بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ الصافات — Surah Saffat
آیت نمبر 141
کل آیات: 182
قرآن کریم الصافات آیت 141
آیت نمبر: 141 — سورۃ الصافات islamicurdubooks.com ↗
فَسَاہَمَ فَکَانَ مِنَ الۡمُدۡحَضِیۡنَ ﴿۱۴۱﴾ۚ
پھر قرعہ اندازی میں شریک ہوا اور اس میں مات کھائی
پھر قرعہ اندازی ہوئی تو یہ مغلوب ہوگئے
تو قرعہ ڈالا تو ڈھکیلے ہوؤں میں ہوا،
پھر وہ قرعہ اندازی میں شریک ہوئے تو وہ پھینک دیئے گئے۔
پھر وہ قرعہ میں شریک ہو ا تو ہارنے والوں میں سے ہو گیا۔

📖 تفسیر ابن کثیر

واقعہ یونس علیہ السلام ٭٭

حضرت یونس علیہ السلام کا قصہ سورۃ یونس میں بیان ہو چکا ہے۔ بخاری مسلم میں حدیث ہے کہ { کسی بندے کو یہ لائق نہیں کہ وہ کہے میں یونس بن متی سے افضل ہوں }۔۱؎ [صحیح بخاری:3413] ‏‏‏‏ یہ نام ممکن ہے آپ علیہ السلام کی والدہ کا ہو اور ممکن ہے والد کا ہو۔ یہ بھاگ کر مال و اسباب سے لدی ہوئی کشتی پر سوار ہوگئے۔ وہاں قرعہ اندازی ہوئی اور یہ مغلوب ہوگئے کشتی کے چلتے ہی چاروں طرف سے موجیں اٹھیں اور سخت طوفان آیا۔ یہاں تک کہ سب کو اپنی موت کا اور کشتی کے ڈوب جانے کا یقین ہو گیا۔ سب آپس میں کہنے لگے کہ قرعہ ڈالو جس کے نام کا قرعہ نکلے اسے سمندر میں ڈال دو تاکہ سب بچ جائیں اور کشتی اس طوفان سے چھوٹ جائے۔ تین دفعہ قرعہ اندازی ہوئی اور تینوں مرتبہ اللہ کے پیارے پیغبمر یونس علیہ السلام کا ہی نام نکلا۔ اہل کشتی آپ علیہ السلام کو پانی میں بہانا نہیں چاہتے تھے لیکن کیا کرتے باربار کی قرعہ اندازی پر بھی آپ علیہ السلام کا نام نکلتا رہا اور خود آپ علیہ السلام کپڑے اتار کر باوجود ان لوگوں کے روکنے کے سمندر میں کود پڑے۔ اس وقت بحر اخضر کی ایک بہت بڑی مچھلی کو جناب باری کا فرمان سرزد ہوا کہ ’ وہ دریاؤں کو چیرتی پھاڑتی جائے اور یونس کو نگل لے لیکن نہ تو ان کا جسم زخمی ہو نہ کوئی ہڈی ٹوٹے ‘۔ چنانچہ اس مچھلی نے پیغمبر اللہ علیہ السلام کو نگل لیا اور سمندروں میں چلنے پھرنے لگی۔ جب یونس علیہ السلام پوری طرح مچھلی کے پیٹ میں جا چکے تو آپ علیہ السلام کو خیال گذرا کہ میں مر چکا ہوں لیکن جب ہاتھ پیروں کو حرکت دی اور ہلے جلے تو زندگی کا یقین کر کے وہیں کھڑے ہو کر نماز شروع کر دی اور اللہ تعالیٰ سے عرض کی کہ ”اے پروردگار میں نے تیرے لیے اس جگہ مسجد بنائی ہے جہاں کوئی نہ پہنچا ہو گا۔‏‏‏‏“ تین دن یا سات دن یا چالیس دن ایک ایک دن سے بھی کم یا صرف ایک رات تک مچھلی کے پیٹ میں رہے۔ ’ اگر یہ ہماری پاکیزگی بیان کرنے والوں میں سے نہ ہوتے، یعنی جبکہ فراخی اور کشادگی اور امن و امان کی حالت میں تھے اس وقت ان کی نیکیاں اگر نہ ہوتیں ‘۔ ایک حدیث بھی اس قسم کی ہے جو عنقریب بیان ہو گی ان شاءاللہ تعالیٰ۔

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کی حدیث میں ہے { آرام اور راحت کے وقت اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو تو وہ سختی اور بے چینی کے وقت تمہاری مدد کرے گا۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگر یہ پابند نماز نہ ہوتے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگر مچھلی کے پیٹ میں نماز نہ پڑھتے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگر یہ «لَّآ اِلٰهَ اِلَّآ اَنْتَ سُبْحٰــنَكَ اِنِّىْ كُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِيْنَ» ۱؎ [21-الأنبياء:87] ‏‏‏‏ کے ساتھ ہماری تسبیح نہ کرتے }۔ چنانچہ قرآن کریم کی اور آیتوں میں ہے کہ ’ اس نے اندھیروں میں یہی کلمات کہے اور ہم نے اس کی دعا قبول فرما کر اسے غم سے نجات دی اور اسی طرح ہم مومنوں کو نجات دیتے ہیں ‘۔ ابن ابی حاتم کی ایک حدیث میں ہے کہ { یونس علیہ السلام نے جب مچھلی کے پیٹ میں ان کلمات کو کہا تو یہ دعا عرش اللہ کے اردگرد منڈلانے لگی اور فرشتوں نے کہا ”اللہ یہ آواز تو کہیں بہت ہی دور کی ہے لیکن اس آواز سے ہمارے کان آشنا ضرور ہیں۔‏‏‏‏“ اللہ نے فرمایا ’ اب بھی پہچان لیا یہ کس کی آواز ہے؟ ‘ انہوں نے کہا نہیں پہچانا فرمایا ’ یہ میرے بندے یونس کی آواز ہے ‘۔ فرشتوں نے کہا وہی یونس جس کے نیک اعمال اور مقبول دعائیں ہمیشہ آسمان پر چڑھتی رہتی تھیں؟ اللہ اس پر تو ضرور رحم فرما اس کی دعا قبول کر وہ تو آسانیوں میں بھی تیرا نام لیا کرتا تھا۔ اسے بلا سے نجات دے۔ اللہ نے فرمایا ’ ہاں! میں اسے نجات دوں گا ‘۔ چنانچہ مچھلی کو حکم ہوا کہ میدان میں یونس کو اگل دے اور اس نے اگل دیا اور وہیں اللہ تعالیٰ نے ان پر ان کی نخیفی کمزوری اور بیماری کی وجہ سے چھاؤں کے لیے کدو کی بیل اگا دی اور ایک جنگلی بکری کو مقرر کر دیا جو صبح شام ان کے پاس آ جاتی تھی اور یہ اس کا دودھ پی لیا کرتے تھے }۔۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:29601:ضعیف] ‏‏‏‏

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت سے یہ واقعات مرفوع احادیث سے سورۃ انبیاء کی تفسیر میں بیان ہو چکے ہیں۔ ’ ہم نے انہیں اس زمین میں ڈال دیا جہاں سبزہ روئیدگی گھاس کچھ نہ تھا ‘۔ دجلہ کے کنارے یا یمن کی سر زمین پر یہ لادے گئے تھے۔ وہ اس وقت کمزور تھے جیسے پرندوں کے بچے ہوتے ہیں۔ یا بچہ جس وقت پیدا ہوتا ہے۔ یعنی صرف سانس چل رہا تھا اور طاقت ہلنے جلنے کی بھی نہ تھی۔ «یقطین» کدو کے درخت کو بھی کہتے ہیں اور ہر اس درخت کو جس کا تنا نہ ہو یعنی بیل ہو اور اس درخت کو بھی جس کی عمر ایک سال سے زیادہ نہیں ہوتی۔ کدو میں بہت سے فوائد ہیں یہ بہت جلد اگتا اور بڑھتا ہے اس کے پتوں کا سایہ گھنا اور فرحت بخش ہوتا ہے کیونکہ وہ بڑے بڑے ہوتے ہیں اور اس کے پاس مکھیاں نہیں آتیں۔ یہ غذا کا کام دے جاتا ہے اور چھلکے اور گودے سمیت کھایا جاتا ہے۔ صحیح حدیث میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کدو یعنی گھیا بہت پسند تھا اور برتن میں سے چن چن کر اسے کھاتے تھے }۔۱؎ [صحیح بخاری:5435] ‏‏‏‏

پھر انہیں ایک لاکھ بلکہ زیادہ آدمیوں کی طرف رسالت کے ساتھ بھیجا گیا۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اس سے پہلے آپ رسول نہ تھے۔ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں مچھلی کے پیٹ میں جانے سے پہلے ہی آپ علیہ السلام اس قوم کی طرف رسول بنا کر بھیجے گئے تھے۔ دونوں قولوں سے اس طرح تضاد اٹھ سکتا ہے کہ پہلے بھی ان کی طرف بھیجے گئے تھے اب دوبارہ بھی ان ہی کی طرف بھیجے گئے اور وہ سب ایمان لائے اور آپ کی تصدیق کی۔ بغوی رحمہ اللہ کہتے ہیں مچھلی کے پیٹ سے نجات پانے کے بعد دوسری قوم کی طرف بھیجے گئے تھے۔ یہاں «اَوْ» معنی میں بلکہ کے ہے اور وہ ایک لاکھ تیس ہزار یا اس سے بھی کچھ اوپر۔ یا ایک لاکھ چالیس ہزار سے بھی زیادہ یا ستر ہزار سے بھی زیادہ یا ایک لاکھ دس ہزار اور ایک غریب مرفوع حدیث کی رو سے { ایک لاکھ بیس ہزار تھے }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:3229،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏‏‏‏ یہ مطلب بھی بیان کیا گیا ہے کہ انسانی اندازہ ایک لاکھ سے زیادہ ہی کا تھا۔ ابن جریر رحمہ اللہ کا یہی مسلک ہے اور یہی مسلک ان کا آیت «‏‏‏‏اَوْ اَشَدُّ قَسْوَةً» [2-البقرة:74] ‏‏‏‏ اور آیت «اَوْ اَشَدَّ خَشْـيَةً» ۱؎ [4-النساء:77] ‏‏‏‏ اور آیت «اَوْ اَدْنٰى» ۱؎ [53-النجم:9] ‏‏‏‏ میں ہے یعنی ’ اس سے کم نہیں اس سے زائد ہے ‘۔ پس قوم یونس علیہ السلام سب کی سب مسلمان ہو گئی، یونس علیہ السلام کی تصدیق کی اور اللہ پر ایمان لے آئے۔ ’ ہم نے بھی ان کے مقررہ وقت یعنی موت کی گھڑی تک دنیوی فائدے دئے اور آیت میں ہے «فَلَوْلَا كَانَتْ قَرْ‌يَةٌ آمَنَتْ فَنَفَعَهَا إِيمَانُهَا إِلَّا قَوْمَ يُونُسَ لَمَّا آمَنُوا كَشَفْنَا عَنْهُمْ عَذَابَ الْخِزْيِ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَمَتَّعْنَاهُمْ إِلَىٰ حِينٍ» ۱؎ [10-يونس:98] ‏‏‏‏ ’ کسی بستی کے ایمان نے انہیں (‏‏‏‏عذاب آ چکنے کے بعد) نفع نہیں دیا سوائے قوم یونس کے وہ جب ایمان لائے تو ہم نے ان پر سے عذاب ہٹا لیے اور انہیں ایک معیاد معین تک بہرہ مند کیا ‘۔

📖 احسن البیان

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 141) ➊ { فَسَاهَمَ فَكَانَ مِنَ الْمُدْحَضِيْنَ:”سَاهَمَ“} (مفاعلہ) قرعہ میں حصہ لینا۔ {” الْمُدْحَضِيْنَ”أَدْحَضَ يُدْحِضُ“} (افعال) میں سے اسم مفعول ہے، پھسلانا، باطل کرنا۔ ان آیات سے واقعہ کی یہ صورت سمجھ میں آتی ہے کہ یونس علیہ السلام جس کشتی میں سوار ہوئے وہ اپنی گنجائش سے زیادہ بھرئی ہوئی تھی۔ دوران سفر طوفان یا کسی خطرے کی صورت میں زائد بوجھ کم کرنے کے لیے پہلے سامان سمندر میں پھینکا جاتا ہے، اس کے بعد بھی اگر خطرہ باقی رہے تو کچھ آدمیوں کو پھینک دیا جاتا ہے، تاکہ سب لوگ غرق نہ ہوں۔ یونس علیہ السلام جس کشتی میں سوار ہوئے اس کے ساتھ بھی ایسا ہی معاملہ پیش آیا۔ چنانچہ فیصلہ ہوا کہ قرعہ ڈالا جائے اور جن لوگوں کا نام پھینکنے کے لیے نکلے، انھیں سمندر میں پھینک دیا جائے۔ قرعہ ڈالا گیا تو یونس علیہ السلام کا نام بھی ان لوگوں میں نکلا جو سمندر میں پھینکے جانے والے تھے۔ {” فَكَانَ مِنَ الْمُدْحَضِيْنَ “} (تو وہ قرعہ ہارنے والوں یا پھسلائے گئے آدمیوں میں سے ہو گیا) کے الفاظ سے ظاہر ہے کہ قرعہ میں یونس علیہ السلام کے ساتھ اور لوگوں کا نام بھی نکلا، اللہ بہتر جانتا ہے کہ وہ کتنے تھے۔ مختصر یہ کہ سب کو اٹھا کر سمندر میں پھینک دیا گیا۔ ➋ اس مقام پر بعض تفاسیر میں لکھا ہے: ”جب یونس علیہ السلام کشتی میں سوار ہو گئے اور کشتی گہرے پانی میں پہنچی تو آگے بڑھنے کے بجائے چکر کھانے لگی۔ کشتی والوں نے کشتی میں سوار لوگوں سے کہا کہ ایسا معاملہ ہمیں اس وقت پیش آتا ہے جب کوئی بھاگا ہوا غلام کشتی میں سوار ہو۔ انھوں نے قرعہ ڈالا کہ جس کا نام قرعہ میں نکلے اسے سمندر میں پھینک دیا جائے۔ تین بار قرعہ ڈالا گیا، لیکن وہ ہر بار یونس علیہ السلام ہی کے نام پر نکلا۔ بار بار قرعہ اس لیے ڈالا گیا کہ وہ لوگ یونس علیہ السلام کی نیکی دیکھ کر انھیں سمندر میں پھینکنا نہیں چاہتے تھے۔ جب تین بار قرعہ انھی کے نام پر نکلا تو وہ خود ہی یہ کہہ کر سمندر میں کودنے کے لیے تیار ہو گئے کہ وہ بھاگا ہوا غلام میں ہوں۔“ اس حکایت میں وہ باتیں ہیں جو قرآن و حدیث میں نہیں ہیں اور نہ ہی کسی معتبر ذریعے سے ثابت ہیں، اس لیے ان کا اعتبار مشکل ہے۔
← پچھلی آیت (140) پوری سورۃ اگلی آیت (142) →