بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ طه — Surah Taha
آیت نمبر 111
کل آیات: 135
قرآن کریم طه آیت 111
آیت نمبر: 111 — سورۃ طه islamicurdubooks.com ↗
وَ عَنَتِ الۡوُجُوۡہُ لِلۡحَیِّ الۡقَیُّوۡمِ ؕ وَ قَدۡ خَابَ مَنۡ حَمَلَ ظُلۡمًا ﴿۱۱۱﴾
لوگوں کے سر اُس حیّ و قیّوم کے آگے جھک جائیں گے نامراد ہوگا جو اُس وقت کسی ظلم کا بار گناہ اٹھائے ہوئے ہو
تمام چہرے اس زنده اور قائم دائم مدبر، اللہ کے سامنے کمال عاجزی سے جھکے ہوئے ہونگے، یقیناً وه برباد ہوا جس نے ﻇلم ﻻد لیا
اور سب منہ جھک جائیں گے اس زندہ قائم رکھنے والے کے حضور اور بیشک نامراد رہا جس نے ظلم کا بوجھ لیا
سب کے چہرے حی و قیوم کے سامنے جھکے ہوئے ہوں گے اور جو شخص ظلم کا بوجھ اٹھائے گا وہ ناکام و نامراد ہو جائے گا۔
اور سب چہرے اس زندہ رہنے والے، قائم رکھنے والے کے لیے جھک جائیں گے اور یقینا ناکام ہوا جس نے بڑے ظلم کا بوجھ اٹھایا۔

📖 تفسیر ابن کثیر

نوعیت شفاعت اور روز قیامت ٭٭

قیامت کے دن کسی کی مجال نہ ہو گی کہ «مَن ذَا الَّذِي يَشْفَعُ عِندَهُ إِلَّا بِإِذْنِهِ» ۱؎ [2-البقرة:255] ‏‏‏‏ ’ دوسرے کے لیے شفاعت کرے ہاں جسے اللہ اجازت دے۔ ‘ «وَكَم مِّن مَّلَكٍ فِي السَّمَاوَاتِ لَا تُغْنِي شَفَاعَتُهُمْ شَيْئًا إِلَّا مِن بَعْدِ أَن يَأْذَنَ اللَّـهُ لِمَن يَشَاءُ وَيَرْضَىٰ» ‏‏‏‏ ۱؎ [53-النجم:26] ‏‏‏‏ ’ نہ آسمان کے فرشتے بے اجازت کسی کی سفارش کر سکیں نہ اور کوئی بزرگ بندہ۔ سب کو خود خوف لگا ہو گا، بے اجازت کسی کی سفارش نہ ہو گی۔ ‘ «يَوْمَ يَقُومُ الرُّوحُ وَالْمَلَائِكَةُ صَفًّا ۖ لَّا يَتَكَلَّمُونَ إِلَّا مَنْ أَذِنَ لَهُ الرَّحْمَـٰنُ وَقَالَ صَوَابًا» ‏‏‏‏ ۱؎ [78-النبأ:38] ‏‏‏‏ ’ فرشتے اور روح صف بستہ کھڑے ہوں گے، بے اجازت الٰہی کوئی لب نہ کھول سکے گا۔ ‘ { خود سید الناس اکرم الناس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی عرش تلے اللہ کے سامنے سجدے میں گر پڑیں گے، اللہ کی خوب حمد و ثنا کریں گے، دیر تک سجدے میں پڑے رہیں گے۔ پھر اللہ تعالیٰ فرمائے گا، اے محمد [ صلی اللہ علیہ وسلم ] ‏‏‏‏ اپنا سر اٹھاؤ، کہو تمہاری بات سنی جائے گی، شفاعت کرو تمہاری شفاعت قبول کی جائے گی۔ پھر حد مقرر ہو گی آپ ان کی شفاعت کر کے جنت میں لے جائیں گے، پھر لوٹیں گے پھر یہی حکم ہو گا۔ } «صلوات اللہ وسلامہ علیہ وعلی سائر الانبیاء» ۔ اور حدیث میں ہے کہ { حکم ہو گا کہ جہنم سے ان لوگوں کو بھی نکال لاؤ جن کے دل میں ایک مثقال ایمان ہو، پس بہت سے لوگوں کو نکال لائیں گے۔ پھر فرمائے گا جس کے دل میں آدھا مثقال ایمان ہو اسے بھی نکال لاؤ۔ جس کے دل میں بقدر ایک ذرے کے ایمان ہو اسے بھی نکال لاؤ۔ جس کے دل میں اس سے بھی کم اس سے بھی کم، اس سے بھی کم ایمان ہو، اسے بھی جہنم سے آزاد کرو، الخ۔ } ۱؎ [صحیح مسلم:183] ‏‏‏‏ اس نے تمام مخلوق کا اپنے علم سے احاطہٰ کر رکھا ہے، مخلوق اس کے علم کا احاطہٰ کر ہی نہیں سکتی۔

جیسے فرمان ہے «وَلَا يُحِيطُونَ بِشَيْءٍ مِّنْ عِلْمِهِ إِلَّا بِمَا شَاءَ» [2-البقرة:265] ‏‏‏‏ ’ اس کے علم میں سے صرف وہی معلوم کر سکتے ہیں جو وہ چاہے۔ ‘ تمام مخلوق کے چہرے عاجزی پستی ذلت و نرمی کے ساتھ اس کے سامنے پست ہیں، اس لیے کہ وہ موت و فوت سے پاک ہے، ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ ہی رہنے والا ہے، وہ نہ سوئے نہ اونگھے۔ خود اپنے آپ قائم رہنے والا اور ہرچیز کو اپنی تدبیر سے قائم رکھنے والا ہے۔ سب کی دیکھ بھال حفاظت اور سنبھال وہی کرتا ہے، وہ تمام کمالات رکھتا ہے اور ساری مخلوق اس کی محتاج ہے، بغیر رب کی مرضی کے نہ پیدا ہو سکے نہ باقی رہ سکے۔ جس نے یہاں ظلم کئے ہوں گے وہ وہاں برباد ہو گا۔ کیونکہ ہر حقدار کو اللہ تعالیٰ اس دن اس کے حق دلوائے گا یہاں تک کہ بے سینگ کی بکری کو سینگ والی بکری سے بدلہ دلوایا جائے گا۔ حدیث قدسی میں ہے کہ { اللہ تعالیٰ عزوجل فرمائے گا، مجھے اپنی عزت وجلال کی قسم، کسی ظالم کے ظلم کو میں اپنے سامنے سے نہ گزرنے دوں گا۔ } صحیح حدیث میں ہے { لوگو! ظلم سے بچو۔ ظلم قیامت کے دن اندھیرا بن کر آئے گا } ۱؎ [صحیح مسلم:2578] ‏‏‏‏ اور سب سے بڑھ کرنقصان یافتہ وہ ہے جو اللہ سے شرک کرتا ہوا مرا، وہ تباہ و برباد ہوا، اس لیے کہ «إِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ» ۱؎ [31-لقمان:13] ‏‏‏‏ ’ شرک ظلم عظیم ہے۔ ‘ ظالموں کا بدلہ بیان فرما کر متقیوں کا ثواب بیان ہو رہا ہے کہ نہ ان کی برائیاں بڑھائی جائیں نہ ان کی نیکیاں گھٹائی جائیں۔ گناہ کی زیادتی اور نیکی کی کمی سے وہ بے کھٹکے ہیں۔

📖 احسن البیان

111۔ 1 اس لئے کہ اس روز اللہ تعالیٰ مکمل انصاف فرمائے گا اور ہر صاحب حق کو اس کا حق دلائے گا۔ حتٰی کہ اگر ایک سینگ والی بکری نے بغیر سینگ والی بکری پر ظلم کیا ہوگا، تو اس کا بھی بدلہ دلایا جائے گا، اسی لئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی حدیث میں یہ بھی فرمایا " لتؤدن الحقوق الی اھلھا " ' ہر صاحب حق کو اس کا حق دے دو ' ورنہ قیامت کو دینا پڑے گا۔ دوسری حدیث میں فرمایا (اِیَّاکُمْ و الظُّلْمَ فَاِنَّ الظُلْمَ ظُلُمَات، ُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ)

📖 القرآن الکریم

(آیت 11) ➊ {وَ عَنَتِ الْوُجُوْهُ لِلْحَيِّ الْقَيُّوْمِ:عَنَتْ”عَنَا يَعْنُوْ عُنُوًّا“} (ن) سے واحد مؤنث غائب، ماضی معلوم ہے، اصل میں {”عَنَوَتْ“} تھا، ذلیل اور عاجز ہو کر جھک جانا۔ اس میں سے اسم فاعل {”عَانٍ“} یا {”اَلْعَانِيْ“} آتا ہے، جس کا معنی قیدی ہے، کیونکہ قیدی بے حد عاجز، بے بس اور ذلیل ہوتا ہے۔ یعنی اس دن صرف تمام آوازیں ہی رحمان کے لیے پست نہیں ہوں گی بلکہ تمام چہرے، حتیٰ کہ ان سرکش متکبر لوگوں کے چہرے بھی اس حی و قیوم کے سامنے ذلیل قیدیوں کی طرح جھکے ہوں گے جن کی پیشانی دنیا میں کبھی اللہ کے سامنے جھکی نہ تھی۔ کیونکہ وہ سب فانی و محتاج ہیں اور انھیں حی و قیوم کے سامنے جھکے بغیر کوئی چارہ ہی نہیں۔ {” لِلْحَيِّ الْقَيُّوْمِ “} کی تفسیر آیت الکرسی (بقرہ: ۲۵۵) میں دیکھیے۔ ➋ { وَ قَدْ خَابَ مَنْ حَمَلَ ظُلْمًا:} یہاں {” ظُلْمًا “} پر تنوین تعظیم کی ہے، اس لیے ترجمہ ”بڑے ظلم کا بوجھ اٹھایا“ کیا ہے۔ بڑے ظلم سے مراد مشرک ہونا اور مسلمان نہ ہونا ہے۔ (طبری) اس کا ترجمہ ”کسی ظلم کا بوجھ اٹھایا“ درست نہیں، کیونکہ گناہ گار مومن و موحد سزا پا کر یا سزا کے بغیر اللہ کے اذن سے جنت میں چلے جائیں گے اور جنت میں پہنچ جانے والا ناکام نہیں۔ دلیل اور تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ انعام (۸۲)، بقرہ (۲۵۴) اور یونس (۱۰۶) کی تفسیر۔
← پچھلی آیت (110) پوری سورۃ اگلی آیت (112) →