ان میں سے ایک کہے گا، "دنیا میں میرا ایک ہم نشین تھا
مولانا محمد جوناگڑھی
ان میں سے ایک کہنے واﻻ کہے گا کہ میرا ایک ساتھی تھا
احمد رضا خان بریلوی
ان میں سے کہنے والا بولا میرا ایک ہمنشین تھا
علامہ محمد حسین نجفی
(چنانچہ) ان میں سے ایک کہے گا کہ (دنیا میں) میرا ایک رفیق تھا۔
عبدالسلام بن محمد
ان میں سے ایک کہنے والا کہے گا بے شک میں، میرا ایک ساتھی تھا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
محسن مقروض ٭٭
جب جنتی موج مزے اڑاتے ہوئے، بے فکری اور فارغ البالی کے ساتھ جنت کے بلند و بالا خاتون میں عیش وعشرت کے ساتھ آپس میں مل جل کر تختوں پر تکئے لگائے بیٹھے ہوں گے ہزارہا پری جمال خدام سلیقہ شعاری سے کمربستہ خدمت پر مامور ہوں گے حکم احکام دے رہے ہوں گے قسم قسم کے کھانے پینے پہننے اوڑھنے اور طرح طرح کی لذتوں سے فائدہ مندی حاصل کرنے میں مصروف ہوں گے۔ دور شراب طہور چل رہا ہو گا وہاں باتوں ہی باتوں میں یہ ذکر نکل آئے گا کہ دنیا میں کیا کیا گذرے کیسے کیسے دن کٹے۔ اس پر ایک شخض کہے گا میری سنو میرا شیطان میرا ایک مشرک ساتھی تھا جو مجھ سے اکثر کہا کرتا تھا کہ تعجب سا تعجب ہے کہ تو اس بات کو مانتا ہے کہ جب ہم مر کر مٹی میں مل کر مٹی ہو جائیں ہم کھوکھلی بوسیدہ سڑی گلی ہڈی بن جائیں اس کے بعد بھی ہم حساب کتاب جزا سزا کے لیے اٹھائے جائیں گے مجھے وہ شخض جنت میں تو نظر آتا نہیں کیا عجب کہ وہ جہنم میں گیا ہو تو اگر چاہو تو میرے ساتھ چل کر جھانک کر دیکھ لو جہنم میں اس کی کیا درگت ہو رہی ہے۔ اب جو جھانکتے ہیں تو دیکھتے ہیں کہ وہ شخص سر تا پا جل رہا ہے خود وہ آگ بن رہا ہے جہنم کے درمیان میں کھڑا ہے اور بے بسی کے ساتھ جل بھن رہا ہے اور ایک اسے ہی کیا دیکھے گا کہ تمام بڑے بڑے لوگوں سے جہنم بھرا ہے۔ کعب احبار رحمہ اللہ فرماتے ہیں جنت میں اسے دیکھتے ہی کہے گا کہ آپ نے تو وہ پھندا ڈالا تھا کہ مجھے تباہ ہی کر ڈالتے لیکن اللہ کا شکر ہے کہ اس نے تمہارے پنجے سے چھڑا دیا۔ اگر اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم میرے شامل حال نہ ہوتا تو بڑی بری درگت ہوتی اور میں بھی تیری ساتھ کھنچا کھنچا یہیں جہنم میں آ جاتا اور جلتا رہتا۔ اللہ کا شکر ہے کہ اس نے تیری تیز کلامی چرب زبانی سے مجھے عافیت میں رکھا اور تیرے اثر سے مجھے محفوظ رکھا۔ تو نے تو فتنے بپا کرنے میں کوئی کمی باقی نہیں رکھی تھی۔
اب مومن اور ایک بات کہتا ہے جس میں اس کی اپنی تسکین اور کامیابی کی خبر ہے کہ وہ پہلی موت تو مرچکا ہے اب ہمیشہ کے گھر میں ہے نہ یہاں اس پر موت ہے نہ خوف ہے نہ عذاب ہے نہ وبال ہے اور یہی بہترین کامیابی فلاح ابدی ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا فرمان ہے کہ ”جنتیوں سے کہا جائے گا کہ اپنے اعمال کے بدلے اپنی پسند کا جتنا چاہے کھاؤ پیو اس میں اشارہ ہے اس امر کی طرف کہ جنتی جنت میں مریں گے نہیں تو وہ یہ سن کر سوال کریں گے کہ کیا اب ہمیں موت تو نہیں آنے کی۔ کسی وقت عذاب تو نہیں ہو گا؟ تو جواب ملے گا نہیں ہرگز نہیں۔ چونکہ انہیں کھٹکا تھا کہ موت آ کر یہ لذتیں فوت نہ کر دے جب یہ دھڑکا ہی جاتا رہا تو وہ سکون کا سان لے کر کہیں گے شکر ہے یہ تو کھلی کامیابی ہے اور بڑی ہی مقصد یاوری ہے۔ اس کے بعد فرمایا ایسے ہی بدلے کے لیے عاملوں کو عمل کرنا چاہیئے۔“ قتادہ رحمہ اللہ تو فرماتے ہیں ”یہ اہل جنت کا مقولہ ہے۔“
امام ابن جریر فرماتے ہیں ”اللہ کا فرمان ہے“، مطلب یہ ہے کہ ان جیسی نعمتوں اور رحمتوں کے حاصل کرنے کے لیے لوگوں کو دنیا میں بھرپور رغبت کے ساتھ عمل کرنا چاہیئے، تاکہ انجام کار ان نعمتوں کو حاصل کر سکیں۔ اسی آیت کے مضمون سے ملتا جلتا ایک قصہ ہے اسے بھی سن لیجئیے۔ دو شخص آپس میں شریک تھے ان کے پاس آٹھ ہزار اشرفیاں جمع ہو گئیں ایک چونکہ پیشے حرفے سے واقف تھا اور دوسرا ناواقف تھا اس لیے اس واقف کار نے ناواقف سے کہا کہ اب ہمارا نباہ مشکل ہے، آپ اپنا حق لے کر الگ ہو جائیے کیونکہ آپ کام کاج سے ناواقف ہیں۔ چنانچہ دونوں نے اپنے اپنے حصے الگ الگ کر لیے اور جدا جدا ہو گئے۔ پھر اس حرفے والے نے بادشاہ کے مرجانے کے بعد اس کا شاہی محل ایک ہزار دینار میں خریدا اور اپنے اس ساتھی کو بلا کر اسے دکھایا اور کہا بتاؤ میں نے کیسی چیز لی؟ اس نے بڑی تعریف کی اور یہاں سے باہر چلا اللہ تعالیٰ سے دعا کی اور کہا اللہ اس میرے ساتھی نے تو ایک ہزار دینار کا قصر دنیاوی خرید کیا ہے اور میں تجھ سے جنت کا محل چاہتا ہوں میں تیرے نام پر تیرے مسکین بندوں پر ایک ہزار اشرفی خرچ کرتا ہوں چنانچہ اس نے ایک ہزار دینار اللہ کی راہ خرچ کر دئیے۔ پھر اس دنیادار شخص نے ایک زمانہ کے بعد ایک ہزار دینار خرچ کر کے اپنا نکاح کیا دعوت میں اپنے اس پرانے شریک کو بھی بلایا اور اس سے ذکر کیا کہ میں نے ایک ہزار دینار خرچ کر کے اس عورت سے شادی کی ہے۔ اس نے اس کی بھی تعریف کی باہر آ کر اللہ تعالیٰ کی راہ میں ایک ہزار دینار دئیے اور اللہ تعالیٰ سے عرض کی کہ بار الٰہی میرے ساتھی نے اتنی ہی رقم خرچ کر کے یہاں ایک عورت حاصل کی ہے اور اس رقم سے تجھ سے میں حورعین کا طالب ہوں اور وہ رقم اللہ کی راہ میں صدقہ کر دی۔ پھر کچھ مدت کے بعد اسنے اسے بلا کر کہا کہ دو ہزار کے دو باغ میں نے خرید کئے ہیں دیکھ لو کیسے ہیں؟ اس نے دیکھ کر بہت تعریف کی اور باہر آ کر اپنی عادت کے مطابق جناب باری تعالیٰ میں عرض کی کہ اللہ میرے ساتھی نے دو ہزار کے دو باغ یہاں کے خریدے ہیں میں تجھ سے جنت کے دو باغ چاہتا ہوں اور یہ دو ہزار دینار تیرے نام پر صدقہ ہیں چنانچہ اس رقم کو مستحقین میں تقسیم کر دیا۔ پھر فرشتہ ان دونوں کو فوت کر کے لے گیا اس صدقہ کرنے والے کو جنت کے ایک محل میں پہنچایا گیا جہاں پر ایک بہترین حسین عورت بھی اسے ملی اور اسے دو باغ بھی دئیے گئے اور وہ وہ نعمتیں ملیں جنہیں بجزاللہ کے اور کوئی نہیں جانتا تو اسے اس وقت اپنا وہ ساتھی یاد آ گیا فرشتے نے بتایا کہ وہ تو جہنم میں ہے تم اگر چاہو تو جھانک کر اسے دیکھ سکتے ہو اس نے جب اسے بیچ جہنم میں جلتا دیکھا تو اس نے کہا کہ قریب تھا کہ تو مجھے بھی چکمہ دے جاتا اور یہ تو رب کی مہربانی ہوئی کہ میں بچ گیا۔ ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ تشدید والی قرأت کی مزید تائید کرتی ہے۔
اور روایت میں ہے کہ تین تین ہزار دینار تھے ایک کافر تھا ایک مومن تھا جب یہ مومن اپنی کل رقم راہ اللہ خرچ کر چکا تو ٹوکری سر پر رکھ کر کدال پھاوڑا لے کر مزدوری کے لیے چلا اسے ایک شخص ملا اور کہا اگر تو میرے جانوروں کی سائیسی کرے اور گوبر اٹھائے تو میں تجھے کھانے پینے کو دے دوں گا اس نے منظور کر لیا اور کام شروع کر دیا۔ لیکن یہ شخص بڑا بے رحم بد گمان تھا جہاں اس نے کسی جانور کو بیمار یا دبلا پتلا دیکھا اس مسکین کی گردن توڑتا خوب مارتا پیٹتا اور کہتا کہ اس کا دانہ تو چرا لیتاہو گا۔ اس مسلمان سے یہ سختی برداشت نہ کی گئی تو ایک دن اس نے اپنے دل میں خیال کیا کہ میں اپنے کافر شریک کے ہاں چلا جاؤں اس کی کھیتی ہے باغات ہیں وہاں کام کاج کر دوں گا اور وہ مجھے روٹی ٹکڑا دے دیا کرے گا اور مجھے کیا لینا دینا ہے؟ وہاں جو پہنچا تو شاہی ٹھاٹھ دیکھ کر حیران ہو گیا، ایک بلند بالا محل ہے دربان ڈیوڑھی اور پہرے دار کی چوکی دار غلام لونڈیاں سب موجود ہیں یہ ٹھٹکا اور دربانوں نے اسے روکا۔ اس نے ہر چند کہا کہ تم اپنے مالک سے میرا ذکر تو کرو۔
انہوں نے کہا اب وقت نہیں تم ایک کونے میں پڑے رہو صبح جب وہ نکلیں تو خود سلام کر لینا اگر تم سچے ہو تو وہ تمہیں پہچان ہی لیں گے ورنہ ہمارے ہاتھوں تمہاری پوری مرمت ہو جائے گی، اس مسکین کو یہی کرناپڑا جو کمبل کا ٹکڑا یہ جسم سے لپیٹے ہوئے تھا اسی کو اس نے اپنا اوڑھنا بچھونا بنایا اور ایک کونے میں دبک کر پڑ گیا۔ صبح کے وقت اس کے راستے پر جا کھڑا ہوا جب وہ نکلا اور اس پر نگاہ پڑی تو تعجب ہو کر پوچھا کہ ہیں؟ یہ کیا حالت ہے مال کا کیا ہوا؟ اس نے کہا وہ کچھ نہ پوچھ اس وقت تو میرا کام جو ہے اسے پورا کر دو یعنی مجھے اجازت دو کہ میں تمہاری کھیتی باڑی کا کام مثل اور نوکروں کے کروں اور آپ مجھے صرف کھانا دے دیا کیجئے اور جب یہ کمبل پھٹ ٹوٹ جائے تو ایک کمبل اور خرید دینا۔ اس نے کہا نہیں نہیں میں اس سے بہتر سلوک تمہارے ساتھ کرنے کے لیے تیار ہوں لیکن پہلے تم یہ بتاؤ کہ اس رقم کو تم نے کیا کیا؟ کہا میں نے اسے ایک شخص کو قرض دی ہے۔ کہا کسے؟ کہا ایسے کو جو نہ لے کر مکرے نہ دینے سے انکار کرے کہا وہ کون ہے؟ اس نے جواب دیا وہ اللہ تعالیٰ ہے جو میرا اور تیرا رب ہے۔ یہ سنتے ہی اس کافر نے اس مسلمان کے ہاتھ سے ہاتھ چھڑالیا اور اس سے کہا احمق ہوا ہے یہ ہو بھی سکتا ہے کہ ہم مر کر مٹی ہو کر پھر جئیں اور اللہ ہمیں بدلے دے؟ جا جب تو ایسا ہی بودا اور ایسے عقیدوں والا ہے تو مجھے تجھ سے کوئی سرو کار نہیں۔ پس وہ کافر تو مزے اڑاتا رہا اور یہ مومن سختی سے دن گزارتا رہا یہاں تک کہ دونوں کو موت آ گئی۔
مسلمان کو جنت میں جو جو نعمتیں اور رحمتیں ملیں وہ انداز و شمار سے زیادہ تھیں اس نے جو دیکھا کہ حد نظر سے بلکہ ساری دنیا سے زیادہ تو زمین ہے اور بےشمار درخت اور باغات ہیں اور جابجا نہریں اور چشمے ہیں تو پوچھا یہ سب کیا ہے؟ جواب ملا یہ سب آپ کا ہے۔ کہا سبحان اللہ! اللہ کی یہ تو بڑی ہی مہربانی ہے۔ اب جو آگے بڑھا تو اس قدر لونڈی غلام دیکھے کہ گنتی نہیں ہو سکتی، پوچھا یہ کس کے ہیں؟ کہا گیا سب آپ کے۔ اسے اور تعجب اور خوشی ہوئی۔ پھر جو آگے بڑھا تو سرخ یاقوت کے محل نظر آئے ایک موتی کا محل، ہر ہر محل میں کئی کئی حورعین، ساتھ ہی اطلاع ہوئی کہ یہ سب بھی آپ کا ہے پھر تو اس کی باچھیں کھل گئیں۔ کہنے لگا اللہ جانے میرا وہ کافر ساتھی کہاں ہو گا؟ اللہ اسے دکھائے گا کہ وہ بیچ جہنم میں جل رہا ہے۔ اب ان میں وہ باتیں ہوں گی جن کا ذکر یہاں ہوا ہے پس مومن پر دنیا میں جو بلائیں آئی تھیں انہیں وہ یاد کرے گا تو موت سے زیادہ بھاری بلا اسے کوئی نظر نہ آئے گی۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 51تا53){ قَالَ قَآىِٕلٌ مِّنْهُمْ اِنِّيْ كَانَ لِيْ قَرِيْنٌ …: ” قَرِيْنٌ “} ایسے ساتھی یا دوست کو کہتے ہیں جو ہم عمر ہو یا بہادری، قوت اور اس طرح کے دوسرے اوصاف میں ہم سر ہو، اور اس لفظ کا استعمال عموماً برے معنوں میں ہوتا ہے۔ (کیلانی) ان میں سے ایک جنتی کہے گا، دنیا میں میرا ایک ساتھی تھا، جو مرنے کے بعد اٹھنے کا منکر تھا، وہ مذاق کرتے ہوئے انکار کے طور پر کہا کرتا تھا کہ کیا واقعی تم بھی ان لوگوں میں شامل ہو جو مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہونے جیسی بعید از عقل بات کو مانتے ہیں، کیا جب ہم مرکر مٹی اور ہڈیاں ہو گئے تو کیا واقعی ہمیں ہمارے اعمال کی جزا دی جائے گی؟ {”مَدِيْنُوْنَ“ ”مَدِيْنٌ“} کی جمع ہے، جو اصل میں {”دَانَ يَدِيْنُ دِيْنًا“} (ض) سے اسم مفعول {”مَدْيُوْنٌ“} ہے۔
جو مجھ سے کہا کرتا تھا، کیا تم بھی تصدیق کرنے والوں میں سے ہو؟
مولانا محمد جوناگڑھی
جو (مجھ سے) کہا کرتا تھا کہ کیا تو (قیامت کے آنے کا) یقین کرنے والوں میں سے ہے؟
احمد رضا خان بریلوی
مجھ سے کہا کرتا کیا تم اسے سچ مانتے ہو
علامہ محمد حسین نجفی
جو (مجھ سے) کہتا تھا کہ آیا تم بھی (قیامت کی) تصدیق کرتے ہو؟
عبدالسلام بن محمد
وہ کہا کرتا تھا کہ کیا واقعی تو بھی ماننے والوں میں سے ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
محسن مقروض ٭٭
جب جنتی موج مزے اڑاتے ہوئے، بے فکری اور فارغ البالی کے ساتھ جنت کے بلند و بالا خاتون میں عیش وعشرت کے ساتھ آپس میں مل جل کر تختوں پر تکئے لگائے بیٹھے ہوں گے ہزارہا پری جمال خدام سلیقہ شعاری سے کمربستہ خدمت پر مامور ہوں گے حکم احکام دے رہے ہوں گے قسم قسم کے کھانے پینے پہننے اوڑھنے اور طرح طرح کی لذتوں سے فائدہ مندی حاصل کرنے میں مصروف ہوں گے۔ دور شراب طہور چل رہا ہو گا وہاں باتوں ہی باتوں میں یہ ذکر نکل آئے گا کہ دنیا میں کیا کیا گذرے کیسے کیسے دن کٹے۔ اس پر ایک شخض کہے گا میری سنو میرا شیطان میرا ایک مشرک ساتھی تھا جو مجھ سے اکثر کہا کرتا تھا کہ تعجب سا تعجب ہے کہ تو اس بات کو مانتا ہے کہ جب ہم مر کر مٹی میں مل کر مٹی ہو جائیں ہم کھوکھلی بوسیدہ سڑی گلی ہڈی بن جائیں اس کے بعد بھی ہم حساب کتاب جزا سزا کے لیے اٹھائے جائیں گے مجھے وہ شخض جنت میں تو نظر آتا نہیں کیا عجب کہ وہ جہنم میں گیا ہو تو اگر چاہو تو میرے ساتھ چل کر جھانک کر دیکھ لو جہنم میں اس کی کیا درگت ہو رہی ہے۔ اب جو جھانکتے ہیں تو دیکھتے ہیں کہ وہ شخص سر تا پا جل رہا ہے خود وہ آگ بن رہا ہے جہنم کے درمیان میں کھڑا ہے اور بے بسی کے ساتھ جل بھن رہا ہے اور ایک اسے ہی کیا دیکھے گا کہ تمام بڑے بڑے لوگوں سے جہنم بھرا ہے۔ کعب احبار رحمہ اللہ فرماتے ہیں جنت میں اسے دیکھتے ہی کہے گا کہ آپ نے تو وہ پھندا ڈالا تھا کہ مجھے تباہ ہی کر ڈالتے لیکن اللہ کا شکر ہے کہ اس نے تمہارے پنجے سے چھڑا دیا۔ اگر اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم میرے شامل حال نہ ہوتا تو بڑی بری درگت ہوتی اور میں بھی تیری ساتھ کھنچا کھنچا یہیں جہنم میں آ جاتا اور جلتا رہتا۔ اللہ کا شکر ہے کہ اس نے تیری تیز کلامی چرب زبانی سے مجھے عافیت میں رکھا اور تیرے اثر سے مجھے محفوظ رکھا۔ تو نے تو فتنے بپا کرنے میں کوئی کمی باقی نہیں رکھی تھی۔
اب مومن اور ایک بات کہتا ہے جس میں اس کی اپنی تسکین اور کامیابی کی خبر ہے کہ وہ پہلی موت تو مرچکا ہے اب ہمیشہ کے گھر میں ہے نہ یہاں اس پر موت ہے نہ خوف ہے نہ عذاب ہے نہ وبال ہے اور یہی بہترین کامیابی فلاح ابدی ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا فرمان ہے کہ ”جنتیوں سے کہا جائے گا کہ اپنے اعمال کے بدلے اپنی پسند کا جتنا چاہے کھاؤ پیو اس میں اشارہ ہے اس امر کی طرف کہ جنتی جنت میں مریں گے نہیں تو وہ یہ سن کر سوال کریں گے کہ کیا اب ہمیں موت تو نہیں آنے کی۔ کسی وقت عذاب تو نہیں ہو گا؟ تو جواب ملے گا نہیں ہرگز نہیں۔ چونکہ انہیں کھٹکا تھا کہ موت آ کر یہ لذتیں فوت نہ کر دے جب یہ دھڑکا ہی جاتا رہا تو وہ سکون کا سان لے کر کہیں گے شکر ہے یہ تو کھلی کامیابی ہے اور بڑی ہی مقصد یاوری ہے۔ اس کے بعد فرمایا ایسے ہی بدلے کے لیے عاملوں کو عمل کرنا چاہیئے۔“ قتادہ رحمہ اللہ تو فرماتے ہیں ”یہ اہل جنت کا مقولہ ہے۔“
امام ابن جریر فرماتے ہیں ”اللہ کا فرمان ہے“، مطلب یہ ہے کہ ان جیسی نعمتوں اور رحمتوں کے حاصل کرنے کے لیے لوگوں کو دنیا میں بھرپور رغبت کے ساتھ عمل کرنا چاہیئے، تاکہ انجام کار ان نعمتوں کو حاصل کر سکیں۔ اسی آیت کے مضمون سے ملتا جلتا ایک قصہ ہے اسے بھی سن لیجئیے۔ دو شخص آپس میں شریک تھے ان کے پاس آٹھ ہزار اشرفیاں جمع ہو گئیں ایک چونکہ پیشے حرفے سے واقف تھا اور دوسرا ناواقف تھا اس لیے اس واقف کار نے ناواقف سے کہا کہ اب ہمارا نباہ مشکل ہے، آپ اپنا حق لے کر الگ ہو جائیے کیونکہ آپ کام کاج سے ناواقف ہیں۔ چنانچہ دونوں نے اپنے اپنے حصے الگ الگ کر لیے اور جدا جدا ہو گئے۔ پھر اس حرفے والے نے بادشاہ کے مرجانے کے بعد اس کا شاہی محل ایک ہزار دینار میں خریدا اور اپنے اس ساتھی کو بلا کر اسے دکھایا اور کہا بتاؤ میں نے کیسی چیز لی؟ اس نے بڑی تعریف کی اور یہاں سے باہر چلا اللہ تعالیٰ سے دعا کی اور کہا اللہ اس میرے ساتھی نے تو ایک ہزار دینار کا قصر دنیاوی خرید کیا ہے اور میں تجھ سے جنت کا محل چاہتا ہوں میں تیرے نام پر تیرے مسکین بندوں پر ایک ہزار اشرفی خرچ کرتا ہوں چنانچہ اس نے ایک ہزار دینار اللہ کی راہ خرچ کر دئیے۔ پھر اس دنیادار شخص نے ایک زمانہ کے بعد ایک ہزار دینار خرچ کر کے اپنا نکاح کیا دعوت میں اپنے اس پرانے شریک کو بھی بلایا اور اس سے ذکر کیا کہ میں نے ایک ہزار دینار خرچ کر کے اس عورت سے شادی کی ہے۔ اس نے اس کی بھی تعریف کی باہر آ کر اللہ تعالیٰ کی راہ میں ایک ہزار دینار دئیے اور اللہ تعالیٰ سے عرض کی کہ بار الٰہی میرے ساتھی نے اتنی ہی رقم خرچ کر کے یہاں ایک عورت حاصل کی ہے اور اس رقم سے تجھ سے میں حورعین کا طالب ہوں اور وہ رقم اللہ کی راہ میں صدقہ کر دی۔ پھر کچھ مدت کے بعد اسنے اسے بلا کر کہا کہ دو ہزار کے دو باغ میں نے خرید کئے ہیں دیکھ لو کیسے ہیں؟ اس نے دیکھ کر بہت تعریف کی اور باہر آ کر اپنی عادت کے مطابق جناب باری تعالیٰ میں عرض کی کہ اللہ میرے ساتھی نے دو ہزار کے دو باغ یہاں کے خریدے ہیں میں تجھ سے جنت کے دو باغ چاہتا ہوں اور یہ دو ہزار دینار تیرے نام پر صدقہ ہیں چنانچہ اس رقم کو مستحقین میں تقسیم کر دیا۔ پھر فرشتہ ان دونوں کو فوت کر کے لے گیا اس صدقہ کرنے والے کو جنت کے ایک محل میں پہنچایا گیا جہاں پر ایک بہترین حسین عورت بھی اسے ملی اور اسے دو باغ بھی دئیے گئے اور وہ وہ نعمتیں ملیں جنہیں بجزاللہ کے اور کوئی نہیں جانتا تو اسے اس وقت اپنا وہ ساتھی یاد آ گیا فرشتے نے بتایا کہ وہ تو جہنم میں ہے تم اگر چاہو تو جھانک کر اسے دیکھ سکتے ہو اس نے جب اسے بیچ جہنم میں جلتا دیکھا تو اس نے کہا کہ قریب تھا کہ تو مجھے بھی چکمہ دے جاتا اور یہ تو رب کی مہربانی ہوئی کہ میں بچ گیا۔ ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ تشدید والی قرأت کی مزید تائید کرتی ہے۔
اور روایت میں ہے کہ تین تین ہزار دینار تھے ایک کافر تھا ایک مومن تھا جب یہ مومن اپنی کل رقم راہ اللہ خرچ کر چکا تو ٹوکری سر پر رکھ کر کدال پھاوڑا لے کر مزدوری کے لیے چلا اسے ایک شخص ملا اور کہا اگر تو میرے جانوروں کی سائیسی کرے اور گوبر اٹھائے تو میں تجھے کھانے پینے کو دے دوں گا اس نے منظور کر لیا اور کام شروع کر دیا۔ لیکن یہ شخص بڑا بے رحم بد گمان تھا جہاں اس نے کسی جانور کو بیمار یا دبلا پتلا دیکھا اس مسکین کی گردن توڑتا خوب مارتا پیٹتا اور کہتا کہ اس کا دانہ تو چرا لیتاہو گا۔ اس مسلمان سے یہ سختی برداشت نہ کی گئی تو ایک دن اس نے اپنے دل میں خیال کیا کہ میں اپنے کافر شریک کے ہاں چلا جاؤں اس کی کھیتی ہے باغات ہیں وہاں کام کاج کر دوں گا اور وہ مجھے روٹی ٹکڑا دے دیا کرے گا اور مجھے کیا لینا دینا ہے؟ وہاں جو پہنچا تو شاہی ٹھاٹھ دیکھ کر حیران ہو گیا، ایک بلند بالا محل ہے دربان ڈیوڑھی اور پہرے دار کی چوکی دار غلام لونڈیاں سب موجود ہیں یہ ٹھٹکا اور دربانوں نے اسے روکا۔ اس نے ہر چند کہا کہ تم اپنے مالک سے میرا ذکر تو کرو۔
انہوں نے کہا اب وقت نہیں تم ایک کونے میں پڑے رہو صبح جب وہ نکلیں تو خود سلام کر لینا اگر تم سچے ہو تو وہ تمہیں پہچان ہی لیں گے ورنہ ہمارے ہاتھوں تمہاری پوری مرمت ہو جائے گی، اس مسکین کو یہی کرناپڑا جو کمبل کا ٹکڑا یہ جسم سے لپیٹے ہوئے تھا اسی کو اس نے اپنا اوڑھنا بچھونا بنایا اور ایک کونے میں دبک کر پڑ گیا۔ صبح کے وقت اس کے راستے پر جا کھڑا ہوا جب وہ نکلا اور اس پر نگاہ پڑی تو تعجب ہو کر پوچھا کہ ہیں؟ یہ کیا حالت ہے مال کا کیا ہوا؟ اس نے کہا وہ کچھ نہ پوچھ اس وقت تو میرا کام جو ہے اسے پورا کر دو یعنی مجھے اجازت دو کہ میں تمہاری کھیتی باڑی کا کام مثل اور نوکروں کے کروں اور آپ مجھے صرف کھانا دے دیا کیجئے اور جب یہ کمبل پھٹ ٹوٹ جائے تو ایک کمبل اور خرید دینا۔ اس نے کہا نہیں نہیں میں اس سے بہتر سلوک تمہارے ساتھ کرنے کے لیے تیار ہوں لیکن پہلے تم یہ بتاؤ کہ اس رقم کو تم نے کیا کیا؟ کہا میں نے اسے ایک شخص کو قرض دی ہے۔ کہا کسے؟ کہا ایسے کو جو نہ لے کر مکرے نہ دینے سے انکار کرے کہا وہ کون ہے؟ اس نے جواب دیا وہ اللہ تعالیٰ ہے جو میرا اور تیرا رب ہے۔ یہ سنتے ہی اس کافر نے اس مسلمان کے ہاتھ سے ہاتھ چھڑالیا اور اس سے کہا احمق ہوا ہے یہ ہو بھی سکتا ہے کہ ہم مر کر مٹی ہو کر پھر جئیں اور اللہ ہمیں بدلے دے؟ جا جب تو ایسا ہی بودا اور ایسے عقیدوں والا ہے تو مجھے تجھ سے کوئی سرو کار نہیں۔ پس وہ کافر تو مزے اڑاتا رہا اور یہ مومن سختی سے دن گزارتا رہا یہاں تک کہ دونوں کو موت آ گئی۔
مسلمان کو جنت میں جو جو نعمتیں اور رحمتیں ملیں وہ انداز و شمار سے زیادہ تھیں اس نے جو دیکھا کہ حد نظر سے بلکہ ساری دنیا سے زیادہ تو زمین ہے اور بےشمار درخت اور باغات ہیں اور جابجا نہریں اور چشمے ہیں تو پوچھا یہ سب کیا ہے؟ جواب ملا یہ سب آپ کا ہے۔ کہا سبحان اللہ! اللہ کی یہ تو بڑی ہی مہربانی ہے۔ اب جو آگے بڑھا تو اس قدر لونڈی غلام دیکھے کہ گنتی نہیں ہو سکتی، پوچھا یہ کس کے ہیں؟ کہا گیا سب آپ کے۔ اسے اور تعجب اور خوشی ہوئی۔ پھر جو آگے بڑھا تو سرخ یاقوت کے محل نظر آئے ایک موتی کا محل، ہر ہر محل میں کئی کئی حورعین، ساتھ ہی اطلاع ہوئی کہ یہ سب بھی آپ کا ہے پھر تو اس کی باچھیں کھل گئیں۔ کہنے لگا اللہ جانے میرا وہ کافر ساتھی کہاں ہو گا؟ اللہ اسے دکھائے گا کہ وہ بیچ جہنم میں جل رہا ہے۔ اب ان میں وہ باتیں ہوں گی جن کا ذکر یہاں ہوا ہے پس مومن پر دنیا میں جو بلائیں آئی تھیں انہیں وہ یاد کرے گا تو موت سے زیادہ بھاری بلا اسے کوئی نظر نہ آئے گی۔
52۔ 1 یعنی یہ بات وہ مذاق کے طور پر کہا کرتا تھا، مقصد اس کا یہ تھا یہ تو نہ ممکن ہے کیا ایسی ناممکن الواقع بات پر تو یقین رکھتا ہے؟
کیا واقعی جب ہم مر چکے ہوں گے اور مٹی ہو جائیں گے اور ہڈیوں کا پنجر بن کر رہ جائیں گے تو ہمیں جزا و سزا دی جائے گی؟
مولانا محمد جوناگڑھی
کیا جب کہ ہم مر کر مٹی اور ہڈی ہو جائیں گے کیا اس وقت ہم جزا دیئے جانے والے ہیں؟
احمد رضا خان بریلوی
کیا جب ہم مر کر مٹی اور ہڈیاں ہوجائیں گے تو کیا ہمیں جزا سزا دی جائے گی
علامہ محمد حسین نجفی
کب جب مر جائیں گے اور (سڑ گل کر) مٹی اور ہڈیاں ہو جائیں گے تو (اس وقت زندہ کرکے) ہمیں جزا و سزا دی جائے گی؟
عبدالسلام بن محمد
کیا جب ہم مر گئے اور ہم مٹی اور ہڈیاں ہو گئے تو کیا واقعی ہم ضرور جزا دیے جانے والے ہیں؟
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
محسن مقروض ٭٭
جب جنتی موج مزے اڑاتے ہوئے، بے فکری اور فارغ البالی کے ساتھ جنت کے بلند و بالا خاتون میں عیش وعشرت کے ساتھ آپس میں مل جل کر تختوں پر تکئے لگائے بیٹھے ہوں گے ہزارہا پری جمال خدام سلیقہ شعاری سے کمربستہ خدمت پر مامور ہوں گے حکم احکام دے رہے ہوں گے قسم قسم کے کھانے پینے پہننے اوڑھنے اور طرح طرح کی لذتوں سے فائدہ مندی حاصل کرنے میں مصروف ہوں گے۔ دور شراب طہور چل رہا ہو گا وہاں باتوں ہی باتوں میں یہ ذکر نکل آئے گا کہ دنیا میں کیا کیا گذرے کیسے کیسے دن کٹے۔ اس پر ایک شخض کہے گا میری سنو میرا شیطان میرا ایک مشرک ساتھی تھا جو مجھ سے اکثر کہا کرتا تھا کہ تعجب سا تعجب ہے کہ تو اس بات کو مانتا ہے کہ جب ہم مر کر مٹی میں مل کر مٹی ہو جائیں ہم کھوکھلی بوسیدہ سڑی گلی ہڈی بن جائیں اس کے بعد بھی ہم حساب کتاب جزا سزا کے لیے اٹھائے جائیں گے مجھے وہ شخض جنت میں تو نظر آتا نہیں کیا عجب کہ وہ جہنم میں گیا ہو تو اگر چاہو تو میرے ساتھ چل کر جھانک کر دیکھ لو جہنم میں اس کی کیا درگت ہو رہی ہے۔ اب جو جھانکتے ہیں تو دیکھتے ہیں کہ وہ شخص سر تا پا جل رہا ہے خود وہ آگ بن رہا ہے جہنم کے درمیان میں کھڑا ہے اور بے بسی کے ساتھ جل بھن رہا ہے اور ایک اسے ہی کیا دیکھے گا کہ تمام بڑے بڑے لوگوں سے جہنم بھرا ہے۔ کعب احبار رحمہ اللہ فرماتے ہیں جنت میں اسے دیکھتے ہی کہے گا کہ آپ نے تو وہ پھندا ڈالا تھا کہ مجھے تباہ ہی کر ڈالتے لیکن اللہ کا شکر ہے کہ اس نے تمہارے پنجے سے چھڑا دیا۔ اگر اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم میرے شامل حال نہ ہوتا تو بڑی بری درگت ہوتی اور میں بھی تیری ساتھ کھنچا کھنچا یہیں جہنم میں آ جاتا اور جلتا رہتا۔ اللہ کا شکر ہے کہ اس نے تیری تیز کلامی چرب زبانی سے مجھے عافیت میں رکھا اور تیرے اثر سے مجھے محفوظ رکھا۔ تو نے تو فتنے بپا کرنے میں کوئی کمی باقی نہیں رکھی تھی۔
اب مومن اور ایک بات کہتا ہے جس میں اس کی اپنی تسکین اور کامیابی کی خبر ہے کہ وہ پہلی موت تو مرچکا ہے اب ہمیشہ کے گھر میں ہے نہ یہاں اس پر موت ہے نہ خوف ہے نہ عذاب ہے نہ وبال ہے اور یہی بہترین کامیابی فلاح ابدی ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا فرمان ہے کہ ”جنتیوں سے کہا جائے گا کہ اپنے اعمال کے بدلے اپنی پسند کا جتنا چاہے کھاؤ پیو اس میں اشارہ ہے اس امر کی طرف کہ جنتی جنت میں مریں گے نہیں تو وہ یہ سن کر سوال کریں گے کہ کیا اب ہمیں موت تو نہیں آنے کی۔ کسی وقت عذاب تو نہیں ہو گا؟ تو جواب ملے گا نہیں ہرگز نہیں۔ چونکہ انہیں کھٹکا تھا کہ موت آ کر یہ لذتیں فوت نہ کر دے جب یہ دھڑکا ہی جاتا رہا تو وہ سکون کا سان لے کر کہیں گے شکر ہے یہ تو کھلی کامیابی ہے اور بڑی ہی مقصد یاوری ہے۔ اس کے بعد فرمایا ایسے ہی بدلے کے لیے عاملوں کو عمل کرنا چاہیئے۔“ قتادہ رحمہ اللہ تو فرماتے ہیں ”یہ اہل جنت کا مقولہ ہے۔“
امام ابن جریر فرماتے ہیں ”اللہ کا فرمان ہے“، مطلب یہ ہے کہ ان جیسی نعمتوں اور رحمتوں کے حاصل کرنے کے لیے لوگوں کو دنیا میں بھرپور رغبت کے ساتھ عمل کرنا چاہیئے، تاکہ انجام کار ان نعمتوں کو حاصل کر سکیں۔ اسی آیت کے مضمون سے ملتا جلتا ایک قصہ ہے اسے بھی سن لیجئیے۔ دو شخص آپس میں شریک تھے ان کے پاس آٹھ ہزار اشرفیاں جمع ہو گئیں ایک چونکہ پیشے حرفے سے واقف تھا اور دوسرا ناواقف تھا اس لیے اس واقف کار نے ناواقف سے کہا کہ اب ہمارا نباہ مشکل ہے، آپ اپنا حق لے کر الگ ہو جائیے کیونکہ آپ کام کاج سے ناواقف ہیں۔ چنانچہ دونوں نے اپنے اپنے حصے الگ الگ کر لیے اور جدا جدا ہو گئے۔ پھر اس حرفے والے نے بادشاہ کے مرجانے کے بعد اس کا شاہی محل ایک ہزار دینار میں خریدا اور اپنے اس ساتھی کو بلا کر اسے دکھایا اور کہا بتاؤ میں نے کیسی چیز لی؟ اس نے بڑی تعریف کی اور یہاں سے باہر چلا اللہ تعالیٰ سے دعا کی اور کہا اللہ اس میرے ساتھی نے تو ایک ہزار دینار کا قصر دنیاوی خرید کیا ہے اور میں تجھ سے جنت کا محل چاہتا ہوں میں تیرے نام پر تیرے مسکین بندوں پر ایک ہزار اشرفی خرچ کرتا ہوں چنانچہ اس نے ایک ہزار دینار اللہ کی راہ خرچ کر دئیے۔ پھر اس دنیادار شخص نے ایک زمانہ کے بعد ایک ہزار دینار خرچ کر کے اپنا نکاح کیا دعوت میں اپنے اس پرانے شریک کو بھی بلایا اور اس سے ذکر کیا کہ میں نے ایک ہزار دینار خرچ کر کے اس عورت سے شادی کی ہے۔ اس نے اس کی بھی تعریف کی باہر آ کر اللہ تعالیٰ کی راہ میں ایک ہزار دینار دئیے اور اللہ تعالیٰ سے عرض کی کہ بار الٰہی میرے ساتھی نے اتنی ہی رقم خرچ کر کے یہاں ایک عورت حاصل کی ہے اور اس رقم سے تجھ سے میں حورعین کا طالب ہوں اور وہ رقم اللہ کی راہ میں صدقہ کر دی۔ پھر کچھ مدت کے بعد اسنے اسے بلا کر کہا کہ دو ہزار کے دو باغ میں نے خرید کئے ہیں دیکھ لو کیسے ہیں؟ اس نے دیکھ کر بہت تعریف کی اور باہر آ کر اپنی عادت کے مطابق جناب باری تعالیٰ میں عرض کی کہ اللہ میرے ساتھی نے دو ہزار کے دو باغ یہاں کے خریدے ہیں میں تجھ سے جنت کے دو باغ چاہتا ہوں اور یہ دو ہزار دینار تیرے نام پر صدقہ ہیں چنانچہ اس رقم کو مستحقین میں تقسیم کر دیا۔ پھر فرشتہ ان دونوں کو فوت کر کے لے گیا اس صدقہ کرنے والے کو جنت کے ایک محل میں پہنچایا گیا جہاں پر ایک بہترین حسین عورت بھی اسے ملی اور اسے دو باغ بھی دئیے گئے اور وہ وہ نعمتیں ملیں جنہیں بجزاللہ کے اور کوئی نہیں جانتا تو اسے اس وقت اپنا وہ ساتھی یاد آ گیا فرشتے نے بتایا کہ وہ تو جہنم میں ہے تم اگر چاہو تو جھانک کر اسے دیکھ سکتے ہو اس نے جب اسے بیچ جہنم میں جلتا دیکھا تو اس نے کہا کہ قریب تھا کہ تو مجھے بھی چکمہ دے جاتا اور یہ تو رب کی مہربانی ہوئی کہ میں بچ گیا۔ ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ تشدید والی قرأت کی مزید تائید کرتی ہے۔
اور روایت میں ہے کہ تین تین ہزار دینار تھے ایک کافر تھا ایک مومن تھا جب یہ مومن اپنی کل رقم راہ اللہ خرچ کر چکا تو ٹوکری سر پر رکھ کر کدال پھاوڑا لے کر مزدوری کے لیے چلا اسے ایک شخص ملا اور کہا اگر تو میرے جانوروں کی سائیسی کرے اور گوبر اٹھائے تو میں تجھے کھانے پینے کو دے دوں گا اس نے منظور کر لیا اور کام شروع کر دیا۔ لیکن یہ شخص بڑا بے رحم بد گمان تھا جہاں اس نے کسی جانور کو بیمار یا دبلا پتلا دیکھا اس مسکین کی گردن توڑتا خوب مارتا پیٹتا اور کہتا کہ اس کا دانہ تو چرا لیتاہو گا۔ اس مسلمان سے یہ سختی برداشت نہ کی گئی تو ایک دن اس نے اپنے دل میں خیال کیا کہ میں اپنے کافر شریک کے ہاں چلا جاؤں اس کی کھیتی ہے باغات ہیں وہاں کام کاج کر دوں گا اور وہ مجھے روٹی ٹکڑا دے دیا کرے گا اور مجھے کیا لینا دینا ہے؟ وہاں جو پہنچا تو شاہی ٹھاٹھ دیکھ کر حیران ہو گیا، ایک بلند بالا محل ہے دربان ڈیوڑھی اور پہرے دار کی چوکی دار غلام لونڈیاں سب موجود ہیں یہ ٹھٹکا اور دربانوں نے اسے روکا۔ اس نے ہر چند کہا کہ تم اپنے مالک سے میرا ذکر تو کرو۔
انہوں نے کہا اب وقت نہیں تم ایک کونے میں پڑے رہو صبح جب وہ نکلیں تو خود سلام کر لینا اگر تم سچے ہو تو وہ تمہیں پہچان ہی لیں گے ورنہ ہمارے ہاتھوں تمہاری پوری مرمت ہو جائے گی، اس مسکین کو یہی کرناپڑا جو کمبل کا ٹکڑا یہ جسم سے لپیٹے ہوئے تھا اسی کو اس نے اپنا اوڑھنا بچھونا بنایا اور ایک کونے میں دبک کر پڑ گیا۔ صبح کے وقت اس کے راستے پر جا کھڑا ہوا جب وہ نکلا اور اس پر نگاہ پڑی تو تعجب ہو کر پوچھا کہ ہیں؟ یہ کیا حالت ہے مال کا کیا ہوا؟ اس نے کہا وہ کچھ نہ پوچھ اس وقت تو میرا کام جو ہے اسے پورا کر دو یعنی مجھے اجازت دو کہ میں تمہاری کھیتی باڑی کا کام مثل اور نوکروں کے کروں اور آپ مجھے صرف کھانا دے دیا کیجئے اور جب یہ کمبل پھٹ ٹوٹ جائے تو ایک کمبل اور خرید دینا۔ اس نے کہا نہیں نہیں میں اس سے بہتر سلوک تمہارے ساتھ کرنے کے لیے تیار ہوں لیکن پہلے تم یہ بتاؤ کہ اس رقم کو تم نے کیا کیا؟ کہا میں نے اسے ایک شخص کو قرض دی ہے۔ کہا کسے؟ کہا ایسے کو جو نہ لے کر مکرے نہ دینے سے انکار کرے کہا وہ کون ہے؟ اس نے جواب دیا وہ اللہ تعالیٰ ہے جو میرا اور تیرا رب ہے۔ یہ سنتے ہی اس کافر نے اس مسلمان کے ہاتھ سے ہاتھ چھڑالیا اور اس سے کہا احمق ہوا ہے یہ ہو بھی سکتا ہے کہ ہم مر کر مٹی ہو کر پھر جئیں اور اللہ ہمیں بدلے دے؟ جا جب تو ایسا ہی بودا اور ایسے عقیدوں والا ہے تو مجھے تجھ سے کوئی سرو کار نہیں۔ پس وہ کافر تو مزے اڑاتا رہا اور یہ مومن سختی سے دن گزارتا رہا یہاں تک کہ دونوں کو موت آ گئی۔
مسلمان کو جنت میں جو جو نعمتیں اور رحمتیں ملیں وہ انداز و شمار سے زیادہ تھیں اس نے جو دیکھا کہ حد نظر سے بلکہ ساری دنیا سے زیادہ تو زمین ہے اور بےشمار درخت اور باغات ہیں اور جابجا نہریں اور چشمے ہیں تو پوچھا یہ سب کیا ہے؟ جواب ملا یہ سب آپ کا ہے۔ کہا سبحان اللہ! اللہ کی یہ تو بڑی ہی مہربانی ہے۔ اب جو آگے بڑھا تو اس قدر لونڈی غلام دیکھے کہ گنتی نہیں ہو سکتی، پوچھا یہ کس کے ہیں؟ کہا گیا سب آپ کے۔ اسے اور تعجب اور خوشی ہوئی۔ پھر جو آگے بڑھا تو سرخ یاقوت کے محل نظر آئے ایک موتی کا محل، ہر ہر محل میں کئی کئی حورعین، ساتھ ہی اطلاع ہوئی کہ یہ سب بھی آپ کا ہے پھر تو اس کی باچھیں کھل گئیں۔ کہنے لگا اللہ جانے میرا وہ کافر ساتھی کہاں ہو گا؟ اللہ اسے دکھائے گا کہ وہ بیچ جہنم میں جل رہا ہے۔ اب ان میں وہ باتیں ہوں گی جن کا ذکر یہاں ہوا ہے پس مومن پر دنیا میں جو بلائیں آئی تھیں انہیں وہ یاد کرے گا تو موت سے زیادہ بھاری بلا اسے کوئی نظر نہ آئے گی۔
53۔ 1 یعنی ہمیں زندہ کرکے ہمارا حساب لیا جائے گا اور پھر اس کے مطابق جزا دی جائے گی؟
اب کیا آپ لوگ دیکھنا چاہتے ہیں کہ وہ صاحب اب کہاں ہیں؟"
مولانا محمد جوناگڑھی
کہے گا تم چاہتے ہو کہ جھانک کر دیکھ لو؟
احمد رضا خان بریلوی
کہا کیا تم جھانک کر دیکھو گے
علامہ محمد حسین نجفی
پھر وہ (اپنے جنتی ساتھیوں سے) کہے گا کیا تم اسے جھانک کر دیکھنا چاہتے ہو؟ (کہ اب وہ رفیق کہاں اور کس حال میں ہے؟)
عبدالسلام بن محمد
کہے گا کیا تم جھانک کر دیکھنے والے ہو؟
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
محسن مقروض ٭٭
جب جنتی موج مزے اڑاتے ہوئے، بے فکری اور فارغ البالی کے ساتھ جنت کے بلند و بالا خاتون میں عیش وعشرت کے ساتھ آپس میں مل جل کر تختوں پر تکئے لگائے بیٹھے ہوں گے ہزارہا پری جمال خدام سلیقہ شعاری سے کمربستہ خدمت پر مامور ہوں گے حکم احکام دے رہے ہوں گے قسم قسم کے کھانے پینے پہننے اوڑھنے اور طرح طرح کی لذتوں سے فائدہ مندی حاصل کرنے میں مصروف ہوں گے۔ دور شراب طہور چل رہا ہو گا وہاں باتوں ہی باتوں میں یہ ذکر نکل آئے گا کہ دنیا میں کیا کیا گذرے کیسے کیسے دن کٹے۔ اس پر ایک شخض کہے گا میری سنو میرا شیطان میرا ایک مشرک ساتھی تھا جو مجھ سے اکثر کہا کرتا تھا کہ تعجب سا تعجب ہے کہ تو اس بات کو مانتا ہے کہ جب ہم مر کر مٹی میں مل کر مٹی ہو جائیں ہم کھوکھلی بوسیدہ سڑی گلی ہڈی بن جائیں اس کے بعد بھی ہم حساب کتاب جزا سزا کے لیے اٹھائے جائیں گے مجھے وہ شخض جنت میں تو نظر آتا نہیں کیا عجب کہ وہ جہنم میں گیا ہو تو اگر چاہو تو میرے ساتھ چل کر جھانک کر دیکھ لو جہنم میں اس کی کیا درگت ہو رہی ہے۔ اب جو جھانکتے ہیں تو دیکھتے ہیں کہ وہ شخص سر تا پا جل رہا ہے خود وہ آگ بن رہا ہے جہنم کے درمیان میں کھڑا ہے اور بے بسی کے ساتھ جل بھن رہا ہے اور ایک اسے ہی کیا دیکھے گا کہ تمام بڑے بڑے لوگوں سے جہنم بھرا ہے۔ کعب احبار رحمہ اللہ فرماتے ہیں جنت میں اسے دیکھتے ہی کہے گا کہ آپ نے تو وہ پھندا ڈالا تھا کہ مجھے تباہ ہی کر ڈالتے لیکن اللہ کا شکر ہے کہ اس نے تمہارے پنجے سے چھڑا دیا۔ اگر اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم میرے شامل حال نہ ہوتا تو بڑی بری درگت ہوتی اور میں بھی تیری ساتھ کھنچا کھنچا یہیں جہنم میں آ جاتا اور جلتا رہتا۔ اللہ کا شکر ہے کہ اس نے تیری تیز کلامی چرب زبانی سے مجھے عافیت میں رکھا اور تیرے اثر سے مجھے محفوظ رکھا۔ تو نے تو فتنے بپا کرنے میں کوئی کمی باقی نہیں رکھی تھی۔
اب مومن اور ایک بات کہتا ہے جس میں اس کی اپنی تسکین اور کامیابی کی خبر ہے کہ وہ پہلی موت تو مرچکا ہے اب ہمیشہ کے گھر میں ہے نہ یہاں اس پر موت ہے نہ خوف ہے نہ عذاب ہے نہ وبال ہے اور یہی بہترین کامیابی فلاح ابدی ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا فرمان ہے کہ ”جنتیوں سے کہا جائے گا کہ اپنے اعمال کے بدلے اپنی پسند کا جتنا چاہے کھاؤ پیو اس میں اشارہ ہے اس امر کی طرف کہ جنتی جنت میں مریں گے نہیں تو وہ یہ سن کر سوال کریں گے کہ کیا اب ہمیں موت تو نہیں آنے کی۔ کسی وقت عذاب تو نہیں ہو گا؟ تو جواب ملے گا نہیں ہرگز نہیں۔ چونکہ انہیں کھٹکا تھا کہ موت آ کر یہ لذتیں فوت نہ کر دے جب یہ دھڑکا ہی جاتا رہا تو وہ سکون کا سان لے کر کہیں گے شکر ہے یہ تو کھلی کامیابی ہے اور بڑی ہی مقصد یاوری ہے۔ اس کے بعد فرمایا ایسے ہی بدلے کے لیے عاملوں کو عمل کرنا چاہیئے۔“ قتادہ رحمہ اللہ تو فرماتے ہیں ”یہ اہل جنت کا مقولہ ہے۔“
امام ابن جریر فرماتے ہیں ”اللہ کا فرمان ہے“، مطلب یہ ہے کہ ان جیسی نعمتوں اور رحمتوں کے حاصل کرنے کے لیے لوگوں کو دنیا میں بھرپور رغبت کے ساتھ عمل کرنا چاہیئے، تاکہ انجام کار ان نعمتوں کو حاصل کر سکیں۔ اسی آیت کے مضمون سے ملتا جلتا ایک قصہ ہے اسے بھی سن لیجئیے۔ دو شخص آپس میں شریک تھے ان کے پاس آٹھ ہزار اشرفیاں جمع ہو گئیں ایک چونکہ پیشے حرفے سے واقف تھا اور دوسرا ناواقف تھا اس لیے اس واقف کار نے ناواقف سے کہا کہ اب ہمارا نباہ مشکل ہے، آپ اپنا حق لے کر الگ ہو جائیے کیونکہ آپ کام کاج سے ناواقف ہیں۔ چنانچہ دونوں نے اپنے اپنے حصے الگ الگ کر لیے اور جدا جدا ہو گئے۔ پھر اس حرفے والے نے بادشاہ کے مرجانے کے بعد اس کا شاہی محل ایک ہزار دینار میں خریدا اور اپنے اس ساتھی کو بلا کر اسے دکھایا اور کہا بتاؤ میں نے کیسی چیز لی؟ اس نے بڑی تعریف کی اور یہاں سے باہر چلا اللہ تعالیٰ سے دعا کی اور کہا اللہ اس میرے ساتھی نے تو ایک ہزار دینار کا قصر دنیاوی خرید کیا ہے اور میں تجھ سے جنت کا محل چاہتا ہوں میں تیرے نام پر تیرے مسکین بندوں پر ایک ہزار اشرفی خرچ کرتا ہوں چنانچہ اس نے ایک ہزار دینار اللہ کی راہ خرچ کر دئیے۔ پھر اس دنیادار شخص نے ایک زمانہ کے بعد ایک ہزار دینار خرچ کر کے اپنا نکاح کیا دعوت میں اپنے اس پرانے شریک کو بھی بلایا اور اس سے ذکر کیا کہ میں نے ایک ہزار دینار خرچ کر کے اس عورت سے شادی کی ہے۔ اس نے اس کی بھی تعریف کی باہر آ کر اللہ تعالیٰ کی راہ میں ایک ہزار دینار دئیے اور اللہ تعالیٰ سے عرض کی کہ بار الٰہی میرے ساتھی نے اتنی ہی رقم خرچ کر کے یہاں ایک عورت حاصل کی ہے اور اس رقم سے تجھ سے میں حورعین کا طالب ہوں اور وہ رقم اللہ کی راہ میں صدقہ کر دی۔ پھر کچھ مدت کے بعد اسنے اسے بلا کر کہا کہ دو ہزار کے دو باغ میں نے خرید کئے ہیں دیکھ لو کیسے ہیں؟ اس نے دیکھ کر بہت تعریف کی اور باہر آ کر اپنی عادت کے مطابق جناب باری تعالیٰ میں عرض کی کہ اللہ میرے ساتھی نے دو ہزار کے دو باغ یہاں کے خریدے ہیں میں تجھ سے جنت کے دو باغ چاہتا ہوں اور یہ دو ہزار دینار تیرے نام پر صدقہ ہیں چنانچہ اس رقم کو مستحقین میں تقسیم کر دیا۔ پھر فرشتہ ان دونوں کو فوت کر کے لے گیا اس صدقہ کرنے والے کو جنت کے ایک محل میں پہنچایا گیا جہاں پر ایک بہترین حسین عورت بھی اسے ملی اور اسے دو باغ بھی دئیے گئے اور وہ وہ نعمتیں ملیں جنہیں بجزاللہ کے اور کوئی نہیں جانتا تو اسے اس وقت اپنا وہ ساتھی یاد آ گیا فرشتے نے بتایا کہ وہ تو جہنم میں ہے تم اگر چاہو تو جھانک کر اسے دیکھ سکتے ہو اس نے جب اسے بیچ جہنم میں جلتا دیکھا تو اس نے کہا کہ قریب تھا کہ تو مجھے بھی چکمہ دے جاتا اور یہ تو رب کی مہربانی ہوئی کہ میں بچ گیا۔ ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ تشدید والی قرأت کی مزید تائید کرتی ہے۔
اور روایت میں ہے کہ تین تین ہزار دینار تھے ایک کافر تھا ایک مومن تھا جب یہ مومن اپنی کل رقم راہ اللہ خرچ کر چکا تو ٹوکری سر پر رکھ کر کدال پھاوڑا لے کر مزدوری کے لیے چلا اسے ایک شخص ملا اور کہا اگر تو میرے جانوروں کی سائیسی کرے اور گوبر اٹھائے تو میں تجھے کھانے پینے کو دے دوں گا اس نے منظور کر لیا اور کام شروع کر دیا۔ لیکن یہ شخص بڑا بے رحم بد گمان تھا جہاں اس نے کسی جانور کو بیمار یا دبلا پتلا دیکھا اس مسکین کی گردن توڑتا خوب مارتا پیٹتا اور کہتا کہ اس کا دانہ تو چرا لیتاہو گا۔ اس مسلمان سے یہ سختی برداشت نہ کی گئی تو ایک دن اس نے اپنے دل میں خیال کیا کہ میں اپنے کافر شریک کے ہاں چلا جاؤں اس کی کھیتی ہے باغات ہیں وہاں کام کاج کر دوں گا اور وہ مجھے روٹی ٹکڑا دے دیا کرے گا اور مجھے کیا لینا دینا ہے؟ وہاں جو پہنچا تو شاہی ٹھاٹھ دیکھ کر حیران ہو گیا، ایک بلند بالا محل ہے دربان ڈیوڑھی اور پہرے دار کی چوکی دار غلام لونڈیاں سب موجود ہیں یہ ٹھٹکا اور دربانوں نے اسے روکا۔ اس نے ہر چند کہا کہ تم اپنے مالک سے میرا ذکر تو کرو۔
انہوں نے کہا اب وقت نہیں تم ایک کونے میں پڑے رہو صبح جب وہ نکلیں تو خود سلام کر لینا اگر تم سچے ہو تو وہ تمہیں پہچان ہی لیں گے ورنہ ہمارے ہاتھوں تمہاری پوری مرمت ہو جائے گی، اس مسکین کو یہی کرناپڑا جو کمبل کا ٹکڑا یہ جسم سے لپیٹے ہوئے تھا اسی کو اس نے اپنا اوڑھنا بچھونا بنایا اور ایک کونے میں دبک کر پڑ گیا۔ صبح کے وقت اس کے راستے پر جا کھڑا ہوا جب وہ نکلا اور اس پر نگاہ پڑی تو تعجب ہو کر پوچھا کہ ہیں؟ یہ کیا حالت ہے مال کا کیا ہوا؟ اس نے کہا وہ کچھ نہ پوچھ اس وقت تو میرا کام جو ہے اسے پورا کر دو یعنی مجھے اجازت دو کہ میں تمہاری کھیتی باڑی کا کام مثل اور نوکروں کے کروں اور آپ مجھے صرف کھانا دے دیا کیجئے اور جب یہ کمبل پھٹ ٹوٹ جائے تو ایک کمبل اور خرید دینا۔ اس نے کہا نہیں نہیں میں اس سے بہتر سلوک تمہارے ساتھ کرنے کے لیے تیار ہوں لیکن پہلے تم یہ بتاؤ کہ اس رقم کو تم نے کیا کیا؟ کہا میں نے اسے ایک شخص کو قرض دی ہے۔ کہا کسے؟ کہا ایسے کو جو نہ لے کر مکرے نہ دینے سے انکار کرے کہا وہ کون ہے؟ اس نے جواب دیا وہ اللہ تعالیٰ ہے جو میرا اور تیرا رب ہے۔ یہ سنتے ہی اس کافر نے اس مسلمان کے ہاتھ سے ہاتھ چھڑالیا اور اس سے کہا احمق ہوا ہے یہ ہو بھی سکتا ہے کہ ہم مر کر مٹی ہو کر پھر جئیں اور اللہ ہمیں بدلے دے؟ جا جب تو ایسا ہی بودا اور ایسے عقیدوں والا ہے تو مجھے تجھ سے کوئی سرو کار نہیں۔ پس وہ کافر تو مزے اڑاتا رہا اور یہ مومن سختی سے دن گزارتا رہا یہاں تک کہ دونوں کو موت آ گئی۔
مسلمان کو جنت میں جو جو نعمتیں اور رحمتیں ملیں وہ انداز و شمار سے زیادہ تھیں اس نے جو دیکھا کہ حد نظر سے بلکہ ساری دنیا سے زیادہ تو زمین ہے اور بےشمار درخت اور باغات ہیں اور جابجا نہریں اور چشمے ہیں تو پوچھا یہ سب کیا ہے؟ جواب ملا یہ سب آپ کا ہے۔ کہا سبحان اللہ! اللہ کی یہ تو بڑی ہی مہربانی ہے۔ اب جو آگے بڑھا تو اس قدر لونڈی غلام دیکھے کہ گنتی نہیں ہو سکتی، پوچھا یہ کس کے ہیں؟ کہا گیا سب آپ کے۔ اسے اور تعجب اور خوشی ہوئی۔ پھر جو آگے بڑھا تو سرخ یاقوت کے محل نظر آئے ایک موتی کا محل، ہر ہر محل میں کئی کئی حورعین، ساتھ ہی اطلاع ہوئی کہ یہ سب بھی آپ کا ہے پھر تو اس کی باچھیں کھل گئیں۔ کہنے لگا اللہ جانے میرا وہ کافر ساتھی کہاں ہو گا؟ اللہ اسے دکھائے گا کہ وہ بیچ جہنم میں جل رہا ہے۔ اب ان میں وہ باتیں ہوں گی جن کا ذکر یہاں ہوا ہے پس مومن پر دنیا میں جو بلائیں آئی تھیں انہیں وہ یاد کرے گا تو موت سے زیادہ بھاری بلا اسے کوئی نظر نہ آئے گی۔
54۔ 1 یعنی وہ جنتی اپنے جنت سے ساتھیوں سے کہے گا کیا تم پسند کرتے ہو کہ ذرا جہنم میں جھانک کر دیکھیں، شاید مجھے یہ باتیں کہنے والا وہاں نظر آجائے تو تمہیں بتلاؤں کہ یہ شخص تھا جو باتیں کرتا تھا۔
(آیت 54) {قَالَ هَلْ اَنْتُمْ مُّطَّلِعُوْنَ:} وہ مومن اپنے جنتی ساتھیوں اور ہم نشینوں سے کہے گا، کیا تم جہنم میں جھانکو گے، شاید وہ کہیں نظر آجائے تو دیکھیں کس حال میں ہے؟ کیونکہ اسے گمراہ کرنے کی کوشش کرنے والے کو جہنم میں دیکھ کر اور دوستوں کو دکھا کر خوشی ہو گی، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «فَالْيَوْمَ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مِنَ الْكُفَّارِ يَضْحَكُوْنَ (34) عَلَى الْاَرَآىِٕكِ يَنْظُرُوْنَ (35) هَلْ ثُوِّبَ الْكُفَّارُ مَا كَانُوْا يَفْعَلُوْنَ» [ المطففین: ۳۴ تا ۳۶ ] ” سو آج وہ لوگ جو ایمان لائے، کافروں پر ہنس رہے ہیں۔ تختوں پر (بیٹھے) نظارہ کر رہے ہیں۔ کیا کافروں کو اس کا بدلا دیا گیا جو وہ کیا کرتے تھے؟“
یہ کہہ کر جونہی وہ جھکے گا تو جہنم کی گہرائی میں اس کو دیکھ لے گا
مولانا محمد جوناگڑھی
جھانکتے ہی اسے بیچوں بیچ جہنم میں (جلتا ہوا) دیکھے گا
احمد رضا خان بریلوی
پھر جھانکا تو اسے بیچ بھڑکتی آگ میں دیکھا
علامہ محمد حسین نجفی
پھر جب وہ جھانک کر دیکھے گا تو اسے جہنم کے وسط میں پائے گا۔
عبدالسلام بن محمد
پس وہ جھانکے گا تو اسے بھڑکتی آگ کے وسط میں دیکھے گا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
محسن مقروض ٭٭
جب جنتی موج مزے اڑاتے ہوئے، بے فکری اور فارغ البالی کے ساتھ جنت کے بلند و بالا خاتون میں عیش وعشرت کے ساتھ آپس میں مل جل کر تختوں پر تکئے لگائے بیٹھے ہوں گے ہزارہا پری جمال خدام سلیقہ شعاری سے کمربستہ خدمت پر مامور ہوں گے حکم احکام دے رہے ہوں گے قسم قسم کے کھانے پینے پہننے اوڑھنے اور طرح طرح کی لذتوں سے فائدہ مندی حاصل کرنے میں مصروف ہوں گے۔ دور شراب طہور چل رہا ہو گا وہاں باتوں ہی باتوں میں یہ ذکر نکل آئے گا کہ دنیا میں کیا کیا گذرے کیسے کیسے دن کٹے۔ اس پر ایک شخض کہے گا میری سنو میرا شیطان میرا ایک مشرک ساتھی تھا جو مجھ سے اکثر کہا کرتا تھا کہ تعجب سا تعجب ہے کہ تو اس بات کو مانتا ہے کہ جب ہم مر کر مٹی میں مل کر مٹی ہو جائیں ہم کھوکھلی بوسیدہ سڑی گلی ہڈی بن جائیں اس کے بعد بھی ہم حساب کتاب جزا سزا کے لیے اٹھائے جائیں گے مجھے وہ شخض جنت میں تو نظر آتا نہیں کیا عجب کہ وہ جہنم میں گیا ہو تو اگر چاہو تو میرے ساتھ چل کر جھانک کر دیکھ لو جہنم میں اس کی کیا درگت ہو رہی ہے۔ اب جو جھانکتے ہیں تو دیکھتے ہیں کہ وہ شخص سر تا پا جل رہا ہے خود وہ آگ بن رہا ہے جہنم کے درمیان میں کھڑا ہے اور بے بسی کے ساتھ جل بھن رہا ہے اور ایک اسے ہی کیا دیکھے گا کہ تمام بڑے بڑے لوگوں سے جہنم بھرا ہے۔ کعب احبار رحمہ اللہ فرماتے ہیں جنت میں اسے دیکھتے ہی کہے گا کہ آپ نے تو وہ پھندا ڈالا تھا کہ مجھے تباہ ہی کر ڈالتے لیکن اللہ کا شکر ہے کہ اس نے تمہارے پنجے سے چھڑا دیا۔ اگر اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم میرے شامل حال نہ ہوتا تو بڑی بری درگت ہوتی اور میں بھی تیری ساتھ کھنچا کھنچا یہیں جہنم میں آ جاتا اور جلتا رہتا۔ اللہ کا شکر ہے کہ اس نے تیری تیز کلامی چرب زبانی سے مجھے عافیت میں رکھا اور تیرے اثر سے مجھے محفوظ رکھا۔ تو نے تو فتنے بپا کرنے میں کوئی کمی باقی نہیں رکھی تھی۔
اب مومن اور ایک بات کہتا ہے جس میں اس کی اپنی تسکین اور کامیابی کی خبر ہے کہ وہ پہلی موت تو مرچکا ہے اب ہمیشہ کے گھر میں ہے نہ یہاں اس پر موت ہے نہ خوف ہے نہ عذاب ہے نہ وبال ہے اور یہی بہترین کامیابی فلاح ابدی ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا فرمان ہے کہ ”جنتیوں سے کہا جائے گا کہ اپنے اعمال کے بدلے اپنی پسند کا جتنا چاہے کھاؤ پیو اس میں اشارہ ہے اس امر کی طرف کہ جنتی جنت میں مریں گے نہیں تو وہ یہ سن کر سوال کریں گے کہ کیا اب ہمیں موت تو نہیں آنے کی۔ کسی وقت عذاب تو نہیں ہو گا؟ تو جواب ملے گا نہیں ہرگز نہیں۔ چونکہ انہیں کھٹکا تھا کہ موت آ کر یہ لذتیں فوت نہ کر دے جب یہ دھڑکا ہی جاتا رہا تو وہ سکون کا سان لے کر کہیں گے شکر ہے یہ تو کھلی کامیابی ہے اور بڑی ہی مقصد یاوری ہے۔ اس کے بعد فرمایا ایسے ہی بدلے کے لیے عاملوں کو عمل کرنا چاہیئے۔“ قتادہ رحمہ اللہ تو فرماتے ہیں ”یہ اہل جنت کا مقولہ ہے۔“
امام ابن جریر فرماتے ہیں ”اللہ کا فرمان ہے“، مطلب یہ ہے کہ ان جیسی نعمتوں اور رحمتوں کے حاصل کرنے کے لیے لوگوں کو دنیا میں بھرپور رغبت کے ساتھ عمل کرنا چاہیئے، تاکہ انجام کار ان نعمتوں کو حاصل کر سکیں۔ اسی آیت کے مضمون سے ملتا جلتا ایک قصہ ہے اسے بھی سن لیجئیے۔ دو شخص آپس میں شریک تھے ان کے پاس آٹھ ہزار اشرفیاں جمع ہو گئیں ایک چونکہ پیشے حرفے سے واقف تھا اور دوسرا ناواقف تھا اس لیے اس واقف کار نے ناواقف سے کہا کہ اب ہمارا نباہ مشکل ہے، آپ اپنا حق لے کر الگ ہو جائیے کیونکہ آپ کام کاج سے ناواقف ہیں۔ چنانچہ دونوں نے اپنے اپنے حصے الگ الگ کر لیے اور جدا جدا ہو گئے۔ پھر اس حرفے والے نے بادشاہ کے مرجانے کے بعد اس کا شاہی محل ایک ہزار دینار میں خریدا اور اپنے اس ساتھی کو بلا کر اسے دکھایا اور کہا بتاؤ میں نے کیسی چیز لی؟ اس نے بڑی تعریف کی اور یہاں سے باہر چلا اللہ تعالیٰ سے دعا کی اور کہا اللہ اس میرے ساتھی نے تو ایک ہزار دینار کا قصر دنیاوی خرید کیا ہے اور میں تجھ سے جنت کا محل چاہتا ہوں میں تیرے نام پر تیرے مسکین بندوں پر ایک ہزار اشرفی خرچ کرتا ہوں چنانچہ اس نے ایک ہزار دینار اللہ کی راہ خرچ کر دئیے۔ پھر اس دنیادار شخص نے ایک زمانہ کے بعد ایک ہزار دینار خرچ کر کے اپنا نکاح کیا دعوت میں اپنے اس پرانے شریک کو بھی بلایا اور اس سے ذکر کیا کہ میں نے ایک ہزار دینار خرچ کر کے اس عورت سے شادی کی ہے۔ اس نے اس کی بھی تعریف کی باہر آ کر اللہ تعالیٰ کی راہ میں ایک ہزار دینار دئیے اور اللہ تعالیٰ سے عرض کی کہ بار الٰہی میرے ساتھی نے اتنی ہی رقم خرچ کر کے یہاں ایک عورت حاصل کی ہے اور اس رقم سے تجھ سے میں حورعین کا طالب ہوں اور وہ رقم اللہ کی راہ میں صدقہ کر دی۔ پھر کچھ مدت کے بعد اسنے اسے بلا کر کہا کہ دو ہزار کے دو باغ میں نے خرید کئے ہیں دیکھ لو کیسے ہیں؟ اس نے دیکھ کر بہت تعریف کی اور باہر آ کر اپنی عادت کے مطابق جناب باری تعالیٰ میں عرض کی کہ اللہ میرے ساتھی نے دو ہزار کے دو باغ یہاں کے خریدے ہیں میں تجھ سے جنت کے دو باغ چاہتا ہوں اور یہ دو ہزار دینار تیرے نام پر صدقہ ہیں چنانچہ اس رقم کو مستحقین میں تقسیم کر دیا۔ پھر فرشتہ ان دونوں کو فوت کر کے لے گیا اس صدقہ کرنے والے کو جنت کے ایک محل میں پہنچایا گیا جہاں پر ایک بہترین حسین عورت بھی اسے ملی اور اسے دو باغ بھی دئیے گئے اور وہ وہ نعمتیں ملیں جنہیں بجزاللہ کے اور کوئی نہیں جانتا تو اسے اس وقت اپنا وہ ساتھی یاد آ گیا فرشتے نے بتایا کہ وہ تو جہنم میں ہے تم اگر چاہو تو جھانک کر اسے دیکھ سکتے ہو اس نے جب اسے بیچ جہنم میں جلتا دیکھا تو اس نے کہا کہ قریب تھا کہ تو مجھے بھی چکمہ دے جاتا اور یہ تو رب کی مہربانی ہوئی کہ میں بچ گیا۔ ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ تشدید والی قرأت کی مزید تائید کرتی ہے۔
اور روایت میں ہے کہ تین تین ہزار دینار تھے ایک کافر تھا ایک مومن تھا جب یہ مومن اپنی کل رقم راہ اللہ خرچ کر چکا تو ٹوکری سر پر رکھ کر کدال پھاوڑا لے کر مزدوری کے لیے چلا اسے ایک شخص ملا اور کہا اگر تو میرے جانوروں کی سائیسی کرے اور گوبر اٹھائے تو میں تجھے کھانے پینے کو دے دوں گا اس نے منظور کر لیا اور کام شروع کر دیا۔ لیکن یہ شخص بڑا بے رحم بد گمان تھا جہاں اس نے کسی جانور کو بیمار یا دبلا پتلا دیکھا اس مسکین کی گردن توڑتا خوب مارتا پیٹتا اور کہتا کہ اس کا دانہ تو چرا لیتاہو گا۔ اس مسلمان سے یہ سختی برداشت نہ کی گئی تو ایک دن اس نے اپنے دل میں خیال کیا کہ میں اپنے کافر شریک کے ہاں چلا جاؤں اس کی کھیتی ہے باغات ہیں وہاں کام کاج کر دوں گا اور وہ مجھے روٹی ٹکڑا دے دیا کرے گا اور مجھے کیا لینا دینا ہے؟ وہاں جو پہنچا تو شاہی ٹھاٹھ دیکھ کر حیران ہو گیا، ایک بلند بالا محل ہے دربان ڈیوڑھی اور پہرے دار کی چوکی دار غلام لونڈیاں سب موجود ہیں یہ ٹھٹکا اور دربانوں نے اسے روکا۔ اس نے ہر چند کہا کہ تم اپنے مالک سے میرا ذکر تو کرو۔
انہوں نے کہا اب وقت نہیں تم ایک کونے میں پڑے رہو صبح جب وہ نکلیں تو خود سلام کر لینا اگر تم سچے ہو تو وہ تمہیں پہچان ہی لیں گے ورنہ ہمارے ہاتھوں تمہاری پوری مرمت ہو جائے گی، اس مسکین کو یہی کرناپڑا جو کمبل کا ٹکڑا یہ جسم سے لپیٹے ہوئے تھا اسی کو اس نے اپنا اوڑھنا بچھونا بنایا اور ایک کونے میں دبک کر پڑ گیا۔ صبح کے وقت اس کے راستے پر جا کھڑا ہوا جب وہ نکلا اور اس پر نگاہ پڑی تو تعجب ہو کر پوچھا کہ ہیں؟ یہ کیا حالت ہے مال کا کیا ہوا؟ اس نے کہا وہ کچھ نہ پوچھ اس وقت تو میرا کام جو ہے اسے پورا کر دو یعنی مجھے اجازت دو کہ میں تمہاری کھیتی باڑی کا کام مثل اور نوکروں کے کروں اور آپ مجھے صرف کھانا دے دیا کیجئے اور جب یہ کمبل پھٹ ٹوٹ جائے تو ایک کمبل اور خرید دینا۔ اس نے کہا نہیں نہیں میں اس سے بہتر سلوک تمہارے ساتھ کرنے کے لیے تیار ہوں لیکن پہلے تم یہ بتاؤ کہ اس رقم کو تم نے کیا کیا؟ کہا میں نے اسے ایک شخص کو قرض دی ہے۔ کہا کسے؟ کہا ایسے کو جو نہ لے کر مکرے نہ دینے سے انکار کرے کہا وہ کون ہے؟ اس نے جواب دیا وہ اللہ تعالیٰ ہے جو میرا اور تیرا رب ہے۔ یہ سنتے ہی اس کافر نے اس مسلمان کے ہاتھ سے ہاتھ چھڑالیا اور اس سے کہا احمق ہوا ہے یہ ہو بھی سکتا ہے کہ ہم مر کر مٹی ہو کر پھر جئیں اور اللہ ہمیں بدلے دے؟ جا جب تو ایسا ہی بودا اور ایسے عقیدوں والا ہے تو مجھے تجھ سے کوئی سرو کار نہیں۔ پس وہ کافر تو مزے اڑاتا رہا اور یہ مومن سختی سے دن گزارتا رہا یہاں تک کہ دونوں کو موت آ گئی۔
مسلمان کو جنت میں جو جو نعمتیں اور رحمتیں ملیں وہ انداز و شمار سے زیادہ تھیں اس نے جو دیکھا کہ حد نظر سے بلکہ ساری دنیا سے زیادہ تو زمین ہے اور بےشمار درخت اور باغات ہیں اور جابجا نہریں اور چشمے ہیں تو پوچھا یہ سب کیا ہے؟ جواب ملا یہ سب آپ کا ہے۔ کہا سبحان اللہ! اللہ کی یہ تو بڑی ہی مہربانی ہے۔ اب جو آگے بڑھا تو اس قدر لونڈی غلام دیکھے کہ گنتی نہیں ہو سکتی، پوچھا یہ کس کے ہیں؟ کہا گیا سب آپ کے۔ اسے اور تعجب اور خوشی ہوئی۔ پھر جو آگے بڑھا تو سرخ یاقوت کے محل نظر آئے ایک موتی کا محل، ہر ہر محل میں کئی کئی حورعین، ساتھ ہی اطلاع ہوئی کہ یہ سب بھی آپ کا ہے پھر تو اس کی باچھیں کھل گئیں۔ کہنے لگا اللہ جانے میرا وہ کافر ساتھی کہاں ہو گا؟ اللہ اسے دکھائے گا کہ وہ بیچ جہنم میں جل رہا ہے۔ اب ان میں وہ باتیں ہوں گی جن کا ذکر یہاں ہوا ہے پس مومن پر دنیا میں جو بلائیں آئی تھیں انہیں وہ یاد کرے گا تو موت سے زیادہ بھاری بلا اسے کوئی نظر نہ آئے گی۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 55) ➊ { فَاطَّلَعَ فَرَاٰهُ فِيْ سَوَآءِ الْجَحِيْمِ:” سَوَآءِ “} کا اصل معنی برابر ہے، یہاں مراد درمیان ہے، کیونکہ درمیان کی جگہ چاروں طرف سے برابر ہوتی ہے۔ چنانچہ وہ مومن اپنے دوستوں کے ساتھ جھانکے گا تو قیامت کے اس منکر کو بھڑکتی ہوئی آگ کے وسط میں دیکھے گا۔ ➋ اس سے معلوم ہوا کہ آخرت میں جنتیوں کو دیکھنے اور سننے کی جو قوتیں عطا کی جائیں گی وہ دنیا کے مقابلے میں بہت زیادہ ہوں گی۔ اس وقت ہم دنیا میں ہزاروں میل دور بیٹھے ہوئے آدمیوں کی آوازیں سنتے اور انھیں دیکھتے ہیں، مگر صرف ٹیلی ویژن کی وساطت سے۔ آخرت میں ہر شخص دوسرے سے کسی آلے کے بغیر بات کر سکے گا اور اسے دیکھ سکے گا، خواہ وہ کتنا دور ہو۔
اور اس سے خطاب کر کے کہے گا "خدا کی قسم، تُو تو مجھے تباہ ہی کر دینے والا تھا
مولانا محمد جوناگڑھی
کہے گا واللہ! قریب تھا کہ تو مجھے (بھی) برباد کر دے
احمد رضا خان بریلوی
کہا خدا کی قسم قریب تھا کہ تو مجھے ہلاک کردے
علامہ محمد حسین نجفی
اس وقت (اس سے خطاب کرکے) کہے گا کہ خدا کی قسم تو تو مجھے ہلاک کرنا ہی چاہتا تھا۔
عبدالسلام بن محمد
کہے گا اللہ کی قسم! یقینا تو قریب تھا کہ مجھے ہلاک ہی کر دے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
محسن مقروض ٭٭
جب جنتی موج مزے اڑاتے ہوئے، بے فکری اور فارغ البالی کے ساتھ جنت کے بلند و بالا خاتون میں عیش وعشرت کے ساتھ آپس میں مل جل کر تختوں پر تکئے لگائے بیٹھے ہوں گے ہزارہا پری جمال خدام سلیقہ شعاری سے کمربستہ خدمت پر مامور ہوں گے حکم احکام دے رہے ہوں گے قسم قسم کے کھانے پینے پہننے اوڑھنے اور طرح طرح کی لذتوں سے فائدہ مندی حاصل کرنے میں مصروف ہوں گے۔ دور شراب طہور چل رہا ہو گا وہاں باتوں ہی باتوں میں یہ ذکر نکل آئے گا کہ دنیا میں کیا کیا گذرے کیسے کیسے دن کٹے۔ اس پر ایک شخض کہے گا میری سنو میرا شیطان میرا ایک مشرک ساتھی تھا جو مجھ سے اکثر کہا کرتا تھا کہ تعجب سا تعجب ہے کہ تو اس بات کو مانتا ہے کہ جب ہم مر کر مٹی میں مل کر مٹی ہو جائیں ہم کھوکھلی بوسیدہ سڑی گلی ہڈی بن جائیں اس کے بعد بھی ہم حساب کتاب جزا سزا کے لیے اٹھائے جائیں گے مجھے وہ شخض جنت میں تو نظر آتا نہیں کیا عجب کہ وہ جہنم میں گیا ہو تو اگر چاہو تو میرے ساتھ چل کر جھانک کر دیکھ لو جہنم میں اس کی کیا درگت ہو رہی ہے۔ اب جو جھانکتے ہیں تو دیکھتے ہیں کہ وہ شخص سر تا پا جل رہا ہے خود وہ آگ بن رہا ہے جہنم کے درمیان میں کھڑا ہے اور بے بسی کے ساتھ جل بھن رہا ہے اور ایک اسے ہی کیا دیکھے گا کہ تمام بڑے بڑے لوگوں سے جہنم بھرا ہے۔ کعب احبار رحمہ اللہ فرماتے ہیں جنت میں اسے دیکھتے ہی کہے گا کہ آپ نے تو وہ پھندا ڈالا تھا کہ مجھے تباہ ہی کر ڈالتے لیکن اللہ کا شکر ہے کہ اس نے تمہارے پنجے سے چھڑا دیا۔ اگر اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم میرے شامل حال نہ ہوتا تو بڑی بری درگت ہوتی اور میں بھی تیری ساتھ کھنچا کھنچا یہیں جہنم میں آ جاتا اور جلتا رہتا۔ اللہ کا شکر ہے کہ اس نے تیری تیز کلامی چرب زبانی سے مجھے عافیت میں رکھا اور تیرے اثر سے مجھے محفوظ رکھا۔ تو نے تو فتنے بپا کرنے میں کوئی کمی باقی نہیں رکھی تھی۔
اب مومن اور ایک بات کہتا ہے جس میں اس کی اپنی تسکین اور کامیابی کی خبر ہے کہ وہ پہلی موت تو مرچکا ہے اب ہمیشہ کے گھر میں ہے نہ یہاں اس پر موت ہے نہ خوف ہے نہ عذاب ہے نہ وبال ہے اور یہی بہترین کامیابی فلاح ابدی ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا فرمان ہے کہ ”جنتیوں سے کہا جائے گا کہ اپنے اعمال کے بدلے اپنی پسند کا جتنا چاہے کھاؤ پیو اس میں اشارہ ہے اس امر کی طرف کہ جنتی جنت میں مریں گے نہیں تو وہ یہ سن کر سوال کریں گے کہ کیا اب ہمیں موت تو نہیں آنے کی۔ کسی وقت عذاب تو نہیں ہو گا؟ تو جواب ملے گا نہیں ہرگز نہیں۔ چونکہ انہیں کھٹکا تھا کہ موت آ کر یہ لذتیں فوت نہ کر دے جب یہ دھڑکا ہی جاتا رہا تو وہ سکون کا سان لے کر کہیں گے شکر ہے یہ تو کھلی کامیابی ہے اور بڑی ہی مقصد یاوری ہے۔ اس کے بعد فرمایا ایسے ہی بدلے کے لیے عاملوں کو عمل کرنا چاہیئے۔“ قتادہ رحمہ اللہ تو فرماتے ہیں ”یہ اہل جنت کا مقولہ ہے۔“
امام ابن جریر فرماتے ہیں ”اللہ کا فرمان ہے“، مطلب یہ ہے کہ ان جیسی نعمتوں اور رحمتوں کے حاصل کرنے کے لیے لوگوں کو دنیا میں بھرپور رغبت کے ساتھ عمل کرنا چاہیئے، تاکہ انجام کار ان نعمتوں کو حاصل کر سکیں۔ اسی آیت کے مضمون سے ملتا جلتا ایک قصہ ہے اسے بھی سن لیجئیے۔ دو شخص آپس میں شریک تھے ان کے پاس آٹھ ہزار اشرفیاں جمع ہو گئیں ایک چونکہ پیشے حرفے سے واقف تھا اور دوسرا ناواقف تھا اس لیے اس واقف کار نے ناواقف سے کہا کہ اب ہمارا نباہ مشکل ہے، آپ اپنا حق لے کر الگ ہو جائیے کیونکہ آپ کام کاج سے ناواقف ہیں۔ چنانچہ دونوں نے اپنے اپنے حصے الگ الگ کر لیے اور جدا جدا ہو گئے۔ پھر اس حرفے والے نے بادشاہ کے مرجانے کے بعد اس کا شاہی محل ایک ہزار دینار میں خریدا اور اپنے اس ساتھی کو بلا کر اسے دکھایا اور کہا بتاؤ میں نے کیسی چیز لی؟ اس نے بڑی تعریف کی اور یہاں سے باہر چلا اللہ تعالیٰ سے دعا کی اور کہا اللہ اس میرے ساتھی نے تو ایک ہزار دینار کا قصر دنیاوی خرید کیا ہے اور میں تجھ سے جنت کا محل چاہتا ہوں میں تیرے نام پر تیرے مسکین بندوں پر ایک ہزار اشرفی خرچ کرتا ہوں چنانچہ اس نے ایک ہزار دینار اللہ کی راہ خرچ کر دئیے۔ پھر اس دنیادار شخص نے ایک زمانہ کے بعد ایک ہزار دینار خرچ کر کے اپنا نکاح کیا دعوت میں اپنے اس پرانے شریک کو بھی بلایا اور اس سے ذکر کیا کہ میں نے ایک ہزار دینار خرچ کر کے اس عورت سے شادی کی ہے۔ اس نے اس کی بھی تعریف کی باہر آ کر اللہ تعالیٰ کی راہ میں ایک ہزار دینار دئیے اور اللہ تعالیٰ سے عرض کی کہ بار الٰہی میرے ساتھی نے اتنی ہی رقم خرچ کر کے یہاں ایک عورت حاصل کی ہے اور اس رقم سے تجھ سے میں حورعین کا طالب ہوں اور وہ رقم اللہ کی راہ میں صدقہ کر دی۔ پھر کچھ مدت کے بعد اسنے اسے بلا کر کہا کہ دو ہزار کے دو باغ میں نے خرید کئے ہیں دیکھ لو کیسے ہیں؟ اس نے دیکھ کر بہت تعریف کی اور باہر آ کر اپنی عادت کے مطابق جناب باری تعالیٰ میں عرض کی کہ اللہ میرے ساتھی نے دو ہزار کے دو باغ یہاں کے خریدے ہیں میں تجھ سے جنت کے دو باغ چاہتا ہوں اور یہ دو ہزار دینار تیرے نام پر صدقہ ہیں چنانچہ اس رقم کو مستحقین میں تقسیم کر دیا۔ پھر فرشتہ ان دونوں کو فوت کر کے لے گیا اس صدقہ کرنے والے کو جنت کے ایک محل میں پہنچایا گیا جہاں پر ایک بہترین حسین عورت بھی اسے ملی اور اسے دو باغ بھی دئیے گئے اور وہ وہ نعمتیں ملیں جنہیں بجزاللہ کے اور کوئی نہیں جانتا تو اسے اس وقت اپنا وہ ساتھی یاد آ گیا فرشتے نے بتایا کہ وہ تو جہنم میں ہے تم اگر چاہو تو جھانک کر اسے دیکھ سکتے ہو اس نے جب اسے بیچ جہنم میں جلتا دیکھا تو اس نے کہا کہ قریب تھا کہ تو مجھے بھی چکمہ دے جاتا اور یہ تو رب کی مہربانی ہوئی کہ میں بچ گیا۔ ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ تشدید والی قرأت کی مزید تائید کرتی ہے۔
اور روایت میں ہے کہ تین تین ہزار دینار تھے ایک کافر تھا ایک مومن تھا جب یہ مومن اپنی کل رقم راہ اللہ خرچ کر چکا تو ٹوکری سر پر رکھ کر کدال پھاوڑا لے کر مزدوری کے لیے چلا اسے ایک شخص ملا اور کہا اگر تو میرے جانوروں کی سائیسی کرے اور گوبر اٹھائے تو میں تجھے کھانے پینے کو دے دوں گا اس نے منظور کر لیا اور کام شروع کر دیا۔ لیکن یہ شخص بڑا بے رحم بد گمان تھا جہاں اس نے کسی جانور کو بیمار یا دبلا پتلا دیکھا اس مسکین کی گردن توڑتا خوب مارتا پیٹتا اور کہتا کہ اس کا دانہ تو چرا لیتاہو گا۔ اس مسلمان سے یہ سختی برداشت نہ کی گئی تو ایک دن اس نے اپنے دل میں خیال کیا کہ میں اپنے کافر شریک کے ہاں چلا جاؤں اس کی کھیتی ہے باغات ہیں وہاں کام کاج کر دوں گا اور وہ مجھے روٹی ٹکڑا دے دیا کرے گا اور مجھے کیا لینا دینا ہے؟ وہاں جو پہنچا تو شاہی ٹھاٹھ دیکھ کر حیران ہو گیا، ایک بلند بالا محل ہے دربان ڈیوڑھی اور پہرے دار کی چوکی دار غلام لونڈیاں سب موجود ہیں یہ ٹھٹکا اور دربانوں نے اسے روکا۔ اس نے ہر چند کہا کہ تم اپنے مالک سے میرا ذکر تو کرو۔
انہوں نے کہا اب وقت نہیں تم ایک کونے میں پڑے رہو صبح جب وہ نکلیں تو خود سلام کر لینا اگر تم سچے ہو تو وہ تمہیں پہچان ہی لیں گے ورنہ ہمارے ہاتھوں تمہاری پوری مرمت ہو جائے گی، اس مسکین کو یہی کرناپڑا جو کمبل کا ٹکڑا یہ جسم سے لپیٹے ہوئے تھا اسی کو اس نے اپنا اوڑھنا بچھونا بنایا اور ایک کونے میں دبک کر پڑ گیا۔ صبح کے وقت اس کے راستے پر جا کھڑا ہوا جب وہ نکلا اور اس پر نگاہ پڑی تو تعجب ہو کر پوچھا کہ ہیں؟ یہ کیا حالت ہے مال کا کیا ہوا؟ اس نے کہا وہ کچھ نہ پوچھ اس وقت تو میرا کام جو ہے اسے پورا کر دو یعنی مجھے اجازت دو کہ میں تمہاری کھیتی باڑی کا کام مثل اور نوکروں کے کروں اور آپ مجھے صرف کھانا دے دیا کیجئے اور جب یہ کمبل پھٹ ٹوٹ جائے تو ایک کمبل اور خرید دینا۔ اس نے کہا نہیں نہیں میں اس سے بہتر سلوک تمہارے ساتھ کرنے کے لیے تیار ہوں لیکن پہلے تم یہ بتاؤ کہ اس رقم کو تم نے کیا کیا؟ کہا میں نے اسے ایک شخص کو قرض دی ہے۔ کہا کسے؟ کہا ایسے کو جو نہ لے کر مکرے نہ دینے سے انکار کرے کہا وہ کون ہے؟ اس نے جواب دیا وہ اللہ تعالیٰ ہے جو میرا اور تیرا رب ہے۔ یہ سنتے ہی اس کافر نے اس مسلمان کے ہاتھ سے ہاتھ چھڑالیا اور اس سے کہا احمق ہوا ہے یہ ہو بھی سکتا ہے کہ ہم مر کر مٹی ہو کر پھر جئیں اور اللہ ہمیں بدلے دے؟ جا جب تو ایسا ہی بودا اور ایسے عقیدوں والا ہے تو مجھے تجھ سے کوئی سرو کار نہیں۔ پس وہ کافر تو مزے اڑاتا رہا اور یہ مومن سختی سے دن گزارتا رہا یہاں تک کہ دونوں کو موت آ گئی۔
مسلمان کو جنت میں جو جو نعمتیں اور رحمتیں ملیں وہ انداز و شمار سے زیادہ تھیں اس نے جو دیکھا کہ حد نظر سے بلکہ ساری دنیا سے زیادہ تو زمین ہے اور بےشمار درخت اور باغات ہیں اور جابجا نہریں اور چشمے ہیں تو پوچھا یہ سب کیا ہے؟ جواب ملا یہ سب آپ کا ہے۔ کہا سبحان اللہ! اللہ کی یہ تو بڑی ہی مہربانی ہے۔ اب جو آگے بڑھا تو اس قدر لونڈی غلام دیکھے کہ گنتی نہیں ہو سکتی، پوچھا یہ کس کے ہیں؟ کہا گیا سب آپ کے۔ اسے اور تعجب اور خوشی ہوئی۔ پھر جو آگے بڑھا تو سرخ یاقوت کے محل نظر آئے ایک موتی کا محل، ہر ہر محل میں کئی کئی حورعین، ساتھ ہی اطلاع ہوئی کہ یہ سب بھی آپ کا ہے پھر تو اس کی باچھیں کھل گئیں۔ کہنے لگا اللہ جانے میرا وہ کافر ساتھی کہاں ہو گا؟ اللہ اسے دکھائے گا کہ وہ بیچ جہنم میں جل رہا ہے۔ اب ان میں وہ باتیں ہوں گی جن کا ذکر یہاں ہوا ہے پس مومن پر دنیا میں جو بلائیں آئی تھیں انہیں وہ یاد کرے گا تو موت سے زیادہ بھاری بلا اسے کوئی نظر نہ آئے گی۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 56) ➊ {قَالَ تَاللّٰهِ اِنْ كِدْتَّ لَتُرْدِيْنِ:” اِنْ كِدْتَّ “} اصل میں {”إِنَّكَ كِدْتَّ“} تھا، دلیل اس کی{” لَتُرْدِيْنِ “} کا لام ہے۔ {” كِدْتَّ “ ”كَادَ يَكَادُ“} سے ماضی معلوم ہے۔ {” لَتُرْدِيْنِ “} اصل میں {” لَتُرْدِيْنِيْ“} تھا۔ {”أَرْدٰي يُرْدِيْ إِرْدَاءً“} (افعال) ہلاک کرنا۔ اسے مخاطب کر کے کہے گا، اللہ کی قسم! یقینا تو قریب تھا کہ مجھے راہ راست سے بہکا کر ہلاک کر دیتا۔ ➋ ان آیات میں برے ساتھیوں سے اجتناب کا سبق ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ کا خاص فضل نہ ہو تو اس کا نتیجہ کتنا مہلک ہے۔
میرے رب کا فضل شامل حال نہ ہوتا تو آج میں بھی اُن لوگوں میں سے ہوتا جو پکڑے ہوئے آئے ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
اگر میرے رب کا احسان نہ ہوتا تو میں بھی دوزخ میں حاضر کئے جانے والوں میں ہوتا
احمد رضا خان بریلوی
اور میرا رب فضل نہ کرے تو ضرور میں بھی پکڑ کر حاضر کیا جاتا
علامہ محمد حسین نجفی
اور اگر میرے پروردگار کا فضل و کرم نہ ہوتا تو آج میں بھی اس گروہ میں شامل ہوتا جو پکڑ کر لایا گیا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اور اگر میرے رب کی نعمت نہ ہوتی تو یقینا میں بھی ان میں ہوتا جو حاضر کیے گئے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
محسن مقروض ٭٭
جب جنتی موج مزے اڑاتے ہوئے، بے فکری اور فارغ البالی کے ساتھ جنت کے بلند و بالا خاتون میں عیش وعشرت کے ساتھ آپس میں مل جل کر تختوں پر تکئے لگائے بیٹھے ہوں گے ہزارہا پری جمال خدام سلیقہ شعاری سے کمربستہ خدمت پر مامور ہوں گے حکم احکام دے رہے ہوں گے قسم قسم کے کھانے پینے پہننے اوڑھنے اور طرح طرح کی لذتوں سے فائدہ مندی حاصل کرنے میں مصروف ہوں گے۔ دور شراب طہور چل رہا ہو گا وہاں باتوں ہی باتوں میں یہ ذکر نکل آئے گا کہ دنیا میں کیا کیا گذرے کیسے کیسے دن کٹے۔ اس پر ایک شخض کہے گا میری سنو میرا شیطان میرا ایک مشرک ساتھی تھا جو مجھ سے اکثر کہا کرتا تھا کہ تعجب سا تعجب ہے کہ تو اس بات کو مانتا ہے کہ جب ہم مر کر مٹی میں مل کر مٹی ہو جائیں ہم کھوکھلی بوسیدہ سڑی گلی ہڈی بن جائیں اس کے بعد بھی ہم حساب کتاب جزا سزا کے لیے اٹھائے جائیں گے مجھے وہ شخض جنت میں تو نظر آتا نہیں کیا عجب کہ وہ جہنم میں گیا ہو تو اگر چاہو تو میرے ساتھ چل کر جھانک کر دیکھ لو جہنم میں اس کی کیا درگت ہو رہی ہے۔ اب جو جھانکتے ہیں تو دیکھتے ہیں کہ وہ شخص سر تا پا جل رہا ہے خود وہ آگ بن رہا ہے جہنم کے درمیان میں کھڑا ہے اور بے بسی کے ساتھ جل بھن رہا ہے اور ایک اسے ہی کیا دیکھے گا کہ تمام بڑے بڑے لوگوں سے جہنم بھرا ہے۔ کعب احبار رحمہ اللہ فرماتے ہیں جنت میں اسے دیکھتے ہی کہے گا کہ آپ نے تو وہ پھندا ڈالا تھا کہ مجھے تباہ ہی کر ڈالتے لیکن اللہ کا شکر ہے کہ اس نے تمہارے پنجے سے چھڑا دیا۔ اگر اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم میرے شامل حال نہ ہوتا تو بڑی بری درگت ہوتی اور میں بھی تیری ساتھ کھنچا کھنچا یہیں جہنم میں آ جاتا اور جلتا رہتا۔ اللہ کا شکر ہے کہ اس نے تیری تیز کلامی چرب زبانی سے مجھے عافیت میں رکھا اور تیرے اثر سے مجھے محفوظ رکھا۔ تو نے تو فتنے بپا کرنے میں کوئی کمی باقی نہیں رکھی تھی۔
اب مومن اور ایک بات کہتا ہے جس میں اس کی اپنی تسکین اور کامیابی کی خبر ہے کہ وہ پہلی موت تو مرچکا ہے اب ہمیشہ کے گھر میں ہے نہ یہاں اس پر موت ہے نہ خوف ہے نہ عذاب ہے نہ وبال ہے اور یہی بہترین کامیابی فلاح ابدی ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا فرمان ہے کہ ”جنتیوں سے کہا جائے گا کہ اپنے اعمال کے بدلے اپنی پسند کا جتنا چاہے کھاؤ پیو اس میں اشارہ ہے اس امر کی طرف کہ جنتی جنت میں مریں گے نہیں تو وہ یہ سن کر سوال کریں گے کہ کیا اب ہمیں موت تو نہیں آنے کی۔ کسی وقت عذاب تو نہیں ہو گا؟ تو جواب ملے گا نہیں ہرگز نہیں۔ چونکہ انہیں کھٹکا تھا کہ موت آ کر یہ لذتیں فوت نہ کر دے جب یہ دھڑکا ہی جاتا رہا تو وہ سکون کا سان لے کر کہیں گے شکر ہے یہ تو کھلی کامیابی ہے اور بڑی ہی مقصد یاوری ہے۔ اس کے بعد فرمایا ایسے ہی بدلے کے لیے عاملوں کو عمل کرنا چاہیئے۔“ قتادہ رحمہ اللہ تو فرماتے ہیں ”یہ اہل جنت کا مقولہ ہے۔“
امام ابن جریر فرماتے ہیں ”اللہ کا فرمان ہے“، مطلب یہ ہے کہ ان جیسی نعمتوں اور رحمتوں کے حاصل کرنے کے لیے لوگوں کو دنیا میں بھرپور رغبت کے ساتھ عمل کرنا چاہیئے، تاکہ انجام کار ان نعمتوں کو حاصل کر سکیں۔ اسی آیت کے مضمون سے ملتا جلتا ایک قصہ ہے اسے بھی سن لیجئیے۔ دو شخص آپس میں شریک تھے ان کے پاس آٹھ ہزار اشرفیاں جمع ہو گئیں ایک چونکہ پیشے حرفے سے واقف تھا اور دوسرا ناواقف تھا اس لیے اس واقف کار نے ناواقف سے کہا کہ اب ہمارا نباہ مشکل ہے، آپ اپنا حق لے کر الگ ہو جائیے کیونکہ آپ کام کاج سے ناواقف ہیں۔ چنانچہ دونوں نے اپنے اپنے حصے الگ الگ کر لیے اور جدا جدا ہو گئے۔ پھر اس حرفے والے نے بادشاہ کے مرجانے کے بعد اس کا شاہی محل ایک ہزار دینار میں خریدا اور اپنے اس ساتھی کو بلا کر اسے دکھایا اور کہا بتاؤ میں نے کیسی چیز لی؟ اس نے بڑی تعریف کی اور یہاں سے باہر چلا اللہ تعالیٰ سے دعا کی اور کہا اللہ اس میرے ساتھی نے تو ایک ہزار دینار کا قصر دنیاوی خرید کیا ہے اور میں تجھ سے جنت کا محل چاہتا ہوں میں تیرے نام پر تیرے مسکین بندوں پر ایک ہزار اشرفی خرچ کرتا ہوں چنانچہ اس نے ایک ہزار دینار اللہ کی راہ خرچ کر دئیے۔ پھر اس دنیادار شخص نے ایک زمانہ کے بعد ایک ہزار دینار خرچ کر کے اپنا نکاح کیا دعوت میں اپنے اس پرانے شریک کو بھی بلایا اور اس سے ذکر کیا کہ میں نے ایک ہزار دینار خرچ کر کے اس عورت سے شادی کی ہے۔ اس نے اس کی بھی تعریف کی باہر آ کر اللہ تعالیٰ کی راہ میں ایک ہزار دینار دئیے اور اللہ تعالیٰ سے عرض کی کہ بار الٰہی میرے ساتھی نے اتنی ہی رقم خرچ کر کے یہاں ایک عورت حاصل کی ہے اور اس رقم سے تجھ سے میں حورعین کا طالب ہوں اور وہ رقم اللہ کی راہ میں صدقہ کر دی۔ پھر کچھ مدت کے بعد اسنے اسے بلا کر کہا کہ دو ہزار کے دو باغ میں نے خرید کئے ہیں دیکھ لو کیسے ہیں؟ اس نے دیکھ کر بہت تعریف کی اور باہر آ کر اپنی عادت کے مطابق جناب باری تعالیٰ میں عرض کی کہ اللہ میرے ساتھی نے دو ہزار کے دو باغ یہاں کے خریدے ہیں میں تجھ سے جنت کے دو باغ چاہتا ہوں اور یہ دو ہزار دینار تیرے نام پر صدقہ ہیں چنانچہ اس رقم کو مستحقین میں تقسیم کر دیا۔ پھر فرشتہ ان دونوں کو فوت کر کے لے گیا اس صدقہ کرنے والے کو جنت کے ایک محل میں پہنچایا گیا جہاں پر ایک بہترین حسین عورت بھی اسے ملی اور اسے دو باغ بھی دئیے گئے اور وہ وہ نعمتیں ملیں جنہیں بجزاللہ کے اور کوئی نہیں جانتا تو اسے اس وقت اپنا وہ ساتھی یاد آ گیا فرشتے نے بتایا کہ وہ تو جہنم میں ہے تم اگر چاہو تو جھانک کر اسے دیکھ سکتے ہو اس نے جب اسے بیچ جہنم میں جلتا دیکھا تو اس نے کہا کہ قریب تھا کہ تو مجھے بھی چکمہ دے جاتا اور یہ تو رب کی مہربانی ہوئی کہ میں بچ گیا۔ ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ تشدید والی قرأت کی مزید تائید کرتی ہے۔
اور روایت میں ہے کہ تین تین ہزار دینار تھے ایک کافر تھا ایک مومن تھا جب یہ مومن اپنی کل رقم راہ اللہ خرچ کر چکا تو ٹوکری سر پر رکھ کر کدال پھاوڑا لے کر مزدوری کے لیے چلا اسے ایک شخص ملا اور کہا اگر تو میرے جانوروں کی سائیسی کرے اور گوبر اٹھائے تو میں تجھے کھانے پینے کو دے دوں گا اس نے منظور کر لیا اور کام شروع کر دیا۔ لیکن یہ شخص بڑا بے رحم بد گمان تھا جہاں اس نے کسی جانور کو بیمار یا دبلا پتلا دیکھا اس مسکین کی گردن توڑتا خوب مارتا پیٹتا اور کہتا کہ اس کا دانہ تو چرا لیتاہو گا۔ اس مسلمان سے یہ سختی برداشت نہ کی گئی تو ایک دن اس نے اپنے دل میں خیال کیا کہ میں اپنے کافر شریک کے ہاں چلا جاؤں اس کی کھیتی ہے باغات ہیں وہاں کام کاج کر دوں گا اور وہ مجھے روٹی ٹکڑا دے دیا کرے گا اور مجھے کیا لینا دینا ہے؟ وہاں جو پہنچا تو شاہی ٹھاٹھ دیکھ کر حیران ہو گیا، ایک بلند بالا محل ہے دربان ڈیوڑھی اور پہرے دار کی چوکی دار غلام لونڈیاں سب موجود ہیں یہ ٹھٹکا اور دربانوں نے اسے روکا۔ اس نے ہر چند کہا کہ تم اپنے مالک سے میرا ذکر تو کرو۔
انہوں نے کہا اب وقت نہیں تم ایک کونے میں پڑے رہو صبح جب وہ نکلیں تو خود سلام کر لینا اگر تم سچے ہو تو وہ تمہیں پہچان ہی لیں گے ورنہ ہمارے ہاتھوں تمہاری پوری مرمت ہو جائے گی، اس مسکین کو یہی کرناپڑا جو کمبل کا ٹکڑا یہ جسم سے لپیٹے ہوئے تھا اسی کو اس نے اپنا اوڑھنا بچھونا بنایا اور ایک کونے میں دبک کر پڑ گیا۔ صبح کے وقت اس کے راستے پر جا کھڑا ہوا جب وہ نکلا اور اس پر نگاہ پڑی تو تعجب ہو کر پوچھا کہ ہیں؟ یہ کیا حالت ہے مال کا کیا ہوا؟ اس نے کہا وہ کچھ نہ پوچھ اس وقت تو میرا کام جو ہے اسے پورا کر دو یعنی مجھے اجازت دو کہ میں تمہاری کھیتی باڑی کا کام مثل اور نوکروں کے کروں اور آپ مجھے صرف کھانا دے دیا کیجئے اور جب یہ کمبل پھٹ ٹوٹ جائے تو ایک کمبل اور خرید دینا۔ اس نے کہا نہیں نہیں میں اس سے بہتر سلوک تمہارے ساتھ کرنے کے لیے تیار ہوں لیکن پہلے تم یہ بتاؤ کہ اس رقم کو تم نے کیا کیا؟ کہا میں نے اسے ایک شخص کو قرض دی ہے۔ کہا کسے؟ کہا ایسے کو جو نہ لے کر مکرے نہ دینے سے انکار کرے کہا وہ کون ہے؟ اس نے جواب دیا وہ اللہ تعالیٰ ہے جو میرا اور تیرا رب ہے۔ یہ سنتے ہی اس کافر نے اس مسلمان کے ہاتھ سے ہاتھ چھڑالیا اور اس سے کہا احمق ہوا ہے یہ ہو بھی سکتا ہے کہ ہم مر کر مٹی ہو کر پھر جئیں اور اللہ ہمیں بدلے دے؟ جا جب تو ایسا ہی بودا اور ایسے عقیدوں والا ہے تو مجھے تجھ سے کوئی سرو کار نہیں۔ پس وہ کافر تو مزے اڑاتا رہا اور یہ مومن سختی سے دن گزارتا رہا یہاں تک کہ دونوں کو موت آ گئی۔
مسلمان کو جنت میں جو جو نعمتیں اور رحمتیں ملیں وہ انداز و شمار سے زیادہ تھیں اس نے جو دیکھا کہ حد نظر سے بلکہ ساری دنیا سے زیادہ تو زمین ہے اور بےشمار درخت اور باغات ہیں اور جابجا نہریں اور چشمے ہیں تو پوچھا یہ سب کیا ہے؟ جواب ملا یہ سب آپ کا ہے۔ کہا سبحان اللہ! اللہ کی یہ تو بڑی ہی مہربانی ہے۔ اب جو آگے بڑھا تو اس قدر لونڈی غلام دیکھے کہ گنتی نہیں ہو سکتی، پوچھا یہ کس کے ہیں؟ کہا گیا سب آپ کے۔ اسے اور تعجب اور خوشی ہوئی۔ پھر جو آگے بڑھا تو سرخ یاقوت کے محل نظر آئے ایک موتی کا محل، ہر ہر محل میں کئی کئی حورعین، ساتھ ہی اطلاع ہوئی کہ یہ سب بھی آپ کا ہے پھر تو اس کی باچھیں کھل گئیں۔ کہنے لگا اللہ جانے میرا وہ کافر ساتھی کہاں ہو گا؟ اللہ اسے دکھائے گا کہ وہ بیچ جہنم میں جل رہا ہے۔ اب ان میں وہ باتیں ہوں گی جن کا ذکر یہاں ہوا ہے پس مومن پر دنیا میں جو بلائیں آئی تھیں انہیں وہ یاد کرے گا تو موت سے زیادہ بھاری بلا اسے کوئی نظر نہ آئے گی۔
57۔ 1 یعنی جھانکنے پر اسے جہنم کے وسط میں وہ شخص نظر آجائے گا اور اسے یہ جنتی کہے گا کہ مجھے بھی تو گمراہ کر کے ہلاکت میں ڈالنے لگا تھا، یہ تو مجھ پر اللہ کا احسان ہوا، ورنہ آج میں تیرے ساتھ جہنم میں ہوتا۔
(آیت 57) ➊ { وَ لَوْ لَا نِعْمَةُ رَبِّيْ لَكُنْتُ مِنَ الْمُحْضَرِيْنَ:} اس کے ساتھ وہ اللہ تعالیٰ کا احسان یاد کر کے اس کا تذکرہ کرے گا کہ اگر میرے رب کا مجھ پر احسان نہ ہوتا تو میں بھی ان لوگوں میں شامل ہوتا جنھیں گرفتار کر کے جہنم میں حاضر کیا گیا ہے۔ یہ اس کا احسان ہے کہ اس نے مجھے ایمان پر قائم رکھا، ورنہ میرے قدم بھی ڈگمگا جاتے۔ ➋ ان دونوں دوستوں کا قصہ سورۂ کہف میں مذکور دو باغوں کے مالک (جو آخرت کا منکر تھا) اور اس کے مومن دوست کے قصے سے مناسبت رکھتا ہے۔
جب جنتی موج مزے اڑاتے ہوئے، بے فکری اور فارغ البالی کے ساتھ جنت کے بلند و بالا خاتون میں عیش وعشرت کے ساتھ آپس میں مل جل کر تختوں پر تکئے لگائے بیٹھے ہوں گے ہزارہا پری جمال خدام سلیقہ شعاری سے کمربستہ خدمت پر مامور ہوں گے حکم احکام دے رہے ہوں گے قسم قسم کے کھانے پینے پہننے اوڑھنے اور طرح طرح کی لذتوں سے فائدہ مندی حاصل کرنے میں مصروف ہوں گے۔ دور شراب طہور چل رہا ہو گا وہاں باتوں ہی باتوں میں یہ ذکر نکل آئے گا کہ دنیا میں کیا کیا گذرے کیسے کیسے دن کٹے۔ اس پر ایک شخض کہے گا میری سنو میرا شیطان میرا ایک مشرک ساتھی تھا جو مجھ سے اکثر کہا کرتا تھا کہ تعجب سا تعجب ہے کہ تو اس بات کو مانتا ہے کہ جب ہم مر کر مٹی میں مل کر مٹی ہو جائیں ہم کھوکھلی بوسیدہ سڑی گلی ہڈی بن جائیں اس کے بعد بھی ہم حساب کتاب جزا سزا کے لیے اٹھائے جائیں گے مجھے وہ شخض جنت میں تو نظر آتا نہیں کیا عجب کہ وہ جہنم میں گیا ہو تو اگر چاہو تو میرے ساتھ چل کر جھانک کر دیکھ لو جہنم میں اس کی کیا درگت ہو رہی ہے۔ اب جو جھانکتے ہیں تو دیکھتے ہیں کہ وہ شخص سر تا پا جل رہا ہے خود وہ آگ بن رہا ہے جہنم کے درمیان میں کھڑا ہے اور بے بسی کے ساتھ جل بھن رہا ہے اور ایک اسے ہی کیا دیکھے گا کہ تمام بڑے بڑے لوگوں سے جہنم بھرا ہے۔ کعب احبار رحمہ اللہ فرماتے ہیں جنت میں اسے دیکھتے ہی کہے گا کہ آپ نے تو وہ پھندا ڈالا تھا کہ مجھے تباہ ہی کر ڈالتے لیکن اللہ کا شکر ہے کہ اس نے تمہارے پنجے سے چھڑا دیا۔ اگر اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم میرے شامل حال نہ ہوتا تو بڑی بری درگت ہوتی اور میں بھی تیری ساتھ کھنچا کھنچا یہیں جہنم میں آ جاتا اور جلتا رہتا۔ اللہ کا شکر ہے کہ اس نے تیری تیز کلامی چرب زبانی سے مجھے عافیت میں رکھا اور تیرے اثر سے مجھے محفوظ رکھا۔ تو نے تو فتنے بپا کرنے میں کوئی کمی باقی نہیں رکھی تھی۔
اب مومن اور ایک بات کہتا ہے جس میں اس کی اپنی تسکین اور کامیابی کی خبر ہے کہ وہ پہلی موت تو مرچکا ہے اب ہمیشہ کے گھر میں ہے نہ یہاں اس پر موت ہے نہ خوف ہے نہ عذاب ہے نہ وبال ہے اور یہی بہترین کامیابی فلاح ابدی ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا فرمان ہے کہ ”جنتیوں سے کہا جائے گا کہ اپنے اعمال کے بدلے اپنی پسند کا جتنا چاہے کھاؤ پیو اس میں اشارہ ہے اس امر کی طرف کہ جنتی جنت میں مریں گے نہیں تو وہ یہ سن کر سوال کریں گے کہ کیا اب ہمیں موت تو نہیں آنے کی۔ کسی وقت عذاب تو نہیں ہو گا؟ تو جواب ملے گا نہیں ہرگز نہیں۔ چونکہ انہیں کھٹکا تھا کہ موت آ کر یہ لذتیں فوت نہ کر دے جب یہ دھڑکا ہی جاتا رہا تو وہ سکون کا سان لے کر کہیں گے شکر ہے یہ تو کھلی کامیابی ہے اور بڑی ہی مقصد یاوری ہے۔ اس کے بعد فرمایا ایسے ہی بدلے کے لیے عاملوں کو عمل کرنا چاہیئے۔“ قتادہ رحمہ اللہ تو فرماتے ہیں ”یہ اہل جنت کا مقولہ ہے۔“
امام ابن جریر فرماتے ہیں ”اللہ کا فرمان ہے“، مطلب یہ ہے کہ ان جیسی نعمتوں اور رحمتوں کے حاصل کرنے کے لیے لوگوں کو دنیا میں بھرپور رغبت کے ساتھ عمل کرنا چاہیئے، تاکہ انجام کار ان نعمتوں کو حاصل کر سکیں۔ اسی آیت کے مضمون سے ملتا جلتا ایک قصہ ہے اسے بھی سن لیجئیے۔ دو شخص آپس میں شریک تھے ان کے پاس آٹھ ہزار اشرفیاں جمع ہو گئیں ایک چونکہ پیشے حرفے سے واقف تھا اور دوسرا ناواقف تھا اس لیے اس واقف کار نے ناواقف سے کہا کہ اب ہمارا نباہ مشکل ہے، آپ اپنا حق لے کر الگ ہو جائیے کیونکہ آپ کام کاج سے ناواقف ہیں۔ چنانچہ دونوں نے اپنے اپنے حصے الگ الگ کر لیے اور جدا جدا ہو گئے۔ پھر اس حرفے والے نے بادشاہ کے مرجانے کے بعد اس کا شاہی محل ایک ہزار دینار میں خریدا اور اپنے اس ساتھی کو بلا کر اسے دکھایا اور کہا بتاؤ میں نے کیسی چیز لی؟ اس نے بڑی تعریف کی اور یہاں سے باہر چلا اللہ تعالیٰ سے دعا کی اور کہا اللہ اس میرے ساتھی نے تو ایک ہزار دینار کا قصر دنیاوی خرید کیا ہے اور میں تجھ سے جنت کا محل چاہتا ہوں میں تیرے نام پر تیرے مسکین بندوں پر ایک ہزار اشرفی خرچ کرتا ہوں چنانچہ اس نے ایک ہزار دینار اللہ کی راہ خرچ کر دئیے۔ پھر اس دنیادار شخص نے ایک زمانہ کے بعد ایک ہزار دینار خرچ کر کے اپنا نکاح کیا دعوت میں اپنے اس پرانے شریک کو بھی بلایا اور اس سے ذکر کیا کہ میں نے ایک ہزار دینار خرچ کر کے اس عورت سے شادی کی ہے۔ اس نے اس کی بھی تعریف کی باہر آ کر اللہ تعالیٰ کی راہ میں ایک ہزار دینار دئیے اور اللہ تعالیٰ سے عرض کی کہ بار الٰہی میرے ساتھی نے اتنی ہی رقم خرچ کر کے یہاں ایک عورت حاصل کی ہے اور اس رقم سے تجھ سے میں حورعین کا طالب ہوں اور وہ رقم اللہ کی راہ میں صدقہ کر دی۔ پھر کچھ مدت کے بعد اسنے اسے بلا کر کہا کہ دو ہزار کے دو باغ میں نے خرید کئے ہیں دیکھ لو کیسے ہیں؟ اس نے دیکھ کر بہت تعریف کی اور باہر آ کر اپنی عادت کے مطابق جناب باری تعالیٰ میں عرض کی کہ اللہ میرے ساتھی نے دو ہزار کے دو باغ یہاں کے خریدے ہیں میں تجھ سے جنت کے دو باغ چاہتا ہوں اور یہ دو ہزار دینار تیرے نام پر صدقہ ہیں چنانچہ اس رقم کو مستحقین میں تقسیم کر دیا۔ پھر فرشتہ ان دونوں کو فوت کر کے لے گیا اس صدقہ کرنے والے کو جنت کے ایک محل میں پہنچایا گیا جہاں پر ایک بہترین حسین عورت بھی اسے ملی اور اسے دو باغ بھی دئیے گئے اور وہ وہ نعمتیں ملیں جنہیں بجزاللہ کے اور کوئی نہیں جانتا تو اسے اس وقت اپنا وہ ساتھی یاد آ گیا فرشتے نے بتایا کہ وہ تو جہنم میں ہے تم اگر چاہو تو جھانک کر اسے دیکھ سکتے ہو اس نے جب اسے بیچ جہنم میں جلتا دیکھا تو اس نے کہا کہ قریب تھا کہ تو مجھے بھی چکمہ دے جاتا اور یہ تو رب کی مہربانی ہوئی کہ میں بچ گیا۔ ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ تشدید والی قرأت کی مزید تائید کرتی ہے۔
اور روایت میں ہے کہ تین تین ہزار دینار تھے ایک کافر تھا ایک مومن تھا جب یہ مومن اپنی کل رقم راہ اللہ خرچ کر چکا تو ٹوکری سر پر رکھ کر کدال پھاوڑا لے کر مزدوری کے لیے چلا اسے ایک شخص ملا اور کہا اگر تو میرے جانوروں کی سائیسی کرے اور گوبر اٹھائے تو میں تجھے کھانے پینے کو دے دوں گا اس نے منظور کر لیا اور کام شروع کر دیا۔ لیکن یہ شخص بڑا بے رحم بد گمان تھا جہاں اس نے کسی جانور کو بیمار یا دبلا پتلا دیکھا اس مسکین کی گردن توڑتا خوب مارتا پیٹتا اور کہتا کہ اس کا دانہ تو چرا لیتاہو گا۔ اس مسلمان سے یہ سختی برداشت نہ کی گئی تو ایک دن اس نے اپنے دل میں خیال کیا کہ میں اپنے کافر شریک کے ہاں چلا جاؤں اس کی کھیتی ہے باغات ہیں وہاں کام کاج کر دوں گا اور وہ مجھے روٹی ٹکڑا دے دیا کرے گا اور مجھے کیا لینا دینا ہے؟ وہاں جو پہنچا تو شاہی ٹھاٹھ دیکھ کر حیران ہو گیا، ایک بلند بالا محل ہے دربان ڈیوڑھی اور پہرے دار کی چوکی دار غلام لونڈیاں سب موجود ہیں یہ ٹھٹکا اور دربانوں نے اسے روکا۔ اس نے ہر چند کہا کہ تم اپنے مالک سے میرا ذکر تو کرو۔
انہوں نے کہا اب وقت نہیں تم ایک کونے میں پڑے رہو صبح جب وہ نکلیں تو خود سلام کر لینا اگر تم سچے ہو تو وہ تمہیں پہچان ہی لیں گے ورنہ ہمارے ہاتھوں تمہاری پوری مرمت ہو جائے گی، اس مسکین کو یہی کرناپڑا جو کمبل کا ٹکڑا یہ جسم سے لپیٹے ہوئے تھا اسی کو اس نے اپنا اوڑھنا بچھونا بنایا اور ایک کونے میں دبک کر پڑ گیا۔ صبح کے وقت اس کے راستے پر جا کھڑا ہوا جب وہ نکلا اور اس پر نگاہ پڑی تو تعجب ہو کر پوچھا کہ ہیں؟ یہ کیا حالت ہے مال کا کیا ہوا؟ اس نے کہا وہ کچھ نہ پوچھ اس وقت تو میرا کام جو ہے اسے پورا کر دو یعنی مجھے اجازت دو کہ میں تمہاری کھیتی باڑی کا کام مثل اور نوکروں کے کروں اور آپ مجھے صرف کھانا دے دیا کیجئے اور جب یہ کمبل پھٹ ٹوٹ جائے تو ایک کمبل اور خرید دینا۔ اس نے کہا نہیں نہیں میں اس سے بہتر سلوک تمہارے ساتھ کرنے کے لیے تیار ہوں لیکن پہلے تم یہ بتاؤ کہ اس رقم کو تم نے کیا کیا؟ کہا میں نے اسے ایک شخص کو قرض دی ہے۔ کہا کسے؟ کہا ایسے کو جو نہ لے کر مکرے نہ دینے سے انکار کرے کہا وہ کون ہے؟ اس نے جواب دیا وہ اللہ تعالیٰ ہے جو میرا اور تیرا رب ہے۔ یہ سنتے ہی اس کافر نے اس مسلمان کے ہاتھ سے ہاتھ چھڑالیا اور اس سے کہا احمق ہوا ہے یہ ہو بھی سکتا ہے کہ ہم مر کر مٹی ہو کر پھر جئیں اور اللہ ہمیں بدلے دے؟ جا جب تو ایسا ہی بودا اور ایسے عقیدوں والا ہے تو مجھے تجھ سے کوئی سرو کار نہیں۔ پس وہ کافر تو مزے اڑاتا رہا اور یہ مومن سختی سے دن گزارتا رہا یہاں تک کہ دونوں کو موت آ گئی۔
مسلمان کو جنت میں جو جو نعمتیں اور رحمتیں ملیں وہ انداز و شمار سے زیادہ تھیں اس نے جو دیکھا کہ حد نظر سے بلکہ ساری دنیا سے زیادہ تو زمین ہے اور بےشمار درخت اور باغات ہیں اور جابجا نہریں اور چشمے ہیں تو پوچھا یہ سب کیا ہے؟ جواب ملا یہ سب آپ کا ہے۔ کہا سبحان اللہ! اللہ کی یہ تو بڑی ہی مہربانی ہے۔ اب جو آگے بڑھا تو اس قدر لونڈی غلام دیکھے کہ گنتی نہیں ہو سکتی، پوچھا یہ کس کے ہیں؟ کہا گیا سب آپ کے۔ اسے اور تعجب اور خوشی ہوئی۔ پھر جو آگے بڑھا تو سرخ یاقوت کے محل نظر آئے ایک موتی کا محل، ہر ہر محل میں کئی کئی حورعین، ساتھ ہی اطلاع ہوئی کہ یہ سب بھی آپ کا ہے پھر تو اس کی باچھیں کھل گئیں۔ کہنے لگا اللہ جانے میرا وہ کافر ساتھی کہاں ہو گا؟ اللہ اسے دکھائے گا کہ وہ بیچ جہنم میں جل رہا ہے۔ اب ان میں وہ باتیں ہوں گی جن کا ذکر یہاں ہوا ہے پس مومن پر دنیا میں جو بلائیں آئی تھیں انہیں وہ یاد کرے گا تو موت سے زیادہ بھاری بلا اسے کوئی نظر نہ آئے گی۔
58۔ 1 جہنمیوں کا حشر دیکھ کر جنتی کے دل میں رشک کا جذبہ مذید بیدار ہوجائے گا اور کہے گا کہ ہمیں جو جنت کی زندگی اور اس کی نعمتیں ملی ہیں کیا یہ دائمی نہیں؟ اب ہمیں موت آنے والی نہیں؟ جنتی ہمیشہ جنت میں رہیں گے اور جہنمی ہمیشہ جہنم میں رہیں گے، نہ انہیں موت آئے گی کہ جہنم کے عذاب سے چھوٹ جائیں، اور نہ ہمیں کہ جنت کی نعمتوں سے محروم ہوجائیں۔ جس طرح حدیث میں آتا ہے کہ موت کو ایک مینڈھے کی شکل میں دوزخ اور جنت کے درمیان لا کر ذبح کردیا جائے گا کہ اب موت کسی کو نہیں آئے گی۔
(آیت 59،58) {اَفَمَا نَحْنُ بِمَيِّتِيْنَ …:} ان آیات کی دو تفسیریں ہیں، ایک یہ ہے کہ وہ مومن یہ بات اپنے اس کافر دوست کو کہے گا جو قیامت کا منکر تھا اور وہ دنیا میں کہا کرتا تھا: «اِنْ هِيَ اِلَّا مَوْتَتُنَا الْاُوْلٰى وَ مَا نَحْنُ بِمُنْشَرِيْنَ» [ الدخان: ۳۵ ] ”کہ ہماری اس پہلی موت کے سوا کوئی (موت) نہیں اور نہ ہم کبھی دوبارہ اٹھائے جانے والے ہیں۔“ مومن اسے مخاطب کر کے کہے گا، اب دیکھ لو! کیا تمھاری وہ بات درست نکلی یا غلط کہ: «اَفَمَا نَحْنُ بِمَيِّتِيْنَ (58) اِلَّا مَوْتَتَنَا الْاُوْلٰى وَ مَا نَحْنُ بِمُعَذَّبِيْنَ» ”تو کیا ہم کبھی مرنے والے نہیں ہیں، مگر ہماری پہلی موت اور نہ ہم کبھی عذاب دیے جانے والے ہیں۔“ یعنی اب آگ کے وسط میں گرنے پر تمھیں ثابت ہو گیا کہ تمھاری بات غلط تھی؟ دوسری تفسیر یہ ہے کہ اس مومن کا یہ خطاب اپنے دنیا کے کافر ساتھی کے ساتھ اس سے پہلی آیت {” لَكُنْتُ مِنَ الْمُحْضَرِيْنَ “} پر ختم ہو گیا، اس کے بعد وہ مومن جنت میں عطا کردہ نعمتوں کو دیکھ کر اور یہ جان کر کہ اب ہمیشہ جنت میں رہنا ہے، اب نہ موت آئے گی اور نہ یہاں سے نکالے جائیں گے، خوشی اور تعجب کے ساتھ اپنے جنتی ساتھیوں سے کہے گا کہ کیا واقعی ایسا ہے کہ پہلی موت کے بعد جو آ چکی، اب ہم کبھی مرنے والے نہیں، نہ ہی ہمیں کبھی عذاب ہو گا، بلکہ ہم ہمیشہ زندہ رہیں گے اور جنت ہی میں رہیں گے؟ اگرچہ اکثر مفسرین نے دوسری تفسیر کی ہے، مگر پہلی تفسیر زیادہ ظاہر ہے۔
موت جو ہمیں آنی تھی وہ بس پہلے آ چکی؟ اب ہمیں کوئی عذاب نہیں ہونا؟"
مولانا محمد جوناگڑھی
بجز پہلی ایک موت کے، اور نہ ہم عذاب کیے جانے والے ہیں
احمد رضا خان بریلوی
مگر ہماری پہلی موت اور ہم پر عذاب نہ ہوگا
علامہ محمد حسین نجفی
سوائے پہلی موت کے اور نہ ہی ہمیں کوئی عذاب ہوگا۔
عبدالسلام بن محمد
مگر ہماری پہلی موت اور نہ ہم کبھی عذاب دیے جانے والے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
محسن مقروض ٭٭
جب جنتی موج مزے اڑاتے ہوئے، بے فکری اور فارغ البالی کے ساتھ جنت کے بلند و بالا خاتون میں عیش وعشرت کے ساتھ آپس میں مل جل کر تختوں پر تکئے لگائے بیٹھے ہوں گے ہزارہا پری جمال خدام سلیقہ شعاری سے کمربستہ خدمت پر مامور ہوں گے حکم احکام دے رہے ہوں گے قسم قسم کے کھانے پینے پہننے اوڑھنے اور طرح طرح کی لذتوں سے فائدہ مندی حاصل کرنے میں مصروف ہوں گے۔ دور شراب طہور چل رہا ہو گا وہاں باتوں ہی باتوں میں یہ ذکر نکل آئے گا کہ دنیا میں کیا کیا گذرے کیسے کیسے دن کٹے۔ اس پر ایک شخض کہے گا میری سنو میرا شیطان میرا ایک مشرک ساتھی تھا جو مجھ سے اکثر کہا کرتا تھا کہ تعجب سا تعجب ہے کہ تو اس بات کو مانتا ہے کہ جب ہم مر کر مٹی میں مل کر مٹی ہو جائیں ہم کھوکھلی بوسیدہ سڑی گلی ہڈی بن جائیں اس کے بعد بھی ہم حساب کتاب جزا سزا کے لیے اٹھائے جائیں گے مجھے وہ شخض جنت میں تو نظر آتا نہیں کیا عجب کہ وہ جہنم میں گیا ہو تو اگر چاہو تو میرے ساتھ چل کر جھانک کر دیکھ لو جہنم میں اس کی کیا درگت ہو رہی ہے۔ اب جو جھانکتے ہیں تو دیکھتے ہیں کہ وہ شخص سر تا پا جل رہا ہے خود وہ آگ بن رہا ہے جہنم کے درمیان میں کھڑا ہے اور بے بسی کے ساتھ جل بھن رہا ہے اور ایک اسے ہی کیا دیکھے گا کہ تمام بڑے بڑے لوگوں سے جہنم بھرا ہے۔ کعب احبار رحمہ اللہ فرماتے ہیں جنت میں اسے دیکھتے ہی کہے گا کہ آپ نے تو وہ پھندا ڈالا تھا کہ مجھے تباہ ہی کر ڈالتے لیکن اللہ کا شکر ہے کہ اس نے تمہارے پنجے سے چھڑا دیا۔ اگر اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم میرے شامل حال نہ ہوتا تو بڑی بری درگت ہوتی اور میں بھی تیری ساتھ کھنچا کھنچا یہیں جہنم میں آ جاتا اور جلتا رہتا۔ اللہ کا شکر ہے کہ اس نے تیری تیز کلامی چرب زبانی سے مجھے عافیت میں رکھا اور تیرے اثر سے مجھے محفوظ رکھا۔ تو نے تو فتنے بپا کرنے میں کوئی کمی باقی نہیں رکھی تھی۔
اب مومن اور ایک بات کہتا ہے جس میں اس کی اپنی تسکین اور کامیابی کی خبر ہے کہ وہ پہلی موت تو مرچکا ہے اب ہمیشہ کے گھر میں ہے نہ یہاں اس پر موت ہے نہ خوف ہے نہ عذاب ہے نہ وبال ہے اور یہی بہترین کامیابی فلاح ابدی ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا فرمان ہے کہ ”جنتیوں سے کہا جائے گا کہ اپنے اعمال کے بدلے اپنی پسند کا جتنا چاہے کھاؤ پیو اس میں اشارہ ہے اس امر کی طرف کہ جنتی جنت میں مریں گے نہیں تو وہ یہ سن کر سوال کریں گے کہ کیا اب ہمیں موت تو نہیں آنے کی۔ کسی وقت عذاب تو نہیں ہو گا؟ تو جواب ملے گا نہیں ہرگز نہیں۔ چونکہ انہیں کھٹکا تھا کہ موت آ کر یہ لذتیں فوت نہ کر دے جب یہ دھڑکا ہی جاتا رہا تو وہ سکون کا سان لے کر کہیں گے شکر ہے یہ تو کھلی کامیابی ہے اور بڑی ہی مقصد یاوری ہے۔ اس کے بعد فرمایا ایسے ہی بدلے کے لیے عاملوں کو عمل کرنا چاہیئے۔“ قتادہ رحمہ اللہ تو فرماتے ہیں ”یہ اہل جنت کا مقولہ ہے۔“
امام ابن جریر فرماتے ہیں ”اللہ کا فرمان ہے“، مطلب یہ ہے کہ ان جیسی نعمتوں اور رحمتوں کے حاصل کرنے کے لیے لوگوں کو دنیا میں بھرپور رغبت کے ساتھ عمل کرنا چاہیئے، تاکہ انجام کار ان نعمتوں کو حاصل کر سکیں۔ اسی آیت کے مضمون سے ملتا جلتا ایک قصہ ہے اسے بھی سن لیجئیے۔ دو شخص آپس میں شریک تھے ان کے پاس آٹھ ہزار اشرفیاں جمع ہو گئیں ایک چونکہ پیشے حرفے سے واقف تھا اور دوسرا ناواقف تھا اس لیے اس واقف کار نے ناواقف سے کہا کہ اب ہمارا نباہ مشکل ہے، آپ اپنا حق لے کر الگ ہو جائیے کیونکہ آپ کام کاج سے ناواقف ہیں۔ چنانچہ دونوں نے اپنے اپنے حصے الگ الگ کر لیے اور جدا جدا ہو گئے۔ پھر اس حرفے والے نے بادشاہ کے مرجانے کے بعد اس کا شاہی محل ایک ہزار دینار میں خریدا اور اپنے اس ساتھی کو بلا کر اسے دکھایا اور کہا بتاؤ میں نے کیسی چیز لی؟ اس نے بڑی تعریف کی اور یہاں سے باہر چلا اللہ تعالیٰ سے دعا کی اور کہا اللہ اس میرے ساتھی نے تو ایک ہزار دینار کا قصر دنیاوی خرید کیا ہے اور میں تجھ سے جنت کا محل چاہتا ہوں میں تیرے نام پر تیرے مسکین بندوں پر ایک ہزار اشرفی خرچ کرتا ہوں چنانچہ اس نے ایک ہزار دینار اللہ کی راہ خرچ کر دئیے۔ پھر اس دنیادار شخص نے ایک زمانہ کے بعد ایک ہزار دینار خرچ کر کے اپنا نکاح کیا دعوت میں اپنے اس پرانے شریک کو بھی بلایا اور اس سے ذکر کیا کہ میں نے ایک ہزار دینار خرچ کر کے اس عورت سے شادی کی ہے۔ اس نے اس کی بھی تعریف کی باہر آ کر اللہ تعالیٰ کی راہ میں ایک ہزار دینار دئیے اور اللہ تعالیٰ سے عرض کی کہ بار الٰہی میرے ساتھی نے اتنی ہی رقم خرچ کر کے یہاں ایک عورت حاصل کی ہے اور اس رقم سے تجھ سے میں حورعین کا طالب ہوں اور وہ رقم اللہ کی راہ میں صدقہ کر دی۔ پھر کچھ مدت کے بعد اسنے اسے بلا کر کہا کہ دو ہزار کے دو باغ میں نے خرید کئے ہیں دیکھ لو کیسے ہیں؟ اس نے دیکھ کر بہت تعریف کی اور باہر آ کر اپنی عادت کے مطابق جناب باری تعالیٰ میں عرض کی کہ اللہ میرے ساتھی نے دو ہزار کے دو باغ یہاں کے خریدے ہیں میں تجھ سے جنت کے دو باغ چاہتا ہوں اور یہ دو ہزار دینار تیرے نام پر صدقہ ہیں چنانچہ اس رقم کو مستحقین میں تقسیم کر دیا۔ پھر فرشتہ ان دونوں کو فوت کر کے لے گیا اس صدقہ کرنے والے کو جنت کے ایک محل میں پہنچایا گیا جہاں پر ایک بہترین حسین عورت بھی اسے ملی اور اسے دو باغ بھی دئیے گئے اور وہ وہ نعمتیں ملیں جنہیں بجزاللہ کے اور کوئی نہیں جانتا تو اسے اس وقت اپنا وہ ساتھی یاد آ گیا فرشتے نے بتایا کہ وہ تو جہنم میں ہے تم اگر چاہو تو جھانک کر اسے دیکھ سکتے ہو اس نے جب اسے بیچ جہنم میں جلتا دیکھا تو اس نے کہا کہ قریب تھا کہ تو مجھے بھی چکمہ دے جاتا اور یہ تو رب کی مہربانی ہوئی کہ میں بچ گیا۔ ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ تشدید والی قرأت کی مزید تائید کرتی ہے۔
اور روایت میں ہے کہ تین تین ہزار دینار تھے ایک کافر تھا ایک مومن تھا جب یہ مومن اپنی کل رقم راہ اللہ خرچ کر چکا تو ٹوکری سر پر رکھ کر کدال پھاوڑا لے کر مزدوری کے لیے چلا اسے ایک شخص ملا اور کہا اگر تو میرے جانوروں کی سائیسی کرے اور گوبر اٹھائے تو میں تجھے کھانے پینے کو دے دوں گا اس نے منظور کر لیا اور کام شروع کر دیا۔ لیکن یہ شخص بڑا بے رحم بد گمان تھا جہاں اس نے کسی جانور کو بیمار یا دبلا پتلا دیکھا اس مسکین کی گردن توڑتا خوب مارتا پیٹتا اور کہتا کہ اس کا دانہ تو چرا لیتاہو گا۔ اس مسلمان سے یہ سختی برداشت نہ کی گئی تو ایک دن اس نے اپنے دل میں خیال کیا کہ میں اپنے کافر شریک کے ہاں چلا جاؤں اس کی کھیتی ہے باغات ہیں وہاں کام کاج کر دوں گا اور وہ مجھے روٹی ٹکڑا دے دیا کرے گا اور مجھے کیا لینا دینا ہے؟ وہاں جو پہنچا تو شاہی ٹھاٹھ دیکھ کر حیران ہو گیا، ایک بلند بالا محل ہے دربان ڈیوڑھی اور پہرے دار کی چوکی دار غلام لونڈیاں سب موجود ہیں یہ ٹھٹکا اور دربانوں نے اسے روکا۔ اس نے ہر چند کہا کہ تم اپنے مالک سے میرا ذکر تو کرو۔
انہوں نے کہا اب وقت نہیں تم ایک کونے میں پڑے رہو صبح جب وہ نکلیں تو خود سلام کر لینا اگر تم سچے ہو تو وہ تمہیں پہچان ہی لیں گے ورنہ ہمارے ہاتھوں تمہاری پوری مرمت ہو جائے گی، اس مسکین کو یہی کرناپڑا جو کمبل کا ٹکڑا یہ جسم سے لپیٹے ہوئے تھا اسی کو اس نے اپنا اوڑھنا بچھونا بنایا اور ایک کونے میں دبک کر پڑ گیا۔ صبح کے وقت اس کے راستے پر جا کھڑا ہوا جب وہ نکلا اور اس پر نگاہ پڑی تو تعجب ہو کر پوچھا کہ ہیں؟ یہ کیا حالت ہے مال کا کیا ہوا؟ اس نے کہا وہ کچھ نہ پوچھ اس وقت تو میرا کام جو ہے اسے پورا کر دو یعنی مجھے اجازت دو کہ میں تمہاری کھیتی باڑی کا کام مثل اور نوکروں کے کروں اور آپ مجھے صرف کھانا دے دیا کیجئے اور جب یہ کمبل پھٹ ٹوٹ جائے تو ایک کمبل اور خرید دینا۔ اس نے کہا نہیں نہیں میں اس سے بہتر سلوک تمہارے ساتھ کرنے کے لیے تیار ہوں لیکن پہلے تم یہ بتاؤ کہ اس رقم کو تم نے کیا کیا؟ کہا میں نے اسے ایک شخص کو قرض دی ہے۔ کہا کسے؟ کہا ایسے کو جو نہ لے کر مکرے نہ دینے سے انکار کرے کہا وہ کون ہے؟ اس نے جواب دیا وہ اللہ تعالیٰ ہے جو میرا اور تیرا رب ہے۔ یہ سنتے ہی اس کافر نے اس مسلمان کے ہاتھ سے ہاتھ چھڑالیا اور اس سے کہا احمق ہوا ہے یہ ہو بھی سکتا ہے کہ ہم مر کر مٹی ہو کر پھر جئیں اور اللہ ہمیں بدلے دے؟ جا جب تو ایسا ہی بودا اور ایسے عقیدوں والا ہے تو مجھے تجھ سے کوئی سرو کار نہیں۔ پس وہ کافر تو مزے اڑاتا رہا اور یہ مومن سختی سے دن گزارتا رہا یہاں تک کہ دونوں کو موت آ گئی۔
مسلمان کو جنت میں جو جو نعمتیں اور رحمتیں ملیں وہ انداز و شمار سے زیادہ تھیں اس نے جو دیکھا کہ حد نظر سے بلکہ ساری دنیا سے زیادہ تو زمین ہے اور بےشمار درخت اور باغات ہیں اور جابجا نہریں اور چشمے ہیں تو پوچھا یہ سب کیا ہے؟ جواب ملا یہ سب آپ کا ہے۔ کہا سبحان اللہ! اللہ کی یہ تو بڑی ہی مہربانی ہے۔ اب جو آگے بڑھا تو اس قدر لونڈی غلام دیکھے کہ گنتی نہیں ہو سکتی، پوچھا یہ کس کے ہیں؟ کہا گیا سب آپ کے۔ اسے اور تعجب اور خوشی ہوئی۔ پھر جو آگے بڑھا تو سرخ یاقوت کے محل نظر آئے ایک موتی کا محل، ہر ہر محل میں کئی کئی حورعین، ساتھ ہی اطلاع ہوئی کہ یہ سب بھی آپ کا ہے پھر تو اس کی باچھیں کھل گئیں۔ کہنے لگا اللہ جانے میرا وہ کافر ساتھی کہاں ہو گا؟ اللہ اسے دکھائے گا کہ وہ بیچ جہنم میں جل رہا ہے۔ اب ان میں وہ باتیں ہوں گی جن کا ذکر یہاں ہوا ہے پس مومن پر دنیا میں جو بلائیں آئی تھیں انہیں وہ یاد کرے گا تو موت سے زیادہ بھاری بلا اسے کوئی نظر نہ آئے گی۔
59۔ 1 جو دنیا میں آچکی۔ اب ہمارے لئے موت ہے نہ عذاب۔
جب جنتی موج مزے اڑاتے ہوئے، بے فکری اور فارغ البالی کے ساتھ جنت کے بلند و بالا خاتون میں عیش وعشرت کے ساتھ آپس میں مل جل کر تختوں پر تکئے لگائے بیٹھے ہوں گے ہزارہا پری جمال خدام سلیقہ شعاری سے کمربستہ خدمت پر مامور ہوں گے حکم احکام دے رہے ہوں گے قسم قسم کے کھانے پینے پہننے اوڑھنے اور طرح طرح کی لذتوں سے فائدہ مندی حاصل کرنے میں مصروف ہوں گے۔ دور شراب طہور چل رہا ہو گا وہاں باتوں ہی باتوں میں یہ ذکر نکل آئے گا کہ دنیا میں کیا کیا گذرے کیسے کیسے دن کٹے۔ اس پر ایک شخض کہے گا میری سنو میرا شیطان میرا ایک مشرک ساتھی تھا جو مجھ سے اکثر کہا کرتا تھا کہ تعجب سا تعجب ہے کہ تو اس بات کو مانتا ہے کہ جب ہم مر کر مٹی میں مل کر مٹی ہو جائیں ہم کھوکھلی بوسیدہ سڑی گلی ہڈی بن جائیں اس کے بعد بھی ہم حساب کتاب جزا سزا کے لیے اٹھائے جائیں گے مجھے وہ شخض جنت میں تو نظر آتا نہیں کیا عجب کہ وہ جہنم میں گیا ہو تو اگر چاہو تو میرے ساتھ چل کر جھانک کر دیکھ لو جہنم میں اس کی کیا درگت ہو رہی ہے۔ اب جو جھانکتے ہیں تو دیکھتے ہیں کہ وہ شخص سر تا پا جل رہا ہے خود وہ آگ بن رہا ہے جہنم کے درمیان میں کھڑا ہے اور بے بسی کے ساتھ جل بھن رہا ہے اور ایک اسے ہی کیا دیکھے گا کہ تمام بڑے بڑے لوگوں سے جہنم بھرا ہے۔ کعب احبار رحمہ اللہ فرماتے ہیں جنت میں اسے دیکھتے ہی کہے گا کہ آپ نے تو وہ پھندا ڈالا تھا کہ مجھے تباہ ہی کر ڈالتے لیکن اللہ کا شکر ہے کہ اس نے تمہارے پنجے سے چھڑا دیا۔ اگر اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم میرے شامل حال نہ ہوتا تو بڑی بری درگت ہوتی اور میں بھی تیری ساتھ کھنچا کھنچا یہیں جہنم میں آ جاتا اور جلتا رہتا۔ اللہ کا شکر ہے کہ اس نے تیری تیز کلامی چرب زبانی سے مجھے عافیت میں رکھا اور تیرے اثر سے مجھے محفوظ رکھا۔ تو نے تو فتنے بپا کرنے میں کوئی کمی باقی نہیں رکھی تھی۔
اب مومن اور ایک بات کہتا ہے جس میں اس کی اپنی تسکین اور کامیابی کی خبر ہے کہ وہ پہلی موت تو مرچکا ہے اب ہمیشہ کے گھر میں ہے نہ یہاں اس پر موت ہے نہ خوف ہے نہ عذاب ہے نہ وبال ہے اور یہی بہترین کامیابی فلاح ابدی ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا فرمان ہے کہ ”جنتیوں سے کہا جائے گا کہ اپنے اعمال کے بدلے اپنی پسند کا جتنا چاہے کھاؤ پیو اس میں اشارہ ہے اس امر کی طرف کہ جنتی جنت میں مریں گے نہیں تو وہ یہ سن کر سوال کریں گے کہ کیا اب ہمیں موت تو نہیں آنے کی۔ کسی وقت عذاب تو نہیں ہو گا؟ تو جواب ملے گا نہیں ہرگز نہیں۔ چونکہ انہیں کھٹکا تھا کہ موت آ کر یہ لذتیں فوت نہ کر دے جب یہ دھڑکا ہی جاتا رہا تو وہ سکون کا سان لے کر کہیں گے شکر ہے یہ تو کھلی کامیابی ہے اور بڑی ہی مقصد یاوری ہے۔ اس کے بعد فرمایا ایسے ہی بدلے کے لیے عاملوں کو عمل کرنا چاہیئے۔“ قتادہ رحمہ اللہ تو فرماتے ہیں ”یہ اہل جنت کا مقولہ ہے۔“
امام ابن جریر فرماتے ہیں ”اللہ کا فرمان ہے“، مطلب یہ ہے کہ ان جیسی نعمتوں اور رحمتوں کے حاصل کرنے کے لیے لوگوں کو دنیا میں بھرپور رغبت کے ساتھ عمل کرنا چاہیئے، تاکہ انجام کار ان نعمتوں کو حاصل کر سکیں۔ اسی آیت کے مضمون سے ملتا جلتا ایک قصہ ہے اسے بھی سن لیجئیے۔ دو شخص آپس میں شریک تھے ان کے پاس آٹھ ہزار اشرفیاں جمع ہو گئیں ایک چونکہ پیشے حرفے سے واقف تھا اور دوسرا ناواقف تھا اس لیے اس واقف کار نے ناواقف سے کہا کہ اب ہمارا نباہ مشکل ہے، آپ اپنا حق لے کر الگ ہو جائیے کیونکہ آپ کام کاج سے ناواقف ہیں۔ چنانچہ دونوں نے اپنے اپنے حصے الگ الگ کر لیے اور جدا جدا ہو گئے۔ پھر اس حرفے والے نے بادشاہ کے مرجانے کے بعد اس کا شاہی محل ایک ہزار دینار میں خریدا اور اپنے اس ساتھی کو بلا کر اسے دکھایا اور کہا بتاؤ میں نے کیسی چیز لی؟ اس نے بڑی تعریف کی اور یہاں سے باہر چلا اللہ تعالیٰ سے دعا کی اور کہا اللہ اس میرے ساتھی نے تو ایک ہزار دینار کا قصر دنیاوی خرید کیا ہے اور میں تجھ سے جنت کا محل چاہتا ہوں میں تیرے نام پر تیرے مسکین بندوں پر ایک ہزار اشرفی خرچ کرتا ہوں چنانچہ اس نے ایک ہزار دینار اللہ کی راہ خرچ کر دئیے۔ پھر اس دنیادار شخص نے ایک زمانہ کے بعد ایک ہزار دینار خرچ کر کے اپنا نکاح کیا دعوت میں اپنے اس پرانے شریک کو بھی بلایا اور اس سے ذکر کیا کہ میں نے ایک ہزار دینار خرچ کر کے اس عورت سے شادی کی ہے۔ اس نے اس کی بھی تعریف کی باہر آ کر اللہ تعالیٰ کی راہ میں ایک ہزار دینار دئیے اور اللہ تعالیٰ سے عرض کی کہ بار الٰہی میرے ساتھی نے اتنی ہی رقم خرچ کر کے یہاں ایک عورت حاصل کی ہے اور اس رقم سے تجھ سے میں حورعین کا طالب ہوں اور وہ رقم اللہ کی راہ میں صدقہ کر دی۔ پھر کچھ مدت کے بعد اسنے اسے بلا کر کہا کہ دو ہزار کے دو باغ میں نے خرید کئے ہیں دیکھ لو کیسے ہیں؟ اس نے دیکھ کر بہت تعریف کی اور باہر آ کر اپنی عادت کے مطابق جناب باری تعالیٰ میں عرض کی کہ اللہ میرے ساتھی نے دو ہزار کے دو باغ یہاں کے خریدے ہیں میں تجھ سے جنت کے دو باغ چاہتا ہوں اور یہ دو ہزار دینار تیرے نام پر صدقہ ہیں چنانچہ اس رقم کو مستحقین میں تقسیم کر دیا۔ پھر فرشتہ ان دونوں کو فوت کر کے لے گیا اس صدقہ کرنے والے کو جنت کے ایک محل میں پہنچایا گیا جہاں پر ایک بہترین حسین عورت بھی اسے ملی اور اسے دو باغ بھی دئیے گئے اور وہ وہ نعمتیں ملیں جنہیں بجزاللہ کے اور کوئی نہیں جانتا تو اسے اس وقت اپنا وہ ساتھی یاد آ گیا فرشتے نے بتایا کہ وہ تو جہنم میں ہے تم اگر چاہو تو جھانک کر اسے دیکھ سکتے ہو اس نے جب اسے بیچ جہنم میں جلتا دیکھا تو اس نے کہا کہ قریب تھا کہ تو مجھے بھی چکمہ دے جاتا اور یہ تو رب کی مہربانی ہوئی کہ میں بچ گیا۔ ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ تشدید والی قرأت کی مزید تائید کرتی ہے۔
اور روایت میں ہے کہ تین تین ہزار دینار تھے ایک کافر تھا ایک مومن تھا جب یہ مومن اپنی کل رقم راہ اللہ خرچ کر چکا تو ٹوکری سر پر رکھ کر کدال پھاوڑا لے کر مزدوری کے لیے چلا اسے ایک شخص ملا اور کہا اگر تو میرے جانوروں کی سائیسی کرے اور گوبر اٹھائے تو میں تجھے کھانے پینے کو دے دوں گا اس نے منظور کر لیا اور کام شروع کر دیا۔ لیکن یہ شخص بڑا بے رحم بد گمان تھا جہاں اس نے کسی جانور کو بیمار یا دبلا پتلا دیکھا اس مسکین کی گردن توڑتا خوب مارتا پیٹتا اور کہتا کہ اس کا دانہ تو چرا لیتاہو گا۔ اس مسلمان سے یہ سختی برداشت نہ کی گئی تو ایک دن اس نے اپنے دل میں خیال کیا کہ میں اپنے کافر شریک کے ہاں چلا جاؤں اس کی کھیتی ہے باغات ہیں وہاں کام کاج کر دوں گا اور وہ مجھے روٹی ٹکڑا دے دیا کرے گا اور مجھے کیا لینا دینا ہے؟ وہاں جو پہنچا تو شاہی ٹھاٹھ دیکھ کر حیران ہو گیا، ایک بلند بالا محل ہے دربان ڈیوڑھی اور پہرے دار کی چوکی دار غلام لونڈیاں سب موجود ہیں یہ ٹھٹکا اور دربانوں نے اسے روکا۔ اس نے ہر چند کہا کہ تم اپنے مالک سے میرا ذکر تو کرو۔
انہوں نے کہا اب وقت نہیں تم ایک کونے میں پڑے رہو صبح جب وہ نکلیں تو خود سلام کر لینا اگر تم سچے ہو تو وہ تمہیں پہچان ہی لیں گے ورنہ ہمارے ہاتھوں تمہاری پوری مرمت ہو جائے گی، اس مسکین کو یہی کرناپڑا جو کمبل کا ٹکڑا یہ جسم سے لپیٹے ہوئے تھا اسی کو اس نے اپنا اوڑھنا بچھونا بنایا اور ایک کونے میں دبک کر پڑ گیا۔ صبح کے وقت اس کے راستے پر جا کھڑا ہوا جب وہ نکلا اور اس پر نگاہ پڑی تو تعجب ہو کر پوچھا کہ ہیں؟ یہ کیا حالت ہے مال کا کیا ہوا؟ اس نے کہا وہ کچھ نہ پوچھ اس وقت تو میرا کام جو ہے اسے پورا کر دو یعنی مجھے اجازت دو کہ میں تمہاری کھیتی باڑی کا کام مثل اور نوکروں کے کروں اور آپ مجھے صرف کھانا دے دیا کیجئے اور جب یہ کمبل پھٹ ٹوٹ جائے تو ایک کمبل اور خرید دینا۔ اس نے کہا نہیں نہیں میں اس سے بہتر سلوک تمہارے ساتھ کرنے کے لیے تیار ہوں لیکن پہلے تم یہ بتاؤ کہ اس رقم کو تم نے کیا کیا؟ کہا میں نے اسے ایک شخص کو قرض دی ہے۔ کہا کسے؟ کہا ایسے کو جو نہ لے کر مکرے نہ دینے سے انکار کرے کہا وہ کون ہے؟ اس نے جواب دیا وہ اللہ تعالیٰ ہے جو میرا اور تیرا رب ہے۔ یہ سنتے ہی اس کافر نے اس مسلمان کے ہاتھ سے ہاتھ چھڑالیا اور اس سے کہا احمق ہوا ہے یہ ہو بھی سکتا ہے کہ ہم مر کر مٹی ہو کر پھر جئیں اور اللہ ہمیں بدلے دے؟ جا جب تو ایسا ہی بودا اور ایسے عقیدوں والا ہے تو مجھے تجھ سے کوئی سرو کار نہیں۔ پس وہ کافر تو مزے اڑاتا رہا اور یہ مومن سختی سے دن گزارتا رہا یہاں تک کہ دونوں کو موت آ گئی۔
مسلمان کو جنت میں جو جو نعمتیں اور رحمتیں ملیں وہ انداز و شمار سے زیادہ تھیں اس نے جو دیکھا کہ حد نظر سے بلکہ ساری دنیا سے زیادہ تو زمین ہے اور بےشمار درخت اور باغات ہیں اور جابجا نہریں اور چشمے ہیں تو پوچھا یہ سب کیا ہے؟ جواب ملا یہ سب آپ کا ہے۔ کہا سبحان اللہ! اللہ کی یہ تو بڑی ہی مہربانی ہے۔ اب جو آگے بڑھا تو اس قدر لونڈی غلام دیکھے کہ گنتی نہیں ہو سکتی، پوچھا یہ کس کے ہیں؟ کہا گیا سب آپ کے۔ اسے اور تعجب اور خوشی ہوئی۔ پھر جو آگے بڑھا تو سرخ یاقوت کے محل نظر آئے ایک موتی کا محل، ہر ہر محل میں کئی کئی حورعین، ساتھ ہی اطلاع ہوئی کہ یہ سب بھی آپ کا ہے پھر تو اس کی باچھیں کھل گئیں۔ کہنے لگا اللہ جانے میرا وہ کافر ساتھی کہاں ہو گا؟ اللہ اسے دکھائے گا کہ وہ بیچ جہنم میں جل رہا ہے۔ اب ان میں وہ باتیں ہوں گی جن کا ذکر یہاں ہوا ہے پس مومن پر دنیا میں جو بلائیں آئی تھیں انہیں وہ یاد کرے گا تو موت سے زیادہ بھاری بلا اسے کوئی نظر نہ آئے گی۔
60۔ 1 اس لئے کہ جہنم سے بچ جانے اور جنت کی نعمتوں کا مستحق قرار پا جانے سے بڑھ کر اور کیا کامیابی ہوگی۔
(آیت 61،60) {اِنَّ هٰذَا لَهُوَ الْفَوْزُ الْعَظِيْمُ …:} یہ دونوں آیات اس مومن کا بقیہ کلام بھی ہو سکتا ہے اور اللہ تعالیٰ کا کلام بھی کہ {” عِبَادَ اللّٰهِ الْمُخْلَصِيْنَ “} (اللہ کے خالص کیے ہوئے بندوں) کو حاصل ہونے والا یہ {” رِزْقٌ مَّعْلُوْمٌ “} (مقرر رزق) ہی سب سے بڑی کامیابی ہے۔ ایسے ہی خوش کن انجام کو حاصل کرنے کے لیے عمل کرنے والوں کو عمل کرنا چاہیے۔
ایسی ہی کامیابی کے لیے عمل کرنے والوں کو عمل کرنا چاہیے
مولانا محمد جوناگڑھی
ایسی (کامیابی) کے لئے عمل کرنے والوں کو عمل کرنا چاہئے
احمد رضا خان بریلوی
ایسی ہی بات کے لیے کامیوں کو کام کرنا چاہیے،
علامہ محمد حسین نجفی
ایسی ہی کامیابی کیلئے عمل کرنے والوں کو عمل کرنا چاہیے۔
عبدالسلام بن محمد
اس جیسی (کامیابی) ہی کے لیے پس لازم ہے کہ عمل کرنے والے عمل کریں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
محسن مقروض ٭٭
جب جنتی موج مزے اڑاتے ہوئے، بے فکری اور فارغ البالی کے ساتھ جنت کے بلند و بالا خاتون میں عیش وعشرت کے ساتھ آپس میں مل جل کر تختوں پر تکئے لگائے بیٹھے ہوں گے ہزارہا پری جمال خدام سلیقہ شعاری سے کمربستہ خدمت پر مامور ہوں گے حکم احکام دے رہے ہوں گے قسم قسم کے کھانے پینے پہننے اوڑھنے اور طرح طرح کی لذتوں سے فائدہ مندی حاصل کرنے میں مصروف ہوں گے۔ دور شراب طہور چل رہا ہو گا وہاں باتوں ہی باتوں میں یہ ذکر نکل آئے گا کہ دنیا میں کیا کیا گذرے کیسے کیسے دن کٹے۔ اس پر ایک شخض کہے گا میری سنو میرا شیطان میرا ایک مشرک ساتھی تھا جو مجھ سے اکثر کہا کرتا تھا کہ تعجب سا تعجب ہے کہ تو اس بات کو مانتا ہے کہ جب ہم مر کر مٹی میں مل کر مٹی ہو جائیں ہم کھوکھلی بوسیدہ سڑی گلی ہڈی بن جائیں اس کے بعد بھی ہم حساب کتاب جزا سزا کے لیے اٹھائے جائیں گے مجھے وہ شخض جنت میں تو نظر آتا نہیں کیا عجب کہ وہ جہنم میں گیا ہو تو اگر چاہو تو میرے ساتھ چل کر جھانک کر دیکھ لو جہنم میں اس کی کیا درگت ہو رہی ہے۔ اب جو جھانکتے ہیں تو دیکھتے ہیں کہ وہ شخص سر تا پا جل رہا ہے خود وہ آگ بن رہا ہے جہنم کے درمیان میں کھڑا ہے اور بے بسی کے ساتھ جل بھن رہا ہے اور ایک اسے ہی کیا دیکھے گا کہ تمام بڑے بڑے لوگوں سے جہنم بھرا ہے۔ کعب احبار رحمہ اللہ فرماتے ہیں جنت میں اسے دیکھتے ہی کہے گا کہ آپ نے تو وہ پھندا ڈالا تھا کہ مجھے تباہ ہی کر ڈالتے لیکن اللہ کا شکر ہے کہ اس نے تمہارے پنجے سے چھڑا دیا۔ اگر اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم میرے شامل حال نہ ہوتا تو بڑی بری درگت ہوتی اور میں بھی تیری ساتھ کھنچا کھنچا یہیں جہنم میں آ جاتا اور جلتا رہتا۔ اللہ کا شکر ہے کہ اس نے تیری تیز کلامی چرب زبانی سے مجھے عافیت میں رکھا اور تیرے اثر سے مجھے محفوظ رکھا۔ تو نے تو فتنے بپا کرنے میں کوئی کمی باقی نہیں رکھی تھی۔
اب مومن اور ایک بات کہتا ہے جس میں اس کی اپنی تسکین اور کامیابی کی خبر ہے کہ وہ پہلی موت تو مرچکا ہے اب ہمیشہ کے گھر میں ہے نہ یہاں اس پر موت ہے نہ خوف ہے نہ عذاب ہے نہ وبال ہے اور یہی بہترین کامیابی فلاح ابدی ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا فرمان ہے کہ ”جنتیوں سے کہا جائے گا کہ اپنے اعمال کے بدلے اپنی پسند کا جتنا چاہے کھاؤ پیو اس میں اشارہ ہے اس امر کی طرف کہ جنتی جنت میں مریں گے نہیں تو وہ یہ سن کر سوال کریں گے کہ کیا اب ہمیں موت تو نہیں آنے کی۔ کسی وقت عذاب تو نہیں ہو گا؟ تو جواب ملے گا نہیں ہرگز نہیں۔ چونکہ انہیں کھٹکا تھا کہ موت آ کر یہ لذتیں فوت نہ کر دے جب یہ دھڑکا ہی جاتا رہا تو وہ سکون کا سان لے کر کہیں گے شکر ہے یہ تو کھلی کامیابی ہے اور بڑی ہی مقصد یاوری ہے۔ اس کے بعد فرمایا ایسے ہی بدلے کے لیے عاملوں کو عمل کرنا چاہیئے۔“ قتادہ رحمہ اللہ تو فرماتے ہیں ”یہ اہل جنت کا مقولہ ہے۔“
امام ابن جریر فرماتے ہیں ”اللہ کا فرمان ہے“، مطلب یہ ہے کہ ان جیسی نعمتوں اور رحمتوں کے حاصل کرنے کے لیے لوگوں کو دنیا میں بھرپور رغبت کے ساتھ عمل کرنا چاہیئے، تاکہ انجام کار ان نعمتوں کو حاصل کر سکیں۔ اسی آیت کے مضمون سے ملتا جلتا ایک قصہ ہے اسے بھی سن لیجئیے۔ دو شخص آپس میں شریک تھے ان کے پاس آٹھ ہزار اشرفیاں جمع ہو گئیں ایک چونکہ پیشے حرفے سے واقف تھا اور دوسرا ناواقف تھا اس لیے اس واقف کار نے ناواقف سے کہا کہ اب ہمارا نباہ مشکل ہے، آپ اپنا حق لے کر الگ ہو جائیے کیونکہ آپ کام کاج سے ناواقف ہیں۔ چنانچہ دونوں نے اپنے اپنے حصے الگ الگ کر لیے اور جدا جدا ہو گئے۔ پھر اس حرفے والے نے بادشاہ کے مرجانے کے بعد اس کا شاہی محل ایک ہزار دینار میں خریدا اور اپنے اس ساتھی کو بلا کر اسے دکھایا اور کہا بتاؤ میں نے کیسی چیز لی؟ اس نے بڑی تعریف کی اور یہاں سے باہر چلا اللہ تعالیٰ سے دعا کی اور کہا اللہ اس میرے ساتھی نے تو ایک ہزار دینار کا قصر دنیاوی خرید کیا ہے اور میں تجھ سے جنت کا محل چاہتا ہوں میں تیرے نام پر تیرے مسکین بندوں پر ایک ہزار اشرفی خرچ کرتا ہوں چنانچہ اس نے ایک ہزار دینار اللہ کی راہ خرچ کر دئیے۔ پھر اس دنیادار شخص نے ایک زمانہ کے بعد ایک ہزار دینار خرچ کر کے اپنا نکاح کیا دعوت میں اپنے اس پرانے شریک کو بھی بلایا اور اس سے ذکر کیا کہ میں نے ایک ہزار دینار خرچ کر کے اس عورت سے شادی کی ہے۔ اس نے اس کی بھی تعریف کی باہر آ کر اللہ تعالیٰ کی راہ میں ایک ہزار دینار دئیے اور اللہ تعالیٰ سے عرض کی کہ بار الٰہی میرے ساتھی نے اتنی ہی رقم خرچ کر کے یہاں ایک عورت حاصل کی ہے اور اس رقم سے تجھ سے میں حورعین کا طالب ہوں اور وہ رقم اللہ کی راہ میں صدقہ کر دی۔ پھر کچھ مدت کے بعد اسنے اسے بلا کر کہا کہ دو ہزار کے دو باغ میں نے خرید کئے ہیں دیکھ لو کیسے ہیں؟ اس نے دیکھ کر بہت تعریف کی اور باہر آ کر اپنی عادت کے مطابق جناب باری تعالیٰ میں عرض کی کہ اللہ میرے ساتھی نے دو ہزار کے دو باغ یہاں کے خریدے ہیں میں تجھ سے جنت کے دو باغ چاہتا ہوں اور یہ دو ہزار دینار تیرے نام پر صدقہ ہیں چنانچہ اس رقم کو مستحقین میں تقسیم کر دیا۔ پھر فرشتہ ان دونوں کو فوت کر کے لے گیا اس صدقہ کرنے والے کو جنت کے ایک محل میں پہنچایا گیا جہاں پر ایک بہترین حسین عورت بھی اسے ملی اور اسے دو باغ بھی دئیے گئے اور وہ وہ نعمتیں ملیں جنہیں بجزاللہ کے اور کوئی نہیں جانتا تو اسے اس وقت اپنا وہ ساتھی یاد آ گیا فرشتے نے بتایا کہ وہ تو جہنم میں ہے تم اگر چاہو تو جھانک کر اسے دیکھ سکتے ہو اس نے جب اسے بیچ جہنم میں جلتا دیکھا تو اس نے کہا کہ قریب تھا کہ تو مجھے بھی چکمہ دے جاتا اور یہ تو رب کی مہربانی ہوئی کہ میں بچ گیا۔ ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ تشدید والی قرأت کی مزید تائید کرتی ہے۔
اور روایت میں ہے کہ تین تین ہزار دینار تھے ایک کافر تھا ایک مومن تھا جب یہ مومن اپنی کل رقم راہ اللہ خرچ کر چکا تو ٹوکری سر پر رکھ کر کدال پھاوڑا لے کر مزدوری کے لیے چلا اسے ایک شخص ملا اور کہا اگر تو میرے جانوروں کی سائیسی کرے اور گوبر اٹھائے تو میں تجھے کھانے پینے کو دے دوں گا اس نے منظور کر لیا اور کام شروع کر دیا۔ لیکن یہ شخص بڑا بے رحم بد گمان تھا جہاں اس نے کسی جانور کو بیمار یا دبلا پتلا دیکھا اس مسکین کی گردن توڑتا خوب مارتا پیٹتا اور کہتا کہ اس کا دانہ تو چرا لیتاہو گا۔ اس مسلمان سے یہ سختی برداشت نہ کی گئی تو ایک دن اس نے اپنے دل میں خیال کیا کہ میں اپنے کافر شریک کے ہاں چلا جاؤں اس کی کھیتی ہے باغات ہیں وہاں کام کاج کر دوں گا اور وہ مجھے روٹی ٹکڑا دے دیا کرے گا اور مجھے کیا لینا دینا ہے؟ وہاں جو پہنچا تو شاہی ٹھاٹھ دیکھ کر حیران ہو گیا، ایک بلند بالا محل ہے دربان ڈیوڑھی اور پہرے دار کی چوکی دار غلام لونڈیاں سب موجود ہیں یہ ٹھٹکا اور دربانوں نے اسے روکا۔ اس نے ہر چند کہا کہ تم اپنے مالک سے میرا ذکر تو کرو۔
انہوں نے کہا اب وقت نہیں تم ایک کونے میں پڑے رہو صبح جب وہ نکلیں تو خود سلام کر لینا اگر تم سچے ہو تو وہ تمہیں پہچان ہی لیں گے ورنہ ہمارے ہاتھوں تمہاری پوری مرمت ہو جائے گی، اس مسکین کو یہی کرناپڑا جو کمبل کا ٹکڑا یہ جسم سے لپیٹے ہوئے تھا اسی کو اس نے اپنا اوڑھنا بچھونا بنایا اور ایک کونے میں دبک کر پڑ گیا۔ صبح کے وقت اس کے راستے پر جا کھڑا ہوا جب وہ نکلا اور اس پر نگاہ پڑی تو تعجب ہو کر پوچھا کہ ہیں؟ یہ کیا حالت ہے مال کا کیا ہوا؟ اس نے کہا وہ کچھ نہ پوچھ اس وقت تو میرا کام جو ہے اسے پورا کر دو یعنی مجھے اجازت دو کہ میں تمہاری کھیتی باڑی کا کام مثل اور نوکروں کے کروں اور آپ مجھے صرف کھانا دے دیا کیجئے اور جب یہ کمبل پھٹ ٹوٹ جائے تو ایک کمبل اور خرید دینا۔ اس نے کہا نہیں نہیں میں اس سے بہتر سلوک تمہارے ساتھ کرنے کے لیے تیار ہوں لیکن پہلے تم یہ بتاؤ کہ اس رقم کو تم نے کیا کیا؟ کہا میں نے اسے ایک شخص کو قرض دی ہے۔ کہا کسے؟ کہا ایسے کو جو نہ لے کر مکرے نہ دینے سے انکار کرے کہا وہ کون ہے؟ اس نے جواب دیا وہ اللہ تعالیٰ ہے جو میرا اور تیرا رب ہے۔ یہ سنتے ہی اس کافر نے اس مسلمان کے ہاتھ سے ہاتھ چھڑالیا اور اس سے کہا احمق ہوا ہے یہ ہو بھی سکتا ہے کہ ہم مر کر مٹی ہو کر پھر جئیں اور اللہ ہمیں بدلے دے؟ جا جب تو ایسا ہی بودا اور ایسے عقیدوں والا ہے تو مجھے تجھ سے کوئی سرو کار نہیں۔ پس وہ کافر تو مزے اڑاتا رہا اور یہ مومن سختی سے دن گزارتا رہا یہاں تک کہ دونوں کو موت آ گئی۔
مسلمان کو جنت میں جو جو نعمتیں اور رحمتیں ملیں وہ انداز و شمار سے زیادہ تھیں اس نے جو دیکھا کہ حد نظر سے بلکہ ساری دنیا سے زیادہ تو زمین ہے اور بےشمار درخت اور باغات ہیں اور جابجا نہریں اور چشمے ہیں تو پوچھا یہ سب کیا ہے؟ جواب ملا یہ سب آپ کا ہے۔ کہا سبحان اللہ! اللہ کی یہ تو بڑی ہی مہربانی ہے۔ اب جو آگے بڑھا تو اس قدر لونڈی غلام دیکھے کہ گنتی نہیں ہو سکتی، پوچھا یہ کس کے ہیں؟ کہا گیا سب آپ کے۔ اسے اور تعجب اور خوشی ہوئی۔ پھر جو آگے بڑھا تو سرخ یاقوت کے محل نظر آئے ایک موتی کا محل، ہر ہر محل میں کئی کئی حورعین، ساتھ ہی اطلاع ہوئی کہ یہ سب بھی آپ کا ہے پھر تو اس کی باچھیں کھل گئیں۔ کہنے لگا اللہ جانے میرا وہ کافر ساتھی کہاں ہو گا؟ اللہ اسے دکھائے گا کہ وہ بیچ جہنم میں جل رہا ہے۔ اب ان میں وہ باتیں ہوں گی جن کا ذکر یہاں ہوا ہے پس مومن پر دنیا میں جو بلائیں آئی تھیں انہیں وہ یاد کرے گا تو موت سے زیادہ بھاری بلا اسے کوئی نظر نہ آئے گی۔
61۔ 1 یعنی اس جیسی نعمت اور اس جیسے فضل عظیم ہی کے لئے محنت کرنے والوں کو محنت کرنی چاہئے، اس لئے کہ یہی سب نفع بخش تجارت ہے۔ نہ کہ دنیا کے لئے جو عارضی ہے، اور خسارے کا سودا ہے۔
جنت کی نعمتوں کا بیان فرما کر فرماتا ہے کہ ’ اب لوگ خود فیصلہ کر لیں کہ وہ جگہ اور وہ نعمتیں بہتر ہیں؟ یا زقوم کا درخت جو دوزخیوں کا کھانا ہے ‘۔ ممکن ہے اس سے مراد خاص ایک ہی درخت ہو اور وہ تمام جہنم میں پھیلا ہوا ہو، جیسے طوبیٰ کا ایک درخت ہے جو جنت کے ایک ایک محل میں پہنچا ہوا ہے۔ اور ممکن ہے کہ مراد زقوم کے درخت کی جنس ہو اس کی تائید آیت «لَاٰكِلُوْنَ مِنْ شَجَرٍ مِّنْ زَقُّوْمٍ» ۱؎ [56-الواقعة:52] ، سے بھی ہوتی ہے۔ ’ ہم نے اسے ظالموں کے لیے فتنہ بنایا ہے ‘۔ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں شجرہ زقوم کا ذکر گمراہوں کے لیے فتنہ ہو گیا وہ کہنے لگے لو اور سنو آگ میں اور درخت؟ آگ تو درخت جلا دینے والی ہے۔ یہ نبی کہتے ہیں جہنم میں درخت اگے گا۔ تو اللہ نے فرمایا ہاں یہ درخت آگ ہی سے پیدا ہو گا اور اس کی غذا بھی آگ ہی ہو گی۔ ابوجہل ملعون اسی پر ہنسی اڑاتا تھا اور کہتا تھا میں تو خوب مزے سے کھجور مکھن کھاؤں گا اسی کا نام زقوم ہے۔
الغرض یہ بھی ایک امتحان ہے بھلے لوگ تو اس سے ڈر گئے اور بروں نے اس کا مذاق اڑایا۔ جیسے فرمان ہے «وَمَا جَعَلْنَا الرُّءْيَا الَّتِيْٓ اَرَيْنٰكَ اِلَّا فِتْنَةً لِّلنَّاسِ وَالشَّجَرَةَ الْمَلْعُوْنَةَ فِي الْقُرْاٰنِ ۭ وَنُخَوِّفُهُمْ ۙ فَمَا يَزِيْدُهُمْ اِلَّا طُغْيَانًا كَبِيْرًا» ۱؎ [17-الإسراء:60] ، ’ جو منظر ہم نے تجھے دکھایا تھا وہ صرف اس لیے ہے کہ لوگوں کی آزمائش ہو جائے اور اسی طرح اس نامبارک درخت کا ذکر بھی۔ ہم تو انہیں دھمکا رہے ہیں مگر یہ نافرمانی میں بڑھتے ہی جا رہے ہیں ‘۔ اس درخت کی اصل جڑ جہنم میں ہے۔ اس کے خوشے اور شاخیں بھیانک ڈراؤنی لمبی چوڑی دور دور شیطانوں کے سروں کی طرح پھیلی ہوئی ہیں۔ گو شیطان کو بھی کسی نے دیکھا نہیں لیکن اس کا نام سنتے ہی اس کی بد صورتی اور خباثت کا منظر سامنے آ جاتا ہے، یہی حال اس درخت کا ہے کہ دیکھنے اور چکھنے میں ظاہر اور باطن میں بری چیز ہے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ سانپوں کی ایک قسم ہے جو بدترین بھیانک اور خوفناک شکل کے ہوتے ہیں۔ اور ایک قول یہ بھی ہے کہ نبات کی ایک قسم ہے جو بہت بری طرح پھیل جاتی ہے۔ لیکن یہ دونوں احتمال درست نہیں ٹھیک بات وہی ہے جسے ہم نے پہلے ذکر کیا۔ اسی بد منظر بدبو بد ذائقہ بد مزہ بد خصال تھور کو انہیں جبراً کھانا پڑے گا۔ اور ٹھونس ٹھونس کر انہیں کھلایا جائے گا کہ یہ بجائے خود ایک زبردست عذاب ہے۔ اور آیت میں ہے «لَيْسَ لَهُمْ طَعَامٌ اِلَّا مِنْ ضَرِيْعٍ ۙلَّا يُسْمِنُ وَلَا يُغْنِي مِن جُوعٍ» ۱؎ [88-الغاشية:7،6] ، ’ ان کی خوراک وہاں صرف کانٹوں دار تھور ہو گا جو نہ انہیں فربہ کر سکے نہ بھوک مٹا سکے گا۔ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آیت «اتَّقُوا اللَّـهَ حَقَّ تُقَاتِهِ» ۱؎ [3-آل عمران:102] کی تلاوت کر کے فرمایا: { اگر زقوم کا ایک قطرہ دنیا کے سمندروں میں پڑ جائے توروئے زمین کے تمام لوگوں کی خوراکیں خراب ہو جائیں۔ اس کا کیا حال ہو گا جس کی خوراک ہی یہی ہو گا } } ۱؎ [سنن ترمذي:2584،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ۔
پھر اس زقوم کے کھانے کے ساتھ ہی انہیں اوپر سے جہنم کا کھولتا گرم پانی پلایا جائے گا۔ یا یہ مطلب کہ اس جہنمی درخت کو جہنمی پانی کے ساتھ ملا کر انہیں کھلایا پلایا جائے گا۔ اور یہ گرم پانی وہ ہو گا جو جہنمیوں کے زخموں سے لہو پیپ وغیرہ کی شکل میں نکلا ہو گا اور جو ان کی آنکھوں سے اور پوشیدہ راستوں سے نکلا ہوا ہو گا۔ حدیث میں ہے کہ { جب یہ پانی ان کے سامنے لایا جائے گا۔ انہیں سخت ایذاء ہو گی بڑی کراہیت آئے گی پھر جب وہ ان کے منہ کے پاس لایا جائے گا تو اس کی بھاپ سے اس کے چہرے کی کھال جھلس کر جھڑ جائے گی اور جب اس کا گھونٹ پیٹ میں جائے گا تو ان کی آنتیں کٹ کر پاخانے کے راستے سے باہر آ جائیں گی }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:52/21:]
حضرت سعید بن جیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”جب جہنمی بھوک کی شکایت کریں گے تو زقوم کھلایا جائے گا جس سے ان کے چہر کی کھالیں بالکل الگ ہو کر گر پڑیں گی۔ اس طرح انہیں پہچاننے والا اس میں ان کے منہ کی پوری کھال دیکھ کر پہچان سکتا ہے کہ یہ فلاں ہے۔ پھر پیاس کی شدت سے بیتاب ہو کر وہ ہائے وائے پکاریں گے تو انہیں پگھلے ہوئے تانبے جیسا گرم پانی دیا جائے گا جو چہرے کے سامنے آتے ہی چہرے کے گوشت کو جھلس دے گا اور تمام گوشت گر پڑے گا اور پیٹ میں جا کر آنتوں کو کاٹ دے گا۔ اوپر سے لوہے کے ہتھوڑے مارے جائیں گے اور ایک ایک عضو بدن الگ الگ جھڑ جائے گا، بری طرح چیختے پیٹتے ہوں گے۔ فیصلہ ہوتے ہی ان کا ٹھکانا جہنم ہو جائے گا جہاں طرح طرح کے عذاب ہوتے رہیں گے۔“ جیسے اور آیت میں ہے «يَطُوْفُوْنَ بَيْنَهَا وَبَيْنَ حَمِيْمٍ اٰنٍ» ۱؎ [55-الرحمن:44] ’ جہنم اور آگ جیسے گرم پانی کے درمیان چکر کھاتے رہیں گے ‘۔ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کی قرأت «ثُمَّ اِنَّ مَقِیْلَهُمْ لِإِلَى الْجَحِیْمِ» ہے۔ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کا فرمان ہے کہ ”واللہ آدھے دن سے پہلے ہی پہلے دونوں گروہ اپنی اپنی جگہ پہنچ جائیں گے اور وہیں قیلولہ یعنی دوپہر کا آرام کریں گے۔“ قرآن فرماتا ہے «اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ يَوْمَىِٕذٍ خَيْرٌ مُّسْتَــقَرًّا وَّاَحْسَنُ مَقِيْلًا» ۱؎ [25-الفرقان:24] ’ جنتی باعتبار جائے قیام کے بہت اچھے ہوں گے اور باعتبار آرام گاہ کے بھی بہت اچھے ہوں گے ‘۔
الغرض قیلولے کا وقت دونوں کا اپنی اپنی جگہ ہو گا آدھے دن سے پہلے پہلے اپنی اپنی جگہ پہنچ جائیں گے۔ اس بنا پر یہاں «ثم» کا لفظ خبر پر خبر کے عطف کے لیے ہو گا۔ یہ اس کا بدلہ ہے کہ ان لوگوں نے اپنے باپ دادوں کو گمراہ پایا۔ لیکن پھر بھی انہی کے نقش قدم پر چلتے رہے۔ مجبوروں اور بیوقوفوں کی طرح ان کے پیچھے ہولئے۔
62۔ 1 زَ قوْم تَزَقْم سے نکلا ہے، جس کے معنی بدبودار اور کر یہ چیز کے نکلنے کے ہیں۔ اس درخت کا پھل بھی کھانا اہل جہنم کے کے لئے سخت ناگوار ہوگا۔
(آیت 62){ اَذٰلِكَ خَيْرٌ نُّزُلًا اَمْ شَجَرَةُ الزَّقُّوْمِ: ” نُزُلًا “} کھانے پینے کی چیزیں اور آرام کی جگہ جو مہمان کے آنے کے وقت کے لیے تیار کی جائیں۔ {” الزَّقُّوْمِ “} اسی سے {”تَزَقُّمٌ“} ہے، جس کا معنی کسی ناگوار چیز کو نہایت مشکل سے نگلنا ہے۔ اس درخت کا دنیا میں وجود نہیں، کیونکہ اللہ تعالیٰ اسے آگ میں پیدا فرمائے گا۔ صرف لفظی مشابہت کی حد تک ایک زہریلا پودا ہے جو ”زقوم“ کہلاتا ہے، جس کا دودھ جسم کو لگ جائے تو جسم سوج جاتا ہے اور آدمی مر جاتا ہے۔ صحرا کے قریب کی خشک زمینوں میں پایا جاتا ہے۔ (الوسیط) اہل جنت کے لیے {” رِزْقٌ مَّعْلُوْمٌ (41) فَوَاكِهُ وَ هُمْ مُّكْرَمُوْنَ (42) فِيْ جَنّٰتِ النَّعِيْمِ “} کی مہمانی کے ذکر کے بعد اہل جہنم کی مہمانی کا ذکر فرمایا۔ اگرچہ بہتری میں دونوں کا کوئی مقابلہ نہیں، مگر کفار اپنے اعمال کو مسلمانوں کے اعمال سے بہتر سمجھتے تھے، اس لیے ان کا نتیجہ ذکر کر کے فرمایا کہ بتاؤ، دونوں میں سے بہتر کیا ہے؟ علاوہ ازیں اس میں کفار پر طنز بھی ہے۔
بے شک ہم نے اسے ظالموں کے لیے ایک آزمائش بنایا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
زقوم اور طوبی ٭٭
جنت کی نعمتوں کا بیان فرما کر فرماتا ہے کہ ’ اب لوگ خود فیصلہ کر لیں کہ وہ جگہ اور وہ نعمتیں بہتر ہیں؟ یا زقوم کا درخت جو دوزخیوں کا کھانا ہے ‘۔ ممکن ہے اس سے مراد خاص ایک ہی درخت ہو اور وہ تمام جہنم میں پھیلا ہوا ہو، جیسے طوبیٰ کا ایک درخت ہے جو جنت کے ایک ایک محل میں پہنچا ہوا ہے۔ اور ممکن ہے کہ مراد زقوم کے درخت کی جنس ہو اس کی تائید آیت «لَاٰكِلُوْنَ مِنْ شَجَرٍ مِّنْ زَقُّوْمٍ» ۱؎ [56-الواقعة:52] ، سے بھی ہوتی ہے۔ ’ ہم نے اسے ظالموں کے لیے فتنہ بنایا ہے ‘۔ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں شجرہ زقوم کا ذکر گمراہوں کے لیے فتنہ ہو گیا وہ کہنے لگے لو اور سنو آگ میں اور درخت؟ آگ تو درخت جلا دینے والی ہے۔ یہ نبی کہتے ہیں جہنم میں درخت اگے گا۔ تو اللہ نے فرمایا ہاں یہ درخت آگ ہی سے پیدا ہو گا اور اس کی غذا بھی آگ ہی ہو گی۔ ابوجہل ملعون اسی پر ہنسی اڑاتا تھا اور کہتا تھا میں تو خوب مزے سے کھجور مکھن کھاؤں گا اسی کا نام زقوم ہے۔
الغرض یہ بھی ایک امتحان ہے بھلے لوگ تو اس سے ڈر گئے اور بروں نے اس کا مذاق اڑایا۔ جیسے فرمان ہے «وَمَا جَعَلْنَا الرُّءْيَا الَّتِيْٓ اَرَيْنٰكَ اِلَّا فِتْنَةً لِّلنَّاسِ وَالشَّجَرَةَ الْمَلْعُوْنَةَ فِي الْقُرْاٰنِ ۭ وَنُخَوِّفُهُمْ ۙ فَمَا يَزِيْدُهُمْ اِلَّا طُغْيَانًا كَبِيْرًا» ۱؎ [17-الإسراء:60] ، ’ جو منظر ہم نے تجھے دکھایا تھا وہ صرف اس لیے ہے کہ لوگوں کی آزمائش ہو جائے اور اسی طرح اس نامبارک درخت کا ذکر بھی۔ ہم تو انہیں دھمکا رہے ہیں مگر یہ نافرمانی میں بڑھتے ہی جا رہے ہیں ‘۔ اس درخت کی اصل جڑ جہنم میں ہے۔ اس کے خوشے اور شاخیں بھیانک ڈراؤنی لمبی چوڑی دور دور شیطانوں کے سروں کی طرح پھیلی ہوئی ہیں۔ گو شیطان کو بھی کسی نے دیکھا نہیں لیکن اس کا نام سنتے ہی اس کی بد صورتی اور خباثت کا منظر سامنے آ جاتا ہے، یہی حال اس درخت کا ہے کہ دیکھنے اور چکھنے میں ظاہر اور باطن میں بری چیز ہے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ سانپوں کی ایک قسم ہے جو بدترین بھیانک اور خوفناک شکل کے ہوتے ہیں۔ اور ایک قول یہ بھی ہے کہ نبات کی ایک قسم ہے جو بہت بری طرح پھیل جاتی ہے۔ لیکن یہ دونوں احتمال درست نہیں ٹھیک بات وہی ہے جسے ہم نے پہلے ذکر کیا۔ اسی بد منظر بدبو بد ذائقہ بد مزہ بد خصال تھور کو انہیں جبراً کھانا پڑے گا۔ اور ٹھونس ٹھونس کر انہیں کھلایا جائے گا کہ یہ بجائے خود ایک زبردست عذاب ہے۔ اور آیت میں ہے «لَيْسَ لَهُمْ طَعَامٌ اِلَّا مِنْ ضَرِيْعٍ ۙلَّا يُسْمِنُ وَلَا يُغْنِي مِن جُوعٍ» ۱؎ [88-الغاشية:7،6] ، ’ ان کی خوراک وہاں صرف کانٹوں دار تھور ہو گا جو نہ انہیں فربہ کر سکے نہ بھوک مٹا سکے گا۔ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آیت «اتَّقُوا اللَّـهَ حَقَّ تُقَاتِهِ» ۱؎ [3-آل عمران:102] کی تلاوت کر کے فرمایا: { اگر زقوم کا ایک قطرہ دنیا کے سمندروں میں پڑ جائے توروئے زمین کے تمام لوگوں کی خوراکیں خراب ہو جائیں۔ اس کا کیا حال ہو گا جس کی خوراک ہی یہی ہو گا } } ۱؎ [سنن ترمذي:2584،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ۔
پھر اس زقوم کے کھانے کے ساتھ ہی انہیں اوپر سے جہنم کا کھولتا گرم پانی پلایا جائے گا۔ یا یہ مطلب کہ اس جہنمی درخت کو جہنمی پانی کے ساتھ ملا کر انہیں کھلایا پلایا جائے گا۔ اور یہ گرم پانی وہ ہو گا جو جہنمیوں کے زخموں سے لہو پیپ وغیرہ کی شکل میں نکلا ہو گا اور جو ان کی آنکھوں سے اور پوشیدہ راستوں سے نکلا ہوا ہو گا۔ حدیث میں ہے کہ { جب یہ پانی ان کے سامنے لایا جائے گا۔ انہیں سخت ایذاء ہو گی بڑی کراہیت آئے گی پھر جب وہ ان کے منہ کے پاس لایا جائے گا تو اس کی بھاپ سے اس کے چہرے کی کھال جھلس کر جھڑ جائے گی اور جب اس کا گھونٹ پیٹ میں جائے گا تو ان کی آنتیں کٹ کر پاخانے کے راستے سے باہر آ جائیں گی }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:52/21:]
حضرت سعید بن جیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”جب جہنمی بھوک کی شکایت کریں گے تو زقوم کھلایا جائے گا جس سے ان کے چہر کی کھالیں بالکل الگ ہو کر گر پڑیں گی۔ اس طرح انہیں پہچاننے والا اس میں ان کے منہ کی پوری کھال دیکھ کر پہچان سکتا ہے کہ یہ فلاں ہے۔ پھر پیاس کی شدت سے بیتاب ہو کر وہ ہائے وائے پکاریں گے تو انہیں پگھلے ہوئے تانبے جیسا گرم پانی دیا جائے گا جو چہرے کے سامنے آتے ہی چہرے کے گوشت کو جھلس دے گا اور تمام گوشت گر پڑے گا اور پیٹ میں جا کر آنتوں کو کاٹ دے گا۔ اوپر سے لوہے کے ہتھوڑے مارے جائیں گے اور ایک ایک عضو بدن الگ الگ جھڑ جائے گا، بری طرح چیختے پیٹتے ہوں گے۔ فیصلہ ہوتے ہی ان کا ٹھکانا جہنم ہو جائے گا جہاں طرح طرح کے عذاب ہوتے رہیں گے۔“ جیسے اور آیت میں ہے «يَطُوْفُوْنَ بَيْنَهَا وَبَيْنَ حَمِيْمٍ اٰنٍ» ۱؎ [55-الرحمن:44] ’ جہنم اور آگ جیسے گرم پانی کے درمیان چکر کھاتے رہیں گے ‘۔ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کی قرأت «ثُمَّ اِنَّ مَقِیْلَهُمْ لِإِلَى الْجَحِیْمِ» ہے۔ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کا فرمان ہے کہ ”واللہ آدھے دن سے پہلے ہی پہلے دونوں گروہ اپنی اپنی جگہ پہنچ جائیں گے اور وہیں قیلولہ یعنی دوپہر کا آرام کریں گے۔“ قرآن فرماتا ہے «اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ يَوْمَىِٕذٍ خَيْرٌ مُّسْتَــقَرًّا وَّاَحْسَنُ مَقِيْلًا» ۱؎ [25-الفرقان:24] ’ جنتی باعتبار جائے قیام کے بہت اچھے ہوں گے اور باعتبار آرام گاہ کے بھی بہت اچھے ہوں گے ‘۔
الغرض قیلولے کا وقت دونوں کا اپنی اپنی جگہ ہو گا آدھے دن سے پہلے پہلے اپنی اپنی جگہ پہنچ جائیں گے۔ اس بنا پر یہاں «ثم» کا لفظ خبر پر خبر کے عطف کے لیے ہو گا۔ یہ اس کا بدلہ ہے کہ ان لوگوں نے اپنے باپ دادوں کو گمراہ پایا۔ لیکن پھر بھی انہی کے نقش قدم پر چلتے رہے۔ مجبوروں اور بیوقوفوں کی طرح ان کے پیچھے ہولئے۔
63۔ 1 آزمائش اس لئے کہ اس کا پھل کھانا بجائے خود ایک بہت بڑی آزمائش ہے۔ بعض نے اسے اس اعتبار سے آزمائش کہا کہ اس کے وجود کا انہوں نے انکار کیا کہ جہنم میں جب ہر طرف آگ ہی آگ ہوگی تو وہاں درخت کس طرح موجود رہ سکتا ہے؟ یہاں ظالمین سے مراد اہل جہنم ہیں جن پر جہنم واجب ہوگی۔
(آیت 63) {اِنَّا جَعَلْنٰهَا فِتْنَةً لِّلظّٰلِمِيْنَ:} یہاں {”اَلظَّالِمِيْنَ“} سے مراد کفارو مشرکین ہیں اور ”زقوم“ انھی کے لیے آزمائش ہے۔ اس کی دلیل یہ ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان سنایا: «اِنَّ شَجَرَتَ الزَّقُّوْمِ (43) طَعَامُ الْاَثِيْمِ (44) كَالْمُهْلِ يَغْلِيْ فِي الْبُطُوْنِ (45) كَغَلْيِ الْحَمِيْمِ» [ الدخان: ۴۳ تا ۴۶ ] ”بے شک زقوم کا درخت گناہ گار کا کھانا ہے۔ پگھلے ہوئے تانبے کی طرح، پیٹوں میں کھولتا ہے۔ گرم پانی کے کھولنے کی طرح۔“ اور یہ فرمان: «ثُمَّ اِنَّكُمْ اَيُّهَا الضَّآلُّوْنَ الْمُكَذِّبُوْنَ (51) لَاٰكِلُوْنَ مِنْ شَجَرٍ مِّنْ زَقُّوْمٍ» [ الواقعۃ: ۵۱، ۵۲ ] ”پھر بے شک تم اے گمراہو! جھٹلانے والو! یقینا تھوہر کے پودے میں سے کھانے والے ہو۔“ تو ایمان والوں کو اسے ماننے میں کوئی الجھن نہیں ہوئی، کیونکہ انھیں یقین تھا کہ اللہ اور اس کا رسول جو فرماتے ہیں وہ حق ہے۔ وہ کفار ہی تھے جنھوں نے کہا، آگ میں درخت کیسے ہو سکتا ہے؟ مزید دیکھیے سورۂ بنی اسرائیل (۶۰)۔
بے شک وہ ایسا درخت ہے جو بھڑکتی ہوئی آگ کی تہ میں اگتا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
زقوم اور طوبی ٭٭
جنت کی نعمتوں کا بیان فرما کر فرماتا ہے کہ ’ اب لوگ خود فیصلہ کر لیں کہ وہ جگہ اور وہ نعمتیں بہتر ہیں؟ یا زقوم کا درخت جو دوزخیوں کا کھانا ہے ‘۔ ممکن ہے اس سے مراد خاص ایک ہی درخت ہو اور وہ تمام جہنم میں پھیلا ہوا ہو، جیسے طوبیٰ کا ایک درخت ہے جو جنت کے ایک ایک محل میں پہنچا ہوا ہے۔ اور ممکن ہے کہ مراد زقوم کے درخت کی جنس ہو اس کی تائید آیت «لَاٰكِلُوْنَ مِنْ شَجَرٍ مِّنْ زَقُّوْمٍ» ۱؎ [56-الواقعة:52] ، سے بھی ہوتی ہے۔ ’ ہم نے اسے ظالموں کے لیے فتنہ بنایا ہے ‘۔ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں شجرہ زقوم کا ذکر گمراہوں کے لیے فتنہ ہو گیا وہ کہنے لگے لو اور سنو آگ میں اور درخت؟ آگ تو درخت جلا دینے والی ہے۔ یہ نبی کہتے ہیں جہنم میں درخت اگے گا۔ تو اللہ نے فرمایا ہاں یہ درخت آگ ہی سے پیدا ہو گا اور اس کی غذا بھی آگ ہی ہو گی۔ ابوجہل ملعون اسی پر ہنسی اڑاتا تھا اور کہتا تھا میں تو خوب مزے سے کھجور مکھن کھاؤں گا اسی کا نام زقوم ہے۔
الغرض یہ بھی ایک امتحان ہے بھلے لوگ تو اس سے ڈر گئے اور بروں نے اس کا مذاق اڑایا۔ جیسے فرمان ہے «وَمَا جَعَلْنَا الرُّءْيَا الَّتِيْٓ اَرَيْنٰكَ اِلَّا فِتْنَةً لِّلنَّاسِ وَالشَّجَرَةَ الْمَلْعُوْنَةَ فِي الْقُرْاٰنِ ۭ وَنُخَوِّفُهُمْ ۙ فَمَا يَزِيْدُهُمْ اِلَّا طُغْيَانًا كَبِيْرًا» ۱؎ [17-الإسراء:60] ، ’ جو منظر ہم نے تجھے دکھایا تھا وہ صرف اس لیے ہے کہ لوگوں کی آزمائش ہو جائے اور اسی طرح اس نامبارک درخت کا ذکر بھی۔ ہم تو انہیں دھمکا رہے ہیں مگر یہ نافرمانی میں بڑھتے ہی جا رہے ہیں ‘۔ اس درخت کی اصل جڑ جہنم میں ہے۔ اس کے خوشے اور شاخیں بھیانک ڈراؤنی لمبی چوڑی دور دور شیطانوں کے سروں کی طرح پھیلی ہوئی ہیں۔ گو شیطان کو بھی کسی نے دیکھا نہیں لیکن اس کا نام سنتے ہی اس کی بد صورتی اور خباثت کا منظر سامنے آ جاتا ہے، یہی حال اس درخت کا ہے کہ دیکھنے اور چکھنے میں ظاہر اور باطن میں بری چیز ہے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ سانپوں کی ایک قسم ہے جو بدترین بھیانک اور خوفناک شکل کے ہوتے ہیں۔ اور ایک قول یہ بھی ہے کہ نبات کی ایک قسم ہے جو بہت بری طرح پھیل جاتی ہے۔ لیکن یہ دونوں احتمال درست نہیں ٹھیک بات وہی ہے جسے ہم نے پہلے ذکر کیا۔ اسی بد منظر بدبو بد ذائقہ بد مزہ بد خصال تھور کو انہیں جبراً کھانا پڑے گا۔ اور ٹھونس ٹھونس کر انہیں کھلایا جائے گا کہ یہ بجائے خود ایک زبردست عذاب ہے۔ اور آیت میں ہے «لَيْسَ لَهُمْ طَعَامٌ اِلَّا مِنْ ضَرِيْعٍ ۙلَّا يُسْمِنُ وَلَا يُغْنِي مِن جُوعٍ» ۱؎ [88-الغاشية:7،6] ، ’ ان کی خوراک وہاں صرف کانٹوں دار تھور ہو گا جو نہ انہیں فربہ کر سکے نہ بھوک مٹا سکے گا۔ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آیت «اتَّقُوا اللَّـهَ حَقَّ تُقَاتِهِ» ۱؎ [3-آل عمران:102] کی تلاوت کر کے فرمایا: { اگر زقوم کا ایک قطرہ دنیا کے سمندروں میں پڑ جائے توروئے زمین کے تمام لوگوں کی خوراکیں خراب ہو جائیں۔ اس کا کیا حال ہو گا جس کی خوراک ہی یہی ہو گا } } ۱؎ [سنن ترمذي:2584،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ۔
پھر اس زقوم کے کھانے کے ساتھ ہی انہیں اوپر سے جہنم کا کھولتا گرم پانی پلایا جائے گا۔ یا یہ مطلب کہ اس جہنمی درخت کو جہنمی پانی کے ساتھ ملا کر انہیں کھلایا پلایا جائے گا۔ اور یہ گرم پانی وہ ہو گا جو جہنمیوں کے زخموں سے لہو پیپ وغیرہ کی شکل میں نکلا ہو گا اور جو ان کی آنکھوں سے اور پوشیدہ راستوں سے نکلا ہوا ہو گا۔ حدیث میں ہے کہ { جب یہ پانی ان کے سامنے لایا جائے گا۔ انہیں سخت ایذاء ہو گی بڑی کراہیت آئے گی پھر جب وہ ان کے منہ کے پاس لایا جائے گا تو اس کی بھاپ سے اس کے چہرے کی کھال جھلس کر جھڑ جائے گی اور جب اس کا گھونٹ پیٹ میں جائے گا تو ان کی آنتیں کٹ کر پاخانے کے راستے سے باہر آ جائیں گی }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:52/21:]
حضرت سعید بن جیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”جب جہنمی بھوک کی شکایت کریں گے تو زقوم کھلایا جائے گا جس سے ان کے چہر کی کھالیں بالکل الگ ہو کر گر پڑیں گی۔ اس طرح انہیں پہچاننے والا اس میں ان کے منہ کی پوری کھال دیکھ کر پہچان سکتا ہے کہ یہ فلاں ہے۔ پھر پیاس کی شدت سے بیتاب ہو کر وہ ہائے وائے پکاریں گے تو انہیں پگھلے ہوئے تانبے جیسا گرم پانی دیا جائے گا جو چہرے کے سامنے آتے ہی چہرے کے گوشت کو جھلس دے گا اور تمام گوشت گر پڑے گا اور پیٹ میں جا کر آنتوں کو کاٹ دے گا۔ اوپر سے لوہے کے ہتھوڑے مارے جائیں گے اور ایک ایک عضو بدن الگ الگ جھڑ جائے گا، بری طرح چیختے پیٹتے ہوں گے۔ فیصلہ ہوتے ہی ان کا ٹھکانا جہنم ہو جائے گا جہاں طرح طرح کے عذاب ہوتے رہیں گے۔“ جیسے اور آیت میں ہے «يَطُوْفُوْنَ بَيْنَهَا وَبَيْنَ حَمِيْمٍ اٰنٍ» ۱؎ [55-الرحمن:44] ’ جہنم اور آگ جیسے گرم پانی کے درمیان چکر کھاتے رہیں گے ‘۔ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کی قرأت «ثُمَّ اِنَّ مَقِیْلَهُمْ لِإِلَى الْجَحِیْمِ» ہے۔ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کا فرمان ہے کہ ”واللہ آدھے دن سے پہلے ہی پہلے دونوں گروہ اپنی اپنی جگہ پہنچ جائیں گے اور وہیں قیلولہ یعنی دوپہر کا آرام کریں گے۔“ قرآن فرماتا ہے «اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ يَوْمَىِٕذٍ خَيْرٌ مُّسْتَــقَرًّا وَّاَحْسَنُ مَقِيْلًا» ۱؎ [25-الفرقان:24] ’ جنتی باعتبار جائے قیام کے بہت اچھے ہوں گے اور باعتبار آرام گاہ کے بھی بہت اچھے ہوں گے ‘۔
الغرض قیلولے کا وقت دونوں کا اپنی اپنی جگہ ہو گا آدھے دن سے پہلے پہلے اپنی اپنی جگہ پہنچ جائیں گے۔ اس بنا پر یہاں «ثم» کا لفظ خبر پر خبر کے عطف کے لیے ہو گا۔ یہ اس کا بدلہ ہے کہ ان لوگوں نے اپنے باپ دادوں کو گمراہ پایا۔ لیکن پھر بھی انہی کے نقش قدم پر چلتے رہے۔ مجبوروں اور بیوقوفوں کی طرح ان کے پیچھے ہولئے۔
64۔ 1 یعنی اس کی جڑ جہنم کی گہرائی میں ہوگی البتہ اس کی شاخیں ہر طرف پھیلی ہوں گی۔
(آیت 64){ اِنَّهَا شَجَرَةٌ تَخْرُجُ فِيْۤ اَصْلِ الْجَحِيْمِ:} یعنی زقوم ایسا درخت ہے جو جہنم کی تہ میں اگتا ہے اور آگ کی حرارت سے اس کا کچھ نہیں بگڑتا، جیسے پانی جن پودوں پر چڑھ جائے وہ مرجاتے ہیں، مگر سمندر کی تہ میں بے شمار درخت اور پودے اگتے ہیں۔
جنت کی نعمتوں کا بیان فرما کر فرماتا ہے کہ ’ اب لوگ خود فیصلہ کر لیں کہ وہ جگہ اور وہ نعمتیں بہتر ہیں؟ یا زقوم کا درخت جو دوزخیوں کا کھانا ہے ‘۔ ممکن ہے اس سے مراد خاص ایک ہی درخت ہو اور وہ تمام جہنم میں پھیلا ہوا ہو، جیسے طوبیٰ کا ایک درخت ہے جو جنت کے ایک ایک محل میں پہنچا ہوا ہے۔ اور ممکن ہے کہ مراد زقوم کے درخت کی جنس ہو اس کی تائید آیت «لَاٰكِلُوْنَ مِنْ شَجَرٍ مِّنْ زَقُّوْمٍ» ۱؎ [56-الواقعة:52] ، سے بھی ہوتی ہے۔ ’ ہم نے اسے ظالموں کے لیے فتنہ بنایا ہے ‘۔ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں شجرہ زقوم کا ذکر گمراہوں کے لیے فتنہ ہو گیا وہ کہنے لگے لو اور سنو آگ میں اور درخت؟ آگ تو درخت جلا دینے والی ہے۔ یہ نبی کہتے ہیں جہنم میں درخت اگے گا۔ تو اللہ نے فرمایا ہاں یہ درخت آگ ہی سے پیدا ہو گا اور اس کی غذا بھی آگ ہی ہو گی۔ ابوجہل ملعون اسی پر ہنسی اڑاتا تھا اور کہتا تھا میں تو خوب مزے سے کھجور مکھن کھاؤں گا اسی کا نام زقوم ہے۔
الغرض یہ بھی ایک امتحان ہے بھلے لوگ تو اس سے ڈر گئے اور بروں نے اس کا مذاق اڑایا۔ جیسے فرمان ہے «وَمَا جَعَلْنَا الرُّءْيَا الَّتِيْٓ اَرَيْنٰكَ اِلَّا فِتْنَةً لِّلنَّاسِ وَالشَّجَرَةَ الْمَلْعُوْنَةَ فِي الْقُرْاٰنِ ۭ وَنُخَوِّفُهُمْ ۙ فَمَا يَزِيْدُهُمْ اِلَّا طُغْيَانًا كَبِيْرًا» ۱؎ [17-الإسراء:60] ، ’ جو منظر ہم نے تجھے دکھایا تھا وہ صرف اس لیے ہے کہ لوگوں کی آزمائش ہو جائے اور اسی طرح اس نامبارک درخت کا ذکر بھی۔ ہم تو انہیں دھمکا رہے ہیں مگر یہ نافرمانی میں بڑھتے ہی جا رہے ہیں ‘۔ اس درخت کی اصل جڑ جہنم میں ہے۔ اس کے خوشے اور شاخیں بھیانک ڈراؤنی لمبی چوڑی دور دور شیطانوں کے سروں کی طرح پھیلی ہوئی ہیں۔ گو شیطان کو بھی کسی نے دیکھا نہیں لیکن اس کا نام سنتے ہی اس کی بد صورتی اور خباثت کا منظر سامنے آ جاتا ہے، یہی حال اس درخت کا ہے کہ دیکھنے اور چکھنے میں ظاہر اور باطن میں بری چیز ہے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ سانپوں کی ایک قسم ہے جو بدترین بھیانک اور خوفناک شکل کے ہوتے ہیں۔ اور ایک قول یہ بھی ہے کہ نبات کی ایک قسم ہے جو بہت بری طرح پھیل جاتی ہے۔ لیکن یہ دونوں احتمال درست نہیں ٹھیک بات وہی ہے جسے ہم نے پہلے ذکر کیا۔ اسی بد منظر بدبو بد ذائقہ بد مزہ بد خصال تھور کو انہیں جبراً کھانا پڑے گا۔ اور ٹھونس ٹھونس کر انہیں کھلایا جائے گا کہ یہ بجائے خود ایک زبردست عذاب ہے۔ اور آیت میں ہے «لَيْسَ لَهُمْ طَعَامٌ اِلَّا مِنْ ضَرِيْعٍ ۙلَّا يُسْمِنُ وَلَا يُغْنِي مِن جُوعٍ» ۱؎ [88-الغاشية:7،6] ، ’ ان کی خوراک وہاں صرف کانٹوں دار تھور ہو گا جو نہ انہیں فربہ کر سکے نہ بھوک مٹا سکے گا۔ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آیت «اتَّقُوا اللَّـهَ حَقَّ تُقَاتِهِ» ۱؎ [3-آل عمران:102] کی تلاوت کر کے فرمایا: { اگر زقوم کا ایک قطرہ دنیا کے سمندروں میں پڑ جائے توروئے زمین کے تمام لوگوں کی خوراکیں خراب ہو جائیں۔ اس کا کیا حال ہو گا جس کی خوراک ہی یہی ہو گا } } ۱؎ [سنن ترمذي:2584،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ۔
پھر اس زقوم کے کھانے کے ساتھ ہی انہیں اوپر سے جہنم کا کھولتا گرم پانی پلایا جائے گا۔ یا یہ مطلب کہ اس جہنمی درخت کو جہنمی پانی کے ساتھ ملا کر انہیں کھلایا پلایا جائے گا۔ اور یہ گرم پانی وہ ہو گا جو جہنمیوں کے زخموں سے لہو پیپ وغیرہ کی شکل میں نکلا ہو گا اور جو ان کی آنکھوں سے اور پوشیدہ راستوں سے نکلا ہوا ہو گا۔ حدیث میں ہے کہ { جب یہ پانی ان کے سامنے لایا جائے گا۔ انہیں سخت ایذاء ہو گی بڑی کراہیت آئے گی پھر جب وہ ان کے منہ کے پاس لایا جائے گا تو اس کی بھاپ سے اس کے چہرے کی کھال جھلس کر جھڑ جائے گی اور جب اس کا گھونٹ پیٹ میں جائے گا تو ان کی آنتیں کٹ کر پاخانے کے راستے سے باہر آ جائیں گی }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:52/21:]
حضرت سعید بن جیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”جب جہنمی بھوک کی شکایت کریں گے تو زقوم کھلایا جائے گا جس سے ان کے چہر کی کھالیں بالکل الگ ہو کر گر پڑیں گی۔ اس طرح انہیں پہچاننے والا اس میں ان کے منہ کی پوری کھال دیکھ کر پہچان سکتا ہے کہ یہ فلاں ہے۔ پھر پیاس کی شدت سے بیتاب ہو کر وہ ہائے وائے پکاریں گے تو انہیں پگھلے ہوئے تانبے جیسا گرم پانی دیا جائے گا جو چہرے کے سامنے آتے ہی چہرے کے گوشت کو جھلس دے گا اور تمام گوشت گر پڑے گا اور پیٹ میں جا کر آنتوں کو کاٹ دے گا۔ اوپر سے لوہے کے ہتھوڑے مارے جائیں گے اور ایک ایک عضو بدن الگ الگ جھڑ جائے گا، بری طرح چیختے پیٹتے ہوں گے۔ فیصلہ ہوتے ہی ان کا ٹھکانا جہنم ہو جائے گا جہاں طرح طرح کے عذاب ہوتے رہیں گے۔“ جیسے اور آیت میں ہے «يَطُوْفُوْنَ بَيْنَهَا وَبَيْنَ حَمِيْمٍ اٰنٍ» ۱؎ [55-الرحمن:44] ’ جہنم اور آگ جیسے گرم پانی کے درمیان چکر کھاتے رہیں گے ‘۔ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کی قرأت «ثُمَّ اِنَّ مَقِیْلَهُمْ لِإِلَى الْجَحِیْمِ» ہے۔ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کا فرمان ہے کہ ”واللہ آدھے دن سے پہلے ہی پہلے دونوں گروہ اپنی اپنی جگہ پہنچ جائیں گے اور وہیں قیلولہ یعنی دوپہر کا آرام کریں گے۔“ قرآن فرماتا ہے «اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ يَوْمَىِٕذٍ خَيْرٌ مُّسْتَــقَرًّا وَّاَحْسَنُ مَقِيْلًا» ۱؎ [25-الفرقان:24] ’ جنتی باعتبار جائے قیام کے بہت اچھے ہوں گے اور باعتبار آرام گاہ کے بھی بہت اچھے ہوں گے ‘۔
الغرض قیلولے کا وقت دونوں کا اپنی اپنی جگہ ہو گا آدھے دن سے پہلے پہلے اپنی اپنی جگہ پہنچ جائیں گے۔ اس بنا پر یہاں «ثم» کا لفظ خبر پر خبر کے عطف کے لیے ہو گا۔ یہ اس کا بدلہ ہے کہ ان لوگوں نے اپنے باپ دادوں کو گمراہ پایا۔ لیکن پھر بھی انہی کے نقش قدم پر چلتے رہے۔ مجبوروں اور بیوقوفوں کی طرح ان کے پیچھے ہولئے۔
65۔ 1 اسے قباحت میں شیطانوں کے سروں سے تشبیہ دی، جس طرح اچھی چیز کے بارے میں کہتے ہیں گویا کہ وہ فرشتہ ہے۔
(آیت 65) {طَلْعُهَا كَاَنَّهٗ رُءُوْسُ الشَّيٰطِيْنِ:} قاموس میں ہے {”طَلْعٌ“} دو ملے ہوئے جوتوں جیسی چیز ہے (جو کھجور کے درخت کے سرے پر نکلتی ہے) جس کے درمیان تہ بہ تہ پھل ہوتا ہے۔ {” رُءُوْسُ الشَّيٰطِيْنِ “} میں شیاطین سے مراد اگر ابلیس کی اولاد ہو تو وہ کسی نے نہیں دیکھی، نہ ان کے سر دیکھے ہیں، مگر یہ تشبیہ اس لیے دی گئی ہے کہ تمام دماغوں میں شیطان کا تصور سب سے بری اور مکروہ شخصیت کا ہے، جو ہر قسم کی خیر سے خالی ہے، جیسا کہ کسی بدصورت عورت یا مرد کو بدصورتی میں تشبیہ دینی ہو تو اسے بھوتنی یا بھوت کہا جاتا ہے، حالانکہ بھوت کسی نے نہیں دیکھا۔ بعض مفسرین نے فرمایا کہ سانپوں کی ایک قسم کو بھی شیاطین کہتے ہیں، ان کے سروں سے مراد ان کے ”پھن“ ہیں۔
جہنم کے لوگ اُسے کھائیں گے اور اسی سے پیٹ بھریں گے
مولانا محمد جوناگڑھی
(جہنمی) اسی درخت سے کھائیں گے اور اسی سے پیٹ بھریں گے
احمد رضا خان بریلوی
پھر بیشک وہ اس میں سے کھائیں گے پھر اس سے پیٹ بھریں گے،
علامہ محمد حسین نجفی
جہنمی لوگ اسے کھائیں گے اور اسی سے پیٹ بھریں گے۔
عبدالسلام بن محمد
پس بے شک وہ یقینا اس میں سے کھانے والے ہیں، پھر اس سے پیٹ بھرنے والے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
زقوم اور طوبی ٭٭
جنت کی نعمتوں کا بیان فرما کر فرماتا ہے کہ ’ اب لوگ خود فیصلہ کر لیں کہ وہ جگہ اور وہ نعمتیں بہتر ہیں؟ یا زقوم کا درخت جو دوزخیوں کا کھانا ہے ‘۔ ممکن ہے اس سے مراد خاص ایک ہی درخت ہو اور وہ تمام جہنم میں پھیلا ہوا ہو، جیسے طوبیٰ کا ایک درخت ہے جو جنت کے ایک ایک محل میں پہنچا ہوا ہے۔ اور ممکن ہے کہ مراد زقوم کے درخت کی جنس ہو اس کی تائید آیت «لَاٰكِلُوْنَ مِنْ شَجَرٍ مِّنْ زَقُّوْمٍ» ۱؎ [56-الواقعة:52] ، سے بھی ہوتی ہے۔ ’ ہم نے اسے ظالموں کے لیے فتنہ بنایا ہے ‘۔ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں شجرہ زقوم کا ذکر گمراہوں کے لیے فتنہ ہو گیا وہ کہنے لگے لو اور سنو آگ میں اور درخت؟ آگ تو درخت جلا دینے والی ہے۔ یہ نبی کہتے ہیں جہنم میں درخت اگے گا۔ تو اللہ نے فرمایا ہاں یہ درخت آگ ہی سے پیدا ہو گا اور اس کی غذا بھی آگ ہی ہو گی۔ ابوجہل ملعون اسی پر ہنسی اڑاتا تھا اور کہتا تھا میں تو خوب مزے سے کھجور مکھن کھاؤں گا اسی کا نام زقوم ہے۔
الغرض یہ بھی ایک امتحان ہے بھلے لوگ تو اس سے ڈر گئے اور بروں نے اس کا مذاق اڑایا۔ جیسے فرمان ہے «وَمَا جَعَلْنَا الرُّءْيَا الَّتِيْٓ اَرَيْنٰكَ اِلَّا فِتْنَةً لِّلنَّاسِ وَالشَّجَرَةَ الْمَلْعُوْنَةَ فِي الْقُرْاٰنِ ۭ وَنُخَوِّفُهُمْ ۙ فَمَا يَزِيْدُهُمْ اِلَّا طُغْيَانًا كَبِيْرًا» ۱؎ [17-الإسراء:60] ، ’ جو منظر ہم نے تجھے دکھایا تھا وہ صرف اس لیے ہے کہ لوگوں کی آزمائش ہو جائے اور اسی طرح اس نامبارک درخت کا ذکر بھی۔ ہم تو انہیں دھمکا رہے ہیں مگر یہ نافرمانی میں بڑھتے ہی جا رہے ہیں ‘۔ اس درخت کی اصل جڑ جہنم میں ہے۔ اس کے خوشے اور شاخیں بھیانک ڈراؤنی لمبی چوڑی دور دور شیطانوں کے سروں کی طرح پھیلی ہوئی ہیں۔ گو شیطان کو بھی کسی نے دیکھا نہیں لیکن اس کا نام سنتے ہی اس کی بد صورتی اور خباثت کا منظر سامنے آ جاتا ہے، یہی حال اس درخت کا ہے کہ دیکھنے اور چکھنے میں ظاہر اور باطن میں بری چیز ہے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ سانپوں کی ایک قسم ہے جو بدترین بھیانک اور خوفناک شکل کے ہوتے ہیں۔ اور ایک قول یہ بھی ہے کہ نبات کی ایک قسم ہے جو بہت بری طرح پھیل جاتی ہے۔ لیکن یہ دونوں احتمال درست نہیں ٹھیک بات وہی ہے جسے ہم نے پہلے ذکر کیا۔ اسی بد منظر بدبو بد ذائقہ بد مزہ بد خصال تھور کو انہیں جبراً کھانا پڑے گا۔ اور ٹھونس ٹھونس کر انہیں کھلایا جائے گا کہ یہ بجائے خود ایک زبردست عذاب ہے۔ اور آیت میں ہے «لَيْسَ لَهُمْ طَعَامٌ اِلَّا مِنْ ضَرِيْعٍ ۙلَّا يُسْمِنُ وَلَا يُغْنِي مِن جُوعٍ» ۱؎ [88-الغاشية:7،6] ، ’ ان کی خوراک وہاں صرف کانٹوں دار تھور ہو گا جو نہ انہیں فربہ کر سکے نہ بھوک مٹا سکے گا۔ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آیت «اتَّقُوا اللَّـهَ حَقَّ تُقَاتِهِ» ۱؎ [3-آل عمران:102] کی تلاوت کر کے فرمایا: { اگر زقوم کا ایک قطرہ دنیا کے سمندروں میں پڑ جائے توروئے زمین کے تمام لوگوں کی خوراکیں خراب ہو جائیں۔ اس کا کیا حال ہو گا جس کی خوراک ہی یہی ہو گا } } ۱؎ [سنن ترمذي:2584،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ۔
پھر اس زقوم کے کھانے کے ساتھ ہی انہیں اوپر سے جہنم کا کھولتا گرم پانی پلایا جائے گا۔ یا یہ مطلب کہ اس جہنمی درخت کو جہنمی پانی کے ساتھ ملا کر انہیں کھلایا پلایا جائے گا۔ اور یہ گرم پانی وہ ہو گا جو جہنمیوں کے زخموں سے لہو پیپ وغیرہ کی شکل میں نکلا ہو گا اور جو ان کی آنکھوں سے اور پوشیدہ راستوں سے نکلا ہوا ہو گا۔ حدیث میں ہے کہ { جب یہ پانی ان کے سامنے لایا جائے گا۔ انہیں سخت ایذاء ہو گی بڑی کراہیت آئے گی پھر جب وہ ان کے منہ کے پاس لایا جائے گا تو اس کی بھاپ سے اس کے چہرے کی کھال جھلس کر جھڑ جائے گی اور جب اس کا گھونٹ پیٹ میں جائے گا تو ان کی آنتیں کٹ کر پاخانے کے راستے سے باہر آ جائیں گی }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:52/21:]
حضرت سعید بن جیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”جب جہنمی بھوک کی شکایت کریں گے تو زقوم کھلایا جائے گا جس سے ان کے چہر کی کھالیں بالکل الگ ہو کر گر پڑیں گی۔ اس طرح انہیں پہچاننے والا اس میں ان کے منہ کی پوری کھال دیکھ کر پہچان سکتا ہے کہ یہ فلاں ہے۔ پھر پیاس کی شدت سے بیتاب ہو کر وہ ہائے وائے پکاریں گے تو انہیں پگھلے ہوئے تانبے جیسا گرم پانی دیا جائے گا جو چہرے کے سامنے آتے ہی چہرے کے گوشت کو جھلس دے گا اور تمام گوشت گر پڑے گا اور پیٹ میں جا کر آنتوں کو کاٹ دے گا۔ اوپر سے لوہے کے ہتھوڑے مارے جائیں گے اور ایک ایک عضو بدن الگ الگ جھڑ جائے گا، بری طرح چیختے پیٹتے ہوں گے۔ فیصلہ ہوتے ہی ان کا ٹھکانا جہنم ہو جائے گا جہاں طرح طرح کے عذاب ہوتے رہیں گے۔“ جیسے اور آیت میں ہے «يَطُوْفُوْنَ بَيْنَهَا وَبَيْنَ حَمِيْمٍ اٰنٍ» ۱؎ [55-الرحمن:44] ’ جہنم اور آگ جیسے گرم پانی کے درمیان چکر کھاتے رہیں گے ‘۔ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کی قرأت «ثُمَّ اِنَّ مَقِیْلَهُمْ لِإِلَى الْجَحِیْمِ» ہے۔ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کا فرمان ہے کہ ”واللہ آدھے دن سے پہلے ہی پہلے دونوں گروہ اپنی اپنی جگہ پہنچ جائیں گے اور وہیں قیلولہ یعنی دوپہر کا آرام کریں گے۔“ قرآن فرماتا ہے «اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ يَوْمَىِٕذٍ خَيْرٌ مُّسْتَــقَرًّا وَّاَحْسَنُ مَقِيْلًا» ۱؎ [25-الفرقان:24] ’ جنتی باعتبار جائے قیام کے بہت اچھے ہوں گے اور باعتبار آرام گاہ کے بھی بہت اچھے ہوں گے ‘۔
الغرض قیلولے کا وقت دونوں کا اپنی اپنی جگہ ہو گا آدھے دن سے پہلے پہلے اپنی اپنی جگہ پہنچ جائیں گے۔ اس بنا پر یہاں «ثم» کا لفظ خبر پر خبر کے عطف کے لیے ہو گا۔ یہ اس کا بدلہ ہے کہ ان لوگوں نے اپنے باپ دادوں کو گمراہ پایا۔ لیکن پھر بھی انہی کے نقش قدم پر چلتے رہے۔ مجبوروں اور بیوقوفوں کی طرح ان کے پیچھے ہولئے۔
66۔ 1 یہ انہیں نہایت کراہت سے کھانا پڑے گا جس سے ظاہر بات ہے پیٹ بوجھل ہی ہونگے۔
(آیت 66) {فَاِنَّهُمْ لَاٰكِلُوْنَ مِنْهَا …:} یعنی جہنمیوں پر ایسی خوف ناک بھوک مسلط ہو گی کہ زقوم کے نہایت تلخ ہونے اور گلے میں اٹکنے کے باوجود اسے چارو ناچار کھائیں گے۔ دیکھیے سورۂ مزمل (۱۲، ۱۳) اور غاشیہ (۶، ۷) اور پیٹ بھر کر کھائیں گے۔
پھر بیشک ان کے لیے اس پر کھولتے پانی کی ملونی (ملاوٹ) ہے
علامہ محمد حسین نجفی
(پھر زقوم کھانے کے بعد) انہیں (پینے کیلئے) کھولتا ہوا پانی ملا کر دیا جائے گا۔
عبدالسلام بن محمد
پھر بلا شبہ ان کے لیے اس پریقینا سخت گرم پانی کی آمیزش ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
زقوم اور طوبی ٭٭
جنت کی نعمتوں کا بیان فرما کر فرماتا ہے کہ ’ اب لوگ خود فیصلہ کر لیں کہ وہ جگہ اور وہ نعمتیں بہتر ہیں؟ یا زقوم کا درخت جو دوزخیوں کا کھانا ہے ‘۔ ممکن ہے اس سے مراد خاص ایک ہی درخت ہو اور وہ تمام جہنم میں پھیلا ہوا ہو، جیسے طوبیٰ کا ایک درخت ہے جو جنت کے ایک ایک محل میں پہنچا ہوا ہے۔ اور ممکن ہے کہ مراد زقوم کے درخت کی جنس ہو اس کی تائید آیت «لَاٰكِلُوْنَ مِنْ شَجَرٍ مِّنْ زَقُّوْمٍ» ۱؎ [56-الواقعة:52] ، سے بھی ہوتی ہے۔ ’ ہم نے اسے ظالموں کے لیے فتنہ بنایا ہے ‘۔ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں شجرہ زقوم کا ذکر گمراہوں کے لیے فتنہ ہو گیا وہ کہنے لگے لو اور سنو آگ میں اور درخت؟ آگ تو درخت جلا دینے والی ہے۔ یہ نبی کہتے ہیں جہنم میں درخت اگے گا۔ تو اللہ نے فرمایا ہاں یہ درخت آگ ہی سے پیدا ہو گا اور اس کی غذا بھی آگ ہی ہو گی۔ ابوجہل ملعون اسی پر ہنسی اڑاتا تھا اور کہتا تھا میں تو خوب مزے سے کھجور مکھن کھاؤں گا اسی کا نام زقوم ہے۔
الغرض یہ بھی ایک امتحان ہے بھلے لوگ تو اس سے ڈر گئے اور بروں نے اس کا مذاق اڑایا۔ جیسے فرمان ہے «وَمَا جَعَلْنَا الرُّءْيَا الَّتِيْٓ اَرَيْنٰكَ اِلَّا فِتْنَةً لِّلنَّاسِ وَالشَّجَرَةَ الْمَلْعُوْنَةَ فِي الْقُرْاٰنِ ۭ وَنُخَوِّفُهُمْ ۙ فَمَا يَزِيْدُهُمْ اِلَّا طُغْيَانًا كَبِيْرًا» ۱؎ [17-الإسراء:60] ، ’ جو منظر ہم نے تجھے دکھایا تھا وہ صرف اس لیے ہے کہ لوگوں کی آزمائش ہو جائے اور اسی طرح اس نامبارک درخت کا ذکر بھی۔ ہم تو انہیں دھمکا رہے ہیں مگر یہ نافرمانی میں بڑھتے ہی جا رہے ہیں ‘۔ اس درخت کی اصل جڑ جہنم میں ہے۔ اس کے خوشے اور شاخیں بھیانک ڈراؤنی لمبی چوڑی دور دور شیطانوں کے سروں کی طرح پھیلی ہوئی ہیں۔ گو شیطان کو بھی کسی نے دیکھا نہیں لیکن اس کا نام سنتے ہی اس کی بد صورتی اور خباثت کا منظر سامنے آ جاتا ہے، یہی حال اس درخت کا ہے کہ دیکھنے اور چکھنے میں ظاہر اور باطن میں بری چیز ہے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ سانپوں کی ایک قسم ہے جو بدترین بھیانک اور خوفناک شکل کے ہوتے ہیں۔ اور ایک قول یہ بھی ہے کہ نبات کی ایک قسم ہے جو بہت بری طرح پھیل جاتی ہے۔ لیکن یہ دونوں احتمال درست نہیں ٹھیک بات وہی ہے جسے ہم نے پہلے ذکر کیا۔ اسی بد منظر بدبو بد ذائقہ بد مزہ بد خصال تھور کو انہیں جبراً کھانا پڑے گا۔ اور ٹھونس ٹھونس کر انہیں کھلایا جائے گا کہ یہ بجائے خود ایک زبردست عذاب ہے۔ اور آیت میں ہے «لَيْسَ لَهُمْ طَعَامٌ اِلَّا مِنْ ضَرِيْعٍ ۙلَّا يُسْمِنُ وَلَا يُغْنِي مِن جُوعٍ» ۱؎ [88-الغاشية:7،6] ، ’ ان کی خوراک وہاں صرف کانٹوں دار تھور ہو گا جو نہ انہیں فربہ کر سکے نہ بھوک مٹا سکے گا۔ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آیت «اتَّقُوا اللَّـهَ حَقَّ تُقَاتِهِ» ۱؎ [3-آل عمران:102] کی تلاوت کر کے فرمایا: { اگر زقوم کا ایک قطرہ دنیا کے سمندروں میں پڑ جائے توروئے زمین کے تمام لوگوں کی خوراکیں خراب ہو جائیں۔ اس کا کیا حال ہو گا جس کی خوراک ہی یہی ہو گا } } ۱؎ [سنن ترمذي:2584،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ۔
پھر اس زقوم کے کھانے کے ساتھ ہی انہیں اوپر سے جہنم کا کھولتا گرم پانی پلایا جائے گا۔ یا یہ مطلب کہ اس جہنمی درخت کو جہنمی پانی کے ساتھ ملا کر انہیں کھلایا پلایا جائے گا۔ اور یہ گرم پانی وہ ہو گا جو جہنمیوں کے زخموں سے لہو پیپ وغیرہ کی شکل میں نکلا ہو گا اور جو ان کی آنکھوں سے اور پوشیدہ راستوں سے نکلا ہوا ہو گا۔ حدیث میں ہے کہ { جب یہ پانی ان کے سامنے لایا جائے گا۔ انہیں سخت ایذاء ہو گی بڑی کراہیت آئے گی پھر جب وہ ان کے منہ کے پاس لایا جائے گا تو اس کی بھاپ سے اس کے چہرے کی کھال جھلس کر جھڑ جائے گی اور جب اس کا گھونٹ پیٹ میں جائے گا تو ان کی آنتیں کٹ کر پاخانے کے راستے سے باہر آ جائیں گی }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:52/21:]
حضرت سعید بن جیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”جب جہنمی بھوک کی شکایت کریں گے تو زقوم کھلایا جائے گا جس سے ان کے چہر کی کھالیں بالکل الگ ہو کر گر پڑیں گی۔ اس طرح انہیں پہچاننے والا اس میں ان کے منہ کی پوری کھال دیکھ کر پہچان سکتا ہے کہ یہ فلاں ہے۔ پھر پیاس کی شدت سے بیتاب ہو کر وہ ہائے وائے پکاریں گے تو انہیں پگھلے ہوئے تانبے جیسا گرم پانی دیا جائے گا جو چہرے کے سامنے آتے ہی چہرے کے گوشت کو جھلس دے گا اور تمام گوشت گر پڑے گا اور پیٹ میں جا کر آنتوں کو کاٹ دے گا۔ اوپر سے لوہے کے ہتھوڑے مارے جائیں گے اور ایک ایک عضو بدن الگ الگ جھڑ جائے گا، بری طرح چیختے پیٹتے ہوں گے۔ فیصلہ ہوتے ہی ان کا ٹھکانا جہنم ہو جائے گا جہاں طرح طرح کے عذاب ہوتے رہیں گے۔“ جیسے اور آیت میں ہے «يَطُوْفُوْنَ بَيْنَهَا وَبَيْنَ حَمِيْمٍ اٰنٍ» ۱؎ [55-الرحمن:44] ’ جہنم اور آگ جیسے گرم پانی کے درمیان چکر کھاتے رہیں گے ‘۔ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کی قرأت «ثُمَّ اِنَّ مَقِیْلَهُمْ لِإِلَى الْجَحِیْمِ» ہے۔ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کا فرمان ہے کہ ”واللہ آدھے دن سے پہلے ہی پہلے دونوں گروہ اپنی اپنی جگہ پہنچ جائیں گے اور وہیں قیلولہ یعنی دوپہر کا آرام کریں گے۔“ قرآن فرماتا ہے «اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ يَوْمَىِٕذٍ خَيْرٌ مُّسْتَــقَرًّا وَّاَحْسَنُ مَقِيْلًا» ۱؎ [25-الفرقان:24] ’ جنتی باعتبار جائے قیام کے بہت اچھے ہوں گے اور باعتبار آرام گاہ کے بھی بہت اچھے ہوں گے ‘۔
الغرض قیلولے کا وقت دونوں کا اپنی اپنی جگہ ہو گا آدھے دن سے پہلے پہلے اپنی اپنی جگہ پہنچ جائیں گے۔ اس بنا پر یہاں «ثم» کا لفظ خبر پر خبر کے عطف کے لیے ہو گا۔ یہ اس کا بدلہ ہے کہ ان لوگوں نے اپنے باپ دادوں کو گمراہ پایا۔ لیکن پھر بھی انہی کے نقش قدم پر چلتے رہے۔ مجبوروں اور بیوقوفوں کی طرح ان کے پیچھے ہولئے۔
67۔ 1 یعنی کھانے کے بعد انہیں پانی کی طلب ہوگی تو کھولتا ہوا پانی انہیں دیا جائے گا، جس کے پینے سے ان کی انتڑیاں کٹ جائیں گی (مَثَلُ الْجَنَّةِ الَّتِيْ وُعِدَ الْمُتَّقُوْنَ ۭ فِيْهَآ اَنْهٰرٌ مِّنْ مَّاۗءٍ غَيْرِ اٰسِنٍ ۚ وَاَنْهٰرٌ مِّنْ لَّبَنٍ لَّمْ يَتَغَيَّرْ طَعْمُهٗ ۚ وَاَنْهٰرٌ مِّنْ خَمْرٍ لَّذَّةٍ لِّلشّٰرِبِيْنَ ڬ وَاَنْهٰرٌ مِّنْ عَسَلٍ مُّصَفًّى ۭ وَلَهُمْ فِيْهَا مِنْ كُلِّ الثَّمَرٰتِ وَمَغْفِرَةٌ مِّنْ رَّبِّهِمْ ۭ كَمَنْ هُوَ خَالِدٌ فِي النَّارِ وَسُقُوْا مَاۗءً حَمِيْمًا فَقَطَّعَ اَمْعَاۗءَهُمْ) 47۔ محمد:15)
(آیت 67) {ثُمَّ اِنَّ لَهُمْ عَلَيْهَا لَشَوْبًا مِّنْ حَمِيْمٍ: ”شَابَ يَشُوْبُ شَوْبًا“} (ن) ملانا۔ {” حَمِيْمٍ “} انتہائی گرم پانی، یعنی زقوم کھانے کے بعد انھیں ایسی ہولناک پیاس لگے گی جس کی وجہ سے وہ مجبوراً انتہائی گرم پانی پییں گے، جو ایسا سخت گرم ہو گا کہ ان کی انتڑیاں ٹکڑے ٹکڑے کر دے گا، فرمایا: «وَ سُقُوْا مَآءً حَمِيْمًا فَقَطَّعَ اَمْعَآءَهُمْ» [ محمد: ۱۵ ] ”اور انھیں کھولتا ہوا پانی پلایا جائے گا تو وہ ان کی انتڑیاں ٹکڑے ٹکڑے کر دے گا۔“ یہی مضمون سورۂ واقعہ (۵۱ تا ۵۵) میں بھی بیان ہوا ہے۔
اور اس کے بعد ان کی واپسی اُسی آتش دوزخ کی طرف ہو گی
مولانا محمد جوناگڑھی
پھر ان سب کا لوٹنا جہنم کی (آگ کے ڈھیرکی) طرف ہوگا
احمد رضا خان بریلوی
پھر ان کی بازگشت ضرور بھڑکتی آگ کی طرف ہے
علامہ محمد حسین نجفی
پھر ان کی بازگشت جہنم ہی کی طرف ہوگی۔
عبدالسلام بن محمد
پھر بلاشبہ ان کی واپسی یقینا اسی بھڑکتی ہوئی آگ کی طرف ہو گی۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
زقوم اور طوبی ٭٭
جنت کی نعمتوں کا بیان فرما کر فرماتا ہے کہ ’ اب لوگ خود فیصلہ کر لیں کہ وہ جگہ اور وہ نعمتیں بہتر ہیں؟ یا زقوم کا درخت جو دوزخیوں کا کھانا ہے ‘۔ ممکن ہے اس سے مراد خاص ایک ہی درخت ہو اور وہ تمام جہنم میں پھیلا ہوا ہو، جیسے طوبیٰ کا ایک درخت ہے جو جنت کے ایک ایک محل میں پہنچا ہوا ہے۔ اور ممکن ہے کہ مراد زقوم کے درخت کی جنس ہو اس کی تائید آیت «لَاٰكِلُوْنَ مِنْ شَجَرٍ مِّنْ زَقُّوْمٍ» ۱؎ [56-الواقعة:52] ، سے بھی ہوتی ہے۔ ’ ہم نے اسے ظالموں کے لیے فتنہ بنایا ہے ‘۔ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں شجرہ زقوم کا ذکر گمراہوں کے لیے فتنہ ہو گیا وہ کہنے لگے لو اور سنو آگ میں اور درخت؟ آگ تو درخت جلا دینے والی ہے۔ یہ نبی کہتے ہیں جہنم میں درخت اگے گا۔ تو اللہ نے فرمایا ہاں یہ درخت آگ ہی سے پیدا ہو گا اور اس کی غذا بھی آگ ہی ہو گی۔ ابوجہل ملعون اسی پر ہنسی اڑاتا تھا اور کہتا تھا میں تو خوب مزے سے کھجور مکھن کھاؤں گا اسی کا نام زقوم ہے۔
الغرض یہ بھی ایک امتحان ہے بھلے لوگ تو اس سے ڈر گئے اور بروں نے اس کا مذاق اڑایا۔ جیسے فرمان ہے «وَمَا جَعَلْنَا الرُّءْيَا الَّتِيْٓ اَرَيْنٰكَ اِلَّا فِتْنَةً لِّلنَّاسِ وَالشَّجَرَةَ الْمَلْعُوْنَةَ فِي الْقُرْاٰنِ ۭ وَنُخَوِّفُهُمْ ۙ فَمَا يَزِيْدُهُمْ اِلَّا طُغْيَانًا كَبِيْرًا» ۱؎ [17-الإسراء:60] ، ’ جو منظر ہم نے تجھے دکھایا تھا وہ صرف اس لیے ہے کہ لوگوں کی آزمائش ہو جائے اور اسی طرح اس نامبارک درخت کا ذکر بھی۔ ہم تو انہیں دھمکا رہے ہیں مگر یہ نافرمانی میں بڑھتے ہی جا رہے ہیں ‘۔ اس درخت کی اصل جڑ جہنم میں ہے۔ اس کے خوشے اور شاخیں بھیانک ڈراؤنی لمبی چوڑی دور دور شیطانوں کے سروں کی طرح پھیلی ہوئی ہیں۔ گو شیطان کو بھی کسی نے دیکھا نہیں لیکن اس کا نام سنتے ہی اس کی بد صورتی اور خباثت کا منظر سامنے آ جاتا ہے، یہی حال اس درخت کا ہے کہ دیکھنے اور چکھنے میں ظاہر اور باطن میں بری چیز ہے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ سانپوں کی ایک قسم ہے جو بدترین بھیانک اور خوفناک شکل کے ہوتے ہیں۔ اور ایک قول یہ بھی ہے کہ نبات کی ایک قسم ہے جو بہت بری طرح پھیل جاتی ہے۔ لیکن یہ دونوں احتمال درست نہیں ٹھیک بات وہی ہے جسے ہم نے پہلے ذکر کیا۔ اسی بد منظر بدبو بد ذائقہ بد مزہ بد خصال تھور کو انہیں جبراً کھانا پڑے گا۔ اور ٹھونس ٹھونس کر انہیں کھلایا جائے گا کہ یہ بجائے خود ایک زبردست عذاب ہے۔ اور آیت میں ہے «لَيْسَ لَهُمْ طَعَامٌ اِلَّا مِنْ ضَرِيْعٍ ۙلَّا يُسْمِنُ وَلَا يُغْنِي مِن جُوعٍ» ۱؎ [88-الغاشية:7،6] ، ’ ان کی خوراک وہاں صرف کانٹوں دار تھور ہو گا جو نہ انہیں فربہ کر سکے نہ بھوک مٹا سکے گا۔ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آیت «اتَّقُوا اللَّـهَ حَقَّ تُقَاتِهِ» ۱؎ [3-آل عمران:102] کی تلاوت کر کے فرمایا: { اگر زقوم کا ایک قطرہ دنیا کے سمندروں میں پڑ جائے توروئے زمین کے تمام لوگوں کی خوراکیں خراب ہو جائیں۔ اس کا کیا حال ہو گا جس کی خوراک ہی یہی ہو گا } } ۱؎ [سنن ترمذي:2584،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ۔
پھر اس زقوم کے کھانے کے ساتھ ہی انہیں اوپر سے جہنم کا کھولتا گرم پانی پلایا جائے گا۔ یا یہ مطلب کہ اس جہنمی درخت کو جہنمی پانی کے ساتھ ملا کر انہیں کھلایا پلایا جائے گا۔ اور یہ گرم پانی وہ ہو گا جو جہنمیوں کے زخموں سے لہو پیپ وغیرہ کی شکل میں نکلا ہو گا اور جو ان کی آنکھوں سے اور پوشیدہ راستوں سے نکلا ہوا ہو گا۔ حدیث میں ہے کہ { جب یہ پانی ان کے سامنے لایا جائے گا۔ انہیں سخت ایذاء ہو گی بڑی کراہیت آئے گی پھر جب وہ ان کے منہ کے پاس لایا جائے گا تو اس کی بھاپ سے اس کے چہرے کی کھال جھلس کر جھڑ جائے گی اور جب اس کا گھونٹ پیٹ میں جائے گا تو ان کی آنتیں کٹ کر پاخانے کے راستے سے باہر آ جائیں گی }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:52/21:]
حضرت سعید بن جیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”جب جہنمی بھوک کی شکایت کریں گے تو زقوم کھلایا جائے گا جس سے ان کے چہر کی کھالیں بالکل الگ ہو کر گر پڑیں گی۔ اس طرح انہیں پہچاننے والا اس میں ان کے منہ کی پوری کھال دیکھ کر پہچان سکتا ہے کہ یہ فلاں ہے۔ پھر پیاس کی شدت سے بیتاب ہو کر وہ ہائے وائے پکاریں گے تو انہیں پگھلے ہوئے تانبے جیسا گرم پانی دیا جائے گا جو چہرے کے سامنے آتے ہی چہرے کے گوشت کو جھلس دے گا اور تمام گوشت گر پڑے گا اور پیٹ میں جا کر آنتوں کو کاٹ دے گا۔ اوپر سے لوہے کے ہتھوڑے مارے جائیں گے اور ایک ایک عضو بدن الگ الگ جھڑ جائے گا، بری طرح چیختے پیٹتے ہوں گے۔ فیصلہ ہوتے ہی ان کا ٹھکانا جہنم ہو جائے گا جہاں طرح طرح کے عذاب ہوتے رہیں گے۔“ جیسے اور آیت میں ہے «يَطُوْفُوْنَ بَيْنَهَا وَبَيْنَ حَمِيْمٍ اٰنٍ» ۱؎ [55-الرحمن:44] ’ جہنم اور آگ جیسے گرم پانی کے درمیان چکر کھاتے رہیں گے ‘۔ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کی قرأت «ثُمَّ اِنَّ مَقِیْلَهُمْ لِإِلَى الْجَحِیْمِ» ہے۔ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کا فرمان ہے کہ ”واللہ آدھے دن سے پہلے ہی پہلے دونوں گروہ اپنی اپنی جگہ پہنچ جائیں گے اور وہیں قیلولہ یعنی دوپہر کا آرام کریں گے۔“ قرآن فرماتا ہے «اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ يَوْمَىِٕذٍ خَيْرٌ مُّسْتَــقَرًّا وَّاَحْسَنُ مَقِيْلًا» ۱؎ [25-الفرقان:24] ’ جنتی باعتبار جائے قیام کے بہت اچھے ہوں گے اور باعتبار آرام گاہ کے بھی بہت اچھے ہوں گے ‘۔
الغرض قیلولے کا وقت دونوں کا اپنی اپنی جگہ ہو گا آدھے دن سے پہلے پہلے اپنی اپنی جگہ پہنچ جائیں گے۔ اس بنا پر یہاں «ثم» کا لفظ خبر پر خبر کے عطف کے لیے ہو گا۔ یہ اس کا بدلہ ہے کہ ان لوگوں نے اپنے باپ دادوں کو گمراہ پایا۔ لیکن پھر بھی انہی کے نقش قدم پر چلتے رہے۔ مجبوروں اور بیوقوفوں کی طرح ان کے پیچھے ہولئے۔
68۔ 1 یعنی زقوم کے کھانے اور گرم پانی کے پینے کے بعد انہیں دوبارہ جہنم میں پھینک دیا جائے گا۔
(آیت 68) {ثُمَّ اِنَّ مَرْجِعَهُمْ لَاۡاِلَى الْجَحِيْمِ:} اس سے معلوم ہوا کہ زقوم کا درخت اور کھولتے پانی کے چشمے جہنم کے کسی خاص حصے میں ہوں گے، جب انھیں بھوک یا پیاس لگے گی تو انھیں اس مقام کی طرف ہانک دیا جائے گا، یا وہ خود ہی چلے جائیں گے، پھر دوبارہ انھیں بھڑکتی ہوئی آگ میں اپنے ٹھکانے کی طرف واپس لایا جائے گا، جیسا کہ فرمایا: «يَطُوْفُوْنَ بَيْنَهَا وَ بَيْنَ حَمِيْمٍ اٰنٍ» [ الرحمٰن: ۴۴ ] ”وہ اس (جہنم) کے درمیان اور کھولتے ہوئے سخت گرم پانی کے درمیان چکر کاٹتے رہیں گے۔“
یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے باپ دادا کو گمراہ پایا
مولانا محمد جوناگڑھی
یقین مانو! کہ انہوں نے اپنے باپ دادا کو بہکا ہوا پایا
احمد رضا خان بریلوی
بیشک انہوں نے اپنے باپ دادا گمراہ پائے،
علامہ محمد حسین نجفی
ان لوگوں نے اپنے باپ دادا کو گمراہ پایا۔
عبدالسلام بن محمد
بے شک انھوں نے اپنے باپ دادا کو گمراہ پایا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
زقوم اور طوبی ٭٭
جنت کی نعمتوں کا بیان فرما کر فرماتا ہے کہ ’ اب لوگ خود فیصلہ کر لیں کہ وہ جگہ اور وہ نعمتیں بہتر ہیں؟ یا زقوم کا درخت جو دوزخیوں کا کھانا ہے ‘۔ ممکن ہے اس سے مراد خاص ایک ہی درخت ہو اور وہ تمام جہنم میں پھیلا ہوا ہو، جیسے طوبیٰ کا ایک درخت ہے جو جنت کے ایک ایک محل میں پہنچا ہوا ہے۔ اور ممکن ہے کہ مراد زقوم کے درخت کی جنس ہو اس کی تائید آیت «لَاٰكِلُوْنَ مِنْ شَجَرٍ مِّنْ زَقُّوْمٍ» ۱؎ [56-الواقعة:52] ، سے بھی ہوتی ہے۔ ’ ہم نے اسے ظالموں کے لیے فتنہ بنایا ہے ‘۔ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں شجرہ زقوم کا ذکر گمراہوں کے لیے فتنہ ہو گیا وہ کہنے لگے لو اور سنو آگ میں اور درخت؟ آگ تو درخت جلا دینے والی ہے۔ یہ نبی کہتے ہیں جہنم میں درخت اگے گا۔ تو اللہ نے فرمایا ہاں یہ درخت آگ ہی سے پیدا ہو گا اور اس کی غذا بھی آگ ہی ہو گی۔ ابوجہل ملعون اسی پر ہنسی اڑاتا تھا اور کہتا تھا میں تو خوب مزے سے کھجور مکھن کھاؤں گا اسی کا نام زقوم ہے۔
الغرض یہ بھی ایک امتحان ہے بھلے لوگ تو اس سے ڈر گئے اور بروں نے اس کا مذاق اڑایا۔ جیسے فرمان ہے «وَمَا جَعَلْنَا الرُّءْيَا الَّتِيْٓ اَرَيْنٰكَ اِلَّا فِتْنَةً لِّلنَّاسِ وَالشَّجَرَةَ الْمَلْعُوْنَةَ فِي الْقُرْاٰنِ ۭ وَنُخَوِّفُهُمْ ۙ فَمَا يَزِيْدُهُمْ اِلَّا طُغْيَانًا كَبِيْرًا» ۱؎ [17-الإسراء:60] ، ’ جو منظر ہم نے تجھے دکھایا تھا وہ صرف اس لیے ہے کہ لوگوں کی آزمائش ہو جائے اور اسی طرح اس نامبارک درخت کا ذکر بھی۔ ہم تو انہیں دھمکا رہے ہیں مگر یہ نافرمانی میں بڑھتے ہی جا رہے ہیں ‘۔ اس درخت کی اصل جڑ جہنم میں ہے۔ اس کے خوشے اور شاخیں بھیانک ڈراؤنی لمبی چوڑی دور دور شیطانوں کے سروں کی طرح پھیلی ہوئی ہیں۔ گو شیطان کو بھی کسی نے دیکھا نہیں لیکن اس کا نام سنتے ہی اس کی بد صورتی اور خباثت کا منظر سامنے آ جاتا ہے، یہی حال اس درخت کا ہے کہ دیکھنے اور چکھنے میں ظاہر اور باطن میں بری چیز ہے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ سانپوں کی ایک قسم ہے جو بدترین بھیانک اور خوفناک شکل کے ہوتے ہیں۔ اور ایک قول یہ بھی ہے کہ نبات کی ایک قسم ہے جو بہت بری طرح پھیل جاتی ہے۔ لیکن یہ دونوں احتمال درست نہیں ٹھیک بات وہی ہے جسے ہم نے پہلے ذکر کیا۔ اسی بد منظر بدبو بد ذائقہ بد مزہ بد خصال تھور کو انہیں جبراً کھانا پڑے گا۔ اور ٹھونس ٹھونس کر انہیں کھلایا جائے گا کہ یہ بجائے خود ایک زبردست عذاب ہے۔ اور آیت میں ہے «لَيْسَ لَهُمْ طَعَامٌ اِلَّا مِنْ ضَرِيْعٍ ۙلَّا يُسْمِنُ وَلَا يُغْنِي مِن جُوعٍ» ۱؎ [88-الغاشية:7،6] ، ’ ان کی خوراک وہاں صرف کانٹوں دار تھور ہو گا جو نہ انہیں فربہ کر سکے نہ بھوک مٹا سکے گا۔ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آیت «اتَّقُوا اللَّـهَ حَقَّ تُقَاتِهِ» ۱؎ [3-آل عمران:102] کی تلاوت کر کے فرمایا: { اگر زقوم کا ایک قطرہ دنیا کے سمندروں میں پڑ جائے توروئے زمین کے تمام لوگوں کی خوراکیں خراب ہو جائیں۔ اس کا کیا حال ہو گا جس کی خوراک ہی یہی ہو گا } } ۱؎ [سنن ترمذي:2584،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ۔
پھر اس زقوم کے کھانے کے ساتھ ہی انہیں اوپر سے جہنم کا کھولتا گرم پانی پلایا جائے گا۔ یا یہ مطلب کہ اس جہنمی درخت کو جہنمی پانی کے ساتھ ملا کر انہیں کھلایا پلایا جائے گا۔ اور یہ گرم پانی وہ ہو گا جو جہنمیوں کے زخموں سے لہو پیپ وغیرہ کی شکل میں نکلا ہو گا اور جو ان کی آنکھوں سے اور پوشیدہ راستوں سے نکلا ہوا ہو گا۔ حدیث میں ہے کہ { جب یہ پانی ان کے سامنے لایا جائے گا۔ انہیں سخت ایذاء ہو گی بڑی کراہیت آئے گی پھر جب وہ ان کے منہ کے پاس لایا جائے گا تو اس کی بھاپ سے اس کے چہرے کی کھال جھلس کر جھڑ جائے گی اور جب اس کا گھونٹ پیٹ میں جائے گا تو ان کی آنتیں کٹ کر پاخانے کے راستے سے باہر آ جائیں گی }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:52/21:]
حضرت سعید بن جیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”جب جہنمی بھوک کی شکایت کریں گے تو زقوم کھلایا جائے گا جس سے ان کے چہر کی کھالیں بالکل الگ ہو کر گر پڑیں گی۔ اس طرح انہیں پہچاننے والا اس میں ان کے منہ کی پوری کھال دیکھ کر پہچان سکتا ہے کہ یہ فلاں ہے۔ پھر پیاس کی شدت سے بیتاب ہو کر وہ ہائے وائے پکاریں گے تو انہیں پگھلے ہوئے تانبے جیسا گرم پانی دیا جائے گا جو چہرے کے سامنے آتے ہی چہرے کے گوشت کو جھلس دے گا اور تمام گوشت گر پڑے گا اور پیٹ میں جا کر آنتوں کو کاٹ دے گا۔ اوپر سے لوہے کے ہتھوڑے مارے جائیں گے اور ایک ایک عضو بدن الگ الگ جھڑ جائے گا، بری طرح چیختے پیٹتے ہوں گے۔ فیصلہ ہوتے ہی ان کا ٹھکانا جہنم ہو جائے گا جہاں طرح طرح کے عذاب ہوتے رہیں گے۔“ جیسے اور آیت میں ہے «يَطُوْفُوْنَ بَيْنَهَا وَبَيْنَ حَمِيْمٍ اٰنٍ» ۱؎ [55-الرحمن:44] ’ جہنم اور آگ جیسے گرم پانی کے درمیان چکر کھاتے رہیں گے ‘۔ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کی قرأت «ثُمَّ اِنَّ مَقِیْلَهُمْ لِإِلَى الْجَحِیْمِ» ہے۔ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کا فرمان ہے کہ ”واللہ آدھے دن سے پہلے ہی پہلے دونوں گروہ اپنی اپنی جگہ پہنچ جائیں گے اور وہیں قیلولہ یعنی دوپہر کا آرام کریں گے۔“ قرآن فرماتا ہے «اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ يَوْمَىِٕذٍ خَيْرٌ مُّسْتَــقَرًّا وَّاَحْسَنُ مَقِيْلًا» ۱؎ [25-الفرقان:24] ’ جنتی باعتبار جائے قیام کے بہت اچھے ہوں گے اور باعتبار آرام گاہ کے بھی بہت اچھے ہوں گے ‘۔
الغرض قیلولے کا وقت دونوں کا اپنی اپنی جگہ ہو گا آدھے دن سے پہلے پہلے اپنی اپنی جگہ پہنچ جائیں گے۔ اس بنا پر یہاں «ثم» کا لفظ خبر پر خبر کے عطف کے لیے ہو گا۔ یہ اس کا بدلہ ہے کہ ان لوگوں نے اپنے باپ دادوں کو گمراہ پایا۔ لیکن پھر بھی انہی کے نقش قدم پر چلتے رہے۔ مجبوروں اور بیوقوفوں کی طرح ان کے پیچھے ہولئے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 70،69) {اِنَّهُمْ اَلْفَوْا اٰبَآءَهُمْ ضَآلِّيْنَ …: ” اَلْفَوْا “ ”أَلْفٰي يُلْفِيْ إِلْفَاءً“} (افعال) پانا۔ {” يُهْرَعُوْنَ “} کی وضاحت کے لیے دیکھیے سورۂ ہود کی آیت(۷۸) کی تفسیر۔ یعنی ان کفار کے عذاب الیم کا سبب یہ ہے کہ انھوں نے اپنے آباء کو ضلالت پر جمے ہوئے دیکھا اور اندھوں کی طرح بغیر سوچے سمجھے ان کے پیچھے دوڑ پڑے، جیسے کوئی انھیں پیچھے سے ہانک رہا ہو۔
اور یہ (بے سوچے سمجھے) انہی کے نقش قدم پر دوڑتے رہے۔
عبدالسلام بن محمد
تو وہ انھی کے قدموں کے نشانوں پر دوڑائے چلے جاتے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
زقوم اور طوبی ٭٭
جنت کی نعمتوں کا بیان فرما کر فرماتا ہے کہ ’ اب لوگ خود فیصلہ کر لیں کہ وہ جگہ اور وہ نعمتیں بہتر ہیں؟ یا زقوم کا درخت جو دوزخیوں کا کھانا ہے ‘۔ ممکن ہے اس سے مراد خاص ایک ہی درخت ہو اور وہ تمام جہنم میں پھیلا ہوا ہو، جیسے طوبیٰ کا ایک درخت ہے جو جنت کے ایک ایک محل میں پہنچا ہوا ہے۔ اور ممکن ہے کہ مراد زقوم کے درخت کی جنس ہو اس کی تائید آیت «لَاٰكِلُوْنَ مِنْ شَجَرٍ مِّنْ زَقُّوْمٍ» ۱؎ [56-الواقعة:52] ، سے بھی ہوتی ہے۔ ’ ہم نے اسے ظالموں کے لیے فتنہ بنایا ہے ‘۔ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں شجرہ زقوم کا ذکر گمراہوں کے لیے فتنہ ہو گیا وہ کہنے لگے لو اور سنو آگ میں اور درخت؟ آگ تو درخت جلا دینے والی ہے۔ یہ نبی کہتے ہیں جہنم میں درخت اگے گا۔ تو اللہ نے فرمایا ہاں یہ درخت آگ ہی سے پیدا ہو گا اور اس کی غذا بھی آگ ہی ہو گی۔ ابوجہل ملعون اسی پر ہنسی اڑاتا تھا اور کہتا تھا میں تو خوب مزے سے کھجور مکھن کھاؤں گا اسی کا نام زقوم ہے۔
الغرض یہ بھی ایک امتحان ہے بھلے لوگ تو اس سے ڈر گئے اور بروں نے اس کا مذاق اڑایا۔ جیسے فرمان ہے «وَمَا جَعَلْنَا الرُّءْيَا الَّتِيْٓ اَرَيْنٰكَ اِلَّا فِتْنَةً لِّلنَّاسِ وَالشَّجَرَةَ الْمَلْعُوْنَةَ فِي الْقُرْاٰنِ ۭ وَنُخَوِّفُهُمْ ۙ فَمَا يَزِيْدُهُمْ اِلَّا طُغْيَانًا كَبِيْرًا» ۱؎ [17-الإسراء:60] ، ’ جو منظر ہم نے تجھے دکھایا تھا وہ صرف اس لیے ہے کہ لوگوں کی آزمائش ہو جائے اور اسی طرح اس نامبارک درخت کا ذکر بھی۔ ہم تو انہیں دھمکا رہے ہیں مگر یہ نافرمانی میں بڑھتے ہی جا رہے ہیں ‘۔ اس درخت کی اصل جڑ جہنم میں ہے۔ اس کے خوشے اور شاخیں بھیانک ڈراؤنی لمبی چوڑی دور دور شیطانوں کے سروں کی طرح پھیلی ہوئی ہیں۔ گو شیطان کو بھی کسی نے دیکھا نہیں لیکن اس کا نام سنتے ہی اس کی بد صورتی اور خباثت کا منظر سامنے آ جاتا ہے، یہی حال اس درخت کا ہے کہ دیکھنے اور چکھنے میں ظاہر اور باطن میں بری چیز ہے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ سانپوں کی ایک قسم ہے جو بدترین بھیانک اور خوفناک شکل کے ہوتے ہیں۔ اور ایک قول یہ بھی ہے کہ نبات کی ایک قسم ہے جو بہت بری طرح پھیل جاتی ہے۔ لیکن یہ دونوں احتمال درست نہیں ٹھیک بات وہی ہے جسے ہم نے پہلے ذکر کیا۔ اسی بد منظر بدبو بد ذائقہ بد مزہ بد خصال تھور کو انہیں جبراً کھانا پڑے گا۔ اور ٹھونس ٹھونس کر انہیں کھلایا جائے گا کہ یہ بجائے خود ایک زبردست عذاب ہے۔ اور آیت میں ہے «لَيْسَ لَهُمْ طَعَامٌ اِلَّا مِنْ ضَرِيْعٍ ۙلَّا يُسْمِنُ وَلَا يُغْنِي مِن جُوعٍ» ۱؎ [88-الغاشية:7،6] ، ’ ان کی خوراک وہاں صرف کانٹوں دار تھور ہو گا جو نہ انہیں فربہ کر سکے نہ بھوک مٹا سکے گا۔ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آیت «اتَّقُوا اللَّـهَ حَقَّ تُقَاتِهِ» ۱؎ [3-آل عمران:102] کی تلاوت کر کے فرمایا: { اگر زقوم کا ایک قطرہ دنیا کے سمندروں میں پڑ جائے توروئے زمین کے تمام لوگوں کی خوراکیں خراب ہو جائیں۔ اس کا کیا حال ہو گا جس کی خوراک ہی یہی ہو گا } } ۱؎ [سنن ترمذي:2584،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ۔
پھر اس زقوم کے کھانے کے ساتھ ہی انہیں اوپر سے جہنم کا کھولتا گرم پانی پلایا جائے گا۔ یا یہ مطلب کہ اس جہنمی درخت کو جہنمی پانی کے ساتھ ملا کر انہیں کھلایا پلایا جائے گا۔ اور یہ گرم پانی وہ ہو گا جو جہنمیوں کے زخموں سے لہو پیپ وغیرہ کی شکل میں نکلا ہو گا اور جو ان کی آنکھوں سے اور پوشیدہ راستوں سے نکلا ہوا ہو گا۔ حدیث میں ہے کہ { جب یہ پانی ان کے سامنے لایا جائے گا۔ انہیں سخت ایذاء ہو گی بڑی کراہیت آئے گی پھر جب وہ ان کے منہ کے پاس لایا جائے گا تو اس کی بھاپ سے اس کے چہرے کی کھال جھلس کر جھڑ جائے گی اور جب اس کا گھونٹ پیٹ میں جائے گا تو ان کی آنتیں کٹ کر پاخانے کے راستے سے باہر آ جائیں گی }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:52/21:]
حضرت سعید بن جیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”جب جہنمی بھوک کی شکایت کریں گے تو زقوم کھلایا جائے گا جس سے ان کے چہر کی کھالیں بالکل الگ ہو کر گر پڑیں گی۔ اس طرح انہیں پہچاننے والا اس میں ان کے منہ کی پوری کھال دیکھ کر پہچان سکتا ہے کہ یہ فلاں ہے۔ پھر پیاس کی شدت سے بیتاب ہو کر وہ ہائے وائے پکاریں گے تو انہیں پگھلے ہوئے تانبے جیسا گرم پانی دیا جائے گا جو چہرے کے سامنے آتے ہی چہرے کے گوشت کو جھلس دے گا اور تمام گوشت گر پڑے گا اور پیٹ میں جا کر آنتوں کو کاٹ دے گا۔ اوپر سے لوہے کے ہتھوڑے مارے جائیں گے اور ایک ایک عضو بدن الگ الگ جھڑ جائے گا، بری طرح چیختے پیٹتے ہوں گے۔ فیصلہ ہوتے ہی ان کا ٹھکانا جہنم ہو جائے گا جہاں طرح طرح کے عذاب ہوتے رہیں گے۔“ جیسے اور آیت میں ہے «يَطُوْفُوْنَ بَيْنَهَا وَبَيْنَ حَمِيْمٍ اٰنٍ» ۱؎ [55-الرحمن:44] ’ جہنم اور آگ جیسے گرم پانی کے درمیان چکر کھاتے رہیں گے ‘۔ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کی قرأت «ثُمَّ اِنَّ مَقِیْلَهُمْ لِإِلَى الْجَحِیْمِ» ہے۔ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کا فرمان ہے کہ ”واللہ آدھے دن سے پہلے ہی پہلے دونوں گروہ اپنی اپنی جگہ پہنچ جائیں گے اور وہیں قیلولہ یعنی دوپہر کا آرام کریں گے۔“ قرآن فرماتا ہے «اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ يَوْمَىِٕذٍ خَيْرٌ مُّسْتَــقَرًّا وَّاَحْسَنُ مَقِيْلًا» ۱؎ [25-الفرقان:24] ’ جنتی باعتبار جائے قیام کے بہت اچھے ہوں گے اور باعتبار آرام گاہ کے بھی بہت اچھے ہوں گے ‘۔
الغرض قیلولے کا وقت دونوں کا اپنی اپنی جگہ ہو گا آدھے دن سے پہلے پہلے اپنی اپنی جگہ پہنچ جائیں گے۔ اس بنا پر یہاں «ثم» کا لفظ خبر پر خبر کے عطف کے لیے ہو گا۔ یہ اس کا بدلہ ہے کہ ان لوگوں نے اپنے باپ دادوں کو گمراہ پایا۔ لیکن پھر بھی انہی کے نقش قدم پر چلتے رہے۔ مجبوروں اور بیوقوفوں کی طرح ان کے پیچھے ہولئے۔
70۔ 1 یہ جہنم کی مذکورہ سزاؤں کی علت ہے کہ اپنے باپ دادوں کی گمراہی پانے کے باوجود یہ انہی کے نقش قدم پر چلتے رہے اور دلیل و حجت کے مقابلے میں تقلید کو اپنائے رکھا۔
اور بے شک ان سے پہلے بھی اگلوں میں اکثر لوگ گمراہ ہو چکے تھے۔
عبدالسلام بن محمد
اور بلاشبہ یقینا ان سے پہلے اگلے لوگوں میں سے زیادہ تر گمراہ ہوگئے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
سابقہ امتیں ٭٭
گذشتہ امتوں میں بھی اکثر لوگ گم کردہ راہ پر تھے اللہ کے ساتھ شریک کرتے تھے۔ ان میں بھی اللہ کے رسول آئے تھے۔ جنہوں نے انہیں ہوشیار کر دیا تھا اور ڈرا دھمکا دیا تھا اور بتلا دیا تھا کہ ان کے شرک و کفر اور تکذیب رسول سے بری طرح اللہ تعالیٰ ناراض ہے۔ اور اگر وہ باز نہ آئے تو انہیں عذاب ہوں گے۔ پھر بھی جب انہوں نے نبیوں کی نہ مانی اپنی برائی سے باز نہ آئے تو دیکھ لو کہ ان کا کیا انجام ہوا؟ تہس نہس کر دئیے گئے تباہ برباد کر دئیے گئے۔ ہاں نیک کار خلوص والے اللہ کے موحد بندے بچا لیے گئے اور عزت کے ساتھ رکھے گئے۔
71۔ 1 یعنی یہی گمراہ نہیں ہوئے، ان سے پہلے لوگ بھی اکثر گمراہی پانے کے باوجود یہ انہی کے نقشے قدم پر چلنے والے تھے۔
(آیت 71) ➊ {وَ لَقَدْ ضَلَّ قَبْلَهُمْ اَكْثَرُ الْاَوَّلِيْنَ:} اس آیت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور داعیان حق کو تسلی دی ہے کہ ان کے ایمان نہ لانے پر زیادہ پریشان نہ ہوں، ان سے پہلے بھی اکثر لوگ گمراہ ہوئے۔ اگر یہ گمراہ ہیں تو کوئی تعجب کی بات نہیں۔ ➋ اس سے معلوم ہوا کہ حق کی پیروی کرنے والی ایک جماعت ہمیشہ موجود رہی ہے، اگرچہ اکثریت گمراہوں کی رہی ہے۔
اور بلاشبہ یقینا ہم نے ان میں کئی ڈرانے والے بھیجے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
سابقہ امتیں ٭٭
گذشتہ امتوں میں بھی اکثر لوگ گم کردہ راہ پر تھے اللہ کے ساتھ شریک کرتے تھے۔ ان میں بھی اللہ کے رسول آئے تھے۔ جنہوں نے انہیں ہوشیار کر دیا تھا اور ڈرا دھمکا دیا تھا اور بتلا دیا تھا کہ ان کے شرک و کفر اور تکذیب رسول سے بری طرح اللہ تعالیٰ ناراض ہے۔ اور اگر وہ باز نہ آئے تو انہیں عذاب ہوں گے۔ پھر بھی جب انہوں نے نبیوں کی نہ مانی اپنی برائی سے باز نہ آئے تو دیکھ لو کہ ان کا کیا انجام ہوا؟ تہس نہس کر دئیے گئے تباہ برباد کر دئیے گئے۔ ہاں نیک کار خلوص والے اللہ کے موحد بندے بچا لیے گئے اور عزت کے ساتھ رکھے گئے۔
72۔ 1 یعنی ان سے پہلے لوگوں میں۔ انہوں نے حق کا پیغام پہنچایا اور عدم قبول کی صورت میں انہیں اللہ کے عذاب سے ڈرایا، لیکن ان پر کوئی اثر نہیں ہوا اور انہیں تباہ کردیا گیا، جیسا کہ اگلی آیت میں ان کے عبرت ناک انجام کی طرف اشارہ فرمایا۔
(آیت 72) {وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا فِيْهِمْ مُّنْذِرِيْنَ:} یعنی پہلے اکثر لوگوں کے گمراہ ہونے کا باعث یہ نہیں تھا کہ ان کے پاس کوئی خبردار کرنے والا نہیں آیا، بلکہ حقیقت یہ ہے کہ ہم نے ان میں بہت سے ڈرانے والے بھیجے، جو انھیں کفرو شرک اور اللہ کی حدود سے تجاوز کے برے انجام سے ڈراتے تھے۔ مگر انھوں نے حق قبول نہیں کیا، بلکہ باپ دادا کی تقلید پر جمے رہے اور اندھا دھند پہلوں کے نقش قدم پر دوڑتے گئے۔
اب دیکھ لو کہ اُن تنبیہ کیے جانے والوں کا کیا انجام ہوا
مولانا محمد جوناگڑھی
اب تو دیکھ لے کہ جنہیں دھمکایا گیا تھا ان کا انجام کیسا کچھ ہوا
احمد رضا خان بریلوی
تو دیکھو ڈرائے گیوں کا کیسا انجام ہوا
علامہ محمد حسین نجفی
تو دیکھو کہ ڈرائے ہوؤں کا انجام کیا ہوا؟
عبدالسلام بن محمد
سو دیکھ ان ڈرائے جانے والوں کا انجام کیسا ہوا؟
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
سابقہ امتیں ٭٭
گذشتہ امتوں میں بھی اکثر لوگ گم کردہ راہ پر تھے اللہ کے ساتھ شریک کرتے تھے۔ ان میں بھی اللہ کے رسول آئے تھے۔ جنہوں نے انہیں ہوشیار کر دیا تھا اور ڈرا دھمکا دیا تھا اور بتلا دیا تھا کہ ان کے شرک و کفر اور تکذیب رسول سے بری طرح اللہ تعالیٰ ناراض ہے۔ اور اگر وہ باز نہ آئے تو انہیں عذاب ہوں گے۔ پھر بھی جب انہوں نے نبیوں کی نہ مانی اپنی برائی سے باز نہ آئے تو دیکھ لو کہ ان کا کیا انجام ہوا؟ تہس نہس کر دئیے گئے تباہ برباد کر دئیے گئے۔ ہاں نیک کار خلوص والے اللہ کے موحد بندے بچا لیے گئے اور عزت کے ساتھ رکھے گئے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 73) {فَانْظُرْ كَيْفَ كَانَ …:} تو اے رسول یا اے مخاطب! دیکھ، ان لوگوں کا انجام کیا ہوا کہ اپنے اعمال کی وجہ سے پکڑے گئے، اس پکڑ کی کچھ وضاحت سورۂ عنکبوت میں ہے، فرمایا: «فَكُلًّا اَخَذْنَا بِذَنْۢبِهٖ فَمِنْهُمْ مَّنْ اَرْسَلْنَا عَلَيْهِ حَاصِبًا وَ مِنْهُمْ مَّنْ اَخَذَتْهُ الصَّيْحَةُ وَ مِنْهُمْ مَّنْ خَسَفْنَا بِهِ الْاَرْضَ وَ مِنْهُمْ مَّنْ اَغْرَقْنَا وَ مَا كَانَ اللّٰهُ لِيَظْلِمَهُمْ وَ لٰكِنْ كَانُوْۤا اَنْفُسَهُمْ يَظْلِمُوْنَ» [ العنکبوت: ۴۰ ] ”تو ہم نے ہر ایک کو اس کے گناہ میں پکڑ لیا، پھر ان میں سے کوئی وہ تھا جس پر ہم نے پتھراؤ والی ہوا بھیجی اور ان میں سے کوئی وہ تھا جسے چیخ نے پکڑ لیا اور ان میں سے کوئی وہ تھا جسے ہم نے زمین میں دھنسا دیا اور ان میں سے کوئی وہ تھا جسے ہم نے غرق کر دیا اور اللہ ایسا نہ تھا کہ ان پر ظلم کرے اور لیکن وہ خود اپنے آپ پر ظلم کرتے تھے۔“
اس بد انجامی سے بس اللہ کے وہی بندے بچے ہیں جنہیں اس نے اپنے لیے خالص کر لیا ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
سوائے اللہ کے برگزیده بندوں کے
احمد رضا خان بریلوی
مگر اللہ کے چُنے ہوئے بندے
علامہ محمد حسین نجفی
ہاں البتہ اللہ کے برگزیدہ بندے اس سے مستثنیٰ ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
مگر اللہ کے خالص کیے ہوئے بندے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
سابقہ امتیں ٭٭
گذشتہ امتوں میں بھی اکثر لوگ گم کردہ راہ پر تھے اللہ کے ساتھ شریک کرتے تھے۔ ان میں بھی اللہ کے رسول آئے تھے۔ جنہوں نے انہیں ہوشیار کر دیا تھا اور ڈرا دھمکا دیا تھا اور بتلا دیا تھا کہ ان کے شرک و کفر اور تکذیب رسول سے بری طرح اللہ تعالیٰ ناراض ہے۔ اور اگر وہ باز نہ آئے تو انہیں عذاب ہوں گے۔ پھر بھی جب انہوں نے نبیوں کی نہ مانی اپنی برائی سے باز نہ آئے تو دیکھ لو کہ ان کا کیا انجام ہوا؟ تہس نہس کر دئیے گئے تباہ برباد کر دئیے گئے۔ ہاں نیک کار خلوص والے اللہ کے موحد بندے بچا لیے گئے اور عزت کے ساتھ رکھے گئے۔
74۔ 1 یعنی عبرت ناک انجام سے صرف وہ محفوظ رہے جن کو اللہ نے ایمان و توحید کی توفیق سے نواز کر بچا لیا۔
(آیت 74) {اِلَّا عِبَادَ اللّٰهِ الْمُخْلَصِيْنَ:} یعنی ہم نے تمام جھٹلانے والوں کو تباہ و برباد کر دیا، مگر اللہ کے وہ بندے جو اس کی توحید و عبادت کے لیے چنے ہوئے تھے، وہی محفوظ رہے۔ آگے چند {”مُنْذِرِيْنَ“} (ڈرانے والوں) اور چند {”مُنْذَرِيْنَ“} (ڈرائے جانے والوں) کے قصے بیان فرمائے، تاکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور حق کے تمام داعی حضرات کے دلوں کو اطمینان حاصل ہو اور حق جھٹلانے والوں کو عبرت ہو۔
ہم کو (اِس سے پہلے) نوحؑ نے پکارا تھا، تو دیکھو کہ ہم کیسے اچھے جواب دینے والے تھے
مولانا محمد جوناگڑھی
اور ہمیں نوح (علیہ السلام) نے پکارا تو (دیکھ لو) ہم کیسے اچھے دعا قبول کرنے والے ہیں
احمد رضا خان بریلوی
اور بیشک ہمیں نوح نے پکارا تو ہم کیا ہی اچھے قبول فرمانے والے
علامہ محمد حسین نجفی
اور یقینا نوح(ع) نے ہم کو پکارا تو ہم کیا اچھا جواب دینے والے تھے۔
عبدالسلام بن محمد
اور بلاشبہ یقینا نوح نے ہمیں پکارا تو یقینا ہم اچھے قبول کرنے والے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
نیک لوگوں کے نام زندہ رہتے ہیں ٭٭
اوپر کی آیتوں میں پہلے لوگوں کی گمراہی کا اجمالاً ذکر تھا۔ ان آیتوں میں تفصیلی بیان ہے۔ نوح نبی علیہ السلام اپنی قوم میں ساڑھے نو سو سال تک رہے اور ہر وقت انہیں سمجھاتے بجھاتے رہے لیکن تاہم قوم گمراہی پر جمی رہی سوائے چند پاک باز لوگوں کے کوئی ایمان نہ لایا۔ بلکہ ستاتے اور تکلیفیں دیتے رہے، آخر کار اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے تنگ آ کر رب سے دعا کی کہ «فَدَعَا رَبَّهُ أَنِّي مَغْلُوبٌ فَانتَصِرْ» ۱؎ [54-القمر:10] اللہ ’ میں عاجز آ گیا تو میری مدد کر ‘۔ اللہ کا غضب ان پر نازل ہوا اور تمام کفار کو تہ آب اور غرق کر دیا۔ تو فرماتا ہے کہ ’ نوح نے تنگ آ کر ہمارے جناب میں دعا کی۔ ہم تو ہیں ہی بہترین طور پر دعاؤں کے قبول کرنے والے فوراً ان کی دعا قبول فرما لی۔ اور اس تکذیب وایذاء سے جو انہیں کفار سے روز مرہ پہنچ رہی تھی ہم نے بچا لیا ‘۔ اور انہی کی اولاد سے پھر دنیا بسی، کیونکہ وہی باقی بچے تھے۔ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں تمام لوگ نوح کی اولاد میں سے ہیں۔ ترمذی کی مرفوع حدیث میں اس آیت کی تفسیر میں ہے کہ { سام حام اور یافث کی پھر اولاد پھیلی اور باقی رہی }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:3230،قال الشيخ الألباني:ضعیف] مسند میں یہ بھی ہے کہ { سام سارے عرب کے باپ ہیں اور حام تمام حبش کے اور یافث تمام روم کے }۔۱؎ [سنن ترمذي:3231،قال الشيخ الألباني:ضعیف] اس حدیث میں رومیوں سے مراد روم اول یعنی یونانی ہیں۔ جو رومی بن لیطی بن یوناں بن یافث بن نوح کی طرف منسوب ہیں۔ سعید بن مسیب رضی اللہ عنہ کا فرمان ہے کہ نوح علیہ السلام کے ایک لڑکے سام کی اولاد عرب، فارس اور رومی ہیں اور یافث کی اولاد ترک، صقالبہ اور یاجوج ماجوج ہیں اور حام کی اولاد قبطی، سوڈانی اور بربری ہیں «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ نوح علیہ السلام کی بھلائی اور ان کا ذکر خیر ان کے بعد کے لوگوں میں اللہ کی طرف سے زندہ رہا۔ تمام انبیاء علیہم السلام کی حق گوئی کا نتیجہ یہی ہوتا ہے ہمیشہ ان پر لوگ سلام بھیجتے رہیں گے اور ان کی تعریفیں بیان کرتے رہیں گے۔ نوح علیہ السلام پر سلام ہو۔ یہ گویا اگلے جملے کی تفسیر ہے یعنی ان کا ذکر بھلائی سے باقی رہنے کے معنی یہ ہیں کہ ہر امت ان پر سلام بھیجتی رہتی ہے۔ ہماری یہ عادت ہے کہ جو شخص خلوص کے ساتھ ہماری عبادت و اطاعت پر جم جائے ہم بھی اس کا ذکر جمیل بعد والوں میں ہمیشہ کے لیے باقی رکھتے ہیں۔ نوح یقین و ایمان رکھنے والوں توحید پر جم جانے والوں میں سے تھے۔ نوح اور نوح والوں کا تو یہ واقعہ ہوا۔ لیکن نوح کے مخالفین غارت اور غرق کر دئیے گئے۔ ایک آنکھ جھپکنے والی ان میں باقی نہ بچی، ایک خبر رساں زندہ نہ رہا، نشان تک باقی نہ بچا۔ ہاں ان کی ہڈیاں اور برائیاں رہ گئیں جن کی وجہ سے مخلوق کی زبان پر ان کے یہ بدترین افسانے چڑھ گئے۔
75۔ 1 یعنی ساڑھے نو سو سال کی تبلیغ کے باوجود جب قوم کی اکثریت نے ان کو جھٹلایا تو انہوں نے محسوس کرلیا کہ ایمان لانے کی کوئی امید نہیں ہے تو اپنے رب کو پکارا (فَدَعَا رَبَّهٗٓ اَنِّىْ مَغْلُوْبٌ فَانْتَصِرْ) 54۔ القمر:10) یا اللہ میں مغلوب ہوں میری مدد فرما، چناچہ ہم نے نوح ؑ کی دعا قبول کی اور ان کی قوم کو طوفان بھیج کر ہلاک کردیا۔
(آیت 75) ➊ { وَ لَقَدْ نَادٰىنَا نُوْحٌ:} پکارنے سے مراد وہ دعا ہے جو نوح علیہ السلام نے ساڑھے نوسو سال تک صبرو استقامت کے ساتھ دعوت دینے کے بعد اس وقت کی جب اللہ تعالیٰ نے انھیں آگاہ کیا کہ اب تمھاری قوم میں سے ان کے سوا کوئی ایمان نہیں لائے گا جو ایمان لا چکے۔ اس دعا کا ذکر سورۂ قمر (۱۰) اور سورۂ نوح (۲۶) میں ہے۔ ➋ {فَلَنِعْمَ الْمُجِيْبُوْنَ:} یہاں اس کے بعد مخصوص بالمدح {”نَحْنُ“} محذوف ہے، یعنی یقینا ہم اچھے دعا قبول کرنے والے ہیں۔ نوح علیہ السلام کی دعا کی قبولیت کی تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ ہود (۳۶ تا ۴۸)۔
ہم نے اُس کو اور اس کے گھر والوں کو کرب عظیم سے بچا لیا
مولانا محمد جوناگڑھی
ہم نے اسے اور اس کے گھر والوں کو اس زبردست مصیبت سے بچا لیا
احمد رضا خان بریلوی
اور ہم نے اسے اور اس کے گھر والوں کو بڑی تکلیف سے نجات دی،
علامہ محمد حسین نجفی
اور ہم نے انہیں اور ان کے اہل کو سخت تکلیف سے نجات دی۔
عبدالسلام بن محمد
اور ہم نے اسے اور اس کے گھر والوں کو بہت بڑی مصیبت سے نجات دی۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
نیک لوگوں کے نام زندہ رہتے ہیں ٭٭
اوپر کی آیتوں میں پہلے لوگوں کی گمراہی کا اجمالاً ذکر تھا۔ ان آیتوں میں تفصیلی بیان ہے۔ نوح نبی علیہ السلام اپنی قوم میں ساڑھے نو سو سال تک رہے اور ہر وقت انہیں سمجھاتے بجھاتے رہے لیکن تاہم قوم گمراہی پر جمی رہی سوائے چند پاک باز لوگوں کے کوئی ایمان نہ لایا۔ بلکہ ستاتے اور تکلیفیں دیتے رہے، آخر کار اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے تنگ آ کر رب سے دعا کی کہ «فَدَعَا رَبَّهُ أَنِّي مَغْلُوبٌ فَانتَصِرْ» ۱؎ [54-القمر:10] اللہ ’ میں عاجز آ گیا تو میری مدد کر ‘۔ اللہ کا غضب ان پر نازل ہوا اور تمام کفار کو تہ آب اور غرق کر دیا۔ تو فرماتا ہے کہ ’ نوح نے تنگ آ کر ہمارے جناب میں دعا کی۔ ہم تو ہیں ہی بہترین طور پر دعاؤں کے قبول کرنے والے فوراً ان کی دعا قبول فرما لی۔ اور اس تکذیب وایذاء سے جو انہیں کفار سے روز مرہ پہنچ رہی تھی ہم نے بچا لیا ‘۔ اور انہی کی اولاد سے پھر دنیا بسی، کیونکہ وہی باقی بچے تھے۔ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں تمام لوگ نوح کی اولاد میں سے ہیں۔ ترمذی کی مرفوع حدیث میں اس آیت کی تفسیر میں ہے کہ { سام حام اور یافث کی پھر اولاد پھیلی اور باقی رہی }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:3230،قال الشيخ الألباني:ضعیف] مسند میں یہ بھی ہے کہ { سام سارے عرب کے باپ ہیں اور حام تمام حبش کے اور یافث تمام روم کے }۔۱؎ [سنن ترمذي:3231،قال الشيخ الألباني:ضعیف] اس حدیث میں رومیوں سے مراد روم اول یعنی یونانی ہیں۔ جو رومی بن لیطی بن یوناں بن یافث بن نوح کی طرف منسوب ہیں۔ سعید بن مسیب رضی اللہ عنہ کا فرمان ہے کہ نوح علیہ السلام کے ایک لڑکے سام کی اولاد عرب، فارس اور رومی ہیں اور یافث کی اولاد ترک، صقالبہ اور یاجوج ماجوج ہیں اور حام کی اولاد قبطی، سوڈانی اور بربری ہیں «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ نوح علیہ السلام کی بھلائی اور ان کا ذکر خیر ان کے بعد کے لوگوں میں اللہ کی طرف سے زندہ رہا۔ تمام انبیاء علیہم السلام کی حق گوئی کا نتیجہ یہی ہوتا ہے ہمیشہ ان پر لوگ سلام بھیجتے رہیں گے اور ان کی تعریفیں بیان کرتے رہیں گے۔ نوح علیہ السلام پر سلام ہو۔ یہ گویا اگلے جملے کی تفسیر ہے یعنی ان کا ذکر بھلائی سے باقی رہنے کے معنی یہ ہیں کہ ہر امت ان پر سلام بھیجتی رہتی ہے۔ ہماری یہ عادت ہے کہ جو شخص خلوص کے ساتھ ہماری عبادت و اطاعت پر جم جائے ہم بھی اس کا ذکر جمیل بعد والوں میں ہمیشہ کے لیے باقی رکھتے ہیں۔ نوح یقین و ایمان رکھنے والوں توحید پر جم جانے والوں میں سے تھے۔ نوح اور نوح والوں کا تو یہ واقعہ ہوا۔ لیکن نوح کے مخالفین غارت اور غرق کر دئیے گئے۔ ایک آنکھ جھپکنے والی ان میں باقی نہ بچی، ایک خبر رساں زندہ نہ رہا، نشان تک باقی نہ بچا۔ ہاں ان کی ہڈیاں اور برائیاں رہ گئیں جن کی وجہ سے مخلوق کی زبان پر ان کے یہ بدترین افسانے چڑھ گئے۔
76۔ 1 حضرت نوح پر ایمان لانے والے، جن میں ان کے گھر کے افراد بھی ہیں جو مومن تھے بعض مفسرین نے ان کی تعداد 80 بتلائی ہے۔ اس میں آپ کی بیوی اور ایک لڑکا شامل نہیں، جو مومن نہیں تھے، وہ بھی طوفان میں غرق ہوگئے۔ کرب عظیم (زبردست مصیبت) سے مراد وہی سیلاب عظیم ہے جس میں یہ قوم غرق ہوئی۔
(آیت 76) {وَ نَجَّيْنٰهُ وَ اَهْلَهٗ …: ” الْكَرْبِ الْعَظِيْمِ “} (بہت بڑی مصیبت) سے نجات سے مراد اس طوفانِ عظیم سے نجات ہے اور اس ہر وقت کی پریشانی سے بھی جو قوم کے جھٹلانے اور ستانے کی صورت میں سیکڑوں برس انھیں لاحق رہی۔
اور ہم نے اس کی اولاد ہی کو باقی رہنے والے بنا دیا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
نیک لوگوں کے نام زندہ رہتے ہیں ٭٭
اوپر کی آیتوں میں پہلے لوگوں کی گمراہی کا اجمالاً ذکر تھا۔ ان آیتوں میں تفصیلی بیان ہے۔ نوح نبی علیہ السلام اپنی قوم میں ساڑھے نو سو سال تک رہے اور ہر وقت انہیں سمجھاتے بجھاتے رہے لیکن تاہم قوم گمراہی پر جمی رہی سوائے چند پاک باز لوگوں کے کوئی ایمان نہ لایا۔ بلکہ ستاتے اور تکلیفیں دیتے رہے، آخر کار اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے تنگ آ کر رب سے دعا کی کہ «فَدَعَا رَبَّهُ أَنِّي مَغْلُوبٌ فَانتَصِرْ» ۱؎ [54-القمر:10] اللہ ’ میں عاجز آ گیا تو میری مدد کر ‘۔ اللہ کا غضب ان پر نازل ہوا اور تمام کفار کو تہ آب اور غرق کر دیا۔ تو فرماتا ہے کہ ’ نوح نے تنگ آ کر ہمارے جناب میں دعا کی۔ ہم تو ہیں ہی بہترین طور پر دعاؤں کے قبول کرنے والے فوراً ان کی دعا قبول فرما لی۔ اور اس تکذیب وایذاء سے جو انہیں کفار سے روز مرہ پہنچ رہی تھی ہم نے بچا لیا ‘۔ اور انہی کی اولاد سے پھر دنیا بسی، کیونکہ وہی باقی بچے تھے۔ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں تمام لوگ نوح کی اولاد میں سے ہیں۔ ترمذی کی مرفوع حدیث میں اس آیت کی تفسیر میں ہے کہ { سام حام اور یافث کی پھر اولاد پھیلی اور باقی رہی }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:3230،قال الشيخ الألباني:ضعیف] مسند میں یہ بھی ہے کہ { سام سارے عرب کے باپ ہیں اور حام تمام حبش کے اور یافث تمام روم کے }۔۱؎ [سنن ترمذي:3231،قال الشيخ الألباني:ضعیف] اس حدیث میں رومیوں سے مراد روم اول یعنی یونانی ہیں۔ جو رومی بن لیطی بن یوناں بن یافث بن نوح کی طرف منسوب ہیں۔ سعید بن مسیب رضی اللہ عنہ کا فرمان ہے کہ نوح علیہ السلام کے ایک لڑکے سام کی اولاد عرب، فارس اور رومی ہیں اور یافث کی اولاد ترک، صقالبہ اور یاجوج ماجوج ہیں اور حام کی اولاد قبطی، سوڈانی اور بربری ہیں «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ نوح علیہ السلام کی بھلائی اور ان کا ذکر خیر ان کے بعد کے لوگوں میں اللہ کی طرف سے زندہ رہا۔ تمام انبیاء علیہم السلام کی حق گوئی کا نتیجہ یہی ہوتا ہے ہمیشہ ان پر لوگ سلام بھیجتے رہیں گے اور ان کی تعریفیں بیان کرتے رہیں گے۔ نوح علیہ السلام پر سلام ہو۔ یہ گویا اگلے جملے کی تفسیر ہے یعنی ان کا ذکر بھلائی سے باقی رہنے کے معنی یہ ہیں کہ ہر امت ان پر سلام بھیجتی رہتی ہے۔ ہماری یہ عادت ہے کہ جو شخص خلوص کے ساتھ ہماری عبادت و اطاعت پر جم جائے ہم بھی اس کا ذکر جمیل بعد والوں میں ہمیشہ کے لیے باقی رکھتے ہیں۔ نوح یقین و ایمان رکھنے والوں توحید پر جم جانے والوں میں سے تھے۔ نوح اور نوح والوں کا تو یہ واقعہ ہوا۔ لیکن نوح کے مخالفین غارت اور غرق کر دئیے گئے۔ ایک آنکھ جھپکنے والی ان میں باقی نہ بچی، ایک خبر رساں زندہ نہ رہا، نشان تک باقی نہ بچا۔ ہاں ان کی ہڈیاں اور برائیاں رہ گئیں جن کی وجہ سے مخلوق کی زبان پر ان کے یہ بدترین افسانے چڑھ گئے۔
77۔ 1 اکثر مفسرین کے قول کے مطابق حضرت نوح ؑ کے تین بیٹے تھے۔ عام، سام، یافث۔ انہی سے بعد کی نسل انسانی چلی۔ اسی لئے حضرت نوح ؑ کو آدم ثانی کہا جاتا ہے یعنی آدم ؑ کیطرح، آدم ؑ کے بعد یہ دوسرے ابو البشر ہیں۔ سام کی نسل سے عرب، فارس، روم اور یہود و نصاریٰ ہیں۔ عام کی نسل سے سوڈان (مشرق سے مغرب تک) یعنی سندھ، ہند، نوب، زنج، حبشہ، قبط اور بربر وغیرہ ہیں اور یافث کی نسل سے صقالہ، ترک، خزر اور یاجوج و ماجوج وغیرہ ہیں (فتح القدیر) واللہ اعلم
(آیت 77) {وَ جَعَلْنَا ذُرِّيَّتَهٗ هُمُ الْبٰقِيْنَ:} اس سے صاف ظاہر ہے کہ طوفان کے بعد صرف نوح علیہ السلام کی نسل آگے چلی، باقی ایمان والوں کی نسل ختم ہو گئی۔ اس آیت کے مطابق سورۂ بنی اسرائیل کی آیت (۳): «ذُرِّيَّةَ مَنْ حَمَلْنَا مَعَ نُوْحٍ» (اے ان لوگوں کی اولاد جنھیں ہم نے نوح کے ساتھ سوار کیا!) کا مطلب بھی یہی ہے کہ بعد میں نوح علیہ السلام کے بیٹوں اور پوتوں کی نسل ہی چلی جو کشتی میں سوار تھے۔ طبری نے علی بن ابی طلحہ کی معتبر سند کے ساتھ ابن عباس رضی اللہ عنھما کا قول نقل کیا ہے کہ نوح علیہ السلام کی اولاد کے سوا کوئی باقی نہیں رہا۔
اور ہم نے بعد میں آنے والے لوگوں میں ان کا ذکرِ خیر باقی رکھا۔
عبدالسلام بن محمد
اور ہم نے پیچھے آنے والوں میں اس کے لیے باقی رکھا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
نیک لوگوں کے نام زندہ رہتے ہیں ٭٭
اوپر کی آیتوں میں پہلے لوگوں کی گمراہی کا اجمالاً ذکر تھا۔ ان آیتوں میں تفصیلی بیان ہے۔ نوح نبی علیہ السلام اپنی قوم میں ساڑھے نو سو سال تک رہے اور ہر وقت انہیں سمجھاتے بجھاتے رہے لیکن تاہم قوم گمراہی پر جمی رہی سوائے چند پاک باز لوگوں کے کوئی ایمان نہ لایا۔ بلکہ ستاتے اور تکلیفیں دیتے رہے، آخر کار اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے تنگ آ کر رب سے دعا کی کہ «فَدَعَا رَبَّهُ أَنِّي مَغْلُوبٌ فَانتَصِرْ» ۱؎ [54-القمر:10] اللہ ’ میں عاجز آ گیا تو میری مدد کر ‘۔ اللہ کا غضب ان پر نازل ہوا اور تمام کفار کو تہ آب اور غرق کر دیا۔ تو فرماتا ہے کہ ’ نوح نے تنگ آ کر ہمارے جناب میں دعا کی۔ ہم تو ہیں ہی بہترین طور پر دعاؤں کے قبول کرنے والے فوراً ان کی دعا قبول فرما لی۔ اور اس تکذیب وایذاء سے جو انہیں کفار سے روز مرہ پہنچ رہی تھی ہم نے بچا لیا ‘۔ اور انہی کی اولاد سے پھر دنیا بسی، کیونکہ وہی باقی بچے تھے۔ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں تمام لوگ نوح کی اولاد میں سے ہیں۔ ترمذی کی مرفوع حدیث میں اس آیت کی تفسیر میں ہے کہ { سام حام اور یافث کی پھر اولاد پھیلی اور باقی رہی }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:3230،قال الشيخ الألباني:ضعیف] مسند میں یہ بھی ہے کہ { سام سارے عرب کے باپ ہیں اور حام تمام حبش کے اور یافث تمام روم کے }۔۱؎ [سنن ترمذي:3231،قال الشيخ الألباني:ضعیف] اس حدیث میں رومیوں سے مراد روم اول یعنی یونانی ہیں۔ جو رومی بن لیطی بن یوناں بن یافث بن نوح کی طرف منسوب ہیں۔ سعید بن مسیب رضی اللہ عنہ کا فرمان ہے کہ نوح علیہ السلام کے ایک لڑکے سام کی اولاد عرب، فارس اور رومی ہیں اور یافث کی اولاد ترک، صقالبہ اور یاجوج ماجوج ہیں اور حام کی اولاد قبطی، سوڈانی اور بربری ہیں «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ نوح علیہ السلام کی بھلائی اور ان کا ذکر خیر ان کے بعد کے لوگوں میں اللہ کی طرف سے زندہ رہا۔ تمام انبیاء علیہم السلام کی حق گوئی کا نتیجہ یہی ہوتا ہے ہمیشہ ان پر لوگ سلام بھیجتے رہیں گے اور ان کی تعریفیں بیان کرتے رہیں گے۔ نوح علیہ السلام پر سلام ہو۔ یہ گویا اگلے جملے کی تفسیر ہے یعنی ان کا ذکر بھلائی سے باقی رہنے کے معنی یہ ہیں کہ ہر امت ان پر سلام بھیجتی رہتی ہے۔ ہماری یہ عادت ہے کہ جو شخص خلوص کے ساتھ ہماری عبادت و اطاعت پر جم جائے ہم بھی اس کا ذکر جمیل بعد والوں میں ہمیشہ کے لیے باقی رکھتے ہیں۔ نوح یقین و ایمان رکھنے والوں توحید پر جم جانے والوں میں سے تھے۔ نوح اور نوح والوں کا تو یہ واقعہ ہوا۔ لیکن نوح کے مخالفین غارت اور غرق کر دئیے گئے۔ ایک آنکھ جھپکنے والی ان میں باقی نہ بچی، ایک خبر رساں زندہ نہ رہا، نشان تک باقی نہ بچا۔ ہاں ان کی ہڈیاں اور برائیاں رہ گئیں جن کی وجہ سے مخلوق کی زبان پر ان کے یہ بدترین افسانے چڑھ گئے۔
78۔ 1 یعنی قیامت تک آنے والے اہل ایمان میں ہم نے نوح ؑ کا ذکر خیر باقی چھوڑ دیا ہے اور وہ سب نوح ؑ پر سلام بھیجتے ہیں اور بھیجتے رہیں گے۔
(آیت 79،78) {وَ تَرَكْنَا عَلَيْهِ فِي الْاٰخِرِيْنَ …:} یعنی بعد میں آنے والی تمام اقوام نوح علیہ السلام پر سلام بھیجتی رہیں گی۔
اوپر کی آیتوں میں پہلے لوگوں کی گمراہی کا اجمالاً ذکر تھا۔ ان آیتوں میں تفصیلی بیان ہے۔ نوح نبی علیہ السلام اپنی قوم میں ساڑھے نو سو سال تک رہے اور ہر وقت انہیں سمجھاتے بجھاتے رہے لیکن تاہم قوم گمراہی پر جمی رہی سوائے چند پاک باز لوگوں کے کوئی ایمان نہ لایا۔ بلکہ ستاتے اور تکلیفیں دیتے رہے، آخر کار اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے تنگ آ کر رب سے دعا کی کہ «فَدَعَا رَبَّهُ أَنِّي مَغْلُوبٌ فَانتَصِرْ» ۱؎ [54-القمر:10] اللہ ’ میں عاجز آ گیا تو میری مدد کر ‘۔ اللہ کا غضب ان پر نازل ہوا اور تمام کفار کو تہ آب اور غرق کر دیا۔ تو فرماتا ہے کہ ’ نوح نے تنگ آ کر ہمارے جناب میں دعا کی۔ ہم تو ہیں ہی بہترین طور پر دعاؤں کے قبول کرنے والے فوراً ان کی دعا قبول فرما لی۔ اور اس تکذیب وایذاء سے جو انہیں کفار سے روز مرہ پہنچ رہی تھی ہم نے بچا لیا ‘۔ اور انہی کی اولاد سے پھر دنیا بسی، کیونکہ وہی باقی بچے تھے۔ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں تمام لوگ نوح کی اولاد میں سے ہیں۔ ترمذی کی مرفوع حدیث میں اس آیت کی تفسیر میں ہے کہ { سام حام اور یافث کی پھر اولاد پھیلی اور باقی رہی }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:3230،قال الشيخ الألباني:ضعیف] مسند میں یہ بھی ہے کہ { سام سارے عرب کے باپ ہیں اور حام تمام حبش کے اور یافث تمام روم کے }۔۱؎ [سنن ترمذي:3231،قال الشيخ الألباني:ضعیف] اس حدیث میں رومیوں سے مراد روم اول یعنی یونانی ہیں۔ جو رومی بن لیطی بن یوناں بن یافث بن نوح کی طرف منسوب ہیں۔ سعید بن مسیب رضی اللہ عنہ کا فرمان ہے کہ نوح علیہ السلام کے ایک لڑکے سام کی اولاد عرب، فارس اور رومی ہیں اور یافث کی اولاد ترک، صقالبہ اور یاجوج ماجوج ہیں اور حام کی اولاد قبطی، سوڈانی اور بربری ہیں «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ نوح علیہ السلام کی بھلائی اور ان کا ذکر خیر ان کے بعد کے لوگوں میں اللہ کی طرف سے زندہ رہا۔ تمام انبیاء علیہم السلام کی حق گوئی کا نتیجہ یہی ہوتا ہے ہمیشہ ان پر لوگ سلام بھیجتے رہیں گے اور ان کی تعریفیں بیان کرتے رہیں گے۔ نوح علیہ السلام پر سلام ہو۔ یہ گویا اگلے جملے کی تفسیر ہے یعنی ان کا ذکر بھلائی سے باقی رہنے کے معنی یہ ہیں کہ ہر امت ان پر سلام بھیجتی رہتی ہے۔ ہماری یہ عادت ہے کہ جو شخص خلوص کے ساتھ ہماری عبادت و اطاعت پر جم جائے ہم بھی اس کا ذکر جمیل بعد والوں میں ہمیشہ کے لیے باقی رکھتے ہیں۔ نوح یقین و ایمان رکھنے والوں توحید پر جم جانے والوں میں سے تھے۔ نوح اور نوح والوں کا تو یہ واقعہ ہوا۔ لیکن نوح کے مخالفین غارت اور غرق کر دئیے گئے۔ ایک آنکھ جھپکنے والی ان میں باقی نہ بچی، ایک خبر رساں زندہ نہ رہا، نشان تک باقی نہ بچا۔ ہاں ان کی ہڈیاں اور برائیاں رہ گئیں جن کی وجہ سے مخلوق کی زبان پر ان کے یہ بدترین افسانے چڑھ گئے۔
اوپر کی آیتوں میں پہلے لوگوں کی گمراہی کا اجمالاً ذکر تھا۔ ان آیتوں میں تفصیلی بیان ہے۔ نوح نبی علیہ السلام اپنی قوم میں ساڑھے نو سو سال تک رہے اور ہر وقت انہیں سمجھاتے بجھاتے رہے لیکن تاہم قوم گمراہی پر جمی رہی سوائے چند پاک باز لوگوں کے کوئی ایمان نہ لایا۔ بلکہ ستاتے اور تکلیفیں دیتے رہے، آخر کار اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے تنگ آ کر رب سے دعا کی کہ «فَدَعَا رَبَّهُ أَنِّي مَغْلُوبٌ فَانتَصِرْ» ۱؎ [54-القمر:10] اللہ ’ میں عاجز آ گیا تو میری مدد کر ‘۔ اللہ کا غضب ان پر نازل ہوا اور تمام کفار کو تہ آب اور غرق کر دیا۔ تو فرماتا ہے کہ ’ نوح نے تنگ آ کر ہمارے جناب میں دعا کی۔ ہم تو ہیں ہی بہترین طور پر دعاؤں کے قبول کرنے والے فوراً ان کی دعا قبول فرما لی۔ اور اس تکذیب وایذاء سے جو انہیں کفار سے روز مرہ پہنچ رہی تھی ہم نے بچا لیا ‘۔ اور انہی کی اولاد سے پھر دنیا بسی، کیونکہ وہی باقی بچے تھے۔ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں تمام لوگ نوح کی اولاد میں سے ہیں۔ ترمذی کی مرفوع حدیث میں اس آیت کی تفسیر میں ہے کہ { سام حام اور یافث کی پھر اولاد پھیلی اور باقی رہی }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:3230،قال الشيخ الألباني:ضعیف] مسند میں یہ بھی ہے کہ { سام سارے عرب کے باپ ہیں اور حام تمام حبش کے اور یافث تمام روم کے }۔۱؎ [سنن ترمذي:3231،قال الشيخ الألباني:ضعیف] اس حدیث میں رومیوں سے مراد روم اول یعنی یونانی ہیں۔ جو رومی بن لیطی بن یوناں بن یافث بن نوح کی طرف منسوب ہیں۔ سعید بن مسیب رضی اللہ عنہ کا فرمان ہے کہ نوح علیہ السلام کے ایک لڑکے سام کی اولاد عرب، فارس اور رومی ہیں اور یافث کی اولاد ترک، صقالبہ اور یاجوج ماجوج ہیں اور حام کی اولاد قبطی، سوڈانی اور بربری ہیں «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ نوح علیہ السلام کی بھلائی اور ان کا ذکر خیر ان کے بعد کے لوگوں میں اللہ کی طرف سے زندہ رہا۔ تمام انبیاء علیہم السلام کی حق گوئی کا نتیجہ یہی ہوتا ہے ہمیشہ ان پر لوگ سلام بھیجتے رہیں گے اور ان کی تعریفیں بیان کرتے رہیں گے۔ نوح علیہ السلام پر سلام ہو۔ یہ گویا اگلے جملے کی تفسیر ہے یعنی ان کا ذکر بھلائی سے باقی رہنے کے معنی یہ ہیں کہ ہر امت ان پر سلام بھیجتی رہتی ہے۔ ہماری یہ عادت ہے کہ جو شخص خلوص کے ساتھ ہماری عبادت و اطاعت پر جم جائے ہم بھی اس کا ذکر جمیل بعد والوں میں ہمیشہ کے لیے باقی رکھتے ہیں۔ نوح یقین و ایمان رکھنے والوں توحید پر جم جانے والوں میں سے تھے۔ نوح اور نوح والوں کا تو یہ واقعہ ہوا۔ لیکن نوح کے مخالفین غارت اور غرق کر دئیے گئے۔ ایک آنکھ جھپکنے والی ان میں باقی نہ بچی، ایک خبر رساں زندہ نہ رہا، نشان تک باقی نہ بچا۔ ہاں ان کی ہڈیاں اور برائیاں رہ گئیں جن کی وجہ سے مخلوق کی زبان پر ان کے یہ بدترین افسانے چڑھ گئے۔
80۔ 1 یعنی جس طرح نوح ؑ کی دعا قبول کرکے، ان کی ذریت کو باقی رکھ کے اور پچھلوں میں ان کا ذکر خیر باقی رکھ کے ہم نے نوح ؑ کو عزت و تکریم بخشی۔ اسی طرح جو بھی اپنے اقوال و افعال میں محسن اور اس باب میں راسخ اور معروف ہوگا، اس کے ساتھ بھی ہم ایسا معاملہ کریں گے۔
(آیت 80) {اِنَّا كَذٰلِكَ نَجْزِي الْمُحْسِنِيْنَ:} ”احسان“ اللہ تعالیٰ کی عبادت میں بھی ہوتا ہے اور بندوں کے ساتھ بھی۔ اللہ کی عبادت میں احسان کا ذکر حدیثِ جبریل میں ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ أَنْ تَعْبُدَ اللّٰهَ كَأَنَّكَ تَرَاهُ، فَإِنْ لَمْ تَكُنْ تَرَاهُ فَإِنَّهُ يَرَاكَ ] [ بخاري، الإیمان، باب سؤال جبریل النبي صلی اللہ علیہ وسلم …: ۵۰ ] ”(احسان یہ ہے) کہ تو اللہ کی عبادت اس طرح کرے گویا تو اسے دیکھ رہا ہے، تو اگر تُو اسے نہیں دیکھتا تو یقینا وہ تجھے دیکھ رہا ہے۔“ بندوں کے ساتھ احسان کا ذکر قارون کو اس کی قوم کی نصیحت میں ہے، فرمایا: «وَ اَحْسِنْ كَمَاۤ اَحْسَنَ اللّٰهُ اِلَيْكَ» [ القصص: ۷۷ ] ”جس طرح اللہ نے تجھ پر احسان کیا تو بھی احسان کر۔“ یعنی کسی معاوضے کی خواہش کے بغیر ان سے نیکی کر۔ آیت کا مطلب یہ ہے کہ جس طرح ہم نے نوح علیہ السلام کو جزا دی، ان کی دعا قبول کی، انھیں اور ان کے اہل کو بہت بڑی مصیبت سے نجات دی اور ان پر سلام کو تاقیامت جاری رکھا، ایسے ہی ہم سب احسان کرنے والوں کو جزا دیتے ہیں۔ اس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے ساتھیوں کے لیے بہت بڑی خوش خبری ہے۔
بیشک وہ ہمارے اعلیٰ درجہ کے کامل الایمان بندوں میں ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
بے شک وہ ہمارے ایماندار بندوں میں سے تھے۔
عبدالسلام بن محمد
یقینا وہ ہمارے مومن بندوں سے تھا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
نیک لوگوں کے نام زندہ رہتے ہیں ٭٭
اوپر کی آیتوں میں پہلے لوگوں کی گمراہی کا اجمالاً ذکر تھا۔ ان آیتوں میں تفصیلی بیان ہے۔ نوح نبی علیہ السلام اپنی قوم میں ساڑھے نو سو سال تک رہے اور ہر وقت انہیں سمجھاتے بجھاتے رہے لیکن تاہم قوم گمراہی پر جمی رہی سوائے چند پاک باز لوگوں کے کوئی ایمان نہ لایا۔ بلکہ ستاتے اور تکلیفیں دیتے رہے، آخر کار اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے تنگ آ کر رب سے دعا کی کہ «فَدَعَا رَبَّهُ أَنِّي مَغْلُوبٌ فَانتَصِرْ» ۱؎ [54-القمر:10] اللہ ’ میں عاجز آ گیا تو میری مدد کر ‘۔ اللہ کا غضب ان پر نازل ہوا اور تمام کفار کو تہ آب اور غرق کر دیا۔ تو فرماتا ہے کہ ’ نوح نے تنگ آ کر ہمارے جناب میں دعا کی۔ ہم تو ہیں ہی بہترین طور پر دعاؤں کے قبول کرنے والے فوراً ان کی دعا قبول فرما لی۔ اور اس تکذیب وایذاء سے جو انہیں کفار سے روز مرہ پہنچ رہی تھی ہم نے بچا لیا ‘۔ اور انہی کی اولاد سے پھر دنیا بسی، کیونکہ وہی باقی بچے تھے۔ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں تمام لوگ نوح کی اولاد میں سے ہیں۔ ترمذی کی مرفوع حدیث میں اس آیت کی تفسیر میں ہے کہ { سام حام اور یافث کی پھر اولاد پھیلی اور باقی رہی }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:3230،قال الشيخ الألباني:ضعیف] مسند میں یہ بھی ہے کہ { سام سارے عرب کے باپ ہیں اور حام تمام حبش کے اور یافث تمام روم کے }۔۱؎ [سنن ترمذي:3231،قال الشيخ الألباني:ضعیف] اس حدیث میں رومیوں سے مراد روم اول یعنی یونانی ہیں۔ جو رومی بن لیطی بن یوناں بن یافث بن نوح کی طرف منسوب ہیں۔ سعید بن مسیب رضی اللہ عنہ کا فرمان ہے کہ نوح علیہ السلام کے ایک لڑکے سام کی اولاد عرب، فارس اور رومی ہیں اور یافث کی اولاد ترک، صقالبہ اور یاجوج ماجوج ہیں اور حام کی اولاد قبطی، سوڈانی اور بربری ہیں «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ نوح علیہ السلام کی بھلائی اور ان کا ذکر خیر ان کے بعد کے لوگوں میں اللہ کی طرف سے زندہ رہا۔ تمام انبیاء علیہم السلام کی حق گوئی کا نتیجہ یہی ہوتا ہے ہمیشہ ان پر لوگ سلام بھیجتے رہیں گے اور ان کی تعریفیں بیان کرتے رہیں گے۔ نوح علیہ السلام پر سلام ہو۔ یہ گویا اگلے جملے کی تفسیر ہے یعنی ان کا ذکر بھلائی سے باقی رہنے کے معنی یہ ہیں کہ ہر امت ان پر سلام بھیجتی رہتی ہے۔ ہماری یہ عادت ہے کہ جو شخص خلوص کے ساتھ ہماری عبادت و اطاعت پر جم جائے ہم بھی اس کا ذکر جمیل بعد والوں میں ہمیشہ کے لیے باقی رکھتے ہیں۔ نوح یقین و ایمان رکھنے والوں توحید پر جم جانے والوں میں سے تھے۔ نوح اور نوح والوں کا تو یہ واقعہ ہوا۔ لیکن نوح کے مخالفین غارت اور غرق کر دئیے گئے۔ ایک آنکھ جھپکنے والی ان میں باقی نہ بچی، ایک خبر رساں زندہ نہ رہا، نشان تک باقی نہ بچا۔ ہاں ان کی ہڈیاں اور برائیاں رہ گئیں جن کی وجہ سے مخلوق کی زبان پر ان کے یہ بدترین افسانے چڑھ گئے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 81){ اِنَّهٗ مِنْ عِبَادِنَا الْمُؤْمِنِيْنَ:} کیونکہ وہ ہمارے مومن بندوں سے تھا۔ اس سے معلوم ہوا کہ ایمان بندوں کے مراتب میں سب سے بلند مرتبہ ہے، کیونکہ اس میں دین کے تمام عقائد و اعمال آ جاتے ہیں، پھر جیسے جیسے ایمان کامل ہو گا ویسے ہی جزا کامل ہوگی۔ اور ظاہر ہے نوح علیہ السلام اور دوسرے انبیاء کے ایمان کے کمال تک عام لوگوں کا ایمان نہیں پہنچ سکتا اور ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو تو اللہ تعالیٰ نے سید ولد آدم بنایا، ان کے ایمان کا درجہ تو سب سے عالی ہے۔
اوپر کی آیتوں میں پہلے لوگوں کی گمراہی کا اجمالاً ذکر تھا۔ ان آیتوں میں تفصیلی بیان ہے۔ نوح نبی علیہ السلام اپنی قوم میں ساڑھے نو سو سال تک رہے اور ہر وقت انہیں سمجھاتے بجھاتے رہے لیکن تاہم قوم گمراہی پر جمی رہی سوائے چند پاک باز لوگوں کے کوئی ایمان نہ لایا۔ بلکہ ستاتے اور تکلیفیں دیتے رہے، آخر کار اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے تنگ آ کر رب سے دعا کی کہ «فَدَعَا رَبَّهُ أَنِّي مَغْلُوبٌ فَانتَصِرْ» ۱؎ [54-القمر:10] اللہ ’ میں عاجز آ گیا تو میری مدد کر ‘۔ اللہ کا غضب ان پر نازل ہوا اور تمام کفار کو تہ آب اور غرق کر دیا۔ تو فرماتا ہے کہ ’ نوح نے تنگ آ کر ہمارے جناب میں دعا کی۔ ہم تو ہیں ہی بہترین طور پر دعاؤں کے قبول کرنے والے فوراً ان کی دعا قبول فرما لی۔ اور اس تکذیب وایذاء سے جو انہیں کفار سے روز مرہ پہنچ رہی تھی ہم نے بچا لیا ‘۔ اور انہی کی اولاد سے پھر دنیا بسی، کیونکہ وہی باقی بچے تھے۔ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں تمام لوگ نوح کی اولاد میں سے ہیں۔ ترمذی کی مرفوع حدیث میں اس آیت کی تفسیر میں ہے کہ { سام حام اور یافث کی پھر اولاد پھیلی اور باقی رہی }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:3230،قال الشيخ الألباني:ضعیف] مسند میں یہ بھی ہے کہ { سام سارے عرب کے باپ ہیں اور حام تمام حبش کے اور یافث تمام روم کے }۔۱؎ [سنن ترمذي:3231،قال الشيخ الألباني:ضعیف] اس حدیث میں رومیوں سے مراد روم اول یعنی یونانی ہیں۔ جو رومی بن لیطی بن یوناں بن یافث بن نوح کی طرف منسوب ہیں۔ سعید بن مسیب رضی اللہ عنہ کا فرمان ہے کہ نوح علیہ السلام کے ایک لڑکے سام کی اولاد عرب، فارس اور رومی ہیں اور یافث کی اولاد ترک، صقالبہ اور یاجوج ماجوج ہیں اور حام کی اولاد قبطی، سوڈانی اور بربری ہیں «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ نوح علیہ السلام کی بھلائی اور ان کا ذکر خیر ان کے بعد کے لوگوں میں اللہ کی طرف سے زندہ رہا۔ تمام انبیاء علیہم السلام کی حق گوئی کا نتیجہ یہی ہوتا ہے ہمیشہ ان پر لوگ سلام بھیجتے رہیں گے اور ان کی تعریفیں بیان کرتے رہیں گے۔ نوح علیہ السلام پر سلام ہو۔ یہ گویا اگلے جملے کی تفسیر ہے یعنی ان کا ذکر بھلائی سے باقی رہنے کے معنی یہ ہیں کہ ہر امت ان پر سلام بھیجتی رہتی ہے۔ ہماری یہ عادت ہے کہ جو شخص خلوص کے ساتھ ہماری عبادت و اطاعت پر جم جائے ہم بھی اس کا ذکر جمیل بعد والوں میں ہمیشہ کے لیے باقی رکھتے ہیں۔ نوح یقین و ایمان رکھنے والوں توحید پر جم جانے والوں میں سے تھے۔ نوح اور نوح والوں کا تو یہ واقعہ ہوا۔ لیکن نوح کے مخالفین غارت اور غرق کر دئیے گئے۔ ایک آنکھ جھپکنے والی ان میں باقی نہ بچی، ایک خبر رساں زندہ نہ رہا، نشان تک باقی نہ بچا۔ ہاں ان کی ہڈیاں اور برائیاں رہ گئیں جن کی وجہ سے مخلوق کی زبان پر ان کے یہ بدترین افسانے چڑھ گئے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 82) {ثُمَّ اَغْرَقْنَا الْاٰخَرِيْنَ:} پھر نوح علیہ السلام کو ملنے والی جزا میں سے ایک بہت بڑی جزا یہ ہے کہ ہم نے انھیں اور ان کے اہل کو نجات دی اور دوسرے تمام لوگوں کو غرق کر دیا جو ان پر ایمان نہیں لائے اور انھیں عمر بھر ستاتے رہے، کیونکہ دشمنوں سے انتقام کے ساتھ دل اور آنکھیں ٹھنڈی ہوتی ہیں۔
اور اس (نوح علیہ السلام کی) تابعداری کرنے والوں میں سے (ہی) ابراہیم (علیہ السلام بھی) تھے
احمد رضا خان بریلوی
اور بیشک اسی کے گروہ سے ابراہیم ہے
علامہ محمد حسین نجفی
اور انہی (نوح(ع)) کے پیروکاروں میں سے ابراہیم(ع) بھی تھے۔
عبدالسلام بن محمد
اور بے شک اس کے گروہ میں سے یقینا ابراہیم (بھی) ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
اب بھی سنبھل جاؤ ٭٭
ابراہیم علیہ السلام بھی نوح علیہ السلام کے دین پر تھے، انہی کے طریقے اور چال چلن پر تھے۔ اپنے رب کے پاس سلامت دل لے گئے یعنی توحید والا جو اللہ کو حق جانتا ہو۔ قیامت کو آنے والی مانتا ہو۔ مردوں کو دوبارہ جینے والا سمجھتا ہو۔ شرک و کفر سے بیزار ہو، دوسروں پر لعن طعن کرنے والا نہ ہو۔ خلیل اللہ علیہ السلام نے اپنی تمام قوم سے اور اپنے سگے باپ سے صاف فرمایا کہ یہ تم کس کی پوجا پاٹ کر رہے ہو؟ اللہ کے سوا دوسروں کی عبادت چھوڑ دو اپنے ان جھوٹ موٹھ کے معبودوں کی عبادت چھوڑ دو۔ ورنہ جان لو کہ اللہ تعالیٰ تمہارے ساتھ کیا کچھ نہ کرے گا اور تمہیں کیسی کچھ سخت ترین سزائیں دیگا؟
83۔ 1 شِیْۃً کے معنی گروہ اور پیروکار کے ہیں۔ یعنی ابراہیم ؑ بھی اہل دین و اہل توحید کے اسی گروہ سے ہیں جن کو نوح ؑ ہی کی طرح قائم مقام الی اللہ کی توفیق خاص نصیب ہوئی۔
(آیت 83) {وَ اِنَّ مِنْ شِيْعَتِهٖ لَاِبْرٰهِيْمَ: ”شِيْعَةٌ“ ”شَاعَ يَشِيْعُ شِيَاعًا“} (ض) سے مشتق ہے، جس کا معنی ساتھ دینا ہے، ایسی جماعت جو کسی کا ساتھ دے۔ یعنی نوح علیہ السلام کا ساتھ دینے والے گروہ میں سے ابراہیم علیہ السلام بھی ہیں، کیونکہ وہ بھی توحید، آخرت اور دین کی تمام بنیادی چیزوں کے متعلق وہی عقائد و اعمال رکھتے تھے جو نوح علیہ السلام کے تھے، بلکہ تمام انبیاء کا اصل دین ایک ہی ہے جس کا نام اسلام ہے اور سب کی امتیں ایک امت ہیں جس کا نام امتِ مسلمہ ہے، جیسا کہ فرمایا: «وَ اِنَّ هٰذِهٖۤ اُمَّتُكُمْ اُمَّةً وَّاحِدَةً وَّ اَنَا رَبُّكُمْ فَاتَّقُوْنِ» [ المؤمنون: ۵۲ ] ”اور بے شک یہ تمھاری امت ہے، جو ایک ہی امت ہے اور میں تمھارا رب ہوں، سو مجھ سے ڈرو۔“
جبکہ اپنے رب کے پاس حاضر ہوا غیر سے سلامت دل لے کر
علامہ محمد حسین نجفی
جبکہ وہ اپنے پروردگار کی بارگاہ میں قلبِ سلیم کے ساتھ حاضر ہوئے۔
عبدالسلام بن محمد
جب وہ اپنے رب کے پاس بے روگ دل لے کر آیا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
اب بھی سنبھل جاؤ ٭٭
ابراہیم علیہ السلام بھی نوح علیہ السلام کے دین پر تھے، انہی کے طریقے اور چال چلن پر تھے۔ اپنے رب کے پاس سلامت دل لے گئے یعنی توحید والا جو اللہ کو حق جانتا ہو۔ قیامت کو آنے والی مانتا ہو۔ مردوں کو دوبارہ جینے والا سمجھتا ہو۔ شرک و کفر سے بیزار ہو، دوسروں پر لعن طعن کرنے والا نہ ہو۔ خلیل اللہ علیہ السلام نے اپنی تمام قوم سے اور اپنے سگے باپ سے صاف فرمایا کہ یہ تم کس کی پوجا پاٹ کر رہے ہو؟ اللہ کے سوا دوسروں کی عبادت چھوڑ دو اپنے ان جھوٹ موٹھ کے معبودوں کی عبادت چھوڑ دو۔ ورنہ جان لو کہ اللہ تعالیٰ تمہارے ساتھ کیا کچھ نہ کرے گا اور تمہیں کیسی کچھ سخت ترین سزائیں دیگا؟
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 84){ اِذْ جَآءَ رَبَّهٗ بِقَلْبٍ سَلِيْمٍ:} جب اس نے نوح علیہ السلام کی طرح شرک، شک، منافقت، حسد، بغض، سرکشی اور ہر روگ سے پاک دل لے کر نہایت اخلاص اور عاجزی کے ساتھ اپنے رب کی طرف رجوع کیا۔
جب اُس نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے کہا "یہ کیا چیزیں ہیں جن کی تم عبادت کر رہے ہو؟
مولانا محمد جوناگڑھی
انہوں نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے کہا کہ تم کیا پوج رہے ہو؟
احمد رضا خان بریلوی
جب اس نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے فرمایا تم کیا پوجتے ہو،
علامہ محمد حسین نجفی
جبکہ انہوں نے اپنے باپ (یعنی چچا) اور اپنی قوم سے کہا کہ تم کس چیز کی عبادت کرتے ہو؟
عبدالسلام بن محمد
جب اس نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے کہا تم کس چیز کی عبادت کرتے ہو؟
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
اب بھی سنبھل جاؤ ٭٭
ابراہیم علیہ السلام بھی نوح علیہ السلام کے دین پر تھے، انہی کے طریقے اور چال چلن پر تھے۔ اپنے رب کے پاس سلامت دل لے گئے یعنی توحید والا جو اللہ کو حق جانتا ہو۔ قیامت کو آنے والی مانتا ہو۔ مردوں کو دوبارہ جینے والا سمجھتا ہو۔ شرک و کفر سے بیزار ہو، دوسروں پر لعن طعن کرنے والا نہ ہو۔ خلیل اللہ علیہ السلام نے اپنی تمام قوم سے اور اپنے سگے باپ سے صاف فرمایا کہ یہ تم کس کی پوجا پاٹ کر رہے ہو؟ اللہ کے سوا دوسروں کی عبادت چھوڑ دو اپنے ان جھوٹ موٹھ کے معبودوں کی عبادت چھوڑ دو۔ ورنہ جان لو کہ اللہ تعالیٰ تمہارے ساتھ کیا کچھ نہ کرے گا اور تمہیں کیسی کچھ سخت ترین سزائیں دیگا؟
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 85) {اِذْ قَالَ لِاَبِيْهِ وَ قَوْمِهٖ …:} ابراہیم علیہ السلام کا یہ سوال پوچھنے کے لیے نہیں بلکہ ان کی عبادت کے انکار کے لیے تھا۔
کیا اللہ کو چھوڑ کر جھوٹ گھڑے ہوئے معبود چاہتے ہو؟
مولانا محمد جوناگڑھی
کیا تم اللہ کے سوا گھڑے ہوئے معبود چاہتے ہو؟
احمد رضا خان بریلوی
کیا بہتان سے اللہ کے سوا اور خدا چاہتے ہو،
علامہ محمد حسین نجفی
کیا تم اللہ کو چھوڑ کر جھوٹے گھڑے ہوئے خداؤں کو چاہتے ہو۔
عبدالسلام بن محمد
کیا اللہ کو چھوڑ کر گھڑے ہوئے معبودوں کو چاہتے ہو؟
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
اب بھی سنبھل جاؤ ٭٭
ابراہیم علیہ السلام بھی نوح علیہ السلام کے دین پر تھے، انہی کے طریقے اور چال چلن پر تھے۔ اپنے رب کے پاس سلامت دل لے گئے یعنی توحید والا جو اللہ کو حق جانتا ہو۔ قیامت کو آنے والی مانتا ہو۔ مردوں کو دوبارہ جینے والا سمجھتا ہو۔ شرک و کفر سے بیزار ہو، دوسروں پر لعن طعن کرنے والا نہ ہو۔ خلیل اللہ علیہ السلام نے اپنی تمام قوم سے اور اپنے سگے باپ سے صاف فرمایا کہ یہ تم کس کی پوجا پاٹ کر رہے ہو؟ اللہ کے سوا دوسروں کی عبادت چھوڑ دو اپنے ان جھوٹ موٹھ کے معبودوں کی عبادت چھوڑ دو۔ ورنہ جان لو کہ اللہ تعالیٰ تمہارے ساتھ کیا کچھ نہ کرے گا اور تمہیں کیسی کچھ سخت ترین سزائیں دیگا؟
86۔ 1 یعنی اپنی طرف سے گھڑ کے کہ یہ معبود ہیں، تم اللہ کو چھوڑ کر ان کی عبادت کرتے ہو، درآں حالیکہ یہ پتھر اور مورتیاں ہیں۔
(آیت 86){ اَىِٕفْكًا اٰلِهَةً دُوْنَ اللّٰهِ تُرِيْدُوْنَ: ” ىِٕفْكًا “} مصدر بمعنی اسم مفعول برائے مبالغہ ہے اور {” اٰلِهَةً “} اس سے بدل ہے۔ {” ىِٕفْكًا “} کو اصل معنی میں لیں تو یہ مفعول لہٗ بن جائے گا۔
آخر اللہ ربّ العالمین کے بارے میں تمہارا کیا گمان ہے؟"
مولانا محمد جوناگڑھی
تو یہ (بتلاؤ کہ) تم نے رب العالمین کو کیا سمجھ رکھا ہے؟
احمد رضا خان بریلوی
تو تمہارا کیا گمان سے رب العالمین پر
علامہ محمد حسین نجفی
آخر تمام جہانوں کے پروردگار کے بارے میں تمہارا کیا خیال ہے؟
عبدالسلام بن محمد
تو جہانوں کے رب کے بارے میں تمھارا کیا گمان ہے؟
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
اب بھی سنبھل جاؤ ٭٭
ابراہیم علیہ السلام بھی نوح علیہ السلام کے دین پر تھے، انہی کے طریقے اور چال چلن پر تھے۔ اپنے رب کے پاس سلامت دل لے گئے یعنی توحید والا جو اللہ کو حق جانتا ہو۔ قیامت کو آنے والی مانتا ہو۔ مردوں کو دوبارہ جینے والا سمجھتا ہو۔ شرک و کفر سے بیزار ہو، دوسروں پر لعن طعن کرنے والا نہ ہو۔ خلیل اللہ علیہ السلام نے اپنی تمام قوم سے اور اپنے سگے باپ سے صاف فرمایا کہ یہ تم کس کی پوجا پاٹ کر رہے ہو؟ اللہ کے سوا دوسروں کی عبادت چھوڑ دو اپنے ان جھوٹ موٹھ کے معبودوں کی عبادت چھوڑ دو۔ ورنہ جان لو کہ اللہ تعالیٰ تمہارے ساتھ کیا کچھ نہ کرے گا اور تمہیں کیسی کچھ سخت ترین سزائیں دیگا؟
87۔ 1 یعنی اتنی قبیح حرکت کرنے کے باوجود کیا تم پر ناراض نہیں ہوگا اور تمہیں سزا نہیں دے گا۔
(آیت 87){ فَمَا ظَنُّكُمْ بِرَبِّ الْعٰلَمِيْنَ:} یعنی رب العالمین جو پوری کائنات کا مالک ہے اور تمام جہانوں کے ایک ایک ذرے کی پرورش کر رہا ہے، اس کے متعلق تمھارا کیا گمان ہے؟ کیا تم نے اس میں کوئی نقص یا عیب پایا کہ اپنے گھڑے ہوئے معبودوں کی عبادت کرنے لگے اور اس کی گرفت سے بالکل بے خوف ہو گئے؟
اب ابراہیم (علیہ السلام) نے ایک نگاه ستاروں کی طرف اٹھائی
احمد رضا خان بریلوی
پھر اس نے ایک نگاہ ستاروں کو دیکھا
علامہ محمد حسین نجفی
پھر آپ نے ستاروں پر ایک نگاہ ڈالی۔
عبدالسلام بن محمد
پس اس نے ستاروں میں ایک نگاہ ڈالی۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
بت کدہ آذر اور ابراہیم علیہ السلام ٭٭
حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنی قوم سے یہ اس لیے فرمایا کہ وہ جب اپنے میلے میں چلے جائیں تو یہ ان کے عبادت خانے میں تنہارہ جائیں اور ان کے بتوں کو توڑ نے کا تنہائی میں موقعہ مل جائے۔ اسی لیے ایک ایسی بات کہی جو درحقیقت سچی بات تھی لیکن ان کی سمجھ میں جو مطلب اس کا آیا اس سے آپ علیہ السلام نے اپنا دینی کام نکال لیا۔ وہ تو اپنے اعتقاد کے موجب ابراہیم علیہ السلام کو سچ مچ بیمار سمجھ بیٹھے اور انہیں چھوڑ کر چلتے بنے۔ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”جو شخص کسی امر میں غور و فکر کرے تو عرب کہتے ہیں اس نے ستاروں پر نظریں ڈالیں۔“ مطلب یہ ہے کہ غور وفکر کے ساتھ تاروں کی طرف نگاہ اٹھائی۔ اور سوچنے لگے کہ میں انہیں کس طرح ٹالوں۔ سوچ سمجھ کر فرمایا کہ ”میں سقم ہوں یعنی ضعیف ہوں۔“ ایک حدیث میں آیا کہ { ابراہیم علیہ السلام نے صرف تین ہی جھوٹ بولے ہیں جن میں سے دو تو اللہ کے دین کے لیے ان کا فرمان «فَقَالَ اِنِّىْ سَقِيْمٌ» ۱؎ [37-الصافات:89] اور ان کا فرمان «قَالَ بَلْ فَعَلَه ٗٗ كَبِيْرُهُمْ ھٰذَا فَسْـَٔــلُوْهُمْ اِنْ كَانُوْا يَنْطِقُوْنَ» ۱؎ [21-الأنبياء:63] اور ایک ان کا سارہ رضی اللہ عنہا کو اپنی بہن کہنا }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:3357] تو یاد رہے کہ دراصل ان میں حقیقی جھوٹ ایک بھی نہیں۔ انہیں تو صرف مجازاً جھوٹ کہا گیا ہے کلام میں ایسی تعریفیں کسی شرعی مقصد کے لیے کرنا جھوٹ میں داخل نہیں، جیسا کہ حدیث میں بھی ہے کہ { تعریض جھوٹ سے الگ ہے اور اس سے بے نیاز کر دیتی ہے }۔ ابن ابی حاتم میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں، { خلیل اللہ علیہ السلام کے ان تینوں کلمات میں سے ایک بھی ایسا نہیں جس سے حکمت عملی کے ساتھ دین اللہ کی بھلائی مقصود نہ ہو } }۔۱؎ [تاریخ دمشق لا بن عساکر:320/2:ضعیف]
حضرت سفیان رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”میں بیمار ہوں سے مطلب مجھے طاعون ہو گیا ہے۔ اور وہ لوگ ایسے مریض سے بھاگتے تھے۔“ سعید رحمہ اللہ کا بیان ہے کہ ”اللہ کے دین کی تبلیغ ان کے جھوٹے معبودوں کی تردید کے لیے خلیل اللہ علیہ السلام کی یہ ایک حکمت عملی تھی کہ ایک ستارے کو طلوع ہوتے دیکھ کر فرما دیا کہ میں مقیم ہوں۔“ اوروں نے یہ بھی لکھا ہے کہ ”میں بیمار ہونے والا ہوں یعنی یقیناً ایک مرتبہ مرض الموت آنے والا ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ مریض ہوں یعنی میرا دل تمہارے ان بتوں کی عبادت سے بیمار ہے۔“
حضرت حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں جب آپ علیہ السلام کی قوم میلے میں جانے لگی تو آپ علیہ السلام کو بھی مجبور کرنے لگی آپ علیہ السلام ہٹ گئے اور فرما دیا کہ ”میں مقیم ہوں اور آسمان کی طرف دیکھنے لگے۔“ جب وہ انہیں تنہا چھوڑ کر چل دئیے تو آپ علیہ السلام نے بہ فراغت ان کے معبودوں کے ٹکڑے ٹکڑے کر دئیے۔ وہ تو سب اپنی عید میں گئے آپ علیہ السلام چپکے چپکے اور جلدی جلدی ان کے بتوں کے پاس آئے۔ پہلے تو فرمایا کیوں جی تم کھاتے کیوں نہیں؟ یہاں آ کر خلیل اللہ علیہ السلام نے دیکھا کہ جو چڑھا وے ان لوگوں نے ان بتوں پر چڑھا رکھے تھے وہ سب رکھے ہوئے تھے ان لوگوں نے تبرک کی نیت سے جو قربانیاں یہاں کی تھیں وہ سب یونہی پڑی ہوئی تھیں یہ بت خانہ بڑا وسیع اور مزین تھا دروازے کے متصل ایک بہت بڑا بت تھا اور اس کے اردگرد اس سے چھوٹے پھر ان سے چھوٹے یونہی تمام بت خانہ بھرا ہوا تھا۔ ان کے پاس مختلف قسم کے کھانے رکھے ہوئے تھے جو اس اعتقاد سے رکھے گئے تھے کہ یہاں رہنے سے متبرک ہو جائیں گے پھر ہم کھالیں گے۔ ابراہیم علیہ السلام نے اپنی بات کا جواب نہ پاکر پھر فرمایا ”یہ تمہیں کیا ہو گیا ہے؟ بولتے کیوں نہیں۔“ اب تو پوری قوت سے دائیں ہاتھ سے مار کر ان کے ٹکڑے ٹکڑے کر دئیے۔ ہاں بڑے بت کو چھوڑ دیا تاکہ اس پر بدگمانی کی جا سکے۔
جیسا کہ سورۃ انبیاء میں گزر چکا ہے اور وہیں اس کی پوری تفسیر بھی بیان ہو چکی ہے۔ بت پرست جب اپنے میلے سے واپس ہوئے بت خانے میں گھسے تو دیکھا کہ ان کے سب خدا اڑنگ بڑنگ پڑے ہوئے ہیں کسی کا ہاتھ نہیں کسی کا پاؤں نہیں کسی کا سر نہیں کسی کا دھڑ نہیں حیران ہو گئے کہ یہ کیا ہوا؟ آخر سوچ سمجھ کر بحث مباحثے کے بعد معلوم کر لیا کہ ہو نہ ہو یہ کام ابراہیم کا ہے (علیہ الصلوۃ والسلام)۔ اب سارے کے سارے مل جل کر خلیل علیہ السلام کے پاس دوڑے، بھاگے، دانت پیستے، تلملائے کوستے گئے۔ خلیل اللہ علیہ السلام کو تبلیغ کا اور انہیں قائل معقول کرنے کا اور سمجھانے کا اچھا موقعہ ملا فرمانے لگے ”کیوں ان چیزوں کی پرستش کرتے ہو جنہیں خود تم بناتے ہو؟ اپنے ہاتھوں گھڑتے اور تراشتے ہو؟ حالانکہ تمہارا اور تمہارے اعمال کا خالق اللہ ہی ہے۔“ ممکن ہے کہ اس آیت میں «ما» مصدریہ ہو اور ممکن ہے کہ «الَّذِی» کے معنی میں ہو، لیکن دونوں معنی میں تلازم ہے۔ گو اول زیادہ ظاہر ہے۔ چنانچہ امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ کی کتاب افعال العباد میں ایک مرفوع حدیث ہے کہ { اللہ تعالیٰ ہر صانع اور اس کی صنعت کو پیدا کرتا ہے }۔ ۱؎ [خلق افعال العباد:17:صحیح] پھر بعض نے اسی آیت کی تلاوت کی۔ چونکہ اس پاک صاف بات کا کوئی جواب ان کے پاس نہ تھا تو تنگ آ کر دشمنی پر اور سفلہ پن پر اتر آئے اور کہنے لگے ایک بنیان بناؤ اس میں آگ جلاؤ اور اسے اس میں ڈال دو۔ چنانچہ یہی انہوں نے کیا لیکن اللہ تعالیٰ نے اپنے خلیل کو اس سے نجات دی۔ انہی کو غلبہ دیا اور انہی کی مدد فرمائی۔ گو انہوں نے انہیں برائی پہنچانی چاہی لیکن اللہ نے خود انہیں ذلیل کر دیا۔ اس کا پورا بیان اور کامل تفسیر سورۃ انبیاء ۱؎ [21-الأنبياء:1] میں گزر چکی ہے وہیں دیکھ لی جائے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 88) {فَنَظَرَ نَظْرَةً فِي النُّجُوْمِ:} ابراہیم علیہ السلام نے جب دیکھا کہ محض زبانی نصیحت سے وہ بتوں کے بے بس اور بے اختیار ہونے کو ماننے کے لیے تیار نہیں بلکہ اس مقصد کے لیے عملاً انھیں توڑنا پڑے گا تو انھوں نے پہلے تو اعلان کیا کہ اللہ کی قسم! جب تم کہیں گئے تو میں تمھارے بتوں کی کوئی تدبیر ضرور کروں گا۔ (دیکھیے انبیاء: ۵۷) پھر مناسب موقع کا انتظار کرنے لگے، کیونکہ ان کی موجودگی میں یہ کام نہیں ہو سکتا تھا۔ اسی دوران ان کی قوم کے ایک جشن یا میلے کا دن آ گیا، انھوں نے ابراہیم علیہ السلام کو اس میں شرکت کی دعوت دی۔ ابراہیم علیہ السلام چاہتے تھے کہ جب وہ لوگ اپنے میلے میں چلے جائیں اور ان کے بتوں کے پاس کوئی نہ رہے تو اطمینان کے ساتھ انھیں توڑ دیں، اس لیے انھوں نے پہلے تو ستاروں میں ایک نگاہ ڈالی۔ ستاروں میں نگاہ ڈالنے کا مقصد کیا تھا؟ بعض مفسرین نے فرمایا کہ یہ محاورہ ہے جو غوروفکر کے معنی میں استعمال ہوتا ہے، کیونکہ جب کوئی غور طلب معاملہ سامنے آتا ہے تو آدمی آسمان کی طرف دیکھتا ہے، یعنی ابراہیم علیہ السلام نے ستاروں میں ایک نگاہ ڈالی، کچھ سوچا اور کہا کہ میں تو بیمار ہوں، اور بعض مفسرین نے فرمایا کہ ابراہیم علیہ السلام کی قوم بتوں کے علاوہ سورج، چاند اور ستاروں کی پرستش بھی کرتی تھی اور ستاروں کو حوادث زمانہ میں مؤثر سمجھتی تھی، اس لیے ابراہیم علیہ السلام نے انھیں مغالطہ دینے کے لیے کہا کہ میں تو بیمار ہوں، یا بیمار ہونے والا ہوں، تاکہ وہ سمجھیں کہ انھوں نے یہ بات ستاروں کو دیکھ کر معلوم کی ہے۔
حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنی قوم سے یہ اس لیے فرمایا کہ وہ جب اپنے میلے میں چلے جائیں تو یہ ان کے عبادت خانے میں تنہارہ جائیں اور ان کے بتوں کو توڑ نے کا تنہائی میں موقعہ مل جائے۔ اسی لیے ایک ایسی بات کہی جو درحقیقت سچی بات تھی لیکن ان کی سمجھ میں جو مطلب اس کا آیا اس سے آپ علیہ السلام نے اپنا دینی کام نکال لیا۔ وہ تو اپنے اعتقاد کے موجب ابراہیم علیہ السلام کو سچ مچ بیمار سمجھ بیٹھے اور انہیں چھوڑ کر چلتے بنے۔ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”جو شخص کسی امر میں غور و فکر کرے تو عرب کہتے ہیں اس نے ستاروں پر نظریں ڈالیں۔“ مطلب یہ ہے کہ غور وفکر کے ساتھ تاروں کی طرف نگاہ اٹھائی۔ اور سوچنے لگے کہ میں انہیں کس طرح ٹالوں۔ سوچ سمجھ کر فرمایا کہ ”میں سقم ہوں یعنی ضعیف ہوں۔“ ایک حدیث میں آیا کہ { ابراہیم علیہ السلام نے صرف تین ہی جھوٹ بولے ہیں جن میں سے دو تو اللہ کے دین کے لیے ان کا فرمان «فَقَالَ اِنِّىْ سَقِيْمٌ» ۱؎ [37-الصافات:89] اور ان کا فرمان «قَالَ بَلْ فَعَلَه ٗٗ كَبِيْرُهُمْ ھٰذَا فَسْـَٔــلُوْهُمْ اِنْ كَانُوْا يَنْطِقُوْنَ» ۱؎ [21-الأنبياء:63] اور ایک ان کا سارہ رضی اللہ عنہا کو اپنی بہن کہنا }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:3357] تو یاد رہے کہ دراصل ان میں حقیقی جھوٹ ایک بھی نہیں۔ انہیں تو صرف مجازاً جھوٹ کہا گیا ہے کلام میں ایسی تعریفیں کسی شرعی مقصد کے لیے کرنا جھوٹ میں داخل نہیں، جیسا کہ حدیث میں بھی ہے کہ { تعریض جھوٹ سے الگ ہے اور اس سے بے نیاز کر دیتی ہے }۔ ابن ابی حاتم میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں، { خلیل اللہ علیہ السلام کے ان تینوں کلمات میں سے ایک بھی ایسا نہیں جس سے حکمت عملی کے ساتھ دین اللہ کی بھلائی مقصود نہ ہو } }۔۱؎ [تاریخ دمشق لا بن عساکر:320/2:ضعیف]
حضرت سفیان رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”میں بیمار ہوں سے مطلب مجھے طاعون ہو گیا ہے۔ اور وہ لوگ ایسے مریض سے بھاگتے تھے۔“ سعید رحمہ اللہ کا بیان ہے کہ ”اللہ کے دین کی تبلیغ ان کے جھوٹے معبودوں کی تردید کے لیے خلیل اللہ علیہ السلام کی یہ ایک حکمت عملی تھی کہ ایک ستارے کو طلوع ہوتے دیکھ کر فرما دیا کہ میں مقیم ہوں۔“ اوروں نے یہ بھی لکھا ہے کہ ”میں بیمار ہونے والا ہوں یعنی یقیناً ایک مرتبہ مرض الموت آنے والا ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ مریض ہوں یعنی میرا دل تمہارے ان بتوں کی عبادت سے بیمار ہے۔“
حضرت حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں جب آپ علیہ السلام کی قوم میلے میں جانے لگی تو آپ علیہ السلام کو بھی مجبور کرنے لگی آپ علیہ السلام ہٹ گئے اور فرما دیا کہ ”میں مقیم ہوں اور آسمان کی طرف دیکھنے لگے۔“ جب وہ انہیں تنہا چھوڑ کر چل دئیے تو آپ علیہ السلام نے بہ فراغت ان کے معبودوں کے ٹکڑے ٹکڑے کر دئیے۔ وہ تو سب اپنی عید میں گئے آپ علیہ السلام چپکے چپکے اور جلدی جلدی ان کے بتوں کے پاس آئے۔ پہلے تو فرمایا کیوں جی تم کھاتے کیوں نہیں؟ یہاں آ کر خلیل اللہ علیہ السلام نے دیکھا کہ جو چڑھا وے ان لوگوں نے ان بتوں پر چڑھا رکھے تھے وہ سب رکھے ہوئے تھے ان لوگوں نے تبرک کی نیت سے جو قربانیاں یہاں کی تھیں وہ سب یونہی پڑی ہوئی تھیں یہ بت خانہ بڑا وسیع اور مزین تھا دروازے کے متصل ایک بہت بڑا بت تھا اور اس کے اردگرد اس سے چھوٹے پھر ان سے چھوٹے یونہی تمام بت خانہ بھرا ہوا تھا۔ ان کے پاس مختلف قسم کے کھانے رکھے ہوئے تھے جو اس اعتقاد سے رکھے گئے تھے کہ یہاں رہنے سے متبرک ہو جائیں گے پھر ہم کھالیں گے۔ ابراہیم علیہ السلام نے اپنی بات کا جواب نہ پاکر پھر فرمایا ”یہ تمہیں کیا ہو گیا ہے؟ بولتے کیوں نہیں۔“ اب تو پوری قوت سے دائیں ہاتھ سے مار کر ان کے ٹکڑے ٹکڑے کر دئیے۔ ہاں بڑے بت کو چھوڑ دیا تاکہ اس پر بدگمانی کی جا سکے۔
جیسا کہ سورۃ انبیاء میں گزر چکا ہے اور وہیں اس کی پوری تفسیر بھی بیان ہو چکی ہے۔ بت پرست جب اپنے میلے سے واپس ہوئے بت خانے میں گھسے تو دیکھا کہ ان کے سب خدا اڑنگ بڑنگ پڑے ہوئے ہیں کسی کا ہاتھ نہیں کسی کا پاؤں نہیں کسی کا سر نہیں کسی کا دھڑ نہیں حیران ہو گئے کہ یہ کیا ہوا؟ آخر سوچ سمجھ کر بحث مباحثے کے بعد معلوم کر لیا کہ ہو نہ ہو یہ کام ابراہیم کا ہے (علیہ الصلوۃ والسلام)۔ اب سارے کے سارے مل جل کر خلیل علیہ السلام کے پاس دوڑے، بھاگے، دانت پیستے، تلملائے کوستے گئے۔ خلیل اللہ علیہ السلام کو تبلیغ کا اور انہیں قائل معقول کرنے کا اور سمجھانے کا اچھا موقعہ ملا فرمانے لگے ”کیوں ان چیزوں کی پرستش کرتے ہو جنہیں خود تم بناتے ہو؟ اپنے ہاتھوں گھڑتے اور تراشتے ہو؟ حالانکہ تمہارا اور تمہارے اعمال کا خالق اللہ ہی ہے۔“ ممکن ہے کہ اس آیت میں «ما» مصدریہ ہو اور ممکن ہے کہ «الَّذِی» کے معنی میں ہو، لیکن دونوں معنی میں تلازم ہے۔ گو اول زیادہ ظاہر ہے۔ چنانچہ امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ کی کتاب افعال العباد میں ایک مرفوع حدیث ہے کہ { اللہ تعالیٰ ہر صانع اور اس کی صنعت کو پیدا کرتا ہے }۔ ۱؎ [خلق افعال العباد:17:صحیح] پھر بعض نے اسی آیت کی تلاوت کی۔ چونکہ اس پاک صاف بات کا کوئی جواب ان کے پاس نہ تھا تو تنگ آ کر دشمنی پر اور سفلہ پن پر اتر آئے اور کہنے لگے ایک بنیان بناؤ اس میں آگ جلاؤ اور اسے اس میں ڈال دو۔ چنانچہ یہی انہوں نے کیا لیکن اللہ تعالیٰ نے اپنے خلیل کو اس سے نجات دی۔ انہی کو غلبہ دیا اور انہی کی مدد فرمائی۔ گو انہوں نے انہیں برائی پہنچانی چاہی لیکن اللہ نے خود انہیں ذلیل کر دیا۔ اس کا پورا بیان اور کامل تفسیر سورۃ انبیاء ۱؎ [21-الأنبياء:1] میں گزر چکی ہے وہیں دیکھ لی جائے۔
89۔ 1 آسمان پر غور و فکر کے لئے دیکھا جیسا کہ بعض لوگ ایسا کرتے ہیں۔ یا اپنی ہی قوم کے لوگوں کو مغالطے میں ڈالنے کے لئے ایسا کیا، جو کہ ستاروں کی گردش کو حوادث زمانہ میں مؤثر مانتے تھے۔ یہ واقعہ اس وقت کا ہے کہ جب ان کی قوم کا وہ دن آیا، جسے وہ باہر جا کر بطور عید اور قومی تہوار منایا کرتی تھی۔ قوم نے حضرت ابراہیم ؑ کو بھی ساتھ چلنے کی دعوت دی۔ لیکن ابراہیم ؑ تنہائی اور موقعے کی تلاش میں تھے، تاکہ ان کے بتوں کا تیاپانچہ (یعنی توڑ پھوڑ دیا جاسکے)۔ چناچہ انہوں نے یہ موقع غنیمت جانا کہ کل ساری قوم باہر میلے میں چلی جائیگی تو میں اپنا منصوبہ بروئے کار لے آؤں گا۔ اور کہہ دیا کہ میں بیمار ہوں یا آسمانوں کی گردش بتاتی ہے کہ میں بیمار ہونے والا ہوں۔ یہ بات بالکل جھوٹی نہیں تھی، ہر انسان کچھ نہ کچھ بیمار ہوتا ہی ہے، علاوہ ازیں قوم کا شرک ابراہیم ؑ کے دل کا ایک مستقل روگ تھا جسے دیکھ وہ کڑتے رہتے تھے، جیسا کہ اس کی ضروری تفصیل سورة انبیاء۔ 63 میں گزر چکی ہے۔
(آیت 89) {فَقَالَ اِنِّيْ سَقِيْمٌ:} یہ ایسی بات تھی جو درحقیقت سچی تھی، کیونکہ عموماً آدمی کی طبیعت کچھ نہ کچھ خراب ہوتی ہے، مگر قوم نے اس کا مطلب کچھ اور سمجھا (کہ وہ جانے کے قابل نہیں ہیں) جس سے ابراہیم علیہ السلام اپنا مقصد حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے۔ ایسی باتوں کو جن میں کہنے والے کی نیت کچھ ہو اور سننے والا کچھ اور سمجھے ”معاریض“ کہتے ہیں، جن کے ساتھ آدمی صریح جھوٹ سے بچ جاتا ہے۔ صحیح بخاری (۳۳۵۸) میں ابراہیم علیہ السلام کی {”ثَلَاثَ كَذِبَاتٍ“} والی حدیث پر مفصل بحث کے لیے دیکھیے سورۂ انبیاء کی آیت (۶۲، ۶۳) کی تفسیر۔
حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنی قوم سے یہ اس لیے فرمایا کہ وہ جب اپنے میلے میں چلے جائیں تو یہ ان کے عبادت خانے میں تنہارہ جائیں اور ان کے بتوں کو توڑ نے کا تنہائی میں موقعہ مل جائے۔ اسی لیے ایک ایسی بات کہی جو درحقیقت سچی بات تھی لیکن ان کی سمجھ میں جو مطلب اس کا آیا اس سے آپ علیہ السلام نے اپنا دینی کام نکال لیا۔ وہ تو اپنے اعتقاد کے موجب ابراہیم علیہ السلام کو سچ مچ بیمار سمجھ بیٹھے اور انہیں چھوڑ کر چلتے بنے۔ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”جو شخص کسی امر میں غور و فکر کرے تو عرب کہتے ہیں اس نے ستاروں پر نظریں ڈالیں۔“ مطلب یہ ہے کہ غور وفکر کے ساتھ تاروں کی طرف نگاہ اٹھائی۔ اور سوچنے لگے کہ میں انہیں کس طرح ٹالوں۔ سوچ سمجھ کر فرمایا کہ ”میں سقم ہوں یعنی ضعیف ہوں۔“ ایک حدیث میں آیا کہ { ابراہیم علیہ السلام نے صرف تین ہی جھوٹ بولے ہیں جن میں سے دو تو اللہ کے دین کے لیے ان کا فرمان «فَقَالَ اِنِّىْ سَقِيْمٌ» ۱؎ [37-الصافات:89] اور ان کا فرمان «قَالَ بَلْ فَعَلَه ٗٗ كَبِيْرُهُمْ ھٰذَا فَسْـَٔــلُوْهُمْ اِنْ كَانُوْا يَنْطِقُوْنَ» ۱؎ [21-الأنبياء:63] اور ایک ان کا سارہ رضی اللہ عنہا کو اپنی بہن کہنا }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:3357] تو یاد رہے کہ دراصل ان میں حقیقی جھوٹ ایک بھی نہیں۔ انہیں تو صرف مجازاً جھوٹ کہا گیا ہے کلام میں ایسی تعریفیں کسی شرعی مقصد کے لیے کرنا جھوٹ میں داخل نہیں، جیسا کہ حدیث میں بھی ہے کہ { تعریض جھوٹ سے الگ ہے اور اس سے بے نیاز کر دیتی ہے }۔ ابن ابی حاتم میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں، { خلیل اللہ علیہ السلام کے ان تینوں کلمات میں سے ایک بھی ایسا نہیں جس سے حکمت عملی کے ساتھ دین اللہ کی بھلائی مقصود نہ ہو } }۔۱؎ [تاریخ دمشق لا بن عساکر:320/2:ضعیف]
حضرت سفیان رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”میں بیمار ہوں سے مطلب مجھے طاعون ہو گیا ہے۔ اور وہ لوگ ایسے مریض سے بھاگتے تھے۔“ سعید رحمہ اللہ کا بیان ہے کہ ”اللہ کے دین کی تبلیغ ان کے جھوٹے معبودوں کی تردید کے لیے خلیل اللہ علیہ السلام کی یہ ایک حکمت عملی تھی کہ ایک ستارے کو طلوع ہوتے دیکھ کر فرما دیا کہ میں مقیم ہوں۔“ اوروں نے یہ بھی لکھا ہے کہ ”میں بیمار ہونے والا ہوں یعنی یقیناً ایک مرتبہ مرض الموت آنے والا ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ مریض ہوں یعنی میرا دل تمہارے ان بتوں کی عبادت سے بیمار ہے۔“
حضرت حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں جب آپ علیہ السلام کی قوم میلے میں جانے لگی تو آپ علیہ السلام کو بھی مجبور کرنے لگی آپ علیہ السلام ہٹ گئے اور فرما دیا کہ ”میں مقیم ہوں اور آسمان کی طرف دیکھنے لگے۔“ جب وہ انہیں تنہا چھوڑ کر چل دئیے تو آپ علیہ السلام نے بہ فراغت ان کے معبودوں کے ٹکڑے ٹکڑے کر دئیے۔ وہ تو سب اپنی عید میں گئے آپ علیہ السلام چپکے چپکے اور جلدی جلدی ان کے بتوں کے پاس آئے۔ پہلے تو فرمایا کیوں جی تم کھاتے کیوں نہیں؟ یہاں آ کر خلیل اللہ علیہ السلام نے دیکھا کہ جو چڑھا وے ان لوگوں نے ان بتوں پر چڑھا رکھے تھے وہ سب رکھے ہوئے تھے ان لوگوں نے تبرک کی نیت سے جو قربانیاں یہاں کی تھیں وہ سب یونہی پڑی ہوئی تھیں یہ بت خانہ بڑا وسیع اور مزین تھا دروازے کے متصل ایک بہت بڑا بت تھا اور اس کے اردگرد اس سے چھوٹے پھر ان سے چھوٹے یونہی تمام بت خانہ بھرا ہوا تھا۔ ان کے پاس مختلف قسم کے کھانے رکھے ہوئے تھے جو اس اعتقاد سے رکھے گئے تھے کہ یہاں رہنے سے متبرک ہو جائیں گے پھر ہم کھالیں گے۔ ابراہیم علیہ السلام نے اپنی بات کا جواب نہ پاکر پھر فرمایا ”یہ تمہیں کیا ہو گیا ہے؟ بولتے کیوں نہیں۔“ اب تو پوری قوت سے دائیں ہاتھ سے مار کر ان کے ٹکڑے ٹکڑے کر دئیے۔ ہاں بڑے بت کو چھوڑ دیا تاکہ اس پر بدگمانی کی جا سکے۔
جیسا کہ سورۃ انبیاء میں گزر چکا ہے اور وہیں اس کی پوری تفسیر بھی بیان ہو چکی ہے۔ بت پرست جب اپنے میلے سے واپس ہوئے بت خانے میں گھسے تو دیکھا کہ ان کے سب خدا اڑنگ بڑنگ پڑے ہوئے ہیں کسی کا ہاتھ نہیں کسی کا پاؤں نہیں کسی کا سر نہیں کسی کا دھڑ نہیں حیران ہو گئے کہ یہ کیا ہوا؟ آخر سوچ سمجھ کر بحث مباحثے کے بعد معلوم کر لیا کہ ہو نہ ہو یہ کام ابراہیم کا ہے (علیہ الصلوۃ والسلام)۔ اب سارے کے سارے مل جل کر خلیل علیہ السلام کے پاس دوڑے، بھاگے، دانت پیستے، تلملائے کوستے گئے۔ خلیل اللہ علیہ السلام کو تبلیغ کا اور انہیں قائل معقول کرنے کا اور سمجھانے کا اچھا موقعہ ملا فرمانے لگے ”کیوں ان چیزوں کی پرستش کرتے ہو جنہیں خود تم بناتے ہو؟ اپنے ہاتھوں گھڑتے اور تراشتے ہو؟ حالانکہ تمہارا اور تمہارے اعمال کا خالق اللہ ہی ہے۔“ ممکن ہے کہ اس آیت میں «ما» مصدریہ ہو اور ممکن ہے کہ «الَّذِی» کے معنی میں ہو، لیکن دونوں معنی میں تلازم ہے۔ گو اول زیادہ ظاہر ہے۔ چنانچہ امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ کی کتاب افعال العباد میں ایک مرفوع حدیث ہے کہ { اللہ تعالیٰ ہر صانع اور اس کی صنعت کو پیدا کرتا ہے }۔ ۱؎ [خلق افعال العباد:17:صحیح] پھر بعض نے اسی آیت کی تلاوت کی۔ چونکہ اس پاک صاف بات کا کوئی جواب ان کے پاس نہ تھا تو تنگ آ کر دشمنی پر اور سفلہ پن پر اتر آئے اور کہنے لگے ایک بنیان بناؤ اس میں آگ جلاؤ اور اسے اس میں ڈال دو۔ چنانچہ یہی انہوں نے کیا لیکن اللہ تعالیٰ نے اپنے خلیل کو اس سے نجات دی۔ انہی کو غلبہ دیا اور انہی کی مدد فرمائی۔ گو انہوں نے انہیں برائی پہنچانی چاہی لیکن اللہ نے خود انہیں ذلیل کر دیا۔ اس کا پورا بیان اور کامل تفسیر سورۃ انبیاء ۱؎ [21-الأنبياء:1] میں گزر چکی ہے وہیں دیکھ لی جائے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 90) {فَتَوَلَّوْا عَنْهُ مُدْبِرِيْنَ:} تو وہ لوگ انھیں وہیں چھوڑ کر چلے گئے۔
اُن کے پیچھے وہ چپکے سے اُن کے معبودوں کے مندر میں گھس گیا اور بولا " آپ لوگ کھاتے کیوں نہیں ہیں؟
مولانا محمد جوناگڑھی
آپ (چﭗ چپاتے) ان کے معبودوں کے پاس گئے اور فرمانے لگے تم کھاتے کیوں نہیں؟
احمد رضا خان بریلوی
پھر ان کے خداؤں کی طرف چھپ کر چلا تو کہا کیا تم نہیں کھاتے
علامہ محمد حسین نجفی
پس چپکے سے ان کے دیوتاؤں کی طرف گئے اور (ان سے) کہا کہ تم کھاتے کیوں نہیں؟
عبدالسلام بن محمد
تو وہ چپکے سے ان کے معبودوں کی طرف گیا اور اس نے کہا کیا تم کھاتے نہیں؟
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
بت کدہ آذر اور ابراہیم علیہ السلام ٭٭
حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنی قوم سے یہ اس لیے فرمایا کہ وہ جب اپنے میلے میں چلے جائیں تو یہ ان کے عبادت خانے میں تنہارہ جائیں اور ان کے بتوں کو توڑ نے کا تنہائی میں موقعہ مل جائے۔ اسی لیے ایک ایسی بات کہی جو درحقیقت سچی بات تھی لیکن ان کی سمجھ میں جو مطلب اس کا آیا اس سے آپ علیہ السلام نے اپنا دینی کام نکال لیا۔ وہ تو اپنے اعتقاد کے موجب ابراہیم علیہ السلام کو سچ مچ بیمار سمجھ بیٹھے اور انہیں چھوڑ کر چلتے بنے۔ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”جو شخص کسی امر میں غور و فکر کرے تو عرب کہتے ہیں اس نے ستاروں پر نظریں ڈالیں۔“ مطلب یہ ہے کہ غور وفکر کے ساتھ تاروں کی طرف نگاہ اٹھائی۔ اور سوچنے لگے کہ میں انہیں کس طرح ٹالوں۔ سوچ سمجھ کر فرمایا کہ ”میں سقم ہوں یعنی ضعیف ہوں۔“ ایک حدیث میں آیا کہ { ابراہیم علیہ السلام نے صرف تین ہی جھوٹ بولے ہیں جن میں سے دو تو اللہ کے دین کے لیے ان کا فرمان «فَقَالَ اِنِّىْ سَقِيْمٌ» ۱؎ [37-الصافات:89] اور ان کا فرمان «قَالَ بَلْ فَعَلَه ٗٗ كَبِيْرُهُمْ ھٰذَا فَسْـَٔــلُوْهُمْ اِنْ كَانُوْا يَنْطِقُوْنَ» ۱؎ [21-الأنبياء:63] اور ایک ان کا سارہ رضی اللہ عنہا کو اپنی بہن کہنا }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:3357] تو یاد رہے کہ دراصل ان میں حقیقی جھوٹ ایک بھی نہیں۔ انہیں تو صرف مجازاً جھوٹ کہا گیا ہے کلام میں ایسی تعریفیں کسی شرعی مقصد کے لیے کرنا جھوٹ میں داخل نہیں، جیسا کہ حدیث میں بھی ہے کہ { تعریض جھوٹ سے الگ ہے اور اس سے بے نیاز کر دیتی ہے }۔ ابن ابی حاتم میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں، { خلیل اللہ علیہ السلام کے ان تینوں کلمات میں سے ایک بھی ایسا نہیں جس سے حکمت عملی کے ساتھ دین اللہ کی بھلائی مقصود نہ ہو } }۔۱؎ [تاریخ دمشق لا بن عساکر:320/2:ضعیف]
حضرت سفیان رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”میں بیمار ہوں سے مطلب مجھے طاعون ہو گیا ہے۔ اور وہ لوگ ایسے مریض سے بھاگتے تھے۔“ سعید رحمہ اللہ کا بیان ہے کہ ”اللہ کے دین کی تبلیغ ان کے جھوٹے معبودوں کی تردید کے لیے خلیل اللہ علیہ السلام کی یہ ایک حکمت عملی تھی کہ ایک ستارے کو طلوع ہوتے دیکھ کر فرما دیا کہ میں مقیم ہوں۔“ اوروں نے یہ بھی لکھا ہے کہ ”میں بیمار ہونے والا ہوں یعنی یقیناً ایک مرتبہ مرض الموت آنے والا ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ مریض ہوں یعنی میرا دل تمہارے ان بتوں کی عبادت سے بیمار ہے۔“
حضرت حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں جب آپ علیہ السلام کی قوم میلے میں جانے لگی تو آپ علیہ السلام کو بھی مجبور کرنے لگی آپ علیہ السلام ہٹ گئے اور فرما دیا کہ ”میں مقیم ہوں اور آسمان کی طرف دیکھنے لگے۔“ جب وہ انہیں تنہا چھوڑ کر چل دئیے تو آپ علیہ السلام نے بہ فراغت ان کے معبودوں کے ٹکڑے ٹکڑے کر دئیے۔ وہ تو سب اپنی عید میں گئے آپ علیہ السلام چپکے چپکے اور جلدی جلدی ان کے بتوں کے پاس آئے۔ پہلے تو فرمایا کیوں جی تم کھاتے کیوں نہیں؟ یہاں آ کر خلیل اللہ علیہ السلام نے دیکھا کہ جو چڑھا وے ان لوگوں نے ان بتوں پر چڑھا رکھے تھے وہ سب رکھے ہوئے تھے ان لوگوں نے تبرک کی نیت سے جو قربانیاں یہاں کی تھیں وہ سب یونہی پڑی ہوئی تھیں یہ بت خانہ بڑا وسیع اور مزین تھا دروازے کے متصل ایک بہت بڑا بت تھا اور اس کے اردگرد اس سے چھوٹے پھر ان سے چھوٹے یونہی تمام بت خانہ بھرا ہوا تھا۔ ان کے پاس مختلف قسم کے کھانے رکھے ہوئے تھے جو اس اعتقاد سے رکھے گئے تھے کہ یہاں رہنے سے متبرک ہو جائیں گے پھر ہم کھالیں گے۔ ابراہیم علیہ السلام نے اپنی بات کا جواب نہ پاکر پھر فرمایا ”یہ تمہیں کیا ہو گیا ہے؟ بولتے کیوں نہیں۔“ اب تو پوری قوت سے دائیں ہاتھ سے مار کر ان کے ٹکڑے ٹکڑے کر دئیے۔ ہاں بڑے بت کو چھوڑ دیا تاکہ اس پر بدگمانی کی جا سکے۔
جیسا کہ سورۃ انبیاء میں گزر چکا ہے اور وہیں اس کی پوری تفسیر بھی بیان ہو چکی ہے۔ بت پرست جب اپنے میلے سے واپس ہوئے بت خانے میں گھسے تو دیکھا کہ ان کے سب خدا اڑنگ بڑنگ پڑے ہوئے ہیں کسی کا ہاتھ نہیں کسی کا پاؤں نہیں کسی کا سر نہیں کسی کا دھڑ نہیں حیران ہو گئے کہ یہ کیا ہوا؟ آخر سوچ سمجھ کر بحث مباحثے کے بعد معلوم کر لیا کہ ہو نہ ہو یہ کام ابراہیم کا ہے (علیہ الصلوۃ والسلام)۔ اب سارے کے سارے مل جل کر خلیل علیہ السلام کے پاس دوڑے، بھاگے، دانت پیستے، تلملائے کوستے گئے۔ خلیل اللہ علیہ السلام کو تبلیغ کا اور انہیں قائل معقول کرنے کا اور سمجھانے کا اچھا موقعہ ملا فرمانے لگے ”کیوں ان چیزوں کی پرستش کرتے ہو جنہیں خود تم بناتے ہو؟ اپنے ہاتھوں گھڑتے اور تراشتے ہو؟ حالانکہ تمہارا اور تمہارے اعمال کا خالق اللہ ہی ہے۔“ ممکن ہے کہ اس آیت میں «ما» مصدریہ ہو اور ممکن ہے کہ «الَّذِی» کے معنی میں ہو، لیکن دونوں معنی میں تلازم ہے۔ گو اول زیادہ ظاہر ہے۔ چنانچہ امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ کی کتاب افعال العباد میں ایک مرفوع حدیث ہے کہ { اللہ تعالیٰ ہر صانع اور اس کی صنعت کو پیدا کرتا ہے }۔ ۱؎ [خلق افعال العباد:17:صحیح] پھر بعض نے اسی آیت کی تلاوت کی۔ چونکہ اس پاک صاف بات کا کوئی جواب ان کے پاس نہ تھا تو تنگ آ کر دشمنی پر اور سفلہ پن پر اتر آئے اور کہنے لگے ایک بنیان بناؤ اس میں آگ جلاؤ اور اسے اس میں ڈال دو۔ چنانچہ یہی انہوں نے کیا لیکن اللہ تعالیٰ نے اپنے خلیل کو اس سے نجات دی۔ انہی کو غلبہ دیا اور انہی کی مدد فرمائی۔ گو انہوں نے انہیں برائی پہنچانی چاہی لیکن اللہ نے خود انہیں ذلیل کر دیا۔ اس کا پورا بیان اور کامل تفسیر سورۃ انبیاء ۱؎ [21-الأنبياء:1] میں گزر چکی ہے وہیں دیکھ لی جائے۔
91۔ 1 یعنی جو حلویات بطور تبرک وہاں پڑی ہوئی تھیں، وہ انہیں کھانے کے لئے پیش کیں، جو ظاہر بات ہے انہیں نہ کھانی تھیں نہ کھائیں بلکہ وہ جواب دینے پر بھی قادر نہ تھے، اس لئے جواب بھی نہیں دیا۔
(آیت 91){ فَرَاغَ اِلٰۤى اٰلِهَتِهِمْ …: ”رَاغَ يَرُوْغُ“} (ن) کا معنی خفیہ طور پر جانا، حیلہ کرتے ہوئے تیزی سے جانا، مائل ہونا۔ ابراہیم علیہ السلام چپکے سے ان کے بتوں کی طرف گئے اور ان کا مذاق اڑاتے ہوئے ان سے کہنے لگے: ”کیا تم کھاتے نہیں؟“ اس سے صاف ظاہر ہے کہ مندر میں بتوں کے سامنے طرح طرح کے کھانے، مٹھائیاں اور پھل وغیرہ رکھے ہوئے تھے۔ مقصد یہ کہ معمولی جانور بھی کم از کم کھاتے تو ہیں، یہ بے جان پتھر جو کھاتے بھی نہیں، انسان ان کی پوجا کیسے کرنے لگا؟
حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنی قوم سے یہ اس لیے فرمایا کہ وہ جب اپنے میلے میں چلے جائیں تو یہ ان کے عبادت خانے میں تنہارہ جائیں اور ان کے بتوں کو توڑ نے کا تنہائی میں موقعہ مل جائے۔ اسی لیے ایک ایسی بات کہی جو درحقیقت سچی بات تھی لیکن ان کی سمجھ میں جو مطلب اس کا آیا اس سے آپ علیہ السلام نے اپنا دینی کام نکال لیا۔ وہ تو اپنے اعتقاد کے موجب ابراہیم علیہ السلام کو سچ مچ بیمار سمجھ بیٹھے اور انہیں چھوڑ کر چلتے بنے۔ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”جو شخص کسی امر میں غور و فکر کرے تو عرب کہتے ہیں اس نے ستاروں پر نظریں ڈالیں۔“ مطلب یہ ہے کہ غور وفکر کے ساتھ تاروں کی طرف نگاہ اٹھائی۔ اور سوچنے لگے کہ میں انہیں کس طرح ٹالوں۔ سوچ سمجھ کر فرمایا کہ ”میں سقم ہوں یعنی ضعیف ہوں۔“ ایک حدیث میں آیا کہ { ابراہیم علیہ السلام نے صرف تین ہی جھوٹ بولے ہیں جن میں سے دو تو اللہ کے دین کے لیے ان کا فرمان «فَقَالَ اِنِّىْ سَقِيْمٌ» ۱؎ [37-الصافات:89] اور ان کا فرمان «قَالَ بَلْ فَعَلَه ٗٗ كَبِيْرُهُمْ ھٰذَا فَسْـَٔــلُوْهُمْ اِنْ كَانُوْا يَنْطِقُوْنَ» ۱؎ [21-الأنبياء:63] اور ایک ان کا سارہ رضی اللہ عنہا کو اپنی بہن کہنا }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:3357] تو یاد رہے کہ دراصل ان میں حقیقی جھوٹ ایک بھی نہیں۔ انہیں تو صرف مجازاً جھوٹ کہا گیا ہے کلام میں ایسی تعریفیں کسی شرعی مقصد کے لیے کرنا جھوٹ میں داخل نہیں، جیسا کہ حدیث میں بھی ہے کہ { تعریض جھوٹ سے الگ ہے اور اس سے بے نیاز کر دیتی ہے }۔ ابن ابی حاتم میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں، { خلیل اللہ علیہ السلام کے ان تینوں کلمات میں سے ایک بھی ایسا نہیں جس سے حکمت عملی کے ساتھ دین اللہ کی بھلائی مقصود نہ ہو } }۔۱؎ [تاریخ دمشق لا بن عساکر:320/2:ضعیف]
حضرت سفیان رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”میں بیمار ہوں سے مطلب مجھے طاعون ہو گیا ہے۔ اور وہ لوگ ایسے مریض سے بھاگتے تھے۔“ سعید رحمہ اللہ کا بیان ہے کہ ”اللہ کے دین کی تبلیغ ان کے جھوٹے معبودوں کی تردید کے لیے خلیل اللہ علیہ السلام کی یہ ایک حکمت عملی تھی کہ ایک ستارے کو طلوع ہوتے دیکھ کر فرما دیا کہ میں مقیم ہوں۔“ اوروں نے یہ بھی لکھا ہے کہ ”میں بیمار ہونے والا ہوں یعنی یقیناً ایک مرتبہ مرض الموت آنے والا ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ مریض ہوں یعنی میرا دل تمہارے ان بتوں کی عبادت سے بیمار ہے۔“
حضرت حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں جب آپ علیہ السلام کی قوم میلے میں جانے لگی تو آپ علیہ السلام کو بھی مجبور کرنے لگی آپ علیہ السلام ہٹ گئے اور فرما دیا کہ ”میں مقیم ہوں اور آسمان کی طرف دیکھنے لگے۔“ جب وہ انہیں تنہا چھوڑ کر چل دئیے تو آپ علیہ السلام نے بہ فراغت ان کے معبودوں کے ٹکڑے ٹکڑے کر دئیے۔ وہ تو سب اپنی عید میں گئے آپ علیہ السلام چپکے چپکے اور جلدی جلدی ان کے بتوں کے پاس آئے۔ پہلے تو فرمایا کیوں جی تم کھاتے کیوں نہیں؟ یہاں آ کر خلیل اللہ علیہ السلام نے دیکھا کہ جو چڑھا وے ان لوگوں نے ان بتوں پر چڑھا رکھے تھے وہ سب رکھے ہوئے تھے ان لوگوں نے تبرک کی نیت سے جو قربانیاں یہاں کی تھیں وہ سب یونہی پڑی ہوئی تھیں یہ بت خانہ بڑا وسیع اور مزین تھا دروازے کے متصل ایک بہت بڑا بت تھا اور اس کے اردگرد اس سے چھوٹے پھر ان سے چھوٹے یونہی تمام بت خانہ بھرا ہوا تھا۔ ان کے پاس مختلف قسم کے کھانے رکھے ہوئے تھے جو اس اعتقاد سے رکھے گئے تھے کہ یہاں رہنے سے متبرک ہو جائیں گے پھر ہم کھالیں گے۔ ابراہیم علیہ السلام نے اپنی بات کا جواب نہ پاکر پھر فرمایا ”یہ تمہیں کیا ہو گیا ہے؟ بولتے کیوں نہیں۔“ اب تو پوری قوت سے دائیں ہاتھ سے مار کر ان کے ٹکڑے ٹکڑے کر دئیے۔ ہاں بڑے بت کو چھوڑ دیا تاکہ اس پر بدگمانی کی جا سکے۔
جیسا کہ سورۃ انبیاء میں گزر چکا ہے اور وہیں اس کی پوری تفسیر بھی بیان ہو چکی ہے۔ بت پرست جب اپنے میلے سے واپس ہوئے بت خانے میں گھسے تو دیکھا کہ ان کے سب خدا اڑنگ بڑنگ پڑے ہوئے ہیں کسی کا ہاتھ نہیں کسی کا پاؤں نہیں کسی کا سر نہیں کسی کا دھڑ نہیں حیران ہو گئے کہ یہ کیا ہوا؟ آخر سوچ سمجھ کر بحث مباحثے کے بعد معلوم کر لیا کہ ہو نہ ہو یہ کام ابراہیم کا ہے (علیہ الصلوۃ والسلام)۔ اب سارے کے سارے مل جل کر خلیل علیہ السلام کے پاس دوڑے، بھاگے، دانت پیستے، تلملائے کوستے گئے۔ خلیل اللہ علیہ السلام کو تبلیغ کا اور انہیں قائل معقول کرنے کا اور سمجھانے کا اچھا موقعہ ملا فرمانے لگے ”کیوں ان چیزوں کی پرستش کرتے ہو جنہیں خود تم بناتے ہو؟ اپنے ہاتھوں گھڑتے اور تراشتے ہو؟ حالانکہ تمہارا اور تمہارے اعمال کا خالق اللہ ہی ہے۔“ ممکن ہے کہ اس آیت میں «ما» مصدریہ ہو اور ممکن ہے کہ «الَّذِی» کے معنی میں ہو، لیکن دونوں معنی میں تلازم ہے۔ گو اول زیادہ ظاہر ہے۔ چنانچہ امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ کی کتاب افعال العباد میں ایک مرفوع حدیث ہے کہ { اللہ تعالیٰ ہر صانع اور اس کی صنعت کو پیدا کرتا ہے }۔ ۱؎ [خلق افعال العباد:17:صحیح] پھر بعض نے اسی آیت کی تلاوت کی۔ چونکہ اس پاک صاف بات کا کوئی جواب ان کے پاس نہ تھا تو تنگ آ کر دشمنی پر اور سفلہ پن پر اتر آئے اور کہنے لگے ایک بنیان بناؤ اس میں آگ جلاؤ اور اسے اس میں ڈال دو۔ چنانچہ یہی انہوں نے کیا لیکن اللہ تعالیٰ نے اپنے خلیل کو اس سے نجات دی۔ انہی کو غلبہ دیا اور انہی کی مدد فرمائی۔ گو انہوں نے انہیں برائی پہنچانی چاہی لیکن اللہ نے خود انہیں ذلیل کر دیا۔ اس کا پورا بیان اور کامل تفسیر سورۃ انبیاء ۱؎ [21-الأنبياء:1] میں گزر چکی ہے وہیں دیکھ لی جائے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 92) {مَا لَكُمْ لَا تَنْطِقُوْنَ:} جب بتوں کی طرف سے جواب نہ ملا تو کہنے لگے، تمھیں کیا ہے کہ تم بولتے نہیں! ناک نقشہ اور تمام اعضا تو تمھارے انسانوں جیسے ہیں، مگر تم نہ کھا سکتے ہو، نہ بول سکتے ہو، پھر تعجب ہے کہ وہ انسان تمھیں پوجنے لگے جو کھاتے پیتے بھی ہیں اور بولتے بھی ہیں؟
اس کے بعد وہ اُن پر پل پڑا اور سیدھے ہاتھ سے خوب ضربیں لگائیں
مولانا محمد جوناگڑھی
پھر تو (پوری قوت کے ساتھ) دائیں ہاتھ سے انہیں مارنے پر پل پڑے
احمد رضا خان بریلوی
تو لوگوں کی نظر بچا کر انہیں دہنے ہاتھ سے مارنے لگا
علامہ محمد حسین نجفی
پھر ان پر پَل پڑے اور اپنے دائیں ہاتھ سے خوب ضربیں لگائیں۔
عبدالسلام بن محمد
پھر وہ دائیں ہاتھ سے مارتے ہوئے ان پر پل پڑا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
بت کدہ آذر اور ابراہیم علیہ السلام ٭٭
حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنی قوم سے یہ اس لیے فرمایا کہ وہ جب اپنے میلے میں چلے جائیں تو یہ ان کے عبادت خانے میں تنہارہ جائیں اور ان کے بتوں کو توڑ نے کا تنہائی میں موقعہ مل جائے۔ اسی لیے ایک ایسی بات کہی جو درحقیقت سچی بات تھی لیکن ان کی سمجھ میں جو مطلب اس کا آیا اس سے آپ علیہ السلام نے اپنا دینی کام نکال لیا۔ وہ تو اپنے اعتقاد کے موجب ابراہیم علیہ السلام کو سچ مچ بیمار سمجھ بیٹھے اور انہیں چھوڑ کر چلتے بنے۔ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”جو شخص کسی امر میں غور و فکر کرے تو عرب کہتے ہیں اس نے ستاروں پر نظریں ڈالیں۔“ مطلب یہ ہے کہ غور وفکر کے ساتھ تاروں کی طرف نگاہ اٹھائی۔ اور سوچنے لگے کہ میں انہیں کس طرح ٹالوں۔ سوچ سمجھ کر فرمایا کہ ”میں سقم ہوں یعنی ضعیف ہوں۔“ ایک حدیث میں آیا کہ { ابراہیم علیہ السلام نے صرف تین ہی جھوٹ بولے ہیں جن میں سے دو تو اللہ کے دین کے لیے ان کا فرمان «فَقَالَ اِنِّىْ سَقِيْمٌ» ۱؎ [37-الصافات:89] اور ان کا فرمان «قَالَ بَلْ فَعَلَه ٗٗ كَبِيْرُهُمْ ھٰذَا فَسْـَٔــلُوْهُمْ اِنْ كَانُوْا يَنْطِقُوْنَ» ۱؎ [21-الأنبياء:63] اور ایک ان کا سارہ رضی اللہ عنہا کو اپنی بہن کہنا }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:3357] تو یاد رہے کہ دراصل ان میں حقیقی جھوٹ ایک بھی نہیں۔ انہیں تو صرف مجازاً جھوٹ کہا گیا ہے کلام میں ایسی تعریفیں کسی شرعی مقصد کے لیے کرنا جھوٹ میں داخل نہیں، جیسا کہ حدیث میں بھی ہے کہ { تعریض جھوٹ سے الگ ہے اور اس سے بے نیاز کر دیتی ہے }۔ ابن ابی حاتم میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں، { خلیل اللہ علیہ السلام کے ان تینوں کلمات میں سے ایک بھی ایسا نہیں جس سے حکمت عملی کے ساتھ دین اللہ کی بھلائی مقصود نہ ہو } }۔۱؎ [تاریخ دمشق لا بن عساکر:320/2:ضعیف]
حضرت سفیان رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”میں بیمار ہوں سے مطلب مجھے طاعون ہو گیا ہے۔ اور وہ لوگ ایسے مریض سے بھاگتے تھے۔“ سعید رحمہ اللہ کا بیان ہے کہ ”اللہ کے دین کی تبلیغ ان کے جھوٹے معبودوں کی تردید کے لیے خلیل اللہ علیہ السلام کی یہ ایک حکمت عملی تھی کہ ایک ستارے کو طلوع ہوتے دیکھ کر فرما دیا کہ میں مقیم ہوں۔“ اوروں نے یہ بھی لکھا ہے کہ ”میں بیمار ہونے والا ہوں یعنی یقیناً ایک مرتبہ مرض الموت آنے والا ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ مریض ہوں یعنی میرا دل تمہارے ان بتوں کی عبادت سے بیمار ہے۔“
حضرت حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں جب آپ علیہ السلام کی قوم میلے میں جانے لگی تو آپ علیہ السلام کو بھی مجبور کرنے لگی آپ علیہ السلام ہٹ گئے اور فرما دیا کہ ”میں مقیم ہوں اور آسمان کی طرف دیکھنے لگے۔“ جب وہ انہیں تنہا چھوڑ کر چل دئیے تو آپ علیہ السلام نے بہ فراغت ان کے معبودوں کے ٹکڑے ٹکڑے کر دئیے۔ وہ تو سب اپنی عید میں گئے آپ علیہ السلام چپکے چپکے اور جلدی جلدی ان کے بتوں کے پاس آئے۔ پہلے تو فرمایا کیوں جی تم کھاتے کیوں نہیں؟ یہاں آ کر خلیل اللہ علیہ السلام نے دیکھا کہ جو چڑھا وے ان لوگوں نے ان بتوں پر چڑھا رکھے تھے وہ سب رکھے ہوئے تھے ان لوگوں نے تبرک کی نیت سے جو قربانیاں یہاں کی تھیں وہ سب یونہی پڑی ہوئی تھیں یہ بت خانہ بڑا وسیع اور مزین تھا دروازے کے متصل ایک بہت بڑا بت تھا اور اس کے اردگرد اس سے چھوٹے پھر ان سے چھوٹے یونہی تمام بت خانہ بھرا ہوا تھا۔ ان کے پاس مختلف قسم کے کھانے رکھے ہوئے تھے جو اس اعتقاد سے رکھے گئے تھے کہ یہاں رہنے سے متبرک ہو جائیں گے پھر ہم کھالیں گے۔ ابراہیم علیہ السلام نے اپنی بات کا جواب نہ پاکر پھر فرمایا ”یہ تمہیں کیا ہو گیا ہے؟ بولتے کیوں نہیں۔“ اب تو پوری قوت سے دائیں ہاتھ سے مار کر ان کے ٹکڑے ٹکڑے کر دئیے۔ ہاں بڑے بت کو چھوڑ دیا تاکہ اس پر بدگمانی کی جا سکے۔
جیسا کہ سورۃ انبیاء میں گزر چکا ہے اور وہیں اس کی پوری تفسیر بھی بیان ہو چکی ہے۔ بت پرست جب اپنے میلے سے واپس ہوئے بت خانے میں گھسے تو دیکھا کہ ان کے سب خدا اڑنگ بڑنگ پڑے ہوئے ہیں کسی کا ہاتھ نہیں کسی کا پاؤں نہیں کسی کا سر نہیں کسی کا دھڑ نہیں حیران ہو گئے کہ یہ کیا ہوا؟ آخر سوچ سمجھ کر بحث مباحثے کے بعد معلوم کر لیا کہ ہو نہ ہو یہ کام ابراہیم کا ہے (علیہ الصلوۃ والسلام)۔ اب سارے کے سارے مل جل کر خلیل علیہ السلام کے پاس دوڑے، بھاگے، دانت پیستے، تلملائے کوستے گئے۔ خلیل اللہ علیہ السلام کو تبلیغ کا اور انہیں قائل معقول کرنے کا اور سمجھانے کا اچھا موقعہ ملا فرمانے لگے ”کیوں ان چیزوں کی پرستش کرتے ہو جنہیں خود تم بناتے ہو؟ اپنے ہاتھوں گھڑتے اور تراشتے ہو؟ حالانکہ تمہارا اور تمہارے اعمال کا خالق اللہ ہی ہے۔“ ممکن ہے کہ اس آیت میں «ما» مصدریہ ہو اور ممکن ہے کہ «الَّذِی» کے معنی میں ہو، لیکن دونوں معنی میں تلازم ہے۔ گو اول زیادہ ظاہر ہے۔ چنانچہ امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ کی کتاب افعال العباد میں ایک مرفوع حدیث ہے کہ { اللہ تعالیٰ ہر صانع اور اس کی صنعت کو پیدا کرتا ہے }۔ ۱؎ [خلق افعال العباد:17:صحیح] پھر بعض نے اسی آیت کی تلاوت کی۔ چونکہ اس پاک صاف بات کا کوئی جواب ان کے پاس نہ تھا تو تنگ آ کر دشمنی پر اور سفلہ پن پر اتر آئے اور کہنے لگے ایک بنیان بناؤ اس میں آگ جلاؤ اور اسے اس میں ڈال دو۔ چنانچہ یہی انہوں نے کیا لیکن اللہ تعالیٰ نے اپنے خلیل کو اس سے نجات دی۔ انہی کو غلبہ دیا اور انہی کی مدد فرمائی۔ گو انہوں نے انہیں برائی پہنچانی چاہی لیکن اللہ نے خود انہیں ذلیل کر دیا۔ اس کا پورا بیان اور کامل تفسیر سورۃ انبیاء ۱؎ [21-الأنبياء:1] میں گزر چکی ہے وہیں دیکھ لی جائے۔
93۔ 1 مطلب یہ ہے کہ ان کو زور سے مار مار کر توڑ ڈالا۔
(آیت 93){ فَرَاغَ عَلَيْهِمْ ضَرْبًۢا بِالْيَمِيْنِ: ”يَمِيْنٌ“} کا معنی دایاں ہاتھ بھی ہے اور قوت بھی۔ تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ انبیاء کی آیت (۵۸) کی تفسیر۔
حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنی قوم سے یہ اس لیے فرمایا کہ وہ جب اپنے میلے میں چلے جائیں تو یہ ان کے عبادت خانے میں تنہارہ جائیں اور ان کے بتوں کو توڑ نے کا تنہائی میں موقعہ مل جائے۔ اسی لیے ایک ایسی بات کہی جو درحقیقت سچی بات تھی لیکن ان کی سمجھ میں جو مطلب اس کا آیا اس سے آپ علیہ السلام نے اپنا دینی کام نکال لیا۔ وہ تو اپنے اعتقاد کے موجب ابراہیم علیہ السلام کو سچ مچ بیمار سمجھ بیٹھے اور انہیں چھوڑ کر چلتے بنے۔ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”جو شخص کسی امر میں غور و فکر کرے تو عرب کہتے ہیں اس نے ستاروں پر نظریں ڈالیں۔“ مطلب یہ ہے کہ غور وفکر کے ساتھ تاروں کی طرف نگاہ اٹھائی۔ اور سوچنے لگے کہ میں انہیں کس طرح ٹالوں۔ سوچ سمجھ کر فرمایا کہ ”میں سقم ہوں یعنی ضعیف ہوں۔“ ایک حدیث میں آیا کہ { ابراہیم علیہ السلام نے صرف تین ہی جھوٹ بولے ہیں جن میں سے دو تو اللہ کے دین کے لیے ان کا فرمان «فَقَالَ اِنِّىْ سَقِيْمٌ» ۱؎ [37-الصافات:89] اور ان کا فرمان «قَالَ بَلْ فَعَلَه ٗٗ كَبِيْرُهُمْ ھٰذَا فَسْـَٔــلُوْهُمْ اِنْ كَانُوْا يَنْطِقُوْنَ» ۱؎ [21-الأنبياء:63] اور ایک ان کا سارہ رضی اللہ عنہا کو اپنی بہن کہنا }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:3357] تو یاد رہے کہ دراصل ان میں حقیقی جھوٹ ایک بھی نہیں۔ انہیں تو صرف مجازاً جھوٹ کہا گیا ہے کلام میں ایسی تعریفیں کسی شرعی مقصد کے لیے کرنا جھوٹ میں داخل نہیں، جیسا کہ حدیث میں بھی ہے کہ { تعریض جھوٹ سے الگ ہے اور اس سے بے نیاز کر دیتی ہے }۔ ابن ابی حاتم میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں، { خلیل اللہ علیہ السلام کے ان تینوں کلمات میں سے ایک بھی ایسا نہیں جس سے حکمت عملی کے ساتھ دین اللہ کی بھلائی مقصود نہ ہو } }۔۱؎ [تاریخ دمشق لا بن عساکر:320/2:ضعیف]
حضرت سفیان رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”میں بیمار ہوں سے مطلب مجھے طاعون ہو گیا ہے۔ اور وہ لوگ ایسے مریض سے بھاگتے تھے۔“ سعید رحمہ اللہ کا بیان ہے کہ ”اللہ کے دین کی تبلیغ ان کے جھوٹے معبودوں کی تردید کے لیے خلیل اللہ علیہ السلام کی یہ ایک حکمت عملی تھی کہ ایک ستارے کو طلوع ہوتے دیکھ کر فرما دیا کہ میں مقیم ہوں۔“ اوروں نے یہ بھی لکھا ہے کہ ”میں بیمار ہونے والا ہوں یعنی یقیناً ایک مرتبہ مرض الموت آنے والا ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ مریض ہوں یعنی میرا دل تمہارے ان بتوں کی عبادت سے بیمار ہے۔“
حضرت حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں جب آپ علیہ السلام کی قوم میلے میں جانے لگی تو آپ علیہ السلام کو بھی مجبور کرنے لگی آپ علیہ السلام ہٹ گئے اور فرما دیا کہ ”میں مقیم ہوں اور آسمان کی طرف دیکھنے لگے۔“ جب وہ انہیں تنہا چھوڑ کر چل دئیے تو آپ علیہ السلام نے بہ فراغت ان کے معبودوں کے ٹکڑے ٹکڑے کر دئیے۔ وہ تو سب اپنی عید میں گئے آپ علیہ السلام چپکے چپکے اور جلدی جلدی ان کے بتوں کے پاس آئے۔ پہلے تو فرمایا کیوں جی تم کھاتے کیوں نہیں؟ یہاں آ کر خلیل اللہ علیہ السلام نے دیکھا کہ جو چڑھا وے ان لوگوں نے ان بتوں پر چڑھا رکھے تھے وہ سب رکھے ہوئے تھے ان لوگوں نے تبرک کی نیت سے جو قربانیاں یہاں کی تھیں وہ سب یونہی پڑی ہوئی تھیں یہ بت خانہ بڑا وسیع اور مزین تھا دروازے کے متصل ایک بہت بڑا بت تھا اور اس کے اردگرد اس سے چھوٹے پھر ان سے چھوٹے یونہی تمام بت خانہ بھرا ہوا تھا۔ ان کے پاس مختلف قسم کے کھانے رکھے ہوئے تھے جو اس اعتقاد سے رکھے گئے تھے کہ یہاں رہنے سے متبرک ہو جائیں گے پھر ہم کھالیں گے۔ ابراہیم علیہ السلام نے اپنی بات کا جواب نہ پاکر پھر فرمایا ”یہ تمہیں کیا ہو گیا ہے؟ بولتے کیوں نہیں۔“ اب تو پوری قوت سے دائیں ہاتھ سے مار کر ان کے ٹکڑے ٹکڑے کر دئیے۔ ہاں بڑے بت کو چھوڑ دیا تاکہ اس پر بدگمانی کی جا سکے۔
جیسا کہ سورۃ انبیاء میں گزر چکا ہے اور وہیں اس کی پوری تفسیر بھی بیان ہو چکی ہے۔ بت پرست جب اپنے میلے سے واپس ہوئے بت خانے میں گھسے تو دیکھا کہ ان کے سب خدا اڑنگ بڑنگ پڑے ہوئے ہیں کسی کا ہاتھ نہیں کسی کا پاؤں نہیں کسی کا سر نہیں کسی کا دھڑ نہیں حیران ہو گئے کہ یہ کیا ہوا؟ آخر سوچ سمجھ کر بحث مباحثے کے بعد معلوم کر لیا کہ ہو نہ ہو یہ کام ابراہیم کا ہے (علیہ الصلوۃ والسلام)۔ اب سارے کے سارے مل جل کر خلیل علیہ السلام کے پاس دوڑے، بھاگے، دانت پیستے، تلملائے کوستے گئے۔ خلیل اللہ علیہ السلام کو تبلیغ کا اور انہیں قائل معقول کرنے کا اور سمجھانے کا اچھا موقعہ ملا فرمانے لگے ”کیوں ان چیزوں کی پرستش کرتے ہو جنہیں خود تم بناتے ہو؟ اپنے ہاتھوں گھڑتے اور تراشتے ہو؟ حالانکہ تمہارا اور تمہارے اعمال کا خالق اللہ ہی ہے۔“ ممکن ہے کہ اس آیت میں «ما» مصدریہ ہو اور ممکن ہے کہ «الَّذِی» کے معنی میں ہو، لیکن دونوں معنی میں تلازم ہے۔ گو اول زیادہ ظاہر ہے۔ چنانچہ امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ کی کتاب افعال العباد میں ایک مرفوع حدیث ہے کہ { اللہ تعالیٰ ہر صانع اور اس کی صنعت کو پیدا کرتا ہے }۔ ۱؎ [خلق افعال العباد:17:صحیح] پھر بعض نے اسی آیت کی تلاوت کی۔ چونکہ اس پاک صاف بات کا کوئی جواب ان کے پاس نہ تھا تو تنگ آ کر دشمنی پر اور سفلہ پن پر اتر آئے اور کہنے لگے ایک بنیان بناؤ اس میں آگ جلاؤ اور اسے اس میں ڈال دو۔ چنانچہ یہی انہوں نے کیا لیکن اللہ تعالیٰ نے اپنے خلیل کو اس سے نجات دی۔ انہی کو غلبہ دیا اور انہی کی مدد فرمائی۔ گو انہوں نے انہیں برائی پہنچانی چاہی لیکن اللہ نے خود انہیں ذلیل کر دیا۔ اس کا پورا بیان اور کامل تفسیر سورۃ انبیاء ۱؎ [21-الأنبياء:1] میں گزر چکی ہے وہیں دیکھ لی جائے۔
94۔ 1 یعنی جب میلے سے آئے تو دیکھا کہ ان کے معبود ٹوٹے پھوٹے پڑے ہیں تو فوراً ان کا ذہن حضرت ابراہیم ؑ کی طرف گیا، کہ یہ کام اسی نے کیا ہوگا، جیسا کہ سورة انبیاء میں تفصیل گزر چکی ہے چناچہ انہیں پکڑ کر عوام کی عدالت میں لے آئے۔ وہاں حضرت ابراہیم ؑ کو اس بات کا موقع مل گیا کہ وہ ان پر ان کی بےعقلی اور ان کے معبودوں کی بےاختیاری واضح کریں۔
(آیت 94) {فَاَقْبَلُوْۤا اِلَيْهِ يَزِفُّوْنَ: ” زَفَّ يَزِفُّ زَفًّا وَ زُفُوْفًا وَ زَفِيْفًا “} (ض) تیزی سے جانا، دوڑنا۔ یعنی بتوں کا یہ حال دیکھ کر قوم کو یہ جاننے میں کوئی مشکل پیش نہیں آئی کہ ان کا یہ حال کس نے کیا ہے، کیونکہ ابراہیم علیہ السلام انھیں پہلے ہی اپنے ارادے سے آگاہ کر چکے تھے، اس لیے وہ سب دوڑتے ہوئے ان کے پاس آئے اور انھیں پکڑ کر مجمع میں لے آئے۔ تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ انبیاء (۵۹ تا ۶۱)۔
اس نے کہا "کیا تم اپنی ہی تراشی ہوئی چیزوں کو پوجتے ہو؟
مولانا محمد جوناگڑھی
تو آپ نے فرمایا تم انہیں پوجتے ہو جنہیں (خود) تم تراشتے ہو
احمد رضا خان بریلوی
فرمایا کیا اپنے ہاتھ کے تراشوں کو پوجتے ہو،
علامہ محمد حسین نجفی
آپ(ع) نے کہا کیا تم ان چیزوں کی پرستش کرتے ہو جنہیں خود تراشتے ہو؟
عبدالسلام بن محمد
اس نے کہا کیا تم اس کی عبادت کرتے ہو جسے خود تراشتے ہو؟
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
بت کدہ آذر اور ابراہیم علیہ السلام ٭٭
حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنی قوم سے یہ اس لیے فرمایا کہ وہ جب اپنے میلے میں چلے جائیں تو یہ ان کے عبادت خانے میں تنہارہ جائیں اور ان کے بتوں کو توڑ نے کا تنہائی میں موقعہ مل جائے۔ اسی لیے ایک ایسی بات کہی جو درحقیقت سچی بات تھی لیکن ان کی سمجھ میں جو مطلب اس کا آیا اس سے آپ علیہ السلام نے اپنا دینی کام نکال لیا۔ وہ تو اپنے اعتقاد کے موجب ابراہیم علیہ السلام کو سچ مچ بیمار سمجھ بیٹھے اور انہیں چھوڑ کر چلتے بنے۔ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”جو شخص کسی امر میں غور و فکر کرے تو عرب کہتے ہیں اس نے ستاروں پر نظریں ڈالیں۔“ مطلب یہ ہے کہ غور وفکر کے ساتھ تاروں کی طرف نگاہ اٹھائی۔ اور سوچنے لگے کہ میں انہیں کس طرح ٹالوں۔ سوچ سمجھ کر فرمایا کہ ”میں سقم ہوں یعنی ضعیف ہوں۔“ ایک حدیث میں آیا کہ { ابراہیم علیہ السلام نے صرف تین ہی جھوٹ بولے ہیں جن میں سے دو تو اللہ کے دین کے لیے ان کا فرمان «فَقَالَ اِنِّىْ سَقِيْمٌ» ۱؎ [37-الصافات:89] اور ان کا فرمان «قَالَ بَلْ فَعَلَه ٗٗ كَبِيْرُهُمْ ھٰذَا فَسْـَٔــلُوْهُمْ اِنْ كَانُوْا يَنْطِقُوْنَ» ۱؎ [21-الأنبياء:63] اور ایک ان کا سارہ رضی اللہ عنہا کو اپنی بہن کہنا }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:3357] تو یاد رہے کہ دراصل ان میں حقیقی جھوٹ ایک بھی نہیں۔ انہیں تو صرف مجازاً جھوٹ کہا گیا ہے کلام میں ایسی تعریفیں کسی شرعی مقصد کے لیے کرنا جھوٹ میں داخل نہیں، جیسا کہ حدیث میں بھی ہے کہ { تعریض جھوٹ سے الگ ہے اور اس سے بے نیاز کر دیتی ہے }۔ ابن ابی حاتم میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں، { خلیل اللہ علیہ السلام کے ان تینوں کلمات میں سے ایک بھی ایسا نہیں جس سے حکمت عملی کے ساتھ دین اللہ کی بھلائی مقصود نہ ہو } }۔۱؎ [تاریخ دمشق لا بن عساکر:320/2:ضعیف]
حضرت سفیان رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”میں بیمار ہوں سے مطلب مجھے طاعون ہو گیا ہے۔ اور وہ لوگ ایسے مریض سے بھاگتے تھے۔“ سعید رحمہ اللہ کا بیان ہے کہ ”اللہ کے دین کی تبلیغ ان کے جھوٹے معبودوں کی تردید کے لیے خلیل اللہ علیہ السلام کی یہ ایک حکمت عملی تھی کہ ایک ستارے کو طلوع ہوتے دیکھ کر فرما دیا کہ میں مقیم ہوں۔“ اوروں نے یہ بھی لکھا ہے کہ ”میں بیمار ہونے والا ہوں یعنی یقیناً ایک مرتبہ مرض الموت آنے والا ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ مریض ہوں یعنی میرا دل تمہارے ان بتوں کی عبادت سے بیمار ہے۔“
حضرت حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں جب آپ علیہ السلام کی قوم میلے میں جانے لگی تو آپ علیہ السلام کو بھی مجبور کرنے لگی آپ علیہ السلام ہٹ گئے اور فرما دیا کہ ”میں مقیم ہوں اور آسمان کی طرف دیکھنے لگے۔“ جب وہ انہیں تنہا چھوڑ کر چل دئیے تو آپ علیہ السلام نے بہ فراغت ان کے معبودوں کے ٹکڑے ٹکڑے کر دئیے۔ وہ تو سب اپنی عید میں گئے آپ علیہ السلام چپکے چپکے اور جلدی جلدی ان کے بتوں کے پاس آئے۔ پہلے تو فرمایا کیوں جی تم کھاتے کیوں نہیں؟ یہاں آ کر خلیل اللہ علیہ السلام نے دیکھا کہ جو چڑھا وے ان لوگوں نے ان بتوں پر چڑھا رکھے تھے وہ سب رکھے ہوئے تھے ان لوگوں نے تبرک کی نیت سے جو قربانیاں یہاں کی تھیں وہ سب یونہی پڑی ہوئی تھیں یہ بت خانہ بڑا وسیع اور مزین تھا دروازے کے متصل ایک بہت بڑا بت تھا اور اس کے اردگرد اس سے چھوٹے پھر ان سے چھوٹے یونہی تمام بت خانہ بھرا ہوا تھا۔ ان کے پاس مختلف قسم کے کھانے رکھے ہوئے تھے جو اس اعتقاد سے رکھے گئے تھے کہ یہاں رہنے سے متبرک ہو جائیں گے پھر ہم کھالیں گے۔ ابراہیم علیہ السلام نے اپنی بات کا جواب نہ پاکر پھر فرمایا ”یہ تمہیں کیا ہو گیا ہے؟ بولتے کیوں نہیں۔“ اب تو پوری قوت سے دائیں ہاتھ سے مار کر ان کے ٹکڑے ٹکڑے کر دئیے۔ ہاں بڑے بت کو چھوڑ دیا تاکہ اس پر بدگمانی کی جا سکے۔
جیسا کہ سورۃ انبیاء میں گزر چکا ہے اور وہیں اس کی پوری تفسیر بھی بیان ہو چکی ہے۔ بت پرست جب اپنے میلے سے واپس ہوئے بت خانے میں گھسے تو دیکھا کہ ان کے سب خدا اڑنگ بڑنگ پڑے ہوئے ہیں کسی کا ہاتھ نہیں کسی کا پاؤں نہیں کسی کا سر نہیں کسی کا دھڑ نہیں حیران ہو گئے کہ یہ کیا ہوا؟ آخر سوچ سمجھ کر بحث مباحثے کے بعد معلوم کر لیا کہ ہو نہ ہو یہ کام ابراہیم کا ہے (علیہ الصلوۃ والسلام)۔ اب سارے کے سارے مل جل کر خلیل علیہ السلام کے پاس دوڑے، بھاگے، دانت پیستے، تلملائے کوستے گئے۔ خلیل اللہ علیہ السلام کو تبلیغ کا اور انہیں قائل معقول کرنے کا اور سمجھانے کا اچھا موقعہ ملا فرمانے لگے ”کیوں ان چیزوں کی پرستش کرتے ہو جنہیں خود تم بناتے ہو؟ اپنے ہاتھوں گھڑتے اور تراشتے ہو؟ حالانکہ تمہارا اور تمہارے اعمال کا خالق اللہ ہی ہے۔“ ممکن ہے کہ اس آیت میں «ما» مصدریہ ہو اور ممکن ہے کہ «الَّذِی» کے معنی میں ہو، لیکن دونوں معنی میں تلازم ہے۔ گو اول زیادہ ظاہر ہے۔ چنانچہ امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ کی کتاب افعال العباد میں ایک مرفوع حدیث ہے کہ { اللہ تعالیٰ ہر صانع اور اس کی صنعت کو پیدا کرتا ہے }۔ ۱؎ [خلق افعال العباد:17:صحیح] پھر بعض نے اسی آیت کی تلاوت کی۔ چونکہ اس پاک صاف بات کا کوئی جواب ان کے پاس نہ تھا تو تنگ آ کر دشمنی پر اور سفلہ پن پر اتر آئے اور کہنے لگے ایک بنیان بناؤ اس میں آگ جلاؤ اور اسے اس میں ڈال دو۔ چنانچہ یہی انہوں نے کیا لیکن اللہ تعالیٰ نے اپنے خلیل کو اس سے نجات دی۔ انہی کو غلبہ دیا اور انہی کی مدد فرمائی۔ گو انہوں نے انہیں برائی پہنچانی چاہی لیکن اللہ نے خود انہیں ذلیل کر دیا۔ اس کا پورا بیان اور کامل تفسیر سورۃ انبیاء ۱؎ [21-الأنبياء:1] میں گزر چکی ہے وہیں دیکھ لی جائے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 95) {قَالَ اَتَعْبُدُوْنَ مَا تَنْحِتُوْنَ:} کیا تم اپنے تراشے ہوئے بتوں کی عبادت کرتے ہو؟
حالانکہ اللہ ہی نے تم کو بھی پیدا کیا ہے اور اُن چیزوں کو بھی جنہیں تم بناتے ہو"
مولانا محمد جوناگڑھی
حاﻻنکہ تمہیں اور تمہاری بنائی ہوئی چیزوں کو اللہ ہی نے پیدا کیا ہے
احمد رضا خان بریلوی
اور اللہ نے تمہیں پیدا کیا اور تمہارے اعمال کو
علامہ محمد حسین نجفی
حالانکہ اللہ ہی نے تم کو پیدا کیا ہے اور ان چیزوں کو بھی جو تم بناتے ہو۔
عبدالسلام بن محمد
حالانکہ اللہ ہی نے تمھیں پیدا کیا اور اسے بھی جو تم کرتے ہو۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
بت کدہ آذر اور ابراہیم علیہ السلام ٭٭
حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنی قوم سے یہ اس لیے فرمایا کہ وہ جب اپنے میلے میں چلے جائیں تو یہ ان کے عبادت خانے میں تنہارہ جائیں اور ان کے بتوں کو توڑ نے کا تنہائی میں موقعہ مل جائے۔ اسی لیے ایک ایسی بات کہی جو درحقیقت سچی بات تھی لیکن ان کی سمجھ میں جو مطلب اس کا آیا اس سے آپ علیہ السلام نے اپنا دینی کام نکال لیا۔ وہ تو اپنے اعتقاد کے موجب ابراہیم علیہ السلام کو سچ مچ بیمار سمجھ بیٹھے اور انہیں چھوڑ کر چلتے بنے۔ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”جو شخص کسی امر میں غور و فکر کرے تو عرب کہتے ہیں اس نے ستاروں پر نظریں ڈالیں۔“ مطلب یہ ہے کہ غور وفکر کے ساتھ تاروں کی طرف نگاہ اٹھائی۔ اور سوچنے لگے کہ میں انہیں کس طرح ٹالوں۔ سوچ سمجھ کر فرمایا کہ ”میں سقم ہوں یعنی ضعیف ہوں۔“ ایک حدیث میں آیا کہ { ابراہیم علیہ السلام نے صرف تین ہی جھوٹ بولے ہیں جن میں سے دو تو اللہ کے دین کے لیے ان کا فرمان «فَقَالَ اِنِّىْ سَقِيْمٌ» ۱؎ [37-الصافات:89] اور ان کا فرمان «قَالَ بَلْ فَعَلَه ٗٗ كَبِيْرُهُمْ ھٰذَا فَسْـَٔــلُوْهُمْ اِنْ كَانُوْا يَنْطِقُوْنَ» ۱؎ [21-الأنبياء:63] اور ایک ان کا سارہ رضی اللہ عنہا کو اپنی بہن کہنا }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:3357] تو یاد رہے کہ دراصل ان میں حقیقی جھوٹ ایک بھی نہیں۔ انہیں تو صرف مجازاً جھوٹ کہا گیا ہے کلام میں ایسی تعریفیں کسی شرعی مقصد کے لیے کرنا جھوٹ میں داخل نہیں، جیسا کہ حدیث میں بھی ہے کہ { تعریض جھوٹ سے الگ ہے اور اس سے بے نیاز کر دیتی ہے }۔ ابن ابی حاتم میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں، { خلیل اللہ علیہ السلام کے ان تینوں کلمات میں سے ایک بھی ایسا نہیں جس سے حکمت عملی کے ساتھ دین اللہ کی بھلائی مقصود نہ ہو } }۔۱؎ [تاریخ دمشق لا بن عساکر:320/2:ضعیف]
حضرت سفیان رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”میں بیمار ہوں سے مطلب مجھے طاعون ہو گیا ہے۔ اور وہ لوگ ایسے مریض سے بھاگتے تھے۔“ سعید رحمہ اللہ کا بیان ہے کہ ”اللہ کے دین کی تبلیغ ان کے جھوٹے معبودوں کی تردید کے لیے خلیل اللہ علیہ السلام کی یہ ایک حکمت عملی تھی کہ ایک ستارے کو طلوع ہوتے دیکھ کر فرما دیا کہ میں مقیم ہوں۔“ اوروں نے یہ بھی لکھا ہے کہ ”میں بیمار ہونے والا ہوں یعنی یقیناً ایک مرتبہ مرض الموت آنے والا ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ مریض ہوں یعنی میرا دل تمہارے ان بتوں کی عبادت سے بیمار ہے۔“
حضرت حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں جب آپ علیہ السلام کی قوم میلے میں جانے لگی تو آپ علیہ السلام کو بھی مجبور کرنے لگی آپ علیہ السلام ہٹ گئے اور فرما دیا کہ ”میں مقیم ہوں اور آسمان کی طرف دیکھنے لگے۔“ جب وہ انہیں تنہا چھوڑ کر چل دئیے تو آپ علیہ السلام نے بہ فراغت ان کے معبودوں کے ٹکڑے ٹکڑے کر دئیے۔ وہ تو سب اپنی عید میں گئے آپ علیہ السلام چپکے چپکے اور جلدی جلدی ان کے بتوں کے پاس آئے۔ پہلے تو فرمایا کیوں جی تم کھاتے کیوں نہیں؟ یہاں آ کر خلیل اللہ علیہ السلام نے دیکھا کہ جو چڑھا وے ان لوگوں نے ان بتوں پر چڑھا رکھے تھے وہ سب رکھے ہوئے تھے ان لوگوں نے تبرک کی نیت سے جو قربانیاں یہاں کی تھیں وہ سب یونہی پڑی ہوئی تھیں یہ بت خانہ بڑا وسیع اور مزین تھا دروازے کے متصل ایک بہت بڑا بت تھا اور اس کے اردگرد اس سے چھوٹے پھر ان سے چھوٹے یونہی تمام بت خانہ بھرا ہوا تھا۔ ان کے پاس مختلف قسم کے کھانے رکھے ہوئے تھے جو اس اعتقاد سے رکھے گئے تھے کہ یہاں رہنے سے متبرک ہو جائیں گے پھر ہم کھالیں گے۔ ابراہیم علیہ السلام نے اپنی بات کا جواب نہ پاکر پھر فرمایا ”یہ تمہیں کیا ہو گیا ہے؟ بولتے کیوں نہیں۔“ اب تو پوری قوت سے دائیں ہاتھ سے مار کر ان کے ٹکڑے ٹکڑے کر دئیے۔ ہاں بڑے بت کو چھوڑ دیا تاکہ اس پر بدگمانی کی جا سکے۔
جیسا کہ سورۃ انبیاء میں گزر چکا ہے اور وہیں اس کی پوری تفسیر بھی بیان ہو چکی ہے۔ بت پرست جب اپنے میلے سے واپس ہوئے بت خانے میں گھسے تو دیکھا کہ ان کے سب خدا اڑنگ بڑنگ پڑے ہوئے ہیں کسی کا ہاتھ نہیں کسی کا پاؤں نہیں کسی کا سر نہیں کسی کا دھڑ نہیں حیران ہو گئے کہ یہ کیا ہوا؟ آخر سوچ سمجھ کر بحث مباحثے کے بعد معلوم کر لیا کہ ہو نہ ہو یہ کام ابراہیم کا ہے (علیہ الصلوۃ والسلام)۔ اب سارے کے سارے مل جل کر خلیل علیہ السلام کے پاس دوڑے، بھاگے، دانت پیستے، تلملائے کوستے گئے۔ خلیل اللہ علیہ السلام کو تبلیغ کا اور انہیں قائل معقول کرنے کا اور سمجھانے کا اچھا موقعہ ملا فرمانے لگے ”کیوں ان چیزوں کی پرستش کرتے ہو جنہیں خود تم بناتے ہو؟ اپنے ہاتھوں گھڑتے اور تراشتے ہو؟ حالانکہ تمہارا اور تمہارے اعمال کا خالق اللہ ہی ہے۔“ ممکن ہے کہ اس آیت میں «ما» مصدریہ ہو اور ممکن ہے کہ «الَّذِی» کے معنی میں ہو، لیکن دونوں معنی میں تلازم ہے۔ گو اول زیادہ ظاہر ہے۔ چنانچہ امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ کی کتاب افعال العباد میں ایک مرفوع حدیث ہے کہ { اللہ تعالیٰ ہر صانع اور اس کی صنعت کو پیدا کرتا ہے }۔ ۱؎ [خلق افعال العباد:17:صحیح] پھر بعض نے اسی آیت کی تلاوت کی۔ چونکہ اس پاک صاف بات کا کوئی جواب ان کے پاس نہ تھا تو تنگ آ کر دشمنی پر اور سفلہ پن پر اتر آئے اور کہنے لگے ایک بنیان بناؤ اس میں آگ جلاؤ اور اسے اس میں ڈال دو۔ چنانچہ یہی انہوں نے کیا لیکن اللہ تعالیٰ نے اپنے خلیل کو اس سے نجات دی۔ انہی کو غلبہ دیا اور انہی کی مدد فرمائی۔ گو انہوں نے انہیں برائی پہنچانی چاہی لیکن اللہ نے خود انہیں ذلیل کر دیا۔ اس کا پورا بیان اور کامل تفسیر سورۃ انبیاء ۱؎ [21-الأنبياء:1] میں گزر چکی ہے وہیں دیکھ لی جائے۔
96۔ 1 یعنی وہ مورتیاں اور تصویریں بھی جنہیں تم اپنے ہاتھوں سے بناتے اور انہیں معبود سمجھتے ہو، یا مطلق تمہارا عمل جو بھی تم کرتے ہو، ان کا خالق بھی اللہ ہے۔ اس سے واضح ہے کہ بندوں کے افعال کا خالق اللہ ہی ہے، جیسے اہل سنت کا عقیدہ ہے۔
(آیت 96) {وَ اللّٰهُ خَلَقَكُمْ وَ مَا تَعْمَلُوْنَ: ” مَا تَعْمَلُوْنَ “} کے دو معنی ہو سکتے ہیں، {” مَا “} موصولہ ہو تو مطلب یہ ہے کہ کیا تم اس کی عبادت کرتے ہو جسے خود تراشتے ہو، حالانکہ اللہ تعالیٰ نے تمھیں پیدا کیا اور ان چیزوں کو بھی جو تم بناتے ہو، یعنی تم اور تمھارے بت دونوں اللہ کی مخلوق ہیں، پھر خالق کو چھوڑ کر مخلوق کی عبادت کیوں کرتے ہو؟ اور {” مَا “} مصدریہ ہو تو معنی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تمھیں پیدا کیا اور جو عمل تم کرتے ہو وہ بھی اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا۔ اس سے معلوم ہوا کہ بندے کے تمام افعال کا خالق بھی اللہ تعالیٰ ہے، بندہ صرف کاسب اور عامل ہے، اس کے عمل کا خالق وہ خود نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ ہے اور یہی اہلِ سنت کا عقیدہ ہے۔ امام بخاری رحمہ اللہ نے اس مسئلے پر کتاب {”خَلْقُ أَفْعَالِ الْعِبَادِ“} لکھی ہے۔
انہوں نے آپس میں کہا "اس کے لیے ایک الاؤ تیار کرو اور اسے دہکتی ہوئی آگ کے ڈھیر میں پھینک دو"
مولانا محمد جوناگڑھی
وه کہنے لگے اس کے لئے ایک مکان بناؤ اور اس (دہکتی ہوئی) آگ میں اسے ڈال دو
احمد رضا خان بریلوی
بولے اس کے لیے ایک عمارت چنو پھر اسے بھڑکتی آگ میں ڈال دو،
علامہ محمد حسین نجفی
ان لوگوں نے کہا کہ ان کیلئے ایک آتش کدہ بناؤ اور اسے دہکتی ہوئی آگ میں ڈال دو۔
عبدالسلام بن محمد
انھوں نے کہا اس کے لیے ایک عمارت بناؤ، پھر اسے بھڑکتی آگ میں پھینک دو۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
بت کدہ آذر اور ابراہیم علیہ السلام ٭٭
حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنی قوم سے یہ اس لیے فرمایا کہ وہ جب اپنے میلے میں چلے جائیں تو یہ ان کے عبادت خانے میں تنہارہ جائیں اور ان کے بتوں کو توڑ نے کا تنہائی میں موقعہ مل جائے۔ اسی لیے ایک ایسی بات کہی جو درحقیقت سچی بات تھی لیکن ان کی سمجھ میں جو مطلب اس کا آیا اس سے آپ علیہ السلام نے اپنا دینی کام نکال لیا۔ وہ تو اپنے اعتقاد کے موجب ابراہیم علیہ السلام کو سچ مچ بیمار سمجھ بیٹھے اور انہیں چھوڑ کر چلتے بنے۔ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”جو شخص کسی امر میں غور و فکر کرے تو عرب کہتے ہیں اس نے ستاروں پر نظریں ڈالیں۔“ مطلب یہ ہے کہ غور وفکر کے ساتھ تاروں کی طرف نگاہ اٹھائی۔ اور سوچنے لگے کہ میں انہیں کس طرح ٹالوں۔ سوچ سمجھ کر فرمایا کہ ”میں سقم ہوں یعنی ضعیف ہوں۔“ ایک حدیث میں آیا کہ { ابراہیم علیہ السلام نے صرف تین ہی جھوٹ بولے ہیں جن میں سے دو تو اللہ کے دین کے لیے ان کا فرمان «فَقَالَ اِنِّىْ سَقِيْمٌ» ۱؎ [37-الصافات:89] اور ان کا فرمان «قَالَ بَلْ فَعَلَه ٗٗ كَبِيْرُهُمْ ھٰذَا فَسْـَٔــلُوْهُمْ اِنْ كَانُوْا يَنْطِقُوْنَ» ۱؎ [21-الأنبياء:63] اور ایک ان کا سارہ رضی اللہ عنہا کو اپنی بہن کہنا }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:3357] تو یاد رہے کہ دراصل ان میں حقیقی جھوٹ ایک بھی نہیں۔ انہیں تو صرف مجازاً جھوٹ کہا گیا ہے کلام میں ایسی تعریفیں کسی شرعی مقصد کے لیے کرنا جھوٹ میں داخل نہیں، جیسا کہ حدیث میں بھی ہے کہ { تعریض جھوٹ سے الگ ہے اور اس سے بے نیاز کر دیتی ہے }۔ ابن ابی حاتم میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں، { خلیل اللہ علیہ السلام کے ان تینوں کلمات میں سے ایک بھی ایسا نہیں جس سے حکمت عملی کے ساتھ دین اللہ کی بھلائی مقصود نہ ہو } }۔۱؎ [تاریخ دمشق لا بن عساکر:320/2:ضعیف]
حضرت سفیان رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”میں بیمار ہوں سے مطلب مجھے طاعون ہو گیا ہے۔ اور وہ لوگ ایسے مریض سے بھاگتے تھے۔“ سعید رحمہ اللہ کا بیان ہے کہ ”اللہ کے دین کی تبلیغ ان کے جھوٹے معبودوں کی تردید کے لیے خلیل اللہ علیہ السلام کی یہ ایک حکمت عملی تھی کہ ایک ستارے کو طلوع ہوتے دیکھ کر فرما دیا کہ میں مقیم ہوں۔“ اوروں نے یہ بھی لکھا ہے کہ ”میں بیمار ہونے والا ہوں یعنی یقیناً ایک مرتبہ مرض الموت آنے والا ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ مریض ہوں یعنی میرا دل تمہارے ان بتوں کی عبادت سے بیمار ہے۔“
حضرت حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں جب آپ علیہ السلام کی قوم میلے میں جانے لگی تو آپ علیہ السلام کو بھی مجبور کرنے لگی آپ علیہ السلام ہٹ گئے اور فرما دیا کہ ”میں مقیم ہوں اور آسمان کی طرف دیکھنے لگے۔“ جب وہ انہیں تنہا چھوڑ کر چل دئیے تو آپ علیہ السلام نے بہ فراغت ان کے معبودوں کے ٹکڑے ٹکڑے کر دئیے۔ وہ تو سب اپنی عید میں گئے آپ علیہ السلام چپکے چپکے اور جلدی جلدی ان کے بتوں کے پاس آئے۔ پہلے تو فرمایا کیوں جی تم کھاتے کیوں نہیں؟ یہاں آ کر خلیل اللہ علیہ السلام نے دیکھا کہ جو چڑھا وے ان لوگوں نے ان بتوں پر چڑھا رکھے تھے وہ سب رکھے ہوئے تھے ان لوگوں نے تبرک کی نیت سے جو قربانیاں یہاں کی تھیں وہ سب یونہی پڑی ہوئی تھیں یہ بت خانہ بڑا وسیع اور مزین تھا دروازے کے متصل ایک بہت بڑا بت تھا اور اس کے اردگرد اس سے چھوٹے پھر ان سے چھوٹے یونہی تمام بت خانہ بھرا ہوا تھا۔ ان کے پاس مختلف قسم کے کھانے رکھے ہوئے تھے جو اس اعتقاد سے رکھے گئے تھے کہ یہاں رہنے سے متبرک ہو جائیں گے پھر ہم کھالیں گے۔ ابراہیم علیہ السلام نے اپنی بات کا جواب نہ پاکر پھر فرمایا ”یہ تمہیں کیا ہو گیا ہے؟ بولتے کیوں نہیں۔“ اب تو پوری قوت سے دائیں ہاتھ سے مار کر ان کے ٹکڑے ٹکڑے کر دئیے۔ ہاں بڑے بت کو چھوڑ دیا تاکہ اس پر بدگمانی کی جا سکے۔
جیسا کہ سورۃ انبیاء میں گزر چکا ہے اور وہیں اس کی پوری تفسیر بھی بیان ہو چکی ہے۔ بت پرست جب اپنے میلے سے واپس ہوئے بت خانے میں گھسے تو دیکھا کہ ان کے سب خدا اڑنگ بڑنگ پڑے ہوئے ہیں کسی کا ہاتھ نہیں کسی کا پاؤں نہیں کسی کا سر نہیں کسی کا دھڑ نہیں حیران ہو گئے کہ یہ کیا ہوا؟ آخر سوچ سمجھ کر بحث مباحثے کے بعد معلوم کر لیا کہ ہو نہ ہو یہ کام ابراہیم کا ہے (علیہ الصلوۃ والسلام)۔ اب سارے کے سارے مل جل کر خلیل علیہ السلام کے پاس دوڑے، بھاگے، دانت پیستے، تلملائے کوستے گئے۔ خلیل اللہ علیہ السلام کو تبلیغ کا اور انہیں قائل معقول کرنے کا اور سمجھانے کا اچھا موقعہ ملا فرمانے لگے ”کیوں ان چیزوں کی پرستش کرتے ہو جنہیں خود تم بناتے ہو؟ اپنے ہاتھوں گھڑتے اور تراشتے ہو؟ حالانکہ تمہارا اور تمہارے اعمال کا خالق اللہ ہی ہے۔“ ممکن ہے کہ اس آیت میں «ما» مصدریہ ہو اور ممکن ہے کہ «الَّذِی» کے معنی میں ہو، لیکن دونوں معنی میں تلازم ہے۔ گو اول زیادہ ظاہر ہے۔ چنانچہ امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ کی کتاب افعال العباد میں ایک مرفوع حدیث ہے کہ { اللہ تعالیٰ ہر صانع اور اس کی صنعت کو پیدا کرتا ہے }۔ ۱؎ [خلق افعال العباد:17:صحیح] پھر بعض نے اسی آیت کی تلاوت کی۔ چونکہ اس پاک صاف بات کا کوئی جواب ان کے پاس نہ تھا تو تنگ آ کر دشمنی پر اور سفلہ پن پر اتر آئے اور کہنے لگے ایک بنیان بناؤ اس میں آگ جلاؤ اور اسے اس میں ڈال دو۔ چنانچہ یہی انہوں نے کیا لیکن اللہ تعالیٰ نے اپنے خلیل کو اس سے نجات دی۔ انہی کو غلبہ دیا اور انہی کی مدد فرمائی۔ گو انہوں نے انہیں برائی پہنچانی چاہی لیکن اللہ نے خود انہیں ذلیل کر دیا۔ اس کا پورا بیان اور کامل تفسیر سورۃ انبیاء ۱؎ [21-الأنبياء:1] میں گزر چکی ہے وہیں دیکھ لی جائے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 97) {قَالُوا ابْنُوْا لَهٗ بُنْيَانًا …: ” بُنْيَانًا “} کی تنوین تعظیم کی ہے۔ {” الْجَحِيْمِ “} خوب بھڑکائی ہوئی آگ، یہ {”حَجَمَ فُلَانٌ النَّارَ“ } (ف) (فلاں نے آگ خوب بھڑکائی) سے مشتق ہے۔ دلیل میں لاجواب ہونے پر انھوں نے فیصلہ کیا کہ ابراہیم(علیہ السلام) کے لیے ایک بڑی عمارت بناؤ، اسے ایندھن سے بھر کر آگ لگاؤ اور جب وہ خوب بھڑک اٹھے تو ابراہیم(علیہ السلام) کو اس میں پھینک دو۔ اس چار دیواری یا عمارت کا بلند اور بڑا ہونا تو {” بُنْيَانًا “} کے لفظ اور اس کی تنوین سے ظاہر ہو رہا ہے، مگر اس کی پیمائش کسی معتبر ذریعے سے ہم تک نہیں پہنچی۔
انہوں نے اس کے خلاف ایک کاروائی کرنی چاہی تھی، مگر ہم نے انہی کو نیچا دکھا دیا
مولانا محمد جوناگڑھی
انہوں نے تو اس (ابراہیم علیہ السلام) کے ساتھ مکر کرنا چاہا لیکن ہم نے انہی کو نیچا کر دیا
احمد رضا خان بریلوی
تو انہوں نے اس پر داؤں چلنا (فریب کرنا) چاہا ہم نے انہیں نیچا دکھایا
علامہ محمد حسین نجفی
سو انہوں نے آپ(ع) کے خلاف چال چلنا چاہی مگر ہم نے انہی کو نیچا دکھا دیا۔
عبدالسلام بن محمد
غرض انھوں نے اس کے ساتھ ایک چال چلنے کا ارادہ کیا تو ہم نے انھی کو سب سے نیچا کر دیا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
بت کدہ آذر اور ابراہیم علیہ السلام ٭٭
حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنی قوم سے یہ اس لیے فرمایا کہ وہ جب اپنے میلے میں چلے جائیں تو یہ ان کے عبادت خانے میں تنہارہ جائیں اور ان کے بتوں کو توڑ نے کا تنہائی میں موقعہ مل جائے۔ اسی لیے ایک ایسی بات کہی جو درحقیقت سچی بات تھی لیکن ان کی سمجھ میں جو مطلب اس کا آیا اس سے آپ علیہ السلام نے اپنا دینی کام نکال لیا۔ وہ تو اپنے اعتقاد کے موجب ابراہیم علیہ السلام کو سچ مچ بیمار سمجھ بیٹھے اور انہیں چھوڑ کر چلتے بنے۔ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”جو شخص کسی امر میں غور و فکر کرے تو عرب کہتے ہیں اس نے ستاروں پر نظریں ڈالیں۔“ مطلب یہ ہے کہ غور وفکر کے ساتھ تاروں کی طرف نگاہ اٹھائی۔ اور سوچنے لگے کہ میں انہیں کس طرح ٹالوں۔ سوچ سمجھ کر فرمایا کہ ”میں سقم ہوں یعنی ضعیف ہوں۔“ ایک حدیث میں آیا کہ { ابراہیم علیہ السلام نے صرف تین ہی جھوٹ بولے ہیں جن میں سے دو تو اللہ کے دین کے لیے ان کا فرمان «فَقَالَ اِنِّىْ سَقِيْمٌ» ۱؎ [37-الصافات:89] اور ان کا فرمان «قَالَ بَلْ فَعَلَه ٗٗ كَبِيْرُهُمْ ھٰذَا فَسْـَٔــلُوْهُمْ اِنْ كَانُوْا يَنْطِقُوْنَ» ۱؎ [21-الأنبياء:63] اور ایک ان کا سارہ رضی اللہ عنہا کو اپنی بہن کہنا }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:3357] تو یاد رہے کہ دراصل ان میں حقیقی جھوٹ ایک بھی نہیں۔ انہیں تو صرف مجازاً جھوٹ کہا گیا ہے کلام میں ایسی تعریفیں کسی شرعی مقصد کے لیے کرنا جھوٹ میں داخل نہیں، جیسا کہ حدیث میں بھی ہے کہ { تعریض جھوٹ سے الگ ہے اور اس سے بے نیاز کر دیتی ہے }۔ ابن ابی حاتم میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں، { خلیل اللہ علیہ السلام کے ان تینوں کلمات میں سے ایک بھی ایسا نہیں جس سے حکمت عملی کے ساتھ دین اللہ کی بھلائی مقصود نہ ہو } }۔۱؎ [تاریخ دمشق لا بن عساکر:320/2:ضعیف]
حضرت سفیان رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”میں بیمار ہوں سے مطلب مجھے طاعون ہو گیا ہے۔ اور وہ لوگ ایسے مریض سے بھاگتے تھے۔“ سعید رحمہ اللہ کا بیان ہے کہ ”اللہ کے دین کی تبلیغ ان کے جھوٹے معبودوں کی تردید کے لیے خلیل اللہ علیہ السلام کی یہ ایک حکمت عملی تھی کہ ایک ستارے کو طلوع ہوتے دیکھ کر فرما دیا کہ میں مقیم ہوں۔“ اوروں نے یہ بھی لکھا ہے کہ ”میں بیمار ہونے والا ہوں یعنی یقیناً ایک مرتبہ مرض الموت آنے والا ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ مریض ہوں یعنی میرا دل تمہارے ان بتوں کی عبادت سے بیمار ہے۔“
حضرت حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں جب آپ علیہ السلام کی قوم میلے میں جانے لگی تو آپ علیہ السلام کو بھی مجبور کرنے لگی آپ علیہ السلام ہٹ گئے اور فرما دیا کہ ”میں مقیم ہوں اور آسمان کی طرف دیکھنے لگے۔“ جب وہ انہیں تنہا چھوڑ کر چل دئیے تو آپ علیہ السلام نے بہ فراغت ان کے معبودوں کے ٹکڑے ٹکڑے کر دئیے۔ وہ تو سب اپنی عید میں گئے آپ علیہ السلام چپکے چپکے اور جلدی جلدی ان کے بتوں کے پاس آئے۔ پہلے تو فرمایا کیوں جی تم کھاتے کیوں نہیں؟ یہاں آ کر خلیل اللہ علیہ السلام نے دیکھا کہ جو چڑھا وے ان لوگوں نے ان بتوں پر چڑھا رکھے تھے وہ سب رکھے ہوئے تھے ان لوگوں نے تبرک کی نیت سے جو قربانیاں یہاں کی تھیں وہ سب یونہی پڑی ہوئی تھیں یہ بت خانہ بڑا وسیع اور مزین تھا دروازے کے متصل ایک بہت بڑا بت تھا اور اس کے اردگرد اس سے چھوٹے پھر ان سے چھوٹے یونہی تمام بت خانہ بھرا ہوا تھا۔ ان کے پاس مختلف قسم کے کھانے رکھے ہوئے تھے جو اس اعتقاد سے رکھے گئے تھے کہ یہاں رہنے سے متبرک ہو جائیں گے پھر ہم کھالیں گے۔ ابراہیم علیہ السلام نے اپنی بات کا جواب نہ پاکر پھر فرمایا ”یہ تمہیں کیا ہو گیا ہے؟ بولتے کیوں نہیں۔“ اب تو پوری قوت سے دائیں ہاتھ سے مار کر ان کے ٹکڑے ٹکڑے کر دئیے۔ ہاں بڑے بت کو چھوڑ دیا تاکہ اس پر بدگمانی کی جا سکے۔
جیسا کہ سورۃ انبیاء میں گزر چکا ہے اور وہیں اس کی پوری تفسیر بھی بیان ہو چکی ہے۔ بت پرست جب اپنے میلے سے واپس ہوئے بت خانے میں گھسے تو دیکھا کہ ان کے سب خدا اڑنگ بڑنگ پڑے ہوئے ہیں کسی کا ہاتھ نہیں کسی کا پاؤں نہیں کسی کا سر نہیں کسی کا دھڑ نہیں حیران ہو گئے کہ یہ کیا ہوا؟ آخر سوچ سمجھ کر بحث مباحثے کے بعد معلوم کر لیا کہ ہو نہ ہو یہ کام ابراہیم کا ہے (علیہ الصلوۃ والسلام)۔ اب سارے کے سارے مل جل کر خلیل علیہ السلام کے پاس دوڑے، بھاگے، دانت پیستے، تلملائے کوستے گئے۔ خلیل اللہ علیہ السلام کو تبلیغ کا اور انہیں قائل معقول کرنے کا اور سمجھانے کا اچھا موقعہ ملا فرمانے لگے ”کیوں ان چیزوں کی پرستش کرتے ہو جنہیں خود تم بناتے ہو؟ اپنے ہاتھوں گھڑتے اور تراشتے ہو؟ حالانکہ تمہارا اور تمہارے اعمال کا خالق اللہ ہی ہے۔“ ممکن ہے کہ اس آیت میں «ما» مصدریہ ہو اور ممکن ہے کہ «الَّذِی» کے معنی میں ہو، لیکن دونوں معنی میں تلازم ہے۔ گو اول زیادہ ظاہر ہے۔ چنانچہ امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ کی کتاب افعال العباد میں ایک مرفوع حدیث ہے کہ { اللہ تعالیٰ ہر صانع اور اس کی صنعت کو پیدا کرتا ہے }۔ ۱؎ [خلق افعال العباد:17:صحیح] پھر بعض نے اسی آیت کی تلاوت کی۔ چونکہ اس پاک صاف بات کا کوئی جواب ان کے پاس نہ تھا تو تنگ آ کر دشمنی پر اور سفلہ پن پر اتر آئے اور کہنے لگے ایک بنیان بناؤ اس میں آگ جلاؤ اور اسے اس میں ڈال دو۔ چنانچہ یہی انہوں نے کیا لیکن اللہ تعالیٰ نے اپنے خلیل کو اس سے نجات دی۔ انہی کو غلبہ دیا اور انہی کی مدد فرمائی۔ گو انہوں نے انہیں برائی پہنچانی چاہی لیکن اللہ نے خود انہیں ذلیل کر دیا۔ اس کا پورا بیان اور کامل تفسیر سورۃ انبیاء ۱؎ [21-الأنبياء:1] میں گزر چکی ہے وہیں دیکھ لی جائے۔
98۔ 1 یعنی آگ کو گلزار بنا کر ان کے مکر و حیلے کو ناکام بنادیا، پس پاک ہے وہ ذات جو اپنے بندوں کی چارہ سازی فرماتا ہے اور آزمائش کو عطا میں اور شر کو خیر میں بدل دیتا ہے۔
(آیت 98) {فَاَرَادُوْا بِهٖ كَيْدًا …:} اس کی تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ انبیاء (۷۰)۔
ابراہیمؑ نے کہا "میں اپنے رب کی طرف جاتا ہوں، وہی میری رہنمائی کرے گا
مولانا محمد جوناگڑھی
اور اس (ابراہیم علیہ السلام) نے کہا میں تو ہجرت کر کے اپنے پروردگار کی طرف جانے واﻻ ہوں۔ وه ضرور میری رہنمائی کرے گا
احمد رضا خان بریلوی
اور کہا میں اپنے رب کی طرف جانے والا ہوں اب وہ مجھے راہ دے گا
علامہ محمد حسین نجفی
آپ(ع) نے فرمایا کہ میں اپنے پروردگار کی طرف جاتا ہوں وہ میری راہنمائی فرمائے گا۔
عبدالسلام بن محمد
اور اس نے کہا بے شک میں اپنے رب کی طرف جانے والا ہوں، وہ مجھے ضرور راستہ دکھائے گا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
ذبیح اللہ کی بحث اور یہودی روایات ٭٭
خلیل اللہ علیہ السلام جب اپنی قوم کی ہدایت سے مایوس ہو گئے، بڑی بڑی قدرتی نشانیاں دیکھ کر بھی جب انہیں ایمان نصیب نہ ہوا تو آپ علیہ السلام نے ان سے ہٹ جانا پسند فرمایا اور اعلان کر دیا کہ میں اب تم میں سے ہجرت کرجاؤں گا میرا رہنما میرا رب ہے۔ ساتھ ہی اپنے رب سے اپنے ہاں اولاد ہونے کی دعا مانگی تاکہ وہی توحید میں آپ علیہ السلام کا ساتھ دے۔ اسی وقت دعا قبول ہوتی ہے اور ایک بردبار بچے کی بشارت دی جاتی۔ یہ اسماعیل علیہ السلام تھے یہی آپ علیہ السلام کے لیے صاحبزادے تھے اور اسحاق علیہ السلام سے بڑے تھے۔ اسے تو اہل کتاب بھی مانتے ہیں بلکہ ان کی کتب میں موجود ہے کہ اسماعیل علیہ السلام کی پیدائش کے وقت ابراہیم علیہ السلام کی عمر چھیاسی سال کی تھی اور جس وقت اسحاق علیہ السلام تولد ہوتے ہیں اس وقت آپ علیہ السلام کی عمر ننانوے برس کی تھی۔ بلکہ ان کی اپنی کتاب میں تو یہ بھی ہے کہ جناب ابراہیم علیہ السلام کو اپنے اکلوتے فرزند کو ذبح کرنے کا حکم ہوا تھا۔ لیکن صرف اس لیے کہ یہ لوگ خود تو نبی اللہ اسحاق علیہ السلام کی اولاد میں سے ہیں اور نبی اللہ و ذبیح اللہ اسماعیل علیہ السلام کی اولاد میں سے عرب ہیں۔ انہی نے واقعہ کی اصلیت بدل دی اور اس فضیلت کو اسماعیل علیہ السلام سے ہٹاکر اسحاق علیہ السلام کو دے دیا اور بے جا تاویلیں کرتے اللہ کے کلام کو بدل ڈالا، اور کہا ہماری کتاب میں لفظ «وَحِیْدَكَ» ہے اس سے مراد اکلوتا نہیں بلکہ جو تیرے پاس اس وقت اکیلا ہے وہ ہے۔ یہ اس لیے کہ اسماعیل تو اپنی والدہ کے ساتھ مکے میں تھے یہاں خلیل اللہ کے ساتھ صرف اسحاق تھے۔ لیکن یہ بالکل غلط ہے۔ وحید اسی کو کہا جاتا ہے جو اکلوتا ہو اس کا اور کوئی بھائی نہ ہو۔ پھر یہاں ایک بات اور بھی ہے کہ اکلوتے اور پہلوٹھی کے بچے کے ساتھ جو محبت ہوتی اور اس کے جو لاڈ پیار ہوتے ہیں عموماً دوسری اولاد کے ہونے پر پھر وہ باقی نہیں رہتے۔ اس لیے اس کے ذبیحہ کا حکم امتحان اور آزمائش کی زبردست کڑی ہے۔
ہم اسے مانتے ہیں کہ بعض سلف بھی اس کے قائل ہوئے ہیں کہ ذبیح اللہ اسحاق علیہ السلام تھے، یہاں تک کہ بعض صحابہ رضی اللہ عنہم سے بھی یہ مروی ہے لیکن یہ چیز کتاب و سنت سے ثابت نہیں ہوتی۔ بلکہ خیال یہ ہے کہ بنو اسرائیل کی ایک شہرت دی ہوئی بات کو ان حضرات نے بھی بے دلیل اپنے ہاں لے لیا۔ دور کیوں جائیں کتاب اللہ کے الفاظ میں ہی غور کر لیجئیے کہ اسمٰعیل علیہ السلام کی بشارت کا ”غلام حلیم“ کہہ کر ذکر ہوا اور پھر اللہ کی راہ میں ذبح کے لیے تیار ہونے کا ذکر ہوا۔ اس تمام بیان کو ختم کر کے پھر نبی صالح اسحاق علیہ السلام کے تولد کی بشارت کا بیان ہوا۔ اور فرشتوں نے بشارت اسحاق کے موقع پر ”غلام علیم“ فرمایا تھا۔ اسی طرح قرآن میں ہے بشارت اسحاق علیہ السلام کے ساتھ ہی ہے «وَمِنْ وَّرَاءِ اِسْحٰقَ يَعْقُوْبَ» ۱؎ [11-ھود:71] یعنی ’ ابراہیم کی حیات میں ہی اسحاق کے ہاں یعقوب پیدا ہوں گے ‘، یعنی ان کی تو نسل جاری رہنے کا پہلے ہی علم کرایا جا چکا تھا اب انہیں ذبح کرنے کا حکم کیسے دیا جاتا؟ اسے ہم پہلے بھی بیان کر چکے۔ البتہ اسماعیل علیہ السلام کا وصف یہاں پر بردباری کا بیان کیا گیا ہے۔ جو ذبیح کے لیے نہایت مناسب ہے۔
اب اسماعیل علیہ السلام بڑے ہو گئے اپنے والد کے ساتھ چلنے پھرنے کے قابل ہو گئے۔ آپ علیہ السلام اس وقت مع اپنی والدہ محترمہ کے فاران میں تھے ابراہیم علیہ السلام عموماً وہاں جاتے آتے رہتے تھے یہ مذکور ہے کہ براق پر جاتے تھے اور اس جملے کے یہ معنی بھی ہیں کہ جوانی کے لگ بھگ ہو گئے لڑکپن کا زمانہ نکل گیا اور باپ کی طرح چلنے پھرنے کام کاج کرنے کے قابل بن گئے تو ابراہیم علیہ السلام نے خواب دیکھا کہ گویا آپ علیہ السلام اپنے پیارے بچے کو ذبح کر رہے ہیں۔ انبیاء کے خواب وحی ہوتے ہیں اور اس کی دلیل یہی آیت ہے۔ ایک مرفوع روایت میں بھی یہ ہے۔ ۱؎ [صحیح بخاری:138] پس اللہ کے رسول علیہ السلام نے اپنے لخت جگر کی آزمائش کے لیے کہ اچانک وہ گھبرا نہ اٹھے، اپنا ارادہ ان کے سامنے ظاہر کیا۔ وہاں کیا تھا۔ وہ بھی اسی درخت کے پھل تھے نبی ابن نبی علیہ السلام تھے جواب دیتے ہیں اب پھر دیر کیوں لگا رہے ہو یہ باتیں بھی پوچھنے کی ہوتی ہیں جو حکم ہوا ہے اسے فوراً کر ڈالیے اور اگر میری نسبت کھٹکا ہو تو زبانی اطمینانی کیا کروں چھری رکھئے خود معلوم ہو جائے گا کہ میں کیسا کچھ صابر ہوں۔ ان شاءاللہ میرا صبر آپ کا جی خوش کر دے گا۔ سبحان اللہ جو کہا تھا وہی کر کے دکھایا اور صادق الوعد ہونے کا سرٹیفیکیٹ اللہ کی طرف سے حاصل کر ہی لیا۔ آخر باپ بیٹا دونوں حکم اللہ کی اطاعت کے لیے جان بکف تیار ہو جاتے ہیں باپ بچے کو ذبح کرنے کے لیے تیار ہو جاتا ہے۔ اور باپ اپنے نور چشم لخت جگر کو منہ کے بل زمین پر گراتے ہیں تاکہ ذبح کے وقت منہ دیکھ کر محبت نہ آ جائے اور ہاتھ سست نہ پڑ جائے۔
مسند احمد میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ”جب ابراہیم علیہ السلام اپنی نور نظر کو ذبح کرنے کے لیے بحکم اللہ لے چلے تو سعی کے وقت شیطان سامنے آیا لیکن ابراہیم علیہ السلام اس سے آگے بڑھ گئے، پھر جبرائیل علیہ السلام کے ساتھ آپ جمرہ عقبہ پر پہنچے تو پھر شیطان سامنے آیا، آپ علیہ السلام نے اسے سات کنکریاں ماریں۔“ ”پھر جمرہ وسطی پاس آیا پھر وہاں سات کنکریاں ماریں۔ پھر آگے بڑھ کر اپنے پیارے بچے کو اللہ کے نام پر ذبح کرنے کے لیے نیچے پچھاڑا، ذبیح اللہ کے پاک جسم پر اس وقت سفید چادر تھی کہنے لگے ابا جی اسے اتار لیجئیے تاکہ اس میں آپ مجھے کفنا سکیں۔ اس وقت بیٹے کو ننگا کرتے وقت باپ کا عجب حال تھا کہ آواز آئی بس ابراہیم خواب کو سچا کر چکے۔ مڑ کر دیکھا تو ایک مینڈا سفید رنگ کا بڑے بڑے سینگوں اور صاف آنکھوں والا نظر پڑا، ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں اسی لیے ہم اس قسم کے مینڈے (چھترے) چن چن کر قربانی کے لیے لیتے تھے۔“
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما ہی سے دوسری روایت میں اسحاق علیہ السلام کا نام مروی ہے۔ تو گو دونوں نام آپ رضی اللہ عنہما سے مروی ہیں لیکن اول ہی اولیٰ ہے اور اس کی دلیلیں آ رہی ہیں۔ ان شاءاللہ تعالیٰ۔ اس کے بدلے بڑا ذبیحہ، اللہ نے عطا فرمایا اس کی بابت سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”یہ جنتی چھترا تھا جو وہاں چالیس سال سے کھا پی رہا تھا۔“ اسے دیکھ کر آپ علیہ السلام اپنے بچے کو چھوڑ کر اس کے پیچھے ہولیے۔ جمرہ اولیٰ پر آ کر سات کنکریاں پھنکیں پھر وہ بھاگ کر جمرہ وسطی پر آ گیا۔ سات کنکریاں ماریں اور وہاں سے ملخر میں لا کر ذبح کیا اس کے سینگ سر سمیت ابتداء اسلام کے زمانہ تک کعبے کے پرنالے کے پاس لٹکتے رہے تھے پھر سوکھ گئے۔ ایک مرتبہ سیدنا کعب رضی اللہ عنہ بیٹھے ہوئے باتیں کر رہے تھے۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ تو حدیثیں بیان کر رہے تھے اور کعب رضی اللہ عنہ کتاب کے قصے بیان کر رہے تھے۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ { ہر نبی کے لیے ایک دعا قبول شدہ ہے اور میں نے اپنی اس مقبول دعا کو پوشیدہ کر کے رکھ چھوڑا ہے اپنی امت کی شفاعت کے لئے جو بروز قیامت ہوگی}، تو سیدنا کعب رضی اللہ عنہ نے فرمایا تم نے خود اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے؟ فرمایا ہاں۔ سیدنا کعب رضی اللہ عنہ خوش ہوئے اور فرمانے لگے تم پر میرے ماں باپ فدا ہوں یا فرمایا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر میرے ماں باپ صدقے جائیں۔
پھر کعب رضی اللہ عنہ نے ابراہیم خلیل علیہ السلام کا قصہ سنایا کہ جب آپ علیہ السلام اپنے لڑکے اسمٰعیل علیہ السلام کو ذبح کرنے کے لیے مستعد ہو گئے تو شیطان نے کہا اگر میں اس وقت انہیں نہ بہکا سکا تو مجھے ان سے عمر بھر کے لیے مایوس ہو جانا چاہیئے۔ پہلے تو یہ سارہ رضی اللہ عنہا کے پاس آیا اور پوچھا کہ ابراہیم علیہ السلام تمہارے لڑکے کو کہاں لے گئے ہیں؟ مائی صاحبہ رضی اللہ عنہا نے جواب دیا اپنے کسی کام پر لے گئے ہیں، اس نے کہا نہیں بلکہ وہ ذبح کرنے کے لیے لے گئے ہیں۔ مائی صاحبہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا وہ اسے کیوں ذبح کرنے لگے؟ لعین نے کہا وہ کہتے ہیں اللہ کی طرف سے یہی حکم ہے جواب ملا پھر تو یہی بہتر ہے کہ وہ جلدی سے اللہ کے حکم کی بجا آوری سے فارغ ہو لیں۔ یہاں سے نامراد ہو کر بچے کے پاس آیا اور کہا تمہارے ابا تمہیں کہاں لے جاتے ہیں؟ فرمایا اپنے کام کے لیے کہا نہیں بلکہ وہ تجھے ذبح کرنے کے لیے لے جا رہے ہیں، فرمایا یہ کیوں؟ کہا اس لیے کہ وہ سمجھتے ہیں اللہ کا انہیں حکم ہے۔ کہا پھر تو واللہ انہیں اس کام میں بہت جلدی کرنی چاہیئے۔ ان سے بھی مایوس ہو کر یہ ملعون خلیل اللہ علیہ السلام کے پاس پہنچا۔ ان سے کہا بچے کو کہاں لے جا رہے ہو؟ جواب دیا اپنے کام کے لیے ملعون نے کہا نہیں بلکہ تم تو اسے ذبح کرنے کے لیے جا رہے ہو؟ آپ علیہ السلام نے فرمایا یہ کیوں؟ بولا اس لیے کہ تمہارا خیال ہے کہ اللہ کا حکم تمہیں یونہی ہے، آپ علیہ السلام نے فرمایا اللہ کی قسم پھر تو میں ضرور ہی اسے ذبح کر ڈالوں گا۔ اب ابلیس مایوس ہو گیا۔۱؎ [عبد الرزاق فی المصنف:20864:صحیح]
دوسری روایت میں یہ بھی ہے کہ اس تمام واقعے کے بعد جناب باری تعالیٰ نے اسحاق علیہ السلام سے فرمایا کہ ’ ایک دعا تم مجھ سے مانگو جو مانگو گے ملے گا ‘۔ اسحاق علیہ السلام نے کہا ”پھر میری دعا یہ ہے کہ جس نے تیرے ساتھ شریک نہ کیا ہو اسے تو ضرور جنت میں لے جانا۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے { اللہ تعالیٰ نے مجھے اختیار دیا کہ میں دو باتوں میں سے ایک کو اختیار کر لوں یا تو یہ کہ میری آدھوں آدھ امت بخشی جائے یا یہ کہ میں شفاعت کروں اور اسے اللہ تعالیٰ قبول فرما لے تو میں نے شفاعت کرنے کو ترجیح دی اس پر کہ وہ عام ہو گی، ہاں ایک دعا تھی کہ میں وہی کرتا لیکن اللہ کا ایک نیک بندہ مجھ سے پہلے اس دعا کو مانگ چکا تھا }۔ واقعہ یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے اسحاق علیہ السلام سے ذبح ہونے کی تکلیف دور کر دی تو ان سے فرمایا گیا کہ ’ تو مانگ جو مانگے گا دیا جائے گا ‘۔ تو اسحاق علیہ السلام نے فرمایا ”واللہ شیطان کے بہکانے سے پہلے ہی میں اسے مانگ لوں گا، اللہ جو شخص اس حالت میں مرا ہو کہ اس نے تیرے ساتھ کسی کو شریک نہ کیا ہو تو اسے بخش دے اور جنت میں پہنچا دے۔“ ۱؎ [الدر المنشور للسیوطی:531/5:ضعیف] یہ حدیث ابن ابی حاتم میں ہے لیکن سنداً غریب اور منکر ہے اور اس کے ایک راوی عبدالرحمٰن بن زید بن اسلم ضعیف ہیں اور مجھے تو یہ بھی ڈر ہے کہ یہ الفاظ کہ (جب اللہ تعالیٰ نے اسحاق علیہ السلام سے) آخر تک راوی اپنے نہ ہوں جنہیں انہوں نے حدیث میں داخل کر دئیے ہیں۔
ذبیح اللہ تو اسماعیل علیہ السلام ہیں، محل ذبح منیٰ ہے اور وہ مکے میں ہے اور اسماعیل علیہ السلام یہیں تھے نہ کہ اسحاق علیہ السلام وہ تو شہر کنعان میں تھے جو شام ہے۔ جب ابراہیم علیہ السلام اپنے پیارے بچے کو ذبح کرنے کے لیے لٹا دیتے ہیں جناب باری سے ندا آتی ہے کہ ’ بس ابراہیم علیہ السلام تم اپنے خواب کو پورا کر چکے ‘۔ سدی رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ”جب خلیل اللہ علیہ السلام نے ذبیح اللہ علیہ السلام کے حلق پر چھری پھیری تو گردن تانبے کی ہو گئے اور نہ کٹی اور یہ آواز آئی۔“
ہم اسی طرح نیک کاروں کو بدلہ دیتے ہیں۔ یعنی سختیوں سے بچا لیتے ہیں اور چھٹکارا کر دیتے ہیں۔ جیسے فرمایا ’ اللہ سے ڈرتے رہنے والوں کے لیے اللہ تعالیٰ چھٹکارے کی صورت نکال ہی دیتا ہے اور اسے ایسی طرح روزی پہنچاتا ہے کہ اس کے گمان و وہم میں بھی نہ ہو۔ اللہ پر بھروسہ کرنے والوں کو اللہ ہی کافی ہے اللہ اپنے کاموں کو مکمل کر کے چھوڑتا ہے ہرچیز کا اس نے ایک اندازہ مقرر کر رکھا ہے ‘۔ اس آیت سے اس پر استدلال کیا گیا ہے کہ فعل پر قدرت پانے سے پہلے ہی حکم منسوخ ہو سکتا ہے۔
ہاں معتزلہ اسے نہیں مانتے۔ وجہ استدلال بہت ظاہر ہے اس لیے کہ خلیل اللہ علیہ السلام کو اپنے بیٹے کے ذبح کرنے کا حکم ہوتا ہے اور پھر ذبح سے پہلے ہی فدئیے کے ساتھ منسوخ کر دیا جاتا ہے۔ مقصود اس سے یہ تھا کہ صبر کا اور بجا آوری حکم پر مستعدی کا ثواب مرحمت فرما دیا جائے۔ اسی لیے ارشاد ہوا ’ یہ تو صرف ایک آزمائش تھی کھلا امتحان تھا کہ ادھر حکم ہوا ادھر تیاری ہوئی ‘۔ اسی لیے جناب خلیل اللہ علیہ السلام کی تعریف میں قرآن میں ہے ’ ابراہیم بڑا ہی وفادار تھا۔ بڑے ذبیح کے ساتھ ان کا فدیہ ہم نے دیا ‘۔ سفید رنگ بڑی آنکھوں اور بڑے سینگوں والا عمدہ خوراک سے پلا ہوا منیڈھا فدئیے میں دیا گیا جو ثبیر ببول کے درخت سے بندھا ہوا ملا۔ جو جنت میں چالیس سال چرتا رہا۔ منیٰ میں ثبیر کے پاس جو چٹان ہے اس پر یہ جانور ذبح کیا گیا یہ چیختا ہوا اوپر سے اترا تھا۔ یہی وہ مینڈھا ہے جسے ہابیل نے اللہ کی راہ میں قربان کیا تھا۔ اس کی اون قدرے سرخی مائل تھی اس کا نام جریر تھا۔ بعض کہتے ہیں مقام ابراہیم پر اسے ذبح کیا۔ کوئی کہتا ہے مٹی میں نحر پر۔ ایک شخص نے اپنے تئیں راہ اللہ میں ذبح کرنے کی منت مانی تھی تو سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اسے ایک سو اونٹ ذبح کرنے کا فتویٰ دیا تھا لیکن پھر فرماتے تھے کہ ”اگر میں اسے ایک بھیڑ ذبح کرنے کو کہتا تب بھی کافی تھا کیونکہ کتاب اللہ میں ہے کہ ذبیح اللہ کا فدیہ اسی سے دیا گیا تھا۔“ اکثر لوگوں کا یہی قول ہے بعض کہتے ہیں یہ پہاڑی بکرا تھا۔ کوئی کہتا ہے نر ہرن تھا۔ مسند احمد میں ہے کہ { عثمان رضی اللہ عنہ کو بلا کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { میں نے بھیڑ کے سینگ بیت اللہ شریف میں داخلے کے وقت اندر دیکھے تھے اور مجھے یاد نہ رہا کہ میں تجھے ان کے ڈھانک دینے کا حکم دوں، جاؤ اسے ڈھک دو بیت اللہ میں کوئی ایسی چیز نہ ہونی چاہیئے جو نمازی کو اپنی طرف متوجہ کر لے } }۔۱؎ [سنن ابوداود:2030،قال الشيخ الألباني:صحیح] سفیان رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس بھیڑ کے سینگ بیت اللہ میں ہی رہے یہاں تک کہ ایک مرتبہ بیت اللہ میں آگ لگی اس میں وہ جل گئے۔ ۱؎ [سلسلة احادیث صحیحه البانی:23221،] یہ واقعہ بھی اس امر کی دلیل ہے کہ ذبیح اللہ، اسماعیل علیہ السلام تھے اسی وجہ سے ان کی اولاد قریش تک یہ سینگ برابر اور مسلسل چلے آئے یہاں تک کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ نے مبعوث فرمایا۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ ”ان آثار کا بیان جن میں ذبیح اللہ کا نام ہے“ ابومیسرہ فرماتے ہیں یوسف علیہ السلام نے بادشاہ سے فرمایا ”کیا تو میرے ساتھ کھانا چاہتا ہے، میں یوسف بن یعقوب نبی اللہ بن اسحاق ذبیح اللہ بن ابراہیم خلیل اللہ ہوں [ عبید بن عمیر رحمه الله] موسیٰ علیہ السلام نے جناب باری میں عرض کی کہ ”اے اللہ کیا وجہ ہے جو لوگوں کی زبانوں پر یہ چڑھا ہوا ہے کہ ابراہیم، اسمٰعیل اور یعقوب علیہم السلام کے اللہ کی قسم“، تو جواب ملا ’ اس لیے ابراہیم نے تو ہر ہرچیز پر مجھی کو ترجیح دی اور اسحاق علیہ السلام نے اپنے تئیں میری راہ میں ذبح ہونے کے لیے سپرد کر دیا پھر بھلا اور چیزیں اسے پیش کر دینا کیا مشکل تھیں اور یعقوب علیہ السلام کو میں جوں جوں بلاؤں میں ڈالتا گیا اس کے حسن ظنی میرے ساتھ بڑھتی ہی رہی ‘۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے سامنے ایک مرتبہ کسی نے فخراً اپنے باپ دادوں کا نام لیا تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا قابل فخر باپ دادا تو یوسف علیہ السلام کے تھے جو یعقوب بن اسحاق علیہ السلام اور ذبیح اللہ بن ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام تھے۔
عکرمہ، سیدنا ابن عباس، خود سیدنا عباس، سیدنا علی،سعید بن جبیر رضی اللہ عنہم، مجاہد، شعبی، عبید بن عمر، ابومیسرہ، زید بن اسلم، عبداللہ بن شفیق، زہری، قاسم بن ابوبرزہ، محکول، عثمان بن ابی عاص، سدی، حسن، قتادہ، ابو الہذیل، ابن سابط، کعب احبار رحمہم اللہ اجمعین، ان سب کا یہی قول ہے اور ابن جریر رحمہ اللہ بھی اسی کو اختیار کرتے ہیں کہ ذبیح اللہ اسحاق علیہ السلام تھے۔ صحیح علم تو اللہ کو ہی ہے مگر بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ان سب بزرگوں کے استاد کعب احبار رحمہ اللہ ہیں۔ یہ خلافت فاروقی میں مسلمان ہوئے تھے اور کبھی کبھی سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو قدیمی کتابوں کی باتیں سناتے تھے، لوگوں نے اسے رخصت سمجھ کر پھر ان سے ہر ایک بات بیان کرنی شروع کر دی اور صحیح غلط کی تمیز اٹھ گئی حق تو یہ ہے کہ اس امت کو اگلی کتابوں کی ایک بات کی بھی حاجت نہیں۔ بغوی نے کچھ اور نام بھی صحابہ تابعین کے بتلائے ہیں جنہوں نے کہا ہے کہ ذبیح اللہ اسحاق علیہ السلام ہیں۔ ایک مرفوع حدیث میں بھی یہ آیا ہے۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:29495:ضعیف] اگر وہ حدیث صحیح ہوتی تو جھگڑے کا فیصلہ تھا مگر وہ حدیث صحیح نہیں اس میں دو راوی ضعیف ہیں۔ حسن بن دینار متروک ہیں اور علی بن زید بن جدعان منکر الحدیث ہیں اور زیادہ صحیح یہ ہے کہ ہے یہ بھی موقف، چنانچہ ایک سند سے یہ مقولہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کا مروی ہے اور یہی زیادہ ٹھیک ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
اب ان آثار کو سنئے جن سے معلوم ہوتا ہے کہ ذبیح اللہ اسماعیل علیہ السلام ہی تھے اور یہی ٹھیک اور بالکل درست بھی ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما یہی فرماتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ ”یہودی اسحاق علیہ السلام کا نام جھوٹ موٹ لیتے ہیں۔“ ابن عمر رضی اللہ عنہ، مجاہد، شعبی، حسن بصری، محمد بن کعب قرظی، خلیفہ المسلمین عمر ابن عبدالعزیز رحمہ اللہ علیہم کے سامنے جب محمد بن قرظی رحمہ اللہ نے یہ فرمایا اور ساتھ ہی اس کی دلیل بھی دی کہ ”ذبح کے ذکر کے بعد قرآن میں خلیل اللہ علیہ السلام کو اسحاق علیہ السلام کے پیدا ہونے کی بشارت کا ذکر ہے اور ساتھ ہی بیان ہے کہ ان کے ہاں بھی لڑکا ہو گا یعقوب نامی جب ان کے ہاں لڑکا ہونے کی بشارت دی گی تھی پھر باوجود ان کے ہاں لڑکا نہ ہوں کے اس سے پہلے ہی ان کے ذبح کرنے کا حکم کیسے دیا جاتا ہے؟“
تو سیدنا عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے فرمایا ”یہ بہت صاف دلیل ہے میرا ذہن یہاں نہیں پہنچا تھا گو یہ میں بھی جانتا تھا کہ ذبیح اللہ اسماعیل علیہ السلام ہی ہیں۔“ پھر شاہ اسلام نے شام کے ایک یہودی عالم سے پوچھا جو مسلمان ہو گئے تھے کہ تم اس بارے میں کیا علم رکھتے ہو انہوں نے فرمایا امیر المسلمین سچ تو یہی ہے کہ جن کے ذبح کرنے کا حکم دیا گیا وہ اسماعیل علیہ السلام ہی تھے لیکن چونکہ عرب ان کی اولاد میں سے ہیں تو یہ بزرگی ان کی طرف لوٹتی ہے اس حسد کے بارے میں یہودیوں نے اسے بدل دیا اور اسحاق علیہ السلام کا نام لے دیا۔ حقیقی علم اللہ ہی کو ہے ہمارا ایمان ہے کہ اسماعیل، اسحاق علیہم السلام دونوں ہی طاہر و طیب اور اللہ کے سچے فرمانبردار تھے۔ کتاب الزہد میں ہے کہ امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کے صاحبزادے عبداللہ رحمہ اللہ نے اپنے والد سے جب یہ مسئلہ پوچھا تو آپ نے جواب دیا کہ ”ذبح ہونے والے اسماعیل علیہ السلام ہی تھے۔“ علی ابن عمر، ابوالطفیل، سعید بن مسیب، سعید بن جبیر، حسن، مجاہد، شعبی، محمد بن کعب، ابوجعفر محمد بن علی ابوصالح رحمہ اللہ عنہم سے بھی یہی مروی ہے۔
امام بغوی رحمہ اللہ نے اور بھی صحابہ رضی اللہ عنہم اور تابعین کے نام گنوائے ہیں۔ ایک غریب حدیث بھی اسی کی تائید میں مروی ہے اس میں ہے کہ { شام میں امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے سامنے یہ بحث چھڑی کہ ذبیح اللہ کون ہیں؟ تو آپ نے فرمایا خوب ہوا جو یہ معاملہ مجھ جیسے باخبر شخص کے پاس آیا، سنو! ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھے جب ایک شخص آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا اے اللہ کی راہ میں دو ذبح ہونے والوں کی نسل کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم مجھے بھی مال غنیمت میں سے کچھ دلوایئے اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہنس دیئے۔ ایک تو ذبیح اللہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے والد عبداللہ تھے، دوسرے اسمعیل علیہ السلام جن کی نسل میں سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ عبداللہ کے ذبیح اللہ ہونے کا واقعہ یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دادا عبدالمطلب نے جب چاہ زمزم کھودا تو نذر مانی تھی کی اگر یہ کام آسانی سے پورا ہو گیا تو اپنے ایک لڑکے کو راہ اللہ میں ذبح کروں گا جب کام ہو گیا اور قرعہ اندازی کی گئی کہ کس بیٹے کو اللہ کے نام پر ذبح کریں تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے والد عبداللہ کا نام نکلا۔ ان کے ننھیال والوں نے کہا آپ ان کی طرف سے ایک سو اونٹ راہ اللہ ذبح کر دیں چنانچہ وہ ذبح کر دیئے گئے اور اسماعیل علیہ السلام کے ذبیح اللہ ہونے کا واقعہ تو مشہور ہی ہے }۔۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:29530:ضعیف] ابن جریر میں یہ روایت موجود ہے اور مغازی امویہ میں بھی۔
امام ابن جریر رحمہ اللہ نے اسحاق علیہ السلام کے ذبیح اللہ ہونے کی ایک دلیل تو یہ پیش کی یہ کہ جس علیم بچے کی بشارت کا ذکر ہے اس سے مراد اسحاق علیہ السلام ہیں قرآن میں اور جگہ ہے «قَالُوا لَا تَخَفْ وَبَشَّرُوهُ بِغُلَامٍ عَلِيمٍ» ۱؎ [51-الذاريات:28] ، اور یعقوب علیہ السلام کی بشارت کا یہ جواب دیا ہے کہ وہ آپ کے ساتھ چلنے پھرنے کی عمر کو پہنچ گئے تھے اور ممکن ہے کہ یعقوب علیہ السلام کے ساتھ ہی کوئی اور اولاد بھی ہوئی ہو اور کعبتہ اللہ میں سینگوں کی موجودگی کے بارے میں فرماتے ہیں بہت ممکن ہے کہ یہ بلادکنعان سے لا کر یہاں رکھے گئے ہوں۔“ اور بعض لوگوں سے اسحاق علیہ السلام کے نام کی صراحت بھی آئی ہے، لیکن یہ سب باتیں حقیقت سے بہت دور ہیں۔ ہاں اسماعیل علیہ السلام کے ذبیح اللہ ہونے پر محمد بن کعب قرظی رحمہ اللہ کا استدلال بہت صاف اور قوی ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ پہلے ذبیح اللہ اسمعیل علیہ السلام کے تولد ہونے کی بشارت دی گئی تھی یہاں اس کے بعد ان کے بھائی اسحاق علیہ السلام کی بشارت دی جا رہی ہے۔ سورۃ ہود اور سورۃ الحجر میں بھی اس کا ذکر گذر چکا ہے۔ «نبیاً» حال مقدرہ ہے یعنی وہ نبی صالح ہو گا۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ذبیح اللہ اسحاق علیہ السلام تھے اور یہاں نبوت اسحاق علیہ السلام کو بشارت ہے۔ جیسے موسیٰ علیہ السلام کے بارے میں فرمان ہے کہ ’ ہم نے انہیں اپنی رحمت سے ان کے بھائی ہارون کو نبی بنا دیا ‘۔ حالانکہ ہارون علیہ السلام موسیٰ علیہ السلام سے بڑے تھے تو یہاں بھی ان کی نبوت کی بشارت ہے۔ پس یہ بشارت اس وقت دی گئی جبکہ امتحان ذبح میں وہ صابر ثابت ہوئے۔ یہ بھی مروی ہے کہ یہ بشارت دو مرتبہ دی گئی پیدائش سے کچھ قبل اور نبوت سے کچھ قبل۔
حضرت قتادہ رحمہ اللہ سے بھی یہی مروی ہے۔ ’ ان پر اور اسحاق علیہ السلام پر ہماری برکتیں ہم نے نازل فرمائیں، ان کی اولاد میں ہر قسم کے لوگ ہیں نیک بھی بد بھی ‘۔ جیسے نوح علیہ السلام سے فرمان ہوا تھا کہ «قِيلَ يَا نُوحُ اهْبِطْ بِسَلَامٍ مِّنَّا وَبَرَكَاتٍ عَلَيْكَ وَعَلَىٰ أُمَمٍ مِّمَّن مَّعَكَ وَأُمَمٌ سَنُمَتِّعُهُمْ ثُمَّ يَمَسُّهُم مِّنَّا عَذَابٌ أَلِيمٌ» ’ اے نوح ہماری سلام اور برکت کے ساتھ تواتر۔ تو بھی اور تیرے ساتھ والے بھی اور ایسے بھی لوگ ہیں جنہیں ہم فائدے پہنچائیں گے پھر انہیں ہماری طرف سے درد ناک عذاب پہنچیں گے ‘۔۱؎ [11-هود:48]
99۔ 1 حضرت ابراہیم ؑ کا یہ واقعہ بابل (عراق) میں پیش آیا، بالآخر یہاں سے ہجرت کی اور شام چلے گئے اور وہاں جا کر اولاد کے لئے دعا کی (فتح القدیر)
(آیت 99) ➊ { وَ قَالَ اِنِّيْ ذَاهِبٌ اِلٰى رَبِّيْ …:} قرطبی نے فرمایا: ”یہ آیت ہجرت اور کفار سے علیحدگی اختیار کرنے میں اصل ہے۔“ آگ سے سلامتی کے ساتھ نکلنے کے عظیم معجزے کے بعد بھی جب لوط علیہ السلام کے سوا کوئی شخص ایمان نہ لایا تو ابراہیم علیہ السلام نے وہاں سے ہجرت کا فیصلہ فرمایا اور کہنے لگے، میں اپنی قوم اور اپنے وطن سے، جہاں کفر کا تسلط ہے، اپنے رب کی طرف جاتا ہوں، جہاں آزادی سے اپنے رب کی عبادت کر سکوں اور اس کے دین کی دعوت دے سکوں۔ ان کے ساتھ ان کی بیوی سارہ اور بھتیجے لوط علیھما السلام تھے۔ اس آیت سے معلوم ہوا کہ آدمی جب کسی جگہ اپنے دین پر پوری طرح عمل نہ کر سکے تو اسے وہاں سے ہجرت کرنی چاہیے۔ ➋ { سَيَهْدِيْنِ:} یہ اصل میں {”سَيَهْدِيْنِيْ“} ہے، یہاں ”سین“ تاکید کے لیے ہے، اس لیے ترجمہ ”وہ مجھے ضرور راستہ دکھائے گا“ کیا گیا ہے۔ ابراہیم علیہ السلام جب اپنے وطن سے نکلے تو انھیں معلوم نہ تھا کہ کہاں جانا ہے، مگر انھیں اپنے رب پر بھروسے کی وجہ سے یقین تھا کہ وہ ضرور ان کی راہ نمائی فرمائے گا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ اِحْفَظِ اللّٰهَ يَحْفَظْكَ ] [ ترمذي، صفۃ القیامۃ والرقائق، باب: ۲۵۱۶ ] ”تو اللہ تعالیٰ کا دھیان رکھ وہ تیرا دھیان رکھے گا۔“ اور یہ بات یقینی ہے کہ جو شخص اللہ کی خاطر کوئی چیز چھوڑتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے اس سے بہتر چیز عطا فرماتا ہے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے ان کی راہ نمائی مبارک سرزمین شام کی طرف فرمائی۔
اے پروردگار، مجھے ایک بیٹا عطا کر جو صالحوں میں سے ہو"
مولانا محمد جوناگڑھی
اے میرے رب! مجھے نیک بخت اوﻻد عطا فرما
احمد رضا خان بریلوی
الٰہی مجھے لائق اولاد دے،
علامہ محمد حسین نجفی
(اور عرض کیا) اے میرے پروردگار مجھے ایک بیٹا عطا فرما جو صالحین میں سے ہو۔
عبدالسلام بن محمد
اے میرے رب! مجھے (لڑکا) عطا کر جو نیکوں سے ہو ۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
ذبیح اللہ کی بحث اور یہودی روایات ٭٭
خلیل اللہ علیہ السلام جب اپنی قوم کی ہدایت سے مایوس ہو گئے، بڑی بڑی قدرتی نشانیاں دیکھ کر بھی جب انہیں ایمان نصیب نہ ہوا تو آپ علیہ السلام نے ان سے ہٹ جانا پسند فرمایا اور اعلان کر دیا کہ میں اب تم میں سے ہجرت کرجاؤں گا میرا رہنما میرا رب ہے۔ ساتھ ہی اپنے رب سے اپنے ہاں اولاد ہونے کی دعا مانگی تاکہ وہی توحید میں آپ علیہ السلام کا ساتھ دے۔ اسی وقت دعا قبول ہوتی ہے اور ایک بردبار بچے کی بشارت دی جاتی۔ یہ اسماعیل علیہ السلام تھے یہی آپ علیہ السلام کے لیے صاحبزادے تھے اور اسحاق علیہ السلام سے بڑے تھے۔ اسے تو اہل کتاب بھی مانتے ہیں بلکہ ان کی کتب میں موجود ہے کہ اسماعیل علیہ السلام کی پیدائش کے وقت ابراہیم علیہ السلام کی عمر چھیاسی سال کی تھی اور جس وقت اسحاق علیہ السلام تولد ہوتے ہیں اس وقت آپ علیہ السلام کی عمر ننانوے برس کی تھی۔ بلکہ ان کی اپنی کتاب میں تو یہ بھی ہے کہ جناب ابراہیم علیہ السلام کو اپنے اکلوتے فرزند کو ذبح کرنے کا حکم ہوا تھا۔ لیکن صرف اس لیے کہ یہ لوگ خود تو نبی اللہ اسحاق علیہ السلام کی اولاد میں سے ہیں اور نبی اللہ و ذبیح اللہ اسماعیل علیہ السلام کی اولاد میں سے عرب ہیں۔ انہی نے واقعہ کی اصلیت بدل دی اور اس فضیلت کو اسماعیل علیہ السلام سے ہٹاکر اسحاق علیہ السلام کو دے دیا اور بے جا تاویلیں کرتے اللہ کے کلام کو بدل ڈالا، اور کہا ہماری کتاب میں لفظ «وَحِیْدَكَ» ہے اس سے مراد اکلوتا نہیں بلکہ جو تیرے پاس اس وقت اکیلا ہے وہ ہے۔ یہ اس لیے کہ اسماعیل تو اپنی والدہ کے ساتھ مکے میں تھے یہاں خلیل اللہ کے ساتھ صرف اسحاق تھے۔ لیکن یہ بالکل غلط ہے۔ وحید اسی کو کہا جاتا ہے جو اکلوتا ہو اس کا اور کوئی بھائی نہ ہو۔ پھر یہاں ایک بات اور بھی ہے کہ اکلوتے اور پہلوٹھی کے بچے کے ساتھ جو محبت ہوتی اور اس کے جو لاڈ پیار ہوتے ہیں عموماً دوسری اولاد کے ہونے پر پھر وہ باقی نہیں رہتے۔ اس لیے اس کے ذبیحہ کا حکم امتحان اور آزمائش کی زبردست کڑی ہے۔
ہم اسے مانتے ہیں کہ بعض سلف بھی اس کے قائل ہوئے ہیں کہ ذبیح اللہ اسحاق علیہ السلام تھے، یہاں تک کہ بعض صحابہ رضی اللہ عنہم سے بھی یہ مروی ہے لیکن یہ چیز کتاب و سنت سے ثابت نہیں ہوتی۔ بلکہ خیال یہ ہے کہ بنو اسرائیل کی ایک شہرت دی ہوئی بات کو ان حضرات نے بھی بے دلیل اپنے ہاں لے لیا۔ دور کیوں جائیں کتاب اللہ کے الفاظ میں ہی غور کر لیجئیے کہ اسمٰعیل علیہ السلام کی بشارت کا ”غلام حلیم“ کہہ کر ذکر ہوا اور پھر اللہ کی راہ میں ذبح کے لیے تیار ہونے کا ذکر ہوا۔ اس تمام بیان کو ختم کر کے پھر نبی صالح اسحاق علیہ السلام کے تولد کی بشارت کا بیان ہوا۔ اور فرشتوں نے بشارت اسحاق کے موقع پر ”غلام علیم“ فرمایا تھا۔ اسی طرح قرآن میں ہے بشارت اسحاق علیہ السلام کے ساتھ ہی ہے «وَمِنْ وَّرَاءِ اِسْحٰقَ يَعْقُوْبَ» ۱؎ [11-ھود:71] یعنی ’ ابراہیم کی حیات میں ہی اسحاق کے ہاں یعقوب پیدا ہوں گے ‘، یعنی ان کی تو نسل جاری رہنے کا پہلے ہی علم کرایا جا چکا تھا اب انہیں ذبح کرنے کا حکم کیسے دیا جاتا؟ اسے ہم پہلے بھی بیان کر چکے۔ البتہ اسماعیل علیہ السلام کا وصف یہاں پر بردباری کا بیان کیا گیا ہے۔ جو ذبیح کے لیے نہایت مناسب ہے۔
اب اسماعیل علیہ السلام بڑے ہو گئے اپنے والد کے ساتھ چلنے پھرنے کے قابل ہو گئے۔ آپ علیہ السلام اس وقت مع اپنی والدہ محترمہ کے فاران میں تھے ابراہیم علیہ السلام عموماً وہاں جاتے آتے رہتے تھے یہ مذکور ہے کہ براق پر جاتے تھے اور اس جملے کے یہ معنی بھی ہیں کہ جوانی کے لگ بھگ ہو گئے لڑکپن کا زمانہ نکل گیا اور باپ کی طرح چلنے پھرنے کام کاج کرنے کے قابل بن گئے تو ابراہیم علیہ السلام نے خواب دیکھا کہ گویا آپ علیہ السلام اپنے پیارے بچے کو ذبح کر رہے ہیں۔ انبیاء کے خواب وحی ہوتے ہیں اور اس کی دلیل یہی آیت ہے۔ ایک مرفوع روایت میں بھی یہ ہے۔ ۱؎ [صحیح بخاری:138] پس اللہ کے رسول علیہ السلام نے اپنے لخت جگر کی آزمائش کے لیے کہ اچانک وہ گھبرا نہ اٹھے، اپنا ارادہ ان کے سامنے ظاہر کیا۔ وہاں کیا تھا۔ وہ بھی اسی درخت کے پھل تھے نبی ابن نبی علیہ السلام تھے جواب دیتے ہیں اب پھر دیر کیوں لگا رہے ہو یہ باتیں بھی پوچھنے کی ہوتی ہیں جو حکم ہوا ہے اسے فوراً کر ڈالیے اور اگر میری نسبت کھٹکا ہو تو زبانی اطمینانی کیا کروں چھری رکھئے خود معلوم ہو جائے گا کہ میں کیسا کچھ صابر ہوں۔ ان شاءاللہ میرا صبر آپ کا جی خوش کر دے گا۔ سبحان اللہ جو کہا تھا وہی کر کے دکھایا اور صادق الوعد ہونے کا سرٹیفیکیٹ اللہ کی طرف سے حاصل کر ہی لیا۔ آخر باپ بیٹا دونوں حکم اللہ کی اطاعت کے لیے جان بکف تیار ہو جاتے ہیں باپ بچے کو ذبح کرنے کے لیے تیار ہو جاتا ہے۔ اور باپ اپنے نور چشم لخت جگر کو منہ کے بل زمین پر گراتے ہیں تاکہ ذبح کے وقت منہ دیکھ کر محبت نہ آ جائے اور ہاتھ سست نہ پڑ جائے۔
مسند احمد میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ”جب ابراہیم علیہ السلام اپنی نور نظر کو ذبح کرنے کے لیے بحکم اللہ لے چلے تو سعی کے وقت شیطان سامنے آیا لیکن ابراہیم علیہ السلام اس سے آگے بڑھ گئے، پھر جبرائیل علیہ السلام کے ساتھ آپ جمرہ عقبہ پر پہنچے تو پھر شیطان سامنے آیا، آپ علیہ السلام نے اسے سات کنکریاں ماریں۔“ ”پھر جمرہ وسطی پاس آیا پھر وہاں سات کنکریاں ماریں۔ پھر آگے بڑھ کر اپنے پیارے بچے کو اللہ کے نام پر ذبح کرنے کے لیے نیچے پچھاڑا، ذبیح اللہ کے پاک جسم پر اس وقت سفید چادر تھی کہنے لگے ابا جی اسے اتار لیجئیے تاکہ اس میں آپ مجھے کفنا سکیں۔ اس وقت بیٹے کو ننگا کرتے وقت باپ کا عجب حال تھا کہ آواز آئی بس ابراہیم خواب کو سچا کر چکے۔ مڑ کر دیکھا تو ایک مینڈا سفید رنگ کا بڑے بڑے سینگوں اور صاف آنکھوں والا نظر پڑا، ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں اسی لیے ہم اس قسم کے مینڈے (چھترے) چن چن کر قربانی کے لیے لیتے تھے۔“
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما ہی سے دوسری روایت میں اسحاق علیہ السلام کا نام مروی ہے۔ تو گو دونوں نام آپ رضی اللہ عنہما سے مروی ہیں لیکن اول ہی اولیٰ ہے اور اس کی دلیلیں آ رہی ہیں۔ ان شاءاللہ تعالیٰ۔ اس کے بدلے بڑا ذبیحہ، اللہ نے عطا فرمایا اس کی بابت سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”یہ جنتی چھترا تھا جو وہاں چالیس سال سے کھا پی رہا تھا۔“ اسے دیکھ کر آپ علیہ السلام اپنے بچے کو چھوڑ کر اس کے پیچھے ہولیے۔ جمرہ اولیٰ پر آ کر سات کنکریاں پھنکیں پھر وہ بھاگ کر جمرہ وسطی پر آ گیا۔ سات کنکریاں ماریں اور وہاں سے ملخر میں لا کر ذبح کیا اس کے سینگ سر سمیت ابتداء اسلام کے زمانہ تک کعبے کے پرنالے کے پاس لٹکتے رہے تھے پھر سوکھ گئے۔ ایک مرتبہ سیدنا کعب رضی اللہ عنہ بیٹھے ہوئے باتیں کر رہے تھے۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ تو حدیثیں بیان کر رہے تھے اور کعب رضی اللہ عنہ کتاب کے قصے بیان کر رہے تھے۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ { ہر نبی کے لیے ایک دعا قبول شدہ ہے اور میں نے اپنی اس مقبول دعا کو پوشیدہ کر کے رکھ چھوڑا ہے اپنی امت کی شفاعت کے لئے جو بروز قیامت ہوگی}، تو سیدنا کعب رضی اللہ عنہ نے فرمایا تم نے خود اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے؟ فرمایا ہاں۔ سیدنا کعب رضی اللہ عنہ خوش ہوئے اور فرمانے لگے تم پر میرے ماں باپ فدا ہوں یا فرمایا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر میرے ماں باپ صدقے جائیں۔
پھر کعب رضی اللہ عنہ نے ابراہیم خلیل علیہ السلام کا قصہ سنایا کہ جب آپ علیہ السلام اپنے لڑکے اسمٰعیل علیہ السلام کو ذبح کرنے کے لیے مستعد ہو گئے تو شیطان نے کہا اگر میں اس وقت انہیں نہ بہکا سکا تو مجھے ان سے عمر بھر کے لیے مایوس ہو جانا چاہیئے۔ پہلے تو یہ سارہ رضی اللہ عنہا کے پاس آیا اور پوچھا کہ ابراہیم علیہ السلام تمہارے لڑکے کو کہاں لے گئے ہیں؟ مائی صاحبہ رضی اللہ عنہا نے جواب دیا اپنے کسی کام پر لے گئے ہیں، اس نے کہا نہیں بلکہ وہ ذبح کرنے کے لیے لے گئے ہیں۔ مائی صاحبہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا وہ اسے کیوں ذبح کرنے لگے؟ لعین نے کہا وہ کہتے ہیں اللہ کی طرف سے یہی حکم ہے جواب ملا پھر تو یہی بہتر ہے کہ وہ جلدی سے اللہ کے حکم کی بجا آوری سے فارغ ہو لیں۔ یہاں سے نامراد ہو کر بچے کے پاس آیا اور کہا تمہارے ابا تمہیں کہاں لے جاتے ہیں؟ فرمایا اپنے کام کے لیے کہا نہیں بلکہ وہ تجھے ذبح کرنے کے لیے لے جا رہے ہیں، فرمایا یہ کیوں؟ کہا اس لیے کہ وہ سمجھتے ہیں اللہ کا انہیں حکم ہے۔ کہا پھر تو واللہ انہیں اس کام میں بہت جلدی کرنی چاہیئے۔ ان سے بھی مایوس ہو کر یہ ملعون خلیل اللہ علیہ السلام کے پاس پہنچا۔ ان سے کہا بچے کو کہاں لے جا رہے ہو؟ جواب دیا اپنے کام کے لیے ملعون نے کہا نہیں بلکہ تم تو اسے ذبح کرنے کے لیے جا رہے ہو؟ آپ علیہ السلام نے فرمایا یہ کیوں؟ بولا اس لیے کہ تمہارا خیال ہے کہ اللہ کا حکم تمہیں یونہی ہے، آپ علیہ السلام نے فرمایا اللہ کی قسم پھر تو میں ضرور ہی اسے ذبح کر ڈالوں گا۔ اب ابلیس مایوس ہو گیا۔۱؎ [عبد الرزاق فی المصنف:20864:صحیح]
دوسری روایت میں یہ بھی ہے کہ اس تمام واقعے کے بعد جناب باری تعالیٰ نے اسحاق علیہ السلام سے فرمایا کہ ’ ایک دعا تم مجھ سے مانگو جو مانگو گے ملے گا ‘۔ اسحاق علیہ السلام نے کہا ”پھر میری دعا یہ ہے کہ جس نے تیرے ساتھ شریک نہ کیا ہو اسے تو ضرور جنت میں لے جانا۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے { اللہ تعالیٰ نے مجھے اختیار دیا کہ میں دو باتوں میں سے ایک کو اختیار کر لوں یا تو یہ کہ میری آدھوں آدھ امت بخشی جائے یا یہ کہ میں شفاعت کروں اور اسے اللہ تعالیٰ قبول فرما لے تو میں نے شفاعت کرنے کو ترجیح دی اس پر کہ وہ عام ہو گی، ہاں ایک دعا تھی کہ میں وہی کرتا لیکن اللہ کا ایک نیک بندہ مجھ سے پہلے اس دعا کو مانگ چکا تھا }۔ واقعہ یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے اسحاق علیہ السلام سے ذبح ہونے کی تکلیف دور کر دی تو ان سے فرمایا گیا کہ ’ تو مانگ جو مانگے گا دیا جائے گا ‘۔ تو اسحاق علیہ السلام نے فرمایا ”واللہ شیطان کے بہکانے سے پہلے ہی میں اسے مانگ لوں گا، اللہ جو شخص اس حالت میں مرا ہو کہ اس نے تیرے ساتھ کسی کو شریک نہ کیا ہو تو اسے بخش دے اور جنت میں پہنچا دے۔“ ۱؎ [الدر المنشور للسیوطی:531/5:ضعیف] یہ حدیث ابن ابی حاتم میں ہے لیکن سنداً غریب اور منکر ہے اور اس کے ایک راوی عبدالرحمٰن بن زید بن اسلم ضعیف ہیں اور مجھے تو یہ بھی ڈر ہے کہ یہ الفاظ کہ (جب اللہ تعالیٰ نے اسحاق علیہ السلام سے) آخر تک راوی اپنے نہ ہوں جنہیں انہوں نے حدیث میں داخل کر دئیے ہیں۔
ذبیح اللہ تو اسماعیل علیہ السلام ہیں، محل ذبح منیٰ ہے اور وہ مکے میں ہے اور اسماعیل علیہ السلام یہیں تھے نہ کہ اسحاق علیہ السلام وہ تو شہر کنعان میں تھے جو شام ہے۔ جب ابراہیم علیہ السلام اپنے پیارے بچے کو ذبح کرنے کے لیے لٹا دیتے ہیں جناب باری سے ندا آتی ہے کہ ’ بس ابراہیم علیہ السلام تم اپنے خواب کو پورا کر چکے ‘۔ سدی رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ”جب خلیل اللہ علیہ السلام نے ذبیح اللہ علیہ السلام کے حلق پر چھری پھیری تو گردن تانبے کی ہو گئے اور نہ کٹی اور یہ آواز آئی۔“
ہم اسی طرح نیک کاروں کو بدلہ دیتے ہیں۔ یعنی سختیوں سے بچا لیتے ہیں اور چھٹکارا کر دیتے ہیں۔ جیسے فرمایا ’ اللہ سے ڈرتے رہنے والوں کے لیے اللہ تعالیٰ چھٹکارے کی صورت نکال ہی دیتا ہے اور اسے ایسی طرح روزی پہنچاتا ہے کہ اس کے گمان و وہم میں بھی نہ ہو۔ اللہ پر بھروسہ کرنے والوں کو اللہ ہی کافی ہے اللہ اپنے کاموں کو مکمل کر کے چھوڑتا ہے ہرچیز کا اس نے ایک اندازہ مقرر کر رکھا ہے ‘۔ اس آیت سے اس پر استدلال کیا گیا ہے کہ فعل پر قدرت پانے سے پہلے ہی حکم منسوخ ہو سکتا ہے۔
ہاں معتزلہ اسے نہیں مانتے۔ وجہ استدلال بہت ظاہر ہے اس لیے کہ خلیل اللہ علیہ السلام کو اپنے بیٹے کے ذبح کرنے کا حکم ہوتا ہے اور پھر ذبح سے پہلے ہی فدئیے کے ساتھ منسوخ کر دیا جاتا ہے۔ مقصود اس سے یہ تھا کہ صبر کا اور بجا آوری حکم پر مستعدی کا ثواب مرحمت فرما دیا جائے۔ اسی لیے ارشاد ہوا ’ یہ تو صرف ایک آزمائش تھی کھلا امتحان تھا کہ ادھر حکم ہوا ادھر تیاری ہوئی ‘۔ اسی لیے جناب خلیل اللہ علیہ السلام کی تعریف میں قرآن میں ہے ’ ابراہیم بڑا ہی وفادار تھا۔ بڑے ذبیح کے ساتھ ان کا فدیہ ہم نے دیا ‘۔ سفید رنگ بڑی آنکھوں اور بڑے سینگوں والا عمدہ خوراک سے پلا ہوا منیڈھا فدئیے میں دیا گیا جو ثبیر ببول کے درخت سے بندھا ہوا ملا۔ جو جنت میں چالیس سال چرتا رہا۔ منیٰ میں ثبیر کے پاس جو چٹان ہے اس پر یہ جانور ذبح کیا گیا یہ چیختا ہوا اوپر سے اترا تھا۔ یہی وہ مینڈھا ہے جسے ہابیل نے اللہ کی راہ میں قربان کیا تھا۔ اس کی اون قدرے سرخی مائل تھی اس کا نام جریر تھا۔ بعض کہتے ہیں مقام ابراہیم پر اسے ذبح کیا۔ کوئی کہتا ہے مٹی میں نحر پر۔ ایک شخص نے اپنے تئیں راہ اللہ میں ذبح کرنے کی منت مانی تھی تو سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اسے ایک سو اونٹ ذبح کرنے کا فتویٰ دیا تھا لیکن پھر فرماتے تھے کہ ”اگر میں اسے ایک بھیڑ ذبح کرنے کو کہتا تب بھی کافی تھا کیونکہ کتاب اللہ میں ہے کہ ذبیح اللہ کا فدیہ اسی سے دیا گیا تھا۔“ اکثر لوگوں کا یہی قول ہے بعض کہتے ہیں یہ پہاڑی بکرا تھا۔ کوئی کہتا ہے نر ہرن تھا۔ مسند احمد میں ہے کہ { عثمان رضی اللہ عنہ کو بلا کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { میں نے بھیڑ کے سینگ بیت اللہ شریف میں داخلے کے وقت اندر دیکھے تھے اور مجھے یاد نہ رہا کہ میں تجھے ان کے ڈھانک دینے کا حکم دوں، جاؤ اسے ڈھک دو بیت اللہ میں کوئی ایسی چیز نہ ہونی چاہیئے جو نمازی کو اپنی طرف متوجہ کر لے } }۔۱؎ [سنن ابوداود:2030،قال الشيخ الألباني:صحیح] سفیان رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس بھیڑ کے سینگ بیت اللہ میں ہی رہے یہاں تک کہ ایک مرتبہ بیت اللہ میں آگ لگی اس میں وہ جل گئے۔ ۱؎ [سلسلة احادیث صحیحه البانی:23221،] یہ واقعہ بھی اس امر کی دلیل ہے کہ ذبیح اللہ، اسماعیل علیہ السلام تھے اسی وجہ سے ان کی اولاد قریش تک یہ سینگ برابر اور مسلسل چلے آئے یہاں تک کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ نے مبعوث فرمایا۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ ”ان آثار کا بیان جن میں ذبیح اللہ کا نام ہے“ ابومیسرہ فرماتے ہیں یوسف علیہ السلام نے بادشاہ سے فرمایا ”کیا تو میرے ساتھ کھانا چاہتا ہے، میں یوسف بن یعقوب نبی اللہ بن اسحاق ذبیح اللہ بن ابراہیم خلیل اللہ ہوں [ عبید بن عمیر رحمه الله] موسیٰ علیہ السلام نے جناب باری میں عرض کی کہ ”اے اللہ کیا وجہ ہے جو لوگوں کی زبانوں پر یہ چڑھا ہوا ہے کہ ابراہیم، اسمٰعیل اور یعقوب علیہم السلام کے اللہ کی قسم“، تو جواب ملا ’ اس لیے ابراہیم نے تو ہر ہرچیز پر مجھی کو ترجیح دی اور اسحاق علیہ السلام نے اپنے تئیں میری راہ میں ذبح ہونے کے لیے سپرد کر دیا پھر بھلا اور چیزیں اسے پیش کر دینا کیا مشکل تھیں اور یعقوب علیہ السلام کو میں جوں جوں بلاؤں میں ڈالتا گیا اس کے حسن ظنی میرے ساتھ بڑھتی ہی رہی ‘۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے سامنے ایک مرتبہ کسی نے فخراً اپنے باپ دادوں کا نام لیا تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا قابل فخر باپ دادا تو یوسف علیہ السلام کے تھے جو یعقوب بن اسحاق علیہ السلام اور ذبیح اللہ بن ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام تھے۔
عکرمہ، سیدنا ابن عباس، خود سیدنا عباس، سیدنا علی،سعید بن جبیر رضی اللہ عنہم، مجاہد، شعبی، عبید بن عمر، ابومیسرہ، زید بن اسلم، عبداللہ بن شفیق، زہری، قاسم بن ابوبرزہ، محکول، عثمان بن ابی عاص، سدی، حسن، قتادہ، ابو الہذیل، ابن سابط، کعب احبار رحمہم اللہ اجمعین، ان سب کا یہی قول ہے اور ابن جریر رحمہ اللہ بھی اسی کو اختیار کرتے ہیں کہ ذبیح اللہ اسحاق علیہ السلام تھے۔ صحیح علم تو اللہ کو ہی ہے مگر بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ان سب بزرگوں کے استاد کعب احبار رحمہ اللہ ہیں۔ یہ خلافت فاروقی میں مسلمان ہوئے تھے اور کبھی کبھی سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو قدیمی کتابوں کی باتیں سناتے تھے، لوگوں نے اسے رخصت سمجھ کر پھر ان سے ہر ایک بات بیان کرنی شروع کر دی اور صحیح غلط کی تمیز اٹھ گئی حق تو یہ ہے کہ اس امت کو اگلی کتابوں کی ایک بات کی بھی حاجت نہیں۔ بغوی نے کچھ اور نام بھی صحابہ تابعین کے بتلائے ہیں جنہوں نے کہا ہے کہ ذبیح اللہ اسحاق علیہ السلام ہیں۔ ایک مرفوع حدیث میں بھی یہ آیا ہے۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:29495:ضعیف] اگر وہ حدیث صحیح ہوتی تو جھگڑے کا فیصلہ تھا مگر وہ حدیث صحیح نہیں اس میں دو راوی ضعیف ہیں۔ حسن بن دینار متروک ہیں اور علی بن زید بن جدعان منکر الحدیث ہیں اور زیادہ صحیح یہ ہے کہ ہے یہ بھی موقف، چنانچہ ایک سند سے یہ مقولہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کا مروی ہے اور یہی زیادہ ٹھیک ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
اب ان آثار کو سنئے جن سے معلوم ہوتا ہے کہ ذبیح اللہ اسماعیل علیہ السلام ہی تھے اور یہی ٹھیک اور بالکل درست بھی ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما یہی فرماتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ ”یہودی اسحاق علیہ السلام کا نام جھوٹ موٹ لیتے ہیں۔“ ابن عمر رضی اللہ عنہ، مجاہد، شعبی، حسن بصری، محمد بن کعب قرظی، خلیفہ المسلمین عمر ابن عبدالعزیز رحمہ اللہ علیہم کے سامنے جب محمد بن قرظی رحمہ اللہ نے یہ فرمایا اور ساتھ ہی اس کی دلیل بھی دی کہ ”ذبح کے ذکر کے بعد قرآن میں خلیل اللہ علیہ السلام کو اسحاق علیہ السلام کے پیدا ہونے کی بشارت کا ذکر ہے اور ساتھ ہی بیان ہے کہ ان کے ہاں بھی لڑکا ہو گا یعقوب نامی جب ان کے ہاں لڑکا ہونے کی بشارت دی گی تھی پھر باوجود ان کے ہاں لڑکا نہ ہوں کے اس سے پہلے ہی ان کے ذبح کرنے کا حکم کیسے دیا جاتا ہے؟“
تو سیدنا عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے فرمایا ”یہ بہت صاف دلیل ہے میرا ذہن یہاں نہیں پہنچا تھا گو یہ میں بھی جانتا تھا کہ ذبیح اللہ اسماعیل علیہ السلام ہی ہیں۔“ پھر شاہ اسلام نے شام کے ایک یہودی عالم سے پوچھا جو مسلمان ہو گئے تھے کہ تم اس بارے میں کیا علم رکھتے ہو انہوں نے فرمایا امیر المسلمین سچ تو یہی ہے کہ جن کے ذبح کرنے کا حکم دیا گیا وہ اسماعیل علیہ السلام ہی تھے لیکن چونکہ عرب ان کی اولاد میں سے ہیں تو یہ بزرگی ان کی طرف لوٹتی ہے اس حسد کے بارے میں یہودیوں نے اسے بدل دیا اور اسحاق علیہ السلام کا نام لے دیا۔ حقیقی علم اللہ ہی کو ہے ہمارا ایمان ہے کہ اسماعیل، اسحاق علیہم السلام دونوں ہی طاہر و طیب اور اللہ کے سچے فرمانبردار تھے۔ کتاب الزہد میں ہے کہ امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کے صاحبزادے عبداللہ رحمہ اللہ نے اپنے والد سے جب یہ مسئلہ پوچھا تو آپ نے جواب دیا کہ ”ذبح ہونے والے اسماعیل علیہ السلام ہی تھے۔“ علی ابن عمر، ابوالطفیل، سعید بن مسیب، سعید بن جبیر، حسن، مجاہد، شعبی، محمد بن کعب، ابوجعفر محمد بن علی ابوصالح رحمہ اللہ عنہم سے بھی یہی مروی ہے۔
امام بغوی رحمہ اللہ نے اور بھی صحابہ رضی اللہ عنہم اور تابعین کے نام گنوائے ہیں۔ ایک غریب حدیث بھی اسی کی تائید میں مروی ہے اس میں ہے کہ { شام میں امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے سامنے یہ بحث چھڑی کہ ذبیح اللہ کون ہیں؟ تو آپ نے فرمایا خوب ہوا جو یہ معاملہ مجھ جیسے باخبر شخص کے پاس آیا، سنو! ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھے جب ایک شخص آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا اے اللہ کی راہ میں دو ذبح ہونے والوں کی نسل کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم مجھے بھی مال غنیمت میں سے کچھ دلوایئے اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہنس دیئے۔ ایک تو ذبیح اللہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے والد عبداللہ تھے، دوسرے اسمعیل علیہ السلام جن کی نسل میں سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ عبداللہ کے ذبیح اللہ ہونے کا واقعہ یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دادا عبدالمطلب نے جب چاہ زمزم کھودا تو نذر مانی تھی کی اگر یہ کام آسانی سے پورا ہو گیا تو اپنے ایک لڑکے کو راہ اللہ میں ذبح کروں گا جب کام ہو گیا اور قرعہ اندازی کی گئی کہ کس بیٹے کو اللہ کے نام پر ذبح کریں تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے والد عبداللہ کا نام نکلا۔ ان کے ننھیال والوں نے کہا آپ ان کی طرف سے ایک سو اونٹ راہ اللہ ذبح کر دیں چنانچہ وہ ذبح کر دیئے گئے اور اسماعیل علیہ السلام کے ذبیح اللہ ہونے کا واقعہ تو مشہور ہی ہے }۔۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:29530:ضعیف] ابن جریر میں یہ روایت موجود ہے اور مغازی امویہ میں بھی۔
امام ابن جریر رحمہ اللہ نے اسحاق علیہ السلام کے ذبیح اللہ ہونے کی ایک دلیل تو یہ پیش کی یہ کہ جس علیم بچے کی بشارت کا ذکر ہے اس سے مراد اسحاق علیہ السلام ہیں قرآن میں اور جگہ ہے «قَالُوا لَا تَخَفْ وَبَشَّرُوهُ بِغُلَامٍ عَلِيمٍ» ۱؎ [51-الذاريات:28] ، اور یعقوب علیہ السلام کی بشارت کا یہ جواب دیا ہے کہ وہ آپ کے ساتھ چلنے پھرنے کی عمر کو پہنچ گئے تھے اور ممکن ہے کہ یعقوب علیہ السلام کے ساتھ ہی کوئی اور اولاد بھی ہوئی ہو اور کعبتہ اللہ میں سینگوں کی موجودگی کے بارے میں فرماتے ہیں بہت ممکن ہے کہ یہ بلادکنعان سے لا کر یہاں رکھے گئے ہوں۔“ اور بعض لوگوں سے اسحاق علیہ السلام کے نام کی صراحت بھی آئی ہے، لیکن یہ سب باتیں حقیقت سے بہت دور ہیں۔ ہاں اسماعیل علیہ السلام کے ذبیح اللہ ہونے پر محمد بن کعب قرظی رحمہ اللہ کا استدلال بہت صاف اور قوی ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ پہلے ذبیح اللہ اسمعیل علیہ السلام کے تولد ہونے کی بشارت دی گئی تھی یہاں اس کے بعد ان کے بھائی اسحاق علیہ السلام کی بشارت دی جا رہی ہے۔ سورۃ ہود اور سورۃ الحجر میں بھی اس کا ذکر گذر چکا ہے۔ «نبیاً» حال مقدرہ ہے یعنی وہ نبی صالح ہو گا۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ذبیح اللہ اسحاق علیہ السلام تھے اور یہاں نبوت اسحاق علیہ السلام کو بشارت ہے۔ جیسے موسیٰ علیہ السلام کے بارے میں فرمان ہے کہ ’ ہم نے انہیں اپنی رحمت سے ان کے بھائی ہارون کو نبی بنا دیا ‘۔ حالانکہ ہارون علیہ السلام موسیٰ علیہ السلام سے بڑے تھے تو یہاں بھی ان کی نبوت کی بشارت ہے۔ پس یہ بشارت اس وقت دی گئی جبکہ امتحان ذبح میں وہ صابر ثابت ہوئے۔ یہ بھی مروی ہے کہ یہ بشارت دو مرتبہ دی گئی پیدائش سے کچھ قبل اور نبوت سے کچھ قبل۔
حضرت قتادہ رحمہ اللہ سے بھی یہی مروی ہے۔ ’ ان پر اور اسحاق علیہ السلام پر ہماری برکتیں ہم نے نازل فرمائیں، ان کی اولاد میں ہر قسم کے لوگ ہیں نیک بھی بد بھی ‘۔ جیسے نوح علیہ السلام سے فرمان ہوا تھا کہ «قِيلَ يَا نُوحُ اهْبِطْ بِسَلَامٍ مِّنَّا وَبَرَكَاتٍ عَلَيْكَ وَعَلَىٰ أُمَمٍ مِّمَّن مَّعَكَ وَأُمَمٌ سَنُمَتِّعُهُمْ ثُمَّ يَمَسُّهُم مِّنَّا عَذَابٌ أَلِيمٌ» ’ اے نوح ہماری سلام اور برکت کے ساتھ تواتر۔ تو بھی اور تیرے ساتھ والے بھی اور ایسے بھی لوگ ہیں جنہیں ہم فائدے پہنچائیں گے پھر انہیں ہماری طرف سے درد ناک عذاب پہنچیں گے ‘۔۱؎ [11-هود:48]
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 100) {رَبِّ هَبْ لِيْ مِنَ الصّٰلِحِيْنَ:} اس سے ظاہر ہے کہ اس وقت ابراہیم علیہ السلام کی اولاد نہیں تھی۔ چنانچہ جب وہ اپنی قوم سے مایوس ہوئے تو انھوں نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ پروردگارا! مجھے اپنی قوم اور خاندان کے عوض صالح اولاد عطا فرما، جو غریب الوطنی میں میری مونس و غم خوار اور مددگار ہو۔ واضح رہے، صالح ہونا بندے کے مقامات میں سے بہت اونچا مقام ہے، جس کی ابراہیم علیہ السلام نے اپنے لیے دعا کی: «رَبِّ هَبْ لِيْ حُكْمًا وَّ اَلْحِقْنِيْ بِالصّٰلِحِيْنَ» [ الشعراء: ۸۳ ] ”اے میرے رب! مجھے حکم عطا کر اور مجھے نیک لوگوں کے ساتھ ملا۔“ اور اس جگہ ابراہیم علیہ السلام نے اپنے بیٹے کے لیے دعا کی: «رَبِّ هَبْ لِيْ مِنَ الصّٰلِحِيْنَ» یوسف علیہ السلام نے اپنے لیے دعا کی: «تَوَفَّنِيْ مُسْلِمًا وَّ اَلْحِقْنِيْ بِالصّٰلِحِيْنَ» [ یوسف: ۱۰۱ ] ”مجھے مسلم ہونے کی حالت میں فوت کر اور مجھے نیک لوگوں کے ساتھ ملا دے۔“ اور سلیمان علیہ السلام نے دعا کی: «وَ اَدْخِلْنِيْ بِرَحْمَتِكَ فِيْ عِبَادِكَ الصّٰلِحِيْنَ» [ النمل: ۱۹ ] ”اور اپنی رحمت سے مجھے اپنے نیک بندوں میں داخل فرما۔“ کیونکہ مکمل صالح وہ ہے جس کا ہر کام درست ہو۔