(اس دعا کے جواب میں) ہم نے اس کو ایک حلیم (بردبار) لڑکے کی بشارت دی
مولانا محمد جوناگڑھی
تو ہم نے اسے ایک بردبار بچے کی بشارت دی
احمد رضا خان بریلوی
تو ہم نے اسے خوشخبری سنائی ایک عقل مند لڑکے کی،
علامہ محمد حسین نجفی
(اس دعا کے بعد) ہم نے ان کو ایک حلیم و بردبار بیٹے کی بشارت دی۔
عبدالسلام بن محمد
تو ہم نے اسے ایک بہت بردبار لڑکے کی بشارت دی۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
ذبیح اللہ کی بحث اور یہودی روایات ٭٭
خلیل اللہ علیہ السلام جب اپنی قوم کی ہدایت سے مایوس ہو گئے، بڑی بڑی قدرتی نشانیاں دیکھ کر بھی جب انہیں ایمان نصیب نہ ہوا تو آپ علیہ السلام نے ان سے ہٹ جانا پسند فرمایا اور اعلان کر دیا کہ میں اب تم میں سے ہجرت کرجاؤں گا میرا رہنما میرا رب ہے۔ ساتھ ہی اپنے رب سے اپنے ہاں اولاد ہونے کی دعا مانگی تاکہ وہی توحید میں آپ علیہ السلام کا ساتھ دے۔ اسی وقت دعا قبول ہوتی ہے اور ایک بردبار بچے کی بشارت دی جاتی۔ یہ اسماعیل علیہ السلام تھے یہی آپ علیہ السلام کے لیے صاحبزادے تھے اور اسحاق علیہ السلام سے بڑے تھے۔ اسے تو اہل کتاب بھی مانتے ہیں بلکہ ان کی کتب میں موجود ہے کہ اسماعیل علیہ السلام کی پیدائش کے وقت ابراہیم علیہ السلام کی عمر چھیاسی سال کی تھی اور جس وقت اسحاق علیہ السلام تولد ہوتے ہیں اس وقت آپ علیہ السلام کی عمر ننانوے برس کی تھی۔ بلکہ ان کی اپنی کتاب میں تو یہ بھی ہے کہ جناب ابراہیم علیہ السلام کو اپنے اکلوتے فرزند کو ذبح کرنے کا حکم ہوا تھا۔ لیکن صرف اس لیے کہ یہ لوگ خود تو نبی اللہ اسحاق علیہ السلام کی اولاد میں سے ہیں اور نبی اللہ و ذبیح اللہ اسماعیل علیہ السلام کی اولاد میں سے عرب ہیں۔ انہی نے واقعہ کی اصلیت بدل دی اور اس فضیلت کو اسماعیل علیہ السلام سے ہٹاکر اسحاق علیہ السلام کو دے دیا اور بے جا تاویلیں کرتے اللہ کے کلام کو بدل ڈالا، اور کہا ہماری کتاب میں لفظ «وَحِیْدَكَ» ہے اس سے مراد اکلوتا نہیں بلکہ جو تیرے پاس اس وقت اکیلا ہے وہ ہے۔ یہ اس لیے کہ اسماعیل تو اپنی والدہ کے ساتھ مکے میں تھے یہاں خلیل اللہ کے ساتھ صرف اسحاق تھے۔ لیکن یہ بالکل غلط ہے۔ وحید اسی کو کہا جاتا ہے جو اکلوتا ہو اس کا اور کوئی بھائی نہ ہو۔ پھر یہاں ایک بات اور بھی ہے کہ اکلوتے اور پہلوٹھی کے بچے کے ساتھ جو محبت ہوتی اور اس کے جو لاڈ پیار ہوتے ہیں عموماً دوسری اولاد کے ہونے پر پھر وہ باقی نہیں رہتے۔ اس لیے اس کے ذبیحہ کا حکم امتحان اور آزمائش کی زبردست کڑی ہے۔
ہم اسے مانتے ہیں کہ بعض سلف بھی اس کے قائل ہوئے ہیں کہ ذبیح اللہ اسحاق علیہ السلام تھے، یہاں تک کہ بعض صحابہ رضی اللہ عنہم سے بھی یہ مروی ہے لیکن یہ چیز کتاب و سنت سے ثابت نہیں ہوتی۔ بلکہ خیال یہ ہے کہ بنو اسرائیل کی ایک شہرت دی ہوئی بات کو ان حضرات نے بھی بے دلیل اپنے ہاں لے لیا۔ دور کیوں جائیں کتاب اللہ کے الفاظ میں ہی غور کر لیجئیے کہ اسمٰعیل علیہ السلام کی بشارت کا ”غلام حلیم“ کہہ کر ذکر ہوا اور پھر اللہ کی راہ میں ذبح کے لیے تیار ہونے کا ذکر ہوا۔ اس تمام بیان کو ختم کر کے پھر نبی صالح اسحاق علیہ السلام کے تولد کی بشارت کا بیان ہوا۔ اور فرشتوں نے بشارت اسحاق کے موقع پر ”غلام علیم“ فرمایا تھا۔ اسی طرح قرآن میں ہے بشارت اسحاق علیہ السلام کے ساتھ ہی ہے «وَمِنْ وَّرَاءِ اِسْحٰقَ يَعْقُوْبَ» ۱؎ [11-ھود:71] یعنی ’ ابراہیم کی حیات میں ہی اسحاق کے ہاں یعقوب پیدا ہوں گے ‘، یعنی ان کی تو نسل جاری رہنے کا پہلے ہی علم کرایا جا چکا تھا اب انہیں ذبح کرنے کا حکم کیسے دیا جاتا؟ اسے ہم پہلے بھی بیان کر چکے۔ البتہ اسماعیل علیہ السلام کا وصف یہاں پر بردباری کا بیان کیا گیا ہے۔ جو ذبیح کے لیے نہایت مناسب ہے۔
اب اسماعیل علیہ السلام بڑے ہو گئے اپنے والد کے ساتھ چلنے پھرنے کے قابل ہو گئے۔ آپ علیہ السلام اس وقت مع اپنی والدہ محترمہ کے فاران میں تھے ابراہیم علیہ السلام عموماً وہاں جاتے آتے رہتے تھے یہ مذکور ہے کہ براق پر جاتے تھے اور اس جملے کے یہ معنی بھی ہیں کہ جوانی کے لگ بھگ ہو گئے لڑکپن کا زمانہ نکل گیا اور باپ کی طرح چلنے پھرنے کام کاج کرنے کے قابل بن گئے تو ابراہیم علیہ السلام نے خواب دیکھا کہ گویا آپ علیہ السلام اپنے پیارے بچے کو ذبح کر رہے ہیں۔ انبیاء کے خواب وحی ہوتے ہیں اور اس کی دلیل یہی آیت ہے۔ ایک مرفوع روایت میں بھی یہ ہے۔ ۱؎ [صحیح بخاری:138] پس اللہ کے رسول علیہ السلام نے اپنے لخت جگر کی آزمائش کے لیے کہ اچانک وہ گھبرا نہ اٹھے، اپنا ارادہ ان کے سامنے ظاہر کیا۔ وہاں کیا تھا۔ وہ بھی اسی درخت کے پھل تھے نبی ابن نبی علیہ السلام تھے جواب دیتے ہیں اب پھر دیر کیوں لگا رہے ہو یہ باتیں بھی پوچھنے کی ہوتی ہیں جو حکم ہوا ہے اسے فوراً کر ڈالیے اور اگر میری نسبت کھٹکا ہو تو زبانی اطمینانی کیا کروں چھری رکھئے خود معلوم ہو جائے گا کہ میں کیسا کچھ صابر ہوں۔ ان شاءاللہ میرا صبر آپ کا جی خوش کر دے گا۔ سبحان اللہ جو کہا تھا وہی کر کے دکھایا اور صادق الوعد ہونے کا سرٹیفیکیٹ اللہ کی طرف سے حاصل کر ہی لیا۔ آخر باپ بیٹا دونوں حکم اللہ کی اطاعت کے لیے جان بکف تیار ہو جاتے ہیں باپ بچے کو ذبح کرنے کے لیے تیار ہو جاتا ہے۔ اور باپ اپنے نور چشم لخت جگر کو منہ کے بل زمین پر گراتے ہیں تاکہ ذبح کے وقت منہ دیکھ کر محبت نہ آ جائے اور ہاتھ سست نہ پڑ جائے۔
مسند احمد میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ”جب ابراہیم علیہ السلام اپنی نور نظر کو ذبح کرنے کے لیے بحکم اللہ لے چلے تو سعی کے وقت شیطان سامنے آیا لیکن ابراہیم علیہ السلام اس سے آگے بڑھ گئے، پھر جبرائیل علیہ السلام کے ساتھ آپ جمرہ عقبہ پر پہنچے تو پھر شیطان سامنے آیا، آپ علیہ السلام نے اسے سات کنکریاں ماریں۔“ ”پھر جمرہ وسطی پاس آیا پھر وہاں سات کنکریاں ماریں۔ پھر آگے بڑھ کر اپنے پیارے بچے کو اللہ کے نام پر ذبح کرنے کے لیے نیچے پچھاڑا، ذبیح اللہ کے پاک جسم پر اس وقت سفید چادر تھی کہنے لگے ابا جی اسے اتار لیجئیے تاکہ اس میں آپ مجھے کفنا سکیں۔ اس وقت بیٹے کو ننگا کرتے وقت باپ کا عجب حال تھا کہ آواز آئی بس ابراہیم خواب کو سچا کر چکے۔ مڑ کر دیکھا تو ایک مینڈا سفید رنگ کا بڑے بڑے سینگوں اور صاف آنکھوں والا نظر پڑا، ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں اسی لیے ہم اس قسم کے مینڈے (چھترے) چن چن کر قربانی کے لیے لیتے تھے۔“
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما ہی سے دوسری روایت میں اسحاق علیہ السلام کا نام مروی ہے۔ تو گو دونوں نام آپ رضی اللہ عنہما سے مروی ہیں لیکن اول ہی اولیٰ ہے اور اس کی دلیلیں آ رہی ہیں۔ ان شاءاللہ تعالیٰ۔ اس کے بدلے بڑا ذبیحہ، اللہ نے عطا فرمایا اس کی بابت سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”یہ جنتی چھترا تھا جو وہاں چالیس سال سے کھا پی رہا تھا۔“ اسے دیکھ کر آپ علیہ السلام اپنے بچے کو چھوڑ کر اس کے پیچھے ہولیے۔ جمرہ اولیٰ پر آ کر سات کنکریاں پھنکیں پھر وہ بھاگ کر جمرہ وسطی پر آ گیا۔ سات کنکریاں ماریں اور وہاں سے ملخر میں لا کر ذبح کیا اس کے سینگ سر سمیت ابتداء اسلام کے زمانہ تک کعبے کے پرنالے کے پاس لٹکتے رہے تھے پھر سوکھ گئے۔ ایک مرتبہ سیدنا کعب رضی اللہ عنہ بیٹھے ہوئے باتیں کر رہے تھے۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ تو حدیثیں بیان کر رہے تھے اور کعب رضی اللہ عنہ کتاب کے قصے بیان کر رہے تھے۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ { ہر نبی کے لیے ایک دعا قبول شدہ ہے اور میں نے اپنی اس مقبول دعا کو پوشیدہ کر کے رکھ چھوڑا ہے اپنی امت کی شفاعت کے لئے جو بروز قیامت ہوگی}، تو سیدنا کعب رضی اللہ عنہ نے فرمایا تم نے خود اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے؟ فرمایا ہاں۔ سیدنا کعب رضی اللہ عنہ خوش ہوئے اور فرمانے لگے تم پر میرے ماں باپ فدا ہوں یا فرمایا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر میرے ماں باپ صدقے جائیں۔
پھر کعب رضی اللہ عنہ نے ابراہیم خلیل علیہ السلام کا قصہ سنایا کہ جب آپ علیہ السلام اپنے لڑکے اسمٰعیل علیہ السلام کو ذبح کرنے کے لیے مستعد ہو گئے تو شیطان نے کہا اگر میں اس وقت انہیں نہ بہکا سکا تو مجھے ان سے عمر بھر کے لیے مایوس ہو جانا چاہیئے۔ پہلے تو یہ سارہ رضی اللہ عنہا کے پاس آیا اور پوچھا کہ ابراہیم علیہ السلام تمہارے لڑکے کو کہاں لے گئے ہیں؟ مائی صاحبہ رضی اللہ عنہا نے جواب دیا اپنے کسی کام پر لے گئے ہیں، اس نے کہا نہیں بلکہ وہ ذبح کرنے کے لیے لے گئے ہیں۔ مائی صاحبہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا وہ اسے کیوں ذبح کرنے لگے؟ لعین نے کہا وہ کہتے ہیں اللہ کی طرف سے یہی حکم ہے جواب ملا پھر تو یہی بہتر ہے کہ وہ جلدی سے اللہ کے حکم کی بجا آوری سے فارغ ہو لیں۔ یہاں سے نامراد ہو کر بچے کے پاس آیا اور کہا تمہارے ابا تمہیں کہاں لے جاتے ہیں؟ فرمایا اپنے کام کے لیے کہا نہیں بلکہ وہ تجھے ذبح کرنے کے لیے لے جا رہے ہیں، فرمایا یہ کیوں؟ کہا اس لیے کہ وہ سمجھتے ہیں اللہ کا انہیں حکم ہے۔ کہا پھر تو واللہ انہیں اس کام میں بہت جلدی کرنی چاہیئے۔ ان سے بھی مایوس ہو کر یہ ملعون خلیل اللہ علیہ السلام کے پاس پہنچا۔ ان سے کہا بچے کو کہاں لے جا رہے ہو؟ جواب دیا اپنے کام کے لیے ملعون نے کہا نہیں بلکہ تم تو اسے ذبح کرنے کے لیے جا رہے ہو؟ آپ علیہ السلام نے فرمایا یہ کیوں؟ بولا اس لیے کہ تمہارا خیال ہے کہ اللہ کا حکم تمہیں یونہی ہے، آپ علیہ السلام نے فرمایا اللہ کی قسم پھر تو میں ضرور ہی اسے ذبح کر ڈالوں گا۔ اب ابلیس مایوس ہو گیا۔۱؎ [عبد الرزاق فی المصنف:20864:صحیح]
دوسری روایت میں یہ بھی ہے کہ اس تمام واقعے کے بعد جناب باری تعالیٰ نے اسحاق علیہ السلام سے فرمایا کہ ’ ایک دعا تم مجھ سے مانگو جو مانگو گے ملے گا ‘۔ اسحاق علیہ السلام نے کہا ”پھر میری دعا یہ ہے کہ جس نے تیرے ساتھ شریک نہ کیا ہو اسے تو ضرور جنت میں لے جانا۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے { اللہ تعالیٰ نے مجھے اختیار دیا کہ میں دو باتوں میں سے ایک کو اختیار کر لوں یا تو یہ کہ میری آدھوں آدھ امت بخشی جائے یا یہ کہ میں شفاعت کروں اور اسے اللہ تعالیٰ قبول فرما لے تو میں نے شفاعت کرنے کو ترجیح دی اس پر کہ وہ عام ہو گی، ہاں ایک دعا تھی کہ میں وہی کرتا لیکن اللہ کا ایک نیک بندہ مجھ سے پہلے اس دعا کو مانگ چکا تھا }۔ واقعہ یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے اسحاق علیہ السلام سے ذبح ہونے کی تکلیف دور کر دی تو ان سے فرمایا گیا کہ ’ تو مانگ جو مانگے گا دیا جائے گا ‘۔ تو اسحاق علیہ السلام نے فرمایا ”واللہ شیطان کے بہکانے سے پہلے ہی میں اسے مانگ لوں گا، اللہ جو شخص اس حالت میں مرا ہو کہ اس نے تیرے ساتھ کسی کو شریک نہ کیا ہو تو اسے بخش دے اور جنت میں پہنچا دے۔“ ۱؎ [الدر المنشور للسیوطی:531/5:ضعیف] یہ حدیث ابن ابی حاتم میں ہے لیکن سنداً غریب اور منکر ہے اور اس کے ایک راوی عبدالرحمٰن بن زید بن اسلم ضعیف ہیں اور مجھے تو یہ بھی ڈر ہے کہ یہ الفاظ کہ (جب اللہ تعالیٰ نے اسحاق علیہ السلام سے) آخر تک راوی اپنے نہ ہوں جنہیں انہوں نے حدیث میں داخل کر دئیے ہیں۔
ذبیح اللہ تو اسماعیل علیہ السلام ہیں، محل ذبح منیٰ ہے اور وہ مکے میں ہے اور اسماعیل علیہ السلام یہیں تھے نہ کہ اسحاق علیہ السلام وہ تو شہر کنعان میں تھے جو شام ہے۔ جب ابراہیم علیہ السلام اپنے پیارے بچے کو ذبح کرنے کے لیے لٹا دیتے ہیں جناب باری سے ندا آتی ہے کہ ’ بس ابراہیم علیہ السلام تم اپنے خواب کو پورا کر چکے ‘۔ سدی رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ”جب خلیل اللہ علیہ السلام نے ذبیح اللہ علیہ السلام کے حلق پر چھری پھیری تو گردن تانبے کی ہو گئے اور نہ کٹی اور یہ آواز آئی۔“
ہم اسی طرح نیک کاروں کو بدلہ دیتے ہیں۔ یعنی سختیوں سے بچا لیتے ہیں اور چھٹکارا کر دیتے ہیں۔ جیسے فرمایا ’ اللہ سے ڈرتے رہنے والوں کے لیے اللہ تعالیٰ چھٹکارے کی صورت نکال ہی دیتا ہے اور اسے ایسی طرح روزی پہنچاتا ہے کہ اس کے گمان و وہم میں بھی نہ ہو۔ اللہ پر بھروسہ کرنے والوں کو اللہ ہی کافی ہے اللہ اپنے کاموں کو مکمل کر کے چھوڑتا ہے ہرچیز کا اس نے ایک اندازہ مقرر کر رکھا ہے ‘۔ اس آیت سے اس پر استدلال کیا گیا ہے کہ فعل پر قدرت پانے سے پہلے ہی حکم منسوخ ہو سکتا ہے۔
ہاں معتزلہ اسے نہیں مانتے۔ وجہ استدلال بہت ظاہر ہے اس لیے کہ خلیل اللہ علیہ السلام کو اپنے بیٹے کے ذبح کرنے کا حکم ہوتا ہے اور پھر ذبح سے پہلے ہی فدئیے کے ساتھ منسوخ کر دیا جاتا ہے۔ مقصود اس سے یہ تھا کہ صبر کا اور بجا آوری حکم پر مستعدی کا ثواب مرحمت فرما دیا جائے۔ اسی لیے ارشاد ہوا ’ یہ تو صرف ایک آزمائش تھی کھلا امتحان تھا کہ ادھر حکم ہوا ادھر تیاری ہوئی ‘۔ اسی لیے جناب خلیل اللہ علیہ السلام کی تعریف میں قرآن میں ہے ’ ابراہیم بڑا ہی وفادار تھا۔ بڑے ذبیح کے ساتھ ان کا فدیہ ہم نے دیا ‘۔ سفید رنگ بڑی آنکھوں اور بڑے سینگوں والا عمدہ خوراک سے پلا ہوا منیڈھا فدئیے میں دیا گیا جو ثبیر ببول کے درخت سے بندھا ہوا ملا۔ جو جنت میں چالیس سال چرتا رہا۔ منیٰ میں ثبیر کے پاس جو چٹان ہے اس پر یہ جانور ذبح کیا گیا یہ چیختا ہوا اوپر سے اترا تھا۔ یہی وہ مینڈھا ہے جسے ہابیل نے اللہ کی راہ میں قربان کیا تھا۔ اس کی اون قدرے سرخی مائل تھی اس کا نام جریر تھا۔ بعض کہتے ہیں مقام ابراہیم پر اسے ذبح کیا۔ کوئی کہتا ہے مٹی میں نحر پر۔ ایک شخص نے اپنے تئیں راہ اللہ میں ذبح کرنے کی منت مانی تھی تو سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اسے ایک سو اونٹ ذبح کرنے کا فتویٰ دیا تھا لیکن پھر فرماتے تھے کہ ”اگر میں اسے ایک بھیڑ ذبح کرنے کو کہتا تب بھی کافی تھا کیونکہ کتاب اللہ میں ہے کہ ذبیح اللہ کا فدیہ اسی سے دیا گیا تھا۔“ اکثر لوگوں کا یہی قول ہے بعض کہتے ہیں یہ پہاڑی بکرا تھا۔ کوئی کہتا ہے نر ہرن تھا۔ مسند احمد میں ہے کہ { عثمان رضی اللہ عنہ کو بلا کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { میں نے بھیڑ کے سینگ بیت اللہ شریف میں داخلے کے وقت اندر دیکھے تھے اور مجھے یاد نہ رہا کہ میں تجھے ان کے ڈھانک دینے کا حکم دوں، جاؤ اسے ڈھک دو بیت اللہ میں کوئی ایسی چیز نہ ہونی چاہیئے جو نمازی کو اپنی طرف متوجہ کر لے } }۔۱؎ [سنن ابوداود:2030،قال الشيخ الألباني:صحیح] سفیان رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس بھیڑ کے سینگ بیت اللہ میں ہی رہے یہاں تک کہ ایک مرتبہ بیت اللہ میں آگ لگی اس میں وہ جل گئے۔ ۱؎ [سلسلة احادیث صحیحه البانی:23221،] یہ واقعہ بھی اس امر کی دلیل ہے کہ ذبیح اللہ، اسماعیل علیہ السلام تھے اسی وجہ سے ان کی اولاد قریش تک یہ سینگ برابر اور مسلسل چلے آئے یہاں تک کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ نے مبعوث فرمایا۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ ”ان آثار کا بیان جن میں ذبیح اللہ کا نام ہے“ ابومیسرہ فرماتے ہیں یوسف علیہ السلام نے بادشاہ سے فرمایا ”کیا تو میرے ساتھ کھانا چاہتا ہے، میں یوسف بن یعقوب نبی اللہ بن اسحاق ذبیح اللہ بن ابراہیم خلیل اللہ ہوں [ عبید بن عمیر رحمه الله] موسیٰ علیہ السلام نے جناب باری میں عرض کی کہ ”اے اللہ کیا وجہ ہے جو لوگوں کی زبانوں پر یہ چڑھا ہوا ہے کہ ابراہیم، اسمٰعیل اور یعقوب علیہم السلام کے اللہ کی قسم“، تو جواب ملا ’ اس لیے ابراہیم نے تو ہر ہرچیز پر مجھی کو ترجیح دی اور اسحاق علیہ السلام نے اپنے تئیں میری راہ میں ذبح ہونے کے لیے سپرد کر دیا پھر بھلا اور چیزیں اسے پیش کر دینا کیا مشکل تھیں اور یعقوب علیہ السلام کو میں جوں جوں بلاؤں میں ڈالتا گیا اس کے حسن ظنی میرے ساتھ بڑھتی ہی رہی ‘۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے سامنے ایک مرتبہ کسی نے فخراً اپنے باپ دادوں کا نام لیا تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا قابل فخر باپ دادا تو یوسف علیہ السلام کے تھے جو یعقوب بن اسحاق علیہ السلام اور ذبیح اللہ بن ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام تھے۔
عکرمہ، سیدنا ابن عباس، خود سیدنا عباس، سیدنا علی،سعید بن جبیر رضی اللہ عنہم، مجاہد، شعبی، عبید بن عمر، ابومیسرہ، زید بن اسلم، عبداللہ بن شفیق، زہری، قاسم بن ابوبرزہ، محکول، عثمان بن ابی عاص، سدی، حسن، قتادہ، ابو الہذیل، ابن سابط، کعب احبار رحمہم اللہ اجمعین، ان سب کا یہی قول ہے اور ابن جریر رحمہ اللہ بھی اسی کو اختیار کرتے ہیں کہ ذبیح اللہ اسحاق علیہ السلام تھے۔ صحیح علم تو اللہ کو ہی ہے مگر بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ان سب بزرگوں کے استاد کعب احبار رحمہ اللہ ہیں۔ یہ خلافت فاروقی میں مسلمان ہوئے تھے اور کبھی کبھی سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو قدیمی کتابوں کی باتیں سناتے تھے، لوگوں نے اسے رخصت سمجھ کر پھر ان سے ہر ایک بات بیان کرنی شروع کر دی اور صحیح غلط کی تمیز اٹھ گئی حق تو یہ ہے کہ اس امت کو اگلی کتابوں کی ایک بات کی بھی حاجت نہیں۔ بغوی نے کچھ اور نام بھی صحابہ تابعین کے بتلائے ہیں جنہوں نے کہا ہے کہ ذبیح اللہ اسحاق علیہ السلام ہیں۔ ایک مرفوع حدیث میں بھی یہ آیا ہے۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:29495:ضعیف] اگر وہ حدیث صحیح ہوتی تو جھگڑے کا فیصلہ تھا مگر وہ حدیث صحیح نہیں اس میں دو راوی ضعیف ہیں۔ حسن بن دینار متروک ہیں اور علی بن زید بن جدعان منکر الحدیث ہیں اور زیادہ صحیح یہ ہے کہ ہے یہ بھی موقف، چنانچہ ایک سند سے یہ مقولہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کا مروی ہے اور یہی زیادہ ٹھیک ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
اب ان آثار کو سنئے جن سے معلوم ہوتا ہے کہ ذبیح اللہ اسماعیل علیہ السلام ہی تھے اور یہی ٹھیک اور بالکل درست بھی ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما یہی فرماتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ ”یہودی اسحاق علیہ السلام کا نام جھوٹ موٹ لیتے ہیں۔“ ابن عمر رضی اللہ عنہ، مجاہد، شعبی، حسن بصری، محمد بن کعب قرظی، خلیفہ المسلمین عمر ابن عبدالعزیز رحمہ اللہ علیہم کے سامنے جب محمد بن قرظی رحمہ اللہ نے یہ فرمایا اور ساتھ ہی اس کی دلیل بھی دی کہ ”ذبح کے ذکر کے بعد قرآن میں خلیل اللہ علیہ السلام کو اسحاق علیہ السلام کے پیدا ہونے کی بشارت کا ذکر ہے اور ساتھ ہی بیان ہے کہ ان کے ہاں بھی لڑکا ہو گا یعقوب نامی جب ان کے ہاں لڑکا ہونے کی بشارت دی گی تھی پھر باوجود ان کے ہاں لڑکا نہ ہوں کے اس سے پہلے ہی ان کے ذبح کرنے کا حکم کیسے دیا جاتا ہے؟“
تو سیدنا عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے فرمایا ”یہ بہت صاف دلیل ہے میرا ذہن یہاں نہیں پہنچا تھا گو یہ میں بھی جانتا تھا کہ ذبیح اللہ اسماعیل علیہ السلام ہی ہیں۔“ پھر شاہ اسلام نے شام کے ایک یہودی عالم سے پوچھا جو مسلمان ہو گئے تھے کہ تم اس بارے میں کیا علم رکھتے ہو انہوں نے فرمایا امیر المسلمین سچ تو یہی ہے کہ جن کے ذبح کرنے کا حکم دیا گیا وہ اسماعیل علیہ السلام ہی تھے لیکن چونکہ عرب ان کی اولاد میں سے ہیں تو یہ بزرگی ان کی طرف لوٹتی ہے اس حسد کے بارے میں یہودیوں نے اسے بدل دیا اور اسحاق علیہ السلام کا نام لے دیا۔ حقیقی علم اللہ ہی کو ہے ہمارا ایمان ہے کہ اسماعیل، اسحاق علیہم السلام دونوں ہی طاہر و طیب اور اللہ کے سچے فرمانبردار تھے۔ کتاب الزہد میں ہے کہ امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کے صاحبزادے عبداللہ رحمہ اللہ نے اپنے والد سے جب یہ مسئلہ پوچھا تو آپ نے جواب دیا کہ ”ذبح ہونے والے اسماعیل علیہ السلام ہی تھے۔“ علی ابن عمر، ابوالطفیل، سعید بن مسیب، سعید بن جبیر، حسن، مجاہد، شعبی، محمد بن کعب، ابوجعفر محمد بن علی ابوصالح رحمہ اللہ عنہم سے بھی یہی مروی ہے۔
امام بغوی رحمہ اللہ نے اور بھی صحابہ رضی اللہ عنہم اور تابعین کے نام گنوائے ہیں۔ ایک غریب حدیث بھی اسی کی تائید میں مروی ہے اس میں ہے کہ { شام میں امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے سامنے یہ بحث چھڑی کہ ذبیح اللہ کون ہیں؟ تو آپ نے فرمایا خوب ہوا جو یہ معاملہ مجھ جیسے باخبر شخص کے پاس آیا، سنو! ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھے جب ایک شخص آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا اے اللہ کی راہ میں دو ذبح ہونے والوں کی نسل کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم مجھے بھی مال غنیمت میں سے کچھ دلوایئے اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہنس دیئے۔ ایک تو ذبیح اللہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے والد عبداللہ تھے، دوسرے اسمعیل علیہ السلام جن کی نسل میں سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ عبداللہ کے ذبیح اللہ ہونے کا واقعہ یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دادا عبدالمطلب نے جب چاہ زمزم کھودا تو نذر مانی تھی کی اگر یہ کام آسانی سے پورا ہو گیا تو اپنے ایک لڑکے کو راہ اللہ میں ذبح کروں گا جب کام ہو گیا اور قرعہ اندازی کی گئی کہ کس بیٹے کو اللہ کے نام پر ذبح کریں تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے والد عبداللہ کا نام نکلا۔ ان کے ننھیال والوں نے کہا آپ ان کی طرف سے ایک سو اونٹ راہ اللہ ذبح کر دیں چنانچہ وہ ذبح کر دیئے گئے اور اسماعیل علیہ السلام کے ذبیح اللہ ہونے کا واقعہ تو مشہور ہی ہے }۔۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:29530:ضعیف] ابن جریر میں یہ روایت موجود ہے اور مغازی امویہ میں بھی۔
امام ابن جریر رحمہ اللہ نے اسحاق علیہ السلام کے ذبیح اللہ ہونے کی ایک دلیل تو یہ پیش کی یہ کہ جس علیم بچے کی بشارت کا ذکر ہے اس سے مراد اسحاق علیہ السلام ہیں قرآن میں اور جگہ ہے «قَالُوا لَا تَخَفْ وَبَشَّرُوهُ بِغُلَامٍ عَلِيمٍ» ۱؎ [51-الذاريات:28] ، اور یعقوب علیہ السلام کی بشارت کا یہ جواب دیا ہے کہ وہ آپ کے ساتھ چلنے پھرنے کی عمر کو پہنچ گئے تھے اور ممکن ہے کہ یعقوب علیہ السلام کے ساتھ ہی کوئی اور اولاد بھی ہوئی ہو اور کعبتہ اللہ میں سینگوں کی موجودگی کے بارے میں فرماتے ہیں بہت ممکن ہے کہ یہ بلادکنعان سے لا کر یہاں رکھے گئے ہوں۔“ اور بعض لوگوں سے اسحاق علیہ السلام کے نام کی صراحت بھی آئی ہے، لیکن یہ سب باتیں حقیقت سے بہت دور ہیں۔ ہاں اسماعیل علیہ السلام کے ذبیح اللہ ہونے پر محمد بن کعب قرظی رحمہ اللہ کا استدلال بہت صاف اور قوی ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ پہلے ذبیح اللہ اسمعیل علیہ السلام کے تولد ہونے کی بشارت دی گئی تھی یہاں اس کے بعد ان کے بھائی اسحاق علیہ السلام کی بشارت دی جا رہی ہے۔ سورۃ ہود اور سورۃ الحجر میں بھی اس کا ذکر گذر چکا ہے۔ «نبیاً» حال مقدرہ ہے یعنی وہ نبی صالح ہو گا۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ذبیح اللہ اسحاق علیہ السلام تھے اور یہاں نبوت اسحاق علیہ السلام کو بشارت ہے۔ جیسے موسیٰ علیہ السلام کے بارے میں فرمان ہے کہ ’ ہم نے انہیں اپنی رحمت سے ان کے بھائی ہارون کو نبی بنا دیا ‘۔ حالانکہ ہارون علیہ السلام موسیٰ علیہ السلام سے بڑے تھے تو یہاں بھی ان کی نبوت کی بشارت ہے۔ پس یہ بشارت اس وقت دی گئی جبکہ امتحان ذبح میں وہ صابر ثابت ہوئے۔ یہ بھی مروی ہے کہ یہ بشارت دو مرتبہ دی گئی پیدائش سے کچھ قبل اور نبوت سے کچھ قبل۔
حضرت قتادہ رحمہ اللہ سے بھی یہی مروی ہے۔ ’ ان پر اور اسحاق علیہ السلام پر ہماری برکتیں ہم نے نازل فرمائیں، ان کی اولاد میں ہر قسم کے لوگ ہیں نیک بھی بد بھی ‘۔ جیسے نوح علیہ السلام سے فرمان ہوا تھا کہ «قِيلَ يَا نُوحُ اهْبِطْ بِسَلَامٍ مِّنَّا وَبَرَكَاتٍ عَلَيْكَ وَعَلَىٰ أُمَمٍ مِّمَّن مَّعَكَ وَأُمَمٌ سَنُمَتِّعُهُمْ ثُمَّ يَمَسُّهُم مِّنَّا عَذَابٌ أَلِيمٌ» ’ اے نوح ہماری سلام اور برکت کے ساتھ تواتر۔ تو بھی اور تیرے ساتھ والے بھی اور ایسے بھی لوگ ہیں جنہیں ہم فائدے پہنچائیں گے پھر انہیں ہماری طرف سے درد ناک عذاب پہنچیں گے ‘۔۱؎ [11-هود:48]
11۔ 1 حَلِیْمٍ کہہ کر اشارہ فرما دیا کہ بچہ بڑا ہو کر بردبار ہوگا۔
(آیت 101) {فَبَشَّرْنٰهُ بِغُلٰمٍ حَلِيْمٍ:} یعنی ہم نے ان کی دعا قبول کی اور انھیں ایک بہت حلم والے لڑکے کی بشارت دی۔ حلم میں صبر، حسنِ خلق، حوصلے کی وسعت اور زیادتی کرنے والوں سے درگزر شامل ہے۔ عموماً اس کا ترجمہ بردباری کیا جاتا ہے۔ یہ بیٹا اسماعیل علیہ السلام تھا۔ ابراہیم علیہ السلام نے یا تو یہ دعا کافی عمر ہونے کے بعد کی، یا ان کی دعا اور اس کی قبولیت میں کئی سال کا وقفہ ہوا، کیونکہ انھوں نے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہوئے کہا: «اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِيْ وَهَبَ لِيْ عَلَى الْكِبَرِ اِسْمٰعِيْلَ وَ اِسْحٰقَ» [ إبراہیم: ۳۹ ] ”سب تعریف اس اللہ کی ہے جس نے مجھے بڑھاپے کے باوجود اسماعیل اور اسحاق عطا کیے۔“ ابراہیم علیہ السلام نے اسماعیل علیہ السلام اور ان کی والدہ کو وادی غیر ذی زرع (مکہ) میں چھوڑا، جہاں اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے آب زم زم مہیا فرمایا اور قبیلہ بنو جرہم کو لابسایا۔
وہ لڑکا جب اس کے ساتھ دوڑ دھوپ کرنے کی عمر کو پہنچ گیا تو (ایک روز) ابراہیمؑ نے اس سے کہا، "بیٹا، میں خواب میں دیکھتا ہوں کہ میں تجھے ذبح کر رہا ہوں، اب تو بتا، تیرا کیا خیال ہے؟" اُس نے کہا، "ابا جان، جو کچھ آپ کو حکم دیا جا رہا ہے اسے کر ڈالیے، آپ انشاءاللہ مجھے صابروں میں سے پائیں گے"
مولانا محمد جوناگڑھی
پھر جب وه (بچہ) اتنی عمر کو پہنچا کہ اس کے ساتھ چلے پھرے، تو اس (ابراہیم علیہ السلام) نے کہا میرے پیارے بچے! میں خواب میں اپنے آپ کو تجھے ذبح کرتے ہوئے دیکھ رہا ہوں۔ اب تو بتا کہ تیری کیا رائے ہے؟ بیٹے نے جواب دیا کہ ابا! جو حکم ہوا ہے اسے بجا ﻻئیے انشاءاللہ آپ مجھے صبر کرنے والوں میں سے پائیں گے
احمد رضا خان بریلوی
پھر جب وہ اس کے ساتھ کام کے قابل ہوگیا کہا اے میرے بیٹے میں نے خواب دیکھا میں تجھے ذبح کرتا ہوں اب تو دیکھ تیری کیا رائے ہے کہا اے میرے باپ کی جیئے جس بات کا آپ کو حکم ہوتا ہے، خدا نے چاہتا تو قریب ہے کہ آپ مجھے صابر پائیں گے،
علامہ محمد حسین نجفی
پس جب وہ لڑکا آپ کے ساتھ چلنے پھرنے کے قابل ہوا تو آپ(ع) نے فرمایا (اے بیٹا) میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ میں تمہیں ذبح کر رہا ہوں تم غور کرکے بتاؤ کہ تمہاری رائے کیا ہے؟ عرض کیا بابا جان! آپ کو جو حکم دیا گیا ہے وہ بجا لائیے اللہ نے چاہا تو آپ مجھے صبر کرنے والوں میں سے پائیں گے۔
عبدالسلام بن محمد
پھر جب وہ اس کے ساتھ دوڑ د ھوپ کی عمر کو پہنچ گیا تو اس نے کہا اے میرے چھوٹے بیٹے! بلاشبہ میں خواب میں دیکھتا ہوں کہ میں تجھے ذبح کر رہا ہوں، تو دیکھ تو کیا خیال کرتا ہے ؟ اس نے کہا اے میرے باپ! تجھے جو حکم دیا جا رہا ہے کر گزر، اگر اللہ نے چاہا تو تو ضرور مجھے صبر کرنے والوں میں سے پائے گا ۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
ذبیح اللہ کی بحث اور یہودی روایات ٭٭
خلیل اللہ علیہ السلام جب اپنی قوم کی ہدایت سے مایوس ہو گئے، بڑی بڑی قدرتی نشانیاں دیکھ کر بھی جب انہیں ایمان نصیب نہ ہوا تو آپ علیہ السلام نے ان سے ہٹ جانا پسند فرمایا اور اعلان کر دیا کہ میں اب تم میں سے ہجرت کرجاؤں گا میرا رہنما میرا رب ہے۔ ساتھ ہی اپنے رب سے اپنے ہاں اولاد ہونے کی دعا مانگی تاکہ وہی توحید میں آپ علیہ السلام کا ساتھ دے۔ اسی وقت دعا قبول ہوتی ہے اور ایک بردبار بچے کی بشارت دی جاتی۔ یہ اسماعیل علیہ السلام تھے یہی آپ علیہ السلام کے لیے صاحبزادے تھے اور اسحاق علیہ السلام سے بڑے تھے۔ اسے تو اہل کتاب بھی مانتے ہیں بلکہ ان کی کتب میں موجود ہے کہ اسماعیل علیہ السلام کی پیدائش کے وقت ابراہیم علیہ السلام کی عمر چھیاسی سال کی تھی اور جس وقت اسحاق علیہ السلام تولد ہوتے ہیں اس وقت آپ علیہ السلام کی عمر ننانوے برس کی تھی۔ بلکہ ان کی اپنی کتاب میں تو یہ بھی ہے کہ جناب ابراہیم علیہ السلام کو اپنے اکلوتے فرزند کو ذبح کرنے کا حکم ہوا تھا۔ لیکن صرف اس لیے کہ یہ لوگ خود تو نبی اللہ اسحاق علیہ السلام کی اولاد میں سے ہیں اور نبی اللہ و ذبیح اللہ اسماعیل علیہ السلام کی اولاد میں سے عرب ہیں۔ انہی نے واقعہ کی اصلیت بدل دی اور اس فضیلت کو اسماعیل علیہ السلام سے ہٹاکر اسحاق علیہ السلام کو دے دیا اور بے جا تاویلیں کرتے اللہ کے کلام کو بدل ڈالا، اور کہا ہماری کتاب میں لفظ «وَحِیْدَكَ» ہے اس سے مراد اکلوتا نہیں بلکہ جو تیرے پاس اس وقت اکیلا ہے وہ ہے۔ یہ اس لیے کہ اسماعیل تو اپنی والدہ کے ساتھ مکے میں تھے یہاں خلیل اللہ کے ساتھ صرف اسحاق تھے۔ لیکن یہ بالکل غلط ہے۔ وحید اسی کو کہا جاتا ہے جو اکلوتا ہو اس کا اور کوئی بھائی نہ ہو۔ پھر یہاں ایک بات اور بھی ہے کہ اکلوتے اور پہلوٹھی کے بچے کے ساتھ جو محبت ہوتی اور اس کے جو لاڈ پیار ہوتے ہیں عموماً دوسری اولاد کے ہونے پر پھر وہ باقی نہیں رہتے۔ اس لیے اس کے ذبیحہ کا حکم امتحان اور آزمائش کی زبردست کڑی ہے۔
ہم اسے مانتے ہیں کہ بعض سلف بھی اس کے قائل ہوئے ہیں کہ ذبیح اللہ اسحاق علیہ السلام تھے، یہاں تک کہ بعض صحابہ رضی اللہ عنہم سے بھی یہ مروی ہے لیکن یہ چیز کتاب و سنت سے ثابت نہیں ہوتی۔ بلکہ خیال یہ ہے کہ بنو اسرائیل کی ایک شہرت دی ہوئی بات کو ان حضرات نے بھی بے دلیل اپنے ہاں لے لیا۔ دور کیوں جائیں کتاب اللہ کے الفاظ میں ہی غور کر لیجئیے کہ اسمٰعیل علیہ السلام کی بشارت کا ”غلام حلیم“ کہہ کر ذکر ہوا اور پھر اللہ کی راہ میں ذبح کے لیے تیار ہونے کا ذکر ہوا۔ اس تمام بیان کو ختم کر کے پھر نبی صالح اسحاق علیہ السلام کے تولد کی بشارت کا بیان ہوا۔ اور فرشتوں نے بشارت اسحاق کے موقع پر ”غلام علیم“ فرمایا تھا۔ اسی طرح قرآن میں ہے بشارت اسحاق علیہ السلام کے ساتھ ہی ہے «وَمِنْ وَّرَاءِ اِسْحٰقَ يَعْقُوْبَ» ۱؎ [11-ھود:71] یعنی ’ ابراہیم کی حیات میں ہی اسحاق کے ہاں یعقوب پیدا ہوں گے ‘، یعنی ان کی تو نسل جاری رہنے کا پہلے ہی علم کرایا جا چکا تھا اب انہیں ذبح کرنے کا حکم کیسے دیا جاتا؟ اسے ہم پہلے بھی بیان کر چکے۔ البتہ اسماعیل علیہ السلام کا وصف یہاں پر بردباری کا بیان کیا گیا ہے۔ جو ذبیح کے لیے نہایت مناسب ہے۔
اب اسماعیل علیہ السلام بڑے ہو گئے اپنے والد کے ساتھ چلنے پھرنے کے قابل ہو گئے۔ آپ علیہ السلام اس وقت مع اپنی والدہ محترمہ کے فاران میں تھے ابراہیم علیہ السلام عموماً وہاں جاتے آتے رہتے تھے یہ مذکور ہے کہ براق پر جاتے تھے اور اس جملے کے یہ معنی بھی ہیں کہ جوانی کے لگ بھگ ہو گئے لڑکپن کا زمانہ نکل گیا اور باپ کی طرح چلنے پھرنے کام کاج کرنے کے قابل بن گئے تو ابراہیم علیہ السلام نے خواب دیکھا کہ گویا آپ علیہ السلام اپنے پیارے بچے کو ذبح کر رہے ہیں۔ انبیاء کے خواب وحی ہوتے ہیں اور اس کی دلیل یہی آیت ہے۔ ایک مرفوع روایت میں بھی یہ ہے۔ ۱؎ [صحیح بخاری:138] پس اللہ کے رسول علیہ السلام نے اپنے لخت جگر کی آزمائش کے لیے کہ اچانک وہ گھبرا نہ اٹھے، اپنا ارادہ ان کے سامنے ظاہر کیا۔ وہاں کیا تھا۔ وہ بھی اسی درخت کے پھل تھے نبی ابن نبی علیہ السلام تھے جواب دیتے ہیں اب پھر دیر کیوں لگا رہے ہو یہ باتیں بھی پوچھنے کی ہوتی ہیں جو حکم ہوا ہے اسے فوراً کر ڈالیے اور اگر میری نسبت کھٹکا ہو تو زبانی اطمینانی کیا کروں چھری رکھئے خود معلوم ہو جائے گا کہ میں کیسا کچھ صابر ہوں۔ ان شاءاللہ میرا صبر آپ کا جی خوش کر دے گا۔ سبحان اللہ جو کہا تھا وہی کر کے دکھایا اور صادق الوعد ہونے کا سرٹیفیکیٹ اللہ کی طرف سے حاصل کر ہی لیا۔ آخر باپ بیٹا دونوں حکم اللہ کی اطاعت کے لیے جان بکف تیار ہو جاتے ہیں باپ بچے کو ذبح کرنے کے لیے تیار ہو جاتا ہے۔ اور باپ اپنے نور چشم لخت جگر کو منہ کے بل زمین پر گراتے ہیں تاکہ ذبح کے وقت منہ دیکھ کر محبت نہ آ جائے اور ہاتھ سست نہ پڑ جائے۔
مسند احمد میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ”جب ابراہیم علیہ السلام اپنی نور نظر کو ذبح کرنے کے لیے بحکم اللہ لے چلے تو سعی کے وقت شیطان سامنے آیا لیکن ابراہیم علیہ السلام اس سے آگے بڑھ گئے، پھر جبرائیل علیہ السلام کے ساتھ آپ جمرہ عقبہ پر پہنچے تو پھر شیطان سامنے آیا، آپ علیہ السلام نے اسے سات کنکریاں ماریں۔“ ”پھر جمرہ وسطی پاس آیا پھر وہاں سات کنکریاں ماریں۔ پھر آگے بڑھ کر اپنے پیارے بچے کو اللہ کے نام پر ذبح کرنے کے لیے نیچے پچھاڑا، ذبیح اللہ کے پاک جسم پر اس وقت سفید چادر تھی کہنے لگے ابا جی اسے اتار لیجئیے تاکہ اس میں آپ مجھے کفنا سکیں۔ اس وقت بیٹے کو ننگا کرتے وقت باپ کا عجب حال تھا کہ آواز آئی بس ابراہیم خواب کو سچا کر چکے۔ مڑ کر دیکھا تو ایک مینڈا سفید رنگ کا بڑے بڑے سینگوں اور صاف آنکھوں والا نظر پڑا، ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں اسی لیے ہم اس قسم کے مینڈے (چھترے) چن چن کر قربانی کے لیے لیتے تھے۔“
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما ہی سے دوسری روایت میں اسحاق علیہ السلام کا نام مروی ہے۔ تو گو دونوں نام آپ رضی اللہ عنہما سے مروی ہیں لیکن اول ہی اولیٰ ہے اور اس کی دلیلیں آ رہی ہیں۔ ان شاءاللہ تعالیٰ۔ اس کے بدلے بڑا ذبیحہ، اللہ نے عطا فرمایا اس کی بابت سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”یہ جنتی چھترا تھا جو وہاں چالیس سال سے کھا پی رہا تھا۔“ اسے دیکھ کر آپ علیہ السلام اپنے بچے کو چھوڑ کر اس کے پیچھے ہولیے۔ جمرہ اولیٰ پر آ کر سات کنکریاں پھنکیں پھر وہ بھاگ کر جمرہ وسطی پر آ گیا۔ سات کنکریاں ماریں اور وہاں سے ملخر میں لا کر ذبح کیا اس کے سینگ سر سمیت ابتداء اسلام کے زمانہ تک کعبے کے پرنالے کے پاس لٹکتے رہے تھے پھر سوکھ گئے۔ ایک مرتبہ سیدنا کعب رضی اللہ عنہ بیٹھے ہوئے باتیں کر رہے تھے۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ تو حدیثیں بیان کر رہے تھے اور کعب رضی اللہ عنہ کتاب کے قصے بیان کر رہے تھے۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ { ہر نبی کے لیے ایک دعا قبول شدہ ہے اور میں نے اپنی اس مقبول دعا کو پوشیدہ کر کے رکھ چھوڑا ہے اپنی امت کی شفاعت کے لئے جو بروز قیامت ہوگی}، تو سیدنا کعب رضی اللہ عنہ نے فرمایا تم نے خود اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے؟ فرمایا ہاں۔ سیدنا کعب رضی اللہ عنہ خوش ہوئے اور فرمانے لگے تم پر میرے ماں باپ فدا ہوں یا فرمایا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر میرے ماں باپ صدقے جائیں۔
پھر کعب رضی اللہ عنہ نے ابراہیم خلیل علیہ السلام کا قصہ سنایا کہ جب آپ علیہ السلام اپنے لڑکے اسمٰعیل علیہ السلام کو ذبح کرنے کے لیے مستعد ہو گئے تو شیطان نے کہا اگر میں اس وقت انہیں نہ بہکا سکا تو مجھے ان سے عمر بھر کے لیے مایوس ہو جانا چاہیئے۔ پہلے تو یہ سارہ رضی اللہ عنہا کے پاس آیا اور پوچھا کہ ابراہیم علیہ السلام تمہارے لڑکے کو کہاں لے گئے ہیں؟ مائی صاحبہ رضی اللہ عنہا نے جواب دیا اپنے کسی کام پر لے گئے ہیں، اس نے کہا نہیں بلکہ وہ ذبح کرنے کے لیے لے گئے ہیں۔ مائی صاحبہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا وہ اسے کیوں ذبح کرنے لگے؟ لعین نے کہا وہ کہتے ہیں اللہ کی طرف سے یہی حکم ہے جواب ملا پھر تو یہی بہتر ہے کہ وہ جلدی سے اللہ کے حکم کی بجا آوری سے فارغ ہو لیں۔ یہاں سے نامراد ہو کر بچے کے پاس آیا اور کہا تمہارے ابا تمہیں کہاں لے جاتے ہیں؟ فرمایا اپنے کام کے لیے کہا نہیں بلکہ وہ تجھے ذبح کرنے کے لیے لے جا رہے ہیں، فرمایا یہ کیوں؟ کہا اس لیے کہ وہ سمجھتے ہیں اللہ کا انہیں حکم ہے۔ کہا پھر تو واللہ انہیں اس کام میں بہت جلدی کرنی چاہیئے۔ ان سے بھی مایوس ہو کر یہ ملعون خلیل اللہ علیہ السلام کے پاس پہنچا۔ ان سے کہا بچے کو کہاں لے جا رہے ہو؟ جواب دیا اپنے کام کے لیے ملعون نے کہا نہیں بلکہ تم تو اسے ذبح کرنے کے لیے جا رہے ہو؟ آپ علیہ السلام نے فرمایا یہ کیوں؟ بولا اس لیے کہ تمہارا خیال ہے کہ اللہ کا حکم تمہیں یونہی ہے، آپ علیہ السلام نے فرمایا اللہ کی قسم پھر تو میں ضرور ہی اسے ذبح کر ڈالوں گا۔ اب ابلیس مایوس ہو گیا۔۱؎ [عبد الرزاق فی المصنف:20864:صحیح]
دوسری روایت میں یہ بھی ہے کہ اس تمام واقعے کے بعد جناب باری تعالیٰ نے اسحاق علیہ السلام سے فرمایا کہ ’ ایک دعا تم مجھ سے مانگو جو مانگو گے ملے گا ‘۔ اسحاق علیہ السلام نے کہا ”پھر میری دعا یہ ہے کہ جس نے تیرے ساتھ شریک نہ کیا ہو اسے تو ضرور جنت میں لے جانا۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے { اللہ تعالیٰ نے مجھے اختیار دیا کہ میں دو باتوں میں سے ایک کو اختیار کر لوں یا تو یہ کہ میری آدھوں آدھ امت بخشی جائے یا یہ کہ میں شفاعت کروں اور اسے اللہ تعالیٰ قبول فرما لے تو میں نے شفاعت کرنے کو ترجیح دی اس پر کہ وہ عام ہو گی، ہاں ایک دعا تھی کہ میں وہی کرتا لیکن اللہ کا ایک نیک بندہ مجھ سے پہلے اس دعا کو مانگ چکا تھا }۔ واقعہ یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے اسحاق علیہ السلام سے ذبح ہونے کی تکلیف دور کر دی تو ان سے فرمایا گیا کہ ’ تو مانگ جو مانگے گا دیا جائے گا ‘۔ تو اسحاق علیہ السلام نے فرمایا ”واللہ شیطان کے بہکانے سے پہلے ہی میں اسے مانگ لوں گا، اللہ جو شخص اس حالت میں مرا ہو کہ اس نے تیرے ساتھ کسی کو شریک نہ کیا ہو تو اسے بخش دے اور جنت میں پہنچا دے۔“ ۱؎ [الدر المنشور للسیوطی:531/5:ضعیف] یہ حدیث ابن ابی حاتم میں ہے لیکن سنداً غریب اور منکر ہے اور اس کے ایک راوی عبدالرحمٰن بن زید بن اسلم ضعیف ہیں اور مجھے تو یہ بھی ڈر ہے کہ یہ الفاظ کہ (جب اللہ تعالیٰ نے اسحاق علیہ السلام سے) آخر تک راوی اپنے نہ ہوں جنہیں انہوں نے حدیث میں داخل کر دئیے ہیں۔
ذبیح اللہ تو اسماعیل علیہ السلام ہیں، محل ذبح منیٰ ہے اور وہ مکے میں ہے اور اسماعیل علیہ السلام یہیں تھے نہ کہ اسحاق علیہ السلام وہ تو شہر کنعان میں تھے جو شام ہے۔ جب ابراہیم علیہ السلام اپنے پیارے بچے کو ذبح کرنے کے لیے لٹا دیتے ہیں جناب باری سے ندا آتی ہے کہ ’ بس ابراہیم علیہ السلام تم اپنے خواب کو پورا کر چکے ‘۔ سدی رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ”جب خلیل اللہ علیہ السلام نے ذبیح اللہ علیہ السلام کے حلق پر چھری پھیری تو گردن تانبے کی ہو گئے اور نہ کٹی اور یہ آواز آئی۔“
ہم اسی طرح نیک کاروں کو بدلہ دیتے ہیں۔ یعنی سختیوں سے بچا لیتے ہیں اور چھٹکارا کر دیتے ہیں۔ جیسے فرمایا ’ اللہ سے ڈرتے رہنے والوں کے لیے اللہ تعالیٰ چھٹکارے کی صورت نکال ہی دیتا ہے اور اسے ایسی طرح روزی پہنچاتا ہے کہ اس کے گمان و وہم میں بھی نہ ہو۔ اللہ پر بھروسہ کرنے والوں کو اللہ ہی کافی ہے اللہ اپنے کاموں کو مکمل کر کے چھوڑتا ہے ہرچیز کا اس نے ایک اندازہ مقرر کر رکھا ہے ‘۔ اس آیت سے اس پر استدلال کیا گیا ہے کہ فعل پر قدرت پانے سے پہلے ہی حکم منسوخ ہو سکتا ہے۔
ہاں معتزلہ اسے نہیں مانتے۔ وجہ استدلال بہت ظاہر ہے اس لیے کہ خلیل اللہ علیہ السلام کو اپنے بیٹے کے ذبح کرنے کا حکم ہوتا ہے اور پھر ذبح سے پہلے ہی فدئیے کے ساتھ منسوخ کر دیا جاتا ہے۔ مقصود اس سے یہ تھا کہ صبر کا اور بجا آوری حکم پر مستعدی کا ثواب مرحمت فرما دیا جائے۔ اسی لیے ارشاد ہوا ’ یہ تو صرف ایک آزمائش تھی کھلا امتحان تھا کہ ادھر حکم ہوا ادھر تیاری ہوئی ‘۔ اسی لیے جناب خلیل اللہ علیہ السلام کی تعریف میں قرآن میں ہے ’ ابراہیم بڑا ہی وفادار تھا۔ بڑے ذبیح کے ساتھ ان کا فدیہ ہم نے دیا ‘۔ سفید رنگ بڑی آنکھوں اور بڑے سینگوں والا عمدہ خوراک سے پلا ہوا منیڈھا فدئیے میں دیا گیا جو ثبیر ببول کے درخت سے بندھا ہوا ملا۔ جو جنت میں چالیس سال چرتا رہا۔ منیٰ میں ثبیر کے پاس جو چٹان ہے اس پر یہ جانور ذبح کیا گیا یہ چیختا ہوا اوپر سے اترا تھا۔ یہی وہ مینڈھا ہے جسے ہابیل نے اللہ کی راہ میں قربان کیا تھا۔ اس کی اون قدرے سرخی مائل تھی اس کا نام جریر تھا۔ بعض کہتے ہیں مقام ابراہیم پر اسے ذبح کیا۔ کوئی کہتا ہے مٹی میں نحر پر۔ ایک شخص نے اپنے تئیں راہ اللہ میں ذبح کرنے کی منت مانی تھی تو سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اسے ایک سو اونٹ ذبح کرنے کا فتویٰ دیا تھا لیکن پھر فرماتے تھے کہ ”اگر میں اسے ایک بھیڑ ذبح کرنے کو کہتا تب بھی کافی تھا کیونکہ کتاب اللہ میں ہے کہ ذبیح اللہ کا فدیہ اسی سے دیا گیا تھا۔“ اکثر لوگوں کا یہی قول ہے بعض کہتے ہیں یہ پہاڑی بکرا تھا۔ کوئی کہتا ہے نر ہرن تھا۔ مسند احمد میں ہے کہ { عثمان رضی اللہ عنہ کو بلا کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { میں نے بھیڑ کے سینگ بیت اللہ شریف میں داخلے کے وقت اندر دیکھے تھے اور مجھے یاد نہ رہا کہ میں تجھے ان کے ڈھانک دینے کا حکم دوں، جاؤ اسے ڈھک دو بیت اللہ میں کوئی ایسی چیز نہ ہونی چاہیئے جو نمازی کو اپنی طرف متوجہ کر لے } }۔۱؎ [سنن ابوداود:2030،قال الشيخ الألباني:صحیح] سفیان رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس بھیڑ کے سینگ بیت اللہ میں ہی رہے یہاں تک کہ ایک مرتبہ بیت اللہ میں آگ لگی اس میں وہ جل گئے۔ ۱؎ [سلسلة احادیث صحیحه البانی:23221،] یہ واقعہ بھی اس امر کی دلیل ہے کہ ذبیح اللہ، اسماعیل علیہ السلام تھے اسی وجہ سے ان کی اولاد قریش تک یہ سینگ برابر اور مسلسل چلے آئے یہاں تک کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ نے مبعوث فرمایا۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ ”ان آثار کا بیان جن میں ذبیح اللہ کا نام ہے“ ابومیسرہ فرماتے ہیں یوسف علیہ السلام نے بادشاہ سے فرمایا ”کیا تو میرے ساتھ کھانا چاہتا ہے، میں یوسف بن یعقوب نبی اللہ بن اسحاق ذبیح اللہ بن ابراہیم خلیل اللہ ہوں [ عبید بن عمیر رحمه الله] موسیٰ علیہ السلام نے جناب باری میں عرض کی کہ ”اے اللہ کیا وجہ ہے جو لوگوں کی زبانوں پر یہ چڑھا ہوا ہے کہ ابراہیم، اسمٰعیل اور یعقوب علیہم السلام کے اللہ کی قسم“، تو جواب ملا ’ اس لیے ابراہیم نے تو ہر ہرچیز پر مجھی کو ترجیح دی اور اسحاق علیہ السلام نے اپنے تئیں میری راہ میں ذبح ہونے کے لیے سپرد کر دیا پھر بھلا اور چیزیں اسے پیش کر دینا کیا مشکل تھیں اور یعقوب علیہ السلام کو میں جوں جوں بلاؤں میں ڈالتا گیا اس کے حسن ظنی میرے ساتھ بڑھتی ہی رہی ‘۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے سامنے ایک مرتبہ کسی نے فخراً اپنے باپ دادوں کا نام لیا تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا قابل فخر باپ دادا تو یوسف علیہ السلام کے تھے جو یعقوب بن اسحاق علیہ السلام اور ذبیح اللہ بن ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام تھے۔
عکرمہ، سیدنا ابن عباس، خود سیدنا عباس، سیدنا علی،سعید بن جبیر رضی اللہ عنہم، مجاہد، شعبی، عبید بن عمر، ابومیسرہ، زید بن اسلم، عبداللہ بن شفیق، زہری، قاسم بن ابوبرزہ، محکول، عثمان بن ابی عاص، سدی، حسن، قتادہ، ابو الہذیل، ابن سابط، کعب احبار رحمہم اللہ اجمعین، ان سب کا یہی قول ہے اور ابن جریر رحمہ اللہ بھی اسی کو اختیار کرتے ہیں کہ ذبیح اللہ اسحاق علیہ السلام تھے۔ صحیح علم تو اللہ کو ہی ہے مگر بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ان سب بزرگوں کے استاد کعب احبار رحمہ اللہ ہیں۔ یہ خلافت فاروقی میں مسلمان ہوئے تھے اور کبھی کبھی سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو قدیمی کتابوں کی باتیں سناتے تھے، لوگوں نے اسے رخصت سمجھ کر پھر ان سے ہر ایک بات بیان کرنی شروع کر دی اور صحیح غلط کی تمیز اٹھ گئی حق تو یہ ہے کہ اس امت کو اگلی کتابوں کی ایک بات کی بھی حاجت نہیں۔ بغوی نے کچھ اور نام بھی صحابہ تابعین کے بتلائے ہیں جنہوں نے کہا ہے کہ ذبیح اللہ اسحاق علیہ السلام ہیں۔ ایک مرفوع حدیث میں بھی یہ آیا ہے۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:29495:ضعیف] اگر وہ حدیث صحیح ہوتی تو جھگڑے کا فیصلہ تھا مگر وہ حدیث صحیح نہیں اس میں دو راوی ضعیف ہیں۔ حسن بن دینار متروک ہیں اور علی بن زید بن جدعان منکر الحدیث ہیں اور زیادہ صحیح یہ ہے کہ ہے یہ بھی موقف، چنانچہ ایک سند سے یہ مقولہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کا مروی ہے اور یہی زیادہ ٹھیک ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
اب ان آثار کو سنئے جن سے معلوم ہوتا ہے کہ ذبیح اللہ اسماعیل علیہ السلام ہی تھے اور یہی ٹھیک اور بالکل درست بھی ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما یہی فرماتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ ”یہودی اسحاق علیہ السلام کا نام جھوٹ موٹ لیتے ہیں۔“ ابن عمر رضی اللہ عنہ، مجاہد، شعبی، حسن بصری، محمد بن کعب قرظی، خلیفہ المسلمین عمر ابن عبدالعزیز رحمہ اللہ علیہم کے سامنے جب محمد بن قرظی رحمہ اللہ نے یہ فرمایا اور ساتھ ہی اس کی دلیل بھی دی کہ ”ذبح کے ذکر کے بعد قرآن میں خلیل اللہ علیہ السلام کو اسحاق علیہ السلام کے پیدا ہونے کی بشارت کا ذکر ہے اور ساتھ ہی بیان ہے کہ ان کے ہاں بھی لڑکا ہو گا یعقوب نامی جب ان کے ہاں لڑکا ہونے کی بشارت دی گی تھی پھر باوجود ان کے ہاں لڑکا نہ ہوں کے اس سے پہلے ہی ان کے ذبح کرنے کا حکم کیسے دیا جاتا ہے؟“
تو سیدنا عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے فرمایا ”یہ بہت صاف دلیل ہے میرا ذہن یہاں نہیں پہنچا تھا گو یہ میں بھی جانتا تھا کہ ذبیح اللہ اسماعیل علیہ السلام ہی ہیں۔“ پھر شاہ اسلام نے شام کے ایک یہودی عالم سے پوچھا جو مسلمان ہو گئے تھے کہ تم اس بارے میں کیا علم رکھتے ہو انہوں نے فرمایا امیر المسلمین سچ تو یہی ہے کہ جن کے ذبح کرنے کا حکم دیا گیا وہ اسماعیل علیہ السلام ہی تھے لیکن چونکہ عرب ان کی اولاد میں سے ہیں تو یہ بزرگی ان کی طرف لوٹتی ہے اس حسد کے بارے میں یہودیوں نے اسے بدل دیا اور اسحاق علیہ السلام کا نام لے دیا۔ حقیقی علم اللہ ہی کو ہے ہمارا ایمان ہے کہ اسماعیل، اسحاق علیہم السلام دونوں ہی طاہر و طیب اور اللہ کے سچے فرمانبردار تھے۔ کتاب الزہد میں ہے کہ امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کے صاحبزادے عبداللہ رحمہ اللہ نے اپنے والد سے جب یہ مسئلہ پوچھا تو آپ نے جواب دیا کہ ”ذبح ہونے والے اسماعیل علیہ السلام ہی تھے۔“ علی ابن عمر، ابوالطفیل، سعید بن مسیب، سعید بن جبیر، حسن، مجاہد، شعبی، محمد بن کعب، ابوجعفر محمد بن علی ابوصالح رحمہ اللہ عنہم سے بھی یہی مروی ہے۔
امام بغوی رحمہ اللہ نے اور بھی صحابہ رضی اللہ عنہم اور تابعین کے نام گنوائے ہیں۔ ایک غریب حدیث بھی اسی کی تائید میں مروی ہے اس میں ہے کہ { شام میں امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے سامنے یہ بحث چھڑی کہ ذبیح اللہ کون ہیں؟ تو آپ نے فرمایا خوب ہوا جو یہ معاملہ مجھ جیسے باخبر شخص کے پاس آیا، سنو! ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھے جب ایک شخص آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا اے اللہ کی راہ میں دو ذبح ہونے والوں کی نسل کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم مجھے بھی مال غنیمت میں سے کچھ دلوایئے اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہنس دیئے۔ ایک تو ذبیح اللہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے والد عبداللہ تھے، دوسرے اسمعیل علیہ السلام جن کی نسل میں سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ عبداللہ کے ذبیح اللہ ہونے کا واقعہ یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دادا عبدالمطلب نے جب چاہ زمزم کھودا تو نذر مانی تھی کی اگر یہ کام آسانی سے پورا ہو گیا تو اپنے ایک لڑکے کو راہ اللہ میں ذبح کروں گا جب کام ہو گیا اور قرعہ اندازی کی گئی کہ کس بیٹے کو اللہ کے نام پر ذبح کریں تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے والد عبداللہ کا نام نکلا۔ ان کے ننھیال والوں نے کہا آپ ان کی طرف سے ایک سو اونٹ راہ اللہ ذبح کر دیں چنانچہ وہ ذبح کر دیئے گئے اور اسماعیل علیہ السلام کے ذبیح اللہ ہونے کا واقعہ تو مشہور ہی ہے }۔۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:29530:ضعیف] ابن جریر میں یہ روایت موجود ہے اور مغازی امویہ میں بھی۔
امام ابن جریر رحمہ اللہ نے اسحاق علیہ السلام کے ذبیح اللہ ہونے کی ایک دلیل تو یہ پیش کی یہ کہ جس علیم بچے کی بشارت کا ذکر ہے اس سے مراد اسحاق علیہ السلام ہیں قرآن میں اور جگہ ہے «قَالُوا لَا تَخَفْ وَبَشَّرُوهُ بِغُلَامٍ عَلِيمٍ» ۱؎ [51-الذاريات:28] ، اور یعقوب علیہ السلام کی بشارت کا یہ جواب دیا ہے کہ وہ آپ کے ساتھ چلنے پھرنے کی عمر کو پہنچ گئے تھے اور ممکن ہے کہ یعقوب علیہ السلام کے ساتھ ہی کوئی اور اولاد بھی ہوئی ہو اور کعبتہ اللہ میں سینگوں کی موجودگی کے بارے میں فرماتے ہیں بہت ممکن ہے کہ یہ بلادکنعان سے لا کر یہاں رکھے گئے ہوں۔“ اور بعض لوگوں سے اسحاق علیہ السلام کے نام کی صراحت بھی آئی ہے، لیکن یہ سب باتیں حقیقت سے بہت دور ہیں۔ ہاں اسماعیل علیہ السلام کے ذبیح اللہ ہونے پر محمد بن کعب قرظی رحمہ اللہ کا استدلال بہت صاف اور قوی ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ پہلے ذبیح اللہ اسمعیل علیہ السلام کے تولد ہونے کی بشارت دی گئی تھی یہاں اس کے بعد ان کے بھائی اسحاق علیہ السلام کی بشارت دی جا رہی ہے۔ سورۃ ہود اور سورۃ الحجر میں بھی اس کا ذکر گذر چکا ہے۔ «نبیاً» حال مقدرہ ہے یعنی وہ نبی صالح ہو گا۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ذبیح اللہ اسحاق علیہ السلام تھے اور یہاں نبوت اسحاق علیہ السلام کو بشارت ہے۔ جیسے موسیٰ علیہ السلام کے بارے میں فرمان ہے کہ ’ ہم نے انہیں اپنی رحمت سے ان کے بھائی ہارون کو نبی بنا دیا ‘۔ حالانکہ ہارون علیہ السلام موسیٰ علیہ السلام سے بڑے تھے تو یہاں بھی ان کی نبوت کی بشارت ہے۔ پس یہ بشارت اس وقت دی گئی جبکہ امتحان ذبح میں وہ صابر ثابت ہوئے۔ یہ بھی مروی ہے کہ یہ بشارت دو مرتبہ دی گئی پیدائش سے کچھ قبل اور نبوت سے کچھ قبل۔
حضرت قتادہ رحمہ اللہ سے بھی یہی مروی ہے۔ ’ ان پر اور اسحاق علیہ السلام پر ہماری برکتیں ہم نے نازل فرمائیں، ان کی اولاد میں ہر قسم کے لوگ ہیں نیک بھی بد بھی ‘۔ جیسے نوح علیہ السلام سے فرمان ہوا تھا کہ «قِيلَ يَا نُوحُ اهْبِطْ بِسَلَامٍ مِّنَّا وَبَرَكَاتٍ عَلَيْكَ وَعَلَىٰ أُمَمٍ مِّمَّن مَّعَكَ وَأُمَمٌ سَنُمَتِّعُهُمْ ثُمَّ يَمَسُّهُم مِّنَّا عَذَابٌ أَلِيمٌ» ’ اے نوح ہماری سلام اور برکت کے ساتھ تواتر۔ تو بھی اور تیرے ساتھ والے بھی اور ایسے بھی لوگ ہیں جنہیں ہم فائدے پہنچائیں گے پھر انہیں ہماری طرف سے درد ناک عذاب پہنچیں گے ‘۔۱؎ [11-هود:48]
12۔ 1 یعنی دوڑ دھوپ کے لائق ہوگیا یا بلوغت کے قریب پہنچ گیا، بعض کہتے ہیں کہ اس وقت یہ بچہ 13 سال کا تھا۔ 12۔ 2 پیغمبر کا خواب، وحی اور حکم الٰہی ہی ہوتا ہے۔ جس پر عمل ضروری ہوتا ہے۔ بیٹے سے مشورے کا مقصد یہ معلوم کرنا تھا کہ بیٹا بھی امر الٰہی کے لئے کس حد تک تیار ہے۔
(آیت 102) ➊ { فَلَمَّا بَلَغَ مَعَهُ السَّعْيَ …: ” يٰبُنَيَّ “ ”اِبْنٌ“} کی تصغیر ہے، اے میرے چھوٹے بیٹے! مراد ہے اے میرے پیارے بیٹے! ابراہیم علیہ السلام وقتاً فوقتاً شام سے اسماعیل علیہ السلام اور ان کی والدہ کی خبر گیری کے لیے آتے رہتے تھے۔ جب بیٹا اس کے ساتھ دوڑ دھوپ کی عمر کو پہنچ گیا، یعنی اس قابل ہو گیا کہ باپ کا ہاتھ بٹا سکے تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ابراہیم علیہ السلام کو ایک نیا امتحان پیش آیا۔ وہ یہ کہ انھوں نے خواب میں دیکھا کہ وہ بڑی دعاؤں اور آرزؤوں کے بعد بڑھاپے میں ملنے والے نہایت عزیز بیٹے کو ذبح کر رہے ہیں۔ نبی کا خواب بھی وحی ہوتا ہے، اس لیے انھوں نے اسے اللہ کا حکم سمجھ کر کسی بھی تردّد کے بغیر اس پر عمل کا پکا ارادہ کر لیا اور بیٹے سے کہا، اے میرے پیارے بیٹے! میں خواب میں دیکھتا ہوں کہ میں تجھے ذبح کر رہا ہوں، سو دیکھ، تو کیا خیال کرتا ہے۔ ➋ { فَانْظُرْ مَا ذَا تَرٰى:} بیٹے کی رائے پوچھنے کا مطلب یہ نہ تھا کہ اگر وہ نہ مانتا تو وہ اللہ کے حکم پر عمل نہ کرتے، بلکہ وہ اپنے ساتھ بیٹے کو اللہ کے حکم کی اطاعت میں شریک کرنا چاہتے تھے اور انھیں امید تھی کہ بیٹا اللہ کے حکم کی تعمیل کے لیے ضرور آمادگی کا اظہار کرے گا، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے انھیں حلیم لڑکے کی بشارت دی تھی اور واقعی بیٹے نے یہ کہہ کر حلیم ہونے کا ثبوت دیا جو اگلے جملے میں مذکور ہے۔ ➌ { قَالَ يٰۤاَبَتِ افْعَلْ مَا تُؤْمَرُ:” يٰۤاَبَتِ “} کی وضاحت کے لیے دیکھیے سورۂ یوسف (۴) اس سے معلوم ہوا کہ اسماعیل علیہ السلام نے اسے محض خواب نہیں بلکہ اللہ کا حکم سمجھا اور کہا اے میرے باپ! آپ کو جو حکم دیا جا رہا ہے وہ کیجیے۔ یہ صاف دلیل ہے کہ انبیاء کا خواب وحی ہوتا ہے۔ ابراہیم اور اسماعیل علیھما السلام دونوں نے یہی سمجھا اور دونوں اسے اللہ کا حکم سمجھ کر اس کی تعمیل کے لیے تیار ہو گئے۔ ➍ { سَتَجِدُنِيْۤ اِنْ شَآءَ اللّٰهُ مِنَ الصّٰبِرِيْنَ:} اس میں اسماعیل علیہ السلام کی کمال اطاعت کے ساتھ ان کا کمال صبر ظاہر ہو رہا ہے، جو ان کے{” غُلَامٌ حَلِيْمٌ “} ہونے کا نتیجہ تھا۔ اطاعت اور صبر کے ساتھ ان کا اللہ تعالیٰ کے لیے حسنِ ادب بھی ظاہر ہو رہا ہے کہ انھوں نے اپنی اطاعت اور قربانی کو اللہ تعالیٰ کی مشیّت کے تابع قرار دیا کہ اگر اس نے چاہا تو میں اس آزمائش پر صبر کروں گا۔
آخر کو جب اِن دونوں نے سر تسلیم خم کر دیا اور ابراہیمؑ نے بیٹے کو ماتھے کے بل گرا دیا
مولانا محمد جوناگڑھی
غرض جب دونوں مطیع ہوگئے اور اس نے (باپ نے) اس کو (بیٹے کو) پیشانی کے بل گرا دیا
احمد رضا خان بریلوی
تو جب ان دونوں نے ہمارے حکم پر گردن رکھی اور باپ نے بیٹے کو ماتھے کے بل لٹایا اس وقت کا حال نہ پوچھ
علامہ محمد حسین نجفی
پس جب دونوں (باپ بیٹے) نے سرِ تسلیم خم کر دیا اور باپ نے بیٹے کو پیشانی کے بل لٹا دیا۔
عبدالسلام بن محمد
تو جب دونوں نے حکم مان لیا اور اس نے اسے پیشانی کی ایک جانب پر گرا دیا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
ذبیح اللہ کی بحث اور یہودی روایات ٭٭
خلیل اللہ علیہ السلام جب اپنی قوم کی ہدایت سے مایوس ہو گئے، بڑی بڑی قدرتی نشانیاں دیکھ کر بھی جب انہیں ایمان نصیب نہ ہوا تو آپ علیہ السلام نے ان سے ہٹ جانا پسند فرمایا اور اعلان کر دیا کہ میں اب تم میں سے ہجرت کرجاؤں گا میرا رہنما میرا رب ہے۔ ساتھ ہی اپنے رب سے اپنے ہاں اولاد ہونے کی دعا مانگی تاکہ وہی توحید میں آپ علیہ السلام کا ساتھ دے۔ اسی وقت دعا قبول ہوتی ہے اور ایک بردبار بچے کی بشارت دی جاتی۔ یہ اسماعیل علیہ السلام تھے یہی آپ علیہ السلام کے لیے صاحبزادے تھے اور اسحاق علیہ السلام سے بڑے تھے۔ اسے تو اہل کتاب بھی مانتے ہیں بلکہ ان کی کتب میں موجود ہے کہ اسماعیل علیہ السلام کی پیدائش کے وقت ابراہیم علیہ السلام کی عمر چھیاسی سال کی تھی اور جس وقت اسحاق علیہ السلام تولد ہوتے ہیں اس وقت آپ علیہ السلام کی عمر ننانوے برس کی تھی۔ بلکہ ان کی اپنی کتاب میں تو یہ بھی ہے کہ جناب ابراہیم علیہ السلام کو اپنے اکلوتے فرزند کو ذبح کرنے کا حکم ہوا تھا۔ لیکن صرف اس لیے کہ یہ لوگ خود تو نبی اللہ اسحاق علیہ السلام کی اولاد میں سے ہیں اور نبی اللہ و ذبیح اللہ اسماعیل علیہ السلام کی اولاد میں سے عرب ہیں۔ انہی نے واقعہ کی اصلیت بدل دی اور اس فضیلت کو اسماعیل علیہ السلام سے ہٹاکر اسحاق علیہ السلام کو دے دیا اور بے جا تاویلیں کرتے اللہ کے کلام کو بدل ڈالا، اور کہا ہماری کتاب میں لفظ «وَحِیْدَكَ» ہے اس سے مراد اکلوتا نہیں بلکہ جو تیرے پاس اس وقت اکیلا ہے وہ ہے۔ یہ اس لیے کہ اسماعیل تو اپنی والدہ کے ساتھ مکے میں تھے یہاں خلیل اللہ کے ساتھ صرف اسحاق تھے۔ لیکن یہ بالکل غلط ہے۔ وحید اسی کو کہا جاتا ہے جو اکلوتا ہو اس کا اور کوئی بھائی نہ ہو۔ پھر یہاں ایک بات اور بھی ہے کہ اکلوتے اور پہلوٹھی کے بچے کے ساتھ جو محبت ہوتی اور اس کے جو لاڈ پیار ہوتے ہیں عموماً دوسری اولاد کے ہونے پر پھر وہ باقی نہیں رہتے۔ اس لیے اس کے ذبیحہ کا حکم امتحان اور آزمائش کی زبردست کڑی ہے۔
ہم اسے مانتے ہیں کہ بعض سلف بھی اس کے قائل ہوئے ہیں کہ ذبیح اللہ اسحاق علیہ السلام تھے، یہاں تک کہ بعض صحابہ رضی اللہ عنہم سے بھی یہ مروی ہے لیکن یہ چیز کتاب و سنت سے ثابت نہیں ہوتی۔ بلکہ خیال یہ ہے کہ بنو اسرائیل کی ایک شہرت دی ہوئی بات کو ان حضرات نے بھی بے دلیل اپنے ہاں لے لیا۔ دور کیوں جائیں کتاب اللہ کے الفاظ میں ہی غور کر لیجئیے کہ اسمٰعیل علیہ السلام کی بشارت کا ”غلام حلیم“ کہہ کر ذکر ہوا اور پھر اللہ کی راہ میں ذبح کے لیے تیار ہونے کا ذکر ہوا۔ اس تمام بیان کو ختم کر کے پھر نبی صالح اسحاق علیہ السلام کے تولد کی بشارت کا بیان ہوا۔ اور فرشتوں نے بشارت اسحاق کے موقع پر ”غلام علیم“ فرمایا تھا۔ اسی طرح قرآن میں ہے بشارت اسحاق علیہ السلام کے ساتھ ہی ہے «وَمِنْ وَّرَاءِ اِسْحٰقَ يَعْقُوْبَ» ۱؎ [11-ھود:71] یعنی ’ ابراہیم کی حیات میں ہی اسحاق کے ہاں یعقوب پیدا ہوں گے ‘، یعنی ان کی تو نسل جاری رہنے کا پہلے ہی علم کرایا جا چکا تھا اب انہیں ذبح کرنے کا حکم کیسے دیا جاتا؟ اسے ہم پہلے بھی بیان کر چکے۔ البتہ اسماعیل علیہ السلام کا وصف یہاں پر بردباری کا بیان کیا گیا ہے۔ جو ذبیح کے لیے نہایت مناسب ہے۔
اب اسماعیل علیہ السلام بڑے ہو گئے اپنے والد کے ساتھ چلنے پھرنے کے قابل ہو گئے۔ آپ علیہ السلام اس وقت مع اپنی والدہ محترمہ کے فاران میں تھے ابراہیم علیہ السلام عموماً وہاں جاتے آتے رہتے تھے یہ مذکور ہے کہ براق پر جاتے تھے اور اس جملے کے یہ معنی بھی ہیں کہ جوانی کے لگ بھگ ہو گئے لڑکپن کا زمانہ نکل گیا اور باپ کی طرح چلنے پھرنے کام کاج کرنے کے قابل بن گئے تو ابراہیم علیہ السلام نے خواب دیکھا کہ گویا آپ علیہ السلام اپنے پیارے بچے کو ذبح کر رہے ہیں۔ انبیاء کے خواب وحی ہوتے ہیں اور اس کی دلیل یہی آیت ہے۔ ایک مرفوع روایت میں بھی یہ ہے۔ ۱؎ [صحیح بخاری:138] پس اللہ کے رسول علیہ السلام نے اپنے لخت جگر کی آزمائش کے لیے کہ اچانک وہ گھبرا نہ اٹھے، اپنا ارادہ ان کے سامنے ظاہر کیا۔ وہاں کیا تھا۔ وہ بھی اسی درخت کے پھل تھے نبی ابن نبی علیہ السلام تھے جواب دیتے ہیں اب پھر دیر کیوں لگا رہے ہو یہ باتیں بھی پوچھنے کی ہوتی ہیں جو حکم ہوا ہے اسے فوراً کر ڈالیے اور اگر میری نسبت کھٹکا ہو تو زبانی اطمینانی کیا کروں چھری رکھئے خود معلوم ہو جائے گا کہ میں کیسا کچھ صابر ہوں۔ ان شاءاللہ میرا صبر آپ کا جی خوش کر دے گا۔ سبحان اللہ جو کہا تھا وہی کر کے دکھایا اور صادق الوعد ہونے کا سرٹیفیکیٹ اللہ کی طرف سے حاصل کر ہی لیا۔ آخر باپ بیٹا دونوں حکم اللہ کی اطاعت کے لیے جان بکف تیار ہو جاتے ہیں باپ بچے کو ذبح کرنے کے لیے تیار ہو جاتا ہے۔ اور باپ اپنے نور چشم لخت جگر کو منہ کے بل زمین پر گراتے ہیں تاکہ ذبح کے وقت منہ دیکھ کر محبت نہ آ جائے اور ہاتھ سست نہ پڑ جائے۔
مسند احمد میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ”جب ابراہیم علیہ السلام اپنی نور نظر کو ذبح کرنے کے لیے بحکم اللہ لے چلے تو سعی کے وقت شیطان سامنے آیا لیکن ابراہیم علیہ السلام اس سے آگے بڑھ گئے، پھر جبرائیل علیہ السلام کے ساتھ آپ جمرہ عقبہ پر پہنچے تو پھر شیطان سامنے آیا، آپ علیہ السلام نے اسے سات کنکریاں ماریں۔“ ”پھر جمرہ وسطی پاس آیا پھر وہاں سات کنکریاں ماریں۔ پھر آگے بڑھ کر اپنے پیارے بچے کو اللہ کے نام پر ذبح کرنے کے لیے نیچے پچھاڑا، ذبیح اللہ کے پاک جسم پر اس وقت سفید چادر تھی کہنے لگے ابا جی اسے اتار لیجئیے تاکہ اس میں آپ مجھے کفنا سکیں۔ اس وقت بیٹے کو ننگا کرتے وقت باپ کا عجب حال تھا کہ آواز آئی بس ابراہیم خواب کو سچا کر چکے۔ مڑ کر دیکھا تو ایک مینڈا سفید رنگ کا بڑے بڑے سینگوں اور صاف آنکھوں والا نظر پڑا، ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں اسی لیے ہم اس قسم کے مینڈے (چھترے) چن چن کر قربانی کے لیے لیتے تھے۔“
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما ہی سے دوسری روایت میں اسحاق علیہ السلام کا نام مروی ہے۔ تو گو دونوں نام آپ رضی اللہ عنہما سے مروی ہیں لیکن اول ہی اولیٰ ہے اور اس کی دلیلیں آ رہی ہیں۔ ان شاءاللہ تعالیٰ۔ اس کے بدلے بڑا ذبیحہ، اللہ نے عطا فرمایا اس کی بابت سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”یہ جنتی چھترا تھا جو وہاں چالیس سال سے کھا پی رہا تھا۔“ اسے دیکھ کر آپ علیہ السلام اپنے بچے کو چھوڑ کر اس کے پیچھے ہولیے۔ جمرہ اولیٰ پر آ کر سات کنکریاں پھنکیں پھر وہ بھاگ کر جمرہ وسطی پر آ گیا۔ سات کنکریاں ماریں اور وہاں سے ملخر میں لا کر ذبح کیا اس کے سینگ سر سمیت ابتداء اسلام کے زمانہ تک کعبے کے پرنالے کے پاس لٹکتے رہے تھے پھر سوکھ گئے۔ ایک مرتبہ سیدنا کعب رضی اللہ عنہ بیٹھے ہوئے باتیں کر رہے تھے۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ تو حدیثیں بیان کر رہے تھے اور کعب رضی اللہ عنہ کتاب کے قصے بیان کر رہے تھے۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ { ہر نبی کے لیے ایک دعا قبول شدہ ہے اور میں نے اپنی اس مقبول دعا کو پوشیدہ کر کے رکھ چھوڑا ہے اپنی امت کی شفاعت کے لئے جو بروز قیامت ہوگی}، تو سیدنا کعب رضی اللہ عنہ نے فرمایا تم نے خود اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے؟ فرمایا ہاں۔ سیدنا کعب رضی اللہ عنہ خوش ہوئے اور فرمانے لگے تم پر میرے ماں باپ فدا ہوں یا فرمایا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر میرے ماں باپ صدقے جائیں۔
پھر کعب رضی اللہ عنہ نے ابراہیم خلیل علیہ السلام کا قصہ سنایا کہ جب آپ علیہ السلام اپنے لڑکے اسمٰعیل علیہ السلام کو ذبح کرنے کے لیے مستعد ہو گئے تو شیطان نے کہا اگر میں اس وقت انہیں نہ بہکا سکا تو مجھے ان سے عمر بھر کے لیے مایوس ہو جانا چاہیئے۔ پہلے تو یہ سارہ رضی اللہ عنہا کے پاس آیا اور پوچھا کہ ابراہیم علیہ السلام تمہارے لڑکے کو کہاں لے گئے ہیں؟ مائی صاحبہ رضی اللہ عنہا نے جواب دیا اپنے کسی کام پر لے گئے ہیں، اس نے کہا نہیں بلکہ وہ ذبح کرنے کے لیے لے گئے ہیں۔ مائی صاحبہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا وہ اسے کیوں ذبح کرنے لگے؟ لعین نے کہا وہ کہتے ہیں اللہ کی طرف سے یہی حکم ہے جواب ملا پھر تو یہی بہتر ہے کہ وہ جلدی سے اللہ کے حکم کی بجا آوری سے فارغ ہو لیں۔ یہاں سے نامراد ہو کر بچے کے پاس آیا اور کہا تمہارے ابا تمہیں کہاں لے جاتے ہیں؟ فرمایا اپنے کام کے لیے کہا نہیں بلکہ وہ تجھے ذبح کرنے کے لیے لے جا رہے ہیں، فرمایا یہ کیوں؟ کہا اس لیے کہ وہ سمجھتے ہیں اللہ کا انہیں حکم ہے۔ کہا پھر تو واللہ انہیں اس کام میں بہت جلدی کرنی چاہیئے۔ ان سے بھی مایوس ہو کر یہ ملعون خلیل اللہ علیہ السلام کے پاس پہنچا۔ ان سے کہا بچے کو کہاں لے جا رہے ہو؟ جواب دیا اپنے کام کے لیے ملعون نے کہا نہیں بلکہ تم تو اسے ذبح کرنے کے لیے جا رہے ہو؟ آپ علیہ السلام نے فرمایا یہ کیوں؟ بولا اس لیے کہ تمہارا خیال ہے کہ اللہ کا حکم تمہیں یونہی ہے، آپ علیہ السلام نے فرمایا اللہ کی قسم پھر تو میں ضرور ہی اسے ذبح کر ڈالوں گا۔ اب ابلیس مایوس ہو گیا۔۱؎ [عبد الرزاق فی المصنف:20864:صحیح]
دوسری روایت میں یہ بھی ہے کہ اس تمام واقعے کے بعد جناب باری تعالیٰ نے اسحاق علیہ السلام سے فرمایا کہ ’ ایک دعا تم مجھ سے مانگو جو مانگو گے ملے گا ‘۔ اسحاق علیہ السلام نے کہا ”پھر میری دعا یہ ہے کہ جس نے تیرے ساتھ شریک نہ کیا ہو اسے تو ضرور جنت میں لے جانا۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے { اللہ تعالیٰ نے مجھے اختیار دیا کہ میں دو باتوں میں سے ایک کو اختیار کر لوں یا تو یہ کہ میری آدھوں آدھ امت بخشی جائے یا یہ کہ میں شفاعت کروں اور اسے اللہ تعالیٰ قبول فرما لے تو میں نے شفاعت کرنے کو ترجیح دی اس پر کہ وہ عام ہو گی، ہاں ایک دعا تھی کہ میں وہی کرتا لیکن اللہ کا ایک نیک بندہ مجھ سے پہلے اس دعا کو مانگ چکا تھا }۔ واقعہ یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے اسحاق علیہ السلام سے ذبح ہونے کی تکلیف دور کر دی تو ان سے فرمایا گیا کہ ’ تو مانگ جو مانگے گا دیا جائے گا ‘۔ تو اسحاق علیہ السلام نے فرمایا ”واللہ شیطان کے بہکانے سے پہلے ہی میں اسے مانگ لوں گا، اللہ جو شخص اس حالت میں مرا ہو کہ اس نے تیرے ساتھ کسی کو شریک نہ کیا ہو تو اسے بخش دے اور جنت میں پہنچا دے۔“ ۱؎ [الدر المنشور للسیوطی:531/5:ضعیف] یہ حدیث ابن ابی حاتم میں ہے لیکن سنداً غریب اور منکر ہے اور اس کے ایک راوی عبدالرحمٰن بن زید بن اسلم ضعیف ہیں اور مجھے تو یہ بھی ڈر ہے کہ یہ الفاظ کہ (جب اللہ تعالیٰ نے اسحاق علیہ السلام سے) آخر تک راوی اپنے نہ ہوں جنہیں انہوں نے حدیث میں داخل کر دئیے ہیں۔
ذبیح اللہ تو اسماعیل علیہ السلام ہیں، محل ذبح منیٰ ہے اور وہ مکے میں ہے اور اسماعیل علیہ السلام یہیں تھے نہ کہ اسحاق علیہ السلام وہ تو شہر کنعان میں تھے جو شام ہے۔ جب ابراہیم علیہ السلام اپنے پیارے بچے کو ذبح کرنے کے لیے لٹا دیتے ہیں جناب باری سے ندا آتی ہے کہ ’ بس ابراہیم علیہ السلام تم اپنے خواب کو پورا کر چکے ‘۔ سدی رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ”جب خلیل اللہ علیہ السلام نے ذبیح اللہ علیہ السلام کے حلق پر چھری پھیری تو گردن تانبے کی ہو گئے اور نہ کٹی اور یہ آواز آئی۔“
ہم اسی طرح نیک کاروں کو بدلہ دیتے ہیں۔ یعنی سختیوں سے بچا لیتے ہیں اور چھٹکارا کر دیتے ہیں۔ جیسے فرمایا ’ اللہ سے ڈرتے رہنے والوں کے لیے اللہ تعالیٰ چھٹکارے کی صورت نکال ہی دیتا ہے اور اسے ایسی طرح روزی پہنچاتا ہے کہ اس کے گمان و وہم میں بھی نہ ہو۔ اللہ پر بھروسہ کرنے والوں کو اللہ ہی کافی ہے اللہ اپنے کاموں کو مکمل کر کے چھوڑتا ہے ہرچیز کا اس نے ایک اندازہ مقرر کر رکھا ہے ‘۔ اس آیت سے اس پر استدلال کیا گیا ہے کہ فعل پر قدرت پانے سے پہلے ہی حکم منسوخ ہو سکتا ہے۔
ہاں معتزلہ اسے نہیں مانتے۔ وجہ استدلال بہت ظاہر ہے اس لیے کہ خلیل اللہ علیہ السلام کو اپنے بیٹے کے ذبح کرنے کا حکم ہوتا ہے اور پھر ذبح سے پہلے ہی فدئیے کے ساتھ منسوخ کر دیا جاتا ہے۔ مقصود اس سے یہ تھا کہ صبر کا اور بجا آوری حکم پر مستعدی کا ثواب مرحمت فرما دیا جائے۔ اسی لیے ارشاد ہوا ’ یہ تو صرف ایک آزمائش تھی کھلا امتحان تھا کہ ادھر حکم ہوا ادھر تیاری ہوئی ‘۔ اسی لیے جناب خلیل اللہ علیہ السلام کی تعریف میں قرآن میں ہے ’ ابراہیم بڑا ہی وفادار تھا۔ بڑے ذبیح کے ساتھ ان کا فدیہ ہم نے دیا ‘۔ سفید رنگ بڑی آنکھوں اور بڑے سینگوں والا عمدہ خوراک سے پلا ہوا منیڈھا فدئیے میں دیا گیا جو ثبیر ببول کے درخت سے بندھا ہوا ملا۔ جو جنت میں چالیس سال چرتا رہا۔ منیٰ میں ثبیر کے پاس جو چٹان ہے اس پر یہ جانور ذبح کیا گیا یہ چیختا ہوا اوپر سے اترا تھا۔ یہی وہ مینڈھا ہے جسے ہابیل نے اللہ کی راہ میں قربان کیا تھا۔ اس کی اون قدرے سرخی مائل تھی اس کا نام جریر تھا۔ بعض کہتے ہیں مقام ابراہیم پر اسے ذبح کیا۔ کوئی کہتا ہے مٹی میں نحر پر۔ ایک شخص نے اپنے تئیں راہ اللہ میں ذبح کرنے کی منت مانی تھی تو سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اسے ایک سو اونٹ ذبح کرنے کا فتویٰ دیا تھا لیکن پھر فرماتے تھے کہ ”اگر میں اسے ایک بھیڑ ذبح کرنے کو کہتا تب بھی کافی تھا کیونکہ کتاب اللہ میں ہے کہ ذبیح اللہ کا فدیہ اسی سے دیا گیا تھا۔“ اکثر لوگوں کا یہی قول ہے بعض کہتے ہیں یہ پہاڑی بکرا تھا۔ کوئی کہتا ہے نر ہرن تھا۔ مسند احمد میں ہے کہ { عثمان رضی اللہ عنہ کو بلا کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { میں نے بھیڑ کے سینگ بیت اللہ شریف میں داخلے کے وقت اندر دیکھے تھے اور مجھے یاد نہ رہا کہ میں تجھے ان کے ڈھانک دینے کا حکم دوں، جاؤ اسے ڈھک دو بیت اللہ میں کوئی ایسی چیز نہ ہونی چاہیئے جو نمازی کو اپنی طرف متوجہ کر لے } }۔۱؎ [سنن ابوداود:2030،قال الشيخ الألباني:صحیح] سفیان رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس بھیڑ کے سینگ بیت اللہ میں ہی رہے یہاں تک کہ ایک مرتبہ بیت اللہ میں آگ لگی اس میں وہ جل گئے۔ ۱؎ [سلسلة احادیث صحیحه البانی:23221،] یہ واقعہ بھی اس امر کی دلیل ہے کہ ذبیح اللہ، اسماعیل علیہ السلام تھے اسی وجہ سے ان کی اولاد قریش تک یہ سینگ برابر اور مسلسل چلے آئے یہاں تک کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ نے مبعوث فرمایا۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ ”ان آثار کا بیان جن میں ذبیح اللہ کا نام ہے“ ابومیسرہ فرماتے ہیں یوسف علیہ السلام نے بادشاہ سے فرمایا ”کیا تو میرے ساتھ کھانا چاہتا ہے، میں یوسف بن یعقوب نبی اللہ بن اسحاق ذبیح اللہ بن ابراہیم خلیل اللہ ہوں [ عبید بن عمیر رحمه الله] موسیٰ علیہ السلام نے جناب باری میں عرض کی کہ ”اے اللہ کیا وجہ ہے جو لوگوں کی زبانوں پر یہ چڑھا ہوا ہے کہ ابراہیم، اسمٰعیل اور یعقوب علیہم السلام کے اللہ کی قسم“، تو جواب ملا ’ اس لیے ابراہیم نے تو ہر ہرچیز پر مجھی کو ترجیح دی اور اسحاق علیہ السلام نے اپنے تئیں میری راہ میں ذبح ہونے کے لیے سپرد کر دیا پھر بھلا اور چیزیں اسے پیش کر دینا کیا مشکل تھیں اور یعقوب علیہ السلام کو میں جوں جوں بلاؤں میں ڈالتا گیا اس کے حسن ظنی میرے ساتھ بڑھتی ہی رہی ‘۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے سامنے ایک مرتبہ کسی نے فخراً اپنے باپ دادوں کا نام لیا تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا قابل فخر باپ دادا تو یوسف علیہ السلام کے تھے جو یعقوب بن اسحاق علیہ السلام اور ذبیح اللہ بن ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام تھے۔
عکرمہ، سیدنا ابن عباس، خود سیدنا عباس، سیدنا علی،سعید بن جبیر رضی اللہ عنہم، مجاہد، شعبی، عبید بن عمر، ابومیسرہ، زید بن اسلم، عبداللہ بن شفیق، زہری، قاسم بن ابوبرزہ، محکول، عثمان بن ابی عاص، سدی، حسن، قتادہ، ابو الہذیل، ابن سابط، کعب احبار رحمہم اللہ اجمعین، ان سب کا یہی قول ہے اور ابن جریر رحمہ اللہ بھی اسی کو اختیار کرتے ہیں کہ ذبیح اللہ اسحاق علیہ السلام تھے۔ صحیح علم تو اللہ کو ہی ہے مگر بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ان سب بزرگوں کے استاد کعب احبار رحمہ اللہ ہیں۔ یہ خلافت فاروقی میں مسلمان ہوئے تھے اور کبھی کبھی سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو قدیمی کتابوں کی باتیں سناتے تھے، لوگوں نے اسے رخصت سمجھ کر پھر ان سے ہر ایک بات بیان کرنی شروع کر دی اور صحیح غلط کی تمیز اٹھ گئی حق تو یہ ہے کہ اس امت کو اگلی کتابوں کی ایک بات کی بھی حاجت نہیں۔ بغوی نے کچھ اور نام بھی صحابہ تابعین کے بتلائے ہیں جنہوں نے کہا ہے کہ ذبیح اللہ اسحاق علیہ السلام ہیں۔ ایک مرفوع حدیث میں بھی یہ آیا ہے۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:29495:ضعیف] اگر وہ حدیث صحیح ہوتی تو جھگڑے کا فیصلہ تھا مگر وہ حدیث صحیح نہیں اس میں دو راوی ضعیف ہیں۔ حسن بن دینار متروک ہیں اور علی بن زید بن جدعان منکر الحدیث ہیں اور زیادہ صحیح یہ ہے کہ ہے یہ بھی موقف، چنانچہ ایک سند سے یہ مقولہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کا مروی ہے اور یہی زیادہ ٹھیک ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
اب ان آثار کو سنئے جن سے معلوم ہوتا ہے کہ ذبیح اللہ اسماعیل علیہ السلام ہی تھے اور یہی ٹھیک اور بالکل درست بھی ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما یہی فرماتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ ”یہودی اسحاق علیہ السلام کا نام جھوٹ موٹ لیتے ہیں۔“ ابن عمر رضی اللہ عنہ، مجاہد، شعبی، حسن بصری، محمد بن کعب قرظی، خلیفہ المسلمین عمر ابن عبدالعزیز رحمہ اللہ علیہم کے سامنے جب محمد بن قرظی رحمہ اللہ نے یہ فرمایا اور ساتھ ہی اس کی دلیل بھی دی کہ ”ذبح کے ذکر کے بعد قرآن میں خلیل اللہ علیہ السلام کو اسحاق علیہ السلام کے پیدا ہونے کی بشارت کا ذکر ہے اور ساتھ ہی بیان ہے کہ ان کے ہاں بھی لڑکا ہو گا یعقوب نامی جب ان کے ہاں لڑکا ہونے کی بشارت دی گی تھی پھر باوجود ان کے ہاں لڑکا نہ ہوں کے اس سے پہلے ہی ان کے ذبح کرنے کا حکم کیسے دیا جاتا ہے؟“
تو سیدنا عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے فرمایا ”یہ بہت صاف دلیل ہے میرا ذہن یہاں نہیں پہنچا تھا گو یہ میں بھی جانتا تھا کہ ذبیح اللہ اسماعیل علیہ السلام ہی ہیں۔“ پھر شاہ اسلام نے شام کے ایک یہودی عالم سے پوچھا جو مسلمان ہو گئے تھے کہ تم اس بارے میں کیا علم رکھتے ہو انہوں نے فرمایا امیر المسلمین سچ تو یہی ہے کہ جن کے ذبح کرنے کا حکم دیا گیا وہ اسماعیل علیہ السلام ہی تھے لیکن چونکہ عرب ان کی اولاد میں سے ہیں تو یہ بزرگی ان کی طرف لوٹتی ہے اس حسد کے بارے میں یہودیوں نے اسے بدل دیا اور اسحاق علیہ السلام کا نام لے دیا۔ حقیقی علم اللہ ہی کو ہے ہمارا ایمان ہے کہ اسماعیل، اسحاق علیہم السلام دونوں ہی طاہر و طیب اور اللہ کے سچے فرمانبردار تھے۔ کتاب الزہد میں ہے کہ امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کے صاحبزادے عبداللہ رحمہ اللہ نے اپنے والد سے جب یہ مسئلہ پوچھا تو آپ نے جواب دیا کہ ”ذبح ہونے والے اسماعیل علیہ السلام ہی تھے۔“ علی ابن عمر، ابوالطفیل، سعید بن مسیب، سعید بن جبیر، حسن، مجاہد، شعبی، محمد بن کعب، ابوجعفر محمد بن علی ابوصالح رحمہ اللہ عنہم سے بھی یہی مروی ہے۔
امام بغوی رحمہ اللہ نے اور بھی صحابہ رضی اللہ عنہم اور تابعین کے نام گنوائے ہیں۔ ایک غریب حدیث بھی اسی کی تائید میں مروی ہے اس میں ہے کہ { شام میں امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے سامنے یہ بحث چھڑی کہ ذبیح اللہ کون ہیں؟ تو آپ نے فرمایا خوب ہوا جو یہ معاملہ مجھ جیسے باخبر شخص کے پاس آیا، سنو! ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھے جب ایک شخص آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا اے اللہ کی راہ میں دو ذبح ہونے والوں کی نسل کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم مجھے بھی مال غنیمت میں سے کچھ دلوایئے اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہنس دیئے۔ ایک تو ذبیح اللہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے والد عبداللہ تھے، دوسرے اسمعیل علیہ السلام جن کی نسل میں سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ عبداللہ کے ذبیح اللہ ہونے کا واقعہ یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دادا عبدالمطلب نے جب چاہ زمزم کھودا تو نذر مانی تھی کی اگر یہ کام آسانی سے پورا ہو گیا تو اپنے ایک لڑکے کو راہ اللہ میں ذبح کروں گا جب کام ہو گیا اور قرعہ اندازی کی گئی کہ کس بیٹے کو اللہ کے نام پر ذبح کریں تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے والد عبداللہ کا نام نکلا۔ ان کے ننھیال والوں نے کہا آپ ان کی طرف سے ایک سو اونٹ راہ اللہ ذبح کر دیں چنانچہ وہ ذبح کر دیئے گئے اور اسماعیل علیہ السلام کے ذبیح اللہ ہونے کا واقعہ تو مشہور ہی ہے }۔۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:29530:ضعیف] ابن جریر میں یہ روایت موجود ہے اور مغازی امویہ میں بھی۔
امام ابن جریر رحمہ اللہ نے اسحاق علیہ السلام کے ذبیح اللہ ہونے کی ایک دلیل تو یہ پیش کی یہ کہ جس علیم بچے کی بشارت کا ذکر ہے اس سے مراد اسحاق علیہ السلام ہیں قرآن میں اور جگہ ہے «قَالُوا لَا تَخَفْ وَبَشَّرُوهُ بِغُلَامٍ عَلِيمٍ» ۱؎ [51-الذاريات:28] ، اور یعقوب علیہ السلام کی بشارت کا یہ جواب دیا ہے کہ وہ آپ کے ساتھ چلنے پھرنے کی عمر کو پہنچ گئے تھے اور ممکن ہے کہ یعقوب علیہ السلام کے ساتھ ہی کوئی اور اولاد بھی ہوئی ہو اور کعبتہ اللہ میں سینگوں کی موجودگی کے بارے میں فرماتے ہیں بہت ممکن ہے کہ یہ بلادکنعان سے لا کر یہاں رکھے گئے ہوں۔“ اور بعض لوگوں سے اسحاق علیہ السلام کے نام کی صراحت بھی آئی ہے، لیکن یہ سب باتیں حقیقت سے بہت دور ہیں۔ ہاں اسماعیل علیہ السلام کے ذبیح اللہ ہونے پر محمد بن کعب قرظی رحمہ اللہ کا استدلال بہت صاف اور قوی ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ پہلے ذبیح اللہ اسمعیل علیہ السلام کے تولد ہونے کی بشارت دی گئی تھی یہاں اس کے بعد ان کے بھائی اسحاق علیہ السلام کی بشارت دی جا رہی ہے۔ سورۃ ہود اور سورۃ الحجر میں بھی اس کا ذکر گذر چکا ہے۔ «نبیاً» حال مقدرہ ہے یعنی وہ نبی صالح ہو گا۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ذبیح اللہ اسحاق علیہ السلام تھے اور یہاں نبوت اسحاق علیہ السلام کو بشارت ہے۔ جیسے موسیٰ علیہ السلام کے بارے میں فرمان ہے کہ ’ ہم نے انہیں اپنی رحمت سے ان کے بھائی ہارون کو نبی بنا دیا ‘۔ حالانکہ ہارون علیہ السلام موسیٰ علیہ السلام سے بڑے تھے تو یہاں بھی ان کی نبوت کی بشارت ہے۔ پس یہ بشارت اس وقت دی گئی جبکہ امتحان ذبح میں وہ صابر ثابت ہوئے۔ یہ بھی مروی ہے کہ یہ بشارت دو مرتبہ دی گئی پیدائش سے کچھ قبل اور نبوت سے کچھ قبل۔
حضرت قتادہ رحمہ اللہ سے بھی یہی مروی ہے۔ ’ ان پر اور اسحاق علیہ السلام پر ہماری برکتیں ہم نے نازل فرمائیں، ان کی اولاد میں ہر قسم کے لوگ ہیں نیک بھی بد بھی ‘۔ جیسے نوح علیہ السلام سے فرمان ہوا تھا کہ «قِيلَ يَا نُوحُ اهْبِطْ بِسَلَامٍ مِّنَّا وَبَرَكَاتٍ عَلَيْكَ وَعَلَىٰ أُمَمٍ مِّمَّن مَّعَكَ وَأُمَمٌ سَنُمَتِّعُهُمْ ثُمَّ يَمَسُّهُم مِّنَّا عَذَابٌ أَلِيمٌ» ’ اے نوح ہماری سلام اور برکت کے ساتھ تواتر۔ تو بھی اور تیرے ساتھ والے بھی اور ایسے بھی لوگ ہیں جنہیں ہم فائدے پہنچائیں گے پھر انہیں ہماری طرف سے درد ناک عذاب پہنچیں گے ‘۔۱؎ [11-هود:48]
13۔ 1 ہر انسان کے منہ (چہرے) پر دو جبین (دائیں اور بائیں) ہوتی ہیں اور درمیان میں پیشانی اس لئے لِلْجَبِیْنِ کا صحیح ترجمہ (کروٹ پر) ہے یعنی اس طرح کروٹ پر لٹا لیا، جس طرح جانور کو ذبح کرتے وقت قبلہ رخ کروٹ پر لٹا یا جاتا ہے، مشہور ہے حضرت اسماعیل ؑ نے وصیت کی کہ انہیں اس طرح لٹایا جائے کہ چہرہ سامنے نہ رہے جس سے پیار اور شفقت کا جذبہ امر الٰہی پر غالب آنے کا امکان نہ رہے۔
(آیت 103) ➊ {فَلَمَّاۤ اَسْلَمَا وَ تَلَّهٗ لِلْجَبِيْنِ:} عام طور پر مفسرین نے {”اَلْجَبِيْنُ“} کا ترجمہ پیشانی یا ماتھا کیا ہے اور کہا گیا ہے کہ ابراہیم علیہ السلام نے بیٹے کو اوندھا اس لیے لٹایا کہ ذبح کرتے وقت اس کا چہرہ دیکھ کر کہیں دل میں رِقّت اور ہاتھ میں لرزش پیدا نہ ہو جائے۔ بعض نے کچھ آثار بھی نقل کیے ہیں کہ اسماعیل علیہ السلام نے خود ابراہیم علیہ السلام کو ایسا کرنے کی وصیت کی۔ بعض نے لکھا ہے کہ ابراہیم علیہ السلام نے بیٹے کے کہنے پر اس کے دونوں ہاتھ گردن کے ساتھ باندھ دیے اور اسے الٹا لٹا لیا اور چاہتے تھے کہ نیچے سے گردن پر چھری پھیریں۔ مگر یہ سب اسرائیلیات ہیں اور ان میں سے کوئی بات بھی ثابت نہیں۔ اس مقام پر جبین سے مراد ماتھا لینا بہت بعید ہے، کیونکہ جبین کا معنی {”جَبْهَةٌ“} (ماتھے) کی ایک جانب ہے۔ ہر آدمی کی دو جبینیں ہوتی ہیں۔ طبری نے اس قسم کی روایتیں نقل کرنے کے باوجود خود {” وَ تَلَّهٗ لِلْجَبِيْنِ “} کی تفسیر کرتے ہوئے لکھا ہے: {”وَ صَرَعَهُ لِلْجَبِيْنِ وَالْجَبِيْنَانِ مَا عَنْ يَمِيْنِ الْجَبْهَةِ وَ عَنْ شِمَالِهَا وَلِلْوَجْهِ جَبِيْنَانِ وَالْجَبْهَةُ بَيْنَهُمَا“} یعنی ابراہیم علیہ السلام نے اسے جبین پر گرا لیا اور دو جبینیں وہ ہیں جو {”جَبْهَةٌ“} (پیشانی) کے دائیں اور بائیں طرف ہوتی ہیں اور چہرے کی دو جبینیں ہوتی ہیں اور {”جَبْهَةٌ“} (پیشانی) ان دونوں کے درمیان ہوتی ہے۔“ قاموس میں ہے: {”اَلْجَبِيْنَانِ حَرْفَانِ مَكْتَنِفَا الْجَبْهَةِ مِنْ جَانِبَيْهَا“} ”یعنی ماتھے کے دونوں جانبوں والے کناروں کو دو جبینیں کہتے ہیں۔“ اس لیے میں نے اس کا ترجمہ کیا ہے کہ ”اس نے اسے پیشانی کی ایک جانب پر گرا دیا۔“ ذبح کرتے وقت کسی بھی جانور کو اسی طرح گرایا جاتا ہے، تاکہ حلق پر چھری پھر سکے۔ ➋ { ” فَلَمَّاۤ اَسْلَمَا وَ تَلَّهٗ لِلْجَبِيْنِ “} (تو جب دونوں نے حکم مان لیا اور اس نے اسے پیشانی کی ایک جانب پر گرا دیا) تو پھر کیا ہوا؟ صاحب کشف نے فرمایا: ”جواب یہ ہے کہ ({كَانَ مَا كَانَ}) یعنی پھر ہوا جو ہوا۔“ اس سوال کا جواب یہاں ذکر نہیں کیا گیا، کیونکہ یہ بات بیان میں آنا مشکل ہے کہ اس وقت باپ کے دل پر کیا گزری تھی، فرشتوں کی حیرانی کا کیا عالم تھا اور اللہ تعالیٰ، جس کے حکم پر وہ عزیز بیٹے کو ذبح کر رہے تھے، کس قدر خوش اور مہربان ہو رہا تھا۔ ➌ اس مقام پر مفسرین نے بعض صحابہ اور تابعین سے مختلف آثار نقل کیے ہیں، جن میں سے اکثر کی تو سند ہی صحیح نہیں۔ اگر صحیح ہو بھی تو ظاہر ہے وہ حضرات واقعہ کے وقت موجود نہیں تھے، نہ انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے وہ باتیں روایت کی ہیں اور نہ ہی اپنی معلومات کا کوئی اور معتبر ذریعہ بتایا ہے۔ حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ نے {”البداية والنهاية“} میں اسماعیل علیہ السلام کے قصے کا ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے: {”غَالِبُ مَا هٰهُنَا مِنَ الْآثَارِ مَأْخُوْذٌ مِنَ الْإِسْرَائِيْلِيَاتِ وَفِي الْقُرْآنِ كِفَايَةٌ عَمَّا جَرٰي مِنَ الْأَمْرِ الْعَظِيْمِ وَالْاِخْتِبَارِ الْبَاهِرِ وَأَنَّهُ فُدِيَ بِذِبْحٍ عَظِيْمٍ وَ قَدْ وَرَدَ فِي الْحَدِيْثِ أَنَّهُ كَانَ كَبَشًا “} ”یعنی یہاں ذکر کیے جانے والے اکثر آثار اسرائیلیات سے لیے گئے ہیں اور قرآن مجید میں جو کچھ مذکور ہے وہ اس عظیم الشان معاملے اور طاقت سے اونچے امتحان کے بیان کے لیے کافی ہے اور یہ کہ ان کا فدیہ عظیم ذبیحے کے ساتھ دیا گیا اور حدیث میں آیا ہے کہ وہ ایک مینڈھا تھا۔ “
خلیل اللہ علیہ السلام جب اپنی قوم کی ہدایت سے مایوس ہو گئے، بڑی بڑی قدرتی نشانیاں دیکھ کر بھی جب انہیں ایمان نصیب نہ ہوا تو آپ علیہ السلام نے ان سے ہٹ جانا پسند فرمایا اور اعلان کر دیا کہ میں اب تم میں سے ہجرت کرجاؤں گا میرا رہنما میرا رب ہے۔ ساتھ ہی اپنے رب سے اپنے ہاں اولاد ہونے کی دعا مانگی تاکہ وہی توحید میں آپ علیہ السلام کا ساتھ دے۔ اسی وقت دعا قبول ہوتی ہے اور ایک بردبار بچے کی بشارت دی جاتی۔ یہ اسماعیل علیہ السلام تھے یہی آپ علیہ السلام کے لیے صاحبزادے تھے اور اسحاق علیہ السلام سے بڑے تھے۔ اسے تو اہل کتاب بھی مانتے ہیں بلکہ ان کی کتب میں موجود ہے کہ اسماعیل علیہ السلام کی پیدائش کے وقت ابراہیم علیہ السلام کی عمر چھیاسی سال کی تھی اور جس وقت اسحاق علیہ السلام تولد ہوتے ہیں اس وقت آپ علیہ السلام کی عمر ننانوے برس کی تھی۔ بلکہ ان کی اپنی کتاب میں تو یہ بھی ہے کہ جناب ابراہیم علیہ السلام کو اپنے اکلوتے فرزند کو ذبح کرنے کا حکم ہوا تھا۔ لیکن صرف اس لیے کہ یہ لوگ خود تو نبی اللہ اسحاق علیہ السلام کی اولاد میں سے ہیں اور نبی اللہ و ذبیح اللہ اسماعیل علیہ السلام کی اولاد میں سے عرب ہیں۔ انہی نے واقعہ کی اصلیت بدل دی اور اس فضیلت کو اسماعیل علیہ السلام سے ہٹاکر اسحاق علیہ السلام کو دے دیا اور بے جا تاویلیں کرتے اللہ کے کلام کو بدل ڈالا، اور کہا ہماری کتاب میں لفظ «وَحِیْدَكَ» ہے اس سے مراد اکلوتا نہیں بلکہ جو تیرے پاس اس وقت اکیلا ہے وہ ہے۔ یہ اس لیے کہ اسماعیل تو اپنی والدہ کے ساتھ مکے میں تھے یہاں خلیل اللہ کے ساتھ صرف اسحاق تھے۔ لیکن یہ بالکل غلط ہے۔ وحید اسی کو کہا جاتا ہے جو اکلوتا ہو اس کا اور کوئی بھائی نہ ہو۔ پھر یہاں ایک بات اور بھی ہے کہ اکلوتے اور پہلوٹھی کے بچے کے ساتھ جو محبت ہوتی اور اس کے جو لاڈ پیار ہوتے ہیں عموماً دوسری اولاد کے ہونے پر پھر وہ باقی نہیں رہتے۔ اس لیے اس کے ذبیحہ کا حکم امتحان اور آزمائش کی زبردست کڑی ہے۔
ہم اسے مانتے ہیں کہ بعض سلف بھی اس کے قائل ہوئے ہیں کہ ذبیح اللہ اسحاق علیہ السلام تھے، یہاں تک کہ بعض صحابہ رضی اللہ عنہم سے بھی یہ مروی ہے لیکن یہ چیز کتاب و سنت سے ثابت نہیں ہوتی۔ بلکہ خیال یہ ہے کہ بنو اسرائیل کی ایک شہرت دی ہوئی بات کو ان حضرات نے بھی بے دلیل اپنے ہاں لے لیا۔ دور کیوں جائیں کتاب اللہ کے الفاظ میں ہی غور کر لیجئیے کہ اسمٰعیل علیہ السلام کی بشارت کا ”غلام حلیم“ کہہ کر ذکر ہوا اور پھر اللہ کی راہ میں ذبح کے لیے تیار ہونے کا ذکر ہوا۔ اس تمام بیان کو ختم کر کے پھر نبی صالح اسحاق علیہ السلام کے تولد کی بشارت کا بیان ہوا۔ اور فرشتوں نے بشارت اسحاق کے موقع پر ”غلام علیم“ فرمایا تھا۔ اسی طرح قرآن میں ہے بشارت اسحاق علیہ السلام کے ساتھ ہی ہے «وَمِنْ وَّرَاءِ اِسْحٰقَ يَعْقُوْبَ» ۱؎ [11-ھود:71] یعنی ’ ابراہیم کی حیات میں ہی اسحاق کے ہاں یعقوب پیدا ہوں گے ‘، یعنی ان کی تو نسل جاری رہنے کا پہلے ہی علم کرایا جا چکا تھا اب انہیں ذبح کرنے کا حکم کیسے دیا جاتا؟ اسے ہم پہلے بھی بیان کر چکے۔ البتہ اسماعیل علیہ السلام کا وصف یہاں پر بردباری کا بیان کیا گیا ہے۔ جو ذبیح کے لیے نہایت مناسب ہے۔
اب اسماعیل علیہ السلام بڑے ہو گئے اپنے والد کے ساتھ چلنے پھرنے کے قابل ہو گئے۔ آپ علیہ السلام اس وقت مع اپنی والدہ محترمہ کے فاران میں تھے ابراہیم علیہ السلام عموماً وہاں جاتے آتے رہتے تھے یہ مذکور ہے کہ براق پر جاتے تھے اور اس جملے کے یہ معنی بھی ہیں کہ جوانی کے لگ بھگ ہو گئے لڑکپن کا زمانہ نکل گیا اور باپ کی طرح چلنے پھرنے کام کاج کرنے کے قابل بن گئے تو ابراہیم علیہ السلام نے خواب دیکھا کہ گویا آپ علیہ السلام اپنے پیارے بچے کو ذبح کر رہے ہیں۔ انبیاء کے خواب وحی ہوتے ہیں اور اس کی دلیل یہی آیت ہے۔ ایک مرفوع روایت میں بھی یہ ہے۔ ۱؎ [صحیح بخاری:138] پس اللہ کے رسول علیہ السلام نے اپنے لخت جگر کی آزمائش کے لیے کہ اچانک وہ گھبرا نہ اٹھے، اپنا ارادہ ان کے سامنے ظاہر کیا۔ وہاں کیا تھا۔ وہ بھی اسی درخت کے پھل تھے نبی ابن نبی علیہ السلام تھے جواب دیتے ہیں اب پھر دیر کیوں لگا رہے ہو یہ باتیں بھی پوچھنے کی ہوتی ہیں جو حکم ہوا ہے اسے فوراً کر ڈالیے اور اگر میری نسبت کھٹکا ہو تو زبانی اطمینانی کیا کروں چھری رکھئے خود معلوم ہو جائے گا کہ میں کیسا کچھ صابر ہوں۔ ان شاءاللہ میرا صبر آپ کا جی خوش کر دے گا۔ سبحان اللہ جو کہا تھا وہی کر کے دکھایا اور صادق الوعد ہونے کا سرٹیفیکیٹ اللہ کی طرف سے حاصل کر ہی لیا۔ آخر باپ بیٹا دونوں حکم اللہ کی اطاعت کے لیے جان بکف تیار ہو جاتے ہیں باپ بچے کو ذبح کرنے کے لیے تیار ہو جاتا ہے۔ اور باپ اپنے نور چشم لخت جگر کو منہ کے بل زمین پر گراتے ہیں تاکہ ذبح کے وقت منہ دیکھ کر محبت نہ آ جائے اور ہاتھ سست نہ پڑ جائے۔
مسند احمد میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ”جب ابراہیم علیہ السلام اپنی نور نظر کو ذبح کرنے کے لیے بحکم اللہ لے چلے تو سعی کے وقت شیطان سامنے آیا لیکن ابراہیم علیہ السلام اس سے آگے بڑھ گئے، پھر جبرائیل علیہ السلام کے ساتھ آپ جمرہ عقبہ پر پہنچے تو پھر شیطان سامنے آیا، آپ علیہ السلام نے اسے سات کنکریاں ماریں۔“ ”پھر جمرہ وسطی پاس آیا پھر وہاں سات کنکریاں ماریں۔ پھر آگے بڑھ کر اپنے پیارے بچے کو اللہ کے نام پر ذبح کرنے کے لیے نیچے پچھاڑا، ذبیح اللہ کے پاک جسم پر اس وقت سفید چادر تھی کہنے لگے ابا جی اسے اتار لیجئیے تاکہ اس میں آپ مجھے کفنا سکیں۔ اس وقت بیٹے کو ننگا کرتے وقت باپ کا عجب حال تھا کہ آواز آئی بس ابراہیم خواب کو سچا کر چکے۔ مڑ کر دیکھا تو ایک مینڈا سفید رنگ کا بڑے بڑے سینگوں اور صاف آنکھوں والا نظر پڑا، ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں اسی لیے ہم اس قسم کے مینڈے (چھترے) چن چن کر قربانی کے لیے لیتے تھے۔“
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما ہی سے دوسری روایت میں اسحاق علیہ السلام کا نام مروی ہے۔ تو گو دونوں نام آپ رضی اللہ عنہما سے مروی ہیں لیکن اول ہی اولیٰ ہے اور اس کی دلیلیں آ رہی ہیں۔ ان شاءاللہ تعالیٰ۔ اس کے بدلے بڑا ذبیحہ، اللہ نے عطا فرمایا اس کی بابت سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”یہ جنتی چھترا تھا جو وہاں چالیس سال سے کھا پی رہا تھا۔“ اسے دیکھ کر آپ علیہ السلام اپنے بچے کو چھوڑ کر اس کے پیچھے ہولیے۔ جمرہ اولیٰ پر آ کر سات کنکریاں پھنکیں پھر وہ بھاگ کر جمرہ وسطی پر آ گیا۔ سات کنکریاں ماریں اور وہاں سے ملخر میں لا کر ذبح کیا اس کے سینگ سر سمیت ابتداء اسلام کے زمانہ تک کعبے کے پرنالے کے پاس لٹکتے رہے تھے پھر سوکھ گئے۔ ایک مرتبہ سیدنا کعب رضی اللہ عنہ بیٹھے ہوئے باتیں کر رہے تھے۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ تو حدیثیں بیان کر رہے تھے اور کعب رضی اللہ عنہ کتاب کے قصے بیان کر رہے تھے۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ { ہر نبی کے لیے ایک دعا قبول شدہ ہے اور میں نے اپنی اس مقبول دعا کو پوشیدہ کر کے رکھ چھوڑا ہے اپنی امت کی شفاعت کے لئے جو بروز قیامت ہوگی}، تو سیدنا کعب رضی اللہ عنہ نے فرمایا تم نے خود اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے؟ فرمایا ہاں۔ سیدنا کعب رضی اللہ عنہ خوش ہوئے اور فرمانے لگے تم پر میرے ماں باپ فدا ہوں یا فرمایا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر میرے ماں باپ صدقے جائیں۔
پھر کعب رضی اللہ عنہ نے ابراہیم خلیل علیہ السلام کا قصہ سنایا کہ جب آپ علیہ السلام اپنے لڑکے اسمٰعیل علیہ السلام کو ذبح کرنے کے لیے مستعد ہو گئے تو شیطان نے کہا اگر میں اس وقت انہیں نہ بہکا سکا تو مجھے ان سے عمر بھر کے لیے مایوس ہو جانا چاہیئے۔ پہلے تو یہ سارہ رضی اللہ عنہا کے پاس آیا اور پوچھا کہ ابراہیم علیہ السلام تمہارے لڑکے کو کہاں لے گئے ہیں؟ مائی صاحبہ رضی اللہ عنہا نے جواب دیا اپنے کسی کام پر لے گئے ہیں، اس نے کہا نہیں بلکہ وہ ذبح کرنے کے لیے لے گئے ہیں۔ مائی صاحبہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا وہ اسے کیوں ذبح کرنے لگے؟ لعین نے کہا وہ کہتے ہیں اللہ کی طرف سے یہی حکم ہے جواب ملا پھر تو یہی بہتر ہے کہ وہ جلدی سے اللہ کے حکم کی بجا آوری سے فارغ ہو لیں۔ یہاں سے نامراد ہو کر بچے کے پاس آیا اور کہا تمہارے ابا تمہیں کہاں لے جاتے ہیں؟ فرمایا اپنے کام کے لیے کہا نہیں بلکہ وہ تجھے ذبح کرنے کے لیے لے جا رہے ہیں، فرمایا یہ کیوں؟ کہا اس لیے کہ وہ سمجھتے ہیں اللہ کا انہیں حکم ہے۔ کہا پھر تو واللہ انہیں اس کام میں بہت جلدی کرنی چاہیئے۔ ان سے بھی مایوس ہو کر یہ ملعون خلیل اللہ علیہ السلام کے پاس پہنچا۔ ان سے کہا بچے کو کہاں لے جا رہے ہو؟ جواب دیا اپنے کام کے لیے ملعون نے کہا نہیں بلکہ تم تو اسے ذبح کرنے کے لیے جا رہے ہو؟ آپ علیہ السلام نے فرمایا یہ کیوں؟ بولا اس لیے کہ تمہارا خیال ہے کہ اللہ کا حکم تمہیں یونہی ہے، آپ علیہ السلام نے فرمایا اللہ کی قسم پھر تو میں ضرور ہی اسے ذبح کر ڈالوں گا۔ اب ابلیس مایوس ہو گیا۔۱؎ [عبد الرزاق فی المصنف:20864:صحیح]
دوسری روایت میں یہ بھی ہے کہ اس تمام واقعے کے بعد جناب باری تعالیٰ نے اسحاق علیہ السلام سے فرمایا کہ ’ ایک دعا تم مجھ سے مانگو جو مانگو گے ملے گا ‘۔ اسحاق علیہ السلام نے کہا ”پھر میری دعا یہ ہے کہ جس نے تیرے ساتھ شریک نہ کیا ہو اسے تو ضرور جنت میں لے جانا۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے { اللہ تعالیٰ نے مجھے اختیار دیا کہ میں دو باتوں میں سے ایک کو اختیار کر لوں یا تو یہ کہ میری آدھوں آدھ امت بخشی جائے یا یہ کہ میں شفاعت کروں اور اسے اللہ تعالیٰ قبول فرما لے تو میں نے شفاعت کرنے کو ترجیح دی اس پر کہ وہ عام ہو گی، ہاں ایک دعا تھی کہ میں وہی کرتا لیکن اللہ کا ایک نیک بندہ مجھ سے پہلے اس دعا کو مانگ چکا تھا }۔ واقعہ یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے اسحاق علیہ السلام سے ذبح ہونے کی تکلیف دور کر دی تو ان سے فرمایا گیا کہ ’ تو مانگ جو مانگے گا دیا جائے گا ‘۔ تو اسحاق علیہ السلام نے فرمایا ”واللہ شیطان کے بہکانے سے پہلے ہی میں اسے مانگ لوں گا، اللہ جو شخص اس حالت میں مرا ہو کہ اس نے تیرے ساتھ کسی کو شریک نہ کیا ہو تو اسے بخش دے اور جنت میں پہنچا دے۔“ ۱؎ [الدر المنشور للسیوطی:531/5:ضعیف] یہ حدیث ابن ابی حاتم میں ہے لیکن سنداً غریب اور منکر ہے اور اس کے ایک راوی عبدالرحمٰن بن زید بن اسلم ضعیف ہیں اور مجھے تو یہ بھی ڈر ہے کہ یہ الفاظ کہ (جب اللہ تعالیٰ نے اسحاق علیہ السلام سے) آخر تک راوی اپنے نہ ہوں جنہیں انہوں نے حدیث میں داخل کر دئیے ہیں۔
ذبیح اللہ تو اسماعیل علیہ السلام ہیں، محل ذبح منیٰ ہے اور وہ مکے میں ہے اور اسماعیل علیہ السلام یہیں تھے نہ کہ اسحاق علیہ السلام وہ تو شہر کنعان میں تھے جو شام ہے۔ جب ابراہیم علیہ السلام اپنے پیارے بچے کو ذبح کرنے کے لیے لٹا دیتے ہیں جناب باری سے ندا آتی ہے کہ ’ بس ابراہیم علیہ السلام تم اپنے خواب کو پورا کر چکے ‘۔ سدی رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ”جب خلیل اللہ علیہ السلام نے ذبیح اللہ علیہ السلام کے حلق پر چھری پھیری تو گردن تانبے کی ہو گئے اور نہ کٹی اور یہ آواز آئی۔“
ہم اسی طرح نیک کاروں کو بدلہ دیتے ہیں۔ یعنی سختیوں سے بچا لیتے ہیں اور چھٹکارا کر دیتے ہیں۔ جیسے فرمایا ’ اللہ سے ڈرتے رہنے والوں کے لیے اللہ تعالیٰ چھٹکارے کی صورت نکال ہی دیتا ہے اور اسے ایسی طرح روزی پہنچاتا ہے کہ اس کے گمان و وہم میں بھی نہ ہو۔ اللہ پر بھروسہ کرنے والوں کو اللہ ہی کافی ہے اللہ اپنے کاموں کو مکمل کر کے چھوڑتا ہے ہرچیز کا اس نے ایک اندازہ مقرر کر رکھا ہے ‘۔ اس آیت سے اس پر استدلال کیا گیا ہے کہ فعل پر قدرت پانے سے پہلے ہی حکم منسوخ ہو سکتا ہے۔
ہاں معتزلہ اسے نہیں مانتے۔ وجہ استدلال بہت ظاہر ہے اس لیے کہ خلیل اللہ علیہ السلام کو اپنے بیٹے کے ذبح کرنے کا حکم ہوتا ہے اور پھر ذبح سے پہلے ہی فدئیے کے ساتھ منسوخ کر دیا جاتا ہے۔ مقصود اس سے یہ تھا کہ صبر کا اور بجا آوری حکم پر مستعدی کا ثواب مرحمت فرما دیا جائے۔ اسی لیے ارشاد ہوا ’ یہ تو صرف ایک آزمائش تھی کھلا امتحان تھا کہ ادھر حکم ہوا ادھر تیاری ہوئی ‘۔ اسی لیے جناب خلیل اللہ علیہ السلام کی تعریف میں قرآن میں ہے ’ ابراہیم بڑا ہی وفادار تھا۔ بڑے ذبیح کے ساتھ ان کا فدیہ ہم نے دیا ‘۔ سفید رنگ بڑی آنکھوں اور بڑے سینگوں والا عمدہ خوراک سے پلا ہوا منیڈھا فدئیے میں دیا گیا جو ثبیر ببول کے درخت سے بندھا ہوا ملا۔ جو جنت میں چالیس سال چرتا رہا۔ منیٰ میں ثبیر کے پاس جو چٹان ہے اس پر یہ جانور ذبح کیا گیا یہ چیختا ہوا اوپر سے اترا تھا۔ یہی وہ مینڈھا ہے جسے ہابیل نے اللہ کی راہ میں قربان کیا تھا۔ اس کی اون قدرے سرخی مائل تھی اس کا نام جریر تھا۔ بعض کہتے ہیں مقام ابراہیم پر اسے ذبح کیا۔ کوئی کہتا ہے مٹی میں نحر پر۔ ایک شخص نے اپنے تئیں راہ اللہ میں ذبح کرنے کی منت مانی تھی تو سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اسے ایک سو اونٹ ذبح کرنے کا فتویٰ دیا تھا لیکن پھر فرماتے تھے کہ ”اگر میں اسے ایک بھیڑ ذبح کرنے کو کہتا تب بھی کافی تھا کیونکہ کتاب اللہ میں ہے کہ ذبیح اللہ کا فدیہ اسی سے دیا گیا تھا۔“ اکثر لوگوں کا یہی قول ہے بعض کہتے ہیں یہ پہاڑی بکرا تھا۔ کوئی کہتا ہے نر ہرن تھا۔ مسند احمد میں ہے کہ { عثمان رضی اللہ عنہ کو بلا کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { میں نے بھیڑ کے سینگ بیت اللہ شریف میں داخلے کے وقت اندر دیکھے تھے اور مجھے یاد نہ رہا کہ میں تجھے ان کے ڈھانک دینے کا حکم دوں، جاؤ اسے ڈھک دو بیت اللہ میں کوئی ایسی چیز نہ ہونی چاہیئے جو نمازی کو اپنی طرف متوجہ کر لے } }۔۱؎ [سنن ابوداود:2030،قال الشيخ الألباني:صحیح] سفیان رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس بھیڑ کے سینگ بیت اللہ میں ہی رہے یہاں تک کہ ایک مرتبہ بیت اللہ میں آگ لگی اس میں وہ جل گئے۔ ۱؎ [سلسلة احادیث صحیحه البانی:23221،] یہ واقعہ بھی اس امر کی دلیل ہے کہ ذبیح اللہ، اسماعیل علیہ السلام تھے اسی وجہ سے ان کی اولاد قریش تک یہ سینگ برابر اور مسلسل چلے آئے یہاں تک کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ نے مبعوث فرمایا۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ ”ان آثار کا بیان جن میں ذبیح اللہ کا نام ہے“ ابومیسرہ فرماتے ہیں یوسف علیہ السلام نے بادشاہ سے فرمایا ”کیا تو میرے ساتھ کھانا چاہتا ہے، میں یوسف بن یعقوب نبی اللہ بن اسحاق ذبیح اللہ بن ابراہیم خلیل اللہ ہوں [ عبید بن عمیر رحمه الله] موسیٰ علیہ السلام نے جناب باری میں عرض کی کہ ”اے اللہ کیا وجہ ہے جو لوگوں کی زبانوں پر یہ چڑھا ہوا ہے کہ ابراہیم، اسمٰعیل اور یعقوب علیہم السلام کے اللہ کی قسم“، تو جواب ملا ’ اس لیے ابراہیم نے تو ہر ہرچیز پر مجھی کو ترجیح دی اور اسحاق علیہ السلام نے اپنے تئیں میری راہ میں ذبح ہونے کے لیے سپرد کر دیا پھر بھلا اور چیزیں اسے پیش کر دینا کیا مشکل تھیں اور یعقوب علیہ السلام کو میں جوں جوں بلاؤں میں ڈالتا گیا اس کے حسن ظنی میرے ساتھ بڑھتی ہی رہی ‘۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے سامنے ایک مرتبہ کسی نے فخراً اپنے باپ دادوں کا نام لیا تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا قابل فخر باپ دادا تو یوسف علیہ السلام کے تھے جو یعقوب بن اسحاق علیہ السلام اور ذبیح اللہ بن ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام تھے۔
عکرمہ، سیدنا ابن عباس، خود سیدنا عباس، سیدنا علی،سعید بن جبیر رضی اللہ عنہم، مجاہد، شعبی، عبید بن عمر، ابومیسرہ، زید بن اسلم، عبداللہ بن شفیق، زہری، قاسم بن ابوبرزہ، محکول، عثمان بن ابی عاص، سدی، حسن، قتادہ، ابو الہذیل، ابن سابط، کعب احبار رحمہم اللہ اجمعین، ان سب کا یہی قول ہے اور ابن جریر رحمہ اللہ بھی اسی کو اختیار کرتے ہیں کہ ذبیح اللہ اسحاق علیہ السلام تھے۔ صحیح علم تو اللہ کو ہی ہے مگر بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ان سب بزرگوں کے استاد کعب احبار رحمہ اللہ ہیں۔ یہ خلافت فاروقی میں مسلمان ہوئے تھے اور کبھی کبھی سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو قدیمی کتابوں کی باتیں سناتے تھے، لوگوں نے اسے رخصت سمجھ کر پھر ان سے ہر ایک بات بیان کرنی شروع کر دی اور صحیح غلط کی تمیز اٹھ گئی حق تو یہ ہے کہ اس امت کو اگلی کتابوں کی ایک بات کی بھی حاجت نہیں۔ بغوی نے کچھ اور نام بھی صحابہ تابعین کے بتلائے ہیں جنہوں نے کہا ہے کہ ذبیح اللہ اسحاق علیہ السلام ہیں۔ ایک مرفوع حدیث میں بھی یہ آیا ہے۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:29495:ضعیف] اگر وہ حدیث صحیح ہوتی تو جھگڑے کا فیصلہ تھا مگر وہ حدیث صحیح نہیں اس میں دو راوی ضعیف ہیں۔ حسن بن دینار متروک ہیں اور علی بن زید بن جدعان منکر الحدیث ہیں اور زیادہ صحیح یہ ہے کہ ہے یہ بھی موقف، چنانچہ ایک سند سے یہ مقولہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کا مروی ہے اور یہی زیادہ ٹھیک ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
اب ان آثار کو سنئے جن سے معلوم ہوتا ہے کہ ذبیح اللہ اسماعیل علیہ السلام ہی تھے اور یہی ٹھیک اور بالکل درست بھی ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما یہی فرماتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ ”یہودی اسحاق علیہ السلام کا نام جھوٹ موٹ لیتے ہیں۔“ ابن عمر رضی اللہ عنہ، مجاہد، شعبی، حسن بصری، محمد بن کعب قرظی، خلیفہ المسلمین عمر ابن عبدالعزیز رحمہ اللہ علیہم کے سامنے جب محمد بن قرظی رحمہ اللہ نے یہ فرمایا اور ساتھ ہی اس کی دلیل بھی دی کہ ”ذبح کے ذکر کے بعد قرآن میں خلیل اللہ علیہ السلام کو اسحاق علیہ السلام کے پیدا ہونے کی بشارت کا ذکر ہے اور ساتھ ہی بیان ہے کہ ان کے ہاں بھی لڑکا ہو گا یعقوب نامی جب ان کے ہاں لڑکا ہونے کی بشارت دی گی تھی پھر باوجود ان کے ہاں لڑکا نہ ہوں کے اس سے پہلے ہی ان کے ذبح کرنے کا حکم کیسے دیا جاتا ہے؟“
تو سیدنا عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے فرمایا ”یہ بہت صاف دلیل ہے میرا ذہن یہاں نہیں پہنچا تھا گو یہ میں بھی جانتا تھا کہ ذبیح اللہ اسماعیل علیہ السلام ہی ہیں۔“ پھر شاہ اسلام نے شام کے ایک یہودی عالم سے پوچھا جو مسلمان ہو گئے تھے کہ تم اس بارے میں کیا علم رکھتے ہو انہوں نے فرمایا امیر المسلمین سچ تو یہی ہے کہ جن کے ذبح کرنے کا حکم دیا گیا وہ اسماعیل علیہ السلام ہی تھے لیکن چونکہ عرب ان کی اولاد میں سے ہیں تو یہ بزرگی ان کی طرف لوٹتی ہے اس حسد کے بارے میں یہودیوں نے اسے بدل دیا اور اسحاق علیہ السلام کا نام لے دیا۔ حقیقی علم اللہ ہی کو ہے ہمارا ایمان ہے کہ اسماعیل، اسحاق علیہم السلام دونوں ہی طاہر و طیب اور اللہ کے سچے فرمانبردار تھے۔ کتاب الزہد میں ہے کہ امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کے صاحبزادے عبداللہ رحمہ اللہ نے اپنے والد سے جب یہ مسئلہ پوچھا تو آپ نے جواب دیا کہ ”ذبح ہونے والے اسماعیل علیہ السلام ہی تھے۔“ علی ابن عمر، ابوالطفیل، سعید بن مسیب، سعید بن جبیر، حسن، مجاہد، شعبی، محمد بن کعب، ابوجعفر محمد بن علی ابوصالح رحمہ اللہ عنہم سے بھی یہی مروی ہے۔
امام بغوی رحمہ اللہ نے اور بھی صحابہ رضی اللہ عنہم اور تابعین کے نام گنوائے ہیں۔ ایک غریب حدیث بھی اسی کی تائید میں مروی ہے اس میں ہے کہ { شام میں امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے سامنے یہ بحث چھڑی کہ ذبیح اللہ کون ہیں؟ تو آپ نے فرمایا خوب ہوا جو یہ معاملہ مجھ جیسے باخبر شخص کے پاس آیا، سنو! ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھے جب ایک شخص آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا اے اللہ کی راہ میں دو ذبح ہونے والوں کی نسل کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم مجھے بھی مال غنیمت میں سے کچھ دلوایئے اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہنس دیئے۔ ایک تو ذبیح اللہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے والد عبداللہ تھے، دوسرے اسمعیل علیہ السلام جن کی نسل میں سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ عبداللہ کے ذبیح اللہ ہونے کا واقعہ یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دادا عبدالمطلب نے جب چاہ زمزم کھودا تو نذر مانی تھی کی اگر یہ کام آسانی سے پورا ہو گیا تو اپنے ایک لڑکے کو راہ اللہ میں ذبح کروں گا جب کام ہو گیا اور قرعہ اندازی کی گئی کہ کس بیٹے کو اللہ کے نام پر ذبح کریں تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے والد عبداللہ کا نام نکلا۔ ان کے ننھیال والوں نے کہا آپ ان کی طرف سے ایک سو اونٹ راہ اللہ ذبح کر دیں چنانچہ وہ ذبح کر دیئے گئے اور اسماعیل علیہ السلام کے ذبیح اللہ ہونے کا واقعہ تو مشہور ہی ہے }۔۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:29530:ضعیف] ابن جریر میں یہ روایت موجود ہے اور مغازی امویہ میں بھی۔
امام ابن جریر رحمہ اللہ نے اسحاق علیہ السلام کے ذبیح اللہ ہونے کی ایک دلیل تو یہ پیش کی یہ کہ جس علیم بچے کی بشارت کا ذکر ہے اس سے مراد اسحاق علیہ السلام ہیں قرآن میں اور جگہ ہے «قَالُوا لَا تَخَفْ وَبَشَّرُوهُ بِغُلَامٍ عَلِيمٍ» ۱؎ [51-الذاريات:28] ، اور یعقوب علیہ السلام کی بشارت کا یہ جواب دیا ہے کہ وہ آپ کے ساتھ چلنے پھرنے کی عمر کو پہنچ گئے تھے اور ممکن ہے کہ یعقوب علیہ السلام کے ساتھ ہی کوئی اور اولاد بھی ہوئی ہو اور کعبتہ اللہ میں سینگوں کی موجودگی کے بارے میں فرماتے ہیں بہت ممکن ہے کہ یہ بلادکنعان سے لا کر یہاں رکھے گئے ہوں۔“ اور بعض لوگوں سے اسحاق علیہ السلام کے نام کی صراحت بھی آئی ہے، لیکن یہ سب باتیں حقیقت سے بہت دور ہیں۔ ہاں اسماعیل علیہ السلام کے ذبیح اللہ ہونے پر محمد بن کعب قرظی رحمہ اللہ کا استدلال بہت صاف اور قوی ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ پہلے ذبیح اللہ اسمعیل علیہ السلام کے تولد ہونے کی بشارت دی گئی تھی یہاں اس کے بعد ان کے بھائی اسحاق علیہ السلام کی بشارت دی جا رہی ہے۔ سورۃ ہود اور سورۃ الحجر میں بھی اس کا ذکر گذر چکا ہے۔ «نبیاً» حال مقدرہ ہے یعنی وہ نبی صالح ہو گا۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ذبیح اللہ اسحاق علیہ السلام تھے اور یہاں نبوت اسحاق علیہ السلام کو بشارت ہے۔ جیسے موسیٰ علیہ السلام کے بارے میں فرمان ہے کہ ’ ہم نے انہیں اپنی رحمت سے ان کے بھائی ہارون کو نبی بنا دیا ‘۔ حالانکہ ہارون علیہ السلام موسیٰ علیہ السلام سے بڑے تھے تو یہاں بھی ان کی نبوت کی بشارت ہے۔ پس یہ بشارت اس وقت دی گئی جبکہ امتحان ذبح میں وہ صابر ثابت ہوئے۔ یہ بھی مروی ہے کہ یہ بشارت دو مرتبہ دی گئی پیدائش سے کچھ قبل اور نبوت سے کچھ قبل۔
حضرت قتادہ رحمہ اللہ سے بھی یہی مروی ہے۔ ’ ان پر اور اسحاق علیہ السلام پر ہماری برکتیں ہم نے نازل فرمائیں، ان کی اولاد میں ہر قسم کے لوگ ہیں نیک بھی بد بھی ‘۔ جیسے نوح علیہ السلام سے فرمان ہوا تھا کہ «قِيلَ يَا نُوحُ اهْبِطْ بِسَلَامٍ مِّنَّا وَبَرَكَاتٍ عَلَيْكَ وَعَلَىٰ أُمَمٍ مِّمَّن مَّعَكَ وَأُمَمٌ سَنُمَتِّعُهُمْ ثُمَّ يَمَسُّهُم مِّنَّا عَذَابٌ أَلِيمٌ» ’ اے نوح ہماری سلام اور برکت کے ساتھ تواتر۔ تو بھی اور تیرے ساتھ والے بھی اور ایسے بھی لوگ ہیں جنہیں ہم فائدے پہنچائیں گے پھر انہیں ہماری طرف سے درد ناک عذاب پہنچیں گے ‘۔۱؎ [11-هود:48]
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 105،104) ➊ { وَ نَادَيْنٰهُ اَنْ يّٰۤاِبْرٰهِيْمُ …:} جب ان دونوں نے حکم مان لیا اور اس نے اسے پیشانی کی ایک جانب پر گرا دیا (تو ہوا جو ہوا) اور ہم نے اسے آواز دی کہ اے ابراہیم! یقینا تو نے خواب سچا کر دکھایا۔ مفسر سلیمان الجمل نے فرمایا: ”اگر تم کہو کہ اللہ تعالیٰ نے ابراہیم علیہ السلام کو کیسے فرمایا کہ تو نے خواب سچا کر دکھایا، حالانکہ انھوں نے خواب دیکھا تھا کہ وہ اپنے بیٹے کو ذبح کر رہے ہیں، خواب سچا تو اسی صورت میں ہونا تھا کہ اسے ذبح کر دیتے؟ تو میں کہوں گا کہ اللہ تعالیٰ نے خواب سچا کر دکھانے والا اس لیے فرمایا کہ انھوں نے اپنی پوری کوشش اور طاقت صرف کر دی، جو کچھ کر سکتے تھے کیا، ذبح کرنے والا جو کچھ کرتا ہے وہ سب کیا، تو اللہ تعالیٰ کو جو مطلوب تھا وہ انھوں نے ادا کر دیا اور وہ تھا اللہ تعالیٰ کے حکم کے لیے پوری طرح مطیع اور فرماں بردار ہو جانا۔“ بقاعی نے اس سوال کے جواب میں فرمایا: {”قَالَ اللّٰهُ قَدْ صَدَّقْتَ الرُّؤْيَا فِيْ أَنَّكَ تَذْبَحُهُ فَإِنَّكَ قَدْ عَلَجْتَ وَ بَذَلْتَ الْوُسْعَ فِيْهِ وَ فَعَلْتَ مَا رَأَيْتَ فِي الْمَنَامِ فَمَا انْذَبَحَ لِأَنَّكَ مَا رَأَيْتَ أَنَّكَ ذَبَحْتَهُ فَاكْفُفْ عَنْ مُعَالَجَةِ الذِّبْحِ بِأَزْيَدَ مِنْ هٰذَا “} ”اللہ تعالیٰ نے فرمایا، تو نے اپنا خواب سچا کر دیا کہ تو اسے ذبح کر رہا ہے، کیونکہ تو نے کوشش کی اور اپنی پوری طاقت اس میں صرف کی اور جو کچھ خواب میں دیکھا تھا وہ کیا، مگر وہ ذبح نہیں ہوا، کیونکہ تو نے یہ نہیں دیکھا تھا کہ تو نے اسے ذبح کر دیا ہے (بلکہ یہ دیکھا تھا کہ ذبح کر رہے ہو) اس لیے اس سے زیادہ ذبح کی کوشش سے رک جا۔“ بقاعی کے علاوہ اور کئی مفسرین نے یہی توجیہ فرمائی ہے کہ خواب {” اَنِّيْۤ اَذْبَحُكَ “} تھا، {”أَنِّيْ ذَبَحْتُكَ“} نہیں تھا اور ابراہیم علیہ السلام نے جو کچھ کیا اس کے ساتھ وہ خواب سچا ہو گیا۔ ➋ { اِنَّا كَذٰلِكَ نَجْزِي الْمُحْسِنِيْنَ:} یعنی ہمارا دستور ہے کہ ہم نیکو کاروں کو ایسے مشکل حکم کر کے آزماتے ہیں، پھر انھیں ثابت قدم رکھتے ہیں۔ جب وہ اس آزمائش میں پورے اترتے ہیں تو ان کے درجات بلند کرتے ہیں اور جس آزمائش میں ہم انھیں ڈالتے ہیں اس سے نکلوا بھی دیتے ہیں، جیسے ابراہیم علیہ السلام کو آگ کی آزمائش میں ڈالا اور وہاں سے سلامت نکال بھی لائے اور ان کا درجہ بلند کر دیا۔ اسی طرح بیٹے کی قربانی کی آزمائش میں بیٹے کو بچا لیا اور درجات بھی بلند کر دیے۔
تو نے خواب سچ کر دکھایا ہم نیکی کرنے والوں کو ایسی ہی جزا دیتے ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
یقیناً تو نے اپنے خواب کو سچا کر دکھایا، بیشک ہم نیکی کرنے والوں کو اسی طرح جزا دیتے ہیں
احمد رضا خان بریلوی
بیشک تو نے خواب سچ کردکھایا ہم ایسا ہی صلہ دیتے ہیں نیکوں کو،
علامہ محمد حسین نجفی
تم نے (اپنے) خواب کو سچ کر دکھایا بے شک ہم نیکوکاروں کو اسی طرح جزا دیتے ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
یقینا تو نے خواب سچا کر دکھایا، بے شک ہم نیکی کرنے والوں کو اسی طرح جزا دیتے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
ذبیح اللہ کی بحث اور یہودی روایات ٭٭
خلیل اللہ علیہ السلام جب اپنی قوم کی ہدایت سے مایوس ہو گئے، بڑی بڑی قدرتی نشانیاں دیکھ کر بھی جب انہیں ایمان نصیب نہ ہوا تو آپ علیہ السلام نے ان سے ہٹ جانا پسند فرمایا اور اعلان کر دیا کہ میں اب تم میں سے ہجرت کرجاؤں گا میرا رہنما میرا رب ہے۔ ساتھ ہی اپنے رب سے اپنے ہاں اولاد ہونے کی دعا مانگی تاکہ وہی توحید میں آپ علیہ السلام کا ساتھ دے۔ اسی وقت دعا قبول ہوتی ہے اور ایک بردبار بچے کی بشارت دی جاتی۔ یہ اسماعیل علیہ السلام تھے یہی آپ علیہ السلام کے لیے صاحبزادے تھے اور اسحاق علیہ السلام سے بڑے تھے۔ اسے تو اہل کتاب بھی مانتے ہیں بلکہ ان کی کتب میں موجود ہے کہ اسماعیل علیہ السلام کی پیدائش کے وقت ابراہیم علیہ السلام کی عمر چھیاسی سال کی تھی اور جس وقت اسحاق علیہ السلام تولد ہوتے ہیں اس وقت آپ علیہ السلام کی عمر ننانوے برس کی تھی۔ بلکہ ان کی اپنی کتاب میں تو یہ بھی ہے کہ جناب ابراہیم علیہ السلام کو اپنے اکلوتے فرزند کو ذبح کرنے کا حکم ہوا تھا۔ لیکن صرف اس لیے کہ یہ لوگ خود تو نبی اللہ اسحاق علیہ السلام کی اولاد میں سے ہیں اور نبی اللہ و ذبیح اللہ اسماعیل علیہ السلام کی اولاد میں سے عرب ہیں۔ انہی نے واقعہ کی اصلیت بدل دی اور اس فضیلت کو اسماعیل علیہ السلام سے ہٹاکر اسحاق علیہ السلام کو دے دیا اور بے جا تاویلیں کرتے اللہ کے کلام کو بدل ڈالا، اور کہا ہماری کتاب میں لفظ «وَحِیْدَكَ» ہے اس سے مراد اکلوتا نہیں بلکہ جو تیرے پاس اس وقت اکیلا ہے وہ ہے۔ یہ اس لیے کہ اسماعیل تو اپنی والدہ کے ساتھ مکے میں تھے یہاں خلیل اللہ کے ساتھ صرف اسحاق تھے۔ لیکن یہ بالکل غلط ہے۔ وحید اسی کو کہا جاتا ہے جو اکلوتا ہو اس کا اور کوئی بھائی نہ ہو۔ پھر یہاں ایک بات اور بھی ہے کہ اکلوتے اور پہلوٹھی کے بچے کے ساتھ جو محبت ہوتی اور اس کے جو لاڈ پیار ہوتے ہیں عموماً دوسری اولاد کے ہونے پر پھر وہ باقی نہیں رہتے۔ اس لیے اس کے ذبیحہ کا حکم امتحان اور آزمائش کی زبردست کڑی ہے۔
ہم اسے مانتے ہیں کہ بعض سلف بھی اس کے قائل ہوئے ہیں کہ ذبیح اللہ اسحاق علیہ السلام تھے، یہاں تک کہ بعض صحابہ رضی اللہ عنہم سے بھی یہ مروی ہے لیکن یہ چیز کتاب و سنت سے ثابت نہیں ہوتی۔ بلکہ خیال یہ ہے کہ بنو اسرائیل کی ایک شہرت دی ہوئی بات کو ان حضرات نے بھی بے دلیل اپنے ہاں لے لیا۔ دور کیوں جائیں کتاب اللہ کے الفاظ میں ہی غور کر لیجئیے کہ اسمٰعیل علیہ السلام کی بشارت کا ”غلام حلیم“ کہہ کر ذکر ہوا اور پھر اللہ کی راہ میں ذبح کے لیے تیار ہونے کا ذکر ہوا۔ اس تمام بیان کو ختم کر کے پھر نبی صالح اسحاق علیہ السلام کے تولد کی بشارت کا بیان ہوا۔ اور فرشتوں نے بشارت اسحاق کے موقع پر ”غلام علیم“ فرمایا تھا۔ اسی طرح قرآن میں ہے بشارت اسحاق علیہ السلام کے ساتھ ہی ہے «وَمِنْ وَّرَاءِ اِسْحٰقَ يَعْقُوْبَ» ۱؎ [11-ھود:71] یعنی ’ ابراہیم کی حیات میں ہی اسحاق کے ہاں یعقوب پیدا ہوں گے ‘، یعنی ان کی تو نسل جاری رہنے کا پہلے ہی علم کرایا جا چکا تھا اب انہیں ذبح کرنے کا حکم کیسے دیا جاتا؟ اسے ہم پہلے بھی بیان کر چکے۔ البتہ اسماعیل علیہ السلام کا وصف یہاں پر بردباری کا بیان کیا گیا ہے۔ جو ذبیح کے لیے نہایت مناسب ہے۔
اب اسماعیل علیہ السلام بڑے ہو گئے اپنے والد کے ساتھ چلنے پھرنے کے قابل ہو گئے۔ آپ علیہ السلام اس وقت مع اپنی والدہ محترمہ کے فاران میں تھے ابراہیم علیہ السلام عموماً وہاں جاتے آتے رہتے تھے یہ مذکور ہے کہ براق پر جاتے تھے اور اس جملے کے یہ معنی بھی ہیں کہ جوانی کے لگ بھگ ہو گئے لڑکپن کا زمانہ نکل گیا اور باپ کی طرح چلنے پھرنے کام کاج کرنے کے قابل بن گئے تو ابراہیم علیہ السلام نے خواب دیکھا کہ گویا آپ علیہ السلام اپنے پیارے بچے کو ذبح کر رہے ہیں۔ انبیاء کے خواب وحی ہوتے ہیں اور اس کی دلیل یہی آیت ہے۔ ایک مرفوع روایت میں بھی یہ ہے۔ ۱؎ [صحیح بخاری:138] پس اللہ کے رسول علیہ السلام نے اپنے لخت جگر کی آزمائش کے لیے کہ اچانک وہ گھبرا نہ اٹھے، اپنا ارادہ ان کے سامنے ظاہر کیا۔ وہاں کیا تھا۔ وہ بھی اسی درخت کے پھل تھے نبی ابن نبی علیہ السلام تھے جواب دیتے ہیں اب پھر دیر کیوں لگا رہے ہو یہ باتیں بھی پوچھنے کی ہوتی ہیں جو حکم ہوا ہے اسے فوراً کر ڈالیے اور اگر میری نسبت کھٹکا ہو تو زبانی اطمینانی کیا کروں چھری رکھئے خود معلوم ہو جائے گا کہ میں کیسا کچھ صابر ہوں۔ ان شاءاللہ میرا صبر آپ کا جی خوش کر دے گا۔ سبحان اللہ جو کہا تھا وہی کر کے دکھایا اور صادق الوعد ہونے کا سرٹیفیکیٹ اللہ کی طرف سے حاصل کر ہی لیا۔ آخر باپ بیٹا دونوں حکم اللہ کی اطاعت کے لیے جان بکف تیار ہو جاتے ہیں باپ بچے کو ذبح کرنے کے لیے تیار ہو جاتا ہے۔ اور باپ اپنے نور چشم لخت جگر کو منہ کے بل زمین پر گراتے ہیں تاکہ ذبح کے وقت منہ دیکھ کر محبت نہ آ جائے اور ہاتھ سست نہ پڑ جائے۔
مسند احمد میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ”جب ابراہیم علیہ السلام اپنی نور نظر کو ذبح کرنے کے لیے بحکم اللہ لے چلے تو سعی کے وقت شیطان سامنے آیا لیکن ابراہیم علیہ السلام اس سے آگے بڑھ گئے، پھر جبرائیل علیہ السلام کے ساتھ آپ جمرہ عقبہ پر پہنچے تو پھر شیطان سامنے آیا، آپ علیہ السلام نے اسے سات کنکریاں ماریں۔“ ”پھر جمرہ وسطی پاس آیا پھر وہاں سات کنکریاں ماریں۔ پھر آگے بڑھ کر اپنے پیارے بچے کو اللہ کے نام پر ذبح کرنے کے لیے نیچے پچھاڑا، ذبیح اللہ کے پاک جسم پر اس وقت سفید چادر تھی کہنے لگے ابا جی اسے اتار لیجئیے تاکہ اس میں آپ مجھے کفنا سکیں۔ اس وقت بیٹے کو ننگا کرتے وقت باپ کا عجب حال تھا کہ آواز آئی بس ابراہیم خواب کو سچا کر چکے۔ مڑ کر دیکھا تو ایک مینڈا سفید رنگ کا بڑے بڑے سینگوں اور صاف آنکھوں والا نظر پڑا، ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں اسی لیے ہم اس قسم کے مینڈے (چھترے) چن چن کر قربانی کے لیے لیتے تھے۔“
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما ہی سے دوسری روایت میں اسحاق علیہ السلام کا نام مروی ہے۔ تو گو دونوں نام آپ رضی اللہ عنہما سے مروی ہیں لیکن اول ہی اولیٰ ہے اور اس کی دلیلیں آ رہی ہیں۔ ان شاءاللہ تعالیٰ۔ اس کے بدلے بڑا ذبیحہ، اللہ نے عطا فرمایا اس کی بابت سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”یہ جنتی چھترا تھا جو وہاں چالیس سال سے کھا پی رہا تھا۔“ اسے دیکھ کر آپ علیہ السلام اپنے بچے کو چھوڑ کر اس کے پیچھے ہولیے۔ جمرہ اولیٰ پر آ کر سات کنکریاں پھنکیں پھر وہ بھاگ کر جمرہ وسطی پر آ گیا۔ سات کنکریاں ماریں اور وہاں سے ملخر میں لا کر ذبح کیا اس کے سینگ سر سمیت ابتداء اسلام کے زمانہ تک کعبے کے پرنالے کے پاس لٹکتے رہے تھے پھر سوکھ گئے۔ ایک مرتبہ سیدنا کعب رضی اللہ عنہ بیٹھے ہوئے باتیں کر رہے تھے۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ تو حدیثیں بیان کر رہے تھے اور کعب رضی اللہ عنہ کتاب کے قصے بیان کر رہے تھے۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ { ہر نبی کے لیے ایک دعا قبول شدہ ہے اور میں نے اپنی اس مقبول دعا کو پوشیدہ کر کے رکھ چھوڑا ہے اپنی امت کی شفاعت کے لئے جو بروز قیامت ہوگی}، تو سیدنا کعب رضی اللہ عنہ نے فرمایا تم نے خود اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے؟ فرمایا ہاں۔ سیدنا کعب رضی اللہ عنہ خوش ہوئے اور فرمانے لگے تم پر میرے ماں باپ فدا ہوں یا فرمایا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر میرے ماں باپ صدقے جائیں۔
پھر کعب رضی اللہ عنہ نے ابراہیم خلیل علیہ السلام کا قصہ سنایا کہ جب آپ علیہ السلام اپنے لڑکے اسمٰعیل علیہ السلام کو ذبح کرنے کے لیے مستعد ہو گئے تو شیطان نے کہا اگر میں اس وقت انہیں نہ بہکا سکا تو مجھے ان سے عمر بھر کے لیے مایوس ہو جانا چاہیئے۔ پہلے تو یہ سارہ رضی اللہ عنہا کے پاس آیا اور پوچھا کہ ابراہیم علیہ السلام تمہارے لڑکے کو کہاں لے گئے ہیں؟ مائی صاحبہ رضی اللہ عنہا نے جواب دیا اپنے کسی کام پر لے گئے ہیں، اس نے کہا نہیں بلکہ وہ ذبح کرنے کے لیے لے گئے ہیں۔ مائی صاحبہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا وہ اسے کیوں ذبح کرنے لگے؟ لعین نے کہا وہ کہتے ہیں اللہ کی طرف سے یہی حکم ہے جواب ملا پھر تو یہی بہتر ہے کہ وہ جلدی سے اللہ کے حکم کی بجا آوری سے فارغ ہو لیں۔ یہاں سے نامراد ہو کر بچے کے پاس آیا اور کہا تمہارے ابا تمہیں کہاں لے جاتے ہیں؟ فرمایا اپنے کام کے لیے کہا نہیں بلکہ وہ تجھے ذبح کرنے کے لیے لے جا رہے ہیں، فرمایا یہ کیوں؟ کہا اس لیے کہ وہ سمجھتے ہیں اللہ کا انہیں حکم ہے۔ کہا پھر تو واللہ انہیں اس کام میں بہت جلدی کرنی چاہیئے۔ ان سے بھی مایوس ہو کر یہ ملعون خلیل اللہ علیہ السلام کے پاس پہنچا۔ ان سے کہا بچے کو کہاں لے جا رہے ہو؟ جواب دیا اپنے کام کے لیے ملعون نے کہا نہیں بلکہ تم تو اسے ذبح کرنے کے لیے جا رہے ہو؟ آپ علیہ السلام نے فرمایا یہ کیوں؟ بولا اس لیے کہ تمہارا خیال ہے کہ اللہ کا حکم تمہیں یونہی ہے، آپ علیہ السلام نے فرمایا اللہ کی قسم پھر تو میں ضرور ہی اسے ذبح کر ڈالوں گا۔ اب ابلیس مایوس ہو گیا۔۱؎ [عبد الرزاق فی المصنف:20864:صحیح]
دوسری روایت میں یہ بھی ہے کہ اس تمام واقعے کے بعد جناب باری تعالیٰ نے اسحاق علیہ السلام سے فرمایا کہ ’ ایک دعا تم مجھ سے مانگو جو مانگو گے ملے گا ‘۔ اسحاق علیہ السلام نے کہا ”پھر میری دعا یہ ہے کہ جس نے تیرے ساتھ شریک نہ کیا ہو اسے تو ضرور جنت میں لے جانا۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے { اللہ تعالیٰ نے مجھے اختیار دیا کہ میں دو باتوں میں سے ایک کو اختیار کر لوں یا تو یہ کہ میری آدھوں آدھ امت بخشی جائے یا یہ کہ میں شفاعت کروں اور اسے اللہ تعالیٰ قبول فرما لے تو میں نے شفاعت کرنے کو ترجیح دی اس پر کہ وہ عام ہو گی، ہاں ایک دعا تھی کہ میں وہی کرتا لیکن اللہ کا ایک نیک بندہ مجھ سے پہلے اس دعا کو مانگ چکا تھا }۔ واقعہ یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے اسحاق علیہ السلام سے ذبح ہونے کی تکلیف دور کر دی تو ان سے فرمایا گیا کہ ’ تو مانگ جو مانگے گا دیا جائے گا ‘۔ تو اسحاق علیہ السلام نے فرمایا ”واللہ شیطان کے بہکانے سے پہلے ہی میں اسے مانگ لوں گا، اللہ جو شخص اس حالت میں مرا ہو کہ اس نے تیرے ساتھ کسی کو شریک نہ کیا ہو تو اسے بخش دے اور جنت میں پہنچا دے۔“ ۱؎ [الدر المنشور للسیوطی:531/5:ضعیف] یہ حدیث ابن ابی حاتم میں ہے لیکن سنداً غریب اور منکر ہے اور اس کے ایک راوی عبدالرحمٰن بن زید بن اسلم ضعیف ہیں اور مجھے تو یہ بھی ڈر ہے کہ یہ الفاظ کہ (جب اللہ تعالیٰ نے اسحاق علیہ السلام سے) آخر تک راوی اپنے نہ ہوں جنہیں انہوں نے حدیث میں داخل کر دئیے ہیں۔
ذبیح اللہ تو اسماعیل علیہ السلام ہیں، محل ذبح منیٰ ہے اور وہ مکے میں ہے اور اسماعیل علیہ السلام یہیں تھے نہ کہ اسحاق علیہ السلام وہ تو شہر کنعان میں تھے جو شام ہے۔ جب ابراہیم علیہ السلام اپنے پیارے بچے کو ذبح کرنے کے لیے لٹا دیتے ہیں جناب باری سے ندا آتی ہے کہ ’ بس ابراہیم علیہ السلام تم اپنے خواب کو پورا کر چکے ‘۔ سدی رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ”جب خلیل اللہ علیہ السلام نے ذبیح اللہ علیہ السلام کے حلق پر چھری پھیری تو گردن تانبے کی ہو گئے اور نہ کٹی اور یہ آواز آئی۔“
ہم اسی طرح نیک کاروں کو بدلہ دیتے ہیں۔ یعنی سختیوں سے بچا لیتے ہیں اور چھٹکارا کر دیتے ہیں۔ جیسے فرمایا ’ اللہ سے ڈرتے رہنے والوں کے لیے اللہ تعالیٰ چھٹکارے کی صورت نکال ہی دیتا ہے اور اسے ایسی طرح روزی پہنچاتا ہے کہ اس کے گمان و وہم میں بھی نہ ہو۔ اللہ پر بھروسہ کرنے والوں کو اللہ ہی کافی ہے اللہ اپنے کاموں کو مکمل کر کے چھوڑتا ہے ہرچیز کا اس نے ایک اندازہ مقرر کر رکھا ہے ‘۔ اس آیت سے اس پر استدلال کیا گیا ہے کہ فعل پر قدرت پانے سے پہلے ہی حکم منسوخ ہو سکتا ہے۔
ہاں معتزلہ اسے نہیں مانتے۔ وجہ استدلال بہت ظاہر ہے اس لیے کہ خلیل اللہ علیہ السلام کو اپنے بیٹے کے ذبح کرنے کا حکم ہوتا ہے اور پھر ذبح سے پہلے ہی فدئیے کے ساتھ منسوخ کر دیا جاتا ہے۔ مقصود اس سے یہ تھا کہ صبر کا اور بجا آوری حکم پر مستعدی کا ثواب مرحمت فرما دیا جائے۔ اسی لیے ارشاد ہوا ’ یہ تو صرف ایک آزمائش تھی کھلا امتحان تھا کہ ادھر حکم ہوا ادھر تیاری ہوئی ‘۔ اسی لیے جناب خلیل اللہ علیہ السلام کی تعریف میں قرآن میں ہے ’ ابراہیم بڑا ہی وفادار تھا۔ بڑے ذبیح کے ساتھ ان کا فدیہ ہم نے دیا ‘۔ سفید رنگ بڑی آنکھوں اور بڑے سینگوں والا عمدہ خوراک سے پلا ہوا منیڈھا فدئیے میں دیا گیا جو ثبیر ببول کے درخت سے بندھا ہوا ملا۔ جو جنت میں چالیس سال چرتا رہا۔ منیٰ میں ثبیر کے پاس جو چٹان ہے اس پر یہ جانور ذبح کیا گیا یہ چیختا ہوا اوپر سے اترا تھا۔ یہی وہ مینڈھا ہے جسے ہابیل نے اللہ کی راہ میں قربان کیا تھا۔ اس کی اون قدرے سرخی مائل تھی اس کا نام جریر تھا۔ بعض کہتے ہیں مقام ابراہیم پر اسے ذبح کیا۔ کوئی کہتا ہے مٹی میں نحر پر۔ ایک شخص نے اپنے تئیں راہ اللہ میں ذبح کرنے کی منت مانی تھی تو سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اسے ایک سو اونٹ ذبح کرنے کا فتویٰ دیا تھا لیکن پھر فرماتے تھے کہ ”اگر میں اسے ایک بھیڑ ذبح کرنے کو کہتا تب بھی کافی تھا کیونکہ کتاب اللہ میں ہے کہ ذبیح اللہ کا فدیہ اسی سے دیا گیا تھا۔“ اکثر لوگوں کا یہی قول ہے بعض کہتے ہیں یہ پہاڑی بکرا تھا۔ کوئی کہتا ہے نر ہرن تھا۔ مسند احمد میں ہے کہ { عثمان رضی اللہ عنہ کو بلا کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { میں نے بھیڑ کے سینگ بیت اللہ شریف میں داخلے کے وقت اندر دیکھے تھے اور مجھے یاد نہ رہا کہ میں تجھے ان کے ڈھانک دینے کا حکم دوں، جاؤ اسے ڈھک دو بیت اللہ میں کوئی ایسی چیز نہ ہونی چاہیئے جو نمازی کو اپنی طرف متوجہ کر لے } }۔۱؎ [سنن ابوداود:2030،قال الشيخ الألباني:صحیح] سفیان رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس بھیڑ کے سینگ بیت اللہ میں ہی رہے یہاں تک کہ ایک مرتبہ بیت اللہ میں آگ لگی اس میں وہ جل گئے۔ ۱؎ [سلسلة احادیث صحیحه البانی:23221،] یہ واقعہ بھی اس امر کی دلیل ہے کہ ذبیح اللہ، اسماعیل علیہ السلام تھے اسی وجہ سے ان کی اولاد قریش تک یہ سینگ برابر اور مسلسل چلے آئے یہاں تک کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ نے مبعوث فرمایا۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ ”ان آثار کا بیان جن میں ذبیح اللہ کا نام ہے“ ابومیسرہ فرماتے ہیں یوسف علیہ السلام نے بادشاہ سے فرمایا ”کیا تو میرے ساتھ کھانا چاہتا ہے، میں یوسف بن یعقوب نبی اللہ بن اسحاق ذبیح اللہ بن ابراہیم خلیل اللہ ہوں [ عبید بن عمیر رحمه الله] موسیٰ علیہ السلام نے جناب باری میں عرض کی کہ ”اے اللہ کیا وجہ ہے جو لوگوں کی زبانوں پر یہ چڑھا ہوا ہے کہ ابراہیم، اسمٰعیل اور یعقوب علیہم السلام کے اللہ کی قسم“، تو جواب ملا ’ اس لیے ابراہیم نے تو ہر ہرچیز پر مجھی کو ترجیح دی اور اسحاق علیہ السلام نے اپنے تئیں میری راہ میں ذبح ہونے کے لیے سپرد کر دیا پھر بھلا اور چیزیں اسے پیش کر دینا کیا مشکل تھیں اور یعقوب علیہ السلام کو میں جوں جوں بلاؤں میں ڈالتا گیا اس کے حسن ظنی میرے ساتھ بڑھتی ہی رہی ‘۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے سامنے ایک مرتبہ کسی نے فخراً اپنے باپ دادوں کا نام لیا تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا قابل فخر باپ دادا تو یوسف علیہ السلام کے تھے جو یعقوب بن اسحاق علیہ السلام اور ذبیح اللہ بن ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام تھے۔
عکرمہ، سیدنا ابن عباس، خود سیدنا عباس، سیدنا علی،سعید بن جبیر رضی اللہ عنہم، مجاہد، شعبی، عبید بن عمر، ابومیسرہ، زید بن اسلم، عبداللہ بن شفیق، زہری، قاسم بن ابوبرزہ، محکول، عثمان بن ابی عاص، سدی، حسن، قتادہ، ابو الہذیل، ابن سابط، کعب احبار رحمہم اللہ اجمعین، ان سب کا یہی قول ہے اور ابن جریر رحمہ اللہ بھی اسی کو اختیار کرتے ہیں کہ ذبیح اللہ اسحاق علیہ السلام تھے۔ صحیح علم تو اللہ کو ہی ہے مگر بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ان سب بزرگوں کے استاد کعب احبار رحمہ اللہ ہیں۔ یہ خلافت فاروقی میں مسلمان ہوئے تھے اور کبھی کبھی سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو قدیمی کتابوں کی باتیں سناتے تھے، لوگوں نے اسے رخصت سمجھ کر پھر ان سے ہر ایک بات بیان کرنی شروع کر دی اور صحیح غلط کی تمیز اٹھ گئی حق تو یہ ہے کہ اس امت کو اگلی کتابوں کی ایک بات کی بھی حاجت نہیں۔ بغوی نے کچھ اور نام بھی صحابہ تابعین کے بتلائے ہیں جنہوں نے کہا ہے کہ ذبیح اللہ اسحاق علیہ السلام ہیں۔ ایک مرفوع حدیث میں بھی یہ آیا ہے۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:29495:ضعیف] اگر وہ حدیث صحیح ہوتی تو جھگڑے کا فیصلہ تھا مگر وہ حدیث صحیح نہیں اس میں دو راوی ضعیف ہیں۔ حسن بن دینار متروک ہیں اور علی بن زید بن جدعان منکر الحدیث ہیں اور زیادہ صحیح یہ ہے کہ ہے یہ بھی موقف، چنانچہ ایک سند سے یہ مقولہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کا مروی ہے اور یہی زیادہ ٹھیک ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
اب ان آثار کو سنئے جن سے معلوم ہوتا ہے کہ ذبیح اللہ اسماعیل علیہ السلام ہی تھے اور یہی ٹھیک اور بالکل درست بھی ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما یہی فرماتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ ”یہودی اسحاق علیہ السلام کا نام جھوٹ موٹ لیتے ہیں۔“ ابن عمر رضی اللہ عنہ، مجاہد، شعبی، حسن بصری، محمد بن کعب قرظی، خلیفہ المسلمین عمر ابن عبدالعزیز رحمہ اللہ علیہم کے سامنے جب محمد بن قرظی رحمہ اللہ نے یہ فرمایا اور ساتھ ہی اس کی دلیل بھی دی کہ ”ذبح کے ذکر کے بعد قرآن میں خلیل اللہ علیہ السلام کو اسحاق علیہ السلام کے پیدا ہونے کی بشارت کا ذکر ہے اور ساتھ ہی بیان ہے کہ ان کے ہاں بھی لڑکا ہو گا یعقوب نامی جب ان کے ہاں لڑکا ہونے کی بشارت دی گی تھی پھر باوجود ان کے ہاں لڑکا نہ ہوں کے اس سے پہلے ہی ان کے ذبح کرنے کا حکم کیسے دیا جاتا ہے؟“
تو سیدنا عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے فرمایا ”یہ بہت صاف دلیل ہے میرا ذہن یہاں نہیں پہنچا تھا گو یہ میں بھی جانتا تھا کہ ذبیح اللہ اسماعیل علیہ السلام ہی ہیں۔“ پھر شاہ اسلام نے شام کے ایک یہودی عالم سے پوچھا جو مسلمان ہو گئے تھے کہ تم اس بارے میں کیا علم رکھتے ہو انہوں نے فرمایا امیر المسلمین سچ تو یہی ہے کہ جن کے ذبح کرنے کا حکم دیا گیا وہ اسماعیل علیہ السلام ہی تھے لیکن چونکہ عرب ان کی اولاد میں سے ہیں تو یہ بزرگی ان کی طرف لوٹتی ہے اس حسد کے بارے میں یہودیوں نے اسے بدل دیا اور اسحاق علیہ السلام کا نام لے دیا۔ حقیقی علم اللہ ہی کو ہے ہمارا ایمان ہے کہ اسماعیل، اسحاق علیہم السلام دونوں ہی طاہر و طیب اور اللہ کے سچے فرمانبردار تھے۔ کتاب الزہد میں ہے کہ امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کے صاحبزادے عبداللہ رحمہ اللہ نے اپنے والد سے جب یہ مسئلہ پوچھا تو آپ نے جواب دیا کہ ”ذبح ہونے والے اسماعیل علیہ السلام ہی تھے۔“ علی ابن عمر، ابوالطفیل، سعید بن مسیب، سعید بن جبیر، حسن، مجاہد، شعبی، محمد بن کعب، ابوجعفر محمد بن علی ابوصالح رحمہ اللہ عنہم سے بھی یہی مروی ہے۔
امام بغوی رحمہ اللہ نے اور بھی صحابہ رضی اللہ عنہم اور تابعین کے نام گنوائے ہیں۔ ایک غریب حدیث بھی اسی کی تائید میں مروی ہے اس میں ہے کہ { شام میں امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے سامنے یہ بحث چھڑی کہ ذبیح اللہ کون ہیں؟ تو آپ نے فرمایا خوب ہوا جو یہ معاملہ مجھ جیسے باخبر شخص کے پاس آیا، سنو! ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھے جب ایک شخص آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا اے اللہ کی راہ میں دو ذبح ہونے والوں کی نسل کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم مجھے بھی مال غنیمت میں سے کچھ دلوایئے اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہنس دیئے۔ ایک تو ذبیح اللہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے والد عبداللہ تھے، دوسرے اسمعیل علیہ السلام جن کی نسل میں سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ عبداللہ کے ذبیح اللہ ہونے کا واقعہ یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دادا عبدالمطلب نے جب چاہ زمزم کھودا تو نذر مانی تھی کی اگر یہ کام آسانی سے پورا ہو گیا تو اپنے ایک لڑکے کو راہ اللہ میں ذبح کروں گا جب کام ہو گیا اور قرعہ اندازی کی گئی کہ کس بیٹے کو اللہ کے نام پر ذبح کریں تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے والد عبداللہ کا نام نکلا۔ ان کے ننھیال والوں نے کہا آپ ان کی طرف سے ایک سو اونٹ راہ اللہ ذبح کر دیں چنانچہ وہ ذبح کر دیئے گئے اور اسماعیل علیہ السلام کے ذبیح اللہ ہونے کا واقعہ تو مشہور ہی ہے }۔۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:29530:ضعیف] ابن جریر میں یہ روایت موجود ہے اور مغازی امویہ میں بھی۔
امام ابن جریر رحمہ اللہ نے اسحاق علیہ السلام کے ذبیح اللہ ہونے کی ایک دلیل تو یہ پیش کی یہ کہ جس علیم بچے کی بشارت کا ذکر ہے اس سے مراد اسحاق علیہ السلام ہیں قرآن میں اور جگہ ہے «قَالُوا لَا تَخَفْ وَبَشَّرُوهُ بِغُلَامٍ عَلِيمٍ» ۱؎ [51-الذاريات:28] ، اور یعقوب علیہ السلام کی بشارت کا یہ جواب دیا ہے کہ وہ آپ کے ساتھ چلنے پھرنے کی عمر کو پہنچ گئے تھے اور ممکن ہے کہ یعقوب علیہ السلام کے ساتھ ہی کوئی اور اولاد بھی ہوئی ہو اور کعبتہ اللہ میں سینگوں کی موجودگی کے بارے میں فرماتے ہیں بہت ممکن ہے کہ یہ بلادکنعان سے لا کر یہاں رکھے گئے ہوں۔“ اور بعض لوگوں سے اسحاق علیہ السلام کے نام کی صراحت بھی آئی ہے، لیکن یہ سب باتیں حقیقت سے بہت دور ہیں۔ ہاں اسماعیل علیہ السلام کے ذبیح اللہ ہونے پر محمد بن کعب قرظی رحمہ اللہ کا استدلال بہت صاف اور قوی ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ پہلے ذبیح اللہ اسمعیل علیہ السلام کے تولد ہونے کی بشارت دی گئی تھی یہاں اس کے بعد ان کے بھائی اسحاق علیہ السلام کی بشارت دی جا رہی ہے۔ سورۃ ہود اور سورۃ الحجر میں بھی اس کا ذکر گذر چکا ہے۔ «نبیاً» حال مقدرہ ہے یعنی وہ نبی صالح ہو گا۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ذبیح اللہ اسحاق علیہ السلام تھے اور یہاں نبوت اسحاق علیہ السلام کو بشارت ہے۔ جیسے موسیٰ علیہ السلام کے بارے میں فرمان ہے کہ ’ ہم نے انہیں اپنی رحمت سے ان کے بھائی ہارون کو نبی بنا دیا ‘۔ حالانکہ ہارون علیہ السلام موسیٰ علیہ السلام سے بڑے تھے تو یہاں بھی ان کی نبوت کی بشارت ہے۔ پس یہ بشارت اس وقت دی گئی جبکہ امتحان ذبح میں وہ صابر ثابت ہوئے۔ یہ بھی مروی ہے کہ یہ بشارت دو مرتبہ دی گئی پیدائش سے کچھ قبل اور نبوت سے کچھ قبل۔
حضرت قتادہ رحمہ اللہ سے بھی یہی مروی ہے۔ ’ ان پر اور اسحاق علیہ السلام پر ہماری برکتیں ہم نے نازل فرمائیں، ان کی اولاد میں ہر قسم کے لوگ ہیں نیک بھی بد بھی ‘۔ جیسے نوح علیہ السلام سے فرمان ہوا تھا کہ «قِيلَ يَا نُوحُ اهْبِطْ بِسَلَامٍ مِّنَّا وَبَرَكَاتٍ عَلَيْكَ وَعَلَىٰ أُمَمٍ مِّمَّن مَّعَكَ وَأُمَمٌ سَنُمَتِّعُهُمْ ثُمَّ يَمَسُّهُم مِّنَّا عَذَابٌ أَلِيمٌ» ’ اے نوح ہماری سلام اور برکت کے ساتھ تواتر۔ تو بھی اور تیرے ساتھ والے بھی اور ایسے بھی لوگ ہیں جنہیں ہم فائدے پہنچائیں گے پھر انہیں ہماری طرف سے درد ناک عذاب پہنچیں گے ‘۔۱؎ [11-هود:48]
15۔ 1 یعنی دل کے پورے ارادے سے بچے کو ذبح کرنے کے لئے زمین پر لٹا دینے سے ہی تو نے اپنا خواب سچا کر دکھایا ہے کیونکہ اس سے واضح ہوگیا کہ اللہ کے حکم کے مقابلے میں تجھے کوئی چیز عزیز تر نہیں حتٰی کہ اکلوتا بیٹا بھی۔
خلیل اللہ علیہ السلام جب اپنی قوم کی ہدایت سے مایوس ہو گئے، بڑی بڑی قدرتی نشانیاں دیکھ کر بھی جب انہیں ایمان نصیب نہ ہوا تو آپ علیہ السلام نے ان سے ہٹ جانا پسند فرمایا اور اعلان کر دیا کہ میں اب تم میں سے ہجرت کرجاؤں گا میرا رہنما میرا رب ہے۔ ساتھ ہی اپنے رب سے اپنے ہاں اولاد ہونے کی دعا مانگی تاکہ وہی توحید میں آپ علیہ السلام کا ساتھ دے۔ اسی وقت دعا قبول ہوتی ہے اور ایک بردبار بچے کی بشارت دی جاتی۔ یہ اسماعیل علیہ السلام تھے یہی آپ علیہ السلام کے لیے صاحبزادے تھے اور اسحاق علیہ السلام سے بڑے تھے۔ اسے تو اہل کتاب بھی مانتے ہیں بلکہ ان کی کتب میں موجود ہے کہ اسماعیل علیہ السلام کی پیدائش کے وقت ابراہیم علیہ السلام کی عمر چھیاسی سال کی تھی اور جس وقت اسحاق علیہ السلام تولد ہوتے ہیں اس وقت آپ علیہ السلام کی عمر ننانوے برس کی تھی۔ بلکہ ان کی اپنی کتاب میں تو یہ بھی ہے کہ جناب ابراہیم علیہ السلام کو اپنے اکلوتے فرزند کو ذبح کرنے کا حکم ہوا تھا۔ لیکن صرف اس لیے کہ یہ لوگ خود تو نبی اللہ اسحاق علیہ السلام کی اولاد میں سے ہیں اور نبی اللہ و ذبیح اللہ اسماعیل علیہ السلام کی اولاد میں سے عرب ہیں۔ انہی نے واقعہ کی اصلیت بدل دی اور اس فضیلت کو اسماعیل علیہ السلام سے ہٹاکر اسحاق علیہ السلام کو دے دیا اور بے جا تاویلیں کرتے اللہ کے کلام کو بدل ڈالا، اور کہا ہماری کتاب میں لفظ «وَحِیْدَكَ» ہے اس سے مراد اکلوتا نہیں بلکہ جو تیرے پاس اس وقت اکیلا ہے وہ ہے۔ یہ اس لیے کہ اسماعیل تو اپنی والدہ کے ساتھ مکے میں تھے یہاں خلیل اللہ کے ساتھ صرف اسحاق تھے۔ لیکن یہ بالکل غلط ہے۔ وحید اسی کو کہا جاتا ہے جو اکلوتا ہو اس کا اور کوئی بھائی نہ ہو۔ پھر یہاں ایک بات اور بھی ہے کہ اکلوتے اور پہلوٹھی کے بچے کے ساتھ جو محبت ہوتی اور اس کے جو لاڈ پیار ہوتے ہیں عموماً دوسری اولاد کے ہونے پر پھر وہ باقی نہیں رہتے۔ اس لیے اس کے ذبیحہ کا حکم امتحان اور آزمائش کی زبردست کڑی ہے۔
ہم اسے مانتے ہیں کہ بعض سلف بھی اس کے قائل ہوئے ہیں کہ ذبیح اللہ اسحاق علیہ السلام تھے، یہاں تک کہ بعض صحابہ رضی اللہ عنہم سے بھی یہ مروی ہے لیکن یہ چیز کتاب و سنت سے ثابت نہیں ہوتی۔ بلکہ خیال یہ ہے کہ بنو اسرائیل کی ایک شہرت دی ہوئی بات کو ان حضرات نے بھی بے دلیل اپنے ہاں لے لیا۔ دور کیوں جائیں کتاب اللہ کے الفاظ میں ہی غور کر لیجئیے کہ اسمٰعیل علیہ السلام کی بشارت کا ”غلام حلیم“ کہہ کر ذکر ہوا اور پھر اللہ کی راہ میں ذبح کے لیے تیار ہونے کا ذکر ہوا۔ اس تمام بیان کو ختم کر کے پھر نبی صالح اسحاق علیہ السلام کے تولد کی بشارت کا بیان ہوا۔ اور فرشتوں نے بشارت اسحاق کے موقع پر ”غلام علیم“ فرمایا تھا۔ اسی طرح قرآن میں ہے بشارت اسحاق علیہ السلام کے ساتھ ہی ہے «وَمِنْ وَّرَاءِ اِسْحٰقَ يَعْقُوْبَ» ۱؎ [11-ھود:71] یعنی ’ ابراہیم کی حیات میں ہی اسحاق کے ہاں یعقوب پیدا ہوں گے ‘، یعنی ان کی تو نسل جاری رہنے کا پہلے ہی علم کرایا جا چکا تھا اب انہیں ذبح کرنے کا حکم کیسے دیا جاتا؟ اسے ہم پہلے بھی بیان کر چکے۔ البتہ اسماعیل علیہ السلام کا وصف یہاں پر بردباری کا بیان کیا گیا ہے۔ جو ذبیح کے لیے نہایت مناسب ہے۔
اب اسماعیل علیہ السلام بڑے ہو گئے اپنے والد کے ساتھ چلنے پھرنے کے قابل ہو گئے۔ آپ علیہ السلام اس وقت مع اپنی والدہ محترمہ کے فاران میں تھے ابراہیم علیہ السلام عموماً وہاں جاتے آتے رہتے تھے یہ مذکور ہے کہ براق پر جاتے تھے اور اس جملے کے یہ معنی بھی ہیں کہ جوانی کے لگ بھگ ہو گئے لڑکپن کا زمانہ نکل گیا اور باپ کی طرح چلنے پھرنے کام کاج کرنے کے قابل بن گئے تو ابراہیم علیہ السلام نے خواب دیکھا کہ گویا آپ علیہ السلام اپنے پیارے بچے کو ذبح کر رہے ہیں۔ انبیاء کے خواب وحی ہوتے ہیں اور اس کی دلیل یہی آیت ہے۔ ایک مرفوع روایت میں بھی یہ ہے۔ ۱؎ [صحیح بخاری:138] پس اللہ کے رسول علیہ السلام نے اپنے لخت جگر کی آزمائش کے لیے کہ اچانک وہ گھبرا نہ اٹھے، اپنا ارادہ ان کے سامنے ظاہر کیا۔ وہاں کیا تھا۔ وہ بھی اسی درخت کے پھل تھے نبی ابن نبی علیہ السلام تھے جواب دیتے ہیں اب پھر دیر کیوں لگا رہے ہو یہ باتیں بھی پوچھنے کی ہوتی ہیں جو حکم ہوا ہے اسے فوراً کر ڈالیے اور اگر میری نسبت کھٹکا ہو تو زبانی اطمینانی کیا کروں چھری رکھئے خود معلوم ہو جائے گا کہ میں کیسا کچھ صابر ہوں۔ ان شاءاللہ میرا صبر آپ کا جی خوش کر دے گا۔ سبحان اللہ جو کہا تھا وہی کر کے دکھایا اور صادق الوعد ہونے کا سرٹیفیکیٹ اللہ کی طرف سے حاصل کر ہی لیا۔ آخر باپ بیٹا دونوں حکم اللہ کی اطاعت کے لیے جان بکف تیار ہو جاتے ہیں باپ بچے کو ذبح کرنے کے لیے تیار ہو جاتا ہے۔ اور باپ اپنے نور چشم لخت جگر کو منہ کے بل زمین پر گراتے ہیں تاکہ ذبح کے وقت منہ دیکھ کر محبت نہ آ جائے اور ہاتھ سست نہ پڑ جائے۔
مسند احمد میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ”جب ابراہیم علیہ السلام اپنی نور نظر کو ذبح کرنے کے لیے بحکم اللہ لے چلے تو سعی کے وقت شیطان سامنے آیا لیکن ابراہیم علیہ السلام اس سے آگے بڑھ گئے، پھر جبرائیل علیہ السلام کے ساتھ آپ جمرہ عقبہ پر پہنچے تو پھر شیطان سامنے آیا، آپ علیہ السلام نے اسے سات کنکریاں ماریں۔“ ”پھر جمرہ وسطی پاس آیا پھر وہاں سات کنکریاں ماریں۔ پھر آگے بڑھ کر اپنے پیارے بچے کو اللہ کے نام پر ذبح کرنے کے لیے نیچے پچھاڑا، ذبیح اللہ کے پاک جسم پر اس وقت سفید چادر تھی کہنے لگے ابا جی اسے اتار لیجئیے تاکہ اس میں آپ مجھے کفنا سکیں۔ اس وقت بیٹے کو ننگا کرتے وقت باپ کا عجب حال تھا کہ آواز آئی بس ابراہیم خواب کو سچا کر چکے۔ مڑ کر دیکھا تو ایک مینڈا سفید رنگ کا بڑے بڑے سینگوں اور صاف آنکھوں والا نظر پڑا، ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں اسی لیے ہم اس قسم کے مینڈے (چھترے) چن چن کر قربانی کے لیے لیتے تھے۔“
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما ہی سے دوسری روایت میں اسحاق علیہ السلام کا نام مروی ہے۔ تو گو دونوں نام آپ رضی اللہ عنہما سے مروی ہیں لیکن اول ہی اولیٰ ہے اور اس کی دلیلیں آ رہی ہیں۔ ان شاءاللہ تعالیٰ۔ اس کے بدلے بڑا ذبیحہ، اللہ نے عطا فرمایا اس کی بابت سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”یہ جنتی چھترا تھا جو وہاں چالیس سال سے کھا پی رہا تھا۔“ اسے دیکھ کر آپ علیہ السلام اپنے بچے کو چھوڑ کر اس کے پیچھے ہولیے۔ جمرہ اولیٰ پر آ کر سات کنکریاں پھنکیں پھر وہ بھاگ کر جمرہ وسطی پر آ گیا۔ سات کنکریاں ماریں اور وہاں سے ملخر میں لا کر ذبح کیا اس کے سینگ سر سمیت ابتداء اسلام کے زمانہ تک کعبے کے پرنالے کے پاس لٹکتے رہے تھے پھر سوکھ گئے۔ ایک مرتبہ سیدنا کعب رضی اللہ عنہ بیٹھے ہوئے باتیں کر رہے تھے۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ تو حدیثیں بیان کر رہے تھے اور کعب رضی اللہ عنہ کتاب کے قصے بیان کر رہے تھے۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ { ہر نبی کے لیے ایک دعا قبول شدہ ہے اور میں نے اپنی اس مقبول دعا کو پوشیدہ کر کے رکھ چھوڑا ہے اپنی امت کی شفاعت کے لئے جو بروز قیامت ہوگی}، تو سیدنا کعب رضی اللہ عنہ نے فرمایا تم نے خود اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے؟ فرمایا ہاں۔ سیدنا کعب رضی اللہ عنہ خوش ہوئے اور فرمانے لگے تم پر میرے ماں باپ فدا ہوں یا فرمایا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر میرے ماں باپ صدقے جائیں۔
پھر کعب رضی اللہ عنہ نے ابراہیم خلیل علیہ السلام کا قصہ سنایا کہ جب آپ علیہ السلام اپنے لڑکے اسمٰعیل علیہ السلام کو ذبح کرنے کے لیے مستعد ہو گئے تو شیطان نے کہا اگر میں اس وقت انہیں نہ بہکا سکا تو مجھے ان سے عمر بھر کے لیے مایوس ہو جانا چاہیئے۔ پہلے تو یہ سارہ رضی اللہ عنہا کے پاس آیا اور پوچھا کہ ابراہیم علیہ السلام تمہارے لڑکے کو کہاں لے گئے ہیں؟ مائی صاحبہ رضی اللہ عنہا نے جواب دیا اپنے کسی کام پر لے گئے ہیں، اس نے کہا نہیں بلکہ وہ ذبح کرنے کے لیے لے گئے ہیں۔ مائی صاحبہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا وہ اسے کیوں ذبح کرنے لگے؟ لعین نے کہا وہ کہتے ہیں اللہ کی طرف سے یہی حکم ہے جواب ملا پھر تو یہی بہتر ہے کہ وہ جلدی سے اللہ کے حکم کی بجا آوری سے فارغ ہو لیں۔ یہاں سے نامراد ہو کر بچے کے پاس آیا اور کہا تمہارے ابا تمہیں کہاں لے جاتے ہیں؟ فرمایا اپنے کام کے لیے کہا نہیں بلکہ وہ تجھے ذبح کرنے کے لیے لے جا رہے ہیں، فرمایا یہ کیوں؟ کہا اس لیے کہ وہ سمجھتے ہیں اللہ کا انہیں حکم ہے۔ کہا پھر تو واللہ انہیں اس کام میں بہت جلدی کرنی چاہیئے۔ ان سے بھی مایوس ہو کر یہ ملعون خلیل اللہ علیہ السلام کے پاس پہنچا۔ ان سے کہا بچے کو کہاں لے جا رہے ہو؟ جواب دیا اپنے کام کے لیے ملعون نے کہا نہیں بلکہ تم تو اسے ذبح کرنے کے لیے جا رہے ہو؟ آپ علیہ السلام نے فرمایا یہ کیوں؟ بولا اس لیے کہ تمہارا خیال ہے کہ اللہ کا حکم تمہیں یونہی ہے، آپ علیہ السلام نے فرمایا اللہ کی قسم پھر تو میں ضرور ہی اسے ذبح کر ڈالوں گا۔ اب ابلیس مایوس ہو گیا۔۱؎ [عبد الرزاق فی المصنف:20864:صحیح]
دوسری روایت میں یہ بھی ہے کہ اس تمام واقعے کے بعد جناب باری تعالیٰ نے اسحاق علیہ السلام سے فرمایا کہ ’ ایک دعا تم مجھ سے مانگو جو مانگو گے ملے گا ‘۔ اسحاق علیہ السلام نے کہا ”پھر میری دعا یہ ہے کہ جس نے تیرے ساتھ شریک نہ کیا ہو اسے تو ضرور جنت میں لے جانا۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے { اللہ تعالیٰ نے مجھے اختیار دیا کہ میں دو باتوں میں سے ایک کو اختیار کر لوں یا تو یہ کہ میری آدھوں آدھ امت بخشی جائے یا یہ کہ میں شفاعت کروں اور اسے اللہ تعالیٰ قبول فرما لے تو میں نے شفاعت کرنے کو ترجیح دی اس پر کہ وہ عام ہو گی، ہاں ایک دعا تھی کہ میں وہی کرتا لیکن اللہ کا ایک نیک بندہ مجھ سے پہلے اس دعا کو مانگ چکا تھا }۔ واقعہ یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے اسحاق علیہ السلام سے ذبح ہونے کی تکلیف دور کر دی تو ان سے فرمایا گیا کہ ’ تو مانگ جو مانگے گا دیا جائے گا ‘۔ تو اسحاق علیہ السلام نے فرمایا ”واللہ شیطان کے بہکانے سے پہلے ہی میں اسے مانگ لوں گا، اللہ جو شخص اس حالت میں مرا ہو کہ اس نے تیرے ساتھ کسی کو شریک نہ کیا ہو تو اسے بخش دے اور جنت میں پہنچا دے۔“ ۱؎ [الدر المنشور للسیوطی:531/5:ضعیف] یہ حدیث ابن ابی حاتم میں ہے لیکن سنداً غریب اور منکر ہے اور اس کے ایک راوی عبدالرحمٰن بن زید بن اسلم ضعیف ہیں اور مجھے تو یہ بھی ڈر ہے کہ یہ الفاظ کہ (جب اللہ تعالیٰ نے اسحاق علیہ السلام سے) آخر تک راوی اپنے نہ ہوں جنہیں انہوں نے حدیث میں داخل کر دئیے ہیں۔
ذبیح اللہ تو اسماعیل علیہ السلام ہیں، محل ذبح منیٰ ہے اور وہ مکے میں ہے اور اسماعیل علیہ السلام یہیں تھے نہ کہ اسحاق علیہ السلام وہ تو شہر کنعان میں تھے جو شام ہے۔ جب ابراہیم علیہ السلام اپنے پیارے بچے کو ذبح کرنے کے لیے لٹا دیتے ہیں جناب باری سے ندا آتی ہے کہ ’ بس ابراہیم علیہ السلام تم اپنے خواب کو پورا کر چکے ‘۔ سدی رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ”جب خلیل اللہ علیہ السلام نے ذبیح اللہ علیہ السلام کے حلق پر چھری پھیری تو گردن تانبے کی ہو گئے اور نہ کٹی اور یہ آواز آئی۔“
ہم اسی طرح نیک کاروں کو بدلہ دیتے ہیں۔ یعنی سختیوں سے بچا لیتے ہیں اور چھٹکارا کر دیتے ہیں۔ جیسے فرمایا ’ اللہ سے ڈرتے رہنے والوں کے لیے اللہ تعالیٰ چھٹکارے کی صورت نکال ہی دیتا ہے اور اسے ایسی طرح روزی پہنچاتا ہے کہ اس کے گمان و وہم میں بھی نہ ہو۔ اللہ پر بھروسہ کرنے والوں کو اللہ ہی کافی ہے اللہ اپنے کاموں کو مکمل کر کے چھوڑتا ہے ہرچیز کا اس نے ایک اندازہ مقرر کر رکھا ہے ‘۔ اس آیت سے اس پر استدلال کیا گیا ہے کہ فعل پر قدرت پانے سے پہلے ہی حکم منسوخ ہو سکتا ہے۔
ہاں معتزلہ اسے نہیں مانتے۔ وجہ استدلال بہت ظاہر ہے اس لیے کہ خلیل اللہ علیہ السلام کو اپنے بیٹے کے ذبح کرنے کا حکم ہوتا ہے اور پھر ذبح سے پہلے ہی فدئیے کے ساتھ منسوخ کر دیا جاتا ہے۔ مقصود اس سے یہ تھا کہ صبر کا اور بجا آوری حکم پر مستعدی کا ثواب مرحمت فرما دیا جائے۔ اسی لیے ارشاد ہوا ’ یہ تو صرف ایک آزمائش تھی کھلا امتحان تھا کہ ادھر حکم ہوا ادھر تیاری ہوئی ‘۔ اسی لیے جناب خلیل اللہ علیہ السلام کی تعریف میں قرآن میں ہے ’ ابراہیم بڑا ہی وفادار تھا۔ بڑے ذبیح کے ساتھ ان کا فدیہ ہم نے دیا ‘۔ سفید رنگ بڑی آنکھوں اور بڑے سینگوں والا عمدہ خوراک سے پلا ہوا منیڈھا فدئیے میں دیا گیا جو ثبیر ببول کے درخت سے بندھا ہوا ملا۔ جو جنت میں چالیس سال چرتا رہا۔ منیٰ میں ثبیر کے پاس جو چٹان ہے اس پر یہ جانور ذبح کیا گیا یہ چیختا ہوا اوپر سے اترا تھا۔ یہی وہ مینڈھا ہے جسے ہابیل نے اللہ کی راہ میں قربان کیا تھا۔ اس کی اون قدرے سرخی مائل تھی اس کا نام جریر تھا۔ بعض کہتے ہیں مقام ابراہیم پر اسے ذبح کیا۔ کوئی کہتا ہے مٹی میں نحر پر۔ ایک شخص نے اپنے تئیں راہ اللہ میں ذبح کرنے کی منت مانی تھی تو سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اسے ایک سو اونٹ ذبح کرنے کا فتویٰ دیا تھا لیکن پھر فرماتے تھے کہ ”اگر میں اسے ایک بھیڑ ذبح کرنے کو کہتا تب بھی کافی تھا کیونکہ کتاب اللہ میں ہے کہ ذبیح اللہ کا فدیہ اسی سے دیا گیا تھا۔“ اکثر لوگوں کا یہی قول ہے بعض کہتے ہیں یہ پہاڑی بکرا تھا۔ کوئی کہتا ہے نر ہرن تھا۔ مسند احمد میں ہے کہ { عثمان رضی اللہ عنہ کو بلا کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { میں نے بھیڑ کے سینگ بیت اللہ شریف میں داخلے کے وقت اندر دیکھے تھے اور مجھے یاد نہ رہا کہ میں تجھے ان کے ڈھانک دینے کا حکم دوں، جاؤ اسے ڈھک دو بیت اللہ میں کوئی ایسی چیز نہ ہونی چاہیئے جو نمازی کو اپنی طرف متوجہ کر لے } }۔۱؎ [سنن ابوداود:2030،قال الشيخ الألباني:صحیح] سفیان رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس بھیڑ کے سینگ بیت اللہ میں ہی رہے یہاں تک کہ ایک مرتبہ بیت اللہ میں آگ لگی اس میں وہ جل گئے۔ ۱؎ [سلسلة احادیث صحیحه البانی:23221،] یہ واقعہ بھی اس امر کی دلیل ہے کہ ذبیح اللہ، اسماعیل علیہ السلام تھے اسی وجہ سے ان کی اولاد قریش تک یہ سینگ برابر اور مسلسل چلے آئے یہاں تک کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ نے مبعوث فرمایا۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ ”ان آثار کا بیان جن میں ذبیح اللہ کا نام ہے“ ابومیسرہ فرماتے ہیں یوسف علیہ السلام نے بادشاہ سے فرمایا ”کیا تو میرے ساتھ کھانا چاہتا ہے، میں یوسف بن یعقوب نبی اللہ بن اسحاق ذبیح اللہ بن ابراہیم خلیل اللہ ہوں [ عبید بن عمیر رحمه الله] موسیٰ علیہ السلام نے جناب باری میں عرض کی کہ ”اے اللہ کیا وجہ ہے جو لوگوں کی زبانوں پر یہ چڑھا ہوا ہے کہ ابراہیم، اسمٰعیل اور یعقوب علیہم السلام کے اللہ کی قسم“، تو جواب ملا ’ اس لیے ابراہیم نے تو ہر ہرچیز پر مجھی کو ترجیح دی اور اسحاق علیہ السلام نے اپنے تئیں میری راہ میں ذبح ہونے کے لیے سپرد کر دیا پھر بھلا اور چیزیں اسے پیش کر دینا کیا مشکل تھیں اور یعقوب علیہ السلام کو میں جوں جوں بلاؤں میں ڈالتا گیا اس کے حسن ظنی میرے ساتھ بڑھتی ہی رہی ‘۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے سامنے ایک مرتبہ کسی نے فخراً اپنے باپ دادوں کا نام لیا تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا قابل فخر باپ دادا تو یوسف علیہ السلام کے تھے جو یعقوب بن اسحاق علیہ السلام اور ذبیح اللہ بن ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام تھے۔
عکرمہ، سیدنا ابن عباس، خود سیدنا عباس، سیدنا علی،سعید بن جبیر رضی اللہ عنہم، مجاہد، شعبی، عبید بن عمر، ابومیسرہ، زید بن اسلم، عبداللہ بن شفیق، زہری، قاسم بن ابوبرزہ، محکول، عثمان بن ابی عاص، سدی، حسن، قتادہ، ابو الہذیل، ابن سابط، کعب احبار رحمہم اللہ اجمعین، ان سب کا یہی قول ہے اور ابن جریر رحمہ اللہ بھی اسی کو اختیار کرتے ہیں کہ ذبیح اللہ اسحاق علیہ السلام تھے۔ صحیح علم تو اللہ کو ہی ہے مگر بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ان سب بزرگوں کے استاد کعب احبار رحمہ اللہ ہیں۔ یہ خلافت فاروقی میں مسلمان ہوئے تھے اور کبھی کبھی سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو قدیمی کتابوں کی باتیں سناتے تھے، لوگوں نے اسے رخصت سمجھ کر پھر ان سے ہر ایک بات بیان کرنی شروع کر دی اور صحیح غلط کی تمیز اٹھ گئی حق تو یہ ہے کہ اس امت کو اگلی کتابوں کی ایک بات کی بھی حاجت نہیں۔ بغوی نے کچھ اور نام بھی صحابہ تابعین کے بتلائے ہیں جنہوں نے کہا ہے کہ ذبیح اللہ اسحاق علیہ السلام ہیں۔ ایک مرفوع حدیث میں بھی یہ آیا ہے۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:29495:ضعیف] اگر وہ حدیث صحیح ہوتی تو جھگڑے کا فیصلہ تھا مگر وہ حدیث صحیح نہیں اس میں دو راوی ضعیف ہیں۔ حسن بن دینار متروک ہیں اور علی بن زید بن جدعان منکر الحدیث ہیں اور زیادہ صحیح یہ ہے کہ ہے یہ بھی موقف، چنانچہ ایک سند سے یہ مقولہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کا مروی ہے اور یہی زیادہ ٹھیک ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
اب ان آثار کو سنئے جن سے معلوم ہوتا ہے کہ ذبیح اللہ اسماعیل علیہ السلام ہی تھے اور یہی ٹھیک اور بالکل درست بھی ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما یہی فرماتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ ”یہودی اسحاق علیہ السلام کا نام جھوٹ موٹ لیتے ہیں۔“ ابن عمر رضی اللہ عنہ، مجاہد، شعبی، حسن بصری، محمد بن کعب قرظی، خلیفہ المسلمین عمر ابن عبدالعزیز رحمہ اللہ علیہم کے سامنے جب محمد بن قرظی رحمہ اللہ نے یہ فرمایا اور ساتھ ہی اس کی دلیل بھی دی کہ ”ذبح کے ذکر کے بعد قرآن میں خلیل اللہ علیہ السلام کو اسحاق علیہ السلام کے پیدا ہونے کی بشارت کا ذکر ہے اور ساتھ ہی بیان ہے کہ ان کے ہاں بھی لڑکا ہو گا یعقوب نامی جب ان کے ہاں لڑکا ہونے کی بشارت دی گی تھی پھر باوجود ان کے ہاں لڑکا نہ ہوں کے اس سے پہلے ہی ان کے ذبح کرنے کا حکم کیسے دیا جاتا ہے؟“
تو سیدنا عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے فرمایا ”یہ بہت صاف دلیل ہے میرا ذہن یہاں نہیں پہنچا تھا گو یہ میں بھی جانتا تھا کہ ذبیح اللہ اسماعیل علیہ السلام ہی ہیں۔“ پھر شاہ اسلام نے شام کے ایک یہودی عالم سے پوچھا جو مسلمان ہو گئے تھے کہ تم اس بارے میں کیا علم رکھتے ہو انہوں نے فرمایا امیر المسلمین سچ تو یہی ہے کہ جن کے ذبح کرنے کا حکم دیا گیا وہ اسماعیل علیہ السلام ہی تھے لیکن چونکہ عرب ان کی اولاد میں سے ہیں تو یہ بزرگی ان کی طرف لوٹتی ہے اس حسد کے بارے میں یہودیوں نے اسے بدل دیا اور اسحاق علیہ السلام کا نام لے دیا۔ حقیقی علم اللہ ہی کو ہے ہمارا ایمان ہے کہ اسماعیل، اسحاق علیہم السلام دونوں ہی طاہر و طیب اور اللہ کے سچے فرمانبردار تھے۔ کتاب الزہد میں ہے کہ امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کے صاحبزادے عبداللہ رحمہ اللہ نے اپنے والد سے جب یہ مسئلہ پوچھا تو آپ نے جواب دیا کہ ”ذبح ہونے والے اسماعیل علیہ السلام ہی تھے۔“ علی ابن عمر، ابوالطفیل، سعید بن مسیب، سعید بن جبیر، حسن، مجاہد، شعبی، محمد بن کعب، ابوجعفر محمد بن علی ابوصالح رحمہ اللہ عنہم سے بھی یہی مروی ہے۔
امام بغوی رحمہ اللہ نے اور بھی صحابہ رضی اللہ عنہم اور تابعین کے نام گنوائے ہیں۔ ایک غریب حدیث بھی اسی کی تائید میں مروی ہے اس میں ہے کہ { شام میں امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے سامنے یہ بحث چھڑی کہ ذبیح اللہ کون ہیں؟ تو آپ نے فرمایا خوب ہوا جو یہ معاملہ مجھ جیسے باخبر شخص کے پاس آیا، سنو! ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھے جب ایک شخص آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا اے اللہ کی راہ میں دو ذبح ہونے والوں کی نسل کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم مجھے بھی مال غنیمت میں سے کچھ دلوایئے اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہنس دیئے۔ ایک تو ذبیح اللہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے والد عبداللہ تھے، دوسرے اسمعیل علیہ السلام جن کی نسل میں سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ عبداللہ کے ذبیح اللہ ہونے کا واقعہ یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دادا عبدالمطلب نے جب چاہ زمزم کھودا تو نذر مانی تھی کی اگر یہ کام آسانی سے پورا ہو گیا تو اپنے ایک لڑکے کو راہ اللہ میں ذبح کروں گا جب کام ہو گیا اور قرعہ اندازی کی گئی کہ کس بیٹے کو اللہ کے نام پر ذبح کریں تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے والد عبداللہ کا نام نکلا۔ ان کے ننھیال والوں نے کہا آپ ان کی طرف سے ایک سو اونٹ راہ اللہ ذبح کر دیں چنانچہ وہ ذبح کر دیئے گئے اور اسماعیل علیہ السلام کے ذبیح اللہ ہونے کا واقعہ تو مشہور ہی ہے }۔۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:29530:ضعیف] ابن جریر میں یہ روایت موجود ہے اور مغازی امویہ میں بھی۔
امام ابن جریر رحمہ اللہ نے اسحاق علیہ السلام کے ذبیح اللہ ہونے کی ایک دلیل تو یہ پیش کی یہ کہ جس علیم بچے کی بشارت کا ذکر ہے اس سے مراد اسحاق علیہ السلام ہیں قرآن میں اور جگہ ہے «قَالُوا لَا تَخَفْ وَبَشَّرُوهُ بِغُلَامٍ عَلِيمٍ» ۱؎ [51-الذاريات:28] ، اور یعقوب علیہ السلام کی بشارت کا یہ جواب دیا ہے کہ وہ آپ کے ساتھ چلنے پھرنے کی عمر کو پہنچ گئے تھے اور ممکن ہے کہ یعقوب علیہ السلام کے ساتھ ہی کوئی اور اولاد بھی ہوئی ہو اور کعبتہ اللہ میں سینگوں کی موجودگی کے بارے میں فرماتے ہیں بہت ممکن ہے کہ یہ بلادکنعان سے لا کر یہاں رکھے گئے ہوں۔“ اور بعض لوگوں سے اسحاق علیہ السلام کے نام کی صراحت بھی آئی ہے، لیکن یہ سب باتیں حقیقت سے بہت دور ہیں۔ ہاں اسماعیل علیہ السلام کے ذبیح اللہ ہونے پر محمد بن کعب قرظی رحمہ اللہ کا استدلال بہت صاف اور قوی ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ پہلے ذبیح اللہ اسمعیل علیہ السلام کے تولد ہونے کی بشارت دی گئی تھی یہاں اس کے بعد ان کے بھائی اسحاق علیہ السلام کی بشارت دی جا رہی ہے۔ سورۃ ہود اور سورۃ الحجر میں بھی اس کا ذکر گذر چکا ہے۔ «نبیاً» حال مقدرہ ہے یعنی وہ نبی صالح ہو گا۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ذبیح اللہ اسحاق علیہ السلام تھے اور یہاں نبوت اسحاق علیہ السلام کو بشارت ہے۔ جیسے موسیٰ علیہ السلام کے بارے میں فرمان ہے کہ ’ ہم نے انہیں اپنی رحمت سے ان کے بھائی ہارون کو نبی بنا دیا ‘۔ حالانکہ ہارون علیہ السلام موسیٰ علیہ السلام سے بڑے تھے تو یہاں بھی ان کی نبوت کی بشارت ہے۔ پس یہ بشارت اس وقت دی گئی جبکہ امتحان ذبح میں وہ صابر ثابت ہوئے۔ یہ بھی مروی ہے کہ یہ بشارت دو مرتبہ دی گئی پیدائش سے کچھ قبل اور نبوت سے کچھ قبل۔
حضرت قتادہ رحمہ اللہ سے بھی یہی مروی ہے۔ ’ ان پر اور اسحاق علیہ السلام پر ہماری برکتیں ہم نے نازل فرمائیں، ان کی اولاد میں ہر قسم کے لوگ ہیں نیک بھی بد بھی ‘۔ جیسے نوح علیہ السلام سے فرمان ہوا تھا کہ «قِيلَ يَا نُوحُ اهْبِطْ بِسَلَامٍ مِّنَّا وَبَرَكَاتٍ عَلَيْكَ وَعَلَىٰ أُمَمٍ مِّمَّن مَّعَكَ وَأُمَمٌ سَنُمَتِّعُهُمْ ثُمَّ يَمَسُّهُم مِّنَّا عَذَابٌ أَلِيمٌ» ’ اے نوح ہماری سلام اور برکت کے ساتھ تواتر۔ تو بھی اور تیرے ساتھ والے بھی اور ایسے بھی لوگ ہیں جنہیں ہم فائدے پہنچائیں گے پھر انہیں ہماری طرف سے درد ناک عذاب پہنچیں گے ‘۔۱؎ [11-هود:48]
16۔ 1 یعنی لاڈلے بیٹے کو ذبح کرنے کا حکم یہ ایک بڑی آزمائش تھی جس پر میں تو سرخرو رہا۔
(آیت 106){ اِنَّ هٰذَا لَهُوَ الْبَلٰٓؤُا الْمُبِيْنُ:} یعنی بوڑھے باپ کو اکلوتا بیٹا ذبح کرنے کا حکم، جو کام کاج میں اس کا مددگار بننے کی عمر کو پہنچ چکا ہے، یقینا یہ باپ بیٹے دونوں کے لیے کھلی آزمائش اور بہت سخت امتحان ہے۔
اور ہم نے ایک بڑی قربانی فدیے میں دے کر اس بچے کو چھڑا لیا
مولانا محمد جوناگڑھی
اور ہم نے ایک بڑا ذبیحہ اس کے فدیہ میں دے دیا
احمد رضا خان بریلوی
اور ہم نے ایک بڑا ذبیحہ اس کے فدیہ میں دے کر اسے بچالیا
علامہ محمد حسین نجفی
اور ہم نے ایک عظیم قربانی کے عوض اس کو چھڑا لیا۔
عبدالسلام بن محمد
اور ہم نے اس کے فدیے میں ایک بہت بڑا ذبیحہ دیا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
ذبیح اللہ کی بحث اور یہودی روایات ٭٭
خلیل اللہ علیہ السلام جب اپنی قوم کی ہدایت سے مایوس ہو گئے، بڑی بڑی قدرتی نشانیاں دیکھ کر بھی جب انہیں ایمان نصیب نہ ہوا تو آپ علیہ السلام نے ان سے ہٹ جانا پسند فرمایا اور اعلان کر دیا کہ میں اب تم میں سے ہجرت کرجاؤں گا میرا رہنما میرا رب ہے۔ ساتھ ہی اپنے رب سے اپنے ہاں اولاد ہونے کی دعا مانگی تاکہ وہی توحید میں آپ علیہ السلام کا ساتھ دے۔ اسی وقت دعا قبول ہوتی ہے اور ایک بردبار بچے کی بشارت دی جاتی۔ یہ اسماعیل علیہ السلام تھے یہی آپ علیہ السلام کے لیے صاحبزادے تھے اور اسحاق علیہ السلام سے بڑے تھے۔ اسے تو اہل کتاب بھی مانتے ہیں بلکہ ان کی کتب میں موجود ہے کہ اسماعیل علیہ السلام کی پیدائش کے وقت ابراہیم علیہ السلام کی عمر چھیاسی سال کی تھی اور جس وقت اسحاق علیہ السلام تولد ہوتے ہیں اس وقت آپ علیہ السلام کی عمر ننانوے برس کی تھی۔ بلکہ ان کی اپنی کتاب میں تو یہ بھی ہے کہ جناب ابراہیم علیہ السلام کو اپنے اکلوتے فرزند کو ذبح کرنے کا حکم ہوا تھا۔ لیکن صرف اس لیے کہ یہ لوگ خود تو نبی اللہ اسحاق علیہ السلام کی اولاد میں سے ہیں اور نبی اللہ و ذبیح اللہ اسماعیل علیہ السلام کی اولاد میں سے عرب ہیں۔ انہی نے واقعہ کی اصلیت بدل دی اور اس فضیلت کو اسماعیل علیہ السلام سے ہٹاکر اسحاق علیہ السلام کو دے دیا اور بے جا تاویلیں کرتے اللہ کے کلام کو بدل ڈالا، اور کہا ہماری کتاب میں لفظ «وَحِیْدَكَ» ہے اس سے مراد اکلوتا نہیں بلکہ جو تیرے پاس اس وقت اکیلا ہے وہ ہے۔ یہ اس لیے کہ اسماعیل تو اپنی والدہ کے ساتھ مکے میں تھے یہاں خلیل اللہ کے ساتھ صرف اسحاق تھے۔ لیکن یہ بالکل غلط ہے۔ وحید اسی کو کہا جاتا ہے جو اکلوتا ہو اس کا اور کوئی بھائی نہ ہو۔ پھر یہاں ایک بات اور بھی ہے کہ اکلوتے اور پہلوٹھی کے بچے کے ساتھ جو محبت ہوتی اور اس کے جو لاڈ پیار ہوتے ہیں عموماً دوسری اولاد کے ہونے پر پھر وہ باقی نہیں رہتے۔ اس لیے اس کے ذبیحہ کا حکم امتحان اور آزمائش کی زبردست کڑی ہے۔
ہم اسے مانتے ہیں کہ بعض سلف بھی اس کے قائل ہوئے ہیں کہ ذبیح اللہ اسحاق علیہ السلام تھے، یہاں تک کہ بعض صحابہ رضی اللہ عنہم سے بھی یہ مروی ہے لیکن یہ چیز کتاب و سنت سے ثابت نہیں ہوتی۔ بلکہ خیال یہ ہے کہ بنو اسرائیل کی ایک شہرت دی ہوئی بات کو ان حضرات نے بھی بے دلیل اپنے ہاں لے لیا۔ دور کیوں جائیں کتاب اللہ کے الفاظ میں ہی غور کر لیجئیے کہ اسمٰعیل علیہ السلام کی بشارت کا ”غلام حلیم“ کہہ کر ذکر ہوا اور پھر اللہ کی راہ میں ذبح کے لیے تیار ہونے کا ذکر ہوا۔ اس تمام بیان کو ختم کر کے پھر نبی صالح اسحاق علیہ السلام کے تولد کی بشارت کا بیان ہوا۔ اور فرشتوں نے بشارت اسحاق کے موقع پر ”غلام علیم“ فرمایا تھا۔ اسی طرح قرآن میں ہے بشارت اسحاق علیہ السلام کے ساتھ ہی ہے «وَمِنْ وَّرَاءِ اِسْحٰقَ يَعْقُوْبَ» ۱؎ [11-ھود:71] یعنی ’ ابراہیم کی حیات میں ہی اسحاق کے ہاں یعقوب پیدا ہوں گے ‘، یعنی ان کی تو نسل جاری رہنے کا پہلے ہی علم کرایا جا چکا تھا اب انہیں ذبح کرنے کا حکم کیسے دیا جاتا؟ اسے ہم پہلے بھی بیان کر چکے۔ البتہ اسماعیل علیہ السلام کا وصف یہاں پر بردباری کا بیان کیا گیا ہے۔ جو ذبیح کے لیے نہایت مناسب ہے۔
اب اسماعیل علیہ السلام بڑے ہو گئے اپنے والد کے ساتھ چلنے پھرنے کے قابل ہو گئے۔ آپ علیہ السلام اس وقت مع اپنی والدہ محترمہ کے فاران میں تھے ابراہیم علیہ السلام عموماً وہاں جاتے آتے رہتے تھے یہ مذکور ہے کہ براق پر جاتے تھے اور اس جملے کے یہ معنی بھی ہیں کہ جوانی کے لگ بھگ ہو گئے لڑکپن کا زمانہ نکل گیا اور باپ کی طرح چلنے پھرنے کام کاج کرنے کے قابل بن گئے تو ابراہیم علیہ السلام نے خواب دیکھا کہ گویا آپ علیہ السلام اپنے پیارے بچے کو ذبح کر رہے ہیں۔ انبیاء کے خواب وحی ہوتے ہیں اور اس کی دلیل یہی آیت ہے۔ ایک مرفوع روایت میں بھی یہ ہے۔ ۱؎ [صحیح بخاری:138] پس اللہ کے رسول علیہ السلام نے اپنے لخت جگر کی آزمائش کے لیے کہ اچانک وہ گھبرا نہ اٹھے، اپنا ارادہ ان کے سامنے ظاہر کیا۔ وہاں کیا تھا۔ وہ بھی اسی درخت کے پھل تھے نبی ابن نبی علیہ السلام تھے جواب دیتے ہیں اب پھر دیر کیوں لگا رہے ہو یہ باتیں بھی پوچھنے کی ہوتی ہیں جو حکم ہوا ہے اسے فوراً کر ڈالیے اور اگر میری نسبت کھٹکا ہو تو زبانی اطمینانی کیا کروں چھری رکھئے خود معلوم ہو جائے گا کہ میں کیسا کچھ صابر ہوں۔ ان شاءاللہ میرا صبر آپ کا جی خوش کر دے گا۔ سبحان اللہ جو کہا تھا وہی کر کے دکھایا اور صادق الوعد ہونے کا سرٹیفیکیٹ اللہ کی طرف سے حاصل کر ہی لیا۔ آخر باپ بیٹا دونوں حکم اللہ کی اطاعت کے لیے جان بکف تیار ہو جاتے ہیں باپ بچے کو ذبح کرنے کے لیے تیار ہو جاتا ہے۔ اور باپ اپنے نور چشم لخت جگر کو منہ کے بل زمین پر گراتے ہیں تاکہ ذبح کے وقت منہ دیکھ کر محبت نہ آ جائے اور ہاتھ سست نہ پڑ جائے۔
مسند احمد میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ”جب ابراہیم علیہ السلام اپنی نور نظر کو ذبح کرنے کے لیے بحکم اللہ لے چلے تو سعی کے وقت شیطان سامنے آیا لیکن ابراہیم علیہ السلام اس سے آگے بڑھ گئے، پھر جبرائیل علیہ السلام کے ساتھ آپ جمرہ عقبہ پر پہنچے تو پھر شیطان سامنے آیا، آپ علیہ السلام نے اسے سات کنکریاں ماریں۔“ ”پھر جمرہ وسطی پاس آیا پھر وہاں سات کنکریاں ماریں۔ پھر آگے بڑھ کر اپنے پیارے بچے کو اللہ کے نام پر ذبح کرنے کے لیے نیچے پچھاڑا، ذبیح اللہ کے پاک جسم پر اس وقت سفید چادر تھی کہنے لگے ابا جی اسے اتار لیجئیے تاکہ اس میں آپ مجھے کفنا سکیں۔ اس وقت بیٹے کو ننگا کرتے وقت باپ کا عجب حال تھا کہ آواز آئی بس ابراہیم خواب کو سچا کر چکے۔ مڑ کر دیکھا تو ایک مینڈا سفید رنگ کا بڑے بڑے سینگوں اور صاف آنکھوں والا نظر پڑا، ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں اسی لیے ہم اس قسم کے مینڈے (چھترے) چن چن کر قربانی کے لیے لیتے تھے۔“
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما ہی سے دوسری روایت میں اسحاق علیہ السلام کا نام مروی ہے۔ تو گو دونوں نام آپ رضی اللہ عنہما سے مروی ہیں لیکن اول ہی اولیٰ ہے اور اس کی دلیلیں آ رہی ہیں۔ ان شاءاللہ تعالیٰ۔ اس کے بدلے بڑا ذبیحہ، اللہ نے عطا فرمایا اس کی بابت سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”یہ جنتی چھترا تھا جو وہاں چالیس سال سے کھا پی رہا تھا۔“ اسے دیکھ کر آپ علیہ السلام اپنے بچے کو چھوڑ کر اس کے پیچھے ہولیے۔ جمرہ اولیٰ پر آ کر سات کنکریاں پھنکیں پھر وہ بھاگ کر جمرہ وسطی پر آ گیا۔ سات کنکریاں ماریں اور وہاں سے ملخر میں لا کر ذبح کیا اس کے سینگ سر سمیت ابتداء اسلام کے زمانہ تک کعبے کے پرنالے کے پاس لٹکتے رہے تھے پھر سوکھ گئے۔ ایک مرتبہ سیدنا کعب رضی اللہ عنہ بیٹھے ہوئے باتیں کر رہے تھے۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ تو حدیثیں بیان کر رہے تھے اور کعب رضی اللہ عنہ کتاب کے قصے بیان کر رہے تھے۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ { ہر نبی کے لیے ایک دعا قبول شدہ ہے اور میں نے اپنی اس مقبول دعا کو پوشیدہ کر کے رکھ چھوڑا ہے اپنی امت کی شفاعت کے لئے جو بروز قیامت ہوگی}، تو سیدنا کعب رضی اللہ عنہ نے فرمایا تم نے خود اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے؟ فرمایا ہاں۔ سیدنا کعب رضی اللہ عنہ خوش ہوئے اور فرمانے لگے تم پر میرے ماں باپ فدا ہوں یا فرمایا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر میرے ماں باپ صدقے جائیں۔
پھر کعب رضی اللہ عنہ نے ابراہیم خلیل علیہ السلام کا قصہ سنایا کہ جب آپ علیہ السلام اپنے لڑکے اسمٰعیل علیہ السلام کو ذبح کرنے کے لیے مستعد ہو گئے تو شیطان نے کہا اگر میں اس وقت انہیں نہ بہکا سکا تو مجھے ان سے عمر بھر کے لیے مایوس ہو جانا چاہیئے۔ پہلے تو یہ سارہ رضی اللہ عنہا کے پاس آیا اور پوچھا کہ ابراہیم علیہ السلام تمہارے لڑکے کو کہاں لے گئے ہیں؟ مائی صاحبہ رضی اللہ عنہا نے جواب دیا اپنے کسی کام پر لے گئے ہیں، اس نے کہا نہیں بلکہ وہ ذبح کرنے کے لیے لے گئے ہیں۔ مائی صاحبہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا وہ اسے کیوں ذبح کرنے لگے؟ لعین نے کہا وہ کہتے ہیں اللہ کی طرف سے یہی حکم ہے جواب ملا پھر تو یہی بہتر ہے کہ وہ جلدی سے اللہ کے حکم کی بجا آوری سے فارغ ہو لیں۔ یہاں سے نامراد ہو کر بچے کے پاس آیا اور کہا تمہارے ابا تمہیں کہاں لے جاتے ہیں؟ فرمایا اپنے کام کے لیے کہا نہیں بلکہ وہ تجھے ذبح کرنے کے لیے لے جا رہے ہیں، فرمایا یہ کیوں؟ کہا اس لیے کہ وہ سمجھتے ہیں اللہ کا انہیں حکم ہے۔ کہا پھر تو واللہ انہیں اس کام میں بہت جلدی کرنی چاہیئے۔ ان سے بھی مایوس ہو کر یہ ملعون خلیل اللہ علیہ السلام کے پاس پہنچا۔ ان سے کہا بچے کو کہاں لے جا رہے ہو؟ جواب دیا اپنے کام کے لیے ملعون نے کہا نہیں بلکہ تم تو اسے ذبح کرنے کے لیے جا رہے ہو؟ آپ علیہ السلام نے فرمایا یہ کیوں؟ بولا اس لیے کہ تمہارا خیال ہے کہ اللہ کا حکم تمہیں یونہی ہے، آپ علیہ السلام نے فرمایا اللہ کی قسم پھر تو میں ضرور ہی اسے ذبح کر ڈالوں گا۔ اب ابلیس مایوس ہو گیا۔۱؎ [عبد الرزاق فی المصنف:20864:صحیح]
دوسری روایت میں یہ بھی ہے کہ اس تمام واقعے کے بعد جناب باری تعالیٰ نے اسحاق علیہ السلام سے فرمایا کہ ’ ایک دعا تم مجھ سے مانگو جو مانگو گے ملے گا ‘۔ اسحاق علیہ السلام نے کہا ”پھر میری دعا یہ ہے کہ جس نے تیرے ساتھ شریک نہ کیا ہو اسے تو ضرور جنت میں لے جانا۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے { اللہ تعالیٰ نے مجھے اختیار دیا کہ میں دو باتوں میں سے ایک کو اختیار کر لوں یا تو یہ کہ میری آدھوں آدھ امت بخشی جائے یا یہ کہ میں شفاعت کروں اور اسے اللہ تعالیٰ قبول فرما لے تو میں نے شفاعت کرنے کو ترجیح دی اس پر کہ وہ عام ہو گی، ہاں ایک دعا تھی کہ میں وہی کرتا لیکن اللہ کا ایک نیک بندہ مجھ سے پہلے اس دعا کو مانگ چکا تھا }۔ واقعہ یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے اسحاق علیہ السلام سے ذبح ہونے کی تکلیف دور کر دی تو ان سے فرمایا گیا کہ ’ تو مانگ جو مانگے گا دیا جائے گا ‘۔ تو اسحاق علیہ السلام نے فرمایا ”واللہ شیطان کے بہکانے سے پہلے ہی میں اسے مانگ لوں گا، اللہ جو شخص اس حالت میں مرا ہو کہ اس نے تیرے ساتھ کسی کو شریک نہ کیا ہو تو اسے بخش دے اور جنت میں پہنچا دے۔“ ۱؎ [الدر المنشور للسیوطی:531/5:ضعیف] یہ حدیث ابن ابی حاتم میں ہے لیکن سنداً غریب اور منکر ہے اور اس کے ایک راوی عبدالرحمٰن بن زید بن اسلم ضعیف ہیں اور مجھے تو یہ بھی ڈر ہے کہ یہ الفاظ کہ (جب اللہ تعالیٰ نے اسحاق علیہ السلام سے) آخر تک راوی اپنے نہ ہوں جنہیں انہوں نے حدیث میں داخل کر دئیے ہیں۔
ذبیح اللہ تو اسماعیل علیہ السلام ہیں، محل ذبح منیٰ ہے اور وہ مکے میں ہے اور اسماعیل علیہ السلام یہیں تھے نہ کہ اسحاق علیہ السلام وہ تو شہر کنعان میں تھے جو شام ہے۔ جب ابراہیم علیہ السلام اپنے پیارے بچے کو ذبح کرنے کے لیے لٹا دیتے ہیں جناب باری سے ندا آتی ہے کہ ’ بس ابراہیم علیہ السلام تم اپنے خواب کو پورا کر چکے ‘۔ سدی رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ”جب خلیل اللہ علیہ السلام نے ذبیح اللہ علیہ السلام کے حلق پر چھری پھیری تو گردن تانبے کی ہو گئے اور نہ کٹی اور یہ آواز آئی۔“
ہم اسی طرح نیک کاروں کو بدلہ دیتے ہیں۔ یعنی سختیوں سے بچا لیتے ہیں اور چھٹکارا کر دیتے ہیں۔ جیسے فرمایا ’ اللہ سے ڈرتے رہنے والوں کے لیے اللہ تعالیٰ چھٹکارے کی صورت نکال ہی دیتا ہے اور اسے ایسی طرح روزی پہنچاتا ہے کہ اس کے گمان و وہم میں بھی نہ ہو۔ اللہ پر بھروسہ کرنے والوں کو اللہ ہی کافی ہے اللہ اپنے کاموں کو مکمل کر کے چھوڑتا ہے ہرچیز کا اس نے ایک اندازہ مقرر کر رکھا ہے ‘۔ اس آیت سے اس پر استدلال کیا گیا ہے کہ فعل پر قدرت پانے سے پہلے ہی حکم منسوخ ہو سکتا ہے۔
ہاں معتزلہ اسے نہیں مانتے۔ وجہ استدلال بہت ظاہر ہے اس لیے کہ خلیل اللہ علیہ السلام کو اپنے بیٹے کے ذبح کرنے کا حکم ہوتا ہے اور پھر ذبح سے پہلے ہی فدئیے کے ساتھ منسوخ کر دیا جاتا ہے۔ مقصود اس سے یہ تھا کہ صبر کا اور بجا آوری حکم پر مستعدی کا ثواب مرحمت فرما دیا جائے۔ اسی لیے ارشاد ہوا ’ یہ تو صرف ایک آزمائش تھی کھلا امتحان تھا کہ ادھر حکم ہوا ادھر تیاری ہوئی ‘۔ اسی لیے جناب خلیل اللہ علیہ السلام کی تعریف میں قرآن میں ہے ’ ابراہیم بڑا ہی وفادار تھا۔ بڑے ذبیح کے ساتھ ان کا فدیہ ہم نے دیا ‘۔ سفید رنگ بڑی آنکھوں اور بڑے سینگوں والا عمدہ خوراک سے پلا ہوا منیڈھا فدئیے میں دیا گیا جو ثبیر ببول کے درخت سے بندھا ہوا ملا۔ جو جنت میں چالیس سال چرتا رہا۔ منیٰ میں ثبیر کے پاس جو چٹان ہے اس پر یہ جانور ذبح کیا گیا یہ چیختا ہوا اوپر سے اترا تھا۔ یہی وہ مینڈھا ہے جسے ہابیل نے اللہ کی راہ میں قربان کیا تھا۔ اس کی اون قدرے سرخی مائل تھی اس کا نام جریر تھا۔ بعض کہتے ہیں مقام ابراہیم پر اسے ذبح کیا۔ کوئی کہتا ہے مٹی میں نحر پر۔ ایک شخص نے اپنے تئیں راہ اللہ میں ذبح کرنے کی منت مانی تھی تو سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اسے ایک سو اونٹ ذبح کرنے کا فتویٰ دیا تھا لیکن پھر فرماتے تھے کہ ”اگر میں اسے ایک بھیڑ ذبح کرنے کو کہتا تب بھی کافی تھا کیونکہ کتاب اللہ میں ہے کہ ذبیح اللہ کا فدیہ اسی سے دیا گیا تھا۔“ اکثر لوگوں کا یہی قول ہے بعض کہتے ہیں یہ پہاڑی بکرا تھا۔ کوئی کہتا ہے نر ہرن تھا۔ مسند احمد میں ہے کہ { عثمان رضی اللہ عنہ کو بلا کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { میں نے بھیڑ کے سینگ بیت اللہ شریف میں داخلے کے وقت اندر دیکھے تھے اور مجھے یاد نہ رہا کہ میں تجھے ان کے ڈھانک دینے کا حکم دوں، جاؤ اسے ڈھک دو بیت اللہ میں کوئی ایسی چیز نہ ہونی چاہیئے جو نمازی کو اپنی طرف متوجہ کر لے } }۔۱؎ [سنن ابوداود:2030،قال الشيخ الألباني:صحیح] سفیان رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس بھیڑ کے سینگ بیت اللہ میں ہی رہے یہاں تک کہ ایک مرتبہ بیت اللہ میں آگ لگی اس میں وہ جل گئے۔ ۱؎ [سلسلة احادیث صحیحه البانی:23221،] یہ واقعہ بھی اس امر کی دلیل ہے کہ ذبیح اللہ، اسماعیل علیہ السلام تھے اسی وجہ سے ان کی اولاد قریش تک یہ سینگ برابر اور مسلسل چلے آئے یہاں تک کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ نے مبعوث فرمایا۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ ”ان آثار کا بیان جن میں ذبیح اللہ کا نام ہے“ ابومیسرہ فرماتے ہیں یوسف علیہ السلام نے بادشاہ سے فرمایا ”کیا تو میرے ساتھ کھانا چاہتا ہے، میں یوسف بن یعقوب نبی اللہ بن اسحاق ذبیح اللہ بن ابراہیم خلیل اللہ ہوں [ عبید بن عمیر رحمه الله] موسیٰ علیہ السلام نے جناب باری میں عرض کی کہ ”اے اللہ کیا وجہ ہے جو لوگوں کی زبانوں پر یہ چڑھا ہوا ہے کہ ابراہیم، اسمٰعیل اور یعقوب علیہم السلام کے اللہ کی قسم“، تو جواب ملا ’ اس لیے ابراہیم نے تو ہر ہرچیز پر مجھی کو ترجیح دی اور اسحاق علیہ السلام نے اپنے تئیں میری راہ میں ذبح ہونے کے لیے سپرد کر دیا پھر بھلا اور چیزیں اسے پیش کر دینا کیا مشکل تھیں اور یعقوب علیہ السلام کو میں جوں جوں بلاؤں میں ڈالتا گیا اس کے حسن ظنی میرے ساتھ بڑھتی ہی رہی ‘۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے سامنے ایک مرتبہ کسی نے فخراً اپنے باپ دادوں کا نام لیا تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا قابل فخر باپ دادا تو یوسف علیہ السلام کے تھے جو یعقوب بن اسحاق علیہ السلام اور ذبیح اللہ بن ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام تھے۔
عکرمہ، سیدنا ابن عباس، خود سیدنا عباس، سیدنا علی،سعید بن جبیر رضی اللہ عنہم، مجاہد، شعبی، عبید بن عمر، ابومیسرہ، زید بن اسلم، عبداللہ بن شفیق، زہری، قاسم بن ابوبرزہ، محکول، عثمان بن ابی عاص، سدی، حسن، قتادہ، ابو الہذیل، ابن سابط، کعب احبار رحمہم اللہ اجمعین، ان سب کا یہی قول ہے اور ابن جریر رحمہ اللہ بھی اسی کو اختیار کرتے ہیں کہ ذبیح اللہ اسحاق علیہ السلام تھے۔ صحیح علم تو اللہ کو ہی ہے مگر بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ان سب بزرگوں کے استاد کعب احبار رحمہ اللہ ہیں۔ یہ خلافت فاروقی میں مسلمان ہوئے تھے اور کبھی کبھی سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو قدیمی کتابوں کی باتیں سناتے تھے، لوگوں نے اسے رخصت سمجھ کر پھر ان سے ہر ایک بات بیان کرنی شروع کر دی اور صحیح غلط کی تمیز اٹھ گئی حق تو یہ ہے کہ اس امت کو اگلی کتابوں کی ایک بات کی بھی حاجت نہیں۔ بغوی نے کچھ اور نام بھی صحابہ تابعین کے بتلائے ہیں جنہوں نے کہا ہے کہ ذبیح اللہ اسحاق علیہ السلام ہیں۔ ایک مرفوع حدیث میں بھی یہ آیا ہے۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:29495:ضعیف] اگر وہ حدیث صحیح ہوتی تو جھگڑے کا فیصلہ تھا مگر وہ حدیث صحیح نہیں اس میں دو راوی ضعیف ہیں۔ حسن بن دینار متروک ہیں اور علی بن زید بن جدعان منکر الحدیث ہیں اور زیادہ صحیح یہ ہے کہ ہے یہ بھی موقف، چنانچہ ایک سند سے یہ مقولہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کا مروی ہے اور یہی زیادہ ٹھیک ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
اب ان آثار کو سنئے جن سے معلوم ہوتا ہے کہ ذبیح اللہ اسماعیل علیہ السلام ہی تھے اور یہی ٹھیک اور بالکل درست بھی ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما یہی فرماتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ ”یہودی اسحاق علیہ السلام کا نام جھوٹ موٹ لیتے ہیں۔“ ابن عمر رضی اللہ عنہ، مجاہد، شعبی، حسن بصری، محمد بن کعب قرظی، خلیفہ المسلمین عمر ابن عبدالعزیز رحمہ اللہ علیہم کے سامنے جب محمد بن قرظی رحمہ اللہ نے یہ فرمایا اور ساتھ ہی اس کی دلیل بھی دی کہ ”ذبح کے ذکر کے بعد قرآن میں خلیل اللہ علیہ السلام کو اسحاق علیہ السلام کے پیدا ہونے کی بشارت کا ذکر ہے اور ساتھ ہی بیان ہے کہ ان کے ہاں بھی لڑکا ہو گا یعقوب نامی جب ان کے ہاں لڑکا ہونے کی بشارت دی گی تھی پھر باوجود ان کے ہاں لڑکا نہ ہوں کے اس سے پہلے ہی ان کے ذبح کرنے کا حکم کیسے دیا جاتا ہے؟“
تو سیدنا عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے فرمایا ”یہ بہت صاف دلیل ہے میرا ذہن یہاں نہیں پہنچا تھا گو یہ میں بھی جانتا تھا کہ ذبیح اللہ اسماعیل علیہ السلام ہی ہیں۔“ پھر شاہ اسلام نے شام کے ایک یہودی عالم سے پوچھا جو مسلمان ہو گئے تھے کہ تم اس بارے میں کیا علم رکھتے ہو انہوں نے فرمایا امیر المسلمین سچ تو یہی ہے کہ جن کے ذبح کرنے کا حکم دیا گیا وہ اسماعیل علیہ السلام ہی تھے لیکن چونکہ عرب ان کی اولاد میں سے ہیں تو یہ بزرگی ان کی طرف لوٹتی ہے اس حسد کے بارے میں یہودیوں نے اسے بدل دیا اور اسحاق علیہ السلام کا نام لے دیا۔ حقیقی علم اللہ ہی کو ہے ہمارا ایمان ہے کہ اسماعیل، اسحاق علیہم السلام دونوں ہی طاہر و طیب اور اللہ کے سچے فرمانبردار تھے۔ کتاب الزہد میں ہے کہ امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کے صاحبزادے عبداللہ رحمہ اللہ نے اپنے والد سے جب یہ مسئلہ پوچھا تو آپ نے جواب دیا کہ ”ذبح ہونے والے اسماعیل علیہ السلام ہی تھے۔“ علی ابن عمر، ابوالطفیل، سعید بن مسیب، سعید بن جبیر، حسن، مجاہد، شعبی، محمد بن کعب، ابوجعفر محمد بن علی ابوصالح رحمہ اللہ عنہم سے بھی یہی مروی ہے۔
امام بغوی رحمہ اللہ نے اور بھی صحابہ رضی اللہ عنہم اور تابعین کے نام گنوائے ہیں۔ ایک غریب حدیث بھی اسی کی تائید میں مروی ہے اس میں ہے کہ { شام میں امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے سامنے یہ بحث چھڑی کہ ذبیح اللہ کون ہیں؟ تو آپ نے فرمایا خوب ہوا جو یہ معاملہ مجھ جیسے باخبر شخص کے پاس آیا، سنو! ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھے جب ایک شخص آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا اے اللہ کی راہ میں دو ذبح ہونے والوں کی نسل کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم مجھے بھی مال غنیمت میں سے کچھ دلوایئے اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہنس دیئے۔ ایک تو ذبیح اللہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے والد عبداللہ تھے، دوسرے اسمعیل علیہ السلام جن کی نسل میں سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ عبداللہ کے ذبیح اللہ ہونے کا واقعہ یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دادا عبدالمطلب نے جب چاہ زمزم کھودا تو نذر مانی تھی کی اگر یہ کام آسانی سے پورا ہو گیا تو اپنے ایک لڑکے کو راہ اللہ میں ذبح کروں گا جب کام ہو گیا اور قرعہ اندازی کی گئی کہ کس بیٹے کو اللہ کے نام پر ذبح کریں تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے والد عبداللہ کا نام نکلا۔ ان کے ننھیال والوں نے کہا آپ ان کی طرف سے ایک سو اونٹ راہ اللہ ذبح کر دیں چنانچہ وہ ذبح کر دیئے گئے اور اسماعیل علیہ السلام کے ذبیح اللہ ہونے کا واقعہ تو مشہور ہی ہے }۔۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:29530:ضعیف] ابن جریر میں یہ روایت موجود ہے اور مغازی امویہ میں بھی۔
امام ابن جریر رحمہ اللہ نے اسحاق علیہ السلام کے ذبیح اللہ ہونے کی ایک دلیل تو یہ پیش کی یہ کہ جس علیم بچے کی بشارت کا ذکر ہے اس سے مراد اسحاق علیہ السلام ہیں قرآن میں اور جگہ ہے «قَالُوا لَا تَخَفْ وَبَشَّرُوهُ بِغُلَامٍ عَلِيمٍ» ۱؎ [51-الذاريات:28] ، اور یعقوب علیہ السلام کی بشارت کا یہ جواب دیا ہے کہ وہ آپ کے ساتھ چلنے پھرنے کی عمر کو پہنچ گئے تھے اور ممکن ہے کہ یعقوب علیہ السلام کے ساتھ ہی کوئی اور اولاد بھی ہوئی ہو اور کعبتہ اللہ میں سینگوں کی موجودگی کے بارے میں فرماتے ہیں بہت ممکن ہے کہ یہ بلادکنعان سے لا کر یہاں رکھے گئے ہوں۔“ اور بعض لوگوں سے اسحاق علیہ السلام کے نام کی صراحت بھی آئی ہے، لیکن یہ سب باتیں حقیقت سے بہت دور ہیں۔ ہاں اسماعیل علیہ السلام کے ذبیح اللہ ہونے پر محمد بن کعب قرظی رحمہ اللہ کا استدلال بہت صاف اور قوی ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ پہلے ذبیح اللہ اسمعیل علیہ السلام کے تولد ہونے کی بشارت دی گئی تھی یہاں اس کے بعد ان کے بھائی اسحاق علیہ السلام کی بشارت دی جا رہی ہے۔ سورۃ ہود اور سورۃ الحجر میں بھی اس کا ذکر گذر چکا ہے۔ «نبیاً» حال مقدرہ ہے یعنی وہ نبی صالح ہو گا۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ذبیح اللہ اسحاق علیہ السلام تھے اور یہاں نبوت اسحاق علیہ السلام کو بشارت ہے۔ جیسے موسیٰ علیہ السلام کے بارے میں فرمان ہے کہ ’ ہم نے انہیں اپنی رحمت سے ان کے بھائی ہارون کو نبی بنا دیا ‘۔ حالانکہ ہارون علیہ السلام موسیٰ علیہ السلام سے بڑے تھے تو یہاں بھی ان کی نبوت کی بشارت ہے۔ پس یہ بشارت اس وقت دی گئی جبکہ امتحان ذبح میں وہ صابر ثابت ہوئے۔ یہ بھی مروی ہے کہ یہ بشارت دو مرتبہ دی گئی پیدائش سے کچھ قبل اور نبوت سے کچھ قبل۔
حضرت قتادہ رحمہ اللہ سے بھی یہی مروی ہے۔ ’ ان پر اور اسحاق علیہ السلام پر ہماری برکتیں ہم نے نازل فرمائیں، ان کی اولاد میں ہر قسم کے لوگ ہیں نیک بھی بد بھی ‘۔ جیسے نوح علیہ السلام سے فرمان ہوا تھا کہ «قِيلَ يَا نُوحُ اهْبِطْ بِسَلَامٍ مِّنَّا وَبَرَكَاتٍ عَلَيْكَ وَعَلَىٰ أُمَمٍ مِّمَّن مَّعَكَ وَأُمَمٌ سَنُمَتِّعُهُمْ ثُمَّ يَمَسُّهُم مِّنَّا عَذَابٌ أَلِيمٌ» ’ اے نوح ہماری سلام اور برکت کے ساتھ تواتر۔ تو بھی اور تیرے ساتھ والے بھی اور ایسے بھی لوگ ہیں جنہیں ہم فائدے پہنچائیں گے پھر انہیں ہماری طرف سے درد ناک عذاب پہنچیں گے ‘۔۱؎ [11-هود:48]
17۔ 1 یہ بڑا ذبیحہ ایک مینڈھا تھا جو اللہ تعالیٰ نے جنت سے حضرت جبرائیل ؑ کے ذریعے سے بھیجا (ابن کثیر) اسماعیل ؑ کی جگہ اسے ذبح کیا گیا اور پھر سنت ابراہیمی کو قیامت تک قرب الٰہی کے حصول کا ایک ذریعہ اور عید الاضحٰی کا سب سے پسندیدہ عمل قرار دے دیا گیا۔
(آیت 107) {وَ فَدَيْنٰهُ بِذِبْحٍ عَظِيْمٍ: ”ذِبْحٌ“} (ذال کے کسرہ کے ساتھ) بمعنی {”مَذْبُوْحٌ“} یعنی ہم نے اسماعیل علیہ السلام کے فدیے اور بدلے میں ایک عظیم ذبیحہ دیا۔ یہ ایک مینڈھا تھا جو ابراہیم علیہ السلام نے اللہ کے حکم سے قربان کر دیا۔ اسے عظیم اس لیے فرمایا کہ وہ اسماعیل علیہ السلام جیسے عظیم شخص کا فدیہ تھا اور اس لیے کہ اس کی قربانی عظیم عبادت تھی، جو قیامت تک کے مسلمانوں کے لیے سنت قرار پائی۔ تفسیری روایات میں اس مینڈھے کا جنت سے آنے کا ذکر ہے اور یہ بھی کہ یہ وہی مینڈھا تھا جو آدم علیہ السلام کے بیٹے نے بطور قربانی دیا تھا۔ وہ جنت میں پلتا رہا اور اس موقع پر ابراہیم علیہ السلام کے لیے اتارا گیا۔ بعض نے کہا کہ یہ ایک پہاڑی بکرا تھا جو پہاڑ سے اتارا گیا تھا۔ مگر یہ تمام روایات اسرائیلی ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک بھی ثابت نہیں۔ ہاں! یہ ثابت ہے کہ وہ سینگوں والا مینڈھا تھا، جیسا کہ مسند احمد میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (کعبہ کے چابی بردار) عثمان بن طلحہ رضی اللہ عنہ کو بلایا اور فرمایا: [ إِنِّيْ كُنْتُ رَأَيْتُ قَرْنَيِ الْكَبْشِ حِيْنَ دَخَلْتُ الْبَيْتَ، فَنَسِيْتُ أَنْ آمُرَكَ أَنْ تُخَمِّرَهُمَا، فَخَمِّرْهُمَا فَإِنَّهُ لاَ يَنْبَغِيْ أَنْ يَكُوْنَ فِي الْبَيْتِ شَيْءٌ يَشْغَلُ الْمُصَلِّيَ، قَالَ سُفْيَانُ لَمْ تَزَلْ قَرْنَا الْكَبْشِ فِي الْبَيْتِ حَتَّي احْتَرَقَ الْبَيْتُ فَاحْتَرَقَا ] [ مسند أحمد: 68/4، ح: ۱۶۶۳۷۔ مسند احمد کے محققین نے اس کی سند کو صحیح کہا ہے ] ”میں جب بیت اللہ میں داخل ہوا تو میں نے اس مینڈھے کے سینگ دیکھے تھے، تو میں تمھیں ان کو ڈھانپنے کا حکم دینا بھول گیا۔ سو انھیں ڈھانپ دو، کیونکہ یہ مناسب نہیں کہ بیت اللہ میں کوئی ایسی چیز ہو جو نمازی کو مشغول کرے۔“ سفیان نے فرمایا: ”وہ سینگ بیت اللہ میں رہے، حتیٰ کہ بیت اللہ کو آگ لگ گئی تو وہ بھی جل گئے۔“
اور اس کی تعریف و توصیف ہمیشہ کے لیے بعد کی نسلوں میں چھوڑ دی
مولانا محمد جوناگڑھی
اور ہم نے ان کا ذکر خیر پچھلوں میں باقی رکھا
احمد رضا خان بریلوی
اور ہم نے پچھلوں میں اس کی تعریف باقی رکھی،
علامہ محمد حسین نجفی
اور ہم نے اس کا ذکر خیر آنے والوں میں چھوڑا۔
عبدالسلام بن محمد
اور پیچھے آنے والوں میں اس کے لیے یہ بات چھوڑ دی۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
ذبیح اللہ کی بحث اور یہودی روایات ٭٭
خلیل اللہ علیہ السلام جب اپنی قوم کی ہدایت سے مایوس ہو گئے، بڑی بڑی قدرتی نشانیاں دیکھ کر بھی جب انہیں ایمان نصیب نہ ہوا تو آپ علیہ السلام نے ان سے ہٹ جانا پسند فرمایا اور اعلان کر دیا کہ میں اب تم میں سے ہجرت کرجاؤں گا میرا رہنما میرا رب ہے۔ ساتھ ہی اپنے رب سے اپنے ہاں اولاد ہونے کی دعا مانگی تاکہ وہی توحید میں آپ علیہ السلام کا ساتھ دے۔ اسی وقت دعا قبول ہوتی ہے اور ایک بردبار بچے کی بشارت دی جاتی۔ یہ اسماعیل علیہ السلام تھے یہی آپ علیہ السلام کے لیے صاحبزادے تھے اور اسحاق علیہ السلام سے بڑے تھے۔ اسے تو اہل کتاب بھی مانتے ہیں بلکہ ان کی کتب میں موجود ہے کہ اسماعیل علیہ السلام کی پیدائش کے وقت ابراہیم علیہ السلام کی عمر چھیاسی سال کی تھی اور جس وقت اسحاق علیہ السلام تولد ہوتے ہیں اس وقت آپ علیہ السلام کی عمر ننانوے برس کی تھی۔ بلکہ ان کی اپنی کتاب میں تو یہ بھی ہے کہ جناب ابراہیم علیہ السلام کو اپنے اکلوتے فرزند کو ذبح کرنے کا حکم ہوا تھا۔ لیکن صرف اس لیے کہ یہ لوگ خود تو نبی اللہ اسحاق علیہ السلام کی اولاد میں سے ہیں اور نبی اللہ و ذبیح اللہ اسماعیل علیہ السلام کی اولاد میں سے عرب ہیں۔ انہی نے واقعہ کی اصلیت بدل دی اور اس فضیلت کو اسماعیل علیہ السلام سے ہٹاکر اسحاق علیہ السلام کو دے دیا اور بے جا تاویلیں کرتے اللہ کے کلام کو بدل ڈالا، اور کہا ہماری کتاب میں لفظ «وَحِیْدَكَ» ہے اس سے مراد اکلوتا نہیں بلکہ جو تیرے پاس اس وقت اکیلا ہے وہ ہے۔ یہ اس لیے کہ اسماعیل تو اپنی والدہ کے ساتھ مکے میں تھے یہاں خلیل اللہ کے ساتھ صرف اسحاق تھے۔ لیکن یہ بالکل غلط ہے۔ وحید اسی کو کہا جاتا ہے جو اکلوتا ہو اس کا اور کوئی بھائی نہ ہو۔ پھر یہاں ایک بات اور بھی ہے کہ اکلوتے اور پہلوٹھی کے بچے کے ساتھ جو محبت ہوتی اور اس کے جو لاڈ پیار ہوتے ہیں عموماً دوسری اولاد کے ہونے پر پھر وہ باقی نہیں رہتے۔ اس لیے اس کے ذبیحہ کا حکم امتحان اور آزمائش کی زبردست کڑی ہے۔
ہم اسے مانتے ہیں کہ بعض سلف بھی اس کے قائل ہوئے ہیں کہ ذبیح اللہ اسحاق علیہ السلام تھے، یہاں تک کہ بعض صحابہ رضی اللہ عنہم سے بھی یہ مروی ہے لیکن یہ چیز کتاب و سنت سے ثابت نہیں ہوتی۔ بلکہ خیال یہ ہے کہ بنو اسرائیل کی ایک شہرت دی ہوئی بات کو ان حضرات نے بھی بے دلیل اپنے ہاں لے لیا۔ دور کیوں جائیں کتاب اللہ کے الفاظ میں ہی غور کر لیجئیے کہ اسمٰعیل علیہ السلام کی بشارت کا ”غلام حلیم“ کہہ کر ذکر ہوا اور پھر اللہ کی راہ میں ذبح کے لیے تیار ہونے کا ذکر ہوا۔ اس تمام بیان کو ختم کر کے پھر نبی صالح اسحاق علیہ السلام کے تولد کی بشارت کا بیان ہوا۔ اور فرشتوں نے بشارت اسحاق کے موقع پر ”غلام علیم“ فرمایا تھا۔ اسی طرح قرآن میں ہے بشارت اسحاق علیہ السلام کے ساتھ ہی ہے «وَمِنْ وَّرَاءِ اِسْحٰقَ يَعْقُوْبَ» ۱؎ [11-ھود:71] یعنی ’ ابراہیم کی حیات میں ہی اسحاق کے ہاں یعقوب پیدا ہوں گے ‘، یعنی ان کی تو نسل جاری رہنے کا پہلے ہی علم کرایا جا چکا تھا اب انہیں ذبح کرنے کا حکم کیسے دیا جاتا؟ اسے ہم پہلے بھی بیان کر چکے۔ البتہ اسماعیل علیہ السلام کا وصف یہاں پر بردباری کا بیان کیا گیا ہے۔ جو ذبیح کے لیے نہایت مناسب ہے۔
اب اسماعیل علیہ السلام بڑے ہو گئے اپنے والد کے ساتھ چلنے پھرنے کے قابل ہو گئے۔ آپ علیہ السلام اس وقت مع اپنی والدہ محترمہ کے فاران میں تھے ابراہیم علیہ السلام عموماً وہاں جاتے آتے رہتے تھے یہ مذکور ہے کہ براق پر جاتے تھے اور اس جملے کے یہ معنی بھی ہیں کہ جوانی کے لگ بھگ ہو گئے لڑکپن کا زمانہ نکل گیا اور باپ کی طرح چلنے پھرنے کام کاج کرنے کے قابل بن گئے تو ابراہیم علیہ السلام نے خواب دیکھا کہ گویا آپ علیہ السلام اپنے پیارے بچے کو ذبح کر رہے ہیں۔ انبیاء کے خواب وحی ہوتے ہیں اور اس کی دلیل یہی آیت ہے۔ ایک مرفوع روایت میں بھی یہ ہے۔ ۱؎ [صحیح بخاری:138] پس اللہ کے رسول علیہ السلام نے اپنے لخت جگر کی آزمائش کے لیے کہ اچانک وہ گھبرا نہ اٹھے، اپنا ارادہ ان کے سامنے ظاہر کیا۔ وہاں کیا تھا۔ وہ بھی اسی درخت کے پھل تھے نبی ابن نبی علیہ السلام تھے جواب دیتے ہیں اب پھر دیر کیوں لگا رہے ہو یہ باتیں بھی پوچھنے کی ہوتی ہیں جو حکم ہوا ہے اسے فوراً کر ڈالیے اور اگر میری نسبت کھٹکا ہو تو زبانی اطمینانی کیا کروں چھری رکھئے خود معلوم ہو جائے گا کہ میں کیسا کچھ صابر ہوں۔ ان شاءاللہ میرا صبر آپ کا جی خوش کر دے گا۔ سبحان اللہ جو کہا تھا وہی کر کے دکھایا اور صادق الوعد ہونے کا سرٹیفیکیٹ اللہ کی طرف سے حاصل کر ہی لیا۔ آخر باپ بیٹا دونوں حکم اللہ کی اطاعت کے لیے جان بکف تیار ہو جاتے ہیں باپ بچے کو ذبح کرنے کے لیے تیار ہو جاتا ہے۔ اور باپ اپنے نور چشم لخت جگر کو منہ کے بل زمین پر گراتے ہیں تاکہ ذبح کے وقت منہ دیکھ کر محبت نہ آ جائے اور ہاتھ سست نہ پڑ جائے۔
مسند احمد میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ”جب ابراہیم علیہ السلام اپنی نور نظر کو ذبح کرنے کے لیے بحکم اللہ لے چلے تو سعی کے وقت شیطان سامنے آیا لیکن ابراہیم علیہ السلام اس سے آگے بڑھ گئے، پھر جبرائیل علیہ السلام کے ساتھ آپ جمرہ عقبہ پر پہنچے تو پھر شیطان سامنے آیا، آپ علیہ السلام نے اسے سات کنکریاں ماریں۔“ ”پھر جمرہ وسطی پاس آیا پھر وہاں سات کنکریاں ماریں۔ پھر آگے بڑھ کر اپنے پیارے بچے کو اللہ کے نام پر ذبح کرنے کے لیے نیچے پچھاڑا، ذبیح اللہ کے پاک جسم پر اس وقت سفید چادر تھی کہنے لگے ابا جی اسے اتار لیجئیے تاکہ اس میں آپ مجھے کفنا سکیں۔ اس وقت بیٹے کو ننگا کرتے وقت باپ کا عجب حال تھا کہ آواز آئی بس ابراہیم خواب کو سچا کر چکے۔ مڑ کر دیکھا تو ایک مینڈا سفید رنگ کا بڑے بڑے سینگوں اور صاف آنکھوں والا نظر پڑا، ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں اسی لیے ہم اس قسم کے مینڈے (چھترے) چن چن کر قربانی کے لیے لیتے تھے۔“
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما ہی سے دوسری روایت میں اسحاق علیہ السلام کا نام مروی ہے۔ تو گو دونوں نام آپ رضی اللہ عنہما سے مروی ہیں لیکن اول ہی اولیٰ ہے اور اس کی دلیلیں آ رہی ہیں۔ ان شاءاللہ تعالیٰ۔ اس کے بدلے بڑا ذبیحہ، اللہ نے عطا فرمایا اس کی بابت سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”یہ جنتی چھترا تھا جو وہاں چالیس سال سے کھا پی رہا تھا۔“ اسے دیکھ کر آپ علیہ السلام اپنے بچے کو چھوڑ کر اس کے پیچھے ہولیے۔ جمرہ اولیٰ پر آ کر سات کنکریاں پھنکیں پھر وہ بھاگ کر جمرہ وسطی پر آ گیا۔ سات کنکریاں ماریں اور وہاں سے ملخر میں لا کر ذبح کیا اس کے سینگ سر سمیت ابتداء اسلام کے زمانہ تک کعبے کے پرنالے کے پاس لٹکتے رہے تھے پھر سوکھ گئے۔ ایک مرتبہ سیدنا کعب رضی اللہ عنہ بیٹھے ہوئے باتیں کر رہے تھے۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ تو حدیثیں بیان کر رہے تھے اور کعب رضی اللہ عنہ کتاب کے قصے بیان کر رہے تھے۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ { ہر نبی کے لیے ایک دعا قبول شدہ ہے اور میں نے اپنی اس مقبول دعا کو پوشیدہ کر کے رکھ چھوڑا ہے اپنی امت کی شفاعت کے لئے جو بروز قیامت ہوگی}، تو سیدنا کعب رضی اللہ عنہ نے فرمایا تم نے خود اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے؟ فرمایا ہاں۔ سیدنا کعب رضی اللہ عنہ خوش ہوئے اور فرمانے لگے تم پر میرے ماں باپ فدا ہوں یا فرمایا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر میرے ماں باپ صدقے جائیں۔
پھر کعب رضی اللہ عنہ نے ابراہیم خلیل علیہ السلام کا قصہ سنایا کہ جب آپ علیہ السلام اپنے لڑکے اسمٰعیل علیہ السلام کو ذبح کرنے کے لیے مستعد ہو گئے تو شیطان نے کہا اگر میں اس وقت انہیں نہ بہکا سکا تو مجھے ان سے عمر بھر کے لیے مایوس ہو جانا چاہیئے۔ پہلے تو یہ سارہ رضی اللہ عنہا کے پاس آیا اور پوچھا کہ ابراہیم علیہ السلام تمہارے لڑکے کو کہاں لے گئے ہیں؟ مائی صاحبہ رضی اللہ عنہا نے جواب دیا اپنے کسی کام پر لے گئے ہیں، اس نے کہا نہیں بلکہ وہ ذبح کرنے کے لیے لے گئے ہیں۔ مائی صاحبہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا وہ اسے کیوں ذبح کرنے لگے؟ لعین نے کہا وہ کہتے ہیں اللہ کی طرف سے یہی حکم ہے جواب ملا پھر تو یہی بہتر ہے کہ وہ جلدی سے اللہ کے حکم کی بجا آوری سے فارغ ہو لیں۔ یہاں سے نامراد ہو کر بچے کے پاس آیا اور کہا تمہارے ابا تمہیں کہاں لے جاتے ہیں؟ فرمایا اپنے کام کے لیے کہا نہیں بلکہ وہ تجھے ذبح کرنے کے لیے لے جا رہے ہیں، فرمایا یہ کیوں؟ کہا اس لیے کہ وہ سمجھتے ہیں اللہ کا انہیں حکم ہے۔ کہا پھر تو واللہ انہیں اس کام میں بہت جلدی کرنی چاہیئے۔ ان سے بھی مایوس ہو کر یہ ملعون خلیل اللہ علیہ السلام کے پاس پہنچا۔ ان سے کہا بچے کو کہاں لے جا رہے ہو؟ جواب دیا اپنے کام کے لیے ملعون نے کہا نہیں بلکہ تم تو اسے ذبح کرنے کے لیے جا رہے ہو؟ آپ علیہ السلام نے فرمایا یہ کیوں؟ بولا اس لیے کہ تمہارا خیال ہے کہ اللہ کا حکم تمہیں یونہی ہے، آپ علیہ السلام نے فرمایا اللہ کی قسم پھر تو میں ضرور ہی اسے ذبح کر ڈالوں گا۔ اب ابلیس مایوس ہو گیا۔۱؎ [عبد الرزاق فی المصنف:20864:صحیح]
دوسری روایت میں یہ بھی ہے کہ اس تمام واقعے کے بعد جناب باری تعالیٰ نے اسحاق علیہ السلام سے فرمایا کہ ’ ایک دعا تم مجھ سے مانگو جو مانگو گے ملے گا ‘۔ اسحاق علیہ السلام نے کہا ”پھر میری دعا یہ ہے کہ جس نے تیرے ساتھ شریک نہ کیا ہو اسے تو ضرور جنت میں لے جانا۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے { اللہ تعالیٰ نے مجھے اختیار دیا کہ میں دو باتوں میں سے ایک کو اختیار کر لوں یا تو یہ کہ میری آدھوں آدھ امت بخشی جائے یا یہ کہ میں شفاعت کروں اور اسے اللہ تعالیٰ قبول فرما لے تو میں نے شفاعت کرنے کو ترجیح دی اس پر کہ وہ عام ہو گی، ہاں ایک دعا تھی کہ میں وہی کرتا لیکن اللہ کا ایک نیک بندہ مجھ سے پہلے اس دعا کو مانگ چکا تھا }۔ واقعہ یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے اسحاق علیہ السلام سے ذبح ہونے کی تکلیف دور کر دی تو ان سے فرمایا گیا کہ ’ تو مانگ جو مانگے گا دیا جائے گا ‘۔ تو اسحاق علیہ السلام نے فرمایا ”واللہ شیطان کے بہکانے سے پہلے ہی میں اسے مانگ لوں گا، اللہ جو شخص اس حالت میں مرا ہو کہ اس نے تیرے ساتھ کسی کو شریک نہ کیا ہو تو اسے بخش دے اور جنت میں پہنچا دے۔“ ۱؎ [الدر المنشور للسیوطی:531/5:ضعیف] یہ حدیث ابن ابی حاتم میں ہے لیکن سنداً غریب اور منکر ہے اور اس کے ایک راوی عبدالرحمٰن بن زید بن اسلم ضعیف ہیں اور مجھے تو یہ بھی ڈر ہے کہ یہ الفاظ کہ (جب اللہ تعالیٰ نے اسحاق علیہ السلام سے) آخر تک راوی اپنے نہ ہوں جنہیں انہوں نے حدیث میں داخل کر دئیے ہیں۔
ذبیح اللہ تو اسماعیل علیہ السلام ہیں، محل ذبح منیٰ ہے اور وہ مکے میں ہے اور اسماعیل علیہ السلام یہیں تھے نہ کہ اسحاق علیہ السلام وہ تو شہر کنعان میں تھے جو شام ہے۔ جب ابراہیم علیہ السلام اپنے پیارے بچے کو ذبح کرنے کے لیے لٹا دیتے ہیں جناب باری سے ندا آتی ہے کہ ’ بس ابراہیم علیہ السلام تم اپنے خواب کو پورا کر چکے ‘۔ سدی رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ”جب خلیل اللہ علیہ السلام نے ذبیح اللہ علیہ السلام کے حلق پر چھری پھیری تو گردن تانبے کی ہو گئے اور نہ کٹی اور یہ آواز آئی۔“
ہم اسی طرح نیک کاروں کو بدلہ دیتے ہیں۔ یعنی سختیوں سے بچا لیتے ہیں اور چھٹکارا کر دیتے ہیں۔ جیسے فرمایا ’ اللہ سے ڈرتے رہنے والوں کے لیے اللہ تعالیٰ چھٹکارے کی صورت نکال ہی دیتا ہے اور اسے ایسی طرح روزی پہنچاتا ہے کہ اس کے گمان و وہم میں بھی نہ ہو۔ اللہ پر بھروسہ کرنے والوں کو اللہ ہی کافی ہے اللہ اپنے کاموں کو مکمل کر کے چھوڑتا ہے ہرچیز کا اس نے ایک اندازہ مقرر کر رکھا ہے ‘۔ اس آیت سے اس پر استدلال کیا گیا ہے کہ فعل پر قدرت پانے سے پہلے ہی حکم منسوخ ہو سکتا ہے۔
ہاں معتزلہ اسے نہیں مانتے۔ وجہ استدلال بہت ظاہر ہے اس لیے کہ خلیل اللہ علیہ السلام کو اپنے بیٹے کے ذبح کرنے کا حکم ہوتا ہے اور پھر ذبح سے پہلے ہی فدئیے کے ساتھ منسوخ کر دیا جاتا ہے۔ مقصود اس سے یہ تھا کہ صبر کا اور بجا آوری حکم پر مستعدی کا ثواب مرحمت فرما دیا جائے۔ اسی لیے ارشاد ہوا ’ یہ تو صرف ایک آزمائش تھی کھلا امتحان تھا کہ ادھر حکم ہوا ادھر تیاری ہوئی ‘۔ اسی لیے جناب خلیل اللہ علیہ السلام کی تعریف میں قرآن میں ہے ’ ابراہیم بڑا ہی وفادار تھا۔ بڑے ذبیح کے ساتھ ان کا فدیہ ہم نے دیا ‘۔ سفید رنگ بڑی آنکھوں اور بڑے سینگوں والا عمدہ خوراک سے پلا ہوا منیڈھا فدئیے میں دیا گیا جو ثبیر ببول کے درخت سے بندھا ہوا ملا۔ جو جنت میں چالیس سال چرتا رہا۔ منیٰ میں ثبیر کے پاس جو چٹان ہے اس پر یہ جانور ذبح کیا گیا یہ چیختا ہوا اوپر سے اترا تھا۔ یہی وہ مینڈھا ہے جسے ہابیل نے اللہ کی راہ میں قربان کیا تھا۔ اس کی اون قدرے سرخی مائل تھی اس کا نام جریر تھا۔ بعض کہتے ہیں مقام ابراہیم پر اسے ذبح کیا۔ کوئی کہتا ہے مٹی میں نحر پر۔ ایک شخص نے اپنے تئیں راہ اللہ میں ذبح کرنے کی منت مانی تھی تو سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اسے ایک سو اونٹ ذبح کرنے کا فتویٰ دیا تھا لیکن پھر فرماتے تھے کہ ”اگر میں اسے ایک بھیڑ ذبح کرنے کو کہتا تب بھی کافی تھا کیونکہ کتاب اللہ میں ہے کہ ذبیح اللہ کا فدیہ اسی سے دیا گیا تھا۔“ اکثر لوگوں کا یہی قول ہے بعض کہتے ہیں یہ پہاڑی بکرا تھا۔ کوئی کہتا ہے نر ہرن تھا۔ مسند احمد میں ہے کہ { عثمان رضی اللہ عنہ کو بلا کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { میں نے بھیڑ کے سینگ بیت اللہ شریف میں داخلے کے وقت اندر دیکھے تھے اور مجھے یاد نہ رہا کہ میں تجھے ان کے ڈھانک دینے کا حکم دوں، جاؤ اسے ڈھک دو بیت اللہ میں کوئی ایسی چیز نہ ہونی چاہیئے جو نمازی کو اپنی طرف متوجہ کر لے } }۔۱؎ [سنن ابوداود:2030،قال الشيخ الألباني:صحیح] سفیان رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس بھیڑ کے سینگ بیت اللہ میں ہی رہے یہاں تک کہ ایک مرتبہ بیت اللہ میں آگ لگی اس میں وہ جل گئے۔ ۱؎ [سلسلة احادیث صحیحه البانی:23221،] یہ واقعہ بھی اس امر کی دلیل ہے کہ ذبیح اللہ، اسماعیل علیہ السلام تھے اسی وجہ سے ان کی اولاد قریش تک یہ سینگ برابر اور مسلسل چلے آئے یہاں تک کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ نے مبعوث فرمایا۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ ”ان آثار کا بیان جن میں ذبیح اللہ کا نام ہے“ ابومیسرہ فرماتے ہیں یوسف علیہ السلام نے بادشاہ سے فرمایا ”کیا تو میرے ساتھ کھانا چاہتا ہے، میں یوسف بن یعقوب نبی اللہ بن اسحاق ذبیح اللہ بن ابراہیم خلیل اللہ ہوں [ عبید بن عمیر رحمه الله] موسیٰ علیہ السلام نے جناب باری میں عرض کی کہ ”اے اللہ کیا وجہ ہے جو لوگوں کی زبانوں پر یہ چڑھا ہوا ہے کہ ابراہیم، اسمٰعیل اور یعقوب علیہم السلام کے اللہ کی قسم“، تو جواب ملا ’ اس لیے ابراہیم نے تو ہر ہرچیز پر مجھی کو ترجیح دی اور اسحاق علیہ السلام نے اپنے تئیں میری راہ میں ذبح ہونے کے لیے سپرد کر دیا پھر بھلا اور چیزیں اسے پیش کر دینا کیا مشکل تھیں اور یعقوب علیہ السلام کو میں جوں جوں بلاؤں میں ڈالتا گیا اس کے حسن ظنی میرے ساتھ بڑھتی ہی رہی ‘۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے سامنے ایک مرتبہ کسی نے فخراً اپنے باپ دادوں کا نام لیا تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا قابل فخر باپ دادا تو یوسف علیہ السلام کے تھے جو یعقوب بن اسحاق علیہ السلام اور ذبیح اللہ بن ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام تھے۔
عکرمہ، سیدنا ابن عباس، خود سیدنا عباس، سیدنا علی،سعید بن جبیر رضی اللہ عنہم، مجاہد، شعبی، عبید بن عمر، ابومیسرہ، زید بن اسلم، عبداللہ بن شفیق، زہری، قاسم بن ابوبرزہ، محکول، عثمان بن ابی عاص، سدی، حسن، قتادہ، ابو الہذیل، ابن سابط، کعب احبار رحمہم اللہ اجمعین، ان سب کا یہی قول ہے اور ابن جریر رحمہ اللہ بھی اسی کو اختیار کرتے ہیں کہ ذبیح اللہ اسحاق علیہ السلام تھے۔ صحیح علم تو اللہ کو ہی ہے مگر بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ان سب بزرگوں کے استاد کعب احبار رحمہ اللہ ہیں۔ یہ خلافت فاروقی میں مسلمان ہوئے تھے اور کبھی کبھی سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو قدیمی کتابوں کی باتیں سناتے تھے، لوگوں نے اسے رخصت سمجھ کر پھر ان سے ہر ایک بات بیان کرنی شروع کر دی اور صحیح غلط کی تمیز اٹھ گئی حق تو یہ ہے کہ اس امت کو اگلی کتابوں کی ایک بات کی بھی حاجت نہیں۔ بغوی نے کچھ اور نام بھی صحابہ تابعین کے بتلائے ہیں جنہوں نے کہا ہے کہ ذبیح اللہ اسحاق علیہ السلام ہیں۔ ایک مرفوع حدیث میں بھی یہ آیا ہے۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:29495:ضعیف] اگر وہ حدیث صحیح ہوتی تو جھگڑے کا فیصلہ تھا مگر وہ حدیث صحیح نہیں اس میں دو راوی ضعیف ہیں۔ حسن بن دینار متروک ہیں اور علی بن زید بن جدعان منکر الحدیث ہیں اور زیادہ صحیح یہ ہے کہ ہے یہ بھی موقف، چنانچہ ایک سند سے یہ مقولہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کا مروی ہے اور یہی زیادہ ٹھیک ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
اب ان آثار کو سنئے جن سے معلوم ہوتا ہے کہ ذبیح اللہ اسماعیل علیہ السلام ہی تھے اور یہی ٹھیک اور بالکل درست بھی ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما یہی فرماتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ ”یہودی اسحاق علیہ السلام کا نام جھوٹ موٹ لیتے ہیں۔“ ابن عمر رضی اللہ عنہ، مجاہد، شعبی، حسن بصری، محمد بن کعب قرظی، خلیفہ المسلمین عمر ابن عبدالعزیز رحمہ اللہ علیہم کے سامنے جب محمد بن قرظی رحمہ اللہ نے یہ فرمایا اور ساتھ ہی اس کی دلیل بھی دی کہ ”ذبح کے ذکر کے بعد قرآن میں خلیل اللہ علیہ السلام کو اسحاق علیہ السلام کے پیدا ہونے کی بشارت کا ذکر ہے اور ساتھ ہی بیان ہے کہ ان کے ہاں بھی لڑکا ہو گا یعقوب نامی جب ان کے ہاں لڑکا ہونے کی بشارت دی گی تھی پھر باوجود ان کے ہاں لڑکا نہ ہوں کے اس سے پہلے ہی ان کے ذبح کرنے کا حکم کیسے دیا جاتا ہے؟“
تو سیدنا عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے فرمایا ”یہ بہت صاف دلیل ہے میرا ذہن یہاں نہیں پہنچا تھا گو یہ میں بھی جانتا تھا کہ ذبیح اللہ اسماعیل علیہ السلام ہی ہیں۔“ پھر شاہ اسلام نے شام کے ایک یہودی عالم سے پوچھا جو مسلمان ہو گئے تھے کہ تم اس بارے میں کیا علم رکھتے ہو انہوں نے فرمایا امیر المسلمین سچ تو یہی ہے کہ جن کے ذبح کرنے کا حکم دیا گیا وہ اسماعیل علیہ السلام ہی تھے لیکن چونکہ عرب ان کی اولاد میں سے ہیں تو یہ بزرگی ان کی طرف لوٹتی ہے اس حسد کے بارے میں یہودیوں نے اسے بدل دیا اور اسحاق علیہ السلام کا نام لے دیا۔ حقیقی علم اللہ ہی کو ہے ہمارا ایمان ہے کہ اسماعیل، اسحاق علیہم السلام دونوں ہی طاہر و طیب اور اللہ کے سچے فرمانبردار تھے۔ کتاب الزہد میں ہے کہ امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کے صاحبزادے عبداللہ رحمہ اللہ نے اپنے والد سے جب یہ مسئلہ پوچھا تو آپ نے جواب دیا کہ ”ذبح ہونے والے اسماعیل علیہ السلام ہی تھے۔“ علی ابن عمر، ابوالطفیل، سعید بن مسیب، سعید بن جبیر، حسن، مجاہد، شعبی، محمد بن کعب، ابوجعفر محمد بن علی ابوصالح رحمہ اللہ عنہم سے بھی یہی مروی ہے۔
امام بغوی رحمہ اللہ نے اور بھی صحابہ رضی اللہ عنہم اور تابعین کے نام گنوائے ہیں۔ ایک غریب حدیث بھی اسی کی تائید میں مروی ہے اس میں ہے کہ { شام میں امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے سامنے یہ بحث چھڑی کہ ذبیح اللہ کون ہیں؟ تو آپ نے فرمایا خوب ہوا جو یہ معاملہ مجھ جیسے باخبر شخص کے پاس آیا، سنو! ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھے جب ایک شخص آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا اے اللہ کی راہ میں دو ذبح ہونے والوں کی نسل کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم مجھے بھی مال غنیمت میں سے کچھ دلوایئے اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہنس دیئے۔ ایک تو ذبیح اللہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے والد عبداللہ تھے، دوسرے اسمعیل علیہ السلام جن کی نسل میں سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ عبداللہ کے ذبیح اللہ ہونے کا واقعہ یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دادا عبدالمطلب نے جب چاہ زمزم کھودا تو نذر مانی تھی کی اگر یہ کام آسانی سے پورا ہو گیا تو اپنے ایک لڑکے کو راہ اللہ میں ذبح کروں گا جب کام ہو گیا اور قرعہ اندازی کی گئی کہ کس بیٹے کو اللہ کے نام پر ذبح کریں تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے والد عبداللہ کا نام نکلا۔ ان کے ننھیال والوں نے کہا آپ ان کی طرف سے ایک سو اونٹ راہ اللہ ذبح کر دیں چنانچہ وہ ذبح کر دیئے گئے اور اسماعیل علیہ السلام کے ذبیح اللہ ہونے کا واقعہ تو مشہور ہی ہے }۔۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:29530:ضعیف] ابن جریر میں یہ روایت موجود ہے اور مغازی امویہ میں بھی۔
امام ابن جریر رحمہ اللہ نے اسحاق علیہ السلام کے ذبیح اللہ ہونے کی ایک دلیل تو یہ پیش کی یہ کہ جس علیم بچے کی بشارت کا ذکر ہے اس سے مراد اسحاق علیہ السلام ہیں قرآن میں اور جگہ ہے «قَالُوا لَا تَخَفْ وَبَشَّرُوهُ بِغُلَامٍ عَلِيمٍ» ۱؎ [51-الذاريات:28] ، اور یعقوب علیہ السلام کی بشارت کا یہ جواب دیا ہے کہ وہ آپ کے ساتھ چلنے پھرنے کی عمر کو پہنچ گئے تھے اور ممکن ہے کہ یعقوب علیہ السلام کے ساتھ ہی کوئی اور اولاد بھی ہوئی ہو اور کعبتہ اللہ میں سینگوں کی موجودگی کے بارے میں فرماتے ہیں بہت ممکن ہے کہ یہ بلادکنعان سے لا کر یہاں رکھے گئے ہوں۔“ اور بعض لوگوں سے اسحاق علیہ السلام کے نام کی صراحت بھی آئی ہے، لیکن یہ سب باتیں حقیقت سے بہت دور ہیں۔ ہاں اسماعیل علیہ السلام کے ذبیح اللہ ہونے پر محمد بن کعب قرظی رحمہ اللہ کا استدلال بہت صاف اور قوی ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ پہلے ذبیح اللہ اسمعیل علیہ السلام کے تولد ہونے کی بشارت دی گئی تھی یہاں اس کے بعد ان کے بھائی اسحاق علیہ السلام کی بشارت دی جا رہی ہے۔ سورۃ ہود اور سورۃ الحجر میں بھی اس کا ذکر گذر چکا ہے۔ «نبیاً» حال مقدرہ ہے یعنی وہ نبی صالح ہو گا۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ذبیح اللہ اسحاق علیہ السلام تھے اور یہاں نبوت اسحاق علیہ السلام کو بشارت ہے۔ جیسے موسیٰ علیہ السلام کے بارے میں فرمان ہے کہ ’ ہم نے انہیں اپنی رحمت سے ان کے بھائی ہارون کو نبی بنا دیا ‘۔ حالانکہ ہارون علیہ السلام موسیٰ علیہ السلام سے بڑے تھے تو یہاں بھی ان کی نبوت کی بشارت ہے۔ پس یہ بشارت اس وقت دی گئی جبکہ امتحان ذبح میں وہ صابر ثابت ہوئے۔ یہ بھی مروی ہے کہ یہ بشارت دو مرتبہ دی گئی پیدائش سے کچھ قبل اور نبوت سے کچھ قبل۔
حضرت قتادہ رحمہ اللہ سے بھی یہی مروی ہے۔ ’ ان پر اور اسحاق علیہ السلام پر ہماری برکتیں ہم نے نازل فرمائیں، ان کی اولاد میں ہر قسم کے لوگ ہیں نیک بھی بد بھی ‘۔ جیسے نوح علیہ السلام سے فرمان ہوا تھا کہ «قِيلَ يَا نُوحُ اهْبِطْ بِسَلَامٍ مِّنَّا وَبَرَكَاتٍ عَلَيْكَ وَعَلَىٰ أُمَمٍ مِّمَّن مَّعَكَ وَأُمَمٌ سَنُمَتِّعُهُمْ ثُمَّ يَمَسُّهُم مِّنَّا عَذَابٌ أَلِيمٌ» ’ اے نوح ہماری سلام اور برکت کے ساتھ تواتر۔ تو بھی اور تیرے ساتھ والے بھی اور ایسے بھی لوگ ہیں جنہیں ہم فائدے پہنچائیں گے پھر انہیں ہماری طرف سے درد ناک عذاب پہنچیں گے ‘۔۱؎ [11-هود:48]
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 108تا111) {وَ تَرَكْنَا عَلَيْهِ فِي الْاٰخِرِيْنَ …:} ان آیات کی تفسیر کے لیے دیکھیے اسی سورت کی آیات (۷۸ تا ۸۱)۔
خلیل اللہ علیہ السلام جب اپنی قوم کی ہدایت سے مایوس ہو گئے، بڑی بڑی قدرتی نشانیاں دیکھ کر بھی جب انہیں ایمان نصیب نہ ہوا تو آپ علیہ السلام نے ان سے ہٹ جانا پسند فرمایا اور اعلان کر دیا کہ میں اب تم میں سے ہجرت کرجاؤں گا میرا رہنما میرا رب ہے۔ ساتھ ہی اپنے رب سے اپنے ہاں اولاد ہونے کی دعا مانگی تاکہ وہی توحید میں آپ علیہ السلام کا ساتھ دے۔ اسی وقت دعا قبول ہوتی ہے اور ایک بردبار بچے کی بشارت دی جاتی۔ یہ اسماعیل علیہ السلام تھے یہی آپ علیہ السلام کے لیے صاحبزادے تھے اور اسحاق علیہ السلام سے بڑے تھے۔ اسے تو اہل کتاب بھی مانتے ہیں بلکہ ان کی کتب میں موجود ہے کہ اسماعیل علیہ السلام کی پیدائش کے وقت ابراہیم علیہ السلام کی عمر چھیاسی سال کی تھی اور جس وقت اسحاق علیہ السلام تولد ہوتے ہیں اس وقت آپ علیہ السلام کی عمر ننانوے برس کی تھی۔ بلکہ ان کی اپنی کتاب میں تو یہ بھی ہے کہ جناب ابراہیم علیہ السلام کو اپنے اکلوتے فرزند کو ذبح کرنے کا حکم ہوا تھا۔ لیکن صرف اس لیے کہ یہ لوگ خود تو نبی اللہ اسحاق علیہ السلام کی اولاد میں سے ہیں اور نبی اللہ و ذبیح اللہ اسماعیل علیہ السلام کی اولاد میں سے عرب ہیں۔ انہی نے واقعہ کی اصلیت بدل دی اور اس فضیلت کو اسماعیل علیہ السلام سے ہٹاکر اسحاق علیہ السلام کو دے دیا اور بے جا تاویلیں کرتے اللہ کے کلام کو بدل ڈالا، اور کہا ہماری کتاب میں لفظ «وَحِیْدَكَ» ہے اس سے مراد اکلوتا نہیں بلکہ جو تیرے پاس اس وقت اکیلا ہے وہ ہے۔ یہ اس لیے کہ اسماعیل تو اپنی والدہ کے ساتھ مکے میں تھے یہاں خلیل اللہ کے ساتھ صرف اسحاق تھے۔ لیکن یہ بالکل غلط ہے۔ وحید اسی کو کہا جاتا ہے جو اکلوتا ہو اس کا اور کوئی بھائی نہ ہو۔ پھر یہاں ایک بات اور بھی ہے کہ اکلوتے اور پہلوٹھی کے بچے کے ساتھ جو محبت ہوتی اور اس کے جو لاڈ پیار ہوتے ہیں عموماً دوسری اولاد کے ہونے پر پھر وہ باقی نہیں رہتے۔ اس لیے اس کے ذبیحہ کا حکم امتحان اور آزمائش کی زبردست کڑی ہے۔
ہم اسے مانتے ہیں کہ بعض سلف بھی اس کے قائل ہوئے ہیں کہ ذبیح اللہ اسحاق علیہ السلام تھے، یہاں تک کہ بعض صحابہ رضی اللہ عنہم سے بھی یہ مروی ہے لیکن یہ چیز کتاب و سنت سے ثابت نہیں ہوتی۔ بلکہ خیال یہ ہے کہ بنو اسرائیل کی ایک شہرت دی ہوئی بات کو ان حضرات نے بھی بے دلیل اپنے ہاں لے لیا۔ دور کیوں جائیں کتاب اللہ کے الفاظ میں ہی غور کر لیجئیے کہ اسمٰعیل علیہ السلام کی بشارت کا ”غلام حلیم“ کہہ کر ذکر ہوا اور پھر اللہ کی راہ میں ذبح کے لیے تیار ہونے کا ذکر ہوا۔ اس تمام بیان کو ختم کر کے پھر نبی صالح اسحاق علیہ السلام کے تولد کی بشارت کا بیان ہوا۔ اور فرشتوں نے بشارت اسحاق کے موقع پر ”غلام علیم“ فرمایا تھا۔ اسی طرح قرآن میں ہے بشارت اسحاق علیہ السلام کے ساتھ ہی ہے «وَمِنْ وَّرَاءِ اِسْحٰقَ يَعْقُوْبَ» ۱؎ [11-ھود:71] یعنی ’ ابراہیم کی حیات میں ہی اسحاق کے ہاں یعقوب پیدا ہوں گے ‘، یعنی ان کی تو نسل جاری رہنے کا پہلے ہی علم کرایا جا چکا تھا اب انہیں ذبح کرنے کا حکم کیسے دیا جاتا؟ اسے ہم پہلے بھی بیان کر چکے۔ البتہ اسماعیل علیہ السلام کا وصف یہاں پر بردباری کا بیان کیا گیا ہے۔ جو ذبیح کے لیے نہایت مناسب ہے۔
اب اسماعیل علیہ السلام بڑے ہو گئے اپنے والد کے ساتھ چلنے پھرنے کے قابل ہو گئے۔ آپ علیہ السلام اس وقت مع اپنی والدہ محترمہ کے فاران میں تھے ابراہیم علیہ السلام عموماً وہاں جاتے آتے رہتے تھے یہ مذکور ہے کہ براق پر جاتے تھے اور اس جملے کے یہ معنی بھی ہیں کہ جوانی کے لگ بھگ ہو گئے لڑکپن کا زمانہ نکل گیا اور باپ کی طرح چلنے پھرنے کام کاج کرنے کے قابل بن گئے تو ابراہیم علیہ السلام نے خواب دیکھا کہ گویا آپ علیہ السلام اپنے پیارے بچے کو ذبح کر رہے ہیں۔ انبیاء کے خواب وحی ہوتے ہیں اور اس کی دلیل یہی آیت ہے۔ ایک مرفوع روایت میں بھی یہ ہے۔ ۱؎ [صحیح بخاری:138] پس اللہ کے رسول علیہ السلام نے اپنے لخت جگر کی آزمائش کے لیے کہ اچانک وہ گھبرا نہ اٹھے، اپنا ارادہ ان کے سامنے ظاہر کیا۔ وہاں کیا تھا۔ وہ بھی اسی درخت کے پھل تھے نبی ابن نبی علیہ السلام تھے جواب دیتے ہیں اب پھر دیر کیوں لگا رہے ہو یہ باتیں بھی پوچھنے کی ہوتی ہیں جو حکم ہوا ہے اسے فوراً کر ڈالیے اور اگر میری نسبت کھٹکا ہو تو زبانی اطمینانی کیا کروں چھری رکھئے خود معلوم ہو جائے گا کہ میں کیسا کچھ صابر ہوں۔ ان شاءاللہ میرا صبر آپ کا جی خوش کر دے گا۔ سبحان اللہ جو کہا تھا وہی کر کے دکھایا اور صادق الوعد ہونے کا سرٹیفیکیٹ اللہ کی طرف سے حاصل کر ہی لیا۔ آخر باپ بیٹا دونوں حکم اللہ کی اطاعت کے لیے جان بکف تیار ہو جاتے ہیں باپ بچے کو ذبح کرنے کے لیے تیار ہو جاتا ہے۔ اور باپ اپنے نور چشم لخت جگر کو منہ کے بل زمین پر گراتے ہیں تاکہ ذبح کے وقت منہ دیکھ کر محبت نہ آ جائے اور ہاتھ سست نہ پڑ جائے۔
مسند احمد میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ”جب ابراہیم علیہ السلام اپنی نور نظر کو ذبح کرنے کے لیے بحکم اللہ لے چلے تو سعی کے وقت شیطان سامنے آیا لیکن ابراہیم علیہ السلام اس سے آگے بڑھ گئے، پھر جبرائیل علیہ السلام کے ساتھ آپ جمرہ عقبہ پر پہنچے تو پھر شیطان سامنے آیا، آپ علیہ السلام نے اسے سات کنکریاں ماریں۔“ ”پھر جمرہ وسطی پاس آیا پھر وہاں سات کنکریاں ماریں۔ پھر آگے بڑھ کر اپنے پیارے بچے کو اللہ کے نام پر ذبح کرنے کے لیے نیچے پچھاڑا، ذبیح اللہ کے پاک جسم پر اس وقت سفید چادر تھی کہنے لگے ابا جی اسے اتار لیجئیے تاکہ اس میں آپ مجھے کفنا سکیں۔ اس وقت بیٹے کو ننگا کرتے وقت باپ کا عجب حال تھا کہ آواز آئی بس ابراہیم خواب کو سچا کر چکے۔ مڑ کر دیکھا تو ایک مینڈا سفید رنگ کا بڑے بڑے سینگوں اور صاف آنکھوں والا نظر پڑا، ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں اسی لیے ہم اس قسم کے مینڈے (چھترے) چن چن کر قربانی کے لیے لیتے تھے۔“
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما ہی سے دوسری روایت میں اسحاق علیہ السلام کا نام مروی ہے۔ تو گو دونوں نام آپ رضی اللہ عنہما سے مروی ہیں لیکن اول ہی اولیٰ ہے اور اس کی دلیلیں آ رہی ہیں۔ ان شاءاللہ تعالیٰ۔ اس کے بدلے بڑا ذبیحہ، اللہ نے عطا فرمایا اس کی بابت سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”یہ جنتی چھترا تھا جو وہاں چالیس سال سے کھا پی رہا تھا۔“ اسے دیکھ کر آپ علیہ السلام اپنے بچے کو چھوڑ کر اس کے پیچھے ہولیے۔ جمرہ اولیٰ پر آ کر سات کنکریاں پھنکیں پھر وہ بھاگ کر جمرہ وسطی پر آ گیا۔ سات کنکریاں ماریں اور وہاں سے ملخر میں لا کر ذبح کیا اس کے سینگ سر سمیت ابتداء اسلام کے زمانہ تک کعبے کے پرنالے کے پاس لٹکتے رہے تھے پھر سوکھ گئے۔ ایک مرتبہ سیدنا کعب رضی اللہ عنہ بیٹھے ہوئے باتیں کر رہے تھے۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ تو حدیثیں بیان کر رہے تھے اور کعب رضی اللہ عنہ کتاب کے قصے بیان کر رہے تھے۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ { ہر نبی کے لیے ایک دعا قبول شدہ ہے اور میں نے اپنی اس مقبول دعا کو پوشیدہ کر کے رکھ چھوڑا ہے اپنی امت کی شفاعت کے لئے جو بروز قیامت ہوگی}، تو سیدنا کعب رضی اللہ عنہ نے فرمایا تم نے خود اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے؟ فرمایا ہاں۔ سیدنا کعب رضی اللہ عنہ خوش ہوئے اور فرمانے لگے تم پر میرے ماں باپ فدا ہوں یا فرمایا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر میرے ماں باپ صدقے جائیں۔
پھر کعب رضی اللہ عنہ نے ابراہیم خلیل علیہ السلام کا قصہ سنایا کہ جب آپ علیہ السلام اپنے لڑکے اسمٰعیل علیہ السلام کو ذبح کرنے کے لیے مستعد ہو گئے تو شیطان نے کہا اگر میں اس وقت انہیں نہ بہکا سکا تو مجھے ان سے عمر بھر کے لیے مایوس ہو جانا چاہیئے۔ پہلے تو یہ سارہ رضی اللہ عنہا کے پاس آیا اور پوچھا کہ ابراہیم علیہ السلام تمہارے لڑکے کو کہاں لے گئے ہیں؟ مائی صاحبہ رضی اللہ عنہا نے جواب دیا اپنے کسی کام پر لے گئے ہیں، اس نے کہا نہیں بلکہ وہ ذبح کرنے کے لیے لے گئے ہیں۔ مائی صاحبہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا وہ اسے کیوں ذبح کرنے لگے؟ لعین نے کہا وہ کہتے ہیں اللہ کی طرف سے یہی حکم ہے جواب ملا پھر تو یہی بہتر ہے کہ وہ جلدی سے اللہ کے حکم کی بجا آوری سے فارغ ہو لیں۔ یہاں سے نامراد ہو کر بچے کے پاس آیا اور کہا تمہارے ابا تمہیں کہاں لے جاتے ہیں؟ فرمایا اپنے کام کے لیے کہا نہیں بلکہ وہ تجھے ذبح کرنے کے لیے لے جا رہے ہیں، فرمایا یہ کیوں؟ کہا اس لیے کہ وہ سمجھتے ہیں اللہ کا انہیں حکم ہے۔ کہا پھر تو واللہ انہیں اس کام میں بہت جلدی کرنی چاہیئے۔ ان سے بھی مایوس ہو کر یہ ملعون خلیل اللہ علیہ السلام کے پاس پہنچا۔ ان سے کہا بچے کو کہاں لے جا رہے ہو؟ جواب دیا اپنے کام کے لیے ملعون نے کہا نہیں بلکہ تم تو اسے ذبح کرنے کے لیے جا رہے ہو؟ آپ علیہ السلام نے فرمایا یہ کیوں؟ بولا اس لیے کہ تمہارا خیال ہے کہ اللہ کا حکم تمہیں یونہی ہے، آپ علیہ السلام نے فرمایا اللہ کی قسم پھر تو میں ضرور ہی اسے ذبح کر ڈالوں گا۔ اب ابلیس مایوس ہو گیا۔۱؎ [عبد الرزاق فی المصنف:20864:صحیح]
دوسری روایت میں یہ بھی ہے کہ اس تمام واقعے کے بعد جناب باری تعالیٰ نے اسحاق علیہ السلام سے فرمایا کہ ’ ایک دعا تم مجھ سے مانگو جو مانگو گے ملے گا ‘۔ اسحاق علیہ السلام نے کہا ”پھر میری دعا یہ ہے کہ جس نے تیرے ساتھ شریک نہ کیا ہو اسے تو ضرور جنت میں لے جانا۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے { اللہ تعالیٰ نے مجھے اختیار دیا کہ میں دو باتوں میں سے ایک کو اختیار کر لوں یا تو یہ کہ میری آدھوں آدھ امت بخشی جائے یا یہ کہ میں شفاعت کروں اور اسے اللہ تعالیٰ قبول فرما لے تو میں نے شفاعت کرنے کو ترجیح دی اس پر کہ وہ عام ہو گی، ہاں ایک دعا تھی کہ میں وہی کرتا لیکن اللہ کا ایک نیک بندہ مجھ سے پہلے اس دعا کو مانگ چکا تھا }۔ واقعہ یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے اسحاق علیہ السلام سے ذبح ہونے کی تکلیف دور کر دی تو ان سے فرمایا گیا کہ ’ تو مانگ جو مانگے گا دیا جائے گا ‘۔ تو اسحاق علیہ السلام نے فرمایا ”واللہ شیطان کے بہکانے سے پہلے ہی میں اسے مانگ لوں گا، اللہ جو شخص اس حالت میں مرا ہو کہ اس نے تیرے ساتھ کسی کو شریک نہ کیا ہو تو اسے بخش دے اور جنت میں پہنچا دے۔“ ۱؎ [الدر المنشور للسیوطی:531/5:ضعیف] یہ حدیث ابن ابی حاتم میں ہے لیکن سنداً غریب اور منکر ہے اور اس کے ایک راوی عبدالرحمٰن بن زید بن اسلم ضعیف ہیں اور مجھے تو یہ بھی ڈر ہے کہ یہ الفاظ کہ (جب اللہ تعالیٰ نے اسحاق علیہ السلام سے) آخر تک راوی اپنے نہ ہوں جنہیں انہوں نے حدیث میں داخل کر دئیے ہیں۔
ذبیح اللہ تو اسماعیل علیہ السلام ہیں، محل ذبح منیٰ ہے اور وہ مکے میں ہے اور اسماعیل علیہ السلام یہیں تھے نہ کہ اسحاق علیہ السلام وہ تو شہر کنعان میں تھے جو شام ہے۔ جب ابراہیم علیہ السلام اپنے پیارے بچے کو ذبح کرنے کے لیے لٹا دیتے ہیں جناب باری سے ندا آتی ہے کہ ’ بس ابراہیم علیہ السلام تم اپنے خواب کو پورا کر چکے ‘۔ سدی رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ”جب خلیل اللہ علیہ السلام نے ذبیح اللہ علیہ السلام کے حلق پر چھری پھیری تو گردن تانبے کی ہو گئے اور نہ کٹی اور یہ آواز آئی۔“
ہم اسی طرح نیک کاروں کو بدلہ دیتے ہیں۔ یعنی سختیوں سے بچا لیتے ہیں اور چھٹکارا کر دیتے ہیں۔ جیسے فرمایا ’ اللہ سے ڈرتے رہنے والوں کے لیے اللہ تعالیٰ چھٹکارے کی صورت نکال ہی دیتا ہے اور اسے ایسی طرح روزی پہنچاتا ہے کہ اس کے گمان و وہم میں بھی نہ ہو۔ اللہ پر بھروسہ کرنے والوں کو اللہ ہی کافی ہے اللہ اپنے کاموں کو مکمل کر کے چھوڑتا ہے ہرچیز کا اس نے ایک اندازہ مقرر کر رکھا ہے ‘۔ اس آیت سے اس پر استدلال کیا گیا ہے کہ فعل پر قدرت پانے سے پہلے ہی حکم منسوخ ہو سکتا ہے۔
ہاں معتزلہ اسے نہیں مانتے۔ وجہ استدلال بہت ظاہر ہے اس لیے کہ خلیل اللہ علیہ السلام کو اپنے بیٹے کے ذبح کرنے کا حکم ہوتا ہے اور پھر ذبح سے پہلے ہی فدئیے کے ساتھ منسوخ کر دیا جاتا ہے۔ مقصود اس سے یہ تھا کہ صبر کا اور بجا آوری حکم پر مستعدی کا ثواب مرحمت فرما دیا جائے۔ اسی لیے ارشاد ہوا ’ یہ تو صرف ایک آزمائش تھی کھلا امتحان تھا کہ ادھر حکم ہوا ادھر تیاری ہوئی ‘۔ اسی لیے جناب خلیل اللہ علیہ السلام کی تعریف میں قرآن میں ہے ’ ابراہیم بڑا ہی وفادار تھا۔ بڑے ذبیح کے ساتھ ان کا فدیہ ہم نے دیا ‘۔ سفید رنگ بڑی آنکھوں اور بڑے سینگوں والا عمدہ خوراک سے پلا ہوا منیڈھا فدئیے میں دیا گیا جو ثبیر ببول کے درخت سے بندھا ہوا ملا۔ جو جنت میں چالیس سال چرتا رہا۔ منیٰ میں ثبیر کے پاس جو چٹان ہے اس پر یہ جانور ذبح کیا گیا یہ چیختا ہوا اوپر سے اترا تھا۔ یہی وہ مینڈھا ہے جسے ہابیل نے اللہ کی راہ میں قربان کیا تھا۔ اس کی اون قدرے سرخی مائل تھی اس کا نام جریر تھا۔ بعض کہتے ہیں مقام ابراہیم پر اسے ذبح کیا۔ کوئی کہتا ہے مٹی میں نحر پر۔ ایک شخص نے اپنے تئیں راہ اللہ میں ذبح کرنے کی منت مانی تھی تو سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اسے ایک سو اونٹ ذبح کرنے کا فتویٰ دیا تھا لیکن پھر فرماتے تھے کہ ”اگر میں اسے ایک بھیڑ ذبح کرنے کو کہتا تب بھی کافی تھا کیونکہ کتاب اللہ میں ہے کہ ذبیح اللہ کا فدیہ اسی سے دیا گیا تھا۔“ اکثر لوگوں کا یہی قول ہے بعض کہتے ہیں یہ پہاڑی بکرا تھا۔ کوئی کہتا ہے نر ہرن تھا۔ مسند احمد میں ہے کہ { عثمان رضی اللہ عنہ کو بلا کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { میں نے بھیڑ کے سینگ بیت اللہ شریف میں داخلے کے وقت اندر دیکھے تھے اور مجھے یاد نہ رہا کہ میں تجھے ان کے ڈھانک دینے کا حکم دوں، جاؤ اسے ڈھک دو بیت اللہ میں کوئی ایسی چیز نہ ہونی چاہیئے جو نمازی کو اپنی طرف متوجہ کر لے } }۔۱؎ [سنن ابوداود:2030،قال الشيخ الألباني:صحیح] سفیان رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس بھیڑ کے سینگ بیت اللہ میں ہی رہے یہاں تک کہ ایک مرتبہ بیت اللہ میں آگ لگی اس میں وہ جل گئے۔ ۱؎ [سلسلة احادیث صحیحه البانی:23221،] یہ واقعہ بھی اس امر کی دلیل ہے کہ ذبیح اللہ، اسماعیل علیہ السلام تھے اسی وجہ سے ان کی اولاد قریش تک یہ سینگ برابر اور مسلسل چلے آئے یہاں تک کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ نے مبعوث فرمایا۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ ”ان آثار کا بیان جن میں ذبیح اللہ کا نام ہے“ ابومیسرہ فرماتے ہیں یوسف علیہ السلام نے بادشاہ سے فرمایا ”کیا تو میرے ساتھ کھانا چاہتا ہے، میں یوسف بن یعقوب نبی اللہ بن اسحاق ذبیح اللہ بن ابراہیم خلیل اللہ ہوں [ عبید بن عمیر رحمه الله] موسیٰ علیہ السلام نے جناب باری میں عرض کی کہ ”اے اللہ کیا وجہ ہے جو لوگوں کی زبانوں پر یہ چڑھا ہوا ہے کہ ابراہیم، اسمٰعیل اور یعقوب علیہم السلام کے اللہ کی قسم“، تو جواب ملا ’ اس لیے ابراہیم نے تو ہر ہرچیز پر مجھی کو ترجیح دی اور اسحاق علیہ السلام نے اپنے تئیں میری راہ میں ذبح ہونے کے لیے سپرد کر دیا پھر بھلا اور چیزیں اسے پیش کر دینا کیا مشکل تھیں اور یعقوب علیہ السلام کو میں جوں جوں بلاؤں میں ڈالتا گیا اس کے حسن ظنی میرے ساتھ بڑھتی ہی رہی ‘۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے سامنے ایک مرتبہ کسی نے فخراً اپنے باپ دادوں کا نام لیا تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا قابل فخر باپ دادا تو یوسف علیہ السلام کے تھے جو یعقوب بن اسحاق علیہ السلام اور ذبیح اللہ بن ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام تھے۔
عکرمہ، سیدنا ابن عباس، خود سیدنا عباس، سیدنا علی،سعید بن جبیر رضی اللہ عنہم، مجاہد، شعبی، عبید بن عمر، ابومیسرہ، زید بن اسلم، عبداللہ بن شفیق، زہری، قاسم بن ابوبرزہ، محکول، عثمان بن ابی عاص، سدی، حسن، قتادہ، ابو الہذیل، ابن سابط، کعب احبار رحمہم اللہ اجمعین، ان سب کا یہی قول ہے اور ابن جریر رحمہ اللہ بھی اسی کو اختیار کرتے ہیں کہ ذبیح اللہ اسحاق علیہ السلام تھے۔ صحیح علم تو اللہ کو ہی ہے مگر بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ان سب بزرگوں کے استاد کعب احبار رحمہ اللہ ہیں۔ یہ خلافت فاروقی میں مسلمان ہوئے تھے اور کبھی کبھی سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو قدیمی کتابوں کی باتیں سناتے تھے، لوگوں نے اسے رخصت سمجھ کر پھر ان سے ہر ایک بات بیان کرنی شروع کر دی اور صحیح غلط کی تمیز اٹھ گئی حق تو یہ ہے کہ اس امت کو اگلی کتابوں کی ایک بات کی بھی حاجت نہیں۔ بغوی نے کچھ اور نام بھی صحابہ تابعین کے بتلائے ہیں جنہوں نے کہا ہے کہ ذبیح اللہ اسحاق علیہ السلام ہیں۔ ایک مرفوع حدیث میں بھی یہ آیا ہے۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:29495:ضعیف] اگر وہ حدیث صحیح ہوتی تو جھگڑے کا فیصلہ تھا مگر وہ حدیث صحیح نہیں اس میں دو راوی ضعیف ہیں۔ حسن بن دینار متروک ہیں اور علی بن زید بن جدعان منکر الحدیث ہیں اور زیادہ صحیح یہ ہے کہ ہے یہ بھی موقف، چنانچہ ایک سند سے یہ مقولہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کا مروی ہے اور یہی زیادہ ٹھیک ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
اب ان آثار کو سنئے جن سے معلوم ہوتا ہے کہ ذبیح اللہ اسماعیل علیہ السلام ہی تھے اور یہی ٹھیک اور بالکل درست بھی ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما یہی فرماتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ ”یہودی اسحاق علیہ السلام کا نام جھوٹ موٹ لیتے ہیں۔“ ابن عمر رضی اللہ عنہ، مجاہد، شعبی، حسن بصری، محمد بن کعب قرظی، خلیفہ المسلمین عمر ابن عبدالعزیز رحمہ اللہ علیہم کے سامنے جب محمد بن قرظی رحمہ اللہ نے یہ فرمایا اور ساتھ ہی اس کی دلیل بھی دی کہ ”ذبح کے ذکر کے بعد قرآن میں خلیل اللہ علیہ السلام کو اسحاق علیہ السلام کے پیدا ہونے کی بشارت کا ذکر ہے اور ساتھ ہی بیان ہے کہ ان کے ہاں بھی لڑکا ہو گا یعقوب نامی جب ان کے ہاں لڑکا ہونے کی بشارت دی گی تھی پھر باوجود ان کے ہاں لڑکا نہ ہوں کے اس سے پہلے ہی ان کے ذبح کرنے کا حکم کیسے دیا جاتا ہے؟“
تو سیدنا عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے فرمایا ”یہ بہت صاف دلیل ہے میرا ذہن یہاں نہیں پہنچا تھا گو یہ میں بھی جانتا تھا کہ ذبیح اللہ اسماعیل علیہ السلام ہی ہیں۔“ پھر شاہ اسلام نے شام کے ایک یہودی عالم سے پوچھا جو مسلمان ہو گئے تھے کہ تم اس بارے میں کیا علم رکھتے ہو انہوں نے فرمایا امیر المسلمین سچ تو یہی ہے کہ جن کے ذبح کرنے کا حکم دیا گیا وہ اسماعیل علیہ السلام ہی تھے لیکن چونکہ عرب ان کی اولاد میں سے ہیں تو یہ بزرگی ان کی طرف لوٹتی ہے اس حسد کے بارے میں یہودیوں نے اسے بدل دیا اور اسحاق علیہ السلام کا نام لے دیا۔ حقیقی علم اللہ ہی کو ہے ہمارا ایمان ہے کہ اسماعیل، اسحاق علیہم السلام دونوں ہی طاہر و طیب اور اللہ کے سچے فرمانبردار تھے۔ کتاب الزہد میں ہے کہ امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کے صاحبزادے عبداللہ رحمہ اللہ نے اپنے والد سے جب یہ مسئلہ پوچھا تو آپ نے جواب دیا کہ ”ذبح ہونے والے اسماعیل علیہ السلام ہی تھے۔“ علی ابن عمر، ابوالطفیل، سعید بن مسیب، سعید بن جبیر، حسن، مجاہد، شعبی، محمد بن کعب، ابوجعفر محمد بن علی ابوصالح رحمہ اللہ عنہم سے بھی یہی مروی ہے۔
امام بغوی رحمہ اللہ نے اور بھی صحابہ رضی اللہ عنہم اور تابعین کے نام گنوائے ہیں۔ ایک غریب حدیث بھی اسی کی تائید میں مروی ہے اس میں ہے کہ { شام میں امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے سامنے یہ بحث چھڑی کہ ذبیح اللہ کون ہیں؟ تو آپ نے فرمایا خوب ہوا جو یہ معاملہ مجھ جیسے باخبر شخص کے پاس آیا، سنو! ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھے جب ایک شخص آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا اے اللہ کی راہ میں دو ذبح ہونے والوں کی نسل کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم مجھے بھی مال غنیمت میں سے کچھ دلوایئے اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہنس دیئے۔ ایک تو ذبیح اللہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے والد عبداللہ تھے، دوسرے اسمعیل علیہ السلام جن کی نسل میں سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ عبداللہ کے ذبیح اللہ ہونے کا واقعہ یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دادا عبدالمطلب نے جب چاہ زمزم کھودا تو نذر مانی تھی کی اگر یہ کام آسانی سے پورا ہو گیا تو اپنے ایک لڑکے کو راہ اللہ میں ذبح کروں گا جب کام ہو گیا اور قرعہ اندازی کی گئی کہ کس بیٹے کو اللہ کے نام پر ذبح کریں تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے والد عبداللہ کا نام نکلا۔ ان کے ننھیال والوں نے کہا آپ ان کی طرف سے ایک سو اونٹ راہ اللہ ذبح کر دیں چنانچہ وہ ذبح کر دیئے گئے اور اسماعیل علیہ السلام کے ذبیح اللہ ہونے کا واقعہ تو مشہور ہی ہے }۔۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:29530:ضعیف] ابن جریر میں یہ روایت موجود ہے اور مغازی امویہ میں بھی۔
امام ابن جریر رحمہ اللہ نے اسحاق علیہ السلام کے ذبیح اللہ ہونے کی ایک دلیل تو یہ پیش کی یہ کہ جس علیم بچے کی بشارت کا ذکر ہے اس سے مراد اسحاق علیہ السلام ہیں قرآن میں اور جگہ ہے «قَالُوا لَا تَخَفْ وَبَشَّرُوهُ بِغُلَامٍ عَلِيمٍ» ۱؎ [51-الذاريات:28] ، اور یعقوب علیہ السلام کی بشارت کا یہ جواب دیا ہے کہ وہ آپ کے ساتھ چلنے پھرنے کی عمر کو پہنچ گئے تھے اور ممکن ہے کہ یعقوب علیہ السلام کے ساتھ ہی کوئی اور اولاد بھی ہوئی ہو اور کعبتہ اللہ میں سینگوں کی موجودگی کے بارے میں فرماتے ہیں بہت ممکن ہے کہ یہ بلادکنعان سے لا کر یہاں رکھے گئے ہوں۔“ اور بعض لوگوں سے اسحاق علیہ السلام کے نام کی صراحت بھی آئی ہے، لیکن یہ سب باتیں حقیقت سے بہت دور ہیں۔ ہاں اسماعیل علیہ السلام کے ذبیح اللہ ہونے پر محمد بن کعب قرظی رحمہ اللہ کا استدلال بہت صاف اور قوی ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ پہلے ذبیح اللہ اسمعیل علیہ السلام کے تولد ہونے کی بشارت دی گئی تھی یہاں اس کے بعد ان کے بھائی اسحاق علیہ السلام کی بشارت دی جا رہی ہے۔ سورۃ ہود اور سورۃ الحجر میں بھی اس کا ذکر گذر چکا ہے۔ «نبیاً» حال مقدرہ ہے یعنی وہ نبی صالح ہو گا۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ذبیح اللہ اسحاق علیہ السلام تھے اور یہاں نبوت اسحاق علیہ السلام کو بشارت ہے۔ جیسے موسیٰ علیہ السلام کے بارے میں فرمان ہے کہ ’ ہم نے انہیں اپنی رحمت سے ان کے بھائی ہارون کو نبی بنا دیا ‘۔ حالانکہ ہارون علیہ السلام موسیٰ علیہ السلام سے بڑے تھے تو یہاں بھی ان کی نبوت کی بشارت ہے۔ پس یہ بشارت اس وقت دی گئی جبکہ امتحان ذبح میں وہ صابر ثابت ہوئے۔ یہ بھی مروی ہے کہ یہ بشارت دو مرتبہ دی گئی پیدائش سے کچھ قبل اور نبوت سے کچھ قبل۔
حضرت قتادہ رحمہ اللہ سے بھی یہی مروی ہے۔ ’ ان پر اور اسحاق علیہ السلام پر ہماری برکتیں ہم نے نازل فرمائیں، ان کی اولاد میں ہر قسم کے لوگ ہیں نیک بھی بد بھی ‘۔ جیسے نوح علیہ السلام سے فرمان ہوا تھا کہ «قِيلَ يَا نُوحُ اهْبِطْ بِسَلَامٍ مِّنَّا وَبَرَكَاتٍ عَلَيْكَ وَعَلَىٰ أُمَمٍ مِّمَّن مَّعَكَ وَأُمَمٌ سَنُمَتِّعُهُمْ ثُمَّ يَمَسُّهُم مِّنَّا عَذَابٌ أَلِيمٌ» ’ اے نوح ہماری سلام اور برکت کے ساتھ تواتر۔ تو بھی اور تیرے ساتھ والے بھی اور ایسے بھی لوگ ہیں جنہیں ہم فائدے پہنچائیں گے پھر انہیں ہماری طرف سے درد ناک عذاب پہنچیں گے ‘۔۱؎ [11-هود:48]
خلیل اللہ علیہ السلام جب اپنی قوم کی ہدایت سے مایوس ہو گئے، بڑی بڑی قدرتی نشانیاں دیکھ کر بھی جب انہیں ایمان نصیب نہ ہوا تو آپ علیہ السلام نے ان سے ہٹ جانا پسند فرمایا اور اعلان کر دیا کہ میں اب تم میں سے ہجرت کرجاؤں گا میرا رہنما میرا رب ہے۔ ساتھ ہی اپنے رب سے اپنے ہاں اولاد ہونے کی دعا مانگی تاکہ وہی توحید میں آپ علیہ السلام کا ساتھ دے۔ اسی وقت دعا قبول ہوتی ہے اور ایک بردبار بچے کی بشارت دی جاتی۔ یہ اسماعیل علیہ السلام تھے یہی آپ علیہ السلام کے لیے صاحبزادے تھے اور اسحاق علیہ السلام سے بڑے تھے۔ اسے تو اہل کتاب بھی مانتے ہیں بلکہ ان کی کتب میں موجود ہے کہ اسماعیل علیہ السلام کی پیدائش کے وقت ابراہیم علیہ السلام کی عمر چھیاسی سال کی تھی اور جس وقت اسحاق علیہ السلام تولد ہوتے ہیں اس وقت آپ علیہ السلام کی عمر ننانوے برس کی تھی۔ بلکہ ان کی اپنی کتاب میں تو یہ بھی ہے کہ جناب ابراہیم علیہ السلام کو اپنے اکلوتے فرزند کو ذبح کرنے کا حکم ہوا تھا۔ لیکن صرف اس لیے کہ یہ لوگ خود تو نبی اللہ اسحاق علیہ السلام کی اولاد میں سے ہیں اور نبی اللہ و ذبیح اللہ اسماعیل علیہ السلام کی اولاد میں سے عرب ہیں۔ انہی نے واقعہ کی اصلیت بدل دی اور اس فضیلت کو اسماعیل علیہ السلام سے ہٹاکر اسحاق علیہ السلام کو دے دیا اور بے جا تاویلیں کرتے اللہ کے کلام کو بدل ڈالا، اور کہا ہماری کتاب میں لفظ «وَحِیْدَكَ» ہے اس سے مراد اکلوتا نہیں بلکہ جو تیرے پاس اس وقت اکیلا ہے وہ ہے۔ یہ اس لیے کہ اسماعیل تو اپنی والدہ کے ساتھ مکے میں تھے یہاں خلیل اللہ کے ساتھ صرف اسحاق تھے۔ لیکن یہ بالکل غلط ہے۔ وحید اسی کو کہا جاتا ہے جو اکلوتا ہو اس کا اور کوئی بھائی نہ ہو۔ پھر یہاں ایک بات اور بھی ہے کہ اکلوتے اور پہلوٹھی کے بچے کے ساتھ جو محبت ہوتی اور اس کے جو لاڈ پیار ہوتے ہیں عموماً دوسری اولاد کے ہونے پر پھر وہ باقی نہیں رہتے۔ اس لیے اس کے ذبیحہ کا حکم امتحان اور آزمائش کی زبردست کڑی ہے۔
ہم اسے مانتے ہیں کہ بعض سلف بھی اس کے قائل ہوئے ہیں کہ ذبیح اللہ اسحاق علیہ السلام تھے، یہاں تک کہ بعض صحابہ رضی اللہ عنہم سے بھی یہ مروی ہے لیکن یہ چیز کتاب و سنت سے ثابت نہیں ہوتی۔ بلکہ خیال یہ ہے کہ بنو اسرائیل کی ایک شہرت دی ہوئی بات کو ان حضرات نے بھی بے دلیل اپنے ہاں لے لیا۔ دور کیوں جائیں کتاب اللہ کے الفاظ میں ہی غور کر لیجئیے کہ اسمٰعیل علیہ السلام کی بشارت کا ”غلام حلیم“ کہہ کر ذکر ہوا اور پھر اللہ کی راہ میں ذبح کے لیے تیار ہونے کا ذکر ہوا۔ اس تمام بیان کو ختم کر کے پھر نبی صالح اسحاق علیہ السلام کے تولد کی بشارت کا بیان ہوا۔ اور فرشتوں نے بشارت اسحاق کے موقع پر ”غلام علیم“ فرمایا تھا۔ اسی طرح قرآن میں ہے بشارت اسحاق علیہ السلام کے ساتھ ہی ہے «وَمِنْ وَّرَاءِ اِسْحٰقَ يَعْقُوْبَ» ۱؎ [11-ھود:71] یعنی ’ ابراہیم کی حیات میں ہی اسحاق کے ہاں یعقوب پیدا ہوں گے ‘، یعنی ان کی تو نسل جاری رہنے کا پہلے ہی علم کرایا جا چکا تھا اب انہیں ذبح کرنے کا حکم کیسے دیا جاتا؟ اسے ہم پہلے بھی بیان کر چکے۔ البتہ اسماعیل علیہ السلام کا وصف یہاں پر بردباری کا بیان کیا گیا ہے۔ جو ذبیح کے لیے نہایت مناسب ہے۔
اب اسماعیل علیہ السلام بڑے ہو گئے اپنے والد کے ساتھ چلنے پھرنے کے قابل ہو گئے۔ آپ علیہ السلام اس وقت مع اپنی والدہ محترمہ کے فاران میں تھے ابراہیم علیہ السلام عموماً وہاں جاتے آتے رہتے تھے یہ مذکور ہے کہ براق پر جاتے تھے اور اس جملے کے یہ معنی بھی ہیں کہ جوانی کے لگ بھگ ہو گئے لڑکپن کا زمانہ نکل گیا اور باپ کی طرح چلنے پھرنے کام کاج کرنے کے قابل بن گئے تو ابراہیم علیہ السلام نے خواب دیکھا کہ گویا آپ علیہ السلام اپنے پیارے بچے کو ذبح کر رہے ہیں۔ انبیاء کے خواب وحی ہوتے ہیں اور اس کی دلیل یہی آیت ہے۔ ایک مرفوع روایت میں بھی یہ ہے۔ ۱؎ [صحیح بخاری:138] پس اللہ کے رسول علیہ السلام نے اپنے لخت جگر کی آزمائش کے لیے کہ اچانک وہ گھبرا نہ اٹھے، اپنا ارادہ ان کے سامنے ظاہر کیا۔ وہاں کیا تھا۔ وہ بھی اسی درخت کے پھل تھے نبی ابن نبی علیہ السلام تھے جواب دیتے ہیں اب پھر دیر کیوں لگا رہے ہو یہ باتیں بھی پوچھنے کی ہوتی ہیں جو حکم ہوا ہے اسے فوراً کر ڈالیے اور اگر میری نسبت کھٹکا ہو تو زبانی اطمینانی کیا کروں چھری رکھئے خود معلوم ہو جائے گا کہ میں کیسا کچھ صابر ہوں۔ ان شاءاللہ میرا صبر آپ کا جی خوش کر دے گا۔ سبحان اللہ جو کہا تھا وہی کر کے دکھایا اور صادق الوعد ہونے کا سرٹیفیکیٹ اللہ کی طرف سے حاصل کر ہی لیا۔ آخر باپ بیٹا دونوں حکم اللہ کی اطاعت کے لیے جان بکف تیار ہو جاتے ہیں باپ بچے کو ذبح کرنے کے لیے تیار ہو جاتا ہے۔ اور باپ اپنے نور چشم لخت جگر کو منہ کے بل زمین پر گراتے ہیں تاکہ ذبح کے وقت منہ دیکھ کر محبت نہ آ جائے اور ہاتھ سست نہ پڑ جائے۔
مسند احمد میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ”جب ابراہیم علیہ السلام اپنی نور نظر کو ذبح کرنے کے لیے بحکم اللہ لے چلے تو سعی کے وقت شیطان سامنے آیا لیکن ابراہیم علیہ السلام اس سے آگے بڑھ گئے، پھر جبرائیل علیہ السلام کے ساتھ آپ جمرہ عقبہ پر پہنچے تو پھر شیطان سامنے آیا، آپ علیہ السلام نے اسے سات کنکریاں ماریں۔“ ”پھر جمرہ وسطی پاس آیا پھر وہاں سات کنکریاں ماریں۔ پھر آگے بڑھ کر اپنے پیارے بچے کو اللہ کے نام پر ذبح کرنے کے لیے نیچے پچھاڑا، ذبیح اللہ کے پاک جسم پر اس وقت سفید چادر تھی کہنے لگے ابا جی اسے اتار لیجئیے تاکہ اس میں آپ مجھے کفنا سکیں۔ اس وقت بیٹے کو ننگا کرتے وقت باپ کا عجب حال تھا کہ آواز آئی بس ابراہیم خواب کو سچا کر چکے۔ مڑ کر دیکھا تو ایک مینڈا سفید رنگ کا بڑے بڑے سینگوں اور صاف آنکھوں والا نظر پڑا، ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں اسی لیے ہم اس قسم کے مینڈے (چھترے) چن چن کر قربانی کے لیے لیتے تھے۔“
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما ہی سے دوسری روایت میں اسحاق علیہ السلام کا نام مروی ہے۔ تو گو دونوں نام آپ رضی اللہ عنہما سے مروی ہیں لیکن اول ہی اولیٰ ہے اور اس کی دلیلیں آ رہی ہیں۔ ان شاءاللہ تعالیٰ۔ اس کے بدلے بڑا ذبیحہ، اللہ نے عطا فرمایا اس کی بابت سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”یہ جنتی چھترا تھا جو وہاں چالیس سال سے کھا پی رہا تھا۔“ اسے دیکھ کر آپ علیہ السلام اپنے بچے کو چھوڑ کر اس کے پیچھے ہولیے۔ جمرہ اولیٰ پر آ کر سات کنکریاں پھنکیں پھر وہ بھاگ کر جمرہ وسطی پر آ گیا۔ سات کنکریاں ماریں اور وہاں سے ملخر میں لا کر ذبح کیا اس کے سینگ سر سمیت ابتداء اسلام کے زمانہ تک کعبے کے پرنالے کے پاس لٹکتے رہے تھے پھر سوکھ گئے۔ ایک مرتبہ سیدنا کعب رضی اللہ عنہ بیٹھے ہوئے باتیں کر رہے تھے۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ تو حدیثیں بیان کر رہے تھے اور کعب رضی اللہ عنہ کتاب کے قصے بیان کر رہے تھے۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ { ہر نبی کے لیے ایک دعا قبول شدہ ہے اور میں نے اپنی اس مقبول دعا کو پوشیدہ کر کے رکھ چھوڑا ہے اپنی امت کی شفاعت کے لئے جو بروز قیامت ہوگی}، تو سیدنا کعب رضی اللہ عنہ نے فرمایا تم نے خود اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے؟ فرمایا ہاں۔ سیدنا کعب رضی اللہ عنہ خوش ہوئے اور فرمانے لگے تم پر میرے ماں باپ فدا ہوں یا فرمایا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر میرے ماں باپ صدقے جائیں۔
پھر کعب رضی اللہ عنہ نے ابراہیم خلیل علیہ السلام کا قصہ سنایا کہ جب آپ علیہ السلام اپنے لڑکے اسمٰعیل علیہ السلام کو ذبح کرنے کے لیے مستعد ہو گئے تو شیطان نے کہا اگر میں اس وقت انہیں نہ بہکا سکا تو مجھے ان سے عمر بھر کے لیے مایوس ہو جانا چاہیئے۔ پہلے تو یہ سارہ رضی اللہ عنہا کے پاس آیا اور پوچھا کہ ابراہیم علیہ السلام تمہارے لڑکے کو کہاں لے گئے ہیں؟ مائی صاحبہ رضی اللہ عنہا نے جواب دیا اپنے کسی کام پر لے گئے ہیں، اس نے کہا نہیں بلکہ وہ ذبح کرنے کے لیے لے گئے ہیں۔ مائی صاحبہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا وہ اسے کیوں ذبح کرنے لگے؟ لعین نے کہا وہ کہتے ہیں اللہ کی طرف سے یہی حکم ہے جواب ملا پھر تو یہی بہتر ہے کہ وہ جلدی سے اللہ کے حکم کی بجا آوری سے فارغ ہو لیں۔ یہاں سے نامراد ہو کر بچے کے پاس آیا اور کہا تمہارے ابا تمہیں کہاں لے جاتے ہیں؟ فرمایا اپنے کام کے لیے کہا نہیں بلکہ وہ تجھے ذبح کرنے کے لیے لے جا رہے ہیں، فرمایا یہ کیوں؟ کہا اس لیے کہ وہ سمجھتے ہیں اللہ کا انہیں حکم ہے۔ کہا پھر تو واللہ انہیں اس کام میں بہت جلدی کرنی چاہیئے۔ ان سے بھی مایوس ہو کر یہ ملعون خلیل اللہ علیہ السلام کے پاس پہنچا۔ ان سے کہا بچے کو کہاں لے جا رہے ہو؟ جواب دیا اپنے کام کے لیے ملعون نے کہا نہیں بلکہ تم تو اسے ذبح کرنے کے لیے جا رہے ہو؟ آپ علیہ السلام نے فرمایا یہ کیوں؟ بولا اس لیے کہ تمہارا خیال ہے کہ اللہ کا حکم تمہیں یونہی ہے، آپ علیہ السلام نے فرمایا اللہ کی قسم پھر تو میں ضرور ہی اسے ذبح کر ڈالوں گا۔ اب ابلیس مایوس ہو گیا۔۱؎ [عبد الرزاق فی المصنف:20864:صحیح]
دوسری روایت میں یہ بھی ہے کہ اس تمام واقعے کے بعد جناب باری تعالیٰ نے اسحاق علیہ السلام سے فرمایا کہ ’ ایک دعا تم مجھ سے مانگو جو مانگو گے ملے گا ‘۔ اسحاق علیہ السلام نے کہا ”پھر میری دعا یہ ہے کہ جس نے تیرے ساتھ شریک نہ کیا ہو اسے تو ضرور جنت میں لے جانا۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے { اللہ تعالیٰ نے مجھے اختیار دیا کہ میں دو باتوں میں سے ایک کو اختیار کر لوں یا تو یہ کہ میری آدھوں آدھ امت بخشی جائے یا یہ کہ میں شفاعت کروں اور اسے اللہ تعالیٰ قبول فرما لے تو میں نے شفاعت کرنے کو ترجیح دی اس پر کہ وہ عام ہو گی، ہاں ایک دعا تھی کہ میں وہی کرتا لیکن اللہ کا ایک نیک بندہ مجھ سے پہلے اس دعا کو مانگ چکا تھا }۔ واقعہ یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے اسحاق علیہ السلام سے ذبح ہونے کی تکلیف دور کر دی تو ان سے فرمایا گیا کہ ’ تو مانگ جو مانگے گا دیا جائے گا ‘۔ تو اسحاق علیہ السلام نے فرمایا ”واللہ شیطان کے بہکانے سے پہلے ہی میں اسے مانگ لوں گا، اللہ جو شخص اس حالت میں مرا ہو کہ اس نے تیرے ساتھ کسی کو شریک نہ کیا ہو تو اسے بخش دے اور جنت میں پہنچا دے۔“ ۱؎ [الدر المنشور للسیوطی:531/5:ضعیف] یہ حدیث ابن ابی حاتم میں ہے لیکن سنداً غریب اور منکر ہے اور اس کے ایک راوی عبدالرحمٰن بن زید بن اسلم ضعیف ہیں اور مجھے تو یہ بھی ڈر ہے کہ یہ الفاظ کہ (جب اللہ تعالیٰ نے اسحاق علیہ السلام سے) آخر تک راوی اپنے نہ ہوں جنہیں انہوں نے حدیث میں داخل کر دئیے ہیں۔
ذبیح اللہ تو اسماعیل علیہ السلام ہیں، محل ذبح منیٰ ہے اور وہ مکے میں ہے اور اسماعیل علیہ السلام یہیں تھے نہ کہ اسحاق علیہ السلام وہ تو شہر کنعان میں تھے جو شام ہے۔ جب ابراہیم علیہ السلام اپنے پیارے بچے کو ذبح کرنے کے لیے لٹا دیتے ہیں جناب باری سے ندا آتی ہے کہ ’ بس ابراہیم علیہ السلام تم اپنے خواب کو پورا کر چکے ‘۔ سدی رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ”جب خلیل اللہ علیہ السلام نے ذبیح اللہ علیہ السلام کے حلق پر چھری پھیری تو گردن تانبے کی ہو گئے اور نہ کٹی اور یہ آواز آئی۔“
ہم اسی طرح نیک کاروں کو بدلہ دیتے ہیں۔ یعنی سختیوں سے بچا لیتے ہیں اور چھٹکارا کر دیتے ہیں۔ جیسے فرمایا ’ اللہ سے ڈرتے رہنے والوں کے لیے اللہ تعالیٰ چھٹکارے کی صورت نکال ہی دیتا ہے اور اسے ایسی طرح روزی پہنچاتا ہے کہ اس کے گمان و وہم میں بھی نہ ہو۔ اللہ پر بھروسہ کرنے والوں کو اللہ ہی کافی ہے اللہ اپنے کاموں کو مکمل کر کے چھوڑتا ہے ہرچیز کا اس نے ایک اندازہ مقرر کر رکھا ہے ‘۔ اس آیت سے اس پر استدلال کیا گیا ہے کہ فعل پر قدرت پانے سے پہلے ہی حکم منسوخ ہو سکتا ہے۔
ہاں معتزلہ اسے نہیں مانتے۔ وجہ استدلال بہت ظاہر ہے اس لیے کہ خلیل اللہ علیہ السلام کو اپنے بیٹے کے ذبح کرنے کا حکم ہوتا ہے اور پھر ذبح سے پہلے ہی فدئیے کے ساتھ منسوخ کر دیا جاتا ہے۔ مقصود اس سے یہ تھا کہ صبر کا اور بجا آوری حکم پر مستعدی کا ثواب مرحمت فرما دیا جائے۔ اسی لیے ارشاد ہوا ’ یہ تو صرف ایک آزمائش تھی کھلا امتحان تھا کہ ادھر حکم ہوا ادھر تیاری ہوئی ‘۔ اسی لیے جناب خلیل اللہ علیہ السلام کی تعریف میں قرآن میں ہے ’ ابراہیم بڑا ہی وفادار تھا۔ بڑے ذبیح کے ساتھ ان کا فدیہ ہم نے دیا ‘۔ سفید رنگ بڑی آنکھوں اور بڑے سینگوں والا عمدہ خوراک سے پلا ہوا منیڈھا فدئیے میں دیا گیا جو ثبیر ببول کے درخت سے بندھا ہوا ملا۔ جو جنت میں چالیس سال چرتا رہا۔ منیٰ میں ثبیر کے پاس جو چٹان ہے اس پر یہ جانور ذبح کیا گیا یہ چیختا ہوا اوپر سے اترا تھا۔ یہی وہ مینڈھا ہے جسے ہابیل نے اللہ کی راہ میں قربان کیا تھا۔ اس کی اون قدرے سرخی مائل تھی اس کا نام جریر تھا۔ بعض کہتے ہیں مقام ابراہیم پر اسے ذبح کیا۔ کوئی کہتا ہے مٹی میں نحر پر۔ ایک شخص نے اپنے تئیں راہ اللہ میں ذبح کرنے کی منت مانی تھی تو سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اسے ایک سو اونٹ ذبح کرنے کا فتویٰ دیا تھا لیکن پھر فرماتے تھے کہ ”اگر میں اسے ایک بھیڑ ذبح کرنے کو کہتا تب بھی کافی تھا کیونکہ کتاب اللہ میں ہے کہ ذبیح اللہ کا فدیہ اسی سے دیا گیا تھا۔“ اکثر لوگوں کا یہی قول ہے بعض کہتے ہیں یہ پہاڑی بکرا تھا۔ کوئی کہتا ہے نر ہرن تھا۔ مسند احمد میں ہے کہ { عثمان رضی اللہ عنہ کو بلا کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { میں نے بھیڑ کے سینگ بیت اللہ شریف میں داخلے کے وقت اندر دیکھے تھے اور مجھے یاد نہ رہا کہ میں تجھے ان کے ڈھانک دینے کا حکم دوں، جاؤ اسے ڈھک دو بیت اللہ میں کوئی ایسی چیز نہ ہونی چاہیئے جو نمازی کو اپنی طرف متوجہ کر لے } }۔۱؎ [سنن ابوداود:2030،قال الشيخ الألباني:صحیح] سفیان رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس بھیڑ کے سینگ بیت اللہ میں ہی رہے یہاں تک کہ ایک مرتبہ بیت اللہ میں آگ لگی اس میں وہ جل گئے۔ ۱؎ [سلسلة احادیث صحیحه البانی:23221،] یہ واقعہ بھی اس امر کی دلیل ہے کہ ذبیح اللہ، اسماعیل علیہ السلام تھے اسی وجہ سے ان کی اولاد قریش تک یہ سینگ برابر اور مسلسل چلے آئے یہاں تک کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ نے مبعوث فرمایا۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ ”ان آثار کا بیان جن میں ذبیح اللہ کا نام ہے“ ابومیسرہ فرماتے ہیں یوسف علیہ السلام نے بادشاہ سے فرمایا ”کیا تو میرے ساتھ کھانا چاہتا ہے، میں یوسف بن یعقوب نبی اللہ بن اسحاق ذبیح اللہ بن ابراہیم خلیل اللہ ہوں [ عبید بن عمیر رحمه الله] موسیٰ علیہ السلام نے جناب باری میں عرض کی کہ ”اے اللہ کیا وجہ ہے جو لوگوں کی زبانوں پر یہ چڑھا ہوا ہے کہ ابراہیم، اسمٰعیل اور یعقوب علیہم السلام کے اللہ کی قسم“، تو جواب ملا ’ اس لیے ابراہیم نے تو ہر ہرچیز پر مجھی کو ترجیح دی اور اسحاق علیہ السلام نے اپنے تئیں میری راہ میں ذبح ہونے کے لیے سپرد کر دیا پھر بھلا اور چیزیں اسے پیش کر دینا کیا مشکل تھیں اور یعقوب علیہ السلام کو میں جوں جوں بلاؤں میں ڈالتا گیا اس کے حسن ظنی میرے ساتھ بڑھتی ہی رہی ‘۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے سامنے ایک مرتبہ کسی نے فخراً اپنے باپ دادوں کا نام لیا تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا قابل فخر باپ دادا تو یوسف علیہ السلام کے تھے جو یعقوب بن اسحاق علیہ السلام اور ذبیح اللہ بن ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام تھے۔
عکرمہ، سیدنا ابن عباس، خود سیدنا عباس، سیدنا علی،سعید بن جبیر رضی اللہ عنہم، مجاہد، شعبی، عبید بن عمر، ابومیسرہ، زید بن اسلم، عبداللہ بن شفیق، زہری، قاسم بن ابوبرزہ، محکول، عثمان بن ابی عاص، سدی، حسن، قتادہ، ابو الہذیل، ابن سابط، کعب احبار رحمہم اللہ اجمعین، ان سب کا یہی قول ہے اور ابن جریر رحمہ اللہ بھی اسی کو اختیار کرتے ہیں کہ ذبیح اللہ اسحاق علیہ السلام تھے۔ صحیح علم تو اللہ کو ہی ہے مگر بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ان سب بزرگوں کے استاد کعب احبار رحمہ اللہ ہیں۔ یہ خلافت فاروقی میں مسلمان ہوئے تھے اور کبھی کبھی سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو قدیمی کتابوں کی باتیں سناتے تھے، لوگوں نے اسے رخصت سمجھ کر پھر ان سے ہر ایک بات بیان کرنی شروع کر دی اور صحیح غلط کی تمیز اٹھ گئی حق تو یہ ہے کہ اس امت کو اگلی کتابوں کی ایک بات کی بھی حاجت نہیں۔ بغوی نے کچھ اور نام بھی صحابہ تابعین کے بتلائے ہیں جنہوں نے کہا ہے کہ ذبیح اللہ اسحاق علیہ السلام ہیں۔ ایک مرفوع حدیث میں بھی یہ آیا ہے۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:29495:ضعیف] اگر وہ حدیث صحیح ہوتی تو جھگڑے کا فیصلہ تھا مگر وہ حدیث صحیح نہیں اس میں دو راوی ضعیف ہیں۔ حسن بن دینار متروک ہیں اور علی بن زید بن جدعان منکر الحدیث ہیں اور زیادہ صحیح یہ ہے کہ ہے یہ بھی موقف، چنانچہ ایک سند سے یہ مقولہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کا مروی ہے اور یہی زیادہ ٹھیک ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
اب ان آثار کو سنئے جن سے معلوم ہوتا ہے کہ ذبیح اللہ اسماعیل علیہ السلام ہی تھے اور یہی ٹھیک اور بالکل درست بھی ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما یہی فرماتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ ”یہودی اسحاق علیہ السلام کا نام جھوٹ موٹ لیتے ہیں۔“ ابن عمر رضی اللہ عنہ، مجاہد، شعبی، حسن بصری، محمد بن کعب قرظی، خلیفہ المسلمین عمر ابن عبدالعزیز رحمہ اللہ علیہم کے سامنے جب محمد بن قرظی رحمہ اللہ نے یہ فرمایا اور ساتھ ہی اس کی دلیل بھی دی کہ ”ذبح کے ذکر کے بعد قرآن میں خلیل اللہ علیہ السلام کو اسحاق علیہ السلام کے پیدا ہونے کی بشارت کا ذکر ہے اور ساتھ ہی بیان ہے کہ ان کے ہاں بھی لڑکا ہو گا یعقوب نامی جب ان کے ہاں لڑکا ہونے کی بشارت دی گی تھی پھر باوجود ان کے ہاں لڑکا نہ ہوں کے اس سے پہلے ہی ان کے ذبح کرنے کا حکم کیسے دیا جاتا ہے؟“
تو سیدنا عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے فرمایا ”یہ بہت صاف دلیل ہے میرا ذہن یہاں نہیں پہنچا تھا گو یہ میں بھی جانتا تھا کہ ذبیح اللہ اسماعیل علیہ السلام ہی ہیں۔“ پھر شاہ اسلام نے شام کے ایک یہودی عالم سے پوچھا جو مسلمان ہو گئے تھے کہ تم اس بارے میں کیا علم رکھتے ہو انہوں نے فرمایا امیر المسلمین سچ تو یہی ہے کہ جن کے ذبح کرنے کا حکم دیا گیا وہ اسماعیل علیہ السلام ہی تھے لیکن چونکہ عرب ان کی اولاد میں سے ہیں تو یہ بزرگی ان کی طرف لوٹتی ہے اس حسد کے بارے میں یہودیوں نے اسے بدل دیا اور اسحاق علیہ السلام کا نام لے دیا۔ حقیقی علم اللہ ہی کو ہے ہمارا ایمان ہے کہ اسماعیل، اسحاق علیہم السلام دونوں ہی طاہر و طیب اور اللہ کے سچے فرمانبردار تھے۔ کتاب الزہد میں ہے کہ امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کے صاحبزادے عبداللہ رحمہ اللہ نے اپنے والد سے جب یہ مسئلہ پوچھا تو آپ نے جواب دیا کہ ”ذبح ہونے والے اسماعیل علیہ السلام ہی تھے۔“ علی ابن عمر، ابوالطفیل، سعید بن مسیب، سعید بن جبیر، حسن، مجاہد، شعبی، محمد بن کعب، ابوجعفر محمد بن علی ابوصالح رحمہ اللہ عنہم سے بھی یہی مروی ہے۔
امام بغوی رحمہ اللہ نے اور بھی صحابہ رضی اللہ عنہم اور تابعین کے نام گنوائے ہیں۔ ایک غریب حدیث بھی اسی کی تائید میں مروی ہے اس میں ہے کہ { شام میں امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے سامنے یہ بحث چھڑی کہ ذبیح اللہ کون ہیں؟ تو آپ نے فرمایا خوب ہوا جو یہ معاملہ مجھ جیسے باخبر شخص کے پاس آیا، سنو! ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھے جب ایک شخص آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا اے اللہ کی راہ میں دو ذبح ہونے والوں کی نسل کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم مجھے بھی مال غنیمت میں سے کچھ دلوایئے اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہنس دیئے۔ ایک تو ذبیح اللہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے والد عبداللہ تھے، دوسرے اسمعیل علیہ السلام جن کی نسل میں سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ عبداللہ کے ذبیح اللہ ہونے کا واقعہ یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دادا عبدالمطلب نے جب چاہ زمزم کھودا تو نذر مانی تھی کی اگر یہ کام آسانی سے پورا ہو گیا تو اپنے ایک لڑکے کو راہ اللہ میں ذبح کروں گا جب کام ہو گیا اور قرعہ اندازی کی گئی کہ کس بیٹے کو اللہ کے نام پر ذبح کریں تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے والد عبداللہ کا نام نکلا۔ ان کے ننھیال والوں نے کہا آپ ان کی طرف سے ایک سو اونٹ راہ اللہ ذبح کر دیں چنانچہ وہ ذبح کر دیئے گئے اور اسماعیل علیہ السلام کے ذبیح اللہ ہونے کا واقعہ تو مشہور ہی ہے }۔۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:29530:ضعیف] ابن جریر میں یہ روایت موجود ہے اور مغازی امویہ میں بھی۔
امام ابن جریر رحمہ اللہ نے اسحاق علیہ السلام کے ذبیح اللہ ہونے کی ایک دلیل تو یہ پیش کی یہ کہ جس علیم بچے کی بشارت کا ذکر ہے اس سے مراد اسحاق علیہ السلام ہیں قرآن میں اور جگہ ہے «قَالُوا لَا تَخَفْ وَبَشَّرُوهُ بِغُلَامٍ عَلِيمٍ» ۱؎ [51-الذاريات:28] ، اور یعقوب علیہ السلام کی بشارت کا یہ جواب دیا ہے کہ وہ آپ کے ساتھ چلنے پھرنے کی عمر کو پہنچ گئے تھے اور ممکن ہے کہ یعقوب علیہ السلام کے ساتھ ہی کوئی اور اولاد بھی ہوئی ہو اور کعبتہ اللہ میں سینگوں کی موجودگی کے بارے میں فرماتے ہیں بہت ممکن ہے کہ یہ بلادکنعان سے لا کر یہاں رکھے گئے ہوں۔“ اور بعض لوگوں سے اسحاق علیہ السلام کے نام کی صراحت بھی آئی ہے، لیکن یہ سب باتیں حقیقت سے بہت دور ہیں۔ ہاں اسماعیل علیہ السلام کے ذبیح اللہ ہونے پر محمد بن کعب قرظی رحمہ اللہ کا استدلال بہت صاف اور قوی ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ پہلے ذبیح اللہ اسمعیل علیہ السلام کے تولد ہونے کی بشارت دی گئی تھی یہاں اس کے بعد ان کے بھائی اسحاق علیہ السلام کی بشارت دی جا رہی ہے۔ سورۃ ہود اور سورۃ الحجر میں بھی اس کا ذکر گذر چکا ہے۔ «نبیاً» حال مقدرہ ہے یعنی وہ نبی صالح ہو گا۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ذبیح اللہ اسحاق علیہ السلام تھے اور یہاں نبوت اسحاق علیہ السلام کو بشارت ہے۔ جیسے موسیٰ علیہ السلام کے بارے میں فرمان ہے کہ ’ ہم نے انہیں اپنی رحمت سے ان کے بھائی ہارون کو نبی بنا دیا ‘۔ حالانکہ ہارون علیہ السلام موسیٰ علیہ السلام سے بڑے تھے تو یہاں بھی ان کی نبوت کی بشارت ہے۔ پس یہ بشارت اس وقت دی گئی جبکہ امتحان ذبح میں وہ صابر ثابت ہوئے۔ یہ بھی مروی ہے کہ یہ بشارت دو مرتبہ دی گئی پیدائش سے کچھ قبل اور نبوت سے کچھ قبل۔
حضرت قتادہ رحمہ اللہ سے بھی یہی مروی ہے۔ ’ ان پر اور اسحاق علیہ السلام پر ہماری برکتیں ہم نے نازل فرمائیں، ان کی اولاد میں ہر قسم کے لوگ ہیں نیک بھی بد بھی ‘۔ جیسے نوح علیہ السلام سے فرمان ہوا تھا کہ «قِيلَ يَا نُوحُ اهْبِطْ بِسَلَامٍ مِّنَّا وَبَرَكَاتٍ عَلَيْكَ وَعَلَىٰ أُمَمٍ مِّمَّن مَّعَكَ وَأُمَمٌ سَنُمَتِّعُهُمْ ثُمَّ يَمَسُّهُم مِّنَّا عَذَابٌ أَلِيمٌ» ’ اے نوح ہماری سلام اور برکت کے ساتھ تواتر۔ تو بھی اور تیرے ساتھ والے بھی اور ایسے بھی لوگ ہیں جنہیں ہم فائدے پہنچائیں گے پھر انہیں ہماری طرف سے درد ناک عذاب پہنچیں گے ‘۔۱؎ [11-هود:48]
بیشک وہ ہمارے اعلیٰ درجہ کے کامل الایمان بندوں میں ہیں،
علامہ محمد حسین نجفی
یقیناً وہ ہمارے ایمانداروں میں سے تھے۔
عبدالسلام بن محمد
بلاشبہ وہ ہمارے مومن بندوں سے تھا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
ذبیح اللہ کی بحث اور یہودی روایات ٭٭
خلیل اللہ علیہ السلام جب اپنی قوم کی ہدایت سے مایوس ہو گئے، بڑی بڑی قدرتی نشانیاں دیکھ کر بھی جب انہیں ایمان نصیب نہ ہوا تو آپ علیہ السلام نے ان سے ہٹ جانا پسند فرمایا اور اعلان کر دیا کہ میں اب تم میں سے ہجرت کرجاؤں گا میرا رہنما میرا رب ہے۔ ساتھ ہی اپنے رب سے اپنے ہاں اولاد ہونے کی دعا مانگی تاکہ وہی توحید میں آپ علیہ السلام کا ساتھ دے۔ اسی وقت دعا قبول ہوتی ہے اور ایک بردبار بچے کی بشارت دی جاتی۔ یہ اسماعیل علیہ السلام تھے یہی آپ علیہ السلام کے لیے صاحبزادے تھے اور اسحاق علیہ السلام سے بڑے تھے۔ اسے تو اہل کتاب بھی مانتے ہیں بلکہ ان کی کتب میں موجود ہے کہ اسماعیل علیہ السلام کی پیدائش کے وقت ابراہیم علیہ السلام کی عمر چھیاسی سال کی تھی اور جس وقت اسحاق علیہ السلام تولد ہوتے ہیں اس وقت آپ علیہ السلام کی عمر ننانوے برس کی تھی۔ بلکہ ان کی اپنی کتاب میں تو یہ بھی ہے کہ جناب ابراہیم علیہ السلام کو اپنے اکلوتے فرزند کو ذبح کرنے کا حکم ہوا تھا۔ لیکن صرف اس لیے کہ یہ لوگ خود تو نبی اللہ اسحاق علیہ السلام کی اولاد میں سے ہیں اور نبی اللہ و ذبیح اللہ اسماعیل علیہ السلام کی اولاد میں سے عرب ہیں۔ انہی نے واقعہ کی اصلیت بدل دی اور اس فضیلت کو اسماعیل علیہ السلام سے ہٹاکر اسحاق علیہ السلام کو دے دیا اور بے جا تاویلیں کرتے اللہ کے کلام کو بدل ڈالا، اور کہا ہماری کتاب میں لفظ «وَحِیْدَكَ» ہے اس سے مراد اکلوتا نہیں بلکہ جو تیرے پاس اس وقت اکیلا ہے وہ ہے۔ یہ اس لیے کہ اسماعیل تو اپنی والدہ کے ساتھ مکے میں تھے یہاں خلیل اللہ کے ساتھ صرف اسحاق تھے۔ لیکن یہ بالکل غلط ہے۔ وحید اسی کو کہا جاتا ہے جو اکلوتا ہو اس کا اور کوئی بھائی نہ ہو۔ پھر یہاں ایک بات اور بھی ہے کہ اکلوتے اور پہلوٹھی کے بچے کے ساتھ جو محبت ہوتی اور اس کے جو لاڈ پیار ہوتے ہیں عموماً دوسری اولاد کے ہونے پر پھر وہ باقی نہیں رہتے۔ اس لیے اس کے ذبیحہ کا حکم امتحان اور آزمائش کی زبردست کڑی ہے۔
ہم اسے مانتے ہیں کہ بعض سلف بھی اس کے قائل ہوئے ہیں کہ ذبیح اللہ اسحاق علیہ السلام تھے، یہاں تک کہ بعض صحابہ رضی اللہ عنہم سے بھی یہ مروی ہے لیکن یہ چیز کتاب و سنت سے ثابت نہیں ہوتی۔ بلکہ خیال یہ ہے کہ بنو اسرائیل کی ایک شہرت دی ہوئی بات کو ان حضرات نے بھی بے دلیل اپنے ہاں لے لیا۔ دور کیوں جائیں کتاب اللہ کے الفاظ میں ہی غور کر لیجئیے کہ اسمٰعیل علیہ السلام کی بشارت کا ”غلام حلیم“ کہہ کر ذکر ہوا اور پھر اللہ کی راہ میں ذبح کے لیے تیار ہونے کا ذکر ہوا۔ اس تمام بیان کو ختم کر کے پھر نبی صالح اسحاق علیہ السلام کے تولد کی بشارت کا بیان ہوا۔ اور فرشتوں نے بشارت اسحاق کے موقع پر ”غلام علیم“ فرمایا تھا۔ اسی طرح قرآن میں ہے بشارت اسحاق علیہ السلام کے ساتھ ہی ہے «وَمِنْ وَّرَاءِ اِسْحٰقَ يَعْقُوْبَ» ۱؎ [11-ھود:71] یعنی ’ ابراہیم کی حیات میں ہی اسحاق کے ہاں یعقوب پیدا ہوں گے ‘، یعنی ان کی تو نسل جاری رہنے کا پہلے ہی علم کرایا جا چکا تھا اب انہیں ذبح کرنے کا حکم کیسے دیا جاتا؟ اسے ہم پہلے بھی بیان کر چکے۔ البتہ اسماعیل علیہ السلام کا وصف یہاں پر بردباری کا بیان کیا گیا ہے۔ جو ذبیح کے لیے نہایت مناسب ہے۔
اب اسماعیل علیہ السلام بڑے ہو گئے اپنے والد کے ساتھ چلنے پھرنے کے قابل ہو گئے۔ آپ علیہ السلام اس وقت مع اپنی والدہ محترمہ کے فاران میں تھے ابراہیم علیہ السلام عموماً وہاں جاتے آتے رہتے تھے یہ مذکور ہے کہ براق پر جاتے تھے اور اس جملے کے یہ معنی بھی ہیں کہ جوانی کے لگ بھگ ہو گئے لڑکپن کا زمانہ نکل گیا اور باپ کی طرح چلنے پھرنے کام کاج کرنے کے قابل بن گئے تو ابراہیم علیہ السلام نے خواب دیکھا کہ گویا آپ علیہ السلام اپنے پیارے بچے کو ذبح کر رہے ہیں۔ انبیاء کے خواب وحی ہوتے ہیں اور اس کی دلیل یہی آیت ہے۔ ایک مرفوع روایت میں بھی یہ ہے۔ ۱؎ [صحیح بخاری:138] پس اللہ کے رسول علیہ السلام نے اپنے لخت جگر کی آزمائش کے لیے کہ اچانک وہ گھبرا نہ اٹھے، اپنا ارادہ ان کے سامنے ظاہر کیا۔ وہاں کیا تھا۔ وہ بھی اسی درخت کے پھل تھے نبی ابن نبی علیہ السلام تھے جواب دیتے ہیں اب پھر دیر کیوں لگا رہے ہو یہ باتیں بھی پوچھنے کی ہوتی ہیں جو حکم ہوا ہے اسے فوراً کر ڈالیے اور اگر میری نسبت کھٹکا ہو تو زبانی اطمینانی کیا کروں چھری رکھئے خود معلوم ہو جائے گا کہ میں کیسا کچھ صابر ہوں۔ ان شاءاللہ میرا صبر آپ کا جی خوش کر دے گا۔ سبحان اللہ جو کہا تھا وہی کر کے دکھایا اور صادق الوعد ہونے کا سرٹیفیکیٹ اللہ کی طرف سے حاصل کر ہی لیا۔ آخر باپ بیٹا دونوں حکم اللہ کی اطاعت کے لیے جان بکف تیار ہو جاتے ہیں باپ بچے کو ذبح کرنے کے لیے تیار ہو جاتا ہے۔ اور باپ اپنے نور چشم لخت جگر کو منہ کے بل زمین پر گراتے ہیں تاکہ ذبح کے وقت منہ دیکھ کر محبت نہ آ جائے اور ہاتھ سست نہ پڑ جائے۔
مسند احمد میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ”جب ابراہیم علیہ السلام اپنی نور نظر کو ذبح کرنے کے لیے بحکم اللہ لے چلے تو سعی کے وقت شیطان سامنے آیا لیکن ابراہیم علیہ السلام اس سے آگے بڑھ گئے، پھر جبرائیل علیہ السلام کے ساتھ آپ جمرہ عقبہ پر پہنچے تو پھر شیطان سامنے آیا، آپ علیہ السلام نے اسے سات کنکریاں ماریں۔“ ”پھر جمرہ وسطی پاس آیا پھر وہاں سات کنکریاں ماریں۔ پھر آگے بڑھ کر اپنے پیارے بچے کو اللہ کے نام پر ذبح کرنے کے لیے نیچے پچھاڑا، ذبیح اللہ کے پاک جسم پر اس وقت سفید چادر تھی کہنے لگے ابا جی اسے اتار لیجئیے تاکہ اس میں آپ مجھے کفنا سکیں۔ اس وقت بیٹے کو ننگا کرتے وقت باپ کا عجب حال تھا کہ آواز آئی بس ابراہیم خواب کو سچا کر چکے۔ مڑ کر دیکھا تو ایک مینڈا سفید رنگ کا بڑے بڑے سینگوں اور صاف آنکھوں والا نظر پڑا، ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں اسی لیے ہم اس قسم کے مینڈے (چھترے) چن چن کر قربانی کے لیے لیتے تھے۔“
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما ہی سے دوسری روایت میں اسحاق علیہ السلام کا نام مروی ہے۔ تو گو دونوں نام آپ رضی اللہ عنہما سے مروی ہیں لیکن اول ہی اولیٰ ہے اور اس کی دلیلیں آ رہی ہیں۔ ان شاءاللہ تعالیٰ۔ اس کے بدلے بڑا ذبیحہ، اللہ نے عطا فرمایا اس کی بابت سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”یہ جنتی چھترا تھا جو وہاں چالیس سال سے کھا پی رہا تھا۔“ اسے دیکھ کر آپ علیہ السلام اپنے بچے کو چھوڑ کر اس کے پیچھے ہولیے۔ جمرہ اولیٰ پر آ کر سات کنکریاں پھنکیں پھر وہ بھاگ کر جمرہ وسطی پر آ گیا۔ سات کنکریاں ماریں اور وہاں سے ملخر میں لا کر ذبح کیا اس کے سینگ سر سمیت ابتداء اسلام کے زمانہ تک کعبے کے پرنالے کے پاس لٹکتے رہے تھے پھر سوکھ گئے۔ ایک مرتبہ سیدنا کعب رضی اللہ عنہ بیٹھے ہوئے باتیں کر رہے تھے۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ تو حدیثیں بیان کر رہے تھے اور کعب رضی اللہ عنہ کتاب کے قصے بیان کر رہے تھے۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ { ہر نبی کے لیے ایک دعا قبول شدہ ہے اور میں نے اپنی اس مقبول دعا کو پوشیدہ کر کے رکھ چھوڑا ہے اپنی امت کی شفاعت کے لئے جو بروز قیامت ہوگی}، تو سیدنا کعب رضی اللہ عنہ نے فرمایا تم نے خود اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے؟ فرمایا ہاں۔ سیدنا کعب رضی اللہ عنہ خوش ہوئے اور فرمانے لگے تم پر میرے ماں باپ فدا ہوں یا فرمایا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر میرے ماں باپ صدقے جائیں۔
پھر کعب رضی اللہ عنہ نے ابراہیم خلیل علیہ السلام کا قصہ سنایا کہ جب آپ علیہ السلام اپنے لڑکے اسمٰعیل علیہ السلام کو ذبح کرنے کے لیے مستعد ہو گئے تو شیطان نے کہا اگر میں اس وقت انہیں نہ بہکا سکا تو مجھے ان سے عمر بھر کے لیے مایوس ہو جانا چاہیئے۔ پہلے تو یہ سارہ رضی اللہ عنہا کے پاس آیا اور پوچھا کہ ابراہیم علیہ السلام تمہارے لڑکے کو کہاں لے گئے ہیں؟ مائی صاحبہ رضی اللہ عنہا نے جواب دیا اپنے کسی کام پر لے گئے ہیں، اس نے کہا نہیں بلکہ وہ ذبح کرنے کے لیے لے گئے ہیں۔ مائی صاحبہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا وہ اسے کیوں ذبح کرنے لگے؟ لعین نے کہا وہ کہتے ہیں اللہ کی طرف سے یہی حکم ہے جواب ملا پھر تو یہی بہتر ہے کہ وہ جلدی سے اللہ کے حکم کی بجا آوری سے فارغ ہو لیں۔ یہاں سے نامراد ہو کر بچے کے پاس آیا اور کہا تمہارے ابا تمہیں کہاں لے جاتے ہیں؟ فرمایا اپنے کام کے لیے کہا نہیں بلکہ وہ تجھے ذبح کرنے کے لیے لے جا رہے ہیں، فرمایا یہ کیوں؟ کہا اس لیے کہ وہ سمجھتے ہیں اللہ کا انہیں حکم ہے۔ کہا پھر تو واللہ انہیں اس کام میں بہت جلدی کرنی چاہیئے۔ ان سے بھی مایوس ہو کر یہ ملعون خلیل اللہ علیہ السلام کے پاس پہنچا۔ ان سے کہا بچے کو کہاں لے جا رہے ہو؟ جواب دیا اپنے کام کے لیے ملعون نے کہا نہیں بلکہ تم تو اسے ذبح کرنے کے لیے جا رہے ہو؟ آپ علیہ السلام نے فرمایا یہ کیوں؟ بولا اس لیے کہ تمہارا خیال ہے کہ اللہ کا حکم تمہیں یونہی ہے، آپ علیہ السلام نے فرمایا اللہ کی قسم پھر تو میں ضرور ہی اسے ذبح کر ڈالوں گا۔ اب ابلیس مایوس ہو گیا۔۱؎ [عبد الرزاق فی المصنف:20864:صحیح]
دوسری روایت میں یہ بھی ہے کہ اس تمام واقعے کے بعد جناب باری تعالیٰ نے اسحاق علیہ السلام سے فرمایا کہ ’ ایک دعا تم مجھ سے مانگو جو مانگو گے ملے گا ‘۔ اسحاق علیہ السلام نے کہا ”پھر میری دعا یہ ہے کہ جس نے تیرے ساتھ شریک نہ کیا ہو اسے تو ضرور جنت میں لے جانا۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے { اللہ تعالیٰ نے مجھے اختیار دیا کہ میں دو باتوں میں سے ایک کو اختیار کر لوں یا تو یہ کہ میری آدھوں آدھ امت بخشی جائے یا یہ کہ میں شفاعت کروں اور اسے اللہ تعالیٰ قبول فرما لے تو میں نے شفاعت کرنے کو ترجیح دی اس پر کہ وہ عام ہو گی، ہاں ایک دعا تھی کہ میں وہی کرتا لیکن اللہ کا ایک نیک بندہ مجھ سے پہلے اس دعا کو مانگ چکا تھا }۔ واقعہ یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے اسحاق علیہ السلام سے ذبح ہونے کی تکلیف دور کر دی تو ان سے فرمایا گیا کہ ’ تو مانگ جو مانگے گا دیا جائے گا ‘۔ تو اسحاق علیہ السلام نے فرمایا ”واللہ شیطان کے بہکانے سے پہلے ہی میں اسے مانگ لوں گا، اللہ جو شخص اس حالت میں مرا ہو کہ اس نے تیرے ساتھ کسی کو شریک نہ کیا ہو تو اسے بخش دے اور جنت میں پہنچا دے۔“ ۱؎ [الدر المنشور للسیوطی:531/5:ضعیف] یہ حدیث ابن ابی حاتم میں ہے لیکن سنداً غریب اور منکر ہے اور اس کے ایک راوی عبدالرحمٰن بن زید بن اسلم ضعیف ہیں اور مجھے تو یہ بھی ڈر ہے کہ یہ الفاظ کہ (جب اللہ تعالیٰ نے اسحاق علیہ السلام سے) آخر تک راوی اپنے نہ ہوں جنہیں انہوں نے حدیث میں داخل کر دئیے ہیں۔
ذبیح اللہ تو اسماعیل علیہ السلام ہیں، محل ذبح منیٰ ہے اور وہ مکے میں ہے اور اسماعیل علیہ السلام یہیں تھے نہ کہ اسحاق علیہ السلام وہ تو شہر کنعان میں تھے جو شام ہے۔ جب ابراہیم علیہ السلام اپنے پیارے بچے کو ذبح کرنے کے لیے لٹا دیتے ہیں جناب باری سے ندا آتی ہے کہ ’ بس ابراہیم علیہ السلام تم اپنے خواب کو پورا کر چکے ‘۔ سدی رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ”جب خلیل اللہ علیہ السلام نے ذبیح اللہ علیہ السلام کے حلق پر چھری پھیری تو گردن تانبے کی ہو گئے اور نہ کٹی اور یہ آواز آئی۔“
ہم اسی طرح نیک کاروں کو بدلہ دیتے ہیں۔ یعنی سختیوں سے بچا لیتے ہیں اور چھٹکارا کر دیتے ہیں۔ جیسے فرمایا ’ اللہ سے ڈرتے رہنے والوں کے لیے اللہ تعالیٰ چھٹکارے کی صورت نکال ہی دیتا ہے اور اسے ایسی طرح روزی پہنچاتا ہے کہ اس کے گمان و وہم میں بھی نہ ہو۔ اللہ پر بھروسہ کرنے والوں کو اللہ ہی کافی ہے اللہ اپنے کاموں کو مکمل کر کے چھوڑتا ہے ہرچیز کا اس نے ایک اندازہ مقرر کر رکھا ہے ‘۔ اس آیت سے اس پر استدلال کیا گیا ہے کہ فعل پر قدرت پانے سے پہلے ہی حکم منسوخ ہو سکتا ہے۔
ہاں معتزلہ اسے نہیں مانتے۔ وجہ استدلال بہت ظاہر ہے اس لیے کہ خلیل اللہ علیہ السلام کو اپنے بیٹے کے ذبح کرنے کا حکم ہوتا ہے اور پھر ذبح سے پہلے ہی فدئیے کے ساتھ منسوخ کر دیا جاتا ہے۔ مقصود اس سے یہ تھا کہ صبر کا اور بجا آوری حکم پر مستعدی کا ثواب مرحمت فرما دیا جائے۔ اسی لیے ارشاد ہوا ’ یہ تو صرف ایک آزمائش تھی کھلا امتحان تھا کہ ادھر حکم ہوا ادھر تیاری ہوئی ‘۔ اسی لیے جناب خلیل اللہ علیہ السلام کی تعریف میں قرآن میں ہے ’ ابراہیم بڑا ہی وفادار تھا۔ بڑے ذبیح کے ساتھ ان کا فدیہ ہم نے دیا ‘۔ سفید رنگ بڑی آنکھوں اور بڑے سینگوں والا عمدہ خوراک سے پلا ہوا منیڈھا فدئیے میں دیا گیا جو ثبیر ببول کے درخت سے بندھا ہوا ملا۔ جو جنت میں چالیس سال چرتا رہا۔ منیٰ میں ثبیر کے پاس جو چٹان ہے اس پر یہ جانور ذبح کیا گیا یہ چیختا ہوا اوپر سے اترا تھا۔ یہی وہ مینڈھا ہے جسے ہابیل نے اللہ کی راہ میں قربان کیا تھا۔ اس کی اون قدرے سرخی مائل تھی اس کا نام جریر تھا۔ بعض کہتے ہیں مقام ابراہیم پر اسے ذبح کیا۔ کوئی کہتا ہے مٹی میں نحر پر۔ ایک شخص نے اپنے تئیں راہ اللہ میں ذبح کرنے کی منت مانی تھی تو سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اسے ایک سو اونٹ ذبح کرنے کا فتویٰ دیا تھا لیکن پھر فرماتے تھے کہ ”اگر میں اسے ایک بھیڑ ذبح کرنے کو کہتا تب بھی کافی تھا کیونکہ کتاب اللہ میں ہے کہ ذبیح اللہ کا فدیہ اسی سے دیا گیا تھا۔“ اکثر لوگوں کا یہی قول ہے بعض کہتے ہیں یہ پہاڑی بکرا تھا۔ کوئی کہتا ہے نر ہرن تھا۔ مسند احمد میں ہے کہ { عثمان رضی اللہ عنہ کو بلا کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { میں نے بھیڑ کے سینگ بیت اللہ شریف میں داخلے کے وقت اندر دیکھے تھے اور مجھے یاد نہ رہا کہ میں تجھے ان کے ڈھانک دینے کا حکم دوں، جاؤ اسے ڈھک دو بیت اللہ میں کوئی ایسی چیز نہ ہونی چاہیئے جو نمازی کو اپنی طرف متوجہ کر لے } }۔۱؎ [سنن ابوداود:2030،قال الشيخ الألباني:صحیح] سفیان رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس بھیڑ کے سینگ بیت اللہ میں ہی رہے یہاں تک کہ ایک مرتبہ بیت اللہ میں آگ لگی اس میں وہ جل گئے۔ ۱؎ [سلسلة احادیث صحیحه البانی:23221،] یہ واقعہ بھی اس امر کی دلیل ہے کہ ذبیح اللہ، اسماعیل علیہ السلام تھے اسی وجہ سے ان کی اولاد قریش تک یہ سینگ برابر اور مسلسل چلے آئے یہاں تک کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ نے مبعوث فرمایا۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ ”ان آثار کا بیان جن میں ذبیح اللہ کا نام ہے“ ابومیسرہ فرماتے ہیں یوسف علیہ السلام نے بادشاہ سے فرمایا ”کیا تو میرے ساتھ کھانا چاہتا ہے، میں یوسف بن یعقوب نبی اللہ بن اسحاق ذبیح اللہ بن ابراہیم خلیل اللہ ہوں [ عبید بن عمیر رحمه الله] موسیٰ علیہ السلام نے جناب باری میں عرض کی کہ ”اے اللہ کیا وجہ ہے جو لوگوں کی زبانوں پر یہ چڑھا ہوا ہے کہ ابراہیم، اسمٰعیل اور یعقوب علیہم السلام کے اللہ کی قسم“، تو جواب ملا ’ اس لیے ابراہیم نے تو ہر ہرچیز پر مجھی کو ترجیح دی اور اسحاق علیہ السلام نے اپنے تئیں میری راہ میں ذبح ہونے کے لیے سپرد کر دیا پھر بھلا اور چیزیں اسے پیش کر دینا کیا مشکل تھیں اور یعقوب علیہ السلام کو میں جوں جوں بلاؤں میں ڈالتا گیا اس کے حسن ظنی میرے ساتھ بڑھتی ہی رہی ‘۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے سامنے ایک مرتبہ کسی نے فخراً اپنے باپ دادوں کا نام لیا تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا قابل فخر باپ دادا تو یوسف علیہ السلام کے تھے جو یعقوب بن اسحاق علیہ السلام اور ذبیح اللہ بن ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام تھے۔
عکرمہ، سیدنا ابن عباس، خود سیدنا عباس، سیدنا علی،سعید بن جبیر رضی اللہ عنہم، مجاہد، شعبی، عبید بن عمر، ابومیسرہ، زید بن اسلم، عبداللہ بن شفیق، زہری، قاسم بن ابوبرزہ، محکول، عثمان بن ابی عاص، سدی، حسن، قتادہ، ابو الہذیل، ابن سابط، کعب احبار رحمہم اللہ اجمعین، ان سب کا یہی قول ہے اور ابن جریر رحمہ اللہ بھی اسی کو اختیار کرتے ہیں کہ ذبیح اللہ اسحاق علیہ السلام تھے۔ صحیح علم تو اللہ کو ہی ہے مگر بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ان سب بزرگوں کے استاد کعب احبار رحمہ اللہ ہیں۔ یہ خلافت فاروقی میں مسلمان ہوئے تھے اور کبھی کبھی سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو قدیمی کتابوں کی باتیں سناتے تھے، لوگوں نے اسے رخصت سمجھ کر پھر ان سے ہر ایک بات بیان کرنی شروع کر دی اور صحیح غلط کی تمیز اٹھ گئی حق تو یہ ہے کہ اس امت کو اگلی کتابوں کی ایک بات کی بھی حاجت نہیں۔ بغوی نے کچھ اور نام بھی صحابہ تابعین کے بتلائے ہیں جنہوں نے کہا ہے کہ ذبیح اللہ اسحاق علیہ السلام ہیں۔ ایک مرفوع حدیث میں بھی یہ آیا ہے۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:29495:ضعیف] اگر وہ حدیث صحیح ہوتی تو جھگڑے کا فیصلہ تھا مگر وہ حدیث صحیح نہیں اس میں دو راوی ضعیف ہیں۔ حسن بن دینار متروک ہیں اور علی بن زید بن جدعان منکر الحدیث ہیں اور زیادہ صحیح یہ ہے کہ ہے یہ بھی موقف، چنانچہ ایک سند سے یہ مقولہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کا مروی ہے اور یہی زیادہ ٹھیک ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
اب ان آثار کو سنئے جن سے معلوم ہوتا ہے کہ ذبیح اللہ اسماعیل علیہ السلام ہی تھے اور یہی ٹھیک اور بالکل درست بھی ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما یہی فرماتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ ”یہودی اسحاق علیہ السلام کا نام جھوٹ موٹ لیتے ہیں۔“ ابن عمر رضی اللہ عنہ، مجاہد، شعبی، حسن بصری، محمد بن کعب قرظی، خلیفہ المسلمین عمر ابن عبدالعزیز رحمہ اللہ علیہم کے سامنے جب محمد بن قرظی رحمہ اللہ نے یہ فرمایا اور ساتھ ہی اس کی دلیل بھی دی کہ ”ذبح کے ذکر کے بعد قرآن میں خلیل اللہ علیہ السلام کو اسحاق علیہ السلام کے پیدا ہونے کی بشارت کا ذکر ہے اور ساتھ ہی بیان ہے کہ ان کے ہاں بھی لڑکا ہو گا یعقوب نامی جب ان کے ہاں لڑکا ہونے کی بشارت دی گی تھی پھر باوجود ان کے ہاں لڑکا نہ ہوں کے اس سے پہلے ہی ان کے ذبح کرنے کا حکم کیسے دیا جاتا ہے؟“
تو سیدنا عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے فرمایا ”یہ بہت صاف دلیل ہے میرا ذہن یہاں نہیں پہنچا تھا گو یہ میں بھی جانتا تھا کہ ذبیح اللہ اسماعیل علیہ السلام ہی ہیں۔“ پھر شاہ اسلام نے شام کے ایک یہودی عالم سے پوچھا جو مسلمان ہو گئے تھے کہ تم اس بارے میں کیا علم رکھتے ہو انہوں نے فرمایا امیر المسلمین سچ تو یہی ہے کہ جن کے ذبح کرنے کا حکم دیا گیا وہ اسماعیل علیہ السلام ہی تھے لیکن چونکہ عرب ان کی اولاد میں سے ہیں تو یہ بزرگی ان کی طرف لوٹتی ہے اس حسد کے بارے میں یہودیوں نے اسے بدل دیا اور اسحاق علیہ السلام کا نام لے دیا۔ حقیقی علم اللہ ہی کو ہے ہمارا ایمان ہے کہ اسماعیل، اسحاق علیہم السلام دونوں ہی طاہر و طیب اور اللہ کے سچے فرمانبردار تھے۔ کتاب الزہد میں ہے کہ امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کے صاحبزادے عبداللہ رحمہ اللہ نے اپنے والد سے جب یہ مسئلہ پوچھا تو آپ نے جواب دیا کہ ”ذبح ہونے والے اسماعیل علیہ السلام ہی تھے۔“ علی ابن عمر، ابوالطفیل، سعید بن مسیب، سعید بن جبیر، حسن، مجاہد، شعبی، محمد بن کعب، ابوجعفر محمد بن علی ابوصالح رحمہ اللہ عنہم سے بھی یہی مروی ہے۔
امام بغوی رحمہ اللہ نے اور بھی صحابہ رضی اللہ عنہم اور تابعین کے نام گنوائے ہیں۔ ایک غریب حدیث بھی اسی کی تائید میں مروی ہے اس میں ہے کہ { شام میں امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے سامنے یہ بحث چھڑی کہ ذبیح اللہ کون ہیں؟ تو آپ نے فرمایا خوب ہوا جو یہ معاملہ مجھ جیسے باخبر شخص کے پاس آیا، سنو! ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھے جب ایک شخص آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا اے اللہ کی راہ میں دو ذبح ہونے والوں کی نسل کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم مجھے بھی مال غنیمت میں سے کچھ دلوایئے اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہنس دیئے۔ ایک تو ذبیح اللہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے والد عبداللہ تھے، دوسرے اسمعیل علیہ السلام جن کی نسل میں سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ عبداللہ کے ذبیح اللہ ہونے کا واقعہ یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دادا عبدالمطلب نے جب چاہ زمزم کھودا تو نذر مانی تھی کی اگر یہ کام آسانی سے پورا ہو گیا تو اپنے ایک لڑکے کو راہ اللہ میں ذبح کروں گا جب کام ہو گیا اور قرعہ اندازی کی گئی کہ کس بیٹے کو اللہ کے نام پر ذبح کریں تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے والد عبداللہ کا نام نکلا۔ ان کے ننھیال والوں نے کہا آپ ان کی طرف سے ایک سو اونٹ راہ اللہ ذبح کر دیں چنانچہ وہ ذبح کر دیئے گئے اور اسماعیل علیہ السلام کے ذبیح اللہ ہونے کا واقعہ تو مشہور ہی ہے }۔۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:29530:ضعیف] ابن جریر میں یہ روایت موجود ہے اور مغازی امویہ میں بھی۔
امام ابن جریر رحمہ اللہ نے اسحاق علیہ السلام کے ذبیح اللہ ہونے کی ایک دلیل تو یہ پیش کی یہ کہ جس علیم بچے کی بشارت کا ذکر ہے اس سے مراد اسحاق علیہ السلام ہیں قرآن میں اور جگہ ہے «قَالُوا لَا تَخَفْ وَبَشَّرُوهُ بِغُلَامٍ عَلِيمٍ» ۱؎ [51-الذاريات:28] ، اور یعقوب علیہ السلام کی بشارت کا یہ جواب دیا ہے کہ وہ آپ کے ساتھ چلنے پھرنے کی عمر کو پہنچ گئے تھے اور ممکن ہے کہ یعقوب علیہ السلام کے ساتھ ہی کوئی اور اولاد بھی ہوئی ہو اور کعبتہ اللہ میں سینگوں کی موجودگی کے بارے میں فرماتے ہیں بہت ممکن ہے کہ یہ بلادکنعان سے لا کر یہاں رکھے گئے ہوں۔“ اور بعض لوگوں سے اسحاق علیہ السلام کے نام کی صراحت بھی آئی ہے، لیکن یہ سب باتیں حقیقت سے بہت دور ہیں۔ ہاں اسماعیل علیہ السلام کے ذبیح اللہ ہونے پر محمد بن کعب قرظی رحمہ اللہ کا استدلال بہت صاف اور قوی ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ پہلے ذبیح اللہ اسمعیل علیہ السلام کے تولد ہونے کی بشارت دی گئی تھی یہاں اس کے بعد ان کے بھائی اسحاق علیہ السلام کی بشارت دی جا رہی ہے۔ سورۃ ہود اور سورۃ الحجر میں بھی اس کا ذکر گذر چکا ہے۔ «نبیاً» حال مقدرہ ہے یعنی وہ نبی صالح ہو گا۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ذبیح اللہ اسحاق علیہ السلام تھے اور یہاں نبوت اسحاق علیہ السلام کو بشارت ہے۔ جیسے موسیٰ علیہ السلام کے بارے میں فرمان ہے کہ ’ ہم نے انہیں اپنی رحمت سے ان کے بھائی ہارون کو نبی بنا دیا ‘۔ حالانکہ ہارون علیہ السلام موسیٰ علیہ السلام سے بڑے تھے تو یہاں بھی ان کی نبوت کی بشارت ہے۔ پس یہ بشارت اس وقت دی گئی جبکہ امتحان ذبح میں وہ صابر ثابت ہوئے۔ یہ بھی مروی ہے کہ یہ بشارت دو مرتبہ دی گئی پیدائش سے کچھ قبل اور نبوت سے کچھ قبل۔
حضرت قتادہ رحمہ اللہ سے بھی یہی مروی ہے۔ ’ ان پر اور اسحاق علیہ السلام پر ہماری برکتیں ہم نے نازل فرمائیں، ان کی اولاد میں ہر قسم کے لوگ ہیں نیک بھی بد بھی ‘۔ جیسے نوح علیہ السلام سے فرمان ہوا تھا کہ «قِيلَ يَا نُوحُ اهْبِطْ بِسَلَامٍ مِّنَّا وَبَرَكَاتٍ عَلَيْكَ وَعَلَىٰ أُمَمٍ مِّمَّن مَّعَكَ وَأُمَمٌ سَنُمَتِّعُهُمْ ثُمَّ يَمَسُّهُم مِّنَّا عَذَابٌ أَلِيمٌ» ’ اے نوح ہماری سلام اور برکت کے ساتھ تواتر۔ تو بھی اور تیرے ساتھ والے بھی اور ایسے بھی لوگ ہیں جنہیں ہم فائدے پہنچائیں گے پھر انہیں ہماری طرف سے درد ناک عذاب پہنچیں گے ‘۔۱؎ [11-هود:48]
اور ہم نے اسے اسحاقؑ کی بشارت دی، ایک نبی صالحین میں سے
مولانا محمد جوناگڑھی
اور ہم نے اس کو اسحاق (علیہ السلام) نبی کی بشارت دی جو صالح لوگوں میں سے ہوگا
احمد رضا خان بریلوی
اور ہم نے اسے خوشخبری دی اسحاق کی کہ غیب کی خبریں بتانے والا نبی ہمارے قربِ خاص کے سزاواروں میں
علامہ محمد حسین نجفی
اور ہم نے انہیں اسحاق(ع) کی بشارت دی جو نیک بندوں میں سے نبی ہوں گے۔
عبدالسلام بن محمد
اور ہم نے اسے اسحاق کی بشارت دی، جو نبی ہو گا، صالح لوگوں سے (ہو گا)۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
ذبیح اللہ کی بحث اور یہودی روایات ٭٭
خلیل اللہ علیہ السلام جب اپنی قوم کی ہدایت سے مایوس ہو گئے، بڑی بڑی قدرتی نشانیاں دیکھ کر بھی جب انہیں ایمان نصیب نہ ہوا تو آپ علیہ السلام نے ان سے ہٹ جانا پسند فرمایا اور اعلان کر دیا کہ میں اب تم میں سے ہجرت کرجاؤں گا میرا رہنما میرا رب ہے۔ ساتھ ہی اپنے رب سے اپنے ہاں اولاد ہونے کی دعا مانگی تاکہ وہی توحید میں آپ علیہ السلام کا ساتھ دے۔ اسی وقت دعا قبول ہوتی ہے اور ایک بردبار بچے کی بشارت دی جاتی۔ یہ اسماعیل علیہ السلام تھے یہی آپ علیہ السلام کے لیے صاحبزادے تھے اور اسحاق علیہ السلام سے بڑے تھے۔ اسے تو اہل کتاب بھی مانتے ہیں بلکہ ان کی کتب میں موجود ہے کہ اسماعیل علیہ السلام کی پیدائش کے وقت ابراہیم علیہ السلام کی عمر چھیاسی سال کی تھی اور جس وقت اسحاق علیہ السلام تولد ہوتے ہیں اس وقت آپ علیہ السلام کی عمر ننانوے برس کی تھی۔ بلکہ ان کی اپنی کتاب میں تو یہ بھی ہے کہ جناب ابراہیم علیہ السلام کو اپنے اکلوتے فرزند کو ذبح کرنے کا حکم ہوا تھا۔ لیکن صرف اس لیے کہ یہ لوگ خود تو نبی اللہ اسحاق علیہ السلام کی اولاد میں سے ہیں اور نبی اللہ و ذبیح اللہ اسماعیل علیہ السلام کی اولاد میں سے عرب ہیں۔ انہی نے واقعہ کی اصلیت بدل دی اور اس فضیلت کو اسماعیل علیہ السلام سے ہٹاکر اسحاق علیہ السلام کو دے دیا اور بے جا تاویلیں کرتے اللہ کے کلام کو بدل ڈالا، اور کہا ہماری کتاب میں لفظ «وَحِیْدَكَ» ہے اس سے مراد اکلوتا نہیں بلکہ جو تیرے پاس اس وقت اکیلا ہے وہ ہے۔ یہ اس لیے کہ اسماعیل تو اپنی والدہ کے ساتھ مکے میں تھے یہاں خلیل اللہ کے ساتھ صرف اسحاق تھے۔ لیکن یہ بالکل غلط ہے۔ وحید اسی کو کہا جاتا ہے جو اکلوتا ہو اس کا اور کوئی بھائی نہ ہو۔ پھر یہاں ایک بات اور بھی ہے کہ اکلوتے اور پہلوٹھی کے بچے کے ساتھ جو محبت ہوتی اور اس کے جو لاڈ پیار ہوتے ہیں عموماً دوسری اولاد کے ہونے پر پھر وہ باقی نہیں رہتے۔ اس لیے اس کے ذبیحہ کا حکم امتحان اور آزمائش کی زبردست کڑی ہے۔
ہم اسے مانتے ہیں کہ بعض سلف بھی اس کے قائل ہوئے ہیں کہ ذبیح اللہ اسحاق علیہ السلام تھے، یہاں تک کہ بعض صحابہ رضی اللہ عنہم سے بھی یہ مروی ہے لیکن یہ چیز کتاب و سنت سے ثابت نہیں ہوتی۔ بلکہ خیال یہ ہے کہ بنو اسرائیل کی ایک شہرت دی ہوئی بات کو ان حضرات نے بھی بے دلیل اپنے ہاں لے لیا۔ دور کیوں جائیں کتاب اللہ کے الفاظ میں ہی غور کر لیجئیے کہ اسمٰعیل علیہ السلام کی بشارت کا ”غلام حلیم“ کہہ کر ذکر ہوا اور پھر اللہ کی راہ میں ذبح کے لیے تیار ہونے کا ذکر ہوا۔ اس تمام بیان کو ختم کر کے پھر نبی صالح اسحاق علیہ السلام کے تولد کی بشارت کا بیان ہوا۔ اور فرشتوں نے بشارت اسحاق کے موقع پر ”غلام علیم“ فرمایا تھا۔ اسی طرح قرآن میں ہے بشارت اسحاق علیہ السلام کے ساتھ ہی ہے «وَمِنْ وَّرَاءِ اِسْحٰقَ يَعْقُوْبَ» ۱؎ [11-ھود:71] یعنی ’ ابراہیم کی حیات میں ہی اسحاق کے ہاں یعقوب پیدا ہوں گے ‘، یعنی ان کی تو نسل جاری رہنے کا پہلے ہی علم کرایا جا چکا تھا اب انہیں ذبح کرنے کا حکم کیسے دیا جاتا؟ اسے ہم پہلے بھی بیان کر چکے۔ البتہ اسماعیل علیہ السلام کا وصف یہاں پر بردباری کا بیان کیا گیا ہے۔ جو ذبیح کے لیے نہایت مناسب ہے۔
اب اسماعیل علیہ السلام بڑے ہو گئے اپنے والد کے ساتھ چلنے پھرنے کے قابل ہو گئے۔ آپ علیہ السلام اس وقت مع اپنی والدہ محترمہ کے فاران میں تھے ابراہیم علیہ السلام عموماً وہاں جاتے آتے رہتے تھے یہ مذکور ہے کہ براق پر جاتے تھے اور اس جملے کے یہ معنی بھی ہیں کہ جوانی کے لگ بھگ ہو گئے لڑکپن کا زمانہ نکل گیا اور باپ کی طرح چلنے پھرنے کام کاج کرنے کے قابل بن گئے تو ابراہیم علیہ السلام نے خواب دیکھا کہ گویا آپ علیہ السلام اپنے پیارے بچے کو ذبح کر رہے ہیں۔ انبیاء کے خواب وحی ہوتے ہیں اور اس کی دلیل یہی آیت ہے۔ ایک مرفوع روایت میں بھی یہ ہے۔ ۱؎ [صحیح بخاری:138] پس اللہ کے رسول علیہ السلام نے اپنے لخت جگر کی آزمائش کے لیے کہ اچانک وہ گھبرا نہ اٹھے، اپنا ارادہ ان کے سامنے ظاہر کیا۔ وہاں کیا تھا۔ وہ بھی اسی درخت کے پھل تھے نبی ابن نبی علیہ السلام تھے جواب دیتے ہیں اب پھر دیر کیوں لگا رہے ہو یہ باتیں بھی پوچھنے کی ہوتی ہیں جو حکم ہوا ہے اسے فوراً کر ڈالیے اور اگر میری نسبت کھٹکا ہو تو زبانی اطمینانی کیا کروں چھری رکھئے خود معلوم ہو جائے گا کہ میں کیسا کچھ صابر ہوں۔ ان شاءاللہ میرا صبر آپ کا جی خوش کر دے گا۔ سبحان اللہ جو کہا تھا وہی کر کے دکھایا اور صادق الوعد ہونے کا سرٹیفیکیٹ اللہ کی طرف سے حاصل کر ہی لیا۔ آخر باپ بیٹا دونوں حکم اللہ کی اطاعت کے لیے جان بکف تیار ہو جاتے ہیں باپ بچے کو ذبح کرنے کے لیے تیار ہو جاتا ہے۔ اور باپ اپنے نور چشم لخت جگر کو منہ کے بل زمین پر گراتے ہیں تاکہ ذبح کے وقت منہ دیکھ کر محبت نہ آ جائے اور ہاتھ سست نہ پڑ جائے۔
مسند احمد میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ”جب ابراہیم علیہ السلام اپنی نور نظر کو ذبح کرنے کے لیے بحکم اللہ لے چلے تو سعی کے وقت شیطان سامنے آیا لیکن ابراہیم علیہ السلام اس سے آگے بڑھ گئے، پھر جبرائیل علیہ السلام کے ساتھ آپ جمرہ عقبہ پر پہنچے تو پھر شیطان سامنے آیا، آپ علیہ السلام نے اسے سات کنکریاں ماریں۔“ ”پھر جمرہ وسطی پاس آیا پھر وہاں سات کنکریاں ماریں۔ پھر آگے بڑھ کر اپنے پیارے بچے کو اللہ کے نام پر ذبح کرنے کے لیے نیچے پچھاڑا، ذبیح اللہ کے پاک جسم پر اس وقت سفید چادر تھی کہنے لگے ابا جی اسے اتار لیجئیے تاکہ اس میں آپ مجھے کفنا سکیں۔ اس وقت بیٹے کو ننگا کرتے وقت باپ کا عجب حال تھا کہ آواز آئی بس ابراہیم خواب کو سچا کر چکے۔ مڑ کر دیکھا تو ایک مینڈا سفید رنگ کا بڑے بڑے سینگوں اور صاف آنکھوں والا نظر پڑا، ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں اسی لیے ہم اس قسم کے مینڈے (چھترے) چن چن کر قربانی کے لیے لیتے تھے۔“
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما ہی سے دوسری روایت میں اسحاق علیہ السلام کا نام مروی ہے۔ تو گو دونوں نام آپ رضی اللہ عنہما سے مروی ہیں لیکن اول ہی اولیٰ ہے اور اس کی دلیلیں آ رہی ہیں۔ ان شاءاللہ تعالیٰ۔ اس کے بدلے بڑا ذبیحہ، اللہ نے عطا فرمایا اس کی بابت سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”یہ جنتی چھترا تھا جو وہاں چالیس سال سے کھا پی رہا تھا۔“ اسے دیکھ کر آپ علیہ السلام اپنے بچے کو چھوڑ کر اس کے پیچھے ہولیے۔ جمرہ اولیٰ پر آ کر سات کنکریاں پھنکیں پھر وہ بھاگ کر جمرہ وسطی پر آ گیا۔ سات کنکریاں ماریں اور وہاں سے ملخر میں لا کر ذبح کیا اس کے سینگ سر سمیت ابتداء اسلام کے زمانہ تک کعبے کے پرنالے کے پاس لٹکتے رہے تھے پھر سوکھ گئے۔ ایک مرتبہ سیدنا کعب رضی اللہ عنہ بیٹھے ہوئے باتیں کر رہے تھے۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ تو حدیثیں بیان کر رہے تھے اور کعب رضی اللہ عنہ کتاب کے قصے بیان کر رہے تھے۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ { ہر نبی کے لیے ایک دعا قبول شدہ ہے اور میں نے اپنی اس مقبول دعا کو پوشیدہ کر کے رکھ چھوڑا ہے اپنی امت کی شفاعت کے لئے جو بروز قیامت ہوگی}، تو سیدنا کعب رضی اللہ عنہ نے فرمایا تم نے خود اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے؟ فرمایا ہاں۔ سیدنا کعب رضی اللہ عنہ خوش ہوئے اور فرمانے لگے تم پر میرے ماں باپ فدا ہوں یا فرمایا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر میرے ماں باپ صدقے جائیں۔
پھر کعب رضی اللہ عنہ نے ابراہیم خلیل علیہ السلام کا قصہ سنایا کہ جب آپ علیہ السلام اپنے لڑکے اسمٰعیل علیہ السلام کو ذبح کرنے کے لیے مستعد ہو گئے تو شیطان نے کہا اگر میں اس وقت انہیں نہ بہکا سکا تو مجھے ان سے عمر بھر کے لیے مایوس ہو جانا چاہیئے۔ پہلے تو یہ سارہ رضی اللہ عنہا کے پاس آیا اور پوچھا کہ ابراہیم علیہ السلام تمہارے لڑکے کو کہاں لے گئے ہیں؟ مائی صاحبہ رضی اللہ عنہا نے جواب دیا اپنے کسی کام پر لے گئے ہیں، اس نے کہا نہیں بلکہ وہ ذبح کرنے کے لیے لے گئے ہیں۔ مائی صاحبہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا وہ اسے کیوں ذبح کرنے لگے؟ لعین نے کہا وہ کہتے ہیں اللہ کی طرف سے یہی حکم ہے جواب ملا پھر تو یہی بہتر ہے کہ وہ جلدی سے اللہ کے حکم کی بجا آوری سے فارغ ہو لیں۔ یہاں سے نامراد ہو کر بچے کے پاس آیا اور کہا تمہارے ابا تمہیں کہاں لے جاتے ہیں؟ فرمایا اپنے کام کے لیے کہا نہیں بلکہ وہ تجھے ذبح کرنے کے لیے لے جا رہے ہیں، فرمایا یہ کیوں؟ کہا اس لیے کہ وہ سمجھتے ہیں اللہ کا انہیں حکم ہے۔ کہا پھر تو واللہ انہیں اس کام میں بہت جلدی کرنی چاہیئے۔ ان سے بھی مایوس ہو کر یہ ملعون خلیل اللہ علیہ السلام کے پاس پہنچا۔ ان سے کہا بچے کو کہاں لے جا رہے ہو؟ جواب دیا اپنے کام کے لیے ملعون نے کہا نہیں بلکہ تم تو اسے ذبح کرنے کے لیے جا رہے ہو؟ آپ علیہ السلام نے فرمایا یہ کیوں؟ بولا اس لیے کہ تمہارا خیال ہے کہ اللہ کا حکم تمہیں یونہی ہے، آپ علیہ السلام نے فرمایا اللہ کی قسم پھر تو میں ضرور ہی اسے ذبح کر ڈالوں گا۔ اب ابلیس مایوس ہو گیا۔۱؎ [عبد الرزاق فی المصنف:20864:صحیح]
دوسری روایت میں یہ بھی ہے کہ اس تمام واقعے کے بعد جناب باری تعالیٰ نے اسحاق علیہ السلام سے فرمایا کہ ’ ایک دعا تم مجھ سے مانگو جو مانگو گے ملے گا ‘۔ اسحاق علیہ السلام نے کہا ”پھر میری دعا یہ ہے کہ جس نے تیرے ساتھ شریک نہ کیا ہو اسے تو ضرور جنت میں لے جانا۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے { اللہ تعالیٰ نے مجھے اختیار دیا کہ میں دو باتوں میں سے ایک کو اختیار کر لوں یا تو یہ کہ میری آدھوں آدھ امت بخشی جائے یا یہ کہ میں شفاعت کروں اور اسے اللہ تعالیٰ قبول فرما لے تو میں نے شفاعت کرنے کو ترجیح دی اس پر کہ وہ عام ہو گی، ہاں ایک دعا تھی کہ میں وہی کرتا لیکن اللہ کا ایک نیک بندہ مجھ سے پہلے اس دعا کو مانگ چکا تھا }۔ واقعہ یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے اسحاق علیہ السلام سے ذبح ہونے کی تکلیف دور کر دی تو ان سے فرمایا گیا کہ ’ تو مانگ جو مانگے گا دیا جائے گا ‘۔ تو اسحاق علیہ السلام نے فرمایا ”واللہ شیطان کے بہکانے سے پہلے ہی میں اسے مانگ لوں گا، اللہ جو شخص اس حالت میں مرا ہو کہ اس نے تیرے ساتھ کسی کو شریک نہ کیا ہو تو اسے بخش دے اور جنت میں پہنچا دے۔“ ۱؎ [الدر المنشور للسیوطی:531/5:ضعیف] یہ حدیث ابن ابی حاتم میں ہے لیکن سنداً غریب اور منکر ہے اور اس کے ایک راوی عبدالرحمٰن بن زید بن اسلم ضعیف ہیں اور مجھے تو یہ بھی ڈر ہے کہ یہ الفاظ کہ (جب اللہ تعالیٰ نے اسحاق علیہ السلام سے) آخر تک راوی اپنے نہ ہوں جنہیں انہوں نے حدیث میں داخل کر دئیے ہیں۔
ذبیح اللہ تو اسماعیل علیہ السلام ہیں، محل ذبح منیٰ ہے اور وہ مکے میں ہے اور اسماعیل علیہ السلام یہیں تھے نہ کہ اسحاق علیہ السلام وہ تو شہر کنعان میں تھے جو شام ہے۔ جب ابراہیم علیہ السلام اپنے پیارے بچے کو ذبح کرنے کے لیے لٹا دیتے ہیں جناب باری سے ندا آتی ہے کہ ’ بس ابراہیم علیہ السلام تم اپنے خواب کو پورا کر چکے ‘۔ سدی رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ”جب خلیل اللہ علیہ السلام نے ذبیح اللہ علیہ السلام کے حلق پر چھری پھیری تو گردن تانبے کی ہو گئے اور نہ کٹی اور یہ آواز آئی۔“
ہم اسی طرح نیک کاروں کو بدلہ دیتے ہیں۔ یعنی سختیوں سے بچا لیتے ہیں اور چھٹکارا کر دیتے ہیں۔ جیسے فرمایا ’ اللہ سے ڈرتے رہنے والوں کے لیے اللہ تعالیٰ چھٹکارے کی صورت نکال ہی دیتا ہے اور اسے ایسی طرح روزی پہنچاتا ہے کہ اس کے گمان و وہم میں بھی نہ ہو۔ اللہ پر بھروسہ کرنے والوں کو اللہ ہی کافی ہے اللہ اپنے کاموں کو مکمل کر کے چھوڑتا ہے ہرچیز کا اس نے ایک اندازہ مقرر کر رکھا ہے ‘۔ اس آیت سے اس پر استدلال کیا گیا ہے کہ فعل پر قدرت پانے سے پہلے ہی حکم منسوخ ہو سکتا ہے۔
ہاں معتزلہ اسے نہیں مانتے۔ وجہ استدلال بہت ظاہر ہے اس لیے کہ خلیل اللہ علیہ السلام کو اپنے بیٹے کے ذبح کرنے کا حکم ہوتا ہے اور پھر ذبح سے پہلے ہی فدئیے کے ساتھ منسوخ کر دیا جاتا ہے۔ مقصود اس سے یہ تھا کہ صبر کا اور بجا آوری حکم پر مستعدی کا ثواب مرحمت فرما دیا جائے۔ اسی لیے ارشاد ہوا ’ یہ تو صرف ایک آزمائش تھی کھلا امتحان تھا کہ ادھر حکم ہوا ادھر تیاری ہوئی ‘۔ اسی لیے جناب خلیل اللہ علیہ السلام کی تعریف میں قرآن میں ہے ’ ابراہیم بڑا ہی وفادار تھا۔ بڑے ذبیح کے ساتھ ان کا فدیہ ہم نے دیا ‘۔ سفید رنگ بڑی آنکھوں اور بڑے سینگوں والا عمدہ خوراک سے پلا ہوا منیڈھا فدئیے میں دیا گیا جو ثبیر ببول کے درخت سے بندھا ہوا ملا۔ جو جنت میں چالیس سال چرتا رہا۔ منیٰ میں ثبیر کے پاس جو چٹان ہے اس پر یہ جانور ذبح کیا گیا یہ چیختا ہوا اوپر سے اترا تھا۔ یہی وہ مینڈھا ہے جسے ہابیل نے اللہ کی راہ میں قربان کیا تھا۔ اس کی اون قدرے سرخی مائل تھی اس کا نام جریر تھا۔ بعض کہتے ہیں مقام ابراہیم پر اسے ذبح کیا۔ کوئی کہتا ہے مٹی میں نحر پر۔ ایک شخص نے اپنے تئیں راہ اللہ میں ذبح کرنے کی منت مانی تھی تو سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اسے ایک سو اونٹ ذبح کرنے کا فتویٰ دیا تھا لیکن پھر فرماتے تھے کہ ”اگر میں اسے ایک بھیڑ ذبح کرنے کو کہتا تب بھی کافی تھا کیونکہ کتاب اللہ میں ہے کہ ذبیح اللہ کا فدیہ اسی سے دیا گیا تھا۔“ اکثر لوگوں کا یہی قول ہے بعض کہتے ہیں یہ پہاڑی بکرا تھا۔ کوئی کہتا ہے نر ہرن تھا۔ مسند احمد میں ہے کہ { عثمان رضی اللہ عنہ کو بلا کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { میں نے بھیڑ کے سینگ بیت اللہ شریف میں داخلے کے وقت اندر دیکھے تھے اور مجھے یاد نہ رہا کہ میں تجھے ان کے ڈھانک دینے کا حکم دوں، جاؤ اسے ڈھک دو بیت اللہ میں کوئی ایسی چیز نہ ہونی چاہیئے جو نمازی کو اپنی طرف متوجہ کر لے } }۔۱؎ [سنن ابوداود:2030،قال الشيخ الألباني:صحیح] سفیان رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس بھیڑ کے سینگ بیت اللہ میں ہی رہے یہاں تک کہ ایک مرتبہ بیت اللہ میں آگ لگی اس میں وہ جل گئے۔ ۱؎ [سلسلة احادیث صحیحه البانی:23221،] یہ واقعہ بھی اس امر کی دلیل ہے کہ ذبیح اللہ، اسماعیل علیہ السلام تھے اسی وجہ سے ان کی اولاد قریش تک یہ سینگ برابر اور مسلسل چلے آئے یہاں تک کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ نے مبعوث فرمایا۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ ”ان آثار کا بیان جن میں ذبیح اللہ کا نام ہے“ ابومیسرہ فرماتے ہیں یوسف علیہ السلام نے بادشاہ سے فرمایا ”کیا تو میرے ساتھ کھانا چاہتا ہے، میں یوسف بن یعقوب نبی اللہ بن اسحاق ذبیح اللہ بن ابراہیم خلیل اللہ ہوں [ عبید بن عمیر رحمه الله] موسیٰ علیہ السلام نے جناب باری میں عرض کی کہ ”اے اللہ کیا وجہ ہے جو لوگوں کی زبانوں پر یہ چڑھا ہوا ہے کہ ابراہیم، اسمٰعیل اور یعقوب علیہم السلام کے اللہ کی قسم“، تو جواب ملا ’ اس لیے ابراہیم نے تو ہر ہرچیز پر مجھی کو ترجیح دی اور اسحاق علیہ السلام نے اپنے تئیں میری راہ میں ذبح ہونے کے لیے سپرد کر دیا پھر بھلا اور چیزیں اسے پیش کر دینا کیا مشکل تھیں اور یعقوب علیہ السلام کو میں جوں جوں بلاؤں میں ڈالتا گیا اس کے حسن ظنی میرے ساتھ بڑھتی ہی رہی ‘۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے سامنے ایک مرتبہ کسی نے فخراً اپنے باپ دادوں کا نام لیا تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا قابل فخر باپ دادا تو یوسف علیہ السلام کے تھے جو یعقوب بن اسحاق علیہ السلام اور ذبیح اللہ بن ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام تھے۔
عکرمہ، سیدنا ابن عباس، خود سیدنا عباس، سیدنا علی،سعید بن جبیر رضی اللہ عنہم، مجاہد، شعبی، عبید بن عمر، ابومیسرہ، زید بن اسلم، عبداللہ بن شفیق، زہری، قاسم بن ابوبرزہ، محکول، عثمان بن ابی عاص، سدی، حسن، قتادہ، ابو الہذیل، ابن سابط، کعب احبار رحمہم اللہ اجمعین، ان سب کا یہی قول ہے اور ابن جریر رحمہ اللہ بھی اسی کو اختیار کرتے ہیں کہ ذبیح اللہ اسحاق علیہ السلام تھے۔ صحیح علم تو اللہ کو ہی ہے مگر بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ان سب بزرگوں کے استاد کعب احبار رحمہ اللہ ہیں۔ یہ خلافت فاروقی میں مسلمان ہوئے تھے اور کبھی کبھی سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو قدیمی کتابوں کی باتیں سناتے تھے، لوگوں نے اسے رخصت سمجھ کر پھر ان سے ہر ایک بات بیان کرنی شروع کر دی اور صحیح غلط کی تمیز اٹھ گئی حق تو یہ ہے کہ اس امت کو اگلی کتابوں کی ایک بات کی بھی حاجت نہیں۔ بغوی نے کچھ اور نام بھی صحابہ تابعین کے بتلائے ہیں جنہوں نے کہا ہے کہ ذبیح اللہ اسحاق علیہ السلام ہیں۔ ایک مرفوع حدیث میں بھی یہ آیا ہے۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:29495:ضعیف] اگر وہ حدیث صحیح ہوتی تو جھگڑے کا فیصلہ تھا مگر وہ حدیث صحیح نہیں اس میں دو راوی ضعیف ہیں۔ حسن بن دینار متروک ہیں اور علی بن زید بن جدعان منکر الحدیث ہیں اور زیادہ صحیح یہ ہے کہ ہے یہ بھی موقف، چنانچہ ایک سند سے یہ مقولہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کا مروی ہے اور یہی زیادہ ٹھیک ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
اب ان آثار کو سنئے جن سے معلوم ہوتا ہے کہ ذبیح اللہ اسماعیل علیہ السلام ہی تھے اور یہی ٹھیک اور بالکل درست بھی ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما یہی فرماتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ ”یہودی اسحاق علیہ السلام کا نام جھوٹ موٹ لیتے ہیں۔“ ابن عمر رضی اللہ عنہ، مجاہد، شعبی، حسن بصری، محمد بن کعب قرظی، خلیفہ المسلمین عمر ابن عبدالعزیز رحمہ اللہ علیہم کے سامنے جب محمد بن قرظی رحمہ اللہ نے یہ فرمایا اور ساتھ ہی اس کی دلیل بھی دی کہ ”ذبح کے ذکر کے بعد قرآن میں خلیل اللہ علیہ السلام کو اسحاق علیہ السلام کے پیدا ہونے کی بشارت کا ذکر ہے اور ساتھ ہی بیان ہے کہ ان کے ہاں بھی لڑکا ہو گا یعقوب نامی جب ان کے ہاں لڑکا ہونے کی بشارت دی گی تھی پھر باوجود ان کے ہاں لڑکا نہ ہوں کے اس سے پہلے ہی ان کے ذبح کرنے کا حکم کیسے دیا جاتا ہے؟“
تو سیدنا عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے فرمایا ”یہ بہت صاف دلیل ہے میرا ذہن یہاں نہیں پہنچا تھا گو یہ میں بھی جانتا تھا کہ ذبیح اللہ اسماعیل علیہ السلام ہی ہیں۔“ پھر شاہ اسلام نے شام کے ایک یہودی عالم سے پوچھا جو مسلمان ہو گئے تھے کہ تم اس بارے میں کیا علم رکھتے ہو انہوں نے فرمایا امیر المسلمین سچ تو یہی ہے کہ جن کے ذبح کرنے کا حکم دیا گیا وہ اسماعیل علیہ السلام ہی تھے لیکن چونکہ عرب ان کی اولاد میں سے ہیں تو یہ بزرگی ان کی طرف لوٹتی ہے اس حسد کے بارے میں یہودیوں نے اسے بدل دیا اور اسحاق علیہ السلام کا نام لے دیا۔ حقیقی علم اللہ ہی کو ہے ہمارا ایمان ہے کہ اسماعیل، اسحاق علیہم السلام دونوں ہی طاہر و طیب اور اللہ کے سچے فرمانبردار تھے۔ کتاب الزہد میں ہے کہ امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کے صاحبزادے عبداللہ رحمہ اللہ نے اپنے والد سے جب یہ مسئلہ پوچھا تو آپ نے جواب دیا کہ ”ذبح ہونے والے اسماعیل علیہ السلام ہی تھے۔“ علی ابن عمر، ابوالطفیل، سعید بن مسیب، سعید بن جبیر، حسن، مجاہد، شعبی، محمد بن کعب، ابوجعفر محمد بن علی ابوصالح رحمہ اللہ عنہم سے بھی یہی مروی ہے۔
امام بغوی رحمہ اللہ نے اور بھی صحابہ رضی اللہ عنہم اور تابعین کے نام گنوائے ہیں۔ ایک غریب حدیث بھی اسی کی تائید میں مروی ہے اس میں ہے کہ { شام میں امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے سامنے یہ بحث چھڑی کہ ذبیح اللہ کون ہیں؟ تو آپ نے فرمایا خوب ہوا جو یہ معاملہ مجھ جیسے باخبر شخص کے پاس آیا، سنو! ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھے جب ایک شخص آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا اے اللہ کی راہ میں دو ذبح ہونے والوں کی نسل کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم مجھے بھی مال غنیمت میں سے کچھ دلوایئے اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہنس دیئے۔ ایک تو ذبیح اللہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے والد عبداللہ تھے، دوسرے اسمعیل علیہ السلام جن کی نسل میں سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ عبداللہ کے ذبیح اللہ ہونے کا واقعہ یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دادا عبدالمطلب نے جب چاہ زمزم کھودا تو نذر مانی تھی کی اگر یہ کام آسانی سے پورا ہو گیا تو اپنے ایک لڑکے کو راہ اللہ میں ذبح کروں گا جب کام ہو گیا اور قرعہ اندازی کی گئی کہ کس بیٹے کو اللہ کے نام پر ذبح کریں تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے والد عبداللہ کا نام نکلا۔ ان کے ننھیال والوں نے کہا آپ ان کی طرف سے ایک سو اونٹ راہ اللہ ذبح کر دیں چنانچہ وہ ذبح کر دیئے گئے اور اسماعیل علیہ السلام کے ذبیح اللہ ہونے کا واقعہ تو مشہور ہی ہے }۔۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:29530:ضعیف] ابن جریر میں یہ روایت موجود ہے اور مغازی امویہ میں بھی۔
امام ابن جریر رحمہ اللہ نے اسحاق علیہ السلام کے ذبیح اللہ ہونے کی ایک دلیل تو یہ پیش کی یہ کہ جس علیم بچے کی بشارت کا ذکر ہے اس سے مراد اسحاق علیہ السلام ہیں قرآن میں اور جگہ ہے «قَالُوا لَا تَخَفْ وَبَشَّرُوهُ بِغُلَامٍ عَلِيمٍ» ۱؎ [51-الذاريات:28] ، اور یعقوب علیہ السلام کی بشارت کا یہ جواب دیا ہے کہ وہ آپ کے ساتھ چلنے پھرنے کی عمر کو پہنچ گئے تھے اور ممکن ہے کہ یعقوب علیہ السلام کے ساتھ ہی کوئی اور اولاد بھی ہوئی ہو اور کعبتہ اللہ میں سینگوں کی موجودگی کے بارے میں فرماتے ہیں بہت ممکن ہے کہ یہ بلادکنعان سے لا کر یہاں رکھے گئے ہوں۔“ اور بعض لوگوں سے اسحاق علیہ السلام کے نام کی صراحت بھی آئی ہے، لیکن یہ سب باتیں حقیقت سے بہت دور ہیں۔ ہاں اسماعیل علیہ السلام کے ذبیح اللہ ہونے پر محمد بن کعب قرظی رحمہ اللہ کا استدلال بہت صاف اور قوی ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ پہلے ذبیح اللہ اسمعیل علیہ السلام کے تولد ہونے کی بشارت دی گئی تھی یہاں اس کے بعد ان کے بھائی اسحاق علیہ السلام کی بشارت دی جا رہی ہے۔ سورۃ ہود اور سورۃ الحجر میں بھی اس کا ذکر گذر چکا ہے۔ «نبیاً» حال مقدرہ ہے یعنی وہ نبی صالح ہو گا۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ذبیح اللہ اسحاق علیہ السلام تھے اور یہاں نبوت اسحاق علیہ السلام کو بشارت ہے۔ جیسے موسیٰ علیہ السلام کے بارے میں فرمان ہے کہ ’ ہم نے انہیں اپنی رحمت سے ان کے بھائی ہارون کو نبی بنا دیا ‘۔ حالانکہ ہارون علیہ السلام موسیٰ علیہ السلام سے بڑے تھے تو یہاں بھی ان کی نبوت کی بشارت ہے۔ پس یہ بشارت اس وقت دی گئی جبکہ امتحان ذبح میں وہ صابر ثابت ہوئے۔ یہ بھی مروی ہے کہ یہ بشارت دو مرتبہ دی گئی پیدائش سے کچھ قبل اور نبوت سے کچھ قبل۔
حضرت قتادہ رحمہ اللہ سے بھی یہی مروی ہے۔ ’ ان پر اور اسحاق علیہ السلام پر ہماری برکتیں ہم نے نازل فرمائیں، ان کی اولاد میں ہر قسم کے لوگ ہیں نیک بھی بد بھی ‘۔ جیسے نوح علیہ السلام سے فرمان ہوا تھا کہ «قِيلَ يَا نُوحُ اهْبِطْ بِسَلَامٍ مِّنَّا وَبَرَكَاتٍ عَلَيْكَ وَعَلَىٰ أُمَمٍ مِّمَّن مَّعَكَ وَأُمَمٌ سَنُمَتِّعُهُمْ ثُمَّ يَمَسُّهُم مِّنَّا عَذَابٌ أَلِيمٌ» ’ اے نوح ہماری سلام اور برکت کے ساتھ تواتر۔ تو بھی اور تیرے ساتھ والے بھی اور ایسے بھی لوگ ہیں جنہیں ہم فائدے پہنچائیں گے پھر انہیں ہماری طرف سے درد ناک عذاب پہنچیں گے ‘۔۱؎ [11-هود:48]
112۔ 1 حضرت ابراہیم ؑ کے مذکورہ واقعے کے بعد اب ایک بیٹے اسحاق ؑ کی اور اس کے نبی ہونے کی خوشخبری دینے سے معلوم ہوتا ہے کہ اس سے پہلے جس بیٹے کو ذبح کرنے کا حکم دیا گیا تھا، وہ اسماعیل ؑ تھے۔ جو اس وقت ابراہیم ؑ کے اکلوتے بیٹے تھے اسحاق ؑ کی ولادت ان کے بعد ہوئی ہے۔ مفسرین کے درمیان اس کی بابت اختلاف۔ ہے کہ ذبیح کون ہے، اسماعیل ؑ یا اسحاق ؑ؟ امام ابن جریر نے حضرت اسحاق ؑ کو اور ابن کثیر اور اکثر مفسرین نے حضرت اسماعیل ؑ کو ذبیح قرار دیا ہے اور یہی بات صحیح ہے۔ امام شوکانی نے اس میں تو قف اختیار کیا (تفصیل کے لئے دیکھئے تفسیر فتح القدیر اور تفسیر ابن کثیر
(آیت 112) {وَ بَشَّرْنٰهُ بِاِسْحٰقَ نَبِيًّا مِّنَ الصّٰلِحِيْنَ:} اہلِ کتاب کا کہنا ہے کہ ذبح کا یہ واقعہ اسماعیل علیہ السلام کے ساتھ نہیں بلکہ اسحاق علیہ السلام کے ساتھ پیش آیا۔ بعض مسلم مفسرین نے بھی یہی بات کہی ہے، مگر یہ درست نہیں، کیونکہ یہاں اللہ تعالیٰ نے ابراہیم علیہ السلام کی دعا سے ملنے والے بیٹے کو ذبح کرنے کے حکم کے ساتھ آزمائش کے بعد اسحاق علیہ السلام کی خوش خبری کا ذکر فرمایا اور اس بات پر مسلمانوں کا اور اہلِ کتاب کا اتفاق ہے کہ اسماعیل علیہ السلام پہلے پیدا ہوئے تھے۔ ایک اور نہایت مضبوط دلیل اس کی یہ ہے کہ جب فرشتوں نے ابراہیم علیہ السلام کی بیوی کو اسحاق علیہ السلام کی خوش خبری دی تو اس کے ساتھ ہی فرمایا: «وَ مِنْ وَّرَآءِ اِسْحٰقَ يَعْقُوْبَ» [ ھود: ۷۱ ] کہ اسحاق(علیہ السلام) کے بعد ان کے بیٹے یعقوب(علیہ السلام) ہوں گے، ظاہر ہے یہ وہ بیٹا ہو ہی نہیں سکتا جسے دوڑ دھوپ کی عمر کو پہنچتے ہی ذبح کا حکم دیا جانے والا تھا، کیونکہ ان کے متعلق تو اتنی عمر تک زندہ رہنے کی بشارت تھی کہ پورے جوان ہو کر ان کی شادی ہو گی، پھر اولاد ہو گی۔ اس کے علاوہ تورات میں اکلوتے بیٹے کی قربانی کا ذکر ہے (دیکھیے پیدائش:۲۲۔۲) اور اس بات پر سب کا اتفاق ہے کہ اکلوتے بیٹے اسماعیل علیہ السلام تھے۔ اس کے باوجود اہلِ کتاب نے تحریف کر کے اسحاق علیہ السلام کو ذبیح لکھ دیا۔ پھر اس مینڈھے کے سینگوں کا کعبہ میں مدت تک رہنا بھی اس بات کی دلیل ہے کہ یہ واقعہ مکہ میں ہوا۔ اگر یہ واقعہ اسحاق علیہ السلام سے متعلق ہوتا تو شام میں ہوتا، مکہ سے اس کا تعلق نہ ہوتا۔
اور اسے اور اسحاقؑ کو برکت دی اب ان دونوں کی ذریّت میں سے کوئی محسن ہے اور کوئی اپنے نفس پر صریح ظلم کرنے والا ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
اور ہم نے ابراہیم واسحاق (علیہ السلام) پر برکتیں نازل فرمائیں، اور ان دونوں کی اوﻻد میں بعضے تو نیک بخت ہیں اور بعض اپنے نفس پر صریح ﻇلم کرنے والے ہیں
احمد رضا خان بریلوی
اور ہم نے برکت اتاری اس پر اور اسحاق پر اور ان کی اولاد میں کوئی اچھا کام کرنے والا اور کوئی اپنی جان پر صریح ظلم کرنے والا
علامہ محمد حسین نجفی
اور ہم نے انہیں اور اسحاق(ع) کو برکت عطا کی اور ان دونوں کی اولاد میں سے نیوکار بھی ہوں گے اور اپنے نفس پر کھلا ظلم کرنے والے بھی۔
عبدالسلام بن محمد
اور ہم نے اس پر اور اسحاق پر برکت نازل کی اور ان دونوں کی اولاد میں سے کوئی نیکی کرنے والا ہے اور کوئی اپنے آپ پر صریح ظلم کرنے والا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
ذبیح اللہ کی بحث اور یہودی روایات ٭٭
خلیل اللہ علیہ السلام جب اپنی قوم کی ہدایت سے مایوس ہو گئے، بڑی بڑی قدرتی نشانیاں دیکھ کر بھی جب انہیں ایمان نصیب نہ ہوا تو آپ علیہ السلام نے ان سے ہٹ جانا پسند فرمایا اور اعلان کر دیا کہ میں اب تم میں سے ہجرت کرجاؤں گا میرا رہنما میرا رب ہے۔ ساتھ ہی اپنے رب سے اپنے ہاں اولاد ہونے کی دعا مانگی تاکہ وہی توحید میں آپ علیہ السلام کا ساتھ دے۔ اسی وقت دعا قبول ہوتی ہے اور ایک بردبار بچے کی بشارت دی جاتی۔ یہ اسماعیل علیہ السلام تھے یہی آپ علیہ السلام کے لیے صاحبزادے تھے اور اسحاق علیہ السلام سے بڑے تھے۔ اسے تو اہل کتاب بھی مانتے ہیں بلکہ ان کی کتب میں موجود ہے کہ اسماعیل علیہ السلام کی پیدائش کے وقت ابراہیم علیہ السلام کی عمر چھیاسی سال کی تھی اور جس وقت اسحاق علیہ السلام تولد ہوتے ہیں اس وقت آپ علیہ السلام کی عمر ننانوے برس کی تھی۔ بلکہ ان کی اپنی کتاب میں تو یہ بھی ہے کہ جناب ابراہیم علیہ السلام کو اپنے اکلوتے فرزند کو ذبح کرنے کا حکم ہوا تھا۔ لیکن صرف اس لیے کہ یہ لوگ خود تو نبی اللہ اسحاق علیہ السلام کی اولاد میں سے ہیں اور نبی اللہ و ذبیح اللہ اسماعیل علیہ السلام کی اولاد میں سے عرب ہیں۔ انہی نے واقعہ کی اصلیت بدل دی اور اس فضیلت کو اسماعیل علیہ السلام سے ہٹاکر اسحاق علیہ السلام کو دے دیا اور بے جا تاویلیں کرتے اللہ کے کلام کو بدل ڈالا، اور کہا ہماری کتاب میں لفظ «وَحِیْدَكَ» ہے اس سے مراد اکلوتا نہیں بلکہ جو تیرے پاس اس وقت اکیلا ہے وہ ہے۔ یہ اس لیے کہ اسماعیل تو اپنی والدہ کے ساتھ مکے میں تھے یہاں خلیل اللہ کے ساتھ صرف اسحاق تھے۔ لیکن یہ بالکل غلط ہے۔ وحید اسی کو کہا جاتا ہے جو اکلوتا ہو اس کا اور کوئی بھائی نہ ہو۔ پھر یہاں ایک بات اور بھی ہے کہ اکلوتے اور پہلوٹھی کے بچے کے ساتھ جو محبت ہوتی اور اس کے جو لاڈ پیار ہوتے ہیں عموماً دوسری اولاد کے ہونے پر پھر وہ باقی نہیں رہتے۔ اس لیے اس کے ذبیحہ کا حکم امتحان اور آزمائش کی زبردست کڑی ہے۔
ہم اسے مانتے ہیں کہ بعض سلف بھی اس کے قائل ہوئے ہیں کہ ذبیح اللہ اسحاق علیہ السلام تھے، یہاں تک کہ بعض صحابہ رضی اللہ عنہم سے بھی یہ مروی ہے لیکن یہ چیز کتاب و سنت سے ثابت نہیں ہوتی۔ بلکہ خیال یہ ہے کہ بنو اسرائیل کی ایک شہرت دی ہوئی بات کو ان حضرات نے بھی بے دلیل اپنے ہاں لے لیا۔ دور کیوں جائیں کتاب اللہ کے الفاظ میں ہی غور کر لیجئیے کہ اسمٰعیل علیہ السلام کی بشارت کا ”غلام حلیم“ کہہ کر ذکر ہوا اور پھر اللہ کی راہ میں ذبح کے لیے تیار ہونے کا ذکر ہوا۔ اس تمام بیان کو ختم کر کے پھر نبی صالح اسحاق علیہ السلام کے تولد کی بشارت کا بیان ہوا۔ اور فرشتوں نے بشارت اسحاق کے موقع پر ”غلام علیم“ فرمایا تھا۔ اسی طرح قرآن میں ہے بشارت اسحاق علیہ السلام کے ساتھ ہی ہے «وَمِنْ وَّرَاءِ اِسْحٰقَ يَعْقُوْبَ» ۱؎ [11-ھود:71] یعنی ’ ابراہیم کی حیات میں ہی اسحاق کے ہاں یعقوب پیدا ہوں گے ‘، یعنی ان کی تو نسل جاری رہنے کا پہلے ہی علم کرایا جا چکا تھا اب انہیں ذبح کرنے کا حکم کیسے دیا جاتا؟ اسے ہم پہلے بھی بیان کر چکے۔ البتہ اسماعیل علیہ السلام کا وصف یہاں پر بردباری کا بیان کیا گیا ہے۔ جو ذبیح کے لیے نہایت مناسب ہے۔
اب اسماعیل علیہ السلام بڑے ہو گئے اپنے والد کے ساتھ چلنے پھرنے کے قابل ہو گئے۔ آپ علیہ السلام اس وقت مع اپنی والدہ محترمہ کے فاران میں تھے ابراہیم علیہ السلام عموماً وہاں جاتے آتے رہتے تھے یہ مذکور ہے کہ براق پر جاتے تھے اور اس جملے کے یہ معنی بھی ہیں کہ جوانی کے لگ بھگ ہو گئے لڑکپن کا زمانہ نکل گیا اور باپ کی طرح چلنے پھرنے کام کاج کرنے کے قابل بن گئے تو ابراہیم علیہ السلام نے خواب دیکھا کہ گویا آپ علیہ السلام اپنے پیارے بچے کو ذبح کر رہے ہیں۔ انبیاء کے خواب وحی ہوتے ہیں اور اس کی دلیل یہی آیت ہے۔ ایک مرفوع روایت میں بھی یہ ہے۔ ۱؎ [صحیح بخاری:138] پس اللہ کے رسول علیہ السلام نے اپنے لخت جگر کی آزمائش کے لیے کہ اچانک وہ گھبرا نہ اٹھے، اپنا ارادہ ان کے سامنے ظاہر کیا۔ وہاں کیا تھا۔ وہ بھی اسی درخت کے پھل تھے نبی ابن نبی علیہ السلام تھے جواب دیتے ہیں اب پھر دیر کیوں لگا رہے ہو یہ باتیں بھی پوچھنے کی ہوتی ہیں جو حکم ہوا ہے اسے فوراً کر ڈالیے اور اگر میری نسبت کھٹکا ہو تو زبانی اطمینانی کیا کروں چھری رکھئے خود معلوم ہو جائے گا کہ میں کیسا کچھ صابر ہوں۔ ان شاءاللہ میرا صبر آپ کا جی خوش کر دے گا۔ سبحان اللہ جو کہا تھا وہی کر کے دکھایا اور صادق الوعد ہونے کا سرٹیفیکیٹ اللہ کی طرف سے حاصل کر ہی لیا۔ آخر باپ بیٹا دونوں حکم اللہ کی اطاعت کے لیے جان بکف تیار ہو جاتے ہیں باپ بچے کو ذبح کرنے کے لیے تیار ہو جاتا ہے۔ اور باپ اپنے نور چشم لخت جگر کو منہ کے بل زمین پر گراتے ہیں تاکہ ذبح کے وقت منہ دیکھ کر محبت نہ آ جائے اور ہاتھ سست نہ پڑ جائے۔
مسند احمد میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ”جب ابراہیم علیہ السلام اپنی نور نظر کو ذبح کرنے کے لیے بحکم اللہ لے چلے تو سعی کے وقت شیطان سامنے آیا لیکن ابراہیم علیہ السلام اس سے آگے بڑھ گئے، پھر جبرائیل علیہ السلام کے ساتھ آپ جمرہ عقبہ پر پہنچے تو پھر شیطان سامنے آیا، آپ علیہ السلام نے اسے سات کنکریاں ماریں۔“ ”پھر جمرہ وسطی پاس آیا پھر وہاں سات کنکریاں ماریں۔ پھر آگے بڑھ کر اپنے پیارے بچے کو اللہ کے نام پر ذبح کرنے کے لیے نیچے پچھاڑا، ذبیح اللہ کے پاک جسم پر اس وقت سفید چادر تھی کہنے لگے ابا جی اسے اتار لیجئیے تاکہ اس میں آپ مجھے کفنا سکیں۔ اس وقت بیٹے کو ننگا کرتے وقت باپ کا عجب حال تھا کہ آواز آئی بس ابراہیم خواب کو سچا کر چکے۔ مڑ کر دیکھا تو ایک مینڈا سفید رنگ کا بڑے بڑے سینگوں اور صاف آنکھوں والا نظر پڑا، ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں اسی لیے ہم اس قسم کے مینڈے (چھترے) چن چن کر قربانی کے لیے لیتے تھے۔“
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما ہی سے دوسری روایت میں اسحاق علیہ السلام کا نام مروی ہے۔ تو گو دونوں نام آپ رضی اللہ عنہما سے مروی ہیں لیکن اول ہی اولیٰ ہے اور اس کی دلیلیں آ رہی ہیں۔ ان شاءاللہ تعالیٰ۔ اس کے بدلے بڑا ذبیحہ، اللہ نے عطا فرمایا اس کی بابت سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”یہ جنتی چھترا تھا جو وہاں چالیس سال سے کھا پی رہا تھا۔“ اسے دیکھ کر آپ علیہ السلام اپنے بچے کو چھوڑ کر اس کے پیچھے ہولیے۔ جمرہ اولیٰ پر آ کر سات کنکریاں پھنکیں پھر وہ بھاگ کر جمرہ وسطی پر آ گیا۔ سات کنکریاں ماریں اور وہاں سے ملخر میں لا کر ذبح کیا اس کے سینگ سر سمیت ابتداء اسلام کے زمانہ تک کعبے کے پرنالے کے پاس لٹکتے رہے تھے پھر سوکھ گئے۔ ایک مرتبہ سیدنا کعب رضی اللہ عنہ بیٹھے ہوئے باتیں کر رہے تھے۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ تو حدیثیں بیان کر رہے تھے اور کعب رضی اللہ عنہ کتاب کے قصے بیان کر رہے تھے۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ { ہر نبی کے لیے ایک دعا قبول شدہ ہے اور میں نے اپنی اس مقبول دعا کو پوشیدہ کر کے رکھ چھوڑا ہے اپنی امت کی شفاعت کے لئے جو بروز قیامت ہوگی}، تو سیدنا کعب رضی اللہ عنہ نے فرمایا تم نے خود اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے؟ فرمایا ہاں۔ سیدنا کعب رضی اللہ عنہ خوش ہوئے اور فرمانے لگے تم پر میرے ماں باپ فدا ہوں یا فرمایا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر میرے ماں باپ صدقے جائیں۔
پھر کعب رضی اللہ عنہ نے ابراہیم خلیل علیہ السلام کا قصہ سنایا کہ جب آپ علیہ السلام اپنے لڑکے اسمٰعیل علیہ السلام کو ذبح کرنے کے لیے مستعد ہو گئے تو شیطان نے کہا اگر میں اس وقت انہیں نہ بہکا سکا تو مجھے ان سے عمر بھر کے لیے مایوس ہو جانا چاہیئے۔ پہلے تو یہ سارہ رضی اللہ عنہا کے پاس آیا اور پوچھا کہ ابراہیم علیہ السلام تمہارے لڑکے کو کہاں لے گئے ہیں؟ مائی صاحبہ رضی اللہ عنہا نے جواب دیا اپنے کسی کام پر لے گئے ہیں، اس نے کہا نہیں بلکہ وہ ذبح کرنے کے لیے لے گئے ہیں۔ مائی صاحبہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا وہ اسے کیوں ذبح کرنے لگے؟ لعین نے کہا وہ کہتے ہیں اللہ کی طرف سے یہی حکم ہے جواب ملا پھر تو یہی بہتر ہے کہ وہ جلدی سے اللہ کے حکم کی بجا آوری سے فارغ ہو لیں۔ یہاں سے نامراد ہو کر بچے کے پاس آیا اور کہا تمہارے ابا تمہیں کہاں لے جاتے ہیں؟ فرمایا اپنے کام کے لیے کہا نہیں بلکہ وہ تجھے ذبح کرنے کے لیے لے جا رہے ہیں، فرمایا یہ کیوں؟ کہا اس لیے کہ وہ سمجھتے ہیں اللہ کا انہیں حکم ہے۔ کہا پھر تو واللہ انہیں اس کام میں بہت جلدی کرنی چاہیئے۔ ان سے بھی مایوس ہو کر یہ ملعون خلیل اللہ علیہ السلام کے پاس پہنچا۔ ان سے کہا بچے کو کہاں لے جا رہے ہو؟ جواب دیا اپنے کام کے لیے ملعون نے کہا نہیں بلکہ تم تو اسے ذبح کرنے کے لیے جا رہے ہو؟ آپ علیہ السلام نے فرمایا یہ کیوں؟ بولا اس لیے کہ تمہارا خیال ہے کہ اللہ کا حکم تمہیں یونہی ہے، آپ علیہ السلام نے فرمایا اللہ کی قسم پھر تو میں ضرور ہی اسے ذبح کر ڈالوں گا۔ اب ابلیس مایوس ہو گیا۔۱؎ [عبد الرزاق فی المصنف:20864:صحیح]
دوسری روایت میں یہ بھی ہے کہ اس تمام واقعے کے بعد جناب باری تعالیٰ نے اسحاق علیہ السلام سے فرمایا کہ ’ ایک دعا تم مجھ سے مانگو جو مانگو گے ملے گا ‘۔ اسحاق علیہ السلام نے کہا ”پھر میری دعا یہ ہے کہ جس نے تیرے ساتھ شریک نہ کیا ہو اسے تو ضرور جنت میں لے جانا۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے { اللہ تعالیٰ نے مجھے اختیار دیا کہ میں دو باتوں میں سے ایک کو اختیار کر لوں یا تو یہ کہ میری آدھوں آدھ امت بخشی جائے یا یہ کہ میں شفاعت کروں اور اسے اللہ تعالیٰ قبول فرما لے تو میں نے شفاعت کرنے کو ترجیح دی اس پر کہ وہ عام ہو گی، ہاں ایک دعا تھی کہ میں وہی کرتا لیکن اللہ کا ایک نیک بندہ مجھ سے پہلے اس دعا کو مانگ چکا تھا }۔ واقعہ یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے اسحاق علیہ السلام سے ذبح ہونے کی تکلیف دور کر دی تو ان سے فرمایا گیا کہ ’ تو مانگ جو مانگے گا دیا جائے گا ‘۔ تو اسحاق علیہ السلام نے فرمایا ”واللہ شیطان کے بہکانے سے پہلے ہی میں اسے مانگ لوں گا، اللہ جو شخص اس حالت میں مرا ہو کہ اس نے تیرے ساتھ کسی کو شریک نہ کیا ہو تو اسے بخش دے اور جنت میں پہنچا دے۔“ ۱؎ [الدر المنشور للسیوطی:531/5:ضعیف] یہ حدیث ابن ابی حاتم میں ہے لیکن سنداً غریب اور منکر ہے اور اس کے ایک راوی عبدالرحمٰن بن زید بن اسلم ضعیف ہیں اور مجھے تو یہ بھی ڈر ہے کہ یہ الفاظ کہ (جب اللہ تعالیٰ نے اسحاق علیہ السلام سے) آخر تک راوی اپنے نہ ہوں جنہیں انہوں نے حدیث میں داخل کر دئیے ہیں۔
ذبیح اللہ تو اسماعیل علیہ السلام ہیں، محل ذبح منیٰ ہے اور وہ مکے میں ہے اور اسماعیل علیہ السلام یہیں تھے نہ کہ اسحاق علیہ السلام وہ تو شہر کنعان میں تھے جو شام ہے۔ جب ابراہیم علیہ السلام اپنے پیارے بچے کو ذبح کرنے کے لیے لٹا دیتے ہیں جناب باری سے ندا آتی ہے کہ ’ بس ابراہیم علیہ السلام تم اپنے خواب کو پورا کر چکے ‘۔ سدی رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ”جب خلیل اللہ علیہ السلام نے ذبیح اللہ علیہ السلام کے حلق پر چھری پھیری تو گردن تانبے کی ہو گئے اور نہ کٹی اور یہ آواز آئی۔“
ہم اسی طرح نیک کاروں کو بدلہ دیتے ہیں۔ یعنی سختیوں سے بچا لیتے ہیں اور چھٹکارا کر دیتے ہیں۔ جیسے فرمایا ’ اللہ سے ڈرتے رہنے والوں کے لیے اللہ تعالیٰ چھٹکارے کی صورت نکال ہی دیتا ہے اور اسے ایسی طرح روزی پہنچاتا ہے کہ اس کے گمان و وہم میں بھی نہ ہو۔ اللہ پر بھروسہ کرنے والوں کو اللہ ہی کافی ہے اللہ اپنے کاموں کو مکمل کر کے چھوڑتا ہے ہرچیز کا اس نے ایک اندازہ مقرر کر رکھا ہے ‘۔ اس آیت سے اس پر استدلال کیا گیا ہے کہ فعل پر قدرت پانے سے پہلے ہی حکم منسوخ ہو سکتا ہے۔
ہاں معتزلہ اسے نہیں مانتے۔ وجہ استدلال بہت ظاہر ہے اس لیے کہ خلیل اللہ علیہ السلام کو اپنے بیٹے کے ذبح کرنے کا حکم ہوتا ہے اور پھر ذبح سے پہلے ہی فدئیے کے ساتھ منسوخ کر دیا جاتا ہے۔ مقصود اس سے یہ تھا کہ صبر کا اور بجا آوری حکم پر مستعدی کا ثواب مرحمت فرما دیا جائے۔ اسی لیے ارشاد ہوا ’ یہ تو صرف ایک آزمائش تھی کھلا امتحان تھا کہ ادھر حکم ہوا ادھر تیاری ہوئی ‘۔ اسی لیے جناب خلیل اللہ علیہ السلام کی تعریف میں قرآن میں ہے ’ ابراہیم بڑا ہی وفادار تھا۔ بڑے ذبیح کے ساتھ ان کا فدیہ ہم نے دیا ‘۔ سفید رنگ بڑی آنکھوں اور بڑے سینگوں والا عمدہ خوراک سے پلا ہوا منیڈھا فدئیے میں دیا گیا جو ثبیر ببول کے درخت سے بندھا ہوا ملا۔ جو جنت میں چالیس سال چرتا رہا۔ منیٰ میں ثبیر کے پاس جو چٹان ہے اس پر یہ جانور ذبح کیا گیا یہ چیختا ہوا اوپر سے اترا تھا۔ یہی وہ مینڈھا ہے جسے ہابیل نے اللہ کی راہ میں قربان کیا تھا۔ اس کی اون قدرے سرخی مائل تھی اس کا نام جریر تھا۔ بعض کہتے ہیں مقام ابراہیم پر اسے ذبح کیا۔ کوئی کہتا ہے مٹی میں نحر پر۔ ایک شخص نے اپنے تئیں راہ اللہ میں ذبح کرنے کی منت مانی تھی تو سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اسے ایک سو اونٹ ذبح کرنے کا فتویٰ دیا تھا لیکن پھر فرماتے تھے کہ ”اگر میں اسے ایک بھیڑ ذبح کرنے کو کہتا تب بھی کافی تھا کیونکہ کتاب اللہ میں ہے کہ ذبیح اللہ کا فدیہ اسی سے دیا گیا تھا۔“ اکثر لوگوں کا یہی قول ہے بعض کہتے ہیں یہ پہاڑی بکرا تھا۔ کوئی کہتا ہے نر ہرن تھا۔ مسند احمد میں ہے کہ { عثمان رضی اللہ عنہ کو بلا کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { میں نے بھیڑ کے سینگ بیت اللہ شریف میں داخلے کے وقت اندر دیکھے تھے اور مجھے یاد نہ رہا کہ میں تجھے ان کے ڈھانک دینے کا حکم دوں، جاؤ اسے ڈھک دو بیت اللہ میں کوئی ایسی چیز نہ ہونی چاہیئے جو نمازی کو اپنی طرف متوجہ کر لے } }۔۱؎ [سنن ابوداود:2030،قال الشيخ الألباني:صحیح] سفیان رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس بھیڑ کے سینگ بیت اللہ میں ہی رہے یہاں تک کہ ایک مرتبہ بیت اللہ میں آگ لگی اس میں وہ جل گئے۔ ۱؎ [سلسلة احادیث صحیحه البانی:23221،] یہ واقعہ بھی اس امر کی دلیل ہے کہ ذبیح اللہ، اسماعیل علیہ السلام تھے اسی وجہ سے ان کی اولاد قریش تک یہ سینگ برابر اور مسلسل چلے آئے یہاں تک کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ نے مبعوث فرمایا۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ ”ان آثار کا بیان جن میں ذبیح اللہ کا نام ہے“ ابومیسرہ فرماتے ہیں یوسف علیہ السلام نے بادشاہ سے فرمایا ”کیا تو میرے ساتھ کھانا چاہتا ہے، میں یوسف بن یعقوب نبی اللہ بن اسحاق ذبیح اللہ بن ابراہیم خلیل اللہ ہوں [ عبید بن عمیر رحمه الله] موسیٰ علیہ السلام نے جناب باری میں عرض کی کہ ”اے اللہ کیا وجہ ہے جو لوگوں کی زبانوں پر یہ چڑھا ہوا ہے کہ ابراہیم، اسمٰعیل اور یعقوب علیہم السلام کے اللہ کی قسم“، تو جواب ملا ’ اس لیے ابراہیم نے تو ہر ہرچیز پر مجھی کو ترجیح دی اور اسحاق علیہ السلام نے اپنے تئیں میری راہ میں ذبح ہونے کے لیے سپرد کر دیا پھر بھلا اور چیزیں اسے پیش کر دینا کیا مشکل تھیں اور یعقوب علیہ السلام کو میں جوں جوں بلاؤں میں ڈالتا گیا اس کے حسن ظنی میرے ساتھ بڑھتی ہی رہی ‘۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے سامنے ایک مرتبہ کسی نے فخراً اپنے باپ دادوں کا نام لیا تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا قابل فخر باپ دادا تو یوسف علیہ السلام کے تھے جو یعقوب بن اسحاق علیہ السلام اور ذبیح اللہ بن ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام تھے۔
عکرمہ، سیدنا ابن عباس، خود سیدنا عباس، سیدنا علی،سعید بن جبیر رضی اللہ عنہم، مجاہد، شعبی، عبید بن عمر، ابومیسرہ، زید بن اسلم، عبداللہ بن شفیق، زہری، قاسم بن ابوبرزہ، محکول، عثمان بن ابی عاص، سدی، حسن، قتادہ، ابو الہذیل، ابن سابط، کعب احبار رحمہم اللہ اجمعین، ان سب کا یہی قول ہے اور ابن جریر رحمہ اللہ بھی اسی کو اختیار کرتے ہیں کہ ذبیح اللہ اسحاق علیہ السلام تھے۔ صحیح علم تو اللہ کو ہی ہے مگر بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ان سب بزرگوں کے استاد کعب احبار رحمہ اللہ ہیں۔ یہ خلافت فاروقی میں مسلمان ہوئے تھے اور کبھی کبھی سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو قدیمی کتابوں کی باتیں سناتے تھے، لوگوں نے اسے رخصت سمجھ کر پھر ان سے ہر ایک بات بیان کرنی شروع کر دی اور صحیح غلط کی تمیز اٹھ گئی حق تو یہ ہے کہ اس امت کو اگلی کتابوں کی ایک بات کی بھی حاجت نہیں۔ بغوی نے کچھ اور نام بھی صحابہ تابعین کے بتلائے ہیں جنہوں نے کہا ہے کہ ذبیح اللہ اسحاق علیہ السلام ہیں۔ ایک مرفوع حدیث میں بھی یہ آیا ہے۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:29495:ضعیف] اگر وہ حدیث صحیح ہوتی تو جھگڑے کا فیصلہ تھا مگر وہ حدیث صحیح نہیں اس میں دو راوی ضعیف ہیں۔ حسن بن دینار متروک ہیں اور علی بن زید بن جدعان منکر الحدیث ہیں اور زیادہ صحیح یہ ہے کہ ہے یہ بھی موقف، چنانچہ ایک سند سے یہ مقولہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کا مروی ہے اور یہی زیادہ ٹھیک ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
اب ان آثار کو سنئے جن سے معلوم ہوتا ہے کہ ذبیح اللہ اسماعیل علیہ السلام ہی تھے اور یہی ٹھیک اور بالکل درست بھی ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما یہی فرماتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ ”یہودی اسحاق علیہ السلام کا نام جھوٹ موٹ لیتے ہیں۔“ ابن عمر رضی اللہ عنہ، مجاہد، شعبی، حسن بصری، محمد بن کعب قرظی، خلیفہ المسلمین عمر ابن عبدالعزیز رحمہ اللہ علیہم کے سامنے جب محمد بن قرظی رحمہ اللہ نے یہ فرمایا اور ساتھ ہی اس کی دلیل بھی دی کہ ”ذبح کے ذکر کے بعد قرآن میں خلیل اللہ علیہ السلام کو اسحاق علیہ السلام کے پیدا ہونے کی بشارت کا ذکر ہے اور ساتھ ہی بیان ہے کہ ان کے ہاں بھی لڑکا ہو گا یعقوب نامی جب ان کے ہاں لڑکا ہونے کی بشارت دی گی تھی پھر باوجود ان کے ہاں لڑکا نہ ہوں کے اس سے پہلے ہی ان کے ذبح کرنے کا حکم کیسے دیا جاتا ہے؟“
تو سیدنا عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے فرمایا ”یہ بہت صاف دلیل ہے میرا ذہن یہاں نہیں پہنچا تھا گو یہ میں بھی جانتا تھا کہ ذبیح اللہ اسماعیل علیہ السلام ہی ہیں۔“ پھر شاہ اسلام نے شام کے ایک یہودی عالم سے پوچھا جو مسلمان ہو گئے تھے کہ تم اس بارے میں کیا علم رکھتے ہو انہوں نے فرمایا امیر المسلمین سچ تو یہی ہے کہ جن کے ذبح کرنے کا حکم دیا گیا وہ اسماعیل علیہ السلام ہی تھے لیکن چونکہ عرب ان کی اولاد میں سے ہیں تو یہ بزرگی ان کی طرف لوٹتی ہے اس حسد کے بارے میں یہودیوں نے اسے بدل دیا اور اسحاق علیہ السلام کا نام لے دیا۔ حقیقی علم اللہ ہی کو ہے ہمارا ایمان ہے کہ اسماعیل، اسحاق علیہم السلام دونوں ہی طاہر و طیب اور اللہ کے سچے فرمانبردار تھے۔ کتاب الزہد میں ہے کہ امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کے صاحبزادے عبداللہ رحمہ اللہ نے اپنے والد سے جب یہ مسئلہ پوچھا تو آپ نے جواب دیا کہ ”ذبح ہونے والے اسماعیل علیہ السلام ہی تھے۔“ علی ابن عمر، ابوالطفیل، سعید بن مسیب، سعید بن جبیر، حسن، مجاہد، شعبی، محمد بن کعب، ابوجعفر محمد بن علی ابوصالح رحمہ اللہ عنہم سے بھی یہی مروی ہے۔
امام بغوی رحمہ اللہ نے اور بھی صحابہ رضی اللہ عنہم اور تابعین کے نام گنوائے ہیں۔ ایک غریب حدیث بھی اسی کی تائید میں مروی ہے اس میں ہے کہ { شام میں امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے سامنے یہ بحث چھڑی کہ ذبیح اللہ کون ہیں؟ تو آپ نے فرمایا خوب ہوا جو یہ معاملہ مجھ جیسے باخبر شخص کے پاس آیا، سنو! ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھے جب ایک شخص آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا اے اللہ کی راہ میں دو ذبح ہونے والوں کی نسل کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم مجھے بھی مال غنیمت میں سے کچھ دلوایئے اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہنس دیئے۔ ایک تو ذبیح اللہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے والد عبداللہ تھے، دوسرے اسمعیل علیہ السلام جن کی نسل میں سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ عبداللہ کے ذبیح اللہ ہونے کا واقعہ یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دادا عبدالمطلب نے جب چاہ زمزم کھودا تو نذر مانی تھی کی اگر یہ کام آسانی سے پورا ہو گیا تو اپنے ایک لڑکے کو راہ اللہ میں ذبح کروں گا جب کام ہو گیا اور قرعہ اندازی کی گئی کہ کس بیٹے کو اللہ کے نام پر ذبح کریں تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے والد عبداللہ کا نام نکلا۔ ان کے ننھیال والوں نے کہا آپ ان کی طرف سے ایک سو اونٹ راہ اللہ ذبح کر دیں چنانچہ وہ ذبح کر دیئے گئے اور اسماعیل علیہ السلام کے ذبیح اللہ ہونے کا واقعہ تو مشہور ہی ہے }۔۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:29530:ضعیف] ابن جریر میں یہ روایت موجود ہے اور مغازی امویہ میں بھی۔
امام ابن جریر رحمہ اللہ نے اسحاق علیہ السلام کے ذبیح اللہ ہونے کی ایک دلیل تو یہ پیش کی یہ کہ جس علیم بچے کی بشارت کا ذکر ہے اس سے مراد اسحاق علیہ السلام ہیں قرآن میں اور جگہ ہے «قَالُوا لَا تَخَفْ وَبَشَّرُوهُ بِغُلَامٍ عَلِيمٍ» ۱؎ [51-الذاريات:28] ، اور یعقوب علیہ السلام کی بشارت کا یہ جواب دیا ہے کہ وہ آپ کے ساتھ چلنے پھرنے کی عمر کو پہنچ گئے تھے اور ممکن ہے کہ یعقوب علیہ السلام کے ساتھ ہی کوئی اور اولاد بھی ہوئی ہو اور کعبتہ اللہ میں سینگوں کی موجودگی کے بارے میں فرماتے ہیں بہت ممکن ہے کہ یہ بلادکنعان سے لا کر یہاں رکھے گئے ہوں۔“ اور بعض لوگوں سے اسحاق علیہ السلام کے نام کی صراحت بھی آئی ہے، لیکن یہ سب باتیں حقیقت سے بہت دور ہیں۔ ہاں اسماعیل علیہ السلام کے ذبیح اللہ ہونے پر محمد بن کعب قرظی رحمہ اللہ کا استدلال بہت صاف اور قوی ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ پہلے ذبیح اللہ اسمعیل علیہ السلام کے تولد ہونے کی بشارت دی گئی تھی یہاں اس کے بعد ان کے بھائی اسحاق علیہ السلام کی بشارت دی جا رہی ہے۔ سورۃ ہود اور سورۃ الحجر میں بھی اس کا ذکر گذر چکا ہے۔ «نبیاً» حال مقدرہ ہے یعنی وہ نبی صالح ہو گا۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ذبیح اللہ اسحاق علیہ السلام تھے اور یہاں نبوت اسحاق علیہ السلام کو بشارت ہے۔ جیسے موسیٰ علیہ السلام کے بارے میں فرمان ہے کہ ’ ہم نے انہیں اپنی رحمت سے ان کے بھائی ہارون کو نبی بنا دیا ‘۔ حالانکہ ہارون علیہ السلام موسیٰ علیہ السلام سے بڑے تھے تو یہاں بھی ان کی نبوت کی بشارت ہے۔ پس یہ بشارت اس وقت دی گئی جبکہ امتحان ذبح میں وہ صابر ثابت ہوئے۔ یہ بھی مروی ہے کہ یہ بشارت دو مرتبہ دی گئی پیدائش سے کچھ قبل اور نبوت سے کچھ قبل۔
حضرت قتادہ رحمہ اللہ سے بھی یہی مروی ہے۔ ’ ان پر اور اسحاق علیہ السلام پر ہماری برکتیں ہم نے نازل فرمائیں، ان کی اولاد میں ہر قسم کے لوگ ہیں نیک بھی بد بھی ‘۔ جیسے نوح علیہ السلام سے فرمان ہوا تھا کہ «قِيلَ يَا نُوحُ اهْبِطْ بِسَلَامٍ مِّنَّا وَبَرَكَاتٍ عَلَيْكَ وَعَلَىٰ أُمَمٍ مِّمَّن مَّعَكَ وَأُمَمٌ سَنُمَتِّعُهُمْ ثُمَّ يَمَسُّهُم مِّنَّا عَذَابٌ أَلِيمٌ» ’ اے نوح ہماری سلام اور برکت کے ساتھ تواتر۔ تو بھی اور تیرے ساتھ والے بھی اور ایسے بھی لوگ ہیں جنہیں ہم فائدے پہنچائیں گے پھر انہیں ہماری طرف سے درد ناک عذاب پہنچیں گے ‘۔۱؎ [11-هود:48]
113۔ 1 یعنی ان دونوں کی اولاد کو بہت پھیلایا اور انبیاء و رسل کی زیادہ تعداد انہی کی نسل سے ہوئی۔ حضرت اسحاق ؑ کے بیٹے یعقوب ؑ ہوئے، جن کے بارہ بیٹوں سے بنی اسرائیل کے 12 قبیلے بنے اور ان سے بنی اسرائیل کی قوم بڑھی اور پھیلی اور اکثر انبیاء ان ہی میں سے ہوئے۔ حضرت ابراہیم ؑ کے دوسرے بیٹے اسماعیل ؑ سے عربوں کی نسل چلی اور ان میں آخری پیغمبر حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہوئے۔ 113۔ 2 شرک اور معصیت، ظلم و فساد کا ارتکاب کرکے خاندان ابراہیمی میں برکت کے باوجود نیک و بد کے ذکر سے اس طرف اشارہ کردیا کہ خاندان اور آبا کی نسبت، اللہ کے ہاں کوئی حیثیت نہیں رکھتی۔ وہاں تو ایمان اور عمل صالح کی اہمیت ہے، یہود و نصاریٰ اگرچہ حضرت اسحاق ؑ کی اولاد سے ہیں۔ اس طرح مشرکین عرب حضرت اسماعیل ؑ کی اولاد سے ہیں۔ لیکن ان کے جو اعمال ہیں وہ کھلی گمراہی یا شرک و معصیت پر مبنی ہیں۔ اس لئے یہ اونچی نسبتیں ان کے لئے عمل کا بدل نہیں ہوسکتیں۔
(آیت 113) ➊ { وَ بٰرَكْنَا عَلَيْهِ وَ عَلٰۤى اِسْحٰقَ: ” عَلَيْهِ “} سے مراد ابراہیم اور اسماعیل علیھما السلام میں سے کوئی بھی ہو سکتا ہے۔ برکت میں یہ چیز بھی شامل ہے کہ انھیں بہت اولاد عطا فرمائی اور ان کی اولاد میں نبوت کا سلسلہ رکھا۔ شاہ عبدالقادر لکھتے ہیں: ”دونوں“ کہا دونوں بیٹوں کو، دونوں سے بہت اولاد پھیلی، اسحاق علیہ السلام کی اولاد میں نبی گزرے بنی اسرائیل کے اور اسماعیل علیہ السلام کی اولاد ہیں عرب، جن میں ہمارے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم ہوئے۔“ (موضح) ➋ { وَ مِنْ ذُرِّيَّتِهِمَا مُحْسِنٌ وَّ ظَالِمٌ …:} یعنی ان کی اولاد میں سے نیک بھی ہوں گے، بد بھی، عدل کرنے والے بھی ہوں گے اور اپنی جان پر صاف ظلم کرنے والے بھی۔ شیخ عبدالرحمان السعدی نے فرمایا: ”شاید یہ کہنے کا مقصد یہ وہم دور کرنا ہو جو بعض لوگوں کو {” وَ بٰرَكْنَا عَلَيْهِ وَ عَلٰۤى اِسْحٰقَ “} سے پیدا ہو سکتا تھا کہ اس کا تقاضا ہے کہ ان کی اولاد میں بھی وہ برکت جاری رہے اور برکت مکمل تب ہوتی جب ساری اولاد نیک ہو، تو اللہ تعالیٰ نے بتایا کہ اولاد میں سے نیک و بد ہر قسم کے لوگ ہوں گے۔“ یعنی محض خاندان اور باپ دادا کے ساتھ نسبت اللہ تعالیٰ کے ہاں کچھ حیثیت نہیں رکھتی۔ اس کی مثال امتِ مسلمہ میں بعض لوگوں کا اہلِ بیت کے متعلق یہ خیال ہے کہ سید بادشاہ جو کچھ بھی کرتے رہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور حسن و حسین رضی اللہ عنھما کی اولاد ہونے کی وجہ سے بخشے بخشائے ہیں، جب کہ یہ خیال باطل ہے۔ کیونکہ اگر نبی کی اولاد ہونا ہی بخشش کے لیے کافی ہو تو سارے انسان ہی آدم و نوح علیھما السلام جیسے جلیل القدر پیغمبروں کی اولاد ہیں، اس لیے سب ہی بخشے ہوئے ہونے چاہییں۔
یقیناً ہم نے موسیٰ اور ہارون (علیہ السلام) پر بڑا احسان کیا
احمد رضا خان بریلوی
اور بیشک ہم نے موسیٰ اور ہارون پر احسان فرمایا
علامہ محمد حسین نجفی
بے شک ہم نے موسیٰ(ع) و ہارون(ع) پر (بھی) احسان کیا۔
عبدالسلام بن محمد
اور بلا شبہ یقینا ہم نے موسیٰ اور ہارون پر احسان کیا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
موسیٰ علیہ السلام پر انعامات الٰہی ٭٭
اللہ تعالیٰ موسیٰ اور ہارون علیہم السلام پر اپنی نعمتیں جتا رہا ہے کہ ’ انہیں نبوت دی انہیں مع ان کی قوم کے فرعون جیسے طاقتور دشمن سے نجات دی جس نے انہیں بےطرح پست و ذلیل کر رکھا تھا ان کے بچوں کو کاٹ دیتا تھا ان کی لڑکیوں کو رہنے دیتا تھا ان سے ذلیل مزدوریاں کراتا تھا اور بے حیثیت بنا رکھا تھا۔ ایسے بدترین دشمن کو ان کے دیکھتے ہلاک کیا، انہیں اس پر غالب کر دیا ان کی زمین و زر کے یہ مالک بن گئے۔ پھر موسیٰ کو واضح جلی روشن اور بین کتاب عنایت فرمائی جو حق و باطل میں فرق و فیصلہ کرنے والی اور نور و ہدایت والی تھی، ان کے اقوال و افعال میں انہیں استقامت عطا فرمائی اور ان کے بعد والوں میں بھی ان کا ذکر خیر اور ثناء و صفت باقی رکھی کہ ہر زبان ان پر سلام ہی پڑھتی ہے۔ ہم نیک کاروں کو یہی اور ایسے ہی بدلے دیتے ہیں۔ وہ ہمارے مومن بندے تھے ‘۔
114۔ 1 یعنی انہیں نبوت و رسالت اور دیگر انعامات سے نوازا۔
(آیت 114) {وَ لَقَدْ مَنَنَّا عَلٰى مُوْسٰى وَ هٰرُوْنَ:} یعنی انھیں نبوت عطا کی اور دوسرے بے شمار احسانات فرمائے، جن میں سے بعض احسانات کا ذکر آگے فرمایا۔
اور انہیں اور ان کی قوم کو بہت بڑے دکھ درد سے نجات دے دی
احمد رضا خان بریلوی
اور انہیں اور ان کی قوم کو بڑی سختی سے نجات بخشی
علامہ محمد حسین نجفی
اور ہم نے ان دونوں کو اور ان کی قوم کو عظیم کرب و بلا سے نجات دی۔
عبدالسلام بن محمد
اور ہم نے ان دونوں کو اور دونوں کی قوم کو بہت بڑی مصیبت سے نجات دی۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
موسیٰ علیہ السلام پر انعامات الٰہی ٭٭
اللہ تعالیٰ موسیٰ اور ہارون علیہم السلام پر اپنی نعمتیں جتا رہا ہے کہ ’ انہیں نبوت دی انہیں مع ان کی قوم کے فرعون جیسے طاقتور دشمن سے نجات دی جس نے انہیں بےطرح پست و ذلیل کر رکھا تھا ان کے بچوں کو کاٹ دیتا تھا ان کی لڑکیوں کو رہنے دیتا تھا ان سے ذلیل مزدوریاں کراتا تھا اور بے حیثیت بنا رکھا تھا۔ ایسے بدترین دشمن کو ان کے دیکھتے ہلاک کیا، انہیں اس پر غالب کر دیا ان کی زمین و زر کے یہ مالک بن گئے۔ پھر موسیٰ کو واضح جلی روشن اور بین کتاب عنایت فرمائی جو حق و باطل میں فرق و فیصلہ کرنے والی اور نور و ہدایت والی تھی، ان کے اقوال و افعال میں انہیں استقامت عطا فرمائی اور ان کے بعد والوں میں بھی ان کا ذکر خیر اور ثناء و صفت باقی رکھی کہ ہر زبان ان پر سلام ہی پڑھتی ہے۔ ہم نیک کاروں کو یہی اور ایسے ہی بدلے دیتے ہیں۔ وہ ہمارے مومن بندے تھے ‘۔
115۔ 1 یعنی فرعون کی غلامی اور اس کے ظلم وستم سے نجات۔
(آیت 115) {وَ نَجَّيْنٰهُمَا وَ قَوْمَهُمَا مِنَ الْكَرْبِ الْعَظِيْمِ:} بہت بڑی مصیبت سے مراد فرعون کی غلامی، لڑکوں کا قتل اور عورتوں کا باقی رکھنا ہے۔ علاوہ ازیں سمندر میں غرق ہونے سے نجات بھی کرب عظیم سے نجات ہے۔
اور ہم نے ان کی مدد کی (جس کی وجہ سے) وہی غالب رہے۔
عبدالسلام بن محمد
اور ہم نے ان کی مدد کی تو وہی غالب ہوئے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
موسیٰ علیہ السلام پر انعامات الٰہی ٭٭
اللہ تعالیٰ موسیٰ اور ہارون علیہم السلام پر اپنی نعمتیں جتا رہا ہے کہ ’ انہیں نبوت دی انہیں مع ان کی قوم کے فرعون جیسے طاقتور دشمن سے نجات دی جس نے انہیں بےطرح پست و ذلیل کر رکھا تھا ان کے بچوں کو کاٹ دیتا تھا ان کی لڑکیوں کو رہنے دیتا تھا ان سے ذلیل مزدوریاں کراتا تھا اور بے حیثیت بنا رکھا تھا۔ ایسے بدترین دشمن کو ان کے دیکھتے ہلاک کیا، انہیں اس پر غالب کر دیا ان کی زمین و زر کے یہ مالک بن گئے۔ پھر موسیٰ کو واضح جلی روشن اور بین کتاب عنایت فرمائی جو حق و باطل میں فرق و فیصلہ کرنے والی اور نور و ہدایت والی تھی، ان کے اقوال و افعال میں انہیں استقامت عطا فرمائی اور ان کے بعد والوں میں بھی ان کا ذکر خیر اور ثناء و صفت باقی رکھی کہ ہر زبان ان پر سلام ہی پڑھتی ہے۔ ہم نیک کاروں کو یہی اور ایسے ہی بدلے دیتے ہیں۔ وہ ہمارے مومن بندے تھے ‘۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 116) {وَ نَصَرْنٰهُمْ فَكَانُوْا هُمُ الْغٰلِبِيْنَ: ”هُمْ“} ضمیر جمع لانے کی وجہ یہ ہے کہ فرعون سے نجات اور اس پر اور اس کی آل یعنی قبطیوں پر فتح و نصرت صرف موسیٰ اور ہارون علیھما السلام کو نہیں بلکہ تمام بنی اسرائیل کو حاصل ہوئی۔
اللہ تعالیٰ موسیٰ اور ہارون علیہم السلام پر اپنی نعمتیں جتا رہا ہے کہ ’ انہیں نبوت دی انہیں مع ان کی قوم کے فرعون جیسے طاقتور دشمن سے نجات دی جس نے انہیں بےطرح پست و ذلیل کر رکھا تھا ان کے بچوں کو کاٹ دیتا تھا ان کی لڑکیوں کو رہنے دیتا تھا ان سے ذلیل مزدوریاں کراتا تھا اور بے حیثیت بنا رکھا تھا۔ ایسے بدترین دشمن کو ان کے دیکھتے ہلاک کیا، انہیں اس پر غالب کر دیا ان کی زمین و زر کے یہ مالک بن گئے۔ پھر موسیٰ کو واضح جلی روشن اور بین کتاب عنایت فرمائی جو حق و باطل میں فرق و فیصلہ کرنے والی اور نور و ہدایت والی تھی، ان کے اقوال و افعال میں انہیں استقامت عطا فرمائی اور ان کے بعد والوں میں بھی ان کا ذکر خیر اور ثناء و صفت باقی رکھی کہ ہر زبان ان پر سلام ہی پڑھتی ہے۔ ہم نیک کاروں کو یہی اور ایسے ہی بدلے دیتے ہیں۔ وہ ہمارے مومن بندے تھے ‘۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 117) {وَ اٰتَيْنٰهُمَا الْكِتٰبَ الْمُسْتَبِيْنَ: ”اَلْمُبِيْنُ“} باب افعال سے اسم فاعل ہے، معنی ہے ”واضح“ اور {” الْمُسْتَبِيْنَ “} باب استفعال سے اسم فاعل ہے، اس میں حروف زیادہ ہونے کی وجہ سے معنی میں مبالغہ ہے، اس لیے ترجمہ ”نہایت واضح“ کیا گیا ہے، مراد تورات ہے۔
اللہ تعالیٰ موسیٰ اور ہارون علیہم السلام پر اپنی نعمتیں جتا رہا ہے کہ ’ انہیں نبوت دی انہیں مع ان کی قوم کے فرعون جیسے طاقتور دشمن سے نجات دی جس نے انہیں بےطرح پست و ذلیل کر رکھا تھا ان کے بچوں کو کاٹ دیتا تھا ان کی لڑکیوں کو رہنے دیتا تھا ان سے ذلیل مزدوریاں کراتا تھا اور بے حیثیت بنا رکھا تھا۔ ایسے بدترین دشمن کو ان کے دیکھتے ہلاک کیا، انہیں اس پر غالب کر دیا ان کی زمین و زر کے یہ مالک بن گئے۔ پھر موسیٰ کو واضح جلی روشن اور بین کتاب عنایت فرمائی جو حق و باطل میں فرق و فیصلہ کرنے والی اور نور و ہدایت والی تھی، ان کے اقوال و افعال میں انہیں استقامت عطا فرمائی اور ان کے بعد والوں میں بھی ان کا ذکر خیر اور ثناء و صفت باقی رکھی کہ ہر زبان ان پر سلام ہی پڑھتی ہے۔ ہم نیک کاروں کو یہی اور ایسے ہی بدلے دیتے ہیں۔ وہ ہمارے مومن بندے تھے ‘۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 118){ وَ هَدَيْنٰهُمَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيْمَ:} صراط مستقیم کی ہدایت بہت بڑا احسان ہے، کیونکہ اسی پر نجاتِ اُخروی کا دارو مدار ہے۔
اور ہم نے ان دونوں کے لئے پیچھے آنے والوں میں یہ بات باقی رکھی
احمد رضا خان بریلوی
اور پچھلوں میں ان کی تعریف باقی رکھی،
علامہ محمد حسین نجفی
اور ہم نے آئندہ آنے والوں میں ان کا ذکرِ خیر باقی رکھا۔
عبدالسلام بن محمد
اور ہم نے پیچھے آنے والوں میں ان کے لیے یہ بات چھوڑی۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
موسیٰ علیہ السلام پر انعامات الٰہی ٭٭
اللہ تعالیٰ موسیٰ اور ہارون علیہم السلام پر اپنی نعمتیں جتا رہا ہے کہ ’ انہیں نبوت دی انہیں مع ان کی قوم کے فرعون جیسے طاقتور دشمن سے نجات دی جس نے انہیں بےطرح پست و ذلیل کر رکھا تھا ان کے بچوں کو کاٹ دیتا تھا ان کی لڑکیوں کو رہنے دیتا تھا ان سے ذلیل مزدوریاں کراتا تھا اور بے حیثیت بنا رکھا تھا۔ ایسے بدترین دشمن کو ان کے دیکھتے ہلاک کیا، انہیں اس پر غالب کر دیا ان کی زمین و زر کے یہ مالک بن گئے۔ پھر موسیٰ کو واضح جلی روشن اور بین کتاب عنایت فرمائی جو حق و باطل میں فرق و فیصلہ کرنے والی اور نور و ہدایت والی تھی، ان کے اقوال و افعال میں انہیں استقامت عطا فرمائی اور ان کے بعد والوں میں بھی ان کا ذکر خیر اور ثناء و صفت باقی رکھی کہ ہر زبان ان پر سلام ہی پڑھتی ہے۔ ہم نیک کاروں کو یہی اور ایسے ہی بدلے دیتے ہیں۔ وہ ہمارے مومن بندے تھے ‘۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 119تا122) {وَ تَرَكْنَا عَلَيْهِمَا فِي الْاٰخِرِيْنَ …:} ان آیات کی تفسیر کے لیے دیکھیے اسی سورت کی آیات (۷۸ تا ۸۱)۔
اللہ تعالیٰ موسیٰ اور ہارون علیہم السلام پر اپنی نعمتیں جتا رہا ہے کہ ’ انہیں نبوت دی انہیں مع ان کی قوم کے فرعون جیسے طاقتور دشمن سے نجات دی جس نے انہیں بےطرح پست و ذلیل کر رکھا تھا ان کے بچوں کو کاٹ دیتا تھا ان کی لڑکیوں کو رہنے دیتا تھا ان سے ذلیل مزدوریاں کراتا تھا اور بے حیثیت بنا رکھا تھا۔ ایسے بدترین دشمن کو ان کے دیکھتے ہلاک کیا، انہیں اس پر غالب کر دیا ان کی زمین و زر کے یہ مالک بن گئے۔ پھر موسیٰ کو واضح جلی روشن اور بین کتاب عنایت فرمائی جو حق و باطل میں فرق و فیصلہ کرنے والی اور نور و ہدایت والی تھی، ان کے اقوال و افعال میں انہیں استقامت عطا فرمائی اور ان کے بعد والوں میں بھی ان کا ذکر خیر اور ثناء و صفت باقی رکھی کہ ہر زبان ان پر سلام ہی پڑھتی ہے۔ ہم نیک کاروں کو یہی اور ایسے ہی بدلے دیتے ہیں۔ وہ ہمارے مومن بندے تھے ‘۔
اللہ تعالیٰ موسیٰ اور ہارون علیہم السلام پر اپنی نعمتیں جتا رہا ہے کہ ’ انہیں نبوت دی انہیں مع ان کی قوم کے فرعون جیسے طاقتور دشمن سے نجات دی جس نے انہیں بےطرح پست و ذلیل کر رکھا تھا ان کے بچوں کو کاٹ دیتا تھا ان کی لڑکیوں کو رہنے دیتا تھا ان سے ذلیل مزدوریاں کراتا تھا اور بے حیثیت بنا رکھا تھا۔ ایسے بدترین دشمن کو ان کے دیکھتے ہلاک کیا، انہیں اس پر غالب کر دیا ان کی زمین و زر کے یہ مالک بن گئے۔ پھر موسیٰ کو واضح جلی روشن اور بین کتاب عنایت فرمائی جو حق و باطل میں فرق و فیصلہ کرنے والی اور نور و ہدایت والی تھی، ان کے اقوال و افعال میں انہیں استقامت عطا فرمائی اور ان کے بعد والوں میں بھی ان کا ذکر خیر اور ثناء و صفت باقی رکھی کہ ہر زبان ان پر سلام ہی پڑھتی ہے۔ ہم نیک کاروں کو یہی اور ایسے ہی بدلے دیتے ہیں۔ وہ ہمارے مومن بندے تھے ‘۔
بیشک وہ دونوں ہمارے اعلیٰ درجہ کے کامل الایمان بندوں میں ہیں،
علامہ محمد حسین نجفی
بیشک یہ دونوں ہمارے مؤمن بندوں میں سے تھے۔
عبدالسلام بن محمد
بے شک وہ دونوں ہمارے مومن بندوں میں سے تھے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
موسیٰ علیہ السلام پر انعامات الٰہی ٭٭
اللہ تعالیٰ موسیٰ اور ہارون علیہم السلام پر اپنی نعمتیں جتا رہا ہے کہ ’ انہیں نبوت دی انہیں مع ان کی قوم کے فرعون جیسے طاقتور دشمن سے نجات دی جس نے انہیں بےطرح پست و ذلیل کر رکھا تھا ان کے بچوں کو کاٹ دیتا تھا ان کی لڑکیوں کو رہنے دیتا تھا ان سے ذلیل مزدوریاں کراتا تھا اور بے حیثیت بنا رکھا تھا۔ ایسے بدترین دشمن کو ان کے دیکھتے ہلاک کیا، انہیں اس پر غالب کر دیا ان کی زمین و زر کے یہ مالک بن گئے۔ پھر موسیٰ کو واضح جلی روشن اور بین کتاب عنایت فرمائی جو حق و باطل میں فرق و فیصلہ کرنے والی اور نور و ہدایت والی تھی، ان کے اقوال و افعال میں انہیں استقامت عطا فرمائی اور ان کے بعد والوں میں بھی ان کا ذکر خیر اور ثناء و صفت باقی رکھی کہ ہر زبان ان پر سلام ہی پڑھتی ہے۔ ہم نیک کاروں کو یہی اور ایسے ہی بدلے دیتے ہیں۔ وہ ہمارے مومن بندے تھے ‘۔
بعض کہتے ہیں الیاس نام تھا ادریس علیہ السلام کا۔ وہب کہتے ہیں ان کا سلسلہ نسب یوں ہے الیاس بن نسی بن فحاص بن عبراز بن ہارون بن عمران علیہ السلام۔ خرقیل علیہ السلام کے بعد یہ بنی اسرائیل میں بھیجے گئے تھے وہ لوگ بعل نامی بت کے پجاری بن گئے تھے۔ انہوں نے دعوت اسلام دی ان کے بادشاہ نے ان سے قبول بھی کرلی لیکن پھر مرتد ہو گیا اور لوگ بھی سرکشی پر تلے رہے اور ایمان سے انکار کر دیا۔ آپ علیہ السلام نے ان پر بد دعا کی تین سال تک بارش نہ برسی۔ اب تو یہ سب تنگ آ گئے اور قسمیں کھا کھا کر اقرار کیا کہ آپ دعا کیجئے بارش برستے ہی ہم سب آپ کی نبوت پر ایمان لائیں گے۔ چنانچہ آپ کی دعا سے مینہ برسا۔ لیکن یہ کفار اپنے وعدے سے ٹل گئے اور اپنے کفر پر اڑ گئے۔ آپ علیہ السلام نے یہ حالت دیکھ کر اللہ سے دعا کی کہ اللہ انہیں اپنی طرف لے لے۔ ان کے ہاتھوں تلے یسع بن اخطوب پلے تھے۔ الیاس علیہ السلام کی اس دعا کے بعد انہیں حکم ملا کہ وہ ایک جگہ جائیں اور وہاں انہیں جو سواری ملے اس پر سوار ہو جائیں وہاں آپ علیہ السلام گئے ایک نوری گھوڑا دکھائی دیا جس پر سوار ہو گئے اللہ نے انہیں بھی نورانی کر دیا اور اپنے پروں سے فرشتوں کے ساتھ اڑنے لگے اور ایک انسانی فرشتہ زمینی اور آسمانی بن گئے۔ اس کی صحت کا علم اللہ ہی کو ہے۔ ہے یہ بات اہل کتاب کی روایت سے۔ الیاس علیہ السلام نے اپنی قوم سے فرمایا کہ ”کیا تم اللہ سے ڈرتے نہیں ہو؟ کہ اس کے سوا دوسروں کی عبادت کرتے ہو؟“ اہل یمن اور قبیلہ ازوشنوہ رب کو بعل کہتے تھے۔ بعل نامی جس بت کی یہ پوجا کرتے تھے وہ ایک عورت تھی۔ ان کے شہر کا نام بعلبک تھا تو اللہ کے نبی الیاس علیہ السلام فرماتے ہیں کہ ”تعجب ہے کہ تم اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر جو خالق کل ہے اور بہترین خلاق ہے ایک بت کو پوج رہے ہو؟ اور اس کو پکارتے رہتے ہو؟ اللہ تعالیٰ تم سب کا اور تم سے اگلے تمہارے باپ دادوں کا رب ہے وہی مستحق عبادت ہے اس کے سوا کسی قسم کی عبادت کسی کے لائق نہیں۔“
لیکن ان لوگوں نے اللہ کے پیارے نبی علیہ السلام کی اس صاف اور خیر خواہانہ نصیحت کو نہ مانا تو اللہ نے بھی انہیں عذاب پر حاضر کر دیا، کہ قیامت کے دن ان سے زبردست بازپرس اور ان پر سخت عذاب ہوں گے۔ ہاں ان میں سے جو توحید پر قائم تھے وہ بچ رہیں گے۔ ہم نے الیاس علیہ السلام کی ثناء جمیل اور ذکر خیر پچھلے لوگوں میں بھی باقی ہی رکھا کہ ہر مسلم کی زبان سے ان پر درود و سلام بھیجا جاتا ہے۔ الیاس میں دوسری لغت الیاسین ہے جیسے اسماعیل میں اسماعین بنو اسد میں اسی طرح یہ لغت ہے۔ ایک تمیمی کے شعر میں یہ لغت اس طرح لایا گیا ہے۔ میکائیل کو میکال اور میکائین بھی کہا جاتا ہے۔ ابراہیم کو ابراہام، اسرائیل کو سزائیں، طور سینا کوہ طور سے سینین۔ غرض یہ لغت عرب میں مشہور و رائج ہے۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی قرأت میں «سَلَام عَلَى آلِ يَاسِين» ہے۔ بعض کہتے ہیں اس سے مراد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ ’ ہم اسی طرح نیک کاروں کو نیک بدلہ دیتے ہیں۔ یقیناً وہ ہمارے مومن بندوں میں سے تھے ‘۔ اس جملہ کی تفسیر گذر چکی ہے «وَاللهُ سُبْحَانَهُ وَ تَعَالىٰ اَعْلَمُ» ۔
123۔ 1 یہ حضرت ہارون ؑ کی اولاد میں سے ایک اسرائیلی نبی تھے۔ یہ جس علاقے میں بھیجے گئے تھے اس کا نام بعلبک تھا، بعض کہتے ہیں اس جگہ کا نام سامرہ ہے جو فلسطین کا مغربی وسطی علاقہ ہے۔ یہاں کے لوگ بعل نامی بت کے پجاری تھے (بعض کہتے ہیں یہ دیوی کا نام تھا
(آیت 124،123) {وَ اِنَّ اِلْيَاسَ لَمِنَ الْمُرْسَلِيْنَ …: ” اَلَا تَتَّقُوْنَ “} کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورۂ شعراء کی آیت (۱۰۶)۔
یاد کرو جب اس نے اپنی قوم سے کہا تھا کہ "تم لوگ ڈرتے نہیں ہو؟
مولانا محمد جوناگڑھی
جب کہ انہوں نے اپنی قوم سے فرمایا کہ تم اللہ سے ڈرتے نہیں ہو؟
احمد رضا خان بریلوی
جب اس نے اپنی قوم سے فرمایا کیا تم ڈرتے نہیں
علامہ محمد حسین نجفی
(وہ وقت یاد کرو) جب انہوں نے اپنی قوم سے کہا کہ تم (اللہ سے) ڈرتے نہیں ہو؟
عبدالسلام بن محمد
جب اس نے اپنی قوم سے کہا کیا تم ڈرتے نہیں ؟
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
الیاس علیہ السلام ٭٭
بعض کہتے ہیں الیاس نام تھا ادریس علیہ السلام کا۔ وہب کہتے ہیں ان کا سلسلہ نسب یوں ہے الیاس بن نسی بن فحاص بن عبراز بن ہارون بن عمران علیہ السلام۔ خرقیل علیہ السلام کے بعد یہ بنی اسرائیل میں بھیجے گئے تھے وہ لوگ بعل نامی بت کے پجاری بن گئے تھے۔ انہوں نے دعوت اسلام دی ان کے بادشاہ نے ان سے قبول بھی کرلی لیکن پھر مرتد ہو گیا اور لوگ بھی سرکشی پر تلے رہے اور ایمان سے انکار کر دیا۔ آپ علیہ السلام نے ان پر بد دعا کی تین سال تک بارش نہ برسی۔ اب تو یہ سب تنگ آ گئے اور قسمیں کھا کھا کر اقرار کیا کہ آپ دعا کیجئے بارش برستے ہی ہم سب آپ کی نبوت پر ایمان لائیں گے۔ چنانچہ آپ کی دعا سے مینہ برسا۔ لیکن یہ کفار اپنے وعدے سے ٹل گئے اور اپنے کفر پر اڑ گئے۔ آپ علیہ السلام نے یہ حالت دیکھ کر اللہ سے دعا کی کہ اللہ انہیں اپنی طرف لے لے۔ ان کے ہاتھوں تلے یسع بن اخطوب پلے تھے۔ الیاس علیہ السلام کی اس دعا کے بعد انہیں حکم ملا کہ وہ ایک جگہ جائیں اور وہاں انہیں جو سواری ملے اس پر سوار ہو جائیں وہاں آپ علیہ السلام گئے ایک نوری گھوڑا دکھائی دیا جس پر سوار ہو گئے اللہ نے انہیں بھی نورانی کر دیا اور اپنے پروں سے فرشتوں کے ساتھ اڑنے لگے اور ایک انسانی فرشتہ زمینی اور آسمانی بن گئے۔ اس کی صحت کا علم اللہ ہی کو ہے۔ ہے یہ بات اہل کتاب کی روایت سے۔ الیاس علیہ السلام نے اپنی قوم سے فرمایا کہ ”کیا تم اللہ سے ڈرتے نہیں ہو؟ کہ اس کے سوا دوسروں کی عبادت کرتے ہو؟“ اہل یمن اور قبیلہ ازوشنوہ رب کو بعل کہتے تھے۔ بعل نامی جس بت کی یہ پوجا کرتے تھے وہ ایک عورت تھی۔ ان کے شہر کا نام بعلبک تھا تو اللہ کے نبی الیاس علیہ السلام فرماتے ہیں کہ ”تعجب ہے کہ تم اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر جو خالق کل ہے اور بہترین خلاق ہے ایک بت کو پوج رہے ہو؟ اور اس کو پکارتے رہتے ہو؟ اللہ تعالیٰ تم سب کا اور تم سے اگلے تمہارے باپ دادوں کا رب ہے وہی مستحق عبادت ہے اس کے سوا کسی قسم کی عبادت کسی کے لائق نہیں۔“
لیکن ان لوگوں نے اللہ کے پیارے نبی علیہ السلام کی اس صاف اور خیر خواہانہ نصیحت کو نہ مانا تو اللہ نے بھی انہیں عذاب پر حاضر کر دیا، کہ قیامت کے دن ان سے زبردست بازپرس اور ان پر سخت عذاب ہوں گے۔ ہاں ان میں سے جو توحید پر قائم تھے وہ بچ رہیں گے۔ ہم نے الیاس علیہ السلام کی ثناء جمیل اور ذکر خیر پچھلے لوگوں میں بھی باقی ہی رکھا کہ ہر مسلم کی زبان سے ان پر درود و سلام بھیجا جاتا ہے۔ الیاس میں دوسری لغت الیاسین ہے جیسے اسماعیل میں اسماعین بنو اسد میں اسی طرح یہ لغت ہے۔ ایک تمیمی کے شعر میں یہ لغت اس طرح لایا گیا ہے۔ میکائیل کو میکال اور میکائین بھی کہا جاتا ہے۔ ابراہیم کو ابراہام، اسرائیل کو سزائیں، طور سینا کوہ طور سے سینین۔ غرض یہ لغت عرب میں مشہور و رائج ہے۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی قرأت میں «سَلَام عَلَى آلِ يَاسِين» ہے۔ بعض کہتے ہیں اس سے مراد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ ’ ہم اسی طرح نیک کاروں کو نیک بدلہ دیتے ہیں۔ یقیناً وہ ہمارے مومن بندوں میں سے تھے ‘۔ اس جملہ کی تفسیر گذر چکی ہے «وَاللهُ سُبْحَانَهُ وَ تَعَالىٰ اَعْلَمُ» ۔
124۔ 1 یعنی اس کے عذاب اور گرفت سے، کہ اسے چھوڑ کر تم غیر اللہ کی عبادت کرتے ہو۔
کیا تم بعل کو پکارتے ہو اور احسن الخالقین کو چھوڑ دیتے ہو
مولانا محمد جوناگڑھی
کیا تم بعل (نامی بت) کو پکارتے ہو؟ اور سب سے بہتر خالق کو چھوڑ دیتے ہو؟
احمد رضا خان بریلوی
کیا بعل کو پوجتے ہو اور چھوڑتے ہو سب سے اچھا پیدا کرنے والے اللہ کو،
علامہ محمد حسین نجفی
کیا تم بعل (نامی بت) کو پکارتے ہو (اور اس کی پرستش کرتے ہو) اور بہترین خالق اللہ کو چھوڑتے ہو۔
عبدالسلام بن محمد
کیا تم بعل کو پکارتے ہواور بنانے والوں میں سے سب سے بہتر کو چھوڑ دیتے ہو؟
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
الیاس علیہ السلام ٭٭
بعض کہتے ہیں الیاس نام تھا ادریس علیہ السلام کا۔ وہب کہتے ہیں ان کا سلسلہ نسب یوں ہے الیاس بن نسی بن فحاص بن عبراز بن ہارون بن عمران علیہ السلام۔ خرقیل علیہ السلام کے بعد یہ بنی اسرائیل میں بھیجے گئے تھے وہ لوگ بعل نامی بت کے پجاری بن گئے تھے۔ انہوں نے دعوت اسلام دی ان کے بادشاہ نے ان سے قبول بھی کرلی لیکن پھر مرتد ہو گیا اور لوگ بھی سرکشی پر تلے رہے اور ایمان سے انکار کر دیا۔ آپ علیہ السلام نے ان پر بد دعا کی تین سال تک بارش نہ برسی۔ اب تو یہ سب تنگ آ گئے اور قسمیں کھا کھا کر اقرار کیا کہ آپ دعا کیجئے بارش برستے ہی ہم سب آپ کی نبوت پر ایمان لائیں گے۔ چنانچہ آپ کی دعا سے مینہ برسا۔ لیکن یہ کفار اپنے وعدے سے ٹل گئے اور اپنے کفر پر اڑ گئے۔ آپ علیہ السلام نے یہ حالت دیکھ کر اللہ سے دعا کی کہ اللہ انہیں اپنی طرف لے لے۔ ان کے ہاتھوں تلے یسع بن اخطوب پلے تھے۔ الیاس علیہ السلام کی اس دعا کے بعد انہیں حکم ملا کہ وہ ایک جگہ جائیں اور وہاں انہیں جو سواری ملے اس پر سوار ہو جائیں وہاں آپ علیہ السلام گئے ایک نوری گھوڑا دکھائی دیا جس پر سوار ہو گئے اللہ نے انہیں بھی نورانی کر دیا اور اپنے پروں سے فرشتوں کے ساتھ اڑنے لگے اور ایک انسانی فرشتہ زمینی اور آسمانی بن گئے۔ اس کی صحت کا علم اللہ ہی کو ہے۔ ہے یہ بات اہل کتاب کی روایت سے۔ الیاس علیہ السلام نے اپنی قوم سے فرمایا کہ ”کیا تم اللہ سے ڈرتے نہیں ہو؟ کہ اس کے سوا دوسروں کی عبادت کرتے ہو؟“ اہل یمن اور قبیلہ ازوشنوہ رب کو بعل کہتے تھے۔ بعل نامی جس بت کی یہ پوجا کرتے تھے وہ ایک عورت تھی۔ ان کے شہر کا نام بعلبک تھا تو اللہ کے نبی الیاس علیہ السلام فرماتے ہیں کہ ”تعجب ہے کہ تم اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر جو خالق کل ہے اور بہترین خلاق ہے ایک بت کو پوج رہے ہو؟ اور اس کو پکارتے رہتے ہو؟ اللہ تعالیٰ تم سب کا اور تم سے اگلے تمہارے باپ دادوں کا رب ہے وہی مستحق عبادت ہے اس کے سوا کسی قسم کی عبادت کسی کے لائق نہیں۔“
لیکن ان لوگوں نے اللہ کے پیارے نبی علیہ السلام کی اس صاف اور خیر خواہانہ نصیحت کو نہ مانا تو اللہ نے بھی انہیں عذاب پر حاضر کر دیا، کہ قیامت کے دن ان سے زبردست بازپرس اور ان پر سخت عذاب ہوں گے۔ ہاں ان میں سے جو توحید پر قائم تھے وہ بچ رہیں گے۔ ہم نے الیاس علیہ السلام کی ثناء جمیل اور ذکر خیر پچھلے لوگوں میں بھی باقی ہی رکھا کہ ہر مسلم کی زبان سے ان پر درود و سلام بھیجا جاتا ہے۔ الیاس میں دوسری لغت الیاسین ہے جیسے اسماعیل میں اسماعین بنو اسد میں اسی طرح یہ لغت ہے۔ ایک تمیمی کے شعر میں یہ لغت اس طرح لایا گیا ہے۔ میکائیل کو میکال اور میکائین بھی کہا جاتا ہے۔ ابراہیم کو ابراہام، اسرائیل کو سزائیں، طور سینا کوہ طور سے سینین۔ غرض یہ لغت عرب میں مشہور و رائج ہے۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی قرأت میں «سَلَام عَلَى آلِ يَاسِين» ہے۔ بعض کہتے ہیں اس سے مراد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ ’ ہم اسی طرح نیک کاروں کو نیک بدلہ دیتے ہیں۔ یقیناً وہ ہمارے مومن بندوں میں سے تھے ‘۔ اس جملہ کی تفسیر گذر چکی ہے «وَاللهُ سُبْحَانَهُ وَ تَعَالىٰ اَعْلَمُ» ۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 125) ➊ { اَتَدْعُوْنَ بَعْلًا:} قرآن کے متعدد مقامات پر لفظ {” بَعْلًا “} شوہر کے معنی میں آیا ہے۔ دیکھیے سورۂ بقرہ (۲۲۸) اور نساء (۱۲۷) اس کا معنی مالک اور آقا بھی ہے۔ مشرک اقوام اس لفظ کو رب یا معبود کے معنی میں استعمال کرتی ہیں، اس لیے الیاس علیہ السلام کی قوم نے اپنے سب سے بڑے بت کا نام ”بعل“ رکھا ہوا تھا۔ الیاس علیہ السلام نے انھیں سمجھایا کہ کیا تم ”بعل“ نامی بت کو پوجتے ہو؟ ➋ { وَ تَذَرُوْنَ اَحْسَنَ الْخَالِقِيْنَ:} اور بنانے والوں میں سب سے بہتر یعنی اللہ تعالیٰ کو چھوڑ دیتے ہو۔ یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا اور بھی کوئی پیدا کرنے والا ہے کہ اللہ تعالیٰ کو سب پیدا کرنے والوں سے بہتر فرمایا؟ جواب اس کا یہ ہے کہ بعض اوقات اللہ تعالیٰ کی پیدا کردہ اشیاء کو جوڑ کر کوئی چیز بنانے پر بھی {”خلق“} کا لفظ بولا جاتا ہے، مثلاً انسان لوہے وغیرہ سے مشینیں اور موٹریں وغیرہ بنا لیتا ہے، مگر ان سب میں وہ اللہ کے بنائے ہوئے مادے کا محتاج ہے۔ اس لیے اس کی بنائی ہوئی ہر چیز بھی اللہ ہی کی (خلق) پیدا کردہ ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «وَ اللّٰهُ خَلَقَكُمْ وَ مَا تَعْمَلُوْنَ» [ الصافات: ۹۶ ] ”حالانکہ اللہ ہی نے تمھیں پیدا کیا اور اسے بھی جو تم کرتے ہو۔“ البتہ ابتدا میں کسی چیز کو پیدا کرنا یا چیزیں جوڑ کر ان میں روح ڈال دینا صرف اس پاک پروردگار کا کام ہے۔ (دیکھیے حج: ۷۳) اس لیے اسے {” اَحْسَنَ الْخَالِقِيْنَ “} فرمایا۔
اُس اللہ کو جو تمہارا اور تمہارے اگلے پچھلے آبا و اجداد کا رب ہے؟"
مولانا محمد جوناگڑھی
اللہ جو تمہارا اور تمہارے اگلے تمام باپ دادوں کا رب ہے
احمد رضا خان بریلوی
جو رب ہے تمہارا اور تمہارے اگلے باپ دادا کا
علامہ محمد حسین نجفی
جو تمہارا بھی پروردگار ہے اور تمہارے پہلے والے آباء و اجداد کا بھی پروردگار ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اللہ کو،جو تمھارا رب ہے اور تمھارے پہلے باپ دادا کا رب ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
الیاس علیہ السلام ٭٭
بعض کہتے ہیں الیاس نام تھا ادریس علیہ السلام کا۔ وہب کہتے ہیں ان کا سلسلہ نسب یوں ہے الیاس بن نسی بن فحاص بن عبراز بن ہارون بن عمران علیہ السلام۔ خرقیل علیہ السلام کے بعد یہ بنی اسرائیل میں بھیجے گئے تھے وہ لوگ بعل نامی بت کے پجاری بن گئے تھے۔ انہوں نے دعوت اسلام دی ان کے بادشاہ نے ان سے قبول بھی کرلی لیکن پھر مرتد ہو گیا اور لوگ بھی سرکشی پر تلے رہے اور ایمان سے انکار کر دیا۔ آپ علیہ السلام نے ان پر بد دعا کی تین سال تک بارش نہ برسی۔ اب تو یہ سب تنگ آ گئے اور قسمیں کھا کھا کر اقرار کیا کہ آپ دعا کیجئے بارش برستے ہی ہم سب آپ کی نبوت پر ایمان لائیں گے۔ چنانچہ آپ کی دعا سے مینہ برسا۔ لیکن یہ کفار اپنے وعدے سے ٹل گئے اور اپنے کفر پر اڑ گئے۔ آپ علیہ السلام نے یہ حالت دیکھ کر اللہ سے دعا کی کہ اللہ انہیں اپنی طرف لے لے۔ ان کے ہاتھوں تلے یسع بن اخطوب پلے تھے۔ الیاس علیہ السلام کی اس دعا کے بعد انہیں حکم ملا کہ وہ ایک جگہ جائیں اور وہاں انہیں جو سواری ملے اس پر سوار ہو جائیں وہاں آپ علیہ السلام گئے ایک نوری گھوڑا دکھائی دیا جس پر سوار ہو گئے اللہ نے انہیں بھی نورانی کر دیا اور اپنے پروں سے فرشتوں کے ساتھ اڑنے لگے اور ایک انسانی فرشتہ زمینی اور آسمانی بن گئے۔ اس کی صحت کا علم اللہ ہی کو ہے۔ ہے یہ بات اہل کتاب کی روایت سے۔ الیاس علیہ السلام نے اپنی قوم سے فرمایا کہ ”کیا تم اللہ سے ڈرتے نہیں ہو؟ کہ اس کے سوا دوسروں کی عبادت کرتے ہو؟“ اہل یمن اور قبیلہ ازوشنوہ رب کو بعل کہتے تھے۔ بعل نامی جس بت کی یہ پوجا کرتے تھے وہ ایک عورت تھی۔ ان کے شہر کا نام بعلبک تھا تو اللہ کے نبی الیاس علیہ السلام فرماتے ہیں کہ ”تعجب ہے کہ تم اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر جو خالق کل ہے اور بہترین خلاق ہے ایک بت کو پوج رہے ہو؟ اور اس کو پکارتے رہتے ہو؟ اللہ تعالیٰ تم سب کا اور تم سے اگلے تمہارے باپ دادوں کا رب ہے وہی مستحق عبادت ہے اس کے سوا کسی قسم کی عبادت کسی کے لائق نہیں۔“
لیکن ان لوگوں نے اللہ کے پیارے نبی علیہ السلام کی اس صاف اور خیر خواہانہ نصیحت کو نہ مانا تو اللہ نے بھی انہیں عذاب پر حاضر کر دیا، کہ قیامت کے دن ان سے زبردست بازپرس اور ان پر سخت عذاب ہوں گے۔ ہاں ان میں سے جو توحید پر قائم تھے وہ بچ رہیں گے۔ ہم نے الیاس علیہ السلام کی ثناء جمیل اور ذکر خیر پچھلے لوگوں میں بھی باقی ہی رکھا کہ ہر مسلم کی زبان سے ان پر درود و سلام بھیجا جاتا ہے۔ الیاس میں دوسری لغت الیاسین ہے جیسے اسماعیل میں اسماعین بنو اسد میں اسی طرح یہ لغت ہے۔ ایک تمیمی کے شعر میں یہ لغت اس طرح لایا گیا ہے۔ میکائیل کو میکال اور میکائین بھی کہا جاتا ہے۔ ابراہیم کو ابراہام، اسرائیل کو سزائیں، طور سینا کوہ طور سے سینین۔ غرض یہ لغت عرب میں مشہور و رائج ہے۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی قرأت میں «سَلَام عَلَى آلِ يَاسِين» ہے۔ بعض کہتے ہیں اس سے مراد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ ’ ہم اسی طرح نیک کاروں کو نیک بدلہ دیتے ہیں۔ یقیناً وہ ہمارے مومن بندوں میں سے تھے ‘۔ اس جملہ کی تفسیر گذر چکی ہے «وَاللهُ سُبْحَانَهُ وَ تَعَالىٰ اَعْلَمُ» ۔
126۔ 1 یعنی اس کی عبادت پرستش کرتے ہو، اس کے نام کی نذر نیاز دیتے اور اس کو حاجت روا سمجھتے ہو، جو پتھر کی مورتی ہے اور جو ہر چیز کا خالق اور اگلوں پچھلوں سب کا رب ہے، اس کو تم نے فراموش کر رکھا ہے۔
(آیت 126) {اللّٰهَ رَبَّكُمْ وَ رَبَّ اٰبَآىِٕكُمُ الْاَوَّلِيْنَ …:} الیاس علیہ السلام نے ان کی توجہ اس طرف مبذول کروائی کہ یہ بعل دیوتا کابت تو تم نے خود گھڑا ہے، یہ بے جان بت ہے، جس کے خالق تم خود ہو۔ اس کی حفاظت بھی تم ہی کرتے ہو، پھر اس کی عبادت بھی کرنے لگتے ہو۔ تمھیں تو لازم تھا کہ اس کی عبادت کرتے جس نے تمھیں بنایا ہے، پھر تمھیں صرف بنایا ہی نہیں بلکہ تمھاری پرورش بھی کرتا ہے، تمھارے آبا و اجداد کا بھی وہی خالق و رازق ہے۔ ایسے بہترین خالق کو چھوڑ کر اپنے گھڑے ہوئے بے جان بت کے سامنے سربسجود ہوتے ہوئے تمھیں شرم نہیں آتی!؟ (کیلانی)
مگر انہوں نے اسے جھٹلا دیا، سو اب یقیناً وہ سزا کے لیے پیش کیے جانے والے ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
لیکن قوم نے انہیں جھٹلایا، پس وه ضرور (عذاب میں) حاضر رکھے جائیں گے
احمد رضا خان بریلوی
پھر انہو ں نے اسے جھٹلایا تو وہ ضرور پکڑے آئیں گے
علامہ محمد حسین نجفی
سو ان لوگوں نے انہیں جھٹلایا۔ لہٰذا وہ (سزا کیلئے) ضرور (پکڑ کر) حاضر کئے جائیں گے۔
عبدالسلام بن محمد
تو انھوں نے اسے جھٹلا دیا، سو یقینا وہ ضرور حاضر کیے جانے والے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
الیاس علیہ السلام ٭٭
بعض کہتے ہیں الیاس نام تھا ادریس علیہ السلام کا۔ وہب کہتے ہیں ان کا سلسلہ نسب یوں ہے الیاس بن نسی بن فحاص بن عبراز بن ہارون بن عمران علیہ السلام۔ خرقیل علیہ السلام کے بعد یہ بنی اسرائیل میں بھیجے گئے تھے وہ لوگ بعل نامی بت کے پجاری بن گئے تھے۔ انہوں نے دعوت اسلام دی ان کے بادشاہ نے ان سے قبول بھی کرلی لیکن پھر مرتد ہو گیا اور لوگ بھی سرکشی پر تلے رہے اور ایمان سے انکار کر دیا۔ آپ علیہ السلام نے ان پر بد دعا کی تین سال تک بارش نہ برسی۔ اب تو یہ سب تنگ آ گئے اور قسمیں کھا کھا کر اقرار کیا کہ آپ دعا کیجئے بارش برستے ہی ہم سب آپ کی نبوت پر ایمان لائیں گے۔ چنانچہ آپ کی دعا سے مینہ برسا۔ لیکن یہ کفار اپنے وعدے سے ٹل گئے اور اپنے کفر پر اڑ گئے۔ آپ علیہ السلام نے یہ حالت دیکھ کر اللہ سے دعا کی کہ اللہ انہیں اپنی طرف لے لے۔ ان کے ہاتھوں تلے یسع بن اخطوب پلے تھے۔ الیاس علیہ السلام کی اس دعا کے بعد انہیں حکم ملا کہ وہ ایک جگہ جائیں اور وہاں انہیں جو سواری ملے اس پر سوار ہو جائیں وہاں آپ علیہ السلام گئے ایک نوری گھوڑا دکھائی دیا جس پر سوار ہو گئے اللہ نے انہیں بھی نورانی کر دیا اور اپنے پروں سے فرشتوں کے ساتھ اڑنے لگے اور ایک انسانی فرشتہ زمینی اور آسمانی بن گئے۔ اس کی صحت کا علم اللہ ہی کو ہے۔ ہے یہ بات اہل کتاب کی روایت سے۔ الیاس علیہ السلام نے اپنی قوم سے فرمایا کہ ”کیا تم اللہ سے ڈرتے نہیں ہو؟ کہ اس کے سوا دوسروں کی عبادت کرتے ہو؟“ اہل یمن اور قبیلہ ازوشنوہ رب کو بعل کہتے تھے۔ بعل نامی جس بت کی یہ پوجا کرتے تھے وہ ایک عورت تھی۔ ان کے شہر کا نام بعلبک تھا تو اللہ کے نبی الیاس علیہ السلام فرماتے ہیں کہ ”تعجب ہے کہ تم اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر جو خالق کل ہے اور بہترین خلاق ہے ایک بت کو پوج رہے ہو؟ اور اس کو پکارتے رہتے ہو؟ اللہ تعالیٰ تم سب کا اور تم سے اگلے تمہارے باپ دادوں کا رب ہے وہی مستحق عبادت ہے اس کے سوا کسی قسم کی عبادت کسی کے لائق نہیں۔“
لیکن ان لوگوں نے اللہ کے پیارے نبی علیہ السلام کی اس صاف اور خیر خواہانہ نصیحت کو نہ مانا تو اللہ نے بھی انہیں عذاب پر حاضر کر دیا، کہ قیامت کے دن ان سے زبردست بازپرس اور ان پر سخت عذاب ہوں گے۔ ہاں ان میں سے جو توحید پر قائم تھے وہ بچ رہیں گے۔ ہم نے الیاس علیہ السلام کی ثناء جمیل اور ذکر خیر پچھلے لوگوں میں بھی باقی ہی رکھا کہ ہر مسلم کی زبان سے ان پر درود و سلام بھیجا جاتا ہے۔ الیاس میں دوسری لغت الیاسین ہے جیسے اسماعیل میں اسماعین بنو اسد میں اسی طرح یہ لغت ہے۔ ایک تمیمی کے شعر میں یہ لغت اس طرح لایا گیا ہے۔ میکائیل کو میکال اور میکائین بھی کہا جاتا ہے۔ ابراہیم کو ابراہام، اسرائیل کو سزائیں، طور سینا کوہ طور سے سینین۔ غرض یہ لغت عرب میں مشہور و رائج ہے۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی قرأت میں «سَلَام عَلَى آلِ يَاسِين» ہے۔ بعض کہتے ہیں اس سے مراد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ ’ ہم اسی طرح نیک کاروں کو نیک بدلہ دیتے ہیں۔ یقیناً وہ ہمارے مومن بندوں میں سے تھے ‘۔ اس جملہ کی تفسیر گذر چکی ہے «وَاللهُ سُبْحَانَهُ وَ تَعَالىٰ اَعْلَمُ» ۔
127۔ 1 یعنی توحید و ایمان سے انکار کی پاداش میں جہنم کی سزا بھگتیں گے۔
(آیت 127) {فَكَذَّبُوْهُ فَاِنَّهُمْ لَمُحْضَرُوْنَ:} یعنی وہ جھٹلانے کی پاداش میں جہنم میں حاضر کیے جانے والے ہیں، جہاں انھیں جھٹلانے کی سزا مل کر رہے گی۔
ہاں البتہ جو اللہ کے مخلص اور برگزیدہ بندے ہیں وہ اس سے مستثنیٰ ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
مگر اللہ کے وہ بندے جو چنے ہوئے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
الیاس علیہ السلام ٭٭
بعض کہتے ہیں الیاس نام تھا ادریس علیہ السلام کا۔ وہب کہتے ہیں ان کا سلسلہ نسب یوں ہے الیاس بن نسی بن فحاص بن عبراز بن ہارون بن عمران علیہ السلام۔ خرقیل علیہ السلام کے بعد یہ بنی اسرائیل میں بھیجے گئے تھے وہ لوگ بعل نامی بت کے پجاری بن گئے تھے۔ انہوں نے دعوت اسلام دی ان کے بادشاہ نے ان سے قبول بھی کرلی لیکن پھر مرتد ہو گیا اور لوگ بھی سرکشی پر تلے رہے اور ایمان سے انکار کر دیا۔ آپ علیہ السلام نے ان پر بد دعا کی تین سال تک بارش نہ برسی۔ اب تو یہ سب تنگ آ گئے اور قسمیں کھا کھا کر اقرار کیا کہ آپ دعا کیجئے بارش برستے ہی ہم سب آپ کی نبوت پر ایمان لائیں گے۔ چنانچہ آپ کی دعا سے مینہ برسا۔ لیکن یہ کفار اپنے وعدے سے ٹل گئے اور اپنے کفر پر اڑ گئے۔ آپ علیہ السلام نے یہ حالت دیکھ کر اللہ سے دعا کی کہ اللہ انہیں اپنی طرف لے لے۔ ان کے ہاتھوں تلے یسع بن اخطوب پلے تھے۔ الیاس علیہ السلام کی اس دعا کے بعد انہیں حکم ملا کہ وہ ایک جگہ جائیں اور وہاں انہیں جو سواری ملے اس پر سوار ہو جائیں وہاں آپ علیہ السلام گئے ایک نوری گھوڑا دکھائی دیا جس پر سوار ہو گئے اللہ نے انہیں بھی نورانی کر دیا اور اپنے پروں سے فرشتوں کے ساتھ اڑنے لگے اور ایک انسانی فرشتہ زمینی اور آسمانی بن گئے۔ اس کی صحت کا علم اللہ ہی کو ہے۔ ہے یہ بات اہل کتاب کی روایت سے۔ الیاس علیہ السلام نے اپنی قوم سے فرمایا کہ ”کیا تم اللہ سے ڈرتے نہیں ہو؟ کہ اس کے سوا دوسروں کی عبادت کرتے ہو؟“ اہل یمن اور قبیلہ ازوشنوہ رب کو بعل کہتے تھے۔ بعل نامی جس بت کی یہ پوجا کرتے تھے وہ ایک عورت تھی۔ ان کے شہر کا نام بعلبک تھا تو اللہ کے نبی الیاس علیہ السلام فرماتے ہیں کہ ”تعجب ہے کہ تم اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر جو خالق کل ہے اور بہترین خلاق ہے ایک بت کو پوج رہے ہو؟ اور اس کو پکارتے رہتے ہو؟ اللہ تعالیٰ تم سب کا اور تم سے اگلے تمہارے باپ دادوں کا رب ہے وہی مستحق عبادت ہے اس کے سوا کسی قسم کی عبادت کسی کے لائق نہیں۔“
لیکن ان لوگوں نے اللہ کے پیارے نبی علیہ السلام کی اس صاف اور خیر خواہانہ نصیحت کو نہ مانا تو اللہ نے بھی انہیں عذاب پر حاضر کر دیا، کہ قیامت کے دن ان سے زبردست بازپرس اور ان پر سخت عذاب ہوں گے۔ ہاں ان میں سے جو توحید پر قائم تھے وہ بچ رہیں گے۔ ہم نے الیاس علیہ السلام کی ثناء جمیل اور ذکر خیر پچھلے لوگوں میں بھی باقی ہی رکھا کہ ہر مسلم کی زبان سے ان پر درود و سلام بھیجا جاتا ہے۔ الیاس میں دوسری لغت الیاسین ہے جیسے اسماعیل میں اسماعین بنو اسد میں اسی طرح یہ لغت ہے۔ ایک تمیمی کے شعر میں یہ لغت اس طرح لایا گیا ہے۔ میکائیل کو میکال اور میکائین بھی کہا جاتا ہے۔ ابراہیم کو ابراہام، اسرائیل کو سزائیں، طور سینا کوہ طور سے سینین۔ غرض یہ لغت عرب میں مشہور و رائج ہے۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی قرأت میں «سَلَام عَلَى آلِ يَاسِين» ہے۔ بعض کہتے ہیں اس سے مراد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ ’ ہم اسی طرح نیک کاروں کو نیک بدلہ دیتے ہیں۔ یقیناً وہ ہمارے مومن بندوں میں سے تھے ‘۔ اس جملہ کی تفسیر گذر چکی ہے «وَاللهُ سُبْحَانَهُ وَ تَعَالىٰ اَعْلَمُ» ۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 128){ اِلَّا عِبَادَ اللّٰهِ الْمُخْلَصِيْنَ:} یعنی الیاس علیہ السلام کی ساری قوم نے انھیں جھٹلایا، مگر اللہ کے چنے ہوئے بندوں نے نہیں جھٹلایا، بلکہ وہ ان پر ایمان لے آئے، اس لیے وہ عذاب سے محفوظ رہے اور رہیں گے۔
اور الیاسؑ کا ذکر خیر ہم نے بعد کی نسلوں میں باقی رکھا
مولانا محمد جوناگڑھی
ہم نے (الیاس علیہ السلام) کا ذکر خیر پچھلوں میں بھی باقی رکھا
احمد رضا خان بریلوی
اور ہم نے پچھلوں میں اس کی ثنا باقی رکھی،
علامہ محمد حسین نجفی
اور ہم نے آئندہ آنے والوں میں ان کا ذکرِ خیر باقی رکھا۔
عبدالسلام بن محمد
اور ہم نے پیچھے آنے والوں میں اس کے لیے یہ بات چھوڑ دی۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
الیاس علیہ السلام ٭٭
بعض کہتے ہیں الیاس نام تھا ادریس علیہ السلام کا۔ وہب کہتے ہیں ان کا سلسلہ نسب یوں ہے الیاس بن نسی بن فحاص بن عبراز بن ہارون بن عمران علیہ السلام۔ خرقیل علیہ السلام کے بعد یہ بنی اسرائیل میں بھیجے گئے تھے وہ لوگ بعل نامی بت کے پجاری بن گئے تھے۔ انہوں نے دعوت اسلام دی ان کے بادشاہ نے ان سے قبول بھی کرلی لیکن پھر مرتد ہو گیا اور لوگ بھی سرکشی پر تلے رہے اور ایمان سے انکار کر دیا۔ آپ علیہ السلام نے ان پر بد دعا کی تین سال تک بارش نہ برسی۔ اب تو یہ سب تنگ آ گئے اور قسمیں کھا کھا کر اقرار کیا کہ آپ دعا کیجئے بارش برستے ہی ہم سب آپ کی نبوت پر ایمان لائیں گے۔ چنانچہ آپ کی دعا سے مینہ برسا۔ لیکن یہ کفار اپنے وعدے سے ٹل گئے اور اپنے کفر پر اڑ گئے۔ آپ علیہ السلام نے یہ حالت دیکھ کر اللہ سے دعا کی کہ اللہ انہیں اپنی طرف لے لے۔ ان کے ہاتھوں تلے یسع بن اخطوب پلے تھے۔ الیاس علیہ السلام کی اس دعا کے بعد انہیں حکم ملا کہ وہ ایک جگہ جائیں اور وہاں انہیں جو سواری ملے اس پر سوار ہو جائیں وہاں آپ علیہ السلام گئے ایک نوری گھوڑا دکھائی دیا جس پر سوار ہو گئے اللہ نے انہیں بھی نورانی کر دیا اور اپنے پروں سے فرشتوں کے ساتھ اڑنے لگے اور ایک انسانی فرشتہ زمینی اور آسمانی بن گئے۔ اس کی صحت کا علم اللہ ہی کو ہے۔ ہے یہ بات اہل کتاب کی روایت سے۔ الیاس علیہ السلام نے اپنی قوم سے فرمایا کہ ”کیا تم اللہ سے ڈرتے نہیں ہو؟ کہ اس کے سوا دوسروں کی عبادت کرتے ہو؟“ اہل یمن اور قبیلہ ازوشنوہ رب کو بعل کہتے تھے۔ بعل نامی جس بت کی یہ پوجا کرتے تھے وہ ایک عورت تھی۔ ان کے شہر کا نام بعلبک تھا تو اللہ کے نبی الیاس علیہ السلام فرماتے ہیں کہ ”تعجب ہے کہ تم اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر جو خالق کل ہے اور بہترین خلاق ہے ایک بت کو پوج رہے ہو؟ اور اس کو پکارتے رہتے ہو؟ اللہ تعالیٰ تم سب کا اور تم سے اگلے تمہارے باپ دادوں کا رب ہے وہی مستحق عبادت ہے اس کے سوا کسی قسم کی عبادت کسی کے لائق نہیں۔“
لیکن ان لوگوں نے اللہ کے پیارے نبی علیہ السلام کی اس صاف اور خیر خواہانہ نصیحت کو نہ مانا تو اللہ نے بھی انہیں عذاب پر حاضر کر دیا، کہ قیامت کے دن ان سے زبردست بازپرس اور ان پر سخت عذاب ہوں گے۔ ہاں ان میں سے جو توحید پر قائم تھے وہ بچ رہیں گے۔ ہم نے الیاس علیہ السلام کی ثناء جمیل اور ذکر خیر پچھلے لوگوں میں بھی باقی ہی رکھا کہ ہر مسلم کی زبان سے ان پر درود و سلام بھیجا جاتا ہے۔ الیاس میں دوسری لغت الیاسین ہے جیسے اسماعیل میں اسماعین بنو اسد میں اسی طرح یہ لغت ہے۔ ایک تمیمی کے شعر میں یہ لغت اس طرح لایا گیا ہے۔ میکائیل کو میکال اور میکائین بھی کہا جاتا ہے۔ ابراہیم کو ابراہام، اسرائیل کو سزائیں، طور سینا کوہ طور سے سینین۔ غرض یہ لغت عرب میں مشہور و رائج ہے۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی قرأت میں «سَلَام عَلَى آلِ يَاسِين» ہے۔ بعض کہتے ہیں اس سے مراد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ ’ ہم اسی طرح نیک کاروں کو نیک بدلہ دیتے ہیں۔ یقیناً وہ ہمارے مومن بندوں میں سے تھے ‘۔ اس جملہ کی تفسیر گذر چکی ہے «وَاللهُ سُبْحَانَهُ وَ تَعَالىٰ اَعْلَمُ» ۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 129تا132) {وَ تَرَكْنَا عَلَيْهِ فِي الْاٰخِرِيْنَ …:} ان آیات کی تفسیر پیچھے آیات (۷۸ تا ۸۱) کے تحت گزر چکی ہے۔ {” اِلْ يَاسِيْنَ “} الیاس علیہ السلام ہی کا دوسرا نام ہے، جیسے ایک ہی پہاڑ کو قرآن میں ”طور سینا“ بھی کہا گیا ہے اور ”طور سينين“ بھی۔
بعض کہتے ہیں الیاس نام تھا ادریس علیہ السلام کا۔ وہب کہتے ہیں ان کا سلسلہ نسب یوں ہے الیاس بن نسی بن فحاص بن عبراز بن ہارون بن عمران علیہ السلام۔ خرقیل علیہ السلام کے بعد یہ بنی اسرائیل میں بھیجے گئے تھے وہ لوگ بعل نامی بت کے پجاری بن گئے تھے۔ انہوں نے دعوت اسلام دی ان کے بادشاہ نے ان سے قبول بھی کرلی لیکن پھر مرتد ہو گیا اور لوگ بھی سرکشی پر تلے رہے اور ایمان سے انکار کر دیا۔ آپ علیہ السلام نے ان پر بد دعا کی تین سال تک بارش نہ برسی۔ اب تو یہ سب تنگ آ گئے اور قسمیں کھا کھا کر اقرار کیا کہ آپ دعا کیجئے بارش برستے ہی ہم سب آپ کی نبوت پر ایمان لائیں گے۔ چنانچہ آپ کی دعا سے مینہ برسا۔ لیکن یہ کفار اپنے وعدے سے ٹل گئے اور اپنے کفر پر اڑ گئے۔ آپ علیہ السلام نے یہ حالت دیکھ کر اللہ سے دعا کی کہ اللہ انہیں اپنی طرف لے لے۔ ان کے ہاتھوں تلے یسع بن اخطوب پلے تھے۔ الیاس علیہ السلام کی اس دعا کے بعد انہیں حکم ملا کہ وہ ایک جگہ جائیں اور وہاں انہیں جو سواری ملے اس پر سوار ہو جائیں وہاں آپ علیہ السلام گئے ایک نوری گھوڑا دکھائی دیا جس پر سوار ہو گئے اللہ نے انہیں بھی نورانی کر دیا اور اپنے پروں سے فرشتوں کے ساتھ اڑنے لگے اور ایک انسانی فرشتہ زمینی اور آسمانی بن گئے۔ اس کی صحت کا علم اللہ ہی کو ہے۔ ہے یہ بات اہل کتاب کی روایت سے۔ الیاس علیہ السلام نے اپنی قوم سے فرمایا کہ ”کیا تم اللہ سے ڈرتے نہیں ہو؟ کہ اس کے سوا دوسروں کی عبادت کرتے ہو؟“ اہل یمن اور قبیلہ ازوشنوہ رب کو بعل کہتے تھے۔ بعل نامی جس بت کی یہ پوجا کرتے تھے وہ ایک عورت تھی۔ ان کے شہر کا نام بعلبک تھا تو اللہ کے نبی الیاس علیہ السلام فرماتے ہیں کہ ”تعجب ہے کہ تم اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر جو خالق کل ہے اور بہترین خلاق ہے ایک بت کو پوج رہے ہو؟ اور اس کو پکارتے رہتے ہو؟ اللہ تعالیٰ تم سب کا اور تم سے اگلے تمہارے باپ دادوں کا رب ہے وہی مستحق عبادت ہے اس کے سوا کسی قسم کی عبادت کسی کے لائق نہیں۔“
لیکن ان لوگوں نے اللہ کے پیارے نبی علیہ السلام کی اس صاف اور خیر خواہانہ نصیحت کو نہ مانا تو اللہ نے بھی انہیں عذاب پر حاضر کر دیا، کہ قیامت کے دن ان سے زبردست بازپرس اور ان پر سخت عذاب ہوں گے۔ ہاں ان میں سے جو توحید پر قائم تھے وہ بچ رہیں گے۔ ہم نے الیاس علیہ السلام کی ثناء جمیل اور ذکر خیر پچھلے لوگوں میں بھی باقی ہی رکھا کہ ہر مسلم کی زبان سے ان پر درود و سلام بھیجا جاتا ہے۔ الیاس میں دوسری لغت الیاسین ہے جیسے اسماعیل میں اسماعین بنو اسد میں اسی طرح یہ لغت ہے۔ ایک تمیمی کے شعر میں یہ لغت اس طرح لایا گیا ہے۔ میکائیل کو میکال اور میکائین بھی کہا جاتا ہے۔ ابراہیم کو ابراہام، اسرائیل کو سزائیں، طور سینا کوہ طور سے سینین۔ غرض یہ لغت عرب میں مشہور و رائج ہے۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی قرأت میں «سَلَام عَلَى آلِ يَاسِين» ہے۔ بعض کہتے ہیں اس سے مراد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ ’ ہم اسی طرح نیک کاروں کو نیک بدلہ دیتے ہیں۔ یقیناً وہ ہمارے مومن بندوں میں سے تھے ‘۔ اس جملہ کی تفسیر گذر چکی ہے «وَاللهُ سُبْحَانَهُ وَ تَعَالىٰ اَعْلَمُ» ۔
130۔ 1 الیاسین، الیاس ؑ کا ہی ایک تلفظ ہے، جیسے طور سینا کو طور سینین بھی کہتے ہیں، حضرت الیاس ؑ کو دوسری کتابوں میں (ایلیا) بھی کہا گیا ہے۔
بعض کہتے ہیں الیاس نام تھا ادریس علیہ السلام کا۔ وہب کہتے ہیں ان کا سلسلہ نسب یوں ہے الیاس بن نسی بن فحاص بن عبراز بن ہارون بن عمران علیہ السلام۔ خرقیل علیہ السلام کے بعد یہ بنی اسرائیل میں بھیجے گئے تھے وہ لوگ بعل نامی بت کے پجاری بن گئے تھے۔ انہوں نے دعوت اسلام دی ان کے بادشاہ نے ان سے قبول بھی کرلی لیکن پھر مرتد ہو گیا اور لوگ بھی سرکشی پر تلے رہے اور ایمان سے انکار کر دیا۔ آپ علیہ السلام نے ان پر بد دعا کی تین سال تک بارش نہ برسی۔ اب تو یہ سب تنگ آ گئے اور قسمیں کھا کھا کر اقرار کیا کہ آپ دعا کیجئے بارش برستے ہی ہم سب آپ کی نبوت پر ایمان لائیں گے۔ چنانچہ آپ کی دعا سے مینہ برسا۔ لیکن یہ کفار اپنے وعدے سے ٹل گئے اور اپنے کفر پر اڑ گئے۔ آپ علیہ السلام نے یہ حالت دیکھ کر اللہ سے دعا کی کہ اللہ انہیں اپنی طرف لے لے۔ ان کے ہاتھوں تلے یسع بن اخطوب پلے تھے۔ الیاس علیہ السلام کی اس دعا کے بعد انہیں حکم ملا کہ وہ ایک جگہ جائیں اور وہاں انہیں جو سواری ملے اس پر سوار ہو جائیں وہاں آپ علیہ السلام گئے ایک نوری گھوڑا دکھائی دیا جس پر سوار ہو گئے اللہ نے انہیں بھی نورانی کر دیا اور اپنے پروں سے فرشتوں کے ساتھ اڑنے لگے اور ایک انسانی فرشتہ زمینی اور آسمانی بن گئے۔ اس کی صحت کا علم اللہ ہی کو ہے۔ ہے یہ بات اہل کتاب کی روایت سے۔ الیاس علیہ السلام نے اپنی قوم سے فرمایا کہ ”کیا تم اللہ سے ڈرتے نہیں ہو؟ کہ اس کے سوا دوسروں کی عبادت کرتے ہو؟“ اہل یمن اور قبیلہ ازوشنوہ رب کو بعل کہتے تھے۔ بعل نامی جس بت کی یہ پوجا کرتے تھے وہ ایک عورت تھی۔ ان کے شہر کا نام بعلبک تھا تو اللہ کے نبی الیاس علیہ السلام فرماتے ہیں کہ ”تعجب ہے کہ تم اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر جو خالق کل ہے اور بہترین خلاق ہے ایک بت کو پوج رہے ہو؟ اور اس کو پکارتے رہتے ہو؟ اللہ تعالیٰ تم سب کا اور تم سے اگلے تمہارے باپ دادوں کا رب ہے وہی مستحق عبادت ہے اس کے سوا کسی قسم کی عبادت کسی کے لائق نہیں۔“
لیکن ان لوگوں نے اللہ کے پیارے نبی علیہ السلام کی اس صاف اور خیر خواہانہ نصیحت کو نہ مانا تو اللہ نے بھی انہیں عذاب پر حاضر کر دیا، کہ قیامت کے دن ان سے زبردست بازپرس اور ان پر سخت عذاب ہوں گے۔ ہاں ان میں سے جو توحید پر قائم تھے وہ بچ رہیں گے۔ ہم نے الیاس علیہ السلام کی ثناء جمیل اور ذکر خیر پچھلے لوگوں میں بھی باقی ہی رکھا کہ ہر مسلم کی زبان سے ان پر درود و سلام بھیجا جاتا ہے۔ الیاس میں دوسری لغت الیاسین ہے جیسے اسماعیل میں اسماعین بنو اسد میں اسی طرح یہ لغت ہے۔ ایک تمیمی کے شعر میں یہ لغت اس طرح لایا گیا ہے۔ میکائیل کو میکال اور میکائین بھی کہا جاتا ہے۔ ابراہیم کو ابراہام، اسرائیل کو سزائیں، طور سینا کوہ طور سے سینین۔ غرض یہ لغت عرب میں مشہور و رائج ہے۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی قرأت میں «سَلَام عَلَى آلِ يَاسِين» ہے۔ بعض کہتے ہیں اس سے مراد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ ’ ہم اسی طرح نیک کاروں کو نیک بدلہ دیتے ہیں۔ یقیناً وہ ہمارے مومن بندوں میں سے تھے ‘۔ اس جملہ کی تفسیر گذر چکی ہے «وَاللهُ سُبْحَانَهُ وَ تَعَالىٰ اَعْلَمُ» ۔
بیشک وہ ہمارے اعلیٰ درجہ کے کامل الایمان بندوں میں ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
بیشک وہ مؤمن بندوں میں سے تھے۔
عبدالسلام بن محمد
یقینا وہ ہمارے مومن بندوں میں سے تھا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
الیاس علیہ السلام ٭٭
بعض کہتے ہیں الیاس نام تھا ادریس علیہ السلام کا۔ وہب کہتے ہیں ان کا سلسلہ نسب یوں ہے الیاس بن نسی بن فحاص بن عبراز بن ہارون بن عمران علیہ السلام۔ خرقیل علیہ السلام کے بعد یہ بنی اسرائیل میں بھیجے گئے تھے وہ لوگ بعل نامی بت کے پجاری بن گئے تھے۔ انہوں نے دعوت اسلام دی ان کے بادشاہ نے ان سے قبول بھی کرلی لیکن پھر مرتد ہو گیا اور لوگ بھی سرکشی پر تلے رہے اور ایمان سے انکار کر دیا۔ آپ علیہ السلام نے ان پر بد دعا کی تین سال تک بارش نہ برسی۔ اب تو یہ سب تنگ آ گئے اور قسمیں کھا کھا کر اقرار کیا کہ آپ دعا کیجئے بارش برستے ہی ہم سب آپ کی نبوت پر ایمان لائیں گے۔ چنانچہ آپ کی دعا سے مینہ برسا۔ لیکن یہ کفار اپنے وعدے سے ٹل گئے اور اپنے کفر پر اڑ گئے۔ آپ علیہ السلام نے یہ حالت دیکھ کر اللہ سے دعا کی کہ اللہ انہیں اپنی طرف لے لے۔ ان کے ہاتھوں تلے یسع بن اخطوب پلے تھے۔ الیاس علیہ السلام کی اس دعا کے بعد انہیں حکم ملا کہ وہ ایک جگہ جائیں اور وہاں انہیں جو سواری ملے اس پر سوار ہو جائیں وہاں آپ علیہ السلام گئے ایک نوری گھوڑا دکھائی دیا جس پر سوار ہو گئے اللہ نے انہیں بھی نورانی کر دیا اور اپنے پروں سے فرشتوں کے ساتھ اڑنے لگے اور ایک انسانی فرشتہ زمینی اور آسمانی بن گئے۔ اس کی صحت کا علم اللہ ہی کو ہے۔ ہے یہ بات اہل کتاب کی روایت سے۔ الیاس علیہ السلام نے اپنی قوم سے فرمایا کہ ”کیا تم اللہ سے ڈرتے نہیں ہو؟ کہ اس کے سوا دوسروں کی عبادت کرتے ہو؟“ اہل یمن اور قبیلہ ازوشنوہ رب کو بعل کہتے تھے۔ بعل نامی جس بت کی یہ پوجا کرتے تھے وہ ایک عورت تھی۔ ان کے شہر کا نام بعلبک تھا تو اللہ کے نبی الیاس علیہ السلام فرماتے ہیں کہ ”تعجب ہے کہ تم اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر جو خالق کل ہے اور بہترین خلاق ہے ایک بت کو پوج رہے ہو؟ اور اس کو پکارتے رہتے ہو؟ اللہ تعالیٰ تم سب کا اور تم سے اگلے تمہارے باپ دادوں کا رب ہے وہی مستحق عبادت ہے اس کے سوا کسی قسم کی عبادت کسی کے لائق نہیں۔“
لیکن ان لوگوں نے اللہ کے پیارے نبی علیہ السلام کی اس صاف اور خیر خواہانہ نصیحت کو نہ مانا تو اللہ نے بھی انہیں عذاب پر حاضر کر دیا، کہ قیامت کے دن ان سے زبردست بازپرس اور ان پر سخت عذاب ہوں گے۔ ہاں ان میں سے جو توحید پر قائم تھے وہ بچ رہیں گے۔ ہم نے الیاس علیہ السلام کی ثناء جمیل اور ذکر خیر پچھلے لوگوں میں بھی باقی ہی رکھا کہ ہر مسلم کی زبان سے ان پر درود و سلام بھیجا جاتا ہے۔ الیاس میں دوسری لغت الیاسین ہے جیسے اسماعیل میں اسماعین بنو اسد میں اسی طرح یہ لغت ہے۔ ایک تمیمی کے شعر میں یہ لغت اس طرح لایا گیا ہے۔ میکائیل کو میکال اور میکائین بھی کہا جاتا ہے۔ ابراہیم کو ابراہام، اسرائیل کو سزائیں، طور سینا کوہ طور سے سینین۔ غرض یہ لغت عرب میں مشہور و رائج ہے۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی قرأت میں «سَلَام عَلَى آلِ يَاسِين» ہے۔ بعض کہتے ہیں اس سے مراد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ ’ ہم اسی طرح نیک کاروں کو نیک بدلہ دیتے ہیں۔ یقیناً وہ ہمارے مومن بندوں میں سے تھے ‘۔ اس جملہ کی تفسیر گذر چکی ہے «وَاللهُ سُبْحَانَهُ وَ تَعَالىٰ اَعْلَمُ» ۔
اور لوطؑ بھی انہی لوگوں میں سے تھا جو رسول بنا کر بھیجے گئے ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
بیشک لوط (علیہ السلام بھی) پیغمبروں میں سے تھے
احمد رضا خان بریلوی
اور بیشک لوط پیغمبروں میں ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
اور یقیناً لوط(ع) (بھی) پیغمبروں میں سے تھے۔
عبدالسلام بن محمد
اور بلاشبہ لوط یقینا رسولوں میں سے تھا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
قوم لوط علیہ السلام ایک عبرت کا مقام ٭٭
اللہ تعالیٰ کے بندے اور اس کے رسول لوط علیہ السلام کا بیان ہو رہا ہے کہ ’ انہیں بھی ان کی قوم نے جھٹلایا۔ جس پر اللہ کے عذاب ان پر برس پڑے اور اللہ نے اپنے پیارے لوط علیہ السلام کو مع ان کے گھر والوں کے نجات دے دی۔ لیکن ان کی بیوی غارت ہوئی قوم کے ساتھ ہی ہلاک ہوئی اور ساری قوم بھی تباہ ہوئی۔ قسم قسم کے عذاب ان پر آئے اور جس جگہ وو رہتے تھے وہاں ایک بدبودار اور جھیل بن گئی جس کا پانی بدمزہ بدبو بد رنگ ہے جو آنے جانے والوں کے راستے میں ہی پڑی ہے۔ تم تو دن رات وہاں سے آتے جاتے رہتے ہو اور اس خوفناک منظر اور بھیانک مقام کو صبح شام دیکھتے رہتے ہو۔ کیا اس معائنہ کے بعد بھی عبرت حاصل نہیں کرتے اور سوچتے سمجھتے نہیں ہو؟ کس طرح یہ برباد کر دیئے گئے؟ ایسا نہ ہو کہ یہی عذاب تم پر بھی آ جائیں ‘۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 133تا136) {وَ اِنَّ لُوْطًا لَّمِنَ الْمُرْسَلِيْنَ …:} ان آیات کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورۂ ہود (۷۷ تا ۸۳) اور سورۂ حجر (۵۷ تا ۷۷)۔
یاد کرو جب ہم نے اس کو اور اس کے سب گھر والوں کو نجات دی
مولانا محمد جوناگڑھی
ہم نے انہیں اور ان کے گھر والوں کو سب کو نجات دی
احمد رضا خان بریلوی
جبکہ ہم نے اسے اور اس کے سب گھر والوں کو نجات بخشی،
علامہ محمد حسین نجفی
جب کہ ہم نے انہیں اور ان کے گھر والوں کو نجات دی۔
عبدالسلام بن محمد
جب ہم نے اسے اور اس کے سب گھر والوں کو نجات دی ۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
قوم لوط علیہ السلام ایک عبرت کا مقام ٭٭
اللہ تعالیٰ کے بندے اور اس کے رسول لوط علیہ السلام کا بیان ہو رہا ہے کہ ’ انہیں بھی ان کی قوم نے جھٹلایا۔ جس پر اللہ کے عذاب ان پر برس پڑے اور اللہ نے اپنے پیارے لوط علیہ السلام کو مع ان کے گھر والوں کے نجات دے دی۔ لیکن ان کی بیوی غارت ہوئی قوم کے ساتھ ہی ہلاک ہوئی اور ساری قوم بھی تباہ ہوئی۔ قسم قسم کے عذاب ان پر آئے اور جس جگہ وو رہتے تھے وہاں ایک بدبودار اور جھیل بن گئی جس کا پانی بدمزہ بدبو بد رنگ ہے جو آنے جانے والوں کے راستے میں ہی پڑی ہے۔ تم تو دن رات وہاں سے آتے جاتے رہتے ہو اور اس خوفناک منظر اور بھیانک مقام کو صبح شام دیکھتے رہتے ہو۔ کیا اس معائنہ کے بعد بھی عبرت حاصل نہیں کرتے اور سوچتے سمجھتے نہیں ہو؟ کس طرح یہ برباد کر دیئے گئے؟ ایسا نہ ہو کہ یہی عذاب تم پر بھی آ جائیں ‘۔
سوائے ایک بڑھیا کے جو پیچھے رہ جانے والوں میں سے تھی
مولانا محمد جوناگڑھی
بجز اس بڑھیا کے جو پیچھے ره جانے والوں میں سے ره گئی
احمد رضا خان بریلوی
مگر ایک بڑھیا کہ رہ جانے والوں میں ہوئی
علامہ محمد حسین نجفی
سوائے ایک بڑھیا (بیوی) کے جو پیچھے رہ جانے والوں میں سے تھی۔
عبدالسلام بن محمد
سوائے ایک بڑھیا کے جو پیچھے رہ جانے والوں میں سے تھی۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
قوم لوط علیہ السلام ایک عبرت کا مقام ٭٭
اللہ تعالیٰ کے بندے اور اس کے رسول لوط علیہ السلام کا بیان ہو رہا ہے کہ ’ انہیں بھی ان کی قوم نے جھٹلایا۔ جس پر اللہ کے عذاب ان پر برس پڑے اور اللہ نے اپنے پیارے لوط علیہ السلام کو مع ان کے گھر والوں کے نجات دے دی۔ لیکن ان کی بیوی غارت ہوئی قوم کے ساتھ ہی ہلاک ہوئی اور ساری قوم بھی تباہ ہوئی۔ قسم قسم کے عذاب ان پر آئے اور جس جگہ وو رہتے تھے وہاں ایک بدبودار اور جھیل بن گئی جس کا پانی بدمزہ بدبو بد رنگ ہے جو آنے جانے والوں کے راستے میں ہی پڑی ہے۔ تم تو دن رات وہاں سے آتے جاتے رہتے ہو اور اس خوفناک منظر اور بھیانک مقام کو صبح شام دیکھتے رہتے ہو۔ کیا اس معائنہ کے بعد بھی عبرت حاصل نہیں کرتے اور سوچتے سمجھتے نہیں ہو؟ کس طرح یہ برباد کر دیئے گئے؟ ایسا نہ ہو کہ یہی عذاب تم پر بھی آ جائیں ‘۔
135۔ 1 اس سے مراد حضرت لوط ؑ کی بیوی ہے جو کافرہ تھی، یہ اہل ایمان کے ساتھ اس بستی سے باہر نہیں گئی تھی، کیونکہ اسے اپنی قوم کے ساتھ ہلاک ہونا تھا، چناچہ وہ بھی ہلاک کردی گئی۔
اللہ تعالیٰ کے بندے اور اس کے رسول لوط علیہ السلام کا بیان ہو رہا ہے کہ ’ انہیں بھی ان کی قوم نے جھٹلایا۔ جس پر اللہ کے عذاب ان پر برس پڑے اور اللہ نے اپنے پیارے لوط علیہ السلام کو مع ان کے گھر والوں کے نجات دے دی۔ لیکن ان کی بیوی غارت ہوئی قوم کے ساتھ ہی ہلاک ہوئی اور ساری قوم بھی تباہ ہوئی۔ قسم قسم کے عذاب ان پر آئے اور جس جگہ وو رہتے تھے وہاں ایک بدبودار اور جھیل بن گئی جس کا پانی بدمزہ بدبو بد رنگ ہے جو آنے جانے والوں کے راستے میں ہی پڑی ہے۔ تم تو دن رات وہاں سے آتے جاتے رہتے ہو اور اس خوفناک منظر اور بھیانک مقام کو صبح شام دیکھتے رہتے ہو۔ کیا اس معائنہ کے بعد بھی عبرت حاصل نہیں کرتے اور سوچتے سمجھتے نہیں ہو؟ کس طرح یہ برباد کر دیئے گئے؟ ایسا نہ ہو کہ یہی عذاب تم پر بھی آ جائیں ‘۔
اور تم تو صبح ہونے پر ان کی بستیوں کے پاس سے گزرتے ہو
احمد رضا خان بریلوی
او ربیشک تم ان پر گزرتے ہو صبح کو،
علامہ محمد حسین نجفی
اور تم لوگ صبح بھی ان (کی ویران شدہ بستیوں) پر سے گزرتے ہو۔
عبدالسلام بن محمد
اور بلا شبہ تم یقینا صبح جاتے ہوئے ان پر سے گزرتے ہو۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
قوم لوط علیہ السلام ایک عبرت کا مقام ٭٭
اللہ تعالیٰ کے بندے اور اس کے رسول لوط علیہ السلام کا بیان ہو رہا ہے کہ ’ انہیں بھی ان کی قوم نے جھٹلایا۔ جس پر اللہ کے عذاب ان پر برس پڑے اور اللہ نے اپنے پیارے لوط علیہ السلام کو مع ان کے گھر والوں کے نجات دے دی۔ لیکن ان کی بیوی غارت ہوئی قوم کے ساتھ ہی ہلاک ہوئی اور ساری قوم بھی تباہ ہوئی۔ قسم قسم کے عذاب ان پر آئے اور جس جگہ وو رہتے تھے وہاں ایک بدبودار اور جھیل بن گئی جس کا پانی بدمزہ بدبو بد رنگ ہے جو آنے جانے والوں کے راستے میں ہی پڑی ہے۔ تم تو دن رات وہاں سے آتے جاتے رہتے ہو اور اس خوفناک منظر اور بھیانک مقام کو صبح شام دیکھتے رہتے ہو۔ کیا اس معائنہ کے بعد بھی عبرت حاصل نہیں کرتے اور سوچتے سمجھتے نہیں ہو؟ کس طرح یہ برباد کر دیئے گئے؟ ایسا نہ ہو کہ یہی عذاب تم پر بھی آ جائیں ‘۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 138،137) {وَ اِنَّكُمْ لَتَمُرُّوْنَ عَلَيْهِمْ مُّصْبِحِيْنَ …:} یعنی تم تجارت کے لیے شام و فلسطین کی طرف جاتے اور آتے ہوئے دن رات اور صبح و شام قوم لوط کی تباہ شدہ بستیوں کے پاس سے گزرتے ہو، تو کیا تم عقل نہیں کرتے اور تمھیں ان کے انجام سے عبرت نہیں ہوتی؟
اللہ تعالیٰ کے بندے اور اس کے رسول لوط علیہ السلام کا بیان ہو رہا ہے کہ ’ انہیں بھی ان کی قوم نے جھٹلایا۔ جس پر اللہ کے عذاب ان پر برس پڑے اور اللہ نے اپنے پیارے لوط علیہ السلام کو مع ان کے گھر والوں کے نجات دے دی۔ لیکن ان کی بیوی غارت ہوئی قوم کے ساتھ ہی ہلاک ہوئی اور ساری قوم بھی تباہ ہوئی۔ قسم قسم کے عذاب ان پر آئے اور جس جگہ وو رہتے تھے وہاں ایک بدبودار اور جھیل بن گئی جس کا پانی بدمزہ بدبو بد رنگ ہے جو آنے جانے والوں کے راستے میں ہی پڑی ہے۔ تم تو دن رات وہاں سے آتے جاتے رہتے ہو اور اس خوفناک منظر اور بھیانک مقام کو صبح شام دیکھتے رہتے ہو۔ کیا اس معائنہ کے بعد بھی عبرت حاصل نہیں کرتے اور سوچتے سمجھتے نہیں ہو؟ کس طرح یہ برباد کر دیئے گئے؟ ایسا نہ ہو کہ یہی عذاب تم پر بھی آ جائیں ‘۔
138۔ 1 یہ اہل مکہ سے خطاب ہے جو تجارتی سفر میں ان تباہ شدہ علاقوں سے آتے جاتے، گزرتے تھے ان کو کہا جارہا ہے کہ تم صبح کے وقت بھی اور رات کے وقت بھی ان بستیوں سے گزرتے ہو، جہاں اب مردار بحیرہ ہے، جو دیکھنے میں بھی نہایت کر یہ ہے اور سخت متعفن اور بدبودار۔ کیا تم انہیں دیکھ کر یہ بات نہیں سمجھتے کہ رسولوں کے جھٹلانے کی وجہ سے ان کا یہ بد انجام ہوا، تو تمہاری اس روش کا انجام بھی اس سے مختلف کیوں کر ہوگا؟ جب تم بھی وہی کام کر رہے ہو، جو انہوں نے کیا تو پھر اللہ کے عذاب سے کیوں کر محفوظ رہو گے۔
حضرت یونس علیہ السلام کا قصہ سورۃ یونس میں بیان ہو چکا ہے۔ بخاری مسلم میں حدیث ہے کہ { کسی بندے کو یہ لائق نہیں کہ وہ کہے میں یونس بن متی سے افضل ہوں }۔۱؎ [صحیح بخاری:3413] یہ نام ممکن ہے آپ علیہ السلام کی والدہ کا ہو اور ممکن ہے والد کا ہو۔ یہ بھاگ کر مال و اسباب سے لدی ہوئی کشتی پر سوار ہوگئے۔ وہاں قرعہ اندازی ہوئی اور یہ مغلوب ہوگئے کشتی کے چلتے ہی چاروں طرف سے موجیں اٹھیں اور سخت طوفان آیا۔ یہاں تک کہ سب کو اپنی موت کا اور کشتی کے ڈوب جانے کا یقین ہو گیا۔ سب آپس میں کہنے لگے کہ قرعہ ڈالو جس کے نام کا قرعہ نکلے اسے سمندر میں ڈال دو تاکہ سب بچ جائیں اور کشتی اس طوفان سے چھوٹ جائے۔ تین دفعہ قرعہ اندازی ہوئی اور تینوں مرتبہ اللہ کے پیارے پیغبمر یونس علیہ السلام کا ہی نام نکلا۔ اہل کشتی آپ علیہ السلام کو پانی میں بہانا نہیں چاہتے تھے لیکن کیا کرتے باربار کی قرعہ اندازی پر بھی آپ علیہ السلام کا نام نکلتا رہا اور خود آپ علیہ السلام کپڑے اتار کر باوجود ان لوگوں کے روکنے کے سمندر میں کود پڑے۔ اس وقت بحر اخضر کی ایک بہت بڑی مچھلی کو جناب باری کا فرمان سرزد ہوا کہ ’ وہ دریاؤں کو چیرتی پھاڑتی جائے اور یونس کو نگل لے لیکن نہ تو ان کا جسم زخمی ہو نہ کوئی ہڈی ٹوٹے ‘۔ چنانچہ اس مچھلی نے پیغمبر اللہ علیہ السلام کو نگل لیا اور سمندروں میں چلنے پھرنے لگی۔ جب یونس علیہ السلام پوری طرح مچھلی کے پیٹ میں جا چکے تو آپ علیہ السلام کو خیال گذرا کہ میں مر چکا ہوں لیکن جب ہاتھ پیروں کو حرکت دی اور ہلے جلے تو زندگی کا یقین کر کے وہیں کھڑے ہو کر نماز شروع کر دی اور اللہ تعالیٰ سے عرض کی کہ ”اے پروردگار میں نے تیرے لیے اس جگہ مسجد بنائی ہے جہاں کوئی نہ پہنچا ہو گا۔“ تین دن یا سات دن یا چالیس دن ایک ایک دن سے بھی کم یا صرف ایک رات تک مچھلی کے پیٹ میں رہے۔ ’ اگر یہ ہماری پاکیزگی بیان کرنے والوں میں سے نہ ہوتے، یعنی جبکہ فراخی اور کشادگی اور امن و امان کی حالت میں تھے اس وقت ان کی نیکیاں اگر نہ ہوتیں ‘۔ ایک حدیث بھی اس قسم کی ہے جو عنقریب بیان ہو گی ان شاءاللہ تعالیٰ۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کی حدیث میں ہے { آرام اور راحت کے وقت اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو تو وہ سختی اور بے چینی کے وقت تمہاری مدد کرے گا۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگر یہ پابند نماز نہ ہوتے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگر مچھلی کے پیٹ میں نماز نہ پڑھتے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگر یہ «لَّآ اِلٰهَ اِلَّآ اَنْتَ سُبْحٰــنَكَ اِنِّىْ كُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِيْنَ» ۱؎ [21-الأنبياء:87] کے ساتھ ہماری تسبیح نہ کرتے }۔ چنانچہ قرآن کریم کی اور آیتوں میں ہے کہ ’ اس نے اندھیروں میں یہی کلمات کہے اور ہم نے اس کی دعا قبول فرما کر اسے غم سے نجات دی اور اسی طرح ہم مومنوں کو نجات دیتے ہیں ‘۔ ابن ابی حاتم کی ایک حدیث میں ہے کہ { یونس علیہ السلام نے جب مچھلی کے پیٹ میں ان کلمات کو کہا تو یہ دعا عرش اللہ کے اردگرد منڈلانے لگی اور فرشتوں نے کہا ”اللہ یہ آواز تو کہیں بہت ہی دور کی ہے لیکن اس آواز سے ہمارے کان آشنا ضرور ہیں۔“ اللہ نے فرمایا ’ اب بھی پہچان لیا یہ کس کی آواز ہے؟ ‘ انہوں نے کہا نہیں پہچانا فرمایا ’ یہ میرے بندے یونس کی آواز ہے ‘۔ فرشتوں نے کہا وہی یونس جس کے نیک اعمال اور مقبول دعائیں ہمیشہ آسمان پر چڑھتی رہتی تھیں؟ اللہ اس پر تو ضرور رحم فرما اس کی دعا قبول کر وہ تو آسانیوں میں بھی تیرا نام لیا کرتا تھا۔ اسے بلا سے نجات دے۔ اللہ نے فرمایا ’ ہاں! میں اسے نجات دوں گا ‘۔ چنانچہ مچھلی کو حکم ہوا کہ میدان میں یونس کو اگل دے اور اس نے اگل دیا اور وہیں اللہ تعالیٰ نے ان پر ان کی نخیفی کمزوری اور بیماری کی وجہ سے چھاؤں کے لیے کدو کی بیل اگا دی اور ایک جنگلی بکری کو مقرر کر دیا جو صبح شام ان کے پاس آ جاتی تھی اور یہ اس کا دودھ پی لیا کرتے تھے }۔۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:29601:ضعیف]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت سے یہ واقعات مرفوع احادیث سے سورۃ انبیاء کی تفسیر میں بیان ہو چکے ہیں۔ ’ ہم نے انہیں اس زمین میں ڈال دیا جہاں سبزہ روئیدگی گھاس کچھ نہ تھا ‘۔ دجلہ کے کنارے یا یمن کی سر زمین پر یہ لادے گئے تھے۔ وہ اس وقت کمزور تھے جیسے پرندوں کے بچے ہوتے ہیں۔ یا بچہ جس وقت پیدا ہوتا ہے۔ یعنی صرف سانس چل رہا تھا اور طاقت ہلنے جلنے کی بھی نہ تھی۔ «یقطین» کدو کے درخت کو بھی کہتے ہیں اور ہر اس درخت کو جس کا تنا نہ ہو یعنی بیل ہو اور اس درخت کو بھی جس کی عمر ایک سال سے زیادہ نہیں ہوتی۔ کدو میں بہت سے فوائد ہیں یہ بہت جلد اگتا اور بڑھتا ہے اس کے پتوں کا سایہ گھنا اور فرحت بخش ہوتا ہے کیونکہ وہ بڑے بڑے ہوتے ہیں اور اس کے پاس مکھیاں نہیں آتیں۔ یہ غذا کا کام دے جاتا ہے اور چھلکے اور گودے سمیت کھایا جاتا ہے۔ صحیح حدیث میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کدو یعنی گھیا بہت پسند تھا اور برتن میں سے چن چن کر اسے کھاتے تھے }۔۱؎ [صحیح بخاری:5435]
پھر انہیں ایک لاکھ بلکہ زیادہ آدمیوں کی طرف رسالت کے ساتھ بھیجا گیا۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اس سے پہلے آپ رسول نہ تھے۔ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں مچھلی کے پیٹ میں جانے سے پہلے ہی آپ علیہ السلام اس قوم کی طرف رسول بنا کر بھیجے گئے تھے۔ دونوں قولوں سے اس طرح تضاد اٹھ سکتا ہے کہ پہلے بھی ان کی طرف بھیجے گئے تھے اب دوبارہ بھی ان ہی کی طرف بھیجے گئے اور وہ سب ایمان لائے اور آپ کی تصدیق کی۔ بغوی رحمہ اللہ کہتے ہیں مچھلی کے پیٹ سے نجات پانے کے بعد دوسری قوم کی طرف بھیجے گئے تھے۔ یہاں «اَوْ» معنی میں بلکہ کے ہے اور وہ ایک لاکھ تیس ہزار یا اس سے بھی کچھ اوپر۔ یا ایک لاکھ چالیس ہزار سے بھی زیادہ یا ستر ہزار سے بھی زیادہ یا ایک لاکھ دس ہزار اور ایک غریب مرفوع حدیث کی رو سے { ایک لاکھ بیس ہزار تھے }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:3229،قال الشيخ الألباني:ضعیف] یہ مطلب بھی بیان کیا گیا ہے کہ انسانی اندازہ ایک لاکھ سے زیادہ ہی کا تھا۔ ابن جریر رحمہ اللہ کا یہی مسلک ہے اور یہی مسلک ان کا آیت «اَوْ اَشَدُّ قَسْوَةً» [2-البقرة:74] اور آیت «اَوْ اَشَدَّ خَشْـيَةً» ۱؎ [4-النساء:77] اور آیت «اَوْ اَدْنٰى» ۱؎ [53-النجم:9] میں ہے یعنی ’ اس سے کم نہیں اس سے زائد ہے ‘۔ پس قوم یونس علیہ السلام سب کی سب مسلمان ہو گئی، یونس علیہ السلام کی تصدیق کی اور اللہ پر ایمان لے آئے۔ ’ ہم نے بھی ان کے مقررہ وقت یعنی موت کی گھڑی تک دنیوی فائدے دئے اور آیت میں ہے «فَلَوْلَا كَانَتْ قَرْيَةٌ آمَنَتْ فَنَفَعَهَا إِيمَانُهَا إِلَّا قَوْمَ يُونُسَ لَمَّا آمَنُوا كَشَفْنَا عَنْهُمْ عَذَابَ الْخِزْيِ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَمَتَّعْنَاهُمْ إِلَىٰ حِينٍ» ۱؎ [10-يونس:98] ’ کسی بستی کے ایمان نے انہیں (عذاب آ چکنے کے بعد) نفع نہیں دیا سوائے قوم یونس کے وہ جب ایمان لائے تو ہم نے ان پر سے عذاب ہٹا لیے اور انہیں ایک معیاد معین تک بہرہ مند کیا ‘۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 139) {وَ اِنَّ يُوْنُسَ لَمِنَ الْمُرْسَلِيْنَ:} ان کا نام حدیث میں یونس بن مَتّٰی آیا ہے۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ لاَ يَنْبَغِيْ لِعَبْدٍ أَنْ يَّقُوْلَ أَنَا خَيْرٌ مِنْ يُوْنُسَ بْنِ مَتّٰی] [بخاري، أحادیث الأنبیاء، باب قول اللہ تعالٰی: «و إن یونس لمن المرسلین» : ۳۴۱۶ ] ”کسی بندے کے لائق نہیں کہ وہ کہے کہ میں یونس بن مَتّٰی سے بہتر ہوں۔“
جبکہ وہ (سوار ہونے کیلئے) بھری ہوئی کشتی کی طرف بھاگ کر گئے۔
عبدالسلام بن محمد
جب وہ بھری ہوئی کشتی کی طرف بھاگ کر گیا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
واقعہ یونس علیہ السلام ٭٭
حضرت یونس علیہ السلام کا قصہ سورۃ یونس میں بیان ہو چکا ہے۔ بخاری مسلم میں حدیث ہے کہ { کسی بندے کو یہ لائق نہیں کہ وہ کہے میں یونس بن متی سے افضل ہوں }۔۱؎ [صحیح بخاری:3413] یہ نام ممکن ہے آپ علیہ السلام کی والدہ کا ہو اور ممکن ہے والد کا ہو۔ یہ بھاگ کر مال و اسباب سے لدی ہوئی کشتی پر سوار ہوگئے۔ وہاں قرعہ اندازی ہوئی اور یہ مغلوب ہوگئے کشتی کے چلتے ہی چاروں طرف سے موجیں اٹھیں اور سخت طوفان آیا۔ یہاں تک کہ سب کو اپنی موت کا اور کشتی کے ڈوب جانے کا یقین ہو گیا۔ سب آپس میں کہنے لگے کہ قرعہ ڈالو جس کے نام کا قرعہ نکلے اسے سمندر میں ڈال دو تاکہ سب بچ جائیں اور کشتی اس طوفان سے چھوٹ جائے۔ تین دفعہ قرعہ اندازی ہوئی اور تینوں مرتبہ اللہ کے پیارے پیغبمر یونس علیہ السلام کا ہی نام نکلا۔ اہل کشتی آپ علیہ السلام کو پانی میں بہانا نہیں چاہتے تھے لیکن کیا کرتے باربار کی قرعہ اندازی پر بھی آپ علیہ السلام کا نام نکلتا رہا اور خود آپ علیہ السلام کپڑے اتار کر باوجود ان لوگوں کے روکنے کے سمندر میں کود پڑے۔ اس وقت بحر اخضر کی ایک بہت بڑی مچھلی کو جناب باری کا فرمان سرزد ہوا کہ ’ وہ دریاؤں کو چیرتی پھاڑتی جائے اور یونس کو نگل لے لیکن نہ تو ان کا جسم زخمی ہو نہ کوئی ہڈی ٹوٹے ‘۔ چنانچہ اس مچھلی نے پیغمبر اللہ علیہ السلام کو نگل لیا اور سمندروں میں چلنے پھرنے لگی۔ جب یونس علیہ السلام پوری طرح مچھلی کے پیٹ میں جا چکے تو آپ علیہ السلام کو خیال گذرا کہ میں مر چکا ہوں لیکن جب ہاتھ پیروں کو حرکت دی اور ہلے جلے تو زندگی کا یقین کر کے وہیں کھڑے ہو کر نماز شروع کر دی اور اللہ تعالیٰ سے عرض کی کہ ”اے پروردگار میں نے تیرے لیے اس جگہ مسجد بنائی ہے جہاں کوئی نہ پہنچا ہو گا۔“ تین دن یا سات دن یا چالیس دن ایک ایک دن سے بھی کم یا صرف ایک رات تک مچھلی کے پیٹ میں رہے۔ ’ اگر یہ ہماری پاکیزگی بیان کرنے والوں میں سے نہ ہوتے، یعنی جبکہ فراخی اور کشادگی اور امن و امان کی حالت میں تھے اس وقت ان کی نیکیاں اگر نہ ہوتیں ‘۔ ایک حدیث بھی اس قسم کی ہے جو عنقریب بیان ہو گی ان شاءاللہ تعالیٰ۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کی حدیث میں ہے { آرام اور راحت کے وقت اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو تو وہ سختی اور بے چینی کے وقت تمہاری مدد کرے گا۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگر یہ پابند نماز نہ ہوتے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگر مچھلی کے پیٹ میں نماز نہ پڑھتے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگر یہ «لَّآ اِلٰهَ اِلَّآ اَنْتَ سُبْحٰــنَكَ اِنِّىْ كُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِيْنَ» ۱؎ [21-الأنبياء:87] کے ساتھ ہماری تسبیح نہ کرتے }۔ چنانچہ قرآن کریم کی اور آیتوں میں ہے کہ ’ اس نے اندھیروں میں یہی کلمات کہے اور ہم نے اس کی دعا قبول فرما کر اسے غم سے نجات دی اور اسی طرح ہم مومنوں کو نجات دیتے ہیں ‘۔ ابن ابی حاتم کی ایک حدیث میں ہے کہ { یونس علیہ السلام نے جب مچھلی کے پیٹ میں ان کلمات کو کہا تو یہ دعا عرش اللہ کے اردگرد منڈلانے لگی اور فرشتوں نے کہا ”اللہ یہ آواز تو کہیں بہت ہی دور کی ہے لیکن اس آواز سے ہمارے کان آشنا ضرور ہیں۔“ اللہ نے فرمایا ’ اب بھی پہچان لیا یہ کس کی آواز ہے؟ ‘ انہوں نے کہا نہیں پہچانا فرمایا ’ یہ میرے بندے یونس کی آواز ہے ‘۔ فرشتوں نے کہا وہی یونس جس کے نیک اعمال اور مقبول دعائیں ہمیشہ آسمان پر چڑھتی رہتی تھیں؟ اللہ اس پر تو ضرور رحم فرما اس کی دعا قبول کر وہ تو آسانیوں میں بھی تیرا نام لیا کرتا تھا۔ اسے بلا سے نجات دے۔ اللہ نے فرمایا ’ ہاں! میں اسے نجات دوں گا ‘۔ چنانچہ مچھلی کو حکم ہوا کہ میدان میں یونس کو اگل دے اور اس نے اگل دیا اور وہیں اللہ تعالیٰ نے ان پر ان کی نخیفی کمزوری اور بیماری کی وجہ سے چھاؤں کے لیے کدو کی بیل اگا دی اور ایک جنگلی بکری کو مقرر کر دیا جو صبح شام ان کے پاس آ جاتی تھی اور یہ اس کا دودھ پی لیا کرتے تھے }۔۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:29601:ضعیف]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت سے یہ واقعات مرفوع احادیث سے سورۃ انبیاء کی تفسیر میں بیان ہو چکے ہیں۔ ’ ہم نے انہیں اس زمین میں ڈال دیا جہاں سبزہ روئیدگی گھاس کچھ نہ تھا ‘۔ دجلہ کے کنارے یا یمن کی سر زمین پر یہ لادے گئے تھے۔ وہ اس وقت کمزور تھے جیسے پرندوں کے بچے ہوتے ہیں۔ یا بچہ جس وقت پیدا ہوتا ہے۔ یعنی صرف سانس چل رہا تھا اور طاقت ہلنے جلنے کی بھی نہ تھی۔ «یقطین» کدو کے درخت کو بھی کہتے ہیں اور ہر اس درخت کو جس کا تنا نہ ہو یعنی بیل ہو اور اس درخت کو بھی جس کی عمر ایک سال سے زیادہ نہیں ہوتی۔ کدو میں بہت سے فوائد ہیں یہ بہت جلد اگتا اور بڑھتا ہے اس کے پتوں کا سایہ گھنا اور فرحت بخش ہوتا ہے کیونکہ وہ بڑے بڑے ہوتے ہیں اور اس کے پاس مکھیاں نہیں آتیں۔ یہ غذا کا کام دے جاتا ہے اور چھلکے اور گودے سمیت کھایا جاتا ہے۔ صحیح حدیث میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کدو یعنی گھیا بہت پسند تھا اور برتن میں سے چن چن کر اسے کھاتے تھے }۔۱؎ [صحیح بخاری:5435]
پھر انہیں ایک لاکھ بلکہ زیادہ آدمیوں کی طرف رسالت کے ساتھ بھیجا گیا۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اس سے پہلے آپ رسول نہ تھے۔ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں مچھلی کے پیٹ میں جانے سے پہلے ہی آپ علیہ السلام اس قوم کی طرف رسول بنا کر بھیجے گئے تھے۔ دونوں قولوں سے اس طرح تضاد اٹھ سکتا ہے کہ پہلے بھی ان کی طرف بھیجے گئے تھے اب دوبارہ بھی ان ہی کی طرف بھیجے گئے اور وہ سب ایمان لائے اور آپ کی تصدیق کی۔ بغوی رحمہ اللہ کہتے ہیں مچھلی کے پیٹ سے نجات پانے کے بعد دوسری قوم کی طرف بھیجے گئے تھے۔ یہاں «اَوْ» معنی میں بلکہ کے ہے اور وہ ایک لاکھ تیس ہزار یا اس سے بھی کچھ اوپر۔ یا ایک لاکھ چالیس ہزار سے بھی زیادہ یا ستر ہزار سے بھی زیادہ یا ایک لاکھ دس ہزار اور ایک غریب مرفوع حدیث کی رو سے { ایک لاکھ بیس ہزار تھے }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:3229،قال الشيخ الألباني:ضعیف] یہ مطلب بھی بیان کیا گیا ہے کہ انسانی اندازہ ایک لاکھ سے زیادہ ہی کا تھا۔ ابن جریر رحمہ اللہ کا یہی مسلک ہے اور یہی مسلک ان کا آیت «اَوْ اَشَدُّ قَسْوَةً» [2-البقرة:74] اور آیت «اَوْ اَشَدَّ خَشْـيَةً» ۱؎ [4-النساء:77] اور آیت «اَوْ اَدْنٰى» ۱؎ [53-النجم:9] میں ہے یعنی ’ اس سے کم نہیں اس سے زائد ہے ‘۔ پس قوم یونس علیہ السلام سب کی سب مسلمان ہو گئی، یونس علیہ السلام کی تصدیق کی اور اللہ پر ایمان لے آئے۔ ’ ہم نے بھی ان کے مقررہ وقت یعنی موت کی گھڑی تک دنیوی فائدے دئے اور آیت میں ہے «فَلَوْلَا كَانَتْ قَرْيَةٌ آمَنَتْ فَنَفَعَهَا إِيمَانُهَا إِلَّا قَوْمَ يُونُسَ لَمَّا آمَنُوا كَشَفْنَا عَنْهُمْ عَذَابَ الْخِزْيِ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَمَتَّعْنَاهُمْ إِلَىٰ حِينٍ» ۱؎ [10-يونس:98] ’ کسی بستی کے ایمان نے انہیں (عذاب آ چکنے کے بعد) نفع نہیں دیا سوائے قوم یونس کے وہ جب ایمان لائے تو ہم نے ان پر سے عذاب ہٹا لیے اور انہیں ایک معیاد معین تک بہرہ مند کیا ‘۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 140) ➊ { اِذْ اَبَقَ: ”أَبَقَ } (ض، ن، س) {إِبَاقًا وَ أَبْقًا وَ أَبَقًا، الْعَبْدُ“ } غلام کے اپنے مالک کے پاس سے بھاگ جانے کو کہتے ہیں۔ یونس علیہ السلام چونکہ اپنے مالک (اللہ تعالیٰ) کے حکم کا انتظار کیے بغیر اپنی قوم کو چھوڑ کر چلے گئے تھے، اس لیے ان کے جانے کے لیے {” اَبَقَ “} کا لفظ استعمال کیا گیا۔ یونس علیہ السلام اپنی قوم کو کب اور کیوں چھوڑ کر چلے گئے تھے؟ اس کے لیے دیکھیے سورۂ یونس (۹۸) اور سورۂ انبیاء (۸۷)۔ ➋ { اِلَى الْفُلْكِ الْمَشْحُوْنِ:} بھری ہوئی کشتی سے مراد سامان اور مسافروں سے بھری ہوئی کشتی ہے۔
پھر وہ قرعہ اندازی میں شریک ہوئے تو وہ پھینک دیئے گئے۔
عبدالسلام بن محمد
پھر وہ قرعہ میں شریک ہو ا تو ہارنے والوں میں سے ہو گیا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
واقعہ یونس علیہ السلام ٭٭
حضرت یونس علیہ السلام کا قصہ سورۃ یونس میں بیان ہو چکا ہے۔ بخاری مسلم میں حدیث ہے کہ { کسی بندے کو یہ لائق نہیں کہ وہ کہے میں یونس بن متی سے افضل ہوں }۔۱؎ [صحیح بخاری:3413] یہ نام ممکن ہے آپ علیہ السلام کی والدہ کا ہو اور ممکن ہے والد کا ہو۔ یہ بھاگ کر مال و اسباب سے لدی ہوئی کشتی پر سوار ہوگئے۔ وہاں قرعہ اندازی ہوئی اور یہ مغلوب ہوگئے کشتی کے چلتے ہی چاروں طرف سے موجیں اٹھیں اور سخت طوفان آیا۔ یہاں تک کہ سب کو اپنی موت کا اور کشتی کے ڈوب جانے کا یقین ہو گیا۔ سب آپس میں کہنے لگے کہ قرعہ ڈالو جس کے نام کا قرعہ نکلے اسے سمندر میں ڈال دو تاکہ سب بچ جائیں اور کشتی اس طوفان سے چھوٹ جائے۔ تین دفعہ قرعہ اندازی ہوئی اور تینوں مرتبہ اللہ کے پیارے پیغبمر یونس علیہ السلام کا ہی نام نکلا۔ اہل کشتی آپ علیہ السلام کو پانی میں بہانا نہیں چاہتے تھے لیکن کیا کرتے باربار کی قرعہ اندازی پر بھی آپ علیہ السلام کا نام نکلتا رہا اور خود آپ علیہ السلام کپڑے اتار کر باوجود ان لوگوں کے روکنے کے سمندر میں کود پڑے۔ اس وقت بحر اخضر کی ایک بہت بڑی مچھلی کو جناب باری کا فرمان سرزد ہوا کہ ’ وہ دریاؤں کو چیرتی پھاڑتی جائے اور یونس کو نگل لے لیکن نہ تو ان کا جسم زخمی ہو نہ کوئی ہڈی ٹوٹے ‘۔ چنانچہ اس مچھلی نے پیغمبر اللہ علیہ السلام کو نگل لیا اور سمندروں میں چلنے پھرنے لگی۔ جب یونس علیہ السلام پوری طرح مچھلی کے پیٹ میں جا چکے تو آپ علیہ السلام کو خیال گذرا کہ میں مر چکا ہوں لیکن جب ہاتھ پیروں کو حرکت دی اور ہلے جلے تو زندگی کا یقین کر کے وہیں کھڑے ہو کر نماز شروع کر دی اور اللہ تعالیٰ سے عرض کی کہ ”اے پروردگار میں نے تیرے لیے اس جگہ مسجد بنائی ہے جہاں کوئی نہ پہنچا ہو گا۔“ تین دن یا سات دن یا چالیس دن ایک ایک دن سے بھی کم یا صرف ایک رات تک مچھلی کے پیٹ میں رہے۔ ’ اگر یہ ہماری پاکیزگی بیان کرنے والوں میں سے نہ ہوتے، یعنی جبکہ فراخی اور کشادگی اور امن و امان کی حالت میں تھے اس وقت ان کی نیکیاں اگر نہ ہوتیں ‘۔ ایک حدیث بھی اس قسم کی ہے جو عنقریب بیان ہو گی ان شاءاللہ تعالیٰ۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کی حدیث میں ہے { آرام اور راحت کے وقت اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو تو وہ سختی اور بے چینی کے وقت تمہاری مدد کرے گا۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگر یہ پابند نماز نہ ہوتے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگر مچھلی کے پیٹ میں نماز نہ پڑھتے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگر یہ «لَّآ اِلٰهَ اِلَّآ اَنْتَ سُبْحٰــنَكَ اِنِّىْ كُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِيْنَ» ۱؎ [21-الأنبياء:87] کے ساتھ ہماری تسبیح نہ کرتے }۔ چنانچہ قرآن کریم کی اور آیتوں میں ہے کہ ’ اس نے اندھیروں میں یہی کلمات کہے اور ہم نے اس کی دعا قبول فرما کر اسے غم سے نجات دی اور اسی طرح ہم مومنوں کو نجات دیتے ہیں ‘۔ ابن ابی حاتم کی ایک حدیث میں ہے کہ { یونس علیہ السلام نے جب مچھلی کے پیٹ میں ان کلمات کو کہا تو یہ دعا عرش اللہ کے اردگرد منڈلانے لگی اور فرشتوں نے کہا ”اللہ یہ آواز تو کہیں بہت ہی دور کی ہے لیکن اس آواز سے ہمارے کان آشنا ضرور ہیں۔“ اللہ نے فرمایا ’ اب بھی پہچان لیا یہ کس کی آواز ہے؟ ‘ انہوں نے کہا نہیں پہچانا فرمایا ’ یہ میرے بندے یونس کی آواز ہے ‘۔ فرشتوں نے کہا وہی یونس جس کے نیک اعمال اور مقبول دعائیں ہمیشہ آسمان پر چڑھتی رہتی تھیں؟ اللہ اس پر تو ضرور رحم فرما اس کی دعا قبول کر وہ تو آسانیوں میں بھی تیرا نام لیا کرتا تھا۔ اسے بلا سے نجات دے۔ اللہ نے فرمایا ’ ہاں! میں اسے نجات دوں گا ‘۔ چنانچہ مچھلی کو حکم ہوا کہ میدان میں یونس کو اگل دے اور اس نے اگل دیا اور وہیں اللہ تعالیٰ نے ان پر ان کی نخیفی کمزوری اور بیماری کی وجہ سے چھاؤں کے لیے کدو کی بیل اگا دی اور ایک جنگلی بکری کو مقرر کر دیا جو صبح شام ان کے پاس آ جاتی تھی اور یہ اس کا دودھ پی لیا کرتے تھے }۔۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:29601:ضعیف]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت سے یہ واقعات مرفوع احادیث سے سورۃ انبیاء کی تفسیر میں بیان ہو چکے ہیں۔ ’ ہم نے انہیں اس زمین میں ڈال دیا جہاں سبزہ روئیدگی گھاس کچھ نہ تھا ‘۔ دجلہ کے کنارے یا یمن کی سر زمین پر یہ لادے گئے تھے۔ وہ اس وقت کمزور تھے جیسے پرندوں کے بچے ہوتے ہیں۔ یا بچہ جس وقت پیدا ہوتا ہے۔ یعنی صرف سانس چل رہا تھا اور طاقت ہلنے جلنے کی بھی نہ تھی۔ «یقطین» کدو کے درخت کو بھی کہتے ہیں اور ہر اس درخت کو جس کا تنا نہ ہو یعنی بیل ہو اور اس درخت کو بھی جس کی عمر ایک سال سے زیادہ نہیں ہوتی۔ کدو میں بہت سے فوائد ہیں یہ بہت جلد اگتا اور بڑھتا ہے اس کے پتوں کا سایہ گھنا اور فرحت بخش ہوتا ہے کیونکہ وہ بڑے بڑے ہوتے ہیں اور اس کے پاس مکھیاں نہیں آتیں۔ یہ غذا کا کام دے جاتا ہے اور چھلکے اور گودے سمیت کھایا جاتا ہے۔ صحیح حدیث میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کدو یعنی گھیا بہت پسند تھا اور برتن میں سے چن چن کر اسے کھاتے تھے }۔۱؎ [صحیح بخاری:5435]
پھر انہیں ایک لاکھ بلکہ زیادہ آدمیوں کی طرف رسالت کے ساتھ بھیجا گیا۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اس سے پہلے آپ رسول نہ تھے۔ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں مچھلی کے پیٹ میں جانے سے پہلے ہی آپ علیہ السلام اس قوم کی طرف رسول بنا کر بھیجے گئے تھے۔ دونوں قولوں سے اس طرح تضاد اٹھ سکتا ہے کہ پہلے بھی ان کی طرف بھیجے گئے تھے اب دوبارہ بھی ان ہی کی طرف بھیجے گئے اور وہ سب ایمان لائے اور آپ کی تصدیق کی۔ بغوی رحمہ اللہ کہتے ہیں مچھلی کے پیٹ سے نجات پانے کے بعد دوسری قوم کی طرف بھیجے گئے تھے۔ یہاں «اَوْ» معنی میں بلکہ کے ہے اور وہ ایک لاکھ تیس ہزار یا اس سے بھی کچھ اوپر۔ یا ایک لاکھ چالیس ہزار سے بھی زیادہ یا ستر ہزار سے بھی زیادہ یا ایک لاکھ دس ہزار اور ایک غریب مرفوع حدیث کی رو سے { ایک لاکھ بیس ہزار تھے }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:3229،قال الشيخ الألباني:ضعیف] یہ مطلب بھی بیان کیا گیا ہے کہ انسانی اندازہ ایک لاکھ سے زیادہ ہی کا تھا۔ ابن جریر رحمہ اللہ کا یہی مسلک ہے اور یہی مسلک ان کا آیت «اَوْ اَشَدُّ قَسْوَةً» [2-البقرة:74] اور آیت «اَوْ اَشَدَّ خَشْـيَةً» ۱؎ [4-النساء:77] اور آیت «اَوْ اَدْنٰى» ۱؎ [53-النجم:9] میں ہے یعنی ’ اس سے کم نہیں اس سے زائد ہے ‘۔ پس قوم یونس علیہ السلام سب کی سب مسلمان ہو گئی، یونس علیہ السلام کی تصدیق کی اور اللہ پر ایمان لے آئے۔ ’ ہم نے بھی ان کے مقررہ وقت یعنی موت کی گھڑی تک دنیوی فائدے دئے اور آیت میں ہے «فَلَوْلَا كَانَتْ قَرْيَةٌ آمَنَتْ فَنَفَعَهَا إِيمَانُهَا إِلَّا قَوْمَ يُونُسَ لَمَّا آمَنُوا كَشَفْنَا عَنْهُمْ عَذَابَ الْخِزْيِ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَمَتَّعْنَاهُمْ إِلَىٰ حِينٍ» ۱؎ [10-يونس:98] ’ کسی بستی کے ایمان نے انہیں (عذاب آ چکنے کے بعد) نفع نہیں دیا سوائے قوم یونس کے وہ جب ایمان لائے تو ہم نے ان پر سے عذاب ہٹا لیے اور انہیں ایک معیاد معین تک بہرہ مند کیا ‘۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 141) ➊ { فَسَاهَمَ فَكَانَ مِنَ الْمُدْحَضِيْنَ:”سَاهَمَ“} (مفاعلہ) قرعہ میں حصہ لینا۔ {” الْمُدْحَضِيْنَ “ ”أَدْحَضَ يُدْحِضُ“} (افعال) میں سے اسم مفعول ہے، پھسلانا، باطل کرنا۔ ان آیات سے واقعہ کی یہ صورت سمجھ میں آتی ہے کہ یونس علیہ السلام جس کشتی میں سوار ہوئے وہ اپنی گنجائش سے زیادہ بھرئی ہوئی تھی۔ دوران سفر طوفان یا کسی خطرے کی صورت میں زائد بوجھ کم کرنے کے لیے پہلے سامان سمندر میں پھینکا جاتا ہے، اس کے بعد بھی اگر خطرہ باقی رہے تو کچھ آدمیوں کو پھینک دیا جاتا ہے، تاکہ سب لوگ غرق نہ ہوں۔ یونس علیہ السلام جس کشتی میں سوار ہوئے اس کے ساتھ بھی ایسا ہی معاملہ پیش آیا۔ چنانچہ فیصلہ ہوا کہ قرعہ ڈالا جائے اور جن لوگوں کا نام پھینکنے کے لیے نکلے، انھیں سمندر میں پھینک دیا جائے۔ قرعہ ڈالا گیا تو یونس علیہ السلام کا نام بھی ان لوگوں میں نکلا جو سمندر میں پھینکے جانے والے تھے۔ {” فَكَانَ مِنَ الْمُدْحَضِيْنَ “} (تو وہ قرعہ ہارنے والوں یا پھسلائے گئے آدمیوں میں سے ہو گیا) کے الفاظ سے ظاہر ہے کہ قرعہ میں یونس علیہ السلام کے ساتھ اور لوگوں کا نام بھی نکلا، اللہ بہتر جانتا ہے کہ وہ کتنے تھے۔ مختصر یہ کہ سب کو اٹھا کر سمندر میں پھینک دیا گیا۔ ➋ اس مقام پر بعض تفاسیر میں لکھا ہے: ”جب یونس علیہ السلام کشتی میں سوار ہو گئے اور کشتی گہرے پانی میں پہنچی تو آگے بڑھنے کے بجائے چکر کھانے لگی۔ کشتی والوں نے کشتی میں سوار لوگوں سے کہا کہ ایسا معاملہ ہمیں اس وقت پیش آتا ہے جب کوئی بھاگا ہوا غلام کشتی میں سوار ہو۔ انھوں نے قرعہ ڈالا کہ جس کا نام قرعہ میں نکلے اسے سمندر میں پھینک دیا جائے۔ تین بار قرعہ ڈالا گیا، لیکن وہ ہر بار یونس علیہ السلام ہی کے نام پر نکلا۔ بار بار قرعہ اس لیے ڈالا گیا کہ وہ لوگ یونس علیہ السلام کی نیکی دیکھ کر انھیں سمندر میں پھینکنا نہیں چاہتے تھے۔ جب تین بار قرعہ انھی کے نام پر نکلا تو وہ خود ہی یہ کہہ کر سمندر میں کودنے کے لیے تیار ہو گئے کہ وہ بھاگا ہوا غلام میں ہوں۔“ اس حکایت میں وہ باتیں ہیں جو قرآن و حدیث میں نہیں ہیں اور نہ ہی کسی معتبر ذریعے سے ثابت ہیں، اس لیے ان کا اعتبار مشکل ہے۔
تو پھر انہیں مچھلی نے نگل لیا اور وه خود اپنے آپ کو ملامت کرنے لگ گئے
احمد رضا خان بریلوی
پھر اسے مچھلی نے نگل لیا اور وہ اپنے آپ کو ملامت کرتا تھا
علامہ محمد حسین نجفی
تو انہیں مچھلی نے نگل لیا درآنحالیکہ کہ وہ (اپنے آپ کو) ملامت کر رہے تھے۔
عبدالسلام بن محمد
پھر مچھلی نے اسے نگل لیا، اس حال میں کہ وہ مستحق ملامت تھا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
واقعہ یونس علیہ السلام ٭٭
حضرت یونس علیہ السلام کا قصہ سورۃ یونس میں بیان ہو چکا ہے۔ بخاری مسلم میں حدیث ہے کہ { کسی بندے کو یہ لائق نہیں کہ وہ کہے میں یونس بن متی سے افضل ہوں }۔۱؎ [صحیح بخاری:3413] یہ نام ممکن ہے آپ علیہ السلام کی والدہ کا ہو اور ممکن ہے والد کا ہو۔ یہ بھاگ کر مال و اسباب سے لدی ہوئی کشتی پر سوار ہوگئے۔ وہاں قرعہ اندازی ہوئی اور یہ مغلوب ہوگئے کشتی کے چلتے ہی چاروں طرف سے موجیں اٹھیں اور سخت طوفان آیا۔ یہاں تک کہ سب کو اپنی موت کا اور کشتی کے ڈوب جانے کا یقین ہو گیا۔ سب آپس میں کہنے لگے کہ قرعہ ڈالو جس کے نام کا قرعہ نکلے اسے سمندر میں ڈال دو تاکہ سب بچ جائیں اور کشتی اس طوفان سے چھوٹ جائے۔ تین دفعہ قرعہ اندازی ہوئی اور تینوں مرتبہ اللہ کے پیارے پیغبمر یونس علیہ السلام کا ہی نام نکلا۔ اہل کشتی آپ علیہ السلام کو پانی میں بہانا نہیں چاہتے تھے لیکن کیا کرتے باربار کی قرعہ اندازی پر بھی آپ علیہ السلام کا نام نکلتا رہا اور خود آپ علیہ السلام کپڑے اتار کر باوجود ان لوگوں کے روکنے کے سمندر میں کود پڑے۔ اس وقت بحر اخضر کی ایک بہت بڑی مچھلی کو جناب باری کا فرمان سرزد ہوا کہ ’ وہ دریاؤں کو چیرتی پھاڑتی جائے اور یونس کو نگل لے لیکن نہ تو ان کا جسم زخمی ہو نہ کوئی ہڈی ٹوٹے ‘۔ چنانچہ اس مچھلی نے پیغمبر اللہ علیہ السلام کو نگل لیا اور سمندروں میں چلنے پھرنے لگی۔ جب یونس علیہ السلام پوری طرح مچھلی کے پیٹ میں جا چکے تو آپ علیہ السلام کو خیال گذرا کہ میں مر چکا ہوں لیکن جب ہاتھ پیروں کو حرکت دی اور ہلے جلے تو زندگی کا یقین کر کے وہیں کھڑے ہو کر نماز شروع کر دی اور اللہ تعالیٰ سے عرض کی کہ ”اے پروردگار میں نے تیرے لیے اس جگہ مسجد بنائی ہے جہاں کوئی نہ پہنچا ہو گا۔“ تین دن یا سات دن یا چالیس دن ایک ایک دن سے بھی کم یا صرف ایک رات تک مچھلی کے پیٹ میں رہے۔ ’ اگر یہ ہماری پاکیزگی بیان کرنے والوں میں سے نہ ہوتے، یعنی جبکہ فراخی اور کشادگی اور امن و امان کی حالت میں تھے اس وقت ان کی نیکیاں اگر نہ ہوتیں ‘۔ ایک حدیث بھی اس قسم کی ہے جو عنقریب بیان ہو گی ان شاءاللہ تعالیٰ۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کی حدیث میں ہے { آرام اور راحت کے وقت اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو تو وہ سختی اور بے چینی کے وقت تمہاری مدد کرے گا۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگر یہ پابند نماز نہ ہوتے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگر مچھلی کے پیٹ میں نماز نہ پڑھتے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگر یہ «لَّآ اِلٰهَ اِلَّآ اَنْتَ سُبْحٰــنَكَ اِنِّىْ كُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِيْنَ» ۱؎ [21-الأنبياء:87] کے ساتھ ہماری تسبیح نہ کرتے }۔ چنانچہ قرآن کریم کی اور آیتوں میں ہے کہ ’ اس نے اندھیروں میں یہی کلمات کہے اور ہم نے اس کی دعا قبول فرما کر اسے غم سے نجات دی اور اسی طرح ہم مومنوں کو نجات دیتے ہیں ‘۔ ابن ابی حاتم کی ایک حدیث میں ہے کہ { یونس علیہ السلام نے جب مچھلی کے پیٹ میں ان کلمات کو کہا تو یہ دعا عرش اللہ کے اردگرد منڈلانے لگی اور فرشتوں نے کہا ”اللہ یہ آواز تو کہیں بہت ہی دور کی ہے لیکن اس آواز سے ہمارے کان آشنا ضرور ہیں۔“ اللہ نے فرمایا ’ اب بھی پہچان لیا یہ کس کی آواز ہے؟ ‘ انہوں نے کہا نہیں پہچانا فرمایا ’ یہ میرے بندے یونس کی آواز ہے ‘۔ فرشتوں نے کہا وہی یونس جس کے نیک اعمال اور مقبول دعائیں ہمیشہ آسمان پر چڑھتی رہتی تھیں؟ اللہ اس پر تو ضرور رحم فرما اس کی دعا قبول کر وہ تو آسانیوں میں بھی تیرا نام لیا کرتا تھا۔ اسے بلا سے نجات دے۔ اللہ نے فرمایا ’ ہاں! میں اسے نجات دوں گا ‘۔ چنانچہ مچھلی کو حکم ہوا کہ میدان میں یونس کو اگل دے اور اس نے اگل دیا اور وہیں اللہ تعالیٰ نے ان پر ان کی نخیفی کمزوری اور بیماری کی وجہ سے چھاؤں کے لیے کدو کی بیل اگا دی اور ایک جنگلی بکری کو مقرر کر دیا جو صبح شام ان کے پاس آ جاتی تھی اور یہ اس کا دودھ پی لیا کرتے تھے }۔۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:29601:ضعیف]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت سے یہ واقعات مرفوع احادیث سے سورۃ انبیاء کی تفسیر میں بیان ہو چکے ہیں۔ ’ ہم نے انہیں اس زمین میں ڈال دیا جہاں سبزہ روئیدگی گھاس کچھ نہ تھا ‘۔ دجلہ کے کنارے یا یمن کی سر زمین پر یہ لادے گئے تھے۔ وہ اس وقت کمزور تھے جیسے پرندوں کے بچے ہوتے ہیں۔ یا بچہ جس وقت پیدا ہوتا ہے۔ یعنی صرف سانس چل رہا تھا اور طاقت ہلنے جلنے کی بھی نہ تھی۔ «یقطین» کدو کے درخت کو بھی کہتے ہیں اور ہر اس درخت کو جس کا تنا نہ ہو یعنی بیل ہو اور اس درخت کو بھی جس کی عمر ایک سال سے زیادہ نہیں ہوتی۔ کدو میں بہت سے فوائد ہیں یہ بہت جلد اگتا اور بڑھتا ہے اس کے پتوں کا سایہ گھنا اور فرحت بخش ہوتا ہے کیونکہ وہ بڑے بڑے ہوتے ہیں اور اس کے پاس مکھیاں نہیں آتیں۔ یہ غذا کا کام دے جاتا ہے اور چھلکے اور گودے سمیت کھایا جاتا ہے۔ صحیح حدیث میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کدو یعنی گھیا بہت پسند تھا اور برتن میں سے چن چن کر اسے کھاتے تھے }۔۱؎ [صحیح بخاری:5435]
پھر انہیں ایک لاکھ بلکہ زیادہ آدمیوں کی طرف رسالت کے ساتھ بھیجا گیا۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اس سے پہلے آپ رسول نہ تھے۔ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں مچھلی کے پیٹ میں جانے سے پہلے ہی آپ علیہ السلام اس قوم کی طرف رسول بنا کر بھیجے گئے تھے۔ دونوں قولوں سے اس طرح تضاد اٹھ سکتا ہے کہ پہلے بھی ان کی طرف بھیجے گئے تھے اب دوبارہ بھی ان ہی کی طرف بھیجے گئے اور وہ سب ایمان لائے اور آپ کی تصدیق کی۔ بغوی رحمہ اللہ کہتے ہیں مچھلی کے پیٹ سے نجات پانے کے بعد دوسری قوم کی طرف بھیجے گئے تھے۔ یہاں «اَوْ» معنی میں بلکہ کے ہے اور وہ ایک لاکھ تیس ہزار یا اس سے بھی کچھ اوپر۔ یا ایک لاکھ چالیس ہزار سے بھی زیادہ یا ستر ہزار سے بھی زیادہ یا ایک لاکھ دس ہزار اور ایک غریب مرفوع حدیث کی رو سے { ایک لاکھ بیس ہزار تھے }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:3229،قال الشيخ الألباني:ضعیف] یہ مطلب بھی بیان کیا گیا ہے کہ انسانی اندازہ ایک لاکھ سے زیادہ ہی کا تھا۔ ابن جریر رحمہ اللہ کا یہی مسلک ہے اور یہی مسلک ان کا آیت «اَوْ اَشَدُّ قَسْوَةً» [2-البقرة:74] اور آیت «اَوْ اَشَدَّ خَشْـيَةً» ۱؎ [4-النساء:77] اور آیت «اَوْ اَدْنٰى» ۱؎ [53-النجم:9] میں ہے یعنی ’ اس سے کم نہیں اس سے زائد ہے ‘۔ پس قوم یونس علیہ السلام سب کی سب مسلمان ہو گئی، یونس علیہ السلام کی تصدیق کی اور اللہ پر ایمان لے آئے۔ ’ ہم نے بھی ان کے مقررہ وقت یعنی موت کی گھڑی تک دنیوی فائدے دئے اور آیت میں ہے «فَلَوْلَا كَانَتْ قَرْيَةٌ آمَنَتْ فَنَفَعَهَا إِيمَانُهَا إِلَّا قَوْمَ يُونُسَ لَمَّا آمَنُوا كَشَفْنَا عَنْهُمْ عَذَابَ الْخِزْيِ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَمَتَّعْنَاهُمْ إِلَىٰ حِينٍ» ۱؎ [10-يونس:98] ’ کسی بستی کے ایمان نے انہیں (عذاب آ چکنے کے بعد) نفع نہیں دیا سوائے قوم یونس کے وہ جب ایمان لائے تو ہم نے ان پر سے عذاب ہٹا لیے اور انہیں ایک معیاد معین تک بہرہ مند کیا ‘۔
142۔ 1 حضرت یونس ؑ عراق کے علاقے نینوی (موجودہ موصل) میں نبی بنا کر بھیجے گئے، یہ آشوریوں کا پایہ تخت تھا، انہوں نے ایک لاکھ بنواسرائیلیوں کو قیدی بنایا ہوا تھا، چناچہ ان کی ہدایت و رہنمائی کے لئے اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف حضرت یونس ؑ کو بھیجا، لیکن یہ قوم آپ پر ایمان نہ لائی۔ بالآخر اپنی قوم کو ڈرایا کہ عنقریب تم عذاب الٰہی کی گرفت میں آجاؤ گے۔ عذاب میں تاخیر ہوئی تو اللہ کی اجازت کے بغیر ہی اپنے طور پر وہاں سے نکل گئے اور سمندر پر جا کر ایک کشتی میں سوار ہوگئے۔ اپنے علاقے سے نکل کر جانے کو ایسے لفظ سے تعبیر کیا جس طرح ایک غلام اپنے آقا سے بھاگ کر چلا جاتا ہے۔ کیونکہ آپ بھی اللہ کی اجازت کے بغیر ہی اپنی قوم کو چھوڑ کر چلے گئے۔ کشتی سواروں اور سامان سے بھری ہوئی تھی۔ کشتی سمندر کی موجوں میں گھر گئی اور کھڑی ہوگئی۔ چناچہ اس کا وزن کم کرنے کے لئے ایک آدھ آدمی کو کشتی سے سمندر میں پھینکنے کی تجویز سامنے آئی تاکہ کشتی میں سوار دیگر انسانوں کی جانیں بچ جائیں۔ لیکن قربانی دینے کے لئے کوئی تیار نہیں تھا اس لئے قرعہ اندازی کرنی پڑی، جس میں حضرت یونس ؑ کا نام آیا۔ اور وہ مغلوبین میں سے ہوگئے، یعنی طوحًا و کرھًا اپنے آپ کو بھاگے ہوئے غلام کی طرح سمندر کی موجوں کے سپرد کرنا پڑا۔ ادھر اللہ تعالیٰ نے مچھلی کو حکم دیا کہ وہ انہیں ثابت نگل لے اور یوں حضرت یونس ؑ اللہ کے حکم سے مچھلی کے پیٹ میں چلے گئے
(آیت 142) {فَالْتَقَمَهُ الْحُوْتُ وَ هُوَ مُلِيْمٌ: ” الْحُوْتُ “ } مچھلی۔ اکثر بڑی مچھلی کو {”حُوت“} کہا جاتا ہے۔ {” مُلِيْمٌ “ ”أَلَامَ يُلِيْمُ“} (افعال) ملامت والا کام کرنا، ملامت کا مستحق ہونا۔ {” مُلِيْمٌ “} ملامت کا مستحق، خواہ اسے ملامت کی جائے یا نہ کی جائے۔ جب یونس علیہ السلام کو سمندر میں پھینکا گیا تو اللہ کے حکم سے ایک بڑی مچھلی نے انھیں سالم نگل لیا۔ مستحق ملامت اس لیے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی اجازت کے بغیر قوم سے نکل آئے تھے۔
پھر اگر یہ بات نہ ہوتی کہ وہ تسبیح کرنے والوں سے تھا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
واقعہ یونس علیہ السلام ٭٭
حضرت یونس علیہ السلام کا قصہ سورۃ یونس میں بیان ہو چکا ہے۔ بخاری مسلم میں حدیث ہے کہ { کسی بندے کو یہ لائق نہیں کہ وہ کہے میں یونس بن متی سے افضل ہوں }۔۱؎ [صحیح بخاری:3413] یہ نام ممکن ہے آپ علیہ السلام کی والدہ کا ہو اور ممکن ہے والد کا ہو۔ یہ بھاگ کر مال و اسباب سے لدی ہوئی کشتی پر سوار ہوگئے۔ وہاں قرعہ اندازی ہوئی اور یہ مغلوب ہوگئے کشتی کے چلتے ہی چاروں طرف سے موجیں اٹھیں اور سخت طوفان آیا۔ یہاں تک کہ سب کو اپنی موت کا اور کشتی کے ڈوب جانے کا یقین ہو گیا۔ سب آپس میں کہنے لگے کہ قرعہ ڈالو جس کے نام کا قرعہ نکلے اسے سمندر میں ڈال دو تاکہ سب بچ جائیں اور کشتی اس طوفان سے چھوٹ جائے۔ تین دفعہ قرعہ اندازی ہوئی اور تینوں مرتبہ اللہ کے پیارے پیغبمر یونس علیہ السلام کا ہی نام نکلا۔ اہل کشتی آپ علیہ السلام کو پانی میں بہانا نہیں چاہتے تھے لیکن کیا کرتے باربار کی قرعہ اندازی پر بھی آپ علیہ السلام کا نام نکلتا رہا اور خود آپ علیہ السلام کپڑے اتار کر باوجود ان لوگوں کے روکنے کے سمندر میں کود پڑے۔ اس وقت بحر اخضر کی ایک بہت بڑی مچھلی کو جناب باری کا فرمان سرزد ہوا کہ ’ وہ دریاؤں کو چیرتی پھاڑتی جائے اور یونس کو نگل لے لیکن نہ تو ان کا جسم زخمی ہو نہ کوئی ہڈی ٹوٹے ‘۔ چنانچہ اس مچھلی نے پیغمبر اللہ علیہ السلام کو نگل لیا اور سمندروں میں چلنے پھرنے لگی۔ جب یونس علیہ السلام پوری طرح مچھلی کے پیٹ میں جا چکے تو آپ علیہ السلام کو خیال گذرا کہ میں مر چکا ہوں لیکن جب ہاتھ پیروں کو حرکت دی اور ہلے جلے تو زندگی کا یقین کر کے وہیں کھڑے ہو کر نماز شروع کر دی اور اللہ تعالیٰ سے عرض کی کہ ”اے پروردگار میں نے تیرے لیے اس جگہ مسجد بنائی ہے جہاں کوئی نہ پہنچا ہو گا۔“ تین دن یا سات دن یا چالیس دن ایک ایک دن سے بھی کم یا صرف ایک رات تک مچھلی کے پیٹ میں رہے۔ ’ اگر یہ ہماری پاکیزگی بیان کرنے والوں میں سے نہ ہوتے، یعنی جبکہ فراخی اور کشادگی اور امن و امان کی حالت میں تھے اس وقت ان کی نیکیاں اگر نہ ہوتیں ‘۔ ایک حدیث بھی اس قسم کی ہے جو عنقریب بیان ہو گی ان شاءاللہ تعالیٰ۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کی حدیث میں ہے { آرام اور راحت کے وقت اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو تو وہ سختی اور بے چینی کے وقت تمہاری مدد کرے گا۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگر یہ پابند نماز نہ ہوتے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگر مچھلی کے پیٹ میں نماز نہ پڑھتے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگر یہ «لَّآ اِلٰهَ اِلَّآ اَنْتَ سُبْحٰــنَكَ اِنِّىْ كُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِيْنَ» ۱؎ [21-الأنبياء:87] کے ساتھ ہماری تسبیح نہ کرتے }۔ چنانچہ قرآن کریم کی اور آیتوں میں ہے کہ ’ اس نے اندھیروں میں یہی کلمات کہے اور ہم نے اس کی دعا قبول فرما کر اسے غم سے نجات دی اور اسی طرح ہم مومنوں کو نجات دیتے ہیں ‘۔ ابن ابی حاتم کی ایک حدیث میں ہے کہ { یونس علیہ السلام نے جب مچھلی کے پیٹ میں ان کلمات کو کہا تو یہ دعا عرش اللہ کے اردگرد منڈلانے لگی اور فرشتوں نے کہا ”اللہ یہ آواز تو کہیں بہت ہی دور کی ہے لیکن اس آواز سے ہمارے کان آشنا ضرور ہیں۔“ اللہ نے فرمایا ’ اب بھی پہچان لیا یہ کس کی آواز ہے؟ ‘ انہوں نے کہا نہیں پہچانا فرمایا ’ یہ میرے بندے یونس کی آواز ہے ‘۔ فرشتوں نے کہا وہی یونس جس کے نیک اعمال اور مقبول دعائیں ہمیشہ آسمان پر چڑھتی رہتی تھیں؟ اللہ اس پر تو ضرور رحم فرما اس کی دعا قبول کر وہ تو آسانیوں میں بھی تیرا نام لیا کرتا تھا۔ اسے بلا سے نجات دے۔ اللہ نے فرمایا ’ ہاں! میں اسے نجات دوں گا ‘۔ چنانچہ مچھلی کو حکم ہوا کہ میدان میں یونس کو اگل دے اور اس نے اگل دیا اور وہیں اللہ تعالیٰ نے ان پر ان کی نخیفی کمزوری اور بیماری کی وجہ سے چھاؤں کے لیے کدو کی بیل اگا دی اور ایک جنگلی بکری کو مقرر کر دیا جو صبح شام ان کے پاس آ جاتی تھی اور یہ اس کا دودھ پی لیا کرتے تھے }۔۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:29601:ضعیف]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت سے یہ واقعات مرفوع احادیث سے سورۃ انبیاء کی تفسیر میں بیان ہو چکے ہیں۔ ’ ہم نے انہیں اس زمین میں ڈال دیا جہاں سبزہ روئیدگی گھاس کچھ نہ تھا ‘۔ دجلہ کے کنارے یا یمن کی سر زمین پر یہ لادے گئے تھے۔ وہ اس وقت کمزور تھے جیسے پرندوں کے بچے ہوتے ہیں۔ یا بچہ جس وقت پیدا ہوتا ہے۔ یعنی صرف سانس چل رہا تھا اور طاقت ہلنے جلنے کی بھی نہ تھی۔ «یقطین» کدو کے درخت کو بھی کہتے ہیں اور ہر اس درخت کو جس کا تنا نہ ہو یعنی بیل ہو اور اس درخت کو بھی جس کی عمر ایک سال سے زیادہ نہیں ہوتی۔ کدو میں بہت سے فوائد ہیں یہ بہت جلد اگتا اور بڑھتا ہے اس کے پتوں کا سایہ گھنا اور فرحت بخش ہوتا ہے کیونکہ وہ بڑے بڑے ہوتے ہیں اور اس کے پاس مکھیاں نہیں آتیں۔ یہ غذا کا کام دے جاتا ہے اور چھلکے اور گودے سمیت کھایا جاتا ہے۔ صحیح حدیث میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کدو یعنی گھیا بہت پسند تھا اور برتن میں سے چن چن کر اسے کھاتے تھے }۔۱؎ [صحیح بخاری:5435]
پھر انہیں ایک لاکھ بلکہ زیادہ آدمیوں کی طرف رسالت کے ساتھ بھیجا گیا۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اس سے پہلے آپ رسول نہ تھے۔ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں مچھلی کے پیٹ میں جانے سے پہلے ہی آپ علیہ السلام اس قوم کی طرف رسول بنا کر بھیجے گئے تھے۔ دونوں قولوں سے اس طرح تضاد اٹھ سکتا ہے کہ پہلے بھی ان کی طرف بھیجے گئے تھے اب دوبارہ بھی ان ہی کی طرف بھیجے گئے اور وہ سب ایمان لائے اور آپ کی تصدیق کی۔ بغوی رحمہ اللہ کہتے ہیں مچھلی کے پیٹ سے نجات پانے کے بعد دوسری قوم کی طرف بھیجے گئے تھے۔ یہاں «اَوْ» معنی میں بلکہ کے ہے اور وہ ایک لاکھ تیس ہزار یا اس سے بھی کچھ اوپر۔ یا ایک لاکھ چالیس ہزار سے بھی زیادہ یا ستر ہزار سے بھی زیادہ یا ایک لاکھ دس ہزار اور ایک غریب مرفوع حدیث کی رو سے { ایک لاکھ بیس ہزار تھے }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:3229،قال الشيخ الألباني:ضعیف] یہ مطلب بھی بیان کیا گیا ہے کہ انسانی اندازہ ایک لاکھ سے زیادہ ہی کا تھا۔ ابن جریر رحمہ اللہ کا یہی مسلک ہے اور یہی مسلک ان کا آیت «اَوْ اَشَدُّ قَسْوَةً» [2-البقرة:74] اور آیت «اَوْ اَشَدَّ خَشْـيَةً» ۱؎ [4-النساء:77] اور آیت «اَوْ اَدْنٰى» ۱؎ [53-النجم:9] میں ہے یعنی ’ اس سے کم نہیں اس سے زائد ہے ‘۔ پس قوم یونس علیہ السلام سب کی سب مسلمان ہو گئی، یونس علیہ السلام کی تصدیق کی اور اللہ پر ایمان لے آئے۔ ’ ہم نے بھی ان کے مقررہ وقت یعنی موت کی گھڑی تک دنیوی فائدے دئے اور آیت میں ہے «فَلَوْلَا كَانَتْ قَرْيَةٌ آمَنَتْ فَنَفَعَهَا إِيمَانُهَا إِلَّا قَوْمَ يُونُسَ لَمَّا آمَنُوا كَشَفْنَا عَنْهُمْ عَذَابَ الْخِزْيِ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَمَتَّعْنَاهُمْ إِلَىٰ حِينٍ» ۱؎ [10-يونس:98] ’ کسی بستی کے ایمان نے انہیں (عذاب آ چکنے کے بعد) نفع نہیں دیا سوائے قوم یونس کے وہ جب ایمان لائے تو ہم نے ان پر سے عذاب ہٹا لیے اور انہیں ایک معیاد معین تک بہرہ مند کیا ‘۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 144،143) ➊ {فَلَوْ لَاۤ اَنَّهٗ كَانَ مِنَ الْمُسَبِّحِيْنَ…:} ”اگر یہ بات نہ ہوتی کہ وہ تسبیح کرنے والوں میں سے تھا“ میں دو چیزیں شامل ہیں، ایک تو یہ کہ وہ اس سے پہلے بھی ہمیشہ اللہ تعالیٰ کی تسبیح اور اس کا ذکر کرنے والے تھے اور دوسری یہ کہ اس وقت بھی انھوں نے اللہ تعالیٰ کی تسبیح کرتے ہوئے کہا: «لَاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنْتَ سُبْحٰنَكَ اِنِّيْ كُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِيْنَ» [ الأنبیاء: ۸۷ ] ”تیرے سوا کوئی معبود نہیں، تو پاک ہے، یقینا میں ظلم کرنے والوں سے ہو گیا ہوں۔“ اگر وہ تسبیح کرنے والوں میں سے نہ ہوتے تو وہیں فوت ہو جاتے اور مچھلی کا پیٹ ہی ان کی قبر بن جاتا۔ ➋ اس سے معلوم ہوا کہ جس طرح اللہ تعالیٰ مصیبت کے وقت پکارنے پر مدد فرماتا ہے، خوش حالی میں اپنی تسبیح اور ذکر کرنے والوں کا مصیبت میں زیادہ خیال رکھتا ہے۔ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنھما سے ایک لمبی حدیث میں مروی ہے کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے سواری پر سوار تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لڑکے! میں تمھیں چند باتیں نہ سکھاؤں جن کے ساتھ تمھیں اللہ تعالیٰ نفع دے گا؟“ میں نے کہا: ”کیوں نہیں!“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ اِحْفَظِ اللّٰهَ يَحْفَظْكَ، اِحْفَظِ اللّٰهَ تَجِدْهُ أَمَامَكَ، تَعَرَّفْ إِلَيْهِ فِي الرَّخَاءِ، يَعْرِفْكَ فِي الشِّدَّةِ ] [مسند أحمد: 307/1، ح: ۲۸۰۷، قال المحقق حدیث صحیح ] ”اللہ کا دھیان رکھ، وہ تیرا دھیان رکھے گا۔ اللہ کا دھیان رکھ تو اسے اپنے سامنے پائے گا۔ خوش حالی میں اس سے جان پہچان رکھ، وہ سختی میں تیری پہچان رکھے گا۔“ جو خوش حالی میں ایمان نہ لائے اور اللہ تعالیٰ کو یاد نہ رکھے سختی میں اس کا ایمان اور اس کی فریاد کام نہیں دیتی، جیساکہ فرعون نے غرق ہوتے وقت کہا: «اٰمَنْتُ اَنَّهٗ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا الَّذِيْۤ اٰمَنَتْ بِهٖ بَنُوْۤا اِسْرَآءِيْلَ» [ یونس: ۹۰ ] ”میں ایمان لایا کہ حق یہ ہے کہ اس کے سوا کوئی معبود نہیں جس پر بنی اسرائیل ایمان لائے ہیں۔“ تو اسے کہا گیا: «آٰلْـٰٔنَ وَ قَدْ عَصَيْتَ قَبْلُ وَ كُنْتَ مِنَ الْمُفْسِدِيْنَ» [ یونس: ۹۱ ] ”کیا اب؟ حالانکہ بے شک تو نے اس سے پہلے نافرمانی کی اور تو فساد کرنے والوں سے تھا۔“
تو لوگوں کے اٹھائے جانے کے دن تک اس کے پیٹ میں ہی رہتے
احمد رضا خان بریلوی
ضرور اس کے پیٹ میں رہتا جس دن تک لوگ اٹھائے جائیں گے
علامہ محمد حسین نجفی
تو (دوبارہ) اٹھائے جانے والے دن (قیامت) تک اسی (مچھلی) کے پیٹ میں رہتے۔
عبدالسلام بن محمد
تو یقینا اس کے پیٹ میں اس دن تک رہتا جس میں لوگ اٹھائے جائیں گے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
واقعہ یونس علیہ السلام ٭٭
حضرت یونس علیہ السلام کا قصہ سورۃ یونس میں بیان ہو چکا ہے۔ بخاری مسلم میں حدیث ہے کہ { کسی بندے کو یہ لائق نہیں کہ وہ کہے میں یونس بن متی سے افضل ہوں }۔۱؎ [صحیح بخاری:3413] یہ نام ممکن ہے آپ علیہ السلام کی والدہ کا ہو اور ممکن ہے والد کا ہو۔ یہ بھاگ کر مال و اسباب سے لدی ہوئی کشتی پر سوار ہوگئے۔ وہاں قرعہ اندازی ہوئی اور یہ مغلوب ہوگئے کشتی کے چلتے ہی چاروں طرف سے موجیں اٹھیں اور سخت طوفان آیا۔ یہاں تک کہ سب کو اپنی موت کا اور کشتی کے ڈوب جانے کا یقین ہو گیا۔ سب آپس میں کہنے لگے کہ قرعہ ڈالو جس کے نام کا قرعہ نکلے اسے سمندر میں ڈال دو تاکہ سب بچ جائیں اور کشتی اس طوفان سے چھوٹ جائے۔ تین دفعہ قرعہ اندازی ہوئی اور تینوں مرتبہ اللہ کے پیارے پیغبمر یونس علیہ السلام کا ہی نام نکلا۔ اہل کشتی آپ علیہ السلام کو پانی میں بہانا نہیں چاہتے تھے لیکن کیا کرتے باربار کی قرعہ اندازی پر بھی آپ علیہ السلام کا نام نکلتا رہا اور خود آپ علیہ السلام کپڑے اتار کر باوجود ان لوگوں کے روکنے کے سمندر میں کود پڑے۔ اس وقت بحر اخضر کی ایک بہت بڑی مچھلی کو جناب باری کا فرمان سرزد ہوا کہ ’ وہ دریاؤں کو چیرتی پھاڑتی جائے اور یونس کو نگل لے لیکن نہ تو ان کا جسم زخمی ہو نہ کوئی ہڈی ٹوٹے ‘۔ چنانچہ اس مچھلی نے پیغمبر اللہ علیہ السلام کو نگل لیا اور سمندروں میں چلنے پھرنے لگی۔ جب یونس علیہ السلام پوری طرح مچھلی کے پیٹ میں جا چکے تو آپ علیہ السلام کو خیال گذرا کہ میں مر چکا ہوں لیکن جب ہاتھ پیروں کو حرکت دی اور ہلے جلے تو زندگی کا یقین کر کے وہیں کھڑے ہو کر نماز شروع کر دی اور اللہ تعالیٰ سے عرض کی کہ ”اے پروردگار میں نے تیرے لیے اس جگہ مسجد بنائی ہے جہاں کوئی نہ پہنچا ہو گا۔“ تین دن یا سات دن یا چالیس دن ایک ایک دن سے بھی کم یا صرف ایک رات تک مچھلی کے پیٹ میں رہے۔ ’ اگر یہ ہماری پاکیزگی بیان کرنے والوں میں سے نہ ہوتے، یعنی جبکہ فراخی اور کشادگی اور امن و امان کی حالت میں تھے اس وقت ان کی نیکیاں اگر نہ ہوتیں ‘۔ ایک حدیث بھی اس قسم کی ہے جو عنقریب بیان ہو گی ان شاءاللہ تعالیٰ۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کی حدیث میں ہے { آرام اور راحت کے وقت اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو تو وہ سختی اور بے چینی کے وقت تمہاری مدد کرے گا۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگر یہ پابند نماز نہ ہوتے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگر مچھلی کے پیٹ میں نماز نہ پڑھتے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگر یہ «لَّآ اِلٰهَ اِلَّآ اَنْتَ سُبْحٰــنَكَ اِنِّىْ كُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِيْنَ» ۱؎ [21-الأنبياء:87] کے ساتھ ہماری تسبیح نہ کرتے }۔ چنانچہ قرآن کریم کی اور آیتوں میں ہے کہ ’ اس نے اندھیروں میں یہی کلمات کہے اور ہم نے اس کی دعا قبول فرما کر اسے غم سے نجات دی اور اسی طرح ہم مومنوں کو نجات دیتے ہیں ‘۔ ابن ابی حاتم کی ایک حدیث میں ہے کہ { یونس علیہ السلام نے جب مچھلی کے پیٹ میں ان کلمات کو کہا تو یہ دعا عرش اللہ کے اردگرد منڈلانے لگی اور فرشتوں نے کہا ”اللہ یہ آواز تو کہیں بہت ہی دور کی ہے لیکن اس آواز سے ہمارے کان آشنا ضرور ہیں۔“ اللہ نے فرمایا ’ اب بھی پہچان لیا یہ کس کی آواز ہے؟ ‘ انہوں نے کہا نہیں پہچانا فرمایا ’ یہ میرے بندے یونس کی آواز ہے ‘۔ فرشتوں نے کہا وہی یونس جس کے نیک اعمال اور مقبول دعائیں ہمیشہ آسمان پر چڑھتی رہتی تھیں؟ اللہ اس پر تو ضرور رحم فرما اس کی دعا قبول کر وہ تو آسانیوں میں بھی تیرا نام لیا کرتا تھا۔ اسے بلا سے نجات دے۔ اللہ نے فرمایا ’ ہاں! میں اسے نجات دوں گا ‘۔ چنانچہ مچھلی کو حکم ہوا کہ میدان میں یونس کو اگل دے اور اس نے اگل دیا اور وہیں اللہ تعالیٰ نے ان پر ان کی نخیفی کمزوری اور بیماری کی وجہ سے چھاؤں کے لیے کدو کی بیل اگا دی اور ایک جنگلی بکری کو مقرر کر دیا جو صبح شام ان کے پاس آ جاتی تھی اور یہ اس کا دودھ پی لیا کرتے تھے }۔۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:29601:ضعیف]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت سے یہ واقعات مرفوع احادیث سے سورۃ انبیاء کی تفسیر میں بیان ہو چکے ہیں۔ ’ ہم نے انہیں اس زمین میں ڈال دیا جہاں سبزہ روئیدگی گھاس کچھ نہ تھا ‘۔ دجلہ کے کنارے یا یمن کی سر زمین پر یہ لادے گئے تھے۔ وہ اس وقت کمزور تھے جیسے پرندوں کے بچے ہوتے ہیں۔ یا بچہ جس وقت پیدا ہوتا ہے۔ یعنی صرف سانس چل رہا تھا اور طاقت ہلنے جلنے کی بھی نہ تھی۔ «یقطین» کدو کے درخت کو بھی کہتے ہیں اور ہر اس درخت کو جس کا تنا نہ ہو یعنی بیل ہو اور اس درخت کو بھی جس کی عمر ایک سال سے زیادہ نہیں ہوتی۔ کدو میں بہت سے فوائد ہیں یہ بہت جلد اگتا اور بڑھتا ہے اس کے پتوں کا سایہ گھنا اور فرحت بخش ہوتا ہے کیونکہ وہ بڑے بڑے ہوتے ہیں اور اس کے پاس مکھیاں نہیں آتیں۔ یہ غذا کا کام دے جاتا ہے اور چھلکے اور گودے سمیت کھایا جاتا ہے۔ صحیح حدیث میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کدو یعنی گھیا بہت پسند تھا اور برتن میں سے چن چن کر اسے کھاتے تھے }۔۱؎ [صحیح بخاری:5435]
پھر انہیں ایک لاکھ بلکہ زیادہ آدمیوں کی طرف رسالت کے ساتھ بھیجا گیا۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اس سے پہلے آپ رسول نہ تھے۔ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں مچھلی کے پیٹ میں جانے سے پہلے ہی آپ علیہ السلام اس قوم کی طرف رسول بنا کر بھیجے گئے تھے۔ دونوں قولوں سے اس طرح تضاد اٹھ سکتا ہے کہ پہلے بھی ان کی طرف بھیجے گئے تھے اب دوبارہ بھی ان ہی کی طرف بھیجے گئے اور وہ سب ایمان لائے اور آپ کی تصدیق کی۔ بغوی رحمہ اللہ کہتے ہیں مچھلی کے پیٹ سے نجات پانے کے بعد دوسری قوم کی طرف بھیجے گئے تھے۔ یہاں «اَوْ» معنی میں بلکہ کے ہے اور وہ ایک لاکھ تیس ہزار یا اس سے بھی کچھ اوپر۔ یا ایک لاکھ چالیس ہزار سے بھی زیادہ یا ستر ہزار سے بھی زیادہ یا ایک لاکھ دس ہزار اور ایک غریب مرفوع حدیث کی رو سے { ایک لاکھ بیس ہزار تھے }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:3229،قال الشيخ الألباني:ضعیف] یہ مطلب بھی بیان کیا گیا ہے کہ انسانی اندازہ ایک لاکھ سے زیادہ ہی کا تھا۔ ابن جریر رحمہ اللہ کا یہی مسلک ہے اور یہی مسلک ان کا آیت «اَوْ اَشَدُّ قَسْوَةً» [2-البقرة:74] اور آیت «اَوْ اَشَدَّ خَشْـيَةً» ۱؎ [4-النساء:77] اور آیت «اَوْ اَدْنٰى» ۱؎ [53-النجم:9] میں ہے یعنی ’ اس سے کم نہیں اس سے زائد ہے ‘۔ پس قوم یونس علیہ السلام سب کی سب مسلمان ہو گئی، یونس علیہ السلام کی تصدیق کی اور اللہ پر ایمان لے آئے۔ ’ ہم نے بھی ان کے مقررہ وقت یعنی موت کی گھڑی تک دنیوی فائدے دئے اور آیت میں ہے «فَلَوْلَا كَانَتْ قَرْيَةٌ آمَنَتْ فَنَفَعَهَا إِيمَانُهَا إِلَّا قَوْمَ يُونُسَ لَمَّا آمَنُوا كَشَفْنَا عَنْهُمْ عَذَابَ الْخِزْيِ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَمَتَّعْنَاهُمْ إِلَىٰ حِينٍ» ۱؎ [10-يونس:98] ’ کسی بستی کے ایمان نے انہیں (عذاب آ چکنے کے بعد) نفع نہیں دیا سوائے قوم یونس کے وہ جب ایمان لائے تو ہم نے ان پر سے عذاب ہٹا لیے اور انہیں ایک معیاد معین تک بہرہ مند کیا ‘۔
144۔ 1 یعنی توبہ استغفار اور اللہ کی تسبیح بیان نہ کرتے، (جیسا کہ انہوں نے کہا (وَدَاوٗدَ وَسُلَيْمٰنَ اِذْ يَحْكُمٰنِ فِي الْحَرْثِ اِذْ نَفَشَتْ فِيْهِ غَنَمُ الْقَوْمِ ۚ وَكُنَّا لِحُـكْمِهِمْ شٰهِدِيْنَ) 21۔ الانبیاء:78) تو قیامت تک وہ مچھلی کے پیٹ میں ہی رہتے۔
آخرکار ہم نے اسے بڑی سقیم حالت میں ایک چٹیل زمین پر پھینک دیا
مولانا محمد جوناگڑھی
پس انہیں ہم نے چٹیل میدان میں ڈال دیا اور وه اس وقت بیمار تھے
احمد رضا خان بریلوی
پھر ہم نے اسے میدان میں ڈال دیا اور وہ بیمار تھا
علامہ محمد حسین نجفی
سو ہم نے انہیں (مچھلی کے پیٹ سے نکال کر) ایک کھلے میدان میں ڈال دیا۔ اس حال میں کہ وہ بیمار تھے۔
عبدالسلام بن محمد
پھر ہم نے اسے چٹیل میدان میں پھینک دیا، اس حال میں کہ وہ بیمار تھا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
واقعہ یونس علیہ السلام ٭٭
حضرت یونس علیہ السلام کا قصہ سورۃ یونس میں بیان ہو چکا ہے۔ بخاری مسلم میں حدیث ہے کہ { کسی بندے کو یہ لائق نہیں کہ وہ کہے میں یونس بن متی سے افضل ہوں }۔۱؎ [صحیح بخاری:3413] یہ نام ممکن ہے آپ علیہ السلام کی والدہ کا ہو اور ممکن ہے والد کا ہو۔ یہ بھاگ کر مال و اسباب سے لدی ہوئی کشتی پر سوار ہوگئے۔ وہاں قرعہ اندازی ہوئی اور یہ مغلوب ہوگئے کشتی کے چلتے ہی چاروں طرف سے موجیں اٹھیں اور سخت طوفان آیا۔ یہاں تک کہ سب کو اپنی موت کا اور کشتی کے ڈوب جانے کا یقین ہو گیا۔ سب آپس میں کہنے لگے کہ قرعہ ڈالو جس کے نام کا قرعہ نکلے اسے سمندر میں ڈال دو تاکہ سب بچ جائیں اور کشتی اس طوفان سے چھوٹ جائے۔ تین دفعہ قرعہ اندازی ہوئی اور تینوں مرتبہ اللہ کے پیارے پیغبمر یونس علیہ السلام کا ہی نام نکلا۔ اہل کشتی آپ علیہ السلام کو پانی میں بہانا نہیں چاہتے تھے لیکن کیا کرتے باربار کی قرعہ اندازی پر بھی آپ علیہ السلام کا نام نکلتا رہا اور خود آپ علیہ السلام کپڑے اتار کر باوجود ان لوگوں کے روکنے کے سمندر میں کود پڑے۔ اس وقت بحر اخضر کی ایک بہت بڑی مچھلی کو جناب باری کا فرمان سرزد ہوا کہ ’ وہ دریاؤں کو چیرتی پھاڑتی جائے اور یونس کو نگل لے لیکن نہ تو ان کا جسم زخمی ہو نہ کوئی ہڈی ٹوٹے ‘۔ چنانچہ اس مچھلی نے پیغمبر اللہ علیہ السلام کو نگل لیا اور سمندروں میں چلنے پھرنے لگی۔ جب یونس علیہ السلام پوری طرح مچھلی کے پیٹ میں جا چکے تو آپ علیہ السلام کو خیال گذرا کہ میں مر چکا ہوں لیکن جب ہاتھ پیروں کو حرکت دی اور ہلے جلے تو زندگی کا یقین کر کے وہیں کھڑے ہو کر نماز شروع کر دی اور اللہ تعالیٰ سے عرض کی کہ ”اے پروردگار میں نے تیرے لیے اس جگہ مسجد بنائی ہے جہاں کوئی نہ پہنچا ہو گا۔“ تین دن یا سات دن یا چالیس دن ایک ایک دن سے بھی کم یا صرف ایک رات تک مچھلی کے پیٹ میں رہے۔ ’ اگر یہ ہماری پاکیزگی بیان کرنے والوں میں سے نہ ہوتے، یعنی جبکہ فراخی اور کشادگی اور امن و امان کی حالت میں تھے اس وقت ان کی نیکیاں اگر نہ ہوتیں ‘۔ ایک حدیث بھی اس قسم کی ہے جو عنقریب بیان ہو گی ان شاءاللہ تعالیٰ۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کی حدیث میں ہے { آرام اور راحت کے وقت اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو تو وہ سختی اور بے چینی کے وقت تمہاری مدد کرے گا۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگر یہ پابند نماز نہ ہوتے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگر مچھلی کے پیٹ میں نماز نہ پڑھتے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگر یہ «لَّآ اِلٰهَ اِلَّآ اَنْتَ سُبْحٰــنَكَ اِنِّىْ كُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِيْنَ» ۱؎ [21-الأنبياء:87] کے ساتھ ہماری تسبیح نہ کرتے }۔ چنانچہ قرآن کریم کی اور آیتوں میں ہے کہ ’ اس نے اندھیروں میں یہی کلمات کہے اور ہم نے اس کی دعا قبول فرما کر اسے غم سے نجات دی اور اسی طرح ہم مومنوں کو نجات دیتے ہیں ‘۔ ابن ابی حاتم کی ایک حدیث میں ہے کہ { یونس علیہ السلام نے جب مچھلی کے پیٹ میں ان کلمات کو کہا تو یہ دعا عرش اللہ کے اردگرد منڈلانے لگی اور فرشتوں نے کہا ”اللہ یہ آواز تو کہیں بہت ہی دور کی ہے لیکن اس آواز سے ہمارے کان آشنا ضرور ہیں۔“ اللہ نے فرمایا ’ اب بھی پہچان لیا یہ کس کی آواز ہے؟ ‘ انہوں نے کہا نہیں پہچانا فرمایا ’ یہ میرے بندے یونس کی آواز ہے ‘۔ فرشتوں نے کہا وہی یونس جس کے نیک اعمال اور مقبول دعائیں ہمیشہ آسمان پر چڑھتی رہتی تھیں؟ اللہ اس پر تو ضرور رحم فرما اس کی دعا قبول کر وہ تو آسانیوں میں بھی تیرا نام لیا کرتا تھا۔ اسے بلا سے نجات دے۔ اللہ نے فرمایا ’ ہاں! میں اسے نجات دوں گا ‘۔ چنانچہ مچھلی کو حکم ہوا کہ میدان میں یونس کو اگل دے اور اس نے اگل دیا اور وہیں اللہ تعالیٰ نے ان پر ان کی نخیفی کمزوری اور بیماری کی وجہ سے چھاؤں کے لیے کدو کی بیل اگا دی اور ایک جنگلی بکری کو مقرر کر دیا جو صبح شام ان کے پاس آ جاتی تھی اور یہ اس کا دودھ پی لیا کرتے تھے }۔۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:29601:ضعیف]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت سے یہ واقعات مرفوع احادیث سے سورۃ انبیاء کی تفسیر میں بیان ہو چکے ہیں۔ ’ ہم نے انہیں اس زمین میں ڈال دیا جہاں سبزہ روئیدگی گھاس کچھ نہ تھا ‘۔ دجلہ کے کنارے یا یمن کی سر زمین پر یہ لادے گئے تھے۔ وہ اس وقت کمزور تھے جیسے پرندوں کے بچے ہوتے ہیں۔ یا بچہ جس وقت پیدا ہوتا ہے۔ یعنی صرف سانس چل رہا تھا اور طاقت ہلنے جلنے کی بھی نہ تھی۔ «یقطین» کدو کے درخت کو بھی کہتے ہیں اور ہر اس درخت کو جس کا تنا نہ ہو یعنی بیل ہو اور اس درخت کو بھی جس کی عمر ایک سال سے زیادہ نہیں ہوتی۔ کدو میں بہت سے فوائد ہیں یہ بہت جلد اگتا اور بڑھتا ہے اس کے پتوں کا سایہ گھنا اور فرحت بخش ہوتا ہے کیونکہ وہ بڑے بڑے ہوتے ہیں اور اس کے پاس مکھیاں نہیں آتیں۔ یہ غذا کا کام دے جاتا ہے اور چھلکے اور گودے سمیت کھایا جاتا ہے۔ صحیح حدیث میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کدو یعنی گھیا بہت پسند تھا اور برتن میں سے چن چن کر اسے کھاتے تھے }۔۱؎ [صحیح بخاری:5435]
پھر انہیں ایک لاکھ بلکہ زیادہ آدمیوں کی طرف رسالت کے ساتھ بھیجا گیا۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اس سے پہلے آپ رسول نہ تھے۔ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں مچھلی کے پیٹ میں جانے سے پہلے ہی آپ علیہ السلام اس قوم کی طرف رسول بنا کر بھیجے گئے تھے۔ دونوں قولوں سے اس طرح تضاد اٹھ سکتا ہے کہ پہلے بھی ان کی طرف بھیجے گئے تھے اب دوبارہ بھی ان ہی کی طرف بھیجے گئے اور وہ سب ایمان لائے اور آپ کی تصدیق کی۔ بغوی رحمہ اللہ کہتے ہیں مچھلی کے پیٹ سے نجات پانے کے بعد دوسری قوم کی طرف بھیجے گئے تھے۔ یہاں «اَوْ» معنی میں بلکہ کے ہے اور وہ ایک لاکھ تیس ہزار یا اس سے بھی کچھ اوپر۔ یا ایک لاکھ چالیس ہزار سے بھی زیادہ یا ستر ہزار سے بھی زیادہ یا ایک لاکھ دس ہزار اور ایک غریب مرفوع حدیث کی رو سے { ایک لاکھ بیس ہزار تھے }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:3229،قال الشيخ الألباني:ضعیف] یہ مطلب بھی بیان کیا گیا ہے کہ انسانی اندازہ ایک لاکھ سے زیادہ ہی کا تھا۔ ابن جریر رحمہ اللہ کا یہی مسلک ہے اور یہی مسلک ان کا آیت «اَوْ اَشَدُّ قَسْوَةً» [2-البقرة:74] اور آیت «اَوْ اَشَدَّ خَشْـيَةً» ۱؎ [4-النساء:77] اور آیت «اَوْ اَدْنٰى» ۱؎ [53-النجم:9] میں ہے یعنی ’ اس سے کم نہیں اس سے زائد ہے ‘۔ پس قوم یونس علیہ السلام سب کی سب مسلمان ہو گئی، یونس علیہ السلام کی تصدیق کی اور اللہ پر ایمان لے آئے۔ ’ ہم نے بھی ان کے مقررہ وقت یعنی موت کی گھڑی تک دنیوی فائدے دئے اور آیت میں ہے «فَلَوْلَا كَانَتْ قَرْيَةٌ آمَنَتْ فَنَفَعَهَا إِيمَانُهَا إِلَّا قَوْمَ يُونُسَ لَمَّا آمَنُوا كَشَفْنَا عَنْهُمْ عَذَابَ الْخِزْيِ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَمَتَّعْنَاهُمْ إِلَىٰ حِينٍ» ۱؎ [10-يونس:98] ’ کسی بستی کے ایمان نے انہیں (عذاب آ چکنے کے بعد) نفع نہیں دیا سوائے قوم یونس کے وہ جب ایمان لائے تو ہم نے ان پر سے عذاب ہٹا لیے اور انہیں ایک معیاد معین تک بہرہ مند کیا ‘۔
145۔ 1 جیسے ولادت کے وقت بچہ یا جانور کا چوزہ ہوتا ہے، کمزور اور ناتواں۔
(آیت 145){ فَنَبَذْنٰهُ بِالْعَرَآءِ وَ هُوَ سَقِيْمٌ: ”اَلْعَرَآءُ“} چٹیل میدان، جس میں کوئی درخت اور سائے کی چیز نہ ہو۔ مچھلی نے اللہ تعالیٰ کے حکم سے انھیں سمندر سے باہر ایک چٹیل میدان میں اسی طرح صحیح سالم اگل دیا جس طرح نگلا تھا، مگر مچھلی کے پیٹ میں رہنے کی وجہ سے ان کی جلد نہایت نرم و نازک ہو گئی تھی اور وہ اس وقت سخت کمزور اور بیمار تھے۔ البتہ اللہ تعالیٰ کے خاص احسان سے توبہ کی قبولیت کی وجہ سے ان کا مرتبہ پہلے سے بلند ہو چکا تھا۔ دیکھیے سورۂ قلم (۴۹، ۵۰) یونس علیہ السلام مچھلی کے پیٹ میں کتنے دن رہے، تھوڑی دیر رہے یا تین دن یا سات دن یا چالیس دن، جیسا کہ مفسرین کہتے ہیں، اللہ تعالیٰ نے یہ بات بیان نہیں فرمائی، کیونکہ جتنی مدت بھی رہے ہوں، تھوڑی ہو یا زیادہ، مچھلی کے پیٹ میں ان کا زندہ رہ جانا اور صحیح سلامت نکل آنا ہی بہت بڑا معجزہ ہے۔
اور ان پر سایہ کرنے واﻻ ایک بیل دار درخت ہم نے اگا دیا
احمد رضا خان بریلوی
اور ہم نے اس پر کدو کا پیڑ اگایا
علامہ محمد حسین نجفی
اور ہم نے ان پر (سایہ کرنے کیلئے) کدو کا ایک درخت لگا دیا۔
عبدالسلام بن محمد
اور ہم نے اس پر ایک بیل دار پودا اگا دیا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
واقعہ یونس علیہ السلام ٭٭
حضرت یونس علیہ السلام کا قصہ سورۃ یونس میں بیان ہو چکا ہے۔ بخاری مسلم میں حدیث ہے کہ { کسی بندے کو یہ لائق نہیں کہ وہ کہے میں یونس بن متی سے افضل ہوں }۔۱؎ [صحیح بخاری:3413] یہ نام ممکن ہے آپ علیہ السلام کی والدہ کا ہو اور ممکن ہے والد کا ہو۔ یہ بھاگ کر مال و اسباب سے لدی ہوئی کشتی پر سوار ہوگئے۔ وہاں قرعہ اندازی ہوئی اور یہ مغلوب ہوگئے کشتی کے چلتے ہی چاروں طرف سے موجیں اٹھیں اور سخت طوفان آیا۔ یہاں تک کہ سب کو اپنی موت کا اور کشتی کے ڈوب جانے کا یقین ہو گیا۔ سب آپس میں کہنے لگے کہ قرعہ ڈالو جس کے نام کا قرعہ نکلے اسے سمندر میں ڈال دو تاکہ سب بچ جائیں اور کشتی اس طوفان سے چھوٹ جائے۔ تین دفعہ قرعہ اندازی ہوئی اور تینوں مرتبہ اللہ کے پیارے پیغبمر یونس علیہ السلام کا ہی نام نکلا۔ اہل کشتی آپ علیہ السلام کو پانی میں بہانا نہیں چاہتے تھے لیکن کیا کرتے باربار کی قرعہ اندازی پر بھی آپ علیہ السلام کا نام نکلتا رہا اور خود آپ علیہ السلام کپڑے اتار کر باوجود ان لوگوں کے روکنے کے سمندر میں کود پڑے۔ اس وقت بحر اخضر کی ایک بہت بڑی مچھلی کو جناب باری کا فرمان سرزد ہوا کہ ’ وہ دریاؤں کو چیرتی پھاڑتی جائے اور یونس کو نگل لے لیکن نہ تو ان کا جسم زخمی ہو نہ کوئی ہڈی ٹوٹے ‘۔ چنانچہ اس مچھلی نے پیغمبر اللہ علیہ السلام کو نگل لیا اور سمندروں میں چلنے پھرنے لگی۔ جب یونس علیہ السلام پوری طرح مچھلی کے پیٹ میں جا چکے تو آپ علیہ السلام کو خیال گذرا کہ میں مر چکا ہوں لیکن جب ہاتھ پیروں کو حرکت دی اور ہلے جلے تو زندگی کا یقین کر کے وہیں کھڑے ہو کر نماز شروع کر دی اور اللہ تعالیٰ سے عرض کی کہ ”اے پروردگار میں نے تیرے لیے اس جگہ مسجد بنائی ہے جہاں کوئی نہ پہنچا ہو گا۔“ تین دن یا سات دن یا چالیس دن ایک ایک دن سے بھی کم یا صرف ایک رات تک مچھلی کے پیٹ میں رہے۔ ’ اگر یہ ہماری پاکیزگی بیان کرنے والوں میں سے نہ ہوتے، یعنی جبکہ فراخی اور کشادگی اور امن و امان کی حالت میں تھے اس وقت ان کی نیکیاں اگر نہ ہوتیں ‘۔ ایک حدیث بھی اس قسم کی ہے جو عنقریب بیان ہو گی ان شاءاللہ تعالیٰ۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کی حدیث میں ہے { آرام اور راحت کے وقت اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو تو وہ سختی اور بے چینی کے وقت تمہاری مدد کرے گا۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگر یہ پابند نماز نہ ہوتے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگر مچھلی کے پیٹ میں نماز نہ پڑھتے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگر یہ «لَّآ اِلٰهَ اِلَّآ اَنْتَ سُبْحٰــنَكَ اِنِّىْ كُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِيْنَ» ۱؎ [21-الأنبياء:87] کے ساتھ ہماری تسبیح نہ کرتے }۔ چنانچہ قرآن کریم کی اور آیتوں میں ہے کہ ’ اس نے اندھیروں میں یہی کلمات کہے اور ہم نے اس کی دعا قبول فرما کر اسے غم سے نجات دی اور اسی طرح ہم مومنوں کو نجات دیتے ہیں ‘۔ ابن ابی حاتم کی ایک حدیث میں ہے کہ { یونس علیہ السلام نے جب مچھلی کے پیٹ میں ان کلمات کو کہا تو یہ دعا عرش اللہ کے اردگرد منڈلانے لگی اور فرشتوں نے کہا ”اللہ یہ آواز تو کہیں بہت ہی دور کی ہے لیکن اس آواز سے ہمارے کان آشنا ضرور ہیں۔“ اللہ نے فرمایا ’ اب بھی پہچان لیا یہ کس کی آواز ہے؟ ‘ انہوں نے کہا نہیں پہچانا فرمایا ’ یہ میرے بندے یونس کی آواز ہے ‘۔ فرشتوں نے کہا وہی یونس جس کے نیک اعمال اور مقبول دعائیں ہمیشہ آسمان پر چڑھتی رہتی تھیں؟ اللہ اس پر تو ضرور رحم فرما اس کی دعا قبول کر وہ تو آسانیوں میں بھی تیرا نام لیا کرتا تھا۔ اسے بلا سے نجات دے۔ اللہ نے فرمایا ’ ہاں! میں اسے نجات دوں گا ‘۔ چنانچہ مچھلی کو حکم ہوا کہ میدان میں یونس کو اگل دے اور اس نے اگل دیا اور وہیں اللہ تعالیٰ نے ان پر ان کی نخیفی کمزوری اور بیماری کی وجہ سے چھاؤں کے لیے کدو کی بیل اگا دی اور ایک جنگلی بکری کو مقرر کر دیا جو صبح شام ان کے پاس آ جاتی تھی اور یہ اس کا دودھ پی لیا کرتے تھے }۔۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:29601:ضعیف]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت سے یہ واقعات مرفوع احادیث سے سورۃ انبیاء کی تفسیر میں بیان ہو چکے ہیں۔ ’ ہم نے انہیں اس زمین میں ڈال دیا جہاں سبزہ روئیدگی گھاس کچھ نہ تھا ‘۔ دجلہ کے کنارے یا یمن کی سر زمین پر یہ لادے گئے تھے۔ وہ اس وقت کمزور تھے جیسے پرندوں کے بچے ہوتے ہیں۔ یا بچہ جس وقت پیدا ہوتا ہے۔ یعنی صرف سانس چل رہا تھا اور طاقت ہلنے جلنے کی بھی نہ تھی۔ «یقطین» کدو کے درخت کو بھی کہتے ہیں اور ہر اس درخت کو جس کا تنا نہ ہو یعنی بیل ہو اور اس درخت کو بھی جس کی عمر ایک سال سے زیادہ نہیں ہوتی۔ کدو میں بہت سے فوائد ہیں یہ بہت جلد اگتا اور بڑھتا ہے اس کے پتوں کا سایہ گھنا اور فرحت بخش ہوتا ہے کیونکہ وہ بڑے بڑے ہوتے ہیں اور اس کے پاس مکھیاں نہیں آتیں۔ یہ غذا کا کام دے جاتا ہے اور چھلکے اور گودے سمیت کھایا جاتا ہے۔ صحیح حدیث میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کدو یعنی گھیا بہت پسند تھا اور برتن میں سے چن چن کر اسے کھاتے تھے }۔۱؎ [صحیح بخاری:5435]
پھر انہیں ایک لاکھ بلکہ زیادہ آدمیوں کی طرف رسالت کے ساتھ بھیجا گیا۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اس سے پہلے آپ رسول نہ تھے۔ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں مچھلی کے پیٹ میں جانے سے پہلے ہی آپ علیہ السلام اس قوم کی طرف رسول بنا کر بھیجے گئے تھے۔ دونوں قولوں سے اس طرح تضاد اٹھ سکتا ہے کہ پہلے بھی ان کی طرف بھیجے گئے تھے اب دوبارہ بھی ان ہی کی طرف بھیجے گئے اور وہ سب ایمان لائے اور آپ کی تصدیق کی۔ بغوی رحمہ اللہ کہتے ہیں مچھلی کے پیٹ سے نجات پانے کے بعد دوسری قوم کی طرف بھیجے گئے تھے۔ یہاں «اَوْ» معنی میں بلکہ کے ہے اور وہ ایک لاکھ تیس ہزار یا اس سے بھی کچھ اوپر۔ یا ایک لاکھ چالیس ہزار سے بھی زیادہ یا ستر ہزار سے بھی زیادہ یا ایک لاکھ دس ہزار اور ایک غریب مرفوع حدیث کی رو سے { ایک لاکھ بیس ہزار تھے }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:3229،قال الشيخ الألباني:ضعیف] یہ مطلب بھی بیان کیا گیا ہے کہ انسانی اندازہ ایک لاکھ سے زیادہ ہی کا تھا۔ ابن جریر رحمہ اللہ کا یہی مسلک ہے اور یہی مسلک ان کا آیت «اَوْ اَشَدُّ قَسْوَةً» [2-البقرة:74] اور آیت «اَوْ اَشَدَّ خَشْـيَةً» ۱؎ [4-النساء:77] اور آیت «اَوْ اَدْنٰى» ۱؎ [53-النجم:9] میں ہے یعنی ’ اس سے کم نہیں اس سے زائد ہے ‘۔ پس قوم یونس علیہ السلام سب کی سب مسلمان ہو گئی، یونس علیہ السلام کی تصدیق کی اور اللہ پر ایمان لے آئے۔ ’ ہم نے بھی ان کے مقررہ وقت یعنی موت کی گھڑی تک دنیوی فائدے دئے اور آیت میں ہے «فَلَوْلَا كَانَتْ قَرْيَةٌ آمَنَتْ فَنَفَعَهَا إِيمَانُهَا إِلَّا قَوْمَ يُونُسَ لَمَّا آمَنُوا كَشَفْنَا عَنْهُمْ عَذَابَ الْخِزْيِ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَمَتَّعْنَاهُمْ إِلَىٰ حِينٍ» ۱؎ [10-يونس:98] ’ کسی بستی کے ایمان نے انہیں (عذاب آ چکنے کے بعد) نفع نہیں دیا سوائے قوم یونس کے وہ جب ایمان لائے تو ہم نے ان پر سے عذاب ہٹا لیے اور انہیں ایک معیاد معین تک بہرہ مند کیا ‘۔
146۔ 1 یَقْطِیْنِ ہر اس بیل کو کہتے ہیں جو اپنے تنے پر کھڑی نہیں ہوتی، جیسے لوکی، کدو وغیرہ کی بیل اس چٹیل میدان میں جہاں کوئی درخت تھا نہ عمارت۔ ایک سایہ دار بیل اگا کر ہم نے ان کی حفاظت فرمائی۔
(آیت 146){ وَ اَنْۢبَتْنَا عَلَيْهِ شَجَرَةً مِّنْ يَّقْطِيْنٍ: ”قَطَنَ بِالْمَكَانِ“} (ن) کسی جگہ اقامت اختیار کرنے کو کہتے ہیں۔ {” يَقْطِيْنٍ “} اس میں سے {”يَفْعِيْلٌ“} کے وزن پر ہے۔ یہ لفظ ہر ایسے پودے پر بولا جاتا ہے جس کا تنا نہ ہو، مثلاً کدو، ککڑی، تربوز اور خربوزہ وغیرہ۔ زیادہ تر پیٹھے کدو کو {” يَقْطِيْنٍ “} کہتے ہیں، کیونکہ وہ زمین پر پڑا رہتا ہے۔ {” عَلَيْهِ “ } کے لفظ سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس بیل کا تنا معجزانہ طور پر اونچا کر دیا، جس سے یونس علیہ السلام پر سایہ ہو گیا، یا وہ بیل کسی اور بلند چیز پر چڑھ کر انھیں سایہ اور غذا مہیا کرتی رہی۔
اس کے بعد ہم نے اُسے ایک لاکھ، یا اس سے زائد لوگوں کی طرف بھیجا
مولانا محمد جوناگڑھی
اور ہم نے انہیں ایک لاکھ بلکہ اور زیاده آدمیوں کی طرف بھیجا
احمد رضا خان بریلوی
اور ہم نے اسے لاکھ آدمیوں کی طرف بھیجا بلکہ زیادہ،
علامہ محمد حسین نجفی
اور ہم نے ان کو ایک لاکھ یا اس سے کچھ زیادہ لوگوں کی طرف بھیجا۔
عبدالسلام بن محمد
اور اسے ایک لاکھ کی طرف بھیجا، بلکہ وہ زیادہ ہوں گے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
واقعہ یونس علیہ السلام ٭٭
حضرت یونس علیہ السلام کا قصہ سورۃ یونس میں بیان ہو چکا ہے۔ بخاری مسلم میں حدیث ہے کہ { کسی بندے کو یہ لائق نہیں کہ وہ کہے میں یونس بن متی سے افضل ہوں }۔۱؎ [صحیح بخاری:3413] یہ نام ممکن ہے آپ علیہ السلام کی والدہ کا ہو اور ممکن ہے والد کا ہو۔ یہ بھاگ کر مال و اسباب سے لدی ہوئی کشتی پر سوار ہوگئے۔ وہاں قرعہ اندازی ہوئی اور یہ مغلوب ہوگئے کشتی کے چلتے ہی چاروں طرف سے موجیں اٹھیں اور سخت طوفان آیا۔ یہاں تک کہ سب کو اپنی موت کا اور کشتی کے ڈوب جانے کا یقین ہو گیا۔ سب آپس میں کہنے لگے کہ قرعہ ڈالو جس کے نام کا قرعہ نکلے اسے سمندر میں ڈال دو تاکہ سب بچ جائیں اور کشتی اس طوفان سے چھوٹ جائے۔ تین دفعہ قرعہ اندازی ہوئی اور تینوں مرتبہ اللہ کے پیارے پیغبمر یونس علیہ السلام کا ہی نام نکلا۔ اہل کشتی آپ علیہ السلام کو پانی میں بہانا نہیں چاہتے تھے لیکن کیا کرتے باربار کی قرعہ اندازی پر بھی آپ علیہ السلام کا نام نکلتا رہا اور خود آپ علیہ السلام کپڑے اتار کر باوجود ان لوگوں کے روکنے کے سمندر میں کود پڑے۔ اس وقت بحر اخضر کی ایک بہت بڑی مچھلی کو جناب باری کا فرمان سرزد ہوا کہ ’ وہ دریاؤں کو چیرتی پھاڑتی جائے اور یونس کو نگل لے لیکن نہ تو ان کا جسم زخمی ہو نہ کوئی ہڈی ٹوٹے ‘۔ چنانچہ اس مچھلی نے پیغمبر اللہ علیہ السلام کو نگل لیا اور سمندروں میں چلنے پھرنے لگی۔ جب یونس علیہ السلام پوری طرح مچھلی کے پیٹ میں جا چکے تو آپ علیہ السلام کو خیال گذرا کہ میں مر چکا ہوں لیکن جب ہاتھ پیروں کو حرکت دی اور ہلے جلے تو زندگی کا یقین کر کے وہیں کھڑے ہو کر نماز شروع کر دی اور اللہ تعالیٰ سے عرض کی کہ ”اے پروردگار میں نے تیرے لیے اس جگہ مسجد بنائی ہے جہاں کوئی نہ پہنچا ہو گا۔“ تین دن یا سات دن یا چالیس دن ایک ایک دن سے بھی کم یا صرف ایک رات تک مچھلی کے پیٹ میں رہے۔ ’ اگر یہ ہماری پاکیزگی بیان کرنے والوں میں سے نہ ہوتے، یعنی جبکہ فراخی اور کشادگی اور امن و امان کی حالت میں تھے اس وقت ان کی نیکیاں اگر نہ ہوتیں ‘۔ ایک حدیث بھی اس قسم کی ہے جو عنقریب بیان ہو گی ان شاءاللہ تعالیٰ۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کی حدیث میں ہے { آرام اور راحت کے وقت اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو تو وہ سختی اور بے چینی کے وقت تمہاری مدد کرے گا۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگر یہ پابند نماز نہ ہوتے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگر مچھلی کے پیٹ میں نماز نہ پڑھتے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگر یہ «لَّآ اِلٰهَ اِلَّآ اَنْتَ سُبْحٰــنَكَ اِنِّىْ كُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِيْنَ» ۱؎ [21-الأنبياء:87] کے ساتھ ہماری تسبیح نہ کرتے }۔ چنانچہ قرآن کریم کی اور آیتوں میں ہے کہ ’ اس نے اندھیروں میں یہی کلمات کہے اور ہم نے اس کی دعا قبول فرما کر اسے غم سے نجات دی اور اسی طرح ہم مومنوں کو نجات دیتے ہیں ‘۔ ابن ابی حاتم کی ایک حدیث میں ہے کہ { یونس علیہ السلام نے جب مچھلی کے پیٹ میں ان کلمات کو کہا تو یہ دعا عرش اللہ کے اردگرد منڈلانے لگی اور فرشتوں نے کہا ”اللہ یہ آواز تو کہیں بہت ہی دور کی ہے لیکن اس آواز سے ہمارے کان آشنا ضرور ہیں۔“ اللہ نے فرمایا ’ اب بھی پہچان لیا یہ کس کی آواز ہے؟ ‘ انہوں نے کہا نہیں پہچانا فرمایا ’ یہ میرے بندے یونس کی آواز ہے ‘۔ فرشتوں نے کہا وہی یونس جس کے نیک اعمال اور مقبول دعائیں ہمیشہ آسمان پر چڑھتی رہتی تھیں؟ اللہ اس پر تو ضرور رحم فرما اس کی دعا قبول کر وہ تو آسانیوں میں بھی تیرا نام لیا کرتا تھا۔ اسے بلا سے نجات دے۔ اللہ نے فرمایا ’ ہاں! میں اسے نجات دوں گا ‘۔ چنانچہ مچھلی کو حکم ہوا کہ میدان میں یونس کو اگل دے اور اس نے اگل دیا اور وہیں اللہ تعالیٰ نے ان پر ان کی نخیفی کمزوری اور بیماری کی وجہ سے چھاؤں کے لیے کدو کی بیل اگا دی اور ایک جنگلی بکری کو مقرر کر دیا جو صبح شام ان کے پاس آ جاتی تھی اور یہ اس کا دودھ پی لیا کرتے تھے }۔۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:29601:ضعیف]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت سے یہ واقعات مرفوع احادیث سے سورۃ انبیاء کی تفسیر میں بیان ہو چکے ہیں۔ ’ ہم نے انہیں اس زمین میں ڈال دیا جہاں سبزہ روئیدگی گھاس کچھ نہ تھا ‘۔ دجلہ کے کنارے یا یمن کی سر زمین پر یہ لادے گئے تھے۔ وہ اس وقت کمزور تھے جیسے پرندوں کے بچے ہوتے ہیں۔ یا بچہ جس وقت پیدا ہوتا ہے۔ یعنی صرف سانس چل رہا تھا اور طاقت ہلنے جلنے کی بھی نہ تھی۔ «یقطین» کدو کے درخت کو بھی کہتے ہیں اور ہر اس درخت کو جس کا تنا نہ ہو یعنی بیل ہو اور اس درخت کو بھی جس کی عمر ایک سال سے زیادہ نہیں ہوتی۔ کدو میں بہت سے فوائد ہیں یہ بہت جلد اگتا اور بڑھتا ہے اس کے پتوں کا سایہ گھنا اور فرحت بخش ہوتا ہے کیونکہ وہ بڑے بڑے ہوتے ہیں اور اس کے پاس مکھیاں نہیں آتیں۔ یہ غذا کا کام دے جاتا ہے اور چھلکے اور گودے سمیت کھایا جاتا ہے۔ صحیح حدیث میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کدو یعنی گھیا بہت پسند تھا اور برتن میں سے چن چن کر اسے کھاتے تھے }۔۱؎ [صحیح بخاری:5435]
پھر انہیں ایک لاکھ بلکہ زیادہ آدمیوں کی طرف رسالت کے ساتھ بھیجا گیا۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اس سے پہلے آپ رسول نہ تھے۔ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں مچھلی کے پیٹ میں جانے سے پہلے ہی آپ علیہ السلام اس قوم کی طرف رسول بنا کر بھیجے گئے تھے۔ دونوں قولوں سے اس طرح تضاد اٹھ سکتا ہے کہ پہلے بھی ان کی طرف بھیجے گئے تھے اب دوبارہ بھی ان ہی کی طرف بھیجے گئے اور وہ سب ایمان لائے اور آپ کی تصدیق کی۔ بغوی رحمہ اللہ کہتے ہیں مچھلی کے پیٹ سے نجات پانے کے بعد دوسری قوم کی طرف بھیجے گئے تھے۔ یہاں «اَوْ» معنی میں بلکہ کے ہے اور وہ ایک لاکھ تیس ہزار یا اس سے بھی کچھ اوپر۔ یا ایک لاکھ چالیس ہزار سے بھی زیادہ یا ستر ہزار سے بھی زیادہ یا ایک لاکھ دس ہزار اور ایک غریب مرفوع حدیث کی رو سے { ایک لاکھ بیس ہزار تھے }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:3229،قال الشيخ الألباني:ضعیف] یہ مطلب بھی بیان کیا گیا ہے کہ انسانی اندازہ ایک لاکھ سے زیادہ ہی کا تھا۔ ابن جریر رحمہ اللہ کا یہی مسلک ہے اور یہی مسلک ان کا آیت «اَوْ اَشَدُّ قَسْوَةً» [2-البقرة:74] اور آیت «اَوْ اَشَدَّ خَشْـيَةً» ۱؎ [4-النساء:77] اور آیت «اَوْ اَدْنٰى» ۱؎ [53-النجم:9] میں ہے یعنی ’ اس سے کم نہیں اس سے زائد ہے ‘۔ پس قوم یونس علیہ السلام سب کی سب مسلمان ہو گئی، یونس علیہ السلام کی تصدیق کی اور اللہ پر ایمان لے آئے۔ ’ ہم نے بھی ان کے مقررہ وقت یعنی موت کی گھڑی تک دنیوی فائدے دئے اور آیت میں ہے «فَلَوْلَا كَانَتْ قَرْيَةٌ آمَنَتْ فَنَفَعَهَا إِيمَانُهَا إِلَّا قَوْمَ يُونُسَ لَمَّا آمَنُوا كَشَفْنَا عَنْهُمْ عَذَابَ الْخِزْيِ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَمَتَّعْنَاهُمْ إِلَىٰ حِينٍ» ۱؎ [10-يونس:98] ’ کسی بستی کے ایمان نے انہیں (عذاب آ چکنے کے بعد) نفع نہیں دیا سوائے قوم یونس کے وہ جب ایمان لائے تو ہم نے ان پر سے عذاب ہٹا لیے اور انہیں ایک معیاد معین تک بہرہ مند کیا ‘۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 147) {وَ اَرْسَلْنٰهُ اِلٰى مِائَةِ اَلْفٍ اَوْ يَزِيْدُوْنَ:} تندرست ہونے کے بعد اللہ تعالیٰ نے انھیں پھر ایک لاکھ یا اس سے زیادہ افراد پر مشتمل آبادی کی طرف پیغام حق پہنچانے کے لیے بھیج دیا۔ اکثر مفسرین کا کہنا ہے کہ یہ وہی آبادی تھی جہاں سے وہ ناراض ہو کر گئے تھے اور جن کی توبہ کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے ان کو عذاب سے محفوظ رکھا تھا۔ یہاں ایک سوال ہے کہ اللہ تعالیٰ نے یہاں جو لفظ {” اَوْ “} استعمال فرمایا ہے کہ ہم نے اسے ایک لاکھ کی طرف بھیجا ”یا“ وہ زیادہ ہوں گے، یہ لفظ تو شک کے لیے استعمال ہوتا ہے، جب کہ اللہ تعالیٰ کے لیے شک کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ اس کا ایک جواب یہ ہے کہ یہ دیکھنے والوں کے لحاظ سے ہے کہ اگر کوئی انھیں دیکھے تو کہے گا کہ ایک لاکھ ہیں یا اس سے زیادہ ہیں۔ دوسرا جواب یہ ہے کہ یہاں {” اَوْ “} بمعنی {”بَلْ“} ہے، اور اسی کے مطابق ترجمہ کیا گیا ہے ”بلکہ وہ زیادہ ہوں گے۔“
وہ ایمان لائے اور ہم نے ایک وقت خاص تک انہیں باقی رکھا
مولانا محمد جوناگڑھی
پس وه ایمان ﻻئے، اور ہم نے انہیں ایک زمانہ تک عیش وعشرت دی
احمد رضا خان بریلوی
تو وہ ایمان لے آئے تو ہم نے انہیں ایک وقت تک برتنے دیا
علامہ محمد حسین نجفی
پس وہ ایمان لائے تو ہم نے انہیں ایک مدت تک (زندگی سے) لطف اندوز ہونے دیا۔
عبدالسلام بن محمد
پس وہ ایمان لے آئے تو ہم نے انھیں ایک وقت تک فائدہ دیا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
واقعہ یونس علیہ السلام ٭٭
حضرت یونس علیہ السلام کا قصہ سورۃ یونس میں بیان ہو چکا ہے۔ بخاری مسلم میں حدیث ہے کہ { کسی بندے کو یہ لائق نہیں کہ وہ کہے میں یونس بن متی سے افضل ہوں }۔۱؎ [صحیح بخاری:3413] یہ نام ممکن ہے آپ علیہ السلام کی والدہ کا ہو اور ممکن ہے والد کا ہو۔ یہ بھاگ کر مال و اسباب سے لدی ہوئی کشتی پر سوار ہوگئے۔ وہاں قرعہ اندازی ہوئی اور یہ مغلوب ہوگئے کشتی کے چلتے ہی چاروں طرف سے موجیں اٹھیں اور سخت طوفان آیا۔ یہاں تک کہ سب کو اپنی موت کا اور کشتی کے ڈوب جانے کا یقین ہو گیا۔ سب آپس میں کہنے لگے کہ قرعہ ڈالو جس کے نام کا قرعہ نکلے اسے سمندر میں ڈال دو تاکہ سب بچ جائیں اور کشتی اس طوفان سے چھوٹ جائے۔ تین دفعہ قرعہ اندازی ہوئی اور تینوں مرتبہ اللہ کے پیارے پیغبمر یونس علیہ السلام کا ہی نام نکلا۔ اہل کشتی آپ علیہ السلام کو پانی میں بہانا نہیں چاہتے تھے لیکن کیا کرتے باربار کی قرعہ اندازی پر بھی آپ علیہ السلام کا نام نکلتا رہا اور خود آپ علیہ السلام کپڑے اتار کر باوجود ان لوگوں کے روکنے کے سمندر میں کود پڑے۔ اس وقت بحر اخضر کی ایک بہت بڑی مچھلی کو جناب باری کا فرمان سرزد ہوا کہ ’ وہ دریاؤں کو چیرتی پھاڑتی جائے اور یونس کو نگل لے لیکن نہ تو ان کا جسم زخمی ہو نہ کوئی ہڈی ٹوٹے ‘۔ چنانچہ اس مچھلی نے پیغمبر اللہ علیہ السلام کو نگل لیا اور سمندروں میں چلنے پھرنے لگی۔ جب یونس علیہ السلام پوری طرح مچھلی کے پیٹ میں جا چکے تو آپ علیہ السلام کو خیال گذرا کہ میں مر چکا ہوں لیکن جب ہاتھ پیروں کو حرکت دی اور ہلے جلے تو زندگی کا یقین کر کے وہیں کھڑے ہو کر نماز شروع کر دی اور اللہ تعالیٰ سے عرض کی کہ ”اے پروردگار میں نے تیرے لیے اس جگہ مسجد بنائی ہے جہاں کوئی نہ پہنچا ہو گا۔“ تین دن یا سات دن یا چالیس دن ایک ایک دن سے بھی کم یا صرف ایک رات تک مچھلی کے پیٹ میں رہے۔ ’ اگر یہ ہماری پاکیزگی بیان کرنے والوں میں سے نہ ہوتے، یعنی جبکہ فراخی اور کشادگی اور امن و امان کی حالت میں تھے اس وقت ان کی نیکیاں اگر نہ ہوتیں ‘۔ ایک حدیث بھی اس قسم کی ہے جو عنقریب بیان ہو گی ان شاءاللہ تعالیٰ۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کی حدیث میں ہے { آرام اور راحت کے وقت اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو تو وہ سختی اور بے چینی کے وقت تمہاری مدد کرے گا۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگر یہ پابند نماز نہ ہوتے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگر مچھلی کے پیٹ میں نماز نہ پڑھتے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگر یہ «لَّآ اِلٰهَ اِلَّآ اَنْتَ سُبْحٰــنَكَ اِنِّىْ كُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِيْنَ» ۱؎ [21-الأنبياء:87] کے ساتھ ہماری تسبیح نہ کرتے }۔ چنانچہ قرآن کریم کی اور آیتوں میں ہے کہ ’ اس نے اندھیروں میں یہی کلمات کہے اور ہم نے اس کی دعا قبول فرما کر اسے غم سے نجات دی اور اسی طرح ہم مومنوں کو نجات دیتے ہیں ‘۔ ابن ابی حاتم کی ایک حدیث میں ہے کہ { یونس علیہ السلام نے جب مچھلی کے پیٹ میں ان کلمات کو کہا تو یہ دعا عرش اللہ کے اردگرد منڈلانے لگی اور فرشتوں نے کہا ”اللہ یہ آواز تو کہیں بہت ہی دور کی ہے لیکن اس آواز سے ہمارے کان آشنا ضرور ہیں۔“ اللہ نے فرمایا ’ اب بھی پہچان لیا یہ کس کی آواز ہے؟ ‘ انہوں نے کہا نہیں پہچانا فرمایا ’ یہ میرے بندے یونس کی آواز ہے ‘۔ فرشتوں نے کہا وہی یونس جس کے نیک اعمال اور مقبول دعائیں ہمیشہ آسمان پر چڑھتی رہتی تھیں؟ اللہ اس پر تو ضرور رحم فرما اس کی دعا قبول کر وہ تو آسانیوں میں بھی تیرا نام لیا کرتا تھا۔ اسے بلا سے نجات دے۔ اللہ نے فرمایا ’ ہاں! میں اسے نجات دوں گا ‘۔ چنانچہ مچھلی کو حکم ہوا کہ میدان میں یونس کو اگل دے اور اس نے اگل دیا اور وہیں اللہ تعالیٰ نے ان پر ان کی نخیفی کمزوری اور بیماری کی وجہ سے چھاؤں کے لیے کدو کی بیل اگا دی اور ایک جنگلی بکری کو مقرر کر دیا جو صبح شام ان کے پاس آ جاتی تھی اور یہ اس کا دودھ پی لیا کرتے تھے }۔۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:29601:ضعیف]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت سے یہ واقعات مرفوع احادیث سے سورۃ انبیاء کی تفسیر میں بیان ہو چکے ہیں۔ ’ ہم نے انہیں اس زمین میں ڈال دیا جہاں سبزہ روئیدگی گھاس کچھ نہ تھا ‘۔ دجلہ کے کنارے یا یمن کی سر زمین پر یہ لادے گئے تھے۔ وہ اس وقت کمزور تھے جیسے پرندوں کے بچے ہوتے ہیں۔ یا بچہ جس وقت پیدا ہوتا ہے۔ یعنی صرف سانس چل رہا تھا اور طاقت ہلنے جلنے کی بھی نہ تھی۔ «یقطین» کدو کے درخت کو بھی کہتے ہیں اور ہر اس درخت کو جس کا تنا نہ ہو یعنی بیل ہو اور اس درخت کو بھی جس کی عمر ایک سال سے زیادہ نہیں ہوتی۔ کدو میں بہت سے فوائد ہیں یہ بہت جلد اگتا اور بڑھتا ہے اس کے پتوں کا سایہ گھنا اور فرحت بخش ہوتا ہے کیونکہ وہ بڑے بڑے ہوتے ہیں اور اس کے پاس مکھیاں نہیں آتیں۔ یہ غذا کا کام دے جاتا ہے اور چھلکے اور گودے سمیت کھایا جاتا ہے۔ صحیح حدیث میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کدو یعنی گھیا بہت پسند تھا اور برتن میں سے چن چن کر اسے کھاتے تھے }۔۱؎ [صحیح بخاری:5435]
پھر انہیں ایک لاکھ بلکہ زیادہ آدمیوں کی طرف رسالت کے ساتھ بھیجا گیا۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اس سے پہلے آپ رسول نہ تھے۔ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں مچھلی کے پیٹ میں جانے سے پہلے ہی آپ علیہ السلام اس قوم کی طرف رسول بنا کر بھیجے گئے تھے۔ دونوں قولوں سے اس طرح تضاد اٹھ سکتا ہے کہ پہلے بھی ان کی طرف بھیجے گئے تھے اب دوبارہ بھی ان ہی کی طرف بھیجے گئے اور وہ سب ایمان لائے اور آپ کی تصدیق کی۔ بغوی رحمہ اللہ کہتے ہیں مچھلی کے پیٹ سے نجات پانے کے بعد دوسری قوم کی طرف بھیجے گئے تھے۔ یہاں «اَوْ» معنی میں بلکہ کے ہے اور وہ ایک لاکھ تیس ہزار یا اس سے بھی کچھ اوپر۔ یا ایک لاکھ چالیس ہزار سے بھی زیادہ یا ستر ہزار سے بھی زیادہ یا ایک لاکھ دس ہزار اور ایک غریب مرفوع حدیث کی رو سے { ایک لاکھ بیس ہزار تھے }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:3229،قال الشيخ الألباني:ضعیف] یہ مطلب بھی بیان کیا گیا ہے کہ انسانی اندازہ ایک لاکھ سے زیادہ ہی کا تھا۔ ابن جریر رحمہ اللہ کا یہی مسلک ہے اور یہی مسلک ان کا آیت «اَوْ اَشَدُّ قَسْوَةً» [2-البقرة:74] اور آیت «اَوْ اَشَدَّ خَشْـيَةً» ۱؎ [4-النساء:77] اور آیت «اَوْ اَدْنٰى» ۱؎ [53-النجم:9] میں ہے یعنی ’ اس سے کم نہیں اس سے زائد ہے ‘۔ پس قوم یونس علیہ السلام سب کی سب مسلمان ہو گئی، یونس علیہ السلام کی تصدیق کی اور اللہ پر ایمان لے آئے۔ ’ ہم نے بھی ان کے مقررہ وقت یعنی موت کی گھڑی تک دنیوی فائدے دئے اور آیت میں ہے «فَلَوْلَا كَانَتْ قَرْيَةٌ آمَنَتْ فَنَفَعَهَا إِيمَانُهَا إِلَّا قَوْمَ يُونُسَ لَمَّا آمَنُوا كَشَفْنَا عَنْهُمْ عَذَابَ الْخِزْيِ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَمَتَّعْنَاهُمْ إِلَىٰ حِينٍ» ۱؎ [10-يونس:98] ’ کسی بستی کے ایمان نے انہیں (عذاب آ چکنے کے بعد) نفع نہیں دیا سوائے قوم یونس کے وہ جب ایمان لائے تو ہم نے ان پر سے عذاب ہٹا لیے اور انہیں ایک معیاد معین تک بہرہ مند کیا ‘۔
148۔ 1 ان کے ایمان لانے کی کیفیت کا بیان (فَلَوْلَا كَانَتْ قَرْيَةٌ اٰمَنَتْ فَنَفَعَهَآ اِيْمَانُهَآ اِلَّا قَوْمَ يُوْنُسَ ۭ لَمَّآ اٰمَنُوْا كَشَفْنَا عَنْھُمْ عَذَابَ الْخِزْيِ فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا وَمَتَّعْنٰھُمْ اِلٰى حِيْنٍ) 10۔ یونس:98) میں گزر چکا ہے۔
(آیت 148) ➊ { فَاٰمَنُوْا:} شاہ عبدالقادر لکھتے ہیں: ”وہی قوم جس سے بھاگے تھے، ان پر ایمان لا رہی تھی۔ (وہ انھیں) ڈھونڈتی تھی کہ یہ جا پہنچے، (اس سے) ان کو بڑی خوشی ہوئی۔“ (موضح) ➋ { فَمَتَّعْنٰهُمْ اِلٰى حِيْنٍ:} یعنی انھیں عذاب سے بیک وقت ہلاک کرنے کے بجائے ہر ایک کو اس کی مقررہ عمر تک فائدہ اٹھانے کا موقع عطا فرمایا۔
پھر ذرا اِن لوگوں سے پوچھو، کیا (اِن کے دل کو یہ بات لگتی ہے کہ) تمہارے رب کے لیے تو ہوں بیٹیاں اور ان کے لیے ہوں بیٹے!
مولانا محمد جوناگڑھی
ان سے دریافت کیجئے! کہ کیا آپ کے رب کی تو بیٹیاں ہیں اور ان کے بیٹے ہیں؟
احمد رضا خان بریلوی
تو ان سے پوچھو کیا تمہارے رب کے لیے بیٹیاں ہیں اور ان کے بیٹے
علامہ محمد حسین نجفی
ان سے ذرا پوچھئے! کہ تمہارے پروردگار کیلئے بیٹیاں ہیں اور خود ان کیلئے بیٹے؟
عبدالسلام بن محمد
پس ان سے پوچھ کیا تیرے رب کے لیے بیٹیاں ہیں اور ان کے لیے بیٹے؟
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
مشرکین کا اللہ تعالٰی کے لئے دوہرا معیار ٭٭
اللہ تعالیٰ مشرکوں کی بیوقوفی بیان فرما رہا ہے کہ ’ اپنے لیے تو لڑکے پسند کرتے ہیں اور اللہ کے لیے لڑکیاں مقرر کرتے ہیں۔ اگر لڑکی ہونے کی خبر یہ پائیں تو چہرے سیاہ پڑ جاتے ہیں اور اللہ کی لڑکیاں ثابت کرتے ہیں ‘۔ پس فرماتا ہے ’ ان سے پوچھ تو سہی کہ یہ تقسیم کیسی ہے؟ کہ تمہارے تو لڑکے ہوں اور اللہ کے لیے لڑکیاں ہوں؟ ‘ پھر فرماتا ہے کہ ’ یہ فرشتوں کو لڑکیاں کس ثبوت پر کہتے ہیں؟ کیا ان کی پیدائش کے وقت وہ موجود تھے ‘۔ قرآن کی اور آیت «وَجَعَلُوا الْمَلَائِكَةَ الَّذِينَ هُمْ عِبَادُ الرَّحْمَـٰنِ إِنَاثًا أَشَهِدُوا خَلْقَهُمْ سَتُكْتَبُ شَهَادَتُهُمْ وَيُسْأَلُونَ» ۱؎ [43-الزخرف:19] ، میں بھی یہی بیان ہے۔ دراصل یہ قول ان کا محض جھوٹ ہے۔ کہ اللہ کے ہاں اولاد ہے۔ وہ اولاد سے پاک ہے۔ پس ان لوگوں کے تین جھوٹ اور تین کفر ہوئے اول تو یہ کہ فرشتے اللہ کی اولاد ہیں دوسرے یہ کہ اولاد بھی لڑکیاں تیسرے یہ کہ خود فرشتوں کی عبادت شروع کر دی۔
پھر فرماتا ہے کہ «أَلَكُمُ الذَّكَرُ وَلَهُ الْأُنثَىٰ تِلْكَ إِذًا قِسْمَةٌ ضِيزَىٰ» [ 53-النجم: 21، 22 ] آخر کس چیز نے اللہ کو مجبور کیا کہ اس نے لڑکے تو لیے نہیں اور لڑکیاں اپنی ذات کے لیے پسند فرمائیں؟ جیسے اور آیت میں ہے کہ «أَفَأَصْفَاكُمْ رَبُّكُم بِالْبَنِينَ وَاتَّخَذَ مِنَ الْمَلَائِكَةِ إِنَاثًا إِنَّكُمْ لَتَقُولُونَ قَوْلًا عَظِيمًا» ۱؎ [17-الإسراء:40] ’ تمہیں تو لڑکوں سے نوازے اور فرشتوں کو اپنی لڑکیاں بنائے یہ تو تمہاری نہایت درجہ کی لغویات ہے ‘۔ یہاں فرمایا ’ کیا تمہیں عقل نہیں جو ایسی دور از قیاس باتیں بناتے ہو تم سمجھتے نہیں ہو ڈرو کہ اللہ پر جھوٹ باندھنا کیسا برا ہے؟ اچھا گر کوئی دلیل تمہارے پاس ہو تو لاؤ اسی کو پیش کرو۔ یا اگر کسی آسمانی کتاب سے تمہارے اس قول کی سند ہو اور تم سچے ہو تو لاؤ اسی کو سامنے لے آؤ۔ یہ تو ایسی لچر اور فضول بات ہے جس کی کوئی عقلی یا نقلی دلیل ہو ہی نہیں سکتی ‘۔ اتنے ہی پر بس نہ کی، جنات میں اور اللہ میں بھی رشتے داری قائم کی۔ مشرکوں کے اس قول پر کہ فرشتے اللہ کی لڑکیاں ہیں سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے سوال کیا کہ ”پھر ان کی مائیں کون ہیں؟“ تو انہوں نے کہا جن سرداروں کی لڑکیاں۔ حالانکہ خود جنات کو اس کا یقین و علم ہے کہ اس قول کے قائل قیامت کے دن عذابوں میں مبتلا کئے جائیں گے۔ ان میں بعض دشمنان اللہ تو یہاں تک کم عقلی کرتے تھے کہ شیطان بھی اللہ کا بھائی ہے۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:535/10:] نعوذ باللہ۔ اللہ تعالیٰ اس سے بہت پاک منزہ اور بالکل دور ہے جو یہ مشرک اس کی ذات پر الزام لگاتے ہیں اور جھوٹے بہتان باندھتے ہیں۔ اس کے بعد استثناء منقطع ہے اور ہے مثبت مگر اس صورت میں کہ «یَصِفُوْنَ» کی ضمیر کا مرجع تمام لوگ قرار دیئے جائیں۔ پس ان میں سے ان لوگوں کو الگ کر لیا جو حق کے ماتحت ہیں اور تمام نبیوں رسولوں علیہم السلام پر ایمان رکھتے ہیں۔ امام ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ استثناء «اِنَّهُمْ لَمُحْضَرُوْنَ» سے ہے یعنی ’ سب کے سب عذاب میں پھانس لیے جائیں گے مگر وہ بندگان جو اخلاص والے تھے ‘۔ یہ قول ذرا تامل طلب ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 149) {فَاسْتَفْتِهِمْ اَلِرَبِّكَ الْبَنَاتُ …:} پچھلی آیات کے ساتھ ان آیات کی مناسبت یہ ہے کہ مشرکین کے بد ترین عقائد میں سے ایک قیامت کا انکار تھا اور ایک شرک تھا، جس کی ایک صورت فرشتوں کو اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں قرار دے کر ان کے بت بنا کر ان کی پرستش کرنا تھی۔ قرآن میں متعدد مقامات پر ان کے اس عقیدے کا ذکر کر کے اس کی تردید کی گئی ہے۔ دیکھیے سورۂ نساء (۱۱۷)، نحل (۵۷، ۵۸)، بنی اسرائیل (۴۰)، زخرف (۱۶ تا۱۹) اور نجم (۲۱ تا ۲۷) یہاں سورت کے شروع میں ان کے انکارِ قیامت پر فرمایا: «فَاسْتَفْتِهِمْ اَهُمْ اَشَدُّ خَلْقًا اَمْ مَّنْ خَلَقْنَا اِنَّا خَلَقْنٰهُمْ مِّنْ طِيْنٍ لَّازِبٍ» [ الصافات: ۱۱ ] ”سو ان سے پوچھ کیا یہ پیدا کرنے کے اعتبار سے زیادہ مشکل ہیں، یا وہ جنھیں ہم نے پیدا کیا؟ بے شک ہم نے انھیں ایک چپکتے ہوئے گارے سے پیدا کیا ہے۔“ اب دوسرے عقیدے کی تردید کرتے ہوئے فرماما: «فَاسْتَفْتِهِمْ اَلِرَبِّكَ الْبَنَاتُ وَ لَهُمُ الْبَنُوْنَ» ”پس ان سے پوچھ کیا تیرے رب کے لیے بیٹیاں ہیں اور ان کے لیے بیٹے؟“ زمخشری نے فرمایا: ”اس کا عطف سورت کے شروع میں {” فَاسْتَفْتِهِمْ اَهُمْ اَشَدُّ خَلْقًا “} پر ہے، اگرچہ ان کے درمیان بہت فاصلہ ہے۔“ فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں قرار دیتے ہوئے وہ تین ظلم کر رہے تھے، ایک یہ کہ وہ اللہ تعالیٰ کی اولاد قرار دے رہے تھے، حالانکہ وہ اس سے پاک ہے، کیونکہ یہ عجز اور محتاجی کی دلیل ہے۔ دوسرا یہ کہ انھوں نے اللہ تعالیٰ کے لیے بیٹیاں قرار دیں، جب کہ اپنے لیے بیٹے پسند کرتے ہیں۔ تیسرا یہ کہ انھوں نے اللہ کے مقرب فرشتوں کو مؤنث قرار دیا، حالانکہ وہ مذکر و مؤنث کی تفریق سے پاک ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان سب باتوں پر ان کا رد فرمایا اور سخت غصے کا اظہار فرمایا، چنانچہ فرمایا: ”ان سے پوچھو کہ کیا تیرے رب کے لیے بیٹیاں اور ان کے لیے بیٹے ہیں؟“ ان کا اپنا حال یہ ہے کہ بیٹی کی خبر پر ان کا چہرہ سیاہ ہو جاتاہے اور اسے زندہ درگور کرنے کی فکر کرنے لگتے ہیں اور اپنے لیے اتنی ناگوار بات کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف کرتے ہیں۔
کیا واقعی ہم نے ملائکہ کو عورتیں ہی بنا یا ہے اور یہ آنکھوں دیکھی بات کہہ رہے ہیں؟
مولانا محمد جوناگڑھی
یا یہ اس وقت موجود تھے جبکہ ہم نے فرشتوں کو مؤنﺚ پیدا کیا
احمد رضا خان بریلوی
یا ہم نے ملائکہ کو عورتیں پیدا کیا اور وہ حاضر تھے
علامہ محمد حسین نجفی
کیا ہم نے فرشتوں کو عورت پیدا کیا اور وہ دیکھ رہے تھے؟
عبدالسلام بن محمد
یا ہم نے فرشتوں کو مؤنث پیدا کیا، جب کہ وہ حاضر تھے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
مشرکین کا اللہ تعالٰی کے لئے دوہرا معیار ٭٭
اللہ تعالیٰ مشرکوں کی بیوقوفی بیان فرما رہا ہے کہ ’ اپنے لیے تو لڑکے پسند کرتے ہیں اور اللہ کے لیے لڑکیاں مقرر کرتے ہیں۔ اگر لڑکی ہونے کی خبر یہ پائیں تو چہرے سیاہ پڑ جاتے ہیں اور اللہ کی لڑکیاں ثابت کرتے ہیں ‘۔ پس فرماتا ہے ’ ان سے پوچھ تو سہی کہ یہ تقسیم کیسی ہے؟ کہ تمہارے تو لڑکے ہوں اور اللہ کے لیے لڑکیاں ہوں؟ ‘ پھر فرماتا ہے کہ ’ یہ فرشتوں کو لڑکیاں کس ثبوت پر کہتے ہیں؟ کیا ان کی پیدائش کے وقت وہ موجود تھے ‘۔ قرآن کی اور آیت «وَجَعَلُوا الْمَلَائِكَةَ الَّذِينَ هُمْ عِبَادُ الرَّحْمَـٰنِ إِنَاثًا أَشَهِدُوا خَلْقَهُمْ سَتُكْتَبُ شَهَادَتُهُمْ وَيُسْأَلُونَ» ۱؎ [43-الزخرف:19] ، میں بھی یہی بیان ہے۔ دراصل یہ قول ان کا محض جھوٹ ہے۔ کہ اللہ کے ہاں اولاد ہے۔ وہ اولاد سے پاک ہے۔ پس ان لوگوں کے تین جھوٹ اور تین کفر ہوئے اول تو یہ کہ فرشتے اللہ کی اولاد ہیں دوسرے یہ کہ اولاد بھی لڑکیاں تیسرے یہ کہ خود فرشتوں کی عبادت شروع کر دی۔
پھر فرماتا ہے کہ «أَلَكُمُ الذَّكَرُ وَلَهُ الْأُنثَىٰ تِلْكَ إِذًا قِسْمَةٌ ضِيزَىٰ» [ 53-النجم: 21، 22 ] آخر کس چیز نے اللہ کو مجبور کیا کہ اس نے لڑکے تو لیے نہیں اور لڑکیاں اپنی ذات کے لیے پسند فرمائیں؟ جیسے اور آیت میں ہے کہ «أَفَأَصْفَاكُمْ رَبُّكُم بِالْبَنِينَ وَاتَّخَذَ مِنَ الْمَلَائِكَةِ إِنَاثًا إِنَّكُمْ لَتَقُولُونَ قَوْلًا عَظِيمًا» ۱؎ [17-الإسراء:40] ’ تمہیں تو لڑکوں سے نوازے اور فرشتوں کو اپنی لڑکیاں بنائے یہ تو تمہاری نہایت درجہ کی لغویات ہے ‘۔ یہاں فرمایا ’ کیا تمہیں عقل نہیں جو ایسی دور از قیاس باتیں بناتے ہو تم سمجھتے نہیں ہو ڈرو کہ اللہ پر جھوٹ باندھنا کیسا برا ہے؟ اچھا گر کوئی دلیل تمہارے پاس ہو تو لاؤ اسی کو پیش کرو۔ یا اگر کسی آسمانی کتاب سے تمہارے اس قول کی سند ہو اور تم سچے ہو تو لاؤ اسی کو سامنے لے آؤ۔ یہ تو ایسی لچر اور فضول بات ہے جس کی کوئی عقلی یا نقلی دلیل ہو ہی نہیں سکتی ‘۔ اتنے ہی پر بس نہ کی، جنات میں اور اللہ میں بھی رشتے داری قائم کی۔ مشرکوں کے اس قول پر کہ فرشتے اللہ کی لڑکیاں ہیں سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے سوال کیا کہ ”پھر ان کی مائیں کون ہیں؟“ تو انہوں نے کہا جن سرداروں کی لڑکیاں۔ حالانکہ خود جنات کو اس کا یقین و علم ہے کہ اس قول کے قائل قیامت کے دن عذابوں میں مبتلا کئے جائیں گے۔ ان میں بعض دشمنان اللہ تو یہاں تک کم عقلی کرتے تھے کہ شیطان بھی اللہ کا بھائی ہے۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:535/10:] نعوذ باللہ۔ اللہ تعالیٰ اس سے بہت پاک منزہ اور بالکل دور ہے جو یہ مشرک اس کی ذات پر الزام لگاتے ہیں اور جھوٹے بہتان باندھتے ہیں۔ اس کے بعد استثناء منقطع ہے اور ہے مثبت مگر اس صورت میں کہ «یَصِفُوْنَ» کی ضمیر کا مرجع تمام لوگ قرار دیئے جائیں۔ پس ان میں سے ان لوگوں کو الگ کر لیا جو حق کے ماتحت ہیں اور تمام نبیوں رسولوں علیہم السلام پر ایمان رکھتے ہیں۔ امام ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ استثناء «اِنَّهُمْ لَمُحْضَرُوْنَ» سے ہے یعنی ’ سب کے سب عذاب میں پھانس لیے جائیں گے مگر وہ بندگان جو اخلاص والے تھے ‘۔ یہ قول ذرا تامل طلب ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
150۔ 1 یعنی فرشتوں کو جو یہ اللہ کی بیٹیاں قرار دیتے ہیں تو کیا جب ہم نے فرشتے پیدا کئے تھے، یہ اس وقت وہاں موجود تھے اور انہوں نے فرشتوں کو عورتوں والی خصوصیات کا مشاہدہ کیا تھا۔
(آیت 150){ اَمْ خَلَقْنَا الْمَلٰٓىِٕكَةَ اِنَاثًا وَّ هُمْ شٰهِدُوْنَ:} اس میں فرشتوں کے مؤنث ہونے کی تردید فرمائی کہ انھیں کیسے معلوم ہوا کہ فرشتے مؤنث ہیں، کیا جب ہم نے فرشتوں کو پیدا کیا تو یہ موجود تھے کہ انھوں نے دیکھا ہو کہ ہم نے انھیں مؤنث بنایا ہے؟