بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ طه — Surah Taha
آیت نمبر 51
کل آیات: 135
قرآن کریم طه آیت 51
آیت نمبر: 51 — سورۃ طه islamicurdubooks.com ↗
قَالَ فَمَا بَالُ الۡقُرُوۡنِ الۡاُوۡلٰی ﴿۵۱﴾
فرعون بولا "اور پہلے جو نسلیں گزر چکی ہیں ان کی پھر کیا حالت تھی؟"
اس نے کہا اچھا یہ تو بتاؤ اگلے زمانے والوں کا حال کیا ہونا ہے
بولا اگلی سنگتوں (قوموں) کا کیا حال ہے
فرعون نے کہا پھر ان نسلوں کا کیا ہوگا جو پہلے گزر چکی ہیں؟
اس نے کہا تو پہلے زمانوں کے لوگوں کا کیا حال ہے؟

📖 تفسیر ابن کثیر

مکالمات موسیٰ علیہ السلام اور فرعون ٭٭

چونکہ یہ ناہنجار یعنی فرعون مصر وجود باری تعالیٰ کا منکر تھا، پیغام الٰہی کلیم اللہ علیہ السلام کی زبانی سن کر وجود خالق کے انکار کے طور پر سوال کرنے لگا کہ تمہارا بھیجنے والا اور تمہارا رب کون ہے؟ میں تو اسے نہیں جانتا نہ اسے مانتا ہوں۔ بلکہ میری دانست میں تو تم سب کا رب میرے سوا اور کوئی نہیں۔ اللہ کے سچے رسول علیہ السلام نے جواب دیا کہ ہمارا رب وہ ہے جس نے ہر شخص کو اس کا جوڑا عطا فرمایا ہے۔ انسان کو بصورت انسان، گدھے کو اس کی صورت پر، بکری کو ایک علیحدہ صورت پر پیدا فرمایا ہے۔ ہر ایک کو اس کی مخصوص صورت میں بنایا ہے۔ ہر ایک کی پیدائش نرالی شان سے درست کر دی ہے۔ انسانی پیدائش کا طریقہ الگ ہے، چوپائے الگ صورت میں ہیں، درندے الگ وضع میں ہیں۔ ہر ایک کے جوڑے کی ہئیت ترکیبی علیحدہ ہے۔ کھانا پینا، کھانے پینے کی چیزیں، جوڑے سب الگ الگ اور ممتاز و مخصوص ہیں۔ ہر ایک کا انداز مقرر کر کے پھر اس کی ترکیب اسے بتلا دی ہے۔ عمل اجل، رزق مقدر اور مقرر کر کے اسی پر لگا دیا ہے۔ نظام کے ساتھ ساری مخلوق کا کارخانہ چل رہا ہے۔ کوئی اس سے ادھر ادھر نہیں ہو سکتا۔ خلق کا خالق، تقدیروں کا مقرر کرنے والا، اپنے ارادے پر مخلوق کی پیدائش کرنے والا ہی ہمارا رب ہے۔ یہ سب سن کر اس بےسمجھ نے پوچھا کہ اچھا تو پھر ان کا کیا حال ہے جو ہم سے پہلے تھے اور اللہ کی عبادت کے منکر تھے؟ اس سوال کو اس نے اہمیت کے ساتھ کیا۔ لیکن اللہ کے پیغمبر علیہ السلام نے ایسا جواب دیا کہ عاجز ہو گیا۔ فرمایا ان سب کا علم میرے رب کو ہے۔ لوح محفوظ میں ان کے اعمال لکھے ہوئے ہیں، جزا سزا کا دن مقرر ہے۔ نہ وہ غلط کرے کہ کوئی چھوٹا بڑا اس کی پکڑ سے چھوٹ جائے، نہ وہ بھولے کہ مجرم اس کی گرفت سے رہ جائیں۔ اس کا علم تمام چیزوں کو اپنے میں گھیرے ہوئے ہے۔ اس کی ذات بھول چوک سے پاک ہے۔ نہ اس کے علم سے کوئی چیز باہر، نہ علم کے بعد بھول جانے کا اس کا وصف، وہ کمی علم کے نقصان سے، وہ بھول کے نقصان سے پاک ہے۔

📖 احسن البیان

51۔ 1 فرعون نے بات کا رخ دوسری طرف پھیرنے کے لئے یہ سوال کیا، یعنی پہلے لوگ جو غیر اللہ کی عبادت کرتے ہوئے دنیا سے چلے گئے، ان کا حال کیا ہوگا؟

📖 القرآن الکریم

(آیت 51){ قَالَ فَمَا بَالُ الْقُرُوْنِ الْاُوْلٰى:} یہ سوال پوچھنے کی تین وجہیں ہو سکتی ہیں اور موسیٰ علیہ السلام کے جواب میں سب کا حل موجود ہے۔ پہلی وجہ شاہ عبد القادر رحمہ اللہ کے الفاظ میں یہ ہے: ”فرعون شاید دہریہ مزاج تھا۔ آدمیوں کی پیدائش کو سمجھتا تھا جیسے برسات کا سبزہ، نہ اول کسی نے پیدا کیا، آپ ہی پیدا ہو گیا، نہ آخر باقی رہا، گل کر مٹی ہو گیا۔ جب سنا کہ سب کے سر پر ایک رب ہے تب یہ پوچھا کہ اگلی خلق کہاں گئی؟ بتایا ان کا حساب لکھا ہوا موجود ہے کہ ایک ایک آدمی پھر حاضر ہو گا۔“ (موضح) دوسری وجہ اس کے یہ پوچھنے کی کہ پھر پہلے زمانوں کے لوگوں کا کیا حال ہے، یہ ہو سکتی ہے کہ وہ یہ کہلوانا چاہتا تھا کہ جو لوگ سیکڑوں برس سے نسلاً بعد نسل دوسروں کو اپنا رب سمجھتے اور ان کی بندگی کرتے رہے ہیں وہ سب گمراہ اور مستحق عذاب تھے۔ مقصد اس کا یہ تھا کہ جب موسیٰ علیہ السلام ان کو گمراہ اور مستحق عذاب قرار دیں گے تو ان کے خلاف تمام لوگوں کے جذبات بھڑک اٹھیں گے اور وہ ان کی دعوت سے متنفر ہو جائیں گے۔ اہل حق کے خلاف اہل باطل جاہلوں کو مشتعل کرنے کا یہ ہتھکنڈا ہمیشہ سے استعمال کرتے رہے ہیں اور آج بھی اسے کارگر حربہ سمجھتے ہیں۔ سورۂ شعراء کی آیات (۲۳ تا ۲۹) کی روشنی میں یہ مطلب سب سے واضح نظر آتا ہے۔ موسیٰ علیہ السلام نے اس معاملے کو اللہ کے علم کے سپرد کر دیا، چنانچہ فرعون کا وار خالی گیا۔ تیسری وجہ یہ کہ فرعون یہ باور کروانا چاہتا تھا کہ رسول تو عالم الغیب ہوتے ہیں، اگر تم واقعی رسول ہو تو پہلے یہ بتاؤ کہ پہلے زمانوں کے لوگوں کا کیا حال ہے، ان کا حال ہمیں بتاؤ۔ مقصد یہ تھا کہ جب نہیں بتا سکیں گے تو ہم کہہ دیں گے کہ یہ کیسا رسول ہے جو پہلے زمانوں کے لوگوں کے احوال بھی نہیں جانتا؟ جواب یہ دیا کہ یہ جاننا رسولوں کی ذمہ داری نہیں بلکہ یہ رب تعالیٰ کا کام ہے۔
← پچھلی آیت (50) پوری سورۃ اگلی آیت (52) →