بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ الصافات — Surah Saffat
آیت نمبر 116
کل آیات: 182
قرآن کریم الصافات آیت 116
آیت نمبر: 116 — سورۃ الصافات islamicurdubooks.com ↗
وَ نَصَرۡنٰہُمۡ فَکَانُوۡا ہُمُ الۡغٰلِبِیۡنَ ﴿۱۱۶﴾ۚ
اُنہیں نصرت بخشی جس کی وجہ سے وہی غالب رہے
اور ان کی مدد کی تو وہی غالب رہے
اور ان کی ہم نے مدد فرمائی تو وہی غالب ہوئے
اور ہم نے ان کی مدد کی (جس کی وجہ سے) وہی غالب رہے۔
اور ہم نے ان کی مدد کی تو وہی غالب ہوئے۔

📖 تفسیر ابن کثیر

موسیٰ علیہ السلام پر انعامات الٰہی ٭٭

اللہ تعالیٰ موسیٰ اور ہارون علیہم السلام پر اپنی نعمتیں جتا رہا ہے کہ ’ انہیں نبوت دی انہیں مع ان کی قوم کے فرعون جیسے طاقتور دشمن سے نجات دی جس نے انہیں بےطرح پست و ذلیل کر رکھا تھا ان کے بچوں کو کاٹ دیتا تھا ان کی لڑکیوں کو رہنے دیتا تھا ان سے ذلیل مزدوریاں کراتا تھا اور بے حیثیت بنا رکھا تھا۔ ایسے بدترین دشمن کو ان کے دیکھتے ہلاک کیا، انہیں اس پر غالب کر دیا ان کی زمین و زر کے یہ مالک بن گئے۔ پھر موسیٰ کو واضح جلی روشن اور بین کتاب عنایت فرمائی جو حق و باطل میں فرق و فیصلہ کرنے والی اور نور و ہدایت والی تھی، ان کے اقوال و افعال میں انہیں استقامت عطا فرمائی اور ان کے بعد والوں میں بھی ان کا ذکر خیر اور ثناء و صفت باقی رکھی کہ ہر زبان ان پر سلام ہی پڑھتی ہے۔ ہم نیک کاروں کو یہی اور ایسے ہی بدلے دیتے ہیں۔ وہ ہمارے مومن بندے تھے ‘۔

📖 احسن البیان

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 116) {وَ نَصَرْنٰهُمْ فَكَانُوْا هُمُ الْغٰلِبِيْنَ: ”هُمْ“} ضمیر جمع لانے کی وجہ یہ ہے کہ فرعون سے نجات اور اس پر اور اس کی آل یعنی قبطیوں پر فتح و نصرت صرف موسیٰ اور ہارون علیھما السلام کو نہیں بلکہ تمام بنی اسرائیل کو حاصل ہوئی۔
← پچھلی آیت (115) پوری سورۃ اگلی آیت (117) →