بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ الصافات — Surah Saffat
آیت نمبر 174
کل آیات: 182
قرآن کریم الصافات آیت 174
آیت نمبر: 174 — سورۃ الصافات islamicurdubooks.com ↗
فَتَوَلَّ عَنۡہُمۡ حَتّٰی حِیۡنٍ ﴿۱۷۴﴾ۙ
پس اے نبیؐ، ذرا کچھ مدّت تک انہیں اِن کے حال پر چھوڑ دو
اب آپ کچھ دنوں تک ان سے منھ پھیر لیجئے
تو ایک وقت تم ان سے منہ پھیر لو
سو ایک مدت تک ان سے بے اعتنائی کیجئے۔
سو ایک وقت تک ان سے منہ موڑ لے۔

📖 تفسیر ابن کثیر

عذاب الٰہی آ کر رہے گا ٭٭

ارشاد باری ہے کہ ہم تو اگلی کتابوں میں بھی لکھ آئے ہیں پہلے نبیوں کی زبانی بھی دنیا کو سنا چکے ہیں کہ دنیا اور آخرت میں ہمارے رسول اور ان کے تابعداروں ہی کا انجام بہتر ہوتا ہے جیسے فرمایا «كَتَبَ اللّٰهُ لَاَغْلِبَنَّ اَنَا وَرُسُلِيْ ۭ اِنَّ اللّٰهَ قَوِيٌّ عَزِيْزٌ» ۱؎ [58-المجادلة:21] ‏‏‏‏، اور فرمایا «اِنَّا لَنَنْصُرُ رُسُلَنَا وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا وَيَوْمَ يَقُوْمُ الْاَشْهَادُ» ۱؎ [40-غافر:51] ‏‏‏‏، یعنی ’ میں، میرے رسول اور ایماندار ہی دونوں جہان میں غالب رہیں گے ‘۔ یہاں بھی یہی فرمایا کہ ’ رسولوں سے ہمارا وعدہ ہو چکا ہے۔ کہ وہ منصور ہیں۔ ہم خود ان کی مدد کریں گے۔ دیکھتے چلے آؤ کہ ان کے دشمن کس طرح خاک میں ملا دیئے گئے؟ یاد رکھو ہمارا لشکر ہی غالب رہے گا۔ انجام کار انہی کے ہاتھ رہے گا۔ تو ایک وقت مقررہ تک صبر و استقامت سے معاملہ دیکھتا رہ ان کی ایذاؤں پر صبر کر ہم تجھے ان سب پر غالب کر دیں گے۔ دنیا نے دیکھ لیا کہ یہی ہوا بھی تو انہیں دیکھتا رہ کہ کس طرح اللہ کی پکڑ ان پر نازل ہوتی ہے؟ اور کس طرح یہ ذلت و توہین کے ساتھ پکڑ لیے جاتے ہیں؟ یہ خود ان تمام رسوائیوں کو ابھی ابھی دیکھ لیں گے۔ تعجب سا تعجب ہے کہ یہ طرح طرح کے چھوٹے چھوٹے عذابوں کی گرفت کے باوجود ابھی تک بڑے عذاب کو محال جانتے ہوئے کہتے ہیں کہ وہ کب آئے گا؟ ‘ پس انہیں جواب ملتا ہے کہ ’ جب عذاب ان کے میدانوں میں، محلوں میں، انگنائیوں میں آئے گا وہ دن ان پر بڑا ہی بھاری دن ہو گا۔ یہ ہلاک اور برباد کر دیئے جائیں گے ‘۔

صحیح بخاری شریف میں ہے کہ { خیبر کے میدانوں میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا لشکر صبح ہی صبح کفار کی بے خبری میں پہنچ گیا وہ لوگ حسب عادت اپنی کھیتیوں کے آلات لے کر شہر سے نکلے اور اس اللہ کی فوج کو دیکھ کر بھاگے اور شہر والوں کو خبر کی، اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی فرمایا کہ { اللہ بہت بڑا ہے خیبر خراب ہوا۔ ہم جب کسی قوم کے میدان میں اتر آتے ہیں اس وقت ان کی درگت ہوتی ہے } }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:371] ‏‏‏‏ پھر دوبارہ پہلے حکم کی تاکید کی کہ ’ تو ان سے ایک مدت معین تک کے لیے بے پرواہ ہو جا اور انہیں چھوڑ دے اور دیکھتا رہ یہ بھی دیکھ لیں گے ‘۔

📖 احسن البیان

174۔ 1 یعنی ان کی باتوں اور ایذاؤں پر صبر کیجئے۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 175،174) {فَتَوَلَّ عَنْهُمْ حَتّٰى حِيْنٍ …:} ”ایک وقت“ سے مراد یہ بھی ہو سکتا ہے کہ جب تک ہم آپ کو جنگ کی اجازت نہیں دیتے آپ انھیں ان کے حال پر چھوڑے رکھیں، بس زبانی طور پر دعوت و تبلیغ کا کام کرتے رہیں اور انھیں دیکھتے جائیں، بہت جلد یہ اپنا انجام دیکھ لیں گے۔ یاد رہے، یہ آیات مکی دور کی ہیں۔ اور ”ایک وقت“ سے ”یوم بدر“ بھی مراد ہو سکتا ہے اور فتح مکہ بھی۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا، ہجرت کے بعد جب جہاد شروع ہوا تو کچھ زیادہ مدت نہ گزری تھی کہ کفار نے اپنی شکست اور مسلمانوں کی فتح کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا اور ان آیات کے اترنے کے بعد چودہ، پندرہ سال ہی گزرے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جس مکہ سے چھپ کر نکلے تھے، اسی مکہ میں دن کی روشنی میں دس ہزار قدوسیوں کے ساتھ فاتحانہ شان سے داخل ہوئے اور کوئی مقابلے میں نہ ٹھہر سکا۔ پھر چند سال بعد ہی ساری دنیا نے اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا کہ مسلمان صرف عرب ہی نہیں بلکہ روم، مصر اور ایران وغیرہ پر بھی غالب آ گئے۔
← پچھلی آیت (173) پوری سورۃ اگلی آیت (175) →