بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ طه — Surah Taha
آیت نمبر 112
کل آیات: 135
قرآن کریم طه آیت 112
آیت نمبر: 112 — سورۃ طه islamicurdubooks.com ↗
وَ مَنۡ یَّعۡمَلۡ مِنَ الصّٰلِحٰتِ وَ ہُوَ مُؤۡمِنٌ فَلَا یَخٰفُ ظُلۡمًا وَّ لَا ہَضۡمًا ﴿۱۱۲﴾
اور کسی ظلم یا حق تلفی کا خطرہ نہ ہوگا اُس شخص کو جو نیک عمل کرے اور اِس کے ساتھ وہ مومن بھی ہو
اور جو نیک اعمال کرے اور ایمان واﻻ بھی ہو تو نہ اسے بے انصافی کا کھٹکا ہوگا نہ حق تلفی کا
اور جو کچھ نیک کام کرے اور ہو مسلمان تو اسے نہ زیادتی کا خوف ہوگا اور نہ نقصان کا
اور جو کوئی نیک کام کرے درآنحالیکہ وہ مؤمن بھی ہو تو اسے نہ ظلم و زیادتی کا اندیشہ ہوگا اور نہ کمی و حق تلفی کا۔
اور جو شخص کچھ نیک اعمال کرے اور وہ مومن ہو تو وہ نہ کسی بے انصافی سے ڈرے گا اور نہ حق تلفی سے۔

📖 تفسیر ابن کثیر

نوعیت شفاعت اور روز قیامت ٭٭

قیامت کے دن کسی کی مجال نہ ہو گی کہ «مَن ذَا الَّذِي يَشْفَعُ عِندَهُ إِلَّا بِإِذْنِهِ» ۱؎ [2-البقرة:255] ‏‏‏‏ ’ دوسرے کے لیے شفاعت کرے ہاں جسے اللہ اجازت دے۔ ‘ «وَكَم مِّن مَّلَكٍ فِي السَّمَاوَاتِ لَا تُغْنِي شَفَاعَتُهُمْ شَيْئًا إِلَّا مِن بَعْدِ أَن يَأْذَنَ اللَّـهُ لِمَن يَشَاءُ وَيَرْضَىٰ» ‏‏‏‏ ۱؎ [53-النجم:26] ‏‏‏‏ ’ نہ آسمان کے فرشتے بے اجازت کسی کی سفارش کر سکیں نہ اور کوئی بزرگ بندہ۔ سب کو خود خوف لگا ہو گا، بے اجازت کسی کی سفارش نہ ہو گی۔ ‘ «يَوْمَ يَقُومُ الرُّوحُ وَالْمَلَائِكَةُ صَفًّا ۖ لَّا يَتَكَلَّمُونَ إِلَّا مَنْ أَذِنَ لَهُ الرَّحْمَـٰنُ وَقَالَ صَوَابًا» ‏‏‏‏ ۱؎ [78-النبأ:38] ‏‏‏‏ ’ فرشتے اور روح صف بستہ کھڑے ہوں گے، بے اجازت الٰہی کوئی لب نہ کھول سکے گا۔ ‘ { خود سید الناس اکرم الناس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی عرش تلے اللہ کے سامنے سجدے میں گر پڑیں گے، اللہ کی خوب حمد و ثنا کریں گے، دیر تک سجدے میں پڑے رہیں گے۔ پھر اللہ تعالیٰ فرمائے گا، اے محمد [ صلی اللہ علیہ وسلم ] ‏‏‏‏ اپنا سر اٹھاؤ، کہو تمہاری بات سنی جائے گی، شفاعت کرو تمہاری شفاعت قبول کی جائے گی۔ پھر حد مقرر ہو گی آپ ان کی شفاعت کر کے جنت میں لے جائیں گے، پھر لوٹیں گے پھر یہی حکم ہو گا۔ } «صلوات اللہ وسلامہ علیہ وعلی سائر الانبیاء» ۔ اور حدیث میں ہے کہ { حکم ہو گا کہ جہنم سے ان لوگوں کو بھی نکال لاؤ جن کے دل میں ایک مثقال ایمان ہو، پس بہت سے لوگوں کو نکال لائیں گے۔ پھر فرمائے گا جس کے دل میں آدھا مثقال ایمان ہو اسے بھی نکال لاؤ۔ جس کے دل میں بقدر ایک ذرے کے ایمان ہو اسے بھی نکال لاؤ۔ جس کے دل میں اس سے بھی کم اس سے بھی کم، اس سے بھی کم ایمان ہو، اسے بھی جہنم سے آزاد کرو، الخ۔ } ۱؎ [صحیح مسلم:183] ‏‏‏‏ اس نے تمام مخلوق کا اپنے علم سے احاطہٰ کر رکھا ہے، مخلوق اس کے علم کا احاطہٰ کر ہی نہیں سکتی۔

جیسے فرمان ہے «وَلَا يُحِيطُونَ بِشَيْءٍ مِّنْ عِلْمِهِ إِلَّا بِمَا شَاءَ» [2-البقرة:265] ‏‏‏‏ ’ اس کے علم میں سے صرف وہی معلوم کر سکتے ہیں جو وہ چاہے۔ ‘ تمام مخلوق کے چہرے عاجزی پستی ذلت و نرمی کے ساتھ اس کے سامنے پست ہیں، اس لیے کہ وہ موت و فوت سے پاک ہے، ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ ہی رہنے والا ہے، وہ نہ سوئے نہ اونگھے۔ خود اپنے آپ قائم رہنے والا اور ہرچیز کو اپنی تدبیر سے قائم رکھنے والا ہے۔ سب کی دیکھ بھال حفاظت اور سنبھال وہی کرتا ہے، وہ تمام کمالات رکھتا ہے اور ساری مخلوق اس کی محتاج ہے، بغیر رب کی مرضی کے نہ پیدا ہو سکے نہ باقی رہ سکے۔ جس نے یہاں ظلم کئے ہوں گے وہ وہاں برباد ہو گا۔ کیونکہ ہر حقدار کو اللہ تعالیٰ اس دن اس کے حق دلوائے گا یہاں تک کہ بے سینگ کی بکری کو سینگ والی بکری سے بدلہ دلوایا جائے گا۔ حدیث قدسی میں ہے کہ { اللہ تعالیٰ عزوجل فرمائے گا، مجھے اپنی عزت وجلال کی قسم، کسی ظالم کے ظلم کو میں اپنے سامنے سے نہ گزرنے دوں گا۔ } صحیح حدیث میں ہے { لوگو! ظلم سے بچو۔ ظلم قیامت کے دن اندھیرا بن کر آئے گا } ۱؎ [صحیح مسلم:2578] ‏‏‏‏ اور سب سے بڑھ کرنقصان یافتہ وہ ہے جو اللہ سے شرک کرتا ہوا مرا، وہ تباہ و برباد ہوا، اس لیے کہ «إِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ» ۱؎ [31-لقمان:13] ‏‏‏‏ ’ شرک ظلم عظیم ہے۔ ‘ ظالموں کا بدلہ بیان فرما کر متقیوں کا ثواب بیان ہو رہا ہے کہ نہ ان کی برائیاں بڑھائی جائیں نہ ان کی نیکیاں گھٹائی جائیں۔ گناہ کی زیادتی اور نیکی کی کمی سے وہ بے کھٹکے ہیں۔

📖 احسن البیان

112۔ 1 بےانصافی یہ ہے کہ اس پر دوسروں کے گناہوں کا بوجھ بھی ڈال دیا جائے اور حق تلفی یہ ہے کہ نیکیوں کا اجر کم دیا جائے۔ یہ دونوں باتیں وہاں نہیں ہونگی۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 112) ➊ { وَ مَنْ يَّعْمَلْ مِنَ الصّٰلِحٰتِ وَ هُوَ مُؤْمِنٌ:مِنَ الصّٰلِحٰتِ “} میں {” مِنْ “} تبعیض کے لیے ہے، اس لیے ترجمہ ”کچھ نیک اعمال“ کیا ہے۔ انسان اپنی کمزوری کی وجہ سے تمام اعمال صالحہ تو کر ہی نہیں سکتا، جیسا کہ فرمایا: «{ كَلَّا لَمَّا يَقْضِ مَاۤ اَمَرَهٗ }» [عبس: ۲۳ ] ”ہر گز نہیں، ابھی تک اس نے وہ کام پورا نہیں کیا جس کا اس نے اسے حکم دیا۔“ اس لیے وہ اتنے عمل ہی کا مکلف ہے جتنی اس میں طاقت ہے، فرمایا: «{لَا يُكَلِّفُ اللّٰهُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَهَا}» [البقرۃ: ۲۸۶ ] ”اللہ کسی جان کو تکلیف نہیں دیتا مگر اس کی طاقت کے مطابق۔“ اور فرمایا: «{ فَاتَّقُوا اللّٰهَ مَا اسْتَطَعْتُمْ }» [ التغابن: ۱۶ ] ”سو اللہ سے ڈرو جتنی طاقت رکھو۔“ مفسرین نے اس سے مراد فرائض لیے ہیں۔ ➋ عمل کی قبولیت کے لیے دو شرطیں بیان فرمائیں۔ عمل کا صالح ہونا یعنی کتاب و سنت کے مطابق ہونا اور عمل کرنے والے کا صاحب ایمان ہونا۔ نہ کافر کا کوئی عمل قبول ہے اور نہ وہ عمل جو کتاب و سنت سے ثابت نہ ہو۔ دیکھیے سورۂ کہف کی آخری آیت۔ ➌ {فَلَا يَخٰفُ ظُلْمًا وَّ لَا هَضْمًا:} بے انصافی یہ ہے کہ کسی کو ان گناہوں پر سزا دی جائے جو اس نے نہیں کیے اور حق تلفی یہ ہے کہ کی ہوئی نیکیوں پر پانی پھیر دیا جائے۔ اسی کو سورۂ جن (۱۳) میں {” بَخْسًا “} اور {” رَهَقًا “} سے تعبیر کیا گیا ہے۔ قرآن نے متعدد آیات میں جزا و سزا میں عدل و انصاف کا اعلان کیا ہے، مگر گناہ گار مومنوں کو معاف کر دینا فضل ہے جو عدل کے منافی نہیں۔
← پچھلی آیت (111) پوری سورۃ اگلی آیت (113) →