بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ طه — Surah Taha
آیت نمبر 47
کل آیات: 135
قرآن کریم طه آیت 47
آیت نمبر: 47 — سورۃ طه islamicurdubooks.com ↗
فَاۡتِیٰہُ فَقُوۡلَاۤ اِنَّا رَسُوۡلَا رَبِّکَ فَاَرۡسِلۡ مَعَنَا بَنِیۡۤ اِسۡرَآءِیۡلَ ۬ۙ وَ لَا تُعَذِّبۡہُمۡ ؕ قَدۡ جِئۡنٰکَ بِاٰیَۃٍ مِّنۡ رَّبِّکَ ؕ وَ السَّلٰمُ عَلٰی مَنِ اتَّبَعَ الۡہُدٰی ﴿۴۷﴾
جاؤ اس کے پاس اور کہو کہ ہم تیرے رب کے فرستادے ہیں، بنی اسرائیل کو ہمارے ساتھ جانے کے لیے چھوڑ دے اور ان کو تکلیف نہ دے ہم تیرے پاس تیرے رب کی نشانی لے کر آئے ہیں اور سلامتی ہے اُس کے لیے جو راہِ راست کی پیروی کرے
تم اس کے پاس جا کر کہو کہ ہم تیرے پروردگار کے پیغمبر ہیں تو ہمارے ساتھ بنی اسرائیل کو بھیج دے، ان کی سزائیں موقوف کر۔ ہم تو تیرے پاس تیرے رب کی طرف سے نشانی لے کر آئے ہیں اور سلامتی اسی کے لئے ہے جو ہدایت کا پابند ہو جائے
تو اس کے پاس جاؤ اور اس سے کہو کہ ہم تیرے رب کے بھیجے ہوئے ہیں تو اولاد یعقوب کو ہمارے ساتھ چھوڑ دے اور انہیں تکلیف نہ دے بیشک ہم تیرے رب کی طرف سے نشانی لائے ہیں اور سلامتی اسے جو ہدایت کی پیروی کرے
تم (بے دھڑک) اس کے پاس جاؤ۔ اور کہو کہ ہم تیرے پروردگار کے پیغمبر ہیں۔ سو تو بنی اسرائیل کو ہمارے ساتھ روانہ کر اور ان کو تکلیف نہ پہنچا۔ ہم تیرے پاس تیرے پروردگار کی طرف سے معجزہ لے کر آئے ہیں اور سلامتی ہے اس کے لئے جو ہدایت کی پیروی کرے۔
تو اس کے پاس جائو اور کہو بے شک ہم تیرے رب کے بھیجے ہوئے ہیں، پس تو بنی اسرائیل کو ہمارے ساتھ بھیج دے اور انھیں عذاب نہ دے، یقینا ہم تیرے پاس تیرے رب کی طرف سے ایک نشانی لے کر آئے ہیں اور سلام اس پر جو ہدایت کے پیچھے چلے۔

📖 تفسیر ابن کثیر

اللہ کے سامنے اظہار بےبسی ٭٭

اللہ کے ان دونوں رسولوں علیہم السلام نے اللہ کی پناہ طلب کرتے ہوئے اپنی کمزوری کی شکایت رب کے سامنے کی کہ ہمیں خوف ہے کہ فرعون کہیں ہم پر کوئی ظلم نہ کرے اور بدسلوکی سے پیش نہ آئے۔ ہماری آواز کو دبانے کے لیے جلدی سے ہمیں کسی مصیبت میں مبتلا نہ کر دے اور ہمارے ساتھ ناانصافی سے پیش نہ آئے۔ رب العالمین کی طرف سے ان کی تشفی کر دی گئی۔ ارشاد ہوا کہ اس کا کچھ خوف نہ کھاؤ، میں خود تمہارے ساتھ ہوں اور تمہاری اور اس کی بات چیت سنتا رہوں گا اور تمہارا حال دیکھتا رہوں گا۔ کوئی بات مجھ پر مخفی نہیں رہ سکتی۔ اس کی چوٹی میرے ہاتھ میں ہے، وہ بغیر میری اجازت کے سانس بھی تو نہیں لے سکتا۔ میرے قبضے سے کبھی باہر نہیں نکل سکتا۔ میری حفاظت و نصرت، تائید و مدد تمہارے ساتھ ہے۔

سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں، موسیٰ علیہ السلام نے جناب باری میں دعا کی کہ مجھے وہ دعا تعلیم فرمائی جائے جو میں فرعون کے پاس جاتے ہوئے پڑھ لیا کروں تو اللہ تعالیٰ نے یہ دعا تعلیم فرمائی۔ «‏‏‏‏هَيَّا شراهيا» جس کے معنی عربی میں «‏‏‏‏أَنَا الْحَيّ قَبْل كُلّ شَيْء وَالْحَيّ بَعْد كُلّ شَيْء» ‏‏‏‏ ’ یعنی میں ہی ہوں سب سے پہلے زندہ اور سب سے بعد بھی زندہ۔ ‘ ۱؎ [الدر المنثور للسیوطی:537/4:ضعیف] ‏‏‏‏ پھر انہیں بتلایا گیا کہ یہ فرعون کو کیا کہیں؟ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں، یہ گئے دروازے پر ٹھہرے، اجازت مانگی، بڑی دیر کے بعد اجازت ملی۔ محمد بن اسحاق رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ دونوں پیغمبر دو سال تک روزانہ صبح شام فرعون کے ہاں جاتے رہے، دربانوں سے کہتے رہے کہ ہم دونوں پیغمبروں کی آمد کی خبر بادشاہ سے کرو۔ لیکن فرعون کے ڈر کے مارے کسی نے خبر نہ کی۔ دو سال کے بعد ایک روز اس کے ایک بے تکلف دوست نے جو بادشاہ سے ہنسی دل لگی بھی کر لیا کرتا تھا، کہا کہ آپ کے دروازے پر ایک شخص کھڑا ہے اور ایک عجیب مزے کی بات کہہ رہا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ آپ کے سوا اس کا کوئی اور رب ہے اور اس کے رب نے اسے آپ کی طرف اپنا رسول بنا کر بھیجا ہے۔ اس نے کہا، کیا میرے دروازے پر وہ ہے؟ اس نے کہا ہاں۔ حکم دیا کہ اندر بلا لو۔ چنانچہ آدمی گیا اور دونوں پیغمبر دربار میں آئے۔ موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا، میں رب العالمین کا رسول ہوں، فرعون نے آپ کو پہچان لیا کہ یہ تو موسیٰ (‏‏‏‏علیہ السلام) ہے۔

سدی رحمہ اللہ کا بیان ہے کہ آپ مصر میں اپنے ہی گھر ٹھہرے تھے۔ ماں نے اور بھائی نے پہلے تو آپ کو پہچانا نہیں، گھر میں جو پکا تھا وہ مہمان سمجھ کر ان کے پاس لا رکھا۔ اس کے بعد پہچانا سلام کیا۔ موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا اللہ کا مجھے حکم ہوا ہے کہ میں اس بادشاہ کو اللہ کی طرف بلاؤں اور تمہاری نسبت فرمان ہوا ہے کہ تم میری تائید کرو۔ ہارون علیہ السلام نے فرمایا پھر بسم اللہ کیجئے۔ رات کو دونوں صاحب بادشاہ کے ہاں گئے، موسیٰ علیہ السلام نے اپنی لکڑی سے کواڑ کھٹکھٹائے۔ فرعون آگ بگولا ہو گیا کہ اتنا بڑا دلیر آدمی کون آ گیا؟ جو یوں بےساختہ دربار کے آداب کے خلاف اپنی لکڑی سے مجھے ہوشیار کر رہا ہے؟ درباریوں نے کہا، کچھ نہیں، یونہی ایک مجنوں آدمی ہے، کہتا پھرتا ہے کہ میں رسول ہوں۔ فرعون نے حکم دیا کہ اسے میرے سامنے پیش کرو۔ چنانچہ ہارون علیہ السلام کو لیے ہوئے آپ اس کے پاس گئے۔ اور اس سے فرمایا کہ ہم اللہ کے رسول ہیں تو ہمارے ساتھ بنی اسرائیل کو بھیج دے انہیں سزائیں نہ کر۔ ہم رب العالمین کیطرف سے اپنی رسالت کی دلیلیں اور معجزے لے کر آئے ہیں، اگر توہماری بات مان لے تو تجھ پر اللہ کی طرف سے سلامتی نازل ہو گی۔ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی جو خط شاہ روم ہرقل کے نام لکھا تھا، اس میں «بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ» کے بعد یہ مضمون تھا کہ یہ خط محمد رسول اللہ کی طرف سے شاہ روم ہرقل کے نام ہے، جو ہدایت کی پیروی کرے اس پر سلام ہو۔ اس کے بعد یہ کہ تم اسلام قبول کر لو تو سلامت رہو گے اللہ تعالیٰ دوہرا اجر عنایت فرمائے گا۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:7] ‏‏‏‏

مسیلمہ کذاب نے صادق و مصدوق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک خط لکھا تھا جس میں تحریر تھا کہ یہ خط اللہ کے رسول مسیلمہ کی جانب سے اللہ کے رسول محمد (‏‏‏‏صلی اللہ علیہ وسلم ) کے نام، آپ پر سلام ہو، میں نے آپ کو شریک کار کر لیا ہے شہری آپ کے لیے اور دیہاتی میرے لیے۔ یہ قریشی تو بڑے ہی ظالم لوگ ہیں۔ اس کے جواب میں { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے لکھا کہ یہ محمد رسول اللہ (‏‏‏‏صلی اللہ علیہ وسلم ) کی طرف سے مسیلمہ کذاب کے نام ہے۔ سلام ہو ان پر جو ہدایت کی تابعداری کریں۔ سن لے، زمین اللہ کی ملکیت ہے وہ اپنے بندوں میں سے جسے چاہے اس کا وارث بناتا ہے، انجام کے لحاظ سے بھلے لوگ وہ ہیں جن کے دل خوف الٰہی سے پر ہوں۔ } ۱؎ [سیرۃ ابن ھشام:600/2:ضعیف] ‏‏‏‏ الغرض رسول اللہ کلیم اللہ موسیٰ علیہ السلام نے بھی فرعون سے یہی کہا کہ سلام ان پر ہے جو ہدایت کے پیرو ہوں۔ پھر فرماتا ہے کہ ہمیں بذریعہ وحی الٰہی یہ بات معلوم کرائی گئی ہے کہ عذاب کے لائق صرف وہی لوگ ہیں جو اللہ کے کلام کو جھٹلائیں اور اللہ کی باتوں کے ماننے سے انکار کر جائیں۔ جیسے ارشاد ہے «فَأَمَّا مَن طَغَىٰ وَآثَرَ الْحَيَاةَ الدُّنْيَا فَإِنَّ الْجَحِيمَ هِيَ الْمَأْوَىٰ» ۱؎ [79-النازعات:37-39] ‏‏‏‏ ’ جو شخص سرکشی کرے اور دنیا کی زندگانی پر مر مٹ کر اسی کو پسند کر لے، اس کا آخری ٹھکانا جہنم ہی ہے۔ ‘ اور آیتوں میں ہے کہ «فَأَنذَرْتُكُمْ نَارًا تَلَظَّىٰ لَا يَصْلَاهَا إِلَّا الْأَشْقَى الَّذِي كَذَّبَ وَتَوَلَّىٰ» ‏‏‏‏ ۱؎ [92-الليل:14-16] ‏‏‏‏ ’ میں تمہیں شعلے مارنے والی آگ جہنم سے ڈرا رہا ہوں جس میں صرف وہ بدبخت داخل ہوں گے جو جھٹلائیں اور منہ موڑ لیں۔ ‘ اور آیتوں میں ہے کہ «فَلَا صَدَّقَ وَلَا صَلَّىٰ وَلَـٰكِن كَذَّبَ وَتَوَلَّىٰ» ‏‏‏‏ ۱؎ [75-القيامة:31-32] ‏‏‏‏ ’ اس نے نہ تو مانا نہ نماز ادا کی بلکہ دل سے منکر رہا اور کام فرمان کے خلاف کئے۔ ‘

📖 احسن البیان

47۔ 1 یہ سلام تحیہ نہیں ہے، بلکہ امن و سلامتی کی طرف دعوت ہے۔ جیسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے روم کے بادشاہ ہرقل کے نام مکتوب میں لکھا تھا، و اَسْلِمْ، تَسْلَمْ، (اسلام قبول کرلے، سلامتی میں رہے گا) اس طرح مکتوب کے شروع میں آپ نے (وَالسَّلٰمُ عَلٰي مَنِ اتَّبَعَ الْهُدٰى) 20۔ طہ:47) بھی تحریر فرمایا، (ابن کثیر) اس کا مطلب یہ ہے کہ کسی غیر مسلم کو مکتوب یا مجلس میں مخاطب کرنا ہو تو اسے انہی الفاظ میں سلام کہا جائے، جو مشروط ہے ہدایت کے اپنانے کے ساتھ۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 47) ➊ { فَاْتِيٰهُ فَقُوْلَاۤ اِنَّا رَسُوْلَا رَبِّكَ …:} اللہ تعالیٰ نے فرعون کو تین چیزوں کی دعوت پہنچانے کا حکم دیا، ایک دعوت توحید کہ رب تو نہیں بلکہ وہ ہے جو تیرا بھی رب ہے اور جب وہ تیرے جیسے رب کہلانے والوں کا رب ہے تو باقی تمام مخلوق کا رب ہونے میں تو کوئی شک ہی نہیں۔ دوسری دعوت رسالت کہ ہم تیرے رب کے بھیجے ہوئے ہیں اور اس کا پیغام لے کر تیرے پاس آئے ہیں اور تیسری قوم کی آزادی کا مطالبہ کہ رب تعالیٰ کی توحید اور اپنی رسالت پر ایمان کی دعوت کے بعد خاص تیری طرف یہ پیغام بھی لے کر آئے ہیں کہ بنی اسرائیل کو آزادی دے کر میرے ساتھ بھیج دے کہ وہ اللہ کی زمین میں جہاں آزاد رہ سکیں چلے جائیں اور یہ کہ انھیں ان مختلف قسم کے عذابوں سے رہا کر دے جن سے تو نے انھیں دو چار کر رکھا ہے۔ معلوم ہوا کہ اسلام کی دعوت میں غلام اور مظلوم اقوام کو غلامی سے نجات دلانا بھی شامل ہے۔ یہ کہنا کہ یہ جہاد فی سبیل اللہ نہیں، غلط ہے۔ دیکھیے سورۂ بقرہ (۲۴۶ تا ۲۵۲)۔ ➋ { قَدْ جِئْنٰكَ بِاٰيَةٍ مِّنْ رَّبِّكَ:} یہ اس بات کی تفصیل ہے کہ ”ہم تیرے رب کی طرف سے بھیجے ہوئے آئے ہیں“ یعنی یقین جانو کہ ہم تمھارے رب کی طرف سے اپنی رسالت کی نشانی اور دلیل بھی لے کر آئے ہیں، اگر تم اسے دیکھے بغیر ہی ایمان لے آؤ تو بہت ہی اچھا ہے، ورنہ ہم وہ بھی پیش کرنے کے لیے تیار ہیں۔ ➌ { وَ السَّلٰمُ عَلٰى مَنِ اتَّبَعَ الْهُدٰى:} اس میں ہدایت کی پیروی کرنے والوں کے ساتھ ساتھ فرعون کو بھی سلام ہے، اگر وہ ہدایت قبول کرلے۔ معلوم ہوا کہ اگر وہ ہدایت قبول نہ کرے تو اسے کوئی سلام نہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی کافر بادشاہوں قیصر و کسریٰ وغیرہ کو جو خط لکھے ان میں یہی لکھا: [ اَلسَّلَامُ عَلٰی مَنِ اتَّبَعَ الْهُدٰی] [ بخاري: ۶۲۶۰ ] ” سلام ہو اس شخص پر جو اسلام کو قبول کرے “ یعنی ایمان نہ لانے والوں کے لیے نہ سلامتی کی دعا ہے اور نہ ان کے لیے اللہ کی گرفت سے سلامتی کی کوئی صورت ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سب کو لکھا: [ أَسْلِمْ تَسْلَمْ ] [ بخاري: ۷ ] ”مسلمان ہو جاؤ تو سلامت رہو گے۔“
← پچھلی آیت (46) پوری سورۃ اگلی آیت (48) →