بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ الصافات — Surah Saffat
آیت نمبر 115
کل آیات: 182
قرآن کریم الصافات آیت 115
آیت نمبر: 115 — سورۃ الصافات islamicurdubooks.com ↗
وَ نَجَّیۡنٰہُمَا وَ قَوۡمَہُمَا مِنَ الۡکَرۡبِ الۡعَظِیۡمِ ﴿۱۱۵﴾ۚ
اُن کو اور ان کی قوم کو کرب عظیم سے نجات دی
اور انہیں اور ان کی قوم کو بہت بڑے دکھ درد سے نجات دے دی
اور انہیں اور ان کی قوم کو بڑی سختی سے نجات بخشی
اور ہم نے ان دونوں کو اور ان کی قوم کو عظیم کرب و بلا سے نجات دی۔
اور ہم نے ان دونوں کو اور دونوں کی قوم کو بہت بڑی مصیبت سے نجات دی۔

📖 تفسیر ابن کثیر

موسیٰ علیہ السلام پر انعامات الٰہی ٭٭

اللہ تعالیٰ موسیٰ اور ہارون علیہم السلام پر اپنی نعمتیں جتا رہا ہے کہ ’ انہیں نبوت دی انہیں مع ان کی قوم کے فرعون جیسے طاقتور دشمن سے نجات دی جس نے انہیں بےطرح پست و ذلیل کر رکھا تھا ان کے بچوں کو کاٹ دیتا تھا ان کی لڑکیوں کو رہنے دیتا تھا ان سے ذلیل مزدوریاں کراتا تھا اور بے حیثیت بنا رکھا تھا۔ ایسے بدترین دشمن کو ان کے دیکھتے ہلاک کیا، انہیں اس پر غالب کر دیا ان کی زمین و زر کے یہ مالک بن گئے۔ پھر موسیٰ کو واضح جلی روشن اور بین کتاب عنایت فرمائی جو حق و باطل میں فرق و فیصلہ کرنے والی اور نور و ہدایت والی تھی، ان کے اقوال و افعال میں انہیں استقامت عطا فرمائی اور ان کے بعد والوں میں بھی ان کا ذکر خیر اور ثناء و صفت باقی رکھی کہ ہر زبان ان پر سلام ہی پڑھتی ہے۔ ہم نیک کاروں کو یہی اور ایسے ہی بدلے دیتے ہیں۔ وہ ہمارے مومن بندے تھے ‘۔

📖 احسن البیان

115۔ 1 یعنی فرعون کی غلامی اور اس کے ظلم وستم سے نجات۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 115) {وَ نَجَّيْنٰهُمَا وَ قَوْمَهُمَا مِنَ الْكَرْبِ الْعَظِيْمِ:} بہت بڑی مصیبت سے مراد فرعون کی غلامی، لڑکوں کا قتل اور عورتوں کا باقی رکھنا ہے۔ علاوہ ازیں سمندر میں غرق ہونے سے نجات بھی کرب عظیم سے نجات ہے۔
← پچھلی آیت (114) پوری سورۃ اگلی آیت (116) →