بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ طه — Surah Taha
آیت نمبر 122
کل آیات: 135
قرآن کریم طه آیت 122
آیت نمبر: 122 — سورۃ طه islamicurdubooks.com ↗
ثُمَّ اجۡتَبٰہُ رَبُّہٗ فَتَابَ عَلَیۡہِ وَ ہَدٰی ﴿۱۲۲﴾
پھر اُس کے رب نے اُسے برگزیدہ کیا اور اس کی توبہ قبول کر لی اور اسے ہدایت بخشی
پھر اس کے رب نے نوازا، اس کی توبہ قبول کی اور اس کی رہنمائی کی
پھر اس کے رب نے چن لیا تو اس پر اپنی رحمت سے رجوع فرمائی اور اپنے قرب خاص کی راہ دکھائی،
اس کے بعد ان کے پروردگار نے انہیں برگزیدہ کیا (چنانچہ) ان کی توبہ قبول کی اور ہدایت بخشی۔
پھر اس کے رب نے اسے چن لیا، تو اس پر مہربانی فرمائی اور ہدایت دی۔

📖 تفسیر ابن کثیر

پہلے ہی سے اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان سے فرما دیا تھا کہ جنت کے تمام میوے کھانا لیکن اس درخت کے نزدیک بھی نہ جانا۔ مگر شیطان نے انہیں اس قدر پھسلایا کہ آخرکار یہ اس درخت میں سے کھا بیٹھے۔ اس نے دھوکہ کرتے ہوئے ان سے کہا کہ جو اس درخت کو کھا لیتا ہے، وہ ہمیشہ یہیں رہتا ہے۔ صادق و مصدوق { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ جنت میں ایک درخت ہے جس کے سائے تلے سوار سو سال تک چلا جائے گا لیکن تاہم وہ ختم نہ ہو گا، اس کا نام شجرۃ الخلد ہے۔ } ۱؎ [مسند احمد:455/2:صحیح دون الجملہ] ‏‏‏‏

دونوں نے درخت میں سے کچھ کھایا ہی تھا کہ لباس اتر گیا اور اعضاء ظاہر ہو گئے۔ ابن ابی حاتم میں ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں، { اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کو گندمی رنگ کا لمبے قد و قامت والا زیادہ بالوں والا بنایا تھا۔ کھجور کے درخت جتنا قد تھا۔ ممنوع درخت کو کھاتے ہی لباس چھن گیا۔ اپنے ستر کو دیکھتے ہی مارے شرم کے ادھر ادھر چھپنے لگے، ایک درخت میں بال الجھ گئے، جلدی سے چھڑانے کی کوشش کر رہے تھے۔ جب اللہ تعالیٰ نے آواز دی کہ آدم (‏‏‏‏علیہ السلام) کیا مجھ سے بھاگ رہا ہے؟ کلام رحمان سن کر ادب سے عرض کیا کہ اے اللہ! مارے شرمندگی کے سر چھپانا چاہتا ہوں۔ اچھا اب یہ تو فرما دے کہ توبہ اور رجوع کے بعد بھی جنت میں پہنچ سکتا ہوں؟ جواب ملا کہ ہاں۔ }

یہی معنی ہیں اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے۔ آدم علیہ السلام نے اپنے رب سے چند کلمات لے لیے جس کی بنا پر اللہ نے اسے پھر سے اپنی مہربانی میں لے لیا۔ یہ روایت منقطع ہے اور اس کے مرفوع ہونے میں بھی کلام ہے۔ جب آدم علیہ السلام وحضرت حواء علیہا السلام سے لباس چھن گیا تو اب جنت کے درختوں کے پتے اپنے جسم پر چپکانے لگے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں، انجیر کے پتوں سے اپنا آپ چھپانے لگے۔ اللہ کی نافرمانی کی وجہ سے راہ راست سے ہٹ گئے۔ لیکن آخرکار اللہ تعالیٰ نے پھر ان کی رہنمائی کی۔ توبہ قبول فرمائی اور اپنے خاص بندوں میں شامل کر لیا۔ صحیح بخاری شریف وغیرہ میں ہے، { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ موسیٰ علیہ السلام اور آدم علیہ السلام میں گفتگو ہوئی۔ موسیٰ علیہ السلام فرمانے لگے آپ نے اپنے گناہ کی وجہ سے تمام انسانوں کو جنت سے نکلوا دیا اور انہیں مشقت میں ڈال دیا۔ آدم علیہ السلام نے جواب دیا، اے موسیٰ آپ کو اللہ تعالیٰ نے اپنی رسالت سے اور اپنے کلام سے ممتاز فرمایا آپ مجھے اس بات پر الزام دیتے ہیں جسے اللہ تعالیٰ نے میری پیدائش سے پہلے ہی مقدر اور مقرر کر لیا تھا۔ پس آدم علیہ السلام نے اس گفتگو میں موسیٰ علیہ السلام کو لاجواب کر دیا۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:6614] ‏‏‏‏ اور روایت میں موسیٰ علیہ السلام کا یہ فرمان بھی ہے کہ آپ کو اللہ تعالیٰ نے اپنے ہاتھ سے پیدا کیا تھا اور آپ میں آپ کی روح اس نے پھونکی تھی اور آپ کے سامنے اپنے فرشتوں کو سجدہ کرایا تھا اور آپ کو اپنی جنت میں بسایا تھا۔ آدم علیہ السلام کے اس جواب میں یہ بھی مروی ہے کہ اللہ نے آپ کو وہ تختیاں دیں جن میں ہر چیز کا بیان تھا اور سرگوشی کرتے ہوئے آپ کو قریب کر لیا۔ بتلاؤ اللہ نے تورات کب لکھی تھی؟ جواب دیا آپ سے چالیس سال پہلے۔ پوچھا کیا اس میں یہ لکھا ہوا تھا کہ آدم علیہ السلام نے اپنے رب کی نافرمانی کی اور راہ بھول گیا کہا ہاں۔ فرمایا پھر تم مجھے اس امر کا الزام کیوں دیتے ہو؟ جو میری تقدیر میں اللہ تعالیٰ نے میری پیدائش سے بھی چالیس سال پہلے لکھ دیا تھا۔

📖 احسن البیان

122۔ 1 اس سے بعض لوگ استدال کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ حضرت آدم ؑ سے مذکورہ غلطیوں کا ہونا، نبوت سے قبل ہوا، اور نبوت سے اس کے بعد آپ کو نوازا گیا۔ لیکن ہم نے گزشتہ صفحے میں اس ' معصیت ' کی حقیقت بیان کی ہے، وہ عصمت کے منافی نہیں رہتی۔ کیونکہ ایسا وعظ و نصیحت، جس کا تعلق تبلیغ رسالت اور تشریع سے نہ ہو، بلکہ ذاتی افعال سے ہو اور اس میں بھی اس کا سبب ضعف کا اطلاق کیا گیا ہے تو محض ان کی عظمت شان اور مقام بلند کی وجہ سے کہ بڑوں کی معمولی غلطی کو بھی بڑا سمجھ لیا جاتا ہے، اس لئے آیت کا مطلب یہ نہیں کہ ہم نے اس کے بعد اسے نبوت کے لئے چن لیا، بلکہ مطلب یہ ہے کہ ندامت اور توبہ کے بعد ہم نے اسے پھر اسی مقام پر فائز کردیا، جو پہلے انھیں حاصل تھا۔ ان کو زمین پر اتار نے کا فیصلہ، ہماری مشیت اور حکمت و مصلحت پر مبنی تھا، اس سے یہ نہ سمجھ لیا جائے کہ یہ ہمارا غضب ہے جو آدم پر نازل ہوا ہے۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 122) ➊ { ثُمَّ اجْتَبٰهُ رَبُّهٗ: ”جَبَي يَجْبِيْ“} (ض) کا معنی کھینچ کر لانا ہے، جیسا کہ فرمایا: «{ اَوَ لَمْ نُمَكِّنْ لَّهُمْ حَرَمًا اٰمِنًا يُّجْبٰۤى اِلَيْهِ ثَمَرٰتُ كُلِّ شَيْءٍ }» [ القصص: ۵۷ ] ”اور کیا ہم نے انھیں ایک باامن حرم میں جگہ نہیں دی؟ جس کی طرف ہر چیز کے پھل کھینچ کر لائے جاتے ہیں۔“ {”اِجْتَبَي“} (افتعال) کا معنی کسی چیز کو اپنے لیے لے لینا، چن لینا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے آدم علیہ السلام کو اپنے لیے کھینچ لینے اور چن لینے کا مطلب یہ ہے کہ ان کے دل میں توبہ کا خیال ڈالا، انھیں توبہ کی توفیق دی اور توبہ کے کلمات کی تعلیم دی، جیسا کہ فرمایا: «‏‏‏‏فَتَلَقّٰۤى اٰدَمُ مِنْ رَّبِّهٖ كَلِمٰتٍ فَتَابَ عَلَيْهِ» [ البقرۃ: ۳۷ ] ”پھر آدم نے اپنے رب سے چند کلمات سیکھ لیے تو اس نے اس کی توبہ قبول فرما لی۔“ قرآن کے مطابق وہ کلمات یہ تھے: «{ رَبَّنَا ظَلَمْنَاۤ اَنْفُسَنَا وَ اِنْ لَّمْ تَغْفِرْ لَنَا وَ تَرْحَمْنَا لَنَكُوْنَنَّ مِنَ الْخٰسِرِيْنَ }» [ الأعراف: ۲۳ ] {” اجْتَبٰهُ رَبُّهٗ “} میں لفظ {” رَبُّهٗ “} اس چننے کے سبب کی طرف اشارہ کر رہا ہے۔ ➋ { فَتَابَ عَلَيْهِ وَ هَدٰى:} یعنی اس کی توبہ قبول فرمائی اور ہدایت دی، یعنی صراط مستقیم پر گامزن کر دیا اور اس پر ثابت قدمی عطا فرمائی۔ ابن عاشور نے لکھا ہے کہ قرآن مجید میں جہاں {”اِجْتِبَاء“} اور ”ہدایت“ کے الفاظ اکٹھے آئیں وہاں نبوت عطا کرنا مراد ہوتا ہے، جیسا کہ فرمایا: «{ وَ اجْتَبَيْنٰهُمْ وَ هَدَيْنٰهُمْ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِيْمٍ }» [ الأنعام: ۸۷ ] اور فرمایا: «{ اِجْتَبٰىهُ وَ هَدٰىهُ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِيْمٍ }» [ النحل: ۱۲۱ ] اور تیسری آیت یہ ہے۔ ➌ آدم علیہ السلام کا گناہ توبہ و استغفار کی وجہ سے ان کے لیے پہلے سے بھی زیادہ بلند مقام کا ذریعہ بن گیا۔ اس سے اللہ تعالیٰ کی حکمت ظاہر ہوتی ہے کہ اس نے انبیاء سے غلطی کا صادر ہونا ناممکن کیوں نہیں بنا دیا اور وہ ہے رسول کا غلطی سرزد ہونے کے بعد توبہ و استغفار میں اپنی امت کے لیے اسوہ اور نمونہ بننا۔ کیونکہ غلطی کے بعد والی ندامت، آہ و زاری، آئندہ نہ کرنے کا عزم اور پچھلی غلطی پر دن رات استغفار اللہ تعالیٰ کو اس قدر پسند ہے کہ اگر انسان سے غلطی نہ ہو، جس کے بعد وہ توبہ و استغفار کرے، تو اللہ تعالیٰ بنی آدم کی صف لپیٹ کر گناہ کرنے والی کوئی اور قوم لے آئے، جوگناہ کرے، پھر استغفار کرے اور اللہ تعالیٰ انھیں معاف فرمائے۔ [ مسلم، التوبۃ، باب سقوط الذنوب بالاستغفار والتوبۃ: ۲۷۴۹، عن أبي ھریرۃ رضی اللہ عنہ ] پھر اس مہربان رب کی رحمت اور لطف و کرم کی کیا حد ہے جو توبہ کے بعد پہلے گناہوں کو بھی نیکیوں میں بدل دیتا ہے۔ دیکھیے سورۂ فرقان (۷۰) اللہ تعالیٰ ہم گناہ گاروں کو بھی ایسی ہی توبہ کرنے والوں میں شامل فرما لے۔ (آمین) ➍ درخت میں سے کھانے کے بعد یہاں توبہ قبول کرنے کا ذکر پہلے ہے اور زمین پر اترنے کا حکم بعد میں، حالانکہ اصل ترتیب یہ تھی کہ درخت میں سے کھاتے ہی انھیں جنت سے نکال دیا گیا، مگر یہاں آدم علیہ السلام کی توبہ کا قبول ہونا اور نبوت عطا ہونا پہلے اس لیے ذکر فرمایا کہ سننے والوں کو آدم علیہ السلام کا انجام معلوم ہو جائے کہ وہ کس قدر اچھا ہوا۔
← پچھلی آیت (121) پوری سورۃ اگلی آیت (123) →