بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ طه — Surah Taha
آیت نمبر 118
کل آیات: 135
قرآن کریم طه آیت 118
آیت نمبر: 118 — سورۃ طه islamicurdubooks.com ↗
اِنَّ لَکَ اَلَّا تَجُوۡعَ فِیۡہَا وَ لَا تَعۡرٰی ﴿۱۱۸﴾ۙ
یہاں تو تمہیں یہ آسائشیں حاصل ہیں کہ نہ بھوکے ننگے رہتے ہو
یہاں تو تجھے یہ آرام ہے کہ نہ تو بھوکا ہوتا ہے نہ ننگا
بیشک تیرے لیے جنت میں یہ ہے کہ نہ تو بھوکا ہو اور نہ ننگا ہو،
بیشک تم اس میں نہ کبھی بھوکے رہوگے اور نہ ننگے۔
بے شک تیرے لیے یہ ہے کہ تو اس میں نہ بھوکا ہو گا اور نہ ننگا ہوگا۔

📖 تفسیر ابن کثیر

انسان کو انسان کیوں کہا جاتا ہے ؟ ٭٭

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں انسان کو انسان اس لیے کہا جاتا ہے کہ اسے جو حکم سب سے پہلے فرمایا گیا یہ اسے بھول گیا۔ مجاہد اور حسن رحمہ اللہ علیہم فرماتے ہیں اس حکم کو آدم علیہ السلام نے چھوڑ دیا۔ پھر آدم علیہ السلام کی شرافت و بزرگی کا بیان ہو رہا ہے۔ «سورۃ البقرہ» ، «سورۃ الاعراف» ، «سورۃ الحجر» اور «سورۃ الکہف» میں شیطان کے سجدہ نہ کرنے والے واقعہ کی پوری تفسیر بیان کی جا چکی ہے اور سورۃ ص میں بھی اس کا بیان آئے گا ان شاءاللہ تعالیٰ۔ ان تمام سورتوں میں آدم علیہ السلام کی پیدائش کا، پھر ان کی بزرگی کے اظہار کے لیے فرشتوں کو انہیں سجدہ کرنے کے حکم کا اور ابلیس کی مخفی عداوت کے اظہار کا بیان ہوا ہے، اس نے تکبر کیا اور حکم الٰہی کا انکار کر دیا۔ اس وقت آدم علیہ السلام کو سمجھا دیا گیا کہ دیکھ یہ تیرا اور تیری بیوی حواء علیہا السلام کا دشمن ہے، اس کے بہکاوے میں نہ آ جانا ورنہ محروم ہو کر جنت سے نکال دیے جاؤ گے اور سخت مشقت میں پڑ جاؤ گے۔ روزی کی تلاش کی محنت سر پڑ جائے گی۔ یہاں تو بے محنت و مشقت روزی پہنچ رہی ہے۔ یہاں تو ناممکن ہے کہ بھوکے رہو، ناممکن ہے کہ ننگے رہو۔ اس اندورنی اور بیرونی تکلیف سے بچے ہوئے ہو۔ پھر یہاں نہ پیاس کی گرمی اندرونی طور سے ستائے، نہ دھوپ کی تیزی کی گرمی بیرونی طور پر پریشان کرے۔ اگر شیطان کے بہکاوے میں آ گئے تو یہ راحتیں چھین لی جائیں گی اور ان کے مقابل کی تکلیفیں سامنے آ جائیں گی۔ لیکن شیطان نے اپنے جال میں انہیں پھانس لیا اور مکاری سے انہیں اپنی باتوں میں لے لیا قسمیں کھا کھا کر انہیں اپنی خیر خواہی کا یقین دلا دیا۔

📖 احسن البیان

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 119،118) ➊ { اِنَّ لَكَ اَلَّا تَجُوْعَ …:} گویا آدم اور حوا علیھما السلام کو بتا دیا گیا کہ تمھاری تمام بنیادی ضروریات کا یہاں انتظام کر دیا گیا ہے۔ ظاہر ہے کہ انسان کی بنیادی ضرورتیں یہی چار چیزیں ہیں: بھوک دور کرنے کے لیے کھانا، پیاس بجھانے کے لیے پانی، ستر ڈھانپنے کے لیے لباس اور سردی گرمی سے بچنے کے لیے مکان۔ یہ دراصل شقاوت کی تفسیر ہے اور اس شقاوت سے مراد دنیوی شقاوت ہے نہ کہ اخروی۔ شقاوت کی تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ طٰہٰ (۲)۔ ➋ ان دو آیات میں اللہ تعالیٰ نے بھوک کے بعد پیاس کے بجائے ننگا ہونے کا ذکر کیا اور پیاس کے بعد دھوپ میں جلنے کا ذکر فرمایا۔ اس میں ایک تو آیات کے آخری الفاظ کی مناسبت مقصود ہے اور ایک یہ کہ اگر بھوک، پیاس اور ننگے ہونے اور دھوپ میں جلنے کو اکٹھا ذکر کیا جاتا تو پہلی دونوں اور دوسری دونوں کا مجموعہ ہم شکل ہونے کی وجہ سے ایک ایک نعمت نظر آتا، الگ الگ ذکر کرنے سے چار نعمتیں نمایاں ہو گئیں۔ (قاسمی)
← پچھلی آیت (117) پوری سورۃ اگلی آیت (119) →