریہ بات نہ ہوتی تو ادھر گناہ کرتے ادھر پکڑ لیے جاتے۔ تو ان کی تکذیب پر صبر کر، ان کی بے ہودہ باتوں پر برداشت کر۔ تسلی رکھ یہ میرے قبضے سے باہر نہیں۔ سورج نکلنے سے پہلے سے مراد تو نماز فجر ہے اور سورج ڈوبنے سے پہلے سے مراد نماز عصر ہے۔ بخاری و مسلم میں ہے کہ { ہم ایک مرتبہ رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، آپ نے چودھویں رات کے چاند کو دیکھ کر فرمایا کہ تم عنقریب اپنے رب کو اسی طرح دیکھو گے جس طرح اس چاند کو بغیر مزاحمت اور تکلیف کے دیکھ رہے ہو، پس اگر تم سے ہو سکے تو سورج نکلنے سے پہلے کی اور سورج غروب ہونے سے پہلے کی نماز کی پوری طرح حفاظت کرو۔ پھر آپ نے اسی آیت کی تلاوت فرمائی۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:554] مسند احمد کی حدیث میں ہے کہ { آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، ان دونوں وقتوں کی نماز پڑھنے والا آگ میں نہ جائے گا۔ } ۱؎ [صحیح مسلم:634] مسند اور سنن میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، { سب سے ادنی درجے کا جنتی وہ ہے جو دو ہزار برس کی راہ تک اپنی ہی اپنی ملکیت دیکھے گا سب سے دور کی چیز بھی اس کے لیے ایسی ہی ہو گی جیسے سب سے نزدیک کی اور سب سے اعلیٰ منزل والے تو دن میں دو دو دفعہ دیدار الٰہی کریں گے۔ } ۱؎ [سنن ترمذي:3330،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
پھر فرماتا ہے رات کے وقتوں میں بھی تہجد پڑھا کر۔ بعض کہتے ہیں اس سے مراد مغرب اور عشاء کی نماز ہے۔ اور دن کے وقتوں میں بھی اللہ کی پاکیزگی بیان کیا کر۔ تاکہ اللہ کے اجر و ثواب سے تو خوش ہو جائے۔ جیسے فرمان ہے «وَلَسَوْفَ يُعْطِيكَ رَبُّكَ فَتَرْضَىٰ» ۱؎ [93-الضحى:5] عنقریب تیرا اللہ تجھے وہ دے گا کہ تو خوش ہو جائے گا۔ ‘ صحیح حدیث میں ہے، اللہ تعالیٰ فرمائے گا اے جنتیو! وہ کہیں گے «لبیک ربنا و سعدیک» ۔ { اللہ تعالیٰ فرمائے گا کیا تم خوش ہو گئے؟ وہ کہیں گے اے اللہ ہم بہت ہی خوش ہیں تو نے ہمیں وہ نعمتیں عطا فرما رکھی ہیں جو مخلوق میں سے کسی کو نہیں دیں۔ پھر کیا وجہ کہ ہم راضی نہ ہوں۔ جناب باری ارحم الراحمین فرمائے گا، لو میں تمہیں ان سب سے افضل چیز دیتا ہوں۔ پوچھیں گے اے اللہ! اس سے افضل چیز کیا ہے؟ فرمائے گا میں تمہیں اپنی رضا مندی دیتا ہوں کہ اب کسی وقت بھی میں تم سے ناخوش نہ ہوں گا۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:6549] اور حدیث میں ہے کہ { جنتیوں سے فرمایا جائے گا کہ اللہ نے تم سے جو وعدہ کیا تھا، وہ اسے پورا کرنے والا ہے، کہیں گے اللہ کے سب وعدے پورے ہوئے۔ ہمارے چہرے روشن ہیں، ہماری نیکیوں کا پلہ گراں رہا، ہمیں دوزخ سے ہٹا دیا گیا، جنت میں داخل کر دیا گیا۔ اب کون سی چیز باقی ہے؟ اسی وقت حجاب اٹھ جائیں گے اور دیدار الٰہی ہو گا۔ اللہ کی قسم اس سے بہتر اور کوئی نعمت نہ ہو گی۔ یہی زیادتی ہے۔ } ۱؎ [صحیح مسلم:181]
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 128) ➊ { اَفَلَمْ يَهْدِ لَهُمْ …:”هَدٰي يَهْدِيْ“} راہنمائی کرنا۔ {” الْقُرُوْنِ “ ”قَرْنٌ“} کی جمع ہے۔ قرن کا معنی متعین کرنے کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان سب سے زیادہ معتبر ہے، جو آپ نے عبد اللہ بن بسر رضی اللہ عنہ کے متعلق فرمایا، آپ نے فرمایا: [ يَعِيْشُ هٰذَا الْغُلَامُ قَرْنًا، فَعَاشَ مِائَةَ سَنَةٍ ] [ سلسلۃ الأحادیث الصحیحۃ: 159/6، ح: ۲۶۶۰ ] ”یہ لڑکا ایک قرن زندہ رہے گا“ تو وہ سو سال زندہ رہے۔“ سلسلہ صحیحہ کی اس روایت میں ابن عساکر کے حوالے سے مزید یہ ہے کہ عبد اللہ بن بسر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کی: ”یا رسول اللہ! میرے ماں باپ قربان! قرن کتنا ہوتا ہے؟“ فرمایا: ”سو سال۔“ عبد اللہ بن بسر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں پچانوے برس جی چکا ہوں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بات پوری ہونے میں پانچ برس رہ گئے ہیں۔ محمد بن قاسم کہتے ہیں کہ ہم نے بعد میں پانچ سال گنے، پھر وہ فوت ہو گئے۔ ➋ قرون سے مراد عاد و ثمود ہیں، کیونکہ عرب لوگ یمن، نجران اور اس کے گرد و نواح کی طرف جاتے ہوئے قوم عاد کے رہنے کی جگہوں سے گزرتے تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنھم تبوک کے سفر میں ثمود کے مکانات سے گزرے تھے۔ اسی طرح ان سفروں میں قوم لوط اور اہل مدین کی تباہ شدہ بستیاں سب سے بڑی شاہراہ پر واقع تھیں، جہاں سے وہ صبح و شام گزرتے تھے۔ دیکھیے سورۂ حجر (۷۶ تا ۷۹) اور صافات (۳۳ تا ۳۸)۔ ➌ اس سورت میں پیغمبروں کو جھٹلانے والے لوگوں کا اور ان کے بدترین انجام کا ذکر گزر چکا ہے۔ حق یہ تھا کہ اہل عرب تاریخ سے سبق حاصل کرتے اور کفر و شرک سے باز آ جاتے، مگر وہ اپنی سرکشی پر جمے رہے۔ اس لیے بطور تعجب فرمایا کہ کیا اس بات نے ان کی رہنمائی نہیں کی کہ ہم نے ان سے پہلے کتنی ہی قوموں کو ہلاک کر ڈالا، جن کے رہنے کی جگہوں میں یہ چلتے پھرتے ہیں اور جنھیں دیکھنے سے صاف نظر آتا ہے کہ وہ لوگ قد و قامت، صنعت و زراعت اور قوت و مہارت میں ان سے بہت زیادہ ترقی یافتہ تھے۔ مدائن صالح، اہرام مصر اور دوسرے آثار قدیمہ شاہد ہیں کہ اس قوت کے لوگ پھر پیدا نہیں ہوئے۔ دیکھیے سورۂ فجر (۶ تا ۱۴) اور سورۂ روم (۹، ۱۰) ان لوگوں کے آثار آنکھوں سے دیکھ کر اور اپنے آبا و اجداد سے تواتر کے ساتھ ان کی قوت و ہیبت اور عذابِ الٰہی سے بربادی کے واقعات سن کر بھی کیا ان کی سمجھ میں نہیں آتا کہ اگر یہ لوگ بھی ان کی روش پر اڑے رہے تو ان کا انجام کیا ہو گا؟ ➍ {اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّاُولِي النُّهٰى: ” النُّهٰى “} کی تفسیر اسی سورت کی آیت (۵۴) میں دیکھیے۔ {” النُّهٰى “} جمع ہونے کی وجہ سے ترجمہ ”عقلوں والے“ کیا ہے اور {” لَاٰيٰتٍ “} پر تنوین تعظیم کی وجہ سے ترجمہ ”کئی عظیم نشانیاں“ کیا ہے۔
اگر تیرے رب کی طرف سے پہلے ایک بات طے نہ کر دی گئی ہوتی اور مہلت کی ایک مدّت مقرّر نہ کی جا چکی ہوتی تو ضرور اِن کا بھی فیصلہ چکا دیا جاتا
مولانا محمد جوناگڑھی
اگر تیرے رب کی بات پہلے ہی سے مقرر شده اور وقت معین کرده نہ ہوتا تو اسی وقت عذاب آچمٹتا
احمد رضا خان بریلوی
اور اگر تمہارے رب کی ایک بات نہ گزر چکی ہوتی تو ضرور عذاب انھیں لپٹ جاتا اور اگر نہ ہوتا ایک وعدہ ٹھہرایا ہوا
علامہ محمد حسین نجفی
اور (اے رسول(ص)) اگر آپ کے پروردگار کی طرف سے ایک بات طے نہ کر دی گئی ہوتی اور ایک (مہلت کی) مدت معین نہ ہو چکی ہوتی تو (عذاب) لازمی طور پر آچکا ہوتا۔
عبدالسلام بن محمد
اور اگر وہ بات نہ ہوتی جو تیرے رب کی طرف سے پہلے ہوچکی اور ایک مقرر وقت نہ ہوتا تو وہی (پہلے لوگوں والا عذاب) لازم ہوجاتا ۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
ویرانوں سے عبرت حاصل کرو ٭٭
جو لوگ تجھے نہیں مان رہے اور تیری شریعت کا انکار کر رہے ہیں، کیا وہ اس بات سے بھی عبرت حاصل نہیں کرتے کہ ان سے پہلے جنہوں نے یہ ڈھنگ نکالے تھے، ہم نے انہیں تباہ و برباد کر دیا؟ آج ان کی ایک آنکھ جھپکتی ہوئی اور ایک سانس چلتا ہوا اور ایک زبان بولتی ہوئی باقی نہیں بچی۔ ان کے بلند و بالا، پختہ اور خوبصورت، کشادہ اور زینت دار محل ویران کھنڈر پڑے ہوئے ہیں جہاں سے ان کی آمد ورفت رہتی ہے۔ اگر یہ عقلمند ہوتے تو یہ سامان عبرت ان کے لیے بہت کچھ تھا۔ کیا یہ زمین میں چل پھر کر قدرت کی ان نشانیوں پر دل سے غور فکر نہیں کرتے؟ کیا کانوں سے ان کے درد ناک فسانے سن کرعبرت حاصل نہیں کرتے؟ کیا ان کی اجڑی ہوئی بستیاں دیکھ کر بھی آنکھیں نہیں کھولتے؟ یہ آنکھوں کے ہی اندھے نہیں بلکہ دل کے بھی اندھے ہیں۔ سورۃ «الم السجدہ» میں بھی مندرجہ بالا آیت جیسی آیت ہے۔ اللہ تعالیٰ یہ بات مقرر کر چکا ہے کہ جب تک بندوں پر اپنی حجت ختم نہ کر دے انہیں عذاب نہیں کرتا۔ ان کے لیے اس نے ایک وقت مقرر کر دیا ہے، اسی وقت ان کو ان کے اعمال کی سزا ملے گی۔ اگریہ بات نہ ہوتی تو ادھر گناہ کرتے ادھر پکڑ لیے جاتے۔ تو ان کی تکذیب پر صبر کر، ان کی بے ہودہ باتوں پر برداشت کر۔ تسلی رکھ یہ میرے قبضے سے باہر نہیں۔ سورج نکلنے سے پہلے سے مراد تو نماز فجر ہے اور سورج ڈوبنے سے پہلے سے مراد نماز عصر ہے۔ بخاری و مسلم میں ہے کہ { ہم ایک مرتبہ رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، آپ نے چودھویں رات کے چاند کو دیکھ کر فرمایا کہ تم عنقریب اپنے رب کو اسی طرح دیکھو گے جس طرح اس چاند کو بغیر مزاحمت اور تکلیف کے دیکھ رہے ہو، پس اگر تم سے ہو سکے تو سورج نکلنے سے پہلے کی اور سورج غروب ہونے سے پہلے کی نماز کی پوری طرح حفاظت کرو۔ پھر آپ نے اسی آیت کی تلاوت فرمائی۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:554] مسند احمد کی حدیث میں ہے کہ { آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، ان دونوں وقتوں کی نماز پڑھنے والا آگ میں نہ جائے گا۔ } ۱؎ [صحیح مسلم:634] مسند اور سنن میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، { سب سے ادنی درجے کا جنتی وہ ہے جو دو ہزار برس کی راہ تک اپنی ہی اپنی ملکیت دیکھے گا سب سے دور کی چیز بھی اس کے لیے ایسی ہی ہو گی جیسے سب سے نزدیک کی اور سب سے اعلیٰ منزل والے تو دن میں دو دو دفعہ دیدار الٰہی کریں گے۔ } ۱؎ [سنن ترمذي:3330،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
پھر فرماتا ہے رات کے وقتوں میں بھی تہجد پڑھا کر۔ بعض کہتے ہیں اس سے مراد مغرب اور عشاء کی نماز ہے۔ اور دن کے وقتوں میں بھی اللہ کی پاکیزگی بیان کیا کر۔ تاکہ اللہ کے اجر و ثواب سے تو خوش ہو جائے۔ جیسے فرمان ہے «وَلَسَوْفَ يُعْطِيكَ رَبُّكَ فَتَرْضَىٰ» ۱؎ [93-الضحى:5] عنقریب تیرا اللہ تجھے وہ دے گا کہ تو خوش ہو جائے گا۔ ‘ صحیح حدیث میں ہے، اللہ تعالیٰ فرمائے گا اے جنتیو! وہ کہیں گے «لبیک ربنا و سعدیک» ۔ { اللہ تعالیٰ فرمائے گا کیا تم خوش ہو گئے؟ وہ کہیں گے اے اللہ ہم بہت ہی خوش ہیں تو نے ہمیں وہ نعمتیں عطا فرما رکھی ہیں جو مخلوق میں سے کسی کو نہیں دیں۔ پھر کیا وجہ کہ ہم راضی نہ ہوں۔ جناب باری ارحم الراحمین فرمائے گا، لو میں تمہیں ان سب سے افضل چیز دیتا ہوں۔ پوچھیں گے اے اللہ! اس سے افضل چیز کیا ہے؟ فرمائے گا میں تمہیں اپنی رضا مندی دیتا ہوں کہ اب کسی وقت بھی میں تم سے ناخوش نہ ہوں گا۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:6549] اور حدیث میں ہے کہ { جنتیوں سے فرمایا جائے گا کہ اللہ نے تم سے جو وعدہ کیا تھا، وہ اسے پورا کرنے والا ہے، کہیں گے اللہ کے سب وعدے پورے ہوئے۔ ہمارے چہرے روشن ہیں، ہماری نیکیوں کا پلہ گراں رہا، ہمیں دوزخ سے ہٹا دیا گیا، جنت میں داخل کر دیا گیا۔ اب کون سی چیز باقی ہے؟ اسی وقت حجاب اٹھ جائیں گے اور دیدار الٰہی ہو گا۔ اللہ کی قسم اس سے بہتر اور کوئی نعمت نہ ہو گی۔ یہی زیادتی ہے۔ } ۱؎ [صحیح مسلم:181]
129۔ 1 یعنی یہ مکذبین اور مشرکین مکہ دیکھتے نہیں کہ ان سے پہلے کئی امتیں گزر چکی ہیں، جن کے جانشین ہیں اور ان کی رہائش گاہوں سے گزر کر آگے جاتے ہیں انھیں ہم اسکے جھٹلانے کی وجہ سے ہلاک کرچکے ہیں، جن کے عبرت ناک انجام میں اہل عقل و دانش کے لئے بڑی نشانیاں ہیں، لیکن اہل مکہ ان سے آنکھیں بند کئے ہوئے انہی کی روش اپنائے ہوئے ہیں۔ اگر اللہ تعالیٰ نے پہلے سے یہ فیصلہ نہ کیا ہوتا کہ وہ تمام حجت کے بغیر اور اس مدت کے آنے سے پہلے جو وہ مہلت کے لئے کسی قوم کو عطا فرماتا ہے، کسی کو ہلاک نہیں کرتا۔ تو فورا! انھیں عذاب الٰہی آ چمٹتا اور یہ ہلاکت سے دو چار ہوچکے ہوتے۔ مطلب یہ ہے کہ تکذیب رسالت کے باوجود اگر ان پر اب تک عذاب نہیں آیا تو یہ سمجھیں کہ آئندہ بھی نہیں آئے گا بلکہ ابھی ان کو اللہ کی طرف سے مہلت ملی ہوئی ہے، جیسا کہ وہ ہر قوم کو دیتا ہے۔ مہلت عمل ختم ہوجانے کے بعد ان کو عذاب الٰہی سے بچانے والا کوئی نہیں ہوگا۔
(آیت 129) ➊ {وَ لَوْ لَا كَلِمَةٌ سَبَقَتْ …:} اصل میں {” وَلَوْلاَ كَلِمَةٌ سَبَقَتْ مِنْ رَّبِّكَ وَأَجَلٌ مُّسَمًّي لَكَانَ ({الْعَذَابُ}) لِزَامًا“} ہے، فواصل (آیات کے آخری حروف) کی مطابقت کے لیے {” وَ اَجَلٌ مُّسَمًّى “} کو مؤخر کر دیا گیا۔ ➋ {” لِزَامًا “} بروزن {”قِتَالٌ“} باب مفاعلہ کا مصدر ہے اور اسم فاعل کے معنی میں برائے مبالغہ ہے، لازم ہونے والا۔ ➌ {” لَكَانَ “} میں ضمیر {”هُوَ“} اس کا اسم ہے جو پچھلی آیات کے مضمون {”الْعَذَابُ“} (وہی عذاب) کی طرف لوٹ رہی ہے۔ ➍ جب پہلی قوموں کی ہلاکت کا ذکر فرمایا تو سوال پیدا ہوا کہ اب ان جھٹلانے والوں کو کیوں ہلاک نہیں کیا جا رہا؟ فرمایا کہ اس کے دو سبب ہیں، ایک تو وہ بات جو رب تعالیٰ کی طرف سے پہلے طے ہو چکی اور دوسرا وہ وقت جو مقرر ہو چکا۔ پہلے طے شدہ بات سے مراد اللہ تعالیٰ کی رحمت کا اس کے غضب پر غالب ہونا ہے، جیسا کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ لَمَّا خَلَقَ اللّٰهُ الْخَلْقَ كَتَبَ فِيْ كِتَابِهٖ وَ هُوَ يَكْتُبُ عَلٰی نَفْسِهٖ وَهُوَ وَضْعٌ عِنْدَهٗ عَلَی الْعَرْشِ اِنَّ رَحْمَتِيْ تَغْلِبُ غَضَبِيْ ] [ بخاري، التوحید، باب قول اللہ: «ویحذرکم اللہ نفسہ» : ۷۴۰۴ ] ”جب اللہ تعالیٰ نے مخلوق پیدا فرمائی تو اپنے آپ پر یہ بات لکھ دی، اور وہ خود ہی اپنے آپ پر لکھتا ہے، اور اسے اپنے پاس عرش پر رکھ لیا کہ بے شک میری رحمت میرے غضب پر غالب ہے۔“ اور اس نے اپنی رحمت سے یہ بھی لکھ دیا ہے کہ وہ پیغام پہنچانے اور حجت پوری کرنے کے بغیر عذاب نہیں دیتا۔ دیکھیے بنی اسرائیل (۱۵) اور نساء (۱۶۵) اور یہ بھی لکھ دیا ہے کہ کفار کی نسل سے بے شمار مسلمان پیدا ہوں گے، اس لیے اس نے فوراً عذاب نازل کرنے کے بجائے کفار کو مہلت دے رکھی ہے۔ دوسری بات یہ کہ ہر ایک کا وقت مقرر شدہ ہے، جس سے پہلے کوئی قوم یا شخص جتنی بھی نافرمانی کرے، اسے مہلت دی جاتی ہے، تاکہ وہ یہ نہ کہہ سکے کہ مجھے وقت نہیں ملا، جیسا کہ فرمایا: «{وَ لِكُلِّ اُمَّةٍ اَجَلٌ فَاِذَا جَآءَ اَجَلُهُمْ لَا يَسْتَاْخِرُوْنَ۠ سَاعَةً وَّ لَا يَسْتَقْدِمُوْنَ۠}» [ الأعراف: ۳۴ ] ”ا ور ہر امت کے لیے ایک وقت ہے، پھر جب ان کا وقت آ جاتا ہے تو وہ ایک گھڑی نہ پیچھے ہوتے ہیں اور نہ آگے ہوتے ہیں۔“ اگر یہ دو باتیں نہ ہوتیں تو وہی پہلی قوموں والا عذاب لازم ہو جاتا۔
پس اے محمدؐ، جو باتیں یہ لوگ بناتے ہیں اُن پر صبر کرو، اور اپنے رب کی حمد و ثنا کے ساتھ اُس کی تسبیح کرو سورج نکلنے سے پہلے اور غروب ہونے سے پہلے، اور رات کے اوقات میں بھی تسبیح کرو اور دن کے کناروں پر بھی، شاید کہ تم راضی ہو جاؤ
مولانا محمد جوناگڑھی
پس ان کی باتوں پر صبر کر اور اپنے پروردگار کی تسبیح اور تعریف بیان کرتا ره، سورج نکلنے سے پہلے اور اس کے ڈوبنے سے پہلے، رات کے مختلف وقتوں میں بھی اور دن کے حصوں میں بھی تسبیح کرتا ره، بہت ممکن ہے کہ تو راضی ہو جائے
احمد رضا خان بریلوی
تو ان کی باتوں پر صبر کرو اور اپنے رب کو سراہتے ہوئے اس کی پاکی بولو سورج چمکنے سے پہلے اور اس کے ڈوبنے سے پہلے اور رات کی گھڑیوں میں اس کی پاکی بولو اور دن کے کناروں پر اس امید پر کہ تم راضی ہو
علامہ محمد حسین نجفی
سو آپ ان کی باتوں پر صبر کیجئے اور طلوع آفتاب سے پہلے اور غروب آفتاب سے پہلے اور رات کے اوقات میں بھی اور دن کے اول و آخر میں بھی اپنے پروردگار کی حمد و ثناء کے ساتھ تسبیح کیجئے تاکہ آپ راضی ہو جائیں۔
عبدالسلام بن محمد
سو اس پر صبر کر جو وہ کہتے ہیں اور سورج طلوع ہونے سے پہلے اور اس کے غروب ہونے سے پہلے اپنے رب کی حمد کے ساتھ تسبیح کر اور رات کے کچھ اوقات میں بھی پس تسبیح کر اور دن کے کناروں میں، تاکہ تو خوش ہو جائے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
ویرانوں سے عبرت حاصل کرو ٭٭
جو لوگ تجھے نہیں مان رہے اور تیری شریعت کا انکار کر رہے ہیں، کیا وہ اس بات سے بھی عبرت حاصل نہیں کرتے کہ ان سے پہلے جنہوں نے یہ ڈھنگ نکالے تھے، ہم نے انہیں تباہ و برباد کر دیا؟ آج ان کی ایک آنکھ جھپکتی ہوئی اور ایک سانس چلتا ہوا اور ایک زبان بولتی ہوئی باقی نہیں بچی۔ ان کے بلند و بالا، پختہ اور خوبصورت، کشادہ اور زینت دار محل ویران کھنڈر پڑے ہوئے ہیں جہاں سے ان کی آمد ورفت رہتی ہے۔ اگر یہ عقلمند ہوتے تو یہ سامان عبرت ان کے لیے بہت کچھ تھا۔ کیا یہ زمین میں چل پھر کر قدرت کی ان نشانیوں پر دل سے غور فکر نہیں کرتے؟ کیا کانوں سے ان کے درد ناک فسانے سن کرعبرت حاصل نہیں کرتے؟ کیا ان کی اجڑی ہوئی بستیاں دیکھ کر بھی آنکھیں نہیں کھولتے؟ یہ آنکھوں کے ہی اندھے نہیں بلکہ دل کے بھی اندھے ہیں۔ سورۃ «الم السجدہ» میں بھی مندرجہ بالا آیت جیسی آیت ہے۔ اللہ تعالیٰ یہ بات مقرر کر چکا ہے کہ جب تک بندوں پر اپنی حجت ختم نہ کر دے انہیں عذاب نہیں کرتا۔ ان کے لیے اس نے ایک وقت مقرر کر دیا ہے، اسی وقت ان کو ان کے اعمال کی سزا ملے گی۔ اگریہ بات نہ ہوتی تو ادھر گناہ کرتے ادھر پکڑ لیے جاتے۔ تو ان کی تکذیب پر صبر کر، ان کی بے ہودہ باتوں پر برداشت کر۔ تسلی رکھ یہ میرے قبضے سے باہر نہیں۔ سورج نکلنے سے پہلے سے مراد تو نماز فجر ہے اور سورج ڈوبنے سے پہلے سے مراد نماز عصر ہے۔ بخاری و مسلم میں ہے کہ { ہم ایک مرتبہ رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، آپ نے چودھویں رات کے چاند کو دیکھ کر فرمایا کہ تم عنقریب اپنے رب کو اسی طرح دیکھو گے جس طرح اس چاند کو بغیر مزاحمت اور تکلیف کے دیکھ رہے ہو، پس اگر تم سے ہو سکے تو سورج نکلنے سے پہلے کی اور سورج غروب ہونے سے پہلے کی نماز کی پوری طرح حفاظت کرو۔ پھر آپ نے اسی آیت کی تلاوت فرمائی۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:554] مسند احمد کی حدیث میں ہے کہ { آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، ان دونوں وقتوں کی نماز پڑھنے والا آگ میں نہ جائے گا۔ } ۱؎ [صحیح مسلم:634] مسند اور سنن میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، { سب سے ادنی درجے کا جنتی وہ ہے جو دو ہزار برس کی راہ تک اپنی ہی اپنی ملکیت دیکھے گا سب سے دور کی چیز بھی اس کے لیے ایسی ہی ہو گی جیسے سب سے نزدیک کی اور سب سے اعلیٰ منزل والے تو دن میں دو دو دفعہ دیدار الٰہی کریں گے۔ } ۱؎ [سنن ترمذي:3330،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
پھر فرماتا ہے رات کے وقتوں میں بھی تہجد پڑھا کر۔ بعض کہتے ہیں اس سے مراد مغرب اور عشاء کی نماز ہے۔ اور دن کے وقتوں میں بھی اللہ کی پاکیزگی بیان کیا کر۔ تاکہ اللہ کے اجر و ثواب سے تو خوش ہو جائے۔ جیسے فرمان ہے «وَلَسَوْفَ يُعْطِيكَ رَبُّكَ فَتَرْضَىٰ» ۱؎ [93-الضحى:5] عنقریب تیرا اللہ تجھے وہ دے گا کہ تو خوش ہو جائے گا۔ ‘ صحیح حدیث میں ہے، اللہ تعالیٰ فرمائے گا اے جنتیو! وہ کہیں گے «لبیک ربنا و سعدیک» ۔ { اللہ تعالیٰ فرمائے گا کیا تم خوش ہو گئے؟ وہ کہیں گے اے اللہ ہم بہت ہی خوش ہیں تو نے ہمیں وہ نعمتیں عطا فرما رکھی ہیں جو مخلوق میں سے کسی کو نہیں دیں۔ پھر کیا وجہ کہ ہم راضی نہ ہوں۔ جناب باری ارحم الراحمین فرمائے گا، لو میں تمہیں ان سب سے افضل چیز دیتا ہوں۔ پوچھیں گے اے اللہ! اس سے افضل چیز کیا ہے؟ فرمائے گا میں تمہیں اپنی رضا مندی دیتا ہوں کہ اب کسی وقت بھی میں تم سے ناخوش نہ ہوں گا۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:6549] اور حدیث میں ہے کہ { جنتیوں سے فرمایا جائے گا کہ اللہ نے تم سے جو وعدہ کیا تھا، وہ اسے پورا کرنے والا ہے، کہیں گے اللہ کے سب وعدے پورے ہوئے۔ ہمارے چہرے روشن ہیں، ہماری نیکیوں کا پلہ گراں رہا، ہمیں دوزخ سے ہٹا دیا گیا، جنت میں داخل کر دیا گیا۔ اب کون سی چیز باقی ہے؟ اسی وقت حجاب اٹھ جائیں گے اور دیدار الٰہی ہو گا۔ اللہ کی قسم اس سے بہتر اور کوئی نعمت نہ ہو گی۔ یہی زیادتی ہے۔ } ۱؎ [صحیح مسلم:181]
130۔ 1 بعض مفسرین کے نزدیک تسبیح سے مراد نماز ہے اور وہ اسے پانچ نمازوں سے مراد لیتے ہیں۔ طلوع شمس سے قبل فجر، ٖغروب سے قبل، عصر رات کی گھڑیوں سے مغرب و عشاء اور اطراف النھار سے ظہر کی نماز مراد ہے کیونکہ ظہر کا وقت، یہ نماز اول کا طرف آخر اور نہار آخر کا طرف اول ہے۔ اور بعض کے نزدیک ان اوقات میں ایسے ہی اللہ کی تسبیح و توحید ہے، جس میں نماز، تلاوت، ذکر اذکار، دعا مناجات اور نوافل سب داخل ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ آپ ان مشرکین کی تکذیب سے بددل نہ ہوں۔ اللہ کی تسبیح وتحمید کرتے رہیں۔ اللہ تعالیٰ جب چاہے گا، ان کی گرفت فرما لے گا۔
(آیت 130) ➊ { فَاصْبِرْ عَلٰى مَا يَقُوْلُوْنَ:} یعنی جب اللہ تعالیٰ نے انھیں مہلت دینا طے فرما دیا ہے تو اب خواہ وہ کتنی تکلیف دہ باتیں کہیں، ساحرکہیں یا شاعر، کاہن کہیں یا مجنون، مذاق اڑائیں یا اس سے بھی زیادہ تکلیف دہ باتیں کہیں، آپ کے پاس صبر اور اللہ سے فریاد کے سوا چارہ نہیں، کیونکہ ہر مصیبت میں دو ہی چیزیں مددگار ثابت ہوتی ہیں، ایک صبر اور دوسری اللہ تعالیٰ کا ذکر اور تسبیح و تحمید، جس کی جامع صورت نماز ہے، اس لیے دوسری جگہ فرمایا: «{ وَاسْتَعِیْنُوْا بِالصَّبْرِ وَ الصَّلٰوۃِ }» [ البقرۃ: ۱۵ ] ”اور صبر اور نماز کے ساتھ مدد طلب کرو۔“ ➋ {وَ سَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ:} اس کا لفظی معنی اگرچہ یہ ہے کہ ”اپنے رب کی حمد کے ساتھ تسبیح کر“ مگر مراد نماز ہے، جیسا کہ جز بول کر کل مراد لیا جاتا ہے، رکعت یا سجدہ بول کر پوری نماز مراد لی جاتی ہے، اسی طرح تسبیح و حمد بول کر پوری نماز مراد لی ہے، کیونکہ رکوع اور سجدہ کی طرح تسبیح و حمد بھی نماز کا جز ہے۔ دلیل اس کی جریر بن عبد اللہ بجلی رضی اللہ عنہ کی حدیث ہے، وہ فرماتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے تو آپ نے چودھویں رات کے چاند کو دیکھ کر فرمایا: [ إِنَّكُمْ سَتَرَوْنَ رَبَّكُمْ كَمَا تَرَوْنَ هٰذَا لَا تُضَامُّوْنَ فِيْ رُؤْيَتِهٖ فَإِنِ اسْتَطَعْتُمْ أَنْ لَّا تُغْلَبُوْا عَلٰی صَلاَةٍ قَبْلَ طُلُوْعِ الشَّمْسِ وَقَبْلَ غُرُوْبِهَا فَافْعَلُوْا ثُمَّ قَرَأَ: «{ وَ سَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ قَبْلَ طُلُوْعِ الشَّمْسِ وَ قَبْلَ الْغُرُوْبِ }» ] [ قٓ: ۳۹ ] [ بخاري، التفسیر، باب قولہ «وسبح بحمد ربک…» :۴۸۵۱ ] ”تم اپنے رب کو اسی طرح دیکھو گے جیسے اسے دیکھ رہے ہو، اسے دیکھنے میں تمھیں کوئی بھیڑ پیش نہیں آئے گی۔ تو اگر تم یہ کر سکو کہ سورج طلوع ہونے سے پہلے اور اس کے غروب ہونے سے پہلے کی نماز کی ادائیگی میں کوئی تم پر غالب نہ آئے (رکاوٹ نہ بنے) تو ایسا کرو۔“ پھر آپ نے یہ آیت پڑھی: «{ وَ سَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ قَبْلَ طُلُوْعِ الشَّمْسِ وَ قَبْلَ الْغُرُوْبِ }» سورۂ قٓ کی اس آیت اور زیر تفسیر آیت کے الفاظ ایک ہیں، اس لیے یہاں بھی {” وَ سَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ “} سے مراد نماز ہی ہے۔ یہ بات واضح رہے کہ فرض نمازیں پانچ ہیں، ان کے اوقات کے اول و آخر کی تعیین، ان کی رکعات، ان کے ادا کرنے کا طریقہ سب کچھ حدیث سے معلوم ہوتا ہے، حدیث کے انکار کا مطلب درحقیقت قرآن کا انکار ہے۔ صرف قرآن مجید سے ان میں سے کسی بات پر عمل ممکن نہیں، بلکہ نماز کے علاوہ زکوٰۃ، صیام، حج غرض کسی بھی حکم پر پوری طرح عمل ممکن نہیں۔ اس لیے کسی بھی مسلمان کو یہ مانے بغیر چارہ نہیں کہ قرآن مجید نے بھی انھی پانچ نمازوں کو فرض قرار دیا ہے جنھیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دن رات میں فرض بتایا ہے اور اپنے قول و عمل سے ان کا نمونہ پیش فرمایا ہے۔ اس لیے سلف صالحین نے ایسی تمام آیات کی تفسیر، جن میں نماز کے اوقات کی طرف اشارہ ہے، حدیث کو مدنظر رکھ کر ہی کی ہے۔ اس آیت سے پانچ نمازوں کا حکم کس طرح ثابت ہوتا ہے؟ اس بارے میں مفسرین کا بیان مختلف ہے۔ مجھے بقاعی رحمہ اللہ کی تفسیر بہتر معلوم ہوتی ہے، وہ یہ ہے کہ {” قَبْلَ طُلُوْعِ الشَّمْسِ “} سے مراد فجر کی نماز ہے۔ {” قَبْلَ الْغُرُوْبِ “} سے مراد ظہر اور عصر کی نماز ہے۔ {” وَ مِنْ اٰنَآئِ الَّيْلِ “} سے مراد مغرب اور عشاء ہے اور {” وَ اَطْرَافَ النَّهَارِ “} (دن کے کناروں) سے مراد فجر اور عصر ہے، کیونکہ فجر دن کے پہلے کنارے میں ہے اور عصر دن کے آخری کنارے میں، رہی مغرب تو وہ رات میں شامل ہے۔ اس پر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ان دو نمازوں (فجر اور عصر) کا ذکر {” قَبْلَ طُلُوْعِ الشَّمْسِ وَ قَبْلَ غُرُوْبِهَا “} میں ہو چکا ہے، اس تفسیر کے مطابق ان کا ذکر دوبارہ لازم آتا ہے۔ جواب اس کا یہ ہے کہ ان دونوں نمازوں کی مزید تاکید کے لیے ان کا دوبارہ ذکر کیا گیا ہے، جیسا کہ فرمایا: «{ حٰفِظُوْا عَلَى الصَّلَوٰتِ وَ الصَّلٰوةِ الْوُسْطٰى وَ قُوْمُوْا لِلّٰهِ قٰنِتِيْنَ }» [ البقرۃ: ۲۳۸ ] (سب نمازوں کی حفاظت کرو اور درمیانی نماز کی اور اللہ کے لیے فرماں بردار ہو کر کھڑے رہو) میں ”صلاۃ وسطیٰ “ کا ذکر اس کی فضیلت و اہمیت کے پیش نظر دوبارہ کیا گیا ہے۔ فجر او رعصر کے فضائل کے پیش نظر ان کی مزید تاکید کے لیے انھیں دوبارہ ذکر فرمایا، کیونکہ حدیث کے مطابق ان دونوں نمازوں میں رات اور دن کے فرشتے شامل ہوتے ہیں اور جیسا کہ اوپر گزرا کہ اللہ تعالیٰ کی زیارت کے حصول کے لیے ان دونوں نمازوں کا خاص دخل ہے۔ نمازوں کے اوقات کے لیے مزید دیکھیں سورۂ بنی اسرائیل (۷۸)۔ ➌ { لَعَلَّكَ تَرْضٰى:} یہ اشارہ ہے اس طرف کہ صبر اور نماز کی برکت سے آپ کو مقام محمود حاصل ہو گا۔ دیکھیے سورۂ بنی اسرائیل (۷۹) سورۂ ضحی میں فرمایا: «{ وَ لَسَوْفَ يُعْطِيْكَ رَبُّكَ فَتَرْضٰى }» [ الضحٰی: ۵ ] ”اور یقینا عنقریب تیرا رب تجھے عطا کرے گا، پس تو راضی ہو جائے گا۔ “ حدیث میں ہے کہ اہل جنت کو بھی راضی کیا جائے گا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ إِنَّ اللّٰهَ يَقُوْلُ لِأَهْلِ الْجَنَّةِ يَا أَهْلَ الْجَنَّةِ! فَيَقُوْلُوْنَ لَبَّيْكَ رَبَّنَا وَسَعْدَيْكَ وَالْخَيْرُ فِيْ يَدَيْكَ، فَيَقُوْلُ هَلْ رَضِيْتُمْ؟ فَيَقُوْلُوْنَ وَمَا لَنَا لاَ نَرْضَی يَا رَبِّ! فَقَدْ أَعْطَيْتَنَا مَا لَمْ تُعْطِ أَحَدًا مِنْ خَلْقِكَ؟ فَيَقُوْلُ أَلاَ أُعْطِيْكُمْ أَفْضَلَ مِنْ ذٰلِكَ؟ فَيَقُوْلُوْنَ يَا رَبِّ! وَأَيُّ شَيْءٍ أَفْضَلُ مِنْ ذٰلِكَ؟ فَيَقُوْلُ: أُحِلُّ عَلَيْكُمْ رِضْوَانِيْ فَلاَ أَسْخَطُ عَلَيْكُمْ بَعْدَهُ أَبَدًا ] [ بخاري، التوحید، باب کلام الرب مع أہل الجنۃ: ۷۵۱۸، عن أبی سعید الخدری رضی اللہ عنہ ] ”اللہ تعالیٰ اہل جنت سے فرمائے گا، اے اہل جنت! وہ کہیں گے، بار بار تیری جناب میں حاضر ہیں اے ہمارے رب! اور بار بار حاضر ہیں! تو وہ فرمائے گا، کیا تم راضی (خوش) ہو گئے؟ وہ کہیں گے، ہمیں کیا ہے کہ ہم خوش نہ ہوں، جب کہ تو نے ہمیں وہ کچھ عطا فرمایا جو اپنی مخلوق میں سے کسی کو عطا نہیں فرمایا۔ وہ فرمائے گا، کیا میں تمھیں اس سے بھی افضل چیز عطا کروں؟ وہ کہیں گے، اے رب! اور اس سے افضل کیا ہے؟ وہ فرمائے گا، میں تمھیں اپنی رضا عطا کرتا ہوں، سو اس کے بعد میں تم پر کبھی ناراض نہیں ہوں گا۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ إِذَا دَخَلَ أَهْلُ الْجَنَّةِ الْجَنَّةَ، قَالَ يَقُوْلُ اللّٰهُ تَبَارَكَ وَتَعَالٰی تُرِيْدُوْنَ شَيْئًا أَزِيْدُكُمْ؟ فَيَقُوْلُوْنَ أَلَمْ تُبَيِّضْ وُجُوْهَنَا؟ أَلَمْ تُدْخِلْنَا الْجَنَّةَ وَ تُنَجِّنَا مِنَ النَّارِ؟ قَالَ فَيَكْشِفُ الْحِجَابَ، فَمَا أُعْطُوْا شَيْئًا أَحَبَّ إِلَيْهِمْ مِنَ النَّظَرِ إِلٰی رَبِّهِمْ ] [ مسلم، الإیمان، باب إثبات رؤیۃ المؤمنین…: ۱۸۱، عن صہیب رضی اللہ عنہ ] ”جب اہل جنت، جنت میں داخل ہو جائیں گے تو اللہ تبارک و تعالیٰ فرمائے گا: ”تم کوئی چیز چاہتے ہو کہ میں تمھیں مزید دوں؟“ تو وہ کہیں گے: ”کیا تو نے ہمارے چہرے سفید نہیں کیے؟ کیا تو نے ہمیں جنت میں داخل نہیں فرمایا اور ہمیں آگ سے نجات نہیں دی؟“ فرمایا: ”تو اس وقت اللہ حجاب اٹھا دے گا، تو انھیں کوئی چیز عطا نہیں کی گئی ہو گی جو انھیں اپنے رب عز وجل کے دیدار سے زیادہ محبوب ہو۔“
اور نگاہ اُٹھا کر بھی نہ دیکھو دُنیوی زندگی کی اُس شان و شوکت کو جو ہم نے اِن میں سے مختلف قسم کے لوگوں کو دے رکھی ہے وہ تو ہم نے انہیں آزمائش میں ڈالنے کے لیے دی ہے، اور تیرے رب کا دیا ہوا رزق حلال ہی بہتر اور پائندہ تر ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
اور اپنی نگاہیں ہرگز ان چیزوں کی طرف نہ دوڑانا جو ہم نے ان میں سے مختلف لوگوں کو آرائش دنیا کی دے رکھی ہیں تاکہ انہیں اس میں آزما لیں تیرے رب کا دیا ہوا ہی (بہت) بہتر اور باقی رہنے واﻻ ہے
احمد رضا خان بریلوی
اور اے سننے والے اپنی آنکھیں نہ پھیلا اس کی طرف جو ہم نے کافروں کے جوڑوں کو برتنے کے لیے دی ہے جتنی دنیا کی تازگی کہ ہم انہیں اس کے سبب فتنہ میں ڈالیں اور تیرے رب کا رزق سب سے اچھا اور سب سے دیرپا ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
اور جو کچھ ہم نے مختلف لوگوں کو آزمائش کیلئے دنیا کی زیب و زینت اور آرائش دے رکھی ہے اس کی طرف نگاہیں اٹھا کر بھی نہ دیکھیں اور آپ کے پروردگار کا دیا ہوا رزق بہتر ہے اور زیادہ پائیدار ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اور اپنی آنکھیں ان چیزوں کی طرف ہرگز نہ اٹھا جو ہم نے ان کے مختلف قسم کے لوگوں کو دنیا کی زندگی کی زینت کے طور پر برتنے کے لیے دی ہیں، تاکہ ہم انھیں اس میں آزمائیں اور تیرے رب کا دیا ہوا سب سے اچھا اور سب سے زیادہ باقی رہنے والا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
شکر یا تکبر؟ ٭٭
ان کفار کی دنیاوی زینت اور ان کی ٹیپ ٹاپ کو تو حسرت بھری نگاہوں سے نہ دیکھ، یہ تو ذرا سی دیر کی چیزیں ہیں۔ یہ صرف ان کی آزمائش کے لیے انہیں یہاں ملی ہیں کہ دیکھیں شکر و تواضع کرتے ہیں یا ناشکری اور تکبر کرتے ہیں؟ حقیقتاً شکر گزاروں کی کمی ہے۔ ان کے مالداروں کو جو کچھ ملا ہے اس سے تجھے تو بہت ہی بہتر نعمت ملی ہے۔ ہم نے تجھے سات آیتیں دی ہیں جو دوہرائی جاتی ہیں اور قرآن عظیم عطا فرما رکھا ہے، پس اپنی نظریں ان کے دنیاوی ساز و سامان کی طرف نہ ڈال۔ اسی طرح اے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ کے لیے اللہ کے پاس جو مہمانداری ہے، اس کی نہ تو کوئی انتہا ہے اور نہ اس وقت کوئی اس کے بیان کی طاقت رکھتا ہے۔ تجھے تیرا پروردگار اس قدر دے گا کہ تو راضی رضامند ہو جائے گا۔ اللہ کی دین بہتر اور باقی ہے۔ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ازواج مطہرات سے ایلا کیا تھا اور ایک بالاخانے میں مقیم تھے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ جب وہاں پہنچے تو دیکھا کہ آپ ایک کھردرے بوریے پر لیٹے ہوئے ہیں۔ چمڑے کا ایک ٹکڑا ایک طرف رکھا تھا اور کچھ مشکیں لٹک رہی تھیں۔ یہ بے سر و سامانی کی حالت دیکھ کر آپ کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا کیوں رو دیے؟ جواب دیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم قیصر و کسریٰ کس قدر عیش وعشرت میں ہیں اور آپ باوجود ساری مخلوق میں سے اللہ کے برگزیدہ ہونے کے کس حالت میں ہیں؟ آپ نے فرمایا! اے خطاب کے بیٹے کیا اب تک تم شک میں ہی ہو؟ ان لوگوں کی اچھائیوں نے دنیا میں ہی جلدی کر لی ہے۔} ۱؎ [صحیح بخاری:2468] پس رسول صلی اللہ علیہ وسلم باوجود قدرت اور دسترس کے دنیا سے نہایت ہی بے رغبت تھے۔ جو ہاتھ لگتا، اسے راہ للہ دے دیتے اور اپنے لیے ایک پیسہ بھی نہ بچا رکھتے۔
ابن ابی حاتم میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان مروی ہے کہ { آپ نے فرمایا مجھے تو تم پر سب سے زیادہ خوف اس وقت کا ہے کہ دنیا تمہارے قدموں میں اپنا تمام ساز و سامان ڈال دے گی۔ اپنی برکتیں تم پر الٹ دے گی۔ } الغرض کفار کو زینت کی زندگی اور دنیا صرف ان کی آزمائش کے لیے دی جاتی ہے۔ اپنے گھرانے کے لوگوں کو نماز کی تاکید کرو تاکہ وہ عذاب الٰہی سے بچ جائیں، خود بھی پابندی کے ساتھ اس کی ادائیگی کرو۔ اپنے آپ کو اور اپنے اہل و عیال کو جہنم سے بچالو۔ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی عادت مبارکہ تھی کہ رات کو جب تہجد کے لیے اٹھتے تو اپنے گھر والوں کو بھی جگاتے اور اسی آیت کی تلاوت فرماتے۔ ہم تجھ سے رزق کے طالب نہیں۔ نماز کی پابندی کر لو، اللہ ایسی جگہ سے روزی پہنچائے گا جو خواب و خیال میں بھی نہ ہو۔ اللہ تعالیٰ پرہیزگاروں کے لیے چھٹکارا کر دیتا ہے اور بے شان و گمان جگہ سے روزی پہنچاتا ہے۔ تمام جنات اور انسان صرف عبادت الٰہی کے لیے پیدا کئے گئے ہیں۔ رزاق اور زبردست قوتوں کا مالک اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ فرماتا ہے ہم خود تمام مخلوق کے روزی رساں ہیں۔ ہم تمیں طلب کی تکلیف نہیں دیتے۔ ہشام رحمہ اللہ کے والد صاحب جب امیر امراء کے مکانوں پر جاتے اور ان کا ٹھاٹھ دیکھتے تو واپس اپنے مکان پر آ کر اسی آیت کی تلاوت فرماتے۔ اور کہتے میرے کنبے والو! نماز کی حفاظت کرو نماز کی پابندی کرو۔ اللہ تم پر رحم فرمائے گا۔ ابن ابی حاتم میں ہے کہ { جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کوئی تنگی ہوتی تو اپنے گھر کے سب لوگوں کو فرماتے، اے میرے گھر والو، نمازیں پڑھو نمازیں قائم رکھو۔ تمام انبیاء علیہم السلام کا یہی طریقہ رہا ہے کہ اپنی ہر گھبراہٹ اور ہر کام کے وقت نماز شروع کر دیتے۔ } ۱؎ [تفسیر ابن ابی حاتم:561/4:مرسل] ترمذی ابن ماجہ وغیرہ کی قدسی حدیث میں ہے کہ { اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اے ابن آدم! میری عبادت کے لیے فارغ ہو جا، میں تیرا سینہ امیری اور بےپرواہی سے پر کر دوں گا۔ تیری فقیری اور حاجت کو دور کر دوں گا اور اگر تو نے یہ نہ کیا تو میں تیرا دل اشغال سے بھر دونگا اور تیری فقیری بند ہی نہ کروں گا۔ } ۱؎ [سنن ترمذي:2466،قال الشيخ الألباني:صحیح]
ابن ماجہ شریف میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { جس نے اپنی تمام غور و فکر اور قصد و خیال کو اکٹھا کر کے آخرت کا خیال باندھ لیا اور اسی میں مشغول ہو گیا، اللہ تعالیٰ اسے دنیا کی تمام پریشانیوں سے محفوظ کر لے گا۔ اور جس نے دنیا کی فکریں پال لیں، یہاں کے غم مول لے لیے، اللہ کو اس کی مطلقا پرواہ نہ رہے گی خواہ کسی حیرانی میں ہلاک ہو جائے۔ } ۱؎ [سنن ابن ماجه:4105:قال الشيخ الألباني:صحیح] اور روایت میں ہے کہ { دنیا کے غموں میں ہی، اسی کی فکروں میں ہی مصروف ہو جانے والے کے تمام کاموں میں اللہ تعالیٰ پریشانیاں ڈال دے گا اور اس کی فقیری اس کی آنکھوں کے سامنے کر دے گا اور دنیا اتنی ہی ملے گی جتنی مقدر میں ہے۔ اور جو اپنے دل کا مرکز آخرت کو بنا لے گا، اپنی نیت وہی رکھے گا، اللہ تعالیٰ اسے ہرکام کا اطمینان نصیب فرما دے گا۔ اس کے دل کو سیراور شیر بنا دے گا اور دنیا اس کے قدموں کی ٹھوکروں میں آیا کرے گی۔ } ۱؎ [سنن ابن ماجه:،قال4106 الشيخ الألباني:حسن] پھر فرمایا دنیا و آخرت میں نیک انجام پرہیزگار لوگ ہی ہیں۔ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں، میں نے آج رات خواب میں دیکھا کہ گویا ہم عقبہ بن رافع کے گھر میں ہیں۔ وہاں ہمارے سامنے ابن طالب کے باغ کی تر کھجوریں پیش کی گئی ہیں۔ میں نے اس کی تعبیر یہ کی ہے کہ دنیا میں بھی انجام کے لحاظ سے ہمارا ہی پلہ گراں رہے گا اور بلندی اور اونچائی ہم کو ہی ملے گی اور ہمارا دین پاک صاف، طیب و طاہر، کامل و مکمل ہے۔ } ۱؎ [صحیح مسلم:2270]
131۔ 1 یہ وہی مضمون ہے جو اس سے قبل سورة عمران 196۔ 197، سورة حجر، 87۔ 88 اور سورة کہف، 7 وغیرہ میں بیان ہوا ہے۔
(آیت 131) ➊ {وَ لَا تَمُدَّنَّ عَيْنَيْكَ اِلٰى مَا مَتَّعْنَا بِهٖۤ …: ” مَدَّ يَمُدُّ “} (ن) پھیلانا، لمبا کرنا۔ آنکھیں پھیلانے سے مراد تعجب سے دیر تک دیکھتے رہنا ہے۔ {” مَدَّ يَمُدُّ“ } عام طور پر پاؤں یا ہاتھ پھیلانے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ {” مَدَّ يَدَهُ “} یا {”مَدَّ رِجْلَهُ“} اس نے اپنا ہاتھ پھیلایا یا اپنا پاؤں پھیلایا۔ یہاں آنکھیں پھیلانا استعارہ ہے، یعنی جس طرح پسندیدہ چیز کی طرف شوق اور حرص سے ہاتھ پھیلایا جاتا ہے آپ اپنی آنکھیں مت پھیلائیں۔ معلوم ہوا دیکھنے پر پابندی نہیں، دیکھتے چلے جانے پر پابندی ہے، کیونکہ اس سے دل میں اس چیز کی خواہش پیدا ہو سکتی ہے جو اللہ تعالیٰ کے نزدیک مچھر کے پر کے برابر بھی وقعت نہیں رکھتی۔ {” اَزْوَاجًا “} کی تنوین تقلیل کے لیے ہے، یعنی دنیا کی وہ زیب و زینت ہم نے ہر کافر کو نہیں دی، بلکہ ان کے چند قسم کے لوگوں ہی کو دی ہے، کیونکہ بہت سے کفار نہایت بدحال زندگی بسر کر رہے ہیں۔ {” زَهْرَةٌ “ ”زَهْرٌ“} کی واحد ہے، پھول، جیسے {” تَمْرَةٌ “ } {”تَمْرٌ “} کی واحد ہے۔ استعارے کے طور پر زیب و زینت کو بھی{ ” زَهْرَةٌ “} کہتے ہیں، کیونکہ پھول کی طرح زینت بھی نگاہ و دل کو لے جاتی ہے۔ {” زَهْرَةَ الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا “} دنیا کی زندگی کی زینت۔ دنیا کی زینت کے جامع بیان کے لیے دیکھیے سورۂ آل عمران (۱۴) اور سورۂ توبہ (۲۴) بلکہ انسان کو ملنے والی ہر چیز ہی دنیا کی زندگی کی زینت ہے، چنانچہ فرمایا: «{ وَ مَاۤ اُوْتِيْتُمْ مِّنْ شَيْءٍ فَمَتَاعُ الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا وَ زِيْنَتُهَا }» [ القصص: ۶۰ ] ”اور تمھیں جو کچھ بھی دیا گیا ہے سو دنیا کی زندگی کا سامان اور اس کی زینت ہے۔“ معلوم ہوا کفار کو ملنے والی کسی بھی چیز کی طرف نگاہ پھیلانا جائز نہیں، کیونکہ یہ سب کچھ ان کے فتنہ و آزمائش کے لیے ہے اور حقیقت میں ان کی زندگی دشوار کرنے کا باعث ہے، جیسا کہ فرمایا: «{ فَاِنَّ لَهٗ مَعِيْشَةً ضَنْكًا }» [ طٰہٰ: ۱۲۴ ] ”تو بے شک اس کے لیے تنگ گزران ہے۔“ اور دیکھیے سورۂ توبہ (۵۵)۔ ➋ { وَ رِزْقُ رَبِّكَ خَيْرٌ وَّ اَبْقٰى:} ”تیرے رب کا رزق“ سے مراد حلال رزق ہے، کیونکہ وہ رب کے حکم کے مطابق کمایا گیا ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے اس کی شان کی بلندی کے لیے اس کی نسبت اپنی طرف کی، ورنہ کافروں کو ملنے والا رزق بھی اللہ تعالیٰ ہی کا عطا کر دہ ہے۔ یعنی دنیا میں اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی حلال روزی اور آخرت میں اس کا عطا کردہ اجر و ثواب کفار کو ملنے والی نعمتوں سے کہیں بہتر اور پائیدار ہے، کیونکہ دنیا فانی اور آخرت باقی ہے۔
اپنے اہل و عیال کو نماز کی تلقین کرو اور خود بھی اس کے پابند رہو ہم تم سے کوئی رزق نہیں چاہتے، رزق تو ہم ہی تمہیں دے رہے ہیں اور انجام کی بھلائی تقویٰ ہی کے لیے ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
اپنے گھرانے کے لوگوں پرنماز کی تاکید رکھ اور خود بھی اس پر جما ره، ہم تجھ سے روزی نہیں مانگتے، بلکہ ہم خود تجھے روزی دیتے ہیں، آخر میں بول باﻻ پرہیزگاری ہی کا ہے
احمد رضا خان بریلوی
اور اپنے گھر والوں کو نماز کا حکم دے اور خود اس پر ثابت رہ، کچھ ہم تجھ سے روزی نہیں مانگتے ہم تجھے روزی دیں گے اور انجام کا بھلا پرہیزگاری کے لیے،
علامہ محمد حسین نجفی
اور اپنے گھر والوں کو نماز کا حکم دیں اور خود بھی اس پر قائم و برقرار رہیں ہم آپ سے روزی طلب نہیں کرتے۔ ہم تو خود آپ کو روزی دیتے ہیں اور انجام بخیر تو پرہیزگاری کا ہی ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اور اپنے گھر والوں کو نماز کا حکم دے اور اس پر خوب پابند رہ، ہم تجھ سے کسی رزق کا مطالبہ نہیں کرتے، ہم ہی تجھے رزق دیں گے اور اچھا انجام تقویٰ کا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
شکر یا تکبر؟ ٭٭
ان کفار کی دنیاوی زینت اور ان کی ٹیپ ٹاپ کو تو حسرت بھری نگاہوں سے نہ دیکھ، یہ تو ذرا سی دیر کی چیزیں ہیں۔ یہ صرف ان کی آزمائش کے لیے انہیں یہاں ملی ہیں کہ دیکھیں شکر و تواضع کرتے ہیں یا ناشکری اور تکبر کرتے ہیں؟ حقیقتاً شکر گزاروں کی کمی ہے۔ ان کے مالداروں کو جو کچھ ملا ہے اس سے تجھے تو بہت ہی بہتر نعمت ملی ہے۔ ہم نے تجھے سات آیتیں دی ہیں جو دوہرائی جاتی ہیں اور قرآن عظیم عطا فرما رکھا ہے، پس اپنی نظریں ان کے دنیاوی ساز و سامان کی طرف نہ ڈال۔ اسی طرح اے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ کے لیے اللہ کے پاس جو مہمانداری ہے، اس کی نہ تو کوئی انتہا ہے اور نہ اس وقت کوئی اس کے بیان کی طاقت رکھتا ہے۔ تجھے تیرا پروردگار اس قدر دے گا کہ تو راضی رضامند ہو جائے گا۔ اللہ کی دین بہتر اور باقی ہے۔ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ازواج مطہرات سے ایلا کیا تھا اور ایک بالاخانے میں مقیم تھے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ جب وہاں پہنچے تو دیکھا کہ آپ ایک کھردرے بوریے پر لیٹے ہوئے ہیں۔ چمڑے کا ایک ٹکڑا ایک طرف رکھا تھا اور کچھ مشکیں لٹک رہی تھیں۔ یہ بے سر و سامانی کی حالت دیکھ کر آپ کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا کیوں رو دیے؟ جواب دیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم قیصر و کسریٰ کس قدر عیش وعشرت میں ہیں اور آپ باوجود ساری مخلوق میں سے اللہ کے برگزیدہ ہونے کے کس حالت میں ہیں؟ آپ نے فرمایا! اے خطاب کے بیٹے کیا اب تک تم شک میں ہی ہو؟ ان لوگوں کی اچھائیوں نے دنیا میں ہی جلدی کر لی ہے۔} ۱؎ [صحیح بخاری:2468] پس رسول صلی اللہ علیہ وسلم باوجود قدرت اور دسترس کے دنیا سے نہایت ہی بے رغبت تھے۔ جو ہاتھ لگتا، اسے راہ للہ دے دیتے اور اپنے لیے ایک پیسہ بھی نہ بچا رکھتے۔
ابن ابی حاتم میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان مروی ہے کہ { آپ نے فرمایا مجھے تو تم پر سب سے زیادہ خوف اس وقت کا ہے کہ دنیا تمہارے قدموں میں اپنا تمام ساز و سامان ڈال دے گی۔ اپنی برکتیں تم پر الٹ دے گی۔ } الغرض کفار کو زینت کی زندگی اور دنیا صرف ان کی آزمائش کے لیے دی جاتی ہے۔ اپنے گھرانے کے لوگوں کو نماز کی تاکید کرو تاکہ وہ عذاب الٰہی سے بچ جائیں، خود بھی پابندی کے ساتھ اس کی ادائیگی کرو۔ اپنے آپ کو اور اپنے اہل و عیال کو جہنم سے بچالو۔ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی عادت مبارکہ تھی کہ رات کو جب تہجد کے لیے اٹھتے تو اپنے گھر والوں کو بھی جگاتے اور اسی آیت کی تلاوت فرماتے۔ ہم تجھ سے رزق کے طالب نہیں۔ نماز کی پابندی کر لو، اللہ ایسی جگہ سے روزی پہنچائے گا جو خواب و خیال میں بھی نہ ہو۔ اللہ تعالیٰ پرہیزگاروں کے لیے چھٹکارا کر دیتا ہے اور بے شان و گمان جگہ سے روزی پہنچاتا ہے۔ تمام جنات اور انسان صرف عبادت الٰہی کے لیے پیدا کئے گئے ہیں۔ رزاق اور زبردست قوتوں کا مالک اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ فرماتا ہے ہم خود تمام مخلوق کے روزی رساں ہیں۔ ہم تمیں طلب کی تکلیف نہیں دیتے۔ ہشام رحمہ اللہ کے والد صاحب جب امیر امراء کے مکانوں پر جاتے اور ان کا ٹھاٹھ دیکھتے تو واپس اپنے مکان پر آ کر اسی آیت کی تلاوت فرماتے۔ اور کہتے میرے کنبے والو! نماز کی حفاظت کرو نماز کی پابندی کرو۔ اللہ تم پر رحم فرمائے گا۔ ابن ابی حاتم میں ہے کہ { جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کوئی تنگی ہوتی تو اپنے گھر کے سب لوگوں کو فرماتے، اے میرے گھر والو، نمازیں پڑھو نمازیں قائم رکھو۔ تمام انبیاء علیہم السلام کا یہی طریقہ رہا ہے کہ اپنی ہر گھبراہٹ اور ہر کام کے وقت نماز شروع کر دیتے۔ } ۱؎ [تفسیر ابن ابی حاتم:561/4:مرسل] ترمذی ابن ماجہ وغیرہ کی قدسی حدیث میں ہے کہ { اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اے ابن آدم! میری عبادت کے لیے فارغ ہو جا، میں تیرا سینہ امیری اور بےپرواہی سے پر کر دوں گا۔ تیری فقیری اور حاجت کو دور کر دوں گا اور اگر تو نے یہ نہ کیا تو میں تیرا دل اشغال سے بھر دونگا اور تیری فقیری بند ہی نہ کروں گا۔ } ۱؎ [سنن ترمذي:2466،قال الشيخ الألباني:صحیح]
ابن ماجہ شریف میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { جس نے اپنی تمام غور و فکر اور قصد و خیال کو اکٹھا کر کے آخرت کا خیال باندھ لیا اور اسی میں مشغول ہو گیا، اللہ تعالیٰ اسے دنیا کی تمام پریشانیوں سے محفوظ کر لے گا۔ اور جس نے دنیا کی فکریں پال لیں، یہاں کے غم مول لے لیے، اللہ کو اس کی مطلقا پرواہ نہ رہے گی خواہ کسی حیرانی میں ہلاک ہو جائے۔ } ۱؎ [سنن ابن ماجه:4105:قال الشيخ الألباني:صحیح] اور روایت میں ہے کہ { دنیا کے غموں میں ہی، اسی کی فکروں میں ہی مصروف ہو جانے والے کے تمام کاموں میں اللہ تعالیٰ پریشانیاں ڈال دے گا اور اس کی فقیری اس کی آنکھوں کے سامنے کر دے گا اور دنیا اتنی ہی ملے گی جتنی مقدر میں ہے۔ اور جو اپنے دل کا مرکز آخرت کو بنا لے گا، اپنی نیت وہی رکھے گا، اللہ تعالیٰ اسے ہرکام کا اطمینان نصیب فرما دے گا۔ اس کے دل کو سیراور شیر بنا دے گا اور دنیا اس کے قدموں کی ٹھوکروں میں آیا کرے گی۔ } ۱؎ [سنن ابن ماجه:،قال4106 الشيخ الألباني:حسن] پھر فرمایا دنیا و آخرت میں نیک انجام پرہیزگار لوگ ہی ہیں۔ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں، میں نے آج رات خواب میں دیکھا کہ گویا ہم عقبہ بن رافع کے گھر میں ہیں۔ وہاں ہمارے سامنے ابن طالب کے باغ کی تر کھجوریں پیش کی گئی ہیں۔ میں نے اس کی تعبیر یہ کی ہے کہ دنیا میں بھی انجام کے لحاظ سے ہمارا ہی پلہ گراں رہے گا اور بلندی اور اونچائی ہم کو ہی ملے گی اور ہمارا دین پاک صاف، طیب و طاہر، کامل و مکمل ہے۔ } ۱؎ [صحیح مسلم:2270]
132۔ 1 اس خطاب میں ساری امت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے تابع ہے۔ یعنی مسلمان کے لئے ضروری ہے کہ وہ خود بھی نماز کی پا بندی کرے اور اپنے گھر والوں کو بھی نماز کی تاکید کرتا رہے۔
(آیت 132) ➊ {وَ اْمُرْ اَهْلَكَ بِالصَّلٰوةِ …: ” اصْطَبِرْ “ ”صَبَرَ يَصْبِرُ“} سے باب افتعال کا امر ہے، تاء کو طاء سے بدل دیا ہے اور حروف کے اضافے سے مبالغہ مقصود ہے، اس لیے ترجمہ ”خوب پابندرہ“ کیا گیا ہے۔ ان آیات میں بظاہر تمام اوامر کے مخاطب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں، مگر امت کا ہر فرد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے تابع ہونے کی وجہ سے ان کا مخاطب ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ مُرُوْا أَوْلَادَكُمْ بِالصَّلَاةِ وَهُمْ أَبْنَاءُ سَبْعِ سِنِيْنَ وَاضْرِبُوْهُمْ عَلَيْهَا وَهُمْ أَبْنَاءُ عَشْرِ سِنِيْنَ وَفَرِّقُوْا بَيْنَهُمْ فِي الْمَضَاجِعِ ] [ أبوداوٗد، الصلاۃ، باب متٰی یؤمر الغلام بالصلاۃ: ۴۹۵، عن عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنھما ] ”اپنی اولاد کو نماز کا حکم دو جب وہ سات برس کے ہوں اور انھیں اس کی وجہ سے مارو جب وہ دس برس کے ہوں اور آپس میں ان کے بستر الگ کر دو۔“ یعنی بجائے اس کے کہ آپ کے گھر والے دنیا داروں کے عیش و آرام کی طرف نگاہیں بڑھائیں، آپ انھیں نماز کی تاکید کریں اور خود بھی اس پر خوب پابندی کریں۔ کیونکہ یہ چیز ان کا اور آپ کا تعلق اللہ تعالیٰ سے جوڑ دے گی اور تم میں حلال روزی پر، چاہے وہ مقدار میں کتنی ہی تھوڑی ہو، صبر و قناعت کا جذبہ پیدا کرے گی اور اصل غنا صبر و قناعت سے ہے، نہ کہ مال و دولت سے۔ ➋ { لَا نَسْـَٔلُكَ رِزْقًا …: } عام طور پر روزی کمانے کی وجہ سے آدمی اللہ تعالیٰ کی عبادت اور نماز میں سستی کرتا ہے، اس لیے فرمایا، ہمارا مطالبہ آپ سے روزی کمانے کا نہیں عبادت اور نماز کا ہے، روزی تمھیں ہم دیں گے۔ اللہ کے احکام کے مطابق زندگی بسر کرنے کا نام عبادت ہے، اللہ تعالیٰ نے انسان کو روزی کمانے کے لیے پیدا نہیں فرمایا، بلکہ اپنے احکام کے مطابق زندگی بسر کرنے کے لیے پیدا فرمایا ہے۔ اگر وہ اللہ کا بندہ (غلام) بن کر اس کے احکام کے مطابق زندگی بسر کرے تو اسے رزق کی کوئی کمی نہیں آئے گی، فرمایا: «{ وَ مَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَ الْاِنْسَ اِلَّا لِيَعْبُدُوْنِ (56) مَاۤ اُرِيْدُ مِنْهُمْ مِّنْ رِّزْقٍ وَّ مَاۤ اُرِيْدُ اَنْ يُّطْعِمُوْنِ(57) اِنَّ اللّٰهَ هُوَ الرَّزَّاقُ ذُو الْقُوَّةِ الْمَتِيْنُ}» [ الذاریات: ۵۶ تا ۵۸ ] ”اور میں نے جنوں اور انسانوں کو پیدا نہیں کیا مگر اس لیے کہ میری عبادت کریں، نہ میں ان سے کوئی رزق چاہتا ہوں اور نہ یہ چاہتا ہوں کہ وہ مجھے کھلائیں، بے شک اللہ ہی بے حد رزق دینے والا، طاقت والا، نہایت مضبوط ہے۔“ انسان کی بے صبری اور بخل و حرص کا علاج نماز کی محافظت اور اس پر دوام ہے۔ دیکھیے سورۂ معارج (۱۹ تا ۳۵) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ إِنَّ اللّٰهَ تَعَالٰی يَقُوْلُ يَا ابْنَ آدَمَ! تَفَرَّغْ لِعِبَادَتِيْ أَمْلَأْ صَدْرَكَ غِنًی وَأَسُدَّ فَقْرَكَ وَإِلاَّ تَفْعَلْ مَلَأْتُ يَدَيْكَ شُغْلاً وَلَمْ أَسُدَّ فَقْرَكَ] [ترمذي، صفۃ القیامۃ، باب أحادیث ابتلینا بالضراء…: ۲۴۶۶، عن أبي ھریرۃ رضی اللہ عنہ ] ”اللہ تعالیٰ فرماتا ہے، اے ابن آدم! میری عبادت کے لیے پوری طرح فارغ ہو جا، (تو) میں تیرا سینہ غنا سے بھر دوں گا اور تیری فقیری دور کر دوں گا اور اگر تو نے ایسا نہ کیا تو میں تیرے دونوں ہاتھ مشغولیت سے بھر دوں گا اور تیری فقیری دور نہیں کروں گا۔“ ➌ {وَ الْعَاقِبَةُ لِلتَّقْوٰى:} یعنی چاہے دنیا میں ان کے دن تکلیف سے گزریں مگر آخرت میں ہمیشہ رہنے والا عیش و آرام انھی کا حصہ ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ مَنْ كَانَتِ الْآخِرَةُ هَمَّهٗ جَعَلَ اللّٰهُ غِنَاهُ فِيْ قَلْبِهٖ وَجَمَعَ لَهٗ شَمْلَهٗ وَأَتَتْهُ الدُّنْيَا وَهِيَ رَاغِمَةٌ وَمَنْ كَانَتِ الدُّنْيَا هَمَّهٗ جَعَلَ اللّٰهُ فَقْرَهُ بَيْنَ عَيْنَيْهٖ وَفَرَّقَ عَلَيْهِ شَمْلَهٗ وَلَمْ يَأْتِهٖ مِنَ الدُّنْيَا إِلاَّ مَا قُدِّرَ لَهٗ ] [ ترمذي، صفۃ القیامۃ، باب أحادیث ابتلینا بالضراء…: ۲۴۶۵، عن أنس بن مالک رضی اللہ عنہ ] ”جس شخص کی فکر صرف آخرت ہو اللہ تعالیٰ اس کی دولت مندی اس کے دل میں رکھ دیتا ہے اور اس کے لیے اس کے تمام معاملات جمع کر دیتا ہے اور دنیا اس کے پاس ذلیل ہو کر آتی ہے اور جس کی فکر صرف دنیا ہو اللہ تعالیٰ اس کا فقر اس کی آنکھوں کے سامنے رکھ دیتا ہے اور اس کے تمام معاملات کو بکھیر دیتا ہے اور دنیا اسے اتنی ہی ملتی ہے جو اس کے مقدر میں ہے۔“ اس سے معلوم ہوا کہ دنیا و آخرت دونوں میں اچھا انجام تقویٰ ہی کا ہے۔
وہ کہتے ہیں کہ یہ شخص اپنے رب کی طرف سے کوئی نشانی (معجزہ) کیوں نہیں لاتا؟ اور کیا ان کے پاس اگلے صحیفوں کی تمام تعلیمات کا بیان واضح نہیں آ گیا؟
مولانا محمد جوناگڑھی
انہوں نے کہا کہ یہ نبی ہمارے پاس اپنے پروردگار کی طرف سے کوئی نشانی کیوں نہیں ﻻیا؟ کیا ان کے پاس اگلی کتابوں کی واضح دلیل نہیں پہنچی؟
احمد رضا خان بریلوی
اور کافر بولے یہ اپنے رب کے پاس سے کوئی نشانی کیوں نہیں لاتے اور کیا انہیں اس کا بیان نہ آیا جو اگلے صحیفوں میں ہے
علامہ محمد حسین نجفی
اور یہ لوگ (اہل مکہ) کہتے ہیں کہ یہ (رسول) ہمارے پاس اپنے پروردگار کی طرف سے کوئی نشانی (معجزہ) کیوں نہیں لاتے۔ کیا ان کے پاس اگلی کتابوں کا کھلا ہوا ثبوت نہیں آیا؟
عبدالسلام بن محمد
اور انھوں نے کہا یہ ہمارے پاس اپنے رب سے کوئی نشانی کیوں نہیں لاتا اور کیا ان کے پاس وہ واضح دلیل نہیں آئی جو پہلی کتابوں میں ہے؟
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
قرآن حکیم سب سے بڑا معجزہ ٭٭
کفار یہ بھی کہا کرتے تھے کہ آخر کیا وجہ ہے کہ یہ نبی اپنی سچائی کا کوئی معجزہ ہمیں نہیں دکھاتے؟ جواب ملتا ہے کہ یہ ہے قرآن کریم جو اگلی کتابوں کی خبر کے مطابق اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی امی صلی اللہ علیہ وسلم پر اتارا ہے، جو نہ لکھنا جانیں نہ پڑھنا۔ دیکھ لو اس میں اگلے لوگوں کے حالات ہیں اور بالکل ان کتابوں کے مطابق جو اللہ کی طرف سے اس سے پہلے نازل شدہ ہیں۔ قرآن ان سب کا نگہبان ہے۔ چونکہ اگلی کتابیں کمی بیشی سے پاک نہیں رہیں، اس لیے قرآن اترا ہے کہ ان کی صحت و غیر صحت کو ممتاز کر دے۔ سورۃ العنکبوت میں کافروں کے اس اعتراض کے جواب میں فرمایا «وَقَالُوا لَوْلَا أُنزِلَ عَلَيْهِ آيَاتٌ مِّن رَّبِّهِ ۖ قُلْ إِنَّمَا الْآيَاتُ عِندَ اللَّـهِ وَإِنَّمَا أَنَا نَذِيرٌ مُّبِينٌ * أَوَلَمْ يَكْفِهِمْ أَنَّا أَنزَلْنَا عَلَيْكَ الْكِتَابَ يُتْلَىٰ عَلَيْهِمْ ۚ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَرَحْمَةً وَذِكْرَىٰ لِقَوْمٍ يُؤْمِنُونَ» ۱؎ [29-العنكبوت:50-51] ’ یعنی کہہ دے کہ اللہ تعالیٰ رب العالمین ہر قسم کے معجزات ظاہر کرنے پر قادر ہے، میں تو صرف تنبیہہ کرنے والا رسول ہوں۔ میرے قبضے میں کوئی معجزہ نہیں لیکن کیا انہیں یہ معجزہ کافی نہیں کہ ہم نے تجھ پر کتاب نازل فرمائی ہے جو ان کے سامنے برابر تلاوت کی جا رہی ہے جس میں ہر یقین والے کے لیے رحمت و عبرت ہے۔ ‘ صحیح بخاری و مسلم میں { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں، ہرنبی کو ایسے معجزے ملے کہ انہیں دیکھ کر لوگ ان کی نبوت پر ایمان لے آئے۔ لیکن مجھے جیتا جاگتا زندہ اور ہمیشہ رہنے والا معجزہ دیا گیا ہے یعنی اللہ کی یہ کتاب قرآن مجید جو بذریعہ وحی مجھ پر اتری ہے۔ پس مجھے امید ہے کہ قیامت کے دن تمام نبیوں کے تابعداروں سے میرے تابعدار زیادہ ہوں گے۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:4981] یہ یاد رہے کہ یہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا سب سے بڑا معجزہ بیان ہوا ہے اس سے یہ مطلب نہیں کہ آپ کے معجزے اور تھے ہی نہیں۔ علاوہ اس پاک اور معجز قرآن کے آپ کے ہاتھوں اس قدر معجزات سرزد ہوئے ہیں جو گنتی میں نہیں آ سکتے۔ لیکن ان تمام بےشمار معجزوں سے بڑھ چڑھ کر آپ کا سب سے اعلیٰ معجزہ یہ قرآن کریم ہے۔ اگر اس محترم ختم المرسلین آخری پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کو بھیجنے سے پہلے ہی ہم ان نہ ماننے والوں کو اپنے عذاب سے ہلاک کر دیتے تو ان کا یہ عذر باقی رہ جاتا کہ اگرہمارے سامنے کوئی پیغمبر آتا، کوئی وحی الٰہی نازل ہوتی تو ہم ضرور اس پر ایمان لاتے اور اس کی تابعداری اور فرماں برداری میں لگ جاتے اور اس ذلت و رسوائی سے بچ جاتے۔ اس لیے ہم نے ان کا یہ عذر بھی کاٹ دیا۔ رسول بھیج دیا، کتاب نازل فرما دی، انہیں ایمان نصیب نہ ہوا، عذابوں کے مستحق بن گئے اور عذر بھی دور ہو گئے۔ «وَلَوْ جَاءَتْهُمْ كُلُّ آيَةٍ حَتَّىٰ يَرَوُا الْعَذَابَ الْأَلِيمَ» ۱؎ [10-يونس:97] ’ ہم خوب جانتے ہیں کہ ایک کیا ہزاروں آیتیں اور نشانات دیکھ کر بھی انہیں ایمان نہیں آنے کا۔ ہاں جب عذابوں کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں گے، اس وقت ایمان لائیں گے لیکن وہ محض بےسود ہے۔ ‘
ّجیسے فرمایا، «وَهَـٰذَا كِتَابٌ أَنزَلْنَاهُ مُبَارَكٌ فَاتَّبِعُوهُ وَاتَّقُوا لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُونَ» ۱؎ [6-الأنعام:155] ’ ہم نے یہ پاک اور بہتر کتاب نازل فرما دی ہے جو بابرکت ہے، تم اسے مان لو اور اس کی فرماں برداری کرو تو تم پر رحم کیا جائے گا۔ ‘ یہی مضمون آیت «وَأَقْسَمُوا بِاللَّـهِ جَهْدَ أَيْمَانِهِمْ لَئِن جَاءَتْهُمْ آيَةٌ لَّيُؤْمِنُنَّ بِهَا ۚ قُلْ إِنَّمَا الْآيَاتُ عِندَ اللَّـهِ ۖ وَمَا يُشْعِرُكُمْ أَنَّهَا إِذَا جَاءَتْ لَا يُؤْمِنُونَ وَنُقَلِّبُ أَفْئِدَتَهُمْ وَأَبْصَارَهُمْ كَمَا لَمْ يُؤْمِنُوا بِهِ أَوَّلَ مَرَّةٍ وَنَذَرُهُمْ فِي طُغْيَانِهِمْ يَعْمَهُونَ» ۱؎ [6-الأنعام:109] میں ہے کہ کہتے ہیں کہ رسول کی آمد پر ہم مومن بن جائیں گے، معجزہ دیکھ کر ایمان قبول کر لیں گے لیکن ہم ان کی سرشت سے واقف ہیں، یہ تمام آیتیں دیکھ کر بھی ایمان نہ لائیں گے۔ پھر ارشاد ہوتا ہے کہ اے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ! ان کافروں سے کہہ دیجئیے کہ ادھر ہم ادھر تم منتظر ہیں۔ «وَسَوْفَ يَعْلَمُونَ حِينَ يَرَوْنَ الْعَذَابَ مَنْ أَضَلُّ سَبِيلًا» [25-الفرقان:42] ’ ابھی حال کھل جائے گا کہ راہ مستقیم پر کون ہے؟ ‘ حق کی طرف کون چل رہا ہے؟ عذابوں کو دیکھتے ہی آنکھیں کھل جائیں گی۔ اس وقت معلوم ہو جائے گا کون گمراہی میں مبتلا تھا۔ گھبراؤ نہیں۔ ابھی ابھی جان لو گے کہ «سَيَعْلَمُونَ غَدًا مَّنِ الْكَذَّابُ الْأَشِرُ» ۱؎ [54-القمر:26] کذاب و شریر کون تھا؟ یقیناً مسلمان راہ راست پر ہیں اور غیرمسلم اس سے ہٹے ہوئے ہیں۔ سورۃ طہ کی تفسیر ختم ہوئی۔ اور اسی کے ساتھ تفسیر محمدی کا سولہواں پارہ بھی ختم ہوا، «فالْحَمْدُ لِلَّـه»
133۔ 1 یعنی ان کی خواہش کے مطابق نشانی، جیسے ثمود کے لئے اونٹنی ظاہر کی گئی۔
(آیت 133){ وَ قَالُوْا لَوْ لَا يَاْتِيْنَا …:} کفار کہا کرتے تھے کہ اگر محمد(صلی اللہ علیہ وسلم ) نبی ہیں تو گزشتہ انبیاء کی طرح اپنے سچا ہونے کی کوئی نشانی کیوں پیش نہیں کرتے؟ فرمایا، اس سے زیادہ آپ کی سچائی کی اور کیا دلیل ہو سکتی ہے کہ پہلی آسمانی کتابیں آپ کے آنے کی خبر دے رہی ہیں۔ یقینا یہ خبر اہلِ کتاب کو معلوم ہے اور ان کے واسطے سے کفارِ مکہ تک پہنچ چکی ہے۔ پہلی کتابوں میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذکر خیر کی تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ اعراف (۱۵۷)، فتح (۲۹) اور صف (۶)۔
اگر ہم اُس کے آنے سے پہلے اِن کو کسی عذاب سے ہلاک کر دیتے تو پھر یہی لوگ کہتے کہ اے ہمارے پروردگار، تو نے ہمارے پاس کوئی رسول کیوں نہ بھیجا کہ ذلیل و رسوا ہونے سے پہلے ہی ہم تیری آیات کی پیروی اختیار کر لیتے
مولانا محمد جوناگڑھی
اور اگر ہم اس سے پہلے ہی انہیں عذاب سے ہلاک کر دیتے تو یقیناً یہ کہہ اٹھتے کہ اے ہمارے پروردگار تو نے ہمارے پاس اپنا رسول کیوں نہ بھیجا؟ کہ ہم تیری آیتوں کی تابعداری کرتے اس سے پہلے کہ ہم ذلیل ورسوا ہوتے
احمد رضا خان بریلوی
اور اگر ہم انہیں کسی عذاب سے ہلاک کردیتے رسول کے آنے سے پہلے تو ضرور کہتے اے ہمارے رب! تو نے ہماری طرف کوئی رسول کیوں نہ بھیجا کہ ہم تیری آیتوں پر چلتے قبل اس کے کہ ذلیل و رسوا ہوتے،
علامہ محمد حسین نجفی
اور اگر ہم اس (رسول) سے پہلے انہیں عذاب سے ہلاک کر دیتے تو یہ کہتے اے ہمارے پروردگار! تو نے ہماری طرف کوئی رسول کیوں نہ بھیجا؟ کہ ہم ذلیل و رسوا ہونے سے پہلے تیری آیتوں کی پیروی کرتے۔
عبدالسلام بن محمد
اور اگر ہم انھیں اس سے پہلے کسی عذاب کے ساتھ ہلاک کر دیتے تو یہ لوگ ضرور کہتے اے ہمارے رب! تو نے ہماری طرف کوئی رسول کیوں نہ بھیجا کہ ہم تیری آیات کی پیروی کرتے، اس سے پہلے کہ ہم ذلیل ہوں اور رسوا ہوں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
قرآن حکیم سب سے بڑا معجزہ ٭٭
کفار یہ بھی کہا کرتے تھے کہ آخر کیا وجہ ہے کہ یہ نبی اپنی سچائی کا کوئی معجزہ ہمیں نہیں دکھاتے؟ جواب ملتا ہے کہ یہ ہے قرآن کریم جو اگلی کتابوں کی خبر کے مطابق اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی امی صلی اللہ علیہ وسلم پر اتارا ہے، جو نہ لکھنا جانیں نہ پڑھنا۔ دیکھ لو اس میں اگلے لوگوں کے حالات ہیں اور بالکل ان کتابوں کے مطابق جو اللہ کی طرف سے اس سے پہلے نازل شدہ ہیں۔ قرآن ان سب کا نگہبان ہے۔ چونکہ اگلی کتابیں کمی بیشی سے پاک نہیں رہیں، اس لیے قرآن اترا ہے کہ ان کی صحت و غیر صحت کو ممتاز کر دے۔ سورۃ العنکبوت میں کافروں کے اس اعتراض کے جواب میں فرمایا «وَقَالُوا لَوْلَا أُنزِلَ عَلَيْهِ آيَاتٌ مِّن رَّبِّهِ ۖ قُلْ إِنَّمَا الْآيَاتُ عِندَ اللَّـهِ وَإِنَّمَا أَنَا نَذِيرٌ مُّبِينٌ * أَوَلَمْ يَكْفِهِمْ أَنَّا أَنزَلْنَا عَلَيْكَ الْكِتَابَ يُتْلَىٰ عَلَيْهِمْ ۚ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَرَحْمَةً وَذِكْرَىٰ لِقَوْمٍ يُؤْمِنُونَ» ۱؎ [29-العنكبوت:50-51] ’ یعنی کہہ دے کہ اللہ تعالیٰ رب العالمین ہر قسم کے معجزات ظاہر کرنے پر قادر ہے، میں تو صرف تنبیہہ کرنے والا رسول ہوں۔ میرے قبضے میں کوئی معجزہ نہیں لیکن کیا انہیں یہ معجزہ کافی نہیں کہ ہم نے تجھ پر کتاب نازل فرمائی ہے جو ان کے سامنے برابر تلاوت کی جا رہی ہے جس میں ہر یقین والے کے لیے رحمت و عبرت ہے۔ ‘ صحیح بخاری و مسلم میں { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں، ہرنبی کو ایسے معجزے ملے کہ انہیں دیکھ کر لوگ ان کی نبوت پر ایمان لے آئے۔ لیکن مجھے جیتا جاگتا زندہ اور ہمیشہ رہنے والا معجزہ دیا گیا ہے یعنی اللہ کی یہ کتاب قرآن مجید جو بذریعہ وحی مجھ پر اتری ہے۔ پس مجھے امید ہے کہ قیامت کے دن تمام نبیوں کے تابعداروں سے میرے تابعدار زیادہ ہوں گے۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:4981] یہ یاد رہے کہ یہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا سب سے بڑا معجزہ بیان ہوا ہے اس سے یہ مطلب نہیں کہ آپ کے معجزے اور تھے ہی نہیں۔ علاوہ اس پاک اور معجز قرآن کے آپ کے ہاتھوں اس قدر معجزات سرزد ہوئے ہیں جو گنتی میں نہیں آ سکتے۔ لیکن ان تمام بےشمار معجزوں سے بڑھ چڑھ کر آپ کا سب سے اعلیٰ معجزہ یہ قرآن کریم ہے۔ اگر اس محترم ختم المرسلین آخری پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کو بھیجنے سے پہلے ہی ہم ان نہ ماننے والوں کو اپنے عذاب سے ہلاک کر دیتے تو ان کا یہ عذر باقی رہ جاتا کہ اگرہمارے سامنے کوئی پیغمبر آتا، کوئی وحی الٰہی نازل ہوتی تو ہم ضرور اس پر ایمان لاتے اور اس کی تابعداری اور فرماں برداری میں لگ جاتے اور اس ذلت و رسوائی سے بچ جاتے۔ اس لیے ہم نے ان کا یہ عذر بھی کاٹ دیا۔ رسول بھیج دیا، کتاب نازل فرما دی، انہیں ایمان نصیب نہ ہوا، عذابوں کے مستحق بن گئے اور عذر بھی دور ہو گئے۔ «وَلَوْ جَاءَتْهُمْ كُلُّ آيَةٍ حَتَّىٰ يَرَوُا الْعَذَابَ الْأَلِيمَ» ۱؎ [10-يونس:97] ’ ہم خوب جانتے ہیں کہ ایک کیا ہزاروں آیتیں اور نشانات دیکھ کر بھی انہیں ایمان نہیں آنے کا۔ ہاں جب عذابوں کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں گے، اس وقت ایمان لائیں گے لیکن وہ محض بےسود ہے۔ ‘
ّجیسے فرمایا، «وَهَـٰذَا كِتَابٌ أَنزَلْنَاهُ مُبَارَكٌ فَاتَّبِعُوهُ وَاتَّقُوا لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُونَ» ۱؎ [6-الأنعام:155] ’ ہم نے یہ پاک اور بہتر کتاب نازل فرما دی ہے جو بابرکت ہے، تم اسے مان لو اور اس کی فرماں برداری کرو تو تم پر رحم کیا جائے گا۔ ‘ یہی مضمون آیت «وَأَقْسَمُوا بِاللَّـهِ جَهْدَ أَيْمَانِهِمْ لَئِن جَاءَتْهُمْ آيَةٌ لَّيُؤْمِنُنَّ بِهَا ۚ قُلْ إِنَّمَا الْآيَاتُ عِندَ اللَّـهِ ۖ وَمَا يُشْعِرُكُمْ أَنَّهَا إِذَا جَاءَتْ لَا يُؤْمِنُونَ وَنُقَلِّبُ أَفْئِدَتَهُمْ وَأَبْصَارَهُمْ كَمَا لَمْ يُؤْمِنُوا بِهِ أَوَّلَ مَرَّةٍ وَنَذَرُهُمْ فِي طُغْيَانِهِمْ يَعْمَهُونَ» ۱؎ [6-الأنعام:109] میں ہے کہ کہتے ہیں کہ رسول کی آمد پر ہم مومن بن جائیں گے، معجزہ دیکھ کر ایمان قبول کر لیں گے لیکن ہم ان کی سرشت سے واقف ہیں، یہ تمام آیتیں دیکھ کر بھی ایمان نہ لائیں گے۔ پھر ارشاد ہوتا ہے کہ اے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ! ان کافروں سے کہہ دیجئیے کہ ادھر ہم ادھر تم منتظر ہیں۔ «وَسَوْفَ يَعْلَمُونَ حِينَ يَرَوْنَ الْعَذَابَ مَنْ أَضَلُّ سَبِيلًا» [25-الفرقان:42] ’ ابھی حال کھل جائے گا کہ راہ مستقیم پر کون ہے؟ ‘ حق کی طرف کون چل رہا ہے؟ عذابوں کو دیکھتے ہی آنکھیں کھل جائیں گی۔ اس وقت معلوم ہو جائے گا کون گمراہی میں مبتلا تھا۔ گھبراؤ نہیں۔ ابھی ابھی جان لو گے کہ «سَيَعْلَمُونَ غَدًا مَّنِ الْكَذَّابُ الْأَشِرُ» ۱؎ [54-القمر:26] کذاب و شریر کون تھا؟ یقیناً مسلمان راہ راست پر ہیں اور غیرمسلم اس سے ہٹے ہوئے ہیں۔ سورۃ طہ کی تفسیر ختم ہوئی۔ اور اسی کے ساتھ تفسیر محمدی کا سولہواں پارہ بھی ختم ہوا، «فالْحَمْدُ لِلَّـه»
134۔ 1 مراد آخر الزماں پیغمبر حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔
(آیت 134){ وَ لَوْ اَنَّاۤ اَهْلَكْنٰهُمْ بِعَذَابٍ …:} اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے کفار کو عذاب دینے سے پہلے انبیاء کو مبعوث کرنے اور کفار کو مہلت دینے کی حکمت دوبارہ بیان فرمائی۔ اس سے مقصود ان کا عذر ختم کرنا اور ان پر حجت تمام کرنا ہے اور یہی ہمیشہ سے اللہ تعالیٰ کا دستور رہا ہے۔ دیکھیے سورۂ قصص (۵۹) اور بنی اسرائیل (۱۵)۔
اے محمدؐ، ان سے کہو، ہر ایک انجام کار کے انتظار میں ہے، پس اب منتظر رہو، عنقریب تمہیں معلوم ہو جائے گا کہ کون سیدھی راہ چلنے والے ہیں اور کون ہدایت یافتہ ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
کہہ دیجئے! ہر ایک انجام کا منتظر ہے پس تم بھی انتظار میں رہو۔ ابھی ابھی قطعاً جان لو گے کہ راه راست والے کون ہیں اور کون راه یافتہ ہیں
احمد رضا خان بریلوی
تم فرماؤ سب راہ دیکھ رہے ہیں تو تم بھی راہ دیکھو تو اب جان جاؤ گے کہ کون ہیں سیدھی راہ والے اور کس نے ہدایت پائی،
علامہ محمد حسین نجفی
آپ کہہ دیجئے! کہ ہر ایک اپنے (انجام کا) انتظار کر رہا ہے سو تم بھی انتظار کرو۔ عنقریب تمہیں معلوم ہو جائے گا کہ سیدھی راہ والے کون ہیں؟ اور ہدایت یافتہ کون ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
کہہ دے ہر ایک منتظر ہے، سو تم انتظار کرو، پھر تم جلد ہی جان لو گے کہ سیدھے راستے والے کون ہیں اور کون ہے جس نے ہدایت پائی۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
قرآن حکیم سب سے بڑا معجزہ ٭٭
کفار یہ بھی کہا کرتے تھے کہ آخر کیا وجہ ہے کہ یہ نبی اپنی سچائی کا کوئی معجزہ ہمیں نہیں دکھاتے؟ جواب ملتا ہے کہ یہ ہے قرآن کریم جو اگلی کتابوں کی خبر کے مطابق اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی امی صلی اللہ علیہ وسلم پر اتارا ہے، جو نہ لکھنا جانیں نہ پڑھنا۔ دیکھ لو اس میں اگلے لوگوں کے حالات ہیں اور بالکل ان کتابوں کے مطابق جو اللہ کی طرف سے اس سے پہلے نازل شدہ ہیں۔ قرآن ان سب کا نگہبان ہے۔ چونکہ اگلی کتابیں کمی بیشی سے پاک نہیں رہیں، اس لیے قرآن اترا ہے کہ ان کی صحت و غیر صحت کو ممتاز کر دے۔ سورۃ العنکبوت میں کافروں کے اس اعتراض کے جواب میں فرمایا «وَقَالُوا لَوْلَا أُنزِلَ عَلَيْهِ آيَاتٌ مِّن رَّبِّهِ ۖ قُلْ إِنَّمَا الْآيَاتُ عِندَ اللَّـهِ وَإِنَّمَا أَنَا نَذِيرٌ مُّبِينٌ * أَوَلَمْ يَكْفِهِمْ أَنَّا أَنزَلْنَا عَلَيْكَ الْكِتَابَ يُتْلَىٰ عَلَيْهِمْ ۚ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَرَحْمَةً وَذِكْرَىٰ لِقَوْمٍ يُؤْمِنُونَ» ۱؎ [29-العنكبوت:50-51] ’ یعنی کہہ دے کہ اللہ تعالیٰ رب العالمین ہر قسم کے معجزات ظاہر کرنے پر قادر ہے، میں تو صرف تنبیہہ کرنے والا رسول ہوں۔ میرے قبضے میں کوئی معجزہ نہیں لیکن کیا انہیں یہ معجزہ کافی نہیں کہ ہم نے تجھ پر کتاب نازل فرمائی ہے جو ان کے سامنے برابر تلاوت کی جا رہی ہے جس میں ہر یقین والے کے لیے رحمت و عبرت ہے۔ ‘ صحیح بخاری و مسلم میں { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں، ہرنبی کو ایسے معجزے ملے کہ انہیں دیکھ کر لوگ ان کی نبوت پر ایمان لے آئے۔ لیکن مجھے جیتا جاگتا زندہ اور ہمیشہ رہنے والا معجزہ دیا گیا ہے یعنی اللہ کی یہ کتاب قرآن مجید جو بذریعہ وحی مجھ پر اتری ہے۔ پس مجھے امید ہے کہ قیامت کے دن تمام نبیوں کے تابعداروں سے میرے تابعدار زیادہ ہوں گے۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:4981] یہ یاد رہے کہ یہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا سب سے بڑا معجزہ بیان ہوا ہے اس سے یہ مطلب نہیں کہ آپ کے معجزے اور تھے ہی نہیں۔ علاوہ اس پاک اور معجز قرآن کے آپ کے ہاتھوں اس قدر معجزات سرزد ہوئے ہیں جو گنتی میں نہیں آ سکتے۔ لیکن ان تمام بےشمار معجزوں سے بڑھ چڑھ کر آپ کا سب سے اعلیٰ معجزہ یہ قرآن کریم ہے۔ اگر اس محترم ختم المرسلین آخری پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کو بھیجنے سے پہلے ہی ہم ان نہ ماننے والوں کو اپنے عذاب سے ہلاک کر دیتے تو ان کا یہ عذر باقی رہ جاتا کہ اگرہمارے سامنے کوئی پیغمبر آتا، کوئی وحی الٰہی نازل ہوتی تو ہم ضرور اس پر ایمان لاتے اور اس کی تابعداری اور فرماں برداری میں لگ جاتے اور اس ذلت و رسوائی سے بچ جاتے۔ اس لیے ہم نے ان کا یہ عذر بھی کاٹ دیا۔ رسول بھیج دیا، کتاب نازل فرما دی، انہیں ایمان نصیب نہ ہوا، عذابوں کے مستحق بن گئے اور عذر بھی دور ہو گئے۔ «وَلَوْ جَاءَتْهُمْ كُلُّ آيَةٍ حَتَّىٰ يَرَوُا الْعَذَابَ الْأَلِيمَ» ۱؎ [10-يونس:97] ’ ہم خوب جانتے ہیں کہ ایک کیا ہزاروں آیتیں اور نشانات دیکھ کر بھی انہیں ایمان نہیں آنے کا۔ ہاں جب عذابوں کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں گے، اس وقت ایمان لائیں گے لیکن وہ محض بےسود ہے۔ ‘
ّجیسے فرمایا، «وَهَـٰذَا كِتَابٌ أَنزَلْنَاهُ مُبَارَكٌ فَاتَّبِعُوهُ وَاتَّقُوا لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُونَ» ۱؎ [6-الأنعام:155] ’ ہم نے یہ پاک اور بہتر کتاب نازل فرما دی ہے جو بابرکت ہے، تم اسے مان لو اور اس کی فرماں برداری کرو تو تم پر رحم کیا جائے گا۔ ‘ یہی مضمون آیت «وَأَقْسَمُوا بِاللَّـهِ جَهْدَ أَيْمَانِهِمْ لَئِن جَاءَتْهُمْ آيَةٌ لَّيُؤْمِنُنَّ بِهَا ۚ قُلْ إِنَّمَا الْآيَاتُ عِندَ اللَّـهِ ۖ وَمَا يُشْعِرُكُمْ أَنَّهَا إِذَا جَاءَتْ لَا يُؤْمِنُونَ وَنُقَلِّبُ أَفْئِدَتَهُمْ وَأَبْصَارَهُمْ كَمَا لَمْ يُؤْمِنُوا بِهِ أَوَّلَ مَرَّةٍ وَنَذَرُهُمْ فِي طُغْيَانِهِمْ يَعْمَهُونَ» ۱؎ [6-الأنعام:109] میں ہے کہ کہتے ہیں کہ رسول کی آمد پر ہم مومن بن جائیں گے، معجزہ دیکھ کر ایمان قبول کر لیں گے لیکن ہم ان کی سرشت سے واقف ہیں، یہ تمام آیتیں دیکھ کر بھی ایمان نہ لائیں گے۔ پھر ارشاد ہوتا ہے کہ اے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ! ان کافروں سے کہہ دیجئیے کہ ادھر ہم ادھر تم منتظر ہیں۔ «وَسَوْفَ يَعْلَمُونَ حِينَ يَرَوْنَ الْعَذَابَ مَنْ أَضَلُّ سَبِيلًا» [25-الفرقان:42] ’ ابھی حال کھل جائے گا کہ راہ مستقیم پر کون ہے؟ ‘ حق کی طرف کون چل رہا ہے؟ عذابوں کو دیکھتے ہی آنکھیں کھل جائیں گی۔ اس وقت معلوم ہو جائے گا کون گمراہی میں مبتلا تھا۔ گھبراؤ نہیں۔ ابھی ابھی جان لو گے کہ «سَيَعْلَمُونَ غَدًا مَّنِ الْكَذَّابُ الْأَشِرُ» ۱؎ [54-القمر:26] کذاب و شریر کون تھا؟ یقیناً مسلمان راہ راست پر ہیں اور غیرمسلم اس سے ہٹے ہوئے ہیں۔ سورۃ طہ کی تفسیر ختم ہوئی۔ اور اسی کے ساتھ تفسیر محمدی کا سولہواں پارہ بھی ختم ہوا، «فالْحَمْدُ لِلَّـه»
135۔ 1 یعنی مسلمان اور کافر دونوں اس انتظار میں ہیں کہ دیکھو کفر غالب رہتا ہے یا اسلام غالب آتا ہے۔
(آیت 135) ➊ { قُلْ كُلٌّ مُّتَرَبِّصٌ فَتَرَبَّصُوْا …: ” كُلٌّ “} کی تنوین اس کے محذوف مضاف الیہ کی جگہ آئی ہے، یعنی {”كُلُّ وَاحِدٍ“} ہر ایک، مطلب یہ ہے کہ اگر پہلی کتابوں میں موجود واضح دلائل تمھارے لیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے کے لیے کافی نہیں اور تمھیں اپنی مرضی کی نشانی دیکھنے پر اصرار ہے تو تم ایمان لانے کے لیے نشانی کا انتظار کرتے رہو، ہم تمھارے لیے دنیا میں اللہ کی گرفت اور آخرت میں اس کے عذاب کا انتظار کر رہے ہیں۔ جلد ہی تمھیں معلوم ہو جائے گا کہ سیدھے راستے والے کون ہیں اور وہ کون ہے جس نے ہدایت پالی ہے؟ اس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اپنے راہ حق پر ہونے کے یقین کا اظہار ہوتا ہے، کیونکہ اتنے دعوے سے یہ بات وہی شخص کہہ سکتا ہے جسے اپنے حق پر ہونے کا مکمل یقین ہو۔ ➋ {فَتَرَبَّصُوْا:} امر کے ساتھ اگر قرینہ بھی ہو تو وہ دوام کے لیے ہوتا ہے۔ یہاں قرینہ یہ ہے کہ انتظار اس وقت تک جاری رہنا ہے جب تک وہ چیز وجود میں نہ آئے جس کا انتظار ہے۔ انتظار کا یہ حکم وعید اور خبردار کرنے کے لیے ہے۔ اسے متارکہ کہتے ہیں، یعنی ہم نے تمھیں تمھاری انتظار کی حالت پر چھوڑ دیا ہے، کیونکہ ہمیں تمھارے برے انجام کا یقین ہے۔ اس کی ہم معنی آیات کے لیے دیکھیے سورۂ سجدہ (۳۰) اور سورۂ توبہ (۵۲) تاریخ شاہد ہے کہ بہت جلد کفار کو مسلمانوں کا راہ راست پر ہونا معلوم ہو گیا۔ بدر کے دن ان کو جو اسلام نہیں لائے، مثلاً ابوجہل اور کفر و شرک کے دوسرے ہلاک ہونے والے سردار اور ان کو بھی جو مسلمان ہو گئے، مثلاً ابوسفیان اور خالد بن ولید رضی اللہ عنھما اور ان سب کو جنھوں نے جزیرۂ عرب، شام، عراق، ایران، مصر اور پھر زمین کے مشرق و مغرب پر اسلام کا غلبہ اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا اور اس طرح اللہ تعالیٰ کی بات پوری ہوئی۔ ”جلد ہی جان لو گے“ میں یہ بھی شامل ہے کہ بہت جلد قیامت کے دن تمھیں اس بات کا علم الیقین اور عین الیقین حاصل ہو جائے گا۔ کیونکہ {”كُلُّ آتٍ قَرِيْبٌ“} کہ آنے والی ہر چیز قریب ہی ہے۔