بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ طه — Surah Taha
آیت نمبر 14
کل آیات: 135
قرآن کریم طه آیت 14
آیت نمبر: 14 — سورۃ طه islamicurdubooks.com ↗
اِنَّنِیۡۤ اَنَا اللّٰہُ لَاۤ اِلٰہَ اِلَّاۤ اَنَا فَاعۡبُدۡنِیۡ ۙ وَ اَقِمِ الصَّلٰوۃَ لِذِکۡرِیۡ ﴿۱۴﴾
میں ہی اللہ ہوں، میرے سوا کوئی خدا نہیں ہے، پس تو میری بندگی کر اور میری یاد کے لیے نماز قائم کر
بیشک میں ہی اللہ ہوں، میرے سوا عبادت کے ﻻئق اور کوئی نہیں پس تو میری ہی عبادت کر، اور میری یاد کے لئے نماز قائم رکھ
بیشک میں ہی ہوں اللہ کہ میرے سوا کوئی معبود نہیں تو میری بندگی کر اور میری یاد کے لیے نماز قائم رکھ
بےشک میں ہی اللہ ہوں۔ میرے سوا کوئی الٰہ نہیں ہے پس میری عبادت کرو اور میری یاد کیلئے نماز قائم کرو۔
بے شک میں ہی اللہ ہوں، میرے سوا کوئی معبود نہیں، سو میری عبادت کر اور میری یاد کے لیے نماز قائم کر۔

📖 تفسیر ابن کثیر

اللہ تعالٰی سے ہمکلامی ٭٭

جب موسیٰ علیہ السلام آگ کے پاس پہنچے تو اس مبارک میدان کے دائیں جانب کے درختوں کی طرف سے آواز آئی کہ «فَلَمَّا أَتَاهَا نُودِيَ مِن شَاطِئِ الْوَادِ الْأَيْمَنِ فِي الْبُقْعَةِ الْمُبَارَكَةِ مِنَ الشَّجَرَةِ أَن يَا مُوسَىٰ إِنِّي أَنَا اللَّـهُ رَبُّ الْعَالَمِينَ» ۱؎ [28-القصص:30] ‏‏‏‏ ’ اے موسیٰ! میں تیرا رب ہوں، تو جوتیاں اتار دے۔ ‘ یا تو اس لیے یہ حکم ہوا کہ آپ کی جوتیاں گدھے کے چمڑے کی تھیں یا اس لیے کہ تعظیم کرانی مقصود تھی۔ جیسا کہ کعبہ جانے کے وقت لوگ جوتیاں اتار کر جاتے ہیں۔ یا اس لیے کہ اس بابرکت جگہ پر پاؤں پڑیں، اور بھی وجوہ بیان کئے گئے ہیں۔ طویٰ اس وادی کا نام تھا۔ یا یہ مطلب کہ اپنے قدم اس زمین سے ملا دو۔ یا یہ مطلب کہ یہ زمین کئی کئی بار پاک کی گئی ہے اور اس میں برکتیں بھر دی گئی ہیں اور باربار دہرائی گئی ہیں۔ لیکن زیادہ صحیح پہلا قول ہی ہے۔ جیسے اور آیت میں ہے «اِذْ نَادٰىهُ رَبُّهٗ بالْوَادِ الْمُقَدَّسِ طُوًى» ‏‏‏‏ ۱؎ [79-النازعات:16] ‏‏‏‏ میں نے تجھے اپنا برگزیدہ کر لیا ہے، دنیا میں سے تجھے منتخب کر لیا ہے، اپنی رسالت اور اپنے کلام سے تجھے ممتاز فرما رہا ہوں، اس وقت کے روئے زمین کے تمام لوگوں سے تیرا مرتبہ بڑھا رہا ہوں۔ کہا گیا ہے کہ موسیٰ علیہ السلام سے پوچھا گیا، جانتے بھی ہو کہ میں نے تجھے دوسرے تمام لوگوں میں سے مختار اور پسندیدہ کر کے شرف ہم کلامی کیوں بخشا؟ آپ نے جواب دیا اے اللہ مجھے اس کی وجہ معلوم نہیں، فرمایا گیا اس لیے کہ تیری طرح اور کوئی میری طرف نہیں جھکا۔ اب تو میری وحی کو کان لگا کر دھیان دے کر سن۔ میں ہی معبود ہوں کوئی اور نہیں۔ یہی پہلا فریضہ ہے تو صرف میری ہی عبادت کئے چلے جانا، کسی اور کی کسی قسم کی عبادت نہ کرنا۔ میری یاد کے لیے نمازیں قائم کرنا، میری یاد کا یہ بہترین اور افضل ترین طریقہ ہے یا یہ مطلب کہ جب میں یاد آؤں نماز پڑھو۔ جیسے حدیث میں ہے کہ { تم میں سے اگر کسی کو نیند آ جائے یا غفلت ہو جائے تو جب یاد آ جائے نماز پڑھ لے کیونکہ فرمان الٰہی ہے میری یاد کے وقت نماز قائم کرو۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:597] ‏‏‏‏ بخاری و مسلم میں ہے { جو شخص سوتے میں یا بھول میں نماز کا وقت گزار دے، اس کا کفارہ یہی ہے کہ یاد آتے ہی نماز پڑھ لے، اس کے سوا اور کفارہ نہیں۔}

📖 احسن البیان

14۔ 1 یعنی تکلیفات میں سب سے پہلا اور سب سے اہم حکم ہے جس کا ہر انسان پر تکلف ہی ہے۔ علاوہ ازیں جب الوہیت کا مستحق بھی وہی ہے تو عبادت بھی صرف اسی کا حق ہے۔ 14۔ 2 عبادت کے بعد نماز کا خصوصی حکم دیا۔ حالانکہ عبادت میں نماز بھی شامل تھی، تاکہ اس کی وہ اہمیت واضح ہوجائے جیسے کہ اس کی ہے۔ لِذِکْرِیْ کا ایک مطلب یہ ہے کہ تو مجھے یاد کرے، اسلئے یاد کرنے کا طریقہ عبادت ہے اور عبادت میں نماز کو خصوصی اہمیت و فضیلت حاصل ہے۔ دوسرا مفہوم یہ ہے کہ جب بھی میں تجھے یاد آجاؤں نماز پڑھ، یعنی اگر کسی وقت غفلت یا نیند کا غلبہ ہو تو اس کیفیت سے نکلتے ہی اور میری یاد آتے ہی نماز پڑھ۔ جس طرح کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ' جو نماز سے سو جائے یا بھول جائے، تو اس کا کفارہ یہی ہے کہ جب بھی اسے یاد آئے پڑھ لے ' (صحیح بخاری)

📖 القرآن الکریم

(آیت 14) ➊ { اِنَّنِيْۤ اَنَا اللّٰهُ:} اللہ تعالیٰ نے پہلے موسیٰ علیہ السلام کو اس تعلق سے آگاہ کیا جو اللہ تعالیٰ اور موسیٰ علیہ السلام کے درمیان تھا کہ بلاشبہ میں تیرا رب ہوں جو تجھ سے مخاطب ہوں، یعنی تجھے پیدا کرنے والا، تیری پرورش کرنے والا اور تیری ہر ضرورت پوری کرنے والا میں ہی ہوں۔ پھر جوتے اتارنے کے حکم کے بعد وحی کو غور سے سننے کی تاکید فرمائی، کیونکہ چننے سے مقصود ہی وحی کے ذریعے سے رسالت کی ذمہ داریاں سونپنا تھا۔ اب ضمیر متکلم ـ{” اَنَا “} کے بعد اپنا ذاتی نام بتایا، کیونکہ ملاقات میں پہلی چیز یہی ہے کہ ایک دوسرے کا نام معلوم ہو۔ اللہ تعالیٰ نے اشارہ فرمایا کہ میں تو اپنے کلیم کا نام جانتا ہی ہوں، میرا نام اللہ ہے۔ یاد رہے کہ اللہ تعالیٰ کے باقی سب نام صفاتی ہیں جن میں اس کے ننانوے نام بھی شامل ہیں اور وہ بے شمار نام بھی جن سے اس نے ابھی تک کسی کو آگاہ نہیں کیا۔ لفظ ”اللہ“ عربی زبان میں اس ذات پاک کا نام ہے۔ جب ”اللہ“ کہہ دیا تو اس میں اس کے تمام نام بھی آ گئے اور تمام صفات بھی۔ {” إِنَّ“} کے ساتھ تاکید موسیٰ علیہ السلام سے شک کا امکان دور کرنے کے لیے ہے، کیونکہ انوکھی بات سن کر جلدی یقین نہیں آتا۔ ➋ { لَاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنَا:” اِنَّنِيْۤ “ } کی پہلی خبر {” اَنَا اللّٰهُ “} تھی، {” لَاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنَا “} دوسری خبر ہے۔ یہ سب سے پہلی بات ہے جسے جاننا، اس پر یقین رکھنا اور اس کے مطابق عمل کرنا ہر جن و انس پر واجب ہے۔ اسی بات کی تعلیم کے لیے تمام انبیاء مبعوث فرمائے گئے۔ دیکھیے سورۂ انبیاء (۲۵) {” فَاعْبُدْنِيْ “} یہ ہے وہ مقصد جس کے لیے جن و انس کو پیدا کیا گیا، جیسا کہ فرمایا: «{ وَ مَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَ الْاِنْسَ اِلَّا لِيَعْبُدُوْنِ }» [ الذاریات: ۵۶ ] ”اور میں نے جنوں اور انسانوں کو پیدا نہیں کیا مگر اس لیے کہ وہ میری عبادت کریں۔“ یعنی جب میرے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں تو میری عبادت کر۔ عبادت میں ہر وہ عمل آ جاتا ہے جو انتہائی محبت کے ساتھ انتہائی درجے کی عاجزی اور تعظیم پر دلالت کرتا ہو، اس میں قول، فعل اور دل کا اخلاص سب شامل ہیں۔ ➌ { وَ اَقِمِ الصَّلٰوةَ لِذِكْرِيْ:فَاعْبُدْنِيْ “} میں اگرچہ ہر قسم کی بدنی و مالی عبادت کا ذکر آ گیا تھا، لیکن چونکہ نماز تمام عبادتوں کی جامع اور سب سے اہم عبادت ہے اور اسلام قبول کرنے کے بعد ایمان کی سب سے پہلی شرط اور علامت ہے کہ جس سے مسلمان کی پہچان ہو کر اس کا خون اور مال محفوظ ہو جاتا ہے (دیکھیے توبہ: ۵،۱۱) اس لیے اس کا خاص طور پر الگ ذکر بھی فرمایا۔ شاہ عبد القادر رحمہ اللہ لکھتے ہیں: ”موسیٰ علیہ السلام کو پہلی وحی میں نماز کا حکم ہے اور ہمارے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی {”وَرَبَّكَ فَكَبِّرْ “} فرمایا گیا۔“ (موضح) {” لِذِكْرِيْ “} کی دو تفسیریں ہیں اور دونوں درست ہیں۔ پہلی یہ کہ نماز کا مقصد یہ ہے کہ بندہ اللہ کی یاد سے غافل نہ ہو، ایک نماز سے فارغ ہو تو اگلی کے انتظار میں مشغول رہے، جیسا کہ حدیث مبارکہ میں آتا ہے: [ وَ رَجُلٌ قَلْبُهُ مُعَلَّقٌ بِالْمَسْجِدِ ] [ بخاری: ۶۸۰۶] اس طرح اس کا سارا وقت ہی نماز میں شمار ہو گا جو اللہ کی یاد کا سب سے اچھا طریقہ ہے۔ دیکھیے سورۂ بنی اسرائیل کی آیت (۷۸) کی تفسیر۔ ہر وقت یاد رکھنے کا نتیجہ اللہ کی نافرمانی سے اجتناب ہو گا، جیسا کہ فرمایا: «{ اِنَّ الصَّلٰوةَ تَنْهٰى عَنِ الْفَحْشَآءِ وَ الْمُنْكَرِ }» [ العنکبوت: ۴۵ ] ”بے شک نماز بے حیائی اور برائی سے روکتی ہے۔“ دوسری تفسیر یہ کہ اگر بھول جائے تو یاد آنے پر نماز پڑھ لے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ مَنْ نَسِيَ صَلَاةً فَلْيُصَلِّ إِذَا ذَكَرَهَا لاَ كَفَّارَةَ لَهَا إِلاَّ ذٰلِكَ «{ وَ اَقِمِ الصَّلٰوةَ لِذِكْرِيْ }» ] [ بخاری، مواقیت الصلاۃ، باب من نسي صلاۃ فلیصل إذا ذکر…: ۵۹۷، عن أنس رضی اللہ عنہ ] ”جو شخص کوئی نماز بھول جائے تو جب اسے یاد آئے پڑھ لے، اس کا کفارہ اس کے سوا کچھ نہیں۔“ اور پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت پڑھی: «{ وَ اَقِمِ الصَّلٰوةَ لِذِكْرِيْ }» ”اور نماز میری یاد کے وقت قائم کر۔“ ایک روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ مَنْ نَسِيَ صَلَاةً أَوْ نَامَ عَنْهَا فَكَفَّارَتُهَا اَنْ يُصَلِّيَهَا إِذَا ذَكَرَهَا ] [ مسلم، المساجد، باب قضاء الصلاۃ الفائتۃ…: 684/315، عن أنس رضی اللہ عنہ ] ”جو شخص کوئی نماز بھول جائے یا اس سے سویا رہ جائے تو اس کا کفارہ یہ ہے کہ جب اسے یاد آئے پڑھ لے۔“ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «{ وَ اذْكُرْ رَّبَّكَ اِذَا نَسِيْتَ }» [ الکہف: ۲۴ ] ”اور اپنے رب کو یاد کر جب تو بھول جائے۔“
← پچھلی آیت (13) پوری سورۃ اگلی آیت (15) →