بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ الصافات — Surah Saffat
آیت نمبر 177
کل آیات: 182
قرآن کریم الصافات آیت 177
آیت نمبر: 177 — سورۃ الصافات islamicurdubooks.com ↗
فَاِذَا نَزَلَ بِسَاحَتِہِمۡ فَسَآءَ صَبَاحُ الۡمُنۡذَرِیۡنَ ﴿۱۷۷﴾
جب وہ اِن کے صحن میں آ اترے گا تو وہ دن اُن لوگوں کے لیے بہت برا ہو گا جنہیں متنبہ کیا جا چکا ہے
سنو! جب ہمارا عذاب ان کے میدان میں اتر آئے گا اس وقت ان کی جن کو متنبہ کر دیا گیا تھا بڑی بری صبح ہوگی
پھر جب اترے گا ان کے آنگن میں تو ڈرائے گیوں کی کیا ہی بری صبح ہوگی،
تو جب وہ ان کے ہاں نازل ہو جائے گا تو وہ بڑی بری صبح ہوگی ڈرائے ہوؤں کیلئے۔
پھر جب وہ ان کے صحن میں اترے گا تو ڈرائے گئے لوگوں کی صبح بری ہوگی۔

📖 تفسیر ابن کثیر

عذاب الٰہی آ کر رہے گا ٭٭

ارشاد باری ہے کہ ہم تو اگلی کتابوں میں بھی لکھ آئے ہیں پہلے نبیوں کی زبانی بھی دنیا کو سنا چکے ہیں کہ دنیا اور آخرت میں ہمارے رسول اور ان کے تابعداروں ہی کا انجام بہتر ہوتا ہے جیسے فرمایا «كَتَبَ اللّٰهُ لَاَغْلِبَنَّ اَنَا وَرُسُلِيْ ۭ اِنَّ اللّٰهَ قَوِيٌّ عَزِيْزٌ» ۱؎ [58-المجادلة:21] ‏‏‏‏، اور فرمایا «اِنَّا لَنَنْصُرُ رُسُلَنَا وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا وَيَوْمَ يَقُوْمُ الْاَشْهَادُ» ۱؎ [40-غافر:51] ‏‏‏‏، یعنی ’ میں، میرے رسول اور ایماندار ہی دونوں جہان میں غالب رہیں گے ‘۔ یہاں بھی یہی فرمایا کہ ’ رسولوں سے ہمارا وعدہ ہو چکا ہے۔ کہ وہ منصور ہیں۔ ہم خود ان کی مدد کریں گے۔ دیکھتے چلے آؤ کہ ان کے دشمن کس طرح خاک میں ملا دیئے گئے؟ یاد رکھو ہمارا لشکر ہی غالب رہے گا۔ انجام کار انہی کے ہاتھ رہے گا۔ تو ایک وقت مقررہ تک صبر و استقامت سے معاملہ دیکھتا رہ ان کی ایذاؤں پر صبر کر ہم تجھے ان سب پر غالب کر دیں گے۔ دنیا نے دیکھ لیا کہ یہی ہوا بھی تو انہیں دیکھتا رہ کہ کس طرح اللہ کی پکڑ ان پر نازل ہوتی ہے؟ اور کس طرح یہ ذلت و توہین کے ساتھ پکڑ لیے جاتے ہیں؟ یہ خود ان تمام رسوائیوں کو ابھی ابھی دیکھ لیں گے۔ تعجب سا تعجب ہے کہ یہ طرح طرح کے چھوٹے چھوٹے عذابوں کی گرفت کے باوجود ابھی تک بڑے عذاب کو محال جانتے ہوئے کہتے ہیں کہ وہ کب آئے گا؟ ‘ پس انہیں جواب ملتا ہے کہ ’ جب عذاب ان کے میدانوں میں، محلوں میں، انگنائیوں میں آئے گا وہ دن ان پر بڑا ہی بھاری دن ہو گا۔ یہ ہلاک اور برباد کر دیئے جائیں گے ‘۔

صحیح بخاری شریف میں ہے کہ { خیبر کے میدانوں میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا لشکر صبح ہی صبح کفار کی بے خبری میں پہنچ گیا وہ لوگ حسب عادت اپنی کھیتیوں کے آلات لے کر شہر سے نکلے اور اس اللہ کی فوج کو دیکھ کر بھاگے اور شہر والوں کو خبر کی، اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی فرمایا کہ { اللہ بہت بڑا ہے خیبر خراب ہوا۔ ہم جب کسی قوم کے میدان میں اتر آتے ہیں اس وقت ان کی درگت ہوتی ہے } }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:371] ‏‏‏‏ پھر دوبارہ پہلے حکم کی تاکید کی کہ ’ تو ان سے ایک مدت معین تک کے لیے بے پرواہ ہو جا اور انہیں چھوڑ دے اور دیکھتا رہ یہ بھی دیکھ لیں گے ‘۔

📖 احسن البیان

177۔ 1 مسلمان جب خیبر پر حملہ کرنے گئے، تو یہودی انہیں دیکھ کر گھبرا گئے، جس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اللہ اکبر کہ کر فرمایا (خَربَتْ خیبرُ، اِنَّا اِذَا نَزَلْنَا بِسَاحَۃِ فَوْمِ فَسَاءَ صَبَاحْ الْمُنْذَرِیْنَ) (صحیح بخاری)

📖 القرآن الکریم

(آیت 177) {فَاِذَا نَزَلَ بِسَاحَتِهِمْ …:} یعنی یہ عذاب ہر حال میں ان پر آکر رہے گا۔ پھر جب وہ ان کے صحن میں اتر آیا تو جن لوگوں کو عذاب سے ڈرایا جا رہا ہے اور وہ جھٹلا رہے ہیں ان کی صبح بری ہو گی۔ صبح کا لفظ خاص طور پر اس لیے ذکر فرمایا کہ عرب عموماً صبح کے وقت حملہ کرتے تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا معمول بھی یہی تھا۔ چنانچہ انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: [ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ خَرَجَ إِلٰی خَيْبَرَ فَجَاءَهَا لَيْلاً، وَ كَانَ إِذَا جَاءَ قَوْمًا بِلَيْلٍ لاَ يُغِيْرُ عَلَيْهِمْ حَتّٰی يُصْبِحَ، فَلَمَّا أَصْبَحَ، خَرَجَتْ يَهُوْدُ بِمَسَاحِيْهِمْ وَ مَكَاتِلِهِمْ، فَلَمَّا رَأَوْهُ قَالُوْا مُحَمَّدٌ وَاللّٰهِ! مُحَمَّدٌ وَ الْخَمِيْسُ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ اَللّٰهُ أَكْبَرُ، خَرِبَتْ خَيْبَرُ، إِنَّا إِذَا نَزَلْنَا بِسَاحَةِ قَوْمٍ فَسَاءَ صَبَاحُ الْمُنْذَرِيْنَ ] [بخاري، الجہاد والسیر، باب دعاء النبي صلی اللہ علیہ وسلم إلی الإسلام…: ۲۹۴۵ ] ”نبی صلی اللہ علیہ وسلم خیبر کی طرف نکلے اور رات وہاں پہنچے اور آپ جب کسی قوم کے پاس رات کو پہنچتے تو صبح ہونے تک حملہ نہیں کرتے تھے۔ جب صبح ہوئی تو یہودی اپنی بیلچے اور ٹوکریاں لے کر نکلے۔ جب انھوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا تو کہنے لگے: ”محمد، اللہ کی قسم! محمد اپنے لشکر کے ساتھ (آ گئے)۔“ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ اکبر! خیبر برباد ہو گیا، ہم لوگ جب کسی قوم کے صحن میں اترتے ہیں تو ان لوگوں کی صبح بری ہوتی ہے جنھیں پہلے ڈرایا جا چکا ہوتا ہے۔“ اللہ تعالیٰ کی طرف سے بھی عذاب عموماً صبح کے وقت آتا تھا، جیسے قومِ لوط کے متعلق فرمایا: «‏‏‏‏اِنَّ مَوْعِدَهُمُ الصُّبْحُ اَلَيْسَ الصُّبْحُ بِقَرِيْبٍ» ‏‏‏‏ [ ھود: ۸۱ ] ”بے شک ان کے وعدے کا وقت صبح ہے، کیا صبح واقعی قریب نہیں؟“
← پچھلی آیت (176) پوری سورۃ اگلی آیت (178) →