بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ طه — Surah Taha
آیت نمبر 104
کل آیات: 135
قرآن کریم طه آیت 104
آیت نمبر: 104 — سورۃ طه islamicurdubooks.com ↗
نَحۡنُ اَعۡلَمُ بِمَا یَقُوۡلُوۡنَ اِذۡ یَقُوۡلُ اَمۡثَلُہُمۡ طَرِیۡقَۃً اِنۡ لَّبِثۡتُمۡ اِلَّا یَوۡمًا ﴿۱۰۴﴾٪
ہمیں خوب معلوم ہے کہ وہ کیا باتیں کر رہے ہوں گے (ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ) اُس وقت ان میں سے جو زیادہ سے زیادہ محتاط اندازہ لگانے والا ہوگا وہ کہے گا کہ نہیں، تمہاری دنیا کی زندگی بس ایک دن کی تھی
جوکچھ وه کہہ رہے ہیں اس کی حقیقت سے ہم باخبر ہیں ان میں سب سے زیاده اچھی راه واﻻ کہہ رہا ہو گا کہ تم تو صرف ایک ہی دن رہے
ہم خوب جانتے ہیں جو وہ کہیں گے جبکہ ان میں سب سے بہتر رائے والا کہے گا کہ تم صرف ایک ہی دن رہے تھے
ہم خوب جانتے ہیں جو وہ کہہ رہے ہوں گے جبکہ ان کا سب سے زیادہ صائب الرائے یہ کہتا ہوگا کہ تم تو بس ایک دن رہے ہو۔
ہم زیادہ جاننے والے ہیں جو کچھ وہ کہہ رہے ہوں گے، جب ان کا سب سے اچھے طریقے والا کہہ رہا ہوگا کہ تم ایک دن کے سوا نہیں ٹھہرے۔

📖 تفسیر ابن کثیر

صور کیا ہے ؟ ٭٭

{ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال ہوتا ہے کہ صور کیا چیز ہے؟ آپ نے فرمایا وہ ایک قرن ہے جو پھونکا جائے گا۔ } ۱؎ [سنن ترمذي:3244،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ اور حدیث میں ہے کہ { اس کا دائرہ بقدر آسمانوں اور زمینوں کے ہے۔ اسرافیل علیہ السلام اسے پھونکیں گے۔} اور روایت میں ہے کہ آپ نے فرمایا، { میں کیسے آرام حاصل کروں حالانکہ صور پھونکنے والے فرشتے نے صور کا لقمہ بنا لیا ہے، پیشانی جھکا دی ہے اور انتظار میں ہے کہ کب حکم دیا جائے۔ لوگوں نے کہا، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہم کیا پڑھیں؟ فرمایا کہو «‏‏‏‏حَسبُنَا اللہُ وَنِعمَ الوَکِیلُ عَلَی اللہِ تَوَکَّلنَا» ‏‏‏‏۔ } ۱؎ [سنن ترمذي:3243،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ اس وقت تمام لوگوں کا حشر ہو گا کہ مارے ڈر اور گھبراہٹ کے گنہگاروں کی آنکھیں ٹیڑھی ہو رہی ہوں گی۔ ایک دوسرے سے پوشیدہ پوشیدہ کہہ رہے ہوں گے کہ دنیا میں تو ہم بہت ہی کم رہے، زیادہ سے زیادہ شاید دس دن وہاں گزرے ہونگے۔ ہم ان کی اس رازداری کی گفتگو کو بھی بخوبی جانتے ہیں جب کہ ان میں سے بڑا عاقل اور کامل انسان کہے گا کہ میاں دس دن بھی کہاں رکے؟ ہم تو صرف ایک دن ہی دنیا میں رہے۔ غرض کفار کو دنیا کی زندگی ایک سپنے کی طرح معلوم ہو گی۔ اس وقت وہ قسمیں کھا کھا کر کہیں گے کہ صرف ایک ساعت ہی دنیا میں ہم تو ٹھہرے ہوں گے۔ چنانچہ اور آیت میں ہے «‏‏‏‏اَوَلَمْ نُعَمِّرْكُمْ مَّا يَتَذَكَّرُ فِيْهِ» ‏‏‏‏ ۱؎ [35-فاطر:37] ‏‏‏‏ الخ۔ ہم نے تمہیں عبرت حاصل کرنے کے قابل عمر بھی دی تھی۔ پھر ہوشیار کرنے والے بھی تمہارے پاس آچکے تھے۔ اور آیتوں میں ہے کہ «قَالَ كَمْ لَبِثْتُمْ فِي الْأَرْضِ عَدَدَ سِنِينَ قَالُوا لَبِثْنَا يَوْمًا أَوْ بَعْضَ يَوْمٍ فَاسْأَلِ الْعَادِّينَ قَالَ إِن لَّبِثْتُمْ إِلَّا قَلِيلًا ۖ لَّوْ أَنَّكُمْ كُنتُمْ تَعْلَمُونَ» ۱؎ [23-المؤمنون:112] ‏‏‏‏ اس سوال پر کہ تم کتنا عرصہ زمین پر گزار آئے؟ ان کا جواب ہے ایک دن بلکہ اس سے بھی کم۔ فی الواقع دنیا ہے بھی آخرت کے مقابلے میں ایسی ہی۔ لیکن اگر اس بات کو پہلے سے باور کر لیتے تو اس فانی کو اس باقی پر، اس تھوڑی کو اس بہت پر پسند نہ کرتے بلکہ آخرت کا سامان اس دنیا میں کرتے۔

📖 احسن البیان

14۔ 1 یعنی سب سے زیادہ عاقل اور سمجھدار۔ یعنی دنیا کی زندگی انھیں چند دن بلکہ گھڑی دو گھڑی کی محسوس ہوگی۔ جس طرح دوسرے مقام پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا (وَيَوْمَ تَــقُوْمُ السَّاعَةُ يُـقْسِمُ الْمُجْرِمُوْنَ ڏ مَا لَبِثُوْا غَيْرَ سَاعَةٍ ۭ كَذٰلِكَ كَانُوْا يُؤْفَكُوْنَ) 30۔ الروم۔ 55) جس دن قیامت برپا ہوگی کافر قسمیں کھا کر کہیں گے کہ وہ (دنیا میں ایک گھڑی سے زیادہ نہیں رہے یہی مضمون اور بھی متعدد جگہ بیان کیا گیا ہے۔ مثلا سورة فاطر، 37 سورة المؤمنون۔، 112۔ 114 سورة النازعات وغیرہ مطلب یہی ہے فانی زندگی کو پاقی رہنے والی زندگی پر ترجیح نہ دی جائے۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 104) {نَحْنُ اَعْلَمُ بِمَا يَقُوْلُوْنَ …: ”اَمْثَلُ“} بمعنی {”أَفْضَلُ“} ہے۔ {” اَلْمَثَالَةُ “} یعنی {” اَلْفَضْلُ۔“ ” طَرِيْقَةً “} سب سے اچھے طریقے والا سے مراد یہاں سب سے اچھی رائے والا ہے۔ اسے زیادہ اچھی رائے والا اور عقل مند اس لیے فرمایا کہ اس نے دنیا کے عارضی اور ختم ہونے کو اور آخرت کے ہمیشہ اور باقی رہنے کو دوسروں سے زیادہ سمجھا، اس لیے اس نے کہا کہ دس راتیں کہاں، تم تو ایک دن سے زیادہ دنیا میں نہیں ٹھہرے۔ طبری نے فرمایا کہ قیامت کی ہولناکی انھیں دنیا کا عیش و عشرت ایسا بھلائے گی کہ وہ دنیا میں رہنے کی صحیح مدت بھی نہیں بتا سکیں گے۔ دیکھیے سورۂ مومنون (۱۱۲ تا ۱۱۴) اور روم (۵۵)۔
← پچھلی آیت (103) پوری سورۃ اگلی آیت (105) →