بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ الصافات — Surah Saffat
آیت نمبر 75
کل آیات: 182
قرآن کریم الصافات آیت 75
آیت نمبر: 75 — سورۃ الصافات islamicurdubooks.com ↗
وَ لَقَدۡ نَادٰىنَا نُوۡحٌ فَلَنِعۡمَ الۡمُجِیۡبُوۡنَ ﴿۫ۖ۷۵﴾
ہم کو (اِس سے پہلے) نوحؑ نے پکارا تھا، تو دیکھو کہ ہم کیسے اچھے جواب دینے والے تھے
اور ہمیں نوح (علیہ السلام) نے پکارا تو (دیکھ لو) ہم کیسے اچھے دعا قبول کرنے والے ہیں
اور بیشک ہمیں نوح نے پکارا تو ہم کیا ہی اچھے قبول فرمانے والے
اور یقینا نوح(ع) نے ہم کو پکارا تو ہم کیا اچھا جواب دینے والے تھے۔
اور بلاشبہ یقینا نوح نے ہمیں پکارا تو یقینا ہم اچھے قبول کرنے والے ہیں۔

📖 تفسیر ابن کثیر

نیک لوگوں کے نام زندہ رہتے ہیں ٭٭

اوپر کی آیتوں میں پہلے لوگوں کی گمراہی کا اجمالاً ذکر تھا۔ ان آیتوں میں تفصیلی بیان ہے۔ نوح نبی علیہ السلام اپنی قوم میں ساڑھے نو سو سال تک رہے اور ہر وقت انہیں سمجھاتے بجھاتے رہے لیکن تاہم قوم گمراہی پر جمی رہی سوائے چند پاک باز لوگوں کے کوئی ایمان نہ لایا۔ بلکہ ستاتے اور تکلیفیں دیتے رہے، آخر کار اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے تنگ آ کر رب سے دعا کی کہ «‏‏‏‏فَدَعَا رَ‌بَّهُ أَنِّي مَغْلُوبٌ فَانتَصِرْ‌» ۱؎ [54-القمر:10] ‏‏‏‏اللہ ’ میں عاجز آ گیا تو میری مدد کر ‘۔ اللہ کا غضب ان پر نازل ہوا اور تمام کفار کو تہ آب اور غرق کر دیا۔ تو فرماتا ہے کہ ’ نوح نے تنگ آ کر ہمارے جناب میں دعا کی۔ ہم تو ہیں ہی بہترین طور پر دعاؤں کے قبول کرنے والے فوراً ان کی دعا قبول فرما لی۔ اور اس تکذیب وایذاء سے جو انہیں کفار سے روز مرہ پہنچ رہی تھی ہم نے بچا لیا ‘۔ اور انہی کی اولاد سے پھر دنیا بسی، کیونکہ وہی باقی بچے تھے۔ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں تمام لوگ نوح کی اولاد میں سے ہیں۔ ترمذی کی مرفوع حدیث میں اس آیت کی تفسیر میں ہے کہ { سام حام اور یافث کی پھر اولاد پھیلی اور باقی رہی }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:3230،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏‏‏‏ مسند میں یہ بھی ہے کہ { سام سارے عرب کے باپ ہیں اور حام تمام حبش کے اور یافث تمام روم کے }۔۱؎ [سنن ترمذي:3231،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏‏‏‏ اس حدیث میں رومیوں سے مراد روم اول یعنی یونانی ہیں۔ جو رومی بن لیطی بن یوناں بن یافث بن نوح کی طرف منسوب ہیں۔ سعید بن مسیب رضی اللہ عنہ کا فرمان ہے کہ نوح علیہ السلام کے ایک لڑکے سام کی اولاد عرب، فارس اور رومی ہیں اور یافث کی اولاد ترک، صقالبہ اور یاجوج ماجوج ہیں اور حام کی اولاد قبطی، سوڈانی اور بربری ہیں «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ نوح علیہ السلام کی بھلائی اور ان کا ذکر خیر ان کے بعد کے لوگوں میں اللہ کی طرف سے زندہ رہا۔ تمام انبیاء علیہم السلام کی حق گوئی کا نتیجہ یہی ہوتا ہے ہمیشہ ان پر لوگ سلام بھیجتے رہیں گے اور ان کی تعریفیں بیان کرتے رہیں گے۔ نوح علیہ السلام پر سلام ہو۔ یہ گویا اگلے جملے کی تفسیر ہے یعنی ان کا ذکر بھلائی سے باقی رہنے کے معنی یہ ہیں کہ ہر امت ان پر سلام بھیجتی رہتی ہے۔ ہماری یہ عادت ہے کہ جو شخص خلوص کے ساتھ ہماری عبادت و اطاعت پر جم جائے ہم بھی اس کا ذکر جمیل بعد والوں میں ہمیشہ کے لیے باقی رکھتے ہیں۔ نوح یقین و ایمان رکھنے والوں توحید پر جم جانے والوں میں سے تھے۔ نوح اور نوح والوں کا تو یہ واقعہ ہوا۔ لیکن نوح کے مخالفین غارت اور غرق کر دئیے گئے۔ ایک آنکھ جھپکنے والی ان میں باقی نہ بچی، ایک خبر رساں زندہ نہ رہا، نشان تک باقی نہ بچا۔ ہاں ان کی ہڈیاں اور برائیاں رہ گئیں جن کی وجہ سے مخلوق کی زبان پر ان کے یہ بدترین افسانے چڑھ گئے۔

📖 احسن البیان

75۔ 1 یعنی ساڑھے نو سو سال کی تبلیغ کے باوجود جب قوم کی اکثریت نے ان کو جھٹلایا تو انہوں نے محسوس کرلیا کہ ایمان لانے کی کوئی امید نہیں ہے تو اپنے رب کو پکارا (فَدَعَا رَبَّهٗٓ اَنِّىْ مَغْلُوْبٌ فَانْتَصِرْ) 54۔ القمر:10) یا اللہ میں مغلوب ہوں میری مدد فرما، چناچہ ہم نے نوح ؑ کی دعا قبول کی اور ان کی قوم کو طوفان بھیج کر ہلاک کردیا۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 75) ➊ { وَ لَقَدْ نَادٰىنَا نُوْحٌ:} پکارنے سے مراد وہ دعا ہے جو نوح علیہ السلام نے ساڑھے نوسو سال تک صبرو استقامت کے ساتھ دعوت دینے کے بعد اس وقت کی جب اللہ تعالیٰ نے انھیں آگاہ کیا کہ اب تمھاری قوم میں سے ان کے سوا کوئی ایمان نہیں لائے گا جو ایمان لا چکے۔ اس دعا کا ذکر سورۂ قمر (۱۰) اور سورۂ نوح (۲۶) میں ہے۔ ➋ {فَلَنِعْمَ الْمُجِيْبُوْنَ:} یہاں اس کے بعد مخصوص بالمدح {”نَحْنُ“} محذوف ہے، یعنی یقینا ہم اچھے دعا قبول کرنے والے ہیں۔ نوح علیہ السلام کی دعا کی قبولیت کی تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ ہود (۳۶ تا ۴۸)۔
← پچھلی آیت (74) پوری سورۃ اگلی آیت (76) →