بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ الصافات — Surah Saffat
آیت نمبر 137
کل آیات: 182
قرآن کریم الصافات آیت 137
آیت نمبر: 137 — سورۃ الصافات islamicurdubooks.com ↗
وَ اِنَّکُمۡ لَتَمُرُّوۡنَ عَلَیۡہِمۡ مُّصۡبِحِیۡنَ ﴿۱۳۷﴾
آج تم شب و روز اُن کے اجڑے دیار پر سے گزرتے ہو
اور تم تو صبح ہونے پر ان کی بستیوں کے پاس سے گزرتے ہو
او ربیشک تم ان پر گزرتے ہو صبح کو،
اور تم لوگ صبح بھی ان (کی ویران شدہ بستیوں) پر سے گزرتے ہو۔
اور بلا شبہ تم یقینا صبح جاتے ہوئے ان پر سے گزرتے ہو۔

📖 تفسیر ابن کثیر

قوم لوط علیہ السلام ایک عبرت کا مقام ٭٭

اللہ تعالیٰ کے بندے اور اس کے رسول لوط علیہ السلام کا بیان ہو رہا ہے کہ ’ انہیں بھی ان کی قوم نے جھٹلایا۔ جس پر اللہ کے عذاب ان پر برس پڑے اور اللہ نے اپنے پیارے لوط علیہ السلام کو مع ان کے گھر والوں کے نجات دے دی۔ لیکن ان کی بیوی غارت ہوئی قوم کے ساتھ ہی ہلاک ہوئی اور ساری قوم بھی تباہ ہوئی۔ قسم قسم کے عذاب ان پر آئے اور جس جگہ وو رہتے تھے وہاں ایک بدبودار اور جھیل بن گئی جس کا پانی بدمزہ بدبو بد رنگ ہے جو آنے جانے والوں کے راستے میں ہی پڑی ہے۔ تم تو دن رات وہاں سے آتے جاتے رہتے ہو اور اس خوفناک منظر اور بھیانک مقام کو صبح شام دیکھتے رہتے ہو۔ کیا اس معائنہ کے بعد بھی عبرت حاصل نہیں کرتے اور سوچتے سمجھتے نہیں ہو؟ کس طرح یہ برباد کر دیئے گئے؟ ایسا نہ ہو کہ یہی عذاب تم پر بھی آ جائیں ‘۔

📖 احسن البیان

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 138،137) {وَ اِنَّكُمْ لَتَمُرُّوْنَ عَلَيْهِمْ مُّصْبِحِيْنَ …:} یعنی تم تجارت کے لیے شام و فلسطین کی طرف جاتے اور آتے ہوئے دن رات اور صبح و شام قوم لوط کی تباہ شدہ بستیوں کے پاس سے گزرتے ہو، تو کیا تم عقل نہیں کرتے اور تمھیں ان کے انجام سے عبرت نہیں ہوتی؟
← پچھلی آیت (136) پوری سورۃ اگلی آیت (138) →