بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ طه — Surah Taha
آیت نمبر 107
کل آیات: 135
قرآن کریم طه آیت 107
آیت نمبر: 107 — سورۃ طه islamicurdubooks.com ↗
لَّا تَرٰی فِیۡہَا عِوَجًا وَّ لَاۤ اَمۡتًا ﴿۱۰۷﴾ؕ
کہ اس میں تم کوئی بل اور سلوٹ نہ دیکھو گے
جس میں تو نہ کہیں موڑ دیکھے گا نہ اونچ نیچ
کہ تو اس میں نیچا اونچا کچھ نہ دیکھے،
کہ تم اس میں نہ کوئی ناہمواری دیکھوگے اور نہ بلندی۔
جس میں تو نہ کوئی کجی دیکھے گا اور نہ کوئی ابھری جگہ۔

📖 تفسیر ابن کثیر

پہاڑوں کا کیا ہو گا؟ ٭٭

لوگوں نے پوچھا کہ قیامت کے دن یہ پہاڑ باقی رہیں گے یا نہیں؟ ان کا سوال نقل کر کے جواب دیا جاتا ہے کہ یہ ہٹ جائیں گے، چلتے پھرتے نظر آئیں گے اور آخر ریزہ ریزہ ہو جائیں گے۔ زمین صاف چٹیل ہموار میدان کی صورت میں ہو جائے گی۔ «قاع» کے معنی ہموار صاف میدان ہے۔ «صفصفا» اسی کی تاکید ہے اور «صفصف» کے معنی بغیر روئیدگی کی زمین کے بھی ہیں لیکن پہلے معنی زیادہ اچھے ہیں اور دوسرے مرادی اور لازمی ہیں۔ نہ اس میں کوئی وادی رہے گی نہ ٹیلہ، نہ اونچان رہے گی نہ نیچائی۔ ان دہشت ناک امور کے ساتھ ہی ایک آواز دینے والا آواز دے گا جس کی آواز پر ساری مخلوق لگ جائے گی، دوڑتی ہوئی حسب فرمان ایک طرف چلی جا رہی ہو گی، نہ ادھر ادھر ہو گی نہ ٹیڑھی بان کی چلے گی۔ کاش کہ یہی روش دنیا میں رکھتے اور اللہ کے احکام کی بجا آوری میں مشغول رہتے۔ لیکن آج کی یہ روش بالکل بےسود ہے۔ «أَسْمِعْ بِهِمْ وَأَبْصِرْ يَوْمَ يَأْتُونَنَا» ۱؎ [19-مريم:38] ‏‏‏‏ اس دن تو خوب دیکھتے سنتے بن جائیں گے اور آواز کے ساتھ فرماں برداری کریں گے۔ اندھیری جگہ حشر ہو گا۔ آسمان لپیٹ لیا جائے گا، ستارے جھڑ پڑیں گے، سورج چاند مٹ جائے گا۔ «مُّهْطِعِينَ إِلَى الدَّاعِ ۖ يَقُولُ الْكَافِرُونَ هَـٰذَا يَوْمٌ عَسِرٌ» ‏‏‏‏ ۱؎ [54-القمر:8] ‏‏‏‏ آواز دینے والے کی آواز پر سب چل کھڑے ہوں گے۔ اس ایک میدان میں ساری مخلوق جمع ہو گی مگر اس غضب کا سناٹا ہو گا کہ آداب بارگاہ الٰہی کی وجہ سے ایک آواز نہ اٹھے گی۔ بالکل سکون وسکوت ہو گا، صرف پیروں کی چاپ ہو گی اور کانا پھوسی۔ چل کر جا رہے ہوں گے تو پیروں کی چاپ تو لامحالہ ہونی ہی ہے اور بااجازت الٰہی کبھی کبھی کسی کسی حال میں بولیں گے بھی۔ لیکن چلنا بھی باادب اور بولنا بھی باادب۔ جیسے ارشاد ہے، «‏‏‏‏يَوْمَ يَاْتِ لَا تَكَلَّمُ نَفْسٌ اِلَّا بِاِذْنِهٖ ۚ فَمِنْهُمْ شَقِيٌّ وَّسَعِيْدٌ» ‏‏‏‏۔ [11-هود:105] ‏‏‏‏ ’ یعنی جس دن وہ میرے سامنے حاضر ہوں گے، کسی کی مجال نہ ہو گی کہ بغیرمیری اجازت کے زبان کھول لے۔ بعض نیک ہوں گے اور بعض بد ہوں گے۔‘

📖 احسن البیان

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 107){ لَا تَرٰى فِيْهَا عِوَجًا وَّ لَاۤ اَمْتًا:عِوَجًا “} کجی، مراد نیچی جگہ ہے۔ {” اَمْتًا “} معمولی ابھری ہوئی جگہ، یعنی ہر بلندی اور پستی، حتیٰ کہ سمندروں کی گہرائی اور پہاڑوں کی بلندی ختم ہو کر پوری زمین بالکل ہموار ہو جائے گی، جس میں ذرہ برابر نیچی یا اونچی جگہ دکھائی نہ دے گی۔
← پچھلی آیت (106) پوری سورۃ اگلی آیت (108) →