بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ الصافات — Surah Saffat
آیت نمبر 178
کل آیات: 182
قرآن کریم الصافات آیت 178
آیت نمبر: 178 — سورۃ الصافات islamicurdubooks.com ↗
وَ تَوَلَّ عَنۡہُمۡ حَتّٰی حِیۡنٍ ﴿۱۷۸﴾ۙ
بس ذرا اِنہیں کچھ مدت کے لیے چھوڑ دو
آپ کچھ وقت تک ان کا خیال چھوڑ دیجئے
اور ایک وقت تک ان سے منہ پھیرلو،
اور ایک مدت تک ان سے بے توجہی کیجئے۔
اور ایک وقت تک ان سے منہ موڑ لے۔

📖 تفسیر ابن کثیر

عذاب الٰہی آ کر رہے گا ٭٭

ارشاد باری ہے کہ ہم تو اگلی کتابوں میں بھی لکھ آئے ہیں پہلے نبیوں کی زبانی بھی دنیا کو سنا چکے ہیں کہ دنیا اور آخرت میں ہمارے رسول اور ان کے تابعداروں ہی کا انجام بہتر ہوتا ہے جیسے فرمایا «كَتَبَ اللّٰهُ لَاَغْلِبَنَّ اَنَا وَرُسُلِيْ ۭ اِنَّ اللّٰهَ قَوِيٌّ عَزِيْزٌ» ۱؎ [58-المجادلة:21] ‏‏‏‏، اور فرمایا «اِنَّا لَنَنْصُرُ رُسُلَنَا وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا وَيَوْمَ يَقُوْمُ الْاَشْهَادُ» ۱؎ [40-غافر:51] ‏‏‏‏، یعنی ’ میں، میرے رسول اور ایماندار ہی دونوں جہان میں غالب رہیں گے ‘۔ یہاں بھی یہی فرمایا کہ ’ رسولوں سے ہمارا وعدہ ہو چکا ہے۔ کہ وہ منصور ہیں۔ ہم خود ان کی مدد کریں گے۔ دیکھتے چلے آؤ کہ ان کے دشمن کس طرح خاک میں ملا دیئے گئے؟ یاد رکھو ہمارا لشکر ہی غالب رہے گا۔ انجام کار انہی کے ہاتھ رہے گا۔ تو ایک وقت مقررہ تک صبر و استقامت سے معاملہ دیکھتا رہ ان کی ایذاؤں پر صبر کر ہم تجھے ان سب پر غالب کر دیں گے۔ دنیا نے دیکھ لیا کہ یہی ہوا بھی تو انہیں دیکھتا رہ کہ کس طرح اللہ کی پکڑ ان پر نازل ہوتی ہے؟ اور کس طرح یہ ذلت و توہین کے ساتھ پکڑ لیے جاتے ہیں؟ یہ خود ان تمام رسوائیوں کو ابھی ابھی دیکھ لیں گے۔ تعجب سا تعجب ہے کہ یہ طرح طرح کے چھوٹے چھوٹے عذابوں کی گرفت کے باوجود ابھی تک بڑے عذاب کو محال جانتے ہوئے کہتے ہیں کہ وہ کب آئے گا؟ ‘ پس انہیں جواب ملتا ہے کہ ’ جب عذاب ان کے میدانوں میں، محلوں میں، انگنائیوں میں آئے گا وہ دن ان پر بڑا ہی بھاری دن ہو گا۔ یہ ہلاک اور برباد کر دیئے جائیں گے ‘۔

صحیح بخاری شریف میں ہے کہ { خیبر کے میدانوں میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا لشکر صبح ہی صبح کفار کی بے خبری میں پہنچ گیا وہ لوگ حسب عادت اپنی کھیتیوں کے آلات لے کر شہر سے نکلے اور اس اللہ کی فوج کو دیکھ کر بھاگے اور شہر والوں کو خبر کی، اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی فرمایا کہ { اللہ بہت بڑا ہے خیبر خراب ہوا۔ ہم جب کسی قوم کے میدان میں اتر آتے ہیں اس وقت ان کی درگت ہوتی ہے } }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:371] ‏‏‏‏ پھر دوبارہ پہلے حکم کی تاکید کی کہ ’ تو ان سے ایک مدت معین تک کے لیے بے پرواہ ہو جا اور انہیں چھوڑ دے اور دیکھتا رہ یہ بھی دیکھ لیں گے ‘۔

📖 احسن البیان

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 179،178) {وَ تَوَلَّ عَنْهُمْ حَتّٰى حِيْنٍ …:} تاکید کے لیے بات دوبارہ دہرائی، تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی ہو اور شاید کفار عبرت حاصل کرلیں۔ یہاں صرف {” اَبْصِرْ “} فرمایا، {”أَبْصِرْهُمْ“} نہیں فرمایا، اس لیے کہ پہلے ان کا ذکر ہو چکا ہے، یا اس لیے کہ پہلے صرف کفار مکہ کو دیکھنے کا حکم ہے، اب عموم کے لیے {”هُمْ“} کو حذف کر دیا کہ صرف کفار قریش ہی کو نہیں بلکہ سب جھٹلانے والوں کو اور ان کے ہر حال کو دیکھتے جاؤ، بہت جلد وہ بھی انجام دیکھ لیں گے۔
← پچھلی آیت (177) پوری سورۃ اگلی آیت (179) →