بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ طه — Surah Taha
آیت نمبر 105
کل آیات: 135
قرآن کریم طه آیت 105
آیت نمبر: 105 — سورۃ طه islamicurdubooks.com ↗
وَ یَسۡـَٔلُوۡنَکَ عَنِ الۡجِبَالِ فَقُلۡ یَنۡسِفُہَا رَبِّیۡ نَسۡفًا ﴿۱۰۵﴾ۙ
یہ لوگ تم سے پُوچھتے ہیں کہ آخر اُس دن یہ پہاڑ کہاں چلے جائیں گے؟ کہو کہ میرا رب ان کو دھول بنا کر اڑا دے گا
وه آپ سے پہاڑوں کی نسبت سوال کرتے ہیں، تو آپ کہہ دیں کہ انہیں میرا رب ریزه ریزه کر کے اڑا دے گا
اور تم سے پہاڑوں کو پوچھتے ہیں تم فرماؤ انہیں میرا رب ریزہ ریزہ کرکے اڑا دے گا،
(اے رسول(ص)) لوگ آپ سے پہاڑوں کے بارے میں پوچھتے ہیں کہ (قیامت کے دن کہاں جائیں گے)؟ تو آپ کہہ دیجئے! کہ میرا پروردگار ان کو (ریزہ ریزہ کرکے) اڑا دے گا۔
اور وہ تجھ سے پہاڑوں کے بارے میں پوچھیں گے تو توُکہہ دے میرا رب انھیں اڑا کر بکھیر دے گا۔

📖 تفسیر ابن کثیر

پہاڑوں کا کیا ہو گا؟ ٭٭

لوگوں نے پوچھا کہ قیامت کے دن یہ پہاڑ باقی رہیں گے یا نہیں؟ ان کا سوال نقل کر کے جواب دیا جاتا ہے کہ یہ ہٹ جائیں گے، چلتے پھرتے نظر آئیں گے اور آخر ریزہ ریزہ ہو جائیں گے۔ زمین صاف چٹیل ہموار میدان کی صورت میں ہو جائے گی۔ «قاع» کے معنی ہموار صاف میدان ہے۔ «صفصفا» اسی کی تاکید ہے اور «صفصف» کے معنی بغیر روئیدگی کی زمین کے بھی ہیں لیکن پہلے معنی زیادہ اچھے ہیں اور دوسرے مرادی اور لازمی ہیں۔ نہ اس میں کوئی وادی رہے گی نہ ٹیلہ، نہ اونچان رہے گی نہ نیچائی۔ ان دہشت ناک امور کے ساتھ ہی ایک آواز دینے والا آواز دے گا جس کی آواز پر ساری مخلوق لگ جائے گی، دوڑتی ہوئی حسب فرمان ایک طرف چلی جا رہی ہو گی، نہ ادھر ادھر ہو گی نہ ٹیڑھی بان کی چلے گی۔ کاش کہ یہی روش دنیا میں رکھتے اور اللہ کے احکام کی بجا آوری میں مشغول رہتے۔ لیکن آج کی یہ روش بالکل بےسود ہے۔ «أَسْمِعْ بِهِمْ وَأَبْصِرْ يَوْمَ يَأْتُونَنَا» ۱؎ [19-مريم:38] ‏‏‏‏ اس دن تو خوب دیکھتے سنتے بن جائیں گے اور آواز کے ساتھ فرماں برداری کریں گے۔ اندھیری جگہ حشر ہو گا۔ آسمان لپیٹ لیا جائے گا، ستارے جھڑ پڑیں گے، سورج چاند مٹ جائے گا۔ «مُّهْطِعِينَ إِلَى الدَّاعِ ۖ يَقُولُ الْكَافِرُونَ هَـٰذَا يَوْمٌ عَسِرٌ» ‏‏‏‏ ۱؎ [54-القمر:8] ‏‏‏‏ آواز دینے والے کی آواز پر سب چل کھڑے ہوں گے۔ اس ایک میدان میں ساری مخلوق جمع ہو گی مگر اس غضب کا سناٹا ہو گا کہ آداب بارگاہ الٰہی کی وجہ سے ایک آواز نہ اٹھے گی۔ بالکل سکون وسکوت ہو گا، صرف پیروں کی چاپ ہو گی اور کانا پھوسی۔ چل کر جا رہے ہوں گے تو پیروں کی چاپ تو لامحالہ ہونی ہی ہے اور بااجازت الٰہی کبھی کبھی کسی کسی حال میں بولیں گے بھی۔ لیکن چلنا بھی باادب اور بولنا بھی باادب۔ جیسے ارشاد ہے، «‏‏‏‏يَوْمَ يَاْتِ لَا تَكَلَّمُ نَفْسٌ اِلَّا بِاِذْنِهٖ ۚ فَمِنْهُمْ شَقِيٌّ وَّسَعِيْدٌ» ‏‏‏‏۔ [11-هود:105] ‏‏‏‏ ’ یعنی جس دن وہ میرے سامنے حاضر ہوں گے، کسی کی مجال نہ ہو گی کہ بغیرمیری اجازت کے زبان کھول لے۔ بعض نیک ہوں گے اور بعض بد ہوں گے۔‘

📖 احسن البیان

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 106،105) ➊ {وَ يَسْـَٔلُوْنَكَ عَنِ الْجِبَالِ …:} قرطبی نے فرمایا کہ قرآن مجید میں جہاں بھی کسی سوال کا ذکر آیا ہے اس کے لیے جواب میں {”قُلْ“} کا لفظ آیا ہے۔ صرف اس مقام پر فاء کے ساتھ {” فَقُلْ “} آیا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ دوسرے تمام مقامات پر ان سوالات کا جواب ہے جو ہو چکے تھے، یہاں فاء اس لیے ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آئندہ ہونے والے سوال کا جواب دیا کہ {” فَإِنْ سَأَلُوْكَ فَقُلْ… “} یعنی اگر وہ تجھ سے پوچھیں تو کہہ دینا…۔ یعنی فاء دلیل ہے کہ اس سے پہلے شرط محذوف ہے۔ ➋ { فَقُلْ يَنْسِفُهَا رَبِّيْ نَسْفًا …:} صور پھونکنے کے ساتھ قیامت قائم ہونے اور تمام لوگوں کے جمع کرنے کے ذکر پر منکرین قیامت کی طرف سے سوال آنے والا تھا، اللہ تعالیٰ نے اس کا جواب پہلے ہی دے دیا کہ ان کے خیال میں اتنے بلند و بالا اور محکم پہاڑوں کو ان کی جگہ سے کوئی ہلا نہیں سکتا، اس لیے وہ پوچھیں گے کہ ان پہاڑوں کا کیا بنے گا؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اگر یہ لوگ پوچھیں تو آپ ان سے کہہ دیں کہ میرا رب انھیں اڑا کر بکھیر دے گا۔ {” يَنْسِفُهَا “} کی تاکید {” نَسْفًا “} کے ساتھ فرمائی، تاکہ کوئی یہ نہ سمجھے کہ {”يَنْسِفُ“} اپنے اصل معنی میں نہیں ہے بلکہ مجاز ہے۔ یعنی فی الحقیقت اللہ تعالیٰ انھیں ریزہ ریزہ کرکے اڑا دے گا۔ پہاڑوں پر گزرنے والی حالتوں کی تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ نبا (۲۰) کی تفسیر۔ {” قَاعًا “} میدان۔ {” صَفْصَفًا “} ہموار۔
← پچھلی آیت (104) پوری سورۃ اگلی آیت (106) →