بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ طه — Surah Taha
آیت نمبر 44
کل آیات: 135
قرآن کریم طه آیت 44
آیت نمبر: 44 — سورۃ طه islamicurdubooks.com ↗
فَقُوۡلَا لَہٗ قَوۡلًا لَّیِّنًا لَّعَلَّہٗ یَتَذَکَّرُ اَوۡ یَخۡشٰی ﴿۴۴﴾
اس سے نرمی کے ساتھ بات کرنا، شاید کہ وہ نصیحت قبول کرے یا ڈر جائے"
اسے نرمی سے سمجھاؤ کہ شاید وه سمجھ لے یا ڈر جائے
تو اس سے نرم بات کہنا اس امید پر کہ وہ دھیان کرے یا کچھ ڈرے
اس سے نرمی کے ساتھ بات کرنا کہ شاید وہ نصیحت قبول کرے یا ڈر جائے۔
پس اس سے بات کرو، نرم بات، اس امید پر کہ وہ نصیحت حاصل کرلے، یا ڈر جائے۔

📖 تفسیر ابن کثیر

موسیٰ علیہ السلام فرار کے بعد ٭٭

موسیٰ علیہ السلام سے جناب باری عزوجل فرما رہا ہے کہ تم فرعون سے بھاگ کر مدین پہنچے، یہاں سسرال مل گئے اور شرط کے مطابق ان کی بکریاں برسوں تک چراتے رہے۔ پھر اللہ تعالیٰ کے اندازے اور اس کے مقررہ وقت پر تم اس کے پاس پہنچے۔ اس رب کی کوئی چاہت ناکام نہیں رہتی، کوئی فرمان نہیں ٹوٹتا، اس کے وعدے کے مطابق اس کے مقررہ وقت پر تمہارا اس کے پاس پہنچنا لازمی امر تھا۔ یہ بھی مطلب ہے کہ تم اپنی قدر و عزت کو پہنچے یعنی رسالت و نبوت ملی۔ میں نے تمہیں اپنا برگزیدہ پیغمبر بنا لیا۔ صحیح بخاری شریف میں ہے، { آدم علیہ السلام اور موسیٰ علیہ السلام کی ملاقات ہوئی تو موسیٰ علیہ السلام نے کہا، آپ نے تو لوگوں کو مشقت میں ڈال دیا انہیں جنت سے نکال دیا۔ آدم علیہ السلام نے فرمایا، آپ کو اللہ نے اپنی رسالت سے ممتاز فرمایا اور اپنے لیے پسند فرمایا اور تورات عطافرمائی، کیا اس میں آپ نے یہ نہیں پڑھا کہ میری پیدائش سے پہلے یہ سب مقدر ہو چکا تھا؟ کہاں ہاں۔ الغرض آدم علیہ السلام موسیٰ علیہ السلام پر دلیل میں غلبہ پا گئے۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:4736] ‏‏‏‏ میری دی ہوئی دلیل اور معجزے لے کر تو اور تیرا بھائی دونوں فرعون کے پاس جاؤ۔ میری یاد میں غفلت نہ کرنا تھک کر بیٹھ نہ رہنا۔ چنانچہ فرعون کے سامنے دونوں ذکر اللہ میں لگے رہتے تاکہ اللہ کی مدد ان کا ساتھ دے، انہیں قوی اور مضبوط بنا دے اور فرعون کی شان و شوکت ٹال دے۔

چنانچہ حدیث شریف میں بھی ہے کہ { میرا پورا اور سچا بندہ وہ ہے جو پوری عمر میری یاد کرتا رہے۔ } ۱؎ [سنن ترمذي:3580،قال الشيخ الألباني:ضیف] ‏‏‏‏ فرعون کے پاس تم میرا پیغام لے کر پہنچو۔ اس نے بہت سر اٹھا رکھا ہے، اللہ کی نافرمانیوں پر دلیر ہو گیا ہے، بہت پھول گیا ہے اور اپنے خالق و مالک کو بھول گیا ہے۔ اس سے گفتگو نرم کرنا۔ دیکھو فرعون کس قدر برا ہے۔ موسیٰ کس قدر بھلے ہیں لیکن حکم یہ ہو رہا ہے کہ نرمی سے سمجھانا۔ یزید قاشی رحمہ اللہ اس آیت کو پڑھ کر فرماتے «يَاَمَنْ يتَّجَبَّبُ اِلٰي مِنْ يُّعَادِيْهِ -فَكَيفَ مَن يَّتَوَلاَهُ وَيُنَادِيْهِ» یعنی اے وہ اللہ! جو دشمنوں سے بھی محبت اور نرمی کرتا ہے۔ تیرا کیسا کچھ پاکیزہ برتاؤ ہو گا، اس کے ساتھ جو تجھ سے محبت کرتا ہو اور تجھے پکارا کرتا ہو۔ وہب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نرم گفتگو کرنے سے مراد یہ ہے کہ اسے کہنا کہ میرے غضب و غصے سے میری مغفرت و رحمت بہت بڑھی ہوئی ہے۔ عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں نرم بات کہنے سے مراد اللہ کی وحدانیت کی طرف دعوت دینا ہے کہ وہ «لَا إِلَه إِلَّا اللَّه» کا قائل ہو جائے۔ حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں، اس سے کہنا کہ تیرا رب ہے، تجھے مر کر اللہ کے وعدے پر پہنچنا ہے جہاں جنت دوزخ دونوں ہیں۔ سفیان ثوری رحمہ اللہ فرماتے ہیں اسے میرے دروازے پر لا کھڑا کرو۔ الغرض تم اس سے نرمی اور آرام سے گفتگو کرنا تاکہ اس کے دل میں تمہاری باتیں بیٹھ جائیں۔ جیسے فرمان الٰہی ہے «‏‏‏‏ادْعُ إِلَىٰ سَبِيلِ رَبِّكَ بِالْحِكْمَةِ وَالْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ ۖ وَجَادِلْهُم بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ ۚ إِنَّ رَبَّكَ هُوَ أَعْلَمُ بِمَن ضَلَّ عَن سَبِيلِهِ ۖ وَهُوَ أَعْلَمُ بِالْمُهْتَدِينَ» ۱؎ [16-النحل:125] ‏‏‏‏ یعنی اپنے رب کی راہ کی دعوت انہیں حکمت اور اچھے وعظ سے دے اور انہیں بہترین طریقے سے سمجھا بجھا دے تاکہ وہ سمجھ لے اور اپنی ضلالت و ہلاکت سے ہٹ جائے یا اپنے اللہ سے ڈرنے لگے اور اس کی اطاعت و عبادت کی طرف متوجہ ہو جائے۔ جیسے فرمان ہے، «مَنْ أَرَادَ أَن يَذَّكَّرَ أَوْ أَرَادَ شُكُورًا» ۱؎ [25-الفرقان:62] ‏‏‏‏ ’ یہ نصیحت اس کے لیے ہے جو عبرت حاصل کر لے یا شکر گزار بن جائے۔ ‘ پس عبرت حاصل کرنے سے مراد برائیوں سے اور خوف کی چیز سے ہٹ جانا اور ڈر سے مراد اطاعت کی طرف مائل ہو جانا ہے۔

حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں، اس کی ہلاکت کی دعا نہ کرنا جب تک کہ اس کے تمام عذر ختم نہ ہو جائیں۔ زید بن عمرو بن نفیل کے یا امیہ بن ابی صلت کے شعروں میں ہے کہ اے اللہ! تو وہ ہے جس نے اپنے فضل و کرم سے موسیٰ علیہ السلام کو یہ کہہ کر باغی فرعون کی طرف بھیجا کہ اس سے پوچھو تو کہ کیا اس آسمان کو بےستون کے تو نے تھام رکھا ہے اور تو نے ہی اسے بنایا ہے؟ اور کیا تو نے ہی اس کے درمیان روشن سورج کو چڑھایا ہے جو اندھیرے کو اجالے سے بدل دیتا ہے، ادھر صبح کے وقت وہ نکلا ادھر دنیا سے ظلمت دور ہوئی۔ بھلا بتلا تو کہ مٹی میں سے دانے نکالنے والا کون ہے؟ اور اس میں بالیاں پیدا کرنے والا کون ہے؟ کیا ان تمام نشانیوں سے بھی تو اللہ کو نہیں پہچان سکتا؟

📖 احسن البیان

44۔ 1 یہ وصف بھی اللہ سے دعا کے لئے بہت ضروری ہے۔ کیونکہ سختی سے لوگ بدکتے ہیں اور دور بھاگتے ہیں اور نرمی سے قریب آتے ہیں اور متاثر ہوتے ہیں اگر وہ ہدایت قبول کرنے والے ہوتے ہیں۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 44) ➊ {فَقُوْلَا لَهٗ قَوْلًا لَّيِّنًا:} اللہ تعالیٰ نے موسیٰ اور ہارون علیھما السلام کو حکم دیا کہ فرعون کو دعوت دیتے وقت نرم بات کہیں، جس میں ترغیب ہو، اسے غصہ دلانے والی نہ ہو۔ ہر داعی کو یہی اسلوب اختیار کرنا لازم ہے، کیونکہ دعوت الی اللہ سے مقصود مخاطب کی ہدایت اور اصلاح ہوتی ہے نہ کہ اپنی برتری ثابت کرنا، یا سخت کلامی سے دل کا غصہ نکالنا۔ دیکھیے سورۂ نحل (۱۲۵) اور آل عمران (۱۵۹) اللہ تعالیٰ نے وہ نرم بات بھی خود ہی سکھا دی، جیسا کہ آگے آیت (۴۷) میں آ رہا ہے اور دیکھیے سورۂ نازعات (۱۸، ۱۹) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ يَا عَائِشَةُ! إِنَّ اللّٰهَ رَفِيْقٌ يُحِبُّ الرِّفْقَ وَيُعْطِيْ عَلَی الرِّفْقِ مَا لَا يُعْطِيْ عَلَی الْعُنْفِ وَمَا لاَ يُعْطِيْ عَلٰی مَا سِوَاهٗ ] [ مسلم، البر والصلۃ، باب فضل الرفق: ۲۵۹۳، عن عائشۃ رضی اللہ عنھا ] ”اے عائشہ! بے شک اللہ تعالیٰ بہت نرمی والا ہے، نرمی کو پسند فرماتا ہے اور نرمی پر وہ کچھ عطا کرتا ہے جو نہ سختی پر عطا کرتا ہے اور نہ اس (نرمی) کے سوا کسی اور چیز پر عطا کرتا ہے۔“ اور یہ بھی فرمایا: [ إِنَّ الرِّفْقَ لَايَكُوْنُ فِيْ شَيْءٍ إِلَّا زَانَهُ وَلاَ يُنْزَعُ مِنْ شَيْءٍ إِلَّا شَانَهٗ ] [ مسلم، أیضًا: ۲۵۹۴ ] ”نرمی جس چیز میں بھی ہوتی ہے اسے زینت بخشتی ہے اور جس سے بھی نکال لی جائے اسے عیب دار بنا دیتی ہے۔“ ہاں اگر کہیں نرمی بالکل ہی بے اثر ٹھہرے اور کوئی شخص ہٹ دھرمی اور تکبر سے کسی طرح باز نہ آئے تو اس سے حق بات سختی کے ساتھ کہنے کی بھی اجازت ہے، کیونکہ وہاں ”حکمت “کا تقاضا یہی ہے، جیسا کہ سورۂ عنکبوت (۴۶) میں ہے اور زیر تفسیر آیات میں آیت (۴۸) میں موسیٰ علیہ السلام کا قول ہے۔ ➋ {لَعَلَّهٗ يَتَذَكَّرُ اَوْ يَخْشٰى:لَعَلَّ “} کا لفظ ترجی (امید کرنے) کے لیے ہوتا ہے۔ یہاں ایک مشہور سوال ہے کہ اللہ تعالیٰ کے کلام میں امید کا ذکر آئے تو وہ بات یقینی ہوتی ہے۔ یہاں اللہ تعالیٰ کو علم تھا کہ فرعون نصیحت یا ڈرنے سے محروم رہے گا، پھر {”لَعَلَّ“ } کا لفظ کیوں فرمایا؟ اس کی دو توجیہیں ہیں اور دونوں درست ہیں۔ ایک تویہ کہ یہ {”لَعَلَّ“ } موسیٰ اور ہارون علیھما السلام کی نسبت سے ہے کہ تم اس سے نرم بات اس امید کے ساتھ کہو کہ وہ نصیحت حاصل کرے گا یا ڈر جائے گا۔ ترجمہ اسی کے مطابق کیا گیا ہے، کیونکہ موسیٰ علیہ السلام کو تو علم نہیں تھا کہ وہ ایمان نہیں لائے گا۔ اسی طرح مخاطب کتنا بھی سرکش ہو داعی کو ہمیشہ امید کا چراغ دل میں روشن رکھنا لازم ہے۔ دوسری توجیہ یہ ہے کہ {”لَعَلَّ“} کا لفظ ”امید ہے“ کے علاوہ{ ”كَيْ“} یعنی ”تاکہ“ کے معنی میں بھی آتا ہے، جیسے سورۂ بقرہ (۲۱) میں فرمایا: «‏‏‏‏لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَ» ‏‏‏‏ ”تاکہ تم بچ جاؤ۔“ {” يَتَذَكَّرُ “ } نصیحت حاصل کرکے ایمان لے آئے یا کم از کم ڈر کر ظلم سے باز آ جائے، کیونکہ ایک سرکش آدمی سے یہی امید کی جا سکتی ہے۔
← پچھلی آیت (43) پوری سورۃ اگلی آیت (45) →