خوب سن رکھو، دراصل یہ لوگ اپنی من گھڑت سے یہ بات کہتے ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
آگاه رہو! کہ یہ لوگ صرف اپنی افترا پردازی سے کہہ رہے ہیں
احمد رضا خان بریلوی
سنتے ہو بیشک وہ اپنے بہتان سے کہتے ہیں،
علامہ محمد حسین نجفی
آگاہ ہو جاؤ کہ یہ دروغ بافی کرتے ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
سن لو !بے شک وہ یقینا اپنے جھوٹ ہی سے کہتے ہیں
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
مشرکین کا اللہ تعالٰی کے لئے دوہرا معیار ٭٭
اللہ تعالیٰ مشرکوں کی بیوقوفی بیان فرما رہا ہے کہ ’ اپنے لیے تو لڑکے پسند کرتے ہیں اور اللہ کے لیے لڑکیاں مقرر کرتے ہیں۔ اگر لڑکی ہونے کی خبر یہ پائیں تو چہرے سیاہ پڑ جاتے ہیں اور اللہ کی لڑکیاں ثابت کرتے ہیں ‘۔ پس فرماتا ہے ’ ان سے پوچھ تو سہی کہ یہ تقسیم کیسی ہے؟ کہ تمہارے تو لڑکے ہوں اور اللہ کے لیے لڑکیاں ہوں؟ ‘ پھر فرماتا ہے کہ ’ یہ فرشتوں کو لڑکیاں کس ثبوت پر کہتے ہیں؟ کیا ان کی پیدائش کے وقت وہ موجود تھے ‘۔ قرآن کی اور آیت «وَجَعَلُوا الْمَلَائِكَةَ الَّذِينَ هُمْ عِبَادُ الرَّحْمَـٰنِ إِنَاثًا أَشَهِدُوا خَلْقَهُمْ سَتُكْتَبُ شَهَادَتُهُمْ وَيُسْأَلُونَ» ۱؎ [43-الزخرف:19] ، میں بھی یہی بیان ہے۔ دراصل یہ قول ان کا محض جھوٹ ہے۔ کہ اللہ کے ہاں اولاد ہے۔ وہ اولاد سے پاک ہے۔ پس ان لوگوں کے تین جھوٹ اور تین کفر ہوئے اول تو یہ کہ فرشتے اللہ کی اولاد ہیں دوسرے یہ کہ اولاد بھی لڑکیاں تیسرے یہ کہ خود فرشتوں کی عبادت شروع کر دی۔
پھر فرماتا ہے کہ «أَلَكُمُ الذَّكَرُ وَلَهُ الْأُنثَىٰ تِلْكَ إِذًا قِسْمَةٌ ضِيزَىٰ» [ 53-النجم: 21، 22 ] آخر کس چیز نے اللہ کو مجبور کیا کہ اس نے لڑکے تو لیے نہیں اور لڑکیاں اپنی ذات کے لیے پسند فرمائیں؟ جیسے اور آیت میں ہے کہ «أَفَأَصْفَاكُمْ رَبُّكُم بِالْبَنِينَ وَاتَّخَذَ مِنَ الْمَلَائِكَةِ إِنَاثًا إِنَّكُمْ لَتَقُولُونَ قَوْلًا عَظِيمًا» ۱؎ [17-الإسراء:40] ’ تمہیں تو لڑکوں سے نوازے اور فرشتوں کو اپنی لڑکیاں بنائے یہ تو تمہاری نہایت درجہ کی لغویات ہے ‘۔ یہاں فرمایا ’ کیا تمہیں عقل نہیں جو ایسی دور از قیاس باتیں بناتے ہو تم سمجھتے نہیں ہو ڈرو کہ اللہ پر جھوٹ باندھنا کیسا برا ہے؟ اچھا گر کوئی دلیل تمہارے پاس ہو تو لاؤ اسی کو پیش کرو۔ یا اگر کسی آسمانی کتاب سے تمہارے اس قول کی سند ہو اور تم سچے ہو تو لاؤ اسی کو سامنے لے آؤ۔ یہ تو ایسی لچر اور فضول بات ہے جس کی کوئی عقلی یا نقلی دلیل ہو ہی نہیں سکتی ‘۔ اتنے ہی پر بس نہ کی، جنات میں اور اللہ میں بھی رشتے داری قائم کی۔ مشرکوں کے اس قول پر کہ فرشتے اللہ کی لڑکیاں ہیں سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے سوال کیا کہ ”پھر ان کی مائیں کون ہیں؟“ تو انہوں نے کہا جن سرداروں کی لڑکیاں۔ حالانکہ خود جنات کو اس کا یقین و علم ہے کہ اس قول کے قائل قیامت کے دن عذابوں میں مبتلا کئے جائیں گے۔ ان میں بعض دشمنان اللہ تو یہاں تک کم عقلی کرتے تھے کہ شیطان بھی اللہ کا بھائی ہے۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:535/10:] نعوذ باللہ۔ اللہ تعالیٰ اس سے بہت پاک منزہ اور بالکل دور ہے جو یہ مشرک اس کی ذات پر الزام لگاتے ہیں اور جھوٹے بہتان باندھتے ہیں۔ اس کے بعد استثناء منقطع ہے اور ہے مثبت مگر اس صورت میں کہ «یَصِفُوْنَ» کی ضمیر کا مرجع تمام لوگ قرار دیئے جائیں۔ پس ان میں سے ان لوگوں کو الگ کر لیا جو حق کے ماتحت ہیں اور تمام نبیوں رسولوں علیہم السلام پر ایمان رکھتے ہیں۔ امام ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ استثناء «اِنَّهُمْ لَمُحْضَرُوْنَ» سے ہے یعنی ’ سب کے سب عذاب میں پھانس لیے جائیں گے مگر وہ بندگان جو اخلاص والے تھے ‘۔ یہ قول ذرا تامل طلب ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 152،151) { اَلَاۤ اِنَّهُمْ مِّنْ اِفْكِهِمْ لَيَقُوْلُوْنَ …:} فرمایا، سن لو! ان کا یہ کہنا کہ اللہ نے اولاد جنی ہے صاف بہتان ہے اور یہ یقینا جھوٹے ہیں۔
کہ اللہ اولاد رکھتا ہے، اور فی الواقع یہ جھوٹے ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
کہ اللہ تعالی کی اوﻻد ہے۔ یقیناً یہ محض جھوٹے ہیں
احمد رضا خان بریلوی
کہ اللہ کی اولاد ہے اور بیشک وہ ضرور جھوٹے ہیں،
علامہ محمد حسین نجفی
جب کہتے ہیں کہ اللہ کے اولاد ہے اور بلاشبہ وہ جھوٹے ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
کہ اللہ نے اولاد جنی اور بے شک وہ یقینا جھوٹے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
مشرکین کا اللہ تعالٰی کے لئے دوہرا معیار ٭٭
اللہ تعالیٰ مشرکوں کی بیوقوفی بیان فرما رہا ہے کہ ’ اپنے لیے تو لڑکے پسند کرتے ہیں اور اللہ کے لیے لڑکیاں مقرر کرتے ہیں۔ اگر لڑکی ہونے کی خبر یہ پائیں تو چہرے سیاہ پڑ جاتے ہیں اور اللہ کی لڑکیاں ثابت کرتے ہیں ‘۔ پس فرماتا ہے ’ ان سے پوچھ تو سہی کہ یہ تقسیم کیسی ہے؟ کہ تمہارے تو لڑکے ہوں اور اللہ کے لیے لڑکیاں ہوں؟ ‘ پھر فرماتا ہے کہ ’ یہ فرشتوں کو لڑکیاں کس ثبوت پر کہتے ہیں؟ کیا ان کی پیدائش کے وقت وہ موجود تھے ‘۔ قرآن کی اور آیت «وَجَعَلُوا الْمَلَائِكَةَ الَّذِينَ هُمْ عِبَادُ الرَّحْمَـٰنِ إِنَاثًا أَشَهِدُوا خَلْقَهُمْ سَتُكْتَبُ شَهَادَتُهُمْ وَيُسْأَلُونَ» ۱؎ [43-الزخرف:19] ، میں بھی یہی بیان ہے۔ دراصل یہ قول ان کا محض جھوٹ ہے۔ کہ اللہ کے ہاں اولاد ہے۔ وہ اولاد سے پاک ہے۔ پس ان لوگوں کے تین جھوٹ اور تین کفر ہوئے اول تو یہ کہ فرشتے اللہ کی اولاد ہیں دوسرے یہ کہ اولاد بھی لڑکیاں تیسرے یہ کہ خود فرشتوں کی عبادت شروع کر دی۔
پھر فرماتا ہے کہ «أَلَكُمُ الذَّكَرُ وَلَهُ الْأُنثَىٰ تِلْكَ إِذًا قِسْمَةٌ ضِيزَىٰ» [ 53-النجم: 21، 22 ] آخر کس چیز نے اللہ کو مجبور کیا کہ اس نے لڑکے تو لیے نہیں اور لڑکیاں اپنی ذات کے لیے پسند فرمائیں؟ جیسے اور آیت میں ہے کہ «أَفَأَصْفَاكُمْ رَبُّكُم بِالْبَنِينَ وَاتَّخَذَ مِنَ الْمَلَائِكَةِ إِنَاثًا إِنَّكُمْ لَتَقُولُونَ قَوْلًا عَظِيمًا» ۱؎ [17-الإسراء:40] ’ تمہیں تو لڑکوں سے نوازے اور فرشتوں کو اپنی لڑکیاں بنائے یہ تو تمہاری نہایت درجہ کی لغویات ہے ‘۔ یہاں فرمایا ’ کیا تمہیں عقل نہیں جو ایسی دور از قیاس باتیں بناتے ہو تم سمجھتے نہیں ہو ڈرو کہ اللہ پر جھوٹ باندھنا کیسا برا ہے؟ اچھا گر کوئی دلیل تمہارے پاس ہو تو لاؤ اسی کو پیش کرو۔ یا اگر کسی آسمانی کتاب سے تمہارے اس قول کی سند ہو اور تم سچے ہو تو لاؤ اسی کو سامنے لے آؤ۔ یہ تو ایسی لچر اور فضول بات ہے جس کی کوئی عقلی یا نقلی دلیل ہو ہی نہیں سکتی ‘۔ اتنے ہی پر بس نہ کی، جنات میں اور اللہ میں بھی رشتے داری قائم کی۔ مشرکوں کے اس قول پر کہ فرشتے اللہ کی لڑکیاں ہیں سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے سوال کیا کہ ”پھر ان کی مائیں کون ہیں؟“ تو انہوں نے کہا جن سرداروں کی لڑکیاں۔ حالانکہ خود جنات کو اس کا یقین و علم ہے کہ اس قول کے قائل قیامت کے دن عذابوں میں مبتلا کئے جائیں گے۔ ان میں بعض دشمنان اللہ تو یہاں تک کم عقلی کرتے تھے کہ شیطان بھی اللہ کا بھائی ہے۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:535/10:] نعوذ باللہ۔ اللہ تعالیٰ اس سے بہت پاک منزہ اور بالکل دور ہے جو یہ مشرک اس کی ذات پر الزام لگاتے ہیں اور جھوٹے بہتان باندھتے ہیں۔ اس کے بعد استثناء منقطع ہے اور ہے مثبت مگر اس صورت میں کہ «یَصِفُوْنَ» کی ضمیر کا مرجع تمام لوگ قرار دیئے جائیں۔ پس ان میں سے ان لوگوں کو الگ کر لیا جو حق کے ماتحت ہیں اور تمام نبیوں رسولوں علیہم السلام پر ایمان رکھتے ہیں۔ امام ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ استثناء «اِنَّهُمْ لَمُحْضَرُوْنَ» سے ہے یعنی ’ سب کے سب عذاب میں پھانس لیے جائیں گے مگر وہ بندگان جو اخلاص والے تھے ‘۔ یہ قول ذرا تامل طلب ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
کیا اللہ نے بیٹوں کے بجائے بیٹیاں اپنے لیے پسند کر لیں؟
مولانا محمد جوناگڑھی
کیا اللہ تعالی نے اپنے لیے بیٹیوں کو بیٹوں پر ترجیح دی
احمد رضا خان بریلوی
کیا اس نے بیٹیاں پسند کیں بیٹے چھوڑ کر،
علامہ محمد حسین نجفی
کیا اللہ نے بیٹوں کے مقابلہ میں بیٹیوں کو ترجیح دی۔
عبدالسلام بن محمد
کیا اس نے بیٹیوں کو بیٹوں پر ترجیح دی؟
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
مشرکین کا اللہ تعالٰی کے لئے دوہرا معیار ٭٭
اللہ تعالیٰ مشرکوں کی بیوقوفی بیان فرما رہا ہے کہ ’ اپنے لیے تو لڑکے پسند کرتے ہیں اور اللہ کے لیے لڑکیاں مقرر کرتے ہیں۔ اگر لڑکی ہونے کی خبر یہ پائیں تو چہرے سیاہ پڑ جاتے ہیں اور اللہ کی لڑکیاں ثابت کرتے ہیں ‘۔ پس فرماتا ہے ’ ان سے پوچھ تو سہی کہ یہ تقسیم کیسی ہے؟ کہ تمہارے تو لڑکے ہوں اور اللہ کے لیے لڑکیاں ہوں؟ ‘ پھر فرماتا ہے کہ ’ یہ فرشتوں کو لڑکیاں کس ثبوت پر کہتے ہیں؟ کیا ان کی پیدائش کے وقت وہ موجود تھے ‘۔ قرآن کی اور آیت «وَجَعَلُوا الْمَلَائِكَةَ الَّذِينَ هُمْ عِبَادُ الرَّحْمَـٰنِ إِنَاثًا أَشَهِدُوا خَلْقَهُمْ سَتُكْتَبُ شَهَادَتُهُمْ وَيُسْأَلُونَ» ۱؎ [43-الزخرف:19] ، میں بھی یہی بیان ہے۔ دراصل یہ قول ان کا محض جھوٹ ہے۔ کہ اللہ کے ہاں اولاد ہے۔ وہ اولاد سے پاک ہے۔ پس ان لوگوں کے تین جھوٹ اور تین کفر ہوئے اول تو یہ کہ فرشتے اللہ کی اولاد ہیں دوسرے یہ کہ اولاد بھی لڑکیاں تیسرے یہ کہ خود فرشتوں کی عبادت شروع کر دی۔
پھر فرماتا ہے کہ «أَلَكُمُ الذَّكَرُ وَلَهُ الْأُنثَىٰ تِلْكَ إِذًا قِسْمَةٌ ضِيزَىٰ» [ 53-النجم: 21، 22 ] آخر کس چیز نے اللہ کو مجبور کیا کہ اس نے لڑکے تو لیے نہیں اور لڑکیاں اپنی ذات کے لیے پسند فرمائیں؟ جیسے اور آیت میں ہے کہ «أَفَأَصْفَاكُمْ رَبُّكُم بِالْبَنِينَ وَاتَّخَذَ مِنَ الْمَلَائِكَةِ إِنَاثًا إِنَّكُمْ لَتَقُولُونَ قَوْلًا عَظِيمًا» ۱؎ [17-الإسراء:40] ’ تمہیں تو لڑکوں سے نوازے اور فرشتوں کو اپنی لڑکیاں بنائے یہ تو تمہاری نہایت درجہ کی لغویات ہے ‘۔ یہاں فرمایا ’ کیا تمہیں عقل نہیں جو ایسی دور از قیاس باتیں بناتے ہو تم سمجھتے نہیں ہو ڈرو کہ اللہ پر جھوٹ باندھنا کیسا برا ہے؟ اچھا گر کوئی دلیل تمہارے پاس ہو تو لاؤ اسی کو پیش کرو۔ یا اگر کسی آسمانی کتاب سے تمہارے اس قول کی سند ہو اور تم سچے ہو تو لاؤ اسی کو سامنے لے آؤ۔ یہ تو ایسی لچر اور فضول بات ہے جس کی کوئی عقلی یا نقلی دلیل ہو ہی نہیں سکتی ‘۔ اتنے ہی پر بس نہ کی، جنات میں اور اللہ میں بھی رشتے داری قائم کی۔ مشرکوں کے اس قول پر کہ فرشتے اللہ کی لڑکیاں ہیں سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے سوال کیا کہ ”پھر ان کی مائیں کون ہیں؟“ تو انہوں نے کہا جن سرداروں کی لڑکیاں۔ حالانکہ خود جنات کو اس کا یقین و علم ہے کہ اس قول کے قائل قیامت کے دن عذابوں میں مبتلا کئے جائیں گے۔ ان میں بعض دشمنان اللہ تو یہاں تک کم عقلی کرتے تھے کہ شیطان بھی اللہ کا بھائی ہے۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:535/10:] نعوذ باللہ۔ اللہ تعالیٰ اس سے بہت پاک منزہ اور بالکل دور ہے جو یہ مشرک اس کی ذات پر الزام لگاتے ہیں اور جھوٹے بہتان باندھتے ہیں۔ اس کے بعد استثناء منقطع ہے اور ہے مثبت مگر اس صورت میں کہ «یَصِفُوْنَ» کی ضمیر کا مرجع تمام لوگ قرار دیئے جائیں۔ پس ان میں سے ان لوگوں کو الگ کر لیا جو حق کے ماتحت ہیں اور تمام نبیوں رسولوں علیہم السلام پر ایمان رکھتے ہیں۔ امام ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ استثناء «اِنَّهُمْ لَمُحْضَرُوْنَ» سے ہے یعنی ’ سب کے سب عذاب میں پھانس لیے جائیں گے مگر وہ بندگان جو اخلاص والے تھے ‘۔ یہ قول ذرا تامل طلب ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
153۔ 1 جب کہ یہ خود اپنے لئے بیٹیاں نہیں، بیٹے پسند کرتے ہیں۔
(آیت 153تا155){ اَصْطَفَى الْبَنَاتِ عَلَى الْبَنِيْنَ …: ” اَصْطَفَى “} اصل میں {”أَ اِصْطَفٰي“} تھا، ہمزہ استفہام آنے کے بعد ہمزہ وصلی حذف کر دیا۔ {” تَذَكَّرُوْنَ “} اصل میں {”تَتَذَكَّرُوْنَ“} ہے۔
اللہ تعالیٰ مشرکوں کی بیوقوفی بیان فرما رہا ہے کہ ’ اپنے لیے تو لڑکے پسند کرتے ہیں اور اللہ کے لیے لڑکیاں مقرر کرتے ہیں۔ اگر لڑکی ہونے کی خبر یہ پائیں تو چہرے سیاہ پڑ جاتے ہیں اور اللہ کی لڑکیاں ثابت کرتے ہیں ‘۔ پس فرماتا ہے ’ ان سے پوچھ تو سہی کہ یہ تقسیم کیسی ہے؟ کہ تمہارے تو لڑکے ہوں اور اللہ کے لیے لڑکیاں ہوں؟ ‘ پھر فرماتا ہے کہ ’ یہ فرشتوں کو لڑکیاں کس ثبوت پر کہتے ہیں؟ کیا ان کی پیدائش کے وقت وہ موجود تھے ‘۔ قرآن کی اور آیت «وَجَعَلُوا الْمَلَائِكَةَ الَّذِينَ هُمْ عِبَادُ الرَّحْمَـٰنِ إِنَاثًا أَشَهِدُوا خَلْقَهُمْ سَتُكْتَبُ شَهَادَتُهُمْ وَيُسْأَلُونَ» ۱؎ [43-الزخرف:19] ، میں بھی یہی بیان ہے۔ دراصل یہ قول ان کا محض جھوٹ ہے۔ کہ اللہ کے ہاں اولاد ہے۔ وہ اولاد سے پاک ہے۔ پس ان لوگوں کے تین جھوٹ اور تین کفر ہوئے اول تو یہ کہ فرشتے اللہ کی اولاد ہیں دوسرے یہ کہ اولاد بھی لڑکیاں تیسرے یہ کہ خود فرشتوں کی عبادت شروع کر دی۔
پھر فرماتا ہے کہ «أَلَكُمُ الذَّكَرُ وَلَهُ الْأُنثَىٰ تِلْكَ إِذًا قِسْمَةٌ ضِيزَىٰ» [ 53-النجم: 21، 22 ] آخر کس چیز نے اللہ کو مجبور کیا کہ اس نے لڑکے تو لیے نہیں اور لڑکیاں اپنی ذات کے لیے پسند فرمائیں؟ جیسے اور آیت میں ہے کہ «أَفَأَصْفَاكُمْ رَبُّكُم بِالْبَنِينَ وَاتَّخَذَ مِنَ الْمَلَائِكَةِ إِنَاثًا إِنَّكُمْ لَتَقُولُونَ قَوْلًا عَظِيمًا» ۱؎ [17-الإسراء:40] ’ تمہیں تو لڑکوں سے نوازے اور فرشتوں کو اپنی لڑکیاں بنائے یہ تو تمہاری نہایت درجہ کی لغویات ہے ‘۔ یہاں فرمایا ’ کیا تمہیں عقل نہیں جو ایسی دور از قیاس باتیں بناتے ہو تم سمجھتے نہیں ہو ڈرو کہ اللہ پر جھوٹ باندھنا کیسا برا ہے؟ اچھا گر کوئی دلیل تمہارے پاس ہو تو لاؤ اسی کو پیش کرو۔ یا اگر کسی آسمانی کتاب سے تمہارے اس قول کی سند ہو اور تم سچے ہو تو لاؤ اسی کو سامنے لے آؤ۔ یہ تو ایسی لچر اور فضول بات ہے جس کی کوئی عقلی یا نقلی دلیل ہو ہی نہیں سکتی ‘۔ اتنے ہی پر بس نہ کی، جنات میں اور اللہ میں بھی رشتے داری قائم کی۔ مشرکوں کے اس قول پر کہ فرشتے اللہ کی لڑکیاں ہیں سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے سوال کیا کہ ”پھر ان کی مائیں کون ہیں؟“ تو انہوں نے کہا جن سرداروں کی لڑکیاں۔ حالانکہ خود جنات کو اس کا یقین و علم ہے کہ اس قول کے قائل قیامت کے دن عذابوں میں مبتلا کئے جائیں گے۔ ان میں بعض دشمنان اللہ تو یہاں تک کم عقلی کرتے تھے کہ شیطان بھی اللہ کا بھائی ہے۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:535/10:] نعوذ باللہ۔ اللہ تعالیٰ اس سے بہت پاک منزہ اور بالکل دور ہے جو یہ مشرک اس کی ذات پر الزام لگاتے ہیں اور جھوٹے بہتان باندھتے ہیں۔ اس کے بعد استثناء منقطع ہے اور ہے مثبت مگر اس صورت میں کہ «یَصِفُوْنَ» کی ضمیر کا مرجع تمام لوگ قرار دیئے جائیں۔ پس ان میں سے ان لوگوں کو الگ کر لیا جو حق کے ماتحت ہیں اور تمام نبیوں رسولوں علیہم السلام پر ایمان رکھتے ہیں۔ امام ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ استثناء «اِنَّهُمْ لَمُحْضَرُوْنَ» سے ہے یعنی ’ سب کے سب عذاب میں پھانس لیے جائیں گے مگر وہ بندگان جو اخلاص والے تھے ‘۔ یہ قول ذرا تامل طلب ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
اللہ تعالیٰ مشرکوں کی بیوقوفی بیان فرما رہا ہے کہ ’ اپنے لیے تو لڑکے پسند کرتے ہیں اور اللہ کے لیے لڑکیاں مقرر کرتے ہیں۔ اگر لڑکی ہونے کی خبر یہ پائیں تو چہرے سیاہ پڑ جاتے ہیں اور اللہ کی لڑکیاں ثابت کرتے ہیں ‘۔ پس فرماتا ہے ’ ان سے پوچھ تو سہی کہ یہ تقسیم کیسی ہے؟ کہ تمہارے تو لڑکے ہوں اور اللہ کے لیے لڑکیاں ہوں؟ ‘ پھر فرماتا ہے کہ ’ یہ فرشتوں کو لڑکیاں کس ثبوت پر کہتے ہیں؟ کیا ان کی پیدائش کے وقت وہ موجود تھے ‘۔ قرآن کی اور آیت «وَجَعَلُوا الْمَلَائِكَةَ الَّذِينَ هُمْ عِبَادُ الرَّحْمَـٰنِ إِنَاثًا أَشَهِدُوا خَلْقَهُمْ سَتُكْتَبُ شَهَادَتُهُمْ وَيُسْأَلُونَ» ۱؎ [43-الزخرف:19] ، میں بھی یہی بیان ہے۔ دراصل یہ قول ان کا محض جھوٹ ہے۔ کہ اللہ کے ہاں اولاد ہے۔ وہ اولاد سے پاک ہے۔ پس ان لوگوں کے تین جھوٹ اور تین کفر ہوئے اول تو یہ کہ فرشتے اللہ کی اولاد ہیں دوسرے یہ کہ اولاد بھی لڑکیاں تیسرے یہ کہ خود فرشتوں کی عبادت شروع کر دی۔
پھر فرماتا ہے کہ «أَلَكُمُ الذَّكَرُ وَلَهُ الْأُنثَىٰ تِلْكَ إِذًا قِسْمَةٌ ضِيزَىٰ» [ 53-النجم: 21، 22 ] آخر کس چیز نے اللہ کو مجبور کیا کہ اس نے لڑکے تو لیے نہیں اور لڑکیاں اپنی ذات کے لیے پسند فرمائیں؟ جیسے اور آیت میں ہے کہ «أَفَأَصْفَاكُمْ رَبُّكُم بِالْبَنِينَ وَاتَّخَذَ مِنَ الْمَلَائِكَةِ إِنَاثًا إِنَّكُمْ لَتَقُولُونَ قَوْلًا عَظِيمًا» ۱؎ [17-الإسراء:40] ’ تمہیں تو لڑکوں سے نوازے اور فرشتوں کو اپنی لڑکیاں بنائے یہ تو تمہاری نہایت درجہ کی لغویات ہے ‘۔ یہاں فرمایا ’ کیا تمہیں عقل نہیں جو ایسی دور از قیاس باتیں بناتے ہو تم سمجھتے نہیں ہو ڈرو کہ اللہ پر جھوٹ باندھنا کیسا برا ہے؟ اچھا گر کوئی دلیل تمہارے پاس ہو تو لاؤ اسی کو پیش کرو۔ یا اگر کسی آسمانی کتاب سے تمہارے اس قول کی سند ہو اور تم سچے ہو تو لاؤ اسی کو سامنے لے آؤ۔ یہ تو ایسی لچر اور فضول بات ہے جس کی کوئی عقلی یا نقلی دلیل ہو ہی نہیں سکتی ‘۔ اتنے ہی پر بس نہ کی، جنات میں اور اللہ میں بھی رشتے داری قائم کی۔ مشرکوں کے اس قول پر کہ فرشتے اللہ کی لڑکیاں ہیں سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے سوال کیا کہ ”پھر ان کی مائیں کون ہیں؟“ تو انہوں نے کہا جن سرداروں کی لڑکیاں۔ حالانکہ خود جنات کو اس کا یقین و علم ہے کہ اس قول کے قائل قیامت کے دن عذابوں میں مبتلا کئے جائیں گے۔ ان میں بعض دشمنان اللہ تو یہاں تک کم عقلی کرتے تھے کہ شیطان بھی اللہ کا بھائی ہے۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:535/10:] نعوذ باللہ۔ اللہ تعالیٰ اس سے بہت پاک منزہ اور بالکل دور ہے جو یہ مشرک اس کی ذات پر الزام لگاتے ہیں اور جھوٹے بہتان باندھتے ہیں۔ اس کے بعد استثناء منقطع ہے اور ہے مثبت مگر اس صورت میں کہ «یَصِفُوْنَ» کی ضمیر کا مرجع تمام لوگ قرار دیئے جائیں۔ پس ان میں سے ان لوگوں کو الگ کر لیا جو حق کے ماتحت ہیں اور تمام نبیوں رسولوں علیہم السلام پر ایمان رکھتے ہیں۔ امام ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ استثناء «اِنَّهُمْ لَمُحْضَرُوْنَ» سے ہے یعنی ’ سب کے سب عذاب میں پھانس لیے جائیں گے مگر وہ بندگان جو اخلاص والے تھے ‘۔ یہ قول ذرا تامل طلب ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
155۔ 1 کہ اگر اللہ کی اولاد ہوتی تو ان کا کہیں ذکر ہوتا، جس کو تم بھی پسند کرتے اور بہتر سمجھتے ہو، نہ کہ بیٹیاں، جو تمہاری نظروں میں کمتر اور حقیر ہیں۔
یا پھر تمہارے پاس اپنی ان باتوں کے لیے کوئی صاف سند ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
یا تمہارے پاس اس کی کوئی صاف دلیل ہے
احمد رضا خان بریلوی
یا تمہارے لیے کوئی کھلی سند ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
کیا تمہارے پاس کوئی واضح دلیل ہے؟
عبدالسلام بن محمد
یا تمھارے پاس کوئی واضح دلیل ہے؟
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
مشرکین کا اللہ تعالٰی کے لئے دوہرا معیار ٭٭
اللہ تعالیٰ مشرکوں کی بیوقوفی بیان فرما رہا ہے کہ ’ اپنے لیے تو لڑکے پسند کرتے ہیں اور اللہ کے لیے لڑکیاں مقرر کرتے ہیں۔ اگر لڑکی ہونے کی خبر یہ پائیں تو چہرے سیاہ پڑ جاتے ہیں اور اللہ کی لڑکیاں ثابت کرتے ہیں ‘۔ پس فرماتا ہے ’ ان سے پوچھ تو سہی کہ یہ تقسیم کیسی ہے؟ کہ تمہارے تو لڑکے ہوں اور اللہ کے لیے لڑکیاں ہوں؟ ‘ پھر فرماتا ہے کہ ’ یہ فرشتوں کو لڑکیاں کس ثبوت پر کہتے ہیں؟ کیا ان کی پیدائش کے وقت وہ موجود تھے ‘۔ قرآن کی اور آیت «وَجَعَلُوا الْمَلَائِكَةَ الَّذِينَ هُمْ عِبَادُ الرَّحْمَـٰنِ إِنَاثًا أَشَهِدُوا خَلْقَهُمْ سَتُكْتَبُ شَهَادَتُهُمْ وَيُسْأَلُونَ» ۱؎ [43-الزخرف:19] ، میں بھی یہی بیان ہے۔ دراصل یہ قول ان کا محض جھوٹ ہے۔ کہ اللہ کے ہاں اولاد ہے۔ وہ اولاد سے پاک ہے۔ پس ان لوگوں کے تین جھوٹ اور تین کفر ہوئے اول تو یہ کہ فرشتے اللہ کی اولاد ہیں دوسرے یہ کہ اولاد بھی لڑکیاں تیسرے یہ کہ خود فرشتوں کی عبادت شروع کر دی۔
پھر فرماتا ہے کہ «أَلَكُمُ الذَّكَرُ وَلَهُ الْأُنثَىٰ تِلْكَ إِذًا قِسْمَةٌ ضِيزَىٰ» [ 53-النجم: 21، 22 ] آخر کس چیز نے اللہ کو مجبور کیا کہ اس نے لڑکے تو لیے نہیں اور لڑکیاں اپنی ذات کے لیے پسند فرمائیں؟ جیسے اور آیت میں ہے کہ «أَفَأَصْفَاكُمْ رَبُّكُم بِالْبَنِينَ وَاتَّخَذَ مِنَ الْمَلَائِكَةِ إِنَاثًا إِنَّكُمْ لَتَقُولُونَ قَوْلًا عَظِيمًا» ۱؎ [17-الإسراء:40] ’ تمہیں تو لڑکوں سے نوازے اور فرشتوں کو اپنی لڑکیاں بنائے یہ تو تمہاری نہایت درجہ کی لغویات ہے ‘۔ یہاں فرمایا ’ کیا تمہیں عقل نہیں جو ایسی دور از قیاس باتیں بناتے ہو تم سمجھتے نہیں ہو ڈرو کہ اللہ پر جھوٹ باندھنا کیسا برا ہے؟ اچھا گر کوئی دلیل تمہارے پاس ہو تو لاؤ اسی کو پیش کرو۔ یا اگر کسی آسمانی کتاب سے تمہارے اس قول کی سند ہو اور تم سچے ہو تو لاؤ اسی کو سامنے لے آؤ۔ یہ تو ایسی لچر اور فضول بات ہے جس کی کوئی عقلی یا نقلی دلیل ہو ہی نہیں سکتی ‘۔ اتنے ہی پر بس نہ کی، جنات میں اور اللہ میں بھی رشتے داری قائم کی۔ مشرکوں کے اس قول پر کہ فرشتے اللہ کی لڑکیاں ہیں سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے سوال کیا کہ ”پھر ان کی مائیں کون ہیں؟“ تو انہوں نے کہا جن سرداروں کی لڑکیاں۔ حالانکہ خود جنات کو اس کا یقین و علم ہے کہ اس قول کے قائل قیامت کے دن عذابوں میں مبتلا کئے جائیں گے۔ ان میں بعض دشمنان اللہ تو یہاں تک کم عقلی کرتے تھے کہ شیطان بھی اللہ کا بھائی ہے۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:535/10:] نعوذ باللہ۔ اللہ تعالیٰ اس سے بہت پاک منزہ اور بالکل دور ہے جو یہ مشرک اس کی ذات پر الزام لگاتے ہیں اور جھوٹے بہتان باندھتے ہیں۔ اس کے بعد استثناء منقطع ہے اور ہے مثبت مگر اس صورت میں کہ «یَصِفُوْنَ» کی ضمیر کا مرجع تمام لوگ قرار دیئے جائیں۔ پس ان میں سے ان لوگوں کو الگ کر لیا جو حق کے ماتحت ہیں اور تمام نبیوں رسولوں علیہم السلام پر ایمان رکھتے ہیں۔ امام ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ استثناء «اِنَّهُمْ لَمُحْضَرُوْنَ» سے ہے یعنی ’ سب کے سب عذاب میں پھانس لیے جائیں گے مگر وہ بندگان جو اخلاص والے تھے ‘۔ یہ قول ذرا تامل طلب ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 157،156){ اَمْ لَكُمْ سُلْطٰنٌ مُّبِيْنٌ …:} دعوے کو ثابت کرنے کے لیے یا عینی شہادت ہوتی ہے یا کوئی نقلی دلیل۔ عینی شہادت کا رد یہ کہہ کر فرمایا کہ جب ہم نے فرشتوں کو پیدا کیا تو کیا تم موجود تھے؟ ظاہر ہے موجود نہیں تھے۔ اب کسی معتبر نقلی دلیل کا مطالبہ فرمایا کہ کیا تمھارے پاس اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی ایسی کتاب ہے جس میں لکھا ہے کہ فرشتے اللہ کی بیٹیاں ہیں؟ جب یہ بھی نہیں تو صاف ظاہر ہے کہ تمھارے عقائد من گھڑت اور جھوٹ ہیں۔
اللہ تعالیٰ مشرکوں کی بیوقوفی بیان فرما رہا ہے کہ ’ اپنے لیے تو لڑکے پسند کرتے ہیں اور اللہ کے لیے لڑکیاں مقرر کرتے ہیں۔ اگر لڑکی ہونے کی خبر یہ پائیں تو چہرے سیاہ پڑ جاتے ہیں اور اللہ کی لڑکیاں ثابت کرتے ہیں ‘۔ پس فرماتا ہے ’ ان سے پوچھ تو سہی کہ یہ تقسیم کیسی ہے؟ کہ تمہارے تو لڑکے ہوں اور اللہ کے لیے لڑکیاں ہوں؟ ‘ پھر فرماتا ہے کہ ’ یہ فرشتوں کو لڑکیاں کس ثبوت پر کہتے ہیں؟ کیا ان کی پیدائش کے وقت وہ موجود تھے ‘۔ قرآن کی اور آیت «وَجَعَلُوا الْمَلَائِكَةَ الَّذِينَ هُمْ عِبَادُ الرَّحْمَـٰنِ إِنَاثًا أَشَهِدُوا خَلْقَهُمْ سَتُكْتَبُ شَهَادَتُهُمْ وَيُسْأَلُونَ» ۱؎ [43-الزخرف:19] ، میں بھی یہی بیان ہے۔ دراصل یہ قول ان کا محض جھوٹ ہے۔ کہ اللہ کے ہاں اولاد ہے۔ وہ اولاد سے پاک ہے۔ پس ان لوگوں کے تین جھوٹ اور تین کفر ہوئے اول تو یہ کہ فرشتے اللہ کی اولاد ہیں دوسرے یہ کہ اولاد بھی لڑکیاں تیسرے یہ کہ خود فرشتوں کی عبادت شروع کر دی۔
پھر فرماتا ہے کہ «أَلَكُمُ الذَّكَرُ وَلَهُ الْأُنثَىٰ تِلْكَ إِذًا قِسْمَةٌ ضِيزَىٰ» [ 53-النجم: 21، 22 ] آخر کس چیز نے اللہ کو مجبور کیا کہ اس نے لڑکے تو لیے نہیں اور لڑکیاں اپنی ذات کے لیے پسند فرمائیں؟ جیسے اور آیت میں ہے کہ «أَفَأَصْفَاكُمْ رَبُّكُم بِالْبَنِينَ وَاتَّخَذَ مِنَ الْمَلَائِكَةِ إِنَاثًا إِنَّكُمْ لَتَقُولُونَ قَوْلًا عَظِيمًا» ۱؎ [17-الإسراء:40] ’ تمہیں تو لڑکوں سے نوازے اور فرشتوں کو اپنی لڑکیاں بنائے یہ تو تمہاری نہایت درجہ کی لغویات ہے ‘۔ یہاں فرمایا ’ کیا تمہیں عقل نہیں جو ایسی دور از قیاس باتیں بناتے ہو تم سمجھتے نہیں ہو ڈرو کہ اللہ پر جھوٹ باندھنا کیسا برا ہے؟ اچھا گر کوئی دلیل تمہارے پاس ہو تو لاؤ اسی کو پیش کرو۔ یا اگر کسی آسمانی کتاب سے تمہارے اس قول کی سند ہو اور تم سچے ہو تو لاؤ اسی کو سامنے لے آؤ۔ یہ تو ایسی لچر اور فضول بات ہے جس کی کوئی عقلی یا نقلی دلیل ہو ہی نہیں سکتی ‘۔ اتنے ہی پر بس نہ کی، جنات میں اور اللہ میں بھی رشتے داری قائم کی۔ مشرکوں کے اس قول پر کہ فرشتے اللہ کی لڑکیاں ہیں سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے سوال کیا کہ ”پھر ان کی مائیں کون ہیں؟“ تو انہوں نے کہا جن سرداروں کی لڑکیاں۔ حالانکہ خود جنات کو اس کا یقین و علم ہے کہ اس قول کے قائل قیامت کے دن عذابوں میں مبتلا کئے جائیں گے۔ ان میں بعض دشمنان اللہ تو یہاں تک کم عقلی کرتے تھے کہ شیطان بھی اللہ کا بھائی ہے۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:535/10:] نعوذ باللہ۔ اللہ تعالیٰ اس سے بہت پاک منزہ اور بالکل دور ہے جو یہ مشرک اس کی ذات پر الزام لگاتے ہیں اور جھوٹے بہتان باندھتے ہیں۔ اس کے بعد استثناء منقطع ہے اور ہے مثبت مگر اس صورت میں کہ «یَصِفُوْنَ» کی ضمیر کا مرجع تمام لوگ قرار دیئے جائیں۔ پس ان میں سے ان لوگوں کو الگ کر لیا جو حق کے ماتحت ہیں اور تمام نبیوں رسولوں علیہم السلام پر ایمان رکھتے ہیں۔ امام ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ استثناء «اِنَّهُمْ لَمُحْضَرُوْنَ» سے ہے یعنی ’ سب کے سب عذاب میں پھانس لیے جائیں گے مگر وہ بندگان جو اخلاص والے تھے ‘۔ یہ قول ذرا تامل طلب ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
157۔ 1 یعنی عقل تو اس عقیدے کی صحت کو تسلیم نہیں کرتی کہ اللہ کی اولاد ہے، اور وہ بھی مؤنث، چلو کوئی نقلی دلیل ہی دکھا دو، کوئی کتاب جو اللہ نے اتاری ہو، اس میں اللہ کی اولاد کا اعتراف یا حوالہ ہو؟
اِنہوں نے اللہ اور ملائکہ کے درمیان نسب کا رشتہ بنا رکھا ہے، حالانکہ ملائکہ خوب جانتے ہیں کہ یہ لوگ مجرم کی حیثیت سے پیش ہونے والے ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
اور ان لوگوں نے تو اللہ کے اور جنات کے درمیان بھی قرابت داری ٹھہرائی ہے، اور حاﻻنکہ خود جنات کو معلوم ہے کہ وه (اس عقیده کے لوگ عذاب کے سامنے) پیش کیے جائیں گے
احمد رضا خان بریلوی
اور اس میں اور جنوں میں رشتہ ٹھہرایا اور بیشک جنوں کو معلوم ہے کہ وہ ضرور حاضر لائے جائیں گے
علامہ محمد حسین نجفی
کیا ان لوگوں نے اس (خدا) اور جنوں کے درمیان کوئی رشتہ ناطہ قرار دیا ہے؟ حالانکہ خود جنات جانتے ہیں کہ وہ (جزا و سزا کیلئے) پکڑ کر حاضر کئے جائیں گے۔
عبدالسلام بن محمد
اور انھوں نے اس کے درمیان اور جنوں کے درمیان رشتہ داری بنادی، حالانکہ بلا شبہ یقینا جن جان چکے ہیں کہ بے شک وہ ضرور حاضر کیے جانے والے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
مشرکین کا اللہ تعالٰی کے لئے دوہرا معیار ٭٭
اللہ تعالیٰ مشرکوں کی بیوقوفی بیان فرما رہا ہے کہ ’ اپنے لیے تو لڑکے پسند کرتے ہیں اور اللہ کے لیے لڑکیاں مقرر کرتے ہیں۔ اگر لڑکی ہونے کی خبر یہ پائیں تو چہرے سیاہ پڑ جاتے ہیں اور اللہ کی لڑکیاں ثابت کرتے ہیں ‘۔ پس فرماتا ہے ’ ان سے پوچھ تو سہی کہ یہ تقسیم کیسی ہے؟ کہ تمہارے تو لڑکے ہوں اور اللہ کے لیے لڑکیاں ہوں؟ ‘ پھر فرماتا ہے کہ ’ یہ فرشتوں کو لڑکیاں کس ثبوت پر کہتے ہیں؟ کیا ان کی پیدائش کے وقت وہ موجود تھے ‘۔ قرآن کی اور آیت «وَجَعَلُوا الْمَلَائِكَةَ الَّذِينَ هُمْ عِبَادُ الرَّحْمَـٰنِ إِنَاثًا أَشَهِدُوا خَلْقَهُمْ سَتُكْتَبُ شَهَادَتُهُمْ وَيُسْأَلُونَ» ۱؎ [43-الزخرف:19] ، میں بھی یہی بیان ہے۔ دراصل یہ قول ان کا محض جھوٹ ہے۔ کہ اللہ کے ہاں اولاد ہے۔ وہ اولاد سے پاک ہے۔ پس ان لوگوں کے تین جھوٹ اور تین کفر ہوئے اول تو یہ کہ فرشتے اللہ کی اولاد ہیں دوسرے یہ کہ اولاد بھی لڑکیاں تیسرے یہ کہ خود فرشتوں کی عبادت شروع کر دی۔
پھر فرماتا ہے کہ «أَلَكُمُ الذَّكَرُ وَلَهُ الْأُنثَىٰ تِلْكَ إِذًا قِسْمَةٌ ضِيزَىٰ» [ 53-النجم: 21، 22 ] آخر کس چیز نے اللہ کو مجبور کیا کہ اس نے لڑکے تو لیے نہیں اور لڑکیاں اپنی ذات کے لیے پسند فرمائیں؟ جیسے اور آیت میں ہے کہ «أَفَأَصْفَاكُمْ رَبُّكُم بِالْبَنِينَ وَاتَّخَذَ مِنَ الْمَلَائِكَةِ إِنَاثًا إِنَّكُمْ لَتَقُولُونَ قَوْلًا عَظِيمًا» ۱؎ [17-الإسراء:40] ’ تمہیں تو لڑکوں سے نوازے اور فرشتوں کو اپنی لڑکیاں بنائے یہ تو تمہاری نہایت درجہ کی لغویات ہے ‘۔ یہاں فرمایا ’ کیا تمہیں عقل نہیں جو ایسی دور از قیاس باتیں بناتے ہو تم سمجھتے نہیں ہو ڈرو کہ اللہ پر جھوٹ باندھنا کیسا برا ہے؟ اچھا گر کوئی دلیل تمہارے پاس ہو تو لاؤ اسی کو پیش کرو۔ یا اگر کسی آسمانی کتاب سے تمہارے اس قول کی سند ہو اور تم سچے ہو تو لاؤ اسی کو سامنے لے آؤ۔ یہ تو ایسی لچر اور فضول بات ہے جس کی کوئی عقلی یا نقلی دلیل ہو ہی نہیں سکتی ‘۔ اتنے ہی پر بس نہ کی، جنات میں اور اللہ میں بھی رشتے داری قائم کی۔ مشرکوں کے اس قول پر کہ فرشتے اللہ کی لڑکیاں ہیں سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے سوال کیا کہ ”پھر ان کی مائیں کون ہیں؟“ تو انہوں نے کہا جن سرداروں کی لڑکیاں۔ حالانکہ خود جنات کو اس کا یقین و علم ہے کہ اس قول کے قائل قیامت کے دن عذابوں میں مبتلا کئے جائیں گے۔ ان میں بعض دشمنان اللہ تو یہاں تک کم عقلی کرتے تھے کہ شیطان بھی اللہ کا بھائی ہے۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:535/10:] نعوذ باللہ۔ اللہ تعالیٰ اس سے بہت پاک منزہ اور بالکل دور ہے جو یہ مشرک اس کی ذات پر الزام لگاتے ہیں اور جھوٹے بہتان باندھتے ہیں۔ اس کے بعد استثناء منقطع ہے اور ہے مثبت مگر اس صورت میں کہ «یَصِفُوْنَ» کی ضمیر کا مرجع تمام لوگ قرار دیئے جائیں۔ پس ان میں سے ان لوگوں کو الگ کر لیا جو حق کے ماتحت ہیں اور تمام نبیوں رسولوں علیہم السلام پر ایمان رکھتے ہیں۔ امام ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ استثناء «اِنَّهُمْ لَمُحْضَرُوْنَ» سے ہے یعنی ’ سب کے سب عذاب میں پھانس لیے جائیں گے مگر وہ بندگان جو اخلاص والے تھے ‘۔ یہ قول ذرا تامل طلب ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
158۔ 1 یہ اشارہ ہے مشرکین کے اس عقیدے کی طرف کہ اللہ نے جنات کے ساتھ رشتہ ازدواج قائم کیا، جس سے لڑکیاں پیدا ہوئیں۔ یہی اللہ کی بیٹیاں، فرشتے ہیں۔ یوں اللہ تعالیٰ اور جنوں کے درمیان قرابت داری (سسرالی رشتہ) قائم ہوگیا۔ 158۔ 2 حالانکہ یہ بات کیوں کر صحیح ہوسکتی ہے؟ اگر ایسا ہوتا تو اللہ تعالیٰ جنات کو عذاب میں کیوں ڈالتا؟ کیا وہ اپنی قرابت داری کا لحاظ نہ کرتا؟ اور اگر ایسا نہیں ہے بلکہ خود جنات بھی جانتے ہیں کہ انہیں عتاب و عذاب الٰہی بھگتنے کے لئے ضرور جہنم میں جانا ہوگا، تو پھر اللہ اور جنوں کے درمیان قرابت داری کس طرح ہوسکتی ہے۔
(آیت 158) ➊ { وَ جَعَلُوْا بَيْنَهٗ وَ بَيْنَ الْجِنَّةِ نَسَبًا …:} اللہ تعالیٰ اور جنّوں کے درمیان نسب بنانے سے کیا مراد ہے؟ ابن کثیر رحمہ اللہ نے اس کی تفسیر میں دو قول ذکر کیے ہیں، پہلا مجاہد کا قول کہ مشرکین نے کہا، فرشتے اللہ کی بیٹیاں ہیں۔ تو ابوبکر رضی اللہ عنہ نے پوچھا، تو ان کی مائیں کون ہیں؟ انھوں نے کہا {”بَنَاتُ سَرَوَاتِ الْجِنِّ“} ”سردار جننیوں کی بیٹیاں۔“ مگر اس تفسیر میں اللہ تعالیٰ اور جنّوں کے درمیان نسبی رشتہ قائم نہیں ہوتا، بلکہ صہری یعنی سسرالی رشتہ قائم ہوتا ہے، کیونکہ جننیوں کی بیٹیاں (نعوذ باللہ) اللہ کی بیویاں ہوں تو جنّ سسر ہوں گے۔ علاوہ ازیں مجاہد کی ابوبکر رضی اللہ عنہ سے ملاقات بھی نہیں، اس لیے یہ منقطع ہے۔ دوسرا قول ابن عباس رضی اللہ عنھما کا نقل کیا ہے کہ اللہ کے ان دشمنوں نے اللہ تعالیٰ اور ابلیس کو دو بھائی قرار دیا۔ مفسرین نے اس تشریح میں فرمایا کہ یہ ایرانیوں کا عقیدہ تھا کہ خالق دو ہیں، ایک خالق خیر، جسے ”یزداں“ کہتے ہیں اور ایک خالقِ شر، جسے ”اہرمن“ کہتے ہیں۔ مگر اس تفسیر میں بھی دو خرابیاں ہیں، ایک تو اس کی سند ثابت نہیں، کیونکہ یہ طبری نے عوفی عن ابن عباس کے طریق سے بیان کی ہے، جو ضعیف ہے، دوسرے اس میں اللہ تعالیٰ اور ابلیس کے درمیان بھائی ہونے کے رشتے کا بیان ہے، جب کہ آیت میں عام جنّوں کا ذکر ہے۔ بعض مفسرین نے فرمایا کہ یہاں {” الْجِنَّةِ “} سے مراد فرشتے ہیں، کیونکہ جنّات کو ان کے چھپے ہوئے ہونے کی وجہ سے ”جنّ “ کہتے ہیں، جیسا کہ جنین، جنون وغیرہ الفاظ میں یہی مفہوم پایا جاتا ہے اور فرشتے بھی چھپے ہوتے ہیں، اس لیے یہاں مراد یہ ہے کہ انھوں نے فرشتوں اور اللہ کے درمیان نسبی رشتہ قرار دیا ہے، اس طرح کہ انھیں اللہ کی بیٹیاں قرار دیا۔ مگر اس میں بھی دو خرابیاں ہیں، ایک تو فرشتوں کو ”جنّ“ کہنا بہت بڑا تکلف ہے، کیونکہ جنّ آگ سے پیدا ہوئے ہیں اور فرشتے نور سے۔ دوسری خرابی یہ ہے کہ یہ بات تو اوپر آیت (۱۵۳) میں گزر چکی ہے: «اَصْطَفَى الْبَنَاتِ عَلَى الْبَنِيْنَ» اسے بلا ضرورت دوبارہ ذکر کرنے کا کیا فائدہ؟ میں نے اس مسئلے میں بہت سی تفاسیر کا مطالعہ کیا، سب کا خلاصہ یہ ہے جو میں نے اوپر بیان کر دیا۔ آخر میں مجھے مولانا ثناء اللہ امرتسری کی تفسیر سے اطمینان ہوا، وہ یہ کہ مشرکین جس طرح فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں کہتے تھے جنّوں کو اللہ کے بیٹے (یا اولاد) کہتے تھے۔ دلیل اس کی اللہ تعالیٰ کا یہی فرمان ہے کہ انھوں نے اللہ کے درمیان اور جنّوں کے درمیان نسب قرار دیا۔ ظاہر ہے نسب کا اطلاق سب سے پہلے بیٹوں اور بیٹیوں پر ہوتا ہے۔ مشرکوں سے یہ بات کچھ بعید نہیں اور اللہ سے زیادہ سچا راوی کون ہو سکتا ہے؟ (واللہ اعلم) ➋ { وَ لَقَدْ عَلِمَتِ الْجِنَّةُ اِنَّهُمْ لَمُحْضَرُوْنَ: ”مُحْضَرُوْنَ“} (حاضر کیے گئے) انھی کے متعلق کہا جاتا ہے جو خود آنا نہ چاہتے ہوں۔ یعنی یقینا جنّوں کو معلوم ہے کہ وہ حساب کے لیے حاضر کیے جانے والے ہیں۔ کیا باپ کا اولاد کے ساتھ یہ معاملہ ہوتا ہے؟
جو کچھ یہ (اللہ کے بارے میں) بیان کر رہے ہیں اس سے اللہ تعالیٰ بالکل پاک ہے
احمد رضا خان بریلوی
پاکی ہے اللہ کو ان باتوں سے کہ یہ بتاتے ہیں،
علامہ محمد حسین نجفی
پاک ہے اللہ (ان غلطیوں سے) جو وہ بیان کرتے ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
اللہ ان باتوں سے پاک ہے جو وہ بیان کرتے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
مشرکین کا اللہ تعالٰی کے لئے دوہرا معیار ٭٭
اللہ تعالیٰ مشرکوں کی بیوقوفی بیان فرما رہا ہے کہ ’ اپنے لیے تو لڑکے پسند کرتے ہیں اور اللہ کے لیے لڑکیاں مقرر کرتے ہیں۔ اگر لڑکی ہونے کی خبر یہ پائیں تو چہرے سیاہ پڑ جاتے ہیں اور اللہ کی لڑکیاں ثابت کرتے ہیں ‘۔ پس فرماتا ہے ’ ان سے پوچھ تو سہی کہ یہ تقسیم کیسی ہے؟ کہ تمہارے تو لڑکے ہوں اور اللہ کے لیے لڑکیاں ہوں؟ ‘ پھر فرماتا ہے کہ ’ یہ فرشتوں کو لڑکیاں کس ثبوت پر کہتے ہیں؟ کیا ان کی پیدائش کے وقت وہ موجود تھے ‘۔ قرآن کی اور آیت «وَجَعَلُوا الْمَلَائِكَةَ الَّذِينَ هُمْ عِبَادُ الرَّحْمَـٰنِ إِنَاثًا أَشَهِدُوا خَلْقَهُمْ سَتُكْتَبُ شَهَادَتُهُمْ وَيُسْأَلُونَ» ۱؎ [43-الزخرف:19] ، میں بھی یہی بیان ہے۔ دراصل یہ قول ان کا محض جھوٹ ہے۔ کہ اللہ کے ہاں اولاد ہے۔ وہ اولاد سے پاک ہے۔ پس ان لوگوں کے تین جھوٹ اور تین کفر ہوئے اول تو یہ کہ فرشتے اللہ کی اولاد ہیں دوسرے یہ کہ اولاد بھی لڑکیاں تیسرے یہ کہ خود فرشتوں کی عبادت شروع کر دی۔
پھر فرماتا ہے کہ «أَلَكُمُ الذَّكَرُ وَلَهُ الْأُنثَىٰ تِلْكَ إِذًا قِسْمَةٌ ضِيزَىٰ» [ 53-النجم: 21، 22 ] آخر کس چیز نے اللہ کو مجبور کیا کہ اس نے لڑکے تو لیے نہیں اور لڑکیاں اپنی ذات کے لیے پسند فرمائیں؟ جیسے اور آیت میں ہے کہ «أَفَأَصْفَاكُمْ رَبُّكُم بِالْبَنِينَ وَاتَّخَذَ مِنَ الْمَلَائِكَةِ إِنَاثًا إِنَّكُمْ لَتَقُولُونَ قَوْلًا عَظِيمًا» ۱؎ [17-الإسراء:40] ’ تمہیں تو لڑکوں سے نوازے اور فرشتوں کو اپنی لڑکیاں بنائے یہ تو تمہاری نہایت درجہ کی لغویات ہے ‘۔ یہاں فرمایا ’ کیا تمہیں عقل نہیں جو ایسی دور از قیاس باتیں بناتے ہو تم سمجھتے نہیں ہو ڈرو کہ اللہ پر جھوٹ باندھنا کیسا برا ہے؟ اچھا گر کوئی دلیل تمہارے پاس ہو تو لاؤ اسی کو پیش کرو۔ یا اگر کسی آسمانی کتاب سے تمہارے اس قول کی سند ہو اور تم سچے ہو تو لاؤ اسی کو سامنے لے آؤ۔ یہ تو ایسی لچر اور فضول بات ہے جس کی کوئی عقلی یا نقلی دلیل ہو ہی نہیں سکتی ‘۔ اتنے ہی پر بس نہ کی، جنات میں اور اللہ میں بھی رشتے داری قائم کی۔ مشرکوں کے اس قول پر کہ فرشتے اللہ کی لڑکیاں ہیں سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے سوال کیا کہ ”پھر ان کی مائیں کون ہیں؟“ تو انہوں نے کہا جن سرداروں کی لڑکیاں۔ حالانکہ خود جنات کو اس کا یقین و علم ہے کہ اس قول کے قائل قیامت کے دن عذابوں میں مبتلا کئے جائیں گے۔ ان میں بعض دشمنان اللہ تو یہاں تک کم عقلی کرتے تھے کہ شیطان بھی اللہ کا بھائی ہے۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:535/10:] نعوذ باللہ۔ اللہ تعالیٰ اس سے بہت پاک منزہ اور بالکل دور ہے جو یہ مشرک اس کی ذات پر الزام لگاتے ہیں اور جھوٹے بہتان باندھتے ہیں۔ اس کے بعد استثناء منقطع ہے اور ہے مثبت مگر اس صورت میں کہ «یَصِفُوْنَ» کی ضمیر کا مرجع تمام لوگ قرار دیئے جائیں۔ پس ان میں سے ان لوگوں کو الگ کر لیا جو حق کے ماتحت ہیں اور تمام نبیوں رسولوں علیہم السلام پر ایمان رکھتے ہیں۔ امام ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ استثناء «اِنَّهُمْ لَمُحْضَرُوْنَ» سے ہے یعنی ’ سب کے سب عذاب میں پھانس لیے جائیں گے مگر وہ بندگان جو اخلاص والے تھے ‘۔ یہ قول ذرا تامل طلب ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 159) {سُبْحٰنَ اللّٰهِ عَمَّا يَصِفُوْنَ:} یعنی اللہ تعالیٰ ان سب باتوں سے پاک ہے جو یہ مشرکین بیان کرتے ہیں۔
جو اُس کے خالص بندوں کے سوا دوسرے لوگ اس کی طرف منسوب کرتے ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
سوائے! اللہ کے مخلص بندوں کے
احمد رضا خان بریلوی
مگر اللہ کے چُنے ہوئے بندے
علامہ محمد حسین نجفی
ہاں البتہ اللہ کے مخلص اور برگزیدہ بندے اس سے مستثنیٰ ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
مگر اللہ کے وہ بندے جو چنے ہوئے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
مشرکین کا اللہ تعالٰی کے لئے دوہرا معیار ٭٭
اللہ تعالیٰ مشرکوں کی بیوقوفی بیان فرما رہا ہے کہ ’ اپنے لیے تو لڑکے پسند کرتے ہیں اور اللہ کے لیے لڑکیاں مقرر کرتے ہیں۔ اگر لڑکی ہونے کی خبر یہ پائیں تو چہرے سیاہ پڑ جاتے ہیں اور اللہ کی لڑکیاں ثابت کرتے ہیں ‘۔ پس فرماتا ہے ’ ان سے پوچھ تو سہی کہ یہ تقسیم کیسی ہے؟ کہ تمہارے تو لڑکے ہوں اور اللہ کے لیے لڑکیاں ہوں؟ ‘ پھر فرماتا ہے کہ ’ یہ فرشتوں کو لڑکیاں کس ثبوت پر کہتے ہیں؟ کیا ان کی پیدائش کے وقت وہ موجود تھے ‘۔ قرآن کی اور آیت «وَجَعَلُوا الْمَلَائِكَةَ الَّذِينَ هُمْ عِبَادُ الرَّحْمَـٰنِ إِنَاثًا أَشَهِدُوا خَلْقَهُمْ سَتُكْتَبُ شَهَادَتُهُمْ وَيُسْأَلُونَ» ۱؎ [43-الزخرف:19] ، میں بھی یہی بیان ہے۔ دراصل یہ قول ان کا محض جھوٹ ہے۔ کہ اللہ کے ہاں اولاد ہے۔ وہ اولاد سے پاک ہے۔ پس ان لوگوں کے تین جھوٹ اور تین کفر ہوئے اول تو یہ کہ فرشتے اللہ کی اولاد ہیں دوسرے یہ کہ اولاد بھی لڑکیاں تیسرے یہ کہ خود فرشتوں کی عبادت شروع کر دی۔
پھر فرماتا ہے کہ «أَلَكُمُ الذَّكَرُ وَلَهُ الْأُنثَىٰ تِلْكَ إِذًا قِسْمَةٌ ضِيزَىٰ» [ 53-النجم: 21، 22 ] آخر کس چیز نے اللہ کو مجبور کیا کہ اس نے لڑکے تو لیے نہیں اور لڑکیاں اپنی ذات کے لیے پسند فرمائیں؟ جیسے اور آیت میں ہے کہ «أَفَأَصْفَاكُمْ رَبُّكُم بِالْبَنِينَ وَاتَّخَذَ مِنَ الْمَلَائِكَةِ إِنَاثًا إِنَّكُمْ لَتَقُولُونَ قَوْلًا عَظِيمًا» ۱؎ [17-الإسراء:40] ’ تمہیں تو لڑکوں سے نوازے اور فرشتوں کو اپنی لڑکیاں بنائے یہ تو تمہاری نہایت درجہ کی لغویات ہے ‘۔ یہاں فرمایا ’ کیا تمہیں عقل نہیں جو ایسی دور از قیاس باتیں بناتے ہو تم سمجھتے نہیں ہو ڈرو کہ اللہ پر جھوٹ باندھنا کیسا برا ہے؟ اچھا گر کوئی دلیل تمہارے پاس ہو تو لاؤ اسی کو پیش کرو۔ یا اگر کسی آسمانی کتاب سے تمہارے اس قول کی سند ہو اور تم سچے ہو تو لاؤ اسی کو سامنے لے آؤ۔ یہ تو ایسی لچر اور فضول بات ہے جس کی کوئی عقلی یا نقلی دلیل ہو ہی نہیں سکتی ‘۔ اتنے ہی پر بس نہ کی، جنات میں اور اللہ میں بھی رشتے داری قائم کی۔ مشرکوں کے اس قول پر کہ فرشتے اللہ کی لڑکیاں ہیں سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے سوال کیا کہ ”پھر ان کی مائیں کون ہیں؟“ تو انہوں نے کہا جن سرداروں کی لڑکیاں۔ حالانکہ خود جنات کو اس کا یقین و علم ہے کہ اس قول کے قائل قیامت کے دن عذابوں میں مبتلا کئے جائیں گے۔ ان میں بعض دشمنان اللہ تو یہاں تک کم عقلی کرتے تھے کہ شیطان بھی اللہ کا بھائی ہے۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:535/10:] نعوذ باللہ۔ اللہ تعالیٰ اس سے بہت پاک منزہ اور بالکل دور ہے جو یہ مشرک اس کی ذات پر الزام لگاتے ہیں اور جھوٹے بہتان باندھتے ہیں۔ اس کے بعد استثناء منقطع ہے اور ہے مثبت مگر اس صورت میں کہ «یَصِفُوْنَ» کی ضمیر کا مرجع تمام لوگ قرار دیئے جائیں۔ پس ان میں سے ان لوگوں کو الگ کر لیا جو حق کے ماتحت ہیں اور تمام نبیوں رسولوں علیہم السلام پر ایمان رکھتے ہیں۔ امام ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ استثناء «اِنَّهُمْ لَمُحْضَرُوْنَ» سے ہے یعنی ’ سب کے سب عذاب میں پھانس لیے جائیں گے مگر وہ بندگان جو اخلاص والے تھے ‘۔ یہ قول ذرا تامل طلب ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
160۔ 1 یعنی اللہ کے بارے میں ایسی باتیں نہیں کہتے جن سے وہ پاک ہے۔ یہ مشرکین ہی کا شیوہ ہے۔ یا یہ مطلب ہے کہ جہنم میں جنات اور مشرکین ہی حاضر کئے جائیں گے، اللہ کے مخلص (چنے ہوئے) بندے نہیں۔ ان کے لئے تو اللہ نے جنت تیار کر رکھی ہے۔
(آیت 160){ اِلَّا عِبَادَ اللّٰهِ الْمُخْلَصِيْنَ:} اس کی دو توجیہیں ہیں اور دونوں بیک وقت بھی مراد ہو سکتی ہیں، ایک یہ کہ اللہ کے مخلص بندے ایسی باتیں نہیں کہتے، یہ مشرکین ہی کا شیوہ ہے۔ دوسری یہ کہ جنّ جانتے ہیں کہ وہ نہ چاہتے ہوئے بھی حاضر کیے جانے والے ہیں، مگر اللہ کے وہ بندے جو چنے ہوئے ہیں، جنّ ہوں یا انسان، وہ اس گرفتاری سے آزاد رہیں گے، کیونکہ ان کے لیے اللہ تعالیٰ نے جنت تیار کر رکھی ہے۔ وہ نہایت اعزاز کے ساتھ بلائے جائیں گے۔
اللہ تعالیٰ مشرکوں سے فرما رہا ہے کہ ’ تمہاری گمراہی اور شرک و کفر کی تعلیم وہی قبول کریں گے جو جہنم کے لیے پیدا کئے گئے ہوں۔ جو عقل سے خالی کانوں سے بہرے اور آنکھوں کے اندھے ہوں جو مثل چوپایوں کے بلکہ ان سے بھی بدرجہا بدتر ہوں ‘ ۱؎ [7-الأعراف:179] ۔ جیسے اور جگہ فرمایا ہے کہ ’ اس سے وہی گمراہ ہو سکتے ہیں جو دماغ کے خالی اور باطل کے شیدائی ہوں ‘ ۱؎ [51-الذاريات:9-8] ۔ ازاں بعد فرشتوں کی برأت اور ان کی تسلی و رضا ایمان و اطاعت کا ذکر فرمایا کہ ’ وہ خود کہتے ہیں کہ ہم میں سے ہر ایک کے لیے ایک مقرر جگہ اور ایک مقام عبادت مخصوص ہے جس سے نہ ہم ہٹ سکتے ہیں نہ اس میں کمی بیشی کر سکتے ہیں ‘۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ { آسمان چر چرا رہا ہے اور واقع میں اسے چر چرانا بھی چاہیئے اس میں ایک قدم رکھنے جتنی جگہ بھی خالی نہیں جہاں کوئی نہ کوئی فرشتہ رکوع سجدے میں پڑا ہوا نہ ہو۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان تینوں آیتوں کی تلاوت کی } ۱؎ [الدر المنشور للسیوطی:539/5:موضوع] ایک روایت میں { آسمان دنیا کا لفظ ہے } ۱؎ [سلسلة احادیث صحیحه البانی:1059،] ۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ایک بالشت بھر جگہ آسمانوں میں ایسی نہیں جہاں پر کسی نہ کسی فرشتے کے قدم یا پیشانی نہ ہو۔
قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں پہلے تو مرد عورت ایک ساتھ نماز پڑھتے تھے لیکن اس آیت کے نزول کے بعد مردوں کو آگے بڑھا دیا گیا اور عورتوں کو پیچھے کر دیا گیا۔ ’ اور ہم سب فرشتے صفہ بستہ عبادت اللہ کی کیا کرتے ہیں‘۔ آیت «وَالصّــٰفّٰتِ صَفًّا» ۱؎ [ 37- الصافات: 1 ] کی تفسیر میں اس کا بیان گذر چکا ہے۔ ولید بن عبداللہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس آیت کے نازل ہونے تک نماز کی صفیں نہیں تھیں پھر صفیں مقرر ہو گئیں۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اقامت کے بعد لوگوں کی طرف منہ کر کے فرماتے تھے ”صفیں ٹھیک درست کرلو سیدھے کھڑے ہو جاؤ اللہ تعالیٰ تم سے بھی فرشتوں کی طرف صف بندی چاہتا ہے۔ جیسے وہ فرماتے ہیں «وَإِنَّا لَنَحْنُ الصَّافُّونَ» “ ۱؎ [37-الصافات:165] ”اے فلاں آگے بڑھ اے فلاں پیچھے ہٹ۔“ پھر آپ رضی اللہ عنہ آگے بڑھ کر نماز شروع کرتے۔ [ابن ابی حاتم] صحیح مسلم میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { ہمیں تین فضیلتیں ایسی دی گئی ہیں جن میں اور کوئی ہمارے ساتھ نہیں۔ ہماری صفیں فرشتوں جیسی بنائی گئیں۔ ہمارے لیے ساری زمین مسجد بنائی گئی اور ہمارے لیے زمین کی مٹی پاک کرنے والی بنائی گئی } }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:522] ’ ہم اللہ کی تسبیح اور پاکی بیان کرنے والے ہیں اس کی بزرگی اور بڑائی بیان کرتے ہیں۔ تمام نقصانوں سے اسے پاک مانتے ہیں۔ ہم سب فرشتے اس کے غلام ہیں اس کے محتاج ہیں اس کے سامنے اپنی پستی اور عاجزی کا اظہار کرنے والے ہیں ‘۔ پس یہ تینوں اوصاف فرشتوں کے ہیں۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ تسبیح کرنے والوں سے مراد نماز پڑھنے والے ہیں۔
اور آیت میں ہے «وَقَالُوا اتَّخَذَ الرَّحْمٰنُ وَلَدًا» ۱؎ [19-مريم:88] ، یعنی ’ کفار نے کہا اللہ کی اولاد ہے ‘، اللہ اس سے پاک ہے البتہ فرشتے اس کے محترم بندے ہیں اس کے فرمان سے آگے نہیں بڑھتے، اس کے احکام پر عمل کرتے ہیں وہ ان کا آگا پیچھا بخوبی جانتا ہے وہ کسی کی شفاعت کا بھی اختیار نہیں رکھتے بجز اس کے جس کے لیے رحمان راضی ہو وہ تو خوف اللہ سے تھرتھراتے رہتے ہیں۔ ان میں سے جو اپنے آپ کو لائق عبادت کہے ہم اسے جہنم میں جھونک دیں ظالموں کی سزا ہمارے ہاں یہی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس آئے، اس سے پہلے تو یہ کہتے تھے کہ اگر ہمارے پاس کوئی آ جائے جو ہمیں اللہ کی راہ کی تعلیم دیتا اور ہمارے سامنے اگلے لوگوں کے واقعات بطور نصیحت پیش کرتا اور ہمارے پاس کتاب اللہ لے آتا تو یقیناً ہم مخلص مسلمان بن جاتے۔ جیسے اور آیت میں ہے «وَأَقْسَمُوا بِاللَّـهِ جَهْدَ أَيْمَانِهِمْ لَئِن جَاءَهُمْ نَذِيرٌ لَّيَكُونُنَّ أَهْدَىٰ مِنْ إِحْدَى الْأُمَمِ فَلَمَّا جَاءَهُمْ نَذِيرٌ مَّا زَادَهُمْ إِلَّا نُفُورًا» ۱؎ [35-فاطر:42] ، یعنی ’ بڑی پختہ قسمیں کھا کھا کر کہتے تھے کہ اگر کوئی نبی کریم ہماری موجودگی میں آ جائیں تو ہم بڑے نیک بن جائیں گے اور ہدایت کی راہ کی طرف سب سے پہلے دوڑیں گے، لیکن جب نبی اللہ آ گئے تو بھاگ کھڑے ہوئے ‘۔ اور آیت میں فرمایا «أَن تَقُولُوا إِنَّمَا أُنزِلَ الْكِتَابُ عَلَىٰ طَائِفَتَيْنِ مِن قَبْلِنَا وَإِن كُنَّا عَن دِرَاسَتِهِمْ لَغَافِلِينَ» الخ ۱؎ [6-الأنعام:156-157] ، پس یہاں فرمایا کہ ’ جب یہ تمنا پوری ہوئی تو کفر کرنے لگے۔ اب انہیں عنقریب معلوم ہو جائے گا کہ اللہ سے کفر کرنے کا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جھٹلانے کا کیا نتیجہ نکلتا ہے؟‘
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 161تا163) {فَاِنَّكُمْ وَ مَا تَعْبُدُوْنَ …:” عَلَيْهِ “} میں ضمیر اللہ تعالیٰ کی طرف لوٹتی ہے۔ {”فَاتِنِيْنَ“} فتنے میں ڈالنے والے، بہکانے والے۔ {”صَالٍ“ صَلِيَ يَصْلٰي صِلِيًّا“} (س) (داخل ہونا) سے اسم فاعل ہے۔ یعنی اے گروہ کفار و مشرکین! تم اور تمھارے باطل معبود کسی کو اللہ تعالیٰ کے خلاف بہکا کر گمراہ نہیں کر سکتے، سوائے اس کے جس نے خود ہی جہنم میں جانے کا تہیہ کر رکھا ہو۔ اس کے مخلص بندوں کا تم کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔ شاہ عبد القادر لکھتے ہیں: ”یعنی تم انسان اور تمھارے شیطان اللہ کی مرضی کے بغیر گمراہ نہیں کر سکتے، گمراہ وہی ہو گا جس کو اس نے دوزخی لکھ دیا۔“ (موضح)
اللہ تعالیٰ مشرکوں سے فرما رہا ہے کہ ’ تمہاری گمراہی اور شرک و کفر کی تعلیم وہی قبول کریں گے جو جہنم کے لیے پیدا کئے گئے ہوں۔ جو عقل سے خالی کانوں سے بہرے اور آنکھوں کے اندھے ہوں جو مثل چوپایوں کے بلکہ ان سے بھی بدرجہا بدتر ہوں ‘ ۱؎ [7-الأعراف:179] ۔ جیسے اور جگہ فرمایا ہے کہ ’ اس سے وہی گمراہ ہو سکتے ہیں جو دماغ کے خالی اور باطل کے شیدائی ہوں ‘ ۱؎ [51-الذاريات:9-8] ۔ ازاں بعد فرشتوں کی برأت اور ان کی تسلی و رضا ایمان و اطاعت کا ذکر فرمایا کہ ’ وہ خود کہتے ہیں کہ ہم میں سے ہر ایک کے لیے ایک مقرر جگہ اور ایک مقام عبادت مخصوص ہے جس سے نہ ہم ہٹ سکتے ہیں نہ اس میں کمی بیشی کر سکتے ہیں ‘۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ { آسمان چر چرا رہا ہے اور واقع میں اسے چر چرانا بھی چاہیئے اس میں ایک قدم رکھنے جتنی جگہ بھی خالی نہیں جہاں کوئی نہ کوئی فرشتہ رکوع سجدے میں پڑا ہوا نہ ہو۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان تینوں آیتوں کی تلاوت کی } ۱؎ [الدر المنشور للسیوطی:539/5:موضوع] ایک روایت میں { آسمان دنیا کا لفظ ہے } ۱؎ [سلسلة احادیث صحیحه البانی:1059،] ۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ایک بالشت بھر جگہ آسمانوں میں ایسی نہیں جہاں پر کسی نہ کسی فرشتے کے قدم یا پیشانی نہ ہو۔
قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں پہلے تو مرد عورت ایک ساتھ نماز پڑھتے تھے لیکن اس آیت کے نزول کے بعد مردوں کو آگے بڑھا دیا گیا اور عورتوں کو پیچھے کر دیا گیا۔ ’ اور ہم سب فرشتے صفہ بستہ عبادت اللہ کی کیا کرتے ہیں‘۔ آیت «وَالصّــٰفّٰتِ صَفًّا» ۱؎ [ 37- الصافات: 1 ] کی تفسیر میں اس کا بیان گذر چکا ہے۔ ولید بن عبداللہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس آیت کے نازل ہونے تک نماز کی صفیں نہیں تھیں پھر صفیں مقرر ہو گئیں۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اقامت کے بعد لوگوں کی طرف منہ کر کے فرماتے تھے ”صفیں ٹھیک درست کرلو سیدھے کھڑے ہو جاؤ اللہ تعالیٰ تم سے بھی فرشتوں کی طرف صف بندی چاہتا ہے۔ جیسے وہ فرماتے ہیں «وَإِنَّا لَنَحْنُ الصَّافُّونَ» “ ۱؎ [37-الصافات:165] ”اے فلاں آگے بڑھ اے فلاں پیچھے ہٹ۔“ پھر آپ رضی اللہ عنہ آگے بڑھ کر نماز شروع کرتے۔ [ابن ابی حاتم] صحیح مسلم میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { ہمیں تین فضیلتیں ایسی دی گئی ہیں جن میں اور کوئی ہمارے ساتھ نہیں۔ ہماری صفیں فرشتوں جیسی بنائی گئیں۔ ہمارے لیے ساری زمین مسجد بنائی گئی اور ہمارے لیے زمین کی مٹی پاک کرنے والی بنائی گئی } }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:522] ’ ہم اللہ کی تسبیح اور پاکی بیان کرنے والے ہیں اس کی بزرگی اور بڑائی بیان کرتے ہیں۔ تمام نقصانوں سے اسے پاک مانتے ہیں۔ ہم سب فرشتے اس کے غلام ہیں اس کے محتاج ہیں اس کے سامنے اپنی پستی اور عاجزی کا اظہار کرنے والے ہیں ‘۔ پس یہ تینوں اوصاف فرشتوں کے ہیں۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ تسبیح کرنے والوں سے مراد نماز پڑھنے والے ہیں۔
اور آیت میں ہے «وَقَالُوا اتَّخَذَ الرَّحْمٰنُ وَلَدًا» ۱؎ [19-مريم:88] ، یعنی ’ کفار نے کہا اللہ کی اولاد ہے ‘، اللہ اس سے پاک ہے البتہ فرشتے اس کے محترم بندے ہیں اس کے فرمان سے آگے نہیں بڑھتے، اس کے احکام پر عمل کرتے ہیں وہ ان کا آگا پیچھا بخوبی جانتا ہے وہ کسی کی شفاعت کا بھی اختیار نہیں رکھتے بجز اس کے جس کے لیے رحمان راضی ہو وہ تو خوف اللہ سے تھرتھراتے رہتے ہیں۔ ان میں سے جو اپنے آپ کو لائق عبادت کہے ہم اسے جہنم میں جھونک دیں ظالموں کی سزا ہمارے ہاں یہی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس آئے، اس سے پہلے تو یہ کہتے تھے کہ اگر ہمارے پاس کوئی آ جائے جو ہمیں اللہ کی راہ کی تعلیم دیتا اور ہمارے سامنے اگلے لوگوں کے واقعات بطور نصیحت پیش کرتا اور ہمارے پاس کتاب اللہ لے آتا تو یقیناً ہم مخلص مسلمان بن جاتے۔ جیسے اور آیت میں ہے «وَأَقْسَمُوا بِاللَّـهِ جَهْدَ أَيْمَانِهِمْ لَئِن جَاءَهُمْ نَذِيرٌ لَّيَكُونُنَّ أَهْدَىٰ مِنْ إِحْدَى الْأُمَمِ فَلَمَّا جَاءَهُمْ نَذِيرٌ مَّا زَادَهُمْ إِلَّا نُفُورًا» ۱؎ [35-فاطر:42] ، یعنی ’ بڑی پختہ قسمیں کھا کھا کر کہتے تھے کہ اگر کوئی نبی کریم ہماری موجودگی میں آ جائیں تو ہم بڑے نیک بن جائیں گے اور ہدایت کی راہ کی طرف سب سے پہلے دوڑیں گے، لیکن جب نبی اللہ آ گئے تو بھاگ کھڑے ہوئے ‘۔ اور آیت میں فرمایا «أَن تَقُولُوا إِنَّمَا أُنزِلَ الْكِتَابُ عَلَىٰ طَائِفَتَيْنِ مِن قَبْلِنَا وَإِن كُنَّا عَن دِرَاسَتِهِمْ لَغَافِلِينَ» الخ ۱؎ [6-الأنعام:156-157] ، پس یہاں فرمایا کہ ’ جب یہ تمنا پوری ہوئی تو کفر کرنے لگے۔ اب انہیں عنقریب معلوم ہو جائے گا کہ اللہ سے کفر کرنے کا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جھٹلانے کا کیا نتیجہ نکلتا ہے؟‘
مگر صرف اُس کو جو دوزخ کی بھڑکتی ہوئی آگ میں جھلسنے والا ہو
مولانا محمد جوناگڑھی
بجز اس کے جو جہنمی ہی ہے
احمد رضا خان بریلوی
مگر اسے جو بھڑکتی آگ میں جانے والا ہے
علامہ محمد حسین نجفی
سوائے اس کے جو دوزخ کی بھڑکتی آگ کو تاپنے والا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
مگر اس کو جو بھڑکتی آگ میں داخل ہونے والا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
فرشتوں کے اوصاف ٭٭
اللہ تعالیٰ مشرکوں سے فرما رہا ہے کہ ’ تمہاری گمراہی اور شرک و کفر کی تعلیم وہی قبول کریں گے جو جہنم کے لیے پیدا کئے گئے ہوں۔ جو عقل سے خالی کانوں سے بہرے اور آنکھوں کے اندھے ہوں جو مثل چوپایوں کے بلکہ ان سے بھی بدرجہا بدتر ہوں ‘ ۱؎ [7-الأعراف:179] ۔ جیسے اور جگہ فرمایا ہے کہ ’ اس سے وہی گمراہ ہو سکتے ہیں جو دماغ کے خالی اور باطل کے شیدائی ہوں ‘ ۱؎ [51-الذاريات:9-8] ۔ ازاں بعد فرشتوں کی برأت اور ان کی تسلی و رضا ایمان و اطاعت کا ذکر فرمایا کہ ’ وہ خود کہتے ہیں کہ ہم میں سے ہر ایک کے لیے ایک مقرر جگہ اور ایک مقام عبادت مخصوص ہے جس سے نہ ہم ہٹ سکتے ہیں نہ اس میں کمی بیشی کر سکتے ہیں ‘۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ { آسمان چر چرا رہا ہے اور واقع میں اسے چر چرانا بھی چاہیئے اس میں ایک قدم رکھنے جتنی جگہ بھی خالی نہیں جہاں کوئی نہ کوئی فرشتہ رکوع سجدے میں پڑا ہوا نہ ہو۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان تینوں آیتوں کی تلاوت کی } ۱؎ [الدر المنشور للسیوطی:539/5:موضوع] ایک روایت میں { آسمان دنیا کا لفظ ہے } ۱؎ [سلسلة احادیث صحیحه البانی:1059،] ۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ایک بالشت بھر جگہ آسمانوں میں ایسی نہیں جہاں پر کسی نہ کسی فرشتے کے قدم یا پیشانی نہ ہو۔
قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں پہلے تو مرد عورت ایک ساتھ نماز پڑھتے تھے لیکن اس آیت کے نزول کے بعد مردوں کو آگے بڑھا دیا گیا اور عورتوں کو پیچھے کر دیا گیا۔ ’ اور ہم سب فرشتے صفہ بستہ عبادت اللہ کی کیا کرتے ہیں‘۔ آیت «وَالصّــٰفّٰتِ صَفًّا» ۱؎ [ 37- الصافات: 1 ] کی تفسیر میں اس کا بیان گذر چکا ہے۔ ولید بن عبداللہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس آیت کے نازل ہونے تک نماز کی صفیں نہیں تھیں پھر صفیں مقرر ہو گئیں۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اقامت کے بعد لوگوں کی طرف منہ کر کے فرماتے تھے ”صفیں ٹھیک درست کرلو سیدھے کھڑے ہو جاؤ اللہ تعالیٰ تم سے بھی فرشتوں کی طرف صف بندی چاہتا ہے۔ جیسے وہ فرماتے ہیں «وَإِنَّا لَنَحْنُ الصَّافُّونَ» “ ۱؎ [37-الصافات:165] ”اے فلاں آگے بڑھ اے فلاں پیچھے ہٹ۔“ پھر آپ رضی اللہ عنہ آگے بڑھ کر نماز شروع کرتے۔ [ابن ابی حاتم] صحیح مسلم میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { ہمیں تین فضیلتیں ایسی دی گئی ہیں جن میں اور کوئی ہمارے ساتھ نہیں۔ ہماری صفیں فرشتوں جیسی بنائی گئیں۔ ہمارے لیے ساری زمین مسجد بنائی گئی اور ہمارے لیے زمین کی مٹی پاک کرنے والی بنائی گئی } }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:522] ’ ہم اللہ کی تسبیح اور پاکی بیان کرنے والے ہیں اس کی بزرگی اور بڑائی بیان کرتے ہیں۔ تمام نقصانوں سے اسے پاک مانتے ہیں۔ ہم سب فرشتے اس کے غلام ہیں اس کے محتاج ہیں اس کے سامنے اپنی پستی اور عاجزی کا اظہار کرنے والے ہیں ‘۔ پس یہ تینوں اوصاف فرشتوں کے ہیں۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ تسبیح کرنے والوں سے مراد نماز پڑھنے والے ہیں۔
اور آیت میں ہے «وَقَالُوا اتَّخَذَ الرَّحْمٰنُ وَلَدًا» ۱؎ [19-مريم:88] ، یعنی ’ کفار نے کہا اللہ کی اولاد ہے ‘، اللہ اس سے پاک ہے البتہ فرشتے اس کے محترم بندے ہیں اس کے فرمان سے آگے نہیں بڑھتے، اس کے احکام پر عمل کرتے ہیں وہ ان کا آگا پیچھا بخوبی جانتا ہے وہ کسی کی شفاعت کا بھی اختیار نہیں رکھتے بجز اس کے جس کے لیے رحمان راضی ہو وہ تو خوف اللہ سے تھرتھراتے رہتے ہیں۔ ان میں سے جو اپنے آپ کو لائق عبادت کہے ہم اسے جہنم میں جھونک دیں ظالموں کی سزا ہمارے ہاں یہی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس آئے، اس سے پہلے تو یہ کہتے تھے کہ اگر ہمارے پاس کوئی آ جائے جو ہمیں اللہ کی راہ کی تعلیم دیتا اور ہمارے سامنے اگلے لوگوں کے واقعات بطور نصیحت پیش کرتا اور ہمارے پاس کتاب اللہ لے آتا تو یقیناً ہم مخلص مسلمان بن جاتے۔ جیسے اور آیت میں ہے «وَأَقْسَمُوا بِاللَّـهِ جَهْدَ أَيْمَانِهِمْ لَئِن جَاءَهُمْ نَذِيرٌ لَّيَكُونُنَّ أَهْدَىٰ مِنْ إِحْدَى الْأُمَمِ فَلَمَّا جَاءَهُمْ نَذِيرٌ مَّا زَادَهُمْ إِلَّا نُفُورًا» ۱؎ [35-فاطر:42] ، یعنی ’ بڑی پختہ قسمیں کھا کھا کر کہتے تھے کہ اگر کوئی نبی کریم ہماری موجودگی میں آ جائیں تو ہم بڑے نیک بن جائیں گے اور ہدایت کی راہ کی طرف سب سے پہلے دوڑیں گے، لیکن جب نبی اللہ آ گئے تو بھاگ کھڑے ہوئے ‘۔ اور آیت میں فرمایا «أَن تَقُولُوا إِنَّمَا أُنزِلَ الْكِتَابُ عَلَىٰ طَائِفَتَيْنِ مِن قَبْلِنَا وَإِن كُنَّا عَن دِرَاسَتِهِمْ لَغَافِلِينَ» الخ ۱؎ [6-الأنعام:156-157] ، پس یہاں فرمایا کہ ’ جب یہ تمنا پوری ہوئی تو کفر کرنے لگے۔ اب انہیں عنقریب معلوم ہو جائے گا کہ اللہ سے کفر کرنے کا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جھٹلانے کا کیا نتیجہ نکلتا ہے؟‘
163۔ 1 یعنی تم اور تمہارے معبودان باطلہ کسی کو گمراہ کرنے پر قادر نہیں ہیں، سوائے ان کے جو اللہ کے علم میں پہلے ہی جہنمی ہیں۔ اور اسی وجہ سے وہ کفر و شرک پر مصر ہیں۔
اور ہمارا حال تو یہ ہے کہ ہم میں سے ہر ایک کا ایک مقام مقرر ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
(فرشتوں کا قول ہے کہ) ہم میں سے تو ہر ایک کی جگہ مقرر ہے
احمد رضا خان بریلوی
اور فرشتے کہتے ہیں ہم میں ہر ایک کا ایک مقام معلوم ہے
علامہ محمد حسین نجفی
اور (فرشتوں) میں سے کوئی ایسا نہیں مگر یہ کہ اس کا ایک خاص مقام ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اور ہم میں سے جو بھی ہے اس کی ایک مقرر جگہ ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
فرشتوں کے اوصاف ٭٭
اللہ تعالیٰ مشرکوں سے فرما رہا ہے کہ ’ تمہاری گمراہی اور شرک و کفر کی تعلیم وہی قبول کریں گے جو جہنم کے لیے پیدا کئے گئے ہوں۔ جو عقل سے خالی کانوں سے بہرے اور آنکھوں کے اندھے ہوں جو مثل چوپایوں کے بلکہ ان سے بھی بدرجہا بدتر ہوں ‘ ۱؎ [7-الأعراف:179] ۔ جیسے اور جگہ فرمایا ہے کہ ’ اس سے وہی گمراہ ہو سکتے ہیں جو دماغ کے خالی اور باطل کے شیدائی ہوں ‘ ۱؎ [51-الذاريات:9-8] ۔ ازاں بعد فرشتوں کی برأت اور ان کی تسلی و رضا ایمان و اطاعت کا ذکر فرمایا کہ ’ وہ خود کہتے ہیں کہ ہم میں سے ہر ایک کے لیے ایک مقرر جگہ اور ایک مقام عبادت مخصوص ہے جس سے نہ ہم ہٹ سکتے ہیں نہ اس میں کمی بیشی کر سکتے ہیں ‘۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ { آسمان چر چرا رہا ہے اور واقع میں اسے چر چرانا بھی چاہیئے اس میں ایک قدم رکھنے جتنی جگہ بھی خالی نہیں جہاں کوئی نہ کوئی فرشتہ رکوع سجدے میں پڑا ہوا نہ ہو۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان تینوں آیتوں کی تلاوت کی } ۱؎ [الدر المنشور للسیوطی:539/5:موضوع] ایک روایت میں { آسمان دنیا کا لفظ ہے } ۱؎ [سلسلة احادیث صحیحه البانی:1059،] ۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ایک بالشت بھر جگہ آسمانوں میں ایسی نہیں جہاں پر کسی نہ کسی فرشتے کے قدم یا پیشانی نہ ہو۔
قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں پہلے تو مرد عورت ایک ساتھ نماز پڑھتے تھے لیکن اس آیت کے نزول کے بعد مردوں کو آگے بڑھا دیا گیا اور عورتوں کو پیچھے کر دیا گیا۔ ’ اور ہم سب فرشتے صفہ بستہ عبادت اللہ کی کیا کرتے ہیں‘۔ آیت «وَالصّــٰفّٰتِ صَفًّا» ۱؎ [ 37- الصافات: 1 ] کی تفسیر میں اس کا بیان گذر چکا ہے۔ ولید بن عبداللہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس آیت کے نازل ہونے تک نماز کی صفیں نہیں تھیں پھر صفیں مقرر ہو گئیں۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اقامت کے بعد لوگوں کی طرف منہ کر کے فرماتے تھے ”صفیں ٹھیک درست کرلو سیدھے کھڑے ہو جاؤ اللہ تعالیٰ تم سے بھی فرشتوں کی طرف صف بندی چاہتا ہے۔ جیسے وہ فرماتے ہیں «وَإِنَّا لَنَحْنُ الصَّافُّونَ» “ ۱؎ [37-الصافات:165] ”اے فلاں آگے بڑھ اے فلاں پیچھے ہٹ۔“ پھر آپ رضی اللہ عنہ آگے بڑھ کر نماز شروع کرتے۔ [ابن ابی حاتم] صحیح مسلم میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { ہمیں تین فضیلتیں ایسی دی گئی ہیں جن میں اور کوئی ہمارے ساتھ نہیں۔ ہماری صفیں فرشتوں جیسی بنائی گئیں۔ ہمارے لیے ساری زمین مسجد بنائی گئی اور ہمارے لیے زمین کی مٹی پاک کرنے والی بنائی گئی } }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:522] ’ ہم اللہ کی تسبیح اور پاکی بیان کرنے والے ہیں اس کی بزرگی اور بڑائی بیان کرتے ہیں۔ تمام نقصانوں سے اسے پاک مانتے ہیں۔ ہم سب فرشتے اس کے غلام ہیں اس کے محتاج ہیں اس کے سامنے اپنی پستی اور عاجزی کا اظہار کرنے والے ہیں ‘۔ پس یہ تینوں اوصاف فرشتوں کے ہیں۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ تسبیح کرنے والوں سے مراد نماز پڑھنے والے ہیں۔
اور آیت میں ہے «وَقَالُوا اتَّخَذَ الرَّحْمٰنُ وَلَدًا» ۱؎ [19-مريم:88] ، یعنی ’ کفار نے کہا اللہ کی اولاد ہے ‘، اللہ اس سے پاک ہے البتہ فرشتے اس کے محترم بندے ہیں اس کے فرمان سے آگے نہیں بڑھتے، اس کے احکام پر عمل کرتے ہیں وہ ان کا آگا پیچھا بخوبی جانتا ہے وہ کسی کی شفاعت کا بھی اختیار نہیں رکھتے بجز اس کے جس کے لیے رحمان راضی ہو وہ تو خوف اللہ سے تھرتھراتے رہتے ہیں۔ ان میں سے جو اپنے آپ کو لائق عبادت کہے ہم اسے جہنم میں جھونک دیں ظالموں کی سزا ہمارے ہاں یہی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس آئے، اس سے پہلے تو یہ کہتے تھے کہ اگر ہمارے پاس کوئی آ جائے جو ہمیں اللہ کی راہ کی تعلیم دیتا اور ہمارے سامنے اگلے لوگوں کے واقعات بطور نصیحت پیش کرتا اور ہمارے پاس کتاب اللہ لے آتا تو یقیناً ہم مخلص مسلمان بن جاتے۔ جیسے اور آیت میں ہے «وَأَقْسَمُوا بِاللَّـهِ جَهْدَ أَيْمَانِهِمْ لَئِن جَاءَهُمْ نَذِيرٌ لَّيَكُونُنَّ أَهْدَىٰ مِنْ إِحْدَى الْأُمَمِ فَلَمَّا جَاءَهُمْ نَذِيرٌ مَّا زَادَهُمْ إِلَّا نُفُورًا» ۱؎ [35-فاطر:42] ، یعنی ’ بڑی پختہ قسمیں کھا کھا کر کہتے تھے کہ اگر کوئی نبی کریم ہماری موجودگی میں آ جائیں تو ہم بڑے نیک بن جائیں گے اور ہدایت کی راہ کی طرف سب سے پہلے دوڑیں گے، لیکن جب نبی اللہ آ گئے تو بھاگ کھڑے ہوئے ‘۔ اور آیت میں فرمایا «أَن تَقُولُوا إِنَّمَا أُنزِلَ الْكِتَابُ عَلَىٰ طَائِفَتَيْنِ مِن قَبْلِنَا وَإِن كُنَّا عَن دِرَاسَتِهِمْ لَغَافِلِينَ» الخ ۱؎ [6-الأنعام:156-157] ، پس یہاں فرمایا کہ ’ جب یہ تمنا پوری ہوئی تو کفر کرنے لگے۔ اب انہیں عنقریب معلوم ہو جائے گا کہ اللہ سے کفر کرنے کا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جھٹلانے کا کیا نتیجہ نکلتا ہے؟‘
164۔ 1 یعنی اللہ کی عبادت کے لئے۔ یہ فرشتوں کا قول ہے۔
(آیت 164) {وَ مَا مِنَّاۤ اِلَّا لَهٗ مَقَامٌ مَّعْلُوْمٌ:} یہاں سے اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کی زبانی ان کا اعتراف ذکر فرمایا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی اولاد نہیں بلکہ اس کے کامل اطاعت گزار بندے اور ہر وقت اس کی عبادت اور تسبیح کرنے والے ہیں۔ یعنی تمھارے اس شرکیہ عقیدے کے مقابلے میں فرشتوں کا اپنا بیان یہ ہے کہ ہم میں سے ہر ایک فرشتے کا ایک مقرر درجہ اور مقام ہے، جس سے آگے ہم نہیں بڑھ سکتے۔ ابوذر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ إِنِّي أَرٰی مَا لاَ تَرَوْنَ وَأَسْمَعُ مَا لاَ تَسْمَعُوْنَ، أَطَّتِ السَّمَاءُ وَحُقَّ لَهَا أَنْ تَئِطَّ مَا فِيْهَا مَوْضِعُ أَرْبَعِ أَصَابِعَ إِلاَّ وَمَلَكٌ وَاضِعٌ جَبْهَتَهُ سَاجِدًا لِلّٰهِ، وَاللّٰهِ! لَوْ تَعْلَمُوْنَ مَا أَعْلَمُ لَضَحِكْتُمْ قَلِيْلاً وَلَبَكَيْتُمْ كَثِيْرًا ] [ ترمذي، الزھد، باب قول النبي صلی اللہ علیہ وسلم لو تعلمون ما أعلم…: ۲۳۱۲، و صححہ الألباني، أنظر تراجعات الألباني، ح: ۳۳ ] ”میں وہ دیکھتا ہوں جو تم نہیں دیکھتے اور وہ سنتا ہوں جو تم نہیں سنتے۔ آسمان چر چرا رہا ہے اور اس کا حق ہے کہ چر چرائے۔ اس میں چار انگلیوں کے برابر جگہ نہیں مگر کوئی نہ کوئی فرشتہ اس میں اپنی پیشانی اللہ کے لیے سجدے میں رکھے ہوئے ہے۔ قسم ہے اللہ کی! اگر تم وہ جان لو جو میں جانتا ہوں تو تم ہنسو کم اور روؤ زیادہ۔“
اللہ تعالیٰ مشرکوں سے فرما رہا ہے کہ ’ تمہاری گمراہی اور شرک و کفر کی تعلیم وہی قبول کریں گے جو جہنم کے لیے پیدا کئے گئے ہوں۔ جو عقل سے خالی کانوں سے بہرے اور آنکھوں کے اندھے ہوں جو مثل چوپایوں کے بلکہ ان سے بھی بدرجہا بدتر ہوں ‘ ۱؎ [7-الأعراف:179] ۔ جیسے اور جگہ فرمایا ہے کہ ’ اس سے وہی گمراہ ہو سکتے ہیں جو دماغ کے خالی اور باطل کے شیدائی ہوں ‘ ۱؎ [51-الذاريات:9-8] ۔ ازاں بعد فرشتوں کی برأت اور ان کی تسلی و رضا ایمان و اطاعت کا ذکر فرمایا کہ ’ وہ خود کہتے ہیں کہ ہم میں سے ہر ایک کے لیے ایک مقرر جگہ اور ایک مقام عبادت مخصوص ہے جس سے نہ ہم ہٹ سکتے ہیں نہ اس میں کمی بیشی کر سکتے ہیں ‘۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ { آسمان چر چرا رہا ہے اور واقع میں اسے چر چرانا بھی چاہیئے اس میں ایک قدم رکھنے جتنی جگہ بھی خالی نہیں جہاں کوئی نہ کوئی فرشتہ رکوع سجدے میں پڑا ہوا نہ ہو۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان تینوں آیتوں کی تلاوت کی } ۱؎ [الدر المنشور للسیوطی:539/5:موضوع] ایک روایت میں { آسمان دنیا کا لفظ ہے } ۱؎ [سلسلة احادیث صحیحه البانی:1059،] ۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ایک بالشت بھر جگہ آسمانوں میں ایسی نہیں جہاں پر کسی نہ کسی فرشتے کے قدم یا پیشانی نہ ہو۔
قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں پہلے تو مرد عورت ایک ساتھ نماز پڑھتے تھے لیکن اس آیت کے نزول کے بعد مردوں کو آگے بڑھا دیا گیا اور عورتوں کو پیچھے کر دیا گیا۔ ’ اور ہم سب فرشتے صفہ بستہ عبادت اللہ کی کیا کرتے ہیں‘۔ آیت «وَالصّــٰفّٰتِ صَفًّا» ۱؎ [ 37- الصافات: 1 ] کی تفسیر میں اس کا بیان گذر چکا ہے۔ ولید بن عبداللہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس آیت کے نازل ہونے تک نماز کی صفیں نہیں تھیں پھر صفیں مقرر ہو گئیں۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اقامت کے بعد لوگوں کی طرف منہ کر کے فرماتے تھے ”صفیں ٹھیک درست کرلو سیدھے کھڑے ہو جاؤ اللہ تعالیٰ تم سے بھی فرشتوں کی طرف صف بندی چاہتا ہے۔ جیسے وہ فرماتے ہیں «وَإِنَّا لَنَحْنُ الصَّافُّونَ» “ ۱؎ [37-الصافات:165] ”اے فلاں آگے بڑھ اے فلاں پیچھے ہٹ۔“ پھر آپ رضی اللہ عنہ آگے بڑھ کر نماز شروع کرتے۔ [ابن ابی حاتم] صحیح مسلم میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { ہمیں تین فضیلتیں ایسی دی گئی ہیں جن میں اور کوئی ہمارے ساتھ نہیں۔ ہماری صفیں فرشتوں جیسی بنائی گئیں۔ ہمارے لیے ساری زمین مسجد بنائی گئی اور ہمارے لیے زمین کی مٹی پاک کرنے والی بنائی گئی } }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:522] ’ ہم اللہ کی تسبیح اور پاکی بیان کرنے والے ہیں اس کی بزرگی اور بڑائی بیان کرتے ہیں۔ تمام نقصانوں سے اسے پاک مانتے ہیں۔ ہم سب فرشتے اس کے غلام ہیں اس کے محتاج ہیں اس کے سامنے اپنی پستی اور عاجزی کا اظہار کرنے والے ہیں ‘۔ پس یہ تینوں اوصاف فرشتوں کے ہیں۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ تسبیح کرنے والوں سے مراد نماز پڑھنے والے ہیں۔
اور آیت میں ہے «وَقَالُوا اتَّخَذَ الرَّحْمٰنُ وَلَدًا» ۱؎ [19-مريم:88] ، یعنی ’ کفار نے کہا اللہ کی اولاد ہے ‘، اللہ اس سے پاک ہے البتہ فرشتے اس کے محترم بندے ہیں اس کے فرمان سے آگے نہیں بڑھتے، اس کے احکام پر عمل کرتے ہیں وہ ان کا آگا پیچھا بخوبی جانتا ہے وہ کسی کی شفاعت کا بھی اختیار نہیں رکھتے بجز اس کے جس کے لیے رحمان راضی ہو وہ تو خوف اللہ سے تھرتھراتے رہتے ہیں۔ ان میں سے جو اپنے آپ کو لائق عبادت کہے ہم اسے جہنم میں جھونک دیں ظالموں کی سزا ہمارے ہاں یہی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس آئے، اس سے پہلے تو یہ کہتے تھے کہ اگر ہمارے پاس کوئی آ جائے جو ہمیں اللہ کی راہ کی تعلیم دیتا اور ہمارے سامنے اگلے لوگوں کے واقعات بطور نصیحت پیش کرتا اور ہمارے پاس کتاب اللہ لے آتا تو یقیناً ہم مخلص مسلمان بن جاتے۔ جیسے اور آیت میں ہے «وَأَقْسَمُوا بِاللَّـهِ جَهْدَ أَيْمَانِهِمْ لَئِن جَاءَهُمْ نَذِيرٌ لَّيَكُونُنَّ أَهْدَىٰ مِنْ إِحْدَى الْأُمَمِ فَلَمَّا جَاءَهُمْ نَذِيرٌ مَّا زَادَهُمْ إِلَّا نُفُورًا» ۱؎ [35-فاطر:42] ، یعنی ’ بڑی پختہ قسمیں کھا کھا کر کہتے تھے کہ اگر کوئی نبی کریم ہماری موجودگی میں آ جائیں تو ہم بڑے نیک بن جائیں گے اور ہدایت کی راہ کی طرف سب سے پہلے دوڑیں گے، لیکن جب نبی اللہ آ گئے تو بھاگ کھڑے ہوئے ‘۔ اور آیت میں فرمایا «أَن تَقُولُوا إِنَّمَا أُنزِلَ الْكِتَابُ عَلَىٰ طَائِفَتَيْنِ مِن قَبْلِنَا وَإِن كُنَّا عَن دِرَاسَتِهِمْ لَغَافِلِينَ» الخ ۱؎ [6-الأنعام:156-157] ، پس یہاں فرمایا کہ ’ جب یہ تمنا پوری ہوئی تو کفر کرنے لگے۔ اب انہیں عنقریب معلوم ہو جائے گا کہ اللہ سے کفر کرنے کا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جھٹلانے کا کیا نتیجہ نکلتا ہے؟‘
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 165) {وَ اِنَّا لَنَحْنُ الصَّآفُّوْنَ:} اور ہم سب اللہ تعالیٰ کی عبادت کے لیے صفیں بنانے والے ہیں۔ جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ أَلاَ تَصُفُّوْنَ كَمَا تَصُفُّ الْمَلاَئِكَةُ عِنْدَ رَبِّهَا؟ فَقُلْنَا يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ! وَكَيْفَ تَصُفُّ الْمَلاَئِكَةُ عِنْدَ رَبِّهَا؟ قَالَ يُتِمُّوْنَ الصُّفُوْفَ الْأُوَلَ، وَيَتَرَاصُّوْنَ فِي الصَّفِّ ] [ مسلم، الصلاۃ، باب الأمر بالسکون في الصلاۃ…: ۴۳۰۔ أبوداوٗد: ۶۶۱ ] ”تم لوگ اس طرح صفیں کیوں نہیں بناتے جس طرح فرشتے اپنے رب کے پاس صفیں بناتے ہیں؟“ ہم نے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول! فرشتے اپنے رب کے پاس کس طرح صفیں بناتے ہیں؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ (پہلے) پہلی صفیں مکمل کرتے ہیں اور صفوں میں چونا گچ ہو کر کھڑے ہوتے ہیں۔“
اللہ تعالیٰ مشرکوں سے فرما رہا ہے کہ ’ تمہاری گمراہی اور شرک و کفر کی تعلیم وہی قبول کریں گے جو جہنم کے لیے پیدا کئے گئے ہوں۔ جو عقل سے خالی کانوں سے بہرے اور آنکھوں کے اندھے ہوں جو مثل چوپایوں کے بلکہ ان سے بھی بدرجہا بدتر ہوں ‘ ۱؎ [7-الأعراف:179] ۔ جیسے اور جگہ فرمایا ہے کہ ’ اس سے وہی گمراہ ہو سکتے ہیں جو دماغ کے خالی اور باطل کے شیدائی ہوں ‘ ۱؎ [51-الذاريات:9-8] ۔ ازاں بعد فرشتوں کی برأت اور ان کی تسلی و رضا ایمان و اطاعت کا ذکر فرمایا کہ ’ وہ خود کہتے ہیں کہ ہم میں سے ہر ایک کے لیے ایک مقرر جگہ اور ایک مقام عبادت مخصوص ہے جس سے نہ ہم ہٹ سکتے ہیں نہ اس میں کمی بیشی کر سکتے ہیں ‘۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ { آسمان چر چرا رہا ہے اور واقع میں اسے چر چرانا بھی چاہیئے اس میں ایک قدم رکھنے جتنی جگہ بھی خالی نہیں جہاں کوئی نہ کوئی فرشتہ رکوع سجدے میں پڑا ہوا نہ ہو۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان تینوں آیتوں کی تلاوت کی } ۱؎ [الدر المنشور للسیوطی:539/5:موضوع] ایک روایت میں { آسمان دنیا کا لفظ ہے } ۱؎ [سلسلة احادیث صحیحه البانی:1059،] ۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ایک بالشت بھر جگہ آسمانوں میں ایسی نہیں جہاں پر کسی نہ کسی فرشتے کے قدم یا پیشانی نہ ہو۔
قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں پہلے تو مرد عورت ایک ساتھ نماز پڑھتے تھے لیکن اس آیت کے نزول کے بعد مردوں کو آگے بڑھا دیا گیا اور عورتوں کو پیچھے کر دیا گیا۔ ’ اور ہم سب فرشتے صفہ بستہ عبادت اللہ کی کیا کرتے ہیں‘۔ آیت «وَالصّــٰفّٰتِ صَفًّا» ۱؎ [ 37- الصافات: 1 ] کی تفسیر میں اس کا بیان گذر چکا ہے۔ ولید بن عبداللہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس آیت کے نازل ہونے تک نماز کی صفیں نہیں تھیں پھر صفیں مقرر ہو گئیں۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اقامت کے بعد لوگوں کی طرف منہ کر کے فرماتے تھے ”صفیں ٹھیک درست کرلو سیدھے کھڑے ہو جاؤ اللہ تعالیٰ تم سے بھی فرشتوں کی طرف صف بندی چاہتا ہے۔ جیسے وہ فرماتے ہیں «وَإِنَّا لَنَحْنُ الصَّافُّونَ» “ ۱؎ [37-الصافات:165] ”اے فلاں آگے بڑھ اے فلاں پیچھے ہٹ۔“ پھر آپ رضی اللہ عنہ آگے بڑھ کر نماز شروع کرتے۔ [ابن ابی حاتم] صحیح مسلم میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { ہمیں تین فضیلتیں ایسی دی گئی ہیں جن میں اور کوئی ہمارے ساتھ نہیں۔ ہماری صفیں فرشتوں جیسی بنائی گئیں۔ ہمارے لیے ساری زمین مسجد بنائی گئی اور ہمارے لیے زمین کی مٹی پاک کرنے والی بنائی گئی } }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:522] ’ ہم اللہ کی تسبیح اور پاکی بیان کرنے والے ہیں اس کی بزرگی اور بڑائی بیان کرتے ہیں۔ تمام نقصانوں سے اسے پاک مانتے ہیں۔ ہم سب فرشتے اس کے غلام ہیں اس کے محتاج ہیں اس کے سامنے اپنی پستی اور عاجزی کا اظہار کرنے والے ہیں ‘۔ پس یہ تینوں اوصاف فرشتوں کے ہیں۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ تسبیح کرنے والوں سے مراد نماز پڑھنے والے ہیں۔
اور آیت میں ہے «وَقَالُوا اتَّخَذَ الرَّحْمٰنُ وَلَدًا» ۱؎ [19-مريم:88] ، یعنی ’ کفار نے کہا اللہ کی اولاد ہے ‘، اللہ اس سے پاک ہے البتہ فرشتے اس کے محترم بندے ہیں اس کے فرمان سے آگے نہیں بڑھتے، اس کے احکام پر عمل کرتے ہیں وہ ان کا آگا پیچھا بخوبی جانتا ہے وہ کسی کی شفاعت کا بھی اختیار نہیں رکھتے بجز اس کے جس کے لیے رحمان راضی ہو وہ تو خوف اللہ سے تھرتھراتے رہتے ہیں۔ ان میں سے جو اپنے آپ کو لائق عبادت کہے ہم اسے جہنم میں جھونک دیں ظالموں کی سزا ہمارے ہاں یہی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس آئے، اس سے پہلے تو یہ کہتے تھے کہ اگر ہمارے پاس کوئی آ جائے جو ہمیں اللہ کی راہ کی تعلیم دیتا اور ہمارے سامنے اگلے لوگوں کے واقعات بطور نصیحت پیش کرتا اور ہمارے پاس کتاب اللہ لے آتا تو یقیناً ہم مخلص مسلمان بن جاتے۔ جیسے اور آیت میں ہے «وَأَقْسَمُوا بِاللَّـهِ جَهْدَ أَيْمَانِهِمْ لَئِن جَاءَهُمْ نَذِيرٌ لَّيَكُونُنَّ أَهْدَىٰ مِنْ إِحْدَى الْأُمَمِ فَلَمَّا جَاءَهُمْ نَذِيرٌ مَّا زَادَهُمْ إِلَّا نُفُورًا» ۱؎ [35-فاطر:42] ، یعنی ’ بڑی پختہ قسمیں کھا کھا کر کہتے تھے کہ اگر کوئی نبی کریم ہماری موجودگی میں آ جائیں تو ہم بڑے نیک بن جائیں گے اور ہدایت کی راہ کی طرف سب سے پہلے دوڑیں گے، لیکن جب نبی اللہ آ گئے تو بھاگ کھڑے ہوئے ‘۔ اور آیت میں فرمایا «أَن تَقُولُوا إِنَّمَا أُنزِلَ الْكِتَابُ عَلَىٰ طَائِفَتَيْنِ مِن قَبْلِنَا وَإِن كُنَّا عَن دِرَاسَتِهِمْ لَغَافِلِينَ» الخ ۱؎ [6-الأنعام:156-157] ، پس یہاں فرمایا کہ ’ جب یہ تمنا پوری ہوئی تو کفر کرنے لگے۔ اب انہیں عنقریب معلوم ہو جائے گا کہ اللہ سے کفر کرنے کا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جھٹلانے کا کیا نتیجہ نکلتا ہے؟‘
166۔ 1 مطلب یہ کہ فرشتے بھی اللہ کی مخلوق اور اس کے خاص بندے ہیں جو ہر وقت اللہ کی عبادت میں اور اس کی تسبیح میں مصروف رہتے ہیں، نہ کہ وہ اللہ کی بیٹیاں ہیں جیسا کہ مشرکین کہتے ہیں۔
(آیت 166){ وَ اِنَّا لَنَحْنُ الْمُسَبِّحُوْنَ۠:} اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «وَ لَهٗ مَنْ فِي السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ مَنْ عِنْدَهٗ لَا يَسْتَكْبِرُوْنَ عَنْ عِبَادَتِهٖ وَ لَا يَسْتَحْسِرُوْنَ (19) يُسَبِّحُوْنَ الَّيْلَ وَ النَّهَارَ لَا يَفْتُرُوْنَ» [ الأنبیاء: ۱۹، ۲۰ ] ”اور اسی کا ہے جو کوئی آسمانوں اور زمین میں ہے اور جو اس کے پاس ہیں وہ نہ اس کی عبادت سے تکبر کرتے ہیں اور نہ تھکتے ہیں۔ وہ رات اور دن تسبیح کرتے ہیں، وقفہ نہیں کرتے۔“
اللہ تعالیٰ مشرکوں سے فرما رہا ہے کہ ’ تمہاری گمراہی اور شرک و کفر کی تعلیم وہی قبول کریں گے جو جہنم کے لیے پیدا کئے گئے ہوں۔ جو عقل سے خالی کانوں سے بہرے اور آنکھوں کے اندھے ہوں جو مثل چوپایوں کے بلکہ ان سے بھی بدرجہا بدتر ہوں ‘ ۱؎ [7-الأعراف:179] ۔ جیسے اور جگہ فرمایا ہے کہ ’ اس سے وہی گمراہ ہو سکتے ہیں جو دماغ کے خالی اور باطل کے شیدائی ہوں ‘ ۱؎ [51-الذاريات:9-8] ۔ ازاں بعد فرشتوں کی برأت اور ان کی تسلی و رضا ایمان و اطاعت کا ذکر فرمایا کہ ’ وہ خود کہتے ہیں کہ ہم میں سے ہر ایک کے لیے ایک مقرر جگہ اور ایک مقام عبادت مخصوص ہے جس سے نہ ہم ہٹ سکتے ہیں نہ اس میں کمی بیشی کر سکتے ہیں ‘۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ { آسمان چر چرا رہا ہے اور واقع میں اسے چر چرانا بھی چاہیئے اس میں ایک قدم رکھنے جتنی جگہ بھی خالی نہیں جہاں کوئی نہ کوئی فرشتہ رکوع سجدے میں پڑا ہوا نہ ہو۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان تینوں آیتوں کی تلاوت کی } ۱؎ [الدر المنشور للسیوطی:539/5:موضوع] ایک روایت میں { آسمان دنیا کا لفظ ہے } ۱؎ [سلسلة احادیث صحیحه البانی:1059،] ۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ایک بالشت بھر جگہ آسمانوں میں ایسی نہیں جہاں پر کسی نہ کسی فرشتے کے قدم یا پیشانی نہ ہو۔
قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں پہلے تو مرد عورت ایک ساتھ نماز پڑھتے تھے لیکن اس آیت کے نزول کے بعد مردوں کو آگے بڑھا دیا گیا اور عورتوں کو پیچھے کر دیا گیا۔ ’ اور ہم سب فرشتے صفہ بستہ عبادت اللہ کی کیا کرتے ہیں‘۔ آیت «وَالصّــٰفّٰتِ صَفًّا» ۱؎ [ 37- الصافات: 1 ] کی تفسیر میں اس کا بیان گذر چکا ہے۔ ولید بن عبداللہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس آیت کے نازل ہونے تک نماز کی صفیں نہیں تھیں پھر صفیں مقرر ہو گئیں۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اقامت کے بعد لوگوں کی طرف منہ کر کے فرماتے تھے ”صفیں ٹھیک درست کرلو سیدھے کھڑے ہو جاؤ اللہ تعالیٰ تم سے بھی فرشتوں کی طرف صف بندی چاہتا ہے۔ جیسے وہ فرماتے ہیں «وَإِنَّا لَنَحْنُ الصَّافُّونَ» “ ۱؎ [37-الصافات:165] ”اے فلاں آگے بڑھ اے فلاں پیچھے ہٹ۔“ پھر آپ رضی اللہ عنہ آگے بڑھ کر نماز شروع کرتے۔ [ابن ابی حاتم] صحیح مسلم میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { ہمیں تین فضیلتیں ایسی دی گئی ہیں جن میں اور کوئی ہمارے ساتھ نہیں۔ ہماری صفیں فرشتوں جیسی بنائی گئیں۔ ہمارے لیے ساری زمین مسجد بنائی گئی اور ہمارے لیے زمین کی مٹی پاک کرنے والی بنائی گئی } }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:522] ’ ہم اللہ کی تسبیح اور پاکی بیان کرنے والے ہیں اس کی بزرگی اور بڑائی بیان کرتے ہیں۔ تمام نقصانوں سے اسے پاک مانتے ہیں۔ ہم سب فرشتے اس کے غلام ہیں اس کے محتاج ہیں اس کے سامنے اپنی پستی اور عاجزی کا اظہار کرنے والے ہیں ‘۔ پس یہ تینوں اوصاف فرشتوں کے ہیں۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ تسبیح کرنے والوں سے مراد نماز پڑھنے والے ہیں۔
اور آیت میں ہے «وَقَالُوا اتَّخَذَ الرَّحْمٰنُ وَلَدًا» ۱؎ [19-مريم:88] ، یعنی ’ کفار نے کہا اللہ کی اولاد ہے ‘، اللہ اس سے پاک ہے البتہ فرشتے اس کے محترم بندے ہیں اس کے فرمان سے آگے نہیں بڑھتے، اس کے احکام پر عمل کرتے ہیں وہ ان کا آگا پیچھا بخوبی جانتا ہے وہ کسی کی شفاعت کا بھی اختیار نہیں رکھتے بجز اس کے جس کے لیے رحمان راضی ہو وہ تو خوف اللہ سے تھرتھراتے رہتے ہیں۔ ان میں سے جو اپنے آپ کو لائق عبادت کہے ہم اسے جہنم میں جھونک دیں ظالموں کی سزا ہمارے ہاں یہی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس آئے، اس سے پہلے تو یہ کہتے تھے کہ اگر ہمارے پاس کوئی آ جائے جو ہمیں اللہ کی راہ کی تعلیم دیتا اور ہمارے سامنے اگلے لوگوں کے واقعات بطور نصیحت پیش کرتا اور ہمارے پاس کتاب اللہ لے آتا تو یقیناً ہم مخلص مسلمان بن جاتے۔ جیسے اور آیت میں ہے «وَأَقْسَمُوا بِاللَّـهِ جَهْدَ أَيْمَانِهِمْ لَئِن جَاءَهُمْ نَذِيرٌ لَّيَكُونُنَّ أَهْدَىٰ مِنْ إِحْدَى الْأُمَمِ فَلَمَّا جَاءَهُمْ نَذِيرٌ مَّا زَادَهُمْ إِلَّا نُفُورًا» ۱؎ [35-فاطر:42] ، یعنی ’ بڑی پختہ قسمیں کھا کھا کر کہتے تھے کہ اگر کوئی نبی کریم ہماری موجودگی میں آ جائیں تو ہم بڑے نیک بن جائیں گے اور ہدایت کی راہ کی طرف سب سے پہلے دوڑیں گے، لیکن جب نبی اللہ آ گئے تو بھاگ کھڑے ہوئے ‘۔ اور آیت میں فرمایا «أَن تَقُولُوا إِنَّمَا أُنزِلَ الْكِتَابُ عَلَىٰ طَائِفَتَيْنِ مِن قَبْلِنَا وَإِن كُنَّا عَن دِرَاسَتِهِمْ لَغَافِلِينَ» الخ ۱؎ [6-الأنعام:156-157] ، پس یہاں فرمایا کہ ’ جب یہ تمنا پوری ہوئی تو کفر کرنے لگے۔ اب انہیں عنقریب معلوم ہو جائے گا کہ اللہ سے کفر کرنے کا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جھٹلانے کا کیا نتیجہ نکلتا ہے؟‘
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 167تا170){” وَ اِنْ كَانُوْا لَيَقُوْلُوْنَ “} اصل میں {”وَ إِنَّهُمْ كَانُوْا يَقُوْلُوْنَ“} تھا۔ دلیل اس کی {” لَيَقُوْلُوْنَ “} پر آنے والا لام ہے، جس کی وجہ سے {”إِنَّ“} کو {”إِنْ“} کر دیا اور {”هُمْ“} کو حذف کر دیا۔ ان آیات کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورۂ فاطر (۴۲) اور سورۂ انعام (۱۵۶، ۱۵۷) یعنی یہ لوگ کہا کرتے تھے کہ گزشتہ لوگوں کی طرح ہمارے پاس کوئی پیغمبر آتا، یا ہم پر اللہ کی طرف سے کوئی کتاب نازل ہوتی تو ہم اللہ کے چنے ہوئے بندے ہوتے۔ مگر جب یہ کتاب ان کے پاس آ گئی تو انھوں نے اسے قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ اب اس انکار کا نتیجہ وہ بہت جلدی جان لیں گے۔
کہ کاش ہمارے پاس وہ "ذکر" ہوتا جو پچھلی قوموں کو ملا تھا
مولانا محمد جوناگڑھی
کہ اگر ہمارے سامنے اگلے لوگوں کا ذکر ہوتا
احمد رضا خان بریلوی
اگر ہمارے پاس اگلوں کی کوئی نصیحت ہوتی
علامہ محمد حسین نجفی
تو اگر ہمارے پاس پہلے والے لوگوں کی طرح کوئی نصیحت (والی کتاب) ہوتی۔
عبدالسلام بن محمد
اگر ہمارے پاس پہلے لوگوں کی کوئی نصیحت ہوتی۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
فرشتوں کے اوصاف ٭٭
اللہ تعالیٰ مشرکوں سے فرما رہا ہے کہ ’ تمہاری گمراہی اور شرک و کفر کی تعلیم وہی قبول کریں گے جو جہنم کے لیے پیدا کئے گئے ہوں۔ جو عقل سے خالی کانوں سے بہرے اور آنکھوں کے اندھے ہوں جو مثل چوپایوں کے بلکہ ان سے بھی بدرجہا بدتر ہوں ‘ ۱؎ [7-الأعراف:179] ۔ جیسے اور جگہ فرمایا ہے کہ ’ اس سے وہی گمراہ ہو سکتے ہیں جو دماغ کے خالی اور باطل کے شیدائی ہوں ‘ ۱؎ [51-الذاريات:9-8] ۔ ازاں بعد فرشتوں کی برأت اور ان کی تسلی و رضا ایمان و اطاعت کا ذکر فرمایا کہ ’ وہ خود کہتے ہیں کہ ہم میں سے ہر ایک کے لیے ایک مقرر جگہ اور ایک مقام عبادت مخصوص ہے جس سے نہ ہم ہٹ سکتے ہیں نہ اس میں کمی بیشی کر سکتے ہیں ‘۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ { آسمان چر چرا رہا ہے اور واقع میں اسے چر چرانا بھی چاہیئے اس میں ایک قدم رکھنے جتنی جگہ بھی خالی نہیں جہاں کوئی نہ کوئی فرشتہ رکوع سجدے میں پڑا ہوا نہ ہو۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان تینوں آیتوں کی تلاوت کی } ۱؎ [الدر المنشور للسیوطی:539/5:موضوع] ایک روایت میں { آسمان دنیا کا لفظ ہے } ۱؎ [سلسلة احادیث صحیحه البانی:1059،] ۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ایک بالشت بھر جگہ آسمانوں میں ایسی نہیں جہاں پر کسی نہ کسی فرشتے کے قدم یا پیشانی نہ ہو۔
قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں پہلے تو مرد عورت ایک ساتھ نماز پڑھتے تھے لیکن اس آیت کے نزول کے بعد مردوں کو آگے بڑھا دیا گیا اور عورتوں کو پیچھے کر دیا گیا۔ ’ اور ہم سب فرشتے صفہ بستہ عبادت اللہ کی کیا کرتے ہیں‘۔ آیت «وَالصّــٰفّٰتِ صَفًّا» ۱؎ [ 37- الصافات: 1 ] کی تفسیر میں اس کا بیان گذر چکا ہے۔ ولید بن عبداللہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس آیت کے نازل ہونے تک نماز کی صفیں نہیں تھیں پھر صفیں مقرر ہو گئیں۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اقامت کے بعد لوگوں کی طرف منہ کر کے فرماتے تھے ”صفیں ٹھیک درست کرلو سیدھے کھڑے ہو جاؤ اللہ تعالیٰ تم سے بھی فرشتوں کی طرف صف بندی چاہتا ہے۔ جیسے وہ فرماتے ہیں «وَإِنَّا لَنَحْنُ الصَّافُّونَ» “ ۱؎ [37-الصافات:165] ”اے فلاں آگے بڑھ اے فلاں پیچھے ہٹ۔“ پھر آپ رضی اللہ عنہ آگے بڑھ کر نماز شروع کرتے۔ [ابن ابی حاتم] صحیح مسلم میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { ہمیں تین فضیلتیں ایسی دی گئی ہیں جن میں اور کوئی ہمارے ساتھ نہیں۔ ہماری صفیں فرشتوں جیسی بنائی گئیں۔ ہمارے لیے ساری زمین مسجد بنائی گئی اور ہمارے لیے زمین کی مٹی پاک کرنے والی بنائی گئی } }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:522] ’ ہم اللہ کی تسبیح اور پاکی بیان کرنے والے ہیں اس کی بزرگی اور بڑائی بیان کرتے ہیں۔ تمام نقصانوں سے اسے پاک مانتے ہیں۔ ہم سب فرشتے اس کے غلام ہیں اس کے محتاج ہیں اس کے سامنے اپنی پستی اور عاجزی کا اظہار کرنے والے ہیں ‘۔ پس یہ تینوں اوصاف فرشتوں کے ہیں۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ تسبیح کرنے والوں سے مراد نماز پڑھنے والے ہیں۔
اور آیت میں ہے «وَقَالُوا اتَّخَذَ الرَّحْمٰنُ وَلَدًا» ۱؎ [19-مريم:88] ، یعنی ’ کفار نے کہا اللہ کی اولاد ہے ‘، اللہ اس سے پاک ہے البتہ فرشتے اس کے محترم بندے ہیں اس کے فرمان سے آگے نہیں بڑھتے، اس کے احکام پر عمل کرتے ہیں وہ ان کا آگا پیچھا بخوبی جانتا ہے وہ کسی کی شفاعت کا بھی اختیار نہیں رکھتے بجز اس کے جس کے لیے رحمان راضی ہو وہ تو خوف اللہ سے تھرتھراتے رہتے ہیں۔ ان میں سے جو اپنے آپ کو لائق عبادت کہے ہم اسے جہنم میں جھونک دیں ظالموں کی سزا ہمارے ہاں یہی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس آئے، اس سے پہلے تو یہ کہتے تھے کہ اگر ہمارے پاس کوئی آ جائے جو ہمیں اللہ کی راہ کی تعلیم دیتا اور ہمارے سامنے اگلے لوگوں کے واقعات بطور نصیحت پیش کرتا اور ہمارے پاس کتاب اللہ لے آتا تو یقیناً ہم مخلص مسلمان بن جاتے۔ جیسے اور آیت میں ہے «وَأَقْسَمُوا بِاللَّـهِ جَهْدَ أَيْمَانِهِمْ لَئِن جَاءَهُمْ نَذِيرٌ لَّيَكُونُنَّ أَهْدَىٰ مِنْ إِحْدَى الْأُمَمِ فَلَمَّا جَاءَهُمْ نَذِيرٌ مَّا زَادَهُمْ إِلَّا نُفُورًا» ۱؎ [35-فاطر:42] ، یعنی ’ بڑی پختہ قسمیں کھا کھا کر کہتے تھے کہ اگر کوئی نبی کریم ہماری موجودگی میں آ جائیں تو ہم بڑے نیک بن جائیں گے اور ہدایت کی راہ کی طرف سب سے پہلے دوڑیں گے، لیکن جب نبی اللہ آ گئے تو بھاگ کھڑے ہوئے ‘۔ اور آیت میں فرمایا «أَن تَقُولُوا إِنَّمَا أُنزِلَ الْكِتَابُ عَلَىٰ طَائِفَتَيْنِ مِن قَبْلِنَا وَإِن كُنَّا عَن دِرَاسَتِهِمْ لَغَافِلِينَ» الخ ۱؎ [6-الأنعام:156-157] ، پس یہاں فرمایا کہ ’ جب یہ تمنا پوری ہوئی تو کفر کرنے لگے۔ اب انہیں عنقریب معلوم ہو جائے گا کہ اللہ سے کفر کرنے کا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جھٹلانے کا کیا نتیجہ نکلتا ہے؟‘
اللہ تعالیٰ مشرکوں سے فرما رہا ہے کہ ’ تمہاری گمراہی اور شرک و کفر کی تعلیم وہی قبول کریں گے جو جہنم کے لیے پیدا کئے گئے ہوں۔ جو عقل سے خالی کانوں سے بہرے اور آنکھوں کے اندھے ہوں جو مثل چوپایوں کے بلکہ ان سے بھی بدرجہا بدتر ہوں ‘ ۱؎ [7-الأعراف:179] ۔ جیسے اور جگہ فرمایا ہے کہ ’ اس سے وہی گمراہ ہو سکتے ہیں جو دماغ کے خالی اور باطل کے شیدائی ہوں ‘ ۱؎ [51-الذاريات:9-8] ۔ ازاں بعد فرشتوں کی برأت اور ان کی تسلی و رضا ایمان و اطاعت کا ذکر فرمایا کہ ’ وہ خود کہتے ہیں کہ ہم میں سے ہر ایک کے لیے ایک مقرر جگہ اور ایک مقام عبادت مخصوص ہے جس سے نہ ہم ہٹ سکتے ہیں نہ اس میں کمی بیشی کر سکتے ہیں ‘۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ { آسمان چر چرا رہا ہے اور واقع میں اسے چر چرانا بھی چاہیئے اس میں ایک قدم رکھنے جتنی جگہ بھی خالی نہیں جہاں کوئی نہ کوئی فرشتہ رکوع سجدے میں پڑا ہوا نہ ہو۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان تینوں آیتوں کی تلاوت کی } ۱؎ [الدر المنشور للسیوطی:539/5:موضوع] ایک روایت میں { آسمان دنیا کا لفظ ہے } ۱؎ [سلسلة احادیث صحیحه البانی:1059،] ۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ایک بالشت بھر جگہ آسمانوں میں ایسی نہیں جہاں پر کسی نہ کسی فرشتے کے قدم یا پیشانی نہ ہو۔
قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں پہلے تو مرد عورت ایک ساتھ نماز پڑھتے تھے لیکن اس آیت کے نزول کے بعد مردوں کو آگے بڑھا دیا گیا اور عورتوں کو پیچھے کر دیا گیا۔ ’ اور ہم سب فرشتے صفہ بستہ عبادت اللہ کی کیا کرتے ہیں‘۔ آیت «وَالصّــٰفّٰتِ صَفًّا» ۱؎ [ 37- الصافات: 1 ] کی تفسیر میں اس کا بیان گذر چکا ہے۔ ولید بن عبداللہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس آیت کے نازل ہونے تک نماز کی صفیں نہیں تھیں پھر صفیں مقرر ہو گئیں۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اقامت کے بعد لوگوں کی طرف منہ کر کے فرماتے تھے ”صفیں ٹھیک درست کرلو سیدھے کھڑے ہو جاؤ اللہ تعالیٰ تم سے بھی فرشتوں کی طرف صف بندی چاہتا ہے۔ جیسے وہ فرماتے ہیں «وَإِنَّا لَنَحْنُ الصَّافُّونَ» “ ۱؎ [37-الصافات:165] ”اے فلاں آگے بڑھ اے فلاں پیچھے ہٹ۔“ پھر آپ رضی اللہ عنہ آگے بڑھ کر نماز شروع کرتے۔ [ابن ابی حاتم] صحیح مسلم میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { ہمیں تین فضیلتیں ایسی دی گئی ہیں جن میں اور کوئی ہمارے ساتھ نہیں۔ ہماری صفیں فرشتوں جیسی بنائی گئیں۔ ہمارے لیے ساری زمین مسجد بنائی گئی اور ہمارے لیے زمین کی مٹی پاک کرنے والی بنائی گئی } }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:522] ’ ہم اللہ کی تسبیح اور پاکی بیان کرنے والے ہیں اس کی بزرگی اور بڑائی بیان کرتے ہیں۔ تمام نقصانوں سے اسے پاک مانتے ہیں۔ ہم سب فرشتے اس کے غلام ہیں اس کے محتاج ہیں اس کے سامنے اپنی پستی اور عاجزی کا اظہار کرنے والے ہیں ‘۔ پس یہ تینوں اوصاف فرشتوں کے ہیں۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ تسبیح کرنے والوں سے مراد نماز پڑھنے والے ہیں۔
اور آیت میں ہے «وَقَالُوا اتَّخَذَ الرَّحْمٰنُ وَلَدًا» ۱؎ [19-مريم:88] ، یعنی ’ کفار نے کہا اللہ کی اولاد ہے ‘، اللہ اس سے پاک ہے البتہ فرشتے اس کے محترم بندے ہیں اس کے فرمان سے آگے نہیں بڑھتے، اس کے احکام پر عمل کرتے ہیں وہ ان کا آگا پیچھا بخوبی جانتا ہے وہ کسی کی شفاعت کا بھی اختیار نہیں رکھتے بجز اس کے جس کے لیے رحمان راضی ہو وہ تو خوف اللہ سے تھرتھراتے رہتے ہیں۔ ان میں سے جو اپنے آپ کو لائق عبادت کہے ہم اسے جہنم میں جھونک دیں ظالموں کی سزا ہمارے ہاں یہی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس آئے، اس سے پہلے تو یہ کہتے تھے کہ اگر ہمارے پاس کوئی آ جائے جو ہمیں اللہ کی راہ کی تعلیم دیتا اور ہمارے سامنے اگلے لوگوں کے واقعات بطور نصیحت پیش کرتا اور ہمارے پاس کتاب اللہ لے آتا تو یقیناً ہم مخلص مسلمان بن جاتے۔ جیسے اور آیت میں ہے «وَأَقْسَمُوا بِاللَّـهِ جَهْدَ أَيْمَانِهِمْ لَئِن جَاءَهُمْ نَذِيرٌ لَّيَكُونُنَّ أَهْدَىٰ مِنْ إِحْدَى الْأُمَمِ فَلَمَّا جَاءَهُمْ نَذِيرٌ مَّا زَادَهُمْ إِلَّا نُفُورًا» ۱؎ [35-فاطر:42] ، یعنی ’ بڑی پختہ قسمیں کھا کھا کر کہتے تھے کہ اگر کوئی نبی کریم ہماری موجودگی میں آ جائیں تو ہم بڑے نیک بن جائیں گے اور ہدایت کی راہ کی طرف سب سے پہلے دوڑیں گے، لیکن جب نبی اللہ آ گئے تو بھاگ کھڑے ہوئے ‘۔ اور آیت میں فرمایا «أَن تَقُولُوا إِنَّمَا أُنزِلَ الْكِتَابُ عَلَىٰ طَائِفَتَيْنِ مِن قَبْلِنَا وَإِن كُنَّا عَن دِرَاسَتِهِمْ لَغَافِلِينَ» الخ ۱؎ [6-الأنعام:156-157] ، پس یہاں فرمایا کہ ’ جب یہ تمنا پوری ہوئی تو کفر کرنے لگے۔ اب انہیں عنقریب معلوم ہو جائے گا کہ اللہ سے کفر کرنے کا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جھٹلانے کا کیا نتیجہ نکلتا ہے؟‘
169۔ 1 ذکر سے مراد کوئی کتاب الٰہی یا پیغمبر ہے، یعنی یہ کفار نزول قرآن سے پہلے کہا کرتے تھے کہ ہمارے پاس بھی کوئی آسمانی کتاب ہوتی، جس طرح پہلے لوگوں پر تورات وغیرہ نازل ہوئیں یا کوئی ہاوی ہمیں وعظ و نصیحت کرنے والا ہوتا، تو ہم بھی اللہ کے خالص بندے بن جاتے۔
مگر (جب وہ آ گیا) تو انہوں نے اس کا انکار کر دیا اب عنقریب اِنہیں (اِس روش کا نتیجہ) معلوم ہو جائے گا
مولانا محمد جوناگڑھی
لیکن پھر اس قرآن کے ساتھ کفر کر گئے، پس اب عنقریب جان لیں گے
احمد رضا خان بریلوی
تو اس کے منکر ہوئے تو عنقریب جان لیں گے
علامہ محمد حسین نجفی
اور جب وہ (کتاب آئی) تو اس کا انکار کر دیا سو عنقریب (اس کا انجام) معلوم کر لیں گے۔
عبدالسلام بن محمد
تو انھوں نے اس کا انکار کر دیا، سو جلد ہی جان لیں گے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
فرشتوں کے اوصاف ٭٭
اللہ تعالیٰ مشرکوں سے فرما رہا ہے کہ ’ تمہاری گمراہی اور شرک و کفر کی تعلیم وہی قبول کریں گے جو جہنم کے لیے پیدا کئے گئے ہوں۔ جو عقل سے خالی کانوں سے بہرے اور آنکھوں کے اندھے ہوں جو مثل چوپایوں کے بلکہ ان سے بھی بدرجہا بدتر ہوں ‘ ۱؎ [7-الأعراف:179] ۔ جیسے اور جگہ فرمایا ہے کہ ’ اس سے وہی گمراہ ہو سکتے ہیں جو دماغ کے خالی اور باطل کے شیدائی ہوں ‘ ۱؎ [51-الذاريات:9-8] ۔ ازاں بعد فرشتوں کی برأت اور ان کی تسلی و رضا ایمان و اطاعت کا ذکر فرمایا کہ ’ وہ خود کہتے ہیں کہ ہم میں سے ہر ایک کے لیے ایک مقرر جگہ اور ایک مقام عبادت مخصوص ہے جس سے نہ ہم ہٹ سکتے ہیں نہ اس میں کمی بیشی کر سکتے ہیں ‘۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ { آسمان چر چرا رہا ہے اور واقع میں اسے چر چرانا بھی چاہیئے اس میں ایک قدم رکھنے جتنی جگہ بھی خالی نہیں جہاں کوئی نہ کوئی فرشتہ رکوع سجدے میں پڑا ہوا نہ ہو۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان تینوں آیتوں کی تلاوت کی } ۱؎ [الدر المنشور للسیوطی:539/5:موضوع] ایک روایت میں { آسمان دنیا کا لفظ ہے } ۱؎ [سلسلة احادیث صحیحه البانی:1059،] ۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ایک بالشت بھر جگہ آسمانوں میں ایسی نہیں جہاں پر کسی نہ کسی فرشتے کے قدم یا پیشانی نہ ہو۔
قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں پہلے تو مرد عورت ایک ساتھ نماز پڑھتے تھے لیکن اس آیت کے نزول کے بعد مردوں کو آگے بڑھا دیا گیا اور عورتوں کو پیچھے کر دیا گیا۔ ’ اور ہم سب فرشتے صفہ بستہ عبادت اللہ کی کیا کرتے ہیں‘۔ آیت «وَالصّــٰفّٰتِ صَفًّا» ۱؎ [ 37- الصافات: 1 ] کی تفسیر میں اس کا بیان گذر چکا ہے۔ ولید بن عبداللہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس آیت کے نازل ہونے تک نماز کی صفیں نہیں تھیں پھر صفیں مقرر ہو گئیں۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اقامت کے بعد لوگوں کی طرف منہ کر کے فرماتے تھے ”صفیں ٹھیک درست کرلو سیدھے کھڑے ہو جاؤ اللہ تعالیٰ تم سے بھی فرشتوں کی طرف صف بندی چاہتا ہے۔ جیسے وہ فرماتے ہیں «وَإِنَّا لَنَحْنُ الصَّافُّونَ» “ ۱؎ [37-الصافات:165] ”اے فلاں آگے بڑھ اے فلاں پیچھے ہٹ۔“ پھر آپ رضی اللہ عنہ آگے بڑھ کر نماز شروع کرتے۔ [ابن ابی حاتم] صحیح مسلم میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { ہمیں تین فضیلتیں ایسی دی گئی ہیں جن میں اور کوئی ہمارے ساتھ نہیں۔ ہماری صفیں فرشتوں جیسی بنائی گئیں۔ ہمارے لیے ساری زمین مسجد بنائی گئی اور ہمارے لیے زمین کی مٹی پاک کرنے والی بنائی گئی } }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:522] ’ ہم اللہ کی تسبیح اور پاکی بیان کرنے والے ہیں اس کی بزرگی اور بڑائی بیان کرتے ہیں۔ تمام نقصانوں سے اسے پاک مانتے ہیں۔ ہم سب فرشتے اس کے غلام ہیں اس کے محتاج ہیں اس کے سامنے اپنی پستی اور عاجزی کا اظہار کرنے والے ہیں ‘۔ پس یہ تینوں اوصاف فرشتوں کے ہیں۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ تسبیح کرنے والوں سے مراد نماز پڑھنے والے ہیں۔
اور آیت میں ہے «وَقَالُوا اتَّخَذَ الرَّحْمٰنُ وَلَدًا» ۱؎ [19-مريم:88] ، یعنی ’ کفار نے کہا اللہ کی اولاد ہے ‘، اللہ اس سے پاک ہے البتہ فرشتے اس کے محترم بندے ہیں اس کے فرمان سے آگے نہیں بڑھتے، اس کے احکام پر عمل کرتے ہیں وہ ان کا آگا پیچھا بخوبی جانتا ہے وہ کسی کی شفاعت کا بھی اختیار نہیں رکھتے بجز اس کے جس کے لیے رحمان راضی ہو وہ تو خوف اللہ سے تھرتھراتے رہتے ہیں۔ ان میں سے جو اپنے آپ کو لائق عبادت کہے ہم اسے جہنم میں جھونک دیں ظالموں کی سزا ہمارے ہاں یہی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس آئے، اس سے پہلے تو یہ کہتے تھے کہ اگر ہمارے پاس کوئی آ جائے جو ہمیں اللہ کی راہ کی تعلیم دیتا اور ہمارے سامنے اگلے لوگوں کے واقعات بطور نصیحت پیش کرتا اور ہمارے پاس کتاب اللہ لے آتا تو یقیناً ہم مخلص مسلمان بن جاتے۔ جیسے اور آیت میں ہے «وَأَقْسَمُوا بِاللَّـهِ جَهْدَ أَيْمَانِهِمْ لَئِن جَاءَهُمْ نَذِيرٌ لَّيَكُونُنَّ أَهْدَىٰ مِنْ إِحْدَى الْأُمَمِ فَلَمَّا جَاءَهُمْ نَذِيرٌ مَّا زَادَهُمْ إِلَّا نُفُورًا» ۱؎ [35-فاطر:42] ، یعنی ’ بڑی پختہ قسمیں کھا کھا کر کہتے تھے کہ اگر کوئی نبی کریم ہماری موجودگی میں آ جائیں تو ہم بڑے نیک بن جائیں گے اور ہدایت کی راہ کی طرف سب سے پہلے دوڑیں گے، لیکن جب نبی اللہ آ گئے تو بھاگ کھڑے ہوئے ‘۔ اور آیت میں فرمایا «أَن تَقُولُوا إِنَّمَا أُنزِلَ الْكِتَابُ عَلَىٰ طَائِفَتَيْنِ مِن قَبْلِنَا وَإِن كُنَّا عَن دِرَاسَتِهِمْ لَغَافِلِينَ» الخ ۱؎ [6-الأنعام:156-157] ، پس یہاں فرمایا کہ ’ جب یہ تمنا پوری ہوئی تو کفر کرنے لگے۔ اب انہیں عنقریب معلوم ہو جائے گا کہ اللہ سے کفر کرنے کا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جھٹلانے کا کیا نتیجہ نکلتا ہے؟‘
170۔ 1 یہ تنبہہ ہے کہ جھٹلانے کا انجام عنقریب ان کو معلوم ہوجائے گا۔
اپنے بھیجے ہوئے بندوں سے ہم پہلے ہی وعدہ کر چکے ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
اور البتہ ہمارا وعده پہلے ہی اپنے رسولوں کے لئے صادر ہو چکا ہے
احمد رضا خان بریلوی
اور بیشک ہمارا کلام گزر چکا ہے ہمارے بھیجے ہوئے بندوں کے لیے،
علامہ محمد حسین نجفی
اور ہمارا وعدہ پہلے ہو چکا ہے اپنے ان بندوں کے ساتھ جو رسول ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
اور بلاشبہ یقینا ہمارے بھیجے ہوئے بندوں کے لیے ہماری بات پہلے طے ہو چکی۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
عذاب الٰہی آ کر رہے گا ٭٭
ارشاد باری ہے کہ ہم تو اگلی کتابوں میں بھی لکھ آئے ہیں پہلے نبیوں کی زبانی بھی دنیا کو سنا چکے ہیں کہ دنیا اور آخرت میں ہمارے رسول اور ان کے تابعداروں ہی کا انجام بہتر ہوتا ہے جیسے فرمایا «كَتَبَ اللّٰهُ لَاَغْلِبَنَّ اَنَا وَرُسُلِيْ ۭ اِنَّ اللّٰهَ قَوِيٌّ عَزِيْزٌ» ۱؎ [58-المجادلة:21] ، اور فرمایا «اِنَّا لَنَنْصُرُ رُسُلَنَا وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا وَيَوْمَ يَقُوْمُ الْاَشْهَادُ» ۱؎ [40-غافر:51] ، یعنی ’ میں، میرے رسول اور ایماندار ہی دونوں جہان میں غالب رہیں گے ‘۔ یہاں بھی یہی فرمایا کہ ’ رسولوں سے ہمارا وعدہ ہو چکا ہے۔ کہ وہ منصور ہیں۔ ہم خود ان کی مدد کریں گے۔ دیکھتے چلے آؤ کہ ان کے دشمن کس طرح خاک میں ملا دیئے گئے؟ یاد رکھو ہمارا لشکر ہی غالب رہے گا۔ انجام کار انہی کے ہاتھ رہے گا۔ تو ایک وقت مقررہ تک صبر و استقامت سے معاملہ دیکھتا رہ ان کی ایذاؤں پر صبر کر ہم تجھے ان سب پر غالب کر دیں گے۔ دنیا نے دیکھ لیا کہ یہی ہوا بھی تو انہیں دیکھتا رہ کہ کس طرح اللہ کی پکڑ ان پر نازل ہوتی ہے؟ اور کس طرح یہ ذلت و توہین کے ساتھ پکڑ لیے جاتے ہیں؟ یہ خود ان تمام رسوائیوں کو ابھی ابھی دیکھ لیں گے۔ تعجب سا تعجب ہے کہ یہ طرح طرح کے چھوٹے چھوٹے عذابوں کی گرفت کے باوجود ابھی تک بڑے عذاب کو محال جانتے ہوئے کہتے ہیں کہ وہ کب آئے گا؟ ‘ پس انہیں جواب ملتا ہے کہ ’ جب عذاب ان کے میدانوں میں، محلوں میں، انگنائیوں میں آئے گا وہ دن ان پر بڑا ہی بھاری دن ہو گا۔ یہ ہلاک اور برباد کر دیئے جائیں گے ‘۔
صحیح بخاری شریف میں ہے کہ { خیبر کے میدانوں میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا لشکر صبح ہی صبح کفار کی بے خبری میں پہنچ گیا وہ لوگ حسب عادت اپنی کھیتیوں کے آلات لے کر شہر سے نکلے اور اس اللہ کی فوج کو دیکھ کر بھاگے اور شہر والوں کو خبر کی، اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی فرمایا کہ { اللہ بہت بڑا ہے خیبر خراب ہوا۔ ہم جب کسی قوم کے میدان میں اتر آتے ہیں اس وقت ان کی درگت ہوتی ہے } }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:371] پھر دوبارہ پہلے حکم کی تاکید کی کہ ’ تو ان سے ایک مدت معین تک کے لیے بے پرواہ ہو جا اور انہیں چھوڑ دے اور دیکھتا رہ یہ بھی دیکھ لیں گے ‘۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 171تا173) ➊ { وَ لَقَدْ سَبَقَتْ كَلِمَتُنَا …:} پچھلی آیت میں کفار کو ان کے انکار کا نتیجہ بہت جلدی دیکھ لینے کی دھمکی دی تھی، اب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حوصلہ اور تسلی دینے کے لیے فرمایا کہ ہمارے ان بندوں کے لیے، جنھیں ہم اپنا رسول بنا کر بھیجتے ہیں، ہماری یہ بات پہلے طے ہو چکی ہے کہ انھی کی مدد کی جائے گی اور صرف انھی کی نہیں بلکہ ان کے اور ان کے پیروکاروں کی صورت میں ہمارا جو بھی لشکر ہو گا وہی غالب رہیں گے۔ اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان بھی ہے: «كَتَبَ اللّٰهُ لَاَغْلِبَنَّ اَنَا وَ رُسُلِيْ اِنَّ اللّٰهَ قَوِيٌّ عَزِيْزٌ» [ المجادلۃ: ۲۱ ] ”اللہ نے لکھ دیا ہے کہ ضرور بالضرور میں غالب رہوں گا اور میرے رسول، یقینا اللہ بڑی قوت والا، سب پر غالب ہے۔“ اور فرمایا: «اِنَّا لَنَنْصُرُ رُسُلَنَا وَ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا وَ يَوْمَ يَقُوْمُ الْاَشْهَادُ» [ المؤمن: ۵۱ ] ”بے شک ہم اپنے رسولوں کی اور ان لوگوں کی جو ایمان لائے ضرور مدد کرتے ہیں دنیا کی زندگی میں اور اس دن بھی جب گواہ کھڑے ہوں گے۔“ ➋ { اِنَّهُمْ لَهُمُ الْمَنْصُوْرُوْنَ: } اس آیت میں صرف اللہ کے رسولوں کے منصور ہونے کی تاکید کئی طرح سے فرمائی ہے، پہلے ضمیر {”هُمْ“} کی تاکید دوبارہ {”هُمْ“} لا کر فرمائی، پھر اس پر ”لام“ کے ساتھ مزید تاکید فرمائی، پھر خبر پر الف لام لا کر {” الْمَنْصُوْرُوْنَ “} فرمایا، اس سے بھی کلام میں حصر پیدا ہوتا ہے۔ خلاصہ یہ کہ ہر حال میں انھی کی نصرت ہو گی، ان کے مقابلے میں دوسروں کی نہیں اور ہر حال میں رسول اور ان کے پیروکار ہی غالب رہیں گے۔ ➌ یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ بعض اوقات انبیاء اور اہل ایمان پر کفار بھی غالب آ جاتے ہیں، جیسا کہ صحیح بخاری میں ابوسفیان سے ہرقل کا سوال مذکور ہے کہ نبوت کا دعویٰ کرنے والے اس آدمی سے کبھی تمھاری جنگ بھی ہوئی ہے، اگر ہوئی ہے تو اس کا نتیجہ کیا رہا؟ تو اس نے جواب دیا: [ كَانَتْ دُوَلاً وَ سِجَالاً، يُدَالُ عَلَيْنَا الْمَرَّةَ وَنُدَالُ عَلَيْهِ الْأُخْرٰی] ”جنگ باریوں کی صورت میں رہی، کبھی وہ ہم پر غالب رہا اور کبھی ہم اس پر غالب رہے۔“ اس سوال کا بہترین جواب تو وہ ہے جو ہرقل نے تمام سوالوں کا جواب سننے کے بعد اپنے تبصرے میں دیا، اس نے کہا: [ وَ سَأَلْتُكَ هَلْ قَاتَلْتُمُوْهُ وَ قَاتَلَكُمْ فَزَعَمْتَ أَنْ قَدْ فَعَلَ، وَ أَنَّ حَرْبَكُمْ وَ حَرْبَهُ تَكُوْنُ دُوَلاً، وَ يُدَالُ عَلَيْكُمُ الْمَرَّةَ وَ تُدَالُوْنَ عَلَيْهِ الْأُخْرٰی، وَكَذٰلِكَ الرُّسُلُ تُبْتَلٰی، وَ تَكُوْنُ لَهَا الْعَاقِبَةُ ] [ بخاري، الجہاد والسیر، باب دعاء النبي صلی اللہ علیہ وسلم إلی الإسلام والنبوۃ…: ۲۹۴۱، ۴۵۵۳، عن ابن عباس رضی اللہ عنھما ] ”اور میں نے تم سے پوچھا کہ کیا تم نے اس سے اور اس نے تم سے جنگ کی ہے، تو تم نے بتایا کہ ہاں کی ہے اور تمھاری اور اس کی لڑائی باریوں کی صورت میں رہی، کسی بار وہ تم پر غالب آ تا رہا اور کسی دوسری بار تم غالب آتے رہے اور رسولوں کی اسی طرح آزمائش کی جاتی ہے اور آخری نتیجہ انھی کے حق میں ہوتا ہے۔“ حقیقت یہ ہے کہ نصرت و غلبہ دنیا میں بعض اوقات دلیل اور حجت کے لحاظ سے ہوتا ہے، بعض اوقات فتح اور حکومت ملنے کے ساتھ اور کبھی اپنے موقف پر ثابت اور قائم رہنے کے ساتھ۔ چنانچہ اگر مومن بعض اوقات اپنے دنیوی حالات کی کمزوری کی وجہ سے مغلوب ہو جائے تب بھی دلیل میں اور اپنے ایمان پر ثابت رہنے کی وجہ سے غالب وہی ہے اور آخری نتیجہ اسی کے حق میں ہو گا، جیسا کہ ہرقل نے کہا۔ وہ شہید بھی ہو جائے تو ہمیشہ نعمت کی زندگی کے حصول میں کامیاب ہو گیا اور یقینا ایک وقت آنے والا ہے جب اہل ایمان کی کفار پر برتری سامنے آ جائے گی، فرمایا: «فَالْيَوْمَ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مِنَ الْكُفَّارِ يَضْحَكُوْنَ (34) عَلَى الْاَرَآىِٕكِ يَنْظُرُوْنَ (35) هَلْ ثُوِّبَ الْكُفَّارُ مَا كَانُوْا يَفْعَلُوْنَ» [ المطففین: ۳۴ تا ۳۶ ] ” سو آج وہ لوگ جو ایمان لائے، کافروں پر ہنس رہے ہیں۔ تختوں پر (بیٹھے) نظارہ کر رہے ہیں۔ کیا کافروں کو اس کا بدلا دیا گیا جو وہ کیا کرتے تھے؟“ اور اللہ تعالیٰ نے بھی دنیا اور آخرت دونوں کا ذکر فرمایا ہے: «اِنَّا لَنَنْصُرُ رُسُلَنَا وَ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا وَ يَوْمَ يَقُوْمُ الْاَشْهَادُ» [ المؤمن: ۵۱ ] ” بے شک ہم اپنے رسولوں کی اور ان لوگوں کی جو ایمان لائے ضرور مدد کرتے ہیں دنیا کی زندگی میں اور اس دن بھی جب گواہ کھڑے ہوں گے۔“ رہا دنیا میں مسلمانوں کا بعض اوقات شکست سے دو چار ہونا، تو جیسا کہ ہرقل نے کہا، یہ اللہ تعالیٰ کی ابتلا اور آزمائش کی حکمت کی وجہ سے ہے۔ اگر دنیا میں ہمیشہ مسلمان ہی فتح یاب ہوں تو امتحان کا معاملہ ہی ختم ہو جاتا ہے۔ دیکھیے سورۂ بقرہ (124)، آل عمران (۱۴۲) اور سورۂ توبہ (۱۶)۔
ارشاد باری ہے کہ ہم تو اگلی کتابوں میں بھی لکھ آئے ہیں پہلے نبیوں کی زبانی بھی دنیا کو سنا چکے ہیں کہ دنیا اور آخرت میں ہمارے رسول اور ان کے تابعداروں ہی کا انجام بہتر ہوتا ہے جیسے فرمایا «كَتَبَ اللّٰهُ لَاَغْلِبَنَّ اَنَا وَرُسُلِيْ ۭ اِنَّ اللّٰهَ قَوِيٌّ عَزِيْزٌ» ۱؎ [58-المجادلة:21] ، اور فرمایا «اِنَّا لَنَنْصُرُ رُسُلَنَا وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا وَيَوْمَ يَقُوْمُ الْاَشْهَادُ» ۱؎ [40-غافر:51] ، یعنی ’ میں، میرے رسول اور ایماندار ہی دونوں جہان میں غالب رہیں گے ‘۔ یہاں بھی یہی فرمایا کہ ’ رسولوں سے ہمارا وعدہ ہو چکا ہے۔ کہ وہ منصور ہیں۔ ہم خود ان کی مدد کریں گے۔ دیکھتے چلے آؤ کہ ان کے دشمن کس طرح خاک میں ملا دیئے گئے؟ یاد رکھو ہمارا لشکر ہی غالب رہے گا۔ انجام کار انہی کے ہاتھ رہے گا۔ تو ایک وقت مقررہ تک صبر و استقامت سے معاملہ دیکھتا رہ ان کی ایذاؤں پر صبر کر ہم تجھے ان سب پر غالب کر دیں گے۔ دنیا نے دیکھ لیا کہ یہی ہوا بھی تو انہیں دیکھتا رہ کہ کس طرح اللہ کی پکڑ ان پر نازل ہوتی ہے؟ اور کس طرح یہ ذلت و توہین کے ساتھ پکڑ لیے جاتے ہیں؟ یہ خود ان تمام رسوائیوں کو ابھی ابھی دیکھ لیں گے۔ تعجب سا تعجب ہے کہ یہ طرح طرح کے چھوٹے چھوٹے عذابوں کی گرفت کے باوجود ابھی تک بڑے عذاب کو محال جانتے ہوئے کہتے ہیں کہ وہ کب آئے گا؟ ‘ پس انہیں جواب ملتا ہے کہ ’ جب عذاب ان کے میدانوں میں، محلوں میں، انگنائیوں میں آئے گا وہ دن ان پر بڑا ہی بھاری دن ہو گا۔ یہ ہلاک اور برباد کر دیئے جائیں گے ‘۔
صحیح بخاری شریف میں ہے کہ { خیبر کے میدانوں میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا لشکر صبح ہی صبح کفار کی بے خبری میں پہنچ گیا وہ لوگ حسب عادت اپنی کھیتیوں کے آلات لے کر شہر سے نکلے اور اس اللہ کی فوج کو دیکھ کر بھاگے اور شہر والوں کو خبر کی، اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی فرمایا کہ { اللہ بہت بڑا ہے خیبر خراب ہوا۔ ہم جب کسی قوم کے میدان میں اتر آتے ہیں اس وقت ان کی درگت ہوتی ہے } }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:371] پھر دوبارہ پہلے حکم کی تاکید کی کہ ’ تو ان سے ایک مدت معین تک کے لیے بے پرواہ ہو جا اور انہیں چھوڑ دے اور دیکھتا رہ یہ بھی دیکھ لیں گے ‘۔
اور بے شک ہمارا لشکر، یقینا وہی غالب آنے والا ہے ۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
عذاب الٰہی آ کر رہے گا ٭٭
ارشاد باری ہے کہ ہم تو اگلی کتابوں میں بھی لکھ آئے ہیں پہلے نبیوں کی زبانی بھی دنیا کو سنا چکے ہیں کہ دنیا اور آخرت میں ہمارے رسول اور ان کے تابعداروں ہی کا انجام بہتر ہوتا ہے جیسے فرمایا «كَتَبَ اللّٰهُ لَاَغْلِبَنَّ اَنَا وَرُسُلِيْ ۭ اِنَّ اللّٰهَ قَوِيٌّ عَزِيْزٌ» ۱؎ [58-المجادلة:21] ، اور فرمایا «اِنَّا لَنَنْصُرُ رُسُلَنَا وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا وَيَوْمَ يَقُوْمُ الْاَشْهَادُ» ۱؎ [40-غافر:51] ، یعنی ’ میں، میرے رسول اور ایماندار ہی دونوں جہان میں غالب رہیں گے ‘۔ یہاں بھی یہی فرمایا کہ ’ رسولوں سے ہمارا وعدہ ہو چکا ہے۔ کہ وہ منصور ہیں۔ ہم خود ان کی مدد کریں گے۔ دیکھتے چلے آؤ کہ ان کے دشمن کس طرح خاک میں ملا دیئے گئے؟ یاد رکھو ہمارا لشکر ہی غالب رہے گا۔ انجام کار انہی کے ہاتھ رہے گا۔ تو ایک وقت مقررہ تک صبر و استقامت سے معاملہ دیکھتا رہ ان کی ایذاؤں پر صبر کر ہم تجھے ان سب پر غالب کر دیں گے۔ دنیا نے دیکھ لیا کہ یہی ہوا بھی تو انہیں دیکھتا رہ کہ کس طرح اللہ کی پکڑ ان پر نازل ہوتی ہے؟ اور کس طرح یہ ذلت و توہین کے ساتھ پکڑ لیے جاتے ہیں؟ یہ خود ان تمام رسوائیوں کو ابھی ابھی دیکھ لیں گے۔ تعجب سا تعجب ہے کہ یہ طرح طرح کے چھوٹے چھوٹے عذابوں کی گرفت کے باوجود ابھی تک بڑے عذاب کو محال جانتے ہوئے کہتے ہیں کہ وہ کب آئے گا؟ ‘ پس انہیں جواب ملتا ہے کہ ’ جب عذاب ان کے میدانوں میں، محلوں میں، انگنائیوں میں آئے گا وہ دن ان پر بڑا ہی بھاری دن ہو گا۔ یہ ہلاک اور برباد کر دیئے جائیں گے ‘۔
صحیح بخاری شریف میں ہے کہ { خیبر کے میدانوں میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا لشکر صبح ہی صبح کفار کی بے خبری میں پہنچ گیا وہ لوگ حسب عادت اپنی کھیتیوں کے آلات لے کر شہر سے نکلے اور اس اللہ کی فوج کو دیکھ کر بھاگے اور شہر والوں کو خبر کی، اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی فرمایا کہ { اللہ بہت بڑا ہے خیبر خراب ہوا۔ ہم جب کسی قوم کے میدان میں اتر آتے ہیں اس وقت ان کی درگت ہوتی ہے } }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:371] پھر دوبارہ پہلے حکم کی تاکید کی کہ ’ تو ان سے ایک مدت معین تک کے لیے بے پرواہ ہو جا اور انہیں چھوڑ دے اور دیکھتا رہ یہ بھی دیکھ لیں گے ‘۔
173۔ 1 جیسے دوسرے مقام پر فرمایا، (كَتَبَ اللّٰهُ لَاَغْلِبَنَّ اَنَا وَرُسُلِيْ) 58۔ المجادلہ:21)۔
پس اے نبیؐ، ذرا کچھ مدّت تک انہیں اِن کے حال پر چھوڑ دو
مولانا محمد جوناگڑھی
اب آپ کچھ دنوں تک ان سے منھ پھیر لیجئے
احمد رضا خان بریلوی
تو ایک وقت تم ان سے منہ پھیر لو
علامہ محمد حسین نجفی
سو ایک مدت تک ان سے بے اعتنائی کیجئے۔
عبدالسلام بن محمد
سو ایک وقت تک ان سے منہ موڑ لے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
عذاب الٰہی آ کر رہے گا ٭٭
ارشاد باری ہے کہ ہم تو اگلی کتابوں میں بھی لکھ آئے ہیں پہلے نبیوں کی زبانی بھی دنیا کو سنا چکے ہیں کہ دنیا اور آخرت میں ہمارے رسول اور ان کے تابعداروں ہی کا انجام بہتر ہوتا ہے جیسے فرمایا «كَتَبَ اللّٰهُ لَاَغْلِبَنَّ اَنَا وَرُسُلِيْ ۭ اِنَّ اللّٰهَ قَوِيٌّ عَزِيْزٌ» ۱؎ [58-المجادلة:21] ، اور فرمایا «اِنَّا لَنَنْصُرُ رُسُلَنَا وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا وَيَوْمَ يَقُوْمُ الْاَشْهَادُ» ۱؎ [40-غافر:51] ، یعنی ’ میں، میرے رسول اور ایماندار ہی دونوں جہان میں غالب رہیں گے ‘۔ یہاں بھی یہی فرمایا کہ ’ رسولوں سے ہمارا وعدہ ہو چکا ہے۔ کہ وہ منصور ہیں۔ ہم خود ان کی مدد کریں گے۔ دیکھتے چلے آؤ کہ ان کے دشمن کس طرح خاک میں ملا دیئے گئے؟ یاد رکھو ہمارا لشکر ہی غالب رہے گا۔ انجام کار انہی کے ہاتھ رہے گا۔ تو ایک وقت مقررہ تک صبر و استقامت سے معاملہ دیکھتا رہ ان کی ایذاؤں پر صبر کر ہم تجھے ان سب پر غالب کر دیں گے۔ دنیا نے دیکھ لیا کہ یہی ہوا بھی تو انہیں دیکھتا رہ کہ کس طرح اللہ کی پکڑ ان پر نازل ہوتی ہے؟ اور کس طرح یہ ذلت و توہین کے ساتھ پکڑ لیے جاتے ہیں؟ یہ خود ان تمام رسوائیوں کو ابھی ابھی دیکھ لیں گے۔ تعجب سا تعجب ہے کہ یہ طرح طرح کے چھوٹے چھوٹے عذابوں کی گرفت کے باوجود ابھی تک بڑے عذاب کو محال جانتے ہوئے کہتے ہیں کہ وہ کب آئے گا؟ ‘ پس انہیں جواب ملتا ہے کہ ’ جب عذاب ان کے میدانوں میں، محلوں میں، انگنائیوں میں آئے گا وہ دن ان پر بڑا ہی بھاری دن ہو گا۔ یہ ہلاک اور برباد کر دیئے جائیں گے ‘۔
صحیح بخاری شریف میں ہے کہ { خیبر کے میدانوں میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا لشکر صبح ہی صبح کفار کی بے خبری میں پہنچ گیا وہ لوگ حسب عادت اپنی کھیتیوں کے آلات لے کر شہر سے نکلے اور اس اللہ کی فوج کو دیکھ کر بھاگے اور شہر والوں کو خبر کی، اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی فرمایا کہ { اللہ بہت بڑا ہے خیبر خراب ہوا۔ ہم جب کسی قوم کے میدان میں اتر آتے ہیں اس وقت ان کی درگت ہوتی ہے } }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:371] پھر دوبارہ پہلے حکم کی تاکید کی کہ ’ تو ان سے ایک مدت معین تک کے لیے بے پرواہ ہو جا اور انہیں چھوڑ دے اور دیکھتا رہ یہ بھی دیکھ لیں گے ‘۔
174۔ 1 یعنی ان کی باتوں اور ایذاؤں پر صبر کیجئے۔
(آیت 175،174) {فَتَوَلَّ عَنْهُمْ حَتّٰى حِيْنٍ …:} ”ایک وقت“ سے مراد یہ بھی ہو سکتا ہے کہ جب تک ہم آپ کو جنگ کی اجازت نہیں دیتے آپ انھیں ان کے حال پر چھوڑے رکھیں، بس زبانی طور پر دعوت و تبلیغ کا کام کرتے رہیں اور انھیں دیکھتے جائیں، بہت جلد یہ اپنا انجام دیکھ لیں گے۔ یاد رہے، یہ آیات مکی دور کی ہیں۔ اور ”ایک وقت“ سے ”یوم بدر“ بھی مراد ہو سکتا ہے اور فتح مکہ بھی۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا، ہجرت کے بعد جب جہاد شروع ہوا تو کچھ زیادہ مدت نہ گزری تھی کہ کفار نے اپنی شکست اور مسلمانوں کی فتح کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا اور ان آیات کے اترنے کے بعد چودہ، پندرہ سال ہی گزرے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جس مکہ سے چھپ کر نکلے تھے، اسی مکہ میں دن کی روشنی میں دس ہزار قدوسیوں کے ساتھ فاتحانہ شان سے داخل ہوئے اور کوئی مقابلے میں نہ ٹھہر سکا۔ پھر چند سال بعد ہی ساری دنیا نے اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا کہ مسلمان صرف عرب ہی نہیں بلکہ روم، مصر اور ایران وغیرہ پر بھی غالب آ گئے۔
اور انہیں دیکھتے رہیئے، اور یہ بھی آگے چل کر دیکھ لیں گے
احمد رضا خان بریلوی
اور انہیں دیکھتے رہو کہ عنقریب وہ دیکھیں گے
علامہ محمد حسین نجفی
اور انہیں دیکھتے رہئے اور عنقریب وہ خود بھی (اپنا انجام) دیکھ لیں گے۔
عبدالسلام بن محمد
اور انھیں دیکھ، پس وہ بھی عنقریب دیکھ لیں گے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
عذاب الٰہی آ کر رہے گا ٭٭
ارشاد باری ہے کہ ہم تو اگلی کتابوں میں بھی لکھ آئے ہیں پہلے نبیوں کی زبانی بھی دنیا کو سنا چکے ہیں کہ دنیا اور آخرت میں ہمارے رسول اور ان کے تابعداروں ہی کا انجام بہتر ہوتا ہے جیسے فرمایا «كَتَبَ اللّٰهُ لَاَغْلِبَنَّ اَنَا وَرُسُلِيْ ۭ اِنَّ اللّٰهَ قَوِيٌّ عَزِيْزٌ» ۱؎ [58-المجادلة:21] ، اور فرمایا «اِنَّا لَنَنْصُرُ رُسُلَنَا وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا وَيَوْمَ يَقُوْمُ الْاَشْهَادُ» ۱؎ [40-غافر:51] ، یعنی ’ میں، میرے رسول اور ایماندار ہی دونوں جہان میں غالب رہیں گے ‘۔ یہاں بھی یہی فرمایا کہ ’ رسولوں سے ہمارا وعدہ ہو چکا ہے۔ کہ وہ منصور ہیں۔ ہم خود ان کی مدد کریں گے۔ دیکھتے چلے آؤ کہ ان کے دشمن کس طرح خاک میں ملا دیئے گئے؟ یاد رکھو ہمارا لشکر ہی غالب رہے گا۔ انجام کار انہی کے ہاتھ رہے گا۔ تو ایک وقت مقررہ تک صبر و استقامت سے معاملہ دیکھتا رہ ان کی ایذاؤں پر صبر کر ہم تجھے ان سب پر غالب کر دیں گے۔ دنیا نے دیکھ لیا کہ یہی ہوا بھی تو انہیں دیکھتا رہ کہ کس طرح اللہ کی پکڑ ان پر نازل ہوتی ہے؟ اور کس طرح یہ ذلت و توہین کے ساتھ پکڑ لیے جاتے ہیں؟ یہ خود ان تمام رسوائیوں کو ابھی ابھی دیکھ لیں گے۔ تعجب سا تعجب ہے کہ یہ طرح طرح کے چھوٹے چھوٹے عذابوں کی گرفت کے باوجود ابھی تک بڑے عذاب کو محال جانتے ہوئے کہتے ہیں کہ وہ کب آئے گا؟ ‘ پس انہیں جواب ملتا ہے کہ ’ جب عذاب ان کے میدانوں میں، محلوں میں، انگنائیوں میں آئے گا وہ دن ان پر بڑا ہی بھاری دن ہو گا۔ یہ ہلاک اور برباد کر دیئے جائیں گے ‘۔
صحیح بخاری شریف میں ہے کہ { خیبر کے میدانوں میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا لشکر صبح ہی صبح کفار کی بے خبری میں پہنچ گیا وہ لوگ حسب عادت اپنی کھیتیوں کے آلات لے کر شہر سے نکلے اور اس اللہ کی فوج کو دیکھ کر بھاگے اور شہر والوں کو خبر کی، اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی فرمایا کہ { اللہ بہت بڑا ہے خیبر خراب ہوا۔ ہم جب کسی قوم کے میدان میں اتر آتے ہیں اس وقت ان کی درگت ہوتی ہے } }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:371] پھر دوبارہ پہلے حکم کی تاکید کی کہ ’ تو ان سے ایک مدت معین تک کے لیے بے پرواہ ہو جا اور انہیں چھوڑ دے اور دیکھتا رہ یہ بھی دیکھ لیں گے ‘۔
ارشاد باری ہے کہ ہم تو اگلی کتابوں میں بھی لکھ آئے ہیں پہلے نبیوں کی زبانی بھی دنیا کو سنا چکے ہیں کہ دنیا اور آخرت میں ہمارے رسول اور ان کے تابعداروں ہی کا انجام بہتر ہوتا ہے جیسے فرمایا «كَتَبَ اللّٰهُ لَاَغْلِبَنَّ اَنَا وَرُسُلِيْ ۭ اِنَّ اللّٰهَ قَوِيٌّ عَزِيْزٌ» ۱؎ [58-المجادلة:21] ، اور فرمایا «اِنَّا لَنَنْصُرُ رُسُلَنَا وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا وَيَوْمَ يَقُوْمُ الْاَشْهَادُ» ۱؎ [40-غافر:51] ، یعنی ’ میں، میرے رسول اور ایماندار ہی دونوں جہان میں غالب رہیں گے ‘۔ یہاں بھی یہی فرمایا کہ ’ رسولوں سے ہمارا وعدہ ہو چکا ہے۔ کہ وہ منصور ہیں۔ ہم خود ان کی مدد کریں گے۔ دیکھتے چلے آؤ کہ ان کے دشمن کس طرح خاک میں ملا دیئے گئے؟ یاد رکھو ہمارا لشکر ہی غالب رہے گا۔ انجام کار انہی کے ہاتھ رہے گا۔ تو ایک وقت مقررہ تک صبر و استقامت سے معاملہ دیکھتا رہ ان کی ایذاؤں پر صبر کر ہم تجھے ان سب پر غالب کر دیں گے۔ دنیا نے دیکھ لیا کہ یہی ہوا بھی تو انہیں دیکھتا رہ کہ کس طرح اللہ کی پکڑ ان پر نازل ہوتی ہے؟ اور کس طرح یہ ذلت و توہین کے ساتھ پکڑ لیے جاتے ہیں؟ یہ خود ان تمام رسوائیوں کو ابھی ابھی دیکھ لیں گے۔ تعجب سا تعجب ہے کہ یہ طرح طرح کے چھوٹے چھوٹے عذابوں کی گرفت کے باوجود ابھی تک بڑے عذاب کو محال جانتے ہوئے کہتے ہیں کہ وہ کب آئے گا؟ ‘ پس انہیں جواب ملتا ہے کہ ’ جب عذاب ان کے میدانوں میں، محلوں میں، انگنائیوں میں آئے گا وہ دن ان پر بڑا ہی بھاری دن ہو گا۔ یہ ہلاک اور برباد کر دیئے جائیں گے ‘۔
صحیح بخاری شریف میں ہے کہ { خیبر کے میدانوں میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا لشکر صبح ہی صبح کفار کی بے خبری میں پہنچ گیا وہ لوگ حسب عادت اپنی کھیتیوں کے آلات لے کر شہر سے نکلے اور اس اللہ کی فوج کو دیکھ کر بھاگے اور شہر والوں کو خبر کی، اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی فرمایا کہ { اللہ بہت بڑا ہے خیبر خراب ہوا۔ ہم جب کسی قوم کے میدان میں اتر آتے ہیں اس وقت ان کی درگت ہوتی ہے } }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:371] پھر دوبارہ پہلے حکم کی تاکید کی کہ ’ تو ان سے ایک مدت معین تک کے لیے بے پرواہ ہو جا اور انہیں چھوڑ دے اور دیکھتا رہ یہ بھی دیکھ لیں گے ‘۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 176) {اَفَبِعَذَابِنَا يَسْتَعْجِلُوْنَ:} قرآن مجید میں کفار کو جب بھی عذاب کی دھمکی دی جاتی وہ جھٹلانے کے لیے اسے فوراً لانے کا مطالبہ کرتے، جیسا کہ سورۂ یونس میں ہے: «مَتٰى هٰذَا الْوَعْدُ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِيْنَ» [ یونس: ۴۸ ] ”یہ وعدہ کب پورا ہو گا، اگر تم سچے ہو؟“ بلکہ اللہ تعالیٰ سے دعا کرنے لگے کہ اگر اسلام واقعی اس کی طرف سے حق ہے تو وہ ان پر پتھر برسائے یا عذاب الیم لے آئے۔ (دیکھیے سورۂ انفال: ۳۳) اس لیے فرمایا کہ پھر کیا یہ لوگ سرکشی اور جہالت میں اس حد تک پہنچ گئے اور اس قدر بے خوف ہو گئے ہیں کہ ہمارا عذاب جلدی لانے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
جب وہ اِن کے صحن میں آ اترے گا تو وہ دن اُن لوگوں کے لیے بہت برا ہو گا جنہیں متنبہ کیا جا چکا ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
سنو! جب ہمارا عذاب ان کے میدان میں اتر آئے گا اس وقت ان کی جن کو متنبہ کر دیا گیا تھا بڑی بری صبح ہوگی
احمد رضا خان بریلوی
پھر جب اترے گا ان کے آنگن میں تو ڈرائے گیوں کی کیا ہی بری صبح ہوگی،
علامہ محمد حسین نجفی
تو جب وہ ان کے ہاں نازل ہو جائے گا تو وہ بڑی بری صبح ہوگی ڈرائے ہوؤں کیلئے۔
عبدالسلام بن محمد
پھر جب وہ ان کے صحن میں اترے گا تو ڈرائے گئے لوگوں کی صبح بری ہوگی۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
عذاب الٰہی آ کر رہے گا ٭٭
ارشاد باری ہے کہ ہم تو اگلی کتابوں میں بھی لکھ آئے ہیں پہلے نبیوں کی زبانی بھی دنیا کو سنا چکے ہیں کہ دنیا اور آخرت میں ہمارے رسول اور ان کے تابعداروں ہی کا انجام بہتر ہوتا ہے جیسے فرمایا «كَتَبَ اللّٰهُ لَاَغْلِبَنَّ اَنَا وَرُسُلِيْ ۭ اِنَّ اللّٰهَ قَوِيٌّ عَزِيْزٌ» ۱؎ [58-المجادلة:21] ، اور فرمایا «اِنَّا لَنَنْصُرُ رُسُلَنَا وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا وَيَوْمَ يَقُوْمُ الْاَشْهَادُ» ۱؎ [40-غافر:51] ، یعنی ’ میں، میرے رسول اور ایماندار ہی دونوں جہان میں غالب رہیں گے ‘۔ یہاں بھی یہی فرمایا کہ ’ رسولوں سے ہمارا وعدہ ہو چکا ہے۔ کہ وہ منصور ہیں۔ ہم خود ان کی مدد کریں گے۔ دیکھتے چلے آؤ کہ ان کے دشمن کس طرح خاک میں ملا دیئے گئے؟ یاد رکھو ہمارا لشکر ہی غالب رہے گا۔ انجام کار انہی کے ہاتھ رہے گا۔ تو ایک وقت مقررہ تک صبر و استقامت سے معاملہ دیکھتا رہ ان کی ایذاؤں پر صبر کر ہم تجھے ان سب پر غالب کر دیں گے۔ دنیا نے دیکھ لیا کہ یہی ہوا بھی تو انہیں دیکھتا رہ کہ کس طرح اللہ کی پکڑ ان پر نازل ہوتی ہے؟ اور کس طرح یہ ذلت و توہین کے ساتھ پکڑ لیے جاتے ہیں؟ یہ خود ان تمام رسوائیوں کو ابھی ابھی دیکھ لیں گے۔ تعجب سا تعجب ہے کہ یہ طرح طرح کے چھوٹے چھوٹے عذابوں کی گرفت کے باوجود ابھی تک بڑے عذاب کو محال جانتے ہوئے کہتے ہیں کہ وہ کب آئے گا؟ ‘ پس انہیں جواب ملتا ہے کہ ’ جب عذاب ان کے میدانوں میں، محلوں میں، انگنائیوں میں آئے گا وہ دن ان پر بڑا ہی بھاری دن ہو گا۔ یہ ہلاک اور برباد کر دیئے جائیں گے ‘۔
صحیح بخاری شریف میں ہے کہ { خیبر کے میدانوں میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا لشکر صبح ہی صبح کفار کی بے خبری میں پہنچ گیا وہ لوگ حسب عادت اپنی کھیتیوں کے آلات لے کر شہر سے نکلے اور اس اللہ کی فوج کو دیکھ کر بھاگے اور شہر والوں کو خبر کی، اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی فرمایا کہ { اللہ بہت بڑا ہے خیبر خراب ہوا۔ ہم جب کسی قوم کے میدان میں اتر آتے ہیں اس وقت ان کی درگت ہوتی ہے } }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:371] پھر دوبارہ پہلے حکم کی تاکید کی کہ ’ تو ان سے ایک مدت معین تک کے لیے بے پرواہ ہو جا اور انہیں چھوڑ دے اور دیکھتا رہ یہ بھی دیکھ لیں گے ‘۔
177۔ 1 مسلمان جب خیبر پر حملہ کرنے گئے، تو یہودی انہیں دیکھ کر گھبرا گئے، جس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اللہ اکبر کہ کر فرمایا (خَربَتْ خیبرُ، اِنَّا اِذَا نَزَلْنَا بِسَاحَۃِ فَوْمِ فَسَاءَ صَبَاحْ الْمُنْذَرِیْنَ) (صحیح بخاری)
(آیت 177) {فَاِذَا نَزَلَ بِسَاحَتِهِمْ …:} یعنی یہ عذاب ہر حال میں ان پر آکر رہے گا۔ پھر جب وہ ان کے صحن میں اتر آیا تو جن لوگوں کو عذاب سے ڈرایا جا رہا ہے اور وہ جھٹلا رہے ہیں ان کی صبح بری ہو گی۔ صبح کا لفظ خاص طور پر اس لیے ذکر فرمایا کہ عرب عموماً صبح کے وقت حملہ کرتے تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا معمول بھی یہی تھا۔ چنانچہ انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: [ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ خَرَجَ إِلٰی خَيْبَرَ فَجَاءَهَا لَيْلاً، وَ كَانَ إِذَا جَاءَ قَوْمًا بِلَيْلٍ لاَ يُغِيْرُ عَلَيْهِمْ حَتّٰی يُصْبِحَ، فَلَمَّا أَصْبَحَ، خَرَجَتْ يَهُوْدُ بِمَسَاحِيْهِمْ وَ مَكَاتِلِهِمْ، فَلَمَّا رَأَوْهُ قَالُوْا مُحَمَّدٌ وَاللّٰهِ! مُحَمَّدٌ وَ الْخَمِيْسُ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ اَللّٰهُ أَكْبَرُ، خَرِبَتْ خَيْبَرُ، إِنَّا إِذَا نَزَلْنَا بِسَاحَةِ قَوْمٍ فَسَاءَ صَبَاحُ الْمُنْذَرِيْنَ ] [بخاري، الجہاد والسیر، باب دعاء النبي صلی اللہ علیہ وسلم إلی الإسلام…: ۲۹۴۵ ] ”نبی صلی اللہ علیہ وسلم خیبر کی طرف نکلے اور رات وہاں پہنچے اور آپ جب کسی قوم کے پاس رات کو پہنچتے تو صبح ہونے تک حملہ نہیں کرتے تھے۔ جب صبح ہوئی تو یہودی اپنی بیلچے اور ٹوکریاں لے کر نکلے۔ جب انھوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا تو کہنے لگے: ”محمد، اللہ کی قسم! محمد اپنے لشکر کے ساتھ (آ گئے)۔“ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ اکبر! خیبر برباد ہو گیا، ہم لوگ جب کسی قوم کے صحن میں اترتے ہیں تو ان لوگوں کی صبح بری ہوتی ہے جنھیں پہلے ڈرایا جا چکا ہوتا ہے۔“ اللہ تعالیٰ کی طرف سے بھی عذاب عموماً صبح کے وقت آتا تھا، جیسے قومِ لوط کے متعلق فرمایا: «اِنَّ مَوْعِدَهُمُ الصُّبْحُ اَلَيْسَ الصُّبْحُ بِقَرِيْبٍ» [ ھود: ۸۱ ] ”بے شک ان کے وعدے کا وقت صبح ہے، کیا صبح واقعی قریب نہیں؟“
ارشاد باری ہے کہ ہم تو اگلی کتابوں میں بھی لکھ آئے ہیں پہلے نبیوں کی زبانی بھی دنیا کو سنا چکے ہیں کہ دنیا اور آخرت میں ہمارے رسول اور ان کے تابعداروں ہی کا انجام بہتر ہوتا ہے جیسے فرمایا «كَتَبَ اللّٰهُ لَاَغْلِبَنَّ اَنَا وَرُسُلِيْ ۭ اِنَّ اللّٰهَ قَوِيٌّ عَزِيْزٌ» ۱؎ [58-المجادلة:21] ، اور فرمایا «اِنَّا لَنَنْصُرُ رُسُلَنَا وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا وَيَوْمَ يَقُوْمُ الْاَشْهَادُ» ۱؎ [40-غافر:51] ، یعنی ’ میں، میرے رسول اور ایماندار ہی دونوں جہان میں غالب رہیں گے ‘۔ یہاں بھی یہی فرمایا کہ ’ رسولوں سے ہمارا وعدہ ہو چکا ہے۔ کہ وہ منصور ہیں۔ ہم خود ان کی مدد کریں گے۔ دیکھتے چلے آؤ کہ ان کے دشمن کس طرح خاک میں ملا دیئے گئے؟ یاد رکھو ہمارا لشکر ہی غالب رہے گا۔ انجام کار انہی کے ہاتھ رہے گا۔ تو ایک وقت مقررہ تک صبر و استقامت سے معاملہ دیکھتا رہ ان کی ایذاؤں پر صبر کر ہم تجھے ان سب پر غالب کر دیں گے۔ دنیا نے دیکھ لیا کہ یہی ہوا بھی تو انہیں دیکھتا رہ کہ کس طرح اللہ کی پکڑ ان پر نازل ہوتی ہے؟ اور کس طرح یہ ذلت و توہین کے ساتھ پکڑ لیے جاتے ہیں؟ یہ خود ان تمام رسوائیوں کو ابھی ابھی دیکھ لیں گے۔ تعجب سا تعجب ہے کہ یہ طرح طرح کے چھوٹے چھوٹے عذابوں کی گرفت کے باوجود ابھی تک بڑے عذاب کو محال جانتے ہوئے کہتے ہیں کہ وہ کب آئے گا؟ ‘ پس انہیں جواب ملتا ہے کہ ’ جب عذاب ان کے میدانوں میں، محلوں میں، انگنائیوں میں آئے گا وہ دن ان پر بڑا ہی بھاری دن ہو گا۔ یہ ہلاک اور برباد کر دیئے جائیں گے ‘۔
صحیح بخاری شریف میں ہے کہ { خیبر کے میدانوں میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا لشکر صبح ہی صبح کفار کی بے خبری میں پہنچ گیا وہ لوگ حسب عادت اپنی کھیتیوں کے آلات لے کر شہر سے نکلے اور اس اللہ کی فوج کو دیکھ کر بھاگے اور شہر والوں کو خبر کی، اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی فرمایا کہ { اللہ بہت بڑا ہے خیبر خراب ہوا۔ ہم جب کسی قوم کے میدان میں اتر آتے ہیں اس وقت ان کی درگت ہوتی ہے } }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:371] پھر دوبارہ پہلے حکم کی تاکید کی کہ ’ تو ان سے ایک مدت معین تک کے لیے بے پرواہ ہو جا اور انہیں چھوڑ دے اور دیکھتا رہ یہ بھی دیکھ لیں گے ‘۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 179،178) {وَ تَوَلَّ عَنْهُمْ حَتّٰى حِيْنٍ …:} تاکید کے لیے بات دوبارہ دہرائی، تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی ہو اور شاید کفار عبرت حاصل کرلیں۔ یہاں صرف {” اَبْصِرْ “} فرمایا، {”أَبْصِرْهُمْ“} نہیں فرمایا، اس لیے کہ پہلے ان کا ذکر ہو چکا ہے، یا اس لیے کہ پہلے صرف کفار مکہ کو دیکھنے کا حکم ہے، اب عموم کے لیے {”هُمْ“} کو حذف کر دیا کہ صرف کفار قریش ہی کو نہیں بلکہ سب جھٹلانے والوں کو اور ان کے ہر حال کو دیکھتے جاؤ، بہت جلد وہ بھی انجام دیکھ لیں گے۔
ارشاد باری ہے کہ ہم تو اگلی کتابوں میں بھی لکھ آئے ہیں پہلے نبیوں کی زبانی بھی دنیا کو سنا چکے ہیں کہ دنیا اور آخرت میں ہمارے رسول اور ان کے تابعداروں ہی کا انجام بہتر ہوتا ہے جیسے فرمایا «كَتَبَ اللّٰهُ لَاَغْلِبَنَّ اَنَا وَرُسُلِيْ ۭ اِنَّ اللّٰهَ قَوِيٌّ عَزِيْزٌ» ۱؎ [58-المجادلة:21] ، اور فرمایا «اِنَّا لَنَنْصُرُ رُسُلَنَا وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا وَيَوْمَ يَقُوْمُ الْاَشْهَادُ» ۱؎ [40-غافر:51] ، یعنی ’ میں، میرے رسول اور ایماندار ہی دونوں جہان میں غالب رہیں گے ‘۔ یہاں بھی یہی فرمایا کہ ’ رسولوں سے ہمارا وعدہ ہو چکا ہے۔ کہ وہ منصور ہیں۔ ہم خود ان کی مدد کریں گے۔ دیکھتے چلے آؤ کہ ان کے دشمن کس طرح خاک میں ملا دیئے گئے؟ یاد رکھو ہمارا لشکر ہی غالب رہے گا۔ انجام کار انہی کے ہاتھ رہے گا۔ تو ایک وقت مقررہ تک صبر و استقامت سے معاملہ دیکھتا رہ ان کی ایذاؤں پر صبر کر ہم تجھے ان سب پر غالب کر دیں گے۔ دنیا نے دیکھ لیا کہ یہی ہوا بھی تو انہیں دیکھتا رہ کہ کس طرح اللہ کی پکڑ ان پر نازل ہوتی ہے؟ اور کس طرح یہ ذلت و توہین کے ساتھ پکڑ لیے جاتے ہیں؟ یہ خود ان تمام رسوائیوں کو ابھی ابھی دیکھ لیں گے۔ تعجب سا تعجب ہے کہ یہ طرح طرح کے چھوٹے چھوٹے عذابوں کی گرفت کے باوجود ابھی تک بڑے عذاب کو محال جانتے ہوئے کہتے ہیں کہ وہ کب آئے گا؟ ‘ پس انہیں جواب ملتا ہے کہ ’ جب عذاب ان کے میدانوں میں، محلوں میں، انگنائیوں میں آئے گا وہ دن ان پر بڑا ہی بھاری دن ہو گا۔ یہ ہلاک اور برباد کر دیئے جائیں گے ‘۔
صحیح بخاری شریف میں ہے کہ { خیبر کے میدانوں میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا لشکر صبح ہی صبح کفار کی بے خبری میں پہنچ گیا وہ لوگ حسب عادت اپنی کھیتیوں کے آلات لے کر شہر سے نکلے اور اس اللہ کی فوج کو دیکھ کر بھاگے اور شہر والوں کو خبر کی، اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی فرمایا کہ { اللہ بہت بڑا ہے خیبر خراب ہوا۔ ہم جب کسی قوم کے میدان میں اتر آتے ہیں اس وقت ان کی درگت ہوتی ہے } }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:371] پھر دوبارہ پہلے حکم کی تاکید کی کہ ’ تو ان سے ایک مدت معین تک کے لیے بے پرواہ ہو جا اور انہیں چھوڑ دے اور دیکھتا رہ یہ بھی دیکھ لیں گے ‘۔
179۔ 1 یہ بطور تاکید دوبارہ فرمایا۔ یا پہلے جملے سے مراد دنیا کا وہ عذاب ہے جو اہل مکہ پر بدر و احد اور دیگر جنگوں میں مسلمانوں کے ہاتھوں کافروں کے قتل و سلب کی صورت میں آیا۔ اور دوسرے جملے میں اس عذاب کا ذکر ہے جس سے یہ کفار و مشرکین آخرت میں دوچار ہوں گے۔
پاک ہے تیرا رب، عزت کا مالک، اُن تمام باتوں سے جو یہ لوگ بنا رہے ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
پاک ہے آپ کا رب جو بہت بڑی عزت واﻻ ہے ہر اس چیز سے (جو مشرک) بیان کرتے ہیں
احمد رضا خان بریلوی
پاکی ہے تمہارے رب کو عزت والے رب کو ان کی باتوں سے
علامہ محمد حسین نجفی
پاک ہے آپ کا پروردگار جوکہ عزت کا مالک ہے ان (غلط) باتوں سے جو وہ بیان کرتے ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
پاک ہے تیرا رب، عزت کا رب، ان باتوں سے جو وہ بیان کرتے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
اللہ تعالٰی مشرکین کے بہتانات سے مبرا ہے ٭٭
اللہ تعالیٰ ان تمام چیزوں سے اپنی برأت بیان فرماتا ہے جو مشرکین اس کی طرف منسوب کرتے تھے۔ جیسے اولاد شریک وغیرہ۔ وہ بہت بڑی اور لازوال عزت والا ہے۔ ان جھوٹے اور مفتری لوگوں کے بہتان سے وہ پاک اور منزہ ہے۔ اللہ کے رسولوں پر سلام ہے اس لیے کہ ان کی تمام باتیں ان عیوب سے مبرا ہیں جو مشرکوں کی باتوں میں موجود ہیں بلکہ نبیوں کی باتیں اور اوصاف جو اللہ تعالیٰ کے بارے میں بیان کرتے ہیں سب صحیح اور برحق ہیں۔ اسی کی ذات کے لیے تمام حمد و ثناء ہے دنیا اور آخرت میں ابتداء اور انتہاء کا وہی سزاوار تعریف ہے۔ ہر حال میں قابل حمد وہی ہے۔ تسبیح سے ہر طرح کے نقصان سے اس کی ذات پاک سے دوری ثابت ہوتی ہے، تو ثابت ہوتا ہے کہ ہر طرح کے کمالات کی مالک اس کی ذات واحد ہے۔ اسی کو صاف لفظوں میں حمد ثابت کیا۔ تاکہ نقصانات کی نفی اور کمالات کا اثبات ہو جائے۔ ایسے ہی قران کریم کی بہت سی آیتوں میں تسبیح اور حمد کو ایک ساتھ بیان کیا گیا ہے۔
حضرت قتادہ رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا { تم جب مجھ پر سلام بھیجو اور نبیوں پر بھی سلام بھیجو کیونکہ میں بھی منجملہ اور نبیوں میں سے ایک نبی ہی ہوں }۔ } ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:29704:] یہ حدیث مسند میں بھی مروی ہے۔ ابویعلیٰ کی ایک ضعیف حدیث میں ہے { جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم سلام کا ارادہ کرتے تو ان تینوں آیتوں کو پڑھ کرسلام کرتے }۔ ۱؎ [مسند ابویعلیٰ:1118:ضعیف] ابن ابی حاتم میں ہے { جو شخص یہ چاہے کہ بھرپور پیمانے سے ناپ کر اجر پائے تو وہ جس کسی مجلس میں ہو وہاں سے اٹھتے ہوئے یہ تینوں آیتیں پڑھ لے } ۱؎ [الدر المنشور للسیوطی:554/5:ضعیف] ، اور سند سے یہ روایت سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے موقوفاً مروی ہے۔۱؎ [بغوی:40/4:ضعیف] طبرانی کی حدیث میں ہے { جو شخص ہر فرض نماز کے بعد تین مرتبہ ان تینوں آیتوں کی تلاوت کرے اسے بھرپور اجر پورے پیمانے سے ناپ کر ملے گا }۔۱؎ [طبرانی کبیر:5124:ضعیف] مجلس کے کفارے کے بارے میں بہت سی احادیث میں آیا ہے کہ { یہ پڑھے «سُبْحَانَکَ اللّٰهُمَّ وَبِحَمْدِکَ اَلَّااِلٰهَ اِلَّااَنْتَ اَسْتَغْفِرُکَ وَاَتُوْبُ اِلَیْکَ» }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:4857،قال الشيخ الألباني:صحیح] میں نے اس مسئلہ پر ایک مستقل کتاب لکھی ہے۔
180۔ 1 اس میں عیوب و نقائص سے اللہ کے پاکیزہ ہونے کا بیان ہے جو مشرکین اللہ کے لئے بیان کرتے ہیں، مثلًا اس کی اولاد ہے، یا اس کا کوئی شریک ہے۔ یہ کو تاہیاں بندوں کے اندر ہیں اور اولاد یا شریکوں کے ضرورت مند بھی وہی ہیں، اللہ ان سب باتوں سے بہت بلند اور پاک ہے۔ کیونکہ وہ کسی کا محتاج نہیں ہے کہ اسے اولاد کی یا کسی شریک کی ضرورت پیش آئے۔
(آیت 180تا182) {سُبْحٰنَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُوْنَ …:} چونکہ اس سورت میں اللہ تعالیٰ کے متعلق کفار کے برے اقوال، مثلاً اس کی اولاد یا اس کے شرکاء بنانے کا ذکر ہے، اس لیے آخر میں ان کی ایسی تمام باتوں سے اللہ تعالیٰ کے پاک ہونے کا ذکر فرمایا۔ گویا یہ ان کے شرکیہ عقائد و اقوال کی تردید اور انبیاء اور ان کی اقوام کے احوال کے ذکر کے بعد پوری سورت کا خلاصہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ذات و صفات کے متعلق ان لوگوں نے جو باتیں گھڑ رکھی ہیں، جن سے اللہ تعالیٰ کی ذات یا صفات میں کوئی عیب یا نقص لازم آتا ہے، اللہ کی ذات ایسے تمام عیوب اور نقائص سے پاک ہے، کیونکہ وہ ساری عزت کا مالک ہے اور رسولوں پر سلام ہے کہ وہ اپنی اپنی قوموں سے تکالیف برداشت کرکے بھی مسلسل اللہ کی توحید پیش کرتے رہے۔ اور ہر بات اس پر ختم ہوتی ہے کہ جو خوبی اور جو تعریف بھی ہے وہ اللہ کی ہے، کیونکہ وہی تمام جہانوں کی پرورش کرنے والا ہے۔ کسی اور میں کوئی خوبی ہے تو بھی اسی کی ہے، کیونکہ وہ اسی کی عطا کردہ ہے۔
اللہ تعالیٰ ان تمام چیزوں سے اپنی برأت بیان فرماتا ہے جو مشرکین اس کی طرف منسوب کرتے تھے۔ جیسے اولاد شریک وغیرہ۔ وہ بہت بڑی اور لازوال عزت والا ہے۔ ان جھوٹے اور مفتری لوگوں کے بہتان سے وہ پاک اور منزہ ہے۔ اللہ کے رسولوں پر سلام ہے اس لیے کہ ان کی تمام باتیں ان عیوب سے مبرا ہیں جو مشرکوں کی باتوں میں موجود ہیں بلکہ نبیوں کی باتیں اور اوصاف جو اللہ تعالیٰ کے بارے میں بیان کرتے ہیں سب صحیح اور برحق ہیں۔ اسی کی ذات کے لیے تمام حمد و ثناء ہے دنیا اور آخرت میں ابتداء اور انتہاء کا وہی سزاوار تعریف ہے۔ ہر حال میں قابل حمد وہی ہے۔ تسبیح سے ہر طرح کے نقصان سے اس کی ذات پاک سے دوری ثابت ہوتی ہے، تو ثابت ہوتا ہے کہ ہر طرح کے کمالات کی مالک اس کی ذات واحد ہے۔ اسی کو صاف لفظوں میں حمد ثابت کیا۔ تاکہ نقصانات کی نفی اور کمالات کا اثبات ہو جائے۔ ایسے ہی قران کریم کی بہت سی آیتوں میں تسبیح اور حمد کو ایک ساتھ بیان کیا گیا ہے۔
حضرت قتادہ رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا { تم جب مجھ پر سلام بھیجو اور نبیوں پر بھی سلام بھیجو کیونکہ میں بھی منجملہ اور نبیوں میں سے ایک نبی ہی ہوں }۔ } ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:29704:] یہ حدیث مسند میں بھی مروی ہے۔ ابویعلیٰ کی ایک ضعیف حدیث میں ہے { جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم سلام کا ارادہ کرتے تو ان تینوں آیتوں کو پڑھ کرسلام کرتے }۔ ۱؎ [مسند ابویعلیٰ:1118:ضعیف] ابن ابی حاتم میں ہے { جو شخص یہ چاہے کہ بھرپور پیمانے سے ناپ کر اجر پائے تو وہ جس کسی مجلس میں ہو وہاں سے اٹھتے ہوئے یہ تینوں آیتیں پڑھ لے } ۱؎ [الدر المنشور للسیوطی:554/5:ضعیف] ، اور سند سے یہ روایت سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے موقوفاً مروی ہے۔۱؎ [بغوی:40/4:ضعیف] طبرانی کی حدیث میں ہے { جو شخص ہر فرض نماز کے بعد تین مرتبہ ان تینوں آیتوں کی تلاوت کرے اسے بھرپور اجر پورے پیمانے سے ناپ کر ملے گا }۔۱؎ [طبرانی کبیر:5124:ضعیف] مجلس کے کفارے کے بارے میں بہت سی احادیث میں آیا ہے کہ { یہ پڑھے «سُبْحَانَکَ اللّٰهُمَّ وَبِحَمْدِکَ اَلَّااِلٰهَ اِلَّااَنْتَ اَسْتَغْفِرُکَ وَاَتُوْبُ اِلَیْکَ» }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:4857،قال الشيخ الألباني:صحیح] میں نے اس مسئلہ پر ایک مستقل کتاب لکھی ہے۔
181۔ 1 کہ انہوں نے اللہ کا پیغام اہل دنیا کی طرف پہنچایا، جس پر یقینا وہ سلام کے مستحق ہیں۔
اور سب طرح کی تعریف اللہ کے لئے ہے جو سارے جہان کا رب ہے
احمد رضا خان بریلوی
اور سب خوبیاں اللہ کو سارے جہاں کا رب ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
اور ہر طرح کی تعریف ہے اس اللہ کیلئے جو سارے جہانوں کا پروردگار ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اور سب تعریف اللہ کے لیے ہے جو تمام جہانوں کا رب ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
اللہ تعالٰی مشرکین کے بہتانات سے مبرا ہے ٭٭
اللہ تعالیٰ ان تمام چیزوں سے اپنی برأت بیان فرماتا ہے جو مشرکین اس کی طرف منسوب کرتے تھے۔ جیسے اولاد شریک وغیرہ۔ وہ بہت بڑی اور لازوال عزت والا ہے۔ ان جھوٹے اور مفتری لوگوں کے بہتان سے وہ پاک اور منزہ ہے۔ اللہ کے رسولوں پر سلام ہے اس لیے کہ ان کی تمام باتیں ان عیوب سے مبرا ہیں جو مشرکوں کی باتوں میں موجود ہیں بلکہ نبیوں کی باتیں اور اوصاف جو اللہ تعالیٰ کے بارے میں بیان کرتے ہیں سب صحیح اور برحق ہیں۔ اسی کی ذات کے لیے تمام حمد و ثناء ہے دنیا اور آخرت میں ابتداء اور انتہاء کا وہی سزاوار تعریف ہے۔ ہر حال میں قابل حمد وہی ہے۔ تسبیح سے ہر طرح کے نقصان سے اس کی ذات پاک سے دوری ثابت ہوتی ہے، تو ثابت ہوتا ہے کہ ہر طرح کے کمالات کی مالک اس کی ذات واحد ہے۔ اسی کو صاف لفظوں میں حمد ثابت کیا۔ تاکہ نقصانات کی نفی اور کمالات کا اثبات ہو جائے۔ ایسے ہی قران کریم کی بہت سی آیتوں میں تسبیح اور حمد کو ایک ساتھ بیان کیا گیا ہے۔
حضرت قتادہ رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا { تم جب مجھ پر سلام بھیجو اور نبیوں پر بھی سلام بھیجو کیونکہ میں بھی منجملہ اور نبیوں میں سے ایک نبی ہی ہوں }۔ } ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:29704:] یہ حدیث مسند میں بھی مروی ہے۔ ابویعلیٰ کی ایک ضعیف حدیث میں ہے { جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم سلام کا ارادہ کرتے تو ان تینوں آیتوں کو پڑھ کرسلام کرتے }۔ ۱؎ [مسند ابویعلیٰ:1118:ضعیف] ابن ابی حاتم میں ہے { جو شخص یہ چاہے کہ بھرپور پیمانے سے ناپ کر اجر پائے تو وہ جس کسی مجلس میں ہو وہاں سے اٹھتے ہوئے یہ تینوں آیتیں پڑھ لے } ۱؎ [الدر المنشور للسیوطی:554/5:ضعیف] ، اور سند سے یہ روایت سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے موقوفاً مروی ہے۔۱؎ [بغوی:40/4:ضعیف] طبرانی کی حدیث میں ہے { جو شخص ہر فرض نماز کے بعد تین مرتبہ ان تینوں آیتوں کی تلاوت کرے اسے بھرپور اجر پورے پیمانے سے ناپ کر ملے گا }۔۱؎ [طبرانی کبیر:5124:ضعیف] مجلس کے کفارے کے بارے میں بہت سی احادیث میں آیا ہے کہ { یہ پڑھے «سُبْحَانَکَ اللّٰهُمَّ وَبِحَمْدِکَ اَلَّااِلٰهَ اِلَّااَنْتَ اَسْتَغْفِرُکَ وَاَتُوْبُ اِلَیْکَ» }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:4857،قال الشيخ الألباني:صحیح] میں نے اس مسئلہ پر ایک مستقل کتاب لکھی ہے۔
182۔ 1 یہ بندوں کو سمجھایا جارہا ہے کہ اللہ نے تم پر احسان کیا ہے، پیغمبر بھیجے، کتابیں نازل کیں اور پیغمبروں نے تمہیں اللہ کا پیغام پہنچایا، اس لئے تم اللہ کا شکر ادا کرو۔ بعض کہتے ہیں کہ کافروں کو ہلاک کرکے اہل ایمان اور پیغمبروں کو بچایا، اس پر شکر الٰہی کرو۔ حمد کے معنی ہیں بہ قصد تعظیم ثناء جمیل، ذکر خیر اور عظمت شان بیان کرنا۔