بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ طه — Surah Taha
آیت نمبر 50
کل آیات: 135
قرآن کریم طه آیت 50
آیت نمبر: 50 — سورۃ طه islamicurdubooks.com ↗
قَالَ رَبُّنَا الَّذِیۡۤ اَعۡطٰی کُلَّ شَیۡءٍ خَلۡقَہٗ ثُمَّ ہَدٰی ﴿۵۰﴾
موسیٰؑ نے جواب دیا "ہمارا رب وہ ہے جس نے ہر چیز کو اُس کی ساخت بخشی، پھر اس کو راستہ بتایا"
جواب دیا کہ ہمارا رب وه ہے جس نے ہر ایک کو اس کی خاص صورت، شکل عنایت فرمائی پھر راه سجھا دی
کہا ہمارا رب وہ ہے جس نے ہر چیز کو اس کے لائق صورت دی پھر راہ دکھائی
موسیٰ نے کہا ہمارا پروردگار وہ ہے جس نے ہر چیز کو خلقت بخشی پھر راہنمائی فرمائی۔
کہا ہمارا رب وہ ہے جس نے ہر چیز کو اس کی شکل و صورت بخشی، پھر راستہ دکھایا۔

📖 تفسیر ابن کثیر

مکالمات موسیٰ علیہ السلام اور فرعون ٭٭

چونکہ یہ ناہنجار یعنی فرعون مصر وجود باری تعالیٰ کا منکر تھا، پیغام الٰہی کلیم اللہ علیہ السلام کی زبانی سن کر وجود خالق کے انکار کے طور پر سوال کرنے لگا کہ تمہارا بھیجنے والا اور تمہارا رب کون ہے؟ میں تو اسے نہیں جانتا نہ اسے مانتا ہوں۔ بلکہ میری دانست میں تو تم سب کا رب میرے سوا اور کوئی نہیں۔ اللہ کے سچے رسول علیہ السلام نے جواب دیا کہ ہمارا رب وہ ہے جس نے ہر شخص کو اس کا جوڑا عطا فرمایا ہے۔ انسان کو بصورت انسان، گدھے کو اس کی صورت پر، بکری کو ایک علیحدہ صورت پر پیدا فرمایا ہے۔ ہر ایک کو اس کی مخصوص صورت میں بنایا ہے۔ ہر ایک کی پیدائش نرالی شان سے درست کر دی ہے۔ انسانی پیدائش کا طریقہ الگ ہے، چوپائے الگ صورت میں ہیں، درندے الگ وضع میں ہیں۔ ہر ایک کے جوڑے کی ہئیت ترکیبی علیحدہ ہے۔ کھانا پینا، کھانے پینے کی چیزیں، جوڑے سب الگ الگ اور ممتاز و مخصوص ہیں۔ ہر ایک کا انداز مقرر کر کے پھر اس کی ترکیب اسے بتلا دی ہے۔ عمل اجل، رزق مقدر اور مقرر کر کے اسی پر لگا دیا ہے۔ نظام کے ساتھ ساری مخلوق کا کارخانہ چل رہا ہے۔ کوئی اس سے ادھر ادھر نہیں ہو سکتا۔ خلق کا خالق، تقدیروں کا مقرر کرنے والا، اپنے ارادے پر مخلوق کی پیدائش کرنے والا ہی ہمارا رب ہے۔ یہ سب سن کر اس بےسمجھ نے پوچھا کہ اچھا تو پھر ان کا کیا حال ہے جو ہم سے پہلے تھے اور اللہ کی عبادت کے منکر تھے؟ اس سوال کو اس نے اہمیت کے ساتھ کیا۔ لیکن اللہ کے پیغمبر علیہ السلام نے ایسا جواب دیا کہ عاجز ہو گیا۔ فرمایا ان سب کا علم میرے رب کو ہے۔ لوح محفوظ میں ان کے اعمال لکھے ہوئے ہیں، جزا سزا کا دن مقرر ہے۔ نہ وہ غلط کرے کہ کوئی چھوٹا بڑا اس کی پکڑ سے چھوٹ جائے، نہ وہ بھولے کہ مجرم اس کی گرفت سے رہ جائیں۔ اس کا علم تمام چیزوں کو اپنے میں گھیرے ہوئے ہے۔ اس کی ذات بھول چوک سے پاک ہے۔ نہ اس کے علم سے کوئی چیز باہر، نہ علم کے بعد بھول جانے کا اس کا وصف، وہ کمی علم کے نقصان سے، وہ بھول کے نقصان سے پاک ہے۔

📖 احسن البیان

50۔ 1 مثلاً جو شکل صورت انسان کے مناسب حال تھی، وہ اسے، جو جانوروں کے مطابق تھی وہ جانوروں کو عطا فرمائی ' راہ سجھائی ' کا مطلب ہر مخلوق کو اس کی طبعی ضروریات کے مطابق رہن سہن، کھانے پینے اور بود و باش کا طریقہ سمجھا دیا، اس کے مطابق ہر مخلوق کا سامان زندگی فراہم کرتی اور حیات مستعار کے دن گزارتی ہے۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 50) ➊ {قَالَ رَبُّنَا الَّذِيْۤ اَعْطٰى كُلَّ شَيْءٍ خَلْقَهٗ:} یعنی صرف یہی نہیں کہ اس نے ہر چیز کو پیدا کیا ہے، بلکہ اس نے ہر چیز کو پیدا کرتے ہوئے اسے اس کی حسب ضرورت اور حسب حال شکل و صورت عطا فرمائی۔ چلنے والے، اڑنے والے اور تیرنے والے ہر جاندار کو، ہر درخت، پہاڑ اور دریا کو اور زمین و آسمان غرض ہر مخلوق کو ایسی شکل و صورت عطا فرمائی کہ کوئی دوسرا نہ اسے بنا سکتا ہے، نہ کوئی نقص یا عیب نکال سکتا ہے اور نہ اس سے بہتر شکل پیش کر سکتا ہے۔ دیکھیے سورۂ سجدہ (۷) اور سورۂ ملک (۳)۔ ➋ { ثُمَّ هَدٰى:} یعنی اس کے حسب حال شکل و صورت عطا فرما کر اسے زندگی گزارنے اور اپنی بناوٹ سے کام لینے کا راستہ بھی بتایا ہے، چنانچہ پرندے کا بچہ انڈے سے نکلتے ہی دانہ چگنے لگتا ہے، بطخ کا بچہ تیرنے لگتا ہے، جبکہ جانور اور انسان کا بچہ پیدا ہوتے ہی دودھ پینے لگتا ہے، اگر اللہ تعالیٰ نہ سکھاتا تو کون سکھا سکتا تھا؟ الغرض اس کائنات میں ہر چیز جو بھی کام کر رہی ہے اس کی دی ہوئی ہدایت اور تعلیم ہی سے کر رہی ہے۔ موسیٰ علیہ السلام کے کہنے کا مطلب یہ ہے کہ ہمارا رب تو نہیں بلکہ وہ بزرگ و برتر اللہ ہے جس کی یہ اور یہ صفات ہیں۔ موسیٰ علیہ السلام نے عموماً وہی دلائل پیش کیے جو ان کے جد امجد ابراہیم علیہ السلام نے پیش کیے تھے۔ دیکھیے سورۂ شعراء (۲۳ تا ۲۹)۔
← پچھلی آیت (49) پوری سورۃ اگلی آیت (51) →