بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ طه — Surah Taha
آیت نمبر 126
کل آیات: 135
قرآن کریم طه آیت 126
آیت نمبر: 126 — سورۃ طه islamicurdubooks.com ↗
قَالَ کَذٰلِکَ اَتَتۡکَ اٰیٰتُنَا فَنَسِیۡتَہَا ۚ وَکَذٰلِکَ الۡیَوۡمَ تُنۡسٰی ﴿۱۲۶﴾
اللہ تعالیٰ فرمائے گا "ہاں، اِسی طرح تو ہماری آیات کو، جبکہ وہ تیرے پاس آئی تھیں، تُو نے بھُلا دیا تھا اُسی طرح آج تو بھلایا جا رہا ہے"
(جواب ملے گا کہ) اسی طرح ہونا چاہئے تھا تو میری آئی ہوئی آیتوں کو بھول گیا تو آج تو بھی بھلا دیا جاتا ہے
فرمائے گا یونہی تیرے پاس ہماری آیتیں آئیں تھیں تو نے انہیں بھلادیا اور ایسے ہی آج تیری کوئی نہ لے گا
ارشاد ہوگا اسی طرح ہماری آیات تیرے پاس آئی تھیں اور تو نے انہیں بھلا دیا تھا اسی طرح آج تجھے بھی بھلا دیا جائے گا اور نظر انداز کر دیا جائے گا۔
وہ فرمائے گا اسی طرح تیرے پاس ہماری آیات آئیں تو توُ انھیں بھول گیا اور اسی طرح آج تو بھلایا جائے گا۔

📖 تفسیر ابن کثیر

ایک دوسرے کے دشمن ٭٭

آدم علیہ السلام و حواء علیہا السلام اور ابلیس لعین سے اسی وقت فرما دیا گیا کہ تم سب جنت سے نکل جاؤ۔ سورۃ البقرہ میں اس کی پوری تفسیر گزر چکی ہے۔ تم آپس میں ایک دوسرے کے دشمن ہو یعنی اولاد آدم اور اولاد ابلیس۔ تمہارے پاس میرے رسول اور میری کتابیں آئیں گی۔ میری بتائی ہوئی راہ کی پیروی کرنے والے نہ تو دنیا میں رسوا ہوں گے نہ آخرت میں ذلیل ہوں گے۔ ہاں حکموں کے مخالف، میرے رسول کی راہ کے تارک، دوسری راہوں پہ چلنے والے دنیا میں بھی تنگ رہیں گے، اطمینان اور کشادہ دلی میسر نہ ہو گی۔ اپنی گمراہی کی وجہ سے تنگیوں میں ہی رہیں گے گو بظاہر کھانے پینے پہننے اوڑھنے رہنے سہنے کی فراخی ہو لیکن دل میں یقین و ہدایت نہ ہونے کی وجہ سے ہمیشہ شک و شبہے اور تنگی اور قلت میں مبتلا رہیں گے۔ بدنصیب، رحمت الٰہی سے محروم، خیر سے خالی۔ کیونکہ اللہ پر ایمان نہیں، اس کے وعدوں کا یقین نہیں، مرنے کے بعد کی نعمتوں میں کوئی حصہ نہیں۔ اللہ کے ساتھ بدگمان ہیں، گئی ہوئی چیز کو آنے والی نہیں سمجھتے۔ خبیث روزیاں ہیں، گندے عمل ہیں، قبر تنگ و تاریک ہے۔ وہاں اس طرح دبوچا جائے گا کہ دائیں پسلیاں بائیں میں اور بائیں طرف کی دائیں طرف میں گھس جائیں گی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں، { مومن کی قبر ہرا بھرا سرسبز باغیچہ ہے، ستر (‏‏‏‏70) ہاتھ کی کشادہ ہے، ایسا معلوم ہوتا ہے گویا چاند اس میں ہے، خوب نور اور روشنی پھیل رہی ہے جیسے چودھویں رات کا چاند چڑھا ہوا ہو۔ اس آیت کا شان نزول معلوم ہے کہ میرے ذکر سے منہ پھیرنے والوں کی معیشت تنگ ہے۔ اس سے مراد کافر کی قبر میں اس پر عذاب ہے۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:227/16:ضعیف] ‏‏‏‏ اللہ کی قسم اس پر ننانوے اژدھے مقرر کئے جاتے ہیں ہر ایک کے سات سات سر ہوتے ہیں جو اسے قیامت تک ڈستے رہتے ہیں۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:24426:ضعیف] ‏‏‏‏ اس حدیث کا مرفوع ہونا بالکل منکر ہے۔ }

ایک عمدہ سند سے بھی مروی ہے کہ { اس سے مراد عذاب قبر ہے۔} ۱؎ [مستدرک حاکم:381/2:حسن] ‏‏‏‏ یہ قیامت کے دن اندھا بنا کر اٹھایا جائے گا سوائے جہنم کے کوئی چیز اسے نظر نہ آئے گی۔ نابینا ہو گا اور میدان حشر کی طرف چلایا جائے گا اور جہنم کے سامنے کھڑا کر دیا جائے گا۔ جیسے فرمان ہے «‏‏‏‏وَنَحْشُرُهُمْ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ عَلٰي وُجُوْهِهِمْ عُمْيًا وَّبُكْمًا وَّصُمًّا ۭ مَاْوٰىهُمْ جَهَنَّمُ ۭ كُلَّمَا خَبَتْ زِدْنٰهُمْ سَعِيْرًا» ۱؎ [17-الإسراء:97] ‏‏‏‏۔ ’ یعنی ہم انہیں قیامت کے دن اوندھے منہ اندھے گونگے بہرے بنا کر حشر میں لے جائیں گے ان کا اصلی ٹھکانہ دوزخ ہے۔ ‘ یہ کہیں گے کہ میں تو دنیا میں آنکھوں والا خوب دیکھتا بھالتا تھا، پھر مجھے اندھا کیوں کر دیا گیا؟ جواب ملے گا کہ یہ بدلہ ہے اللہ کی آیتوں سے منہ موڑ لینے کا اور ایسا ہو جانے کا گویا خبر ہی نہیں۔ پس آج ہم بھی تیرے ساتھ ایسا معاملہ کریں گے کہ جیسے تو ہماری یاد سے اتر گیا۔ جیسے فرمان ہے «فَالْيَوْمَ نَنْسٰىهُمْ كَمَا نَسُوْا لِقَاۗءَ يَوْمِهِمْ ھٰذَا ۙ وَمَا كَانُوْا بِاٰيٰتِنَا يَجْحَدُوْنَ» ۱؎ [7-الأعراف:51] ‏‏‏‏۔ ’ آج ہم انہیں ٹھیک اسی طرح بھلا دیں گے جیسے انہوں نے آج کے دن کی ملاقات کو بھلا دیا تھا۔ ‘ پس یہ برابر کا اور عمل کی طرح کا بدلہ ہے۔ قرآن پر ایمان رکھتے ہوئے اس کے احکام کا عامل ہوتے ہوئے کسی شخص سے اگر اس کے الفاظ حفظ سے نکل جائیں تو وہ اس وعید میں داخل نہیں۔ اس کے لیے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ وہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ سے جذامی ہونے کی حالت میں ملاقات کرے گا۔} ۱؎ [سنن ابوداود:1474:ضعیف] ‏‏‏‏

📖 احسن البیان

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 126) ➊ {قَالَ كَذٰلِكَ اَتَتْكَ …: ” كَذٰلِكَ “} (اسی طرح) سے مراد ”اندھا ہونا“ ہے، جس کا ذکر سوال میں ہے کہ پروردگارا! تو نے مجھے اندھا کیوں اٹھایا؟ جواب ملے گا: «{قَالَ كَذٰلِكَ اَتَتْكَ اٰيٰتُنَا فَنَسِيْتَهَا}» کہ اسی طرح تیرے پاس ہماری آیات آئیں تو تو انھیں بھول گیا۔ دونوں آیتوں کے الفاظ سے ظاہر ہے کہ ایک لمبی بات کو اس طرح مختصر کیا گیا ہے کہ حذف شدہ الفاظ خود بخود سمجھ میں آ رہے ہیں۔ سوال میں اندھے ہونے کا ذکر ہے، جواب میں بھلانے کا ذکر ہے۔ یہ اختصار تین جگہوں پر ہے، پہلا اختصار {” وَ نَحْشُرُهٗ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ اَعْمٰى ({وَ نَنْسَاهُ}) “} ”ہم قیامت کے دن اسے اندھا کر کے اٹھائیں گے (اور اسے بھلا دیں گے)“ دوسرا اور تیسرا اختصار {” قَالَ كَذٰلِكَ اَتَتْكَ اٰيٰتُنَا فَنَسِيْتَهَا ({وَ عَمِيْتَ عَنْهَا}) وَ كَذٰلِكَ الْيَوْمَ ({وَ تُحْشَرُ أَعْمٰي})“} ”وہ فرمائے گا، اسی طرح تیرے پاس ہماری آیات آئیں تو تو انھیں بھول گیا (اور ان سے اندھا بن گیا) اور اسی طرح آج تو بھلایا جائے گا (اور اندھا کرکے اٹھایا جائے گا)۔“ اسے بلاغت کی اصطلاح میں {” اِحْتِبَاكٌ “} کہتے ہیں۔ (ابن عاشور) ➋ واضح رہے کہ آیات کو بھلانے سے مراد یہاں ان پر ایمان نہ لانا اور عمل نہ کرنا ہے، حفظ کرنے کے بعد بھول جانا مراد نہیں۔ اس کی دلیل اگلی آیت ہے: «‏‏‏‏{وَ كَذٰلِكَ نَجْزِيْ مَنْ اَسْرَفَ وَ لَمْ يُؤْمِنْۢ بِاٰيٰتِ رَبِّهٖ}» ‏‏‏‏ [ طٰہٰ: ۱۲۷ ] ”اور اسی طرح ہم اس شخص کو جزا دیتے ہیں جو حد سے گزرے اور اپنے رب کی آیات پر ایمان نہ لائے۔“ ایمان لانے والا شخص جو حفظ کے بعد کسی بیماری یا مصروفیت کی وجہ سے کچھ آیات بھول جائے وہ اس میں داخل نہیں ہے۔ ➌ قرآن یاد کرنے کے بعد بھول جانے پر وعید کی کوئی حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت نہیں۔ چند ضعیف روایات درج ذیل ہیں: (1) مسند احمد (۵؍۲۸۵، ح: ۲۲۵۲۴) میں سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ وَمَا مِنْ رَجُلٍ قَرَأَ الْقُرْآنَ فَنَسِيَهٗ إِلاَّ لَقِيَ اللّٰهَ يَوْمَ يَلْقَاهٗ وَهُوَ أَجْذَمُ ] ”اور کوئی بھی شخص جو قرآن پڑھے پھر اسے بھول جائے وہ اللہ تعالیٰ سے جس دن ملے گا تو اس حال میں ملے گا کہ کوڑھی ہو گا۔“ اس کی ایک سند میں عیسیٰ بن فائد مجہول راوی ہے، اس کا شیخ بھی مجہول ہے۔ دوسری سند میں بھی عیسیٰ بن فائد مجہول ہے۔ (2) سنن ابو داؤد (۴۶۱) اور ترمذی (۲۹۱۶) میں انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ عُرِضَتْ عَلَيَّ أَجُوْرُ أُمَّتِيْ حَتَّی الْقَذَاةُ يُخْرِجُهَا الرَّجُلُ مِنَ الْمَسْجِدِ وَعُرِضَتْ عَلَيَّ ذُنُوْبُ أُمَّتِيْ فَلَمْ أَرَ ذَنْبًا أَعْظَمَ مِنْ سُوْرَةٍ مِنَ الْقُرْآنِ أُوْتِيَهَا رَجُلٌ ثُمَّ نَسِيَهَا ] ”میرے سامنے میری امت کے اجر پیش کیے گئے، یہاں تک کہ وہ تنکا بھی جسے آدمی مسجد سے نکالے اور میرے سامنے میری امت کے گناہ پیش کیے گئے، تو میں نے اس سے بڑا کوئی گناہ نہیں دیکھا کہ کسی آدمی کو قرآن کی کوئی سورت یا آیت عطا کی گئی پھر اس نے اسے بھلا دیا۔“ شیخ ناصر الدین البانی رحمہ اللہ نے فرمایا کہ اس کی سند ضعیف ہے، کیونکہ ابن جریج اور مطلب بن عبد اللہ دونوں مدلس ہیں اور اسے ”عن“ کے لفظ سے روایت کرتے ہیں اور بخاری اور ترمذی نے اسے ضعیف قرار دیا۔ تفصیل کے لیے دیکھیں ضعیف ابی داؤد (۷۱)۔ ➍ ضعیف اور موضوع روایات نے امت کو کس قدر نقصان پہنچایا اس کا اندازہ نہیں ہو سکتا۔ میں نے بہت سے مردوں اور عورتوں کو دیکھا کہ وہ ان روایات ہی کی وجہ سے قرآن حفظ کرنے سے محروم رہے، حالانکہ یہ بات صاف ظاہر ہے کہ جسے کسی مصروفیت یا بیماری یا غفلت کی وجہ سے قرآن بھول جائے وہ اس شخص سے ہزار گنا بہتر ہے جس نے قرآن پڑھا ہی نہیں، یا یاد ہی نہیں کیا، کیونکہ وہ اس سے تو ہر حال میں قرآن کا علم زیادہ رکھتا ہے اور اللہ تعالیٰ غفور و رحیم ہے۔ اسے سب سے بڑے گناہ شرک کے قائم مقام قرار دینا یا کوڑھی ہونے کا باعث قرار دینا راویوں کی جہالت اور تدلیس ہی کا کارنامہ ہے۔
← پچھلی آیت (125) پوری سورۃ اگلی آیت (127) →