بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ طه — Surah Taha
آیت نمبر 52
کل آیات: 135
قرآن کریم طه آیت 52
آیت نمبر: 52 — سورۃ طه islamicurdubooks.com ↗
قَالَ عِلۡمُہَا عِنۡدَ رَبِّیۡ فِیۡ کِتٰبٍ ۚ لَا یَضِلُّ رَبِّیۡ وَ لَا یَنۡسَی ﴿۫۵۲﴾
موسیٰؑ نے کہا "اُس کا علم میرے رب کے پاس ایک نوشتے میں محفوظ ہے میرا رب نہ چُوکتا ہے نہ بھُولتا ہے"
جواب دیا کہ ان کا علم میرے رب کے ہاں کتاب میں موجود ہے، نہ تو میرا رب غلطی کرتا ہے نہ بھولتا ہے
کہا ان کا علم میرے رب کے پاس ایک کتاب میں ہے میرا رب نہ بہکے نہ بھولے،
موسیٰ نے کہا ان کا علم میرے پروردگار کے پاس ایک کتاب میں ہے میرا پروردگار نہ بھٹکتا ہے اور نہ بھولتا ہے۔
کہا ان کا علم میرے رب کے پاس ایک کتاب میں ہے، میرا رب نہ بھٹکتا ہے اور نہ بھولتا ہے۔

📖 تفسیر ابن کثیر

مکالمات موسیٰ علیہ السلام اور فرعون ٭٭

چونکہ یہ ناہنجار یعنی فرعون مصر وجود باری تعالیٰ کا منکر تھا، پیغام الٰہی کلیم اللہ علیہ السلام کی زبانی سن کر وجود خالق کے انکار کے طور پر سوال کرنے لگا کہ تمہارا بھیجنے والا اور تمہارا رب کون ہے؟ میں تو اسے نہیں جانتا نہ اسے مانتا ہوں۔ بلکہ میری دانست میں تو تم سب کا رب میرے سوا اور کوئی نہیں۔ اللہ کے سچے رسول علیہ السلام نے جواب دیا کہ ہمارا رب وہ ہے جس نے ہر شخص کو اس کا جوڑا عطا فرمایا ہے۔ انسان کو بصورت انسان، گدھے کو اس کی صورت پر، بکری کو ایک علیحدہ صورت پر پیدا فرمایا ہے۔ ہر ایک کو اس کی مخصوص صورت میں بنایا ہے۔ ہر ایک کی پیدائش نرالی شان سے درست کر دی ہے۔ انسانی پیدائش کا طریقہ الگ ہے، چوپائے الگ صورت میں ہیں، درندے الگ وضع میں ہیں۔ ہر ایک کے جوڑے کی ہئیت ترکیبی علیحدہ ہے۔ کھانا پینا، کھانے پینے کی چیزیں، جوڑے سب الگ الگ اور ممتاز و مخصوص ہیں۔ ہر ایک کا انداز مقرر کر کے پھر اس کی ترکیب اسے بتلا دی ہے۔ عمل اجل، رزق مقدر اور مقرر کر کے اسی پر لگا دیا ہے۔ نظام کے ساتھ ساری مخلوق کا کارخانہ چل رہا ہے۔ کوئی اس سے ادھر ادھر نہیں ہو سکتا۔ خلق کا خالق، تقدیروں کا مقرر کرنے والا، اپنے ارادے پر مخلوق کی پیدائش کرنے والا ہی ہمارا رب ہے۔ یہ سب سن کر اس بےسمجھ نے پوچھا کہ اچھا تو پھر ان کا کیا حال ہے جو ہم سے پہلے تھے اور اللہ کی عبادت کے منکر تھے؟ اس سوال کو اس نے اہمیت کے ساتھ کیا۔ لیکن اللہ کے پیغمبر علیہ السلام نے ایسا جواب دیا کہ عاجز ہو گیا۔ فرمایا ان سب کا علم میرے رب کو ہے۔ لوح محفوظ میں ان کے اعمال لکھے ہوئے ہیں، جزا سزا کا دن مقرر ہے۔ نہ وہ غلط کرے کہ کوئی چھوٹا بڑا اس کی پکڑ سے چھوٹ جائے، نہ وہ بھولے کہ مجرم اس کی گرفت سے رہ جائیں۔ اس کا علم تمام چیزوں کو اپنے میں گھیرے ہوئے ہے۔ اس کی ذات بھول چوک سے پاک ہے۔ نہ اس کے علم سے کوئی چیز باہر، نہ علم کے بعد بھول جانے کا اس کا وصف، وہ کمی علم کے نقصان سے، وہ بھول کے نقصان سے پاک ہے۔

📖 احسن البیان

52۔ 1 حضرت موسیٰ ؑ نے جواب میں فرمایا، ان کا علم نہ تجھے ہے نہ مجھے۔ البتہ ان کا علم میرے رب کو ہے، جو اس کے پاس کتاب میں موجود ہے وہ اس کے مطابق جزا و سزا دے گا، پھر اس کا علم اس طرح ہر چیز کو محیط ہے کہ اس کی نظر سے کوئی چھوٹی بڑی چیز اوجھل نہیں ہوسکتی، نہ اسے بھول ہی لا حق ہوسکتی ہے۔ جب کہ مخلوق کے علم میں دونوں نقص موجود ہیں۔ ایک تو ان کا علم محیط کل نہیں، بلکہ ناقص ہے۔ دوسرے، علم کے بعد وہ بھول بھی سکتے ہیں، میرا رب ان دونوں نقصوں سے پاک ہے۔ آگے، رب کی مزید صفات بیان کی جا رہی ہیں۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 52) ➊ {قَالَ عِلْمُهَا عِنْدَ رَبِّيْ:} یعنی مجھے ان کے حال سے کوئی بحث نہیں، وہ اپنے اس رب کے پاس پہنچ گئے جس کے پاس ان کے تمام اعمال اور نیتوں کا ریکارڈ موجود ہے، جیسے ان کے اعمال ہوں گے ویسا ہی بدلہ ان کو مل جائے گا۔ ہمیں فکر اپنے حال کی ہونی چاہیے کہ ہم کس طرح اپنے آپ کو عذاب کا مستحق ہونے سے بچا سکتے ہیں؟ یہ نہایت ہی حکیمانہ جواب ہے، جو صحیح بھی ہے اور اس سے فرعون بھی اپنے مقصد میں کامیاب نہ ہو سکا۔ ➋ { فِيْ كِتٰبٍ لَا يَضِلُّ رَبِّيْ وَ لَا يَنْسَى:} چونکہ لکھی ہوئی بات زیادہ معتبر سمجھی جاتی ہے اس لیے اللہ تعالیٰ نے لوگوں پر حجت تمام کرنے کے لیے کراماً کاتبین مقرر فرمائے، جو ہر ایک کی کتاب تیار کر رہے ہیں۔ ساتھ ہی آگاہ فرما دیا کہ کتاب میں لکھنے کا مطلب یہ نہیں کہ اللہ تعالیٰ غلطی یا بھول سے بچنے کے لیے لکھنے کا محتاج ہے، نہیں! بلکہ اللہ تعالیٰ ہر نقص کی طرح ان دونوں نقصوں سے بھی پاک ہے۔ اس میں ایک چوٹ بھی ہے، کیونکہ یہ کہنے کی ضرورت ہی نہیں کہ ہر چیز کا خالق و ہادی نہ بھٹکتا ہے اور نہ بھولتا ہے، دراصل یہ فرعون سے کہا جا رہا ہے کہ تو، جس کی سرشت میں بھٹکنا اور بھولنا رکھ دیا گیا ہے، کیا تجھے رب اعلیٰ ہونے کا دعویٰ کرتے ہوئے حیا نہیں آئی؟ سبحان اللہ! بت کریں آرزو خدائی کی شان ہے تیری کبریائی کی
← پچھلی آیت (51) پوری سورۃ اگلی آیت (53) →