بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ الصافات — Surah Saffat
آیت نمبر 117
کل آیات: 182
قرآن کریم الصافات آیت 117
آیت نمبر: 117 — سورۃ الصافات islamicurdubooks.com ↗
وَ اٰتَیۡنٰہُمَا الۡکِتٰبَ الۡمُسۡتَبِیۡنَ ﴿۱۱۷﴾ۚ
ان کو نہایت واضح کتاب عطا کی
اور ہم نے انہیں (واضح اور) روشن کتاب دی
اور ہم نے ان دونوں کو روشن کتاب عطا فرمائی
اور ہم نے ان دونوں کو واضح کتاب (توراۃ) عطا کی۔
اور ہم نے ان دونوں کو نہایت واضح کتاب دی۔

📖 تفسیر ابن کثیر

موسیٰ علیہ السلام پر انعامات الٰہی ٭٭

اللہ تعالیٰ موسیٰ اور ہارون علیہم السلام پر اپنی نعمتیں جتا رہا ہے کہ ’ انہیں نبوت دی انہیں مع ان کی قوم کے فرعون جیسے طاقتور دشمن سے نجات دی جس نے انہیں بےطرح پست و ذلیل کر رکھا تھا ان کے بچوں کو کاٹ دیتا تھا ان کی لڑکیوں کو رہنے دیتا تھا ان سے ذلیل مزدوریاں کراتا تھا اور بے حیثیت بنا رکھا تھا۔ ایسے بدترین دشمن کو ان کے دیکھتے ہلاک کیا، انہیں اس پر غالب کر دیا ان کی زمین و زر کے یہ مالک بن گئے۔ پھر موسیٰ کو واضح جلی روشن اور بین کتاب عنایت فرمائی جو حق و باطل میں فرق و فیصلہ کرنے والی اور نور و ہدایت والی تھی، ان کے اقوال و افعال میں انہیں استقامت عطا فرمائی اور ان کے بعد والوں میں بھی ان کا ذکر خیر اور ثناء و صفت باقی رکھی کہ ہر زبان ان پر سلام ہی پڑھتی ہے۔ ہم نیک کاروں کو یہی اور ایسے ہی بدلے دیتے ہیں۔ وہ ہمارے مومن بندے تھے ‘۔

📖 احسن البیان

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 117) {وَ اٰتَيْنٰهُمَا الْكِتٰبَ الْمُسْتَبِيْنَ: ”اَلْمُبِيْنُ“} باب افعال سے اسم فاعل ہے، معنی ہے ”واضح“ اور {” الْمُسْتَبِيْنَ “} باب استفعال سے اسم فاعل ہے، اس میں حروف زیادہ ہونے کی وجہ سے معنی میں مبالغہ ہے، اس لیے ترجمہ ”نہایت واضح“ کیا گیا ہے، مراد تورات ہے۔
← پچھلی آیت (116) پوری سورۃ اگلی آیت (118) →