بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
طه
سورۃ طه — 135 آیات — صفحہ 1 از 3
قرآن کریم Surah 20
طٰہٰ ۚ﴿۱﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
طٰہٰ
مولانا محمد جوناگڑھی
طٰہٰ
احمد رضا خان بریلوی
طٰهٰ
علامہ محمد حسین نجفی
طا۔ ھا۔
عبدالسلام بن محمد
طٰہٰ ۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
علم قرآن سب سے بڑی دولت ہے ٭٭

سورۃ البقرہ کی تفسیر کے شروع میں سورتوں کے اول حروف مقطعات کی تفسیر پوری طرح بیان ہو چکی ہے جسے دوبارہ بیان کرنے کی ضرورت نہیں۔ گو یہ بھی مروی ہے کہ مراد طہٰ سے اے شخص ہے، کہتے ہیں کہ یہ نبطی کلمہ ہے۔ کوئی کہتا ہے معرب ہے۔ یہ بھی مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں ایک پاؤں زمین پر ٹکاتے اور دوسرا اٹھا لیتے تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری۔ ۱؎ [ضعیف:اس کی سند میں ابو جعفر راوی ضعیف ہے] ‏‏‏‏ یعنی طہٰ یعنی زمین پر دونوں پاؤں ٹکا دیا کر۔ ہم نے یہ قرآن تجھ پر اس لیے نہیں اتارا کہ تجھے مشقت و تکلیف میں ڈال دیں۔ کہتے ہیں کہ جب قرآن پر عمل نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اور آپ کے صحابہ رضی اللہ عنہم نے شروع کر دیا تو مشرکین کہنے لگے کہ یہ لوگ تو اچھی خاصی مصیبت میں پڑ گئے، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری کہ یہ پاک قرآن تمہیں مشقت میں ڈالنے کو نہیں اترا بلکہ یہ نیکوں کے لیے عبرت ہے، یہ الہامی علم ہے۔ جسے یہ ملا اسے بہت بڑی دولت مل گئی۔ چنانچہ بخاری و مسلم میں ہے کہ { جس کے ساتھ اللہ کا ارادہ بھلائی کا ہو جاتا ہے اسے دین کی سمجھ عطا فرماتا ہے۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:71] ‏‏‏‏

حافظ ابوالقاسم طبرانی رحمتہ اللہ علیہ ایک مرفوع صحیح حدیث لائے ہیں کہ { قیامت کے دن جب کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے فیصلے فرمانے کے لیے اپنی کرسی پر اجلاس فرمائے گا تو علماء سے فرمائے گا کہ میں نے اپنا علم اور اپنی حکمت تمہیں اسی لیے عطا فرمائی تھی کہ تمہارے تمام گناہوں کو بخش دوں اور کچھ پرواہ نہ کروں کہ تم نے کیا کیا ہے؟ } ۱؎ [طبرانی کبیر:1381:ضعیف] ‏‏‏‏ پہلے لوگ اللہ کی عبادت کے وقت اپنے آپ کو رسیوں میں لٹکا لیا کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے یہ مشقت اپنے اس کلام پاک کے ذریعہ آسان کر دی اور فرما دیا کہ یہ قرآن تمہیں مشقت میں ڈالنا نہیں چاہتا جیسے فرمان ہے، «فَاقْرَءُوا مَا تَيَسَّرَ مِنَ الْقُرْآنِ» ۱؎ [73-المزمل:20] ‏‏‏‏ ’ جس قدر آسانی سے پڑھا جائے پڑھ لیا کرو ‘ یہ قرآن شقاوت اور بدبختی کی چیز نہیں بلکہ رحمت و نور اور دلیل جنت ہے۔ یہ قرآن نیک لوگوں کے لیے جن کے دلوں میں خوف الٰہی ہے، تذکرہ وعظ و ہدایت و رحمت ہے۔ اسے سن کر اللہ کے نیک انجام بندے حلال حرام سے واقف ہو جاتے ہیں اور اپنے دونوں جہان سنوار لیتے ہیں۔ یہ قرآن تیرے رب کا کلام ہے اسی کی طرف سے نازل شدہ ہے جو ہرچیز کا خالق مالک رازق قادر ہے۔ جس نے زمین کو نیچی اور کثیف بنایا ہے اور جس نے آسمان کو اونچا اور لطیف بنایا ہے۔ ترمذی وغیرہ کی صحیح حدیث میں ہے کہ { ہر آسمان کی موٹائی پانچ سو سال کی راہ ہے اور ہر آسمان سے دوسرے آسمان تک کا فاصلہ بھی پانچ سو سال کا ہے۔ } ۱؎ [سنن ترمذي:3298،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏‏‏‏

حضرت عباس رضی اللہ عنہ والی حدیث امام ابن ابی حاتم نے اسی آیت کی تفسیر میں وارد کی ہے۔ وہ رحمان اپنے عرش پر مستوی ہے اس کی پوری تفسیر سورۃ الاعراف میں گزر چکی ہے یہاں وارد کرنے کی ضرورت نہیں۔ سلامتی والا طریقہ یہی ہے کہ آیات و احادیث صفات کو بطریق سلف صالحین ان کے ظاہری الفاظ کے مطابق ہی مانا جائے بغیر کیفیت طلبی کے اور بغیر تحریف و تشبیہ اور تعطیل و تمثیل کے۔ تمام چیزیں اللہ کی ہی ملک ہیں۔ اسی کے قبضے اور ارادے اور چاہت تلے ہیں۔ وہی سب کا خالق، مالک، الٰہ اور رب ہے کسی کو اس کے ساتھ کسی طرح کی شرکت نہیں۔ ساتویں زمین کے نیچے بھی جو کچھ ہے سب اسی کا ہے۔ کعب رحمہ اللہ کہتے ہیں اس زمین کے نیچے پانی ہے پانی کے نیچے پھر زمین ہے پھر اس کے نیچے پانی ہے اسی طرح مسلسل، پھر اس کے نیچے ایک پتھر ہے اس کے نیچے ایک فرشتہ ہے اس کے نیچے ایک مچھلی ہے، جس کے دونوں بازو عرش تک ہیں۔ اس کے نیچے ہوا، خلا اور ظلمت ہے یہیں تک انسان کا علم ہے باقی اللہ جانے۔

حدیث میں ہے { ہر دو زمینوں کے درمیان پانچ سو سال کا فاصلہ ہے۔ سب سے اوپر کی زمین مچھلی کی پشت پر ہے جس کے دونوں بازوں آسمان سے ملے ہوئے ہیں، یہ مچھلی ایک پتھر پر ہے، وہ پتھر فرشتے کے ہاتھ میں ہے۔ دوسری زمین ہواؤں کا خزانہ ہے۔ تیسری میں جہنم کے پتھر ہیں، چوتھی میں جہنم کی گندھک ہے، پانچویں میں جہنم کے سانپ ہیں، چھٹی میں جہنمی بچھو ہیں۔ ساتویں میں دوزخ ہے وہیں ابلیس جکڑا ہوا ہے ایک ہاتھ آگے ہے ایک پیچھے ہے، جب اللہ چاہتا ہے اسے چھوڑ دیتا ہے۔ } یہ حدیث بہت ہی غریب ہے اور اس کا فرمان رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے ہونا بھی غور طلب ہے۔ ۱؎ [مستدرک حاکم:594/4:ضعیف] ‏‏‏‏ مسند ابویعلیٰ میں ہے، جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہا فرماتے ہیں، ہم غزوہ تبوک سے لوٹ رہے تھے گرمی سخت تڑاخے کی پڑ رہی تھی دو دو چار چار آدمی منتشر ہو کر چل رہے تھے، میں لشکر کے شروع میں تھا، اچانک ایک شخص آیا اور سلام کر کے پوچھنے لگا، تم میں سے محمد (‏‏‏‏صلی اللہ علیہ وسلم )‏‏‏‏‏‏‏‏ کون ہیں؟۔ میں اس کے ساتھ ہو گیا میرے ساتھی آگے بڑھ گئے۔ جب لشکر کے درمیان کا حصہ آیا تو اسی میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تھے، میں نے اسے بتلایا کہ یہ ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سرخ رنگ کی اونٹنی پر سوار ہیں سر پر بوجہ دھوپ کے کپڑا ڈالے ہوئے ہیں، { وہ آپ کی سواری کے پاس گیا اور نکیل تھام کر عرض کرنے لگا کہ آپ ہی محمد ہیں صلی اللہ علیہ وسلم ؟ آپ نے جواب دیا کہ ہاں، اس نے کہا، میں چند باتیں آپ سے دریافت کرنا چاہتا ہوں جنہیں زمین والوں میں سے بجز ایک دو آدمیوں کے اور کوئی نہیں جانتا۔ }

{ آپ نے فرمایا تمہیں جو کچھ پوچھنا ہو پوچھ لو۔ اس نے کہا بتائیے انبیاء اللہ سوتے بھی ہیں؟ آپ نے فرمایا ان کی آنکھیں سو جاتی ہیں لیکن دل جاگتا رہتا ہے۔ اس نے کہا بجا ارشاد ہوا۔ اب یہ فرمائیے کہ کیا وجہ ہے کہ بچہ کبھی تو باپ کی شباہت پر ہوتا ہے کبھی ماں کی؟ آپ نے فرمایا سنو مرد کا پانی سفید اور غلیظ ہے اور عورت کا پانی پتلا ہے جو پانی غالب آگیا اسی پر شبیہ جاتی ہے۔ اس نے کہا یہ بھی بجا ارشاد فرمایا۔ اچھا یہ بھی فرمائیے کہ بچے کے کون سے اعضاء مرد کے پانی سے بنتے ہیں اور کون سے عورت کے پانی سے؟ فرمایا مرد کے پانی سے ہڈیاں، رگ اور پٹھے اور عورت کے پانی سے گوشت، خون اور بال۔ اس نے کہا یہ بھی صحیح جواب ملا۔ اچھا یہ بتلائیے کہ اس زمین کے نیچے کیا ہے؟ فرمایا ایک مخلوق ہے۔ کہا ان کے نیچے کیا ہے؟ فرمایا زمین۔ کہا اس کے نیچے کیا ہے؟ فرمایا پانی۔ کہا پانی کے نیچے کیا ہے؟ فرمایا اندھیرا۔ کہا اس کے نیچے؟ فرمایا ہوا۔ کہا ہوا کے نیچے؟ فرمایا تر مٹی۔ کہا اس کے نیچے؟ آپ کے آنسو نکل آئے اور ارشاد فرمایا کہ مخلوق کا علم تو یہیں تک پہنچ کر ختم ہو گیا۔ اب خالق کو ہی اس کے آگے کا علم ہے۔ اے سوال کرنے والے اس کی بابت تو جس سے سوال کر رہا ہے وہ تجھ سے زیادہ جاننے والا نہیں۔ اس نے آپ کی صداقت کی گواہی دی۔ آپ نے فرمایا اسے پہچانا بھی؟ لوگوں نے کہا اللہ اور اس کے رسول کو ہی پورا علم ہے آپ نے فرمایا یہ جبرائیل علیہ السلام تھے۔ } ۱؎ [مسند ابویعلیٰ:ضعیف جداً] ‏‏‏‏ یہ حدیث بھی بہت ہی غریب ہے اور اس میں جو واقعہ ہے، بڑا ہی عجیب ہے اس کے راویوں میں قاسم بن عبدالرحمٰن کا تفرد ہے جنہیں امام یحییٰ بن معین رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ یہ کسی چیز کے برابر نہیں۔ امام ابوحاتم رازی رحمہ اللہ بھی انہیں ضعیف کہتے ہیں۔ امام ابن عدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ معروف شخص نہیں اور اس حدیث میں خلط ملط کر دیا ہے۔ اللہ ہی جانتا ہے کہ جان بوجھ کر ایسا کیا ہے یا ایسی ہی کسی سے لی ہے۔ اللہ وہ ہے جو ظاہر و باطن، اونچی نیچی، چھوٹی بڑی سب کچھ جانتا ہے۔

جیسے فرمان ہے «قُلْ أَنزَلَهُ الَّذِي يَعْلَمُ السِّرَّ فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ۚ إِنَّهُ كَانَ غَفُورًا رَّحِيمًا» ۱؎ [25-الفرقان:6] ‏‏‏‏ ’ اعلان کر دے کہ اس قرآن کو اس نے نازل فرمایا ہے جو آسمان و زمین کے اسرار سے واقف ہے جو غفور و رحیم ہے۔ ‘ ابن آدم خود جو چھپائے اور جو اس پر خود پر بھی چھپا ہوا ہو اللہ تعالیٰ کے پاس کھلا ہوا ہے۔ اس کے عمل کو اس کے علم سے بھی پہلے اللہ تعالیٰ جانتا ہے۔ تمام گزشتہ موجودہ اور آئندہ مخلوق کا علم اس کے پاس ایسا ہی ہے جیسا ایک شخص کا علم۔ سب کی پیدائش اور مار کر جلانا بھی اس کے نزدیک ایک شخص کی پیدائش اور اس کی موت کے بعد کی دوسری بار کی زندگی کے مثل ہے۔ تیرے دل کے خیالات کو اور جو خیالات نہیں آتے ان کو بھی وہ جانتا ہے۔ تجھے زیادہ سے زیادہ آج کے پوشیدہ اعمال کی خبر ہے اور اسے تو تم کل کیا چھپاؤ گے ان کا بھی علم ہے۔ ارادے ہی نہیں بلکہ وسوسے بھی اس پر ظاہر ہیں۔ کئے ہوئے عمل اور جو کرے گا وہ عمل بھی اس پر ظاہر ہیں۔ وہی معبود برحق ہے اعلیٰ صفتیں اور بہترین نام اسی کے ہیں۔ سورۃ الاعراف کی تفسیر کے آخر میں اسماء حسنی کے متعلق حدیثیں گزر چکی ہیں۔
تفسیر احسن البیان
(آیت 1){طٰهٰ:} ظاہر یہی ہے کہ یہ حروف مقطعات میں سے ہیں، کیونکہ یہ دونوں حرف دوسری جگہ مقطعات میں استعمال ہوئے ہیں، ”طا“ {” طٰسٓمّٓ “} (شعراء) میں اور ”ہا“ {” كٓهٰيٰعٓصٓ “ } (مریم) میں۔ مقطعات کی تفسیر کے لیے سورۂ بقرہ کی پہلی آیت کی تفسیر دیکھیے۔ عبد الرزاق نے اپنی صحیح سند کے ساتھ قتادہ اور حسن کا قول نقل کیا ہے کہ{ ” طٰهٰ “ } کا معنی ہے {”يَا رَجُلُ!“} اے آدمی! کیونکہ قبیلہ بنوعکّ میں یہ لفظ اس معنی میں بولا جاتا تھا، مگر پہلی بات زیادہ صحیح ہے، کیونکہ قرآن مجید قریش کی لغت میں نازل ہوا ہے۔
مَاۤ اَنۡزَلۡنَا عَلَیۡکَ الۡقُرۡاٰنَ لِتَشۡقٰۤی ۙ﴿۲﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
ہم نے یہ قرآن تم پر اس لیے نازل نہیں کیا ہے کہ تم مصیبت میں پڑ جاؤ
مولانا محمد جوناگڑھی
ہم نے یہ قرآن تجھ پر اس لئے نہیں اتارا کہ تو مشقت میں پڑ جائے
احمد رضا خان بریلوی
اے محبوب! ہم نے تم پر یہ قرآن اس لیے نہ اتارا کہ مشقت میں پڑو
علامہ محمد حسین نجفی
ہم نے اس لئے آپ پر قرآن نازل نہیں کیا کہ آپ مشقت میں پڑ جائیں۔
عبدالسلام بن محمد
ہم نے تجھ پر یہ قرآن اس لیے نازل نہیں کیا کہ تو مصیبت میں پڑجائے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
علم قرآن سب سے بڑی دولت ہے ٭٭

سورۃ البقرہ کی تفسیر کے شروع میں سورتوں کے اول حروف مقطعات کی تفسیر پوری طرح بیان ہو چکی ہے جسے دوبارہ بیان کرنے کی ضرورت نہیں۔ گو یہ بھی مروی ہے کہ مراد طہٰ سے اے شخص ہے، کہتے ہیں کہ یہ نبطی کلمہ ہے۔ کوئی کہتا ہے معرب ہے۔ یہ بھی مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں ایک پاؤں زمین پر ٹکاتے اور دوسرا اٹھا لیتے تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری۔ ۱؎ [ضعیف:اس کی سند میں ابو جعفر راوی ضعیف ہے] ‏‏‏‏ یعنی طہٰ یعنی زمین پر دونوں پاؤں ٹکا دیا کر۔ ہم نے یہ قرآن تجھ پر اس لیے نہیں اتارا کہ تجھے مشقت و تکلیف میں ڈال دیں۔ کہتے ہیں کہ جب قرآن پر عمل نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اور آپ کے صحابہ رضی اللہ عنہم نے شروع کر دیا تو مشرکین کہنے لگے کہ یہ لوگ تو اچھی خاصی مصیبت میں پڑ گئے، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری کہ یہ پاک قرآن تمہیں مشقت میں ڈالنے کو نہیں اترا بلکہ یہ نیکوں کے لیے عبرت ہے، یہ الہامی علم ہے۔ جسے یہ ملا اسے بہت بڑی دولت مل گئی۔ چنانچہ بخاری و مسلم میں ہے کہ { جس کے ساتھ اللہ کا ارادہ بھلائی کا ہو جاتا ہے اسے دین کی سمجھ عطا فرماتا ہے۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:71] ‏‏‏‏

حافظ ابوالقاسم طبرانی رحمتہ اللہ علیہ ایک مرفوع صحیح حدیث لائے ہیں کہ { قیامت کے دن جب کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے فیصلے فرمانے کے لیے اپنی کرسی پر اجلاس فرمائے گا تو علماء سے فرمائے گا کہ میں نے اپنا علم اور اپنی حکمت تمہیں اسی لیے عطا فرمائی تھی کہ تمہارے تمام گناہوں کو بخش دوں اور کچھ پرواہ نہ کروں کہ تم نے کیا کیا ہے؟ } ۱؎ [طبرانی کبیر:1381:ضعیف] ‏‏‏‏ پہلے لوگ اللہ کی عبادت کے وقت اپنے آپ کو رسیوں میں لٹکا لیا کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے یہ مشقت اپنے اس کلام پاک کے ذریعہ آسان کر دی اور فرما دیا کہ یہ قرآن تمہیں مشقت میں ڈالنا نہیں چاہتا جیسے فرمان ہے، «فَاقْرَءُوا مَا تَيَسَّرَ مِنَ الْقُرْآنِ» ۱؎ [73-المزمل:20] ‏‏‏‏ ’ جس قدر آسانی سے پڑھا جائے پڑھ لیا کرو ‘ یہ قرآن شقاوت اور بدبختی کی چیز نہیں بلکہ رحمت و نور اور دلیل جنت ہے۔ یہ قرآن نیک لوگوں کے لیے جن کے دلوں میں خوف الٰہی ہے، تذکرہ وعظ و ہدایت و رحمت ہے۔ اسے سن کر اللہ کے نیک انجام بندے حلال حرام سے واقف ہو جاتے ہیں اور اپنے دونوں جہان سنوار لیتے ہیں۔ یہ قرآن تیرے رب کا کلام ہے اسی کی طرف سے نازل شدہ ہے جو ہرچیز کا خالق مالک رازق قادر ہے۔ جس نے زمین کو نیچی اور کثیف بنایا ہے اور جس نے آسمان کو اونچا اور لطیف بنایا ہے۔ ترمذی وغیرہ کی صحیح حدیث میں ہے کہ { ہر آسمان کی موٹائی پانچ سو سال کی راہ ہے اور ہر آسمان سے دوسرے آسمان تک کا فاصلہ بھی پانچ سو سال کا ہے۔ } ۱؎ [سنن ترمذي:3298،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏‏‏‏

حضرت عباس رضی اللہ عنہ والی حدیث امام ابن ابی حاتم نے اسی آیت کی تفسیر میں وارد کی ہے۔ وہ رحمان اپنے عرش پر مستوی ہے اس کی پوری تفسیر سورۃ الاعراف میں گزر چکی ہے یہاں وارد کرنے کی ضرورت نہیں۔ سلامتی والا طریقہ یہی ہے کہ آیات و احادیث صفات کو بطریق سلف صالحین ان کے ظاہری الفاظ کے مطابق ہی مانا جائے بغیر کیفیت طلبی کے اور بغیر تحریف و تشبیہ اور تعطیل و تمثیل کے۔ تمام چیزیں اللہ کی ہی ملک ہیں۔ اسی کے قبضے اور ارادے اور چاہت تلے ہیں۔ وہی سب کا خالق، مالک، الٰہ اور رب ہے کسی کو اس کے ساتھ کسی طرح کی شرکت نہیں۔ ساتویں زمین کے نیچے بھی جو کچھ ہے سب اسی کا ہے۔ کعب رحمہ اللہ کہتے ہیں اس زمین کے نیچے پانی ہے پانی کے نیچے پھر زمین ہے پھر اس کے نیچے پانی ہے اسی طرح مسلسل، پھر اس کے نیچے ایک پتھر ہے اس کے نیچے ایک فرشتہ ہے اس کے نیچے ایک مچھلی ہے، جس کے دونوں بازو عرش تک ہیں۔ اس کے نیچے ہوا، خلا اور ظلمت ہے یہیں تک انسان کا علم ہے باقی اللہ جانے۔

حدیث میں ہے { ہر دو زمینوں کے درمیان پانچ سو سال کا فاصلہ ہے۔ سب سے اوپر کی زمین مچھلی کی پشت پر ہے جس کے دونوں بازوں آسمان سے ملے ہوئے ہیں، یہ مچھلی ایک پتھر پر ہے، وہ پتھر فرشتے کے ہاتھ میں ہے۔ دوسری زمین ہواؤں کا خزانہ ہے۔ تیسری میں جہنم کے پتھر ہیں، چوتھی میں جہنم کی گندھک ہے، پانچویں میں جہنم کے سانپ ہیں، چھٹی میں جہنمی بچھو ہیں۔ ساتویں میں دوزخ ہے وہیں ابلیس جکڑا ہوا ہے ایک ہاتھ آگے ہے ایک پیچھے ہے، جب اللہ چاہتا ہے اسے چھوڑ دیتا ہے۔ } یہ حدیث بہت ہی غریب ہے اور اس کا فرمان رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے ہونا بھی غور طلب ہے۔ ۱؎ [مستدرک حاکم:594/4:ضعیف] ‏‏‏‏ مسند ابویعلیٰ میں ہے، جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہا فرماتے ہیں، ہم غزوہ تبوک سے لوٹ رہے تھے گرمی سخت تڑاخے کی پڑ رہی تھی دو دو چار چار آدمی منتشر ہو کر چل رہے تھے، میں لشکر کے شروع میں تھا، اچانک ایک شخص آیا اور سلام کر کے پوچھنے لگا، تم میں سے محمد (‏‏‏‏صلی اللہ علیہ وسلم )‏‏‏‏‏‏‏‏ کون ہیں؟۔ میں اس کے ساتھ ہو گیا میرے ساتھی آگے بڑھ گئے۔ جب لشکر کے درمیان کا حصہ آیا تو اسی میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تھے، میں نے اسے بتلایا کہ یہ ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سرخ رنگ کی اونٹنی پر سوار ہیں سر پر بوجہ دھوپ کے کپڑا ڈالے ہوئے ہیں، { وہ آپ کی سواری کے پاس گیا اور نکیل تھام کر عرض کرنے لگا کہ آپ ہی محمد ہیں صلی اللہ علیہ وسلم ؟ آپ نے جواب دیا کہ ہاں، اس نے کہا، میں چند باتیں آپ سے دریافت کرنا چاہتا ہوں جنہیں زمین والوں میں سے بجز ایک دو آدمیوں کے اور کوئی نہیں جانتا۔ }

{ آپ نے فرمایا تمہیں جو کچھ پوچھنا ہو پوچھ لو۔ اس نے کہا بتائیے انبیاء اللہ سوتے بھی ہیں؟ آپ نے فرمایا ان کی آنکھیں سو جاتی ہیں لیکن دل جاگتا رہتا ہے۔ اس نے کہا بجا ارشاد ہوا۔ اب یہ فرمائیے کہ کیا وجہ ہے کہ بچہ کبھی تو باپ کی شباہت پر ہوتا ہے کبھی ماں کی؟ آپ نے فرمایا سنو مرد کا پانی سفید اور غلیظ ہے اور عورت کا پانی پتلا ہے جو پانی غالب آگیا اسی پر شبیہ جاتی ہے۔ اس نے کہا یہ بھی بجا ارشاد فرمایا۔ اچھا یہ بھی فرمائیے کہ بچے کے کون سے اعضاء مرد کے پانی سے بنتے ہیں اور کون سے عورت کے پانی سے؟ فرمایا مرد کے پانی سے ہڈیاں، رگ اور پٹھے اور عورت کے پانی سے گوشت، خون اور بال۔ اس نے کہا یہ بھی صحیح جواب ملا۔ اچھا یہ بتلائیے کہ اس زمین کے نیچے کیا ہے؟ فرمایا ایک مخلوق ہے۔ کہا ان کے نیچے کیا ہے؟ فرمایا زمین۔ کہا اس کے نیچے کیا ہے؟ فرمایا پانی۔ کہا پانی کے نیچے کیا ہے؟ فرمایا اندھیرا۔ کہا اس کے نیچے؟ فرمایا ہوا۔ کہا ہوا کے نیچے؟ فرمایا تر مٹی۔ کہا اس کے نیچے؟ آپ کے آنسو نکل آئے اور ارشاد فرمایا کہ مخلوق کا علم تو یہیں تک پہنچ کر ختم ہو گیا۔ اب خالق کو ہی اس کے آگے کا علم ہے۔ اے سوال کرنے والے اس کی بابت تو جس سے سوال کر رہا ہے وہ تجھ سے زیادہ جاننے والا نہیں۔ اس نے آپ کی صداقت کی گواہی دی۔ آپ نے فرمایا اسے پہچانا بھی؟ لوگوں نے کہا اللہ اور اس کے رسول کو ہی پورا علم ہے آپ نے فرمایا یہ جبرائیل علیہ السلام تھے۔ } ۱؎ [مسند ابویعلیٰ:ضعیف جداً] ‏‏‏‏ یہ حدیث بھی بہت ہی غریب ہے اور اس میں جو واقعہ ہے، بڑا ہی عجیب ہے اس کے راویوں میں قاسم بن عبدالرحمٰن کا تفرد ہے جنہیں امام یحییٰ بن معین رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ یہ کسی چیز کے برابر نہیں۔ امام ابوحاتم رازی رحمہ اللہ بھی انہیں ضعیف کہتے ہیں۔ امام ابن عدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ معروف شخص نہیں اور اس حدیث میں خلط ملط کر دیا ہے۔ اللہ ہی جانتا ہے کہ جان بوجھ کر ایسا کیا ہے یا ایسی ہی کسی سے لی ہے۔ اللہ وہ ہے جو ظاہر و باطن، اونچی نیچی، چھوٹی بڑی سب کچھ جانتا ہے۔

جیسے فرمان ہے «قُلْ أَنزَلَهُ الَّذِي يَعْلَمُ السِّرَّ فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ۚ إِنَّهُ كَانَ غَفُورًا رَّحِيمًا» ۱؎ [25-الفرقان:6] ‏‏‏‏ ’ اعلان کر دے کہ اس قرآن کو اس نے نازل فرمایا ہے جو آسمان و زمین کے اسرار سے واقف ہے جو غفور و رحیم ہے۔ ‘ ابن آدم خود جو چھپائے اور جو اس پر خود پر بھی چھپا ہوا ہو اللہ تعالیٰ کے پاس کھلا ہوا ہے۔ اس کے عمل کو اس کے علم سے بھی پہلے اللہ تعالیٰ جانتا ہے۔ تمام گزشتہ موجودہ اور آئندہ مخلوق کا علم اس کے پاس ایسا ہی ہے جیسا ایک شخص کا علم۔ سب کی پیدائش اور مار کر جلانا بھی اس کے نزدیک ایک شخص کی پیدائش اور اس کی موت کے بعد کی دوسری بار کی زندگی کے مثل ہے۔ تیرے دل کے خیالات کو اور جو خیالات نہیں آتے ان کو بھی وہ جانتا ہے۔ تجھے زیادہ سے زیادہ آج کے پوشیدہ اعمال کی خبر ہے اور اسے تو تم کل کیا چھپاؤ گے ان کا بھی علم ہے۔ ارادے ہی نہیں بلکہ وسوسے بھی اس پر ظاہر ہیں۔ کئے ہوئے عمل اور جو کرے گا وہ عمل بھی اس پر ظاہر ہیں۔ وہی معبود برحق ہے اعلیٰ صفتیں اور بہترین نام اسی کے ہیں۔ سورۃ الاعراف کی تفسیر کے آخر میں اسماء حسنی کے متعلق حدیثیں گزر چکی ہیں۔
2۔ 1 اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم نے قرآن اس لئے نہیں اتارا کہ تو ان کے کفر پر کثرت افسوس اور ان کے عدم ایمان پر حسرت سے اپنے آپ کو مشقت میں ڈال لے اور غم میں پڑجائے جیسا کہ اس آیت میں اشارہ ہے۔ (فَلَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَّفْسَكَ عَلٰٓي اٰثَارِهِمْ اِنْ لَّمْ يُؤْمِنُوْا بِهٰذَا الْحَدِيْثِ اَسَفًا) 18۔ الکہف:6) پس اگر یہ لوگ اس بات پر ایمان نہ لائیں تو کیا ان کے پیچھے اسی رنج میں اپنی جان ہلاک کر ڈالیں گے بلکہ ہم نے تو قرآن کو نصیحت اور یاد دہانی کے لیے اتارا ہے تاکہ ہر انسان کے تحت الشعور میں ہماری توحید کا جو جذبہ چھپا ہوا ہے۔ واضح اور نمایاں ہوجائے گویا یہاں شقآء عنآء اور تعب کے معنی میں ہے یعنی تکلیف اور تھکاوٹ۔
(آیت 2){مَاۤ اَنْزَلْنَا عَلَيْكَ الْقُرْاٰنَ لِتَشْقٰۤى:شَقِيَ يَشْقٰي شَقَاوَةً وَ شَقَاءً“} بروزن {”رَضِيَ يَرْضَي“} یہ سعادت کی ضد ہے۔ سعادت کی دو قسمیں ہیں، دنیوی اور اخروی۔ اسی طرح شقاوت کی بھی دو قسمیں ہیں، دنیوی اور اخروی۔ اخروی شقاوت بدبختی و بدنصیبی ہے، جیسا کہ کفار کہیں گے: «{ رَبَّنَا غَلَبَتْ عَلَيْنَا شِقْوَتُنَا }» [ المؤمنون: ۱۰۶ ] ”پروردگارا! ہم پر ہماری بدبختی غالب آگئی۔“ دنیوی شقاوت ایسے کاموں میں پھنس جانا جو مشقت اور تھکاوٹ کا باعث ہوں، جیسے کہتے ہیں{” فُلاَنٌ أَشْقَي مِنْ رَائِضِ مُهْرٍ “} ”فلاں گھوڑی کے بچھیرے کو سدھانے والے سے بھی زیادہ مشقت اور مصیبت میں پھنسا ہوا ہے۔“ مفسرین نے اس آیت کے دو معنی بیان فرمائے ہیں اور دونوں درست ہیں۔ ایک یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نزول وحی کے بعد ہر وقت اس فکر میں رہتے تھے کہ سب لوگ مسلمان ہو جائیں، اس کے لیے آپ دن رات دعوت و تبلیغ کے لیے اتنی مشقت اٹھاتے اور کفار کی بے رخی پر اس قدر غمزدہ ہوتے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو تسلی دی کہ اتنی بھی مشقت اور فکر کیا کہ آپ مصیبت ہی میں پڑ جائیں، ہم نے آپ پر یہ قرآن شقاوت کے لیے نہیں بلکہ آپ کی سعادت کے لیے اتارا ہے۔ آپ کے ذمے یہ نہیں کہ تمام لوگوں کو مسلمان کرکے چھوڑیں۔ آپ کا کام نصیحت ہے، پھر جو اللہ سے ڈرتا ہے وہ قبول کر لے گا، دوسروں کے آپ ذمہ دار نہیں ہیں۔ لوگوں کے مسلمان نہ ہونے پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے غم و افسوس کا اور آپ کو تسلی دینے کا ذکر بہت سی آیات میں ہے، مثلاً: «{ فَلَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَّفْسَكَ عَلٰۤى اٰثَارِهِمْ اِنْ لَّمْ يُؤْمِنُوْا بِهٰذَا الْحَدِيْثِ اَسَفًا }» [ الکہف: ۶ ] ”پس شاید تو اپنی جان ان کے پیچھے غم سے ہلاک کر لینے والا ہے، اگر وہ اس بات پر ایمان نہ لائے۔“ اور فرمایا: «{ لَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَّفْسَكَ اَلَّا يَكُوْنُوْا مُؤْمِنِيْنَ }» [ الشعراء: ۳ ] ”شاید تو اپنے آپ کو ہلاک کرنے والا ہے، اس لیے کہ وہ مومن نہیں ہوتے۔“ دوسرا معنی اس آیت کا یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عبادت خصوصاً قیام میں بہت محنت کرتے، تو اللہ تعالیٰ نے اس میں میانہ روی کا حکم دیا اور فرمایا: «{ فَاقْرَءُوْا مَا تَيَسَّرَ مِنَ الْقُرْاٰنِ }» [ المزمل: ۲۰ ] یعنی اے نبی! آپ جتنا قیام آسانی سے کر سکتے ہیں کریں۔ تفصیل کے لیے سورۂ مزمل کا آخری رکوع ملاحظہ فرمائیں۔
اِلَّا تَذۡکِرَۃً لِّمَنۡ یَّخۡشٰی ۙ﴿۳﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
یہ تو ایک یاد دہانی ہے ہر اس شخص کے لیے جو ڈرے
مولانا محمد جوناگڑھی
بلکہ اس کی نصیحت کے لئے جو اللہ سے ڈرتا ہے
احمد رضا خان بریلوی
ہاں اس کو نصیحت جو ڈر رکھتا ہو
علامہ محمد حسین نجفی
بلکہ (اس لئے نازل کیا ہے کہ) جو (خدا سے) ڈرنے والا ہے اس کی یاددہانی ہو۔
عبدالسلام بن محمد
بلکہ نصیحت کرنے کے لیے، اس کو جو ڈرتا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
علم قرآن سب سے بڑی دولت ہے ٭٭

سورۃ البقرہ کی تفسیر کے شروع میں سورتوں کے اول حروف مقطعات کی تفسیر پوری طرح بیان ہو چکی ہے جسے دوبارہ بیان کرنے کی ضرورت نہیں۔ گو یہ بھی مروی ہے کہ مراد طہٰ سے اے شخص ہے، کہتے ہیں کہ یہ نبطی کلمہ ہے۔ کوئی کہتا ہے معرب ہے۔ یہ بھی مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں ایک پاؤں زمین پر ٹکاتے اور دوسرا اٹھا لیتے تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری۔ ۱؎ [ضعیف:اس کی سند میں ابو جعفر راوی ضعیف ہے] ‏‏‏‏ یعنی طہٰ یعنی زمین پر دونوں پاؤں ٹکا دیا کر۔ ہم نے یہ قرآن تجھ پر اس لیے نہیں اتارا کہ تجھے مشقت و تکلیف میں ڈال دیں۔ کہتے ہیں کہ جب قرآن پر عمل نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اور آپ کے صحابہ رضی اللہ عنہم نے شروع کر دیا تو مشرکین کہنے لگے کہ یہ لوگ تو اچھی خاصی مصیبت میں پڑ گئے، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری کہ یہ پاک قرآن تمہیں مشقت میں ڈالنے کو نہیں اترا بلکہ یہ نیکوں کے لیے عبرت ہے، یہ الہامی علم ہے۔ جسے یہ ملا اسے بہت بڑی دولت مل گئی۔ چنانچہ بخاری و مسلم میں ہے کہ { جس کے ساتھ اللہ کا ارادہ بھلائی کا ہو جاتا ہے اسے دین کی سمجھ عطا فرماتا ہے۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:71] ‏‏‏‏

حافظ ابوالقاسم طبرانی رحمتہ اللہ علیہ ایک مرفوع صحیح حدیث لائے ہیں کہ { قیامت کے دن جب کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے فیصلے فرمانے کے لیے اپنی کرسی پر اجلاس فرمائے گا تو علماء سے فرمائے گا کہ میں نے اپنا علم اور اپنی حکمت تمہیں اسی لیے عطا فرمائی تھی کہ تمہارے تمام گناہوں کو بخش دوں اور کچھ پرواہ نہ کروں کہ تم نے کیا کیا ہے؟ } ۱؎ [طبرانی کبیر:1381:ضعیف] ‏‏‏‏ پہلے لوگ اللہ کی عبادت کے وقت اپنے آپ کو رسیوں میں لٹکا لیا کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے یہ مشقت اپنے اس کلام پاک کے ذریعہ آسان کر دی اور فرما دیا کہ یہ قرآن تمہیں مشقت میں ڈالنا نہیں چاہتا جیسے فرمان ہے، «فَاقْرَءُوا مَا تَيَسَّرَ مِنَ الْقُرْآنِ» ۱؎ [73-المزمل:20] ‏‏‏‏ ’ جس قدر آسانی سے پڑھا جائے پڑھ لیا کرو ‘ یہ قرآن شقاوت اور بدبختی کی چیز نہیں بلکہ رحمت و نور اور دلیل جنت ہے۔ یہ قرآن نیک لوگوں کے لیے جن کے دلوں میں خوف الٰہی ہے، تذکرہ وعظ و ہدایت و رحمت ہے۔ اسے سن کر اللہ کے نیک انجام بندے حلال حرام سے واقف ہو جاتے ہیں اور اپنے دونوں جہان سنوار لیتے ہیں۔ یہ قرآن تیرے رب کا کلام ہے اسی کی طرف سے نازل شدہ ہے جو ہرچیز کا خالق مالک رازق قادر ہے۔ جس نے زمین کو نیچی اور کثیف بنایا ہے اور جس نے آسمان کو اونچا اور لطیف بنایا ہے۔ ترمذی وغیرہ کی صحیح حدیث میں ہے کہ { ہر آسمان کی موٹائی پانچ سو سال کی راہ ہے اور ہر آسمان سے دوسرے آسمان تک کا فاصلہ بھی پانچ سو سال کا ہے۔ } ۱؎ [سنن ترمذي:3298،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏‏‏‏

حضرت عباس رضی اللہ عنہ والی حدیث امام ابن ابی حاتم نے اسی آیت کی تفسیر میں وارد کی ہے۔ وہ رحمان اپنے عرش پر مستوی ہے اس کی پوری تفسیر سورۃ الاعراف میں گزر چکی ہے یہاں وارد کرنے کی ضرورت نہیں۔ سلامتی والا طریقہ یہی ہے کہ آیات و احادیث صفات کو بطریق سلف صالحین ان کے ظاہری الفاظ کے مطابق ہی مانا جائے بغیر کیفیت طلبی کے اور بغیر تحریف و تشبیہ اور تعطیل و تمثیل کے۔ تمام چیزیں اللہ کی ہی ملک ہیں۔ اسی کے قبضے اور ارادے اور چاہت تلے ہیں۔ وہی سب کا خالق، مالک، الٰہ اور رب ہے کسی کو اس کے ساتھ کسی طرح کی شرکت نہیں۔ ساتویں زمین کے نیچے بھی جو کچھ ہے سب اسی کا ہے۔ کعب رحمہ اللہ کہتے ہیں اس زمین کے نیچے پانی ہے پانی کے نیچے پھر زمین ہے پھر اس کے نیچے پانی ہے اسی طرح مسلسل، پھر اس کے نیچے ایک پتھر ہے اس کے نیچے ایک فرشتہ ہے اس کے نیچے ایک مچھلی ہے، جس کے دونوں بازو عرش تک ہیں۔ اس کے نیچے ہوا، خلا اور ظلمت ہے یہیں تک انسان کا علم ہے باقی اللہ جانے۔

حدیث میں ہے { ہر دو زمینوں کے درمیان پانچ سو سال کا فاصلہ ہے۔ سب سے اوپر کی زمین مچھلی کی پشت پر ہے جس کے دونوں بازوں آسمان سے ملے ہوئے ہیں، یہ مچھلی ایک پتھر پر ہے، وہ پتھر فرشتے کے ہاتھ میں ہے۔ دوسری زمین ہواؤں کا خزانہ ہے۔ تیسری میں جہنم کے پتھر ہیں، چوتھی میں جہنم کی گندھک ہے، پانچویں میں جہنم کے سانپ ہیں، چھٹی میں جہنمی بچھو ہیں۔ ساتویں میں دوزخ ہے وہیں ابلیس جکڑا ہوا ہے ایک ہاتھ آگے ہے ایک پیچھے ہے، جب اللہ چاہتا ہے اسے چھوڑ دیتا ہے۔ } یہ حدیث بہت ہی غریب ہے اور اس کا فرمان رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے ہونا بھی غور طلب ہے۔ ۱؎ [مستدرک حاکم:594/4:ضعیف] ‏‏‏‏ مسند ابویعلیٰ میں ہے، جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہا فرماتے ہیں، ہم غزوہ تبوک سے لوٹ رہے تھے گرمی سخت تڑاخے کی پڑ رہی تھی دو دو چار چار آدمی منتشر ہو کر چل رہے تھے، میں لشکر کے شروع میں تھا، اچانک ایک شخص آیا اور سلام کر کے پوچھنے لگا، تم میں سے محمد (‏‏‏‏صلی اللہ علیہ وسلم )‏‏‏‏‏‏‏‏ کون ہیں؟۔ میں اس کے ساتھ ہو گیا میرے ساتھی آگے بڑھ گئے۔ جب لشکر کے درمیان کا حصہ آیا تو اسی میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تھے، میں نے اسے بتلایا کہ یہ ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سرخ رنگ کی اونٹنی پر سوار ہیں سر پر بوجہ دھوپ کے کپڑا ڈالے ہوئے ہیں، { وہ آپ کی سواری کے پاس گیا اور نکیل تھام کر عرض کرنے لگا کہ آپ ہی محمد ہیں صلی اللہ علیہ وسلم ؟ آپ نے جواب دیا کہ ہاں، اس نے کہا، میں چند باتیں آپ سے دریافت کرنا چاہتا ہوں جنہیں زمین والوں میں سے بجز ایک دو آدمیوں کے اور کوئی نہیں جانتا۔ }

{ آپ نے فرمایا تمہیں جو کچھ پوچھنا ہو پوچھ لو۔ اس نے کہا بتائیے انبیاء اللہ سوتے بھی ہیں؟ آپ نے فرمایا ان کی آنکھیں سو جاتی ہیں لیکن دل جاگتا رہتا ہے۔ اس نے کہا بجا ارشاد ہوا۔ اب یہ فرمائیے کہ کیا وجہ ہے کہ بچہ کبھی تو باپ کی شباہت پر ہوتا ہے کبھی ماں کی؟ آپ نے فرمایا سنو مرد کا پانی سفید اور غلیظ ہے اور عورت کا پانی پتلا ہے جو پانی غالب آگیا اسی پر شبیہ جاتی ہے۔ اس نے کہا یہ بھی بجا ارشاد فرمایا۔ اچھا یہ بھی فرمائیے کہ بچے کے کون سے اعضاء مرد کے پانی سے بنتے ہیں اور کون سے عورت کے پانی سے؟ فرمایا مرد کے پانی سے ہڈیاں، رگ اور پٹھے اور عورت کے پانی سے گوشت، خون اور بال۔ اس نے کہا یہ بھی صحیح جواب ملا۔ اچھا یہ بتلائیے کہ اس زمین کے نیچے کیا ہے؟ فرمایا ایک مخلوق ہے۔ کہا ان کے نیچے کیا ہے؟ فرمایا زمین۔ کہا اس کے نیچے کیا ہے؟ فرمایا پانی۔ کہا پانی کے نیچے کیا ہے؟ فرمایا اندھیرا۔ کہا اس کے نیچے؟ فرمایا ہوا۔ کہا ہوا کے نیچے؟ فرمایا تر مٹی۔ کہا اس کے نیچے؟ آپ کے آنسو نکل آئے اور ارشاد فرمایا کہ مخلوق کا علم تو یہیں تک پہنچ کر ختم ہو گیا۔ اب خالق کو ہی اس کے آگے کا علم ہے۔ اے سوال کرنے والے اس کی بابت تو جس سے سوال کر رہا ہے وہ تجھ سے زیادہ جاننے والا نہیں۔ اس نے آپ کی صداقت کی گواہی دی۔ آپ نے فرمایا اسے پہچانا بھی؟ لوگوں نے کہا اللہ اور اس کے رسول کو ہی پورا علم ہے آپ نے فرمایا یہ جبرائیل علیہ السلام تھے۔ } ۱؎ [مسند ابویعلیٰ:ضعیف جداً] ‏‏‏‏ یہ حدیث بھی بہت ہی غریب ہے اور اس میں جو واقعہ ہے، بڑا ہی عجیب ہے اس کے راویوں میں قاسم بن عبدالرحمٰن کا تفرد ہے جنہیں امام یحییٰ بن معین رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ یہ کسی چیز کے برابر نہیں۔ امام ابوحاتم رازی رحمہ اللہ بھی انہیں ضعیف کہتے ہیں۔ امام ابن عدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ معروف شخص نہیں اور اس حدیث میں خلط ملط کر دیا ہے۔ اللہ ہی جانتا ہے کہ جان بوجھ کر ایسا کیا ہے یا ایسی ہی کسی سے لی ہے۔ اللہ وہ ہے جو ظاہر و باطن، اونچی نیچی، چھوٹی بڑی سب کچھ جانتا ہے۔

جیسے فرمان ہے «قُلْ أَنزَلَهُ الَّذِي يَعْلَمُ السِّرَّ فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ۚ إِنَّهُ كَانَ غَفُورًا رَّحِيمًا» ۱؎ [25-الفرقان:6] ‏‏‏‏ ’ اعلان کر دے کہ اس قرآن کو اس نے نازل فرمایا ہے جو آسمان و زمین کے اسرار سے واقف ہے جو غفور و رحیم ہے۔ ‘ ابن آدم خود جو چھپائے اور جو اس پر خود پر بھی چھپا ہوا ہو اللہ تعالیٰ کے پاس کھلا ہوا ہے۔ اس کے عمل کو اس کے علم سے بھی پہلے اللہ تعالیٰ جانتا ہے۔ تمام گزشتہ موجودہ اور آئندہ مخلوق کا علم اس کے پاس ایسا ہی ہے جیسا ایک شخص کا علم۔ سب کی پیدائش اور مار کر جلانا بھی اس کے نزدیک ایک شخص کی پیدائش اور اس کی موت کے بعد کی دوسری بار کی زندگی کے مثل ہے۔ تیرے دل کے خیالات کو اور جو خیالات نہیں آتے ان کو بھی وہ جانتا ہے۔ تجھے زیادہ سے زیادہ آج کے پوشیدہ اعمال کی خبر ہے اور اسے تو تم کل کیا چھپاؤ گے ان کا بھی علم ہے۔ ارادے ہی نہیں بلکہ وسوسے بھی اس پر ظاہر ہیں۔ کئے ہوئے عمل اور جو کرے گا وہ عمل بھی اس پر ظاہر ہیں۔ وہی معبود برحق ہے اعلیٰ صفتیں اور بہترین نام اسی کے ہیں۔ سورۃ الاعراف کی تفسیر کے آخر میں اسماء حسنی کے متعلق حدیثیں گزر چکی ہیں۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 3){ اِلَّا تَذْكِرَةً لِّمَنْ يَّخْشٰى:اِلَّا “ } کے ساتھ استثنا منقطع ہے، کیونکہ {” تَذْكِرَةً “} شقاوت میں شامل نہیں ہے، لہٰذا یہاں {” اِلَّا “ } بمعنی {” لٰكِنَّ “} ہے، چنانچہ یہاں اس کا ترجمہ ”بلکہ“ کیا گیا ہے اور یہ جو فرمایا کہ اس قرآن کو اس شخص کی نصیحت کے لیے اتارا جو ڈرتا ہے، اس سے مراد یہ نہیں کہ قرآن دوسرے لوگوں کی نصیحت کے لیے نہیں اترا، کیونکہ قرآن بلکہ پورا دین ہر انس و جن تک پہنچانے کے لیے اتارا گیا ہے، جیسا کہ فرمایا: «{ يٰۤاَيُّهَا الرَّسُوْلُ بَلِّغْ مَاۤ اُنْزِلَ اِلَيْكَ مِنْ رَّبِّكَ }» [ المائدۃ: ۶۷ ] ”اے رسول! پہنچا دے جو کچھ تیری طرف تیرے رب کی جانب سے نازل کیا گیا ہے۔“ اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم قیامت تک آنے والے تمام لوگوں کی طرف بھیجے گئے ہیں۔ (دیکھیے سبا: ۲۸) بلکہ مقصد یہ ہے کہ اس سے فائدہ وہی اٹھائے گا جو اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہے، جسے اللہ اور آخرت کا ڈر نہیں اسے صحیح راستے پر ڈال دینا آپ کے ذمے نہیں، جیسا کہ فرمایا: «‏‏‏‏سَيَذَّكَّرُ مَنْ يَّخْشٰى (10) وَ يَتَجَنَّبُهَا الْاَشْقَى» ‏‏‏‏ [ الأعلٰی: ۱۰، ۱۱ ] ”عنقریب نصیحت حاصل کرے گا جو ڈرتا ہے اور اس سے علیحدہ رہے گا جو سب سے بڑا بدنصیب ہے۔“ علاوہ ازیں دیکھیے سورۂ بقرہ (۱ تا ۵)، سورۂ ق (۴۵) اور نازعات (۴۵)۔
تَنۡزِیۡلًا مِّمَّنۡ خَلَقَ الۡاَرۡضَ وَ السَّمٰوٰتِ الۡعُلٰی ؕ﴿۴﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
نازل کیا گیا ہے اُس ذات کی طرف سے جس نے پیدا کیا ہے زمین کو اور بلند آسمانوں کو
مولانا محمد جوناگڑھی
اس کا اتارنا اس کی طرف سے ہے جس نے زمین کو اور بلند آسمانوں کو پیدا کیا ہے
احمد رضا خان بریلوی
اس کا اتارا ہوا جس نے زمین اور اونچے آسمان بنائے،
علامہ محمد حسین نجفی
(یہ) اس ہستی کی طرف سے نازل ہوا ہے جس نے زمین اور بلند آسمانوں کو پیدا کیا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اس کی طرف سے اتارا ہوا ہے جس نے زمین کو اور اونچے آسمانوں کو پیدا کیا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
علم قرآن سب سے بڑی دولت ہے ٭٭

سورۃ البقرہ کی تفسیر کے شروع میں سورتوں کے اول حروف مقطعات کی تفسیر پوری طرح بیان ہو چکی ہے جسے دوبارہ بیان کرنے کی ضرورت نہیں۔ گو یہ بھی مروی ہے کہ مراد طہٰ سے اے شخص ہے، کہتے ہیں کہ یہ نبطی کلمہ ہے۔ کوئی کہتا ہے معرب ہے۔ یہ بھی مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں ایک پاؤں زمین پر ٹکاتے اور دوسرا اٹھا لیتے تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری۔ ۱؎ [ضعیف:اس کی سند میں ابو جعفر راوی ضعیف ہے] ‏‏‏‏ یعنی طہٰ یعنی زمین پر دونوں پاؤں ٹکا دیا کر۔ ہم نے یہ قرآن تجھ پر اس لیے نہیں اتارا کہ تجھے مشقت و تکلیف میں ڈال دیں۔ کہتے ہیں کہ جب قرآن پر عمل نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اور آپ کے صحابہ رضی اللہ عنہم نے شروع کر دیا تو مشرکین کہنے لگے کہ یہ لوگ تو اچھی خاصی مصیبت میں پڑ گئے، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری کہ یہ پاک قرآن تمہیں مشقت میں ڈالنے کو نہیں اترا بلکہ یہ نیکوں کے لیے عبرت ہے، یہ الہامی علم ہے۔ جسے یہ ملا اسے بہت بڑی دولت مل گئی۔ چنانچہ بخاری و مسلم میں ہے کہ { جس کے ساتھ اللہ کا ارادہ بھلائی کا ہو جاتا ہے اسے دین کی سمجھ عطا فرماتا ہے۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:71] ‏‏‏‏

حافظ ابوالقاسم طبرانی رحمتہ اللہ علیہ ایک مرفوع صحیح حدیث لائے ہیں کہ { قیامت کے دن جب کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے فیصلے فرمانے کے لیے اپنی کرسی پر اجلاس فرمائے گا تو علماء سے فرمائے گا کہ میں نے اپنا علم اور اپنی حکمت تمہیں اسی لیے عطا فرمائی تھی کہ تمہارے تمام گناہوں کو بخش دوں اور کچھ پرواہ نہ کروں کہ تم نے کیا کیا ہے؟ } ۱؎ [طبرانی کبیر:1381:ضعیف] ‏‏‏‏ پہلے لوگ اللہ کی عبادت کے وقت اپنے آپ کو رسیوں میں لٹکا لیا کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے یہ مشقت اپنے اس کلام پاک کے ذریعہ آسان کر دی اور فرما دیا کہ یہ قرآن تمہیں مشقت میں ڈالنا نہیں چاہتا جیسے فرمان ہے، «فَاقْرَءُوا مَا تَيَسَّرَ مِنَ الْقُرْآنِ» ۱؎ [73-المزمل:20] ‏‏‏‏ ’ جس قدر آسانی سے پڑھا جائے پڑھ لیا کرو ‘ یہ قرآن شقاوت اور بدبختی کی چیز نہیں بلکہ رحمت و نور اور دلیل جنت ہے۔ یہ قرآن نیک لوگوں کے لیے جن کے دلوں میں خوف الٰہی ہے، تذکرہ وعظ و ہدایت و رحمت ہے۔ اسے سن کر اللہ کے نیک انجام بندے حلال حرام سے واقف ہو جاتے ہیں اور اپنے دونوں جہان سنوار لیتے ہیں۔ یہ قرآن تیرے رب کا کلام ہے اسی کی طرف سے نازل شدہ ہے جو ہرچیز کا خالق مالک رازق قادر ہے۔ جس نے زمین کو نیچی اور کثیف بنایا ہے اور جس نے آسمان کو اونچا اور لطیف بنایا ہے۔ ترمذی وغیرہ کی صحیح حدیث میں ہے کہ { ہر آسمان کی موٹائی پانچ سو سال کی راہ ہے اور ہر آسمان سے دوسرے آسمان تک کا فاصلہ بھی پانچ سو سال کا ہے۔ } ۱؎ [سنن ترمذي:3298،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏‏‏‏

حضرت عباس رضی اللہ عنہ والی حدیث امام ابن ابی حاتم نے اسی آیت کی تفسیر میں وارد کی ہے۔ وہ رحمان اپنے عرش پر مستوی ہے اس کی پوری تفسیر سورۃ الاعراف میں گزر چکی ہے یہاں وارد کرنے کی ضرورت نہیں۔ سلامتی والا طریقہ یہی ہے کہ آیات و احادیث صفات کو بطریق سلف صالحین ان کے ظاہری الفاظ کے مطابق ہی مانا جائے بغیر کیفیت طلبی کے اور بغیر تحریف و تشبیہ اور تعطیل و تمثیل کے۔ تمام چیزیں اللہ کی ہی ملک ہیں۔ اسی کے قبضے اور ارادے اور چاہت تلے ہیں۔ وہی سب کا خالق، مالک، الٰہ اور رب ہے کسی کو اس کے ساتھ کسی طرح کی شرکت نہیں۔ ساتویں زمین کے نیچے بھی جو کچھ ہے سب اسی کا ہے۔ کعب رحمہ اللہ کہتے ہیں اس زمین کے نیچے پانی ہے پانی کے نیچے پھر زمین ہے پھر اس کے نیچے پانی ہے اسی طرح مسلسل، پھر اس کے نیچے ایک پتھر ہے اس کے نیچے ایک فرشتہ ہے اس کے نیچے ایک مچھلی ہے، جس کے دونوں بازو عرش تک ہیں۔ اس کے نیچے ہوا، خلا اور ظلمت ہے یہیں تک انسان کا علم ہے باقی اللہ جانے۔

حدیث میں ہے { ہر دو زمینوں کے درمیان پانچ سو سال کا فاصلہ ہے۔ سب سے اوپر کی زمین مچھلی کی پشت پر ہے جس کے دونوں بازوں آسمان سے ملے ہوئے ہیں، یہ مچھلی ایک پتھر پر ہے، وہ پتھر فرشتے کے ہاتھ میں ہے۔ دوسری زمین ہواؤں کا خزانہ ہے۔ تیسری میں جہنم کے پتھر ہیں، چوتھی میں جہنم کی گندھک ہے، پانچویں میں جہنم کے سانپ ہیں، چھٹی میں جہنمی بچھو ہیں۔ ساتویں میں دوزخ ہے وہیں ابلیس جکڑا ہوا ہے ایک ہاتھ آگے ہے ایک پیچھے ہے، جب اللہ چاہتا ہے اسے چھوڑ دیتا ہے۔ } یہ حدیث بہت ہی غریب ہے اور اس کا فرمان رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے ہونا بھی غور طلب ہے۔ ۱؎ [مستدرک حاکم:594/4:ضعیف] ‏‏‏‏ مسند ابویعلیٰ میں ہے، جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہا فرماتے ہیں، ہم غزوہ تبوک سے لوٹ رہے تھے گرمی سخت تڑاخے کی پڑ رہی تھی دو دو چار چار آدمی منتشر ہو کر چل رہے تھے، میں لشکر کے شروع میں تھا، اچانک ایک شخص آیا اور سلام کر کے پوچھنے لگا، تم میں سے محمد (‏‏‏‏صلی اللہ علیہ وسلم )‏‏‏‏‏‏‏‏ کون ہیں؟۔ میں اس کے ساتھ ہو گیا میرے ساتھی آگے بڑھ گئے۔ جب لشکر کے درمیان کا حصہ آیا تو اسی میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تھے، میں نے اسے بتلایا کہ یہ ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سرخ رنگ کی اونٹنی پر سوار ہیں سر پر بوجہ دھوپ کے کپڑا ڈالے ہوئے ہیں، { وہ آپ کی سواری کے پاس گیا اور نکیل تھام کر عرض کرنے لگا کہ آپ ہی محمد ہیں صلی اللہ علیہ وسلم ؟ آپ نے جواب دیا کہ ہاں، اس نے کہا، میں چند باتیں آپ سے دریافت کرنا چاہتا ہوں جنہیں زمین والوں میں سے بجز ایک دو آدمیوں کے اور کوئی نہیں جانتا۔ }

{ آپ نے فرمایا تمہیں جو کچھ پوچھنا ہو پوچھ لو۔ اس نے کہا بتائیے انبیاء اللہ سوتے بھی ہیں؟ آپ نے فرمایا ان کی آنکھیں سو جاتی ہیں لیکن دل جاگتا رہتا ہے۔ اس نے کہا بجا ارشاد ہوا۔ اب یہ فرمائیے کہ کیا وجہ ہے کہ بچہ کبھی تو باپ کی شباہت پر ہوتا ہے کبھی ماں کی؟ آپ نے فرمایا سنو مرد کا پانی سفید اور غلیظ ہے اور عورت کا پانی پتلا ہے جو پانی غالب آگیا اسی پر شبیہ جاتی ہے۔ اس نے کہا یہ بھی بجا ارشاد فرمایا۔ اچھا یہ بھی فرمائیے کہ بچے کے کون سے اعضاء مرد کے پانی سے بنتے ہیں اور کون سے عورت کے پانی سے؟ فرمایا مرد کے پانی سے ہڈیاں، رگ اور پٹھے اور عورت کے پانی سے گوشت، خون اور بال۔ اس نے کہا یہ بھی صحیح جواب ملا۔ اچھا یہ بتلائیے کہ اس زمین کے نیچے کیا ہے؟ فرمایا ایک مخلوق ہے۔ کہا ان کے نیچے کیا ہے؟ فرمایا زمین۔ کہا اس کے نیچے کیا ہے؟ فرمایا پانی۔ کہا پانی کے نیچے کیا ہے؟ فرمایا اندھیرا۔ کہا اس کے نیچے؟ فرمایا ہوا۔ کہا ہوا کے نیچے؟ فرمایا تر مٹی۔ کہا اس کے نیچے؟ آپ کے آنسو نکل آئے اور ارشاد فرمایا کہ مخلوق کا علم تو یہیں تک پہنچ کر ختم ہو گیا۔ اب خالق کو ہی اس کے آگے کا علم ہے۔ اے سوال کرنے والے اس کی بابت تو جس سے سوال کر رہا ہے وہ تجھ سے زیادہ جاننے والا نہیں۔ اس نے آپ کی صداقت کی گواہی دی۔ آپ نے فرمایا اسے پہچانا بھی؟ لوگوں نے کہا اللہ اور اس کے رسول کو ہی پورا علم ہے آپ نے فرمایا یہ جبرائیل علیہ السلام تھے۔ } ۱؎ [مسند ابویعلیٰ:ضعیف جداً] ‏‏‏‏ یہ حدیث بھی بہت ہی غریب ہے اور اس میں جو واقعہ ہے، بڑا ہی عجیب ہے اس کے راویوں میں قاسم بن عبدالرحمٰن کا تفرد ہے جنہیں امام یحییٰ بن معین رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ یہ کسی چیز کے برابر نہیں۔ امام ابوحاتم رازی رحمہ اللہ بھی انہیں ضعیف کہتے ہیں۔ امام ابن عدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ معروف شخص نہیں اور اس حدیث میں خلط ملط کر دیا ہے۔ اللہ ہی جانتا ہے کہ جان بوجھ کر ایسا کیا ہے یا ایسی ہی کسی سے لی ہے۔ اللہ وہ ہے جو ظاہر و باطن، اونچی نیچی، چھوٹی بڑی سب کچھ جانتا ہے۔

جیسے فرمان ہے «قُلْ أَنزَلَهُ الَّذِي يَعْلَمُ السِّرَّ فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ۚ إِنَّهُ كَانَ غَفُورًا رَّحِيمًا» ۱؎ [25-الفرقان:6] ‏‏‏‏ ’ اعلان کر دے کہ اس قرآن کو اس نے نازل فرمایا ہے جو آسمان و زمین کے اسرار سے واقف ہے جو غفور و رحیم ہے۔ ‘ ابن آدم خود جو چھپائے اور جو اس پر خود پر بھی چھپا ہوا ہو اللہ تعالیٰ کے پاس کھلا ہوا ہے۔ اس کے عمل کو اس کے علم سے بھی پہلے اللہ تعالیٰ جانتا ہے۔ تمام گزشتہ موجودہ اور آئندہ مخلوق کا علم اس کے پاس ایسا ہی ہے جیسا ایک شخص کا علم۔ سب کی پیدائش اور مار کر جلانا بھی اس کے نزدیک ایک شخص کی پیدائش اور اس کی موت کے بعد کی دوسری بار کی زندگی کے مثل ہے۔ تیرے دل کے خیالات کو اور جو خیالات نہیں آتے ان کو بھی وہ جانتا ہے۔ تجھے زیادہ سے زیادہ آج کے پوشیدہ اعمال کی خبر ہے اور اسے تو تم کل کیا چھپاؤ گے ان کا بھی علم ہے۔ ارادے ہی نہیں بلکہ وسوسے بھی اس پر ظاہر ہیں۔ کئے ہوئے عمل اور جو کرے گا وہ عمل بھی اس پر ظاہر ہیں۔ وہی معبود برحق ہے اعلیٰ صفتیں اور بہترین نام اسی کے ہیں۔ سورۃ الاعراف کی تفسیر کے آخر میں اسماء حسنی کے متعلق حدیثیں گزر چکی ہیں۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 4){” تَنْزِيْلًا “} فعل محذوف کی وجہ سے منصوب ہے جو {” مَاۤ اَنْزَلْنَا عَلَيْكَ “} سے معلوم ہو رہا ہے، یعنی {”نُزِّلَ هٰذَا الْقُرْآنُ تَنْزِيْلاً۔“} تنزیل کا معنی تھوڑا تھوڑا کرکے اتارنا ہے، اس کی حکمت کے لیے دیکھیے سورۂ فرقان کی آیت (۳۲) {” الْعُلٰى”عُلْيَا“} کی جمع ہے جو{ ”أَعْلٰي“} کی مؤنث ہے، جیسے {”كُبْرٰي“ } کی جمع {”كُبَرٌ“} ہے، یعنی یہ قرآن کسی جادوگر، کاہن، شاعر، شیطان، جن، انسان، فرشتے یا کسی بھی مخلوق کا کلام نہیں، بلکہ اس خالق کا نازل کردہ ہے جو صرف تمھارا ہی خالق نہیں بلکہ اس عظیم الشان زمین کا، جس کے اوپر اور ان بے حد بلند و بالا آسمانوں کا، جن کے نیچے تم رہتے ہو، سب کا خالق وہی ہے۔ دیکھیے سورۂ نازعات (۲۷ تا ۳۳) اس سے اس قرآن کی عظمت سمجھ لو کہ کیا یہ اپنے لانے والے یا اپنے ماننے والوں کے لیے کسی طرح بھی باعث شقاوت ہو سکتا ہے؟ ہر گز نہیں! بلکہ یہ ان کے لیے سراسر سعادت ہی سعادت ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ إِنَّ الدِّيْنَ يُسْرٌ وَلَنْ يُّشَادَّ الدِّيْنَ أَحَدٌ إِلَّا غَلَبَهٗ فَسَدِّدُوْا وَقَارِبُوْا وَأَبْشِرُوْا وَاسْتَعِيْنُوْا بِالْغَدْوَةِ وَالرَّوْحَةِ وَشَيْءٍ مِنَ الدُّلْجَةِ ] ”بے شک یہ دین آسان ہے اور کوئی بھی شخص دین میں جب بھی بے جا سختی کرے گا تو وہ اس پر غالب آ جائے گا۔ تو تم سیدھے چلو اور قریب رہو اور (اللہ سے ملنے والے اجر پر) خوش ہو جاؤ اور صبح و شام اور رات کے کچھ حصے (میں عبادت) کے ساتھ مددحاصل کرو۔“ [ بخاري، الإیمان، باب الدین یسر: ۳۹، عن أبي ھریرۃ رضی اللہ عنہ ]
اَلرَّحۡمٰنُ عَلَی الۡعَرۡشِ اسۡتَوٰی ﴿۵﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
وہ رحمان (کائنات کے) تخت سلطنت پر جلوہ فرما ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
جو رحمٰن ہے، عرش پر قائم ہے
احمد رضا خان بریلوی
وہ بڑی مہر والا، اس نے عرش پر استواء فرمایا جیسا اس کی شان کے لائق ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
وہ خدائے رحمن ہے جس کا عرش پر اقتدار قائم ہے۔
عبدالسلام بن محمد
وہ بے حد رحم والا عرش پر بلند ہوا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
علم قرآن سب سے بڑی دولت ہے ٭٭

سورۃ البقرہ کی تفسیر کے شروع میں سورتوں کے اول حروف مقطعات کی تفسیر پوری طرح بیان ہو چکی ہے جسے دوبارہ بیان کرنے کی ضرورت نہیں۔ گو یہ بھی مروی ہے کہ مراد طہٰ سے اے شخص ہے، کہتے ہیں کہ یہ نبطی کلمہ ہے۔ کوئی کہتا ہے معرب ہے۔ یہ بھی مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں ایک پاؤں زمین پر ٹکاتے اور دوسرا اٹھا لیتے تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری۔ ۱؎ [ضعیف:اس کی سند میں ابو جعفر راوی ضعیف ہے] ‏‏‏‏ یعنی طہٰ یعنی زمین پر دونوں پاؤں ٹکا دیا کر۔ ہم نے یہ قرآن تجھ پر اس لیے نہیں اتارا کہ تجھے مشقت و تکلیف میں ڈال دیں۔ کہتے ہیں کہ جب قرآن پر عمل نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اور آپ کے صحابہ رضی اللہ عنہم نے شروع کر دیا تو مشرکین کہنے لگے کہ یہ لوگ تو اچھی خاصی مصیبت میں پڑ گئے، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری کہ یہ پاک قرآن تمہیں مشقت میں ڈالنے کو نہیں اترا بلکہ یہ نیکوں کے لیے عبرت ہے، یہ الہامی علم ہے۔ جسے یہ ملا اسے بہت بڑی دولت مل گئی۔ چنانچہ بخاری و مسلم میں ہے کہ { جس کے ساتھ اللہ کا ارادہ بھلائی کا ہو جاتا ہے اسے دین کی سمجھ عطا فرماتا ہے۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:71] ‏‏‏‏

حافظ ابوالقاسم طبرانی رحمتہ اللہ علیہ ایک مرفوع صحیح حدیث لائے ہیں کہ { قیامت کے دن جب کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے فیصلے فرمانے کے لیے اپنی کرسی پر اجلاس فرمائے گا تو علماء سے فرمائے گا کہ میں نے اپنا علم اور اپنی حکمت تمہیں اسی لیے عطا فرمائی تھی کہ تمہارے تمام گناہوں کو بخش دوں اور کچھ پرواہ نہ کروں کہ تم نے کیا کیا ہے؟ } ۱؎ [طبرانی کبیر:1381:ضعیف] ‏‏‏‏ پہلے لوگ اللہ کی عبادت کے وقت اپنے آپ کو رسیوں میں لٹکا لیا کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے یہ مشقت اپنے اس کلام پاک کے ذریعہ آسان کر دی اور فرما دیا کہ یہ قرآن تمہیں مشقت میں ڈالنا نہیں چاہتا جیسے فرمان ہے، «فَاقْرَءُوا مَا تَيَسَّرَ مِنَ الْقُرْآنِ» ۱؎ [73-المزمل:20] ‏‏‏‏ ’ جس قدر آسانی سے پڑھا جائے پڑھ لیا کرو ‘ یہ قرآن شقاوت اور بدبختی کی چیز نہیں بلکہ رحمت و نور اور دلیل جنت ہے۔ یہ قرآن نیک لوگوں کے لیے جن کے دلوں میں خوف الٰہی ہے، تذکرہ وعظ و ہدایت و رحمت ہے۔ اسے سن کر اللہ کے نیک انجام بندے حلال حرام سے واقف ہو جاتے ہیں اور اپنے دونوں جہان سنوار لیتے ہیں۔ یہ قرآن تیرے رب کا کلام ہے اسی کی طرف سے نازل شدہ ہے جو ہرچیز کا خالق مالک رازق قادر ہے۔ جس نے زمین کو نیچی اور کثیف بنایا ہے اور جس نے آسمان کو اونچا اور لطیف بنایا ہے۔ ترمذی وغیرہ کی صحیح حدیث میں ہے کہ { ہر آسمان کی موٹائی پانچ سو سال کی راہ ہے اور ہر آسمان سے دوسرے آسمان تک کا فاصلہ بھی پانچ سو سال کا ہے۔ } ۱؎ [سنن ترمذي:3298،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏‏‏‏

حضرت عباس رضی اللہ عنہ والی حدیث امام ابن ابی حاتم نے اسی آیت کی تفسیر میں وارد کی ہے۔ وہ رحمان اپنے عرش پر مستوی ہے اس کی پوری تفسیر سورۃ الاعراف میں گزر چکی ہے یہاں وارد کرنے کی ضرورت نہیں۔ سلامتی والا طریقہ یہی ہے کہ آیات و احادیث صفات کو بطریق سلف صالحین ان کے ظاہری الفاظ کے مطابق ہی مانا جائے بغیر کیفیت طلبی کے اور بغیر تحریف و تشبیہ اور تعطیل و تمثیل کے۔ تمام چیزیں اللہ کی ہی ملک ہیں۔ اسی کے قبضے اور ارادے اور چاہت تلے ہیں۔ وہی سب کا خالق، مالک، الٰہ اور رب ہے کسی کو اس کے ساتھ کسی طرح کی شرکت نہیں۔ ساتویں زمین کے نیچے بھی جو کچھ ہے سب اسی کا ہے۔ کعب رحمہ اللہ کہتے ہیں اس زمین کے نیچے پانی ہے پانی کے نیچے پھر زمین ہے پھر اس کے نیچے پانی ہے اسی طرح مسلسل، پھر اس کے نیچے ایک پتھر ہے اس کے نیچے ایک فرشتہ ہے اس کے نیچے ایک مچھلی ہے، جس کے دونوں بازو عرش تک ہیں۔ اس کے نیچے ہوا، خلا اور ظلمت ہے یہیں تک انسان کا علم ہے باقی اللہ جانے۔

حدیث میں ہے { ہر دو زمینوں کے درمیان پانچ سو سال کا فاصلہ ہے۔ سب سے اوپر کی زمین مچھلی کی پشت پر ہے جس کے دونوں بازوں آسمان سے ملے ہوئے ہیں، یہ مچھلی ایک پتھر پر ہے، وہ پتھر فرشتے کے ہاتھ میں ہے۔ دوسری زمین ہواؤں کا خزانہ ہے۔ تیسری میں جہنم کے پتھر ہیں، چوتھی میں جہنم کی گندھک ہے، پانچویں میں جہنم کے سانپ ہیں، چھٹی میں جہنمی بچھو ہیں۔ ساتویں میں دوزخ ہے وہیں ابلیس جکڑا ہوا ہے ایک ہاتھ آگے ہے ایک پیچھے ہے، جب اللہ چاہتا ہے اسے چھوڑ دیتا ہے۔ } یہ حدیث بہت ہی غریب ہے اور اس کا فرمان رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے ہونا بھی غور طلب ہے۔ ۱؎ [مستدرک حاکم:594/4:ضعیف] ‏‏‏‏ مسند ابویعلیٰ میں ہے، جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہا فرماتے ہیں، ہم غزوہ تبوک سے لوٹ رہے تھے گرمی سخت تڑاخے کی پڑ رہی تھی دو دو چار چار آدمی منتشر ہو کر چل رہے تھے، میں لشکر کے شروع میں تھا، اچانک ایک شخص آیا اور سلام کر کے پوچھنے لگا، تم میں سے محمد (‏‏‏‏صلی اللہ علیہ وسلم )‏‏‏‏‏‏‏‏ کون ہیں؟۔ میں اس کے ساتھ ہو گیا میرے ساتھی آگے بڑھ گئے۔ جب لشکر کے درمیان کا حصہ آیا تو اسی میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تھے، میں نے اسے بتلایا کہ یہ ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سرخ رنگ کی اونٹنی پر سوار ہیں سر پر بوجہ دھوپ کے کپڑا ڈالے ہوئے ہیں، { وہ آپ کی سواری کے پاس گیا اور نکیل تھام کر عرض کرنے لگا کہ آپ ہی محمد ہیں صلی اللہ علیہ وسلم ؟ آپ نے جواب دیا کہ ہاں، اس نے کہا، میں چند باتیں آپ سے دریافت کرنا چاہتا ہوں جنہیں زمین والوں میں سے بجز ایک دو آدمیوں کے اور کوئی نہیں جانتا۔ }

{ آپ نے فرمایا تمہیں جو کچھ پوچھنا ہو پوچھ لو۔ اس نے کہا بتائیے انبیاء اللہ سوتے بھی ہیں؟ آپ نے فرمایا ان کی آنکھیں سو جاتی ہیں لیکن دل جاگتا رہتا ہے۔ اس نے کہا بجا ارشاد ہوا۔ اب یہ فرمائیے کہ کیا وجہ ہے کہ بچہ کبھی تو باپ کی شباہت پر ہوتا ہے کبھی ماں کی؟ آپ نے فرمایا سنو مرد کا پانی سفید اور غلیظ ہے اور عورت کا پانی پتلا ہے جو پانی غالب آگیا اسی پر شبیہ جاتی ہے۔ اس نے کہا یہ بھی بجا ارشاد فرمایا۔ اچھا یہ بھی فرمائیے کہ بچے کے کون سے اعضاء مرد کے پانی سے بنتے ہیں اور کون سے عورت کے پانی سے؟ فرمایا مرد کے پانی سے ہڈیاں، رگ اور پٹھے اور عورت کے پانی سے گوشت، خون اور بال۔ اس نے کہا یہ بھی صحیح جواب ملا۔ اچھا یہ بتلائیے کہ اس زمین کے نیچے کیا ہے؟ فرمایا ایک مخلوق ہے۔ کہا ان کے نیچے کیا ہے؟ فرمایا زمین۔ کہا اس کے نیچے کیا ہے؟ فرمایا پانی۔ کہا پانی کے نیچے کیا ہے؟ فرمایا اندھیرا۔ کہا اس کے نیچے؟ فرمایا ہوا۔ کہا ہوا کے نیچے؟ فرمایا تر مٹی۔ کہا اس کے نیچے؟ آپ کے آنسو نکل آئے اور ارشاد فرمایا کہ مخلوق کا علم تو یہیں تک پہنچ کر ختم ہو گیا۔ اب خالق کو ہی اس کے آگے کا علم ہے۔ اے سوال کرنے والے اس کی بابت تو جس سے سوال کر رہا ہے وہ تجھ سے زیادہ جاننے والا نہیں۔ اس نے آپ کی صداقت کی گواہی دی۔ آپ نے فرمایا اسے پہچانا بھی؟ لوگوں نے کہا اللہ اور اس کے رسول کو ہی پورا علم ہے آپ نے فرمایا یہ جبرائیل علیہ السلام تھے۔ } ۱؎ [مسند ابویعلیٰ:ضعیف جداً] ‏‏‏‏ یہ حدیث بھی بہت ہی غریب ہے اور اس میں جو واقعہ ہے، بڑا ہی عجیب ہے اس کے راویوں میں قاسم بن عبدالرحمٰن کا تفرد ہے جنہیں امام یحییٰ بن معین رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ یہ کسی چیز کے برابر نہیں۔ امام ابوحاتم رازی رحمہ اللہ بھی انہیں ضعیف کہتے ہیں۔ امام ابن عدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ معروف شخص نہیں اور اس حدیث میں خلط ملط کر دیا ہے۔ اللہ ہی جانتا ہے کہ جان بوجھ کر ایسا کیا ہے یا ایسی ہی کسی سے لی ہے۔ اللہ وہ ہے جو ظاہر و باطن، اونچی نیچی، چھوٹی بڑی سب کچھ جانتا ہے۔

جیسے فرمان ہے «قُلْ أَنزَلَهُ الَّذِي يَعْلَمُ السِّرَّ فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ۚ إِنَّهُ كَانَ غَفُورًا رَّحِيمًا» ۱؎ [25-الفرقان:6] ‏‏‏‏ ’ اعلان کر دے کہ اس قرآن کو اس نے نازل فرمایا ہے جو آسمان و زمین کے اسرار سے واقف ہے جو غفور و رحیم ہے۔ ‘ ابن آدم خود جو چھپائے اور جو اس پر خود پر بھی چھپا ہوا ہو اللہ تعالیٰ کے پاس کھلا ہوا ہے۔ اس کے عمل کو اس کے علم سے بھی پہلے اللہ تعالیٰ جانتا ہے۔ تمام گزشتہ موجودہ اور آئندہ مخلوق کا علم اس کے پاس ایسا ہی ہے جیسا ایک شخص کا علم۔ سب کی پیدائش اور مار کر جلانا بھی اس کے نزدیک ایک شخص کی پیدائش اور اس کی موت کے بعد کی دوسری بار کی زندگی کے مثل ہے۔ تیرے دل کے خیالات کو اور جو خیالات نہیں آتے ان کو بھی وہ جانتا ہے۔ تجھے زیادہ سے زیادہ آج کے پوشیدہ اعمال کی خبر ہے اور اسے تو تم کل کیا چھپاؤ گے ان کا بھی علم ہے۔ ارادے ہی نہیں بلکہ وسوسے بھی اس پر ظاہر ہیں۔ کئے ہوئے عمل اور جو کرے گا وہ عمل بھی اس پر ظاہر ہیں۔ وہی معبود برحق ہے اعلیٰ صفتیں اور بہترین نام اسی کے ہیں۔ سورۃ الاعراف کی تفسیر کے آخر میں اسماء حسنی کے متعلق حدیثیں گزر چکی ہیں۔
5۔ 1 بغیر کسی حد بندی اور کیفیت بیان کرنے کے، جس طرح کہ اس کی شان کے لائق ہے یعنی اللہ تعالیٰ عرش پر قائم ہے، لیکن کس طرح اور کیسے؟ یہ کیفیت کسی کو معلوم نہیں۔
(آیت 5) ➊ { اَلرَّحْمٰنُ عَلَى الْعَرْشِ اسْتَوٰى:} یعنی آپ پر قرآن کا نازل کرنا اور زمین اور بلند آسمان کو پیدا کرنا جس بے حد رحم والے کی رحمت کا نتیجہ ہے وہ رحمان عرش پر بلند ہے۔ عرش کا لفظی معنی تخت ہے اور {” اسْتَوٰى “} کا معنی {”اِرْتَفَعَ“} (بلند ہوا) ہے۔ عرش کے اوپر اللہ تعالیٰ ہے اور پوری کائنات کی تدبیر فرما رہا ہے، فرمایا: «{ ثُمَّ اسْتَوٰى عَلَى الْعَرْشِ يُدَبِّرُ الْاَمْرَ }» [یونس: ۳ ] ”پھر وہ عرش پر بلند ہوا، ہر کام کی تدبیر کرتا ہے۔“ اس آیت اور دوسری آیات سے صاف ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ عرش کے اوپر ہے، مگر یہ بات کہ وہ عرش کے اوپر کس طرح ہے؟ کھڑا ہے یا بیٹھا ہے یا کس کیفیت میں ہے؟ کوئی نہیں جانتا، نہ جان سکتا ہے، کیونکہ مخلوق محدود ہے اور وہ لامحدود۔ مخلوق میں سے کوئی بھی خالق کو تو کجا اس کی معلومات میں سے بھی کوئی چیز پوری طرح نہیں جان سکتا، مگر جو وہ چاہے، فرمایا: «{ وَ لَا يُحِيْطُوْنَ بِشَيْءٍ مِّنْ عِلْمِهٖۤ اِلَّا بِمَا شَآءَ }» [ البقرۃ: ۲۵۵ ] ”اور وہ اس کے علم میں سے کسی چیز کا احاطہ نہیں کرتے مگر جتنا وہ چاہے۔“ صحابہ کرام رضی اللہ عنھم نے، جو انبیاء علیھم السلام کے بعد اللہ تعالیٰ کے بارے میں سب سے زیادہ علم رکھنے والے تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ سوال نہیں کیا کہ وہ اپنے تخت پر کس طرح ہے؟ اسی لیے کسی شخص نے امام مالک رحمہ اللہ سے {” اَلرَّحْمٰنُ عَلَى الْعَرْشِ اسْتَوٰى “} کے متعلق پوچھا کہ کس طرح؟ تو انھوں نے فرمایا: {”اَلْاِسْتِوَاءُ مَعْلُوْمٌ وَالْكَيْفُ مَجْهُوْلٌ وَالسُّؤَالُ عَنْهُ بِدْعَةٌ “} ”یہ بات سب جانتے ہیں کہ وہ عرش کے اوپر ہے، مگر یہ کسی کو معلوم نہیں کہ کس طرح ہے اور اس کے متعلق سوال بدعت ہے۔“ مزید فرمایا: ”میں تمھیں برا آدمی خیال کرتا ہوں، اسے میرے پاس سے نکال دو۔“ تو سوال کرنے والا یہ کہتا ہوا چلا گیا کہ اے ابو عبد اللہ! میں نے اس کے متعلق اہل عراق اور اہل شام سے پوچھا مگر کسی کو آپ (کے صحیح جواب) جیسی توفیق عطا نہیں ہوئی۔ (تفسیر بغوی) خلاصہ یہ کہ جو بات اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول نے بتائی ہے اس پر ایمان رکھنا فرض ہے اور وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ عرش پر مستوی ہے، اللہ تعالیٰ کے عرش کو قیامت کے دن آٹھ فرشتے اٹھائے ہوئے ہوں گے (دیکھیے حاقہ: ۱۷) اس کے پائے بھی ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ اَلنَّاسُ يَصْعَقُوْنَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَأَكُوْنُ أَوَّلَ مَنْ يُّفِيْقُ فَإِذَا أَنَا بِمُوْسٰی آخِذٌ بِقَائِمَةٍ مِنْ قَوَائِمِ الْعَرْشِ فَلَا أَدْرِيْ أَفَاقَ قَبْلِيْ أَمْ جُوْزِيَ بِصَعْقَةِ الطُّوْرِ ] ”لوگ قیامت کے دن بے ہوش ہو جائیں گے تو سب سے پہلا شخص جو ہوش میں آئے گا میں ہوں گا۔ اچانک میں موسیٰ علیہ السلام کو دیکھوں گا کہ وہ عرش کے پایوں میں سے ایک پائے کو پکڑے ہوئے ہوں گے، تو میں نہیں جانتا کہ وہ مجھ سے پہلے ہوش میں آ گئے یا انھیں طور کی بے ہوشی کا بدلہ دیا گیا۔“ [ بخاري، أحادیث الأنبیاء، باب قول اللّٰہ تعالٰی: «وواعدنا موسٰی ثلاثین…» ‏‏‏‏: ۳۳۹۸، عن أبي سعید الخدري رضی اللہ عنہ ] مگر اللہ کا عرش پر ہونا یا اس کی کوئی بھی صفت مخلوق کی صفت کے مشابہ نہیں، فرمایا: «{ لَيْسَ كَمِثْلِهٖ شَيْءٌ وَ هُوَ السَّمِيْعُ الْبَصِيْرُ }» [ الشورٰی: ۱۱ ] ”اس کی مثل کوئی چیز نہیں اور وہی سب کچھ سننے والا، سب کچھ دیکھنے والا ہے۔“ تمام سلف کا اللہ تعالیٰ کے عرش پر بلند ہونے اور دوسری صفات کے متعلق یہی عقیدہ ہے۔ خیر القرون گزرنے کے بعد جب عقیدہ و اعمال کی بدعات شروع ہوئیں تو اللہ تعالیٰ کے متعلق آیات و احادیث کی بھی اپنی اپنی بدعات کے مطابق تاویل بلکہ تحریف کی جانے لگی۔ چنانچہ بہت سے لوگوں نے کہا کہ عرش کے اوپر ہونے کا مطلب زمین و آسمان کی حکومت کا مالک ہونا ہے، ورنہ نہ کوئی عرش ہے اور نہ اللہ تعالیٰ اس کے اوپر ہے۔ وہ نہ اوپر ہے نہ نیچے اور نہ کسی اور جہت میں، نہ وہ آسمان دنیا پر اترتا ہے اور نہ قیامت کے دن زمین پر آئے گا۔ غرض تاویل کے نام پر صریح آیات و احادیث کا انکار کر دیا۔ مگر اتنے بڑے بڑے علماء پر تعجب ہوتا ہے کہ انھوں نے اتنی جرأت کے ساتھ اس عرش عظیم و کریم کا انکار کیسے کر دیا کہ جس پر اپنے بلند ہونے کا ذکر خود رحمان نے فرمایا اور جسے قیامت کے دن تمام لوگوں کے اوپر آٹھ فرشتوں کے اٹھانے کا ذکر قرآن کریم نے فرمایا ہے اور جس کے پایوں کا ذکر اس کے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے۔ [ فَنَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنْ ھٰذِہِ الْأَھْوَاءِ الْمُضِلَّۃِ وَالْعَقَائِدِ الْبَاطِلَۃِ وَ خُذْلَانِ رَحْمَۃِ اللّٰہِ تَعَالٰی ] مزید دیکھیے سورۂ اعراف (۵۴)، حاقہ (۱۷) اور سورۂ فجر (۲۲) مفسر جمال الدین قاسمی لکھتے ہیں: ”فلکیات کے جدید ماہرین کی تحقیق سے ثابت ہو چکا ہے کہ عرش ایک حقیقی وجود ہے جس کا باقاعدہ جسم ہے، کائنات کے جتنے عالم ہیں وہ سب کا مرکز ہے، یعنی جذب، تاثیر، تدبیر اور نظام سب کا مرکز ہے (تمام کہکشائیں جن کا ایک ایک سیارہ سورج سے بھی ہزاروں گنا بڑا ہے، اسی کے گرد گردش کر رہی ہیں اور اس کے انکار یا تاویل کی گنجائش ہی نہیں)۔“ اس کی مثال ایسے ہی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے فرمان ”کہ ہم انصاف کے ترازو قیامت کے دن رکھیں گے“ کے متعلق جب عقل پرستوں کی عقل میں یہ بات نہ آ سکی کہ اعراض کا وزن کیسے ہو گا تو انھوں نے وزن اعمال کا انکار کر دیا، یا تاویل کر دی۔ جب کہ جدید ایجادات میں تقریباً ہر چیز کا میٹر تیار ہو چکا ہے، بجلی، بخار، حرارت، سردی، کثافت، نمی، خشکی غرض بے شمار اعراض کے ماپنے تولنے کے پیمانے وجود میں آ چکے ہیں جن کی وجہ سے عقل پرستوں کے انکار اور تاویل کا تاروپود بکھر چکا ہے۔ ➋ اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت سے زمین پر قرآن نازل فرمایا، اس لیے پہلے اس کا ذکر فرمایا، پھر بلند آسمان کا، پھر رحمان کے عرش پر ہونے کا کہ دیکھو یہ رحمت کہاں سے نازل ہوئی اور کس عظیم شخصیت پر نازل ہوئی۔ اس میں قرآن کی رفعت و عظمت کا بھی بیان ہے اور صاحب قرآن کی عظمت کا بھی۔ مزید آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اور آپ کی امت کو اس نعمت کی قدر کا احساس دلانا بھی ہے اور کفار کی طرف سے پیش آنے والی مزاحمت اور مصائب و تکالیف کے مقابلے میں تسلی اور خوش خبری بھی کہ اس رحمان کی پشت پناہی حاصل ہونے کے بعد تمھیں کس بات کی پروا ہے۔ اس کے بعد موسیٰ علیہ السلام کا ذکر تفصیل سے کیا کہ انبیاء اور ان کے ساتھیوں کو اللہ تعالیٰ کی نصرت و تائید کس کس طرح حاصل ہوتی ہے اور انھیں کیا کیا آزمائشیں پیش آتی ہیں۔
لَہٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الۡاَرۡضِ وَ مَا بَیۡنَہُمَا وَ مَا تَحۡتَ الثَّرٰی ﴿۶﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
مالک ہے اُن سب چیزوں کا جو آسمانوں اور زمین میں ہیں اور جو زمین و آسمان کے درمیان میں ہیں اور جو مٹی کے نیچے ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
جس کی ملکیت آسمانوں اور زمین اور ان دونوں کے درمیان اور (کرہٴ خاک) کے نیچے کی ہر ایک چیز پر ہے
احمد رضا خان بریلوی
اس کا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں اور جو کچھ ان کے بیچ میں اور جو کچھ اس گیلی مٹی کے نیچے ہے
علامہ محمد حسین نجفی
جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان ہے اور جو کچھ زمین کے نیچے ہے سب اسی کا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اسی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو زمین میں ہے اور جو ان دونوں کے درمیان ہے اور جو گیلی مٹی کے نیچے ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
علم قرآن سب سے بڑی دولت ہے ٭٭

سورۃ البقرہ کی تفسیر کے شروع میں سورتوں کے اول حروف مقطعات کی تفسیر پوری طرح بیان ہو چکی ہے جسے دوبارہ بیان کرنے کی ضرورت نہیں۔ گو یہ بھی مروی ہے کہ مراد طہٰ سے اے شخص ہے، کہتے ہیں کہ یہ نبطی کلمہ ہے۔ کوئی کہتا ہے معرب ہے۔ یہ بھی مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں ایک پاؤں زمین پر ٹکاتے اور دوسرا اٹھا لیتے تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری۔ ۱؎ [ضعیف:اس کی سند میں ابو جعفر راوی ضعیف ہے] ‏‏‏‏ یعنی طہٰ یعنی زمین پر دونوں پاؤں ٹکا دیا کر۔ ہم نے یہ قرآن تجھ پر اس لیے نہیں اتارا کہ تجھے مشقت و تکلیف میں ڈال دیں۔ کہتے ہیں کہ جب قرآن پر عمل نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اور آپ کے صحابہ رضی اللہ عنہم نے شروع کر دیا تو مشرکین کہنے لگے کہ یہ لوگ تو اچھی خاصی مصیبت میں پڑ گئے، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری کہ یہ پاک قرآن تمہیں مشقت میں ڈالنے کو نہیں اترا بلکہ یہ نیکوں کے لیے عبرت ہے، یہ الہامی علم ہے۔ جسے یہ ملا اسے بہت بڑی دولت مل گئی۔ چنانچہ بخاری و مسلم میں ہے کہ { جس کے ساتھ اللہ کا ارادہ بھلائی کا ہو جاتا ہے اسے دین کی سمجھ عطا فرماتا ہے۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:71] ‏‏‏‏

حافظ ابوالقاسم طبرانی رحمتہ اللہ علیہ ایک مرفوع صحیح حدیث لائے ہیں کہ { قیامت کے دن جب کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے فیصلے فرمانے کے لیے اپنی کرسی پر اجلاس فرمائے گا تو علماء سے فرمائے گا کہ میں نے اپنا علم اور اپنی حکمت تمہیں اسی لیے عطا فرمائی تھی کہ تمہارے تمام گناہوں کو بخش دوں اور کچھ پرواہ نہ کروں کہ تم نے کیا کیا ہے؟ } ۱؎ [طبرانی کبیر:1381:ضعیف] ‏‏‏‏ پہلے لوگ اللہ کی عبادت کے وقت اپنے آپ کو رسیوں میں لٹکا لیا کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے یہ مشقت اپنے اس کلام پاک کے ذریعہ آسان کر دی اور فرما دیا کہ یہ قرآن تمہیں مشقت میں ڈالنا نہیں چاہتا جیسے فرمان ہے، «فَاقْرَءُوا مَا تَيَسَّرَ مِنَ الْقُرْآنِ» ۱؎ [73-المزمل:20] ‏‏‏‏ ’ جس قدر آسانی سے پڑھا جائے پڑھ لیا کرو ‘ یہ قرآن شقاوت اور بدبختی کی چیز نہیں بلکہ رحمت و نور اور دلیل جنت ہے۔ یہ قرآن نیک لوگوں کے لیے جن کے دلوں میں خوف الٰہی ہے، تذکرہ وعظ و ہدایت و رحمت ہے۔ اسے سن کر اللہ کے نیک انجام بندے حلال حرام سے واقف ہو جاتے ہیں اور اپنے دونوں جہان سنوار لیتے ہیں۔ یہ قرآن تیرے رب کا کلام ہے اسی کی طرف سے نازل شدہ ہے جو ہرچیز کا خالق مالک رازق قادر ہے۔ جس نے زمین کو نیچی اور کثیف بنایا ہے اور جس نے آسمان کو اونچا اور لطیف بنایا ہے۔ ترمذی وغیرہ کی صحیح حدیث میں ہے کہ { ہر آسمان کی موٹائی پانچ سو سال کی راہ ہے اور ہر آسمان سے دوسرے آسمان تک کا فاصلہ بھی پانچ سو سال کا ہے۔ } ۱؎ [سنن ترمذي:3298،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏‏‏‏

حضرت عباس رضی اللہ عنہ والی حدیث امام ابن ابی حاتم نے اسی آیت کی تفسیر میں وارد کی ہے۔ وہ رحمان اپنے عرش پر مستوی ہے اس کی پوری تفسیر سورۃ الاعراف میں گزر چکی ہے یہاں وارد کرنے کی ضرورت نہیں۔ سلامتی والا طریقہ یہی ہے کہ آیات و احادیث صفات کو بطریق سلف صالحین ان کے ظاہری الفاظ کے مطابق ہی مانا جائے بغیر کیفیت طلبی کے اور بغیر تحریف و تشبیہ اور تعطیل و تمثیل کے۔ تمام چیزیں اللہ کی ہی ملک ہیں۔ اسی کے قبضے اور ارادے اور چاہت تلے ہیں۔ وہی سب کا خالق، مالک، الٰہ اور رب ہے کسی کو اس کے ساتھ کسی طرح کی شرکت نہیں۔ ساتویں زمین کے نیچے بھی جو کچھ ہے سب اسی کا ہے۔ کعب رحمہ اللہ کہتے ہیں اس زمین کے نیچے پانی ہے پانی کے نیچے پھر زمین ہے پھر اس کے نیچے پانی ہے اسی طرح مسلسل، پھر اس کے نیچے ایک پتھر ہے اس کے نیچے ایک فرشتہ ہے اس کے نیچے ایک مچھلی ہے، جس کے دونوں بازو عرش تک ہیں۔ اس کے نیچے ہوا، خلا اور ظلمت ہے یہیں تک انسان کا علم ہے باقی اللہ جانے۔

حدیث میں ہے { ہر دو زمینوں کے درمیان پانچ سو سال کا فاصلہ ہے۔ سب سے اوپر کی زمین مچھلی کی پشت پر ہے جس کے دونوں بازوں آسمان سے ملے ہوئے ہیں، یہ مچھلی ایک پتھر پر ہے، وہ پتھر فرشتے کے ہاتھ میں ہے۔ دوسری زمین ہواؤں کا خزانہ ہے۔ تیسری میں جہنم کے پتھر ہیں، چوتھی میں جہنم کی گندھک ہے، پانچویں میں جہنم کے سانپ ہیں، چھٹی میں جہنمی بچھو ہیں۔ ساتویں میں دوزخ ہے وہیں ابلیس جکڑا ہوا ہے ایک ہاتھ آگے ہے ایک پیچھے ہے، جب اللہ چاہتا ہے اسے چھوڑ دیتا ہے۔ } یہ حدیث بہت ہی غریب ہے اور اس کا فرمان رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے ہونا بھی غور طلب ہے۔ ۱؎ [مستدرک حاکم:594/4:ضعیف] ‏‏‏‏ مسند ابویعلیٰ میں ہے، جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہا فرماتے ہیں، ہم غزوہ تبوک سے لوٹ رہے تھے گرمی سخت تڑاخے کی پڑ رہی تھی دو دو چار چار آدمی منتشر ہو کر چل رہے تھے، میں لشکر کے شروع میں تھا، اچانک ایک شخص آیا اور سلام کر کے پوچھنے لگا، تم میں سے محمد (‏‏‏‏صلی اللہ علیہ وسلم )‏‏‏‏‏‏‏‏ کون ہیں؟۔ میں اس کے ساتھ ہو گیا میرے ساتھی آگے بڑھ گئے۔ جب لشکر کے درمیان کا حصہ آیا تو اسی میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تھے، میں نے اسے بتلایا کہ یہ ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سرخ رنگ کی اونٹنی پر سوار ہیں سر پر بوجہ دھوپ کے کپڑا ڈالے ہوئے ہیں، { وہ آپ کی سواری کے پاس گیا اور نکیل تھام کر عرض کرنے لگا کہ آپ ہی محمد ہیں صلی اللہ علیہ وسلم ؟ آپ نے جواب دیا کہ ہاں، اس نے کہا، میں چند باتیں آپ سے دریافت کرنا چاہتا ہوں جنہیں زمین والوں میں سے بجز ایک دو آدمیوں کے اور کوئی نہیں جانتا۔ }

{ آپ نے فرمایا تمہیں جو کچھ پوچھنا ہو پوچھ لو۔ اس نے کہا بتائیے انبیاء اللہ سوتے بھی ہیں؟ آپ نے فرمایا ان کی آنکھیں سو جاتی ہیں لیکن دل جاگتا رہتا ہے۔ اس نے کہا بجا ارشاد ہوا۔ اب یہ فرمائیے کہ کیا وجہ ہے کہ بچہ کبھی تو باپ کی شباہت پر ہوتا ہے کبھی ماں کی؟ آپ نے فرمایا سنو مرد کا پانی سفید اور غلیظ ہے اور عورت کا پانی پتلا ہے جو پانی غالب آگیا اسی پر شبیہ جاتی ہے۔ اس نے کہا یہ بھی بجا ارشاد فرمایا۔ اچھا یہ بھی فرمائیے کہ بچے کے کون سے اعضاء مرد کے پانی سے بنتے ہیں اور کون سے عورت کے پانی سے؟ فرمایا مرد کے پانی سے ہڈیاں، رگ اور پٹھے اور عورت کے پانی سے گوشت، خون اور بال۔ اس نے کہا یہ بھی صحیح جواب ملا۔ اچھا یہ بتلائیے کہ اس زمین کے نیچے کیا ہے؟ فرمایا ایک مخلوق ہے۔ کہا ان کے نیچے کیا ہے؟ فرمایا زمین۔ کہا اس کے نیچے کیا ہے؟ فرمایا پانی۔ کہا پانی کے نیچے کیا ہے؟ فرمایا اندھیرا۔ کہا اس کے نیچے؟ فرمایا ہوا۔ کہا ہوا کے نیچے؟ فرمایا تر مٹی۔ کہا اس کے نیچے؟ آپ کے آنسو نکل آئے اور ارشاد فرمایا کہ مخلوق کا علم تو یہیں تک پہنچ کر ختم ہو گیا۔ اب خالق کو ہی اس کے آگے کا علم ہے۔ اے سوال کرنے والے اس کی بابت تو جس سے سوال کر رہا ہے وہ تجھ سے زیادہ جاننے والا نہیں۔ اس نے آپ کی صداقت کی گواہی دی۔ آپ نے فرمایا اسے پہچانا بھی؟ لوگوں نے کہا اللہ اور اس کے رسول کو ہی پورا علم ہے آپ نے فرمایا یہ جبرائیل علیہ السلام تھے۔ } ۱؎ [مسند ابویعلیٰ:ضعیف جداً] ‏‏‏‏ یہ حدیث بھی بہت ہی غریب ہے اور اس میں جو واقعہ ہے، بڑا ہی عجیب ہے اس کے راویوں میں قاسم بن عبدالرحمٰن کا تفرد ہے جنہیں امام یحییٰ بن معین رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ یہ کسی چیز کے برابر نہیں۔ امام ابوحاتم رازی رحمہ اللہ بھی انہیں ضعیف کہتے ہیں۔ امام ابن عدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ معروف شخص نہیں اور اس حدیث میں خلط ملط کر دیا ہے۔ اللہ ہی جانتا ہے کہ جان بوجھ کر ایسا کیا ہے یا ایسی ہی کسی سے لی ہے۔ اللہ وہ ہے جو ظاہر و باطن، اونچی نیچی، چھوٹی بڑی سب کچھ جانتا ہے۔

جیسے فرمان ہے «قُلْ أَنزَلَهُ الَّذِي يَعْلَمُ السِّرَّ فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ۚ إِنَّهُ كَانَ غَفُورًا رَّحِيمًا» ۱؎ [25-الفرقان:6] ‏‏‏‏ ’ اعلان کر دے کہ اس قرآن کو اس نے نازل فرمایا ہے جو آسمان و زمین کے اسرار سے واقف ہے جو غفور و رحیم ہے۔ ‘ ابن آدم خود جو چھپائے اور جو اس پر خود پر بھی چھپا ہوا ہو اللہ تعالیٰ کے پاس کھلا ہوا ہے۔ اس کے عمل کو اس کے علم سے بھی پہلے اللہ تعالیٰ جانتا ہے۔ تمام گزشتہ موجودہ اور آئندہ مخلوق کا علم اس کے پاس ایسا ہی ہے جیسا ایک شخص کا علم۔ سب کی پیدائش اور مار کر جلانا بھی اس کے نزدیک ایک شخص کی پیدائش اور اس کی موت کے بعد کی دوسری بار کی زندگی کے مثل ہے۔ تیرے دل کے خیالات کو اور جو خیالات نہیں آتے ان کو بھی وہ جانتا ہے۔ تجھے زیادہ سے زیادہ آج کے پوشیدہ اعمال کی خبر ہے اور اسے تو تم کل کیا چھپاؤ گے ان کا بھی علم ہے۔ ارادے ہی نہیں بلکہ وسوسے بھی اس پر ظاہر ہیں۔ کئے ہوئے عمل اور جو کرے گا وہ عمل بھی اس پر ظاہر ہیں۔ وہی معبود برحق ہے اعلیٰ صفتیں اور بہترین نام اسی کے ہیں۔ سورۃ الاعراف کی تفسیر کے آخر میں اسماء حسنی کے متعلق حدیثیں گزر چکی ہیں۔
6۔ 1 ثَرَیٰ کے معنی ہیں السافلین یعنی زمین کا سب سے نچلا حصہ
(آیت 6){لَهٗ مَا فِي السَّمٰوٰتِ …: ” الثَّرٰى “} گیلی مٹی کے نیچے سے مراد زمین کا سب سے نچلا حصہ ہے، یعنی وہ عرش پر مستوی ہو کر آسمانوں سے لے کر زمین کی آخری گہرائی تک ہر چیز کی تدبیر ہی نہیں کر رہا بلکہ ان سب کا مالک بھی وہ اکیلا ہی ہے۔ ملک بھی اسی کا ہے، ملکیت بھی اسی کی۔ حاکم بھی وہی ہے، مالک بھی وہی۔ ہر چیز کا وجود، حرکت، سکون، تغیر یا ثبات سب کچھ اسی کے امر سے ہے۔
وَ اِنۡ تَجۡہَرۡ بِالۡقَوۡلِ فَاِنَّہٗ یَعۡلَمُ السِّرَّ وَ اَخۡفٰی ﴿۷﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
تم چاہے اپنی بات پکار کر کہو، وہ تو چپکے سے کہی ہوئی بات بلکہ اس سے مخفی تر بات بھی جانتا ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
اگر تو اونچی بات کہے تو وه تو ہر ایک پوشیده، بلکہ پوشیده سے پوشیده تر چیز کو بھی بخوبی جانتا ہے
احمد رضا خان بریلوی
اور اگر تو بات پکار کر کہے تو وہ تو بھید کو جانتا ہے اور اسے جو اس سے بھی زیادہ چھپا ہے
علامہ محمد حسین نجفی
اگر تم پکار کر بات کرو (تو تمہاری مرضی) وہ تو راز کو بلکہ اس سے بھی زیادہ مخفی بات کو جانتا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اور اگر تو اونچی آواز سے بات کرے تو وہ تو پوشیدہ اور اس سے بھی پوشیدہ بات کو جانتا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
علم قرآن سب سے بڑی دولت ہے ٭٭

سورۃ البقرہ کی تفسیر کے شروع میں سورتوں کے اول حروف مقطعات کی تفسیر پوری طرح بیان ہو چکی ہے جسے دوبارہ بیان کرنے کی ضرورت نہیں۔ گو یہ بھی مروی ہے کہ مراد طہٰ سے اے شخص ہے، کہتے ہیں کہ یہ نبطی کلمہ ہے۔ کوئی کہتا ہے معرب ہے۔ یہ بھی مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں ایک پاؤں زمین پر ٹکاتے اور دوسرا اٹھا لیتے تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری۔ ۱؎ [ضعیف:اس کی سند میں ابو جعفر راوی ضعیف ہے] ‏‏‏‏ یعنی طہٰ یعنی زمین پر دونوں پاؤں ٹکا دیا کر۔ ہم نے یہ قرآن تجھ پر اس لیے نہیں اتارا کہ تجھے مشقت و تکلیف میں ڈال دیں۔ کہتے ہیں کہ جب قرآن پر عمل نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اور آپ کے صحابہ رضی اللہ عنہم نے شروع کر دیا تو مشرکین کہنے لگے کہ یہ لوگ تو اچھی خاصی مصیبت میں پڑ گئے، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری کہ یہ پاک قرآن تمہیں مشقت میں ڈالنے کو نہیں اترا بلکہ یہ نیکوں کے لیے عبرت ہے، یہ الہامی علم ہے۔ جسے یہ ملا اسے بہت بڑی دولت مل گئی۔ چنانچہ بخاری و مسلم میں ہے کہ { جس کے ساتھ اللہ کا ارادہ بھلائی کا ہو جاتا ہے اسے دین کی سمجھ عطا فرماتا ہے۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:71] ‏‏‏‏

حافظ ابوالقاسم طبرانی رحمتہ اللہ علیہ ایک مرفوع صحیح حدیث لائے ہیں کہ { قیامت کے دن جب کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے فیصلے فرمانے کے لیے اپنی کرسی پر اجلاس فرمائے گا تو علماء سے فرمائے گا کہ میں نے اپنا علم اور اپنی حکمت تمہیں اسی لیے عطا فرمائی تھی کہ تمہارے تمام گناہوں کو بخش دوں اور کچھ پرواہ نہ کروں کہ تم نے کیا کیا ہے؟ } ۱؎ [طبرانی کبیر:1381:ضعیف] ‏‏‏‏ پہلے لوگ اللہ کی عبادت کے وقت اپنے آپ کو رسیوں میں لٹکا لیا کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے یہ مشقت اپنے اس کلام پاک کے ذریعہ آسان کر دی اور فرما دیا کہ یہ قرآن تمہیں مشقت میں ڈالنا نہیں چاہتا جیسے فرمان ہے، «فَاقْرَءُوا مَا تَيَسَّرَ مِنَ الْقُرْآنِ» ۱؎ [73-المزمل:20] ‏‏‏‏ ’ جس قدر آسانی سے پڑھا جائے پڑھ لیا کرو ‘ یہ قرآن شقاوت اور بدبختی کی چیز نہیں بلکہ رحمت و نور اور دلیل جنت ہے۔ یہ قرآن نیک لوگوں کے لیے جن کے دلوں میں خوف الٰہی ہے، تذکرہ وعظ و ہدایت و رحمت ہے۔ اسے سن کر اللہ کے نیک انجام بندے حلال حرام سے واقف ہو جاتے ہیں اور اپنے دونوں جہان سنوار لیتے ہیں۔ یہ قرآن تیرے رب کا کلام ہے اسی کی طرف سے نازل شدہ ہے جو ہرچیز کا خالق مالک رازق قادر ہے۔ جس نے زمین کو نیچی اور کثیف بنایا ہے اور جس نے آسمان کو اونچا اور لطیف بنایا ہے۔ ترمذی وغیرہ کی صحیح حدیث میں ہے کہ { ہر آسمان کی موٹائی پانچ سو سال کی راہ ہے اور ہر آسمان سے دوسرے آسمان تک کا فاصلہ بھی پانچ سو سال کا ہے۔ } ۱؎ [سنن ترمذي:3298،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏‏‏‏

حضرت عباس رضی اللہ عنہ والی حدیث امام ابن ابی حاتم نے اسی آیت کی تفسیر میں وارد کی ہے۔ وہ رحمان اپنے عرش پر مستوی ہے اس کی پوری تفسیر سورۃ الاعراف میں گزر چکی ہے یہاں وارد کرنے کی ضرورت نہیں۔ سلامتی والا طریقہ یہی ہے کہ آیات و احادیث صفات کو بطریق سلف صالحین ان کے ظاہری الفاظ کے مطابق ہی مانا جائے بغیر کیفیت طلبی کے اور بغیر تحریف و تشبیہ اور تعطیل و تمثیل کے۔ تمام چیزیں اللہ کی ہی ملک ہیں۔ اسی کے قبضے اور ارادے اور چاہت تلے ہیں۔ وہی سب کا خالق، مالک، الٰہ اور رب ہے کسی کو اس کے ساتھ کسی طرح کی شرکت نہیں۔ ساتویں زمین کے نیچے بھی جو کچھ ہے سب اسی کا ہے۔ کعب رحمہ اللہ کہتے ہیں اس زمین کے نیچے پانی ہے پانی کے نیچے پھر زمین ہے پھر اس کے نیچے پانی ہے اسی طرح مسلسل، پھر اس کے نیچے ایک پتھر ہے اس کے نیچے ایک فرشتہ ہے اس کے نیچے ایک مچھلی ہے، جس کے دونوں بازو عرش تک ہیں۔ اس کے نیچے ہوا، خلا اور ظلمت ہے یہیں تک انسان کا علم ہے باقی اللہ جانے۔

حدیث میں ہے { ہر دو زمینوں کے درمیان پانچ سو سال کا فاصلہ ہے۔ سب سے اوپر کی زمین مچھلی کی پشت پر ہے جس کے دونوں بازوں آسمان سے ملے ہوئے ہیں، یہ مچھلی ایک پتھر پر ہے، وہ پتھر فرشتے کے ہاتھ میں ہے۔ دوسری زمین ہواؤں کا خزانہ ہے۔ تیسری میں جہنم کے پتھر ہیں، چوتھی میں جہنم کی گندھک ہے، پانچویں میں جہنم کے سانپ ہیں، چھٹی میں جہنمی بچھو ہیں۔ ساتویں میں دوزخ ہے وہیں ابلیس جکڑا ہوا ہے ایک ہاتھ آگے ہے ایک پیچھے ہے، جب اللہ چاہتا ہے اسے چھوڑ دیتا ہے۔ } یہ حدیث بہت ہی غریب ہے اور اس کا فرمان رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے ہونا بھی غور طلب ہے۔ ۱؎ [مستدرک حاکم:594/4:ضعیف] ‏‏‏‏ مسند ابویعلیٰ میں ہے، جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہا فرماتے ہیں، ہم غزوہ تبوک سے لوٹ رہے تھے گرمی سخت تڑاخے کی پڑ رہی تھی دو دو چار چار آدمی منتشر ہو کر چل رہے تھے، میں لشکر کے شروع میں تھا، اچانک ایک شخص آیا اور سلام کر کے پوچھنے لگا، تم میں سے محمد (‏‏‏‏صلی اللہ علیہ وسلم )‏‏‏‏‏‏‏‏ کون ہیں؟۔ میں اس کے ساتھ ہو گیا میرے ساتھی آگے بڑھ گئے۔ جب لشکر کے درمیان کا حصہ آیا تو اسی میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تھے، میں نے اسے بتلایا کہ یہ ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سرخ رنگ کی اونٹنی پر سوار ہیں سر پر بوجہ دھوپ کے کپڑا ڈالے ہوئے ہیں، { وہ آپ کی سواری کے پاس گیا اور نکیل تھام کر عرض کرنے لگا کہ آپ ہی محمد ہیں صلی اللہ علیہ وسلم ؟ آپ نے جواب دیا کہ ہاں، اس نے کہا، میں چند باتیں آپ سے دریافت کرنا چاہتا ہوں جنہیں زمین والوں میں سے بجز ایک دو آدمیوں کے اور کوئی نہیں جانتا۔ }

{ آپ نے فرمایا تمہیں جو کچھ پوچھنا ہو پوچھ لو۔ اس نے کہا بتائیے انبیاء اللہ سوتے بھی ہیں؟ آپ نے فرمایا ان کی آنکھیں سو جاتی ہیں لیکن دل جاگتا رہتا ہے۔ اس نے کہا بجا ارشاد ہوا۔ اب یہ فرمائیے کہ کیا وجہ ہے کہ بچہ کبھی تو باپ کی شباہت پر ہوتا ہے کبھی ماں کی؟ آپ نے فرمایا سنو مرد کا پانی سفید اور غلیظ ہے اور عورت کا پانی پتلا ہے جو پانی غالب آگیا اسی پر شبیہ جاتی ہے۔ اس نے کہا یہ بھی بجا ارشاد فرمایا۔ اچھا یہ بھی فرمائیے کہ بچے کے کون سے اعضاء مرد کے پانی سے بنتے ہیں اور کون سے عورت کے پانی سے؟ فرمایا مرد کے پانی سے ہڈیاں، رگ اور پٹھے اور عورت کے پانی سے گوشت، خون اور بال۔ اس نے کہا یہ بھی صحیح جواب ملا۔ اچھا یہ بتلائیے کہ اس زمین کے نیچے کیا ہے؟ فرمایا ایک مخلوق ہے۔ کہا ان کے نیچے کیا ہے؟ فرمایا زمین۔ کہا اس کے نیچے کیا ہے؟ فرمایا پانی۔ کہا پانی کے نیچے کیا ہے؟ فرمایا اندھیرا۔ کہا اس کے نیچے؟ فرمایا ہوا۔ کہا ہوا کے نیچے؟ فرمایا تر مٹی۔ کہا اس کے نیچے؟ آپ کے آنسو نکل آئے اور ارشاد فرمایا کہ مخلوق کا علم تو یہیں تک پہنچ کر ختم ہو گیا۔ اب خالق کو ہی اس کے آگے کا علم ہے۔ اے سوال کرنے والے اس کی بابت تو جس سے سوال کر رہا ہے وہ تجھ سے زیادہ جاننے والا نہیں۔ اس نے آپ کی صداقت کی گواہی دی۔ آپ نے فرمایا اسے پہچانا بھی؟ لوگوں نے کہا اللہ اور اس کے رسول کو ہی پورا علم ہے آپ نے فرمایا یہ جبرائیل علیہ السلام تھے۔ } ۱؎ [مسند ابویعلیٰ:ضعیف جداً] ‏‏‏‏ یہ حدیث بھی بہت ہی غریب ہے اور اس میں جو واقعہ ہے، بڑا ہی عجیب ہے اس کے راویوں میں قاسم بن عبدالرحمٰن کا تفرد ہے جنہیں امام یحییٰ بن معین رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ یہ کسی چیز کے برابر نہیں۔ امام ابوحاتم رازی رحمہ اللہ بھی انہیں ضعیف کہتے ہیں۔ امام ابن عدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ معروف شخص نہیں اور اس حدیث میں خلط ملط کر دیا ہے۔ اللہ ہی جانتا ہے کہ جان بوجھ کر ایسا کیا ہے یا ایسی ہی کسی سے لی ہے۔ اللہ وہ ہے جو ظاہر و باطن، اونچی نیچی، چھوٹی بڑی سب کچھ جانتا ہے۔

جیسے فرمان ہے «قُلْ أَنزَلَهُ الَّذِي يَعْلَمُ السِّرَّ فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ۚ إِنَّهُ كَانَ غَفُورًا رَّحِيمًا» ۱؎ [25-الفرقان:6] ‏‏‏‏ ’ اعلان کر دے کہ اس قرآن کو اس نے نازل فرمایا ہے جو آسمان و زمین کے اسرار سے واقف ہے جو غفور و رحیم ہے۔ ‘ ابن آدم خود جو چھپائے اور جو اس پر خود پر بھی چھپا ہوا ہو اللہ تعالیٰ کے پاس کھلا ہوا ہے۔ اس کے عمل کو اس کے علم سے بھی پہلے اللہ تعالیٰ جانتا ہے۔ تمام گزشتہ موجودہ اور آئندہ مخلوق کا علم اس کے پاس ایسا ہی ہے جیسا ایک شخص کا علم۔ سب کی پیدائش اور مار کر جلانا بھی اس کے نزدیک ایک شخص کی پیدائش اور اس کی موت کے بعد کی دوسری بار کی زندگی کے مثل ہے۔ تیرے دل کے خیالات کو اور جو خیالات نہیں آتے ان کو بھی وہ جانتا ہے۔ تجھے زیادہ سے زیادہ آج کے پوشیدہ اعمال کی خبر ہے اور اسے تو تم کل کیا چھپاؤ گے ان کا بھی علم ہے۔ ارادے ہی نہیں بلکہ وسوسے بھی اس پر ظاہر ہیں۔ کئے ہوئے عمل اور جو کرے گا وہ عمل بھی اس پر ظاہر ہیں۔ وہی معبود برحق ہے اعلیٰ صفتیں اور بہترین نام اسی کے ہیں۔ سورۃ الاعراف کی تفسیر کے آخر میں اسماء حسنی کے متعلق حدیثیں گزر چکی ہیں۔
7۔ 1 یعنی اللہ کا ذکر یا اس سے دعا اونچی آواز میں کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ اس لئے کہ وہ پوشیدہ سے پوشیدہ تر بات کو بھی جانتا ہے یا اَخْفَیٰ کے معنی ہیں کہ اللہ تو ان باتوں کو بھی جانتا ہے جن کو اس نے تقدیر میں لکھ دیا اور ابھی تک لوگوں سے مخفی رکھا ہے۔ یعنی قیامت تک وقوع پذیر ہونے والے واقعات کا اسے علم ہے۔
(آیت 7){ وَ اِنْ تَجْهَرْ بِالْقَوْلِ …:} یعنی اگر تم اونچی آواز سے بات کرو تو وہ اسے بالاولیٰ سنتا ہے، کیونکہ وہ تو سر (پوشیدہ بات) کو جانتا ہے اور اخفی (اس سے زیادہ پوشیدہ) کو بھی۔ سر سے مراد وہ بات ہے جو تنہائی میں چپکے سے کہی جائے اور اخفیٰ (اس سے زیادہ چھپی بات) وہ ہے جو ابھی دل میں ہو اور زبان پر نہ آئی ہو۔
اَللّٰہُ لَاۤ اِلٰہَ اِلَّا ہُوَ ؕ لَہُ الۡاَسۡمَآءُ الۡحُسۡنٰی ﴿۸﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
وہ اللہ ہے، اس کے سوا کوئی خدا نہیں، اس کے لیے بہترین نام ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
وہی اللہ ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں، بہترین نام اسی کے ہیں
احمد رضا خان بریلوی
اللہ کہ اس کے سوا کسی کی بندگی نہیں، اسی کے ہیں سب اچھے نام
علامہ محمد حسین نجفی
وہ الٰہ ہے اس کے سوا کوئی الہ نہیں ہے۔ سب اچھے اچھے نام اسی کے لئے ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
اللہ وہ ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں، سب سے اچھے نام اسی کے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
علم قرآن سب سے بڑی دولت ہے ٭٭

سورۃ البقرہ کی تفسیر کے شروع میں سورتوں کے اول حروف مقطعات کی تفسیر پوری طرح بیان ہو چکی ہے جسے دوبارہ بیان کرنے کی ضرورت نہیں۔ گو یہ بھی مروی ہے کہ مراد طہٰ سے اے شخص ہے، کہتے ہیں کہ یہ نبطی کلمہ ہے۔ کوئی کہتا ہے معرب ہے۔ یہ بھی مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں ایک پاؤں زمین پر ٹکاتے اور دوسرا اٹھا لیتے تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری۔ ۱؎ [ضعیف:اس کی سند میں ابو جعفر راوی ضعیف ہے] ‏‏‏‏ یعنی طہٰ یعنی زمین پر دونوں پاؤں ٹکا دیا کر۔ ہم نے یہ قرآن تجھ پر اس لیے نہیں اتارا کہ تجھے مشقت و تکلیف میں ڈال دیں۔ کہتے ہیں کہ جب قرآن پر عمل نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اور آپ کے صحابہ رضی اللہ عنہم نے شروع کر دیا تو مشرکین کہنے لگے کہ یہ لوگ تو اچھی خاصی مصیبت میں پڑ گئے، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری کہ یہ پاک قرآن تمہیں مشقت میں ڈالنے کو نہیں اترا بلکہ یہ نیکوں کے لیے عبرت ہے، یہ الہامی علم ہے۔ جسے یہ ملا اسے بہت بڑی دولت مل گئی۔ چنانچہ بخاری و مسلم میں ہے کہ { جس کے ساتھ اللہ کا ارادہ بھلائی کا ہو جاتا ہے اسے دین کی سمجھ عطا فرماتا ہے۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:71] ‏‏‏‏

حافظ ابوالقاسم طبرانی رحمتہ اللہ علیہ ایک مرفوع صحیح حدیث لائے ہیں کہ { قیامت کے دن جب کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے فیصلے فرمانے کے لیے اپنی کرسی پر اجلاس فرمائے گا تو علماء سے فرمائے گا کہ میں نے اپنا علم اور اپنی حکمت تمہیں اسی لیے عطا فرمائی تھی کہ تمہارے تمام گناہوں کو بخش دوں اور کچھ پرواہ نہ کروں کہ تم نے کیا کیا ہے؟ } ۱؎ [طبرانی کبیر:1381:ضعیف] ‏‏‏‏ پہلے لوگ اللہ کی عبادت کے وقت اپنے آپ کو رسیوں میں لٹکا لیا کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے یہ مشقت اپنے اس کلام پاک کے ذریعہ آسان کر دی اور فرما دیا کہ یہ قرآن تمہیں مشقت میں ڈالنا نہیں چاہتا جیسے فرمان ہے، «فَاقْرَءُوا مَا تَيَسَّرَ مِنَ الْقُرْآنِ» ۱؎ [73-المزمل:20] ‏‏‏‏ ’ جس قدر آسانی سے پڑھا جائے پڑھ لیا کرو ‘ یہ قرآن شقاوت اور بدبختی کی چیز نہیں بلکہ رحمت و نور اور دلیل جنت ہے۔ یہ قرآن نیک لوگوں کے لیے جن کے دلوں میں خوف الٰہی ہے، تذکرہ وعظ و ہدایت و رحمت ہے۔ اسے سن کر اللہ کے نیک انجام بندے حلال حرام سے واقف ہو جاتے ہیں اور اپنے دونوں جہان سنوار لیتے ہیں۔ یہ قرآن تیرے رب کا کلام ہے اسی کی طرف سے نازل شدہ ہے جو ہرچیز کا خالق مالک رازق قادر ہے۔ جس نے زمین کو نیچی اور کثیف بنایا ہے اور جس نے آسمان کو اونچا اور لطیف بنایا ہے۔ ترمذی وغیرہ کی صحیح حدیث میں ہے کہ { ہر آسمان کی موٹائی پانچ سو سال کی راہ ہے اور ہر آسمان سے دوسرے آسمان تک کا فاصلہ بھی پانچ سو سال کا ہے۔ } ۱؎ [سنن ترمذي:3298،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏‏‏‏

حضرت عباس رضی اللہ عنہ والی حدیث امام ابن ابی حاتم نے اسی آیت کی تفسیر میں وارد کی ہے۔ وہ رحمان اپنے عرش پر مستوی ہے اس کی پوری تفسیر سورۃ الاعراف میں گزر چکی ہے یہاں وارد کرنے کی ضرورت نہیں۔ سلامتی والا طریقہ یہی ہے کہ آیات و احادیث صفات کو بطریق سلف صالحین ان کے ظاہری الفاظ کے مطابق ہی مانا جائے بغیر کیفیت طلبی کے اور بغیر تحریف و تشبیہ اور تعطیل و تمثیل کے۔ تمام چیزیں اللہ کی ہی ملک ہیں۔ اسی کے قبضے اور ارادے اور چاہت تلے ہیں۔ وہی سب کا خالق، مالک، الٰہ اور رب ہے کسی کو اس کے ساتھ کسی طرح کی شرکت نہیں۔ ساتویں زمین کے نیچے بھی جو کچھ ہے سب اسی کا ہے۔ کعب رحمہ اللہ کہتے ہیں اس زمین کے نیچے پانی ہے پانی کے نیچے پھر زمین ہے پھر اس کے نیچے پانی ہے اسی طرح مسلسل، پھر اس کے نیچے ایک پتھر ہے اس کے نیچے ایک فرشتہ ہے اس کے نیچے ایک مچھلی ہے، جس کے دونوں بازو عرش تک ہیں۔ اس کے نیچے ہوا، خلا اور ظلمت ہے یہیں تک انسان کا علم ہے باقی اللہ جانے۔

حدیث میں ہے { ہر دو زمینوں کے درمیان پانچ سو سال کا فاصلہ ہے۔ سب سے اوپر کی زمین مچھلی کی پشت پر ہے جس کے دونوں بازوں آسمان سے ملے ہوئے ہیں، یہ مچھلی ایک پتھر پر ہے، وہ پتھر فرشتے کے ہاتھ میں ہے۔ دوسری زمین ہواؤں کا خزانہ ہے۔ تیسری میں جہنم کے پتھر ہیں، چوتھی میں جہنم کی گندھک ہے، پانچویں میں جہنم کے سانپ ہیں، چھٹی میں جہنمی بچھو ہیں۔ ساتویں میں دوزخ ہے وہیں ابلیس جکڑا ہوا ہے ایک ہاتھ آگے ہے ایک پیچھے ہے، جب اللہ چاہتا ہے اسے چھوڑ دیتا ہے۔ } یہ حدیث بہت ہی غریب ہے اور اس کا فرمان رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے ہونا بھی غور طلب ہے۔ ۱؎ [مستدرک حاکم:594/4:ضعیف] ‏‏‏‏ مسند ابویعلیٰ میں ہے، جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہا فرماتے ہیں، ہم غزوہ تبوک سے لوٹ رہے تھے گرمی سخت تڑاخے کی پڑ رہی تھی دو دو چار چار آدمی منتشر ہو کر چل رہے تھے، میں لشکر کے شروع میں تھا، اچانک ایک شخص آیا اور سلام کر کے پوچھنے لگا، تم میں سے محمد (‏‏‏‏صلی اللہ علیہ وسلم )‏‏‏‏‏‏‏‏ کون ہیں؟۔ میں اس کے ساتھ ہو گیا میرے ساتھی آگے بڑھ گئے۔ جب لشکر کے درمیان کا حصہ آیا تو اسی میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تھے، میں نے اسے بتلایا کہ یہ ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سرخ رنگ کی اونٹنی پر سوار ہیں سر پر بوجہ دھوپ کے کپڑا ڈالے ہوئے ہیں، { وہ آپ کی سواری کے پاس گیا اور نکیل تھام کر عرض کرنے لگا کہ آپ ہی محمد ہیں صلی اللہ علیہ وسلم ؟ آپ نے جواب دیا کہ ہاں، اس نے کہا، میں چند باتیں آپ سے دریافت کرنا چاہتا ہوں جنہیں زمین والوں میں سے بجز ایک دو آدمیوں کے اور کوئی نہیں جانتا۔ }

{ آپ نے فرمایا تمہیں جو کچھ پوچھنا ہو پوچھ لو۔ اس نے کہا بتائیے انبیاء اللہ سوتے بھی ہیں؟ آپ نے فرمایا ان کی آنکھیں سو جاتی ہیں لیکن دل جاگتا رہتا ہے۔ اس نے کہا بجا ارشاد ہوا۔ اب یہ فرمائیے کہ کیا وجہ ہے کہ بچہ کبھی تو باپ کی شباہت پر ہوتا ہے کبھی ماں کی؟ آپ نے فرمایا سنو مرد کا پانی سفید اور غلیظ ہے اور عورت کا پانی پتلا ہے جو پانی غالب آگیا اسی پر شبیہ جاتی ہے۔ اس نے کہا یہ بھی بجا ارشاد فرمایا۔ اچھا یہ بھی فرمائیے کہ بچے کے کون سے اعضاء مرد کے پانی سے بنتے ہیں اور کون سے عورت کے پانی سے؟ فرمایا مرد کے پانی سے ہڈیاں، رگ اور پٹھے اور عورت کے پانی سے گوشت، خون اور بال۔ اس نے کہا یہ بھی صحیح جواب ملا۔ اچھا یہ بتلائیے کہ اس زمین کے نیچے کیا ہے؟ فرمایا ایک مخلوق ہے۔ کہا ان کے نیچے کیا ہے؟ فرمایا زمین۔ کہا اس کے نیچے کیا ہے؟ فرمایا پانی۔ کہا پانی کے نیچے کیا ہے؟ فرمایا اندھیرا۔ کہا اس کے نیچے؟ فرمایا ہوا۔ کہا ہوا کے نیچے؟ فرمایا تر مٹی۔ کہا اس کے نیچے؟ آپ کے آنسو نکل آئے اور ارشاد فرمایا کہ مخلوق کا علم تو یہیں تک پہنچ کر ختم ہو گیا۔ اب خالق کو ہی اس کے آگے کا علم ہے۔ اے سوال کرنے والے اس کی بابت تو جس سے سوال کر رہا ہے وہ تجھ سے زیادہ جاننے والا نہیں۔ اس نے آپ کی صداقت کی گواہی دی۔ آپ نے فرمایا اسے پہچانا بھی؟ لوگوں نے کہا اللہ اور اس کے رسول کو ہی پورا علم ہے آپ نے فرمایا یہ جبرائیل علیہ السلام تھے۔ } ۱؎ [مسند ابویعلیٰ:ضعیف جداً] ‏‏‏‏ یہ حدیث بھی بہت ہی غریب ہے اور اس میں جو واقعہ ہے، بڑا ہی عجیب ہے اس کے راویوں میں قاسم بن عبدالرحمٰن کا تفرد ہے جنہیں امام یحییٰ بن معین رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ یہ کسی چیز کے برابر نہیں۔ امام ابوحاتم رازی رحمہ اللہ بھی انہیں ضعیف کہتے ہیں۔ امام ابن عدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ معروف شخص نہیں اور اس حدیث میں خلط ملط کر دیا ہے۔ اللہ ہی جانتا ہے کہ جان بوجھ کر ایسا کیا ہے یا ایسی ہی کسی سے لی ہے۔ اللہ وہ ہے جو ظاہر و باطن، اونچی نیچی، چھوٹی بڑی سب کچھ جانتا ہے۔

جیسے فرمان ہے «قُلْ أَنزَلَهُ الَّذِي يَعْلَمُ السِّرَّ فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ۚ إِنَّهُ كَانَ غَفُورًا رَّحِيمًا» ۱؎ [25-الفرقان:6] ‏‏‏‏ ’ اعلان کر دے کہ اس قرآن کو اس نے نازل فرمایا ہے جو آسمان و زمین کے اسرار سے واقف ہے جو غفور و رحیم ہے۔ ‘ ابن آدم خود جو چھپائے اور جو اس پر خود پر بھی چھپا ہوا ہو اللہ تعالیٰ کے پاس کھلا ہوا ہے۔ اس کے عمل کو اس کے علم سے بھی پہلے اللہ تعالیٰ جانتا ہے۔ تمام گزشتہ موجودہ اور آئندہ مخلوق کا علم اس کے پاس ایسا ہی ہے جیسا ایک شخص کا علم۔ سب کی پیدائش اور مار کر جلانا بھی اس کے نزدیک ایک شخص کی پیدائش اور اس کی موت کے بعد کی دوسری بار کی زندگی کے مثل ہے۔ تیرے دل کے خیالات کو اور جو خیالات نہیں آتے ان کو بھی وہ جانتا ہے۔ تجھے زیادہ سے زیادہ آج کے پوشیدہ اعمال کی خبر ہے اور اسے تو تم کل کیا چھپاؤ گے ان کا بھی علم ہے۔ ارادے ہی نہیں بلکہ وسوسے بھی اس پر ظاہر ہیں۔ کئے ہوئے عمل اور جو کرے گا وہ عمل بھی اس پر ظاہر ہیں۔ وہی معبود برحق ہے اعلیٰ صفتیں اور بہترین نام اسی کے ہیں۔ سورۃ الاعراف کی تفسیر کے آخر میں اسماء حسنی کے متعلق حدیثیں گزر چکی ہیں۔
8۔ 1 یعنی معبود وہی ہے جو مذکورہ صفات سے متصف ہے اور بہترین نام بھی اسی کے ہیں جن سے اس کو پکارا جاتا ہے۔ نہ معبود اس کے سوا کوئی اور ہے اور نہ اس کے اسمائے حسنٰی ہی کسی کے ہیں۔ پس اسی کی صحیح معرفت حاصل کر کے اسی سے ڈرایا جائے، اسی سے محبت رکھی جائے، اسی پر ایمان لایا جائے اور اسی کی اطاعت کی جائے۔ تاکہ انسان جب اس کی بارگاہ میں واپس جائے تو وہاں شرمسار نہ ہو بلکہ اس کی رحمت و مغفرت سے شاد کام اور اس کی رضا سے سعادت مند ہو۔
(آیت 8){ اَللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ …:} یعنی جس ہستی کی یہ صفات بیان ہوئی ہیں وہ اللہ ہے جس کے سوا عبادت کے لائق کوئی نہیں۔ {” لَهُ الْاَسْمَآءُ الْحُسْنٰى “} کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورۂ اعراف (۱۸۰)۔
وَ ہَلۡ اَتٰىکَ حَدِیۡثُ مُوۡسٰی ۘ﴿۹﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اور تمہیں کچھ موسیٰؑ کی خبر بھی پہنچی ہے؟
مولانا محمد جوناگڑھی
تجھے موسیٰ (علیہ السلام) کا قصہ بھی معلوم ہے؟
احمد رضا خان بریلوی
اور کچھ تمہیں موسیٰ کی خبر آئی
علامہ محمد حسین نجفی
کیا آپ(ص) تک موسیٰ کا واقعہ پہنچا ہے؟
عبدالسلام بن محمد
اور کیا تیرے پاس موسیٰ کی خبر پہنچی ہے؟
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
آگ کی تلاش ٭٭

یہاں سے موسیٰ علیہ السلام کا قصہ شروع ہوتا ہے۔ یہ واقعہ اس وقت کا ہے جب کہ آپ اس مدت کو پوری کر چکے تھے جو آپ کے اور آپ کے خسر صاحب کے درمیان طے ہوئی تھی اور آپ اپنے اہل و عیال کو لے کر دس سال سے زیادہ عرصے کے بعد اپنے وطن مصر کی طرف جا رہے تھے۔ سردی کی رات تھی راستہ بھول گئے تھے۔ پہاڑوں کی گھاٹیوں کے درمیان اندھیرا تھا، ابر چھایا ہوا تھا۔ ہر چند چقماق سے آگ نکالنا چاہی لیکن اس سے بالکل آگ نہ نکلی۔ ادھر ادھر نظریں دوڑائیں تو دائیں جانب کے پہاڑ پر کچھ آگ دکھائی دی تو بیوی صاحبہ سے فرمایا، اس طرف آگ سی نظر آ رہی ہے، میں جاتا ہوں کہ وہاں سے کچھ انگارے لے آؤں تاکہ تم سینک تاپ کرلو اور کچھ روشنی بھی ہو جائے اور یہ بھی ممکن ہے کہ وہاں کوئی آدمی مل جائے جو راستہ بھی بتا دے۔ بہر صورت راستے کا پتہ یا آگ مل ہی جائے گی۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 9تا11) ➊ { وَ هَلْ اَتٰىكَ حَدِيْثُ مُوْسٰى:} قرآن کی عظمت کے ذکر اور دعوت و تبلیغ کے سلسلے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مشقت اور تکلیف کی طرف اشارہ فرما کر اب یہاں سے موسیٰ علیہ السلام کا قصہ بیان کیا جا رہا ہے، اس سے مقصود آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی دینا ہے، کیونکہ جن دنوں یہ سورت نازل ہوئی مکہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسے ہی حالات درپیش تھے، جیسے موسیٰ علیہ السلام کو پیش آچکے تھے۔ اس کے علاوہ گزشتہ آیت میں{ ” اَللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ “ } کے ساتھ توحید کا جو بیان ہوا تھا اس کی مزید وضاحت مقصود ہے کہ ہر نبی یہی دعوت لے کر آیا۔ خصوصاً گزشتہ انبیاء میں سے جس نبی کے واقعات سب سے زیادہ مشہور ہیں انھیں بھی پہلی وحی میں آگاہ کر دیا گیا: «‏‏‏‏{ اِنَّنِيْۤ اَنَا اللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنَا فَاعْبُدْنِيْ }» [ طٰہٰ: ۱۴ ] اور سورت کے آخر میں بھی یہی بات دہرائی: «{ اِنَّمَاۤ اِلٰهُكُمُ اللّٰهُ الَّذِيْ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ وَسِعَ كُلَّ شَيْءٍ عِلْمًا }» [ طٰہٰ: ۹۸ ] ”تمھارا معبود تو اللہ ہی ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں، اس نے ہر چیز کو علم سے گھیر رکھا ہے۔“ {” وَ هَلْ اَتٰىكَ حَدِيْثُ مُوْسٰى “} یہ{” مَاۤ اَنْزَلْنَا عَلَيْكَ الْقُرْاٰنَ لِتَشْقٰۤى “} پر عطف ہے، یعنی نزول وحی آپ کے لیے باعث شقاوت نہیں بلکہ باعث سعادت ہے، جیسا کہ موسیٰ علیہ السلام کے لیے یہ نعمت باعث سعادت تھی۔ اور کیا آپ کو موسیٰ کی خبر پہنچی کہ ان کو یہ سعادت ملنے کا آغاز کیسے ہوا؟ استفہام ان کی خبر سننے کا شوق دلانے کے لیے ہے، پوچھنے کے لیے نہیں۔ آگ دیکھنے کا ذکر مزید شوق دلانے کے لیے ہے کہ معلوم ہو آگ دیکھنے کے بعد کیا ہوا؟ یہ اس وقت کا واقعہ ہے جب مدین میں دس سال تک جلا وطنی کی زندگی گزارنے کے بعد موسیٰ علیہ السلام اپنے اہل و عیال سمیت مصر آ رہے تھے۔ اس قصے کا کچھ حصہ سورۂ یونس اور سورۂ اعراف میں گزر چکا ہے۔یہاں جو بات ذکر ہوئی ہے اس سے پہلے کی سرگزشت کا ذکر سورۂ قصص میں ہے۔ ➋ ”جب اس نے آگ دیکھی“ سے معلوم ہوا کہ یہ رات کا وقت تھا اور سردی کا موسم تھا۔ گھر والے ساتھ تھے اور سب کو رات گزارنے کے لیے آگ کی ضرورت تھی۔ سورۂ قصص (۲۹) اور سورۂ نمل (۷) میں ہے: «{ لَعَلَّكُمْ تَصْطَلُوْنَ }» ”تاکہ تم تاپ لو۔“ {” اَوْ اَجِدُ عَلَى النَّارِ هُدًى “} سے معلوم ہوا کہ موسیٰ علیہ السلام راستہ بھول گئے تھے، آگ جلانے کا پتھر (چقماق) پاس نہیں تھا، اگر تھا تو سردی کی شدت یا لکڑیوں کی نمی کی وجہ سے آگ نہیں جل رہی تھی۔ اندھیرے میں آگ کے ذریعے سے متوجہ کرنے میں ایک مناسبت یہ بھی ہے کہ اسی طرح موسیٰ علیہ السلام گمراہی کی تاریکی میں ہدایت کی روشنی کا باعث بنیں گے۔ [ التحریر و التنویر ] ➌ { اِنِّيْۤ اٰنَسْتُ نَارًا:آنَسَ “} (افعال) اس نے واضح طور پر دیکھا، اسی لیے آنکھ کی پتلی کو ”انسان العین“ کہتے ہیں، کیونکہ اسی سے کوئی چیز واضح معلوم ہوتی ہے۔ {” إِنَّ “} کے ساتھ تاکید اور لفظ {” اٰنَسْتُ “} کے استعمال سے ظاہر ہو رہا ہے کہ موسیٰ علیہ السلام پورے یقین کے ساتھ ایک بہت بڑی آگ دیکھنے کا ذکر فرما رہے ہیں، کیونکہ {” نَارًا “} کی تنوین بھی تعظیم کے لیے ہے۔ یہ آگ موسیٰ علیہ السلام کو متوجہ کرنے کے لیے تھی جو انھیں ایک درخت میں لگی ہوئی نظر آئی اور درخت ہی سے آواز آئی کہ بے شک میں تیرا رب ہوں۔ یہ اللہ تعالیٰ کا ذاتی نور نہیں تھا۔ اس کی دلیل یہ ہے کہ جب موسیٰ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ کو دیکھنے کی درخواست کی تو جواب {” لَنْ تَرٰنِيْ “} ملا۔ تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ اعراف (۱۴۳)۔ ➍ {لَعَلِّيْۤ اٰتِيْكُمْ مِّنْهَا بِقَبَسٍ:قَبَسٌ“} مصدر بمعنی مفعول، اخذ کی ہوئی چیز۔ آگ جلانے کے لیے جلتی ہوئی آگ میں سے لکڑی یا سرکنڈے وغیرہ کے سرے پر آگ کا شعلہ لیا جائے تو اسے {”قَبَسٌ“} کہتے ہیں اور {”جَذْوَةٌ“} بھی۔ {”جَذْوَةٌ“} کا ایک معنی انگارا بھی ہے۔ (قاموس) ➎ { هُدًى:} یعنی کوئی راستہ بتانے والا مل جائے، یا آگ کی روشنی میں راستے کے آثار مل جائیں۔ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام کی زبان پر وہی چیز جاری فرما دی جو فی الواقع وجود میں آنے والی تھی، چنانچہ انھیں کفر کی برودت سے بچانے والا ایمان کا شعلہ بھی مل گیا اور صراط مستقیم کی رہنمائی بھی حاصل ہو گئی۔ ➏ { ” نُوْدِيَ “} (آواز دی گئی) یہ آواز ایک درخت سے آ رہی تھی۔ تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ قصص (۳۰) فعل مجہول لانے میں بھی یہ جاننے کا شوق ابھارنا مقصود ہے کہ آواز دینے والا کون تھا اور اس نے کیا آواز دی؟
اِذۡ رَاٰ نَارًا فَقَالَ لِاَہۡلِہِ امۡکُثُوۡۤا اِنِّیۡۤ اٰنَسۡتُ نَارًا لَّعَلِّیۡۤ اٰتِیۡکُمۡ مِّنۡہَا بِقَبَسٍ اَوۡ اَجِدُ عَلَی النَّارِ ہُدًی ﴿۱۰﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
جب کہ اس نے ایک آگ دیکھی اور اپنے گھر والوں سے کہا کہ " ذرا ٹھیرو، میں نے ایک آگ دیکھی ہے، شاید کہ تمہارے لیے ایک آدھ انگارا لے آؤں، یا اِس آگ پر مجھے (راستے کے متعلق) کوئی رہنمائی مل جائے"
مولانا محمد جوناگڑھی
جبکہ اس نے آگ دیکھ کر اپنے گھر والوں سے کہا کہ تم ذرا سی دیر ٹھہر جاؤ مجھے آگ دکھائی دی ہے۔ بہت ممکن ہے کہ میں اس کا کوئی انگارا تمہارے پاس ﻻؤں یا آگ کے پاس سے راستے کی اطلاع پاؤں
احمد رضا خان بریلوی
جب اس نے ایک آگ دیکھی تو اپنی بی بی سے کہا ٹھہرو مجھے ایک آگ نظر پڑی ہے شاید میں تمہارے لیے اس میں سے کوئی چنگاری لاؤں یا آ گ پر راستہ پاؤں،
علامہ محمد حسین نجفی
جب انہوں نے آگ دیکھی تو انہوں نے اپنے گھر والوں سے کہا کہ تم (یہیں) ٹھہرو۔ میں نے آگ دیکھی ہے شاید تمہارے لئے ایک آدھ انگارا لے آؤں یا آگ کے پاس راستہ کا کوئی پتّہ پاؤں؟
عبدالسلام بن محمد
جب اس نے ایک آگ دیکھی تو اپنے گھر والوں سے کہا تم ٹھہرو، بے شک میں نے ایک آگ دیکھی ہے، شاید میں تمھارے پاس اس سے کوئی انگارا لے آئوں، یا اس آگ پر کوئی رہنمائی حاصل کر لوں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
آگ کی تلاش ٭٭

یہاں سے موسیٰ علیہ السلام کا قصہ شروع ہوتا ہے۔ یہ واقعہ اس وقت کا ہے جب کہ آپ اس مدت کو پوری کر چکے تھے جو آپ کے اور آپ کے خسر صاحب کے درمیان طے ہوئی تھی اور آپ اپنے اہل و عیال کو لے کر دس سال سے زیادہ عرصے کے بعد اپنے وطن مصر کی طرف جا رہے تھے۔ سردی کی رات تھی راستہ بھول گئے تھے۔ پہاڑوں کی گھاٹیوں کے درمیان اندھیرا تھا، ابر چھایا ہوا تھا۔ ہر چند چقماق سے آگ نکالنا چاہی لیکن اس سے بالکل آگ نہ نکلی۔ ادھر ادھر نظریں دوڑائیں تو دائیں جانب کے پہاڑ پر کچھ آگ دکھائی دی تو بیوی صاحبہ سے فرمایا، اس طرف آگ سی نظر آ رہی ہے، میں جاتا ہوں کہ وہاں سے کچھ انگارے لے آؤں تاکہ تم سینک تاپ کرلو اور کچھ روشنی بھی ہو جائے اور یہ بھی ممکن ہے کہ وہاں کوئی آدمی مل جائے جو راستہ بھی بتا دے۔ بہر صورت راستے کا پتہ یا آگ مل ہی جائے گی۔
10۔ 1 یہ اس وقت کا واقعہ ہے۔ جب موسیٰ ؑ مدین سے اپنی بیوی کے ہمراہ (جو ایک قول کے مطابق حضرت شعیب ؑ کی دختر نیک اختر تھیں) اپنی والدہ کی طرف سے واپس جا رہے تھے، اندھیری رات تھی اور راستہ بھی نامعلوم۔ بعض مفسرین کے بقول بیوی کی زچگی کا وقت بالکل قریب تھا اور انھیں حرارت کی ضرورت تھی۔ یا سردی کی وجہ سے گرمی کی ضرورت محسوس ہوئی۔ اتنے میں دور سے انھیں آگ کے شعلے بلند ہوتے ہوئے نظر آئے۔ گھر والوں سے یعنی بیوی سے (یا بعض کہتے ہیں خادم اور بچہ بھی تھا اس لئے جمع کا لفظ استعمال فرمایا) کہا تم یہاں ٹھہرو! شاید میں آگ کا کوئی انگارا وہاں سے لے آؤں یا کم از کم وہاں سے راستے کی نشان دہی ہوجائے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
فَلَمَّاۤ اَتٰىہَا نُوۡدِیَ یٰمُوۡسٰی ﴿ؕ۱۱﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
وہاں پہنچا تو پکارا گیا "اے موسیٰؑ!
مولانا محمد جوناگڑھی
جب وه وہاں پہنچے تو آواز دی گئی اے موسیٰ!
احمد رضا خان بریلوی
پھر جب آگ کے پاس آیا ندا فرمائی گئی کہ اے موسیٰ،
علامہ محمد حسین نجفی
تو جب اس کے پاس گئے تو انہیں آواز دی گئی کہ اے موسیٰ!
عبدالسلام بن محمد
تو جب وہ اس کے پاس آیا تو اسے آواز دی گئی اے موسیٰ!
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
اللہ تعالٰی سے ہمکلامی ٭٭

جب موسیٰ علیہ السلام آگ کے پاس پہنچے تو اس مبارک میدان کے دائیں جانب کے درختوں کی طرف سے آواز آئی کہ «فَلَمَّا أَتَاهَا نُودِيَ مِن شَاطِئِ الْوَادِ الْأَيْمَنِ فِي الْبُقْعَةِ الْمُبَارَكَةِ مِنَ الشَّجَرَةِ أَن يَا مُوسَىٰ إِنِّي أَنَا اللَّـهُ رَبُّ الْعَالَمِينَ» ۱؎ [28-القصص:30] ‏‏‏‏ ’ اے موسیٰ! میں تیرا رب ہوں، تو جوتیاں اتار دے۔ ‘ یا تو اس لیے یہ حکم ہوا کہ آپ کی جوتیاں گدھے کے چمڑے کی تھیں یا اس لیے کہ تعظیم کرانی مقصود تھی۔ جیسا کہ کعبہ جانے کے وقت لوگ جوتیاں اتار کر جاتے ہیں۔ یا اس لیے کہ اس بابرکت جگہ پر پاؤں پڑیں، اور بھی وجوہ بیان کئے گئے ہیں۔ طویٰ اس وادی کا نام تھا۔ یا یہ مطلب کہ اپنے قدم اس زمین سے ملا دو۔ یا یہ مطلب کہ یہ زمین کئی کئی بار پاک کی گئی ہے اور اس میں برکتیں بھر دی گئی ہیں اور باربار دہرائی گئی ہیں۔ لیکن زیادہ صحیح پہلا قول ہی ہے۔ جیسے اور آیت میں ہے «اِذْ نَادٰىهُ رَبُّهٗ بالْوَادِ الْمُقَدَّسِ طُوًى» ‏‏‏‏ ۱؎ [79-النازعات:16] ‏‏‏‏ میں نے تجھے اپنا برگزیدہ کر لیا ہے، دنیا میں سے تجھے منتخب کر لیا ہے، اپنی رسالت اور اپنے کلام سے تجھے ممتاز فرما رہا ہوں، اس وقت کے روئے زمین کے تمام لوگوں سے تیرا مرتبہ بڑھا رہا ہوں۔ کہا گیا ہے کہ موسیٰ علیہ السلام سے پوچھا گیا، جانتے بھی ہو کہ میں نے تجھے دوسرے تمام لوگوں میں سے مختار اور پسندیدہ کر کے شرف ہم کلامی کیوں بخشا؟ آپ نے جواب دیا اے اللہ مجھے اس کی وجہ معلوم نہیں، فرمایا گیا اس لیے کہ تیری طرح اور کوئی میری طرف نہیں جھکا۔ اب تو میری وحی کو کان لگا کر دھیان دے کر سن۔ میں ہی معبود ہوں کوئی اور نہیں۔ یہی پہلا فریضہ ہے تو صرف میری ہی عبادت کئے چلے جانا، کسی اور کی کسی قسم کی عبادت نہ کرنا۔ میری یاد کے لیے نمازیں قائم کرنا، میری یاد کا یہ بہترین اور افضل ترین طریقہ ہے یا یہ مطلب کہ جب میں یاد آؤں نماز پڑھو۔ جیسے حدیث میں ہے کہ { تم میں سے اگر کسی کو نیند آ جائے یا غفلت ہو جائے تو جب یاد آ جائے نماز پڑھ لے کیونکہ فرمان الٰہی ہے میری یاد کے وقت نماز قائم کرو۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:597] ‏‏‏‏ بخاری و مسلم میں ہے { جو شخص سوتے میں یا بھول میں نماز کا وقت گزار دے، اس کا کفارہ یہی ہے کہ یاد آتے ہی نماز پڑھ لے، اس کے سوا اور کفارہ نہیں۔}
11۔ 1 موسیٰ ؑ جب آگ والی جگہ پہنچے تو وہاں ایک درخت سے (جیسا کہ سورة قصص۔ 30 میں صراحت ہے) آواز آئی۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
اِنِّیۡۤ اَنَا رَبُّکَ فَاخۡلَعۡ نَعۡلَیۡکَ ۚ اِنَّکَ بِالۡوَادِ الۡمُقَدَّسِ طُوًی ﴿ؕ۱۲﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
میں ہی تیرا رب ہوں، جوتیاں اتار دے تو وادی مقدس طویٰ میں ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
یقیناً میں ہی تیرا پروردگار ہوں تو اپنی جوتیاں اتار دے، کیونکہ تو پاک میدان طویٰ میں ہے
احمد رضا خان بریلوی
بیشک میں تیرا رب ہوں تو تو اپنے جوتے اتار ڈال بیشک تو پاک جنگل طویٰ میں ہے
علامہ محمد حسین نجفی
میں ہی تمہارا پروردگار ہوں! پس اپنی جوتیاں اتار دو (کیونکہ) تم طویٰ نامی ایک مقدس وادی میں ہو۔
عبدالسلام بن محمد
بے شک میں ہی تیرا رب ہوں، سو اپنی دونوں جوتیاں اتار دے، بے شک تو پاک وادی طویٰ میں ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
اللہ تعالٰی سے ہمکلامی ٭٭

جب موسیٰ علیہ السلام آگ کے پاس پہنچے تو اس مبارک میدان کے دائیں جانب کے درختوں کی طرف سے آواز آئی کہ «فَلَمَّا أَتَاهَا نُودِيَ مِن شَاطِئِ الْوَادِ الْأَيْمَنِ فِي الْبُقْعَةِ الْمُبَارَكَةِ مِنَ الشَّجَرَةِ أَن يَا مُوسَىٰ إِنِّي أَنَا اللَّـهُ رَبُّ الْعَالَمِينَ» ۱؎ [28-القصص:30] ‏‏‏‏ ’ اے موسیٰ! میں تیرا رب ہوں، تو جوتیاں اتار دے۔ ‘ یا تو اس لیے یہ حکم ہوا کہ آپ کی جوتیاں گدھے کے چمڑے کی تھیں یا اس لیے کہ تعظیم کرانی مقصود تھی۔ جیسا کہ کعبہ جانے کے وقت لوگ جوتیاں اتار کر جاتے ہیں۔ یا اس لیے کہ اس بابرکت جگہ پر پاؤں پڑیں، اور بھی وجوہ بیان کئے گئے ہیں۔ طویٰ اس وادی کا نام تھا۔ یا یہ مطلب کہ اپنے قدم اس زمین سے ملا دو۔ یا یہ مطلب کہ یہ زمین کئی کئی بار پاک کی گئی ہے اور اس میں برکتیں بھر دی گئی ہیں اور باربار دہرائی گئی ہیں۔ لیکن زیادہ صحیح پہلا قول ہی ہے۔ جیسے اور آیت میں ہے «اِذْ نَادٰىهُ رَبُّهٗ بالْوَادِ الْمُقَدَّسِ طُوًى» ‏‏‏‏ ۱؎ [79-النازعات:16] ‏‏‏‏ میں نے تجھے اپنا برگزیدہ کر لیا ہے، دنیا میں سے تجھے منتخب کر لیا ہے، اپنی رسالت اور اپنے کلام سے تجھے ممتاز فرما رہا ہوں، اس وقت کے روئے زمین کے تمام لوگوں سے تیرا مرتبہ بڑھا رہا ہوں۔ کہا گیا ہے کہ موسیٰ علیہ السلام سے پوچھا گیا، جانتے بھی ہو کہ میں نے تجھے دوسرے تمام لوگوں میں سے مختار اور پسندیدہ کر کے شرف ہم کلامی کیوں بخشا؟ آپ نے جواب دیا اے اللہ مجھے اس کی وجہ معلوم نہیں، فرمایا گیا اس لیے کہ تیری طرح اور کوئی میری طرف نہیں جھکا۔ اب تو میری وحی کو کان لگا کر دھیان دے کر سن۔ میں ہی معبود ہوں کوئی اور نہیں۔ یہی پہلا فریضہ ہے تو صرف میری ہی عبادت کئے چلے جانا، کسی اور کی کسی قسم کی عبادت نہ کرنا۔ میری یاد کے لیے نمازیں قائم کرنا، میری یاد کا یہ بہترین اور افضل ترین طریقہ ہے یا یہ مطلب کہ جب میں یاد آؤں نماز پڑھو۔ جیسے حدیث میں ہے کہ { تم میں سے اگر کسی کو نیند آ جائے یا غفلت ہو جائے تو جب یاد آ جائے نماز پڑھ لے کیونکہ فرمان الٰہی ہے میری یاد کے وقت نماز قائم کرو۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:597] ‏‏‏‏ بخاری و مسلم میں ہے { جو شخص سوتے میں یا بھول میں نماز کا وقت گزار دے، اس کا کفارہ یہی ہے کہ یاد آتے ہی نماز پڑھ لے، اس کے سوا اور کفارہ نہیں۔}
12۔ 1 جوتیاں اتارنے کا حکم اس لئے دیا کہ اس میں تواضع کا اظہار اور شرف و تکریم کا پہلو زیادہ اور وادی کی پاکیزگی اس کا سبب تھا، جیسا کہ قرآن کے الفاظ سے واضح ہوتا ہے۔ تاہم اس کے دو پہلو ہیں۔ یہ حکم وادی کی تعظیم کے لئے تھا یا اس لئے کہ وادی کی پاکیزگی کے اثرات ننگے پیر ہونے کی صورت میں موسیٰ ؑ کے اندر زیادہ جذب ہو سکیں۔ واللہ اعلم۔ 12۔ 2 طُوَی وادی کا نام ہے، اسے بعض نے منصرف اور بعض نے غیر منصرف کہا ہے (فتح القدیر)
(آیت 12) ➊ { فَاخْلَعْ نَعْلَيْكَ:} غالباً اسی سے یہودیوں نے یہ مسئلہ بنا لیا ہے کہ جوتا پہن کر نماز پڑھنا جائز نہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ غلط فہمی دور کرنے کے لیے فرمایا: [ خَالِفُوا الْيَهُوْدَ فَإِنَّهُمْ لَا يُصَلُّوْنَ فِيْ نِعَالِهِمْ وَلَا خِفَافِهِمْ ] [ أبوداوٗد، الصلاۃ، باب الصلاۃ في النعل: ۶۵۲، و صححہ الألباني ] ”یہودیوں کے خلاف عمل کرو، کیونکہ وہ اپنے جوتوں اور موزوں میں نماز نہیں پڑھتے۔“ اگر دوسری حدیث نہ ہوتی تو اس حدیث کی رو سے جوتوں سمیت نماز پڑھنا فرض تھا۔ وہ حدیث یہ ہے، عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنھما فرماتے ہیں: [ رَأَيْتُ رَسُوْلَ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّيْ حَافِيًا وَمُنْتَعِلًا ] [ أبوداوٗد، الصلاۃ، باب الصلاۃ في النعل: ۶۵۳ ] ”میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ننگے پاؤں اور جوتا پہن کر (دونوں طرح) نماز پڑھتے ہوئے دیکھا ہے۔“ ➋ { اِنَّكَ بِالْوَادِ الْمُقَدَّسِ طُوًى:} ابن عباس رضی اللہ عنھما نے فرمایا: ”طویٰ اس وادی کا نام ہے۔“ [ طبري بسند حسن ] یہ الفاظ دلیل ہیں کہ اس وقت موسیٰ علیہ السلام کے جوتے ناپاک تھے، اگر وہ پاک ہوتے تو اس وادی کو پاک بتا کر جوتے اتارنے کا حکم نہ دیا جاتا۔ ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: [ بَيْنَمَا رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّيْ بِأَصْحَابِهِ إِذْ خَلَعَ نَعْلَيْهِ فَوَضَعَهُمَا عَنْ يَسَارِهِ، فَلَمَّا رَأَی ذٰلِكَ الْقَوْمُ أَلْقَوْا نِعَالَهُمْ، فَلَمَّا قَضَی رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاتَهُ قَالَ مَا حَمَلَكُمْ عَلٰی إِلْقَائِكُمْ نِعَالَكُمْ؟ قَالُوْا رَأَيْنَاكَ أَلْقَيْتَ نَعْلَيْكَ فَأَلْقَيْنَا نِعَالَنَا، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ جِبْرِيْلَ عَلَيْهِ السَّلَامُ أَتَانِيْ فَأَخْبَرَنِيْ أَنَّ فِيْهِمَا قَذَرًا، أَوْ قَالَ أَذًی، وَقَالَ إِذَا جَاءَ أَحَدُكُمْ إِلَی الْمَسْجِدِ فَلْيَنْطُرْ فإِنْ رَأَی فِيْ نَعْلَيْهِ قَذَرًا أَوْ أَذًی فَلْيَمْسَحْهُ وَلْيُصَلِّ فِيْهِمَا ] [ أبوداوٗد، الصلاۃ، باب الصلاۃ في النعل: ۶۵۰، و صححہ الألباني ] ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اصحاب کو نماز پڑھا رہے تھے، دوران نماز آپ نے اپنے جوتے اتارے اور اپنی بائیں طرف رکھ دیے۔ جب لوگوں نے یہ دیکھا تو انھوں نے بھی اپنے جوتے اتار دیے۔ جب آپ نے اپنی نماز پوری کی تو فرمایا: ”تمھارے جوتے اتارنے کا باعث کیا ہوا؟“ انھوں نے کہا: ”ہم نے آپ کو دیکھا کہ آپ نے جوتے اتارے تو ہم نے بھی اتار دیے۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے پاس جبریل آئے اور انھوں نے مجھے بتایا کہ ان میں گندگی لگی ہے۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی مسجد کو آئے تو دیکھ لے، پھر اگر اپنے جوتوں میں کوئی گندگی دیکھے تو اسے مل کر صاف کر لے اور انھیں پہن کر نماز پڑھ لے۔“ یہ حدیث دلیل ہے کہ موسیٰ علیہ السلام کو جوتے اتارنے کے حکم کی وجہ وادی کا پاک ہونا اور جوتوں کا ناپاک ہونا تھا۔ یہ وجہ نہ تھی کہ کسی مقدس جگہ میں جوتے پہن کر جانا منع ہے، کیونکہ یہ تو سب جانتے ہیں کہ مسجد پاک ترین جگہ ہے اور اسے پاک رکھنے کا حکم بھی ہے۔ دیکھیے سورۂ بقرہ (۱۲۵) اور سورۂ حج (۲۶) اور عائشہ رضی اللہ عنھا سے روایت ہے: [ أَمَرَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّي اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِبِنَاءِ الْمَسَاجِدِ فِي الدُّوْرِ وَأَنْ تُنَظَّفَ وَتُطَيَّبَ ] [ أبوداوٗد، الصلاۃ، باب اتخاذ المساجد فی الدور: ۴۵۵۔ ترمذی: ۵۹۴۔ ابن ماجہ: ۷۵۸، صحیح ] ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے محلوں میں مسجدیں بنانے کا حکم دیا اور حکم دیا کہ انھیں صاف ستھرا رکھا جائے اور خوشبو دار بنایا جائے۔“ جوتے پاک ہوں تو مسجد میں جا سکتے ہیں تو کسی اور جگہ کیوں نہیں جا سکتے؟ بعض روایات میں ہے کہ موسیٰ علیہ السلام کے جوتے مردار گدھے کے چمڑے کے تھے، اس لیے انھیں اتارنے کا حکم ہوا، مگر یہ روایات پایۂ ثبوت کو نہیں پہنچتیں۔ اس لیے یہ بات اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے کہ ان کے جوتوں میں کیا چیز تھی جو وادی مقدس کے لائق نہ تھی، کیونکہ پاک جوتے جب مسجد نبوی میں پہنے جا سکتے ہیں تو تین مسجدوں سے زیادہ مقدس جگہ کون سی ہوگی؟ ➌ اس آیت اور حدیث سے معلوم ہوا کہ نہ موسیٰ علیہ السلام غیب جانتے تھے اور نہ ہمارے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ، ورنہ جبریل علیہ السلام کو جوتوں میں نجاست کی اطلاع کے لیے دوران نماز آپ کے پاس آنے کی ضرورت نہ تھی اور اگر موسیٰ علیہ السلام غیب جانتے ہوتے تو نہ راستہ بھولتے اور نہ آگ کو عام آگ سمجھتے، نہ اللہ تعالیٰ کو وادی مقدس کا بتا کر انھیں جوتے اتارنے کا حکم دینا پڑتا اور نہ یہ کہہ کر تعارف کروانا پڑتا کہ میں تیرا رب تجھ سے مخاطب ہوں اور نہ اس کے بعد جبریل علیہ السلام کو بار بار آ کر وحی پہنچانا پڑتی۔ مگر افسوس کہ ولیوں اور نبیوں کو غیب دان کہنے والے ذرہ برابر نہیں سوچتے۔ ➍ اوپر کی حدیث سے معلوم ہوا کہ جوتے پاک کرنے کے لیے کپڑے کو پاک کرنے کی طرح دھونا ضروری نہیں، بلکہ صرف مٹی سے مل کر صاف کر دینا کافی ہے۔ علاوہ ازیں یہ حدیث ہر اس بہانے کا جواب ہے جو جوتوں سمیت نماز سے روکنے والے کرتے ہیں، مثلاً یہ کہ یہ سفر کے لیے ہے، یا یہ کسی میدان وغیرہ میں نماز کے لیے ہے مسجد کے لیے نہیں، یا یہ کہ جوتا نیا ہو تو جائز ہے، یا یہ کہ دھویا ہوا ہو تو ٹھیک ہے، یا یہ کہ جوتا پہننا اللہ تعالیٰ کے حضور پیشی کے ادب کے خلاف ہے وغیرہ، ان تمام باتوں کا جواب اسی حدیث پر غور کر نے سے مل جاتا ہے۔ ➎ جیسا کہ اوپر گزرا جوتوں سمیت نماز پڑھنا فرض نہیں مستحب ہے۔ اس لیے اگر لا علم لوگوں کے فتنے میں پڑنے کا خوف ہو تو جوتوں سمیت نماز پڑھنے سے پہلے انھیں اچھی طرح سمجھانا لازم ہے، ایسا نہ ہو کہ وہ متنفر ہو کر نماز پڑھنا ہی چھوڑ دیں۔
وَ اَنَا اخۡتَرۡتُکَ فَاسۡتَمِعۡ لِمَا یُوۡحٰی ﴿۱۳﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اور میں نے تجھ کو چُن لیا ہے، سُن جو کچھ وحی کیا جاتا ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
اور میں نے تجھے منتخب کر لیا اب جو وحی کی جائے اسے کان لگا کر سن
احمد رضا خان بریلوی
اور میں نے تجھے پسند کیا اب کان لگا کر سن جو تجھے وحی ہوتی ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
اور میں نے تمہیں (پیغمبری کیلئے) منتخب کیا ہے۔ پس (تمہیں) جو کچھ وحی کی جاتی ہے اسے غور سے سنو۔
عبدالسلام بن محمد
اور میں نے تجھے چن لیا ہے، پس غور سے سن جو کچھ وحی کیا جاتا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
اللہ تعالٰی سے ہمکلامی ٭٭

جب موسیٰ علیہ السلام آگ کے پاس پہنچے تو اس مبارک میدان کے دائیں جانب کے درختوں کی طرف سے آواز آئی کہ «فَلَمَّا أَتَاهَا نُودِيَ مِن شَاطِئِ الْوَادِ الْأَيْمَنِ فِي الْبُقْعَةِ الْمُبَارَكَةِ مِنَ الشَّجَرَةِ أَن يَا مُوسَىٰ إِنِّي أَنَا اللَّـهُ رَبُّ الْعَالَمِينَ» ۱؎ [28-القصص:30] ‏‏‏‏ ’ اے موسیٰ! میں تیرا رب ہوں، تو جوتیاں اتار دے۔ ‘ یا تو اس لیے یہ حکم ہوا کہ آپ کی جوتیاں گدھے کے چمڑے کی تھیں یا اس لیے کہ تعظیم کرانی مقصود تھی۔ جیسا کہ کعبہ جانے کے وقت لوگ جوتیاں اتار کر جاتے ہیں۔ یا اس لیے کہ اس بابرکت جگہ پر پاؤں پڑیں، اور بھی وجوہ بیان کئے گئے ہیں۔ طویٰ اس وادی کا نام تھا۔ یا یہ مطلب کہ اپنے قدم اس زمین سے ملا دو۔ یا یہ مطلب کہ یہ زمین کئی کئی بار پاک کی گئی ہے اور اس میں برکتیں بھر دی گئی ہیں اور باربار دہرائی گئی ہیں۔ لیکن زیادہ صحیح پہلا قول ہی ہے۔ جیسے اور آیت میں ہے «اِذْ نَادٰىهُ رَبُّهٗ بالْوَادِ الْمُقَدَّسِ طُوًى» ‏‏‏‏ ۱؎ [79-النازعات:16] ‏‏‏‏ میں نے تجھے اپنا برگزیدہ کر لیا ہے، دنیا میں سے تجھے منتخب کر لیا ہے، اپنی رسالت اور اپنے کلام سے تجھے ممتاز فرما رہا ہوں، اس وقت کے روئے زمین کے تمام لوگوں سے تیرا مرتبہ بڑھا رہا ہوں۔ کہا گیا ہے کہ موسیٰ علیہ السلام سے پوچھا گیا، جانتے بھی ہو کہ میں نے تجھے دوسرے تمام لوگوں میں سے مختار اور پسندیدہ کر کے شرف ہم کلامی کیوں بخشا؟ آپ نے جواب دیا اے اللہ مجھے اس کی وجہ معلوم نہیں، فرمایا گیا اس لیے کہ تیری طرح اور کوئی میری طرف نہیں جھکا۔ اب تو میری وحی کو کان لگا کر دھیان دے کر سن۔ میں ہی معبود ہوں کوئی اور نہیں۔ یہی پہلا فریضہ ہے تو صرف میری ہی عبادت کئے چلے جانا، کسی اور کی کسی قسم کی عبادت نہ کرنا۔ میری یاد کے لیے نمازیں قائم کرنا، میری یاد کا یہ بہترین اور افضل ترین طریقہ ہے یا یہ مطلب کہ جب میں یاد آؤں نماز پڑھو۔ جیسے حدیث میں ہے کہ { تم میں سے اگر کسی کو نیند آ جائے یا غفلت ہو جائے تو جب یاد آ جائے نماز پڑھ لے کیونکہ فرمان الٰہی ہے میری یاد کے وقت نماز قائم کرو۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:597] ‏‏‏‏ بخاری و مسلم میں ہے { جو شخص سوتے میں یا بھول میں نماز کا وقت گزار دے، اس کا کفارہ یہی ہے کہ یاد آتے ہی نماز پڑھ لے، اس کے سوا اور کفارہ نہیں۔}
13۔ 1 یعنی نبوت و رسالت اور ہم کلامی کے لئے۔
(آیت 13){ وَ اَنَا اخْتَرْتُكَ فَاسْتَمِعْ لِمَا يُوْحٰى:} نبوت کے حصول میں کسی کی جد و جہد یا محنت کا کچھ دخل نہیں، یہ صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کا انتخاب ہے۔ دیکھیے سورۂ حج (۷۵) قادیانی دجال نے اسے مجاہدہ و کسب سے حاصل ہو سکنے کا دعویٰ کیا، چنانچہ اس کی زندگی ہی میں اس کے پیروکاروں میں سے تیرہ آدمیوں نے نبوت کا دعویٰ کر دیا۔ دیکھیے قادیانیت از ابوالحسن علی ندوی۔
اِنَّنِیۡۤ اَنَا اللّٰہُ لَاۤ اِلٰہَ اِلَّاۤ اَنَا فَاعۡبُدۡنِیۡ ۙ وَ اَقِمِ الصَّلٰوۃَ لِذِکۡرِیۡ ﴿۱۴﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
میں ہی اللہ ہوں، میرے سوا کوئی خدا نہیں ہے، پس تو میری بندگی کر اور میری یاد کے لیے نماز قائم کر
مولانا محمد جوناگڑھی
بیشک میں ہی اللہ ہوں، میرے سوا عبادت کے ﻻئق اور کوئی نہیں پس تو میری ہی عبادت کر، اور میری یاد کے لئے نماز قائم رکھ
احمد رضا خان بریلوی
بیشک میں ہی ہوں اللہ کہ میرے سوا کوئی معبود نہیں تو میری بندگی کر اور میری یاد کے لیے نماز قائم رکھ
علامہ محمد حسین نجفی
بےشک میں ہی اللہ ہوں۔ میرے سوا کوئی الٰہ نہیں ہے پس میری عبادت کرو اور میری یاد کیلئے نماز قائم کرو۔
عبدالسلام بن محمد
بے شک میں ہی اللہ ہوں، میرے سوا کوئی معبود نہیں، سو میری عبادت کر اور میری یاد کے لیے نماز قائم کر۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
اللہ تعالٰی سے ہمکلامی ٭٭

جب موسیٰ علیہ السلام آگ کے پاس پہنچے تو اس مبارک میدان کے دائیں جانب کے درختوں کی طرف سے آواز آئی کہ «فَلَمَّا أَتَاهَا نُودِيَ مِن شَاطِئِ الْوَادِ الْأَيْمَنِ فِي الْبُقْعَةِ الْمُبَارَكَةِ مِنَ الشَّجَرَةِ أَن يَا مُوسَىٰ إِنِّي أَنَا اللَّـهُ رَبُّ الْعَالَمِينَ» ۱؎ [28-القصص:30] ‏‏‏‏ ’ اے موسیٰ! میں تیرا رب ہوں، تو جوتیاں اتار دے۔ ‘ یا تو اس لیے یہ حکم ہوا کہ آپ کی جوتیاں گدھے کے چمڑے کی تھیں یا اس لیے کہ تعظیم کرانی مقصود تھی۔ جیسا کہ کعبہ جانے کے وقت لوگ جوتیاں اتار کر جاتے ہیں۔ یا اس لیے کہ اس بابرکت جگہ پر پاؤں پڑیں، اور بھی وجوہ بیان کئے گئے ہیں۔ طویٰ اس وادی کا نام تھا۔ یا یہ مطلب کہ اپنے قدم اس زمین سے ملا دو۔ یا یہ مطلب کہ یہ زمین کئی کئی بار پاک کی گئی ہے اور اس میں برکتیں بھر دی گئی ہیں اور باربار دہرائی گئی ہیں۔ لیکن زیادہ صحیح پہلا قول ہی ہے۔ جیسے اور آیت میں ہے «اِذْ نَادٰىهُ رَبُّهٗ بالْوَادِ الْمُقَدَّسِ طُوًى» ‏‏‏‏ ۱؎ [79-النازعات:16] ‏‏‏‏ میں نے تجھے اپنا برگزیدہ کر لیا ہے، دنیا میں سے تجھے منتخب کر لیا ہے، اپنی رسالت اور اپنے کلام سے تجھے ممتاز فرما رہا ہوں، اس وقت کے روئے زمین کے تمام لوگوں سے تیرا مرتبہ بڑھا رہا ہوں۔ کہا گیا ہے کہ موسیٰ علیہ السلام سے پوچھا گیا، جانتے بھی ہو کہ میں نے تجھے دوسرے تمام لوگوں میں سے مختار اور پسندیدہ کر کے شرف ہم کلامی کیوں بخشا؟ آپ نے جواب دیا اے اللہ مجھے اس کی وجہ معلوم نہیں، فرمایا گیا اس لیے کہ تیری طرح اور کوئی میری طرف نہیں جھکا۔ اب تو میری وحی کو کان لگا کر دھیان دے کر سن۔ میں ہی معبود ہوں کوئی اور نہیں۔ یہی پہلا فریضہ ہے تو صرف میری ہی عبادت کئے چلے جانا، کسی اور کی کسی قسم کی عبادت نہ کرنا۔ میری یاد کے لیے نمازیں قائم کرنا، میری یاد کا یہ بہترین اور افضل ترین طریقہ ہے یا یہ مطلب کہ جب میں یاد آؤں نماز پڑھو۔ جیسے حدیث میں ہے کہ { تم میں سے اگر کسی کو نیند آ جائے یا غفلت ہو جائے تو جب یاد آ جائے نماز پڑھ لے کیونکہ فرمان الٰہی ہے میری یاد کے وقت نماز قائم کرو۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:597] ‏‏‏‏ بخاری و مسلم میں ہے { جو شخص سوتے میں یا بھول میں نماز کا وقت گزار دے، اس کا کفارہ یہی ہے کہ یاد آتے ہی نماز پڑھ لے، اس کے سوا اور کفارہ نہیں۔}
14۔ 1 یعنی تکلیفات میں سب سے پہلا اور سب سے اہم حکم ہے جس کا ہر انسان پر تکلف ہی ہے۔ علاوہ ازیں جب الوہیت کا مستحق بھی وہی ہے تو عبادت بھی صرف اسی کا حق ہے۔ 14۔ 2 عبادت کے بعد نماز کا خصوصی حکم دیا۔ حالانکہ عبادت میں نماز بھی شامل تھی، تاکہ اس کی وہ اہمیت واضح ہوجائے جیسے کہ اس کی ہے۔ لِذِکْرِیْ کا ایک مطلب یہ ہے کہ تو مجھے یاد کرے، اسلئے یاد کرنے کا طریقہ عبادت ہے اور عبادت میں نماز کو خصوصی اہمیت و فضیلت حاصل ہے۔ دوسرا مفہوم یہ ہے کہ جب بھی میں تجھے یاد آجاؤں نماز پڑھ، یعنی اگر کسی وقت غفلت یا نیند کا غلبہ ہو تو اس کیفیت سے نکلتے ہی اور میری یاد آتے ہی نماز پڑھ۔ جس طرح کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ' جو نماز سے سو جائے یا بھول جائے، تو اس کا کفارہ یہی ہے کہ جب بھی اسے یاد آئے پڑھ لے ' (صحیح بخاری)
(آیت 14) ➊ { اِنَّنِيْۤ اَنَا اللّٰهُ:} اللہ تعالیٰ نے پہلے موسیٰ علیہ السلام کو اس تعلق سے آگاہ کیا جو اللہ تعالیٰ اور موسیٰ علیہ السلام کے درمیان تھا کہ بلاشبہ میں تیرا رب ہوں جو تجھ سے مخاطب ہوں، یعنی تجھے پیدا کرنے والا، تیری پرورش کرنے والا اور تیری ہر ضرورت پوری کرنے والا میں ہی ہوں۔ پھر جوتے اتارنے کے حکم کے بعد وحی کو غور سے سننے کی تاکید فرمائی، کیونکہ چننے سے مقصود ہی وحی کے ذریعے سے رسالت کی ذمہ داریاں سونپنا تھا۔ اب ضمیر متکلم ـ{” اَنَا “} کے بعد اپنا ذاتی نام بتایا، کیونکہ ملاقات میں پہلی چیز یہی ہے کہ ایک دوسرے کا نام معلوم ہو۔ اللہ تعالیٰ نے اشارہ فرمایا کہ میں تو اپنے کلیم کا نام جانتا ہی ہوں، میرا نام اللہ ہے۔ یاد رہے کہ اللہ تعالیٰ کے باقی سب نام صفاتی ہیں جن میں اس کے ننانوے نام بھی شامل ہیں اور وہ بے شمار نام بھی جن سے اس نے ابھی تک کسی کو آگاہ نہیں کیا۔ لفظ ”اللہ“ عربی زبان میں اس ذات پاک کا نام ہے۔ جب ”اللہ“ کہہ دیا تو اس میں اس کے تمام نام بھی آ گئے اور تمام صفات بھی۔ {” إِنَّ“} کے ساتھ تاکید موسیٰ علیہ السلام سے شک کا امکان دور کرنے کے لیے ہے، کیونکہ انوکھی بات سن کر جلدی یقین نہیں آتا۔ ➋ { لَاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنَا:” اِنَّنِيْۤ “ } کی پہلی خبر {” اَنَا اللّٰهُ “} تھی، {” لَاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنَا “} دوسری خبر ہے۔ یہ سب سے پہلی بات ہے جسے جاننا، اس پر یقین رکھنا اور اس کے مطابق عمل کرنا ہر جن و انس پر واجب ہے۔ اسی بات کی تعلیم کے لیے تمام انبیاء مبعوث فرمائے گئے۔ دیکھیے سورۂ انبیاء (۲۵) {” فَاعْبُدْنِيْ “} یہ ہے وہ مقصد جس کے لیے جن و انس کو پیدا کیا گیا، جیسا کہ فرمایا: «{ وَ مَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَ الْاِنْسَ اِلَّا لِيَعْبُدُوْنِ }» [ الذاریات: ۵۶ ] ”اور میں نے جنوں اور انسانوں کو پیدا نہیں کیا مگر اس لیے کہ وہ میری عبادت کریں۔“ یعنی جب میرے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں تو میری عبادت کر۔ عبادت میں ہر وہ عمل آ جاتا ہے جو انتہائی محبت کے ساتھ انتہائی درجے کی عاجزی اور تعظیم پر دلالت کرتا ہو، اس میں قول، فعل اور دل کا اخلاص سب شامل ہیں۔ ➌ { وَ اَقِمِ الصَّلٰوةَ لِذِكْرِيْ:فَاعْبُدْنِيْ “} میں اگرچہ ہر قسم کی بدنی و مالی عبادت کا ذکر آ گیا تھا، لیکن چونکہ نماز تمام عبادتوں کی جامع اور سب سے اہم عبادت ہے اور اسلام قبول کرنے کے بعد ایمان کی سب سے پہلی شرط اور علامت ہے کہ جس سے مسلمان کی پہچان ہو کر اس کا خون اور مال محفوظ ہو جاتا ہے (دیکھیے توبہ: ۵،۱۱) اس لیے اس کا خاص طور پر الگ ذکر بھی فرمایا۔ شاہ عبد القادر رحمہ اللہ لکھتے ہیں: ”موسیٰ علیہ السلام کو پہلی وحی میں نماز کا حکم ہے اور ہمارے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی {”وَرَبَّكَ فَكَبِّرْ “} فرمایا گیا۔“ (موضح) {” لِذِكْرِيْ “} کی دو تفسیریں ہیں اور دونوں درست ہیں۔ پہلی یہ کہ نماز کا مقصد یہ ہے کہ بندہ اللہ کی یاد سے غافل نہ ہو، ایک نماز سے فارغ ہو تو اگلی کے انتظار میں مشغول رہے، جیسا کہ حدیث مبارکہ میں آتا ہے: [ وَ رَجُلٌ قَلْبُهُ مُعَلَّقٌ بِالْمَسْجِدِ ] [ بخاری: ۶۸۰۶] اس طرح اس کا سارا وقت ہی نماز میں شمار ہو گا جو اللہ کی یاد کا سب سے اچھا طریقہ ہے۔ دیکھیے سورۂ بنی اسرائیل کی آیت (۷۸) کی تفسیر۔ ہر وقت یاد رکھنے کا نتیجہ اللہ کی نافرمانی سے اجتناب ہو گا، جیسا کہ فرمایا: «{ اِنَّ الصَّلٰوةَ تَنْهٰى عَنِ الْفَحْشَآءِ وَ الْمُنْكَرِ }» [ العنکبوت: ۴۵ ] ”بے شک نماز بے حیائی اور برائی سے روکتی ہے۔“ دوسری تفسیر یہ کہ اگر بھول جائے تو یاد آنے پر نماز پڑھ لے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ مَنْ نَسِيَ صَلَاةً فَلْيُصَلِّ إِذَا ذَكَرَهَا لاَ كَفَّارَةَ لَهَا إِلاَّ ذٰلِكَ «{ وَ اَقِمِ الصَّلٰوةَ لِذِكْرِيْ }» ] [ بخاری، مواقیت الصلاۃ، باب من نسي صلاۃ فلیصل إذا ذکر…: ۵۹۷، عن أنس رضی اللہ عنہ ] ”جو شخص کوئی نماز بھول جائے تو جب اسے یاد آئے پڑھ لے، اس کا کفارہ اس کے سوا کچھ نہیں۔“ اور پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت پڑھی: «{ وَ اَقِمِ الصَّلٰوةَ لِذِكْرِيْ }» ”اور نماز میری یاد کے وقت قائم کر۔“ ایک روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ مَنْ نَسِيَ صَلَاةً أَوْ نَامَ عَنْهَا فَكَفَّارَتُهَا اَنْ يُصَلِّيَهَا إِذَا ذَكَرَهَا ] [ مسلم، المساجد، باب قضاء الصلاۃ الفائتۃ…: 684/315، عن أنس رضی اللہ عنہ ] ”جو شخص کوئی نماز بھول جائے یا اس سے سویا رہ جائے تو اس کا کفارہ یہ ہے کہ جب اسے یاد آئے پڑھ لے۔“ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «{ وَ اذْكُرْ رَّبَّكَ اِذَا نَسِيْتَ }» [ الکہف: ۲۴ ] ”اور اپنے رب کو یاد کر جب تو بھول جائے۔“
اِنَّ السَّاعَۃَ اٰتِیَۃٌ اَکَادُ اُخۡفِیۡہَا لِتُجۡزٰی کُلُّ نَفۡسٍۭ بِمَا تَسۡعٰی ﴿۱۵﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
قیامت کی گھڑی ضرور آنے والی ہے میں اُس کا وقت مخفی رکھنا چاہتا ہوں، تاکہ ہر متنفّس اپنی سعی کے مطابق بدلہ پائے
مولانا محمد جوناگڑھی
قیامت یقیناً آنے والی ہے جسے میں پوشیده رکھنا چاہتا ہوں تاکہ ہر شخص کو وه بدلہ دیا جائے جو اس نے کوشش کی ہو
احمد رضا خان بریلوی
بیشک قیامت آنے والی ہے قریب تھا کہ میں اسے سب سے چھپاؤں کہ ہر جان اپنی کوشش کا بدلہ پائے
علامہ محمد حسین نجفی
یقیناً قیامت آنے والی ہے میں اسے پوشیدہ رکھنا چاہتا ہوں تاکہ ہر شخص کو اس کی سعی و کوشش کا معاوضہ مل جائے۔
عبدالسلام بن محمد
یقینا قیامت آنے والی ہے، میں قریب ہوں کہ اسے چھپا کر رکھوں، تاکہ ہر شخص کو اس کا بدلہ دیا جائے جو وہ کوشش کرتا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
قیامت یقیناً آنے والی ہے۔ ممکن ہے میں اس کے وقت کے صحیح علم کو ظاہر نہ کروں۔ ایک قرأت میں «أُخْفِيهَا» کے بعد «مِنْ نَّفْسِیْ» ‏‏‏‏کے لفظ بھی ہیں کیونکہ اللہ کی ذات سے کوئی چیز مخفی نہیں۔ یعنی اس کا علم بجز اپنے کسی کو نہیں دوں گا۔ پس روئے زمین پر کوئی ایسا نہیں ہوا جسے قیامت کے قائم ہونے کا مقررہ وقت معلوم ہو۔ یہ وہ چیز ہے کہ اگر ہو سکے تو خود میں اپنے سے بھی اسے چھپا دوں لیکن رب سے کوئی چیز مخفی نہیں ہے۔ چنانچہ یہ ملائکہ سے پوشیدہ ہے انبیاء اس سے بےعلم ہیں۔ جیسے فرمان ہے «‏‏‏‏قُلْ لَّا يَعْلَمُ مَنْ فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ الْغَيْبَ اِلَّا اللّٰهُ ۭ وَمَا يَشْعُرُوْنَ اَيَّانَ يُبْعَثُوْنَ» [27-النمل:65] ‏‏‏‏ ’ زمین و آسمان والوں میں سے سوائے اللہ واحد کے کوئی اور غیب دان نہیں۔ ‘ اور آیت میں ہے «ثَقُلَتْ فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ۚ لَا تَأْتِيكُمْ إِلَّا بَغْتَةً» ۱؎ [7-الأعراف:187] ‏‏‏‏ قیامت زمین و آسمان پر بھاری پڑ رہی ہے، وہ اچانک آ جائے گی یعنی اس کا علم کسی کو نہیں۔ ایک قرأت میں «أُخْفِيهَا» ہے۔ ورقہ فرماتے ہیں مجھے سعید بن جبیر رحمہ اللہ نے اسی طرح پڑھایا ہے، اس کے معنی ہیں «اَظْھَرَھَا» ، اس دن ہر عامل کو اپنے عمل کا بدلہ دیا جائے گا خواہ ذرہ برابر نیکی ہو، خواہ بدی ہو، اپنے کرتوت کا بدلہ اس دن ضرور ملنا ہے۔ پس کسی کو بھی بے ایمان لوگ بہکا نہ دیں۔ قیامت کے منکر، دنیا کے مفتوں، مولا کے نافرمان، خواہش کے غلام، کسی اللہ کے بندے کے اس پاک عقیدے میں اسے تزلزل پیدا نہ کرنے پائیں۔ اگر وہ اپنی چاہت میں کامیاب ہو گئے تو یہ غارت ہوا اور نقصان میں پڑا۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 15) ➊ { اِنَّ السَّاعَةَ اٰتِيَةٌ:} توحید، عبادت اور نماز کی تاکید کے بعد ایمان کے ایک اور بنیادی رکن قیامت کے یقینی ہونے کا ذکر فرمایا، تاکہ ہر شخص کو اس کی سعی و کوشش کی جزا دی جائے۔ اس صورت میں {” لِتُجْزٰى “ ” اٰتِيَةٌ “} کے متعلق ہو گا۔ قیامت کا یقین ہی ایسی چیز ہے جو انسان کو اللہ تعالیٰ کی عبادت اور اس کی اطاعت پر آمادہ کرتی ہے، ورنہ باز پرس اور اللہ کے سامنے پیش ہونے کا یقین نہ ہو تو جائز و ناجائز کی تمیز کون کرتا ہے؟ ➋ {اَكَادُ اُخْفِيْهَا لِتُجْزٰى …: } یہاں ایک مشہور سوال ہے کہ جس کام کے متعلق {”كَادَ يَكَادُ“} استعمال ہو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ وہ واقع ہونے کے قریب ہے مگر واقع نہیں ہوا، جیسا کہ سورۂ بقرہ کی آیت (۲۰): «{ يَكَادُ الْبَرْقُ يَخْطَفُ اَبْصَارَهُمْ }» (بجلی قریب ہے کہ ان کی نگاہوں کو اُچک لے) میں ہے۔ مفسرین نے اس کے بہت سے جواب دیے ہیں، مگر مجھے ابن جزی رحمہ اللہ کے جواب پر اطمینان ہوتا ہے کہ ”اللہ تعالیٰ نے قیامت کے وقت کو پوشیدہ رکھا ہے اور کسی کو نہیں بتایا، یہاں تک کہ قریب تھا کہ وہ قیامت کے واقع ہونے کو بھی چھپا کر رکھتا اور کسی کو اس کی خبر نہ دیتا، مگر یہ اس کا کرم ہے کہ اس نے اسے پوشیدہ نہیں رکھا، بلکہ اس کے واقع ہونے کی بات سب کو بتا دی ہے، تاکہ لوگ بالکل غافل نہ رہیں۔ اس صورت میں {”كَادَ“} اور {” أُخْفِيْ“ } دونوں اپنے اصل معنی پر رہتے ہیں کہ قریب تھا کہ قیامت کا واقع ہونا چھپا لیا جاتا، مگر ایسا نہیں ہوا۔“ (التسہیل)
فَلَا یَصُدَّنَّکَ عَنۡہَا مَنۡ لَّا یُؤۡمِنُ بِہَا وَ اتَّبَعَ ہَوٰىہُ فَتَرۡدٰی ﴿۱۶﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
پس کوئی ایسا شخص جو اُس پر ایمان نہیں لاتا اور اپنی خواہش نفس کا بندہ بن گیا ہے تجھ کو اُس گھڑی کی فکر سے نہ روک دے، ورنہ تو ہلاکت میں پڑ جائے گا
مولانا محمد جوناگڑھی
پس اب اس کے یقین سے تجھے کوئی ایسا شخص روک نہ دے جو اس پر ایمان نہ رکھتا ہو اور اپنی خواہش کے پیچھے پڑا ہو، ورنہ تو ہلاک ہوجائے گا
احمد رضا خان بریلوی
تو ہرگز تجھے اس کے ماننے سے وہ باز نہ رکھے جو اس پر ایمان نہیں لاتا اور اپنی خواہش کےم پیچھے چلا پھر تو ہلاک ہوجائے،
علامہ محمد حسین نجفی
پس (خیال رکھنا) کہیں وہ شخص جو اس پر ایمان نہیں رکھتا اور اپنی خواہش نفس کا پیرو ہے تمہیں اس کی فکر سے روک نہ دے ورنہ تم تباہ ہو جاؤگے۔
عبدالسلام بن محمد
سو تجھے اس سے وہ شخص کہیں روک نہ دے جو اس پر یقین نہیں رکھتا اور اپنی خواہش کے پیچھے لگا ہوا ہے، پس تو ہلاک ہو جائے گا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
قیامت یقیناً آنے والی ہے۔ ممکن ہے میں اس کے وقت کے صحیح علم کو ظاہر نہ کروں۔ ایک قرأت میں «أُخْفِيهَا» کے بعد «مِنْ نَّفْسِیْ» ‏‏‏‏کے لفظ بھی ہیں کیونکہ اللہ کی ذات سے کوئی چیز مخفی نہیں۔ یعنی اس کا علم بجز اپنے کسی کو نہیں دوں گا۔ پس روئے زمین پر کوئی ایسا نہیں ہوا جسے قیامت کے قائم ہونے کا مقررہ وقت معلوم ہو۔ یہ وہ چیز ہے کہ اگر ہو سکے تو خود میں اپنے سے بھی اسے چھپا دوں لیکن رب سے کوئی چیز مخفی نہیں ہے۔ چنانچہ یہ ملائکہ سے پوشیدہ ہے انبیاء اس سے بےعلم ہیں۔ جیسے فرمان ہے «‏‏‏‏قُلْ لَّا يَعْلَمُ مَنْ فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ الْغَيْبَ اِلَّا اللّٰهُ ۭ وَمَا يَشْعُرُوْنَ اَيَّانَ يُبْعَثُوْنَ» [27-النمل:65] ‏‏‏‏ ’ زمین و آسمان والوں میں سے سوائے اللہ واحد کے کوئی اور غیب دان نہیں۔ ‘ اور آیت میں ہے «ثَقُلَتْ فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ۚ لَا تَأْتِيكُمْ إِلَّا بَغْتَةً» ۱؎ [7-الأعراف:187] ‏‏‏‏ قیامت زمین و آسمان پر بھاری پڑ رہی ہے، وہ اچانک آ جائے گی یعنی اس کا علم کسی کو نہیں۔ ایک قرأت میں «أُخْفِيهَا» ہے۔ ورقہ فرماتے ہیں مجھے سعید بن جبیر رحمہ اللہ نے اسی طرح پڑھایا ہے، اس کے معنی ہیں «اَظْھَرَھَا» ، اس دن ہر عامل کو اپنے عمل کا بدلہ دیا جائے گا خواہ ذرہ برابر نیکی ہو، خواہ بدی ہو، اپنے کرتوت کا بدلہ اس دن ضرور ملنا ہے۔ پس کسی کو بھی بے ایمان لوگ بہکا نہ دیں۔ قیامت کے منکر، دنیا کے مفتوں، مولا کے نافرمان، خواہش کے غلام، کسی اللہ کے بندے کے اس پاک عقیدے میں اسے تزلزل پیدا نہ کرنے پائیں۔ اگر وہ اپنی چاہت میں کامیاب ہو گئے تو یہ غارت ہوا اور نقصان میں پڑا۔
16۔ 1 اس لئے کہ آخرت پر یقین کرنے سے یا اس کے ذکر و مراقبے سے گریز، دونوں ہی باتیں ہلاکت کا باعث ہیں
(آیت 16){فَلَا يَصُدَّنَّكَ عَنْهَا …:} اس آیت سے حاصل ہونے والے فوائد میں سے ایک فائدہ مفسر زمخشری کے الفاظ میں یہ ہے: ”جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے وہ جم غفیر ہیں، کیونکہ کفار کے لیے قیامت کو تسلیم کرنے سے زیادہ مشکل کوئی چیز نہیں، نہ ہی وہ اس سے زیادہ کسی چیز کا انکار کرتے ہیں۔ سو ایسا ہر گز نہ ہو کہ ان کی طرف سے آنے والے مصائب کی کثرت اور ان کی بہت بڑی تعداد تمھیں خوف زدہ کر دے اور ان کی کثرت تمھارے قدم پھسلنے کا باعث بن جائے۔ یاد رکھو کہ وہ جس قدر بھی تعداد میں زیادہ ہوں وہ صرف اور صرف اپنی خواہش نفس کے پیچھے چل رہے ہیں، کسی دلیل و برہان کے پیچھے نہیں اور اس میں بہت بڑی ترغیب ہے کہ دلیل کا علم اور اس کی پیروی لازم ہے اور تقلید سے بچنا نہایت ضروری ہے، کیونکہ تقلید اور اہل تقلید کا انجام ہلاکت ہے۔“ دوسرا فائدہ یہ ہے کہ دنیا پرست لوگوں، خصوصاً کفار کی مجلس اور ان سے نرمی اور مداہنت اختیار کرنے سے پرہیز لازم ہے۔ شاہ عبد القادر رحمہ اللہ لکھتے ہیں: ”نہ روک دے اس سے “ یعنی قیامت کے یقین لانے سے یا نماز سے۔ جب اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام کو برے کی صحبت سے منع کیا تو اور کوئی کیا ہے؟“ (موضح)
وَ مَا تِلۡکَ بِیَمِیۡنِکَ یٰمُوۡسٰی ﴿۱۷﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اور اے موسیٰؑ، یہ تیرے ہاتھ میں کیا ہے؟"
مولانا محمد جوناگڑھی
اے موسیٰ! تیرے اس دائیں ہاتھ میں کیا ہے؟
احمد رضا خان بریلوی
اور یہ تیرے داہنے ہاتھ میں کیا ہے اے موسیٰ
علامہ محمد حسین نجفی
اور اے موسیٰ! تمہارے دائیں ہاتھ میں کیا ہے؟
عبدالسلام بن محمد
اور یہ تیرے دائیں ہاتھ میں کیا ہے اے موسیٰ!؟
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
موسیٰ علیہ السلام کو معجزات ملے ٭٭

موسیٰ علیہ السلام کے ایک بہت بڑے اور صاف کھلے معجزے کا ذکر ہو رہا ہے جو بغیر اللہ کی قدرت کے ناممکن اور جو غیر نبی کے ہاتھ پر بھی ناممکن۔ طور پہاڑ پر دریافت ہو رہا ہے کہ تیرے دائیں ہاتھ میں کیا ہے؟ یہ سوال اس لیے تھا کہ موسیٰ علیہ السلام کی گھبراہٹ دور ہو جائے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ سوال بطور تقریر کے ہے یعنی تیرے ہاتھ میں لکڑی ہی ہے، یہ جیسی کچھ ہے، تجھے معلوم ہے، اب یہ جو ہو جائے گی، وہ دیکھ لینا۔ اس سوال کے جواب میں کلیم اللہ علیہ السلام عرض کرتے ہیں، یہ میری اپنی لکڑی ہے جس پر میں ٹیک لگاتا ہوں یعنی چلنے میں مجھے یہ سہارا دیتی ہے، اس سے میں اپنی بکریوں کا چارہ درخت سے جھاڑ لیتا ہوں۔ ایسی لکڑیوں میں ذرا مڑا ہوا لوہا لگا لیا کرتے ہیں تاکہ پتے پھل آسانی سے اتر آئیں اور لکڑی ٹوٹے بھی نہیں۔ اور بھی بہت سے فوائد اس میں ہیں۔ ان فوائد کے بیان میں بعض لوگوں نے یہ بھی کہہ دیا ہے کہ یہی لکڑی رات کے وقت روشن چراغ بن جاتی تھی۔ دن کو جب آپ سو جاتے تو یہی لکڑی آپ کی بکریوں کی رکھوالی کرتی، جہاں کہیں سایہ دار جگہ نہ ہوتی آپ اسے گاڑ دیتے یہ خیمے کی طرح آپ پر سایہ کرتی وغیرہ وغیرہ۔ لیکن بظاہر یہ قول بنی اسرائیل کا افسانہ معلوم ہوتا ہے ورنہ پھر آج اسے بصورت سانپ دیکھ کر موسیٰ علیہ السلام اس قدر کیوں گھبراتے؟ وہ تو اس لکڑی کے عجائبات دیکھتے چلے آتے تھے۔ پھر بعض کا قول ہے کہ دراصل یہ لکڑی آدم علیہ السلام کی تھی۔ کوئی کہتا ہے یہی لکڑی قیامت کے قریب دابتہ الارض کی صورت میں ظاہر ہو گی۔ کہتے ہیں اس کا نام ماشا تھا۔ اللہ ہی جانے ان اقوال میں کہاں تک جان ہے؟

لاٹھی اژدھا بن گئی ٭٭
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 17){ وَ مَا تِلْكَ بِيَمِيْنِكَ يٰمُوْسٰى:} اللہ تعالیٰ کے اس سوال کا یہ مطلب نہیں کہ اللہ تعالیٰ کو معلوم نہ تھا کہ موسیٰ علیہ السلام کے ہاتھ میں کیا ہے، بلکہ اس میں حکمت یہ تھی کہ موسیٰ علیہ السلام کو اس کے عصا ہونے کا یقین ہو جائے، بعد میں سانپ بننے پر انھیں یہ شک پیدا نہ ہو کہ شاید میں نے کوئی اور چیز پکڑی ہوئی تھی۔ (واللہ اعلم) یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام کے دل سے ہیبت دور کرنے اور مانوس کرنے کے لیے لاٹھی کے متعلق سوال فرمایا ہو، تا کہ انھیں اگلا حکم دیں۔
قَالَ ہِیَ عَصَایَ ۚ اَتَوَکَّؤُا عَلَیۡہَا وَ اَہُشُّ بِہَا عَلٰی غَنَمِیۡ وَ لِیَ فِیۡہَا مَاٰرِبُ اُخۡرٰی ﴿۱۸﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
موسیٰؑ نے جواب دیا "یہ میری لاٹھی ہے، اس پر ٹیک لگا کر چلتا ہوں، اس سے اپنی بکریوں کے لیے پتے جھاڑتا ہوں، اور بھی بہت سے کام ہیں جو اس سے لیتا ہوں"
مولانا محمد جوناگڑھی
جواب دیا کہ یہ میری ﻻٹھی ہے، جس پر میں ٹیک لگاتا ہوں اور جس سے میں اپنی بکریوں کے لئے پتے جھاڑ لیا کرتا ہوں اور بھی اس میں مجھے بہت سے فائدے ہیں
احمد رضا خان بریلوی
عرض کی یہ میرا عصا ہے میں اس پر تکیہ لگاتا ہوں اور اس سے اپنی بکریوں پر پتے جھاڑتا ہوں اور میرے اس میں اور کام ہیں
علامہ محمد حسین نجفی
کہا وہ میرا عصا ہے میں اس پر ٹیک لگاتا ہوں اور اس سے اپنی بکریوں کیلئے (درختوں سے) پتے جھاڑتا ہوں اور میرے لئے اس میں اور بھی کئی فائدے ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
کہا یہ میری لاٹھی ہے، میں اس پر ٹیک لگاتا ہوں اور اس کے ساتھ اپنی بکریوں پر پتے جھاڑتا ہوںاور میرے لیے اس میں کئی اور ضرورتیں ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
موسیٰ علیہ السلام کو معجزات ملے ٭٭

موسیٰ علیہ السلام کے ایک بہت بڑے اور صاف کھلے معجزے کا ذکر ہو رہا ہے جو بغیر اللہ کی قدرت کے ناممکن اور جو غیر نبی کے ہاتھ پر بھی ناممکن۔ طور پہاڑ پر دریافت ہو رہا ہے کہ تیرے دائیں ہاتھ میں کیا ہے؟ یہ سوال اس لیے تھا کہ موسیٰ علیہ السلام کی گھبراہٹ دور ہو جائے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ سوال بطور تقریر کے ہے یعنی تیرے ہاتھ میں لکڑی ہی ہے، یہ جیسی کچھ ہے، تجھے معلوم ہے، اب یہ جو ہو جائے گی، وہ دیکھ لینا۔ اس سوال کے جواب میں کلیم اللہ علیہ السلام عرض کرتے ہیں، یہ میری اپنی لکڑی ہے جس پر میں ٹیک لگاتا ہوں یعنی چلنے میں مجھے یہ سہارا دیتی ہے، اس سے میں اپنی بکریوں کا چارہ درخت سے جھاڑ لیتا ہوں۔ ایسی لکڑیوں میں ذرا مڑا ہوا لوہا لگا لیا کرتے ہیں تاکہ پتے پھل آسانی سے اتر آئیں اور لکڑی ٹوٹے بھی نہیں۔ اور بھی بہت سے فوائد اس میں ہیں۔ ان فوائد کے بیان میں بعض لوگوں نے یہ بھی کہہ دیا ہے کہ یہی لکڑی رات کے وقت روشن چراغ بن جاتی تھی۔ دن کو جب آپ سو جاتے تو یہی لکڑی آپ کی بکریوں کی رکھوالی کرتی، جہاں کہیں سایہ دار جگہ نہ ہوتی آپ اسے گاڑ دیتے یہ خیمے کی طرح آپ پر سایہ کرتی وغیرہ وغیرہ۔ لیکن بظاہر یہ قول بنی اسرائیل کا افسانہ معلوم ہوتا ہے ورنہ پھر آج اسے بصورت سانپ دیکھ کر موسیٰ علیہ السلام اس قدر کیوں گھبراتے؟ وہ تو اس لکڑی کے عجائبات دیکھتے چلے آتے تھے۔ پھر بعض کا قول ہے کہ دراصل یہ لکڑی آدم علیہ السلام کی تھی۔ کوئی کہتا ہے یہی لکڑی قیامت کے قریب دابتہ الارض کی صورت میں ظاہر ہو گی۔ کہتے ہیں اس کا نام ماشا تھا۔ اللہ ہی جانے ان اقوال میں کہاں تک جان ہے؟

لاٹھی اژدھا بن گئی ٭٭
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 18) ➊ { قَالَ هِيَ عَصَايَ …:} جواب میں اگرچہ اتنا ہی کہہ دینا کافی تھا کہ ”یہ میری لاٹھی ہے“ مگر موسیٰ علیہ السلام نے یہ بتانے کے بعد اس کے کئی فوائد بھی بیان کر دیے۔ اس کی ایک توجیہ تو یہ ہے کہ موسیٰ علیہ السلام نے خیال کیا کہ یہ بات ظاہر ہے کہ میرے ہاتھ میں لاٹھی ہے اور ظاہر بات کے متعلق سوال نہیں ہوتا، اس لیے انھوں نے سمجھا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے یہ اس لیے پوچھا ہے کہ میں بتاؤں کہ میں نے لاٹھی کیوں پکڑ رکھی ہے؟ اس لیے جواب میں ”یہ لاٹھی ہے“ کہہ کر اس کے چند فوائد بیان کیے، مگر آخر میں بات مختصر کر دی کہ اگر مزید وضاحت کی ضرورت ہوئی تو پھر پوچھ لیا جائے گا۔ (ابن عاشور) دوسری توجیہ علمائے معانی نے یہ بیان فرمائی ہے کہ اللہ تعالیٰ سے ہم کلامی کی لذت میں بے اختیار بات لمبی ہوتی گئی، مگر ایک طرف فرط محبت کا تقاضا تھا کہ بات لمبی سے لمبی ہوتی جائے، تو دوسری طرف ادب زیادہ بات کرنے سے مانع تھا، اس لیے ایک اپنی ضرورت ”ٹیک لگانا“ اور ایک اپنی بکریوں کی ضرورت ”پتے جھاڑنا“ بیان کر کے آخر میں یہ کہہ کر بات مختصر کر دی کہ {”وَ لِيَ فِيْهَا مَاٰرِبُ اُخْرٰى “} یہ توجیہ بھی بہترین ہے۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ موسیٰ علیہ السلام نے لاٹھی کے بہت سے دیگر فوائد بھی بیان کیے ہوں جن کا ماحصل اللہ تعالیٰ نے اپنے الفاظ میں بیان فرما دیا ہو۔ اس صورت میں یہ اختصار موسیٰ علیہ السلام کے کلام میں نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کے کلام میں ہو گا۔ (واللہ اعلم) ➋ { وَ اَهُشُّ بِهَا عَلٰى غَنَمِيْ …:} حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ نے امام مالک رحمہ اللہ سے {”هَشٌّ“} کا معنی یہ نقل کیا ہے کہ لاٹھی کے ساتھ ٹہنی کو ہلانا، تاکہ پتے گر پڑیں مگر شاخ نہ ٹوٹے۔ یہ لفظ لاٹھی مار کر پتے جھاڑنے کے معنی میں بھی آتا ہے۔ {” وَ لِيَ فِيْهَا مَاٰرِبُ اُخْرٰى”مَأْرَبَةٌ“} (را کے فتحہ، کسرہ اور ضمہ کے ساتھ) کی جمع، حاجت یعنی وہ کام جن کی ضرورت پڑتی ہے۔ لاٹھی کے فوائد پر جاحظ نے ”کتاب العصا“ لکھی ہے جس میں لاٹھی کے فوائد اور عربوں کے بہت سے واقعات لکھے ہیں۔ اس میں لکھا ہے کہ ابن الاعرابی سے پوچھا گیا کہ {” وَ لِيَ فِيْهَا مَاٰرِبُ اُخْرٰى“} سے کیا مراد ہے؟ تو انھوں نے فرمایا: ”میں موسیٰ علیہ السلام کی تمام ضروریات تو بیان نہیں کر سکتا، البتہ لاٹھی کی ضرورت کی چند چیزیں تمھیں بتاتا ہوں، وہ یہ کہ لاٹھی سانپ، بچھو، بھیڑیے، بپھرے ہوئے سانڈ اور کھیت اجاڑنے والے جانوروں کے لیے ساتھ رکھی جاتی ہے۔ بڑی عمر کے بوڑھے، کمزور و بیمار لوگ، کٹی ہوئی ٹانگ والے اور لنگڑے اس کا سہارا لیتے ہیں، یہ انھیں دوسری ٹانگ کا کام دیتی ہے۔ اندھے کو قائد کا کام دیتی ہے۔ دھوبی، رنگ ریز اور تنور اور چولھے کی راکھ ہلانے والوں کے کام آتی ہے۔ چونا کوٹنے، تل وغیرہ چھڑنے کے کام آتی ہے۔ ڈاک لے جانے والوں اور کرائے کے جانوروں کے ساتھ جانے والوں کے کام آتی ہے کہ فاصلہ لمبا ہو تو وہ لاٹھی کے سہارے چھلانگ لگاتے جاتے ہیں۔ فالج زدہ کے جھکاؤ کو سیدھا کرتی ہے اور رعشہ کے مریض کے لرزہ کو کنٹرول کرتی ہے۔ چرواہے اسے بکریوں کے لیے اور تمام سوار اپنی سواری کے لیے ساتھ رکھتے ہیں۔ کوئی بھاری بوجھ ہو تو اس میں داخل کرکے اسے دونوں ہاتھوں سے پکڑ لیا جاتا ہے۔ بعض اوقات دو آدمی اس کا ایک ایک کنارہ پکڑ لیتے ہیں۔ چاہو تو دیوار میں ٹھونک کر میخ بنا لو یا کھلی جگہ میں گاڑ کر سترہ بنا لو یا چھتری بنا لو۔ اگر نوک لگا دو تو برچھی بن جائے گی، کچھ اور بڑھا دو تو نیزہ بن جائے گی۔ لاٹھی کوڑے کا کام بھی دیتی ہے اور اسلحہ بھی ہے۔ کندھے پر رکھ کر اس کے ساتھ کمان، ترکش اور پانی یا دودھ وغیرہ کا برتن بھی لٹکا سکتے ہو۔ کنویں سے پانی نکالنے کے لیے رسی چھوٹی ہو تو لاٹھی ساتھ ملا کر پانی نکال سکتے ہو۔ چادر اس کے اوپر ڈال کر سایہ حاصل کر سکتے ہو اور درندوں کا مقابلہ کر سکتے ہو وغیرہ۔“
قَالَ اَلۡقِہَا یٰمُوۡسٰی ﴿۱۹﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
فرمایا "پھینک دے اس کو موسیٰؑ"
مولانا محمد جوناگڑھی
فرمایا اے موسیٰ! اسے ہاتھ سے نیچے ڈال دے
احمد رضا خان بریلوی
فرمایا اسے ڈال دے اے موسیٰ،
علامہ محمد حسین نجفی
ارشاد ہوا اے موسیٰ! اسے پھینک دو۔
عبدالسلام بن محمد
فرمایا اسے پھینک دے اے موسیٰ!
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
موسیٰ علیہ السلام کو معجزات ملے ٭٭

موسیٰ علیہ السلام کے ایک بہت بڑے اور صاف کھلے معجزے کا ذکر ہو رہا ہے جو بغیر اللہ کی قدرت کے ناممکن اور جو غیر نبی کے ہاتھ پر بھی ناممکن۔ طور پہاڑ پر دریافت ہو رہا ہے کہ تیرے دائیں ہاتھ میں کیا ہے؟ یہ سوال اس لیے تھا کہ موسیٰ علیہ السلام کی گھبراہٹ دور ہو جائے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ سوال بطور تقریر کے ہے یعنی تیرے ہاتھ میں لکڑی ہی ہے، یہ جیسی کچھ ہے، تجھے معلوم ہے، اب یہ جو ہو جائے گی، وہ دیکھ لینا۔ اس سوال کے جواب میں کلیم اللہ علیہ السلام عرض کرتے ہیں، یہ میری اپنی لکڑی ہے جس پر میں ٹیک لگاتا ہوں یعنی چلنے میں مجھے یہ سہارا دیتی ہے، اس سے میں اپنی بکریوں کا چارہ درخت سے جھاڑ لیتا ہوں۔ ایسی لکڑیوں میں ذرا مڑا ہوا لوہا لگا لیا کرتے ہیں تاکہ پتے پھل آسانی سے اتر آئیں اور لکڑی ٹوٹے بھی نہیں۔ اور بھی بہت سے فوائد اس میں ہیں۔ ان فوائد کے بیان میں بعض لوگوں نے یہ بھی کہہ دیا ہے کہ یہی لکڑی رات کے وقت روشن چراغ بن جاتی تھی۔ دن کو جب آپ سو جاتے تو یہی لکڑی آپ کی بکریوں کی رکھوالی کرتی، جہاں کہیں سایہ دار جگہ نہ ہوتی آپ اسے گاڑ دیتے یہ خیمے کی طرح آپ پر سایہ کرتی وغیرہ وغیرہ۔ لیکن بظاہر یہ قول بنی اسرائیل کا افسانہ معلوم ہوتا ہے ورنہ پھر آج اسے بصورت سانپ دیکھ کر موسیٰ علیہ السلام اس قدر کیوں گھبراتے؟ وہ تو اس لکڑی کے عجائبات دیکھتے چلے آتے تھے۔ پھر بعض کا قول ہے کہ دراصل یہ لکڑی آدم علیہ السلام کی تھی۔ کوئی کہتا ہے یہی لکڑی قیامت کے قریب دابتہ الارض کی صورت میں ظاہر ہو گی۔ کہتے ہیں اس کا نام ماشا تھا۔ اللہ ہی جانے ان اقوال میں کہاں تک جان ہے؟

لاٹھی اژدھا بن گئی ٭٭
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 19تا21) ➊ اللہ تعالیٰ کے حکم پر موسیٰ علیہ السلام نے اپنا عصا پھینکا تو اچانک وہ سانپ بن گیا جو دوڑتا تھا، یعنی حقیقی اور زندہ سانپ تھا۔ قرآن مجید میں اس کے لیے تین الفاظ استعمال ہوئے ہیں {” حَيَّةٌ “} (سانپ)، {” جَاۤنٌّ “} (پتلا چھڑی جیسا چمکتا ہوا سانپ) اور {” ثُعْبَانٌ “ } (بہت بڑا اژدہا)۔ معلوم ہوا کہ لاٹھی پھینکتے ہی پتلے سانپ جیسی بنی، پھر بڑھتے بڑھتے بہت بڑا اژدہا بن گئی۔ موسیٰ علیہ السلام خوف زدہ ہو کر بے اختیار بھاگ اٹھے اور مڑ کر بھی نہ دیکھا۔ دیکھیے سورۂ نمل (۱۰) اور قصص (۳۱) اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اسے پکڑو اور ڈرو نہیں، ہم اسے دوبارہ پہلی حالت میں لوٹا دیں گے۔ ➋ اہل علم نے لاٹھی کے ایک لمحہ میں سانپ اور پھر دوبارہ لاٹھی بننے میں کئی حکمتیں بیان فرمائی ہیں۔ ان میں سے ایک یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انھیں ان کے جد امجد ابراہیم علیہ السلام کی طرح اپنی قدرت کا عین الیقین عطا فرما دیا کہ کس طرح اس کے حکم سے ایک بے جان چیز اتنی خطرناک ہو جاتی ہے کہ اس کے سامنے کوئی چیز ٹھہر نہیں سکتی اور پھر کس طرح اتنی خطرناک چیز اس کے حکم سے بے جان لکڑی بن جاتی ہے، جو حرکت بھی نہیں کر سکتی۔ مقصد یہ یقین دلانا تھا کہ فرعون اپنی تمام تر قہرمانیوں کے باوجود اللہ کے حکم کے سامنے کچھ بھی نہیں۔ دوسری حکمت یہ کہ اس زمانے میں جادو اپنے عروج پر تھا، اس کے توڑ کے لیے یہ معجزہ دیا اور انھیں مشاہدہ بھی کروا دیا، تاکہ میدان میں لاٹھی کے سانپ بننے سے موسیٰ علیہ السلام خوف زدہ ہو کر بھاگ نہ اٹھیں، بلکہ انھیں آنکھوں سے دیکھنے کے بعد اللہ تعالیٰ کی عطا کر دہ قوت کا ہر وقت احساس رہے۔ تیسری حکمت بقاعی رحمہ اللہ نے ربط آیات کے ضمن میں لکھی ہے کہ موسیٰ علیہ السلام کے واقعہ کے آغاز سے پہلے اللہ تعالیٰ نے قیامت کے آنے کا ذکر فرمایا ہے، جسے {”اَلسَّاعَةُ“} کہتے ہیں، یعنی ایک لمحہ، ایک گھڑی، قیامت کا ذکر کرنے کے بعد موسیٰ علیہ السلام کو ایک لمحے میں لاٹھی کو سانپ اور سانپ کو لاٹھی بنا کر ایک گھڑی میں قیامت قائم ہونے کا مشاہدہ کروا دیا۔ (نظم الدرر)
فَاَلۡقٰہَا فَاِذَا ہِیَ حَیَّۃٌ تَسۡعٰی ﴿۲۰﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اس نے پھینک دیا اور یکایک وہ ایک سانپ تھی جو دَوڑ رہا تھا
مولانا محمد جوناگڑھی
ڈالتے ہی وه سانﭗ بن کر دوڑنے لگی
احمد رضا خان بریلوی
تو موسیٰ نے ڈال دیا تو جبھی وہ دوڑتا ہوا سانپ ہوگیا
علامہ محمد حسین نجفی
چنانچہ موسیٰ نے اسے پھینک دیا تو وہ ایک دم دوڑتا ہوا سانپ بن گیا۔
عبدالسلام بن محمد
تو اس نے اسے پھینکا تو اچانک وہ ایک سانپ تھا جو دوڑتا تھا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
’ پہلا معجزہ ‘ موسیٰ علیہ السلام کو لکڑی کا لکڑی ہونا جتا کر انہیں بخوبی بیدار اور ہوشیار کر کے حکم ملا کہ اسے زمین پر ڈال دو۔ زمین پر پڑتے ہی وہ ایک زبردست اژدھے کی صورت میں پھنپھناتی ہوئی ادھر ادھر چلنے پھرنے بلکہ دوڑنے بھاگنے لگی۔ ایسا خوفناک اژدھا اس سے پہلے کسی نے دیکھا ہی نہ تھا۔ اس کی تو یہ حالت تھی کہ ایک درخت سامنے آ گیا تو یہ اسے ہضم کر گیا۔ ایک پتھر کی چٹان راستے میں آ گئی تو اس کا لقمہ بنا گیا۔ یہ حال دیکھتے ہی موسیٰ علیہ السلام الٹے پاؤں بھاگے۔ آواز دی گئی کہ موسیٰ (‏‏‏‏علیہ السلام) پکڑ لے لیکن ہمت نہ پڑی، پھر فرمایا موسیٰ (‏‏‏‏علیہ السلام) ڈر نہیں پکڑ لے پھر بھی جھجک باقی رہی۔ تیسری مرتبہ فرمایا تو ہمارے امن میں ہے، اب ہاتھ بڑھا کر پکڑ لیا۔ کہتے ہیں فرمان الٰہی کے ساتھ ہی آپ نے لکڑی زمین پر ڈال دی، پھر ادھر ادھر آپ کی نگاہ ہو گئی، اب جو نظر ڈالی بجائے لکڑی کے ایک خوفناک اژدھا دکھائی دیا جو اس طرح چل پھر رہا ہے جیسے کسی کی جستجو میں ہو۔ گابھن اونٹنی جیسے بڑے بڑے پتھروں کو، آسمان سے باتیں کرتے ہوئے اونچے اونچے درختوں کو ایک لقمے میں ہی پیٹ میں پہنچا رہا ہے، آنکھیں انگاروں کی طرح چمک رہی ہیں۔ اس ہیبت ناک خونخوار اژدھے کو دیکھ کر موسیٰ علیہ السلام سہم گئے اور پیٹھ موڑ کر زور سے بھاگے۔ پھر اللہ تعالیٰ کی ہمکلامی یاد آ گئی تو شرما کر ٹھہر گئے، وہیں آواز آئی کہ موسیٰ (‏‏‏‏علیہ السلام) لوٹ کر وہیں آ جاؤ جہاں تھے، آپ لوٹے لیکن نہایت خوفزدہ تھے۔ تو حکم ہوا کہ اپنے داہنے ہاتھ سے اسے تھام لو، کچھ بھی خوف نہ کرو، ہم اسے اس کی اسی اگلی حالت میں لوٹا دیں گے۔ اس وقت موسیٰ علیہ السلام صوف کا کمبل اوڑھے ہوئے تھے جسے ایک کانٹے سے اٹکا رکھا تھا۔ آپ نے اسی کمبل کو اپنے ہاتھ پر لپیٹ کر اس ہیبت ناک اژدھے کو پکڑنا چاہا تو فرشتے نے کہا موسیٰ علیہ السلام اگر اللہ تعالیٰ اسے کاٹنے کا حکم دیدے تو کیا تیرا یہ کمبل بچا سکتا ہے؟ آپ نے جواب دیا ہرگز نہیں، لیکن یہ حرکت مجھ سے بہ سبب میرے ضعف کے سرزد ہو گئی، میں ضعیف اور کمزور ہی پیدا کیا گیا ہوں۔ اب دلیری کے ساتھ کمبل ہٹا کر ہاتھ بڑھا کر اس کے سر کو تھام لیا اسی وقت وہ اژدھا پھر لکڑی بن گیا جیسے پہلے تھا۔ اس وقت جب کہ آپ اس گھاٹی پر چڑھ رہے تھے اور آپ کے ہاتھ میں یہ لکڑی تھی جس پر ٹیک لگائے ہوئے تھے، اسی حال میں آپ نے پہلے دیکھا تھا اسی حالت پر اب ہاتھ میں بصورت عصا موجود تھا۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
قَالَ خُذۡہَا وَ لَا تَخَفۡ ٝ سَنُعِیۡدُہَا سِیۡرَتَہَا الۡاُوۡلٰی ﴿۲۱﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
فرمایا "پکڑ لے اس کو اور ڈر نہیں، ہم اسے پھر ویسا ہی کر دیں گے جیسی یہ تھی
مولانا محمد جوناگڑھی
فرمایا بے خوف ہو کر اسے پکڑ لے، ہم اسے اسی پہلی سی صورت میں دوباره ﻻ دیں گے
احمد رضا خان بریلوی
فرمایا اسے اٹھالے اور ڈر نہیں، اب ہم اسے پھر پہلی طرح کردیں گے
علامہ محمد حسین نجفی
ارشاد ہوا اسے پکڑ لو۔ اور ڈرو نہیں ہم ابھی اسے اس کی پہلی حالت کی طرف پلٹا دیں گے۔
عبدالسلام بن محمد
فرمایا اسے پکڑ اور ڈر نہیں، عنقریب ہم اسے اس کی پہلی حالت میں لوٹا دیں گے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
’ پہلا معجزہ ‘ موسیٰ علیہ السلام کو لکڑی کا لکڑی ہونا جتا کر انہیں بخوبی بیدار اور ہوشیار کر کے حکم ملا کہ اسے زمین پر ڈال دو۔ زمین پر پڑتے ہی وہ ایک زبردست اژدھے کی صورت میں پھنپھناتی ہوئی ادھر ادھر چلنے پھرنے بلکہ دوڑنے بھاگنے لگی۔ ایسا خوفناک اژدھا اس سے پہلے کسی نے دیکھا ہی نہ تھا۔ اس کی تو یہ حالت تھی کہ ایک درخت سامنے آ گیا تو یہ اسے ہضم کر گیا۔ ایک پتھر کی چٹان راستے میں آ گئی تو اس کا لقمہ بنا گیا۔ یہ حال دیکھتے ہی موسیٰ علیہ السلام الٹے پاؤں بھاگے۔ آواز دی گئی کہ موسیٰ (‏‏‏‏علیہ السلام) پکڑ لے لیکن ہمت نہ پڑی، پھر فرمایا موسیٰ (‏‏‏‏علیہ السلام) ڈر نہیں پکڑ لے پھر بھی جھجک باقی رہی۔ تیسری مرتبہ فرمایا تو ہمارے امن میں ہے، اب ہاتھ بڑھا کر پکڑ لیا۔ کہتے ہیں فرمان الٰہی کے ساتھ ہی آپ نے لکڑی زمین پر ڈال دی، پھر ادھر ادھر آپ کی نگاہ ہو گئی، اب جو نظر ڈالی بجائے لکڑی کے ایک خوفناک اژدھا دکھائی دیا جو اس طرح چل پھر رہا ہے جیسے کسی کی جستجو میں ہو۔ گابھن اونٹنی جیسے بڑے بڑے پتھروں کو، آسمان سے باتیں کرتے ہوئے اونچے اونچے درختوں کو ایک لقمے میں ہی پیٹ میں پہنچا رہا ہے، آنکھیں انگاروں کی طرح چمک رہی ہیں۔ اس ہیبت ناک خونخوار اژدھے کو دیکھ کر موسیٰ علیہ السلام سہم گئے اور پیٹھ موڑ کر زور سے بھاگے۔ پھر اللہ تعالیٰ کی ہمکلامی یاد آ گئی تو شرما کر ٹھہر گئے، وہیں آواز آئی کہ موسیٰ (‏‏‏‏علیہ السلام) لوٹ کر وہیں آ جاؤ جہاں تھے، آپ لوٹے لیکن نہایت خوفزدہ تھے۔ تو حکم ہوا کہ اپنے داہنے ہاتھ سے اسے تھام لو، کچھ بھی خوف نہ کرو، ہم اسے اس کی اسی اگلی حالت میں لوٹا دیں گے۔ اس وقت موسیٰ علیہ السلام صوف کا کمبل اوڑھے ہوئے تھے جسے ایک کانٹے سے اٹکا رکھا تھا۔ آپ نے اسی کمبل کو اپنے ہاتھ پر لپیٹ کر اس ہیبت ناک اژدھے کو پکڑنا چاہا تو فرشتے نے کہا موسیٰ علیہ السلام اگر اللہ تعالیٰ اسے کاٹنے کا حکم دیدے تو کیا تیرا یہ کمبل بچا سکتا ہے؟ آپ نے جواب دیا ہرگز نہیں، لیکن یہ حرکت مجھ سے بہ سبب میرے ضعف کے سرزد ہو گئی، میں ضعیف اور کمزور ہی پیدا کیا گیا ہوں۔ اب دلیری کے ساتھ کمبل ہٹا کر ہاتھ بڑھا کر اس کے سر کو تھام لیا اسی وقت وہ اژدھا پھر لکڑی بن گیا جیسے پہلے تھا۔ اس وقت جب کہ آپ اس گھاٹی پر چڑھ رہے تھے اور آپ کے ہاتھ میں یہ لکڑی تھی جس پر ٹیک لگائے ہوئے تھے، اسی حال میں آپ نے پہلے دیکھا تھا اسی حالت پر اب ہاتھ میں بصورت عصا موجود تھا۔
21۔ 1 یہ حضرت موسیٰ ؑ کو معجزہ عطا کیا گیا جو عصائے موسیٰ ؑ کے نام سے مشہور ہے
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
وَ اضۡمُمۡ یَدَکَ اِلٰی جَنَاحِکَ تَخۡرُجۡ بَیۡضَآءَ مِنۡ غَیۡرِ سُوۡٓءٍ اٰیَۃً اُخۡرٰی ﴿ۙ۲۲﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اور ذرا اپنا ہاتھ اپنی بغل میں دبا، چمکتا ہوا نکلے گا بغیر کسی تکلیف کے یہ دوسری نشانی ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
اور اپنا ہاتھ اپنی بغل میں ڈال لے تو وه سفید چمکتا ہوا ہو کر نکلے گا، لیکن بغیر کسی عیب (اور روگ) کے یہ دوسرا معجزه ہے
احمد رضا خان بریلوی
اور اپنا ہاتھ اپنے بازو سے ملا خوب سپید نکلے گا بے کسی مرض کے ایک اور نشانی
علامہ محمد حسین نجفی
اور اپنے ہاتھ کو سمیٹ کر اپنے بازو کے نیچے (بغل میں) کر لو وہ کسی برائی و بیماری کے بغیر چمکتا ہوا نکلے گا یہ دوسری نشانی ہوگی۔
عبدالسلام بن محمد
اور اپنا ہاتھ اپنے پہلو کی طرف ملا، وہ کسی عیب کے بغیر سفید (چمکتا ہوا) نکلے گا، اس حال میں کہ ایک اور نشانی ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
’ پہلا معجزہ ‘ موسیٰ علیہ السلام کو لکڑی کا لکڑی ہونا جتا کر انہیں بخوبی بیدار اور ہوشیار کر کے حکم ملا کہ اسے زمین پر ڈال دو۔ زمین پر پڑتے ہی وہ ایک زبردست اژدھے کی صورت میں پھنپھناتی ہوئی ادھر ادھر چلنے پھرنے بلکہ دوڑنے بھاگنے لگی۔ ایسا خوفناک اژدھا اس سے پہلے کسی نے دیکھا ہی نہ تھا۔ اس کی تو یہ حالت تھی کہ ایک درخت سامنے آ گیا تو یہ اسے ہضم کر گیا۔ ایک پتھر کی چٹان راستے میں آ گئی تو اس کا لقمہ بنا گیا۔ یہ حال دیکھتے ہی موسیٰ علیہ السلام الٹے پاؤں بھاگے۔ آواز دی گئی کہ موسیٰ (‏‏‏‏علیہ السلام) پکڑ لے لیکن ہمت نہ پڑی، پھر فرمایا موسیٰ (‏‏‏‏علیہ السلام) ڈر نہیں پکڑ لے پھر بھی جھجک باقی رہی۔ تیسری مرتبہ فرمایا تو ہمارے امن میں ہے، اب ہاتھ بڑھا کر پکڑ لیا۔ کہتے ہیں فرمان الٰہی کے ساتھ ہی آپ نے لکڑی زمین پر ڈال دی، پھر ادھر ادھر آپ کی نگاہ ہو گئی، اب جو نظر ڈالی بجائے لکڑی کے ایک خوفناک اژدھا دکھائی دیا جو اس طرح چل پھر رہا ہے جیسے کسی کی جستجو میں ہو۔ گابھن اونٹنی جیسے بڑے بڑے پتھروں کو، آسمان سے باتیں کرتے ہوئے اونچے اونچے درختوں کو ایک لقمے میں ہی پیٹ میں پہنچا رہا ہے، آنکھیں انگاروں کی طرح چمک رہی ہیں۔ اس ہیبت ناک خونخوار اژدھے کو دیکھ کر موسیٰ علیہ السلام سہم گئے اور پیٹھ موڑ کر زور سے بھاگے۔ پھر اللہ تعالیٰ کی ہمکلامی یاد آ گئی تو شرما کر ٹھہر گئے، وہیں آواز آئی کہ موسیٰ (‏‏‏‏علیہ السلام) لوٹ کر وہیں آ جاؤ جہاں تھے، آپ لوٹے لیکن نہایت خوفزدہ تھے۔ تو حکم ہوا کہ اپنے داہنے ہاتھ سے اسے تھام لو، کچھ بھی خوف نہ کرو، ہم اسے اس کی اسی اگلی حالت میں لوٹا دیں گے۔ اس وقت موسیٰ علیہ السلام صوف کا کمبل اوڑھے ہوئے تھے جسے ایک کانٹے سے اٹکا رکھا تھا۔ آپ نے اسی کمبل کو اپنے ہاتھ پر لپیٹ کر اس ہیبت ناک اژدھے کو پکڑنا چاہا تو فرشتے نے کہا موسیٰ علیہ السلام اگر اللہ تعالیٰ اسے کاٹنے کا حکم دیدے تو کیا تیرا یہ کمبل بچا سکتا ہے؟ آپ نے جواب دیا ہرگز نہیں، لیکن یہ حرکت مجھ سے بہ سبب میرے ضعف کے سرزد ہو گئی، میں ضعیف اور کمزور ہی پیدا کیا گیا ہوں۔ اب دلیری کے ساتھ کمبل ہٹا کر ہاتھ بڑھا کر اس کے سر کو تھام لیا اسی وقت وہ اژدھا پھر لکڑی بن گیا جیسے پہلے تھا۔ اس وقت جب کہ آپ اس گھاٹی پر چڑھ رہے تھے اور آپ کے ہاتھ میں یہ لکڑی تھی جس پر ٹیک لگائے ہوئے تھے، اسی حال میں آپ نے پہلے دیکھا تھا اسی حالت پر اب ہاتھ میں بصورت عصا موجود تھا۔
22۔ 1 بغیر عیب اور روگ کے، کا مطلب یہ ہے کہ ہاتھ کا اس طرح سفید اور چمک دار ہو کر نکلنا، کسی بیماری کی وجہ سے نہیں ہے جیسا کہ برص کے مریض کی چمڑی سفید ہوجاتی ہے۔ بلکہ یہ دوسرا معجزہ ہے، جو ہم تجھے عطا کر رہے ہیں۔ جس طرح دوسرے مقام پر ان دونوں معجزوں کا ذکر فرمایا (فَذٰنِكَ بُرْهَانٰنِ مِنْ رَّبِّكَ اِلٰى فِرْعَوْنَ وَمَلَا۟ىِٕه) 28۔ القصص:32) ' پس یہ دو دلیلیں ہیں تیرے پروردگار کی طرف سے، فرعون اور اس کے سرداروں کے لئے '
(آیت 22){ وَ اضْمُمْ يَدَكَ اِلٰى جَنَاحِكَ …:} دوسری جگہ اس کی تفصیل آئی ہے کہ حکم ہوا کہ اپنے گریبان میں ہاتھ ڈال کر اسے اپنے پہلو کے ساتھ لگاؤ گے تو وہ چمکتا ہوا سفید نکلے گا، مگر وہ سفیدی برص وغیرہ جیسا عیب نہیں ہو گی، بلکہ ایک معجزہ ہوگی۔ ”کسی عیب کے بغیر“ کی تصریح اس لیے فرمائی کہ برص کو بہت ہی معیوب سمجھا جاتا ہے۔
لِنُرِیَکَ مِنۡ اٰیٰتِنَا الۡکُبۡرٰی ﴿ۚ۲۳﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اس لیے کہ ہم تجھے اپنی بڑی نشانیاں دکھانے والے ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
یہ اس لئے کہ ہم تجھے اپنی بڑی بڑی نشانیاں دکھانا چاہتے ہیں
احمد رضا خان بریلوی
کہ ہم تجھے اپنی بڑی بڑی نشانیاں دکھائیں،
علامہ محمد حسین نجفی
تاکہ ہم آپ کو اپنی بڑی نشانیوں سے کچھ دکھائیں۔
عبدالسلام بن محمد
تاکہ ہم تجھے اپنی چند بڑی نشانیاں دکھائیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
معجزات کی نوعیت ٭٭

’ دوسرا معجزہ ‘ موسیٰ علیہ السلام کو دوسرا معجزہ دیا جاتا ہے۔ حکم ہوتا ہے کہ اپنا ہاتھ اپنی بغل میں ڈال کر پھر اسے نکال لو تو وہ چاند کی طرح چمکتا ہوا روشن بن کر نکلے گا۔ یہ نہیں کہ برص کی سفیدی ہو یا کوئی بیماری اور عیب ہو۔ چنانچہ موسیٰ علیہ السلام نے جب ہاتھ ڈال کر نکالا تو وہ چراغ کی طرح روشن نکلا جس سے آپ کا یہ یقین کہ آپ اللہ تعالیٰ سے کلام کر رہے ہیں، اور بڑھ گیا۔ یہ دونوں معجزے یہیں اسی لیے ملے تھے کہ آپ اللہ کی ان زبردست نشانیوں کو دیکھ کر یقین کر لیں۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 23){ لِنُرِيَكَ مِنْ اٰيٰتِنَا الْكُبْرٰى:} یہاں {” مِنْ “} بعض کے معنی میں ہے، یعنی ہم نے عصا اور ید بیضا تمھیں اپنے چند بڑے معجزے دکھانے کے لیے عطا کیے ہیں۔ یہ معنی بھی ہے کہ ہم نے یہ معجزے تمھیں اپنے کچھ مزید بڑے معجزے دکھانے کے لیے دیے ہیں۔ ان کی تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ بنی اسرائیل (۱۰۱)۔
اِذۡہَبۡ اِلٰی فِرۡعَوۡنَ اِنَّہٗ طَغٰی ﴿٪۲۴﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اب تو فرعون کے پاس جا، وہ سرکش ہو گیا ہے"
مولانا محمد جوناگڑھی
اب تو فرعون کی طرف جا اس نے بڑی سرکشی مچا رکھی ہے
احمد رضا خان بریلوی
فرعون کے پاس جا اس نے سر اٹھایا
علامہ محمد حسین نجفی
جاؤ فرعون کے پاس کہ وہ بڑا سرکش ہو گیا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
فرعون کی طرف جا، بے شک وہ سرکش ہوگیا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
فرعون کے سامنے کلمہ حق ٭٭

پھر حکم ہوا کہ فرعون نے ہماری بغاوت پر کمر کس لی ہے، اس کے پاس جا کر اسے سمجھاؤ۔ وہب رحمہ اللہ کہتے ہیں اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام کو قریب ہونے کا حکم دیا یہاں تک کہ آپ اس درخت کے تنے سے لگ کر کھڑے ہو گئے، دل ٹھہر گیا، خوف و خطر دور ہو گیا۔ دونوں ہاتھ اپنی لکڑی پر ٹکا کر سرجھکا کر گردن خم کر کے با ادب ارشاد الٰہی سننے لگے تو فرمایا گیا کہ ملک مصر کے بادشاہ فرعون کی طرف ہمارا پیغام لے کر جاؤ، یہیں سے تم بھاگ کر آئے ہو۔ اس سے کہو کہ وہ ہماری عبادت کرے، کسی کو شریک نہ بنائے، بنو اسرائیل کے ساتھ سلوک و احسان کرے، انہیں تکلیف اور ایذاء نہ دے۔ فرعون بڑا باغی ہو گیا ہے، دنیا کا مفتون بن کر آخرت کو فراموش کر بیٹھا ہے اور اپنے پیدا کرنے والے کو بھول گیا ہے، تو میری رسالت لے کر اس کے پاس جا۔ میرے کان اور میری آنکھیں تیرے ساتھ ہیں، میں تجھے دیکھتا بھالتا اور تیری باتیں سنتا سناتا رہوں گا۔ میری مدد تیرے پاس ہو گی، میں نے اپنی طرف سے تجھے حجتیں عطا فرما دی ہیں اور تجھے قوی اور مضبوط کر دیا ہے، تو اکیلا ہی میرا پورا لشکر ہے۔ اپنے ایک ضعیف بندے کی طرف تجھے بھیج رہا ہوں جو میری نعمتیں پا کر پھول گیا ہے اور میری پکڑ کو بھول گیا ہے، دنیا میں پھنس گیا اور غرور و تکبر میں دھنس گیا ہے۔ میری ربوبیت سے بیزار، میری الوہیت سے برسر پیکار ہے۔ مجھ سے آنکھیں پھیر لی ہیں، دیدے بدل لیے ہیں۔ میری پکڑ سے غافل ہو گیا ہے۔ میرے عذابوں سے بیخوف ہو گیا ہے۔ مجھے اپنی عزت کی قسم اگر میں اسے ڈھیل دینا نہ چاہتا تو آسمان اس پر ٹوٹ پڑتے زمین اسے نگل جاتی دریا اسے ڈبو دیتے لیکن چونکہ وہ میرے مقابلے کا نہیں، ہر وقت میرے بس میں ہے، میں اسے ڈھیل دیے ہوئے ہوں اور اس سے بےپرواہی برت رہا ہوں۔ میں ہوں بھی ساری مخلوق سے بےپرواہ۔ حق تو یہ ہے کہ بےپروائی صرف میری ہی صفت ہے۔ تو میری رسالت ادا کر، اسے میری عبادت کی ہدایت کر، اسے توحید و اخلاص کی دعوت دے، میری نعمتیں یاد دلا۔ میرے عذابوں سے دھمکا، میرے غضب سے ہوشیار کر دے۔ جب میں غصہ کر بیٹھتا ہوں تو امن نہیں ملتا۔ اسے نرمی سے سمجھا تاکہ نہ ماننے کا عذر ٹوٹ جائے۔

میری بخشش کی، میرے کرم و رحم کی اسے خبر دے۔ کہہ دے کہ اب بھی اگر میری طرف جھکے گا تو میں تمام بد اعمالیوں سے قطع نظر کر لوں گا۔ میری رحمت میرے غضب سے بہت زیادہ وسیع ہے۔ خبردار اس کا دنیوی ٹھاٹھ دیکھ کر رعب میں نہ آ جانا، اس کی چوٹی میرے ہاتھ میں ہے۔ اس کی زبان چل نہیں سکتی اس کے ہاتھ اٹھ نہیں سکتے اس کی آنکھ پھڑک نہیں سکتی اس کا سانس چل نہیں سکتا جب تک میری اجازت نہ ہو۔ اسے سمجھا کہ میری مان لے تو میں بھی مغفرت سے پیش آؤں گا۔ چار سو سال اسے سرکشی کرتے، میرے بندوں پر ظلم ڈھاتے، میری عبادت سے لوگوں کو روکتے گزر چکے ہیں۔ تاہم نہ میں نے اس پر بارش بند کی نہ پیداوار روکی نہ بیمار ڈالا نہ بوڑھا کیا نہ مغلوب کیا۔ اگر چاہتا ظلم کے ساتھ ہی پکڑ لیتا لیکن میرا حلم بہت بڑھا ہوا ہے۔ تو اپنے بھائی کے ساتھ مل کر اس سے پوری طرح جہاد کر اور میری مدد پر بھروسہ رکھ، میں اگر چاہوں تو اپنے لشکروں کو بھیج کر اس کا بھیجا نکال دوں۔ لیکن اس بے بنیاد بندے کو دکھانا چاہتا ہوں کہ میری جماعت کا ایک بھی روئے زمین کی طاقتوں پر غالب آ سکتا ہے۔ مدد میرے اختیار میں ہے۔ دنیاوی جاہ و جلال کی تو پرواہ نہ کرنا بلکہ آنکھ بھر کر دیکھنا بھی نہیں۔ میں اگر چاہوں تو تمہیں اتنا دے دوں کہ فرعون کی دولت اس کے پاسنگ میں بھی نہ آ سکے لیکن میں اپنے بندوں کو عموماً غریب ہی رکھتا ہوں تاکہ ان کی آخرت سنوری رہے۔ یہ اس لیے نہیں ہوتا کہ وہ میرے نزدیک قابل اکرام نہیں بلکہ صرف اس لیے ہوتا ہے کہ دونوں جہان کی نعمتیں آنے والے جہان میں جمع مل جائیں۔ میرے نزدیک بندے کا کوئی عمل اتنا وقعت والا نہیں جتنا زہد اور دنیا سے دوری۔ میں اپنے خاص بندوں کو سکینت اور خشوع خضوع کا لباس پہنا دیتا ہوں، ان کے چہرے سجدوں کی چمک سے روشن ہو جاتے ہیں۔ یہی سچے اولیا اللہ ہوتے ہیں۔ ان کے سامنے ہر ایک کو با ادب رہنا چاہیئے۔ اپنی زبان اور دل کو ان کا تابع رکھنا چاہیئے۔

سن لے! میرے دوستوں سے دشمنی رکھنے والا گویا مجھے لڑائی کا اعلان دیتا ہے۔ تو کیا مجھ سے لڑنے کا ارادہ رکھنے والا کبھی سرسبز ہو سکتا ہے؟ میں نے قہر کی نظر سے اسے دیکھا اور وہ تہس نہس ہوا۔ میرے دشمن مجھ پر غالب نہیں آ سکتے، میرے مخالف میرا کچھ بھی بگاڑ نہیں سکتے۔ میں اپنے دوستوں کی خود مدد کرتا ہوں، انہیں دشمنوں کا شکار نہیں ہونے دیتا۔ دنیا و آخرت میں انہیں سرخرو رکھتا ہوں اور ان کی مدد کرتا ہوں۔ موسیٰ علیہ السلام نے اپنا بچپن کا زمانہ فرعون کے گھر میں بلکہ اس کی گود میں گزارا تھا، جوانی تک ملک مصر میں اسی کی بادشاہت میں ٹھہرے رہے تھے۔ پھر ایک قبطی بے ارادہ آپ کے ہاتھ سے مر گیا تھا جس سے آپ یہاں سے بھاگ نکلے تھے تب سے لے کر آج تک مصر کی صورت نہیں دیکھی تھی۔ فرعون ایک سخت دل، بدخلق، اکھڑ مزاج، آوارہ انسان تھا۔ غرور اور تکبر اتنا بڑھ گیا تھا کہ کہتا تھا کہ میں اللہ کو جانتا ہی نہیں۔ اپنی رعایا سے کہتا تھا کہ تمہارا رب میں ہی ہوں۔ ملک و مال میں، دولت و متاع میں، لاؤ لشکر اور کروفر میں کوئی روئے زمین پر اس کے مقابلے کا نہ تھا۔
24۔ 1 فرعون کا ذکر اس لئے کیا کہ اس نے حضرت موسیٰ ؑ کی قوم بنی اسرائیل کو غلام بنا رکھا تھا اور اس پر طرح طرح کے ظلم روا رکھتا تھا۔ علاوہ ازیں اس کی سرکشی و طغیانی بھی بہت بڑھ گئی تھی حتٰی کہ وہ دعویٰ کرنے لگا تھا (اَنَا رَبُّكُمُ الْاَعْلٰى) 79۔ النازعات:24) ' میں تمہارا بلند تر رب ہوں '
(آیت 24){ اِذْهَبْ اِلٰى فِرْعَوْنَ …:} نبوت اور معجزات عطا کرنے کے بعد حکم ہوا کہ یہ معجزات لے کر فرعون کے پاس جاؤ جو تکبر اور سرکشی میں ہر حد سے تجاوز کر گیا ہے، حتیٰ کہ بندہ ہو کر رب اعلیٰ ہونے کا دعویٰ کر بیٹھا ہے۔ اس حکم کی مزید تفصیل آگے آیات (۴۲ تا ۴۸) میں آ رہی ہے۔
قَالَ رَبِّ اشۡرَحۡ لِیۡ صَدۡرِیۡ ﴿ۙ۲۵﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
موسیٰؑ نے عرض کیا " پروردگار، میرا سینہ کھول دے
مولانا محمد جوناگڑھی
موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا اے میرے پروردگار! میرا سینہ میرے لئے کھول دے
احمد رضا خان بریلوی
عرض کی اے میرے رب میرے لیے میرا سینہ کھول دے
علامہ محمد حسین نجفی
موسیٰ نے کہا اے میرے پروردگار! میرا سینہ کشادہ فرما۔ (حوصلہ فراخ کر)۔
عبدالسلام بن محمد
اس نے کہا اے میرے رب! میرے لیے میرا سینہ کھول دے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
موسیٰ علیہ السلام کی دعائیں ٭٭

جب موسیٰ علیہ السلام کو اسے ہدایت کرنے کا حکم ہوا تو آپ نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ میرا سینہ کھول دے اور میرے کام میں آسانی پیدا کر دے۔ اگر تو خود میرا مددگار نہ بنا تو یہ سخت بار میرے کمزور کندھے نہیں اٹھا سکتے۔ اور میری زبان کی گرہ کھول دے۔ چونکہ آپ کے بچپن کے زمانے میں آپ کے سامنے کھجور اور انگارے رکھے گئے تھے، آپ نے انگارہ لے کر منہ میں رکھ لیا تھا، اس لیے زبان میں لکنت ہو گئی تھی، تو دعا کی کہ میرے زبان کی گرہ کھل جائے۔ موسیٰ علیہ السلام کے اس ادب کو دیکھئے کہ بقدر حاجت سوال کرتے ہیں یہ نہیں عرض کرتے کہ میری زبان بالکل صاف ہو جائے بلکہ دعا یہ کرتے ہیں کہ گرہ کھل جائے تاکہ لوگ میری بات سمجھ لیں۔ انبیاء علیہم السلام اللہ سے صرف حاجت روائی کے مطابق ہی عرض کرتے ہیں، آگے نہیں بڑھتے۔ چنانچہ آپ کی زبان میں پھر بھی کچھ کسر رہ گئی تھی جیسے کہ فرعون نے کہا تھا کہ کیا میں بہتر ہوں یا یہ؟ جو فرد مایہ ہے اور صاف بول بھی نہیں سکتا۔ حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں، ایک گرہ کھلنے کی دعا کی تھی جو پوری ہوئی۔ اگر پوری دعا کی ہوتی تو وہ بھی پوری ہوتی۔ آپ نے صرف اسی قدر دعا کی تھی کہ آپ کی زبان ایسی کر دی جائے کہ لوگ آپ کی بات سمجھ لیا کریں۔

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہا فرماتے ہیں، ڈر تھا کہ کہیں وہ الزام قتل رکھ کر قتل نہ کر دیں اس کی دعا کی جو قبول ہوئی۔ زبان میں اٹکاؤ تھا اس کی بابت دعا کی کہ اتنی صاف ہو جائے کہ لوگ بات سمجھ لیں یہ دعا بھی پوری ہوئی۔ دعا کی کہ ہارون کو بھی نبی بنا دیا جائے یہ بھی پوری ہوئی۔ محمد بن کعب رحمہ اللہ کے پاس ان کے ایک رشتے دار آئے اور کہنے لگے، یہ تو بڑی کمی ہے کہ تم بولنے میں غلط بول جاتے ہو۔ آپ نے فرمایا بھتیجے کیا میری بات تمہاری سمجھ میں نہیں آتی؟ کہا ہاں سمجھ میں تو آ جاتی ہے، کہا بس یہی کافی ہے۔ موسیٰ علیہ السلام نے بھی اللہ سے یہی اور اتنی ہی دعا کی تھی۔ پھر اور دعا کی کہ میری خارجی اور ظاہری امداد کے لیے میرا وزیر بنا دے اور ہو بھی وہ میرے کنبے میں سے۔ یعنی میرے بھائی ہارون کو نبوت عطا فرما۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہا فرماتے ہیں اسی وقت ہارون علیہ السلام کو موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ ہی نبوت عطا فرمائی گئی۔

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا عمرے کے لیے جاتے ہوئے کسی اعرابی کے ہاں مقیم تھیں کہ سنا ایک شخص پوچھتا ہے کہ دنیا میں کس بھائی نے اپنے بھائی کو سب سے زیادہ نفع پہنچایا ہے؟ اس سوال پر سب خاموش ہو گئے اور کہہ دیا کہ ہمیں اس کا علم نہیں۔ اس نے کہا اللہ کی قسم مجھے اس کا علم ہے۔ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں میں نے اپنے دل میں کہا، دیکھو یہ شخص کتنی بیجا جسارت کرتا ہے، بغیر ان شاءاللہ کے قسم کھا رہا ہے۔ لوگوں نے اس سے پوچھا کہ بتاؤ، اس نے جواب دیا موسیٰ علیہ السلام کہ اپنے بھائی کو اپنی دعا سے نبوت دلوائی۔ میں بھی یہ سن کر دنگ رہ گئی اور دل میں کہنے لگی، بات تو سچ کہی، فی الواقع اس سے زیادہ کوئی بھائی اپنے بھائی کو نفع نہیں پہنچا سکتا۔ اللہ نے سچ فرمایا کہ موسیٰ علیہ السلام اللہ کے پاس بڑے آبرو دار تھے۔ اس دعا کی وجہ بیان کرتے ہیں کہ میری کمر مضبوط ہو جائے۔ تاکہ ہم تیری تسبیح اچھی طرح بیان کریں۔ ہر وقت تیری پاکیزگی بیان کرتے رہیں اور تیری یاد بکثرت کریں۔ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں، بندہ اللہ تعالیٰ کا زیادہ ذکر کرنے والا اسی وقت ہوتا ہے جب کہ وہ بیٹھتے اٹھتے اور لیٹتے ذکر اللہ میں مشغول رہے۔ تو ہمیں دیکھتا ہے، یہ تیرا رحم و کرم ہے کہ تو نے ہمیں برگزیدہ کیا، ہمیں نبوت عطا فرمائی اور ہمیں اپنے دشمن فرعون کی طرف اپنا نبی بنا کر اس کی ہدایت کے لیے مبعوث فرمایا۔ تیرا شکر ہے اور تیرے ہی لیے تمام تعریفیں سزاوار ہیں۔ تیری ان نعمتوں پر ہم تیرے شکر گزار ہیں۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 26،25){ قَالَ رَبِّ اشْرَحْ لِيْ صَدْرِيْ …:} دوسری جگہ فرمایا: «{ وَ يَضِيْقُ صَدْرِيْ وَ لَا يَنْطَلِقُ لِسَانِيْ }» [ الشعراء: ۱۳ ] ”اور میرا سینہ تنگ ہوتا ہے اور میری زبان چلتی نہیں۔“ یعنی اتنی بڑی ذمہ داری اٹھانے سے میرے دل میں جو تنگی محسوس ہوتی ہے وہ دور فرما دے اور اس منصب عظیم کا بوجھ اٹھانے کے لیے جس ہمت، پامردی اور حوصلہ مندی کی ضرورت ہے وہ میرے دل میں پیدا فرما دے اور میرا تبلیغ رسالت کا کام میرے لیے آسان فرما دے۔
وَ یَسِّرۡ لِیۡۤ اَمۡرِیۡ ﴿ۙ۲۶﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اور میرے کام کو میرے لیے آسان کر دے
مولانا محمد جوناگڑھی
اور میرے کام کو مجھ پر آسان کر دے
احمد رضا خان بریلوی
اور میرے لیے میرا کام آسان کر،
علامہ محمد حسین نجفی
اور میرے کام کو میرے لئے آسان کر۔
عبدالسلام بن محمد
اور میرے لیے میرا کام آسان کر دے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
موسیٰ علیہ السلام کی دعائیں ٭٭

جب موسیٰ علیہ السلام کو اسے ہدایت کرنے کا حکم ہوا تو آپ نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ میرا سینہ کھول دے اور میرے کام میں آسانی پیدا کر دے۔ اگر تو خود میرا مددگار نہ بنا تو یہ سخت بار میرے کمزور کندھے نہیں اٹھا سکتے۔ اور میری زبان کی گرہ کھول دے۔ چونکہ آپ کے بچپن کے زمانے میں آپ کے سامنے کھجور اور انگارے رکھے گئے تھے، آپ نے انگارہ لے کر منہ میں رکھ لیا تھا، اس لیے زبان میں لکنت ہو گئی تھی، تو دعا کی کہ میرے زبان کی گرہ کھل جائے۔ موسیٰ علیہ السلام کے اس ادب کو دیکھئے کہ بقدر حاجت سوال کرتے ہیں یہ نہیں عرض کرتے کہ میری زبان بالکل صاف ہو جائے بلکہ دعا یہ کرتے ہیں کہ گرہ کھل جائے تاکہ لوگ میری بات سمجھ لیں۔ انبیاء علیہم السلام اللہ سے صرف حاجت روائی کے مطابق ہی عرض کرتے ہیں، آگے نہیں بڑھتے۔ چنانچہ آپ کی زبان میں پھر بھی کچھ کسر رہ گئی تھی جیسے کہ فرعون نے کہا تھا کہ کیا میں بہتر ہوں یا یہ؟ جو فرد مایہ ہے اور صاف بول بھی نہیں سکتا۔ حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں، ایک گرہ کھلنے کی دعا کی تھی جو پوری ہوئی۔ اگر پوری دعا کی ہوتی تو وہ بھی پوری ہوتی۔ آپ نے صرف اسی قدر دعا کی تھی کہ آپ کی زبان ایسی کر دی جائے کہ لوگ آپ کی بات سمجھ لیا کریں۔

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہا فرماتے ہیں، ڈر تھا کہ کہیں وہ الزام قتل رکھ کر قتل نہ کر دیں اس کی دعا کی جو قبول ہوئی۔ زبان میں اٹکاؤ تھا اس کی بابت دعا کی کہ اتنی صاف ہو جائے کہ لوگ بات سمجھ لیں یہ دعا بھی پوری ہوئی۔ دعا کی کہ ہارون کو بھی نبی بنا دیا جائے یہ بھی پوری ہوئی۔ محمد بن کعب رحمہ اللہ کے پاس ان کے ایک رشتے دار آئے اور کہنے لگے، یہ تو بڑی کمی ہے کہ تم بولنے میں غلط بول جاتے ہو۔ آپ نے فرمایا بھتیجے کیا میری بات تمہاری سمجھ میں نہیں آتی؟ کہا ہاں سمجھ میں تو آ جاتی ہے، کہا بس یہی کافی ہے۔ موسیٰ علیہ السلام نے بھی اللہ سے یہی اور اتنی ہی دعا کی تھی۔ پھر اور دعا کی کہ میری خارجی اور ظاہری امداد کے لیے میرا وزیر بنا دے اور ہو بھی وہ میرے کنبے میں سے۔ یعنی میرے بھائی ہارون کو نبوت عطا فرما۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہا فرماتے ہیں اسی وقت ہارون علیہ السلام کو موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ ہی نبوت عطا فرمائی گئی۔

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا عمرے کے لیے جاتے ہوئے کسی اعرابی کے ہاں مقیم تھیں کہ سنا ایک شخص پوچھتا ہے کہ دنیا میں کس بھائی نے اپنے بھائی کو سب سے زیادہ نفع پہنچایا ہے؟ اس سوال پر سب خاموش ہو گئے اور کہہ دیا کہ ہمیں اس کا علم نہیں۔ اس نے کہا اللہ کی قسم مجھے اس کا علم ہے۔ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں میں نے اپنے دل میں کہا، دیکھو یہ شخص کتنی بیجا جسارت کرتا ہے، بغیر ان شاءاللہ کے قسم کھا رہا ہے۔ لوگوں نے اس سے پوچھا کہ بتاؤ، اس نے جواب دیا موسیٰ علیہ السلام کہ اپنے بھائی کو اپنی دعا سے نبوت دلوائی۔ میں بھی یہ سن کر دنگ رہ گئی اور دل میں کہنے لگی، بات تو سچ کہی، فی الواقع اس سے زیادہ کوئی بھائی اپنے بھائی کو نفع نہیں پہنچا سکتا۔ اللہ نے سچ فرمایا کہ موسیٰ علیہ السلام اللہ کے پاس بڑے آبرو دار تھے۔ اس دعا کی وجہ بیان کرتے ہیں کہ میری کمر مضبوط ہو جائے۔ تاکہ ہم تیری تسبیح اچھی طرح بیان کریں۔ ہر وقت تیری پاکیزگی بیان کرتے رہیں اور تیری یاد بکثرت کریں۔ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں، بندہ اللہ تعالیٰ کا زیادہ ذکر کرنے والا اسی وقت ہوتا ہے جب کہ وہ بیٹھتے اٹھتے اور لیٹتے ذکر اللہ میں مشغول رہے۔ تو ہمیں دیکھتا ہے، یہ تیرا رحم و کرم ہے کہ تو نے ہمیں برگزیدہ کیا، ہمیں نبوت عطا فرمائی اور ہمیں اپنے دشمن فرعون کی طرف اپنا نبی بنا کر اس کی ہدایت کے لیے مبعوث فرمایا۔ تیرا شکر ہے اور تیرے ہی لیے تمام تعریفیں سزاوار ہیں۔ تیری ان نعمتوں پر ہم تیرے شکر گزار ہیں۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
وَ احۡلُلۡ عُقۡدَۃً مِّنۡ لِّسَانِیۡ ﴿ۙ۲۷﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اور میری زبان کی گرہ سُلجھا دے
مولانا محمد جوناگڑھی
اور میری زبان کی گره بھی کھول دے
احمد رضا خان بریلوی
اور میری زبان کی گرہ کھول دے،
علامہ محمد حسین نجفی
اور میری زبان کی گرہ کھول دے۔
عبدالسلام بن محمد
اور میری زبان کی کچھ گرہ کھول دے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
موسیٰ علیہ السلام کی دعائیں ٭٭

جب موسیٰ علیہ السلام کو اسے ہدایت کرنے کا حکم ہوا تو آپ نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ میرا سینہ کھول دے اور میرے کام میں آسانی پیدا کر دے۔ اگر تو خود میرا مددگار نہ بنا تو یہ سخت بار میرے کمزور کندھے نہیں اٹھا سکتے۔ اور میری زبان کی گرہ کھول دے۔ چونکہ آپ کے بچپن کے زمانے میں آپ کے سامنے کھجور اور انگارے رکھے گئے تھے، آپ نے انگارہ لے کر منہ میں رکھ لیا تھا، اس لیے زبان میں لکنت ہو گئی تھی، تو دعا کی کہ میرے زبان کی گرہ کھل جائے۔ موسیٰ علیہ السلام کے اس ادب کو دیکھئے کہ بقدر حاجت سوال کرتے ہیں یہ نہیں عرض کرتے کہ میری زبان بالکل صاف ہو جائے بلکہ دعا یہ کرتے ہیں کہ گرہ کھل جائے تاکہ لوگ میری بات سمجھ لیں۔ انبیاء علیہم السلام اللہ سے صرف حاجت روائی کے مطابق ہی عرض کرتے ہیں، آگے نہیں بڑھتے۔ چنانچہ آپ کی زبان میں پھر بھی کچھ کسر رہ گئی تھی جیسے کہ فرعون نے کہا تھا کہ کیا میں بہتر ہوں یا یہ؟ جو فرد مایہ ہے اور صاف بول بھی نہیں سکتا۔ حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں، ایک گرہ کھلنے کی دعا کی تھی جو پوری ہوئی۔ اگر پوری دعا کی ہوتی تو وہ بھی پوری ہوتی۔ آپ نے صرف اسی قدر دعا کی تھی کہ آپ کی زبان ایسی کر دی جائے کہ لوگ آپ کی بات سمجھ لیا کریں۔

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہا فرماتے ہیں، ڈر تھا کہ کہیں وہ الزام قتل رکھ کر قتل نہ کر دیں اس کی دعا کی جو قبول ہوئی۔ زبان میں اٹکاؤ تھا اس کی بابت دعا کی کہ اتنی صاف ہو جائے کہ لوگ بات سمجھ لیں یہ دعا بھی پوری ہوئی۔ دعا کی کہ ہارون کو بھی نبی بنا دیا جائے یہ بھی پوری ہوئی۔ محمد بن کعب رحمہ اللہ کے پاس ان کے ایک رشتے دار آئے اور کہنے لگے، یہ تو بڑی کمی ہے کہ تم بولنے میں غلط بول جاتے ہو۔ آپ نے فرمایا بھتیجے کیا میری بات تمہاری سمجھ میں نہیں آتی؟ کہا ہاں سمجھ میں تو آ جاتی ہے، کہا بس یہی کافی ہے۔ موسیٰ علیہ السلام نے بھی اللہ سے یہی اور اتنی ہی دعا کی تھی۔ پھر اور دعا کی کہ میری خارجی اور ظاہری امداد کے لیے میرا وزیر بنا دے اور ہو بھی وہ میرے کنبے میں سے۔ یعنی میرے بھائی ہارون کو نبوت عطا فرما۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہا فرماتے ہیں اسی وقت ہارون علیہ السلام کو موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ ہی نبوت عطا فرمائی گئی۔

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا عمرے کے لیے جاتے ہوئے کسی اعرابی کے ہاں مقیم تھیں کہ سنا ایک شخص پوچھتا ہے کہ دنیا میں کس بھائی نے اپنے بھائی کو سب سے زیادہ نفع پہنچایا ہے؟ اس سوال پر سب خاموش ہو گئے اور کہہ دیا کہ ہمیں اس کا علم نہیں۔ اس نے کہا اللہ کی قسم مجھے اس کا علم ہے۔ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں میں نے اپنے دل میں کہا، دیکھو یہ شخص کتنی بیجا جسارت کرتا ہے، بغیر ان شاءاللہ کے قسم کھا رہا ہے۔ لوگوں نے اس سے پوچھا کہ بتاؤ، اس نے جواب دیا موسیٰ علیہ السلام کہ اپنے بھائی کو اپنی دعا سے نبوت دلوائی۔ میں بھی یہ سن کر دنگ رہ گئی اور دل میں کہنے لگی، بات تو سچ کہی، فی الواقع اس سے زیادہ کوئی بھائی اپنے بھائی کو نفع نہیں پہنچا سکتا۔ اللہ نے سچ فرمایا کہ موسیٰ علیہ السلام اللہ کے پاس بڑے آبرو دار تھے۔ اس دعا کی وجہ بیان کرتے ہیں کہ میری کمر مضبوط ہو جائے۔ تاکہ ہم تیری تسبیح اچھی طرح بیان کریں۔ ہر وقت تیری پاکیزگی بیان کرتے رہیں اور تیری یاد بکثرت کریں۔ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں، بندہ اللہ تعالیٰ کا زیادہ ذکر کرنے والا اسی وقت ہوتا ہے جب کہ وہ بیٹھتے اٹھتے اور لیٹتے ذکر اللہ میں مشغول رہے۔ تو ہمیں دیکھتا ہے، یہ تیرا رحم و کرم ہے کہ تو نے ہمیں برگزیدہ کیا، ہمیں نبوت عطا فرمائی اور ہمیں اپنے دشمن فرعون کی طرف اپنا نبی بنا کر اس کی ہدایت کے لیے مبعوث فرمایا۔ تیرا شکر ہے اور تیرے ہی لیے تمام تعریفیں سزاوار ہیں۔ تیری ان نعمتوں پر ہم تیرے شکر گزار ہیں۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 27تا30) ➊ { وَ احْلُلْ عُقْدَةً مِّنْ لِّسَانِيْ …:} سورۂ شعراء کی آیت (۱۳): «{ وَ يَضِيْقُ صَدْرِيْ وَ لَا يَنْطَلِقُ لِسَانِيْ }» سے معلوم ہوتا ہے کہ موسیٰ علیہ السلام کی زبان میں وہ روانی نہ تھی جسے وہ اللہ کا پیغام پہنچانے کے لیے ضروری سمجھتے تھے۔ فرعون کو بھی ان پر طعن کے لیے یہی کمزوری ملی کہ کہا: «{ وَ لَا يَكَادُ يُبِيْنُ }» [ الزخرف: ۵۲ ] ”اور یہ (موسیٰ) قریب نہیں کہ بات واضح کرے۔“ اگرچہ فرعون کی بات کا کچھ اعتبار نہیں، کیونکہ جھوٹا الزام لگا دینا اس سے کچھ بعید نہ تھا۔ الغرض! اس کے لیے انھوں نے دو دعائیں کیں، ایک تویہ کہ اے میرے رب! میری زبان کی کچھ گرہ کھول دے، تاکہ لوگ میری بات سمجھ لیں۔ کچھ گرہ کا مفہوم {” عُقْدَةً “} کی تنوین سے ظاہر ہو رہا ہے۔ زبان سے مکمل گرہ دور کرنے کی دعا کے بجائے انھوں نے یہ کہہ کر اپنے بھائی ہارون علیہ السلام کے لیے نبوت کی درخواست کر دی کہ وہ مجھ سے زیادہ فصیح اللسان ہیں اور میرے اہلِ خانہ میں سے میرا بوجھ بٹانے والے ہوں گے۔ اہلِ علم فرماتے ہیں کہ کسی بھائی نے اپنے بھائی کے لیے موسیٰ علیہ السلام سے زیادہ بہتر دعا نہیں کی۔ بعض تفاسیر میں موسیٰ علیہ السلام کے بچپن میں انگارا منہ میں ڈالنے کا ذکر ہے، مگر وہ اسرائیلی روایات میں سے ہے، جن سے کسی بات کا یقین حاصل نہیں ہوتا۔ ➋ { وَ اجْعَلْ لِّيْ وَزِيْرًا …:} یعنی مددگار جو اس عظیم بوجھ کو اٹھانے میں میرا شریک ہو۔ شاہ عبد القادر رحمہ اللہ لکھتے ہیں: ”ایسے بڑے پیغمبروں کو (ساری) خلق کی طرف بہت (یعنی مکمل) خیال نہیں ہوتا، ایک پیش کار چاہیے کہ خلق کو سہج میں سمجھائے، ہمارے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کے پیش کار ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ تھے، ابتدا میں ابوبکر رضی اللہ عنہ کی تبلیغ ہی سے بہت سے لوگ مسلمان ہوئے ہیں، جن کا شمار کبار صحابہ میں ہے۔“ (موضح)
یَفۡقَہُوۡا قَوۡلِیۡ ﴿۪۲۸﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
تاکہ لوگ میری بات سمجھ سکیں
مولانا محمد جوناگڑھی
تاکہ لوگ میری بات اچھی طرح سمجھ سکیں
احمد رضا خان بریلوی
کہ وہ میری بات سمجھیں،
علامہ محمد حسین نجفی
تاکہ لوگ میری بات سمجھ سکیں۔
عبدالسلام بن محمد
کہ وہ میری بات سمجھ لیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
موسیٰ علیہ السلام کی دعائیں ٭٭

جب موسیٰ علیہ السلام کو اسے ہدایت کرنے کا حکم ہوا تو آپ نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ میرا سینہ کھول دے اور میرے کام میں آسانی پیدا کر دے۔ اگر تو خود میرا مددگار نہ بنا تو یہ سخت بار میرے کمزور کندھے نہیں اٹھا سکتے۔ اور میری زبان کی گرہ کھول دے۔ چونکہ آپ کے بچپن کے زمانے میں آپ کے سامنے کھجور اور انگارے رکھے گئے تھے، آپ نے انگارہ لے کر منہ میں رکھ لیا تھا، اس لیے زبان میں لکنت ہو گئی تھی، تو دعا کی کہ میرے زبان کی گرہ کھل جائے۔ موسیٰ علیہ السلام کے اس ادب کو دیکھئے کہ بقدر حاجت سوال کرتے ہیں یہ نہیں عرض کرتے کہ میری زبان بالکل صاف ہو جائے بلکہ دعا یہ کرتے ہیں کہ گرہ کھل جائے تاکہ لوگ میری بات سمجھ لیں۔ انبیاء علیہم السلام اللہ سے صرف حاجت روائی کے مطابق ہی عرض کرتے ہیں، آگے نہیں بڑھتے۔ چنانچہ آپ کی زبان میں پھر بھی کچھ کسر رہ گئی تھی جیسے کہ فرعون نے کہا تھا کہ کیا میں بہتر ہوں یا یہ؟ جو فرد مایہ ہے اور صاف بول بھی نہیں سکتا۔ حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں، ایک گرہ کھلنے کی دعا کی تھی جو پوری ہوئی۔ اگر پوری دعا کی ہوتی تو وہ بھی پوری ہوتی۔ آپ نے صرف اسی قدر دعا کی تھی کہ آپ کی زبان ایسی کر دی جائے کہ لوگ آپ کی بات سمجھ لیا کریں۔

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہا فرماتے ہیں، ڈر تھا کہ کہیں وہ الزام قتل رکھ کر قتل نہ کر دیں اس کی دعا کی جو قبول ہوئی۔ زبان میں اٹکاؤ تھا اس کی بابت دعا کی کہ اتنی صاف ہو جائے کہ لوگ بات سمجھ لیں یہ دعا بھی پوری ہوئی۔ دعا کی کہ ہارون کو بھی نبی بنا دیا جائے یہ بھی پوری ہوئی۔ محمد بن کعب رحمہ اللہ کے پاس ان کے ایک رشتے دار آئے اور کہنے لگے، یہ تو بڑی کمی ہے کہ تم بولنے میں غلط بول جاتے ہو۔ آپ نے فرمایا بھتیجے کیا میری بات تمہاری سمجھ میں نہیں آتی؟ کہا ہاں سمجھ میں تو آ جاتی ہے، کہا بس یہی کافی ہے۔ موسیٰ علیہ السلام نے بھی اللہ سے یہی اور اتنی ہی دعا کی تھی۔ پھر اور دعا کی کہ میری خارجی اور ظاہری امداد کے لیے میرا وزیر بنا دے اور ہو بھی وہ میرے کنبے میں سے۔ یعنی میرے بھائی ہارون کو نبوت عطا فرما۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہا فرماتے ہیں اسی وقت ہارون علیہ السلام کو موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ ہی نبوت عطا فرمائی گئی۔

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا عمرے کے لیے جاتے ہوئے کسی اعرابی کے ہاں مقیم تھیں کہ سنا ایک شخص پوچھتا ہے کہ دنیا میں کس بھائی نے اپنے بھائی کو سب سے زیادہ نفع پہنچایا ہے؟ اس سوال پر سب خاموش ہو گئے اور کہہ دیا کہ ہمیں اس کا علم نہیں۔ اس نے کہا اللہ کی قسم مجھے اس کا علم ہے۔ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں میں نے اپنے دل میں کہا، دیکھو یہ شخص کتنی بیجا جسارت کرتا ہے، بغیر ان شاءاللہ کے قسم کھا رہا ہے۔ لوگوں نے اس سے پوچھا کہ بتاؤ، اس نے جواب دیا موسیٰ علیہ السلام کہ اپنے بھائی کو اپنی دعا سے نبوت دلوائی۔ میں بھی یہ سن کر دنگ رہ گئی اور دل میں کہنے لگی، بات تو سچ کہی، فی الواقع اس سے زیادہ کوئی بھائی اپنے بھائی کو نفع نہیں پہنچا سکتا۔ اللہ نے سچ فرمایا کہ موسیٰ علیہ السلام اللہ کے پاس بڑے آبرو دار تھے۔ اس دعا کی وجہ بیان کرتے ہیں کہ میری کمر مضبوط ہو جائے۔ تاکہ ہم تیری تسبیح اچھی طرح بیان کریں۔ ہر وقت تیری پاکیزگی بیان کرتے رہیں اور تیری یاد بکثرت کریں۔ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں، بندہ اللہ تعالیٰ کا زیادہ ذکر کرنے والا اسی وقت ہوتا ہے جب کہ وہ بیٹھتے اٹھتے اور لیٹتے ذکر اللہ میں مشغول رہے۔ تو ہمیں دیکھتا ہے، یہ تیرا رحم و کرم ہے کہ تو نے ہمیں برگزیدہ کیا، ہمیں نبوت عطا فرمائی اور ہمیں اپنے دشمن فرعون کی طرف اپنا نبی بنا کر اس کی ہدایت کے لیے مبعوث فرمایا۔ تیرا شکر ہے اور تیرے ہی لیے تمام تعریفیں سزاوار ہیں۔ تیری ان نعمتوں پر ہم تیرے شکر گزار ہیں۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
وَ اجۡعَلۡ لِّیۡ وَزِیۡرًا مِّنۡ اَہۡلِیۡ ﴿ۙ۲۹﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اور میرے لیے میرے اپنے کنبے سے ایک وزیر مقرر کر دے
مولانا محمد جوناگڑھی
اور میرا وزیر میرے کنبے میں سے کر دے
احمد رضا خان بریلوی
اور میرے لیے میرے گھر والوں میں سے ایک وزیر کردے،
علامہ محمد حسین نجفی
اور میرے خاندان میں سے میرے بھائی۔
عبدالسلام بن محمد
اور میرے لیے میرے گھر والوں میں سے ایک بوجھ بٹانے والا بنادے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
موسیٰ علیہ السلام کی دعائیں ٭٭

جب موسیٰ علیہ السلام کو اسے ہدایت کرنے کا حکم ہوا تو آپ نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ میرا سینہ کھول دے اور میرے کام میں آسانی پیدا کر دے۔ اگر تو خود میرا مددگار نہ بنا تو یہ سخت بار میرے کمزور کندھے نہیں اٹھا سکتے۔ اور میری زبان کی گرہ کھول دے۔ چونکہ آپ کے بچپن کے زمانے میں آپ کے سامنے کھجور اور انگارے رکھے گئے تھے، آپ نے انگارہ لے کر منہ میں رکھ لیا تھا، اس لیے زبان میں لکنت ہو گئی تھی، تو دعا کی کہ میرے زبان کی گرہ کھل جائے۔ موسیٰ علیہ السلام کے اس ادب کو دیکھئے کہ بقدر حاجت سوال کرتے ہیں یہ نہیں عرض کرتے کہ میری زبان بالکل صاف ہو جائے بلکہ دعا یہ کرتے ہیں کہ گرہ کھل جائے تاکہ لوگ میری بات سمجھ لیں۔ انبیاء علیہم السلام اللہ سے صرف حاجت روائی کے مطابق ہی عرض کرتے ہیں، آگے نہیں بڑھتے۔ چنانچہ آپ کی زبان میں پھر بھی کچھ کسر رہ گئی تھی جیسے کہ فرعون نے کہا تھا کہ کیا میں بہتر ہوں یا یہ؟ جو فرد مایہ ہے اور صاف بول بھی نہیں سکتا۔ حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں، ایک گرہ کھلنے کی دعا کی تھی جو پوری ہوئی۔ اگر پوری دعا کی ہوتی تو وہ بھی پوری ہوتی۔ آپ نے صرف اسی قدر دعا کی تھی کہ آپ کی زبان ایسی کر دی جائے کہ لوگ آپ کی بات سمجھ لیا کریں۔

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہا فرماتے ہیں، ڈر تھا کہ کہیں وہ الزام قتل رکھ کر قتل نہ کر دیں اس کی دعا کی جو قبول ہوئی۔ زبان میں اٹکاؤ تھا اس کی بابت دعا کی کہ اتنی صاف ہو جائے کہ لوگ بات سمجھ لیں یہ دعا بھی پوری ہوئی۔ دعا کی کہ ہارون کو بھی نبی بنا دیا جائے یہ بھی پوری ہوئی۔ محمد بن کعب رحمہ اللہ کے پاس ان کے ایک رشتے دار آئے اور کہنے لگے، یہ تو بڑی کمی ہے کہ تم بولنے میں غلط بول جاتے ہو۔ آپ نے فرمایا بھتیجے کیا میری بات تمہاری سمجھ میں نہیں آتی؟ کہا ہاں سمجھ میں تو آ جاتی ہے، کہا بس یہی کافی ہے۔ موسیٰ علیہ السلام نے بھی اللہ سے یہی اور اتنی ہی دعا کی تھی۔ پھر اور دعا کی کہ میری خارجی اور ظاہری امداد کے لیے میرا وزیر بنا دے اور ہو بھی وہ میرے کنبے میں سے۔ یعنی میرے بھائی ہارون کو نبوت عطا فرما۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہا فرماتے ہیں اسی وقت ہارون علیہ السلام کو موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ ہی نبوت عطا فرمائی گئی۔

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا عمرے کے لیے جاتے ہوئے کسی اعرابی کے ہاں مقیم تھیں کہ سنا ایک شخص پوچھتا ہے کہ دنیا میں کس بھائی نے اپنے بھائی کو سب سے زیادہ نفع پہنچایا ہے؟ اس سوال پر سب خاموش ہو گئے اور کہہ دیا کہ ہمیں اس کا علم نہیں۔ اس نے کہا اللہ کی قسم مجھے اس کا علم ہے۔ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں میں نے اپنے دل میں کہا، دیکھو یہ شخص کتنی بیجا جسارت کرتا ہے، بغیر ان شاءاللہ کے قسم کھا رہا ہے۔ لوگوں نے اس سے پوچھا کہ بتاؤ، اس نے جواب دیا موسیٰ علیہ السلام کہ اپنے بھائی کو اپنی دعا سے نبوت دلوائی۔ میں بھی یہ سن کر دنگ رہ گئی اور دل میں کہنے لگی، بات تو سچ کہی، فی الواقع اس سے زیادہ کوئی بھائی اپنے بھائی کو نفع نہیں پہنچا سکتا۔ اللہ نے سچ فرمایا کہ موسیٰ علیہ السلام اللہ کے پاس بڑے آبرو دار تھے۔ اس دعا کی وجہ بیان کرتے ہیں کہ میری کمر مضبوط ہو جائے۔ تاکہ ہم تیری تسبیح اچھی طرح بیان کریں۔ ہر وقت تیری پاکیزگی بیان کرتے رہیں اور تیری یاد بکثرت کریں۔ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں، بندہ اللہ تعالیٰ کا زیادہ ذکر کرنے والا اسی وقت ہوتا ہے جب کہ وہ بیٹھتے اٹھتے اور لیٹتے ذکر اللہ میں مشغول رہے۔ تو ہمیں دیکھتا ہے، یہ تیرا رحم و کرم ہے کہ تو نے ہمیں برگزیدہ کیا، ہمیں نبوت عطا فرمائی اور ہمیں اپنے دشمن فرعون کی طرف اپنا نبی بنا کر اس کی ہدایت کے لیے مبعوث فرمایا۔ تیرا شکر ہے اور تیرے ہی لیے تمام تعریفیں سزاوار ہیں۔ تیری ان نعمتوں پر ہم تیرے شکر گزار ہیں۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
ہٰرُوۡنَ اَخِی ﴿ۙ۳۰﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
ہارونؑ، جو میرا بھائی ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
یعنی میرے بھائی ہارون (علیہ السلام) کو
احمد رضا خان بریلوی
وہ کون میرا بھائی ہارون،
علامہ محمد حسین نجفی
ہارون کو میرا وزیر بنا۔
عبدالسلام بن محمد
ہارون کو، جو میرا بھائی ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
موسیٰ علیہ السلام کی دعائیں ٭٭

جب موسیٰ علیہ السلام کو اسے ہدایت کرنے کا حکم ہوا تو آپ نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ میرا سینہ کھول دے اور میرے کام میں آسانی پیدا کر دے۔ اگر تو خود میرا مددگار نہ بنا تو یہ سخت بار میرے کمزور کندھے نہیں اٹھا سکتے۔ اور میری زبان کی گرہ کھول دے۔ چونکہ آپ کے بچپن کے زمانے میں آپ کے سامنے کھجور اور انگارے رکھے گئے تھے، آپ نے انگارہ لے کر منہ میں رکھ لیا تھا، اس لیے زبان میں لکنت ہو گئی تھی، تو دعا کی کہ میرے زبان کی گرہ کھل جائے۔ موسیٰ علیہ السلام کے اس ادب کو دیکھئے کہ بقدر حاجت سوال کرتے ہیں یہ نہیں عرض کرتے کہ میری زبان بالکل صاف ہو جائے بلکہ دعا یہ کرتے ہیں کہ گرہ کھل جائے تاکہ لوگ میری بات سمجھ لیں۔ انبیاء علیہم السلام اللہ سے صرف حاجت روائی کے مطابق ہی عرض کرتے ہیں، آگے نہیں بڑھتے۔ چنانچہ آپ کی زبان میں پھر بھی کچھ کسر رہ گئی تھی جیسے کہ فرعون نے کہا تھا کہ کیا میں بہتر ہوں یا یہ؟ جو فرد مایہ ہے اور صاف بول بھی نہیں سکتا۔ حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں، ایک گرہ کھلنے کی دعا کی تھی جو پوری ہوئی۔ اگر پوری دعا کی ہوتی تو وہ بھی پوری ہوتی۔ آپ نے صرف اسی قدر دعا کی تھی کہ آپ کی زبان ایسی کر دی جائے کہ لوگ آپ کی بات سمجھ لیا کریں۔

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہا فرماتے ہیں، ڈر تھا کہ کہیں وہ الزام قتل رکھ کر قتل نہ کر دیں اس کی دعا کی جو قبول ہوئی۔ زبان میں اٹکاؤ تھا اس کی بابت دعا کی کہ اتنی صاف ہو جائے کہ لوگ بات سمجھ لیں یہ دعا بھی پوری ہوئی۔ دعا کی کہ ہارون کو بھی نبی بنا دیا جائے یہ بھی پوری ہوئی۔ محمد بن کعب رحمہ اللہ کے پاس ان کے ایک رشتے دار آئے اور کہنے لگے، یہ تو بڑی کمی ہے کہ تم بولنے میں غلط بول جاتے ہو۔ آپ نے فرمایا بھتیجے کیا میری بات تمہاری سمجھ میں نہیں آتی؟ کہا ہاں سمجھ میں تو آ جاتی ہے، کہا بس یہی کافی ہے۔ موسیٰ علیہ السلام نے بھی اللہ سے یہی اور اتنی ہی دعا کی تھی۔ پھر اور دعا کی کہ میری خارجی اور ظاہری امداد کے لیے میرا وزیر بنا دے اور ہو بھی وہ میرے کنبے میں سے۔ یعنی میرے بھائی ہارون کو نبوت عطا فرما۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہا فرماتے ہیں اسی وقت ہارون علیہ السلام کو موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ ہی نبوت عطا فرمائی گئی۔

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا عمرے کے لیے جاتے ہوئے کسی اعرابی کے ہاں مقیم تھیں کہ سنا ایک شخص پوچھتا ہے کہ دنیا میں کس بھائی نے اپنے بھائی کو سب سے زیادہ نفع پہنچایا ہے؟ اس سوال پر سب خاموش ہو گئے اور کہہ دیا کہ ہمیں اس کا علم نہیں۔ اس نے کہا اللہ کی قسم مجھے اس کا علم ہے۔ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں میں نے اپنے دل میں کہا، دیکھو یہ شخص کتنی بیجا جسارت کرتا ہے، بغیر ان شاءاللہ کے قسم کھا رہا ہے۔ لوگوں نے اس سے پوچھا کہ بتاؤ، اس نے جواب دیا موسیٰ علیہ السلام کہ اپنے بھائی کو اپنی دعا سے نبوت دلوائی۔ میں بھی یہ سن کر دنگ رہ گئی اور دل میں کہنے لگی، بات تو سچ کہی، فی الواقع اس سے زیادہ کوئی بھائی اپنے بھائی کو نفع نہیں پہنچا سکتا۔ اللہ نے سچ فرمایا کہ موسیٰ علیہ السلام اللہ کے پاس بڑے آبرو دار تھے۔ اس دعا کی وجہ بیان کرتے ہیں کہ میری کمر مضبوط ہو جائے۔ تاکہ ہم تیری تسبیح اچھی طرح بیان کریں۔ ہر وقت تیری پاکیزگی بیان کرتے رہیں اور تیری یاد بکثرت کریں۔ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں، بندہ اللہ تعالیٰ کا زیادہ ذکر کرنے والا اسی وقت ہوتا ہے جب کہ وہ بیٹھتے اٹھتے اور لیٹتے ذکر اللہ میں مشغول رہے۔ تو ہمیں دیکھتا ہے، یہ تیرا رحم و کرم ہے کہ تو نے ہمیں برگزیدہ کیا، ہمیں نبوت عطا فرمائی اور ہمیں اپنے دشمن فرعون کی طرف اپنا نبی بنا کر اس کی ہدایت کے لیے مبعوث فرمایا۔ تیرا شکر ہے اور تیرے ہی لیے تمام تعریفیں سزاوار ہیں۔ تیری ان نعمتوں پر ہم تیرے شکر گزار ہیں۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
اشۡدُدۡ بِہٖۤ اَزۡرِیۡ ﴿ۙ۳۱﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اُس کے ذریعہ سے میرا ہاتھ مضبُوط کر
مولانا محمد جوناگڑھی
تو اس سے میری کمر کس دے
احمد رضا خان بریلوی
اس سے میری کمر مضبوط کر،
علامہ محمد حسین نجفی
اس کے ذریعے سے میری کمر کو مضبوط بنا۔
عبدالسلام بن محمد
اس کے ساتھ میری پشت مضبوط کر دے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
موسیٰ علیہ السلام کی دعائیں ٭٭

جب موسیٰ علیہ السلام کو اسے ہدایت کرنے کا حکم ہوا تو آپ نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ میرا سینہ کھول دے اور میرے کام میں آسانی پیدا کر دے۔ اگر تو خود میرا مددگار نہ بنا تو یہ سخت بار میرے کمزور کندھے نہیں اٹھا سکتے۔ اور میری زبان کی گرہ کھول دے۔ چونکہ آپ کے بچپن کے زمانے میں آپ کے سامنے کھجور اور انگارے رکھے گئے تھے، آپ نے انگارہ لے کر منہ میں رکھ لیا تھا، اس لیے زبان میں لکنت ہو گئی تھی، تو دعا کی کہ میرے زبان کی گرہ کھل جائے۔ موسیٰ علیہ السلام کے اس ادب کو دیکھئے کہ بقدر حاجت سوال کرتے ہیں یہ نہیں عرض کرتے کہ میری زبان بالکل صاف ہو جائے بلکہ دعا یہ کرتے ہیں کہ گرہ کھل جائے تاکہ لوگ میری بات سمجھ لیں۔ انبیاء علیہم السلام اللہ سے صرف حاجت روائی کے مطابق ہی عرض کرتے ہیں، آگے نہیں بڑھتے۔ چنانچہ آپ کی زبان میں پھر بھی کچھ کسر رہ گئی تھی جیسے کہ فرعون نے کہا تھا کہ کیا میں بہتر ہوں یا یہ؟ جو فرد مایہ ہے اور صاف بول بھی نہیں سکتا۔ حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں، ایک گرہ کھلنے کی دعا کی تھی جو پوری ہوئی۔ اگر پوری دعا کی ہوتی تو وہ بھی پوری ہوتی۔ آپ نے صرف اسی قدر دعا کی تھی کہ آپ کی زبان ایسی کر دی جائے کہ لوگ آپ کی بات سمجھ لیا کریں۔

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہا فرماتے ہیں، ڈر تھا کہ کہیں وہ الزام قتل رکھ کر قتل نہ کر دیں اس کی دعا کی جو قبول ہوئی۔ زبان میں اٹکاؤ تھا اس کی بابت دعا کی کہ اتنی صاف ہو جائے کہ لوگ بات سمجھ لیں یہ دعا بھی پوری ہوئی۔ دعا کی کہ ہارون کو بھی نبی بنا دیا جائے یہ بھی پوری ہوئی۔ محمد بن کعب رحمہ اللہ کے پاس ان کے ایک رشتے دار آئے اور کہنے لگے، یہ تو بڑی کمی ہے کہ تم بولنے میں غلط بول جاتے ہو۔ آپ نے فرمایا بھتیجے کیا میری بات تمہاری سمجھ میں نہیں آتی؟ کہا ہاں سمجھ میں تو آ جاتی ہے، کہا بس یہی کافی ہے۔ موسیٰ علیہ السلام نے بھی اللہ سے یہی اور اتنی ہی دعا کی تھی۔ پھر اور دعا کی کہ میری خارجی اور ظاہری امداد کے لیے میرا وزیر بنا دے اور ہو بھی وہ میرے کنبے میں سے۔ یعنی میرے بھائی ہارون کو نبوت عطا فرما۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہا فرماتے ہیں اسی وقت ہارون علیہ السلام کو موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ ہی نبوت عطا فرمائی گئی۔

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا عمرے کے لیے جاتے ہوئے کسی اعرابی کے ہاں مقیم تھیں کہ سنا ایک شخص پوچھتا ہے کہ دنیا میں کس بھائی نے اپنے بھائی کو سب سے زیادہ نفع پہنچایا ہے؟ اس سوال پر سب خاموش ہو گئے اور کہہ دیا کہ ہمیں اس کا علم نہیں۔ اس نے کہا اللہ کی قسم مجھے اس کا علم ہے۔ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں میں نے اپنے دل میں کہا، دیکھو یہ شخص کتنی بیجا جسارت کرتا ہے، بغیر ان شاءاللہ کے قسم کھا رہا ہے۔ لوگوں نے اس سے پوچھا کہ بتاؤ، اس نے جواب دیا موسیٰ علیہ السلام کہ اپنے بھائی کو اپنی دعا سے نبوت دلوائی۔ میں بھی یہ سن کر دنگ رہ گئی اور دل میں کہنے لگی، بات تو سچ کہی، فی الواقع اس سے زیادہ کوئی بھائی اپنے بھائی کو نفع نہیں پہنچا سکتا۔ اللہ نے سچ فرمایا کہ موسیٰ علیہ السلام اللہ کے پاس بڑے آبرو دار تھے۔ اس دعا کی وجہ بیان کرتے ہیں کہ میری کمر مضبوط ہو جائے۔ تاکہ ہم تیری تسبیح اچھی طرح بیان کریں۔ ہر وقت تیری پاکیزگی بیان کرتے رہیں اور تیری یاد بکثرت کریں۔ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں، بندہ اللہ تعالیٰ کا زیادہ ذکر کرنے والا اسی وقت ہوتا ہے جب کہ وہ بیٹھتے اٹھتے اور لیٹتے ذکر اللہ میں مشغول رہے۔ تو ہمیں دیکھتا ہے، یہ تیرا رحم و کرم ہے کہ تو نے ہمیں برگزیدہ کیا، ہمیں نبوت عطا فرمائی اور ہمیں اپنے دشمن فرعون کی طرف اپنا نبی بنا کر اس کی ہدایت کے لیے مبعوث فرمایا۔ تیرا شکر ہے اور تیرے ہی لیے تمام تعریفیں سزاوار ہیں۔ تیری ان نعمتوں پر ہم تیرے شکر گزار ہیں۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 32،31){اشْدُدْ بِهٖۤ اَزْرِيْ …: ” اشْدُدْ “} اکثر قراء کی قراء ت کے مطابق یہ {”شَدَّ يَشُدُّ“} (ن) سے ہمزہ کے ضمہ کے ساتھ فعل امر ہے۔ اسی طرح {” اَشْرِكْهُ”اَشْرَكَ يُشْرِكُ“} (افعال) سے فعل امر ہے۔
وَ اَشۡرِکۡہُ فِیۡۤ اَمۡرِیۡ ﴿ۙ۳۲﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اور اس کو میرے کام میں شریک کر دے
مولانا محمد جوناگڑھی
اور اسے میرا شریک کار کر دے
احمد رضا خان بریلوی
اور اسے میرے کام میں شریک کر
علامہ محمد حسین نجفی
اسے میرے کام (رسالت) میں میرا شریک بنا۔
عبدالسلام بن محمد
اور اسے میرے کام میں شریک کر دے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
موسیٰ علیہ السلام کی دعائیں ٭٭

جب موسیٰ علیہ السلام کو اسے ہدایت کرنے کا حکم ہوا تو آپ نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ میرا سینہ کھول دے اور میرے کام میں آسانی پیدا کر دے۔ اگر تو خود میرا مددگار نہ بنا تو یہ سخت بار میرے کمزور کندھے نہیں اٹھا سکتے۔ اور میری زبان کی گرہ کھول دے۔ چونکہ آپ کے بچپن کے زمانے میں آپ کے سامنے کھجور اور انگارے رکھے گئے تھے، آپ نے انگارہ لے کر منہ میں رکھ لیا تھا، اس لیے زبان میں لکنت ہو گئی تھی، تو دعا کی کہ میرے زبان کی گرہ کھل جائے۔ موسیٰ علیہ السلام کے اس ادب کو دیکھئے کہ بقدر حاجت سوال کرتے ہیں یہ نہیں عرض کرتے کہ میری زبان بالکل صاف ہو جائے بلکہ دعا یہ کرتے ہیں کہ گرہ کھل جائے تاکہ لوگ میری بات سمجھ لیں۔ انبیاء علیہم السلام اللہ سے صرف حاجت روائی کے مطابق ہی عرض کرتے ہیں، آگے نہیں بڑھتے۔ چنانچہ آپ کی زبان میں پھر بھی کچھ کسر رہ گئی تھی جیسے کہ فرعون نے کہا تھا کہ کیا میں بہتر ہوں یا یہ؟ جو فرد مایہ ہے اور صاف بول بھی نہیں سکتا۔ حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں، ایک گرہ کھلنے کی دعا کی تھی جو پوری ہوئی۔ اگر پوری دعا کی ہوتی تو وہ بھی پوری ہوتی۔ آپ نے صرف اسی قدر دعا کی تھی کہ آپ کی زبان ایسی کر دی جائے کہ لوگ آپ کی بات سمجھ لیا کریں۔

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہا فرماتے ہیں، ڈر تھا کہ کہیں وہ الزام قتل رکھ کر قتل نہ کر دیں اس کی دعا کی جو قبول ہوئی۔ زبان میں اٹکاؤ تھا اس کی بابت دعا کی کہ اتنی صاف ہو جائے کہ لوگ بات سمجھ لیں یہ دعا بھی پوری ہوئی۔ دعا کی کہ ہارون کو بھی نبی بنا دیا جائے یہ بھی پوری ہوئی۔ محمد بن کعب رحمہ اللہ کے پاس ان کے ایک رشتے دار آئے اور کہنے لگے، یہ تو بڑی کمی ہے کہ تم بولنے میں غلط بول جاتے ہو۔ آپ نے فرمایا بھتیجے کیا میری بات تمہاری سمجھ میں نہیں آتی؟ کہا ہاں سمجھ میں تو آ جاتی ہے، کہا بس یہی کافی ہے۔ موسیٰ علیہ السلام نے بھی اللہ سے یہی اور اتنی ہی دعا کی تھی۔ پھر اور دعا کی کہ میری خارجی اور ظاہری امداد کے لیے میرا وزیر بنا دے اور ہو بھی وہ میرے کنبے میں سے۔ یعنی میرے بھائی ہارون کو نبوت عطا فرما۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہا فرماتے ہیں اسی وقت ہارون علیہ السلام کو موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ ہی نبوت عطا فرمائی گئی۔

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا عمرے کے لیے جاتے ہوئے کسی اعرابی کے ہاں مقیم تھیں کہ سنا ایک شخص پوچھتا ہے کہ دنیا میں کس بھائی نے اپنے بھائی کو سب سے زیادہ نفع پہنچایا ہے؟ اس سوال پر سب خاموش ہو گئے اور کہہ دیا کہ ہمیں اس کا علم نہیں۔ اس نے کہا اللہ کی قسم مجھے اس کا علم ہے۔ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں میں نے اپنے دل میں کہا، دیکھو یہ شخص کتنی بیجا جسارت کرتا ہے، بغیر ان شاءاللہ کے قسم کھا رہا ہے۔ لوگوں نے اس سے پوچھا کہ بتاؤ، اس نے جواب دیا موسیٰ علیہ السلام کہ اپنے بھائی کو اپنی دعا سے نبوت دلوائی۔ میں بھی یہ سن کر دنگ رہ گئی اور دل میں کہنے لگی، بات تو سچ کہی، فی الواقع اس سے زیادہ کوئی بھائی اپنے بھائی کو نفع نہیں پہنچا سکتا۔ اللہ نے سچ فرمایا کہ موسیٰ علیہ السلام اللہ کے پاس بڑے آبرو دار تھے۔ اس دعا کی وجہ بیان کرتے ہیں کہ میری کمر مضبوط ہو جائے۔ تاکہ ہم تیری تسبیح اچھی طرح بیان کریں۔ ہر وقت تیری پاکیزگی بیان کرتے رہیں اور تیری یاد بکثرت کریں۔ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں، بندہ اللہ تعالیٰ کا زیادہ ذکر کرنے والا اسی وقت ہوتا ہے جب کہ وہ بیٹھتے اٹھتے اور لیٹتے ذکر اللہ میں مشغول رہے۔ تو ہمیں دیکھتا ہے، یہ تیرا رحم و کرم ہے کہ تو نے ہمیں برگزیدہ کیا، ہمیں نبوت عطا فرمائی اور ہمیں اپنے دشمن فرعون کی طرف اپنا نبی بنا کر اس کی ہدایت کے لیے مبعوث فرمایا۔ تیرا شکر ہے اور تیرے ہی لیے تمام تعریفیں سزاوار ہیں۔ تیری ان نعمتوں پر ہم تیرے شکر گزار ہیں۔
32۔ 1 کہتے ہیں کہ موسیٰ ؑ جب فرعون کے شاہی محل میں زیر پرورش تھے تو کھجور یا موتی کی بجائے آگ کا انگارا منہ میں ڈال لیا تھا جس سے ان کی زبان جل گئی اور اس میں لکنت پیدا ہوگئی (ابن کثیر) جب اللہ تعالیٰ نے انھیں حکم دیا کہ فرعون کے پاس جا کر میرا پیغام پہنچاؤ تو حضرت موسیٰ ؑ کے دل میں دو باتیں آئیں ایک تو یہ کہ وہ بڑا جابر اور متکبر بادشاہ ہے بلکہ رب ہونے تک کا دعویدار ہے دوسرا یہ کہ موسیٰ ؑ کے ہاتھوں اس کی قوم کا ایک آدمی مارا گیا تھا اور جس کی وجہ سے موسیٰ کو اپنی جان بچانے کے لیے وہاں سے نکلنا پڑا تھا یعنی ایک فرعون کی عظمت وجباریت کا خوف اور دوسرا اپنے ہاتھوں ہونے والے واقعہ کا اندیشہ اور ان دونوں پر زائد تیسری بات زبان میں لکنت حضرت موسیٰ ؑ نے دعا فرمائی کہ یا اللہ! میرا سینہ کھول دے تاکہ میں رسالت کا بوجھ اٹھا سکوں میرے کام کو آسان فرما دے یعنی جو مہم مجھے درپیش ہے اس میں میری مدد فرما اور میری زبان کی گرہ کھول دے تاکہ فرعون کے سامنے میں پوری وضاحت سے تیرا پیغام پہنچا سکوں اور اگر ضرورت پیش آئے تو اپنا دفاع بھی کرسکوں اس کے ساتھ یہ دعا بھی کی کہ میرے بھائی ہارون ؑ کو (کہتے ہیں کہ یہ عمر میں موسیٰ ؑ سے بڑے تھے) بطور معین اور مددگار میرا وزیر اور شریک کار بنا دے وزیر موازر کے معنی میں ہے یعنی بوجھ اٹھانے والا جس طرح ایک وزیر بادشاہ کا بوجھ اٹھاتا ہے اور امور مملکت میں اسکا مشیر ہوتا ہے اسی طرح ہارون ؑ میرا مشیر اور بوجھ اٹھانے والا ساتھی ہو۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
کَیۡ نُسَبِّحَکَ کَثِیۡرًا ﴿ۙ۳۳﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
تاکہ ہم خوب تیری پاکی بیان کریں
مولانا محمد جوناگڑھی
تاکہ ہم دونوں بکثرت تیری تسبیح بیان کریں
احمد رضا خان بریلوی
کہ ہم بکثرت تیری پاکی بولیں،
علامہ محمد حسین نجفی
تاکہ ہم کثرت سے تیری تسبیح کریں۔
عبدالسلام بن محمد
تاکہ ہم تیری بہت تسبیح کریں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
موسیٰ علیہ السلام کی دعائیں ٭٭

جب موسیٰ علیہ السلام کو اسے ہدایت کرنے کا حکم ہوا تو آپ نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ میرا سینہ کھول دے اور میرے کام میں آسانی پیدا کر دے۔ اگر تو خود میرا مددگار نہ بنا تو یہ سخت بار میرے کمزور کندھے نہیں اٹھا سکتے۔ اور میری زبان کی گرہ کھول دے۔ چونکہ آپ کے بچپن کے زمانے میں آپ کے سامنے کھجور اور انگارے رکھے گئے تھے، آپ نے انگارہ لے کر منہ میں رکھ لیا تھا، اس لیے زبان میں لکنت ہو گئی تھی، تو دعا کی کہ میرے زبان کی گرہ کھل جائے۔ موسیٰ علیہ السلام کے اس ادب کو دیکھئے کہ بقدر حاجت سوال کرتے ہیں یہ نہیں عرض کرتے کہ میری زبان بالکل صاف ہو جائے بلکہ دعا یہ کرتے ہیں کہ گرہ کھل جائے تاکہ لوگ میری بات سمجھ لیں۔ انبیاء علیہم السلام اللہ سے صرف حاجت روائی کے مطابق ہی عرض کرتے ہیں، آگے نہیں بڑھتے۔ چنانچہ آپ کی زبان میں پھر بھی کچھ کسر رہ گئی تھی جیسے کہ فرعون نے کہا تھا کہ کیا میں بہتر ہوں یا یہ؟ جو فرد مایہ ہے اور صاف بول بھی نہیں سکتا۔ حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں، ایک گرہ کھلنے کی دعا کی تھی جو پوری ہوئی۔ اگر پوری دعا کی ہوتی تو وہ بھی پوری ہوتی۔ آپ نے صرف اسی قدر دعا کی تھی کہ آپ کی زبان ایسی کر دی جائے کہ لوگ آپ کی بات سمجھ لیا کریں۔

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہا فرماتے ہیں، ڈر تھا کہ کہیں وہ الزام قتل رکھ کر قتل نہ کر دیں اس کی دعا کی جو قبول ہوئی۔ زبان میں اٹکاؤ تھا اس کی بابت دعا کی کہ اتنی صاف ہو جائے کہ لوگ بات سمجھ لیں یہ دعا بھی پوری ہوئی۔ دعا کی کہ ہارون کو بھی نبی بنا دیا جائے یہ بھی پوری ہوئی۔ محمد بن کعب رحمہ اللہ کے پاس ان کے ایک رشتے دار آئے اور کہنے لگے، یہ تو بڑی کمی ہے کہ تم بولنے میں غلط بول جاتے ہو۔ آپ نے فرمایا بھتیجے کیا میری بات تمہاری سمجھ میں نہیں آتی؟ کہا ہاں سمجھ میں تو آ جاتی ہے، کہا بس یہی کافی ہے۔ موسیٰ علیہ السلام نے بھی اللہ سے یہی اور اتنی ہی دعا کی تھی۔ پھر اور دعا کی کہ میری خارجی اور ظاہری امداد کے لیے میرا وزیر بنا دے اور ہو بھی وہ میرے کنبے میں سے۔ یعنی میرے بھائی ہارون کو نبوت عطا فرما۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہا فرماتے ہیں اسی وقت ہارون علیہ السلام کو موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ ہی نبوت عطا فرمائی گئی۔

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا عمرے کے لیے جاتے ہوئے کسی اعرابی کے ہاں مقیم تھیں کہ سنا ایک شخص پوچھتا ہے کہ دنیا میں کس بھائی نے اپنے بھائی کو سب سے زیادہ نفع پہنچایا ہے؟ اس سوال پر سب خاموش ہو گئے اور کہہ دیا کہ ہمیں اس کا علم نہیں۔ اس نے کہا اللہ کی قسم مجھے اس کا علم ہے۔ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں میں نے اپنے دل میں کہا، دیکھو یہ شخص کتنی بیجا جسارت کرتا ہے، بغیر ان شاءاللہ کے قسم کھا رہا ہے۔ لوگوں نے اس سے پوچھا کہ بتاؤ، اس نے جواب دیا موسیٰ علیہ السلام کہ اپنے بھائی کو اپنی دعا سے نبوت دلوائی۔ میں بھی یہ سن کر دنگ رہ گئی اور دل میں کہنے لگی، بات تو سچ کہی، فی الواقع اس سے زیادہ کوئی بھائی اپنے بھائی کو نفع نہیں پہنچا سکتا۔ اللہ نے سچ فرمایا کہ موسیٰ علیہ السلام اللہ کے پاس بڑے آبرو دار تھے۔ اس دعا کی وجہ بیان کرتے ہیں کہ میری کمر مضبوط ہو جائے۔ تاکہ ہم تیری تسبیح اچھی طرح بیان کریں۔ ہر وقت تیری پاکیزگی بیان کرتے رہیں اور تیری یاد بکثرت کریں۔ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں، بندہ اللہ تعالیٰ کا زیادہ ذکر کرنے والا اسی وقت ہوتا ہے جب کہ وہ بیٹھتے اٹھتے اور لیٹتے ذکر اللہ میں مشغول رہے۔ تو ہمیں دیکھتا ہے، یہ تیرا رحم و کرم ہے کہ تو نے ہمیں برگزیدہ کیا، ہمیں نبوت عطا فرمائی اور ہمیں اپنے دشمن فرعون کی طرف اپنا نبی بنا کر اس کی ہدایت کے لیے مبعوث فرمایا۔ تیرا شکر ہے اور تیرے ہی لیے تمام تعریفیں سزاوار ہیں۔ تیری ان نعمتوں پر ہم تیرے شکر گزار ہیں۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 34،33){ كَيْ نُسَبِّحَكَ كَثِيْرًا …:} یعنی ان دعاؤں سے ہمیں کوئی دنیاوی مفاد مقصود نہیں، بلکہ مقصد یہ ہے کہ ہم ایک دوسرے کے تعاون سے تیری تسبیح اور تیرا ذکر بہت زیادہ کر سکیں گے، مثلاً دنیوی ضروریات آپس میں تقسیم کر لیں گے تو تسبیح و ذکر اور دعوت کے لیے زیادہ وقت نکل سکے گا۔
وَّ نَذۡکُرَکَ کَثِیۡرًا ﴿ؕ۳۴﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اور خوب تیرا چرچا کریں
مولانا محمد جوناگڑھی
اور بکثرت تیری یاد کریں
احمد رضا خان بریلوی
اور بکثرت تیری یاد کریں
علامہ محمد حسین نجفی
اور کثرت سے تیرا ذکر کریں۔
عبدالسلام بن محمد
اور تجھے بہت یاد کریں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
موسیٰ علیہ السلام کی دعائیں ٭٭

جب موسیٰ علیہ السلام کو اسے ہدایت کرنے کا حکم ہوا تو آپ نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ میرا سینہ کھول دے اور میرے کام میں آسانی پیدا کر دے۔ اگر تو خود میرا مددگار نہ بنا تو یہ سخت بار میرے کمزور کندھے نہیں اٹھا سکتے۔ اور میری زبان کی گرہ کھول دے۔ چونکہ آپ کے بچپن کے زمانے میں آپ کے سامنے کھجور اور انگارے رکھے گئے تھے، آپ نے انگارہ لے کر منہ میں رکھ لیا تھا، اس لیے زبان میں لکنت ہو گئی تھی، تو دعا کی کہ میرے زبان کی گرہ کھل جائے۔ موسیٰ علیہ السلام کے اس ادب کو دیکھئے کہ بقدر حاجت سوال کرتے ہیں یہ نہیں عرض کرتے کہ میری زبان بالکل صاف ہو جائے بلکہ دعا یہ کرتے ہیں کہ گرہ کھل جائے تاکہ لوگ میری بات سمجھ لیں۔ انبیاء علیہم السلام اللہ سے صرف حاجت روائی کے مطابق ہی عرض کرتے ہیں، آگے نہیں بڑھتے۔ چنانچہ آپ کی زبان میں پھر بھی کچھ کسر رہ گئی تھی جیسے کہ فرعون نے کہا تھا کہ کیا میں بہتر ہوں یا یہ؟ جو فرد مایہ ہے اور صاف بول بھی نہیں سکتا۔ حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں، ایک گرہ کھلنے کی دعا کی تھی جو پوری ہوئی۔ اگر پوری دعا کی ہوتی تو وہ بھی پوری ہوتی۔ آپ نے صرف اسی قدر دعا کی تھی کہ آپ کی زبان ایسی کر دی جائے کہ لوگ آپ کی بات سمجھ لیا کریں۔

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہا فرماتے ہیں، ڈر تھا کہ کہیں وہ الزام قتل رکھ کر قتل نہ کر دیں اس کی دعا کی جو قبول ہوئی۔ زبان میں اٹکاؤ تھا اس کی بابت دعا کی کہ اتنی صاف ہو جائے کہ لوگ بات سمجھ لیں یہ دعا بھی پوری ہوئی۔ دعا کی کہ ہارون کو بھی نبی بنا دیا جائے یہ بھی پوری ہوئی۔ محمد بن کعب رحمہ اللہ کے پاس ان کے ایک رشتے دار آئے اور کہنے لگے، یہ تو بڑی کمی ہے کہ تم بولنے میں غلط بول جاتے ہو۔ آپ نے فرمایا بھتیجے کیا میری بات تمہاری سمجھ میں نہیں آتی؟ کہا ہاں سمجھ میں تو آ جاتی ہے، کہا بس یہی کافی ہے۔ موسیٰ علیہ السلام نے بھی اللہ سے یہی اور اتنی ہی دعا کی تھی۔ پھر اور دعا کی کہ میری خارجی اور ظاہری امداد کے لیے میرا وزیر بنا دے اور ہو بھی وہ میرے کنبے میں سے۔ یعنی میرے بھائی ہارون کو نبوت عطا فرما۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہا فرماتے ہیں اسی وقت ہارون علیہ السلام کو موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ ہی نبوت عطا فرمائی گئی۔

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا عمرے کے لیے جاتے ہوئے کسی اعرابی کے ہاں مقیم تھیں کہ سنا ایک شخص پوچھتا ہے کہ دنیا میں کس بھائی نے اپنے بھائی کو سب سے زیادہ نفع پہنچایا ہے؟ اس سوال پر سب خاموش ہو گئے اور کہہ دیا کہ ہمیں اس کا علم نہیں۔ اس نے کہا اللہ کی قسم مجھے اس کا علم ہے۔ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں میں نے اپنے دل میں کہا، دیکھو یہ شخص کتنی بیجا جسارت کرتا ہے، بغیر ان شاءاللہ کے قسم کھا رہا ہے۔ لوگوں نے اس سے پوچھا کہ بتاؤ، اس نے جواب دیا موسیٰ علیہ السلام کہ اپنے بھائی کو اپنی دعا سے نبوت دلوائی۔ میں بھی یہ سن کر دنگ رہ گئی اور دل میں کہنے لگی، بات تو سچ کہی، فی الواقع اس سے زیادہ کوئی بھائی اپنے بھائی کو نفع نہیں پہنچا سکتا۔ اللہ نے سچ فرمایا کہ موسیٰ علیہ السلام اللہ کے پاس بڑے آبرو دار تھے۔ اس دعا کی وجہ بیان کرتے ہیں کہ میری کمر مضبوط ہو جائے۔ تاکہ ہم تیری تسبیح اچھی طرح بیان کریں۔ ہر وقت تیری پاکیزگی بیان کرتے رہیں اور تیری یاد بکثرت کریں۔ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں، بندہ اللہ تعالیٰ کا زیادہ ذکر کرنے والا اسی وقت ہوتا ہے جب کہ وہ بیٹھتے اٹھتے اور لیٹتے ذکر اللہ میں مشغول رہے۔ تو ہمیں دیکھتا ہے، یہ تیرا رحم و کرم ہے کہ تو نے ہمیں برگزیدہ کیا، ہمیں نبوت عطا فرمائی اور ہمیں اپنے دشمن فرعون کی طرف اپنا نبی بنا کر اس کی ہدایت کے لیے مبعوث فرمایا۔ تیرا شکر ہے اور تیرے ہی لیے تمام تعریفیں سزاوار ہیں۔ تیری ان نعمتوں پر ہم تیرے شکر گزار ہیں۔
34۔ 1 یہ دعاؤں کی علت بیان کی کہ اس طرح ہم تبلیغ رسالت کے ساتھ ساتھ تیری تسبیح اور تیرا ذکر بھی زیادہ کرسکیں۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
اِنَّکَ کُنۡتَ بِنَا بَصِیۡرًا ﴿۳۵﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
تو ہمیشہ ہمارے حال پر نگران رہا ہے"
مولانا محمد جوناگڑھی
بیشک تو ہمیں خوب دیکھنے بھالنے واﻻ ہے
احمد رضا خان بریلوی
بیشک تو ہمیں دیکھ رہا ہے
علامہ محمد حسین نجفی
بےشک تو ہمارے حال کو خوب دیکھ رہا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
بے شک تو ہمیشہ ہمارے حال کو خوب دیکھنے والا رہا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
موسیٰ علیہ السلام کی دعائیں ٭٭

جب موسیٰ علیہ السلام کو اسے ہدایت کرنے کا حکم ہوا تو آپ نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ میرا سینہ کھول دے اور میرے کام میں آسانی پیدا کر دے۔ اگر تو خود میرا مددگار نہ بنا تو یہ سخت بار میرے کمزور کندھے نہیں اٹھا سکتے۔ اور میری زبان کی گرہ کھول دے۔ چونکہ آپ کے بچپن کے زمانے میں آپ کے سامنے کھجور اور انگارے رکھے گئے تھے، آپ نے انگارہ لے کر منہ میں رکھ لیا تھا، اس لیے زبان میں لکنت ہو گئی تھی، تو دعا کی کہ میرے زبان کی گرہ کھل جائے۔ موسیٰ علیہ السلام کے اس ادب کو دیکھئے کہ بقدر حاجت سوال کرتے ہیں یہ نہیں عرض کرتے کہ میری زبان بالکل صاف ہو جائے بلکہ دعا یہ کرتے ہیں کہ گرہ کھل جائے تاکہ لوگ میری بات سمجھ لیں۔ انبیاء علیہم السلام اللہ سے صرف حاجت روائی کے مطابق ہی عرض کرتے ہیں، آگے نہیں بڑھتے۔ چنانچہ آپ کی زبان میں پھر بھی کچھ کسر رہ گئی تھی جیسے کہ فرعون نے کہا تھا کہ کیا میں بہتر ہوں یا یہ؟ جو فرد مایہ ہے اور صاف بول بھی نہیں سکتا۔ حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں، ایک گرہ کھلنے کی دعا کی تھی جو پوری ہوئی۔ اگر پوری دعا کی ہوتی تو وہ بھی پوری ہوتی۔ آپ نے صرف اسی قدر دعا کی تھی کہ آپ کی زبان ایسی کر دی جائے کہ لوگ آپ کی بات سمجھ لیا کریں۔

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہا فرماتے ہیں، ڈر تھا کہ کہیں وہ الزام قتل رکھ کر قتل نہ کر دیں اس کی دعا کی جو قبول ہوئی۔ زبان میں اٹکاؤ تھا اس کی بابت دعا کی کہ اتنی صاف ہو جائے کہ لوگ بات سمجھ لیں یہ دعا بھی پوری ہوئی۔ دعا کی کہ ہارون کو بھی نبی بنا دیا جائے یہ بھی پوری ہوئی۔ محمد بن کعب رحمہ اللہ کے پاس ان کے ایک رشتے دار آئے اور کہنے لگے، یہ تو بڑی کمی ہے کہ تم بولنے میں غلط بول جاتے ہو۔ آپ نے فرمایا بھتیجے کیا میری بات تمہاری سمجھ میں نہیں آتی؟ کہا ہاں سمجھ میں تو آ جاتی ہے، کہا بس یہی کافی ہے۔ موسیٰ علیہ السلام نے بھی اللہ سے یہی اور اتنی ہی دعا کی تھی۔ پھر اور دعا کی کہ میری خارجی اور ظاہری امداد کے لیے میرا وزیر بنا دے اور ہو بھی وہ میرے کنبے میں سے۔ یعنی میرے بھائی ہارون کو نبوت عطا فرما۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہا فرماتے ہیں اسی وقت ہارون علیہ السلام کو موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ ہی نبوت عطا فرمائی گئی۔

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا عمرے کے لیے جاتے ہوئے کسی اعرابی کے ہاں مقیم تھیں کہ سنا ایک شخص پوچھتا ہے کہ دنیا میں کس بھائی نے اپنے بھائی کو سب سے زیادہ نفع پہنچایا ہے؟ اس سوال پر سب خاموش ہو گئے اور کہہ دیا کہ ہمیں اس کا علم نہیں۔ اس نے کہا اللہ کی قسم مجھے اس کا علم ہے۔ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں میں نے اپنے دل میں کہا، دیکھو یہ شخص کتنی بیجا جسارت کرتا ہے، بغیر ان شاءاللہ کے قسم کھا رہا ہے۔ لوگوں نے اس سے پوچھا کہ بتاؤ، اس نے جواب دیا موسیٰ علیہ السلام کہ اپنے بھائی کو اپنی دعا سے نبوت دلوائی۔ میں بھی یہ سن کر دنگ رہ گئی اور دل میں کہنے لگی، بات تو سچ کہی، فی الواقع اس سے زیادہ کوئی بھائی اپنے بھائی کو نفع نہیں پہنچا سکتا۔ اللہ نے سچ فرمایا کہ موسیٰ علیہ السلام اللہ کے پاس بڑے آبرو دار تھے۔ اس دعا کی وجہ بیان کرتے ہیں کہ میری کمر مضبوط ہو جائے۔ تاکہ ہم تیری تسبیح اچھی طرح بیان کریں۔ ہر وقت تیری پاکیزگی بیان کرتے رہیں اور تیری یاد بکثرت کریں۔ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں، بندہ اللہ تعالیٰ کا زیادہ ذکر کرنے والا اسی وقت ہوتا ہے جب کہ وہ بیٹھتے اٹھتے اور لیٹتے ذکر اللہ میں مشغول رہے۔ تو ہمیں دیکھتا ہے، یہ تیرا رحم و کرم ہے کہ تو نے ہمیں برگزیدہ کیا، ہمیں نبوت عطا فرمائی اور ہمیں اپنے دشمن فرعون کی طرف اپنا نبی بنا کر اس کی ہدایت کے لیے مبعوث فرمایا۔ تیرا شکر ہے اور تیرے ہی لیے تمام تعریفیں سزاوار ہیں۔ تیری ان نعمتوں پر ہم تیرے شکر گزار ہیں۔
35۔ 1 یعنی تجھے سارے حالات کا علم ہے اور بچپن میں جس طرح تو نے ہم پر احسان کئے، اب بھی اپنے احسانات سے ہمیں محروم نہ رکھ۔
(آیت 35){ اِنَّكَ كُنْتَ بِنَا بَصِيْرًا:كُنْتَ “} میں {” كَانَ “} استمرار کے لیے ہے کہ ”بے شک تو ہمیشہ ہمارا نگران اور نگہبان رہا ہے۔“ یعنی جب ہم بچے تھے اس وقت بھی تو نے ہماری پرورش کی اور ہمیں دشمنوں سے محفوظ رکھا، اب بھی تیری اسی رحمت کے وسیلے سے تیری جناب میں درخواست ہے کہ ہماری یہ دعائیں قبول فرما۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ کی صفات اور پہلی نوازشوں کے وسیلے سے دعا کا سبق بھی ہے۔
قَالَ قَدۡ اُوۡتِیۡتَ سُؤۡلَکَ یٰمُوۡسٰی ﴿۳۶﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
فرمایا "دیا گیا جو تو نے مانگا اے موسیٰؑ
مولانا محمد جوناگڑھی
جناب باری تعالیٰ نے فرمایا موسیٰ تیرے تمام سواﻻت پورے کر دیئے گئے
احمد رضا خان بریلوی
فرمایا اے موسیٰ تیری مانگ تجھے عطا ہوئی،
علامہ محمد حسین نجفی
خدا نے فرمایا اے موسیٰ! تمہاری درخواست منظور کر لی گئی ہے۔
عبدالسلام بن محمد
فرمایا بے شک تجھے تیرا سوال عطا کر دیا گیا اے موسیٰ!
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
موسیٰ علیہ السلام کا بچپن ٭٭

حضرت موسیٰ علیہ السلام کی تمام دعائیں قبول ہوئیں اور فرما دیا گیا کہ تمہاری درخواست منظور ہے۔ اس احسان کے ساتھ ہی اور احسان کا بھی ذکر کر دیا گیا کہ ہم نے تجھ پر ایک مرتبہ اور بھی بڑا احسان کیا ہے۔ پھر اس واقعہ کو مختصر طور پر یاد دلایا کہ ہم نے تیرے بچپن کے وقت تیری ماں کی طرف وحی بھیجی جس کا ذکر اب تم سے ہو رہا ہے۔ تم اس وقت دودھ پیتے بچے تھے، تمہاری والدہ کو فرعون اور فرعونیوں کا کھٹکا تھا کیونکہ اس سال وہ بنو اسرائیل کے لڑکوں کو قتل کر رہا تھا۔ اس خوف کے مارے وہ ہر وقت کانپتی رہتی تھیں تو ہم نے وحی کی کہ ایک صندوق بنا لو، دودھ پلا کر بچے کو اس میں لٹا کر دریائے نیل میں اس صندوق کو چھوڑ دو چنانچہ وہ یہی کرتی رہیں۔ ایک رسی اس میں باندھ رکھی تھی جس کا ایک سرا اپنے مکان سے باندھ لیتی تھیں۔ ایک مرتبہ باندھ رہی تھیں جو رسی ہاتھ سے چھوٹ گئی اور صندوق کو پانی کی موجیں بہا لے چلیں۔ اب تو کلیجہ تھام کر رہ گئیں اس قدر غمزدہ ہوئیں کہ صبر ناممکن تھا، شاید راز فاش کر دیتیں لیکن ہم نے دل مضبوط کر دیا۔ صندوق بہتا ہوا فرعون کے محل کے پاس سے گزرا آل فرعون نے اسے اٹھا لیا کہ جس غم سے وہ بچنا چاہتے تھے، جس صدمے سے وہ محفوظ رہنا چاہتے تھے، وہ ان کے سامنے آ جائے۔ جسکی شمع حیات کو بجھانے کے لیے وہ بےگناہ معصوموں کا قتل عام کر رہے تھے، وہ انہی کے تیل سے انہی کے ہاں روشن ہوا اور اللہ کے ارادے بیروک پورے ہو جائیں۔ ان کا دشمن انہی کے ہاتھوں پلے انہی کا کھائے ان کے ہاں تربیت پائے۔

خود فرعون اور اس کی اہلیہ محترمہ نے جب بچے کو دیکھا، رگ رگ میں محبت سما گئی، لے کر پرورش کرنے لگے۔ آنکھوں کا تارا سمجھنے لگے شاہزادوں کی طرح ناز و نعمت سے پلنے لگے شاہی دربار میں رہنے لگے۔ اللہ نے اپنی محبت تجھ پر ڈال دی گو فرعون تیرا دشمن تھا لیکن رب کی بات کون بدلے؟ اللہ کے ارادے کو کون ٹالے؟ فرعون پر ہی کیا منحصر ہے، جو دیکھتا آپ کا والہ و شیدا بن جاتا۔ یہ اس لیے تھا کہ تیری پرورش میری نگاہ کے سامنے ہو، شاہی خوراکیں کھا عزت و وقعت کے ساتھ رہ۔ فرعون والوں نے صندوقچہ اٹھا لیا کھولا بچے کو دیکھا، پالنے کا ارادہ کیا لیکن آپ کسی دایہ کا دودھ دباتے ہی نہیں بلکہ منہ میں ہی نہیں لیتے۔ بہن جو صندوق کو دیکھتی بھالتی کنارے کنارے آ رہی تھی وہ بھی موقعہ پر پہنچ گئیں، کہنے لگیں کہ آپ اگر اس کی پرورش کی تمنا کرتے ہیں اور معقول اجرت بھی دیتے ہیں تو میں ایک گھرانہ بتاؤں جو اسے محبت سے پالے اور خیر خواہانہ برتاؤ کرے۔ سب نے کہا ہم تیار ہیں۔ آپ انہیں لیے ہوئے اپنی والدہ کے پاس پہنچیں، جب بچہ ان کی گود میں ڈال دیا گیا، آپ نے جھٹ سے منہ لگا دودھ پینا شروع کیا۔ جس سے فرعون کے ہاں بڑی خوشیاں منائی گئیں اور بہت کچھ انعام و اکرام دیا گیا۔ تنخواہ مقرر ہو گئی، اپنے ہی بچے کو دودھ پلاتیں اور تنخواہ اور انعام بھی اور عزت و اکرام بھی پاتیں۔ دنیا بھی ملے دین بھی بڑھے۔ اسی لیے حدیث میں آیا ہے کہ { جو شخص اپنے کام کو کرے اور نیک نیتی سے کرے، اس کی مثال ام موسیٰ علیہ السلام کی مثال ہے کہ اپنے ہی بچے کو دودھ پلائے اور اجرت بھی لے۔ } پس یہ بھی ہماری کرم فرمائی ہے کہ ہم نے تجھے تیری ماں کی گود میں واپس کیا کہ اس کی آنکھیں ٹھنڈی رہیں اور غم و رنج جاتا رہے۔ پھر تمہارے ہاتھ سے ایک فرعونی قبطی مار ڈالا گیا تو بھی ہم نے تمہیں بچا لیا، فرعونیوں نے تمہارے قتل کا ارادہ کر لیا تھا، راز فاش ہو چکا تھا۔ تمہیں یہاں سے نجات دی تم بھاگ کھڑے ہوئے۔ مدین کے کنوئیں پر جا کر تم نے دم لیا۔ وہیں ہمارے ایک نیک بندے نے تمہیں بشارت سنائی کہ اب کوئی خوف نہیں ان ظالموں سے تم نے نجات پا لی۔ تجھے ہم نے بطور آزمائش اور بھی بہت سے فتنوں میں ڈالا۔

سعید بن جبیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے اس کی بابت سوال کیا تو آپ نے فرمایا اب تو دن ڈوبنے کو ہے واقعات زیادہ ہیں پھر سہی۔ چنانچہ میں نے دوسری صبح پھر سوال کیا تو آپ نے فرمایا سنو! فرعون کے دربار میں ایک دن اس بات کا ذکر چھڑا کہ اللہ کا وعدہ ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام سے یہ تھا کہ ان کی اولاد میں انبیاء اور بادشاہ ہوں گے۔ چنانچہ بنو اسرائیل اس کے آج تک منتظر ہیں اور انہیں یقین ہے کہ مصر کی سلطنت پھر ان میں جائے گی۔ پہلے تو ان کا خیال تھا کہ یہ وعدہ یوسف علیہ السلام کی بابت تھا لیکن ان کی وفات تک جب کہ یہ وعدہ پورا نہیں ہوا تو وہ اب عقیدہ رکھتے ہیں کہ اللہ ان میں اپنے ایک پیغمبر کو بھیجے گا جن کے ہاتھوں انہیں سلطنت بھی ملے گی اور ان کی قومی و مذہبی ترقی ہو گی۔ ً یہ باتیں کر کے انہوں نے مجلس مشاورت قائم کی کہ اب کیا کیا جائے جس سے آئندہ کے اس خطرے سے محفوظ رہ سکیں۔ آخر اس جلسے میں قرار داد منظور ہوئی کہ پولیس کا ایک محکمہ قائم کیا جائے جو شہر کا گشت لگاتا رہے اور بنی اسرائیل میں جو نرینہ اولاد ہو، اسے اسی وقت سرکار میں پیش کیا جائے اور ذبح کر دیا جائے۔ لیکن جب ایک مدت گزر گئی تو انہیں خیال پیدا ہوا کہ اس طرح تو بنی اسرائیل بالکل فنا ہو جائیں گے اور جو ذلیل خدمتیں ان سے لی جاتی ہیں، جو بیگاریں ان سے وصول ہو رہی ہیں، سب موقوف ہو جائیں گی، اس لیے اب تجویز ہوا کہ ایک سال ان کے بچوں کو چھوڑ دیا جائے اور ایک سال ان کے لڑکے قتل کر دیئے جائیں۔ اس طرح موجودہ بنی اسرائیلیوں کی تعداد بھی نہ بڑھے گی اور نہ اتنی کم ہو جائے گی کہ ہمیں اپنی خدمت گزاری کے لیے بھی نہ مل سکیں۔ جتنے بڈھے دو سال میں مریں گے، اتنے بچے ایک سال میں پیدا ہو جائیں گے۔

جس سال قتل موقوف تھا، اس سال تو ہارون علیہ السلام پیدا ہوئے اور جس سال قتل عام بچوں کا جاری تھا، اس برس موسیٰ علیہ السلام تولد ہوئے۔ آپ کی والدہ کی اس وقت کی گھبراہٹ اور پریشانی کا کیا پوچھنا؟ بے اندازہ تھی۔ ایک فتنہ تو یہ تھا۔ چنانچہ یہ خطرہ اس وقت دفع ہو گیا جب کہ اللہ کی وحی ان کے پاس آئی کہ ڈر خوف نہ کر ہم اسے تیری طرف پھر لوٹائیں گے اور اسے اپنا رسول بنائیں گے۔ چنانچہ بحکم الٰہی آپ نے اپنے بچے کو صندوق میں بند کر کے دریا میں بہا دیا، جب صندوق نظروں سے اوجھل ہو گیا تو شیطان نے دل میں وسوسے ڈالنے شروع کئے کہ افسوس اس سے تو یہی بہتر تھا کہ میرے سامنے ہی اسے ذبح کر دیا جاتا تو میں اسے خود ہی کفناتی دفناتی تو سہی لیکن اب تو میں نے خود اسے مچھلیوں کا شکار بنایا۔ یہ صندوق یونہی بہتا ہوا خاص فرعونی گھاٹ سے جا لگا، وہاں اس وقت محل کی لونڈیاں موجود تھیں، انہوں نے اس صندوق کو اٹھا لیا اور ارادہ کیا کہ کھول کر دیکھیں لیکن پھر ڈر گئیں کہ ایسا نہ ہو کہ چوری کا الزام لگے یونہی مقفل صندوق ملکہ فرعون کے پاس پہنچا دیا۔ یہ صندوق بادشاہ ملکہ کے سامنے کھولا گیا تو اس میں سے چاند جیسی صورت کا ایک چھوٹا سا معصوم بچہ نکلا جسے دیکھتے ہی فرعون کی بیوی صاحبہ کا دل محبت کے جوش سے اچھلنے لگا۔

ادھر ام موسیٰ کی حالت غیر ہو گئی، سوائے اپنے اس پیارے بچے کے خیال کے دل میں اور کوئی تصور ہی نہ تھا۔ ادھر ان قصائیوں کو جو حکومت کی طرف سے بچوں کے قتل کے محکمے کے ملازم تھے، معلوم ہوا تو وہ اپنی چھریاں تیز کئے ہوئے بڑھے اور ملکہ سے تقاضا کیا کہ بچہ انہیں سونپ دیں تاکہ وہ اسے ذبح کر ڈالیں۔ یہ دوسرا فتنہ تھا، آخر ملکہ نے جواب دیا کہ ٹھہرو میں خود بادشاہ سے ملتی ہوں اور اس بچے کو طلب کرتی ہوں، اگر وہ مجھے دے دیں تو خیر ورنہ تمہیں اختیار ہے۔ چنانچہ آپ آئیں اور بادشاہ سے کہا کہ یہ بچہ تو میری اور آپ کی آنکھوں کی ٹھنڈک ثابت ہو گا۔ اس خبیث نے کہا بس تم ہی اس سے اپنی آنکھیں ٹھنڈی رکھو، میری ٹھنڈک وہ کیوں ہونے لگا؟ مجھے اس کی کوئی ضرورت نہیں۔

اللہ تعالٰی کی تدابیر اعلیٰ اور محروم ہدایت فرعون ٭٭

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بہ حلف بیان فرماتے ہیں کہ { اگر وہ بھی کہہ دیتا کہ ہاں بیشک وہ میری آنکھوں کی بھی ٹھنڈک ہے تو اللہ تعالیٰ اسے بھی ضرور راہ راست دکھا دیتا جیسا کہ اس کی بیوی صاحبہ مشرف بہ ہدایت ہوئی لیکن اس نے خود اس سے محروم رہنا چاہا اللہ نے بھی اسے محروم کر دیا۔ } الغرض فرعون کو جوں توں راضی رضامند کر کے اس بچے کے پالنے کی اجازت لے کر آپ آئیں، اب محل کی جتنی دایہ تھیں سب کو جمع کیا ایک ایک کی گود میں بچہ دیا گیا لیکن اللہ تعالیٰ نے سب کا دودھ آپ پر حرام کر دیا، آپ نے کسی کا دودھ منہ میں لیا ہی نہیں۔ اس سے ملکہ گھبرائیں کہ یہ تو بہت ہی برا ہوا، یہ پیارا بچہ یونہی ہلاک ہو جائے گا۔ آخر سوچ کر حکم دیا کہ انہیں باہر لے جاؤ، ادھر ادھر تلاش کرو اور اگر کسی کا دودھ یہ معصوم قبول کرے تو اسے بہ منت سونپ دو۔ باہر بازار میں میلہ سا لگ گیا ہر شخص اس سعادت سے مالا مال ہونا چاہتا تھا لیکن موسیٰ علیہ السلام نے کسی کا دودھ نہ پیا۔ آپ کی والدہ نے اپنی بڑی صاحبزادی آپ کی بہن کو باہر بھیج رکھا تھا کہ وہ دیکھیں کیا ہوتا ہے؟ وہ اس مجمع میں موجود تھیں اور تمام واقعات دیکھ سن رہی تھیں۔ جب یہ لوگ عاجز آ گئے تو آپ نے فرمایا، اگر تم کہو تو میں ایک گھرانہ ایسا بتلاؤں جو اس کی نگہبانی کرے اور ہو بھی اس کا خیرخواہ۔ یہ کہنا تھا کہ لوگوں کو شک ہوا کہ ضرور یہ لڑکی اس بچے کو جانتی ہے اور اس کے گھر کو بھی پہچانتی ہے۔ اے ابن جبیر یہ تھا تیسرا فتنہ۔ لیکن اللہ نے لڑکی کو سمجھ دے دی اور اس نے جھٹ سے کہا کہ بھلا تم اتنا نہیں سمجھے کون بدنصیب ایسا ہو گا جو اس بچے کی خیر خواہی یا پرورش میں کمی کرے جو بچہ ہماری ملکہ کا پیارا ہے۔ کون نہ چاہے گا کہ یہ ہمارے ہاں پلے تاکہ انعام و اکرام سے اس کا گھر بھر جائے۔ یہ سن کر سب کی سمجھ میں آ گیا اسے چھوڑ دیا اور کہا بتا تو کون سی دایہ اس کے لیے تجویز کرتی ہے؟ اس نے کہا میں ابھی لائی، دوڑی ہوئی گئیں اور والدہ کو یہ خوشخبری سنائی۔ والدہ صاحبہ شوق و امید سے آئیں اپنے پیارے بچے کو گود میں لیا، اپنا دودھ منہ میں دیا بچے نے پیٹ بھر کر پیا۔ اسی وقت شاہی محلات میں یہ خوشخبری پہنچائی گئی ملکہ کا حکم ہوا کہ فوراً اس دایہ کو اور بچے کو میرے پاس لاؤ، جب ماں بیٹا پہنچے تو اپنے سامنے دودھ پلوایا اور یہ دیکھ کر کہ بچہ اچھی طرح دودھ پیتا ہے، بہت ہی خوش ہوئیں اور فرمانے لگیں کہ دائی اماں مجھے اس بچے سے وہ محبت ہے جو دنیا کی کسی اور چیز سے نہیں، تم یہیں محل میں رہو اور اس بچے کی پرورش کرو۔

لیکن موسیٰ علیہ السلام کی والدہ صاحبہ کے سامنے اللہ کا وعدہ تھا انہیں یقین کامل تھا اس لیے آپ ذرا رکیں اور فرمایا کہ یہ تو ناممکن ہے کہ میں اپنے گھر کو اور اپنے بچوں کو چھوڑ کر یہاں رہوں۔ اگر آپ چاہتی ہیں تو یہ بچہ میرے سپرد کر دیں میں اسے اپنے گھر لے جاتی ہوں ان کی پرورش میں کوئی کوتاہی نہ کروں گی۔ ملکہ صاحبہ نے مجبوراً اس بات کو بھی مان لیا اور آپ اسی دن خوشی خوشی اپنے بچے کو لیے ہوئے گھر آ گئیں۔ اس بچے کی وجہ سے اس محلے کے بنو اسرائیل بھی فرعونی مظالم سے رہائی پا گئے۔ جب کچھ زمانہ گزر گیا تو بادشاہ بیگم نے حکم بھیجا کہ کسی دن میرے بچے کو میرے پاس لاؤ، ایک دن مقرر ہو گیا، تمام ارکان سلطنت اور درباریوں کو حکم ہوا کہ آج میرا بچہ میرے پاس آئے گا۔ تم سب قدم قدم پر اس کا استقبال کرو اور دھوم دھام سے نذریں دیتے ہوئے اسے میرے محل سرائے تک لاؤ۔ چنانچہ جب سواری روانہ ہوئی، وہاں سے لے کر محل سرائے سلطانی تک برابر تحفے تحائف نذریں اور ہدیے پیشکش ہوتے رہے اور بڑے ہی عزت و اکرام کے ساتھ آپ یہاں پہنچے تو خود بیگم نے بھی خوشی خوشی بہت بڑی رقم پیش کی اور بڑی خوشی منائی گئی۔ پھر کہنے لگی کہ میں تو اسے بادشاہ کے پاس لے جاؤں گی، وہ بھی اسے انعام و اکرام دیں گے، لے گئیں اور بادشاہ کی گود میں لٹا دیا۔ موسیٰ علیہ السلام نے اس کی داڑھی پکڑ کر زور سے گھسیٹی۔ فرعون کھٹک گیا اور اس کے درباریوں نے کہنا شروع کیا کہ کیا عجب یہی وہ لڑکا ہو آپ اسے فوراً قتل کرا دیجئیے۔

اے ابن جبیر یہ تھا چوتھا فتنہ۔ ملکہ بیتاب ہو کر بول اٹھیں، اے بادشاہ کیا ارادہ کر رہے ہو؟ آپ اسے مجھے دے چکے ہیں میں اسے اپنا بیٹا بنا چکی ہوں۔ بادشاہ نے کہا یہ سب ٹھیک ہے لیکن دیکھو تو اس نے تو آتے ہی داڑھی پکڑ کر مجھے نیچا کر دیا گویا یہی میرا گرانے والا اور مجھے تاخت و تاراج کرنے والا ہے۔ بیگم صاحبہ نے فرمایا، بادشاہ بچوں کو ان چیزوں کی کیا تمیز؟ سنو میں ایک فیصلہ کن بات بتاؤں، اس کے سامنے دو انگارے آگ کے سرخ رکھ دو اور دو موتی آبدار چمکتے ہوئے رکھ دو پھر دیکھو یہ کیا اٹھاتا ہے؟ اگر موتی اٹھا لے تو سمجھنا کہ اس میں عقل ہے اور اگر آگ کے انگارے تھام لے تو سمجھ لینا کہ عقل نہیں۔ جب عقل و تمیز نہیں تو اس کی داڑھی پکڑ لینے پر اتنے لمبے خیالات کر کے اس کی جان کا دشمن بن جانا کون سی دانائی کی بات ہے؟ چنانچہ یہی کیا گیا دونوں چیزیں آپ کے سامنے رکھی گئیں۔ آپ نے دہکتے ہوئے انگارے اٹھا لیے اسی وقت وہ چھین لیے کہ ایسا نہ ہو ہاتھ جل جائیں۔ اب فرعون کا غصہ ٹھنڈا ہوا اور اس کا بدلا ہوا رخ ٹھیک ہو گیا۔ حق تو یہ ہے کہ اللہ کو جو کام کرنا مقصود ہوتا ہے، اس کے قدرتی اسباب مہیا ہو ہی جاتے ہیں۔ موسیٰ علیہ السلام کی دربار فرعون میں فرعون کے خاص محل میں فرعون کی بیوی کی گود میں ہی پرورش ہوتی رہی۔ یہاں تک کہ آپ اچھی عمر کو پہنچ گئے اور بالغ ہو گئے۔

اب تو فرعونیوں کے جو مظالم اسرائیلیوں پر ہو رہے تھے، ان میں بھی کمی ہو گئی تھی سب امن و امان سے تھے۔ ایک دن موسیٰ علیہ السلام کہیں جا رہے تھے کہ راستے میں ایک فرعونی اور ایک اسرائیلی کی لڑائی ہو رہی تھی۔ اسرائیلی نے موسیٰ علیہ السلام سے فریاد کی آپ کو سخت غصہ آیا اسلئے کہ اس وقت وہ فرعونی اس بنی اسرائیلی کو دبوچے ہوئے تھا، آپ نے اسے ایک مکا مارا، اللہ کی شان مکا لگتے ہی وہ مر گیا۔ یہ تو لوگوں کو عموماً معلوم تھا کہ موسیٰ علیہ السلام بنی اسرائیلیوں کی طرف داری کرتے ہیں لیکن لوگ اس کی وجہ اب تک یہی سمجھتے تھے کہ چونکہ آپ نے انہی میں دودھ پیا ہے، اس لیے ان کے طرفدار ہیں۔ اصلی راز کا علم تو صرف آپ کی والدہ کو تھا اور ممکن ہے اللہ تعالیٰ نے اپنے کلیم کو بھی معلوم کرا دیا ہو۔ اسے مردہ دیکھتے ہی موسیٰ علیہ السلام کانپ اٹھے کہ یہ تو شیطانی حرکت ہے وہ بہکانے والا اور کھلا دشمن ہے۔

پھر اللہ تعالیٰ سے معافی مانگنے لگے کہ باری تعالیٰ میں نے اپنی جان پر ظلم کیا تو معاف فرما۔ پروردگار نے بھی آپ کی اس خطا سے درگزر فرما لیا وہ تو غفور و رحیم ہے ہی۔ چونکہ قتل کا معاملہ تھا، آپ پھر بھی خوفزدہ ہی رہے، تاک جھانک میں رہے کہ کہیں معاملہ کھل تو نہیں گیا۔ ادھر فرعون کے پاس شکایت ہوئی کہ ایک قبطی کو کسی بنی اسرائیلی نے مار ڈالا ہے، فرعون نے حکم جاری کر دیا کہ واقعہ کی پوری تحقیق کرو قاتل کو تلاش کر کے پکڑ لاؤ اور گواہ بھی پیش کرو اور جرم ثابت ہو جانے کی صورت میں اسے بھی قتل کر دو۔ پولیس نے ہر چند تفتیش کی لیکن قاتل کا کوئی سراغ نہ ملا۔ اتفاق کی بات کہ دوسرے ہی دن موسیٰ علیہ السلام پھر کہیں جا رہے تھے کہ دیکھا وہی بنی اسرائیلی شخص ایک دوسرے فرعونی سے جھگڑ رہا ہے۔ موسیٰ علیہ السلام کو دیکھتے ہی وہ دہائی دینے لگا لیکن اس نے یہ محسوس کیا کہ شاید موسیٰ علیہ السلام اپنے کل کے فعل سے نادم ہیں۔ موسیٰ علیہ السلام کو بھی اس کا یہ باربار کا جھگڑنا اور فریاد کرنا برا معلوم ہوا اور کہا تم تو بڑے لڑاکا ہو، یہ فرما کر اس فرعونی کو پکڑنا چاہا لیکن اس بنی اسرائیلی بزدل نے سمجھا کہ شاید آپ چونکہ مجھ پر ناراض ہیں مجھے ہی پکڑنا چاہتے ہیں۔

حالانکہ اس کا یہ صرف بزدلانہ خیال تھا آپ تو اسی فرعونی کو پکڑنا چاہتے تھے اور اسے بچانا چاہتے تھے لیکن خوف و ہراس کی حالت میں بےساختہ اس کے منہ سے نکل گیا کہ موسیٰ (‏‏‏‏علیہ السلام) جیسے کہ کل تو نے ایک آدمی کو مار ڈالا تھا، کیا آج مجھے مار ڈالنا چاہتا ہے؟ یہ سن کر وہ فرعونی اسے چھوڑ بھاگا، دوڑا گیا اور سرکاری سپاہ کو اس واقعہ کی خبر کر دی۔ فرعون کو بھی قصہ معلوم ہوا۔ اسی وقت جلادوں کو حکم دیا کہ موسیٰ } (‏‏‏‏علیہ السلام) کو پکڑ کر قتل کر دو۔ یہ لوگ شارع عام سے آپ کی جستجو میں چلے۔ ادھر ایک بنی اسرائیلی نے راستہ کاٹ کر نزدیک کے راستے سے آ کر موسیٰ علیہ السلام کو خبر کر دی۔ اے ابن جبیر رحمہ اللہ یہ ہے پانچواں فتنہ۔ موسیٰ علیہ السلام یہ سنتے ہی مٹھیاں بند کرکے مصر سے بھاگ کھڑے ہوئے، نہ کبھی پیدل چلے تھے نہ کبھی کسی مصیبت میں پھنسے تھے، شہزادوں کی طرح لاڈ چاؤ میں پلے تھے، نہ راستے کی خبر تھی نہ کبھی سفر کا اتفاق پڑا تھا۔ رب پر بھروسہ کر کے یہ دعا کر کے کہ اے اللہ مجھے سیدھی راہ لے چلنا، چل کھڑے ہوئے یہاں تک کہ مدین کی حدود میں پہنچے۔

یہاں دیکھا کہ لوگ اپنے جانوروں کو پانی پلا رہے ہیں وہیں دو لڑکیوں کو دیکھا کہ اپنے جانوروں کو روکے کھڑی ہیں۔ پوچھا کہ تم ان کے ساتھ اپنے جانوروں کو پانی کیوں نہیں پلا لیتیں؟ الگ کھڑی ہوئی انہیں کیوں روک رہی ہو؟ انہوں نے جواب دیا کہ اس بھیڑ میں ہمارے بس کی بات نہیں کہ اپنے جانوروں کو پانی پلائیں، ہم تو جب یہ لوگ پانی پلا چکتے ہیں ان کا بقیہ اپنے جانوروں کو پلا دیا کرتی ہیں۔ آپ فوراً آگے بڑھے اور ان کے جانوروں کو پانی پلا دیا۔ چونکہ بہت جلد پانی کھینچا، آپ بہت قوی آدمی تھے، سب سے پہلے ان کے جانوروں کو سیر کر دیا۔ یہ اپنی بکریاں لے کر اپنے گھر روانہ ہوئیں اور آپ ایک درخت کے سائے تلے بیٹھ گئے اور اللہ سے دعا کرنے لگے کہ پروردگار میں تیری تمام تر مہربانیوں کا محتاج ہوں۔ یہ دونوں لڑکیاں جب اپنے والد کے پاس پہنچیں تو انہوں نے کہا، آج کیا بات ہے کہ تم وقت سے پہلے ہی آ گئیں؟ اور بکریاں بھی خوب آسودہ اور شکم سیر معلوم ہوتی ہیں۔ تو ان بچیوں نے سارا واقعہ کہہ سنایا آپ نے حکم دیا کہ تم میں سے ایک ابھی چلی جائے اور انہیں میرے پاس بلا لائے۔ وہ آئیں اور موسیٰ علیہ السلام کو اپنے والد صاحب کے پاس لے گئیں۔ انہوں نے سرسری ملاقات کے بعد واقعہ پوچھا تو آپ نے سارا قصہ کہہ سنایا، اس پر وہ فرمانے لگے اب کوئی ڈر کی بات نہیں آپ ان ظالموں سے چھوٹ گئے۔ ہم لوگ فرعون کی رعایا نہیں نہ ہم پر اس کا کوئی دباؤ ہے۔ اسی وقت ایک لڑکی نے اپنے باپ سے کہا کہ ابا جی انہوں نے ہمارا کام کر دیا ہے اور یہ ہیں بھی قوت والے امانت دار شخص، کیا اچھا ہو کہ آپ انہیں اپنے ہاں مقرر کر لیجئے کہ یہ اجرت پر ہماری بکریاں چرا لایا کریں۔ باپ کو غیرت اور غصہ آ گیا اور پوچھا بیٹی تمہیں یہ کیسے معلوم ہو گیا کہ یہ قوی اور امین ہیں؟ بچی نے جواب دیا کہ قوت تو اس وقت معلوم ہوئی جب انہوں نے ہماری بکریوں کے لیے پانی نکالا اتنے بڑے ڈول کو اکیلے ہی کھینچتے تھے اور بڑی پھرتی اور ہرپن سے۔ امانت داری یوں معلوم ہوئی کہ میری آواز سن کر انہوں نے نظر اونچی کی اور جب یہ معلوم ہو گیا کہ میں عورت ہوں، پھر نیچی گردن کر کے میری باتیں سنتے رہے، واللہ! آپ کا پورا پیغام پہنچانے تک انہوں نے نگاہ اونچی نہیں کی۔ پھر مجھ سے فرمایا کہ تم میرے پیچھے رہو مجھے دور سے راستہ بتا دیا کرنا۔ یہ بھی دلیل ہے ان کی اللہ خوفی اور امانت داری کی۔ باپ کی غیرت و حمیت بھی رہ گئی، بچی کی طرف سے بھی دل صاف ہو گیا اور موسیٰ علیہ السلام کی محبت دل میں سما گئی۔

اب موسیٰ علیہ السلام سے فرمانے لگے، میرا ارادہ ہے کہ اپنی ان دونوں لڑکیوں میں سے ایک کا نکاح آپ کے ساتھ کر دوں اس شرط پر کہ آپ آٹھ سال تک میرے ہاں کام کاج کرتے رہیں، ہاں اگر دس سال تک کریں تو اور بھی اچھا ہے، ان شاءاللہ آپ دیکھ لیں گے کہ میں بھلا آدمی ہوں۔ چنانچہ یہ معاملہ طے ہو گیا اور اللہ کے پیغمبر علیہ السلام نے بجائے آٹھ سال کے دس سال پورے کئے۔ سیدنا سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں پہلے مجھے یہ معلوم نہ تھا اور ایک نصرانی عالم مجھ سے یہ پوچھ بیٹھا تھا تو میں اسے کوئی جواب نہ دے سکا، پھر جب میں نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا اور آپ نے جواب دیا تو میں نے اس سے ذکر کیا، اس نے کہا تمہارے استاد بڑے عالم ہیں۔ میں نے کہا، ہاں ہیں ہی۔ اب موسیٰ علیہ السلام اس مدت کو پوری کر کے اپنی اہلیہ صاحبہ کو لیے ہوئے یہاں سے چلے۔ پھر وہ واقعات ہوئے جن کا ذکر ان آیتوں میں ہے۔ آگ دیکھی، گئے، اللہ سے کلام کیا، لکڑی کا اژدھا بننا، ہاتھ کا نورانی بننا ملاحظہ کیا، نبوت پائی، فرعون کی طرف بھیجے گئے تو قتل کے واقعہ کے بدلے کا اندیشہ ظاہر فرمایا۔ اس سے اطمینان حاصل کر کے زبان کی گرہ کشائی کی طلب کی۔ اس کو حاصل کر کے اپنے بھائی ہارون کی ہمدردی اور شرکت کار چاہی۔ یہ بھی حاصل کر کے لکڑی لیے ہوئے شاہ مصر کی طرف چلے۔

ادھر ہارون علیہ السلام کے پاس وحی پہنچی کہ اپنے بھائی کی موافقت کریں اور ان کا ساتھ دیں۔ دونوں بھائی ملے اور فرعون کے دربار میں پہنچے۔ اطلاع کرائی بڑی دیر میں اجازت ملی، اندر گئے، فرعون پر ظاہر کیا کہ ہم اللہ کے رسول بن کر تیرے پاس آئے ہیں۔ اب جو سوال جواب ہوئے وہ قرآن میں موجود ہیں۔ فرعون نے کہا اچھا تم چاہتے کیا ہو؟ اور واقعہ قتل یاد دلایا جس کا عذر موسیٰ علیہ السلام نے بیان کیا جو قرآن میں موجود ہے اور کہا، ہمارا ارادہ یہ ہے کہ تو ایمان لا اور ہمارے ساتھ بنی اسرائیل کو اپنی غلامی سے رہائی دے۔ اس نے انکار کیا اور کہا کہ اگر سچے ہو تو کوئی معجزہ دکھاؤ، آپ نے اسی وقت اپنی لکڑی زمین پر ڈال دی وہ زمین پر پڑتے ہی ایک زبردست خوفناک اژدھے کی صورت میں منہ پھاڑے کچلیاں نکالے فرعون کی طرف لپکا۔ مارے خوف کے فرعون تخت سے کود گیا اور بھاگتا ہوا عاجزی سے فریاد کرنے لگا کہ موسیٰ (‏‏‏‏علیہ السلام) اللہ کے واسطے اسے پکڑ لو۔ آپ نے ہاتھ لگایا اسی وقت لاٹھی اپنی اصلی حالت میں آ گئی۔ پھر آپ نے اپنا ہاتھ اپنے گریبان میں ڈال کر نکالا تو وہ بغیر کسی مرض کے داغ کے چمکتا ہوا نکلا جسے دیکھ کر وہ حیران ہو گیا، آپ نے پھر ہاتھ ڈال کر نکالا تو وہ اپنی اصلی حالت میں تھا۔ اب فرعون نے اپنے درباریوں کی طرف دیکھ کر کہا کہ تم نے دیکھا، یہ دونوں جادوگر ہیں چاہتے ہیں کہ اپنے جادو کے زور سے تمہیں تمہارے ملک سے نکال باہر کریں اور تمہارے ملک پر قابض ہو کر تمہارے طریقے مٹا دیں۔

پھر موسیٰ علیہ السلام سے کہا کہ ہمیں آپ کی نبوت ماننے سے بھی انکار ہے اور آپ کا کوئی مطالبہ بھی ہم پورا نہیں کر سکتے بلکہ ہم اپنے جادوگروں کو تمہارے مقابلہ کے لیے بلا رہے ہیں جو تمہارے اس جادو پر غالب آ جائیں گے۔ چنانچہ یہ لوگ اپنی کوششوں میں مشغول ہو گئے۔ تمام ملک سے جادوگروں کو بڑی عزت سے بلوایا جب سب جمع ہو گئے تو انہوں نے پوچھا کہ اس کا جادو کس قسم کا ہے؟ فرعون والوں نے کہا لکڑی کا سانپ بنا دیتا ہے۔ انہوں نے کہا، اس میں کیا ہے؟ ہم لکڑیوں کی رسیوں کے وہ سانپ بنائیں گے کہ روئے زمین پر ان کا کوئی مقابلہ نہ کر سکے۔ لیکن ہمارے لیے انعام مقرر ہو جانا چاہیئے۔ فرعون نے ان سے قول و قرار کیا کہ انعام کیسا؟ میں تو تمہیں اپنا مقرب خاص اور درباری بنا لوں گا اور تمہیں نہال نہال کر دونگا جو مانگو گے پاؤ گے۔ چنانچہ انہوں نے اعلان کر دیا کہ عید کے روز دن چڑھے فلاں میدان میں مقابلہ ہو گا۔ مروی ہے کہ ان کی یہ عید عاشورا کے دن تھی۔

اس دن تمام لوگ صبح ہی صبح اس میدان میں پہنچ گئے کہ آج چل کر دیکھیں گے کہ کون غالب آتا ہے؟ ہم تو جادوگروں کے کمالات کے قائل ہیں وہی غالب آئیں گے اور ہم انہی کی مانیں گے۔ مذاق سے اس بات کو بدل کر کہتے تھے کہ چلو انہی دونوں جادوگروں کے مطیع بن جائیں گے اگر وہ غالب رہیں۔ میدان میں آ کر جادوگروں نے انبیاء اللہ علیہم السلام سے کہا کہ لو اب بتاؤ، تم پہلے اپنا جادو ظاہر کرتے ہو یا ہم ہی شروع کریں؟ آپ نے فرمایا تم ہی ابتداء کرو تاکہ تمہارے ارمان پورے ہوں۔ اب انہوں نے اپنی لکڑیاں اور رسیاں میدان میں ڈالیں تو ایسا لگا کہ وہ سب سانپ اور بلائیں بن کر اللہ کے نبیوں کی طرف دوڑیں جس سے خوفزدہ ہو کر آپ پیچھے ہٹنے لگے۔ اس وقت اللہ کی وحی آئی کہ آپ اپنی لکڑی زمین پر ڈال دیجئیے، آپ نے ڈالدی، وہ ایک خوفناک بھیانک عظیم الشان اژدھابن کر ان کی طرف دوڑا یہ لکڑیاں رسیاں سب گڈ مڈ ہو گئیں اور وہ ان سب کو نگل گیا۔ جادوگر سمجھ گئے کہ یہ جادو نہیں یہ تو سچ مچ اللہ کیطرف کا نشان ہے، جادو میں یہ بات کہاں؟ چنانچہ سب نے اپنے ایمان کا اعلان کر دیا کہ ہم موسیٰ کے رب پر ایمان لائے اور ان دونوں بھائیوں کی نبوت ہمیں ت
36۔ 1 اس سے معلوم ہوتا ہے کہ، اللہ تعالیٰ نے زبان کی لکنت کو بھی دور فرما دیا ہوگا۔ اس لئے یہ کہنا صحیح نہیں کہ موسیٰ ؑ نے چونکہ پوری لکنت دور کرنے کی دعا نہیں کی تھی، اس لئے کچھ باقی رہ گئی تھی۔ باقی رہا فرعون کا یہ کہنا (وَّلَایَکَادُ یُبِیْنُ) ' یہ تو صاف بول بھی نہیں سکتا ' یہ ان کی تحقیق گزشتہ کیفیت کے اعتبار سے ہے۔
(آیت 36){قَالَ قَدْ اُوْتِيْتَ …:} یعنی تم نے منہ مانگی مراد پالی اور ہم نے تمھاری ہر درخواست کو منظور فرما لیا۔ سینہ کھل گیا، کام آسان ہو گیا، زبان کی گرہ بھی مکمل یا بقدر ضرورت کھل گئی۔ چنانچہ اس کے بعد ہر جگہ موسیٰ علیہ السلام نے خود ہی فرعون اور جادوگروں سے بحث کی ہے، کہیں ہارون علیہ السلام کا ذکر نہیں آیا او رہارون علیہ السلام کو بھی نبی بنا کر وزیر بنا دیا گیا۔
وَ لَقَدۡ مَنَنَّا عَلَیۡکَ مَرَّۃً اُخۡرٰۤی ﴿ۙ۳۷﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
ہم نے پھر ایک مرتبہ تجھ پر احسان کیا
مولانا محمد جوناگڑھی
ہم نے تو تجھ پرایک بار اور بھی بڑا احسان کیا ہے
احمد رضا خان بریلوی
اور بیشک ہم نے تجھ پر ایک بار اور احسان فرمایا
علامہ محمد حسین نجفی
اور ہم ایک مرتبہ اور بھی تم پر احسان کر چکے ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
اور بلاشبہ یقینا ہم نے تجھ پر ایک اور بار بھی احسان کیا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
موسیٰ علیہ السلام کا بچپن ٭٭

حضرت موسیٰ علیہ السلام کی تمام دعائیں قبول ہوئیں اور فرما دیا گیا کہ تمہاری درخواست منظور ہے۔ اس احسان کے ساتھ ہی اور احسان کا بھی ذکر کر دیا گیا کہ ہم نے تجھ پر ایک مرتبہ اور بھی بڑا احسان کیا ہے۔ پھر اس واقعہ کو مختصر طور پر یاد دلایا کہ ہم نے تیرے بچپن کے وقت تیری ماں کی طرف وحی بھیجی جس کا ذکر اب تم سے ہو رہا ہے۔ تم اس وقت دودھ پیتے بچے تھے، تمہاری والدہ کو فرعون اور فرعونیوں کا کھٹکا تھا کیونکہ اس سال وہ بنو اسرائیل کے لڑکوں کو قتل کر رہا تھا۔ اس خوف کے مارے وہ ہر وقت کانپتی رہتی تھیں تو ہم نے وحی کی کہ ایک صندوق بنا لو، دودھ پلا کر بچے کو اس میں لٹا کر دریائے نیل میں اس صندوق کو چھوڑ دو چنانچہ وہ یہی کرتی رہیں۔ ایک رسی اس میں باندھ رکھی تھی جس کا ایک سرا اپنے مکان سے باندھ لیتی تھیں۔ ایک مرتبہ باندھ رہی تھیں جو رسی ہاتھ سے چھوٹ گئی اور صندوق کو پانی کی موجیں بہا لے چلیں۔ اب تو کلیجہ تھام کر رہ گئیں اس قدر غمزدہ ہوئیں کہ صبر ناممکن تھا، شاید راز فاش کر دیتیں لیکن ہم نے دل مضبوط کر دیا۔ صندوق بہتا ہوا فرعون کے محل کے پاس سے گزرا آل فرعون نے اسے اٹھا لیا کہ جس غم سے وہ بچنا چاہتے تھے، جس صدمے سے وہ محفوظ رہنا چاہتے تھے، وہ ان کے سامنے آ جائے۔ جسکی شمع حیات کو بجھانے کے لیے وہ بےگناہ معصوموں کا قتل عام کر رہے تھے، وہ انہی کے تیل سے انہی کے ہاں روشن ہوا اور اللہ کے ارادے بیروک پورے ہو جائیں۔ ان کا دشمن انہی کے ہاتھوں پلے انہی کا کھائے ان کے ہاں تربیت پائے۔

خود فرعون اور اس کی اہلیہ محترمہ نے جب بچے کو دیکھا، رگ رگ میں محبت سما گئی، لے کر پرورش کرنے لگے۔ آنکھوں کا تارا سمجھنے لگے شاہزادوں کی طرح ناز و نعمت سے پلنے لگے شاہی دربار میں رہنے لگے۔ اللہ نے اپنی محبت تجھ پر ڈال دی گو فرعون تیرا دشمن تھا لیکن رب کی بات کون بدلے؟ اللہ کے ارادے کو کون ٹالے؟ فرعون پر ہی کیا منحصر ہے، جو دیکھتا آپ کا والہ و شیدا بن جاتا۔ یہ اس لیے تھا کہ تیری پرورش میری نگاہ کے سامنے ہو، شاہی خوراکیں کھا عزت و وقعت کے ساتھ رہ۔ فرعون والوں نے صندوقچہ اٹھا لیا کھولا بچے کو دیکھا، پالنے کا ارادہ کیا لیکن آپ کسی دایہ کا دودھ دباتے ہی نہیں بلکہ منہ میں ہی نہیں لیتے۔ بہن جو صندوق کو دیکھتی بھالتی کنارے کنارے آ رہی تھی وہ بھی موقعہ پر پہنچ گئیں، کہنے لگیں کہ آپ اگر اس کی پرورش کی تمنا کرتے ہیں اور معقول اجرت بھی دیتے ہیں تو میں ایک گھرانہ بتاؤں جو اسے محبت سے پالے اور خیر خواہانہ برتاؤ کرے۔ سب نے کہا ہم تیار ہیں۔ آپ انہیں لیے ہوئے اپنی والدہ کے پاس پہنچیں، جب بچہ ان کی گود میں ڈال دیا گیا، آپ نے جھٹ سے منہ لگا دودھ پینا شروع کیا۔ جس سے فرعون کے ہاں بڑی خوشیاں منائی گئیں اور بہت کچھ انعام و اکرام دیا گیا۔ تنخواہ مقرر ہو گئی، اپنے ہی بچے کو دودھ پلاتیں اور تنخواہ اور انعام بھی اور عزت و اکرام بھی پاتیں۔ دنیا بھی ملے دین بھی بڑھے۔ اسی لیے حدیث میں آیا ہے کہ { جو شخص اپنے کام کو کرے اور نیک نیتی سے کرے، اس کی مثال ام موسیٰ علیہ السلام کی مثال ہے کہ اپنے ہی بچے کو دودھ پلائے اور اجرت بھی لے۔ } پس یہ بھی ہماری کرم فرمائی ہے کہ ہم نے تجھے تیری ماں کی گود میں واپس کیا کہ اس کی آنکھیں ٹھنڈی رہیں اور غم و رنج جاتا رہے۔ پھر تمہارے ہاتھ سے ایک فرعونی قبطی مار ڈالا گیا تو بھی ہم نے تمہیں بچا لیا، فرعونیوں نے تمہارے قتل کا ارادہ کر لیا تھا، راز فاش ہو چکا تھا۔ تمہیں یہاں سے نجات دی تم بھاگ کھڑے ہوئے۔ مدین کے کنوئیں پر جا کر تم نے دم لیا۔ وہیں ہمارے ایک نیک بندے نے تمہیں بشارت سنائی کہ اب کوئی خوف نہیں ان ظالموں سے تم نے نجات پا لی۔ تجھے ہم نے بطور آزمائش اور بھی بہت سے فتنوں میں ڈالا۔

سعید بن جبیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے اس کی بابت سوال کیا تو آپ نے فرمایا اب تو دن ڈوبنے کو ہے واقعات زیادہ ہیں پھر سہی۔ چنانچہ میں نے دوسری صبح پھر سوال کیا تو آپ نے فرمایا سنو! فرعون کے دربار میں ایک دن اس بات کا ذکر چھڑا کہ اللہ کا وعدہ ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام سے یہ تھا کہ ان کی اولاد میں انبیاء اور بادشاہ ہوں گے۔ چنانچہ بنو اسرائیل اس کے آج تک منتظر ہیں اور انہیں یقین ہے کہ مصر کی سلطنت پھر ان میں جائے گی۔ پہلے تو ان کا خیال تھا کہ یہ وعدہ یوسف علیہ السلام کی بابت تھا لیکن ان کی وفات تک جب کہ یہ وعدہ پورا نہیں ہوا تو وہ اب عقیدہ رکھتے ہیں کہ اللہ ان میں اپنے ایک پیغمبر کو بھیجے گا جن کے ہاتھوں انہیں سلطنت بھی ملے گی اور ان کی قومی و مذہبی ترقی ہو گی۔ ً یہ باتیں کر کے انہوں نے مجلس مشاورت قائم کی کہ اب کیا کیا جائے جس سے آئندہ کے اس خطرے سے محفوظ رہ سکیں۔ آخر اس جلسے میں قرار داد منظور ہوئی کہ پولیس کا ایک محکمہ قائم کیا جائے جو شہر کا گشت لگاتا رہے اور بنی اسرائیل میں جو نرینہ اولاد ہو، اسے اسی وقت سرکار میں پیش کیا جائے اور ذبح کر دیا جائے۔ لیکن جب ایک مدت گزر گئی تو انہیں خیال پیدا ہوا کہ اس طرح تو بنی اسرائیل بالکل فنا ہو جائیں گے اور جو ذلیل خدمتیں ان سے لی جاتی ہیں، جو بیگاریں ان سے وصول ہو رہی ہیں، سب موقوف ہو جائیں گی، اس لیے اب تجویز ہوا کہ ایک سال ان کے بچوں کو چھوڑ دیا جائے اور ایک سال ان کے لڑکے قتل کر دیئے جائیں۔ اس طرح موجودہ بنی اسرائیلیوں کی تعداد بھی نہ بڑھے گی اور نہ اتنی کم ہو جائے گی کہ ہمیں اپنی خدمت گزاری کے لیے بھی نہ مل سکیں۔ جتنے بڈھے دو سال میں مریں گے، اتنے بچے ایک سال میں پیدا ہو جائیں گے۔

جس سال قتل موقوف تھا، اس سال تو ہارون علیہ السلام پیدا ہوئے اور جس سال قتل عام بچوں کا جاری تھا، اس برس موسیٰ علیہ السلام تولد ہوئے۔ آپ کی والدہ کی اس وقت کی گھبراہٹ اور پریشانی کا کیا پوچھنا؟ بے اندازہ تھی۔ ایک فتنہ تو یہ تھا۔ چنانچہ یہ خطرہ اس وقت دفع ہو گیا جب کہ اللہ کی وحی ان کے پاس آئی کہ ڈر خوف نہ کر ہم اسے تیری طرف پھر لوٹائیں گے اور اسے اپنا رسول بنائیں گے۔ چنانچہ بحکم الٰہی آپ نے اپنے بچے کو صندوق میں بند کر کے دریا میں بہا دیا، جب صندوق نظروں سے اوجھل ہو گیا تو شیطان نے دل میں وسوسے ڈالنے شروع کئے کہ افسوس اس سے تو یہی بہتر تھا کہ میرے سامنے ہی اسے ذبح کر دیا جاتا تو میں اسے خود ہی کفناتی دفناتی تو سہی لیکن اب تو میں نے خود اسے مچھلیوں کا شکار بنایا۔ یہ صندوق یونہی بہتا ہوا خاص فرعونی گھاٹ سے جا لگا، وہاں اس وقت محل کی لونڈیاں موجود تھیں، انہوں نے اس صندوق کو اٹھا لیا اور ارادہ کیا کہ کھول کر دیکھیں لیکن پھر ڈر گئیں کہ ایسا نہ ہو کہ چوری کا الزام لگے یونہی مقفل صندوق ملکہ فرعون کے پاس پہنچا دیا۔ یہ صندوق بادشاہ ملکہ کے سامنے کھولا گیا تو اس میں سے چاند جیسی صورت کا ایک چھوٹا سا معصوم بچہ نکلا جسے دیکھتے ہی فرعون کی بیوی صاحبہ کا دل محبت کے جوش سے اچھلنے لگا۔

ادھر ام موسیٰ کی حالت غیر ہو گئی، سوائے اپنے اس پیارے بچے کے خیال کے دل میں اور کوئی تصور ہی نہ تھا۔ ادھر ان قصائیوں کو جو حکومت کی طرف سے بچوں کے قتل کے محکمے کے ملازم تھے، معلوم ہوا تو وہ اپنی چھریاں تیز کئے ہوئے بڑھے اور ملکہ سے تقاضا کیا کہ بچہ انہیں سونپ دیں تاکہ وہ اسے ذبح کر ڈالیں۔ یہ دوسرا فتنہ تھا، آخر ملکہ نے جواب دیا کہ ٹھہرو میں خود بادشاہ سے ملتی ہوں اور اس بچے کو طلب کرتی ہوں، اگر وہ مجھے دے دیں تو خیر ورنہ تمہیں اختیار ہے۔ چنانچہ آپ آئیں اور بادشاہ سے کہا کہ یہ بچہ تو میری اور آپ کی آنکھوں کی ٹھنڈک ثابت ہو گا۔ اس خبیث نے کہا بس تم ہی اس سے اپنی آنکھیں ٹھنڈی رکھو، میری ٹھنڈک وہ کیوں ہونے لگا؟ مجھے اس کی کوئی ضرورت نہیں۔

اللہ تعالٰی کی تدابیر اعلیٰ اور محروم ہدایت فرعون ٭٭

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بہ حلف بیان فرماتے ہیں کہ { اگر وہ بھی کہہ دیتا کہ ہاں بیشک وہ میری آنکھوں کی بھی ٹھنڈک ہے تو اللہ تعالیٰ اسے بھی ضرور راہ راست دکھا دیتا جیسا کہ اس کی بیوی صاحبہ مشرف بہ ہدایت ہوئی لیکن اس نے خود اس سے محروم رہنا چاہا اللہ نے بھی اسے محروم کر دیا۔ } الغرض فرعون کو جوں توں راضی رضامند کر کے اس بچے کے پالنے کی اجازت لے کر آپ آئیں، اب محل کی جتنی دایہ تھیں سب کو جمع کیا ایک ایک کی گود میں بچہ دیا گیا لیکن اللہ تعالیٰ نے سب کا دودھ آپ پر حرام کر دیا، آپ نے کسی کا دودھ منہ میں لیا ہی نہیں۔ اس سے ملکہ گھبرائیں کہ یہ تو بہت ہی برا ہوا، یہ پیارا بچہ یونہی ہلاک ہو جائے گا۔ آخر سوچ کر حکم دیا کہ انہیں باہر لے جاؤ، ادھر ادھر تلاش کرو اور اگر کسی کا دودھ یہ معصوم قبول کرے تو اسے بہ منت سونپ دو۔ باہر بازار میں میلہ سا لگ گیا ہر شخص اس سعادت سے مالا مال ہونا چاہتا تھا لیکن موسیٰ علیہ السلام نے کسی کا دودھ نہ پیا۔ آپ کی والدہ نے اپنی بڑی صاحبزادی آپ کی بہن کو باہر بھیج رکھا تھا کہ وہ دیکھیں کیا ہوتا ہے؟ وہ اس مجمع میں موجود تھیں اور تمام واقعات دیکھ سن رہی تھیں۔ جب یہ لوگ عاجز آ گئے تو آپ نے فرمایا، اگر تم کہو تو میں ایک گھرانہ ایسا بتلاؤں جو اس کی نگہبانی کرے اور ہو بھی اس کا خیرخواہ۔ یہ کہنا تھا کہ لوگوں کو شک ہوا کہ ضرور یہ لڑکی اس بچے کو جانتی ہے اور اس کے گھر کو بھی پہچانتی ہے۔ اے ابن جبیر یہ تھا تیسرا فتنہ۔ لیکن اللہ نے لڑکی کو سمجھ دے دی اور اس نے جھٹ سے کہا کہ بھلا تم اتنا نہیں سمجھے کون بدنصیب ایسا ہو گا جو اس بچے کی خیر خواہی یا پرورش میں کمی کرے جو بچہ ہماری ملکہ کا پیارا ہے۔ کون نہ چاہے گا کہ یہ ہمارے ہاں پلے تاکہ انعام و اکرام سے اس کا گھر بھر جائے۔ یہ سن کر سب کی سمجھ میں آ گیا اسے چھوڑ دیا اور کہا بتا تو کون سی دایہ اس کے لیے تجویز کرتی ہے؟ اس نے کہا میں ابھی لائی، دوڑی ہوئی گئیں اور والدہ کو یہ خوشخبری سنائی۔ والدہ صاحبہ شوق و امید سے آئیں اپنے پیارے بچے کو گود میں لیا، اپنا دودھ منہ میں دیا بچے نے پیٹ بھر کر پیا۔ اسی وقت شاہی محلات میں یہ خوشخبری پہنچائی گئی ملکہ کا حکم ہوا کہ فوراً اس دایہ کو اور بچے کو میرے پاس لاؤ، جب ماں بیٹا پہنچے تو اپنے سامنے دودھ پلوایا اور یہ دیکھ کر کہ بچہ اچھی طرح دودھ پیتا ہے، بہت ہی خوش ہوئیں اور فرمانے لگیں کہ دائی اماں مجھے اس بچے سے وہ محبت ہے جو دنیا کی کسی اور چیز سے نہیں، تم یہیں محل میں رہو اور اس بچے کی پرورش کرو۔

لیکن موسیٰ علیہ السلام کی والدہ صاحبہ کے سامنے اللہ کا وعدہ تھا انہیں یقین کامل تھا اس لیے آپ ذرا رکیں اور فرمایا کہ یہ تو ناممکن ہے کہ میں اپنے گھر کو اور اپنے بچوں کو چھوڑ کر یہاں رہوں۔ اگر آپ چاہتی ہیں تو یہ بچہ میرے سپرد کر دیں میں اسے اپنے گھر لے جاتی ہوں ان کی پرورش میں کوئی کوتاہی نہ کروں گی۔ ملکہ صاحبہ نے مجبوراً اس بات کو بھی مان لیا اور آپ اسی دن خوشی خوشی اپنے بچے کو لیے ہوئے گھر آ گئیں۔ اس بچے کی وجہ سے اس محلے کے بنو اسرائیل بھی فرعونی مظالم سے رہائی پا گئے۔ جب کچھ زمانہ گزر گیا تو بادشاہ بیگم نے حکم بھیجا کہ کسی دن میرے بچے کو میرے پاس لاؤ، ایک دن مقرر ہو گیا، تمام ارکان سلطنت اور درباریوں کو حکم ہوا کہ آج میرا بچہ میرے پاس آئے گا۔ تم سب قدم قدم پر اس کا استقبال کرو اور دھوم دھام سے نذریں دیتے ہوئے اسے میرے محل سرائے تک لاؤ۔ چنانچہ جب سواری روانہ ہوئی، وہاں سے لے کر محل سرائے سلطانی تک برابر تحفے تحائف نذریں اور ہدیے پیشکش ہوتے رہے اور بڑے ہی عزت و اکرام کے ساتھ آپ یہاں پہنچے تو خود بیگم نے بھی خوشی خوشی بہت بڑی رقم پیش کی اور بڑی خوشی منائی گئی۔ پھر کہنے لگی کہ میں تو اسے بادشاہ کے پاس لے جاؤں گی، وہ بھی اسے انعام و اکرام دیں گے، لے گئیں اور بادشاہ کی گود میں لٹا دیا۔ موسیٰ علیہ السلام نے اس کی داڑھی پکڑ کر زور سے گھسیٹی۔ فرعون کھٹک گیا اور اس کے درباریوں نے کہنا شروع کیا کہ کیا عجب یہی وہ لڑکا ہو آپ اسے فوراً قتل کرا دیجئیے۔

اے ابن جبیر یہ تھا چوتھا فتنہ۔ ملکہ بیتاب ہو کر بول اٹھیں، اے بادشاہ کیا ارادہ کر رہے ہو؟ آپ اسے مجھے دے چکے ہیں میں اسے اپنا بیٹا بنا چکی ہوں۔ بادشاہ نے کہا یہ سب ٹھیک ہے لیکن دیکھو تو اس نے تو آتے ہی داڑھی پکڑ کر مجھے نیچا کر دیا گویا یہی میرا گرانے والا اور مجھے تاخت و تاراج کرنے والا ہے۔ بیگم صاحبہ نے فرمایا، بادشاہ بچوں کو ان چیزوں کی کیا تمیز؟ سنو میں ایک فیصلہ کن بات بتاؤں، اس کے سامنے دو انگارے آگ کے سرخ رکھ دو اور دو موتی آبدار چمکتے ہوئے رکھ دو پھر دیکھو یہ کیا اٹھاتا ہے؟ اگر موتی اٹھا لے تو سمجھنا کہ اس میں عقل ہے اور اگر آگ کے انگارے تھام لے تو سمجھ لینا کہ عقل نہیں۔ جب عقل و تمیز نہیں تو اس کی داڑھی پکڑ لینے پر اتنے لمبے خیالات کر کے اس کی جان کا دشمن بن جانا کون سی دانائی کی بات ہے؟ چنانچہ یہی کیا گیا دونوں چیزیں آپ کے سامنے رکھی گئیں۔ آپ نے دہکتے ہوئے انگارے اٹھا لیے اسی وقت وہ چھین لیے کہ ایسا نہ ہو ہاتھ جل جائیں۔ اب فرعون کا غصہ ٹھنڈا ہوا اور اس کا بدلا ہوا رخ ٹھیک ہو گیا۔ حق تو یہ ہے کہ اللہ کو جو کام کرنا مقصود ہوتا ہے، اس کے قدرتی اسباب مہیا ہو ہی جاتے ہیں۔ موسیٰ علیہ السلام کی دربار فرعون میں فرعون کے خاص محل میں فرعون کی بیوی کی گود میں ہی پرورش ہوتی رہی۔ یہاں تک کہ آپ اچھی عمر کو پہنچ گئے اور بالغ ہو گئے۔

اب تو فرعونیوں کے جو مظالم اسرائیلیوں پر ہو رہے تھے، ان میں بھی کمی ہو گئی تھی سب امن و امان سے تھے۔ ایک دن موسیٰ علیہ السلام کہیں جا رہے تھے کہ راستے میں ایک فرعونی اور ایک اسرائیلی کی لڑائی ہو رہی تھی۔ اسرائیلی نے موسیٰ علیہ السلام سے فریاد کی آپ کو سخت غصہ آیا اسلئے کہ اس وقت وہ فرعونی اس بنی اسرائیلی کو دبوچے ہوئے تھا، آپ نے اسے ایک مکا مارا، اللہ کی شان مکا لگتے ہی وہ مر گیا۔ یہ تو لوگوں کو عموماً معلوم تھا کہ موسیٰ علیہ السلام بنی اسرائیلیوں کی طرف داری کرتے ہیں لیکن لوگ اس کی وجہ اب تک یہی سمجھتے تھے کہ چونکہ آپ نے انہی میں دودھ پیا ہے، اس لیے ان کے طرفدار ہیں۔ اصلی راز کا علم تو صرف آپ کی والدہ کو تھا اور ممکن ہے اللہ تعالیٰ نے اپنے کلیم کو بھی معلوم کرا دیا ہو۔ اسے مردہ دیکھتے ہی موسیٰ علیہ السلام کانپ اٹھے کہ یہ تو شیطانی حرکت ہے وہ بہکانے والا اور کھلا دشمن ہے۔

پھر اللہ تعالیٰ سے معافی مانگنے لگے کہ باری تعالیٰ میں نے اپنی جان پر ظلم کیا تو معاف فرما۔ پروردگار نے بھی آپ کی اس خطا سے درگزر فرما لیا وہ تو غفور و رحیم ہے ہی۔ چونکہ قتل کا معاملہ تھا، آپ پھر بھی خوفزدہ ہی رہے، تاک جھانک میں رہے کہ کہیں معاملہ کھل تو نہیں گیا۔ ادھر فرعون کے پاس شکایت ہوئی کہ ایک قبطی کو کسی بنی اسرائیلی نے مار ڈالا ہے، فرعون نے حکم جاری کر دیا کہ واقعہ کی پوری تحقیق کرو قاتل کو تلاش کر کے پکڑ لاؤ اور گواہ بھی پیش کرو اور جرم ثابت ہو جانے کی صورت میں اسے بھی قتل کر دو۔ پولیس نے ہر چند تفتیش کی لیکن قاتل کا کوئی سراغ نہ ملا۔ اتفاق کی بات کہ دوسرے ہی دن موسیٰ علیہ السلام پھر کہیں جا رہے تھے کہ دیکھا وہی بنی اسرائیلی شخص ایک دوسرے فرعونی سے جھگڑ رہا ہے۔ موسیٰ علیہ السلام کو دیکھتے ہی وہ دہائی دینے لگا لیکن اس نے یہ محسوس کیا کہ شاید موسیٰ علیہ السلام اپنے کل کے فعل سے نادم ہیں۔ موسیٰ علیہ السلام کو بھی اس کا یہ باربار کا جھگڑنا اور فریاد کرنا برا معلوم ہوا اور کہا تم تو بڑے لڑاکا ہو، یہ فرما کر اس فرعونی کو پکڑنا چاہا لیکن اس بنی اسرائیلی بزدل نے سمجھا کہ شاید آپ چونکہ مجھ پر ناراض ہیں مجھے ہی پکڑنا چاہتے ہیں۔

حالانکہ اس کا یہ صرف بزدلانہ خیال تھا آپ تو اسی فرعونی کو پکڑنا چاہتے تھے اور اسے بچانا چاہتے تھے لیکن خوف و ہراس کی حالت میں بےساختہ اس کے منہ سے نکل گیا کہ موسیٰ (‏‏‏‏علیہ السلام) جیسے کہ کل تو نے ایک آدمی کو مار ڈالا تھا، کیا آج مجھے مار ڈالنا چاہتا ہے؟ یہ سن کر وہ فرعونی اسے چھوڑ بھاگا، دوڑا گیا اور سرکاری سپاہ کو اس واقعہ کی خبر کر دی۔ فرعون کو بھی قصہ معلوم ہوا۔ اسی وقت جلادوں کو حکم دیا کہ موسیٰ } (‏‏‏‏علیہ السلام) کو پکڑ کر قتل کر دو۔ یہ لوگ شارع عام سے آپ کی جستجو میں چلے۔ ادھر ایک بنی اسرائیلی نے راستہ کاٹ کر نزدیک کے راستے سے آ کر موسیٰ علیہ السلام کو خبر کر دی۔ اے ابن جبیر رحمہ اللہ یہ ہے پانچواں فتنہ۔ موسیٰ علیہ السلام یہ سنتے ہی مٹھیاں بند کرکے مصر سے بھاگ کھڑے ہوئے، نہ کبھی پیدل چلے تھے نہ کبھی کسی مصیبت میں پھنسے تھے، شہزادوں کی طرح لاڈ چاؤ میں پلے تھے، نہ راستے کی خبر تھی نہ کبھی سفر کا اتفاق پڑا تھا۔ رب پر بھروسہ کر کے یہ دعا کر کے کہ اے اللہ مجھے سیدھی راہ لے چلنا، چل کھڑے ہوئے یہاں تک کہ مدین کی حدود میں پہنچے۔

یہاں دیکھا کہ لوگ اپنے جانوروں کو پانی پلا رہے ہیں وہیں دو لڑکیوں کو دیکھا کہ اپنے جانوروں کو روکے کھڑی ہیں۔ پوچھا کہ تم ان کے ساتھ اپنے جانوروں کو پانی کیوں نہیں پلا لیتیں؟ الگ کھڑی ہوئی انہیں کیوں روک رہی ہو؟ انہوں نے جواب دیا کہ اس بھیڑ میں ہمارے بس کی بات نہیں کہ اپنے جانوروں کو پانی پلائیں، ہم تو جب یہ لوگ پانی پلا چکتے ہیں ان کا بقیہ اپنے جانوروں کو پلا دیا کرتی ہیں۔ آپ فوراً آگے بڑھے اور ان کے جانوروں کو پانی پلا دیا۔ چونکہ بہت جلد پانی کھینچا، آپ بہت قوی آدمی تھے، سب سے پہلے ان کے جانوروں کو سیر کر دیا۔ یہ اپنی بکریاں لے کر اپنے گھر روانہ ہوئیں اور آپ ایک درخت کے سائے تلے بیٹھ گئے اور اللہ سے دعا کرنے لگے کہ پروردگار میں تیری تمام تر مہربانیوں کا محتاج ہوں۔ یہ دونوں لڑکیاں جب اپنے والد کے پاس پہنچیں تو انہوں نے کہا، آج کیا بات ہے کہ تم وقت سے پہلے ہی آ گئیں؟ اور بکریاں بھی خوب آسودہ اور شکم سیر معلوم ہوتی ہیں۔ تو ان بچیوں نے سارا واقعہ کہہ سنایا آپ نے حکم دیا کہ تم میں سے ایک ابھی چلی جائے اور انہیں میرے پاس بلا لائے۔ وہ آئیں اور موسیٰ علیہ السلام کو اپنے والد صاحب کے پاس لے گئیں۔ انہوں نے سرسری ملاقات کے بعد واقعہ پوچھا تو آپ نے سارا قصہ کہہ سنایا، اس پر وہ فرمانے لگے اب کوئی ڈر کی بات نہیں آپ ان ظالموں سے چھوٹ گئے۔ ہم لوگ فرعون کی رعایا نہیں نہ ہم پر اس کا کوئی دباؤ ہے۔ اسی وقت ایک لڑکی نے اپنے باپ سے کہا کہ ابا جی انہوں نے ہمارا کام کر دیا ہے اور یہ ہیں بھی قوت والے امانت دار شخص، کیا اچھا ہو کہ آپ انہیں اپنے ہاں مقرر کر لیجئے کہ یہ اجرت پر ہماری بکریاں چرا لایا کریں۔ باپ کو غیرت اور غصہ آ گیا اور پوچھا بیٹی تمہیں یہ کیسے معلوم ہو گیا کہ یہ قوی اور امین ہیں؟ بچی نے جواب دیا کہ قوت تو اس وقت معلوم ہوئی جب انہوں نے ہماری بکریوں کے لیے پانی نکالا اتنے بڑے ڈول کو اکیلے ہی کھینچتے تھے اور بڑی پھرتی اور ہرپن سے۔ امانت داری یوں معلوم ہوئی کہ میری آواز سن کر انہوں نے نظر اونچی کی اور جب یہ معلوم ہو گیا کہ میں عورت ہوں، پھر نیچی گردن کر کے میری باتیں سنتے رہے، واللہ! آپ کا پورا پیغام پہنچانے تک انہوں نے نگاہ اونچی نہیں کی۔ پھر مجھ سے فرمایا کہ تم میرے پیچھے رہو مجھے دور سے راستہ بتا دیا کرنا۔ یہ بھی دلیل ہے ان کی اللہ خوفی اور امانت داری کی۔ باپ کی غیرت و حمیت بھی رہ گئی، بچی کی طرف سے بھی دل صاف ہو گیا اور موسیٰ علیہ السلام کی محبت دل میں سما گئی۔

اب موسیٰ علیہ السلام سے فرمانے لگے، میرا ارادہ ہے کہ اپنی ان دونوں لڑکیوں میں سے ایک کا نکاح آپ کے ساتھ کر دوں اس شرط پر کہ آپ آٹھ سال تک میرے ہاں کام کاج کرتے رہیں، ہاں اگر دس سال تک کریں تو اور بھی اچھا ہے، ان شاءاللہ آپ دیکھ لیں گے کہ میں بھلا آدمی ہوں۔ چنانچہ یہ معاملہ طے ہو گیا اور اللہ کے پیغمبر علیہ السلام نے بجائے آٹھ سال کے دس سال پورے کئے۔ سیدنا سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں پہلے مجھے یہ معلوم نہ تھا اور ایک نصرانی عالم مجھ سے یہ پوچھ بیٹھا تھا تو میں اسے کوئی جواب نہ دے سکا، پھر جب میں نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا اور آپ نے جواب دیا تو میں نے اس سے ذکر کیا، اس نے کہا تمہارے استاد بڑے عالم ہیں۔ میں نے کہا، ہاں ہیں ہی۔ اب موسیٰ علیہ السلام اس مدت کو پوری کر کے اپنی اہلیہ صاحبہ کو لیے ہوئے یہاں سے چلے۔ پھر وہ واقعات ہوئے جن کا ذکر ان آیتوں میں ہے۔ آگ دیکھی، گئے، اللہ سے کلام کیا، لکڑی کا اژدھا بننا، ہاتھ کا نورانی بننا ملاحظہ کیا، نبوت پائی، فرعون کی طرف بھیجے گئے تو قتل کے واقعہ کے بدلے کا اندیشہ ظاہر فرمایا۔ اس سے اطمینان حاصل کر کے زبان کی گرہ کشائی کی طلب کی۔ اس کو حاصل کر کے اپنے بھائی ہارون کی ہمدردی اور شرکت کار چاہی۔ یہ بھی حاصل کر کے لکڑی لیے ہوئے شاہ مصر کی طرف چلے۔

ادھر ہارون علیہ السلام کے پاس وحی پہنچی کہ اپنے بھائی کی موافقت کریں اور ان کا ساتھ دیں۔ دونوں بھائی ملے اور فرعون کے دربار میں پہنچے۔ اطلاع کرائی بڑی دیر میں اجازت ملی، اندر گئے، فرعون پر ظاہر کیا کہ ہم اللہ کے رسول بن کر تیرے پاس آئے ہیں۔ اب جو سوال جواب ہوئے وہ قرآن میں موجود ہیں۔ فرعون نے کہا اچھا تم چاہتے کیا ہو؟ اور واقعہ قتل یاد دلایا جس کا عذر موسیٰ علیہ السلام نے بیان کیا جو قرآن میں موجود ہے اور کہا، ہمارا ارادہ یہ ہے کہ تو ایمان لا اور ہمارے ساتھ بنی اسرائیل کو اپنی غلامی سے رہائی دے۔ اس نے انکار کیا اور کہا کہ اگر سچے ہو تو کوئی معجزہ دکھاؤ، آپ نے اسی وقت اپنی لکڑی زمین پر ڈال دی وہ زمین پر پڑتے ہی ایک زبردست خوفناک اژدھے کی صورت میں منہ پھاڑے کچلیاں نکالے فرعون کی طرف لپکا۔ مارے خوف کے فرعون تخت سے کود گیا اور بھاگتا ہوا عاجزی سے فریاد کرنے لگا کہ موسیٰ (‏‏‏‏علیہ السلام) اللہ کے واسطے اسے پکڑ لو۔ آپ نے ہاتھ لگایا اسی وقت لاٹھی اپنی اصلی حالت میں آ گئی۔ پھر آپ نے اپنا ہاتھ اپنے گریبان میں ڈال کر نکالا تو وہ بغیر کسی مرض کے داغ کے چمکتا ہوا نکلا جسے دیکھ کر وہ حیران ہو گیا، آپ نے پھر ہاتھ ڈال کر نکالا تو وہ اپنی اصلی حالت میں تھا۔ اب فرعون نے اپنے درباریوں کی طرف دیکھ کر کہا کہ تم نے دیکھا، یہ دونوں جادوگر ہیں چاہتے ہیں کہ اپنے جادو کے زور سے تمہیں تمہارے ملک سے نکال باہر کریں اور تمہارے ملک پر قابض ہو کر تمہارے طریقے مٹا دیں۔

پھر موسیٰ علیہ السلام سے کہا کہ ہمیں آپ کی نبوت ماننے سے بھی انکار ہے اور آپ کا کوئی مطالبہ بھی ہم پورا نہیں کر سکتے بلکہ ہم اپنے جادوگروں کو تمہارے مقابلہ کے لیے بلا رہے ہیں جو تمہارے اس جادو پر غالب آ جائیں گے۔ چنانچہ یہ لوگ اپنی کوششوں میں مشغول ہو گئے۔ تمام ملک سے جادوگروں کو بڑی عزت سے بلوایا جب سب جمع ہو گئے تو انہوں نے پوچھا کہ اس کا جادو کس قسم کا ہے؟ فرعون والوں نے کہا لکڑی کا سانپ بنا دیتا ہے۔ انہوں نے کہا، اس میں کیا ہے؟ ہم لکڑیوں کی رسیوں کے وہ سانپ بنائیں گے کہ روئے زمین پر ان کا کوئی مقابلہ نہ کر سکے۔ لیکن ہمارے لیے انعام مقرر ہو جانا چاہیئے۔ فرعون نے ان سے قول و قرار کیا کہ انعام کیسا؟ میں تو تمہیں اپنا مقرب خاص اور درباری بنا لوں گا اور تمہیں نہال نہال کر دونگا جو مانگو گے پاؤ گے۔ چنانچہ انہوں نے اعلان کر دیا کہ عید کے روز دن چڑھے فلاں میدان میں مقابلہ ہو گا۔ مروی ہے کہ ان کی یہ عید عاشورا کے دن تھی۔

اس دن تمام لوگ صبح ہی صبح اس میدان میں پہنچ گئے کہ آج چل کر دیکھیں گے کہ کون غالب آتا ہے؟ ہم تو جادوگروں کے کمالات کے قائل ہیں وہی غالب آئیں گے اور ہم انہی کی مانیں گے۔ مذاق سے اس بات کو بدل کر کہتے تھے کہ چلو انہی دونوں جادوگروں کے مطیع بن جائیں گے اگر وہ غالب رہیں۔ میدان میں آ کر جادوگروں نے انبیاء اللہ علیہم السلام سے کہا کہ لو اب بتاؤ، تم پہلے اپنا جادو ظاہر کرتے ہو یا ہم ہی شروع کریں؟ آپ نے فرمایا تم ہی ابتداء کرو تاکہ تمہارے ارمان پورے ہوں۔ اب انہوں نے اپنی لکڑیاں اور رسیاں میدان میں ڈالیں تو ایسا لگا کہ وہ سب سانپ اور بلائیں بن کر اللہ کے نبیوں کی طرف دوڑیں جس سے خوفزدہ ہو کر آپ پیچھے ہٹنے لگے۔ اس وقت اللہ کی وحی آئی کہ آپ اپنی لکڑی زمین پر ڈال دیجئیے، آپ نے ڈالدی، وہ ایک خوفناک بھیانک عظیم الشان اژدھابن کر ان کی طرف دوڑا یہ لکڑیاں رسیاں سب گڈ مڈ ہو گئیں اور وہ ان سب کو نگل گیا۔ جادوگر سمجھ گئے کہ یہ جادو نہیں یہ تو سچ مچ اللہ کیطرف کا نشان ہے، جادو میں یہ بات کہاں؟ چنانچہ سب نے اپنے ایمان کا اعلان کر دیا کہ ہم موسیٰ کے رب پر ایمان لائے اور ان دونوں بھائیوں کی نبوت ہمیں ت
37۔ 1 قبولیت دعا کی خوشخبری کے ساتھ مزید تسلی اور حوصلے کے لئے اللہ تعالیٰ بچپن کے اس احسان کا ذکر فرما رہا ہے، جب موسیٰ ؑ کی ماں نے قتل کے اندیشے سے اللہ کے حکم سے، جب وہ شیر خوار بچے تھے تابوت میں ڈل کر دریا کے سپرد کردیا تھا
(آیت 37){ وَ لَقَدْ مَنَنَّا عَلَيْكَ مَرَّةً اُخْرٰۤى:} اللہ تعالیٰ سے ہم کلامی، نبوت و رسالت کے منصب پر فائز ہونے، عصا و ید بیضا کے معجزے عطا ہونے، ان کا آنکھوں سے مشاہدہ کرنے اور اس موقع پر کی ہوئی چاروں دعاؤں کی قبولیت میں سے ہر ایک عظیم احسان تھا۔ اب اللہ تعالیٰ نے ان سے پہلے کیے گئے آٹھ احسانات کا ذکر فرمایا۔ مقصد یہ کہ میں نے تم پر پہلے بھی احسان کیے، اب بھی کیے اور آئندہ بھی کرتا رہوں گا، کیونکہ میں نے تمھیں بنایا ہی خاص اپنے لیے ہے، فرمایا: «{ وَ اصْطَنَعْتُكَ لِنَفْسِيْ }» [ طٰہٰ: ۴۱ ] ”اور میں نے تجھے اپنے لیے خاص طور پر بنایا ہے۔“ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو آئندہ کے وعدے کا یقین دلانے کے لیے پچھلے احسانات یاد دلائے، فرمایا: «{ وَ لَسَوْفَ يُعْطِيْكَ رَبُّكَ فَتَرْضٰى (5) اَلَمْ يَجِدْكَ يَتِيْمًا فَاٰوٰى (6) وَ وَجَدَكَ ضَآلًّا فَهَدٰى (7) وَ وَجَدَكَ عَآىِٕلًا فَاَغْنٰى}» [ الضحیٰ: ۵ تا ۸ ] ”اور یقینا عنقریب تیرا رب تجھے عطا کرے گا، پس تو راضی ہو جائے گا۔ کیا اس نے تجھے یتیم نہیں پایا، پس جگہ دی اور اس نے تجھے راستے سے ناواقف پایا تو راستہ دکھا دیا اور اس نے تجھے تنگدست پایا تو غنی کر دیا۔“ (ابن عاشور) ”اور بلاشبہ یقینا ہم نے تجھ پر ایک اور بار بھی احسان کیا“ اس میں احسان کو مجمل رکھا ہے، تاکہ شوق پیدا ہو کہ وہ کیا احسان تھا، پھر چار آیات (۳۸ تا ۴۱) میں پے در پے آٹھ احسان ذکر فرمائے: (1) {”اِذْ اَوْحَيْنَاۤ اِلٰۤى اُمِّكَ مَا يُوْحٰۤى “} (2) {” وَ اَلْقَيْتُ عَلَيْكَ مَحَبَّةً مِّنِّيْ “} (3) {” وَ لِتُصْنَعَ عَلٰى عَيْنِيْ “} (4) {” فَرَجَعْنٰكَ اِلٰۤى اُمِّكَ كَيْ تَقَرَّ عَيْنُهَا وَ لَا تَحْزَنَ “} (5) {” وَ قَتَلْتَ نَفْسًا فَنَجَّيْنٰكَ مِنَ الْغَمِّ “} (6) {” وَ فَتَنّٰكَ فُتُوْنًا “} (7) {” فَلَبِثْتَ سِنِيْنَ فِيْۤ اَهْلِ مَدْيَنَ ثُمَّ جِئْتَ عَلٰى قَدَرٍ يّٰمُوْسٰى “} (8) {” وَ اصْطَنَعْتُكَ لِنَفْسِيْ “}
اِذۡ اَوۡحَیۡنَاۤ اِلٰۤی اُمِّکَ مَا یُوۡحٰۤی ﴿ۙ۳۸﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
یاد کر وہ وقت جبکہ ہم نے تیری ماں کو اشارہ کیا ایسا اشارہ جو وحی کے ذریعہ سے ہی کیا جاتا ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
جبکہ ہم نے تیری ماں کو وه الہام کیا جس کا ذکر اب کیا جا رہا ہے
احمد رضا خان بریلوی
جب ہم نے تیری ماں کو الہام کیا جو الہام کرنا تھا
علامہ محمد حسین نجفی
جب ہم نے تمہاری ماں کی طرف وحی بھیجی جو بھیجنا تھی (جو اب بذریعہ وحی تمہیں بتائی جا رہی ہے)۔
عبدالسلام بن محمد
جب ہم نے تیری ماں کو وحی کی، جو وحی کی جاتی تھی۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
موسیٰ علیہ السلام کا بچپن ٭٭

حضرت موسیٰ علیہ السلام کی تمام دعائیں قبول ہوئیں اور فرما دیا گیا کہ تمہاری درخواست منظور ہے۔ اس احسان کے ساتھ ہی اور احسان کا بھی ذکر کر دیا گیا کہ ہم نے تجھ پر ایک مرتبہ اور بھی بڑا احسان کیا ہے۔ پھر اس واقعہ کو مختصر طور پر یاد دلایا کہ ہم نے تیرے بچپن کے وقت تیری ماں کی طرف وحی بھیجی جس کا ذکر اب تم سے ہو رہا ہے۔ تم اس وقت دودھ پیتے بچے تھے، تمہاری والدہ کو فرعون اور فرعونیوں کا کھٹکا تھا کیونکہ اس سال وہ بنو اسرائیل کے لڑکوں کو قتل کر رہا تھا۔ اس خوف کے مارے وہ ہر وقت کانپتی رہتی تھیں تو ہم نے وحی کی کہ ایک صندوق بنا لو، دودھ پلا کر بچے کو اس میں لٹا کر دریائے نیل میں اس صندوق کو چھوڑ دو چنانچہ وہ یہی کرتی رہیں۔ ایک رسی اس میں باندھ رکھی تھی جس کا ایک سرا اپنے مکان سے باندھ لیتی تھیں۔ ایک مرتبہ باندھ رہی تھیں جو رسی ہاتھ سے چھوٹ گئی اور صندوق کو پانی کی موجیں بہا لے چلیں۔ اب تو کلیجہ تھام کر رہ گئیں اس قدر غمزدہ ہوئیں کہ صبر ناممکن تھا، شاید راز فاش کر دیتیں لیکن ہم نے دل مضبوط کر دیا۔ صندوق بہتا ہوا فرعون کے محل کے پاس سے گزرا آل فرعون نے اسے اٹھا لیا کہ جس غم سے وہ بچنا چاہتے تھے، جس صدمے سے وہ محفوظ رہنا چاہتے تھے، وہ ان کے سامنے آ جائے۔ جسکی شمع حیات کو بجھانے کے لیے وہ بےگناہ معصوموں کا قتل عام کر رہے تھے، وہ انہی کے تیل سے انہی کے ہاں روشن ہوا اور اللہ کے ارادے بیروک پورے ہو جائیں۔ ان کا دشمن انہی کے ہاتھوں پلے انہی کا کھائے ان کے ہاں تربیت پائے۔

خود فرعون اور اس کی اہلیہ محترمہ نے جب بچے کو دیکھا، رگ رگ میں محبت سما گئی، لے کر پرورش کرنے لگے۔ آنکھوں کا تارا سمجھنے لگے شاہزادوں کی طرح ناز و نعمت سے پلنے لگے شاہی دربار میں رہنے لگے۔ اللہ نے اپنی محبت تجھ پر ڈال دی گو فرعون تیرا دشمن تھا لیکن رب کی بات کون بدلے؟ اللہ کے ارادے کو کون ٹالے؟ فرعون پر ہی کیا منحصر ہے، جو دیکھتا آپ کا والہ و شیدا بن جاتا۔ یہ اس لیے تھا کہ تیری پرورش میری نگاہ کے سامنے ہو، شاہی خوراکیں کھا عزت و وقعت کے ساتھ رہ۔ فرعون والوں نے صندوقچہ اٹھا لیا کھولا بچے کو دیکھا، پالنے کا ارادہ کیا لیکن آپ کسی دایہ کا دودھ دباتے ہی نہیں بلکہ منہ میں ہی نہیں لیتے۔ بہن جو صندوق کو دیکھتی بھالتی کنارے کنارے آ رہی تھی وہ بھی موقعہ پر پہنچ گئیں، کہنے لگیں کہ آپ اگر اس کی پرورش کی تمنا کرتے ہیں اور معقول اجرت بھی دیتے ہیں تو میں ایک گھرانہ بتاؤں جو اسے محبت سے پالے اور خیر خواہانہ برتاؤ کرے۔ سب نے کہا ہم تیار ہیں۔ آپ انہیں لیے ہوئے اپنی والدہ کے پاس پہنچیں، جب بچہ ان کی گود میں ڈال دیا گیا، آپ نے جھٹ سے منہ لگا دودھ پینا شروع کیا۔ جس سے فرعون کے ہاں بڑی خوشیاں منائی گئیں اور بہت کچھ انعام و اکرام دیا گیا۔ تنخواہ مقرر ہو گئی، اپنے ہی بچے کو دودھ پلاتیں اور تنخواہ اور انعام بھی اور عزت و اکرام بھی پاتیں۔ دنیا بھی ملے دین بھی بڑھے۔ اسی لیے حدیث میں آیا ہے کہ { جو شخص اپنے کام کو کرے اور نیک نیتی سے کرے، اس کی مثال ام موسیٰ علیہ السلام کی مثال ہے کہ اپنے ہی بچے کو دودھ پلائے اور اجرت بھی لے۔ } پس یہ بھی ہماری کرم فرمائی ہے کہ ہم نے تجھے تیری ماں کی گود میں واپس کیا کہ اس کی آنکھیں ٹھنڈی رہیں اور غم و رنج جاتا رہے۔ پھر تمہارے ہاتھ سے ایک فرعونی قبطی مار ڈالا گیا تو بھی ہم نے تمہیں بچا لیا، فرعونیوں نے تمہارے قتل کا ارادہ کر لیا تھا، راز فاش ہو چکا تھا۔ تمہیں یہاں سے نجات دی تم بھاگ کھڑے ہوئے۔ مدین کے کنوئیں پر جا کر تم نے دم لیا۔ وہیں ہمارے ایک نیک بندے نے تمہیں بشارت سنائی کہ اب کوئی خوف نہیں ان ظالموں سے تم نے نجات پا لی۔ تجھے ہم نے بطور آزمائش اور بھی بہت سے فتنوں میں ڈالا۔

سعید بن جبیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے اس کی بابت سوال کیا تو آپ نے فرمایا اب تو دن ڈوبنے کو ہے واقعات زیادہ ہیں پھر سہی۔ چنانچہ میں نے دوسری صبح پھر سوال کیا تو آپ نے فرمایا سنو! فرعون کے دربار میں ایک دن اس بات کا ذکر چھڑا کہ اللہ کا وعدہ ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام سے یہ تھا کہ ان کی اولاد میں انبیاء اور بادشاہ ہوں گے۔ چنانچہ بنو اسرائیل اس کے آج تک منتظر ہیں اور انہیں یقین ہے کہ مصر کی سلطنت پھر ان میں جائے گی۔ پہلے تو ان کا خیال تھا کہ یہ وعدہ یوسف علیہ السلام کی بابت تھا لیکن ان کی وفات تک جب کہ یہ وعدہ پورا نہیں ہوا تو وہ اب عقیدہ رکھتے ہیں کہ اللہ ان میں اپنے ایک پیغمبر کو بھیجے گا جن کے ہاتھوں انہیں سلطنت بھی ملے گی اور ان کی قومی و مذہبی ترقی ہو گی۔ ً یہ باتیں کر کے انہوں نے مجلس مشاورت قائم کی کہ اب کیا کیا جائے جس سے آئندہ کے اس خطرے سے محفوظ رہ سکیں۔ آخر اس جلسے میں قرار داد منظور ہوئی کہ پولیس کا ایک محکمہ قائم کیا جائے جو شہر کا گشت لگاتا رہے اور بنی اسرائیل میں جو نرینہ اولاد ہو، اسے اسی وقت سرکار میں پیش کیا جائے اور ذبح کر دیا جائے۔ لیکن جب ایک مدت گزر گئی تو انہیں خیال پیدا ہوا کہ اس طرح تو بنی اسرائیل بالکل فنا ہو جائیں گے اور جو ذلیل خدمتیں ان سے لی جاتی ہیں، جو بیگاریں ان سے وصول ہو رہی ہیں، سب موقوف ہو جائیں گی، اس لیے اب تجویز ہوا کہ ایک سال ان کے بچوں کو چھوڑ دیا جائے اور ایک سال ان کے لڑکے قتل کر دیئے جائیں۔ اس طرح موجودہ بنی اسرائیلیوں کی تعداد بھی نہ بڑھے گی اور نہ اتنی کم ہو جائے گی کہ ہمیں اپنی خدمت گزاری کے لیے بھی نہ مل سکیں۔ جتنے بڈھے دو سال میں مریں گے، اتنے بچے ایک سال میں پیدا ہو جائیں گے۔

جس سال قتل موقوف تھا، اس سال تو ہارون علیہ السلام پیدا ہوئے اور جس سال قتل عام بچوں کا جاری تھا، اس برس موسیٰ علیہ السلام تولد ہوئے۔ آپ کی والدہ کی اس وقت کی گھبراہٹ اور پریشانی کا کیا پوچھنا؟ بے اندازہ تھی۔ ایک فتنہ تو یہ تھا۔ چنانچہ یہ خطرہ اس وقت دفع ہو گیا جب کہ اللہ کی وحی ان کے پاس آئی کہ ڈر خوف نہ کر ہم اسے تیری طرف پھر لوٹائیں گے اور اسے اپنا رسول بنائیں گے۔ چنانچہ بحکم الٰہی آپ نے اپنے بچے کو صندوق میں بند کر کے دریا میں بہا دیا، جب صندوق نظروں سے اوجھل ہو گیا تو شیطان نے دل میں وسوسے ڈالنے شروع کئے کہ افسوس اس سے تو یہی بہتر تھا کہ میرے سامنے ہی اسے ذبح کر دیا جاتا تو میں اسے خود ہی کفناتی دفناتی تو سہی لیکن اب تو میں نے خود اسے مچھلیوں کا شکار بنایا۔ یہ صندوق یونہی بہتا ہوا خاص فرعونی گھاٹ سے جا لگا، وہاں اس وقت محل کی لونڈیاں موجود تھیں، انہوں نے اس صندوق کو اٹھا لیا اور ارادہ کیا کہ کھول کر دیکھیں لیکن پھر ڈر گئیں کہ ایسا نہ ہو کہ چوری کا الزام لگے یونہی مقفل صندوق ملکہ فرعون کے پاس پہنچا دیا۔ یہ صندوق بادشاہ ملکہ کے سامنے کھولا گیا تو اس میں سے چاند جیسی صورت کا ایک چھوٹا سا معصوم بچہ نکلا جسے دیکھتے ہی فرعون کی بیوی صاحبہ کا دل محبت کے جوش سے اچھلنے لگا۔

ادھر ام موسیٰ کی حالت غیر ہو گئی، سوائے اپنے اس پیارے بچے کے خیال کے دل میں اور کوئی تصور ہی نہ تھا۔ ادھر ان قصائیوں کو جو حکومت کی طرف سے بچوں کے قتل کے محکمے کے ملازم تھے، معلوم ہوا تو وہ اپنی چھریاں تیز کئے ہوئے بڑھے اور ملکہ سے تقاضا کیا کہ بچہ انہیں سونپ دیں تاکہ وہ اسے ذبح کر ڈالیں۔ یہ دوسرا فتنہ تھا، آخر ملکہ نے جواب دیا کہ ٹھہرو میں خود بادشاہ سے ملتی ہوں اور اس بچے کو طلب کرتی ہوں، اگر وہ مجھے دے دیں تو خیر ورنہ تمہیں اختیار ہے۔ چنانچہ آپ آئیں اور بادشاہ سے کہا کہ یہ بچہ تو میری اور آپ کی آنکھوں کی ٹھنڈک ثابت ہو گا۔ اس خبیث نے کہا بس تم ہی اس سے اپنی آنکھیں ٹھنڈی رکھو، میری ٹھنڈک وہ کیوں ہونے لگا؟ مجھے اس کی کوئی ضرورت نہیں۔

اللہ تعالٰی کی تدابیر اعلیٰ اور محروم ہدایت فرعون ٭٭

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بہ حلف بیان فرماتے ہیں کہ { اگر وہ بھی کہہ دیتا کہ ہاں بیشک وہ میری آنکھوں کی بھی ٹھنڈک ہے تو اللہ تعالیٰ اسے بھی ضرور راہ راست دکھا دیتا جیسا کہ اس کی بیوی صاحبہ مشرف بہ ہدایت ہوئی لیکن اس نے خود اس سے محروم رہنا چاہا اللہ نے بھی اسے محروم کر دیا۔ } الغرض فرعون کو جوں توں راضی رضامند کر کے اس بچے کے پالنے کی اجازت لے کر آپ آئیں، اب محل کی جتنی دایہ تھیں سب کو جمع کیا ایک ایک کی گود میں بچہ دیا گیا لیکن اللہ تعالیٰ نے سب کا دودھ آپ پر حرام کر دیا، آپ نے کسی کا دودھ منہ میں لیا ہی نہیں۔ اس سے ملکہ گھبرائیں کہ یہ تو بہت ہی برا ہوا، یہ پیارا بچہ یونہی ہلاک ہو جائے گا۔ آخر سوچ کر حکم دیا کہ انہیں باہر لے جاؤ، ادھر ادھر تلاش کرو اور اگر کسی کا دودھ یہ معصوم قبول کرے تو اسے بہ منت سونپ دو۔ باہر بازار میں میلہ سا لگ گیا ہر شخص اس سعادت سے مالا مال ہونا چاہتا تھا لیکن موسیٰ علیہ السلام نے کسی کا دودھ نہ پیا۔ آپ کی والدہ نے اپنی بڑی صاحبزادی آپ کی بہن کو باہر بھیج رکھا تھا کہ وہ دیکھیں کیا ہوتا ہے؟ وہ اس مجمع میں موجود تھیں اور تمام واقعات دیکھ سن رہی تھیں۔ جب یہ لوگ عاجز آ گئے تو آپ نے فرمایا، اگر تم کہو تو میں ایک گھرانہ ایسا بتلاؤں جو اس کی نگہبانی کرے اور ہو بھی اس کا خیرخواہ۔ یہ کہنا تھا کہ لوگوں کو شک ہوا کہ ضرور یہ لڑکی اس بچے کو جانتی ہے اور اس کے گھر کو بھی پہچانتی ہے۔ اے ابن جبیر یہ تھا تیسرا فتنہ۔ لیکن اللہ نے لڑکی کو سمجھ دے دی اور اس نے جھٹ سے کہا کہ بھلا تم اتنا نہیں سمجھے کون بدنصیب ایسا ہو گا جو اس بچے کی خیر خواہی یا پرورش میں کمی کرے جو بچہ ہماری ملکہ کا پیارا ہے۔ کون نہ چاہے گا کہ یہ ہمارے ہاں پلے تاکہ انعام و اکرام سے اس کا گھر بھر جائے۔ یہ سن کر سب کی سمجھ میں آ گیا اسے چھوڑ دیا اور کہا بتا تو کون سی دایہ اس کے لیے تجویز کرتی ہے؟ اس نے کہا میں ابھی لائی، دوڑی ہوئی گئیں اور والدہ کو یہ خوشخبری سنائی۔ والدہ صاحبہ شوق و امید سے آئیں اپنے پیارے بچے کو گود میں لیا، اپنا دودھ منہ میں دیا بچے نے پیٹ بھر کر پیا۔ اسی وقت شاہی محلات میں یہ خوشخبری پہنچائی گئی ملکہ کا حکم ہوا کہ فوراً اس دایہ کو اور بچے کو میرے پاس لاؤ، جب ماں بیٹا پہنچے تو اپنے سامنے دودھ پلوایا اور یہ دیکھ کر کہ بچہ اچھی طرح دودھ پیتا ہے، بہت ہی خوش ہوئیں اور فرمانے لگیں کہ دائی اماں مجھے اس بچے سے وہ محبت ہے جو دنیا کی کسی اور چیز سے نہیں، تم یہیں محل میں رہو اور اس بچے کی پرورش کرو۔

لیکن موسیٰ علیہ السلام کی والدہ صاحبہ کے سامنے اللہ کا وعدہ تھا انہیں یقین کامل تھا اس لیے آپ ذرا رکیں اور فرمایا کہ یہ تو ناممکن ہے کہ میں اپنے گھر کو اور اپنے بچوں کو چھوڑ کر یہاں رہوں۔ اگر آپ چاہتی ہیں تو یہ بچہ میرے سپرد کر دیں میں اسے اپنے گھر لے جاتی ہوں ان کی پرورش میں کوئی کوتاہی نہ کروں گی۔ ملکہ صاحبہ نے مجبوراً اس بات کو بھی مان لیا اور آپ اسی دن خوشی خوشی اپنے بچے کو لیے ہوئے گھر آ گئیں۔ اس بچے کی وجہ سے اس محلے کے بنو اسرائیل بھی فرعونی مظالم سے رہائی پا گئے۔ جب کچھ زمانہ گزر گیا تو بادشاہ بیگم نے حکم بھیجا کہ کسی دن میرے بچے کو میرے پاس لاؤ، ایک دن مقرر ہو گیا، تمام ارکان سلطنت اور درباریوں کو حکم ہوا کہ آج میرا بچہ میرے پاس آئے گا۔ تم سب قدم قدم پر اس کا استقبال کرو اور دھوم دھام سے نذریں دیتے ہوئے اسے میرے محل سرائے تک لاؤ۔ چنانچہ جب سواری روانہ ہوئی، وہاں سے لے کر محل سرائے سلطانی تک برابر تحفے تحائف نذریں اور ہدیے پیشکش ہوتے رہے اور بڑے ہی عزت و اکرام کے ساتھ آپ یہاں پہنچے تو خود بیگم نے بھی خوشی خوشی بہت بڑی رقم پیش کی اور بڑی خوشی منائی گئی۔ پھر کہنے لگی کہ میں تو اسے بادشاہ کے پاس لے جاؤں گی، وہ بھی اسے انعام و اکرام دیں گے، لے گئیں اور بادشاہ کی گود میں لٹا دیا۔ موسیٰ علیہ السلام نے اس کی داڑھی پکڑ کر زور سے گھسیٹی۔ فرعون کھٹک گیا اور اس کے درباریوں نے کہنا شروع کیا کہ کیا عجب یہی وہ لڑکا ہو آپ اسے فوراً قتل کرا دیجئیے۔

اے ابن جبیر یہ تھا چوتھا فتنہ۔ ملکہ بیتاب ہو کر بول اٹھیں، اے بادشاہ کیا ارادہ کر رہے ہو؟ آپ اسے مجھے دے چکے ہیں میں اسے اپنا بیٹا بنا چکی ہوں۔ بادشاہ نے کہا یہ سب ٹھیک ہے لیکن دیکھو تو اس نے تو آتے ہی داڑھی پکڑ کر مجھے نیچا کر دیا گویا یہی میرا گرانے والا اور مجھے تاخت و تاراج کرنے والا ہے۔ بیگم صاحبہ نے فرمایا، بادشاہ بچوں کو ان چیزوں کی کیا تمیز؟ سنو میں ایک فیصلہ کن بات بتاؤں، اس کے سامنے دو انگارے آگ کے سرخ رکھ دو اور دو موتی آبدار چمکتے ہوئے رکھ دو پھر دیکھو یہ کیا اٹھاتا ہے؟ اگر موتی اٹھا لے تو سمجھنا کہ اس میں عقل ہے اور اگر آگ کے انگارے تھام لے تو سمجھ لینا کہ عقل نہیں۔ جب عقل و تمیز نہیں تو اس کی داڑھی پکڑ لینے پر اتنے لمبے خیالات کر کے اس کی جان کا دشمن بن جانا کون سی دانائی کی بات ہے؟ چنانچہ یہی کیا گیا دونوں چیزیں آپ کے سامنے رکھی گئیں۔ آپ نے دہکتے ہوئے انگارے اٹھا لیے اسی وقت وہ چھین لیے کہ ایسا نہ ہو ہاتھ جل جائیں۔ اب فرعون کا غصہ ٹھنڈا ہوا اور اس کا بدلا ہوا رخ ٹھیک ہو گیا۔ حق تو یہ ہے کہ اللہ کو جو کام کرنا مقصود ہوتا ہے، اس کے قدرتی اسباب مہیا ہو ہی جاتے ہیں۔ موسیٰ علیہ السلام کی دربار فرعون میں فرعون کے خاص محل میں فرعون کی بیوی کی گود میں ہی پرورش ہوتی رہی۔ یہاں تک کہ آپ اچھی عمر کو پہنچ گئے اور بالغ ہو گئے۔

اب تو فرعونیوں کے جو مظالم اسرائیلیوں پر ہو رہے تھے، ان میں بھی کمی ہو گئی تھی سب امن و امان سے تھے۔ ایک دن موسیٰ علیہ السلام کہیں جا رہے تھے کہ راستے میں ایک فرعونی اور ایک اسرائیلی کی لڑائی ہو رہی تھی۔ اسرائیلی نے موسیٰ علیہ السلام سے فریاد کی آپ کو سخت غصہ آیا اسلئے کہ اس وقت وہ فرعونی اس بنی اسرائیلی کو دبوچے ہوئے تھا، آپ نے اسے ایک مکا مارا، اللہ کی شان مکا لگتے ہی وہ مر گیا۔ یہ تو لوگوں کو عموماً معلوم تھا کہ موسیٰ علیہ السلام بنی اسرائیلیوں کی طرف داری کرتے ہیں لیکن لوگ اس کی وجہ اب تک یہی سمجھتے تھے کہ چونکہ آپ نے انہی میں دودھ پیا ہے، اس لیے ان کے طرفدار ہیں۔ اصلی راز کا علم تو صرف آپ کی والدہ کو تھا اور ممکن ہے اللہ تعالیٰ نے اپنے کلیم کو بھی معلوم کرا دیا ہو۔ اسے مردہ دیکھتے ہی موسیٰ علیہ السلام کانپ اٹھے کہ یہ تو شیطانی حرکت ہے وہ بہکانے والا اور کھلا دشمن ہے۔

پھر اللہ تعالیٰ سے معافی مانگنے لگے کہ باری تعالیٰ میں نے اپنی جان پر ظلم کیا تو معاف فرما۔ پروردگار نے بھی آپ کی اس خطا سے درگزر فرما لیا وہ تو غفور و رحیم ہے ہی۔ چونکہ قتل کا معاملہ تھا، آپ پھر بھی خوفزدہ ہی رہے، تاک جھانک میں رہے کہ کہیں معاملہ کھل تو نہیں گیا۔ ادھر فرعون کے پاس شکایت ہوئی کہ ایک قبطی کو کسی بنی اسرائیلی نے مار ڈالا ہے، فرعون نے حکم جاری کر دیا کہ واقعہ کی پوری تحقیق کرو قاتل کو تلاش کر کے پکڑ لاؤ اور گواہ بھی پیش کرو اور جرم ثابت ہو جانے کی صورت میں اسے بھی قتل کر دو۔ پولیس نے ہر چند تفتیش کی لیکن قاتل کا کوئی سراغ نہ ملا۔ اتفاق کی بات کہ دوسرے ہی دن موسیٰ علیہ السلام پھر کہیں جا رہے تھے کہ دیکھا وہی بنی اسرائیلی شخص ایک دوسرے فرعونی سے جھگڑ رہا ہے۔ موسیٰ علیہ السلام کو دیکھتے ہی وہ دہائی دینے لگا لیکن اس نے یہ محسوس کیا کہ شاید موسیٰ علیہ السلام اپنے کل کے فعل سے نادم ہیں۔ موسیٰ علیہ السلام کو بھی اس کا یہ باربار کا جھگڑنا اور فریاد کرنا برا معلوم ہوا اور کہا تم تو بڑے لڑاکا ہو، یہ فرما کر اس فرعونی کو پکڑنا چاہا لیکن اس بنی اسرائیلی بزدل نے سمجھا کہ شاید آپ چونکہ مجھ پر ناراض ہیں مجھے ہی پکڑنا چاہتے ہیں۔

حالانکہ اس کا یہ صرف بزدلانہ خیال تھا آپ تو اسی فرعونی کو پکڑنا چاہتے تھے اور اسے بچانا چاہتے تھے لیکن خوف و ہراس کی حالت میں بےساختہ اس کے منہ سے نکل گیا کہ موسیٰ (‏‏‏‏علیہ السلام) جیسے کہ کل تو نے ایک آدمی کو مار ڈالا تھا، کیا آج مجھے مار ڈالنا چاہتا ہے؟ یہ سن کر وہ فرعونی اسے چھوڑ بھاگا، دوڑا گیا اور سرکاری سپاہ کو اس واقعہ کی خبر کر دی۔ فرعون کو بھی قصہ معلوم ہوا۔ اسی وقت جلادوں کو حکم دیا کہ موسیٰ } (‏‏‏‏علیہ السلام) کو پکڑ کر قتل کر دو۔ یہ لوگ شارع عام سے آپ کی جستجو میں چلے۔ ادھر ایک بنی اسرائیلی نے راستہ کاٹ کر نزدیک کے راستے سے آ کر موسیٰ علیہ السلام کو خبر کر دی۔ اے ابن جبیر رحمہ اللہ یہ ہے پانچواں فتنہ۔ موسیٰ علیہ السلام یہ سنتے ہی مٹھیاں بند کرکے مصر سے بھاگ کھڑے ہوئے، نہ کبھی پیدل چلے تھے نہ کبھی کسی مصیبت میں پھنسے تھے، شہزادوں کی طرح لاڈ چاؤ میں پلے تھے، نہ راستے کی خبر تھی نہ کبھی سفر کا اتفاق پڑا تھا۔ رب پر بھروسہ کر کے یہ دعا کر کے کہ اے اللہ مجھے سیدھی راہ لے چلنا، چل کھڑے ہوئے یہاں تک کہ مدین کی حدود میں پہنچے۔

یہاں دیکھا کہ لوگ اپنے جانوروں کو پانی پلا رہے ہیں وہیں دو لڑکیوں کو دیکھا کہ اپنے جانوروں کو روکے کھڑی ہیں۔ پوچھا کہ تم ان کے ساتھ اپنے جانوروں کو پانی کیوں نہیں پلا لیتیں؟ الگ کھڑی ہوئی انہیں کیوں روک رہی ہو؟ انہوں نے جواب دیا کہ اس بھیڑ میں ہمارے بس کی بات نہیں کہ اپنے جانوروں کو پانی پلائیں، ہم تو جب یہ لوگ پانی پلا چکتے ہیں ان کا بقیہ اپنے جانوروں کو پلا دیا کرتی ہیں۔ آپ فوراً آگے بڑھے اور ان کے جانوروں کو پانی پلا دیا۔ چونکہ بہت جلد پانی کھینچا، آپ بہت قوی آدمی تھے، سب سے پہلے ان کے جانوروں کو سیر کر دیا۔ یہ اپنی بکریاں لے کر اپنے گھر روانہ ہوئیں اور آپ ایک درخت کے سائے تلے بیٹھ گئے اور اللہ سے دعا کرنے لگے کہ پروردگار میں تیری تمام تر مہربانیوں کا محتاج ہوں۔ یہ دونوں لڑکیاں جب اپنے والد کے پاس پہنچیں تو انہوں نے کہا، آج کیا بات ہے کہ تم وقت سے پہلے ہی آ گئیں؟ اور بکریاں بھی خوب آسودہ اور شکم سیر معلوم ہوتی ہیں۔ تو ان بچیوں نے سارا واقعہ کہہ سنایا آپ نے حکم دیا کہ تم میں سے ایک ابھی چلی جائے اور انہیں میرے پاس بلا لائے۔ وہ آئیں اور موسیٰ علیہ السلام کو اپنے والد صاحب کے پاس لے گئیں۔ انہوں نے سرسری ملاقات کے بعد واقعہ پوچھا تو آپ نے سارا قصہ کہہ سنایا، اس پر وہ فرمانے لگے اب کوئی ڈر کی بات نہیں آپ ان ظالموں سے چھوٹ گئے۔ ہم لوگ فرعون کی رعایا نہیں نہ ہم پر اس کا کوئی دباؤ ہے۔ اسی وقت ایک لڑکی نے اپنے باپ سے کہا کہ ابا جی انہوں نے ہمارا کام کر دیا ہے اور یہ ہیں بھی قوت والے امانت دار شخص، کیا اچھا ہو کہ آپ انہیں اپنے ہاں مقرر کر لیجئے کہ یہ اجرت پر ہماری بکریاں چرا لایا کریں۔ باپ کو غیرت اور غصہ آ گیا اور پوچھا بیٹی تمہیں یہ کیسے معلوم ہو گیا کہ یہ قوی اور امین ہیں؟ بچی نے جواب دیا کہ قوت تو اس وقت معلوم ہوئی جب انہوں نے ہماری بکریوں کے لیے پانی نکالا اتنے بڑے ڈول کو اکیلے ہی کھینچتے تھے اور بڑی پھرتی اور ہرپن سے۔ امانت داری یوں معلوم ہوئی کہ میری آواز سن کر انہوں نے نظر اونچی کی اور جب یہ معلوم ہو گیا کہ میں عورت ہوں، پھر نیچی گردن کر کے میری باتیں سنتے رہے، واللہ! آپ کا پورا پیغام پہنچانے تک انہوں نے نگاہ اونچی نہیں کی۔ پھر مجھ سے فرمایا کہ تم میرے پیچھے رہو مجھے دور سے راستہ بتا دیا کرنا۔ یہ بھی دلیل ہے ان کی اللہ خوفی اور امانت داری کی۔ باپ کی غیرت و حمیت بھی رہ گئی، بچی کی طرف سے بھی دل صاف ہو گیا اور موسیٰ علیہ السلام کی محبت دل میں سما گئی۔

اب موسیٰ علیہ السلام سے فرمانے لگے، میرا ارادہ ہے کہ اپنی ان دونوں لڑکیوں میں سے ایک کا نکاح آپ کے ساتھ کر دوں اس شرط پر کہ آپ آٹھ سال تک میرے ہاں کام کاج کرتے رہیں، ہاں اگر دس سال تک کریں تو اور بھی اچھا ہے، ان شاءاللہ آپ دیکھ لیں گے کہ میں بھلا آدمی ہوں۔ چنانچہ یہ معاملہ طے ہو گیا اور اللہ کے پیغمبر علیہ السلام نے بجائے آٹھ سال کے دس سال پورے کئے۔ سیدنا سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں پہلے مجھے یہ معلوم نہ تھا اور ایک نصرانی عالم مجھ سے یہ پوچھ بیٹھا تھا تو میں اسے کوئی جواب نہ دے سکا، پھر جب میں نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا اور آپ نے جواب دیا تو میں نے اس سے ذکر کیا، اس نے کہا تمہارے استاد بڑے عالم ہیں۔ میں نے کہا، ہاں ہیں ہی۔ اب موسیٰ علیہ السلام اس مدت کو پوری کر کے اپنی اہلیہ صاحبہ کو لیے ہوئے یہاں سے چلے۔ پھر وہ واقعات ہوئے جن کا ذکر ان آیتوں میں ہے۔ آگ دیکھی، گئے، اللہ سے کلام کیا، لکڑی کا اژدھا بننا، ہاتھ کا نورانی بننا ملاحظہ کیا، نبوت پائی، فرعون کی طرف بھیجے گئے تو قتل کے واقعہ کے بدلے کا اندیشہ ظاہر فرمایا۔ اس سے اطمینان حاصل کر کے زبان کی گرہ کشائی کی طلب کی۔ اس کو حاصل کر کے اپنے بھائی ہارون کی ہمدردی اور شرکت کار چاہی۔ یہ بھی حاصل کر کے لکڑی لیے ہوئے شاہ مصر کی طرف چلے۔

ادھر ہارون علیہ السلام کے پاس وحی پہنچی کہ اپنے بھائی کی موافقت کریں اور ان کا ساتھ دیں۔ دونوں بھائی ملے اور فرعون کے دربار میں پہنچے۔ اطلاع کرائی بڑی دیر میں اجازت ملی، اندر گئے، فرعون پر ظاہر کیا کہ ہم اللہ کے رسول بن کر تیرے پاس آئے ہیں۔ اب جو سوال جواب ہوئے وہ قرآن میں موجود ہیں۔ فرعون نے کہا اچھا تم چاہتے کیا ہو؟ اور واقعہ قتل یاد دلایا جس کا عذر موسیٰ علیہ السلام نے بیان کیا جو قرآن میں موجود ہے اور کہا، ہمارا ارادہ یہ ہے کہ تو ایمان لا اور ہمارے ساتھ بنی اسرائیل کو اپنی غلامی سے رہائی دے۔ اس نے انکار کیا اور کہا کہ اگر سچے ہو تو کوئی معجزہ دکھاؤ، آپ نے اسی وقت اپنی لکڑی زمین پر ڈال دی وہ زمین پر پڑتے ہی ایک زبردست خوفناک اژدھے کی صورت میں منہ پھاڑے کچلیاں نکالے فرعون کی طرف لپکا۔ مارے خوف کے فرعون تخت سے کود گیا اور بھاگتا ہوا عاجزی سے فریاد کرنے لگا کہ موسیٰ (‏‏‏‏علیہ السلام) اللہ کے واسطے اسے پکڑ لو۔ آپ نے ہاتھ لگایا اسی وقت لاٹھی اپنی اصلی حالت میں آ گئی۔ پھر آپ نے اپنا ہاتھ اپنے گریبان میں ڈال کر نکالا تو وہ بغیر کسی مرض کے داغ کے چمکتا ہوا نکلا جسے دیکھ کر وہ حیران ہو گیا، آپ نے پھر ہاتھ ڈال کر نکالا تو وہ اپنی اصلی حالت میں تھا۔ اب فرعون نے اپنے درباریوں کی طرف دیکھ کر کہا کہ تم نے دیکھا، یہ دونوں جادوگر ہیں چاہتے ہیں کہ اپنے جادو کے زور سے تمہیں تمہارے ملک سے نکال باہر کریں اور تمہارے ملک پر قابض ہو کر تمہارے طریقے مٹا دیں۔

پھر موسیٰ علیہ السلام سے کہا کہ ہمیں آپ کی نبوت ماننے سے بھی انکار ہے اور آپ کا کوئی مطالبہ بھی ہم پورا نہیں کر سکتے بلکہ ہم اپنے جادوگروں کو تمہارے مقابلہ کے لیے بلا رہے ہیں جو تمہارے اس جادو پر غالب آ جائیں گے۔ چنانچہ یہ لوگ اپنی کوششوں میں مشغول ہو گئے۔ تمام ملک سے جادوگروں کو بڑی عزت سے بلوایا جب سب جمع ہو گئے تو انہوں نے پوچھا کہ اس کا جادو کس قسم کا ہے؟ فرعون والوں نے کہا لکڑی کا سانپ بنا دیتا ہے۔ انہوں نے کہا، اس میں کیا ہے؟ ہم لکڑیوں کی رسیوں کے وہ سانپ بنائیں گے کہ روئے زمین پر ان کا کوئی مقابلہ نہ کر سکے۔ لیکن ہمارے لیے انعام مقرر ہو جانا چاہیئے۔ فرعون نے ان سے قول و قرار کیا کہ انعام کیسا؟ میں تو تمہیں اپنا مقرب خاص اور درباری بنا لوں گا اور تمہیں نہال نہال کر دونگا جو مانگو گے پاؤ گے۔ چنانچہ انہوں نے اعلان کر دیا کہ عید کے روز دن چڑھے فلاں میدان میں مقابلہ ہو گا۔ مروی ہے کہ ان کی یہ عید عاشورا کے دن تھی۔

اس دن تمام لوگ صبح ہی صبح اس میدان میں پہنچ گئے کہ آج چل کر دیکھیں گے کہ کون غالب آتا ہے؟ ہم تو جادوگروں کے کمالات کے قائل ہیں وہی غالب آئیں گے اور ہم انہی کی مانیں گے۔ مذاق سے اس بات کو بدل کر کہتے تھے کہ چلو انہی دونوں جادوگروں کے مطیع بن جائیں گے اگر وہ غالب رہیں۔ میدان میں آ کر جادوگروں نے انبیاء اللہ علیہم السلام سے کہا کہ لو اب بتاؤ، تم پہلے اپنا جادو ظاہر کرتے ہو یا ہم ہی شروع کریں؟ آپ نے فرمایا تم ہی ابتداء کرو تاکہ تمہارے ارمان پورے ہوں۔ اب انہوں نے اپنی لکڑیاں اور رسیاں میدان میں ڈالیں تو ایسا لگا کہ وہ سب سانپ اور بلائیں بن کر اللہ کے نبیوں کی طرف دوڑیں جس سے خوفزدہ ہو کر آپ پیچھے ہٹنے لگے۔ اس وقت اللہ کی وحی آئی کہ آپ اپنی لکڑی زمین پر ڈال دیجئیے، آپ نے ڈالدی، وہ ایک خوفناک بھیانک عظیم الشان اژدھابن کر ان کی طرف دوڑا یہ لکڑیاں رسیاں سب گڈ مڈ ہو گئیں اور وہ ان سب کو نگل گیا۔ جادوگر سمجھ گئے کہ یہ جادو نہیں یہ تو سچ مچ اللہ کیطرف کا نشان ہے، جادو میں یہ بات کہاں؟ چنانچہ سب نے اپنے ایمان کا اعلان کر دیا کہ ہم موسیٰ کے رب پر ایمان لائے اور ان دونوں بھائیوں کی نبوت ہمیں ت
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 38) ➊ { اِذْ اَوْحَيْنَاۤ اِلٰۤى اُمِّكَ مَا يُوْحٰۤى:} جب کسی چیز کی عظمت بیان کرنا مقصود ہو تو یہ انداز اختیار کیا جاتا ہے ”جو وحی کی جاتی تھی“ یعنی اس کی عظمت محدود الفاظ میں بیان نہیں ہو سکتی، جیسا کہ «{ فَغَشِيَهُمْ مِّنَ الْيَمِّ مَا غَشِيَهُمْ }» [ طٰہٰ: ۷۸ ] اور «{ فَاَوْحٰۤى اِلٰى عَبْدِهٖ مَاۤ اَوْحٰى }» [ النجم: ۱۰ ] میں ہے۔ ➋ یہاں موسیٰ علیہ السلام کی والدہ کو بتانے اور مطمئن کرنے کے لیے {” اَوْحَيْنَاۤ “} (ہم نے وحی کی) اور {” يُوْحٰۤى “} (جو وحی کی جاتی تھی)کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں۔ وحی کے لفظی معنی اشارۂ سریعہ یا دل میں کوئی بات ڈال دینے کے ہیں۔ اصطلاح میں جب یہ لفظ کسی نبی کے لیے استعمال ہوتا ہے تو اس کے معنی فرشتے کے ذریعے سے پیغام بھیجنا ہوتے ہیں۔ قرآن میں دونوں معنوں کے اعتبار سے وحی کا لفظ استعمال ہوا ہے، چنانچہ موسیٰ علیہ السلام کی والدہ کی طرف جو وحی بھیجی گئی وہ بھی لفظی معنی کے اعتبار سے تھی، یعنی خواب میں یا کسی خفیہ طریقے سے ان کے دل میں یہ بات ڈال دی گئی جس سے ان کو یقین و اطمینان حاصل ہو گیا، کیونکہ اس بات پر تقریباً علماء کا اتفاق ہے کہ اللہ کے جتنے نبی ہوئے ہیں مردوں میں سے ہوئے ہیں، عورتوں میں سے کسی عورت کو نبی نہیں بنایا گیا۔ دیکھیے سورۂ یوسف (۱۰۹) اور انبیاء (۷) لہٰذا موسیٰ علیہ السلام کی والدہ نبی نہیں تھیں کہ ان کے لیے وحی کے وہ معنی مراد لیے جائیں جو کسی نبی کے لیے ہوتے ہیں۔ (کبیر)
اَنِ اقۡذِفِیۡہِ فِی التَّابُوۡتِ فَاقۡذِفِیۡہِ فِی الۡیَمِّ فَلۡیُلۡقِہِ الۡیَمُّ بِالسَّاحِلِ یَاۡخُذۡہُ عَدُوٌّ لِّیۡ وَ عَدُوٌّ لَّہٗ ؕ وَ اَلۡقَیۡتُ عَلَیۡکَ مَحَبَّۃً مِّنِّیۡ ۬ۚ وَ لِتُصۡنَعَ عَلٰی عَیۡنِیۡ ﴿ۘ۳۹﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
کہ اس بچے کو صندوق میں رکھ دے اور صندوق کو دریا میں چھوڑ دے دریا اسے ساحل پر پھینک دے گا اور اسے میرا دشمن اور اس بچے کا دشمن اٹھا لے گا میں نے اپنی طرف سے تجھ پر محبت طاری کر دی اور ایسا انتظام کیا کہ تو میری نگرانی میں پالا جائے
مولانا محمد جوناگڑھی
کہ تو اسے صندوق میں بند کرکے دریا میں چھوڑ دے، پس دریا اسے کنارے ﻻ ڈالے گا اور میرا اور خود اس کا دشمن اسے لے لے گا، اور میں نے اپنی طرف کی خاص محبت ومقبولیت تجھ پر ڈال دی۔ تاکہ تیری پرورش میری آنکھوں کے سامنے کی جائے
احمد رضا خان بریلوی
کہ اس بچے کو صندوق میں رکھ کر دریا میں ڈال دے، و دریا اسے کنارے پر ڈالے کہ اسے وہ اٹھالے جو میرا دشمن اور اس کا دشمن اور میں نے تجھ پر اپنی طرف کی محبت ڈالی اور اس لیے کہ تو میری نگاہ کے سامنے تیار ہو
علامہ محمد حسین نجفی
کہ اس (موسیٰ) کو صندوق میں رکھ اور پھر صندوق کو دریا میں ڈال دے پھر دریا اسے کنارہ پر پھینک دے گا (اور) اسے وہ شخص (فرعون) اٹھائے گا جو میرا بھی دشمن ہے اور اس (موسیٰ) کا بھی دشمن ہے میں نے تم پر اپنی محبت کا اثر ڈال دیا۔ (جو دیکھتا وہ پیار کرتا) اور اس لئے کہ تم میری خاص نگرانی میں پرورش پائے۔
عبدالسلام بن محمد
یہ کہ تو اسے صندوق میں ڈال، پھر اسے دریا میں ڈال دے، پھر دریا اسے کنارے پرڈال دے ، اسے ایک میرا دشمن اور اس کا دشمن اٹھالے گا اور میں نے تجھ پر اپنی طرف سے ایک محبت ڈال دی اور تاکہ تیری پرورش میری آنکھوں کے سامنے کی جائے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
موسیٰ علیہ السلام کا بچپن ٭٭

حضرت موسیٰ علیہ السلام کی تمام دعائیں قبول ہوئیں اور فرما دیا گیا کہ تمہاری درخواست منظور ہے۔ اس احسان کے ساتھ ہی اور احسان کا بھی ذکر کر دیا گیا کہ ہم نے تجھ پر ایک مرتبہ اور بھی بڑا احسان کیا ہے۔ پھر اس واقعہ کو مختصر طور پر یاد دلایا کہ ہم نے تیرے بچپن کے وقت تیری ماں کی طرف وحی بھیجی جس کا ذکر اب تم سے ہو رہا ہے۔ تم اس وقت دودھ پیتے بچے تھے، تمہاری والدہ کو فرعون اور فرعونیوں کا کھٹکا تھا کیونکہ اس سال وہ بنو اسرائیل کے لڑکوں کو قتل کر رہا تھا۔ اس خوف کے مارے وہ ہر وقت کانپتی رہتی تھیں تو ہم نے وحی کی کہ ایک صندوق بنا لو، دودھ پلا کر بچے کو اس میں لٹا کر دریائے نیل میں اس صندوق کو چھوڑ دو چنانچہ وہ یہی کرتی رہیں۔ ایک رسی اس میں باندھ رکھی تھی جس کا ایک سرا اپنے مکان سے باندھ لیتی تھیں۔ ایک مرتبہ باندھ رہی تھیں جو رسی ہاتھ سے چھوٹ گئی اور صندوق کو پانی کی موجیں بہا لے چلیں۔ اب تو کلیجہ تھام کر رہ گئیں اس قدر غمزدہ ہوئیں کہ صبر ناممکن تھا، شاید راز فاش کر دیتیں لیکن ہم نے دل مضبوط کر دیا۔ صندوق بہتا ہوا فرعون کے محل کے پاس سے گزرا آل فرعون نے اسے اٹھا لیا کہ جس غم سے وہ بچنا چاہتے تھے، جس صدمے سے وہ محفوظ رہنا چاہتے تھے، وہ ان کے سامنے آ جائے۔ جسکی شمع حیات کو بجھانے کے لیے وہ بےگناہ معصوموں کا قتل عام کر رہے تھے، وہ انہی کے تیل سے انہی کے ہاں روشن ہوا اور اللہ کے ارادے بیروک پورے ہو جائیں۔ ان کا دشمن انہی کے ہاتھوں پلے انہی کا کھائے ان کے ہاں تربیت پائے۔

خود فرعون اور اس کی اہلیہ محترمہ نے جب بچے کو دیکھا، رگ رگ میں محبت سما گئی، لے کر پرورش کرنے لگے۔ آنکھوں کا تارا سمجھنے لگے شاہزادوں کی طرح ناز و نعمت سے پلنے لگے شاہی دربار میں رہنے لگے۔ اللہ نے اپنی محبت تجھ پر ڈال دی گو فرعون تیرا دشمن تھا لیکن رب کی بات کون بدلے؟ اللہ کے ارادے کو کون ٹالے؟ فرعون پر ہی کیا منحصر ہے، جو دیکھتا آپ کا والہ و شیدا بن جاتا۔ یہ اس لیے تھا کہ تیری پرورش میری نگاہ کے سامنے ہو، شاہی خوراکیں کھا عزت و وقعت کے ساتھ رہ۔ فرعون والوں نے صندوقچہ اٹھا لیا کھولا بچے کو دیکھا، پالنے کا ارادہ کیا لیکن آپ کسی دایہ کا دودھ دباتے ہی نہیں بلکہ منہ میں ہی نہیں لیتے۔ بہن جو صندوق کو دیکھتی بھالتی کنارے کنارے آ رہی تھی وہ بھی موقعہ پر پہنچ گئیں، کہنے لگیں کہ آپ اگر اس کی پرورش کی تمنا کرتے ہیں اور معقول اجرت بھی دیتے ہیں تو میں ایک گھرانہ بتاؤں جو اسے محبت سے پالے اور خیر خواہانہ برتاؤ کرے۔ سب نے کہا ہم تیار ہیں۔ آپ انہیں لیے ہوئے اپنی والدہ کے پاس پہنچیں، جب بچہ ان کی گود میں ڈال دیا گیا، آپ نے جھٹ سے منہ لگا دودھ پینا شروع کیا۔ جس سے فرعون کے ہاں بڑی خوشیاں منائی گئیں اور بہت کچھ انعام و اکرام دیا گیا۔ تنخواہ مقرر ہو گئی، اپنے ہی بچے کو دودھ پلاتیں اور تنخواہ اور انعام بھی اور عزت و اکرام بھی پاتیں۔ دنیا بھی ملے دین بھی بڑھے۔ اسی لیے حدیث میں آیا ہے کہ { جو شخص اپنے کام کو کرے اور نیک نیتی سے کرے، اس کی مثال ام موسیٰ علیہ السلام کی مثال ہے کہ اپنے ہی بچے کو دودھ پلائے اور اجرت بھی لے۔ } پس یہ بھی ہماری کرم فرمائی ہے کہ ہم نے تجھے تیری ماں کی گود میں واپس کیا کہ اس کی آنکھیں ٹھنڈی رہیں اور غم و رنج جاتا رہے۔ پھر تمہارے ہاتھ سے ایک فرعونی قبطی مار ڈالا گیا تو بھی ہم نے تمہیں بچا لیا، فرعونیوں نے تمہارے قتل کا ارادہ کر لیا تھا، راز فاش ہو چکا تھا۔ تمہیں یہاں سے نجات دی تم بھاگ کھڑے ہوئے۔ مدین کے کنوئیں پر جا کر تم نے دم لیا۔ وہیں ہمارے ایک نیک بندے نے تمہیں بشارت سنائی کہ اب کوئی خوف نہیں ان ظالموں سے تم نے نجات پا لی۔ تجھے ہم نے بطور آزمائش اور بھی بہت سے فتنوں میں ڈالا۔

سعید بن جبیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے اس کی بابت سوال کیا تو آپ نے فرمایا اب تو دن ڈوبنے کو ہے واقعات زیادہ ہیں پھر سہی۔ چنانچہ میں نے دوسری صبح پھر سوال کیا تو آپ نے فرمایا سنو! فرعون کے دربار میں ایک دن اس بات کا ذکر چھڑا کہ اللہ کا وعدہ ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام سے یہ تھا کہ ان کی اولاد میں انبیاء اور بادشاہ ہوں گے۔ چنانچہ بنو اسرائیل اس کے آج تک منتظر ہیں اور انہیں یقین ہے کہ مصر کی سلطنت پھر ان میں جائے گی۔ پہلے تو ان کا خیال تھا کہ یہ وعدہ یوسف علیہ السلام کی بابت تھا لیکن ان کی وفات تک جب کہ یہ وعدہ پورا نہیں ہوا تو وہ اب عقیدہ رکھتے ہیں کہ اللہ ان میں اپنے ایک پیغمبر کو بھیجے گا جن کے ہاتھوں انہیں سلطنت بھی ملے گی اور ان کی قومی و مذہبی ترقی ہو گی۔ ً یہ باتیں کر کے انہوں نے مجلس مشاورت قائم کی کہ اب کیا کیا جائے جس سے آئندہ کے اس خطرے سے محفوظ رہ سکیں۔ آخر اس جلسے میں قرار داد منظور ہوئی کہ پولیس کا ایک محکمہ قائم کیا جائے جو شہر کا گشت لگاتا رہے اور بنی اسرائیل میں جو نرینہ اولاد ہو، اسے اسی وقت سرکار میں پیش کیا جائے اور ذبح کر دیا جائے۔ لیکن جب ایک مدت گزر گئی تو انہیں خیال پیدا ہوا کہ اس طرح تو بنی اسرائیل بالکل فنا ہو جائیں گے اور جو ذلیل خدمتیں ان سے لی جاتی ہیں، جو بیگاریں ان سے وصول ہو رہی ہیں، سب موقوف ہو جائیں گی، اس لیے اب تجویز ہوا کہ ایک سال ان کے بچوں کو چھوڑ دیا جائے اور ایک سال ان کے لڑکے قتل کر دیئے جائیں۔ اس طرح موجودہ بنی اسرائیلیوں کی تعداد بھی نہ بڑھے گی اور نہ اتنی کم ہو جائے گی کہ ہمیں اپنی خدمت گزاری کے لیے بھی نہ مل سکیں۔ جتنے بڈھے دو سال میں مریں گے، اتنے بچے ایک سال میں پیدا ہو جائیں گے۔

جس سال قتل موقوف تھا، اس سال تو ہارون علیہ السلام پیدا ہوئے اور جس سال قتل عام بچوں کا جاری تھا، اس برس موسیٰ علیہ السلام تولد ہوئے۔ آپ کی والدہ کی اس وقت کی گھبراہٹ اور پریشانی کا کیا پوچھنا؟ بے اندازہ تھی۔ ایک فتنہ تو یہ تھا۔ چنانچہ یہ خطرہ اس وقت دفع ہو گیا جب کہ اللہ کی وحی ان کے پاس آئی کہ ڈر خوف نہ کر ہم اسے تیری طرف پھر لوٹائیں گے اور اسے اپنا رسول بنائیں گے۔ چنانچہ بحکم الٰہی آپ نے اپنے بچے کو صندوق میں بند کر کے دریا میں بہا دیا، جب صندوق نظروں سے اوجھل ہو گیا تو شیطان نے دل میں وسوسے ڈالنے شروع کئے کہ افسوس اس سے تو یہی بہتر تھا کہ میرے سامنے ہی اسے ذبح کر دیا جاتا تو میں اسے خود ہی کفناتی دفناتی تو سہی لیکن اب تو میں نے خود اسے مچھلیوں کا شکار بنایا۔ یہ صندوق یونہی بہتا ہوا خاص فرعونی گھاٹ سے جا لگا، وہاں اس وقت محل کی لونڈیاں موجود تھیں، انہوں نے اس صندوق کو اٹھا لیا اور ارادہ کیا کہ کھول کر دیکھیں لیکن پھر ڈر گئیں کہ ایسا نہ ہو کہ چوری کا الزام لگے یونہی مقفل صندوق ملکہ فرعون کے پاس پہنچا دیا۔ یہ صندوق بادشاہ ملکہ کے سامنے کھولا گیا تو اس میں سے چاند جیسی صورت کا ایک چھوٹا سا معصوم بچہ نکلا جسے دیکھتے ہی فرعون کی بیوی صاحبہ کا دل محبت کے جوش سے اچھلنے لگا۔

ادھر ام موسیٰ کی حالت غیر ہو گئی، سوائے اپنے اس پیارے بچے کے خیال کے دل میں اور کوئی تصور ہی نہ تھا۔ ادھر ان قصائیوں کو جو حکومت کی طرف سے بچوں کے قتل کے محکمے کے ملازم تھے، معلوم ہوا تو وہ اپنی چھریاں تیز کئے ہوئے بڑھے اور ملکہ سے تقاضا کیا کہ بچہ انہیں سونپ دیں تاکہ وہ اسے ذبح کر ڈالیں۔ یہ دوسرا فتنہ تھا، آخر ملکہ نے جواب دیا کہ ٹھہرو میں خود بادشاہ سے ملتی ہوں اور اس بچے کو طلب کرتی ہوں، اگر وہ مجھے دے دیں تو خیر ورنہ تمہیں اختیار ہے۔ چنانچہ آپ آئیں اور بادشاہ سے کہا کہ یہ بچہ تو میری اور آپ کی آنکھوں کی ٹھنڈک ثابت ہو گا۔ اس خبیث نے کہا بس تم ہی اس سے اپنی آنکھیں ٹھنڈی رکھو، میری ٹھنڈک وہ کیوں ہونے لگا؟ مجھے اس کی کوئی ضرورت نہیں۔

اللہ تعالٰی کی تدابیر اعلیٰ اور محروم ہدایت فرعون ٭٭

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بہ حلف بیان فرماتے ہیں کہ { اگر وہ بھی کہہ دیتا کہ ہاں بیشک وہ میری آنکھوں کی بھی ٹھنڈک ہے تو اللہ تعالیٰ اسے بھی ضرور راہ راست دکھا دیتا جیسا کہ اس کی بیوی صاحبہ مشرف بہ ہدایت ہوئی لیکن اس نے خود اس سے محروم رہنا چاہا اللہ نے بھی اسے محروم کر دیا۔ } الغرض فرعون کو جوں توں راضی رضامند کر کے اس بچے کے پالنے کی اجازت لے کر آپ آئیں، اب محل کی جتنی دایہ تھیں سب کو جمع کیا ایک ایک کی گود میں بچہ دیا گیا لیکن اللہ تعالیٰ نے سب کا دودھ آپ پر حرام کر دیا، آپ نے کسی کا دودھ منہ میں لیا ہی نہیں۔ اس سے ملکہ گھبرائیں کہ یہ تو بہت ہی برا ہوا، یہ پیارا بچہ یونہی ہلاک ہو جائے گا۔ آخر سوچ کر حکم دیا کہ انہیں باہر لے جاؤ، ادھر ادھر تلاش کرو اور اگر کسی کا دودھ یہ معصوم قبول کرے تو اسے بہ منت سونپ دو۔ باہر بازار میں میلہ سا لگ گیا ہر شخص اس سعادت سے مالا مال ہونا چاہتا تھا لیکن موسیٰ علیہ السلام نے کسی کا دودھ نہ پیا۔ آپ کی والدہ نے اپنی بڑی صاحبزادی آپ کی بہن کو باہر بھیج رکھا تھا کہ وہ دیکھیں کیا ہوتا ہے؟ وہ اس مجمع میں موجود تھیں اور تمام واقعات دیکھ سن رہی تھیں۔ جب یہ لوگ عاجز آ گئے تو آپ نے فرمایا، اگر تم کہو تو میں ایک گھرانہ ایسا بتلاؤں جو اس کی نگہبانی کرے اور ہو بھی اس کا خیرخواہ۔ یہ کہنا تھا کہ لوگوں کو شک ہوا کہ ضرور یہ لڑکی اس بچے کو جانتی ہے اور اس کے گھر کو بھی پہچانتی ہے۔ اے ابن جبیر یہ تھا تیسرا فتنہ۔ لیکن اللہ نے لڑکی کو سمجھ دے دی اور اس نے جھٹ سے کہا کہ بھلا تم اتنا نہیں سمجھے کون بدنصیب ایسا ہو گا جو اس بچے کی خیر خواہی یا پرورش میں کمی کرے جو بچہ ہماری ملکہ کا پیارا ہے۔ کون نہ چاہے گا کہ یہ ہمارے ہاں پلے تاکہ انعام و اکرام سے اس کا گھر بھر جائے۔ یہ سن کر سب کی سمجھ میں آ گیا اسے چھوڑ دیا اور کہا بتا تو کون سی دایہ اس کے لیے تجویز کرتی ہے؟ اس نے کہا میں ابھی لائی، دوڑی ہوئی گئیں اور والدہ کو یہ خوشخبری سنائی۔ والدہ صاحبہ شوق و امید سے آئیں اپنے پیارے بچے کو گود میں لیا، اپنا دودھ منہ میں دیا بچے نے پیٹ بھر کر پیا۔ اسی وقت شاہی محلات میں یہ خوشخبری پہنچائی گئی ملکہ کا حکم ہوا کہ فوراً اس دایہ کو اور بچے کو میرے پاس لاؤ، جب ماں بیٹا پہنچے تو اپنے سامنے دودھ پلوایا اور یہ دیکھ کر کہ بچہ اچھی طرح دودھ پیتا ہے، بہت ہی خوش ہوئیں اور فرمانے لگیں کہ دائی اماں مجھے اس بچے سے وہ محبت ہے جو دنیا کی کسی اور چیز سے نہیں، تم یہیں محل میں رہو اور اس بچے کی پرورش کرو۔

لیکن موسیٰ علیہ السلام کی والدہ صاحبہ کے سامنے اللہ کا وعدہ تھا انہیں یقین کامل تھا اس لیے آپ ذرا رکیں اور فرمایا کہ یہ تو ناممکن ہے کہ میں اپنے گھر کو اور اپنے بچوں کو چھوڑ کر یہاں رہوں۔ اگر آپ چاہتی ہیں تو یہ بچہ میرے سپرد کر دیں میں اسے اپنے گھر لے جاتی ہوں ان کی پرورش میں کوئی کوتاہی نہ کروں گی۔ ملکہ صاحبہ نے مجبوراً اس بات کو بھی مان لیا اور آپ اسی دن خوشی خوشی اپنے بچے کو لیے ہوئے گھر آ گئیں۔ اس بچے کی وجہ سے اس محلے کے بنو اسرائیل بھی فرعونی مظالم سے رہائی پا گئے۔ جب کچھ زمانہ گزر گیا تو بادشاہ بیگم نے حکم بھیجا کہ کسی دن میرے بچے کو میرے پاس لاؤ، ایک دن مقرر ہو گیا، تمام ارکان سلطنت اور درباریوں کو حکم ہوا کہ آج میرا بچہ میرے پاس آئے گا۔ تم سب قدم قدم پر اس کا استقبال کرو اور دھوم دھام سے نذریں دیتے ہوئے اسے میرے محل سرائے تک لاؤ۔ چنانچہ جب سواری روانہ ہوئی، وہاں سے لے کر محل سرائے سلطانی تک برابر تحفے تحائف نذریں اور ہدیے پیشکش ہوتے رہے اور بڑے ہی عزت و اکرام کے ساتھ آپ یہاں پہنچے تو خود بیگم نے بھی خوشی خوشی بہت بڑی رقم پیش کی اور بڑی خوشی منائی گئی۔ پھر کہنے لگی کہ میں تو اسے بادشاہ کے پاس لے جاؤں گی، وہ بھی اسے انعام و اکرام دیں گے، لے گئیں اور بادشاہ کی گود میں لٹا دیا۔ موسیٰ علیہ السلام نے اس کی داڑھی پکڑ کر زور سے گھسیٹی۔ فرعون کھٹک گیا اور اس کے درباریوں نے کہنا شروع کیا کہ کیا عجب یہی وہ لڑکا ہو آپ اسے فوراً قتل کرا دیجئیے۔

اے ابن جبیر یہ تھا چوتھا فتنہ۔ ملکہ بیتاب ہو کر بول اٹھیں، اے بادشاہ کیا ارادہ کر رہے ہو؟ آپ اسے مجھے دے چکے ہیں میں اسے اپنا بیٹا بنا چکی ہوں۔ بادشاہ نے کہا یہ سب ٹھیک ہے لیکن دیکھو تو اس نے تو آتے ہی داڑھی پکڑ کر مجھے نیچا کر دیا گویا یہی میرا گرانے والا اور مجھے تاخت و تاراج کرنے والا ہے۔ بیگم صاحبہ نے فرمایا، بادشاہ بچوں کو ان چیزوں کی کیا تمیز؟ سنو میں ایک فیصلہ کن بات بتاؤں، اس کے سامنے دو انگارے آگ کے سرخ رکھ دو اور دو موتی آبدار چمکتے ہوئے رکھ دو پھر دیکھو یہ کیا اٹھاتا ہے؟ اگر موتی اٹھا لے تو سمجھنا کہ اس میں عقل ہے اور اگر آگ کے انگارے تھام لے تو سمجھ لینا کہ عقل نہیں۔ جب عقل و تمیز نہیں تو اس کی داڑھی پکڑ لینے پر اتنے لمبے خیالات کر کے اس کی جان کا دشمن بن جانا کون سی دانائی کی بات ہے؟ چنانچہ یہی کیا گیا دونوں چیزیں آپ کے سامنے رکھی گئیں۔ آپ نے دہکتے ہوئے انگارے اٹھا لیے اسی وقت وہ چھین لیے کہ ایسا نہ ہو ہاتھ جل جائیں۔ اب فرعون کا غصہ ٹھنڈا ہوا اور اس کا بدلا ہوا رخ ٹھیک ہو گیا۔ حق تو یہ ہے کہ اللہ کو جو کام کرنا مقصود ہوتا ہے، اس کے قدرتی اسباب مہیا ہو ہی جاتے ہیں۔ موسیٰ علیہ السلام کی دربار فرعون میں فرعون کے خاص محل میں فرعون کی بیوی کی گود میں ہی پرورش ہوتی رہی۔ یہاں تک کہ آپ اچھی عمر کو پہنچ گئے اور بالغ ہو گئے۔

اب تو فرعونیوں کے جو مظالم اسرائیلیوں پر ہو رہے تھے، ان میں بھی کمی ہو گئی تھی سب امن و امان سے تھے۔ ایک دن موسیٰ علیہ السلام کہیں جا رہے تھے کہ راستے میں ایک فرعونی اور ایک اسرائیلی کی لڑائی ہو رہی تھی۔ اسرائیلی نے موسیٰ علیہ السلام سے فریاد کی آپ کو سخت غصہ آیا اسلئے کہ اس وقت وہ فرعونی اس بنی اسرائیلی کو دبوچے ہوئے تھا، آپ نے اسے ایک مکا مارا، اللہ کی شان مکا لگتے ہی وہ مر گیا۔ یہ تو لوگوں کو عموماً معلوم تھا کہ موسیٰ علیہ السلام بنی اسرائیلیوں کی طرف داری کرتے ہیں لیکن لوگ اس کی وجہ اب تک یہی سمجھتے تھے کہ چونکہ آپ نے انہی میں دودھ پیا ہے، اس لیے ان کے طرفدار ہیں۔ اصلی راز کا علم تو صرف آپ کی والدہ کو تھا اور ممکن ہے اللہ تعالیٰ نے اپنے کلیم کو بھی معلوم کرا دیا ہو۔ اسے مردہ دیکھتے ہی موسیٰ علیہ السلام کانپ اٹھے کہ یہ تو شیطانی حرکت ہے وہ بہکانے والا اور کھلا دشمن ہے۔

پھر اللہ تعالیٰ سے معافی مانگنے لگے کہ باری تعالیٰ میں نے اپنی جان پر ظلم کیا تو معاف فرما۔ پروردگار نے بھی آپ کی اس خطا سے درگزر فرما لیا وہ تو غفور و رحیم ہے ہی۔ چونکہ قتل کا معاملہ تھا، آپ پھر بھی خوفزدہ ہی رہے، تاک جھانک میں رہے کہ کہیں معاملہ کھل تو نہیں گیا۔ ادھر فرعون کے پاس شکایت ہوئی کہ ایک قبطی کو کسی بنی اسرائیلی نے مار ڈالا ہے، فرعون نے حکم جاری کر دیا کہ واقعہ کی پوری تحقیق کرو قاتل کو تلاش کر کے پکڑ لاؤ اور گواہ بھی پیش کرو اور جرم ثابت ہو جانے کی صورت میں اسے بھی قتل کر دو۔ پولیس نے ہر چند تفتیش کی لیکن قاتل کا کوئی سراغ نہ ملا۔ اتفاق کی بات کہ دوسرے ہی دن موسیٰ علیہ السلام پھر کہیں جا رہے تھے کہ دیکھا وہی بنی اسرائیلی شخص ایک دوسرے فرعونی سے جھگڑ رہا ہے۔ موسیٰ علیہ السلام کو دیکھتے ہی وہ دہائی دینے لگا لیکن اس نے یہ محسوس کیا کہ شاید موسیٰ علیہ السلام اپنے کل کے فعل سے نادم ہیں۔ موسیٰ علیہ السلام کو بھی اس کا یہ باربار کا جھگڑنا اور فریاد کرنا برا معلوم ہوا اور کہا تم تو بڑے لڑاکا ہو، یہ فرما کر اس فرعونی کو پکڑنا چاہا لیکن اس بنی اسرائیلی بزدل نے سمجھا کہ شاید آپ چونکہ مجھ پر ناراض ہیں مجھے ہی پکڑنا چاہتے ہیں۔

حالانکہ اس کا یہ صرف بزدلانہ خیال تھا آپ تو اسی فرعونی کو پکڑنا چاہتے تھے اور اسے بچانا چاہتے تھے لیکن خوف و ہراس کی حالت میں بےساختہ اس کے منہ سے نکل گیا کہ موسیٰ (‏‏‏‏علیہ السلام) جیسے کہ کل تو نے ایک آدمی کو مار ڈالا تھا، کیا آج مجھے مار ڈالنا چاہتا ہے؟ یہ سن کر وہ فرعونی اسے چھوڑ بھاگا، دوڑا گیا اور سرکاری سپاہ کو اس واقعہ کی خبر کر دی۔ فرعون کو بھی قصہ معلوم ہوا۔ اسی وقت جلادوں کو حکم دیا کہ موسیٰ } (‏‏‏‏علیہ السلام) کو پکڑ کر قتل کر دو۔ یہ لوگ شارع عام سے آپ کی جستجو میں چلے۔ ادھر ایک بنی اسرائیلی نے راستہ کاٹ کر نزدیک کے راستے سے آ کر موسیٰ علیہ السلام کو خبر کر دی۔ اے ابن جبیر رحمہ اللہ یہ ہے پانچواں فتنہ۔ موسیٰ علیہ السلام یہ سنتے ہی مٹھیاں بند کرکے مصر سے بھاگ کھڑے ہوئے، نہ کبھی پیدل چلے تھے نہ کبھی کسی مصیبت میں پھنسے تھے، شہزادوں کی طرح لاڈ چاؤ میں پلے تھے، نہ راستے کی خبر تھی نہ کبھی سفر کا اتفاق پڑا تھا۔ رب پر بھروسہ کر کے یہ دعا کر کے کہ اے اللہ مجھے سیدھی راہ لے چلنا، چل کھڑے ہوئے یہاں تک کہ مدین کی حدود میں پہنچے۔

یہاں دیکھا کہ لوگ اپنے جانوروں کو پانی پلا رہے ہیں وہیں دو لڑکیوں کو دیکھا کہ اپنے جانوروں کو روکے کھڑی ہیں۔ پوچھا کہ تم ان کے ساتھ اپنے جانوروں کو پانی کیوں نہیں پلا لیتیں؟ الگ کھڑی ہوئی انہیں کیوں روک رہی ہو؟ انہوں نے جواب دیا کہ اس بھیڑ میں ہمارے بس کی بات نہیں کہ اپنے جانوروں کو پانی پلائیں، ہم تو جب یہ لوگ پانی پلا چکتے ہیں ان کا بقیہ اپنے جانوروں کو پلا دیا کرتی ہیں۔ آپ فوراً آگے بڑھے اور ان کے جانوروں کو پانی پلا دیا۔ چونکہ بہت جلد پانی کھینچا، آپ بہت قوی آدمی تھے، سب سے پہلے ان کے جانوروں کو سیر کر دیا۔ یہ اپنی بکریاں لے کر اپنے گھر روانہ ہوئیں اور آپ ایک درخت کے سائے تلے بیٹھ گئے اور اللہ سے دعا کرنے لگے کہ پروردگار میں تیری تمام تر مہربانیوں کا محتاج ہوں۔ یہ دونوں لڑکیاں جب اپنے والد کے پاس پہنچیں تو انہوں نے کہا، آج کیا بات ہے کہ تم وقت سے پہلے ہی آ گئیں؟ اور بکریاں بھی خوب آسودہ اور شکم سیر معلوم ہوتی ہیں۔ تو ان بچیوں نے سارا واقعہ کہہ سنایا آپ نے حکم دیا کہ تم میں سے ایک ابھی چلی جائے اور انہیں میرے پاس بلا لائے۔ وہ آئیں اور موسیٰ علیہ السلام کو اپنے والد صاحب کے پاس لے گئیں۔ انہوں نے سرسری ملاقات کے بعد واقعہ پوچھا تو آپ نے سارا قصہ کہہ سنایا، اس پر وہ فرمانے لگے اب کوئی ڈر کی بات نہیں آپ ان ظالموں سے چھوٹ گئے۔ ہم لوگ فرعون کی رعایا نہیں نہ ہم پر اس کا کوئی دباؤ ہے۔ اسی وقت ایک لڑکی نے اپنے باپ سے کہا کہ ابا جی انہوں نے ہمارا کام کر دیا ہے اور یہ ہیں بھی قوت والے امانت دار شخص، کیا اچھا ہو کہ آپ انہیں اپنے ہاں مقرر کر لیجئے کہ یہ اجرت پر ہماری بکریاں چرا لایا کریں۔ باپ کو غیرت اور غصہ آ گیا اور پوچھا بیٹی تمہیں یہ کیسے معلوم ہو گیا کہ یہ قوی اور امین ہیں؟ بچی نے جواب دیا کہ قوت تو اس وقت معلوم ہوئی جب انہوں نے ہماری بکریوں کے لیے پانی نکالا اتنے بڑے ڈول کو اکیلے ہی کھینچتے تھے اور بڑی پھرتی اور ہرپن سے۔ امانت داری یوں معلوم ہوئی کہ میری آواز سن کر انہوں نے نظر اونچی کی اور جب یہ معلوم ہو گیا کہ میں عورت ہوں، پھر نیچی گردن کر کے میری باتیں سنتے رہے، واللہ! آپ کا پورا پیغام پہنچانے تک انہوں نے نگاہ اونچی نہیں کی۔ پھر مجھ سے فرمایا کہ تم میرے پیچھے رہو مجھے دور سے راستہ بتا دیا کرنا۔ یہ بھی دلیل ہے ان کی اللہ خوفی اور امانت داری کی۔ باپ کی غیرت و حمیت بھی رہ گئی، بچی کی طرف سے بھی دل صاف ہو گیا اور موسیٰ علیہ السلام کی محبت دل میں سما گئی۔

اب موسیٰ علیہ السلام سے فرمانے لگے، میرا ارادہ ہے کہ اپنی ان دونوں لڑکیوں میں سے ایک کا نکاح آپ کے ساتھ کر دوں اس شرط پر کہ آپ آٹھ سال تک میرے ہاں کام کاج کرتے رہیں، ہاں اگر دس سال تک کریں تو اور بھی اچھا ہے، ان شاءاللہ آپ دیکھ لیں گے کہ میں بھلا آدمی ہوں۔ چنانچہ یہ معاملہ طے ہو گیا اور اللہ کے پیغمبر علیہ السلام نے بجائے آٹھ سال کے دس سال پورے کئے۔ سیدنا سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں پہلے مجھے یہ معلوم نہ تھا اور ایک نصرانی عالم مجھ سے یہ پوچھ بیٹھا تھا تو میں اسے کوئی جواب نہ دے سکا، پھر جب میں نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا اور آپ نے جواب دیا تو میں نے اس سے ذکر کیا، اس نے کہا تمہارے استاد بڑے عالم ہیں۔ میں نے کہا، ہاں ہیں ہی۔ اب موسیٰ علیہ السلام اس مدت کو پوری کر کے اپنی اہلیہ صاحبہ کو لیے ہوئے یہاں سے چلے۔ پھر وہ واقعات ہوئے جن کا ذکر ان آیتوں میں ہے۔ آگ دیکھی، گئے، اللہ سے کلام کیا، لکڑی کا اژدھا بننا، ہاتھ کا نورانی بننا ملاحظہ کیا، نبوت پائی، فرعون کی طرف بھیجے گئے تو قتل کے واقعہ کے بدلے کا اندیشہ ظاہر فرمایا۔ اس سے اطمینان حاصل کر کے زبان کی گرہ کشائی کی طلب کی۔ اس کو حاصل کر کے اپنے بھائی ہارون کی ہمدردی اور شرکت کار چاہی۔ یہ بھی حاصل کر کے لکڑی لیے ہوئے شاہ مصر کی طرف چلے۔

ادھر ہارون علیہ السلام کے پاس وحی پہنچی کہ اپنے بھائی کی موافقت کریں اور ان کا ساتھ دیں۔ دونوں بھائی ملے اور فرعون کے دربار میں پہنچے۔ اطلاع کرائی بڑی دیر میں اجازت ملی، اندر گئے، فرعون پر ظاہر کیا کہ ہم اللہ کے رسول بن کر تیرے پاس آئے ہیں۔ اب جو سوال جواب ہوئے وہ قرآن میں موجود ہیں۔ فرعون نے کہا اچھا تم چاہتے کیا ہو؟ اور واقعہ قتل یاد دلایا جس کا عذر موسیٰ علیہ السلام نے بیان کیا جو قرآن میں موجود ہے اور کہا، ہمارا ارادہ یہ ہے کہ تو ایمان لا اور ہمارے ساتھ بنی اسرائیل کو اپنی غلامی سے رہائی دے۔ اس نے انکار کیا اور کہا کہ اگر سچے ہو تو کوئی معجزہ دکھاؤ، آپ نے اسی وقت اپنی لکڑی زمین پر ڈال دی وہ زمین پر پڑتے ہی ایک زبردست خوفناک اژدھے کی صورت میں منہ پھاڑے کچلیاں نکالے فرعون کی طرف لپکا۔ مارے خوف کے فرعون تخت سے کود گیا اور بھاگتا ہوا عاجزی سے فریاد کرنے لگا کہ موسیٰ (‏‏‏‏علیہ السلام) اللہ کے واسطے اسے پکڑ لو۔ آپ نے ہاتھ لگایا اسی وقت لاٹھی اپنی اصلی حالت میں آ گئی۔ پھر آپ نے اپنا ہاتھ اپنے گریبان میں ڈال کر نکالا تو وہ بغیر کسی مرض کے داغ کے چمکتا ہوا نکلا جسے دیکھ کر وہ حیران ہو گیا، آپ نے پھر ہاتھ ڈال کر نکالا تو وہ اپنی اصلی حالت میں تھا۔ اب فرعون نے اپنے درباریوں کی طرف دیکھ کر کہا کہ تم نے دیکھا، یہ دونوں جادوگر ہیں چاہتے ہیں کہ اپنے جادو کے زور سے تمہیں تمہارے ملک سے نکال باہر کریں اور تمہارے ملک پر قابض ہو کر تمہارے طریقے مٹا دیں۔

پھر موسیٰ علیہ السلام سے کہا کہ ہمیں آپ کی نبوت ماننے سے بھی انکار ہے اور آپ کا کوئی مطالبہ بھی ہم پورا نہیں کر سکتے بلکہ ہم اپنے جادوگروں کو تمہارے مقابلہ کے لیے بلا رہے ہیں جو تمہارے اس جادو پر غالب آ جائیں گے۔ چنانچہ یہ لوگ اپنی کوششوں میں مشغول ہو گئے۔ تمام ملک سے جادوگروں کو بڑی عزت سے بلوایا جب سب جمع ہو گئے تو انہوں نے پوچھا کہ اس کا جادو کس قسم کا ہے؟ فرعون والوں نے کہا لکڑی کا سانپ بنا دیتا ہے۔ انہوں نے کہا، اس میں کیا ہے؟ ہم لکڑیوں کی رسیوں کے وہ سانپ بنائیں گے کہ روئے زمین پر ان کا کوئی مقابلہ نہ کر سکے۔ لیکن ہمارے لیے انعام مقرر ہو جانا چاہیئے۔ فرعون نے ان سے قول و قرار کیا کہ انعام کیسا؟ میں تو تمہیں اپنا مقرب خاص اور درباری بنا لوں گا اور تمہیں نہال نہال کر دونگا جو مانگو گے پاؤ گے۔ چنانچہ انہوں نے اعلان کر دیا کہ عید کے روز دن چڑھے فلاں میدان میں مقابلہ ہو گا۔ مروی ہے کہ ان کی یہ عید عاشورا کے دن تھی۔

اس دن تمام لوگ صبح ہی صبح اس میدان میں پہنچ گئے کہ آج چل کر دیکھیں گے کہ کون غالب آتا ہے؟ ہم تو جادوگروں کے کمالات کے قائل ہیں وہی غالب آئیں گے اور ہم انہی کی مانیں گے۔ مذاق سے اس بات کو بدل کر کہتے تھے کہ چلو انہی دونوں جادوگروں کے مطیع بن جائیں گے اگر وہ غالب رہیں۔ میدان میں آ کر جادوگروں نے انبیاء اللہ علیہم السلام سے کہا کہ لو اب بتاؤ، تم پہلے اپنا جادو ظاہر کرتے ہو یا ہم ہی شروع کریں؟ آپ نے فرمایا تم ہی ابتداء کرو تاکہ تمہارے ارمان پورے ہوں۔ اب انہوں نے اپنی لکڑیاں اور رسیاں میدان میں ڈالیں تو ایسا لگا کہ وہ سب سانپ اور بلائیں بن کر اللہ کے نبیوں کی طرف دوڑیں جس سے خوفزدہ ہو کر آپ پیچھے ہٹنے لگے۔ اس وقت اللہ کی وحی آئی کہ آپ اپنی لکڑی زمین پر ڈال دیجئیے، آپ نے ڈالدی، وہ ایک خوفناک بھیانک عظیم الشان اژدھابن کر ان کی طرف دوڑا یہ لکڑیاں رسیاں سب گڈ مڈ ہو گئیں اور وہ ان سب کو نگل گیا۔ جادوگر سمجھ گئے کہ یہ جادو نہیں یہ تو سچ مچ اللہ کیطرف کا نشان ہے، جادو میں یہ بات کہاں؟ چنانچہ سب نے اپنے ایمان کا اعلان کر دیا کہ ہم موسیٰ کے رب پر ایمان لائے اور ان دونوں بھائیوں کی نبوت ہمیں ت
39۔ 1 مراد فرعون ہے جو اللہ کا بھی دشمن اور حضرت موسیٰ ؑ کا بھی دشمن تھا۔ یعنی لکڑی کا وہ تابوت تیرتا ہوا جب شاہی محل کے کنارے پہنچا تو اسے باہر نکال کر دیکھا گیا، تو اس میں ایک معصوم بچہ تھا، فرعون نے اپنی بیوی کی خواہش پر پرورش کے لئے شاہی محل میں رکھ لیا۔ 39۔ 2 یعنی فرعون کے دل میں ڈال دی یا عام لوگوں کے دلوں میں تیری محبت ڈال دی۔ 39۔ 3 چناچہ اللہ کی قدرت کا اور اس کی حفاظت و نگہبانی کا کمال اور کرشمہ دیکھئے کہ جس بچے کی خاطر، فرعون بیشمار بچوں کو قتل کروا چکا، تاکہ وہ زندہ نہ رہے، اسی بچے کو اللہ تعالیٰ اس کی گود میں پلوا رہا ہے، اور ماں اپنے بچے کو دودھ پلا رہی ہے، لیکن اس کی اجرت بھی اسی دشمن موسیٰ ؑ سے وصول کر رہی ہے۔
(آیت 39) ➊ { اَنِ اقْذِفِيْهِ فِي التَّابُوْتِ …:} یعنی تمھارا کام بس اتنا ہے کہ صندوق میں ڈال کر دریا (نیل) میں ڈال دو۔ آگے دریا کو ہمارا حکم یہ ہے کہ اسے راستے میں روکنے یا لے جا کر سمندر میں ڈالنے کے بجائے عین فرعون کے محل کے پاس ساحل پر لگا دے۔ اس واقعہ کی پوری تفصیل سورۂ قصص (۷ تا ۱۳) میں ہے۔ ➋ {وَ اَلْقَيْتُ عَلَيْكَ مَحَبَّةً مِّنِّيْ …:} یعنی تمھاری صورت ایسی بنائی اور اس میں اپنی طرف سے ایسی انوکھی دل ربائی رکھی کہ جو کوئی تمھیں دیکھتا بے اختیار محبت کرنے لگتا۔ {” وَ لِتُصْنَعَ عَلٰى عَيْنِيْ “} کا عطف {” وَ اَلْقَيْتُ عَلَيْكَ مَحَبَّةً مِّنِّيْ “} سے حاصل ہونے والے مفہوم پر ہے، جس کی تقدیر یوں ہو گی:{ ”وَ أَلْقَيْتُ عَلَيْكَ مَحَبَّةً مِّنِّيْ لِتُحَبَّ وَلِتُصْنَعَ عَلٰي عَيْنِيْ “} ”اور میں نے تجھ پر ایک انوکھی محبت ڈال دی، تاکہ تجھ سے محبت کی جائے اور تاکہ تیری پرورش میری آنکھوں کے سامنے کی جائے۔“ اس عطف کی مزید توجیہات مفصل کتب میں دیکھیں۔ {” مَحَبَّةً “} میں تنوین تنکیر کے لیے ہے، اس لیے ”ایک انوکھی محبت“ ترجمہ کیا ہے، یعنی جو اسباب کی وجہ سے نہیں تھی، بلکہ بلااسباب خاص اللہ تعالیٰ کی طرف سے تھی۔
اِذۡ تَمۡشِیۡۤ اُخۡتُکَ فَتَقُوۡلُ ہَلۡ اَدُلُّکُمۡ عَلٰی مَنۡ یَّکۡفُلُہٗ ؕ فَرَجَعۡنٰکَ اِلٰۤی اُمِّکَ کَیۡ تَقَرَّ عَیۡنُہَا وَ لَا تَحۡزَنَ ۬ؕ وَ قَتَلۡتَ نَفۡسًا فَنَجَّیۡنٰکَ مِنَ الۡغَمِّ وَ فَتَنّٰکَ فُتُوۡنًا ۬۟ فَلَبِثۡتَ سِنِیۡنَ فِیۡۤ اَہۡلِ مَدۡیَنَ ۬ۙ ثُمَّ جِئۡتَ عَلٰی قَدَرٍ یّٰمُوۡسٰی ﴿۴۰﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
یاد کر جبکہ تیری بہن چل رہی تھی، پھر جا کر کہتی ہے، "میں تمہیں اُس کا پتہ دوں جو اِس بچے کی پرورش اچھی طرح کرے؟" اس طرح ہم نے تجھے پھر تیری ماں کے پاس پہنچا دیا تاکہ اُس کی آنکھ ٹھنڈی رہے اور وہ رنجیدہ نہ ہو اور (یہ بھی یاد کر کہ) تو نے ایک شخص کو قتل کر دیا تھا، ہم نے تجھے اِس پھندے سے نکالا اور تجھے مختلف آزمائشوں سے گزارا اور تو مَدیَن کے لوگوں میں کئی سال ٹھیرا رہا پھر اب ٹھیک اپنے وقت پر تو آ گیا ہے اے موسیٰؑ
مولانا محمد جوناگڑھی
(یاد کر) جبکہ تیری بہن چل رہی تھی اور کہہ رہی تھی کہ اگر تم کہو تو میں اسے بتا دوں جو اس کی نگہبانی کرے، اس تدبیر سے ہم نے تجھے پھر تیری ماں کے پاس پہنچایا کہ اس کی آنکھیں ٹھنڈی رہیں اور وه غمگین نہ ہو۔ اور تو نے ایک شخص کو مار ڈاﻻ تھا اس پر بھی ہم نے تجھے غم سے بچا لیا، غرض ہم نے تجھے اچھی طرح آزما لیا۔ پھر تو کئی سال تک مدین کے لوگوں میں ٹھہرا رہا، پھر تقدیر الٰہی کے مطابق اے موسیٰ! تو آیا
احمد رضا خان بریلوی
تیری بہن چلی پھر کہا کیا میں تمہیں وہ لوگ بتادوں جو اس بچہ کی پرورش کریں تو ہم تجھے تیری ماں کے پاس پھیر لائے کہ اس کی آنکھ ٹھنڈی ہو اور غم نہ کرے اور تو نے ایک جان کو قتل کیا تو ہم نے تجھے غم سے نجات دی اور تجھے خوب جانچ لیا تُو تو کئی برس مدین والوں میں رہا پھر تو ایک ٹھہرائے وعدہ پر حاضر ہوا اے موسیٰ!
علامہ محمد حسین نجفی
اور وہ وقت یاد کرو جب تمہاری بہن چل رہی تھی اور (فرعون کے اہل خانہ سے) کہہ رہی تھی کہ کیا میں تم لوگوں کو ایسی (دایہ) بتاؤں جو اس کی پرورش کرے؟ اور اس طرح ہم نے تمہیں تمہاری ماں کی طرف لوٹا دیا تاکہ اس کی آنکھ ٹھنڈی ہو اور رنجیدہ نہ ہو اور تم نے ایک شخص کو قتل کر دیا تھا تو ہم نے تمہیں اس غم سے نجات دی اور ہم نے تمہاری ہر طرح آزمائش کی۔ پھر تم کئی برس تک مدین کے لوگوں میں رہے اور پھر اے موسیٰ! تم اپنے معین وقت پر (یہاں) آگئے۔
عبدالسلام بن محمد
جب تیری بہن چلی جاتی تھی، پس کہتی تھی کیا میں تمھیں اس کا پتا دوں جو اس کی پرورش کرے؟ پس ہم نے تجھے تیری ماں کی طرف لوٹا دیا، تاکہ اس کی آنکھ ٹھنڈی ہو اور وہ غم نہ کرے۔ اور تو نے ایک شخص کو قتل کر دیا تو ہم نے تجھے غم سے نجات دی اور ہم نے تجھے آزمایا، خوب آزمانا، پھر کئی سال تو مدین والوں میں ٹھہرا رہا، پھر تو ایک مقرر اندازے پر آیا اے موسیٰ!
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
موسیٰ علیہ السلام کا بچپن ٭٭

حضرت موسیٰ علیہ السلام کی تمام دعائیں قبول ہوئیں اور فرما دیا گیا کہ تمہاری درخواست منظور ہے۔ اس احسان کے ساتھ ہی اور احسان کا بھی ذکر کر دیا گیا کہ ہم نے تجھ پر ایک مرتبہ اور بھی بڑا احسان کیا ہے۔ پھر اس واقعہ کو مختصر طور پر یاد دلایا کہ ہم نے تیرے بچپن کے وقت تیری ماں کی طرف وحی بھیجی جس کا ذکر اب تم سے ہو رہا ہے۔ تم اس وقت دودھ پیتے بچے تھے، تمہاری والدہ کو فرعون اور فرعونیوں کا کھٹکا تھا کیونکہ اس سال وہ بنو اسرائیل کے لڑکوں کو قتل کر رہا تھا۔ اس خوف کے مارے وہ ہر وقت کانپتی رہتی تھیں تو ہم نے وحی کی کہ ایک صندوق بنا لو، دودھ پلا کر بچے کو اس میں لٹا کر دریائے نیل میں اس صندوق کو چھوڑ دو چنانچہ وہ یہی کرتی رہیں۔ ایک رسی اس میں باندھ رکھی تھی جس کا ایک سرا اپنے مکان سے باندھ لیتی تھیں۔ ایک مرتبہ باندھ رہی تھیں جو رسی ہاتھ سے چھوٹ گئی اور صندوق کو پانی کی موجیں بہا لے چلیں۔ اب تو کلیجہ تھام کر رہ گئیں اس قدر غمزدہ ہوئیں کہ صبر ناممکن تھا، شاید راز فاش کر دیتیں لیکن ہم نے دل مضبوط کر دیا۔ صندوق بہتا ہوا فرعون کے محل کے پاس سے گزرا آل فرعون نے اسے اٹھا لیا کہ جس غم سے وہ بچنا چاہتے تھے، جس صدمے سے وہ محفوظ رہنا چاہتے تھے، وہ ان کے سامنے آ جائے۔ جسکی شمع حیات کو بجھانے کے لیے وہ بےگناہ معصوموں کا قتل عام کر رہے تھے، وہ انہی کے تیل سے انہی کے ہاں روشن ہوا اور اللہ کے ارادے بیروک پورے ہو جائیں۔ ان کا دشمن انہی کے ہاتھوں پلے انہی کا کھائے ان کے ہاں تربیت پائے۔

خود فرعون اور اس کی اہلیہ محترمہ نے جب بچے کو دیکھا، رگ رگ میں محبت سما گئی، لے کر پرورش کرنے لگے۔ آنکھوں کا تارا سمجھنے لگے شاہزادوں کی طرح ناز و نعمت سے پلنے لگے شاہی دربار میں رہنے لگے۔ اللہ نے اپنی محبت تجھ پر ڈال دی گو فرعون تیرا دشمن تھا لیکن رب کی بات کون بدلے؟ اللہ کے ارادے کو کون ٹالے؟ فرعون پر ہی کیا منحصر ہے، جو دیکھتا آپ کا والہ و شیدا بن جاتا۔ یہ اس لیے تھا کہ تیری پرورش میری نگاہ کے سامنے ہو، شاہی خوراکیں کھا عزت و وقعت کے ساتھ رہ۔ فرعون والوں نے صندوقچہ اٹھا لیا کھولا بچے کو دیکھا، پالنے کا ارادہ کیا لیکن آپ کسی دایہ کا دودھ دباتے ہی نہیں بلکہ منہ میں ہی نہیں لیتے۔ بہن جو صندوق کو دیکھتی بھالتی کنارے کنارے آ رہی تھی وہ بھی موقعہ پر پہنچ گئیں، کہنے لگیں کہ آپ اگر اس کی پرورش کی تمنا کرتے ہیں اور معقول اجرت بھی دیتے ہیں تو میں ایک گھرانہ بتاؤں جو اسے محبت سے پالے اور خیر خواہانہ برتاؤ کرے۔ سب نے کہا ہم تیار ہیں۔ آپ انہیں لیے ہوئے اپنی والدہ کے پاس پہنچیں، جب بچہ ان کی گود میں ڈال دیا گیا، آپ نے جھٹ سے منہ لگا دودھ پینا شروع کیا۔ جس سے فرعون کے ہاں بڑی خوشیاں منائی گئیں اور بہت کچھ انعام و اکرام دیا گیا۔ تنخواہ مقرر ہو گئی، اپنے ہی بچے کو دودھ پلاتیں اور تنخواہ اور انعام بھی اور عزت و اکرام بھی پاتیں۔ دنیا بھی ملے دین بھی بڑھے۔ اسی لیے حدیث میں آیا ہے کہ { جو شخص اپنے کام کو کرے اور نیک نیتی سے کرے، اس کی مثال ام موسیٰ علیہ السلام کی مثال ہے کہ اپنے ہی بچے کو دودھ پلائے اور اجرت بھی لے۔ } پس یہ بھی ہماری کرم فرمائی ہے کہ ہم نے تجھے تیری ماں کی گود میں واپس کیا کہ اس کی آنکھیں ٹھنڈی رہیں اور غم و رنج جاتا رہے۔ پھر تمہارے ہاتھ سے ایک فرعونی قبطی مار ڈالا گیا تو بھی ہم نے تمہیں بچا لیا، فرعونیوں نے تمہارے قتل کا ارادہ کر لیا تھا، راز فاش ہو چکا تھا۔ تمہیں یہاں سے نجات دی تم بھاگ کھڑے ہوئے۔ مدین کے کنوئیں پر جا کر تم نے دم لیا۔ وہیں ہمارے ایک نیک بندے نے تمہیں بشارت سنائی کہ اب کوئی خوف نہیں ان ظالموں سے تم نے نجات پا لی۔ تجھے ہم نے بطور آزمائش اور بھی بہت سے فتنوں میں ڈالا۔

سعید بن جبیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے اس کی بابت سوال کیا تو آپ نے فرمایا اب تو دن ڈوبنے کو ہے واقعات زیادہ ہیں پھر سہی۔ چنانچہ میں نے دوسری صبح پھر سوال کیا تو آپ نے فرمایا سنو! فرعون کے دربار میں ایک دن اس بات کا ذکر چھڑا کہ اللہ کا وعدہ ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام سے یہ تھا کہ ان کی اولاد میں انبیاء اور بادشاہ ہوں گے۔ چنانچہ بنو اسرائیل اس کے آج تک منتظر ہیں اور انہیں یقین ہے کہ مصر کی سلطنت پھر ان میں جائے گی۔ پہلے تو ان کا خیال تھا کہ یہ وعدہ یوسف علیہ السلام کی بابت تھا لیکن ان کی وفات تک جب کہ یہ وعدہ پورا نہیں ہوا تو وہ اب عقیدہ رکھتے ہیں کہ اللہ ان میں اپنے ایک پیغمبر کو بھیجے گا جن کے ہاتھوں انہیں سلطنت بھی ملے گی اور ان کی قومی و مذہبی ترقی ہو گی۔ ً یہ باتیں کر کے انہوں نے مجلس مشاورت قائم کی کہ اب کیا کیا جائے جس سے آئندہ کے اس خطرے سے محفوظ رہ سکیں۔ آخر اس جلسے میں قرار داد منظور ہوئی کہ پولیس کا ایک محکمہ قائم کیا جائے جو شہر کا گشت لگاتا رہے اور بنی اسرائیل میں جو نرینہ اولاد ہو، اسے اسی وقت سرکار میں پیش کیا جائے اور ذبح کر دیا جائے۔ لیکن جب ایک مدت گزر گئی تو انہیں خیال پیدا ہوا کہ اس طرح تو بنی اسرائیل بالکل فنا ہو جائیں گے اور جو ذلیل خدمتیں ان سے لی جاتی ہیں، جو بیگاریں ان سے وصول ہو رہی ہیں، سب موقوف ہو جائیں گی، اس لیے اب تجویز ہوا کہ ایک سال ان کے بچوں کو چھوڑ دیا جائے اور ایک سال ان کے لڑکے قتل کر دیئے جائیں۔ اس طرح موجودہ بنی اسرائیلیوں کی تعداد بھی نہ بڑھے گی اور نہ اتنی کم ہو جائے گی کہ ہمیں اپنی خدمت گزاری کے لیے بھی نہ مل سکیں۔ جتنے بڈھے دو سال میں مریں گے، اتنے بچے ایک سال میں پیدا ہو جائیں گے۔

جس سال قتل موقوف تھا، اس سال تو ہارون علیہ السلام پیدا ہوئے اور جس سال قتل عام بچوں کا جاری تھا، اس برس موسیٰ علیہ السلام تولد ہوئے۔ آپ کی والدہ کی اس وقت کی گھبراہٹ اور پریشانی کا کیا پوچھنا؟ بے اندازہ تھی۔ ایک فتنہ تو یہ تھا۔ چنانچہ یہ خطرہ اس وقت دفع ہو گیا جب کہ اللہ کی وحی ان کے پاس آئی کہ ڈر خوف نہ کر ہم اسے تیری طرف پھر لوٹائیں گے اور اسے اپنا رسول بنائیں گے۔ چنانچہ بحکم الٰہی آپ نے اپنے بچے کو صندوق میں بند کر کے دریا میں بہا دیا، جب صندوق نظروں سے اوجھل ہو گیا تو شیطان نے دل میں وسوسے ڈالنے شروع کئے کہ افسوس اس سے تو یہی بہتر تھا کہ میرے سامنے ہی اسے ذبح کر دیا جاتا تو میں اسے خود ہی کفناتی دفناتی تو سہی لیکن اب تو میں نے خود اسے مچھلیوں کا شکار بنایا۔ یہ صندوق یونہی بہتا ہوا خاص فرعونی گھاٹ سے جا لگا، وہاں اس وقت محل کی لونڈیاں موجود تھیں، انہوں نے اس صندوق کو اٹھا لیا اور ارادہ کیا کہ کھول کر دیکھیں لیکن پھر ڈر گئیں کہ ایسا نہ ہو کہ چوری کا الزام لگے یونہی مقفل صندوق ملکہ فرعون کے پاس پہنچا دیا۔ یہ صندوق بادشاہ ملکہ کے سامنے کھولا گیا تو اس میں سے چاند جیسی صورت کا ایک چھوٹا سا معصوم بچہ نکلا جسے دیکھتے ہی فرعون کی بیوی صاحبہ کا دل محبت کے جوش سے اچھلنے لگا۔

ادھر ام موسیٰ کی حالت غیر ہو گئی، سوائے اپنے اس پیارے بچے کے خیال کے دل میں اور کوئی تصور ہی نہ تھا۔ ادھر ان قصائیوں کو جو حکومت کی طرف سے بچوں کے قتل کے محکمے کے ملازم تھے، معلوم ہوا تو وہ اپنی چھریاں تیز کئے ہوئے بڑھے اور ملکہ سے تقاضا کیا کہ بچہ انہیں سونپ دیں تاکہ وہ اسے ذبح کر ڈالیں۔ یہ دوسرا فتنہ تھا، آخر ملکہ نے جواب دیا کہ ٹھہرو میں خود بادشاہ سے ملتی ہوں اور اس بچے کو طلب کرتی ہوں، اگر وہ مجھے دے دیں تو خیر ورنہ تمہیں اختیار ہے۔ چنانچہ آپ آئیں اور بادشاہ سے کہا کہ یہ بچہ تو میری اور آپ کی آنکھوں کی ٹھنڈک ثابت ہو گا۔ اس خبیث نے کہا بس تم ہی اس سے اپنی آنکھیں ٹھنڈی رکھو، میری ٹھنڈک وہ کیوں ہونے لگا؟ مجھے اس کی کوئی ضرورت نہیں۔

اللہ تعالٰی کی تدابیر اعلیٰ اور محروم ہدایت فرعون ٭٭

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بہ حلف بیان فرماتے ہیں کہ { اگر وہ بھی کہہ دیتا کہ ہاں بیشک وہ میری آنکھوں کی بھی ٹھنڈک ہے تو اللہ تعالیٰ اسے بھی ضرور راہ راست دکھا دیتا جیسا کہ اس کی بیوی صاحبہ مشرف بہ ہدایت ہوئی لیکن اس نے خود اس سے محروم رہنا چاہا اللہ نے بھی اسے محروم کر دیا۔ } الغرض فرعون کو جوں توں راضی رضامند کر کے اس بچے کے پالنے کی اجازت لے کر آپ آئیں، اب محل کی جتنی دایہ تھیں سب کو جمع کیا ایک ایک کی گود میں بچہ دیا گیا لیکن اللہ تعالیٰ نے سب کا دودھ آپ پر حرام کر دیا، آپ نے کسی کا دودھ منہ میں لیا ہی نہیں۔ اس سے ملکہ گھبرائیں کہ یہ تو بہت ہی برا ہوا، یہ پیارا بچہ یونہی ہلاک ہو جائے گا۔ آخر سوچ کر حکم دیا کہ انہیں باہر لے جاؤ، ادھر ادھر تلاش کرو اور اگر کسی کا دودھ یہ معصوم قبول کرے تو اسے بہ منت سونپ دو۔ باہر بازار میں میلہ سا لگ گیا ہر شخص اس سعادت سے مالا مال ہونا چاہتا تھا لیکن موسیٰ علیہ السلام نے کسی کا دودھ نہ پیا۔ آپ کی والدہ نے اپنی بڑی صاحبزادی آپ کی بہن کو باہر بھیج رکھا تھا کہ وہ دیکھیں کیا ہوتا ہے؟ وہ اس مجمع میں موجود تھیں اور تمام واقعات دیکھ سن رہی تھیں۔ جب یہ لوگ عاجز آ گئے تو آپ نے فرمایا، اگر تم کہو تو میں ایک گھرانہ ایسا بتلاؤں جو اس کی نگہبانی کرے اور ہو بھی اس کا خیرخواہ۔ یہ کہنا تھا کہ لوگوں کو شک ہوا کہ ضرور یہ لڑکی اس بچے کو جانتی ہے اور اس کے گھر کو بھی پہچانتی ہے۔ اے ابن جبیر یہ تھا تیسرا فتنہ۔ لیکن اللہ نے لڑکی کو سمجھ دے دی اور اس نے جھٹ سے کہا کہ بھلا تم اتنا نہیں سمجھے کون بدنصیب ایسا ہو گا جو اس بچے کی خیر خواہی یا پرورش میں کمی کرے جو بچہ ہماری ملکہ کا پیارا ہے۔ کون نہ چاہے گا کہ یہ ہمارے ہاں پلے تاکہ انعام و اکرام سے اس کا گھر بھر جائے۔ یہ سن کر سب کی سمجھ میں آ گیا اسے چھوڑ دیا اور کہا بتا تو کون سی دایہ اس کے لیے تجویز کرتی ہے؟ اس نے کہا میں ابھی لائی، دوڑی ہوئی گئیں اور والدہ کو یہ خوشخبری سنائی۔ والدہ صاحبہ شوق و امید سے آئیں اپنے پیارے بچے کو گود میں لیا، اپنا دودھ منہ میں دیا بچے نے پیٹ بھر کر پیا۔ اسی وقت شاہی محلات میں یہ خوشخبری پہنچائی گئی ملکہ کا حکم ہوا کہ فوراً اس دایہ کو اور بچے کو میرے پاس لاؤ، جب ماں بیٹا پہنچے تو اپنے سامنے دودھ پلوایا اور یہ دیکھ کر کہ بچہ اچھی طرح دودھ پیتا ہے، بہت ہی خوش ہوئیں اور فرمانے لگیں کہ دائی اماں مجھے اس بچے سے وہ محبت ہے جو دنیا کی کسی اور چیز سے نہیں، تم یہیں محل میں رہو اور اس بچے کی پرورش کرو۔

لیکن موسیٰ علیہ السلام کی والدہ صاحبہ کے سامنے اللہ کا وعدہ تھا انہیں یقین کامل تھا اس لیے آپ ذرا رکیں اور فرمایا کہ یہ تو ناممکن ہے کہ میں اپنے گھر کو اور اپنے بچوں کو چھوڑ کر یہاں رہوں۔ اگر آپ چاہتی ہیں تو یہ بچہ میرے سپرد کر دیں میں اسے اپنے گھر لے جاتی ہوں ان کی پرورش میں کوئی کوتاہی نہ کروں گی۔ ملکہ صاحبہ نے مجبوراً اس بات کو بھی مان لیا اور آپ اسی دن خوشی خوشی اپنے بچے کو لیے ہوئے گھر آ گئیں۔ اس بچے کی وجہ سے اس محلے کے بنو اسرائیل بھی فرعونی مظالم سے رہائی پا گئے۔ جب کچھ زمانہ گزر گیا تو بادشاہ بیگم نے حکم بھیجا کہ کسی دن میرے بچے کو میرے پاس لاؤ، ایک دن مقرر ہو گیا، تمام ارکان سلطنت اور درباریوں کو حکم ہوا کہ آج میرا بچہ میرے پاس آئے گا۔ تم سب قدم قدم پر اس کا استقبال کرو اور دھوم دھام سے نذریں دیتے ہوئے اسے میرے محل سرائے تک لاؤ۔ چنانچہ جب سواری روانہ ہوئی، وہاں سے لے کر محل سرائے سلطانی تک برابر تحفے تحائف نذریں اور ہدیے پیشکش ہوتے رہے اور بڑے ہی عزت و اکرام کے ساتھ آپ یہاں پہنچے تو خود بیگم نے بھی خوشی خوشی بہت بڑی رقم پیش کی اور بڑی خوشی منائی گئی۔ پھر کہنے لگی کہ میں تو اسے بادشاہ کے پاس لے جاؤں گی، وہ بھی اسے انعام و اکرام دیں گے، لے گئیں اور بادشاہ کی گود میں لٹا دیا۔ موسیٰ علیہ السلام نے اس کی داڑھی پکڑ کر زور سے گھسیٹی۔ فرعون کھٹک گیا اور اس کے درباریوں نے کہنا شروع کیا کہ کیا عجب یہی وہ لڑکا ہو آپ اسے فوراً قتل کرا دیجئیے۔

اے ابن جبیر یہ تھا چوتھا فتنہ۔ ملکہ بیتاب ہو کر بول اٹھیں، اے بادشاہ کیا ارادہ کر رہے ہو؟ آپ اسے مجھے دے چکے ہیں میں اسے اپنا بیٹا بنا چکی ہوں۔ بادشاہ نے کہا یہ سب ٹھیک ہے لیکن دیکھو تو اس نے تو آتے ہی داڑھی پکڑ کر مجھے نیچا کر دیا گویا یہی میرا گرانے والا اور مجھے تاخت و تاراج کرنے والا ہے۔ بیگم صاحبہ نے فرمایا، بادشاہ بچوں کو ان چیزوں کی کیا تمیز؟ سنو میں ایک فیصلہ کن بات بتاؤں، اس کے سامنے دو انگارے آگ کے سرخ رکھ دو اور دو موتی آبدار چمکتے ہوئے رکھ دو پھر دیکھو یہ کیا اٹھاتا ہے؟ اگر موتی اٹھا لے تو سمجھنا کہ اس میں عقل ہے اور اگر آگ کے انگارے تھام لے تو سمجھ لینا کہ عقل نہیں۔ جب عقل و تمیز نہیں تو اس کی داڑھی پکڑ لینے پر اتنے لمبے خیالات کر کے اس کی جان کا دشمن بن جانا کون سی دانائی کی بات ہے؟ چنانچہ یہی کیا گیا دونوں چیزیں آپ کے سامنے رکھی گئیں۔ آپ نے دہکتے ہوئے انگارے اٹھا لیے اسی وقت وہ چھین لیے کہ ایسا نہ ہو ہاتھ جل جائیں۔ اب فرعون کا غصہ ٹھنڈا ہوا اور اس کا بدلا ہوا رخ ٹھیک ہو گیا۔ حق تو یہ ہے کہ اللہ کو جو کام کرنا مقصود ہوتا ہے، اس کے قدرتی اسباب مہیا ہو ہی جاتے ہیں۔ موسیٰ علیہ السلام کی دربار فرعون میں فرعون کے خاص محل میں فرعون کی بیوی کی گود میں ہی پرورش ہوتی رہی۔ یہاں تک کہ آپ اچھی عمر کو پہنچ گئے اور بالغ ہو گئے۔

اب تو فرعونیوں کے جو مظالم اسرائیلیوں پر ہو رہے تھے، ان میں بھی کمی ہو گئی تھی سب امن و امان سے تھے۔ ایک دن موسیٰ علیہ السلام کہیں جا رہے تھے کہ راستے میں ایک فرعونی اور ایک اسرائیلی کی لڑائی ہو رہی تھی۔ اسرائیلی نے موسیٰ علیہ السلام سے فریاد کی آپ کو سخت غصہ آیا اسلئے کہ اس وقت وہ فرعونی اس بنی اسرائیلی کو دبوچے ہوئے تھا، آپ نے اسے ایک مکا مارا، اللہ کی شان مکا لگتے ہی وہ مر گیا۔ یہ تو لوگوں کو عموماً معلوم تھا کہ موسیٰ علیہ السلام بنی اسرائیلیوں کی طرف داری کرتے ہیں لیکن لوگ اس کی وجہ اب تک یہی سمجھتے تھے کہ چونکہ آپ نے انہی میں دودھ پیا ہے، اس لیے ان کے طرفدار ہیں۔ اصلی راز کا علم تو صرف آپ کی والدہ کو تھا اور ممکن ہے اللہ تعالیٰ نے اپنے کلیم کو بھی معلوم کرا دیا ہو۔ اسے مردہ دیکھتے ہی موسیٰ علیہ السلام کانپ اٹھے کہ یہ تو شیطانی حرکت ہے وہ بہکانے والا اور کھلا دشمن ہے۔

پھر اللہ تعالیٰ سے معافی مانگنے لگے کہ باری تعالیٰ میں نے اپنی جان پر ظلم کیا تو معاف فرما۔ پروردگار نے بھی آپ کی اس خطا سے درگزر فرما لیا وہ تو غفور و رحیم ہے ہی۔ چونکہ قتل کا معاملہ تھا، آپ پھر بھی خوفزدہ ہی رہے، تاک جھانک میں رہے کہ کہیں معاملہ کھل تو نہیں گیا۔ ادھر فرعون کے پاس شکایت ہوئی کہ ایک قبطی کو کسی بنی اسرائیلی نے مار ڈالا ہے، فرعون نے حکم جاری کر دیا کہ واقعہ کی پوری تحقیق کرو قاتل کو تلاش کر کے پکڑ لاؤ اور گواہ بھی پیش کرو اور جرم ثابت ہو جانے کی صورت میں اسے بھی قتل کر دو۔ پولیس نے ہر چند تفتیش کی لیکن قاتل کا کوئی سراغ نہ ملا۔ اتفاق کی بات کہ دوسرے ہی دن موسیٰ علیہ السلام پھر کہیں جا رہے تھے کہ دیکھا وہی بنی اسرائیلی شخص ایک دوسرے فرعونی سے جھگڑ رہا ہے۔ موسیٰ علیہ السلام کو دیکھتے ہی وہ دہائی دینے لگا لیکن اس نے یہ محسوس کیا کہ شاید موسیٰ علیہ السلام اپنے کل کے فعل سے نادم ہیں۔ موسیٰ علیہ السلام کو بھی اس کا یہ باربار کا جھگڑنا اور فریاد کرنا برا معلوم ہوا اور کہا تم تو بڑے لڑاکا ہو، یہ فرما کر اس فرعونی کو پکڑنا چاہا لیکن اس بنی اسرائیلی بزدل نے سمجھا کہ شاید آپ چونکہ مجھ پر ناراض ہیں مجھے ہی پکڑنا چاہتے ہیں۔

حالانکہ اس کا یہ صرف بزدلانہ خیال تھا آپ تو اسی فرعونی کو پکڑنا چاہتے تھے اور اسے بچانا چاہتے تھے لیکن خوف و ہراس کی حالت میں بےساختہ اس کے منہ سے نکل گیا کہ موسیٰ (‏‏‏‏علیہ السلام) جیسے کہ کل تو نے ایک آدمی کو مار ڈالا تھا، کیا آج مجھے مار ڈالنا چاہتا ہے؟ یہ سن کر وہ فرعونی اسے چھوڑ بھاگا، دوڑا گیا اور سرکاری سپاہ کو اس واقعہ کی خبر کر دی۔ فرعون کو بھی قصہ معلوم ہوا۔ اسی وقت جلادوں کو حکم دیا کہ موسیٰ } (‏‏‏‏علیہ السلام) کو پکڑ کر قتل کر دو۔ یہ لوگ شارع عام سے آپ کی جستجو میں چلے۔ ادھر ایک بنی اسرائیلی نے راستہ کاٹ کر نزدیک کے راستے سے آ کر موسیٰ علیہ السلام کو خبر کر دی۔ اے ابن جبیر رحمہ اللہ یہ ہے پانچواں فتنہ۔ موسیٰ علیہ السلام یہ سنتے ہی مٹھیاں بند کرکے مصر سے بھاگ کھڑے ہوئے، نہ کبھی پیدل چلے تھے نہ کبھی کسی مصیبت میں پھنسے تھے، شہزادوں کی طرح لاڈ چاؤ میں پلے تھے، نہ راستے کی خبر تھی نہ کبھی سفر کا اتفاق پڑا تھا۔ رب پر بھروسہ کر کے یہ دعا کر کے کہ اے اللہ مجھے سیدھی راہ لے چلنا، چل کھڑے ہوئے یہاں تک کہ مدین کی حدود میں پہنچے۔

یہاں دیکھا کہ لوگ اپنے جانوروں کو پانی پلا رہے ہیں وہیں دو لڑکیوں کو دیکھا کہ اپنے جانوروں کو روکے کھڑی ہیں۔ پوچھا کہ تم ان کے ساتھ اپنے جانوروں کو پانی کیوں نہیں پلا لیتیں؟ الگ کھڑی ہوئی انہیں کیوں روک رہی ہو؟ انہوں نے جواب دیا کہ اس بھیڑ میں ہمارے بس کی بات نہیں کہ اپنے جانوروں کو پانی پلائیں، ہم تو جب یہ لوگ پانی پلا چکتے ہیں ان کا بقیہ اپنے جانوروں کو پلا دیا کرتی ہیں۔ آپ فوراً آگے بڑھے اور ان کے جانوروں کو پانی پلا دیا۔ چونکہ بہت جلد پانی کھینچا، آپ بہت قوی آدمی تھے، سب سے پہلے ان کے جانوروں کو سیر کر دیا۔ یہ اپنی بکریاں لے کر اپنے گھر روانہ ہوئیں اور آپ ایک درخت کے سائے تلے بیٹھ گئے اور اللہ سے دعا کرنے لگے کہ پروردگار میں تیری تمام تر مہربانیوں کا محتاج ہوں۔ یہ دونوں لڑکیاں جب اپنے والد کے پاس پہنچیں تو انہوں نے کہا، آج کیا بات ہے کہ تم وقت سے پہلے ہی آ گئیں؟ اور بکریاں بھی خوب آسودہ اور شکم سیر معلوم ہوتی ہیں۔ تو ان بچیوں نے سارا واقعہ کہہ سنایا آپ نے حکم دیا کہ تم میں سے ایک ابھی چلی جائے اور انہیں میرے پاس بلا لائے۔ وہ آئیں اور موسیٰ علیہ السلام کو اپنے والد صاحب کے پاس لے گئیں۔ انہوں نے سرسری ملاقات کے بعد واقعہ پوچھا تو آپ نے سارا قصہ کہہ سنایا، اس پر وہ فرمانے لگے اب کوئی ڈر کی بات نہیں آپ ان ظالموں سے چھوٹ گئے۔ ہم لوگ فرعون کی رعایا نہیں نہ ہم پر اس کا کوئی دباؤ ہے۔ اسی وقت ایک لڑکی نے اپنے باپ سے کہا کہ ابا جی انہوں نے ہمارا کام کر دیا ہے اور یہ ہیں بھی قوت والے امانت دار شخص، کیا اچھا ہو کہ آپ انہیں اپنے ہاں مقرر کر لیجئے کہ یہ اجرت پر ہماری بکریاں چرا لایا کریں۔ باپ کو غیرت اور غصہ آ گیا اور پوچھا بیٹی تمہیں یہ کیسے معلوم ہو گیا کہ یہ قوی اور امین ہیں؟ بچی نے جواب دیا کہ قوت تو اس وقت معلوم ہوئی جب انہوں نے ہماری بکریوں کے لیے پانی نکالا اتنے بڑے ڈول کو اکیلے ہی کھینچتے تھے اور بڑی پھرتی اور ہرپن سے۔ امانت داری یوں معلوم ہوئی کہ میری آواز سن کر انہوں نے نظر اونچی کی اور جب یہ معلوم ہو گیا کہ میں عورت ہوں، پھر نیچی گردن کر کے میری باتیں سنتے رہے، واللہ! آپ کا پورا پیغام پہنچانے تک انہوں نے نگاہ اونچی نہیں کی۔ پھر مجھ سے فرمایا کہ تم میرے پیچھے رہو مجھے دور سے راستہ بتا دیا کرنا۔ یہ بھی دلیل ہے ان کی اللہ خوفی اور امانت داری کی۔ باپ کی غیرت و حمیت بھی رہ گئی، بچی کی طرف سے بھی دل صاف ہو گیا اور موسیٰ علیہ السلام کی محبت دل میں سما گئی۔

اب موسیٰ علیہ السلام سے فرمانے لگے، میرا ارادہ ہے کہ اپنی ان دونوں لڑکیوں میں سے ایک کا نکاح آپ کے ساتھ کر دوں اس شرط پر کہ آپ آٹھ سال تک میرے ہاں کام کاج کرتے رہیں، ہاں اگر دس سال تک کریں تو اور بھی اچھا ہے، ان شاءاللہ آپ دیکھ لیں گے کہ میں بھلا آدمی ہوں۔ چنانچہ یہ معاملہ طے ہو گیا اور اللہ کے پیغمبر علیہ السلام نے بجائے آٹھ سال کے دس سال پورے کئے۔ سیدنا سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں پہلے مجھے یہ معلوم نہ تھا اور ایک نصرانی عالم مجھ سے یہ پوچھ بیٹھا تھا تو میں اسے کوئی جواب نہ دے سکا، پھر جب میں نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا اور آپ نے جواب دیا تو میں نے اس سے ذکر کیا، اس نے کہا تمہارے استاد بڑے عالم ہیں۔ میں نے کہا، ہاں ہیں ہی۔ اب موسیٰ علیہ السلام اس مدت کو پوری کر کے اپنی اہلیہ صاحبہ کو لیے ہوئے یہاں سے چلے۔ پھر وہ واقعات ہوئے جن کا ذکر ان آیتوں میں ہے۔ آگ دیکھی، گئے، اللہ سے کلام کیا، لکڑی کا اژدھا بننا، ہاتھ کا نورانی بننا ملاحظہ کیا، نبوت پائی، فرعون کی طرف بھیجے گئے تو قتل کے واقعہ کے بدلے کا اندیشہ ظاہر فرمایا۔ اس سے اطمینان حاصل کر کے زبان کی گرہ کشائی کی طلب کی۔ اس کو حاصل کر کے اپنے بھائی ہارون کی ہمدردی اور شرکت کار چاہی۔ یہ بھی حاصل کر کے لکڑی لیے ہوئے شاہ مصر کی طرف چلے۔

ادھر ہارون علیہ السلام کے پاس وحی پہنچی کہ اپنے بھائی کی موافقت کریں اور ان کا ساتھ دیں۔ دونوں بھائی ملے اور فرعون کے دربار میں پہنچے۔ اطلاع کرائی بڑی دیر میں اجازت ملی، اندر گئے، فرعون پر ظاہر کیا کہ ہم اللہ کے رسول بن کر تیرے پاس آئے ہیں۔ اب جو سوال جواب ہوئے وہ قرآن میں موجود ہیں۔ فرعون نے کہا اچھا تم چاہتے کیا ہو؟ اور واقعہ قتل یاد دلایا جس کا عذر موسیٰ علیہ السلام نے بیان کیا جو قرآن میں موجود ہے اور کہا، ہمارا ارادہ یہ ہے کہ تو ایمان لا اور ہمارے ساتھ بنی اسرائیل کو اپنی غلامی سے رہائی دے۔ اس نے انکار کیا اور کہا کہ اگر سچے ہو تو کوئی معجزہ دکھاؤ، آپ نے اسی وقت اپنی لکڑی زمین پر ڈال دی وہ زمین پر پڑتے ہی ایک زبردست خوفناک اژدھے کی صورت میں منہ پھاڑے کچلیاں نکالے فرعون کی طرف لپکا۔ مارے خوف کے فرعون تخت سے کود گیا اور بھاگتا ہوا عاجزی سے فریاد کرنے لگا کہ موسیٰ (‏‏‏‏علیہ السلام) اللہ کے واسطے اسے پکڑ لو۔ آپ نے ہاتھ لگایا اسی وقت لاٹھی اپنی اصلی حالت میں آ گئی۔ پھر آپ نے اپنا ہاتھ اپنے گریبان میں ڈال کر نکالا تو وہ بغیر کسی مرض کے داغ کے چمکتا ہوا نکلا جسے دیکھ کر وہ حیران ہو گیا، آپ نے پھر ہاتھ ڈال کر نکالا تو وہ اپنی اصلی حالت میں تھا۔ اب فرعون نے اپنے درباریوں کی طرف دیکھ کر کہا کہ تم نے دیکھا، یہ دونوں جادوگر ہیں چاہتے ہیں کہ اپنے جادو کے زور سے تمہیں تمہارے ملک سے نکال باہر کریں اور تمہارے ملک پر قابض ہو کر تمہارے طریقے مٹا دیں۔

پھر موسیٰ علیہ السلام سے کہا کہ ہمیں آپ کی نبوت ماننے سے بھی انکار ہے اور آپ کا کوئی مطالبہ بھی ہم پورا نہیں کر سکتے بلکہ ہم اپنے جادوگروں کو تمہارے مقابلہ کے لیے بلا رہے ہیں جو تمہارے اس جادو پر غالب آ جائیں گے۔ چنانچہ یہ لوگ اپنی کوششوں میں مشغول ہو گئے۔ تمام ملک سے جادوگروں کو بڑی عزت سے بلوایا جب سب جمع ہو گئے تو انہوں نے پوچھا کہ اس کا جادو کس قسم کا ہے؟ فرعون والوں نے کہا لکڑی کا سانپ بنا دیتا ہے۔ انہوں نے کہا، اس میں کیا ہے؟ ہم لکڑیوں کی رسیوں کے وہ سانپ بنائیں گے کہ روئے زمین پر ان کا کوئی مقابلہ نہ کر سکے۔ لیکن ہمارے لیے انعام مقرر ہو جانا چاہیئے۔ فرعون نے ان سے قول و قرار کیا کہ انعام کیسا؟ میں تو تمہیں اپنا مقرب خاص اور درباری بنا لوں گا اور تمہیں نہال نہال کر دونگا جو مانگو گے پاؤ گے۔ چنانچہ انہوں نے اعلان کر دیا کہ عید کے روز دن چڑھے فلاں میدان میں مقابلہ ہو گا۔ مروی ہے کہ ان کی یہ عید عاشورا کے دن تھی۔

اس دن تمام لوگ صبح ہی صبح اس میدان میں پہنچ گئے کہ آج چل کر دیکھیں گے کہ کون غالب آتا ہے؟ ہم تو جادوگروں کے کمالات کے قائل ہیں وہی غالب آئیں گے اور ہم انہی کی مانیں گے۔ مذاق سے اس بات کو بدل کر کہتے تھے کہ چلو انہی دونوں جادوگروں کے مطیع بن جائیں گے اگر وہ غالب رہیں۔ میدان میں آ کر جادوگروں نے انبیاء اللہ علیہم السلام سے کہا کہ لو اب بتاؤ، تم پہلے اپنا جادو ظاہر کرتے ہو یا ہم ہی شروع کریں؟ آپ نے فرمایا تم ہی ابتداء کرو تاکہ تمہارے ارمان پورے ہوں۔ اب انہوں نے اپنی لکڑیاں اور رسیاں میدان میں ڈالیں تو ایسا لگا کہ وہ سب سانپ اور بلائیں بن کر اللہ کے نبیوں کی طرف دوڑیں جس سے خوفزدہ ہو کر آپ پیچھے ہٹنے لگے۔ اس وقت اللہ کی وحی آئی کہ آپ اپنی لکڑی زمین پر ڈال دیجئیے، آپ نے ڈالدی، وہ ایک خوفناک بھیانک عظیم الشان اژدھابن کر ان کی طرف دوڑا یہ لکڑیاں رسیاں سب گڈ مڈ ہو گئیں اور وہ ان سب کو نگل گیا۔ جادوگر سمجھ گئے کہ یہ جادو نہیں یہ تو سچ مچ اللہ کیطرف کا نشان ہے، جادو میں یہ بات کہاں؟ چنانچہ سب نے اپنے ایمان کا اعلان کر دیا کہ ہم موسیٰ کے رب پر ایمان لائے اور ان دونوں بھائیوں کی نبوت ہمیں ت
40۔ 1 یہ اس وقت ہوا، جب ماں نے تابوت دریا میں پھینک دیا تو بیٹی سے کہا، ذرا دیکھتی رہو، یہ کہاں کنارے لگتا ہے اور اس کے ساتھ کیا معاملہ ہوتا ہے؟ جب اللہ کی مشیت سے موسیٰ ؑ فرعون کے محل میں پہنچ گئے، شیرخوارگی کا عالم تھا، چناچہ دودھ پلانے والی عورتوں اور آیاؤں کو بلایا گیا لیکن موسیٰ ؑ کسی کا دودھ نہ پیتے موسیٰ ؑ کی بہن خاموشی سے سارا منظر دیکھ رہی تھی، بالآخر اس نے کہا میں تمہیں ایسی عورت بتاتی ہوں جو تمہاری یہ مشکل دور کر دے گی، انہوں نے کہا ٹھیک ہے، چناچہ وہ اپنی ماں کو، جو موسیٰ ؑ کی بھی ماں تھی، بلا لائی، جب ماں نے بیٹے کو چھاتی سے لگایا تو موسیٰ ؑ نے اللہ کی تدبیر و مشیت سے غٹا غٹ دودھ پینا شروع کردیا۔ 40۔ 2 یہ ایک دوسرے احسان کا ذکر ہے، جب موسیٰ ؑ سے غیر ارادی طور پر ایک فرعونی کو صرف گھونسہ مارنے سے مرگیا، جس کا ذکر سورة قصص میں آئے گا 40۔ 3 فتون دخول اور خروج کی طرح مصدر ہے یعنی ابتلیناک ابتلاء یعنی ہم نے تجھے خوب آزمایا۔ یا یہ جمع ہے فتنہ کی جیسے حجرۃ کی حجور اور بدرۃ کی بدور کی جمع ہے یعنی ہم نے تجھے کئی مرتبہ یا بار بار آزمایا یا آزمائشوں سے نکالا مثلا جو سال بچوں کے قتل کا تھا تجھے پیدا کیا تیری ماں نے تجھے سمندر کی موجوں کے سپرد کردیا تمام دایاؤں کا دودھ تجھ پر حرام کردیا تو نے فرعون کی داڑھی پکڑ لی تھی جس پر اس نے تیرے قتل کا ارادہ کرلیا تھا تیرے ہاتھوں قبطی کا قتل ہوگیا وغیرہ ان تمام مواقع آزمائش میں ہم ہی تیری مدد اور چارہ سازی کرتے رہے۔ 40۔ 4 یعنی فرعونی کے غیر ارادی قتل کے بعد تو یہاں سے نکل کر مدین چلا گیا اور وہاں کئی سال رہا۔ 40۔ 5 یعنی ایسے وقت میں تو آیا جو وقت میں نے اپنے فیصلے اور تقدیر میں تجھ سے ہم کلامی اور نبوت کے لئے لکھا ہوا تھا یا قَدَرٍ سے مراد، عمر ہے یعنی عمر کے اس مرحلے میں آیا جو نبوت کے لئے موزوں ہے۔ یعنی چالیس سال کی عمر میں۔
(آیت 41،40) ➊ {” اِذْ تَمْشِيْۤ اُخْتُكَ “} کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورۂ قصص (۱۱ تا ۱۳) اور {” وَ قَتَلْتَ نَفْسًا “} سے آخر آیت تک کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورۂ قصص (۱۴ تا ۲۸)۔ ➋ {وَ فَتَنّٰكَ فُتُوْنًا:فُتُوْنًا”فَتَنَ يَفْتِنُ“} کا مصدر ہے، جیسا کہ {”قُعُوْدٌ“} اور {”خُرُوْجٌ“} وغیرہ ہیں۔ اس کی تنوین تعظیم کے لیے ہے، اس لیے ترجمہ کیا ہے ”اور ہم نے تجھے آزمایا، خوب آزمانا۔“ اس آزمائش میں شاہ زادگی کی آسائشوں کے بعد ان کے ہاتھوں قبطی کا نادانستہ قتل، پھر اپنے قتل ہونے کا خوف، پھر بے سروسامانی میں فوری ہجرت، بھوکے پیاسے اور شدید خوف کی حالت میں کئی دن رات کا سفر، پردیس اور دس سالہ مزدوری سب شامل ہیں، جن سب میں زبردست تربیت کا سامان تھا۔ حافظ ابن کثیر نے ایک لمبی حدیث ”حدیث فتون“ مکمل ذکر کرنے کے بعد فرمایا ہے کہ اس کا اکثر حصہ اسرائیلیات سے لیا گیا ہے۔ ➌ { ثُمَّ جِئْتَ عَلٰى قَدَرٍ يّٰمُوْسٰى:} یعنی تمھارا راہ بھول کر وادی طویٰ میں آنا اور میرے ساتھ کلام اور نبوت و رسالت سے سرفراز ہونا کسی طے شدہ منصوبے کے بغیر اور اچانک نہیں تھا، بلکہ عین میرے مقرر کردہ وقت اور فیصلے کے مطابق تھا۔ اگرچہ ہر کام ہی اللہ کی تقدیر سے ہے، مگر اس{ ” قَدَرٍ “ } سے مراد خاص طور پر طے کرنا ہے، جیسا کہ اگلی آیت میں فرمایا: «‏‏‏‏وَ اصْطَنَعْتُكَ لِنَفْسِيْ» ‏‏‏‏ {”صَنَعَ يَصْنَعُ“ } کا معنی بنانا ہے، {”اِصْطَنَعَ“} باب افتعال سے ہے، صاد کی مناسبت سے تاء کو طاء سے بدل دیا اور حروف کے اضافے سے معنی میں اضافہ ہو گیا، یعنی میں نے تجھے خاص طور پر اپنے کام یعنی رسالت و نبوت کے لیے تیار کیا ہے۔ یہ تمام احسانات کا خلاصہ ہے.
وَ اصۡطَنَعۡتُکَ لِنَفۡسِیۡ ﴿ۚ۴۱﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
میں نے تجھ کو اپنے کام کا بنا لیا ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
اور میں نے تجھے خاص اپنی ذات کے لئے پسند فرما لیا
احمد رضا خان بریلوی
اور میں نے تجھے خاص اپنے لیے بنایا
علامہ محمد حسین نجفی
اور میں نے تمہیں اپنی ذات کیلئے منتخب کر لیا۔
عبدالسلام بن محمد
اور میں نے تجھے اپنے لیے خاص طور پر بنایا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
موسیٰ علیہ السلام فرار کے بعد ٭٭

موسیٰ علیہ السلام سے جناب باری عزوجل فرما رہا ہے کہ تم فرعون سے بھاگ کر مدین پہنچے، یہاں سسرال مل گئے اور شرط کے مطابق ان کی بکریاں برسوں تک چراتے رہے۔ پھر اللہ تعالیٰ کے اندازے اور اس کے مقررہ وقت پر تم اس کے پاس پہنچے۔ اس رب کی کوئی چاہت ناکام نہیں رہتی، کوئی فرمان نہیں ٹوٹتا، اس کے وعدے کے مطابق اس کے مقررہ وقت پر تمہارا اس کے پاس پہنچنا لازمی امر تھا۔ یہ بھی مطلب ہے کہ تم اپنی قدر و عزت کو پہنچے یعنی رسالت و نبوت ملی۔ میں نے تمہیں اپنا برگزیدہ پیغمبر بنا لیا۔ صحیح بخاری شریف میں ہے، { آدم علیہ السلام اور موسیٰ علیہ السلام کی ملاقات ہوئی تو موسیٰ علیہ السلام نے کہا، آپ نے تو لوگوں کو مشقت میں ڈال دیا انہیں جنت سے نکال دیا۔ آدم علیہ السلام نے فرمایا، آپ کو اللہ نے اپنی رسالت سے ممتاز فرمایا اور اپنے لیے پسند فرمایا اور تورات عطافرمائی، کیا اس میں آپ نے یہ نہیں پڑھا کہ میری پیدائش سے پہلے یہ سب مقدر ہو چکا تھا؟ کہاں ہاں۔ الغرض آدم علیہ السلام موسیٰ علیہ السلام پر دلیل میں غلبہ پا گئے۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:4736] ‏‏‏‏ میری دی ہوئی دلیل اور معجزے لے کر تو اور تیرا بھائی دونوں فرعون کے پاس جاؤ۔ میری یاد میں غفلت نہ کرنا تھک کر بیٹھ نہ رہنا۔ چنانچہ فرعون کے سامنے دونوں ذکر اللہ میں لگے رہتے تاکہ اللہ کی مدد ان کا ساتھ دے، انہیں قوی اور مضبوط بنا دے اور فرعون کی شان و شوکت ٹال دے۔

چنانچہ حدیث شریف میں بھی ہے کہ { میرا پورا اور سچا بندہ وہ ہے جو پوری عمر میری یاد کرتا رہے۔ } ۱؎ [سنن ترمذي:3580،قال الشيخ الألباني:ضیف] ‏‏‏‏ فرعون کے پاس تم میرا پیغام لے کر پہنچو۔ اس نے بہت سر اٹھا رکھا ہے، اللہ کی نافرمانیوں پر دلیر ہو گیا ہے، بہت پھول گیا ہے اور اپنے خالق و مالک کو بھول گیا ہے۔ اس سے گفتگو نرم کرنا۔ دیکھو فرعون کس قدر برا ہے۔ موسیٰ کس قدر بھلے ہیں لیکن حکم یہ ہو رہا ہے کہ نرمی سے سمجھانا۔ یزید قاشی رحمہ اللہ اس آیت کو پڑھ کر فرماتے «يَاَمَنْ يتَّجَبَّبُ اِلٰي مِنْ يُّعَادِيْهِ -فَكَيفَ مَن يَّتَوَلاَهُ وَيُنَادِيْهِ» یعنی اے وہ اللہ! جو دشمنوں سے بھی محبت اور نرمی کرتا ہے۔ تیرا کیسا کچھ پاکیزہ برتاؤ ہو گا، اس کے ساتھ جو تجھ سے محبت کرتا ہو اور تجھے پکارا کرتا ہو۔ وہب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نرم گفتگو کرنے سے مراد یہ ہے کہ اسے کہنا کہ میرے غضب و غصے سے میری مغفرت و رحمت بہت بڑھی ہوئی ہے۔ عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں نرم بات کہنے سے مراد اللہ کی وحدانیت کی طرف دعوت دینا ہے کہ وہ «لَا إِلَه إِلَّا اللَّه» کا قائل ہو جائے۔ حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں، اس سے کہنا کہ تیرا رب ہے، تجھے مر کر اللہ کے وعدے پر پہنچنا ہے جہاں جنت دوزخ دونوں ہیں۔ سفیان ثوری رحمہ اللہ فرماتے ہیں اسے میرے دروازے پر لا کھڑا کرو۔ الغرض تم اس سے نرمی اور آرام سے گفتگو کرنا تاکہ اس کے دل میں تمہاری باتیں بیٹھ جائیں۔ جیسے فرمان الٰہی ہے «‏‏‏‏ادْعُ إِلَىٰ سَبِيلِ رَبِّكَ بِالْحِكْمَةِ وَالْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ ۖ وَجَادِلْهُم بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ ۚ إِنَّ رَبَّكَ هُوَ أَعْلَمُ بِمَن ضَلَّ عَن سَبِيلِهِ ۖ وَهُوَ أَعْلَمُ بِالْمُهْتَدِينَ» ۱؎ [16-النحل:125] ‏‏‏‏ یعنی اپنے رب کی راہ کی دعوت انہیں حکمت اور اچھے وعظ سے دے اور انہیں بہترین طریقے سے سمجھا بجھا دے تاکہ وہ سمجھ لے اور اپنی ضلالت و ہلاکت سے ہٹ جائے یا اپنے اللہ سے ڈرنے لگے اور اس کی اطاعت و عبادت کی طرف متوجہ ہو جائے۔ جیسے فرمان ہے، «مَنْ أَرَادَ أَن يَذَّكَّرَ أَوْ أَرَادَ شُكُورًا» ۱؎ [25-الفرقان:62] ‏‏‏‏ ’ یہ نصیحت اس کے لیے ہے جو عبرت حاصل کر لے یا شکر گزار بن جائے۔ ‘ پس عبرت حاصل کرنے سے مراد برائیوں سے اور خوف کی چیز سے ہٹ جانا اور ڈر سے مراد اطاعت کی طرف مائل ہو جانا ہے۔

حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں، اس کی ہلاکت کی دعا نہ کرنا جب تک کہ اس کے تمام عذر ختم نہ ہو جائیں۔ زید بن عمرو بن نفیل کے یا امیہ بن ابی صلت کے شعروں میں ہے کہ اے اللہ! تو وہ ہے جس نے اپنے فضل و کرم سے موسیٰ علیہ السلام کو یہ کہہ کر باغی فرعون کی طرف بھیجا کہ اس سے پوچھو تو کہ کیا اس آسمان کو بےستون کے تو نے تھام رکھا ہے اور تو نے ہی اسے بنایا ہے؟ اور کیا تو نے ہی اس کے درمیان روشن سورج کو چڑھایا ہے جو اندھیرے کو اجالے سے بدل دیتا ہے، ادھر صبح کے وقت وہ نکلا ادھر دنیا سے ظلمت دور ہوئی۔ بھلا بتلا تو کہ مٹی میں سے دانے نکالنے والا کون ہے؟ اور اس میں بالیاں پیدا کرنے والا کون ہے؟ کیا ان تمام نشانیوں سے بھی تو اللہ کو نہیں پہچان سکتا؟
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
اِذۡہَبۡ اَنۡتَ وَ اَخُوۡکَ بِاٰیٰتِیۡ وَ لَا تَنِیَا فِیۡ ذِکۡرِیۡ ﴿ۚ۴۲﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
جا، تُو اور تیرا بھائی میری نشانیوں کے ساتھ ا ور دیکھو، تم میری یاد میں تقصیر نہ کرنا
مولانا محمد جوناگڑھی
اب تو اپنے بھائی سمیت میری نشانیاں ہمراه لئے ہوئے جا، اور خبردار میرے ذکر میں سستی نہ کرنا
احمد رضا خان بریلوی
تو اور تیرا بھائی دونوں میری نشانیاں لے کر جاؤ اور میری یاد میں سستی نہ کرنا،
علامہ محمد حسین نجفی
(سو اب) تم اور تمہارا بھائی میری نشانیوں کے ساتھ (فرعون کے پاس) جاؤ اور میری یاد میں سستی نہ کرنا۔
عبدالسلام بن محمد
تو اور تیرا بھائی میری آیات لے کر جائو اور میری یاد میں سستی نہ کرنا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
موسیٰ علیہ السلام فرار کے بعد ٭٭

موسیٰ علیہ السلام سے جناب باری عزوجل فرما رہا ہے کہ تم فرعون سے بھاگ کر مدین پہنچے، یہاں سسرال مل گئے اور شرط کے مطابق ان کی بکریاں برسوں تک چراتے رہے۔ پھر اللہ تعالیٰ کے اندازے اور اس کے مقررہ وقت پر تم اس کے پاس پہنچے۔ اس رب کی کوئی چاہت ناکام نہیں رہتی، کوئی فرمان نہیں ٹوٹتا، اس کے وعدے کے مطابق اس کے مقررہ وقت پر تمہارا اس کے پاس پہنچنا لازمی امر تھا۔ یہ بھی مطلب ہے کہ تم اپنی قدر و عزت کو پہنچے یعنی رسالت و نبوت ملی۔ میں نے تمہیں اپنا برگزیدہ پیغمبر بنا لیا۔ صحیح بخاری شریف میں ہے، { آدم علیہ السلام اور موسیٰ علیہ السلام کی ملاقات ہوئی تو موسیٰ علیہ السلام نے کہا، آپ نے تو لوگوں کو مشقت میں ڈال دیا انہیں جنت سے نکال دیا۔ آدم علیہ السلام نے فرمایا، آپ کو اللہ نے اپنی رسالت سے ممتاز فرمایا اور اپنے لیے پسند فرمایا اور تورات عطافرمائی، کیا اس میں آپ نے یہ نہیں پڑھا کہ میری پیدائش سے پہلے یہ سب مقدر ہو چکا تھا؟ کہاں ہاں۔ الغرض آدم علیہ السلام موسیٰ علیہ السلام پر دلیل میں غلبہ پا گئے۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:4736] ‏‏‏‏ میری دی ہوئی دلیل اور معجزے لے کر تو اور تیرا بھائی دونوں فرعون کے پاس جاؤ۔ میری یاد میں غفلت نہ کرنا تھک کر بیٹھ نہ رہنا۔ چنانچہ فرعون کے سامنے دونوں ذکر اللہ میں لگے رہتے تاکہ اللہ کی مدد ان کا ساتھ دے، انہیں قوی اور مضبوط بنا دے اور فرعون کی شان و شوکت ٹال دے۔

چنانچہ حدیث شریف میں بھی ہے کہ { میرا پورا اور سچا بندہ وہ ہے جو پوری عمر میری یاد کرتا رہے۔ } ۱؎ [سنن ترمذي:3580،قال الشيخ الألباني:ضیف] ‏‏‏‏ فرعون کے پاس تم میرا پیغام لے کر پہنچو۔ اس نے بہت سر اٹھا رکھا ہے، اللہ کی نافرمانیوں پر دلیر ہو گیا ہے، بہت پھول گیا ہے اور اپنے خالق و مالک کو بھول گیا ہے۔ اس سے گفتگو نرم کرنا۔ دیکھو فرعون کس قدر برا ہے۔ موسیٰ کس قدر بھلے ہیں لیکن حکم یہ ہو رہا ہے کہ نرمی سے سمجھانا۔ یزید قاشی رحمہ اللہ اس آیت کو پڑھ کر فرماتے «يَاَمَنْ يتَّجَبَّبُ اِلٰي مِنْ يُّعَادِيْهِ -فَكَيفَ مَن يَّتَوَلاَهُ وَيُنَادِيْهِ» یعنی اے وہ اللہ! جو دشمنوں سے بھی محبت اور نرمی کرتا ہے۔ تیرا کیسا کچھ پاکیزہ برتاؤ ہو گا، اس کے ساتھ جو تجھ سے محبت کرتا ہو اور تجھے پکارا کرتا ہو۔ وہب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نرم گفتگو کرنے سے مراد یہ ہے کہ اسے کہنا کہ میرے غضب و غصے سے میری مغفرت و رحمت بہت بڑھی ہوئی ہے۔ عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں نرم بات کہنے سے مراد اللہ کی وحدانیت کی طرف دعوت دینا ہے کہ وہ «لَا إِلَه إِلَّا اللَّه» کا قائل ہو جائے۔ حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں، اس سے کہنا کہ تیرا رب ہے، تجھے مر کر اللہ کے وعدے پر پہنچنا ہے جہاں جنت دوزخ دونوں ہیں۔ سفیان ثوری رحمہ اللہ فرماتے ہیں اسے میرے دروازے پر لا کھڑا کرو۔ الغرض تم اس سے نرمی اور آرام سے گفتگو کرنا تاکہ اس کے دل میں تمہاری باتیں بیٹھ جائیں۔ جیسے فرمان الٰہی ہے «‏‏‏‏ادْعُ إِلَىٰ سَبِيلِ رَبِّكَ بِالْحِكْمَةِ وَالْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ ۖ وَجَادِلْهُم بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ ۚ إِنَّ رَبَّكَ هُوَ أَعْلَمُ بِمَن ضَلَّ عَن سَبِيلِهِ ۖ وَهُوَ أَعْلَمُ بِالْمُهْتَدِينَ» ۱؎ [16-النحل:125] ‏‏‏‏ یعنی اپنے رب کی راہ کی دعوت انہیں حکمت اور اچھے وعظ سے دے اور انہیں بہترین طریقے سے سمجھا بجھا دے تاکہ وہ سمجھ لے اور اپنی ضلالت و ہلاکت سے ہٹ جائے یا اپنے اللہ سے ڈرنے لگے اور اس کی اطاعت و عبادت کی طرف متوجہ ہو جائے۔ جیسے فرمان ہے، «مَنْ أَرَادَ أَن يَذَّكَّرَ أَوْ أَرَادَ شُكُورًا» ۱؎ [25-الفرقان:62] ‏‏‏‏ ’ یہ نصیحت اس کے لیے ہے جو عبرت حاصل کر لے یا شکر گزار بن جائے۔ ‘ پس عبرت حاصل کرنے سے مراد برائیوں سے اور خوف کی چیز سے ہٹ جانا اور ڈر سے مراد اطاعت کی طرف مائل ہو جانا ہے۔

حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں، اس کی ہلاکت کی دعا نہ کرنا جب تک کہ اس کے تمام عذر ختم نہ ہو جائیں۔ زید بن عمرو بن نفیل کے یا امیہ بن ابی صلت کے شعروں میں ہے کہ اے اللہ! تو وہ ہے جس نے اپنے فضل و کرم سے موسیٰ علیہ السلام کو یہ کہہ کر باغی فرعون کی طرف بھیجا کہ اس سے پوچھو تو کہ کیا اس آسمان کو بےستون کے تو نے تھام رکھا ہے اور تو نے ہی اسے بنایا ہے؟ اور کیا تو نے ہی اس کے درمیان روشن سورج کو چڑھایا ہے جو اندھیرے کو اجالے سے بدل دیتا ہے، ادھر صبح کے وقت وہ نکلا ادھر دنیا سے ظلمت دور ہوئی۔ بھلا بتلا تو کہ مٹی میں سے دانے نکالنے والا کون ہے؟ اور اس میں بالیاں پیدا کرنے والا کون ہے؟ کیا ان تمام نشانیوں سے بھی تو اللہ کو نہیں پہچان سکتا؟
42۔ 1 اس میں اللہ سے دعا کے لئے بڑا سبق ہے کہ انھیں کثرت سے اللہ کا ذکر کرنا چاہئے
(آیت 42) ➊ { اِذْهَبْ اَنْتَ وَ اَخُوْكَ بِاٰيٰتِيْ:} یہ ہے وہ مقصد جس کے لیے موسیٰ علیہ السلام کی پرورش فرعون کے گھر میں اور پھر مدین میں کی گئی، چونکہ اس وقت وہاں ہارون علیہ السلام موجود نہیں تھے، اس لیے موسیٰ علیہ السلام کو مصر پہنچ کر انھیں ساتھ لے جانے کا حکم دیا۔ {” بِاٰيٰتِيْ “} یعنی تم فرعون کے پاس خالی ہاتھ نہیں جاؤ گے بلکہ میری نشانیاں عصا اور ید بیضا تمھارے پاس ہوں گی، اس لیے بلاجھجک جاؤ اور میرا پیغام پہنچاؤ۔ ➋ {وَ لَا تَنِيَا فِيْ ذِكْرِيْ:لَا تَنِيَا”وَنٰي يَنِيْ وَنْيًا“} بروزن {”وَعَدَ يَعِدُ“} سستی کرنا، کوتاہی کرنا، تھک کر رہ جانا۔ یعنی میری یاد میں کمی نہ کرنا، اس سے تمھارا عزم قوی اور قدم ثابت رہے گا، کیونکہ جب تم مجھے یاد کرو گے تو میرے بے شمار عظیم احسانات تمھارے سامنے رہیں گے، جس سے ادائے رسالت میں کوئی ضعف نہیں آئے گا۔ (طبری) اللہ تعالیٰ نے ہمیں بھی دشمن کے مقابلے کے وقت اپنے ذکر کثیر کا حکم دیا (دیکھیے انفال: ۴۵) اور ہر حال میں ذکر کرنے والوں کی تعریف فرمائی اور انھیں {”اُولُوا الْاَلْبَابِ “ } قرار دیا۔ دیکھیے سورۂ آل عمران (۱۹۰)۔
اِذۡہَبَاۤ اِلٰی فِرۡعَوۡنَ اِنَّہٗ طَغٰی ﴿ۚۖ۴۳﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
جاؤ تم دونوں فرعون کے پاس کہ وہ سرکش ہو گیا ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
تم دونوں فرعون کے پاس جاؤ اس نے بڑی سرکشی کی ہے
احمد رضا خان بریلوی
دونوں فرعون کے پاس جاؤ بیشک اس نے سر اٹھایا،
علامہ محمد حسین نجفی
تم دونوں فرعون کے پاس جاؤ کہ وہ سرکش ہوگیا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
دونوں فرعون کے پاس جائو، بے شک وہ سرکش ہوگیا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
موسیٰ علیہ السلام فرار کے بعد ٭٭

موسیٰ علیہ السلام سے جناب باری عزوجل فرما رہا ہے کہ تم فرعون سے بھاگ کر مدین پہنچے، یہاں سسرال مل گئے اور شرط کے مطابق ان کی بکریاں برسوں تک چراتے رہے۔ پھر اللہ تعالیٰ کے اندازے اور اس کے مقررہ وقت پر تم اس کے پاس پہنچے۔ اس رب کی کوئی چاہت ناکام نہیں رہتی، کوئی فرمان نہیں ٹوٹتا، اس کے وعدے کے مطابق اس کے مقررہ وقت پر تمہارا اس کے پاس پہنچنا لازمی امر تھا۔ یہ بھی مطلب ہے کہ تم اپنی قدر و عزت کو پہنچے یعنی رسالت و نبوت ملی۔ میں نے تمہیں اپنا برگزیدہ پیغمبر بنا لیا۔ صحیح بخاری شریف میں ہے، { آدم علیہ السلام اور موسیٰ علیہ السلام کی ملاقات ہوئی تو موسیٰ علیہ السلام نے کہا، آپ نے تو لوگوں کو مشقت میں ڈال دیا انہیں جنت سے نکال دیا۔ آدم علیہ السلام نے فرمایا، آپ کو اللہ نے اپنی رسالت سے ممتاز فرمایا اور اپنے لیے پسند فرمایا اور تورات عطافرمائی، کیا اس میں آپ نے یہ نہیں پڑھا کہ میری پیدائش سے پہلے یہ سب مقدر ہو چکا تھا؟ کہاں ہاں۔ الغرض آدم علیہ السلام موسیٰ علیہ السلام پر دلیل میں غلبہ پا گئے۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:4736] ‏‏‏‏ میری دی ہوئی دلیل اور معجزے لے کر تو اور تیرا بھائی دونوں فرعون کے پاس جاؤ۔ میری یاد میں غفلت نہ کرنا تھک کر بیٹھ نہ رہنا۔ چنانچہ فرعون کے سامنے دونوں ذکر اللہ میں لگے رہتے تاکہ اللہ کی مدد ان کا ساتھ دے، انہیں قوی اور مضبوط بنا دے اور فرعون کی شان و شوکت ٹال دے۔

چنانچہ حدیث شریف میں بھی ہے کہ { میرا پورا اور سچا بندہ وہ ہے جو پوری عمر میری یاد کرتا رہے۔ } ۱؎ [سنن ترمذي:3580،قال الشيخ الألباني:ضیف] ‏‏‏‏ فرعون کے پاس تم میرا پیغام لے کر پہنچو۔ اس نے بہت سر اٹھا رکھا ہے، اللہ کی نافرمانیوں پر دلیر ہو گیا ہے، بہت پھول گیا ہے اور اپنے خالق و مالک کو بھول گیا ہے۔ اس سے گفتگو نرم کرنا۔ دیکھو فرعون کس قدر برا ہے۔ موسیٰ کس قدر بھلے ہیں لیکن حکم یہ ہو رہا ہے کہ نرمی سے سمجھانا۔ یزید قاشی رحمہ اللہ اس آیت کو پڑھ کر فرماتے «يَاَمَنْ يتَّجَبَّبُ اِلٰي مِنْ يُّعَادِيْهِ -فَكَيفَ مَن يَّتَوَلاَهُ وَيُنَادِيْهِ» یعنی اے وہ اللہ! جو دشمنوں سے بھی محبت اور نرمی کرتا ہے۔ تیرا کیسا کچھ پاکیزہ برتاؤ ہو گا، اس کے ساتھ جو تجھ سے محبت کرتا ہو اور تجھے پکارا کرتا ہو۔ وہب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نرم گفتگو کرنے سے مراد یہ ہے کہ اسے کہنا کہ میرے غضب و غصے سے میری مغفرت و رحمت بہت بڑھی ہوئی ہے۔ عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں نرم بات کہنے سے مراد اللہ کی وحدانیت کی طرف دعوت دینا ہے کہ وہ «لَا إِلَه إِلَّا اللَّه» کا قائل ہو جائے۔ حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں، اس سے کہنا کہ تیرا رب ہے، تجھے مر کر اللہ کے وعدے پر پہنچنا ہے جہاں جنت دوزخ دونوں ہیں۔ سفیان ثوری رحمہ اللہ فرماتے ہیں اسے میرے دروازے پر لا کھڑا کرو۔ الغرض تم اس سے نرمی اور آرام سے گفتگو کرنا تاکہ اس کے دل میں تمہاری باتیں بیٹھ جائیں۔ جیسے فرمان الٰہی ہے «‏‏‏‏ادْعُ إِلَىٰ سَبِيلِ رَبِّكَ بِالْحِكْمَةِ وَالْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ ۖ وَجَادِلْهُم بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ ۚ إِنَّ رَبَّكَ هُوَ أَعْلَمُ بِمَن ضَلَّ عَن سَبِيلِهِ ۖ وَهُوَ أَعْلَمُ بِالْمُهْتَدِينَ» ۱؎ [16-النحل:125] ‏‏‏‏ یعنی اپنے رب کی راہ کی دعوت انہیں حکمت اور اچھے وعظ سے دے اور انہیں بہترین طریقے سے سمجھا بجھا دے تاکہ وہ سمجھ لے اور اپنی ضلالت و ہلاکت سے ہٹ جائے یا اپنے اللہ سے ڈرنے لگے اور اس کی اطاعت و عبادت کی طرف متوجہ ہو جائے۔ جیسے فرمان ہے، «مَنْ أَرَادَ أَن يَذَّكَّرَ أَوْ أَرَادَ شُكُورًا» ۱؎ [25-الفرقان:62] ‏‏‏‏ ’ یہ نصیحت اس کے لیے ہے جو عبرت حاصل کر لے یا شکر گزار بن جائے۔ ‘ پس عبرت حاصل کرنے سے مراد برائیوں سے اور خوف کی چیز سے ہٹ جانا اور ڈر سے مراد اطاعت کی طرف مائل ہو جانا ہے۔

حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں، اس کی ہلاکت کی دعا نہ کرنا جب تک کہ اس کے تمام عذر ختم نہ ہو جائیں۔ زید بن عمرو بن نفیل کے یا امیہ بن ابی صلت کے شعروں میں ہے کہ اے اللہ! تو وہ ہے جس نے اپنے فضل و کرم سے موسیٰ علیہ السلام کو یہ کہہ کر باغی فرعون کی طرف بھیجا کہ اس سے پوچھو تو کہ کیا اس آسمان کو بےستون کے تو نے تھام رکھا ہے اور تو نے ہی اسے بنایا ہے؟ اور کیا تو نے ہی اس کے درمیان روشن سورج کو چڑھایا ہے جو اندھیرے کو اجالے سے بدل دیتا ہے، ادھر صبح کے وقت وہ نکلا ادھر دنیا سے ظلمت دور ہوئی۔ بھلا بتلا تو کہ مٹی میں سے دانے نکالنے والا کون ہے؟ اور اس میں بالیاں پیدا کرنے والا کون ہے؟ کیا ان تمام نشانیوں سے بھی تو اللہ کو نہیں پہچان سکتا؟
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 43) {اِنَّهٗ طَغٰى:طُغْيَانٌ “ } کا اصل معنی حد سے بڑھ جانا ہے، جیسا کہ فرمایا: «{ اِنَّا لَمَّا طَغَا الْمَآءُ حَمَلْنٰكُمْ فِي الْجَارِيَةِ }» ‏‏‏‏ [الحاقۃ: ۱۱ ] ”بلاشبہ ہم نے ہی جب پانی حد سے تجاوز کر گیا تمھیں کشتی میں سوار کیا۔“ فرعون کی طغیانی اللہ تعالیٰ نے کئی مقامات پر ذکر فرمائی ہے کہ وہ اپنے رب اعلیٰ ہونے کا دعوے دار تھا۔ (نازعات: ۲۴) وہ بلاشرکت غیرے معبود (الٰہ) ہونے کا دعویٰ رکھتا تھا۔ (قصص: ۳۸) اس نے بنی اسرائیل کو یہ باتیں نہ ماننے کی وجہ سے غلامی اور بدترین عذاب کا نشانہ بنا رکھا تھا، ان کے بیٹے نہایت بے رحمی سے قتل کرتا، عورتوں کو زندہ رکھ کر اپنی اور اپنی قوم کی زیادتیوں کا نشانہ بناتا اور مردوں سے بے گارلیتا تھا۔ (قصص: ۴) جسے چاہتا انکار پر جیل میں ڈال دیتا تھا۔ (شعراء: ۲۹)
فَقُوۡلَا لَہٗ قَوۡلًا لَّیِّنًا لَّعَلَّہٗ یَتَذَکَّرُ اَوۡ یَخۡشٰی ﴿۴۴﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اس سے نرمی کے ساتھ بات کرنا، شاید کہ وہ نصیحت قبول کرے یا ڈر جائے"
مولانا محمد جوناگڑھی
اسے نرمی سے سمجھاؤ کہ شاید وه سمجھ لے یا ڈر جائے
احمد رضا خان بریلوی
تو اس سے نرم بات کہنا اس امید پر کہ وہ دھیان کرے یا کچھ ڈرے
علامہ محمد حسین نجفی
اس سے نرمی کے ساتھ بات کرنا کہ شاید وہ نصیحت قبول کرے یا ڈر جائے۔
عبدالسلام بن محمد
پس اس سے بات کرو، نرم بات، اس امید پر کہ وہ نصیحت حاصل کرلے، یا ڈر جائے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
موسیٰ علیہ السلام فرار کے بعد ٭٭

موسیٰ علیہ السلام سے جناب باری عزوجل فرما رہا ہے کہ تم فرعون سے بھاگ کر مدین پہنچے، یہاں سسرال مل گئے اور شرط کے مطابق ان کی بکریاں برسوں تک چراتے رہے۔ پھر اللہ تعالیٰ کے اندازے اور اس کے مقررہ وقت پر تم اس کے پاس پہنچے۔ اس رب کی کوئی چاہت ناکام نہیں رہتی، کوئی فرمان نہیں ٹوٹتا، اس کے وعدے کے مطابق اس کے مقررہ وقت پر تمہارا اس کے پاس پہنچنا لازمی امر تھا۔ یہ بھی مطلب ہے کہ تم اپنی قدر و عزت کو پہنچے یعنی رسالت و نبوت ملی۔ میں نے تمہیں اپنا برگزیدہ پیغمبر بنا لیا۔ صحیح بخاری شریف میں ہے، { آدم علیہ السلام اور موسیٰ علیہ السلام کی ملاقات ہوئی تو موسیٰ علیہ السلام نے کہا، آپ نے تو لوگوں کو مشقت میں ڈال دیا انہیں جنت سے نکال دیا۔ آدم علیہ السلام نے فرمایا، آپ کو اللہ نے اپنی رسالت سے ممتاز فرمایا اور اپنے لیے پسند فرمایا اور تورات عطافرمائی، کیا اس میں آپ نے یہ نہیں پڑھا کہ میری پیدائش سے پہلے یہ سب مقدر ہو چکا تھا؟ کہاں ہاں۔ الغرض آدم علیہ السلام موسیٰ علیہ السلام پر دلیل میں غلبہ پا گئے۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:4736] ‏‏‏‏ میری دی ہوئی دلیل اور معجزے لے کر تو اور تیرا بھائی دونوں فرعون کے پاس جاؤ۔ میری یاد میں غفلت نہ کرنا تھک کر بیٹھ نہ رہنا۔ چنانچہ فرعون کے سامنے دونوں ذکر اللہ میں لگے رہتے تاکہ اللہ کی مدد ان کا ساتھ دے، انہیں قوی اور مضبوط بنا دے اور فرعون کی شان و شوکت ٹال دے۔

چنانچہ حدیث شریف میں بھی ہے کہ { میرا پورا اور سچا بندہ وہ ہے جو پوری عمر میری یاد کرتا رہے۔ } ۱؎ [سنن ترمذي:3580،قال الشيخ الألباني:ضیف] ‏‏‏‏ فرعون کے پاس تم میرا پیغام لے کر پہنچو۔ اس نے بہت سر اٹھا رکھا ہے، اللہ کی نافرمانیوں پر دلیر ہو گیا ہے، بہت پھول گیا ہے اور اپنے خالق و مالک کو بھول گیا ہے۔ اس سے گفتگو نرم کرنا۔ دیکھو فرعون کس قدر برا ہے۔ موسیٰ کس قدر بھلے ہیں لیکن حکم یہ ہو رہا ہے کہ نرمی سے سمجھانا۔ یزید قاشی رحمہ اللہ اس آیت کو پڑھ کر فرماتے «يَاَمَنْ يتَّجَبَّبُ اِلٰي مِنْ يُّعَادِيْهِ -فَكَيفَ مَن يَّتَوَلاَهُ وَيُنَادِيْهِ» یعنی اے وہ اللہ! جو دشمنوں سے بھی محبت اور نرمی کرتا ہے۔ تیرا کیسا کچھ پاکیزہ برتاؤ ہو گا، اس کے ساتھ جو تجھ سے محبت کرتا ہو اور تجھے پکارا کرتا ہو۔ وہب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نرم گفتگو کرنے سے مراد یہ ہے کہ اسے کہنا کہ میرے غضب و غصے سے میری مغفرت و رحمت بہت بڑھی ہوئی ہے۔ عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں نرم بات کہنے سے مراد اللہ کی وحدانیت کی طرف دعوت دینا ہے کہ وہ «لَا إِلَه إِلَّا اللَّه» کا قائل ہو جائے۔ حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں، اس سے کہنا کہ تیرا رب ہے، تجھے مر کر اللہ کے وعدے پر پہنچنا ہے جہاں جنت دوزخ دونوں ہیں۔ سفیان ثوری رحمہ اللہ فرماتے ہیں اسے میرے دروازے پر لا کھڑا کرو۔ الغرض تم اس سے نرمی اور آرام سے گفتگو کرنا تاکہ اس کے دل میں تمہاری باتیں بیٹھ جائیں۔ جیسے فرمان الٰہی ہے «‏‏‏‏ادْعُ إِلَىٰ سَبِيلِ رَبِّكَ بِالْحِكْمَةِ وَالْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ ۖ وَجَادِلْهُم بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ ۚ إِنَّ رَبَّكَ هُوَ أَعْلَمُ بِمَن ضَلَّ عَن سَبِيلِهِ ۖ وَهُوَ أَعْلَمُ بِالْمُهْتَدِينَ» ۱؎ [16-النحل:125] ‏‏‏‏ یعنی اپنے رب کی راہ کی دعوت انہیں حکمت اور اچھے وعظ سے دے اور انہیں بہترین طریقے سے سمجھا بجھا دے تاکہ وہ سمجھ لے اور اپنی ضلالت و ہلاکت سے ہٹ جائے یا اپنے اللہ سے ڈرنے لگے اور اس کی اطاعت و عبادت کی طرف متوجہ ہو جائے۔ جیسے فرمان ہے، «مَنْ أَرَادَ أَن يَذَّكَّرَ أَوْ أَرَادَ شُكُورًا» ۱؎ [25-الفرقان:62] ‏‏‏‏ ’ یہ نصیحت اس کے لیے ہے جو عبرت حاصل کر لے یا شکر گزار بن جائے۔ ‘ پس عبرت حاصل کرنے سے مراد برائیوں سے اور خوف کی چیز سے ہٹ جانا اور ڈر سے مراد اطاعت کی طرف مائل ہو جانا ہے۔

حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں، اس کی ہلاکت کی دعا نہ کرنا جب تک کہ اس کے تمام عذر ختم نہ ہو جائیں۔ زید بن عمرو بن نفیل کے یا امیہ بن ابی صلت کے شعروں میں ہے کہ اے اللہ! تو وہ ہے جس نے اپنے فضل و کرم سے موسیٰ علیہ السلام کو یہ کہہ کر باغی فرعون کی طرف بھیجا کہ اس سے پوچھو تو کہ کیا اس آسمان کو بےستون کے تو نے تھام رکھا ہے اور تو نے ہی اسے بنایا ہے؟ اور کیا تو نے ہی اس کے درمیان روشن سورج کو چڑھایا ہے جو اندھیرے کو اجالے سے بدل دیتا ہے، ادھر صبح کے وقت وہ نکلا ادھر دنیا سے ظلمت دور ہوئی۔ بھلا بتلا تو کہ مٹی میں سے دانے نکالنے والا کون ہے؟ اور اس میں بالیاں پیدا کرنے والا کون ہے؟ کیا ان تمام نشانیوں سے بھی تو اللہ کو نہیں پہچان سکتا؟
44۔ 1 یہ وصف بھی اللہ سے دعا کے لئے بہت ضروری ہے۔ کیونکہ سختی سے لوگ بدکتے ہیں اور دور بھاگتے ہیں اور نرمی سے قریب آتے ہیں اور متاثر ہوتے ہیں اگر وہ ہدایت قبول کرنے والے ہوتے ہیں۔
(آیت 44) ➊ {فَقُوْلَا لَهٗ قَوْلًا لَّيِّنًا:} اللہ تعالیٰ نے موسیٰ اور ہارون علیھما السلام کو حکم دیا کہ فرعون کو دعوت دیتے وقت نرم بات کہیں، جس میں ترغیب ہو، اسے غصہ دلانے والی نہ ہو۔ ہر داعی کو یہی اسلوب اختیار کرنا لازم ہے، کیونکہ دعوت الی اللہ سے مقصود مخاطب کی ہدایت اور اصلاح ہوتی ہے نہ کہ اپنی برتری ثابت کرنا، یا سخت کلامی سے دل کا غصہ نکالنا۔ دیکھیے سورۂ نحل (۱۲۵) اور آل عمران (۱۵۹) اللہ تعالیٰ نے وہ نرم بات بھی خود ہی سکھا دی، جیسا کہ آگے آیت (۴۷) میں آ رہا ہے اور دیکھیے سورۂ نازعات (۱۸، ۱۹) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ يَا عَائِشَةُ! إِنَّ اللّٰهَ رَفِيْقٌ يُحِبُّ الرِّفْقَ وَيُعْطِيْ عَلَی الرِّفْقِ مَا لَا يُعْطِيْ عَلَی الْعُنْفِ وَمَا لاَ يُعْطِيْ عَلٰی مَا سِوَاهٗ ] [ مسلم، البر والصلۃ، باب فضل الرفق: ۲۵۹۳، عن عائشۃ رضی اللہ عنھا ] ”اے عائشہ! بے شک اللہ تعالیٰ بہت نرمی والا ہے، نرمی کو پسند فرماتا ہے اور نرمی پر وہ کچھ عطا کرتا ہے جو نہ سختی پر عطا کرتا ہے اور نہ اس (نرمی) کے سوا کسی اور چیز پر عطا کرتا ہے۔“ اور یہ بھی فرمایا: [ إِنَّ الرِّفْقَ لَايَكُوْنُ فِيْ شَيْءٍ إِلَّا زَانَهُ وَلاَ يُنْزَعُ مِنْ شَيْءٍ إِلَّا شَانَهٗ ] [ مسلم، أیضًا: ۲۵۹۴ ] ”نرمی جس چیز میں بھی ہوتی ہے اسے زینت بخشتی ہے اور جس سے بھی نکال لی جائے اسے عیب دار بنا دیتی ہے۔“ ہاں اگر کہیں نرمی بالکل ہی بے اثر ٹھہرے اور کوئی شخص ہٹ دھرمی اور تکبر سے کسی طرح باز نہ آئے تو اس سے حق بات سختی کے ساتھ کہنے کی بھی اجازت ہے، کیونکہ وہاں ”حکمت “کا تقاضا یہی ہے، جیسا کہ سورۂ عنکبوت (۴۶) میں ہے اور زیر تفسیر آیات میں آیت (۴۸) میں موسیٰ علیہ السلام کا قول ہے۔ ➋ {لَعَلَّهٗ يَتَذَكَّرُ اَوْ يَخْشٰى:لَعَلَّ “} کا لفظ ترجی (امید کرنے) کے لیے ہوتا ہے۔ یہاں ایک مشہور سوال ہے کہ اللہ تعالیٰ کے کلام میں امید کا ذکر آئے تو وہ بات یقینی ہوتی ہے۔ یہاں اللہ تعالیٰ کو علم تھا کہ فرعون نصیحت یا ڈرنے سے محروم رہے گا، پھر {”لَعَلَّ“ } کا لفظ کیوں فرمایا؟ اس کی دو توجیہیں ہیں اور دونوں درست ہیں۔ ایک تویہ کہ یہ {”لَعَلَّ“ } موسیٰ اور ہارون علیھما السلام کی نسبت سے ہے کہ تم اس سے نرم بات اس امید کے ساتھ کہو کہ وہ نصیحت حاصل کرے گا یا ڈر جائے گا۔ ترجمہ اسی کے مطابق کیا گیا ہے، کیونکہ موسیٰ علیہ السلام کو تو علم نہیں تھا کہ وہ ایمان نہیں لائے گا۔ اسی طرح مخاطب کتنا بھی سرکش ہو داعی کو ہمیشہ امید کا چراغ دل میں روشن رکھنا لازم ہے۔ دوسری توجیہ یہ ہے کہ {”لَعَلَّ“} کا لفظ ”امید ہے“ کے علاوہ{ ”كَيْ“} یعنی ”تاکہ“ کے معنی میں بھی آتا ہے، جیسے سورۂ بقرہ (۲۱) میں فرمایا: «‏‏‏‏لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَ» ‏‏‏‏ ”تاکہ تم بچ جاؤ۔“ {” يَتَذَكَّرُ “ } نصیحت حاصل کرکے ایمان لے آئے یا کم از کم ڈر کر ظلم سے باز آ جائے، کیونکہ ایک سرکش آدمی سے یہی امید کی جا سکتی ہے۔
قَالَا رَبَّنَاۤ اِنَّنَا نَخَافُ اَنۡ یَّفۡرُطَ عَلَیۡنَاۤ اَوۡ اَنۡ یَّطۡغٰی ﴿۴۵﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
دونوں نے عرض کیا " پروردگار، ہمیں اندیشہ ہے کہ وہ ہم پر زیادتی کرے گا یا پل پڑے گا"
مولانا محمد جوناگڑھی
دونوں نے کہا اے ہمارے رب! ہمیں خوف ہے کہ کہیں فرعون ہم پر کوئی زیادتی نہ کرے یا اپنی سرکشی میں بڑھ نہ جائے
احمد رضا خان بریلوی
دونوں نے عرض کیا، اے ہمارے رب! بیشک ہم ڈرتے ہیں کہ وہ ہم پر زیادتی کرے یا شرارت سے پیش آئے،
علامہ محمد حسین نجفی
ان دونوں نے کہا اے ہمارے پروردگار! ہمیں اندیشہ ہے کہ وہ ہم پر زیادتی کرے یا سرکشی کرے؟
عبدالسلام بن محمد
دونوں نے کہا اے ہمارے رب! یقینا ہم ڈرتے ہیں کہ وہ ہم پر زیادتی کرے گا، یا کہ حد سے بڑھ جائے گا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
اللہ کے سامنے اظہار بےبسی ٭٭

اللہ کے ان دونوں رسولوں علیہم السلام نے اللہ کی پناہ طلب کرتے ہوئے اپنی کمزوری کی شکایت رب کے سامنے کی کہ ہمیں خوف ہے کہ فرعون کہیں ہم پر کوئی ظلم نہ کرے اور بدسلوکی سے پیش نہ آئے۔ ہماری آواز کو دبانے کے لیے جلدی سے ہمیں کسی مصیبت میں مبتلا نہ کر دے اور ہمارے ساتھ ناانصافی سے پیش نہ آئے۔ رب العالمین کی طرف سے ان کی تشفی کر دی گئی۔ ارشاد ہوا کہ اس کا کچھ خوف نہ کھاؤ، میں خود تمہارے ساتھ ہوں اور تمہاری اور اس کی بات چیت سنتا رہوں گا اور تمہارا حال دیکھتا رہوں گا۔ کوئی بات مجھ پر مخفی نہیں رہ سکتی۔ اس کی چوٹی میرے ہاتھ میں ہے، وہ بغیر میری اجازت کے سانس بھی تو نہیں لے سکتا۔ میرے قبضے سے کبھی باہر نہیں نکل سکتا۔ میری حفاظت و نصرت، تائید و مدد تمہارے ساتھ ہے۔

سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں، موسیٰ علیہ السلام نے جناب باری میں دعا کی کہ مجھے وہ دعا تعلیم فرمائی جائے جو میں فرعون کے پاس جاتے ہوئے پڑھ لیا کروں تو اللہ تعالیٰ نے یہ دعا تعلیم فرمائی۔ «‏‏‏‏هَيَّا شراهيا» جس کے معنی عربی میں «‏‏‏‏أَنَا الْحَيّ قَبْل كُلّ شَيْء وَالْحَيّ بَعْد كُلّ شَيْء» ‏‏‏‏ ’ یعنی میں ہی ہوں سب سے پہلے زندہ اور سب سے بعد بھی زندہ۔ ‘ ۱؎ [الدر المنثور للسیوطی:537/4:ضعیف] ‏‏‏‏ پھر انہیں بتلایا گیا کہ یہ فرعون کو کیا کہیں؟ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں، یہ گئے دروازے پر ٹھہرے، اجازت مانگی، بڑی دیر کے بعد اجازت ملی۔ محمد بن اسحاق رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ دونوں پیغمبر دو سال تک روزانہ صبح شام فرعون کے ہاں جاتے رہے، دربانوں سے کہتے رہے کہ ہم دونوں پیغمبروں کی آمد کی خبر بادشاہ سے کرو۔ لیکن فرعون کے ڈر کے مارے کسی نے خبر نہ کی۔ دو سال کے بعد ایک روز اس کے ایک بے تکلف دوست نے جو بادشاہ سے ہنسی دل لگی بھی کر لیا کرتا تھا، کہا کہ آپ کے دروازے پر ایک شخص کھڑا ہے اور ایک عجیب مزے کی بات کہہ رہا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ آپ کے سوا اس کا کوئی اور رب ہے اور اس کے رب نے اسے آپ کی طرف اپنا رسول بنا کر بھیجا ہے۔ اس نے کہا، کیا میرے دروازے پر وہ ہے؟ اس نے کہا ہاں۔ حکم دیا کہ اندر بلا لو۔ چنانچہ آدمی گیا اور دونوں پیغمبر دربار میں آئے۔ موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا، میں رب العالمین کا رسول ہوں، فرعون نے آپ کو پہچان لیا کہ یہ تو موسیٰ (‏‏‏‏علیہ السلام) ہے۔

سدی رحمہ اللہ کا بیان ہے کہ آپ مصر میں اپنے ہی گھر ٹھہرے تھے۔ ماں نے اور بھائی نے پہلے تو آپ کو پہچانا نہیں، گھر میں جو پکا تھا وہ مہمان سمجھ کر ان کے پاس لا رکھا۔ اس کے بعد پہچانا سلام کیا۔ موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا اللہ کا مجھے حکم ہوا ہے کہ میں اس بادشاہ کو اللہ کی طرف بلاؤں اور تمہاری نسبت فرمان ہوا ہے کہ تم میری تائید کرو۔ ہارون علیہ السلام نے فرمایا پھر بسم اللہ کیجئے۔ رات کو دونوں صاحب بادشاہ کے ہاں گئے، موسیٰ علیہ السلام نے اپنی لکڑی سے کواڑ کھٹکھٹائے۔ فرعون آگ بگولا ہو گیا کہ اتنا بڑا دلیر آدمی کون آ گیا؟ جو یوں بےساختہ دربار کے آداب کے خلاف اپنی لکڑی سے مجھے ہوشیار کر رہا ہے؟ درباریوں نے کہا، کچھ نہیں، یونہی ایک مجنوں آدمی ہے، کہتا پھرتا ہے کہ میں رسول ہوں۔ فرعون نے حکم دیا کہ اسے میرے سامنے پیش کرو۔ چنانچہ ہارون علیہ السلام کو لیے ہوئے آپ اس کے پاس گئے۔ اور اس سے فرمایا کہ ہم اللہ کے رسول ہیں تو ہمارے ساتھ بنی اسرائیل کو بھیج دے انہیں سزائیں نہ کر۔ ہم رب العالمین کیطرف سے اپنی رسالت کی دلیلیں اور معجزے لے کر آئے ہیں، اگر توہماری بات مان لے تو تجھ پر اللہ کی طرف سے سلامتی نازل ہو گی۔ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی جو خط شاہ روم ہرقل کے نام لکھا تھا، اس میں «بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ» کے بعد یہ مضمون تھا کہ یہ خط محمد رسول اللہ کی طرف سے شاہ روم ہرقل کے نام ہے، جو ہدایت کی پیروی کرے اس پر سلام ہو۔ اس کے بعد یہ کہ تم اسلام قبول کر لو تو سلامت رہو گے اللہ تعالیٰ دوہرا اجر عنایت فرمائے گا۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:7] ‏‏‏‏

مسیلمہ کذاب نے صادق و مصدوق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک خط لکھا تھا جس میں تحریر تھا کہ یہ خط اللہ کے رسول مسیلمہ کی جانب سے اللہ کے رسول محمد (‏‏‏‏صلی اللہ علیہ وسلم ) کے نام، آپ پر سلام ہو، میں نے آپ کو شریک کار کر لیا ہے شہری آپ کے لیے اور دیہاتی میرے لیے۔ یہ قریشی تو بڑے ہی ظالم لوگ ہیں۔ اس کے جواب میں { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے لکھا کہ یہ محمد رسول اللہ (‏‏‏‏صلی اللہ علیہ وسلم ) کی طرف سے مسیلمہ کذاب کے نام ہے۔ سلام ہو ان پر جو ہدایت کی تابعداری کریں۔ سن لے، زمین اللہ کی ملکیت ہے وہ اپنے بندوں میں سے جسے چاہے اس کا وارث بناتا ہے، انجام کے لحاظ سے بھلے لوگ وہ ہیں جن کے دل خوف الٰہی سے پر ہوں۔ } ۱؎ [سیرۃ ابن ھشام:600/2:ضعیف] ‏‏‏‏ الغرض رسول اللہ کلیم اللہ موسیٰ علیہ السلام نے بھی فرعون سے یہی کہا کہ سلام ان پر ہے جو ہدایت کے پیرو ہوں۔ پھر فرماتا ہے کہ ہمیں بذریعہ وحی الٰہی یہ بات معلوم کرائی گئی ہے کہ عذاب کے لائق صرف وہی لوگ ہیں جو اللہ کے کلام کو جھٹلائیں اور اللہ کی باتوں کے ماننے سے انکار کر جائیں۔ جیسے ارشاد ہے «فَأَمَّا مَن طَغَىٰ وَآثَرَ الْحَيَاةَ الدُّنْيَا فَإِنَّ الْجَحِيمَ هِيَ الْمَأْوَىٰ» ۱؎ [79-النازعات:37-39] ‏‏‏‏ ’ جو شخص سرکشی کرے اور دنیا کی زندگانی پر مر مٹ کر اسی کو پسند کر لے، اس کا آخری ٹھکانا جہنم ہی ہے۔ ‘ اور آیتوں میں ہے کہ «فَأَنذَرْتُكُمْ نَارًا تَلَظَّىٰ لَا يَصْلَاهَا إِلَّا الْأَشْقَى الَّذِي كَذَّبَ وَتَوَلَّىٰ» ‏‏‏‏ ۱؎ [92-الليل:14-16] ‏‏‏‏ ’ میں تمہیں شعلے مارنے والی آگ جہنم سے ڈرا رہا ہوں جس میں صرف وہ بدبخت داخل ہوں گے جو جھٹلائیں اور منہ موڑ لیں۔ ‘ اور آیتوں میں ہے کہ «فَلَا صَدَّقَ وَلَا صَلَّىٰ وَلَـٰكِن كَذَّبَ وَتَوَلَّىٰ» ‏‏‏‏ ۱؎ [75-القيامة:31-32] ‏‏‏‏ ’ اس نے نہ تو مانا نہ نماز ادا کی بلکہ دل سے منکر رہا اور کام فرمان کے خلاف کئے۔ ‘
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 45){ قَالَا رَبَّنَاۤ اِنَّنَا نَخَافُ …:} موسیٰ علیہ السلام نے مصر پہنچ کر ہارون علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچایا اور دونوں بھائیوں نے اپنی بے سرو سامانی اور فرعون کی سرکشی، حاکمانہ تسلط اور ظلم و ستم پر غور کیا تو انسانی فطرت کے مطابق ڈرے اور اپنے رب سے اس کا اظہار کرتے ہوئے عرض کی کہ اے ہمارے رب! ہم تو ڈرتے ہیں کہ وہ ہم پر زیادتی کرتے ہوئے ہمیں قید یا قتل نہ کر دے، یا کوئی اور خوف نا ک سزا نہ دے، یا اس کی سرکشی اور بڑھ جائے اور وہ کفر اور گمراہی میں مزید بڑھ جائے، یا تیری ذات و صفات کے بارے میں کوئی نامناسب بات کہہ گزرے، جس سے ہمیں ہر تکلیف سے زیادہ تکلیف پہنچے۔
قَالَ لَا تَخَافَاۤ اِنَّنِیۡ مَعَکُمَاۤ اَسۡمَعُ وَ اَرٰی ﴿۴۶﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
فرمایا " ڈرو مت، میں تمہارے ساتھ ہوں، سب کچھ سُن رہا ہوں اور دیکھ رہا ہوں
مولانا محمد جوناگڑھی
جواب ملا کہ تم مطلقاً خوف نہ کرو میں تمہارے ساتھ ہوں اور سنتا دیکھتا رہوں گا
احمد رضا خان بریلوی
فرمایا ڈرو نہیں میں تمہارے ساتھ ہوں سنتا اور دیکھتا
علامہ محمد حسین نجفی
ارشاد ہوا تم ڈرو نہیں میں تمہارے ساتھ ہوں۔ سب کچھ سن رہا ہوں اور دیکھ رہا ہوں۔
عبدالسلام بن محمد
فرمایا ڈرو نہیں، بے شک میں تم دونوں کے ساتھ ہوں، میں سن رہا ہوں اور دیکھ رہا ہوں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
اللہ کے سامنے اظہار بےبسی ٭٭

اللہ کے ان دونوں رسولوں علیہم السلام نے اللہ کی پناہ طلب کرتے ہوئے اپنی کمزوری کی شکایت رب کے سامنے کی کہ ہمیں خوف ہے کہ فرعون کہیں ہم پر کوئی ظلم نہ کرے اور بدسلوکی سے پیش نہ آئے۔ ہماری آواز کو دبانے کے لیے جلدی سے ہمیں کسی مصیبت میں مبتلا نہ کر دے اور ہمارے ساتھ ناانصافی سے پیش نہ آئے۔ رب العالمین کی طرف سے ان کی تشفی کر دی گئی۔ ارشاد ہوا کہ اس کا کچھ خوف نہ کھاؤ، میں خود تمہارے ساتھ ہوں اور تمہاری اور اس کی بات چیت سنتا رہوں گا اور تمہارا حال دیکھتا رہوں گا۔ کوئی بات مجھ پر مخفی نہیں رہ سکتی۔ اس کی چوٹی میرے ہاتھ میں ہے، وہ بغیر میری اجازت کے سانس بھی تو نہیں لے سکتا۔ میرے قبضے سے کبھی باہر نہیں نکل سکتا۔ میری حفاظت و نصرت، تائید و مدد تمہارے ساتھ ہے۔

سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں، موسیٰ علیہ السلام نے جناب باری میں دعا کی کہ مجھے وہ دعا تعلیم فرمائی جائے جو میں فرعون کے پاس جاتے ہوئے پڑھ لیا کروں تو اللہ تعالیٰ نے یہ دعا تعلیم فرمائی۔ «‏‏‏‏هَيَّا شراهيا» جس کے معنی عربی میں «‏‏‏‏أَنَا الْحَيّ قَبْل كُلّ شَيْء وَالْحَيّ بَعْد كُلّ شَيْء» ‏‏‏‏ ’ یعنی میں ہی ہوں سب سے پہلے زندہ اور سب سے بعد بھی زندہ۔ ‘ ۱؎ [الدر المنثور للسیوطی:537/4:ضعیف] ‏‏‏‏ پھر انہیں بتلایا گیا کہ یہ فرعون کو کیا کہیں؟ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں، یہ گئے دروازے پر ٹھہرے، اجازت مانگی، بڑی دیر کے بعد اجازت ملی۔ محمد بن اسحاق رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ دونوں پیغمبر دو سال تک روزانہ صبح شام فرعون کے ہاں جاتے رہے، دربانوں سے کہتے رہے کہ ہم دونوں پیغمبروں کی آمد کی خبر بادشاہ سے کرو۔ لیکن فرعون کے ڈر کے مارے کسی نے خبر نہ کی۔ دو سال کے بعد ایک روز اس کے ایک بے تکلف دوست نے جو بادشاہ سے ہنسی دل لگی بھی کر لیا کرتا تھا، کہا کہ آپ کے دروازے پر ایک شخص کھڑا ہے اور ایک عجیب مزے کی بات کہہ رہا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ آپ کے سوا اس کا کوئی اور رب ہے اور اس کے رب نے اسے آپ کی طرف اپنا رسول بنا کر بھیجا ہے۔ اس نے کہا، کیا میرے دروازے پر وہ ہے؟ اس نے کہا ہاں۔ حکم دیا کہ اندر بلا لو۔ چنانچہ آدمی گیا اور دونوں پیغمبر دربار میں آئے۔ موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا، میں رب العالمین کا رسول ہوں، فرعون نے آپ کو پہچان لیا کہ یہ تو موسیٰ (‏‏‏‏علیہ السلام) ہے۔

سدی رحمہ اللہ کا بیان ہے کہ آپ مصر میں اپنے ہی گھر ٹھہرے تھے۔ ماں نے اور بھائی نے پہلے تو آپ کو پہچانا نہیں، گھر میں جو پکا تھا وہ مہمان سمجھ کر ان کے پاس لا رکھا۔ اس کے بعد پہچانا سلام کیا۔ موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا اللہ کا مجھے حکم ہوا ہے کہ میں اس بادشاہ کو اللہ کی طرف بلاؤں اور تمہاری نسبت فرمان ہوا ہے کہ تم میری تائید کرو۔ ہارون علیہ السلام نے فرمایا پھر بسم اللہ کیجئے۔ رات کو دونوں صاحب بادشاہ کے ہاں گئے، موسیٰ علیہ السلام نے اپنی لکڑی سے کواڑ کھٹکھٹائے۔ فرعون آگ بگولا ہو گیا کہ اتنا بڑا دلیر آدمی کون آ گیا؟ جو یوں بےساختہ دربار کے آداب کے خلاف اپنی لکڑی سے مجھے ہوشیار کر رہا ہے؟ درباریوں نے کہا، کچھ نہیں، یونہی ایک مجنوں آدمی ہے، کہتا پھرتا ہے کہ میں رسول ہوں۔ فرعون نے حکم دیا کہ اسے میرے سامنے پیش کرو۔ چنانچہ ہارون علیہ السلام کو لیے ہوئے آپ اس کے پاس گئے۔ اور اس سے فرمایا کہ ہم اللہ کے رسول ہیں تو ہمارے ساتھ بنی اسرائیل کو بھیج دے انہیں سزائیں نہ کر۔ ہم رب العالمین کیطرف سے اپنی رسالت کی دلیلیں اور معجزے لے کر آئے ہیں، اگر توہماری بات مان لے تو تجھ پر اللہ کی طرف سے سلامتی نازل ہو گی۔ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی جو خط شاہ روم ہرقل کے نام لکھا تھا، اس میں «بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ» کے بعد یہ مضمون تھا کہ یہ خط محمد رسول اللہ کی طرف سے شاہ روم ہرقل کے نام ہے، جو ہدایت کی پیروی کرے اس پر سلام ہو۔ اس کے بعد یہ کہ تم اسلام قبول کر لو تو سلامت رہو گے اللہ تعالیٰ دوہرا اجر عنایت فرمائے گا۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:7] ‏‏‏‏

مسیلمہ کذاب نے صادق و مصدوق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک خط لکھا تھا جس میں تحریر تھا کہ یہ خط اللہ کے رسول مسیلمہ کی جانب سے اللہ کے رسول محمد (‏‏‏‏صلی اللہ علیہ وسلم ) کے نام، آپ پر سلام ہو، میں نے آپ کو شریک کار کر لیا ہے شہری آپ کے لیے اور دیہاتی میرے لیے۔ یہ قریشی تو بڑے ہی ظالم لوگ ہیں۔ اس کے جواب میں { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے لکھا کہ یہ محمد رسول اللہ (‏‏‏‏صلی اللہ علیہ وسلم ) کی طرف سے مسیلمہ کذاب کے نام ہے۔ سلام ہو ان پر جو ہدایت کی تابعداری کریں۔ سن لے، زمین اللہ کی ملکیت ہے وہ اپنے بندوں میں سے جسے چاہے اس کا وارث بناتا ہے، انجام کے لحاظ سے بھلے لوگ وہ ہیں جن کے دل خوف الٰہی سے پر ہوں۔ } ۱؎ [سیرۃ ابن ھشام:600/2:ضعیف] ‏‏‏‏ الغرض رسول اللہ کلیم اللہ موسیٰ علیہ السلام نے بھی فرعون سے یہی کہا کہ سلام ان پر ہے جو ہدایت کے پیرو ہوں۔ پھر فرماتا ہے کہ ہمیں بذریعہ وحی الٰہی یہ بات معلوم کرائی گئی ہے کہ عذاب کے لائق صرف وہی لوگ ہیں جو اللہ کے کلام کو جھٹلائیں اور اللہ کی باتوں کے ماننے سے انکار کر جائیں۔ جیسے ارشاد ہے «فَأَمَّا مَن طَغَىٰ وَآثَرَ الْحَيَاةَ الدُّنْيَا فَإِنَّ الْجَحِيمَ هِيَ الْمَأْوَىٰ» ۱؎ [79-النازعات:37-39] ‏‏‏‏ ’ جو شخص سرکشی کرے اور دنیا کی زندگانی پر مر مٹ کر اسی کو پسند کر لے، اس کا آخری ٹھکانا جہنم ہی ہے۔ ‘ اور آیتوں میں ہے کہ «فَأَنذَرْتُكُمْ نَارًا تَلَظَّىٰ لَا يَصْلَاهَا إِلَّا الْأَشْقَى الَّذِي كَذَّبَ وَتَوَلَّىٰ» ‏‏‏‏ ۱؎ [92-الليل:14-16] ‏‏‏‏ ’ میں تمہیں شعلے مارنے والی آگ جہنم سے ڈرا رہا ہوں جس میں صرف وہ بدبخت داخل ہوں گے جو جھٹلائیں اور منہ موڑ لیں۔ ‘ اور آیتوں میں ہے کہ «فَلَا صَدَّقَ وَلَا صَلَّىٰ وَلَـٰكِن كَذَّبَ وَتَوَلَّىٰ» ‏‏‏‏ ۱؎ [75-القيامة:31-32] ‏‏‏‏ ’ اس نے نہ تو مانا نہ نماز ادا کی بلکہ دل سے منکر رہا اور کام فرمان کے خلاف کئے۔ ‘
46۔ 1 تم فرعون کو جا کر کہو گے اور اس کے جواب میں جو کہے گا، میں وہ سنتا اور تمہارے اور اس کے طرز عمل کو دیکھتا رہوں گا۔ اس کے مطابق میں تمہاری مدد اور اس کی چالوں کو ناکام کروں گا، اس لئے اس کے پاس جاؤ، فکر کرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔
(آیت 46) ➊ { اِنَّنِيْ مَعَكُمَاۤ:} بے شک میں تمھارے ساتھ ہوں، اگرچہ اللہ تعالیٰ ہر ایک کے ساتھ ہے، فرمایا: «{ وَ هُوَ مَعَكُمْ اَيْنَ مَا كُنْتُمْ }» [ الحدید: ۴ ] ”اور وہ تمھارے ساتھ ہے، تم جہاں کہیں بھی ہو۔“ مگر یہاں اس سے مراد خاص معیت (ساتھ) ہے، یعنی میں تمھاری ہر طرح سے حفاظت و نصرت کروں گا، جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوبکر رضی اللہ عنہ سے فرمایا تھا: «{ لَا تَحْزَنْ اِنَّ اللّٰهَ مَعَنَا }» [ التوبۃ: ۴۰ ] ”غم نہ کر، بے شک اللہ ہمارے ساتھ ہے۔“ غور کیجیے پورے مصر کے وسائل کے مالک، بے پناہ فوج کے پہرے میں رب اور معبود ہونے کے دعوے دار کے پاس مقہور و مجبور اور غلام قوم کے دو آدمی جاتے ہیں، جن کے پاس بظاہر ایک لاٹھی کے سوا کچھ نہیں، نہ انھیں کوئی پہرے دار روک سکتا ہے اور نہ فوج کو روکنے کی جرأت ہوتی ہے۔ وہ سیدھے فرعون کے بھرے دربار میں بلاخوف و خطر جا کر اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچاتے ہیں۔ اس کے ہر سوال کا جواب دیتے ہیں اور اس کے ہر مغالطے کا پردہ چاک کرتے ہیں، یہاں تک کہ وہ لاجواب ہو کر قید کی دھمکی دیتا ہے، مگر اسے نہ قید کرنے کی جرأت ہوتی ہے اور نہ کسی اور زیادتی کی، اس سے بڑھ کر اللہ تعالیٰ کے ساتھ ہونے کا مظاہرہ اور کیا ہو گا؟ ➋ { اَسْمَعُ وَ اَرٰى:} میں دوسرے بھیجنے والوں کی طرح نہیں جو اپنا قاصد بھیج کر نہ اسے دیکھ سکتے ہیں اور نہ اس کی بات سن سکتے ہیں، بلکہ میں ہر وقت تمھارے ساتھ ہوں، تمھاری اور سب کی ہر بات سن رہا ہوں اور ہر عمل دیکھ رہا ہوں۔ ایسی کوئی بات اور ایسا کوئی کام نہ ہونے دوں گا جس کا تمھیں خوف ہے۔
فَاۡتِیٰہُ فَقُوۡلَاۤ اِنَّا رَسُوۡلَا رَبِّکَ فَاَرۡسِلۡ مَعَنَا بَنِیۡۤ اِسۡرَآءِیۡلَ ۬ۙ وَ لَا تُعَذِّبۡہُمۡ ؕ قَدۡ جِئۡنٰکَ بِاٰیَۃٍ مِّنۡ رَّبِّکَ ؕ وَ السَّلٰمُ عَلٰی مَنِ اتَّبَعَ الۡہُدٰی ﴿۴۷﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
جاؤ اس کے پاس اور کہو کہ ہم تیرے رب کے فرستادے ہیں، بنی اسرائیل کو ہمارے ساتھ جانے کے لیے چھوڑ دے اور ان کو تکلیف نہ دے ہم تیرے پاس تیرے رب کی نشانی لے کر آئے ہیں اور سلامتی ہے اُس کے لیے جو راہِ راست کی پیروی کرے
مولانا محمد جوناگڑھی
تم اس کے پاس جا کر کہو کہ ہم تیرے پروردگار کے پیغمبر ہیں تو ہمارے ساتھ بنی اسرائیل کو بھیج دے، ان کی سزائیں موقوف کر۔ ہم تو تیرے پاس تیرے رب کی طرف سے نشانی لے کر آئے ہیں اور سلامتی اسی کے لئے ہے جو ہدایت کا پابند ہو جائے
احمد رضا خان بریلوی
تو اس کے پاس جاؤ اور اس سے کہو کہ ہم تیرے رب کے بھیجے ہوئے ہیں تو اولاد یعقوب کو ہمارے ساتھ چھوڑ دے اور انہیں تکلیف نہ دے بیشک ہم تیرے رب کی طرف سے نشانی لائے ہیں اور سلامتی اسے جو ہدایت کی پیروی کرے
علامہ محمد حسین نجفی
تم (بے دھڑک) اس کے پاس جاؤ۔ اور کہو کہ ہم تیرے پروردگار کے پیغمبر ہیں۔ سو تو بنی اسرائیل کو ہمارے ساتھ روانہ کر اور ان کو تکلیف نہ پہنچا۔ ہم تیرے پاس تیرے پروردگار کی طرف سے معجزہ لے کر آئے ہیں اور سلامتی ہے اس کے لئے جو ہدایت کی پیروی کرے۔
عبدالسلام بن محمد
تو اس کے پاس جائو اور کہو بے شک ہم تیرے رب کے بھیجے ہوئے ہیں، پس تو بنی اسرائیل کو ہمارے ساتھ بھیج دے اور انھیں عذاب نہ دے، یقینا ہم تیرے پاس تیرے رب کی طرف سے ایک نشانی لے کر آئے ہیں اور سلام اس پر جو ہدایت کے پیچھے چلے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
اللہ کے سامنے اظہار بےبسی ٭٭

اللہ کے ان دونوں رسولوں علیہم السلام نے اللہ کی پناہ طلب کرتے ہوئے اپنی کمزوری کی شکایت رب کے سامنے کی کہ ہمیں خوف ہے کہ فرعون کہیں ہم پر کوئی ظلم نہ کرے اور بدسلوکی سے پیش نہ آئے۔ ہماری آواز کو دبانے کے لیے جلدی سے ہمیں کسی مصیبت میں مبتلا نہ کر دے اور ہمارے ساتھ ناانصافی سے پیش نہ آئے۔ رب العالمین کی طرف سے ان کی تشفی کر دی گئی۔ ارشاد ہوا کہ اس کا کچھ خوف نہ کھاؤ، میں خود تمہارے ساتھ ہوں اور تمہاری اور اس کی بات چیت سنتا رہوں گا اور تمہارا حال دیکھتا رہوں گا۔ کوئی بات مجھ پر مخفی نہیں رہ سکتی۔ اس کی چوٹی میرے ہاتھ میں ہے، وہ بغیر میری اجازت کے سانس بھی تو نہیں لے سکتا۔ میرے قبضے سے کبھی باہر نہیں نکل سکتا۔ میری حفاظت و نصرت، تائید و مدد تمہارے ساتھ ہے۔

سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں، موسیٰ علیہ السلام نے جناب باری میں دعا کی کہ مجھے وہ دعا تعلیم فرمائی جائے جو میں فرعون کے پاس جاتے ہوئے پڑھ لیا کروں تو اللہ تعالیٰ نے یہ دعا تعلیم فرمائی۔ «‏‏‏‏هَيَّا شراهيا» جس کے معنی عربی میں «‏‏‏‏أَنَا الْحَيّ قَبْل كُلّ شَيْء وَالْحَيّ بَعْد كُلّ شَيْء» ‏‏‏‏ ’ یعنی میں ہی ہوں سب سے پہلے زندہ اور سب سے بعد بھی زندہ۔ ‘ ۱؎ [الدر المنثور للسیوطی:537/4:ضعیف] ‏‏‏‏ پھر انہیں بتلایا گیا کہ یہ فرعون کو کیا کہیں؟ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں، یہ گئے دروازے پر ٹھہرے، اجازت مانگی، بڑی دیر کے بعد اجازت ملی۔ محمد بن اسحاق رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ دونوں پیغمبر دو سال تک روزانہ صبح شام فرعون کے ہاں جاتے رہے، دربانوں سے کہتے رہے کہ ہم دونوں پیغمبروں کی آمد کی خبر بادشاہ سے کرو۔ لیکن فرعون کے ڈر کے مارے کسی نے خبر نہ کی۔ دو سال کے بعد ایک روز اس کے ایک بے تکلف دوست نے جو بادشاہ سے ہنسی دل لگی بھی کر لیا کرتا تھا، کہا کہ آپ کے دروازے پر ایک شخص کھڑا ہے اور ایک عجیب مزے کی بات کہہ رہا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ آپ کے سوا اس کا کوئی اور رب ہے اور اس کے رب نے اسے آپ کی طرف اپنا رسول بنا کر بھیجا ہے۔ اس نے کہا، کیا میرے دروازے پر وہ ہے؟ اس نے کہا ہاں۔ حکم دیا کہ اندر بلا لو۔ چنانچہ آدمی گیا اور دونوں پیغمبر دربار میں آئے۔ موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا، میں رب العالمین کا رسول ہوں، فرعون نے آپ کو پہچان لیا کہ یہ تو موسیٰ (‏‏‏‏علیہ السلام) ہے۔

سدی رحمہ اللہ کا بیان ہے کہ آپ مصر میں اپنے ہی گھر ٹھہرے تھے۔ ماں نے اور بھائی نے پہلے تو آپ کو پہچانا نہیں، گھر میں جو پکا تھا وہ مہمان سمجھ کر ان کے پاس لا رکھا۔ اس کے بعد پہچانا سلام کیا۔ موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا اللہ کا مجھے حکم ہوا ہے کہ میں اس بادشاہ کو اللہ کی طرف بلاؤں اور تمہاری نسبت فرمان ہوا ہے کہ تم میری تائید کرو۔ ہارون علیہ السلام نے فرمایا پھر بسم اللہ کیجئے۔ رات کو دونوں صاحب بادشاہ کے ہاں گئے، موسیٰ علیہ السلام نے اپنی لکڑی سے کواڑ کھٹکھٹائے۔ فرعون آگ بگولا ہو گیا کہ اتنا بڑا دلیر آدمی کون آ گیا؟ جو یوں بےساختہ دربار کے آداب کے خلاف اپنی لکڑی سے مجھے ہوشیار کر رہا ہے؟ درباریوں نے کہا، کچھ نہیں، یونہی ایک مجنوں آدمی ہے، کہتا پھرتا ہے کہ میں رسول ہوں۔ فرعون نے حکم دیا کہ اسے میرے سامنے پیش کرو۔ چنانچہ ہارون علیہ السلام کو لیے ہوئے آپ اس کے پاس گئے۔ اور اس سے فرمایا کہ ہم اللہ کے رسول ہیں تو ہمارے ساتھ بنی اسرائیل کو بھیج دے انہیں سزائیں نہ کر۔ ہم رب العالمین کیطرف سے اپنی رسالت کی دلیلیں اور معجزے لے کر آئے ہیں، اگر توہماری بات مان لے تو تجھ پر اللہ کی طرف سے سلامتی نازل ہو گی۔ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی جو خط شاہ روم ہرقل کے نام لکھا تھا، اس میں «بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ» کے بعد یہ مضمون تھا کہ یہ خط محمد رسول اللہ کی طرف سے شاہ روم ہرقل کے نام ہے، جو ہدایت کی پیروی کرے اس پر سلام ہو۔ اس کے بعد یہ کہ تم اسلام قبول کر لو تو سلامت رہو گے اللہ تعالیٰ دوہرا اجر عنایت فرمائے گا۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:7] ‏‏‏‏

مسیلمہ کذاب نے صادق و مصدوق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک خط لکھا تھا جس میں تحریر تھا کہ یہ خط اللہ کے رسول مسیلمہ کی جانب سے اللہ کے رسول محمد (‏‏‏‏صلی اللہ علیہ وسلم ) کے نام، آپ پر سلام ہو، میں نے آپ کو شریک کار کر لیا ہے شہری آپ کے لیے اور دیہاتی میرے لیے۔ یہ قریشی تو بڑے ہی ظالم لوگ ہیں۔ اس کے جواب میں { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے لکھا کہ یہ محمد رسول اللہ (‏‏‏‏صلی اللہ علیہ وسلم ) کی طرف سے مسیلمہ کذاب کے نام ہے۔ سلام ہو ان پر جو ہدایت کی تابعداری کریں۔ سن لے، زمین اللہ کی ملکیت ہے وہ اپنے بندوں میں سے جسے چاہے اس کا وارث بناتا ہے، انجام کے لحاظ سے بھلے لوگ وہ ہیں جن کے دل خوف الٰہی سے پر ہوں۔ } ۱؎ [سیرۃ ابن ھشام:600/2:ضعیف] ‏‏‏‏ الغرض رسول اللہ کلیم اللہ موسیٰ علیہ السلام نے بھی فرعون سے یہی کہا کہ سلام ان پر ہے جو ہدایت کے پیرو ہوں۔ پھر فرماتا ہے کہ ہمیں بذریعہ وحی الٰہی یہ بات معلوم کرائی گئی ہے کہ عذاب کے لائق صرف وہی لوگ ہیں جو اللہ کے کلام کو جھٹلائیں اور اللہ کی باتوں کے ماننے سے انکار کر جائیں۔ جیسے ارشاد ہے «فَأَمَّا مَن طَغَىٰ وَآثَرَ الْحَيَاةَ الدُّنْيَا فَإِنَّ الْجَحِيمَ هِيَ الْمَأْوَىٰ» ۱؎ [79-النازعات:37-39] ‏‏‏‏ ’ جو شخص سرکشی کرے اور دنیا کی زندگانی پر مر مٹ کر اسی کو پسند کر لے، اس کا آخری ٹھکانا جہنم ہی ہے۔ ‘ اور آیتوں میں ہے کہ «فَأَنذَرْتُكُمْ نَارًا تَلَظَّىٰ لَا يَصْلَاهَا إِلَّا الْأَشْقَى الَّذِي كَذَّبَ وَتَوَلَّىٰ» ‏‏‏‏ ۱؎ [92-الليل:14-16] ‏‏‏‏ ’ میں تمہیں شعلے مارنے والی آگ جہنم سے ڈرا رہا ہوں جس میں صرف وہ بدبخت داخل ہوں گے جو جھٹلائیں اور منہ موڑ لیں۔ ‘ اور آیتوں میں ہے کہ «فَلَا صَدَّقَ وَلَا صَلَّىٰ وَلَـٰكِن كَذَّبَ وَتَوَلَّىٰ» ‏‏‏‏ ۱؎ [75-القيامة:31-32] ‏‏‏‏ ’ اس نے نہ تو مانا نہ نماز ادا کی بلکہ دل سے منکر رہا اور کام فرمان کے خلاف کئے۔ ‘
47۔ 1 یہ سلام تحیہ نہیں ہے، بلکہ امن و سلامتی کی طرف دعوت ہے۔ جیسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے روم کے بادشاہ ہرقل کے نام مکتوب میں لکھا تھا، و اَسْلِمْ، تَسْلَمْ، (اسلام قبول کرلے، سلامتی میں رہے گا) اس طرح مکتوب کے شروع میں آپ نے (وَالسَّلٰمُ عَلٰي مَنِ اتَّبَعَ الْهُدٰى) 20۔ طہ:47) بھی تحریر فرمایا، (ابن کثیر) اس کا مطلب یہ ہے کہ کسی غیر مسلم کو مکتوب یا مجلس میں مخاطب کرنا ہو تو اسے انہی الفاظ میں سلام کہا جائے، جو مشروط ہے ہدایت کے اپنانے کے ساتھ۔
(آیت 47) ➊ { فَاْتِيٰهُ فَقُوْلَاۤ اِنَّا رَسُوْلَا رَبِّكَ …:} اللہ تعالیٰ نے فرعون کو تین چیزوں کی دعوت پہنچانے کا حکم دیا، ایک دعوت توحید کہ رب تو نہیں بلکہ وہ ہے جو تیرا بھی رب ہے اور جب وہ تیرے جیسے رب کہلانے والوں کا رب ہے تو باقی تمام مخلوق کا رب ہونے میں تو کوئی شک ہی نہیں۔ دوسری دعوت رسالت کہ ہم تیرے رب کے بھیجے ہوئے ہیں اور اس کا پیغام لے کر تیرے پاس آئے ہیں اور تیسری قوم کی آزادی کا مطالبہ کہ رب تعالیٰ کی توحید اور اپنی رسالت پر ایمان کی دعوت کے بعد خاص تیری طرف یہ پیغام بھی لے کر آئے ہیں کہ بنی اسرائیل کو آزادی دے کر میرے ساتھ بھیج دے کہ وہ اللہ کی زمین میں جہاں آزاد رہ سکیں چلے جائیں اور یہ کہ انھیں ان مختلف قسم کے عذابوں سے رہا کر دے جن سے تو نے انھیں دو چار کر رکھا ہے۔ معلوم ہوا کہ اسلام کی دعوت میں غلام اور مظلوم اقوام کو غلامی سے نجات دلانا بھی شامل ہے۔ یہ کہنا کہ یہ جہاد فی سبیل اللہ نہیں، غلط ہے۔ دیکھیے سورۂ بقرہ (۲۴۶ تا ۲۵۲)۔ ➋ { قَدْ جِئْنٰكَ بِاٰيَةٍ مِّنْ رَّبِّكَ:} یہ اس بات کی تفصیل ہے کہ ”ہم تیرے رب کی طرف سے بھیجے ہوئے آئے ہیں“ یعنی یقین جانو کہ ہم تمھارے رب کی طرف سے اپنی رسالت کی نشانی اور دلیل بھی لے کر آئے ہیں، اگر تم اسے دیکھے بغیر ہی ایمان لے آؤ تو بہت ہی اچھا ہے، ورنہ ہم وہ بھی پیش کرنے کے لیے تیار ہیں۔ ➌ { وَ السَّلٰمُ عَلٰى مَنِ اتَّبَعَ الْهُدٰى:} اس میں ہدایت کی پیروی کرنے والوں کے ساتھ ساتھ فرعون کو بھی سلام ہے، اگر وہ ہدایت قبول کرلے۔ معلوم ہوا کہ اگر وہ ہدایت قبول نہ کرے تو اسے کوئی سلام نہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی کافر بادشاہوں قیصر و کسریٰ وغیرہ کو جو خط لکھے ان میں یہی لکھا: [ اَلسَّلَامُ عَلٰی مَنِ اتَّبَعَ الْهُدٰی] [ بخاري: ۶۲۶۰ ] ” سلام ہو اس شخص پر جو اسلام کو قبول کرے “ یعنی ایمان نہ لانے والوں کے لیے نہ سلامتی کی دعا ہے اور نہ ان کے لیے اللہ کی گرفت سے سلامتی کی کوئی صورت ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سب کو لکھا: [ أَسْلِمْ تَسْلَمْ ] [ بخاري: ۷ ] ”مسلمان ہو جاؤ تو سلامت رہو گے۔“
اِنَّا قَدۡ اُوۡحِیَ اِلَیۡنَاۤ اَنَّ الۡعَذَابَ عَلٰی مَنۡ کَذَّبَ وَ تَوَلّٰی ﴿۴۸﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
ہم کو وحی سے بتایا گیا ہے کہ عذاب ہے اُس کے لیے جو جھُٹلائے اور منہ موڑے"
مولانا محمد جوناگڑھی
ہماری طرف وحی کی گئی ہے کہ جو جھٹلائے اور روگردانی کرے اس کے لئے عذاب ہے
احمد رضا خان بریلوی
بیشک ہماری طرف وحی ہوتی ہے کہ عذاب اس پر ہے جو جھٹلائے اور منہ پھیرے
علامہ محمد حسین نجفی
بےشک ہماری طرف یہ وحی کی گئی ہے کہ عذاب اس کیلئے ہے جو (آیات اللہ کو) جھٹلائے اور (اس کے احکام سے) روگردانی کرے۔
عبدالسلام بن محمد
بے شک ہم، یقینا ہماری طرف وحی کی گئی ہے کہ عذاب اس پر ہے جس نے جھٹلایا اور منہ پھیرا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
اللہ کے سامنے اظہار بےبسی ٭٭

اللہ کے ان دونوں رسولوں علیہم السلام نے اللہ کی پناہ طلب کرتے ہوئے اپنی کمزوری کی شکایت رب کے سامنے کی کہ ہمیں خوف ہے کہ فرعون کہیں ہم پر کوئی ظلم نہ کرے اور بدسلوکی سے پیش نہ آئے۔ ہماری آواز کو دبانے کے لیے جلدی سے ہمیں کسی مصیبت میں مبتلا نہ کر دے اور ہمارے ساتھ ناانصافی سے پیش نہ آئے۔ رب العالمین کی طرف سے ان کی تشفی کر دی گئی۔ ارشاد ہوا کہ اس کا کچھ خوف نہ کھاؤ، میں خود تمہارے ساتھ ہوں اور تمہاری اور اس کی بات چیت سنتا رہوں گا اور تمہارا حال دیکھتا رہوں گا۔ کوئی بات مجھ پر مخفی نہیں رہ سکتی۔ اس کی چوٹی میرے ہاتھ میں ہے، وہ بغیر میری اجازت کے سانس بھی تو نہیں لے سکتا۔ میرے قبضے سے کبھی باہر نہیں نکل سکتا۔ میری حفاظت و نصرت، تائید و مدد تمہارے ساتھ ہے۔

سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں، موسیٰ علیہ السلام نے جناب باری میں دعا کی کہ مجھے وہ دعا تعلیم فرمائی جائے جو میں فرعون کے پاس جاتے ہوئے پڑھ لیا کروں تو اللہ تعالیٰ نے یہ دعا تعلیم فرمائی۔ «‏‏‏‏هَيَّا شراهيا» جس کے معنی عربی میں «‏‏‏‏أَنَا الْحَيّ قَبْل كُلّ شَيْء وَالْحَيّ بَعْد كُلّ شَيْء» ‏‏‏‏ ’ یعنی میں ہی ہوں سب سے پہلے زندہ اور سب سے بعد بھی زندہ۔ ‘ ۱؎ [الدر المنثور للسیوطی:537/4:ضعیف] ‏‏‏‏ پھر انہیں بتلایا گیا کہ یہ فرعون کو کیا کہیں؟ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں، یہ گئے دروازے پر ٹھہرے، اجازت مانگی، بڑی دیر کے بعد اجازت ملی۔ محمد بن اسحاق رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ دونوں پیغمبر دو سال تک روزانہ صبح شام فرعون کے ہاں جاتے رہے، دربانوں سے کہتے رہے کہ ہم دونوں پیغمبروں کی آمد کی خبر بادشاہ سے کرو۔ لیکن فرعون کے ڈر کے مارے کسی نے خبر نہ کی۔ دو سال کے بعد ایک روز اس کے ایک بے تکلف دوست نے جو بادشاہ سے ہنسی دل لگی بھی کر لیا کرتا تھا، کہا کہ آپ کے دروازے پر ایک شخص کھڑا ہے اور ایک عجیب مزے کی بات کہہ رہا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ آپ کے سوا اس کا کوئی اور رب ہے اور اس کے رب نے اسے آپ کی طرف اپنا رسول بنا کر بھیجا ہے۔ اس نے کہا، کیا میرے دروازے پر وہ ہے؟ اس نے کہا ہاں۔ حکم دیا کہ اندر بلا لو۔ چنانچہ آدمی گیا اور دونوں پیغمبر دربار میں آئے۔ موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا، میں رب العالمین کا رسول ہوں، فرعون نے آپ کو پہچان لیا کہ یہ تو موسیٰ (‏‏‏‏علیہ السلام) ہے۔

سدی رحمہ اللہ کا بیان ہے کہ آپ مصر میں اپنے ہی گھر ٹھہرے تھے۔ ماں نے اور بھائی نے پہلے تو آپ کو پہچانا نہیں، گھر میں جو پکا تھا وہ مہمان سمجھ کر ان کے پاس لا رکھا۔ اس کے بعد پہچانا سلام کیا۔ موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا اللہ کا مجھے حکم ہوا ہے کہ میں اس بادشاہ کو اللہ کی طرف بلاؤں اور تمہاری نسبت فرمان ہوا ہے کہ تم میری تائید کرو۔ ہارون علیہ السلام نے فرمایا پھر بسم اللہ کیجئے۔ رات کو دونوں صاحب بادشاہ کے ہاں گئے، موسیٰ علیہ السلام نے اپنی لکڑی سے کواڑ کھٹکھٹائے۔ فرعون آگ بگولا ہو گیا کہ اتنا بڑا دلیر آدمی کون آ گیا؟ جو یوں بےساختہ دربار کے آداب کے خلاف اپنی لکڑی سے مجھے ہوشیار کر رہا ہے؟ درباریوں نے کہا، کچھ نہیں، یونہی ایک مجنوں آدمی ہے، کہتا پھرتا ہے کہ میں رسول ہوں۔ فرعون نے حکم دیا کہ اسے میرے سامنے پیش کرو۔ چنانچہ ہارون علیہ السلام کو لیے ہوئے آپ اس کے پاس گئے۔ اور اس سے فرمایا کہ ہم اللہ کے رسول ہیں تو ہمارے ساتھ بنی اسرائیل کو بھیج دے انہیں سزائیں نہ کر۔ ہم رب العالمین کیطرف سے اپنی رسالت کی دلیلیں اور معجزے لے کر آئے ہیں، اگر توہماری بات مان لے تو تجھ پر اللہ کی طرف سے سلامتی نازل ہو گی۔ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی جو خط شاہ روم ہرقل کے نام لکھا تھا، اس میں «بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ» کے بعد یہ مضمون تھا کہ یہ خط محمد رسول اللہ کی طرف سے شاہ روم ہرقل کے نام ہے، جو ہدایت کی پیروی کرے اس پر سلام ہو۔ اس کے بعد یہ کہ تم اسلام قبول کر لو تو سلامت رہو گے اللہ تعالیٰ دوہرا اجر عنایت فرمائے گا۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:7] ‏‏‏‏

مسیلمہ کذاب نے صادق و مصدوق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک خط لکھا تھا جس میں تحریر تھا کہ یہ خط اللہ کے رسول مسیلمہ کی جانب سے اللہ کے رسول محمد (‏‏‏‏صلی اللہ علیہ وسلم ) کے نام، آپ پر سلام ہو، میں نے آپ کو شریک کار کر لیا ہے شہری آپ کے لیے اور دیہاتی میرے لیے۔ یہ قریشی تو بڑے ہی ظالم لوگ ہیں۔ اس کے جواب میں { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے لکھا کہ یہ محمد رسول اللہ (‏‏‏‏صلی اللہ علیہ وسلم ) کی طرف سے مسیلمہ کذاب کے نام ہے۔ سلام ہو ان پر جو ہدایت کی تابعداری کریں۔ سن لے، زمین اللہ کی ملکیت ہے وہ اپنے بندوں میں سے جسے چاہے اس کا وارث بناتا ہے، انجام کے لحاظ سے بھلے لوگ وہ ہیں جن کے دل خوف الٰہی سے پر ہوں۔ } ۱؎ [سیرۃ ابن ھشام:600/2:ضعیف] ‏‏‏‏ الغرض رسول اللہ کلیم اللہ موسیٰ علیہ السلام نے بھی فرعون سے یہی کہا کہ سلام ان پر ہے جو ہدایت کے پیرو ہوں۔ پھر فرماتا ہے کہ ہمیں بذریعہ وحی الٰہی یہ بات معلوم کرائی گئی ہے کہ عذاب کے لائق صرف وہی لوگ ہیں جو اللہ کے کلام کو جھٹلائیں اور اللہ کی باتوں کے ماننے سے انکار کر جائیں۔ جیسے ارشاد ہے «فَأَمَّا مَن طَغَىٰ وَآثَرَ الْحَيَاةَ الدُّنْيَا فَإِنَّ الْجَحِيمَ هِيَ الْمَأْوَىٰ» ۱؎ [79-النازعات:37-39] ‏‏‏‏ ’ جو شخص سرکشی کرے اور دنیا کی زندگانی پر مر مٹ کر اسی کو پسند کر لے، اس کا آخری ٹھکانا جہنم ہی ہے۔ ‘ اور آیتوں میں ہے کہ «فَأَنذَرْتُكُمْ نَارًا تَلَظَّىٰ لَا يَصْلَاهَا إِلَّا الْأَشْقَى الَّذِي كَذَّبَ وَتَوَلَّىٰ» ‏‏‏‏ ۱؎ [92-الليل:14-16] ‏‏‏‏ ’ میں تمہیں شعلے مارنے والی آگ جہنم سے ڈرا رہا ہوں جس میں صرف وہ بدبخت داخل ہوں گے جو جھٹلائیں اور منہ موڑ لیں۔ ‘ اور آیتوں میں ہے کہ «فَلَا صَدَّقَ وَلَا صَلَّىٰ وَلَـٰكِن كَذَّبَ وَتَوَلَّىٰ» ‏‏‏‏ ۱؎ [75-القيامة:31-32] ‏‏‏‏ ’ اس نے نہ تو مانا نہ نماز ادا کی بلکہ دل سے منکر رہا اور کام فرمان کے خلاف کئے۔ ‘
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 48){ اِنَّا قَدْ اُوْحِيَ اِلَيْنَاۤ …:} توحید و رسالت اور بنی اسرائیل کو اپنے ظلم و ستم اور غلامی سے آزاد کرنے کی دعوت کے ساتھ ہی خوش خبری بھی سنائی کہ جو ہدایت کی پیروی کرے گا سلامت رہے گا۔ اس آیت میں ڈرانے کا فریضہ سرانجام دیا کہ ہمیں وحی کے ذریعے سے بتایا گیا ہے کہ جو جھٹلائے گا اور منہ پھیرے گا اس پر اللہ کا عذاب نازل ہو گا۔ اس ڈرانے میں بھی نرم سے نرم الفاظ، جو ممکن تھے، ملحوظ رکھے، یہ نہیں فرمایا کہ تم پر عذاب نازل ہو گا۔ اس سلامتی اور عذاب دونوں کو عام رکھا، اس میں دنیا اور آخرت دونوں کی سلامتی اور عذاب شامل ہیں۔ یہ مضمون سورۂ نازعات (۳۰ تا ۳۹) اور سورۂ قیامہ (۳۱ تا ۳۵) وغیرہ میں بھی بیان ہوا ہے۔
قَالَ فَمَنۡ رَّبُّکُمَا یٰمُوۡسٰی ﴿۴۹﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
فرعون نے کہا " اچھا، تو پھر تم دونوں کا رب کون ہے اے موسیٰؑ؟"
مولانا محمد جوناگڑھی
فرعون نے پوچھا کہ اے موسیٰ تم دونوں کا رب کون ہے؟
احمد رضا خان بریلوی
بولا تو تم دونوں کا خدا کون ہے اے موسیٰ،
علامہ محمد حسین نجفی
(چنانچہ وہ گئے) اور فرعون نے کہا اے موسیٰ! تمہارا پروردگار کون ہے؟
عبدالسلام بن محمد
اس نے کہا تو تم دونوں کا رب کون ہے اے موسیٰ!؟
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
مکالمات موسیٰ علیہ السلام اور فرعون ٭٭

چونکہ یہ ناہنجار یعنی فرعون مصر وجود باری تعالیٰ کا منکر تھا، پیغام الٰہی کلیم اللہ علیہ السلام کی زبانی سن کر وجود خالق کے انکار کے طور پر سوال کرنے لگا کہ تمہارا بھیجنے والا اور تمہارا رب کون ہے؟ میں تو اسے نہیں جانتا نہ اسے مانتا ہوں۔ بلکہ میری دانست میں تو تم سب کا رب میرے سوا اور کوئی نہیں۔ اللہ کے سچے رسول علیہ السلام نے جواب دیا کہ ہمارا رب وہ ہے جس نے ہر شخص کو اس کا جوڑا عطا فرمایا ہے۔ انسان کو بصورت انسان، گدھے کو اس کی صورت پر، بکری کو ایک علیحدہ صورت پر پیدا فرمایا ہے۔ ہر ایک کو اس کی مخصوص صورت میں بنایا ہے۔ ہر ایک کی پیدائش نرالی شان سے درست کر دی ہے۔ انسانی پیدائش کا طریقہ الگ ہے، چوپائے الگ صورت میں ہیں، درندے الگ وضع میں ہیں۔ ہر ایک کے جوڑے کی ہئیت ترکیبی علیحدہ ہے۔ کھانا پینا، کھانے پینے کی چیزیں، جوڑے سب الگ الگ اور ممتاز و مخصوص ہیں۔ ہر ایک کا انداز مقرر کر کے پھر اس کی ترکیب اسے بتلا دی ہے۔ عمل اجل، رزق مقدر اور مقرر کر کے اسی پر لگا دیا ہے۔ نظام کے ساتھ ساری مخلوق کا کارخانہ چل رہا ہے۔ کوئی اس سے ادھر ادھر نہیں ہو سکتا۔ خلق کا خالق، تقدیروں کا مقرر کرنے والا، اپنے ارادے پر مخلوق کی پیدائش کرنے والا ہی ہمارا رب ہے۔ یہ سب سن کر اس بےسمجھ نے پوچھا کہ اچھا تو پھر ان کا کیا حال ہے جو ہم سے پہلے تھے اور اللہ کی عبادت کے منکر تھے؟ اس سوال کو اس نے اہمیت کے ساتھ کیا۔ لیکن اللہ کے پیغمبر علیہ السلام نے ایسا جواب دیا کہ عاجز ہو گیا۔ فرمایا ان سب کا علم میرے رب کو ہے۔ لوح محفوظ میں ان کے اعمال لکھے ہوئے ہیں، جزا سزا کا دن مقرر ہے۔ نہ وہ غلط کرے کہ کوئی چھوٹا بڑا اس کی پکڑ سے چھوٹ جائے، نہ وہ بھولے کہ مجرم اس کی گرفت سے رہ جائیں۔ اس کا علم تمام چیزوں کو اپنے میں گھیرے ہوئے ہے۔ اس کی ذات بھول چوک سے پاک ہے۔ نہ اس کے علم سے کوئی چیز باہر، نہ علم کے بعد بھول جانے کا اس کا وصف، وہ کمی علم کے نقصان سے، وہ بھول کے نقصان سے پاک ہے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 49){قَالَ فَمَنْ رَّبُّكُمَا يٰمُوْسٰى:} یعنی وہ کون ہے جسے تم نے مجھے چھوڑ کر رب بنا رکھا ہے؟ واضح رہے کہ فرعون اپنے رب اعلیٰ ہونے کا دعوے دار تھا (نازعات: ۲۴) اور اپنے {”الٰه“} یعنی معبود ہونے کا بھی۔ (قصص: ۳۸)
قَالَ رَبُّنَا الَّذِیۡۤ اَعۡطٰی کُلَّ شَیۡءٍ خَلۡقَہٗ ثُمَّ ہَدٰی ﴿۵۰﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
موسیٰؑ نے جواب دیا "ہمارا رب وہ ہے جس نے ہر چیز کو اُس کی ساخت بخشی، پھر اس کو راستہ بتایا"
مولانا محمد جوناگڑھی
جواب دیا کہ ہمارا رب وه ہے جس نے ہر ایک کو اس کی خاص صورت، شکل عنایت فرمائی پھر راه سجھا دی
احمد رضا خان بریلوی
کہا ہمارا رب وہ ہے جس نے ہر چیز کو اس کے لائق صورت دی پھر راہ دکھائی
علامہ محمد حسین نجفی
موسیٰ نے کہا ہمارا پروردگار وہ ہے جس نے ہر چیز کو خلقت بخشی پھر راہنمائی فرمائی۔
عبدالسلام بن محمد
کہا ہمارا رب وہ ہے جس نے ہر چیز کو اس کی شکل و صورت بخشی، پھر راستہ دکھایا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
مکالمات موسیٰ علیہ السلام اور فرعون ٭٭

چونکہ یہ ناہنجار یعنی فرعون مصر وجود باری تعالیٰ کا منکر تھا، پیغام الٰہی کلیم اللہ علیہ السلام کی زبانی سن کر وجود خالق کے انکار کے طور پر سوال کرنے لگا کہ تمہارا بھیجنے والا اور تمہارا رب کون ہے؟ میں تو اسے نہیں جانتا نہ اسے مانتا ہوں۔ بلکہ میری دانست میں تو تم سب کا رب میرے سوا اور کوئی نہیں۔ اللہ کے سچے رسول علیہ السلام نے جواب دیا کہ ہمارا رب وہ ہے جس نے ہر شخص کو اس کا جوڑا عطا فرمایا ہے۔ انسان کو بصورت انسان، گدھے کو اس کی صورت پر، بکری کو ایک علیحدہ صورت پر پیدا فرمایا ہے۔ ہر ایک کو اس کی مخصوص صورت میں بنایا ہے۔ ہر ایک کی پیدائش نرالی شان سے درست کر دی ہے۔ انسانی پیدائش کا طریقہ الگ ہے، چوپائے الگ صورت میں ہیں، درندے الگ وضع میں ہیں۔ ہر ایک کے جوڑے کی ہئیت ترکیبی علیحدہ ہے۔ کھانا پینا، کھانے پینے کی چیزیں، جوڑے سب الگ الگ اور ممتاز و مخصوص ہیں۔ ہر ایک کا انداز مقرر کر کے پھر اس کی ترکیب اسے بتلا دی ہے۔ عمل اجل، رزق مقدر اور مقرر کر کے اسی پر لگا دیا ہے۔ نظام کے ساتھ ساری مخلوق کا کارخانہ چل رہا ہے۔ کوئی اس سے ادھر ادھر نہیں ہو سکتا۔ خلق کا خالق، تقدیروں کا مقرر کرنے والا، اپنے ارادے پر مخلوق کی پیدائش کرنے والا ہی ہمارا رب ہے۔ یہ سب سن کر اس بےسمجھ نے پوچھا کہ اچھا تو پھر ان کا کیا حال ہے جو ہم سے پہلے تھے اور اللہ کی عبادت کے منکر تھے؟ اس سوال کو اس نے اہمیت کے ساتھ کیا۔ لیکن اللہ کے پیغمبر علیہ السلام نے ایسا جواب دیا کہ عاجز ہو گیا۔ فرمایا ان سب کا علم میرے رب کو ہے۔ لوح محفوظ میں ان کے اعمال لکھے ہوئے ہیں، جزا سزا کا دن مقرر ہے۔ نہ وہ غلط کرے کہ کوئی چھوٹا بڑا اس کی پکڑ سے چھوٹ جائے، نہ وہ بھولے کہ مجرم اس کی گرفت سے رہ جائیں۔ اس کا علم تمام چیزوں کو اپنے میں گھیرے ہوئے ہے۔ اس کی ذات بھول چوک سے پاک ہے۔ نہ اس کے علم سے کوئی چیز باہر، نہ علم کے بعد بھول جانے کا اس کا وصف، وہ کمی علم کے نقصان سے، وہ بھول کے نقصان سے پاک ہے۔
50۔ 1 مثلاً جو شکل صورت انسان کے مناسب حال تھی، وہ اسے، جو جانوروں کے مطابق تھی وہ جانوروں کو عطا فرمائی ' راہ سجھائی ' کا مطلب ہر مخلوق کو اس کی طبعی ضروریات کے مطابق رہن سہن، کھانے پینے اور بود و باش کا طریقہ سمجھا دیا، اس کے مطابق ہر مخلوق کا سامان زندگی فراہم کرتی اور حیات مستعار کے دن گزارتی ہے۔
(آیت 50) ➊ {قَالَ رَبُّنَا الَّذِيْۤ اَعْطٰى كُلَّ شَيْءٍ خَلْقَهٗ:} یعنی صرف یہی نہیں کہ اس نے ہر چیز کو پیدا کیا ہے، بلکہ اس نے ہر چیز کو پیدا کرتے ہوئے اسے اس کی حسب ضرورت اور حسب حال شکل و صورت عطا فرمائی۔ چلنے والے، اڑنے والے اور تیرنے والے ہر جاندار کو، ہر درخت، پہاڑ اور دریا کو اور زمین و آسمان غرض ہر مخلوق کو ایسی شکل و صورت عطا فرمائی کہ کوئی دوسرا نہ اسے بنا سکتا ہے، نہ کوئی نقص یا عیب نکال سکتا ہے اور نہ اس سے بہتر شکل پیش کر سکتا ہے۔ دیکھیے سورۂ سجدہ (۷) اور سورۂ ملک (۳)۔ ➋ { ثُمَّ هَدٰى:} یعنی اس کے حسب حال شکل و صورت عطا فرما کر اسے زندگی گزارنے اور اپنی بناوٹ سے کام لینے کا راستہ بھی بتایا ہے، چنانچہ پرندے کا بچہ انڈے سے نکلتے ہی دانہ چگنے لگتا ہے، بطخ کا بچہ تیرنے لگتا ہے، جبکہ جانور اور انسان کا بچہ پیدا ہوتے ہی دودھ پینے لگتا ہے، اگر اللہ تعالیٰ نہ سکھاتا تو کون سکھا سکتا تھا؟ الغرض اس کائنات میں ہر چیز جو بھی کام کر رہی ہے اس کی دی ہوئی ہدایت اور تعلیم ہی سے کر رہی ہے۔ موسیٰ علیہ السلام کے کہنے کا مطلب یہ ہے کہ ہمارا رب تو نہیں بلکہ وہ بزرگ و برتر اللہ ہے جس کی یہ اور یہ صفات ہیں۔ موسیٰ علیہ السلام نے عموماً وہی دلائل پیش کیے جو ان کے جد امجد ابراہیم علیہ السلام نے پیش کیے تھے۔ دیکھیے سورۂ شعراء (۲۳ تا ۲۹)۔