حمد اُس خدا کے لیے ہے جو آسمانوں اور زمین کی ہر چیز کا مالک ہے اور آخرت میں بھی اسی کے لیے حمد ہے وہ دانا اور باخبر ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
تمام تعریفیں اس اللہ کے لئے سزاوار ہیں جس کی ملکیت میں وه سب کچھ ہے جو آسمانوں اور زمین میں ہے آخرت میں بھی تعریف اسی کے لئے ہے، وه (بڑی) حکمتوں واﻻ اور (پورا) خبردار ہے
احمد رضا خان بریلوی
سب خوبیاں اللہ کو کہ اسی کا مال ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں اور آخرت میں اسی کی تعریف ہے اور وہی ہے حکمت والا خبردار،
علامہ محمد حسین نجفی
ہر قِسم کی تعریف اس خدا کیلئے ہے جو آسمانوں اور زمین کی ہر چیز کا مالک ہے اور آخرت میں بھی ہر قسم کی تعریف اسی کیلئے ہے اور وہ بڑا حکمت والا، بڑا باخبر ہے۔
عبدالسلام بن محمد
سب تعریف اس اللہ کے لیے ہے کہ جو کچھ آسمانوں میں اور جو کچھ زمین میں ہے اسی کا ہے اور آخرت میں بھی سب تعریف اسی کے لیے ہے اور وہی کمال حکمت والا، ہر چیز کی خبر رکھنے والا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
اوصاف الٰہی ٭٭
چونکہ دنیا اور آخرت کی سب نعمتیں رحمتیں اللہ ہی کی طرف سے ہیں۔ ساری حکومتوں کا حاکم وہی ایک ہے۔ اس لیے ہر قسم کی تعریف و ثناء کا مستحق بھی وہی ہے۔ وہی معبود ہے جس کے سوا کوئی لائق عبادت نہیں۔ اسی کے لئے دنیا اور آخرت کی حمد و ثناء سزاوار ہے۔ اسی کی حکومت ہے اور اسی کی طرف سب کے سب لوٹائے جاتے ہیں۔ زمین و آسمان میں جو کچھ ہے سب اس کے ماتحت ہے۔ جتنے بھی ہیں سب اس کے غلام ہیں۔ اس کے قبضے میں ہیں سب پر تصرف اسی کا ہے۔ جیسے اور آیت میں ہے «وَإِنَّ لَنَا لَلْآخِرَةَ وَالْأُولَىٰ» ۱؎ [92-الليل:13] آخرت میں اسی کی تعریفیں ہوں گی۔ وہ اپنے اقوال، افعال، تقدیر، شریعت سب پر حکومت والا ہے اور ایسا خبردار ہے جس پر کوئی چیز مخفی نہیں۔ جس سے کوئی ذرہ پوشیدہ نہیں۔ جو اپنے احکام میں حکیم جو اپنی مخلوق سے باخبر جتنے قطرے بارش کے زمین میں جاتے ہیں جتنے دانے اس میں بوئے جاتے ہیں اس کے علم سے باہر نہیں۔ جو زمین سے نکلتا ہے اگتا ہے اسے بھی وہ جانتا ہے اس کے محیط، وسیع اور بےپایاں علم سے کوئی چیز دور نہیں۔ ہر چیز کی گنتی کیفیت اور صفت اسے معلوم ہے۔ آسمان سے جو بارش برستی ہے اس کے قطروں کی گنتی بھی اس کے علم میں محفوظ ہے جو رزق وہاں سے اترتا ہے اس کے علم سے نیک اعمال وغیرہ جو آسمان پر چڑھتے ہیں وہ بھی اس کے علم میں ہیں۔ وہ اپنے بندوں پر خود ان سے بھی زیادہ مہربان ہے۔ اسی وجہ سے ان کے گناہوں پر اطلاع رکھتے ہوئے انہیں جلدی سے سزا نہیں دیتا بلکہ مہلت دیتا ہے کہ وہ توبہ کر لیں۔ برائیاں چھوڑ دیں رب کی طرف رجوع کریں۔ پھر غفور ہے۔ ادھر بندہ جھکا رویا پیٹا ادھر اس نے بخش دیا یا معاف فرما دیا درگزر کر لیا۔ توبہ کرنے والا دھتکارا نہیں جاتا۔ توکل کرنے والا نقصان نہیں اٹھاتا۔
تمام تعریفیں اس اللہ کے لئے سزاوار ہیں جس کی ملکیت میں وہ سب کچھ ہے جو آسمان اور زمین میں ہے (1) آخرت میں بھی تعریف اسی کے لئے ہے (2) وہ (بڑی) حکمتوں والا اور پورا خبردار ہے
(آیت 1) ➊ {اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِيْ لَهٗ مَا فِي السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِي الْاَرْضِ …:} حمد کا معنی کسی کی خوبی کی وجہ سے تعریف ہے۔ یہ سورت ان پانچ سورتوں میں سے ایک ہے جن کی ابتدا {” اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ “} سے ہوتی ہے اور وہ ہیں سورۂ فاتحہ، انعام، کہف، سبا اور فاطر۔ پانچوں میں سب تعریف اللہ کے لیے ہونے کی الگ الگ دلیل بیان کی گئی ہے، اگرچہ ان سب کا ایک دوسری کے ساتھ بھی تعلق ہے۔ {” اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ “} کہنے میں صرف یہی بات نہیں آتی کہ ساری تعریف اللہ کے لیے ہے، بلکہ یہ بات بھی آتی ہے کہ تمام خوبیوں کا مالک بھی وہی ہے، کیونکہ خوبی نہ ہو تو تعریف کیسی؟ اور سب تعریف اور تمام خوبیاں اللہ کے لیے ہونے کی دلیل یہ ہے کہ آسمانوں میں جو کچھ ہے، یا زمین میں جو کچھ ہے، مراد پوری کائنات میں جو بھی چیز ہے اس کا مالک وہی ہے۔ اسی نے سب کچھ پیدا کیا، وہی انھیں قائم رکھے ہوئے ہے اور وہی ان کی تدبیر فرما رہا ہے۔ کسی بھی چیز میں اگر کوئی خوبی ہے تو اس کی عطا کردہ، پھر ہر خوبی اور ہر تعریف کا مالک اس کے سوا کون ہو سکتا ہے؟ ➋ اس آیت کی تفسیر دو طرح ہے، ایک یہ کہ پہلے جملے {” اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِيْ لَهٗ مَا فِي السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِي الْاَرْضِ “} سے مراد یہ ہے کہ دنیا میں سب تعریف اللہ کے لیے ہے، کیونکہ دوسرے جملے {” وَ لَهُ الْحَمْدُ فِي الْاٰخِرَةِ “} میں آخرت میں سب تعریف اس کے لیے ہونے کا ذکر ہے۔ دوسری تفسیر یہ ہے کہ پہلے جملے {” اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِيْ لَهٗ مَا فِي السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِي الْاَرْضِ “} سے مراد یہ ہے کہ دنیا اور آخرت دونوں میں حمد اللہ کے لیے ہے۔ پھر آخرت میں حمد کا اللہ ہی کے لیے ہونا خاص طور پر دوبارہ ذکر فرمایا، کیونکہ دنیا میں تو بظاہر کسی اور کی بھی تعریف ہو جاتی ہے، مگر آخرت میں صرف اللہ تعالیٰ ہی کی حمد ہو گی اور ہر ایک کی زبان پر {” اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ “} کا کلمہ جاری ہو گا۔ دیکھیے سورۂ زمر (۷۴)، اعراف (۴۳) اور فاطر (۳۴، ۳۵) یہ ایسے ہی جیسے سورۂ بقرہ کی آیت (۹۸): «مَنْ كَانَ عَدُوًّا لِّلّٰهِ وَ مَلٰٓىِٕكَتِهٖ وَ رُسُلِهٖ وَ جِبْرِيْلَ وَ مِيْكٰىلَ فَاِنَّ اللّٰهَ عَدُوٌّ لِّلْكٰفِرِيْنَ» میں لفظ{ ” مَلٰٓىِٕكَتِهٖ “} میں سب فرشتے شامل ہونے کے باوجود جبریل و میکال کا الگ ذکر بھی فرمایا۔ {”اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ “} کے مزید فوائد کے لیے سورۂ فاتحہ کے فوائد ملاحظہ فرمائیں۔ ➌ { وَ هُوَ الْحَكِيْمُ الْخَبِيْرُ:} یعنی صرف وہ ایک ہے جس کا ہر کام محکم و مضبوط ہے اور جسے کائنات کے ذرّے ذرّے کی پوری خبر ہے، اس لیے اس کے کسی کام میں کوئی نقص ہے نہ عیب، جبکہ کوئی اور نہ پوری خبر رکھتا ہے نہ حکمت، اس لیے اس کے پاس عجز و فقر کے سوا کچھ نہیں، پھر حمد کس بات پر؟
جو کچھ زمین میں جاتا ہے اور جو کچھ اُس سے نکلتا ہے اور جو کچھ آسمان سے اترتا ہے اور جو کچھ اُس میں چڑھتا ہے، ہر چیز کو وہ جانتا ہے، وہ رحیم اور غفور ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
جو زمین میں جائے اور جو اس سے نکلے جو آسمان سے اترے اور جو چڑھ کر اس میں جائے وه سب سے باخبر ہے۔ اور وه مہربان نہایت بخشش واﻻ ہے
احمد رضا خان بریلوی
جانتا ہے جو کچھ زمین میں جاتا ہے اور جو زمین سے نکلتا ہے اور جو آسمان سے اترتا ہے اور جو اس میں چڑھتا ہے اور وہی ہے مہربان بخشنے والا،
علامہ محمد حسین نجفی
وہ جانتا ہے جو کچھ زمین کے اندر داخل ہوتا ہے اور جو کچھ اس سے نکلتا ہے اور جو کچھ آسمان سے اترتا ہے اور جو کچھ اس میں چڑھتا ہے وہ بڑا رحم کرنے والا، بڑا بخشنے والا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
وہ جانتا ہے جو کچھ زمین میں داخل ہوتا ہے اور جو اس سے نکلتا ہے اور جو آسمان سے اترتا ہے اور جو اس میں چڑھتا ہے اور وہی نہایت رحم والا، بے حد بخشنے والا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
اوصاف الٰہی ٭٭
چونکہ دنیا اور آخرت کی سب نعمتیں رحمتیں اللہ ہی کی طرف سے ہیں۔ ساری حکومتوں کا حاکم وہی ایک ہے۔ اس لیے ہر قسم کی تعریف و ثناء کا مستحق بھی وہی ہے۔ وہی معبود ہے جس کے سوا کوئی لائق عبادت نہیں۔ اسی کے لئے دنیا اور آخرت کی حمد و ثناء سزاوار ہے۔ اسی کی حکومت ہے اور اسی کی طرف سب کے سب لوٹائے جاتے ہیں۔ زمین و آسمان میں جو کچھ ہے سب اس کے ماتحت ہے۔ جتنے بھی ہیں سب اس کے غلام ہیں۔ اس کے قبضے میں ہیں سب پر تصرف اسی کا ہے۔ جیسے اور آیت میں ہے «وَإِنَّ لَنَا لَلْآخِرَةَ وَالْأُولَىٰ» ۱؎ [92-الليل:13] آخرت میں اسی کی تعریفیں ہوں گی۔ وہ اپنے اقوال، افعال، تقدیر، شریعت سب پر حکومت والا ہے اور ایسا خبردار ہے جس پر کوئی چیز مخفی نہیں۔ جس سے کوئی ذرہ پوشیدہ نہیں۔ جو اپنے احکام میں حکیم جو اپنی مخلوق سے باخبر جتنے قطرے بارش کے زمین میں جاتے ہیں جتنے دانے اس میں بوئے جاتے ہیں اس کے علم سے باہر نہیں۔ جو زمین سے نکلتا ہے اگتا ہے اسے بھی وہ جانتا ہے اس کے محیط، وسیع اور بےپایاں علم سے کوئی چیز دور نہیں۔ ہر چیز کی گنتی کیفیت اور صفت اسے معلوم ہے۔ آسمان سے جو بارش برستی ہے اس کے قطروں کی گنتی بھی اس کے علم میں محفوظ ہے جو رزق وہاں سے اترتا ہے اس کے علم سے نیک اعمال وغیرہ جو آسمان پر چڑھتے ہیں وہ بھی اس کے علم میں ہیں۔ وہ اپنے بندوں پر خود ان سے بھی زیادہ مہربان ہے۔ اسی وجہ سے ان کے گناہوں پر اطلاع رکھتے ہوئے انہیں جلدی سے سزا نہیں دیتا بلکہ مہلت دیتا ہے کہ وہ توبہ کر لیں۔ برائیاں چھوڑ دیں رب کی طرف رجوع کریں۔ پھر غفور ہے۔ ادھر بندہ جھکا رویا پیٹا ادھر اس نے بخش دیا یا معاف فرما دیا درگزر کر لیا۔ توبہ کرنے والا دھتکارا نہیں جاتا۔ توکل کرنے والا نقصان نہیں اٹھاتا۔
2۔ 1 مثلا بارش خزانہ اور دفینہ وغیرہ۔ 2۔ 2 بارش اولے گرج، بجلی اور برکات الٰہی وغیرہ، نیز فرشتوں اور آسمانی کتابوں کا نزول۔ 2۔ 3 یعنی فرشتے اور بندوں کے اعمال۔
(آیت 2) ➊ { يَعْلَمُ مَا يَلِجُ فِي الْاَرْضِ وَ مَا يَخْرُجُ مِنْهَا …:} اس آیت میں اللہ تعالیٰ کے علم کی کچھ تفصیل بیان فرمائی۔ وہ ان تمام چیزوں کو جانتا ہے جو زمین میں داخل ہوتی ہیں اور جو اس سے نکلتی ہیں اور جو آسمان سے اترتی ہیں اور اس میں چڑھتی ہیں، جو شمار سے باہر ہیں اور جنھیں صرف وہی جانتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا یہ کمال علم بھی اس کے اکیلے مستحق حمد ہونے کی دلیل ہے، کسی اور کو دوسری چیزیں تو ایک طرف رہیں خود اپنی ذات کا بھی پورا علم نہیں، پھر وہ {”الحمد“} کے لائق کیسے ہو گیا۔ ➋ { وَ هُوَ الرَّحِيْمُ الْغَفُوْرُ:} یعنی ہر چیز کا مالک ہونے، حکیم و خبیر ہونے اور ذرّے ذرّے کا علم رکھنے کے باوجود بندوں کی نافرمانی پر فوری گرفت نہیں کرتا، کیونکہ وہی ہے جس کی نہ رحمت کی کوئی حد ہے، نہ مغفرت کی۔ اس لیے اس نے بندوں کو مہلت دے رکھی ہے اور بڑی سے بڑی سرکشی پر بھی مقرر کردہ وقت سے پہلے گرفت نہیں فرماتا۔
منکرین کہتے ہیں کہ کیا بات ہے کہ قیامت ہم پر نہیں آ رہی ہے! کہو، قسم ہے میرے عالم الغیب پروردگار کی، وہ تم پر آ کر رہے گی اُس سے ذرہ برابر کوئی چیز نہ آسمانوں میں چھپی ہوئی ہے نہ زمین میں نہ ذرے سے بڑی اور نہ اُس سے چھوٹی، سب کچھ ایک نمایاں دفتر میں درج ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
کفار کہتے ہیں کہ ہم پر قیامت نہیں آئے گی۔ آپ کہہ دیجیئے! کہ مجھے میرے رب کی قسم! جو عالم الغیب ہے کہ وه یقیناً تم پر آئے گی اللہ تعالیٰ سے ایک ذرے کے برابر کی چیز بھی پوشیده نہیں نہ آسمانوں میں اور نہ زمین میں بلکہ اس سے بھی چھوٹی اور بڑی چیز کھلی کتاب میں موجود ہے
احمد رضا خان بریلوی
اور کافر بولے ہم پر قیامت نہ آئے گی تم فرماؤ کیوں نہیں میرے رب کی قسم بیشک ضرور آئے گی غیب جاننے والا اس سے غیب نہیں ذرہ بھر کوئی چیز آسمانوں میں اور نہ زمین میں اور نہ اس سے چھوٹی اور نہ بڑی مگر ایک صاف بتانے والی کتاب میں ہے
علامہ محمد حسین نجفی
اور کافر کہتے ہیں کہ ہم پر قیامت نہیں آئے گی آپ کہہ دیجئے! کہ وہ ضرور آئے گی مجھے قَسم ہے اپنے پروردگار کی جو عالم الغیب ہے جس سے آسمانوں اور زمین کی ذرہ برابر کوئی چیز پوشیدہ نہیں ہے اور نہ اس (ذرہ) سے کوئی چھوٹی چیز ہے اور نہ بڑی مگر وہ کتابِ مبین میں (درج) ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اور ان لوگوں نے کہا جنھوں نے کفر کیا ہم پر قیامت نہیں آئے گی۔کہہ دے کیوں نہیں، قسم ہے میرے رب کی! وہ تم پر ضرور ہی آئے گی، ( اس رب کی قسم ہے) جو سب چھپی چیزیں جاننے والا ہے ! اس سے ذرہ برابر چیز نہ آسمانوں میں چھپی رہتی ہے اور نہ زمین میں اور نہ اس سے چھوٹی کوئی چیز ہے اور نہ بڑی مگرایک واضح کتاب میں ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
قیامت آ کر رہے گی ٭٭
پورے قرآن میں تین آیتیں ہیں جہاں قیامت کے آنے پر قسم کھا کر بیان فرمایا گیا ہے۔ ایک تو سورۃ یونس میں «وَيَسْتَنْۢبِـــُٔـوْنَكَ اَحَقٌّ ھُوَ ڼ قُلْ اِيْ وَرَبِّيْٓ اِنَّهٗ لَحَقٌّ ې وَمَآ اَنْتُمْ بِمُعْجِزِيْنَ» ۱؎ [10-يونس:53] ’ لوگ تجھ سے دریافت کرتے ہیں کہ کیا قیامت کا آنا حق ہے؟ تو کہہ دے کہ ہاں ہاں میرے رب کی قسم وہ یقیناً حق ہی ہے اور تم اللہ کو مغلوب نہیں کر سکتے ‘ دوسری آیت یہی۔ تیسری آیت سورۃ التغابن میں «زَعَمَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْٓا اَنْ لَّنْ يُّبْعَثُوْا ۭ قُلْ بَلٰى وَرَبِّيْ لَتُبْعَثُنَّ ثُمَّ لَتُـنَبَّؤُنَّ بِمَا عَمِلْتُمْ ۭ وَذٰلِكَ عَلَي اللّٰهِ يَسِيْرٌ» ۱؎ [64-التغابن:7] یعنی ’ کفار کا خیال ہے کہ وہ قیامت کے دن اٹھائے نہ جائیں گے۔ تو کہہ دے کہ ہاں میرے رب کی قسم تم ضرور اٹھائے جاؤ گے ‘
’ پھر اپنے اعمال کی خبر دیئے جاؤ گے اور یہ تو اللہ پر بالکل ہی آسان ہے۔ ‘ پس یہاں بھی کافروں کا انکار قیامت کا ذکر کر کے اپنے نبی کو ان کے بارے قسمیہ بتا کر پھر اس کی مزید تاکید کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ وہ اللہ جو عالم الغیب ہے جس سے کوئی ذرہ پوشیدہ نہیں سب اس کے علم میں ہے۔ گو ہڈیاں سڑ گل جائیں ان کے ریزے متفرق ہو جائیں لیکن وہ کہاں ہیں؟ کتنے ہیں؟ سب وہ جانتا ہے وہ ان سب کو جمع کرنے پر قادر ہے۔ جیسے کہ پہلے انہیں پیدا کیا۔ وہ ہر چیز کا جاننے والا ہے۔ اور تمام چیزیں اس کے پاس اس کی کتاب میں بھی لکھی ہوئی ہیں۔ پھر قیامت کے آنے کی حکمت بیان فرمائی کہ ایمان والوں کو ان کی نیکیوں کا بدلہ ملے گا۔ وہ مغفرت اور رزق کریم سے نوازے جائیں اور جنہوں نے اللہ کی باتوں سے ضد کی، رسولوں کی نہ مانی انہیں بدترین اور سخت سزائیں ہوں۔ نیک کار مومن جزا اور بدکار سزا پائیں گے۔ جیسے فرمایا جہنمی اور جنتی برابر نہیں۔ جنتی کامیاب اور مقصد پانے والے ہیں۔ ۱؎ [59-الحشر:20] اور آیت میں ہے «اَمْ نَجْعَلُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ كَالْمُفْسِدِيْنَ فِي الْاَرْضِ ۡ اَمْ نَجْعَلُ الْمُتَّقِيْنَ كَالْفُجَّارِ» ۱؎ [38-ص:28] ، یعنی ’ مومن اور مفسد متقی اور فاجر برابر نہیں۔ ‘
پھر قیامت کی ایک اور حکمت بیان فرمائی کہ ایماندار بھی قیامت کے دن جب نیکوں کو جزا اور بدوں کو سزا ہوتے ہوئے دیکھیں گے تو وہ علم الیقین سے عین الیقین حاصل کر لیں گے اور اس وقت کہہ اٹھیں گے کہ ہمارے رب کے رسول ہمارے پاس حق لائے تھے۔ اور اس وقت کہا جائے گا کہ یہ ہے جس کا وعدہ رحمان نے دیا تھا۔ اور رسولوں نے سچ سچ کہہ دیا تھا۔ اللہ نے تو لکھ دیا تھا کہ تم قیامت تک رہو گے تو اب قیامت کا دن آ چکا ہے۔ وہ اللہ عزیز ہے یعنی بلند جناب والا بڑی سرکار والا ہے۔ بہت عزت والا ہے پورے غلبے والا ہے نہ اس پر کسی کا بس نہ کسی کا زور۔ ہر چیز اس کے سامنے پست و عاجز۔ وہ قابل تعریف ہے اپنے اقوال و افعال شرع و فعل میں۔ ان تمام میں اس کی ساری مخلوق اس کی ثنا خواں ہے۔ «جل و علا» ۔
3۔ 1 قسم بھی کھائی اور صیغہ بھی تاکید کا اور اس پر مزید لام تاکید یعنی قیامت کیوں نہیں آئے گی؟ وہ تو بہر صورت یقینا آئے گی۔ 3۔ 2 یعنی جب آسمان و زمین کا کوئی ذرہ اس سے غائب اور پوشیدہ نہیں، تو پھر تمہارے اجزائے منتشرہ کو، جو مٹی میں مل گئے ہوں گے، جمع کر کے دوبارہ تمہیں زندہ کردینا کیوں ناممکن ہوگا 3۔ 3 یعنی وہ لوح محفوظ میں موجود اور درج ہے۔
(آیت 3) ➊ { وَ قَالَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا لَا تَاْتِيْنَا السَّاعَةُ:} یہ بیان کرنے کے بعد کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر جو بے حساب نعمتیں کی ہیں، ان پر دنیا کے علاوہ آخرت میں بھی حمد اور شکر اسی کے لیے ہے، یہ بیان فرمایا کہ کفار اپنے خالق و مالک کی حمد کے بجائے دوبارہ زندہ ہو کر اس کے سامنے پیش ہونے کو تسلیم ہی نہیں کرتے اور کہتے ہیں کہ ہم پر قیامت نہیں آئے گی۔ ➋ { قُلْ بَلٰى وَ رَبِّيْ لَتَاْتِيَنَّكُمْ:} قسم اٹھا کر بات کرنے سے اس بات کی اہمیت اور اس کے واقع ہونے کی تاکید مقصود ہوتی ہے، جس پر قسم اٹھائی گئی ہے۔ اس کے علاوہ کوئی بات جتنی شدت سے کی گئی ہو اس کا رد اتنی ہی یا اس سے بھی زیادہ شدت کے ساتھ کیا جاتا ہے۔ کفار قیامت کا انکار قسمیں اٹھا اٹھا کر کرتے تھے، جیسا کہ اللہ نے ذکر فرمایا: «وَ اَقْسَمُوْا بِاللّٰهِ جَهْدَ اَيْمَانِهِمْ لَا يَبْعَثُ اللّٰهُ مَنْ يَّمُوْتُ» [ النحل: ۳۸ ] ”اور انھوں نے اپنی پکی قسمیں کھاتے ہوئے اللہ کی قسم کھائی کہ اللہ اسے نہیں اٹھائے گا جو مر جائے۔“ وہ قیامت کا مذاق بھی اڑاتے تھے اور اسے جلد از جلد لانے کا مطالبہ بھی کرتے تھے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیا کہ وہ اپنے رب کی قسم کھا کر انھیں بتائیں کہ وہ تم پر ضرور بالضرور آئے گی۔ حافظ ابن کثیر نے فرمایا کہ یہ آیت ان تین آیات میں سے ایک ہے جن میں اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیا کہ وہ اپنے رب کی قسم کھا کر بتائیں کہ قیامت ضرور قائم ہو گی۔ ان میں سے ایک سورۂ یونس کی آیت ہے: «وَ يَسْتَنْۢبِـُٔوْنَكَ اَحَقٌّ هُوَ قُلْ اِيْ وَ رَبِّيْۤ اِنَّهٗ لَحَقٌّ وَ مَاۤ اَنْتُمْ بِمُعْجِزِيْنَ» [ یونس: ۵۳ ] ”اور وہ تجھ سے پوچھتے ہیں کیا یہ سچ ہی ہے؟ تو کہہ ہاں! مجھے اپنے رب کی قسم! یقینا یہ ضرور سچ ہے اور تم ہر گز عاجز کرنے والے نہیں ہو۔“ دوسری یہ آیت اور تیسری سورۂ تغابن میں ہے: «زَعَمَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْۤا اَنْ لَّنْ يُّبْعَثُوْا قُلْ بَلٰى وَ رَبِّيْ لَتُبْعَثُنَّ» [ التغابن: ۷ ] ”وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا انھوں نے گمان کیا کہ وہ ہرگز اٹھائے نہیں جائیں گے۔ کہہ دے کیوں نہیں؟ میرے رب کی قسم! تم ضرور بالضرور اٹھائے جاؤ گے۔“ ➌ {عٰلِمِ الْغَيْبِ لَا يَعْزُبُ عَنْهُ…: ” عٰلِمِ الْغَيْبِ “ ” رَبِّيْ “} کی صفت ہے۔ {”عَزَبَ يَعْزُبُ“} (ن، ض) غائب ہونا، چھپا رہنا۔ {” وَ لَاۤ اَصْغَرُ مِنْ ذٰلِكَ وَ لَاۤ اَكْبَرُ …“} میں {” اَصْغَرُ “} اور {” اَكْبَرُ “} پر رفع مبتدا ہونے کی وجہ سے ہے۔ {” اِلَّا “} حرف استثنا ہے اور {” فِيْ كِتٰبٍ مُّبِيْنٍ “} خبر ہے۔ {” كِتٰبٍ مُّبِيْنٍ “} سے مراد لوح محفوظ ہے۔ کتاب کو واضح کہنے کا مطلب یہ ہے کہ کتابوں میں لکھی ہوئی بات ڈھونڈنا پڑتی ہے، مگر وہ ایسی کتاب ہے جو ہر چیز کو خود ہی واضح کر دیتی ہے۔ ➍ قیامت کے منکروں کی سب سے بڑی دلیل یہ تھی اور ہے کہ جب ہم مر کر مٹی ہو گئے اور ہماری خاک کے ذرّات بھی کہاں سے کہاں منتشر ہو گئے تو ہم دوبارہ کیسے زندہ ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ان سے کہو، مجھے اپنے اس رب کی قسم ہے جو غیب کو جاننے والا ہے! جس سے ذرہ برابر کوئی چیز بھی چھپی ہوئی نہیں، نہ اس سے کوئی چھوٹی چیز ہے اور نہ بڑی، مگر اس کے علم میں ہے اور لوح محفوظ میں درج ہے۔ مطلب یہ ہے کہ مرنے والوں کے ذرّات جہاں بھی ہوں وہ سب سے واقف بھی ہے اور انھیں جمع کرنے اور دوبارہ جوڑنے اور زندہ کرنے پر قادر بھی ہے۔ دیکھیے سورۂ ق (۳، ۴) اور قیامہ (۳، ۴)۔ ➎ {” ذَرَّةٍ “} غبار کے اس چھوٹے سے چھوٹے حصے کو کہتے ہیں جو روشنی میں چمکتا ہوا نظر آتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان میں ”کہ اس سے چھوٹی ہر چیز بھی کتاب مبین میں ہے“ اس حقیقت کا بیان ہے جو ان آیات کے نزول کے سیکڑوں برس بعد تجربے سے ثابت ہوئی کہ ذرہ (ایٹم) بھی قابل تقسیم ہے اور اس سے چھوٹی بھی بہت سے چیزیں موجود ہیں۔ ➏ { وَ لَاۤ اَكْبَرُ:} یہاں ایک سوال ہے کہ یہ کہنے کے بعد کہ ”ذرے سے چھوٹی چیزیں بھی کتاب مبین میں ہیں“ یہ کہنے کی کیا ضرورت ہے کہ ”اس سے بڑی چیزیں بھی کتاب مبین میں ہیں۔“ جواب اس کا یہ ہے کہ اس کی ضرورت یہ ہے کہ کوئی یہ نہ سمجھے کہ لوح محفوظ میں صرف باریک چیزوں کا علم ہی محفوظ کیا گیا ہے۔
اور یہ قیامت اس لئے آئے گی کہ جزا دے اللہ اُن لوگوں کو جو ایمان لائے ہیں اور نیک عمل کرتے رہے ہیں اُن کے لیے مغفرت ہے اور رزق کریم
مولانا محمد جوناگڑھی
تاکہ وه ایمان والوں اور نیکوکاروں کو بھلائی عطا فرمائے، یہی لوگ ہیں جن کے لئے مغفرت اور عزت کی روزی ہے
احمد رضا خان بریلوی
تاکہ صلہ دے انہیں جو ایمان لائے اور اچھے کام کیے یہ ہیں جن کے لیے بخشش ہے اور عزت کی روزی
علامہ محمد حسین نجفی
(اور قیامت اس لئے آئے گی) تاکہ خدا ان لوگوں کو جزا دے جو ایمان لائے اور نیک عمل کئے یہی وہ (خوش قسمت) لوگ ہیں جن کیلئے بخشش اور باعزت رزق ہے۔
عبدالسلام بن محمد
تاکہ وہ ان لوگوں کو بدلہ دے جو ایمان لائے اور انھوں نے نیک اعمال کیے۔ یہی لوگ ہیں جن کے لیے سراسر بخشش اور باعزت رزق ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
قیامت آ کر رہے گی ٭٭
پورے قرآن میں تین آیتیں ہیں جہاں قیامت کے آنے پر قسم کھا کر بیان فرمایا گیا ہے۔ ایک تو سورۃ یونس میں «وَيَسْتَنْۢبِـــُٔـوْنَكَ اَحَقٌّ ھُوَ ڼ قُلْ اِيْ وَرَبِّيْٓ اِنَّهٗ لَحَقٌّ ې وَمَآ اَنْتُمْ بِمُعْجِزِيْنَ» ۱؎ [10-يونس:53] ’ لوگ تجھ سے دریافت کرتے ہیں کہ کیا قیامت کا آنا حق ہے؟ تو کہہ دے کہ ہاں ہاں میرے رب کی قسم وہ یقیناً حق ہی ہے اور تم اللہ کو مغلوب نہیں کر سکتے ‘ دوسری آیت یہی۔ تیسری آیت سورۃ التغابن میں «زَعَمَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْٓا اَنْ لَّنْ يُّبْعَثُوْا ۭ قُلْ بَلٰى وَرَبِّيْ لَتُبْعَثُنَّ ثُمَّ لَتُـنَبَّؤُنَّ بِمَا عَمِلْتُمْ ۭ وَذٰلِكَ عَلَي اللّٰهِ يَسِيْرٌ» ۱؎ [64-التغابن:7] یعنی ’ کفار کا خیال ہے کہ وہ قیامت کے دن اٹھائے نہ جائیں گے۔ تو کہہ دے کہ ہاں میرے رب کی قسم تم ضرور اٹھائے جاؤ گے ‘
’ پھر اپنے اعمال کی خبر دیئے جاؤ گے اور یہ تو اللہ پر بالکل ہی آسان ہے۔ ‘ پس یہاں بھی کافروں کا انکار قیامت کا ذکر کر کے اپنے نبی کو ان کے بارے قسمیہ بتا کر پھر اس کی مزید تاکید کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ وہ اللہ جو عالم الغیب ہے جس سے کوئی ذرہ پوشیدہ نہیں سب اس کے علم میں ہے۔ گو ہڈیاں سڑ گل جائیں ان کے ریزے متفرق ہو جائیں لیکن وہ کہاں ہیں؟ کتنے ہیں؟ سب وہ جانتا ہے وہ ان سب کو جمع کرنے پر قادر ہے۔ جیسے کہ پہلے انہیں پیدا کیا۔ وہ ہر چیز کا جاننے والا ہے۔ اور تمام چیزیں اس کے پاس اس کی کتاب میں بھی لکھی ہوئی ہیں۔ پھر قیامت کے آنے کی حکمت بیان فرمائی کہ ایمان والوں کو ان کی نیکیوں کا بدلہ ملے گا۔ وہ مغفرت اور رزق کریم سے نوازے جائیں اور جنہوں نے اللہ کی باتوں سے ضد کی، رسولوں کی نہ مانی انہیں بدترین اور سخت سزائیں ہوں۔ نیک کار مومن جزا اور بدکار سزا پائیں گے۔ جیسے فرمایا جہنمی اور جنتی برابر نہیں۔ جنتی کامیاب اور مقصد پانے والے ہیں۔ ۱؎ [59-الحشر:20] اور آیت میں ہے «اَمْ نَجْعَلُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ كَالْمُفْسِدِيْنَ فِي الْاَرْضِ ۡ اَمْ نَجْعَلُ الْمُتَّقِيْنَ كَالْفُجَّارِ» ۱؎ [38-ص:28] ، یعنی ’ مومن اور مفسد متقی اور فاجر برابر نہیں۔ ‘
پھر قیامت کی ایک اور حکمت بیان فرمائی کہ ایماندار بھی قیامت کے دن جب نیکوں کو جزا اور بدوں کو سزا ہوتے ہوئے دیکھیں گے تو وہ علم الیقین سے عین الیقین حاصل کر لیں گے اور اس وقت کہہ اٹھیں گے کہ ہمارے رب کے رسول ہمارے پاس حق لائے تھے۔ اور اس وقت کہا جائے گا کہ یہ ہے جس کا وعدہ رحمان نے دیا تھا۔ اور رسولوں نے سچ سچ کہہ دیا تھا۔ اللہ نے تو لکھ دیا تھا کہ تم قیامت تک رہو گے تو اب قیامت کا دن آ چکا ہے۔ وہ اللہ عزیز ہے یعنی بلند جناب والا بڑی سرکار والا ہے۔ بہت عزت والا ہے پورے غلبے والا ہے نہ اس پر کسی کا بس نہ کسی کا زور۔ ہر چیز اس کے سامنے پست و عاجز۔ وہ قابل تعریف ہے اپنے اقوال و افعال شرع و فعل میں۔ ان تمام میں اس کی ساری مخلوق اس کی ثنا خواں ہے۔ «جل و علا» ۔
4۔ 1 یہ وقوع قیامت کی علت ہے یعنی اس لیے برپا ہوگی اور تمام انسانوں کو اللہ تعالیٰ اس لیے دوبارہ زندہ فرمائے گا کہ وہ نیکوں کو ان کی نیکیوں کی جزا عطا فرمائے کیونکہ جزا کے لیے ہی اس نے یہ دن رکھا ہے اگر یہ یوم جزا نہ ہو تو پھر اس کا مطلب یہ ہوگا کہ نیک و بد دونوں یکساں ہیں اور یہ بات عدل وانصاف کے قطعا منافی اور بندوں بالخصوص نیکوں پر ظلم ہوگا (وَمَا رَبُّكَ بِظَلَّامٍ لِّـلْعَبِيْدِ) 41۔ فصلت:46)
(آیت 4){ لِيَجْزِيَ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ …:} ان آیات میں قیامت کا مقصد اور اس کی حکمت بیان کی گئی ہے، یعنی قیامت اس لیے برپا ہو گی کہ اللہ تعالیٰ ایمان اور عمل صالح والوں کو ان کی جزا دے، کیونکہ دنیا کی محدود مدت میں نہ نیکوں کو ان کی پوری جزا ملتی ہے، نہ بدوں کو ان کی پوری سزا۔ اب اگر جزا و سزا کا کوئی دن ہی نہ ہو تو اس کا مطلب یہ ہو گا کہ نیک و بد یکساں ہیں، جب کہ یہ بات عقل کے خلاف ہے۔ دیکھیے سورۂ ص (۲۸)، سجدہ (۱۸ تا ۲۰) اور حشر (۲۰) اور اللہ تعالیٰ کے عدل کے بھی خلاف ہے۔ (دیکھیے انبیاء: ۴۷) بلکہ یہ ان لوگوں پر ظلم ہو گا جن پر دنیا میں ظلم ہوتا رہا، جب کہ اللہ تعالیٰ بندوں پر ذرہ برابر ظلم کا روا دار نہیں، جیسا کہ فرمایا: «{ وَ مَا رَبُّكَ بِظَلَّامٍ لِّلْعَبِيْدِ }» [ حٰمٓ السجدۃ: ۴۶ ] ”اور تیرا رب اپنے بندوں پر ہرگز کوئی ظلم کرنے والا نہیں۔“ بھلا وہ کون سا مالک ہے جس کے غلاموں میں سے کوئی اس کا حکم مانے، کوئی نہ مانے اور وہ سب سے یکساں سلوک کرے، اور اس کے غلاموں میں سے بعض بعض پر ظلم کرتا رہے اور وہ ظالم سے باز پرس ہی نہ کرے، پھر جب انسان اپنے غلاموں میں یہ برداشت نہیں کرتا تو اس بادشاہوں کے بادشاہ، ملک الملوک کے متعلق یہ گمان کیسے کیا جا سکتا ہے؟ {” مَغْفِرَةٌ “} پر تنوین تعظیم کی ہے اور{ ” رِزْقٌ كَرِيْمٌ “} سے مراد جنت کی نعمتیں ہیں۔ دیکھیے سورۂ سجدہ (۱۷)۔
اور جن لوگوں نے ہماری آیات کو نیچا دکھانے کے لیے زور لگایا ہے، ان کے لیے بدترین قسم کا دردناک عذاب ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
اور ہماری آیتوں کو نیچا دکھانے کی جنہوں نے کوشش کی ہے یہ وه لوگ ہیں جن کے لئے بدترین قسم کا دردناک عذاب ہے
احمد رضا خان بریلوی
اور جنہوں نے ہماری آیتوں میں ہرانے کی کوشش کی ان کے لیے سخت عذاب دردناک میں سے عذاب ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
اور جو لوگ ہماری آیتوں کے بارے میں (انہیں جھٹلا کر ہمیں) ہرانے کی کوشش کرتے ہیں یہی وہ (بدبخت) لوگ ہیں جن کیلئے سخت قسم کا دردناک عذاب ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اور وہ لوگ جنھوں نے ہماری آیات میں کوشش کی، اس حال میں کہ نیچا دکھانے والے ہیں، یہی لوگ ہیں جن کے لیے دردناک عذاب کی سزا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
قیامت آ کر رہے گی ٭٭
پورے قرآن میں تین آیتیں ہیں جہاں قیامت کے آنے پر قسم کھا کر بیان فرمایا گیا ہے۔ ایک تو سورۃ یونس میں «وَيَسْتَنْۢبِـــُٔـوْنَكَ اَحَقٌّ ھُوَ ڼ قُلْ اِيْ وَرَبِّيْٓ اِنَّهٗ لَحَقٌّ ې وَمَآ اَنْتُمْ بِمُعْجِزِيْنَ» ۱؎ [10-يونس:53] ’ لوگ تجھ سے دریافت کرتے ہیں کہ کیا قیامت کا آنا حق ہے؟ تو کہہ دے کہ ہاں ہاں میرے رب کی قسم وہ یقیناً حق ہی ہے اور تم اللہ کو مغلوب نہیں کر سکتے ‘ دوسری آیت یہی۔ تیسری آیت سورۃ التغابن میں «زَعَمَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْٓا اَنْ لَّنْ يُّبْعَثُوْا ۭ قُلْ بَلٰى وَرَبِّيْ لَتُبْعَثُنَّ ثُمَّ لَتُـنَبَّؤُنَّ بِمَا عَمِلْتُمْ ۭ وَذٰلِكَ عَلَي اللّٰهِ يَسِيْرٌ» ۱؎ [64-التغابن:7] یعنی ’ کفار کا خیال ہے کہ وہ قیامت کے دن اٹھائے نہ جائیں گے۔ تو کہہ دے کہ ہاں میرے رب کی قسم تم ضرور اٹھائے جاؤ گے ‘
’ پھر اپنے اعمال کی خبر دیئے جاؤ گے اور یہ تو اللہ پر بالکل ہی آسان ہے۔ ‘ پس یہاں بھی کافروں کا انکار قیامت کا ذکر کر کے اپنے نبی کو ان کے بارے قسمیہ بتا کر پھر اس کی مزید تاکید کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ وہ اللہ جو عالم الغیب ہے جس سے کوئی ذرہ پوشیدہ نہیں سب اس کے علم میں ہے۔ گو ہڈیاں سڑ گل جائیں ان کے ریزے متفرق ہو جائیں لیکن وہ کہاں ہیں؟ کتنے ہیں؟ سب وہ جانتا ہے وہ ان سب کو جمع کرنے پر قادر ہے۔ جیسے کہ پہلے انہیں پیدا کیا۔ وہ ہر چیز کا جاننے والا ہے۔ اور تمام چیزیں اس کے پاس اس کی کتاب میں بھی لکھی ہوئی ہیں۔ پھر قیامت کے آنے کی حکمت بیان فرمائی کہ ایمان والوں کو ان کی نیکیوں کا بدلہ ملے گا۔ وہ مغفرت اور رزق کریم سے نوازے جائیں اور جنہوں نے اللہ کی باتوں سے ضد کی، رسولوں کی نہ مانی انہیں بدترین اور سخت سزائیں ہوں۔ نیک کار مومن جزا اور بدکار سزا پائیں گے۔ جیسے فرمایا جہنمی اور جنتی برابر نہیں۔ جنتی کامیاب اور مقصد پانے والے ہیں۔ ۱؎ [59-الحشر:20] اور آیت میں ہے «اَمْ نَجْعَلُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ كَالْمُفْسِدِيْنَ فِي الْاَرْضِ ۡ اَمْ نَجْعَلُ الْمُتَّقِيْنَ كَالْفُجَّارِ» ۱؎ [38-ص:28] ، یعنی ’ مومن اور مفسد متقی اور فاجر برابر نہیں۔ ‘
پھر قیامت کی ایک اور حکمت بیان فرمائی کہ ایماندار بھی قیامت کے دن جب نیکوں کو جزا اور بدوں کو سزا ہوتے ہوئے دیکھیں گے تو وہ علم الیقین سے عین الیقین حاصل کر لیں گے اور اس وقت کہہ اٹھیں گے کہ ہمارے رب کے رسول ہمارے پاس حق لائے تھے۔ اور اس وقت کہا جائے گا کہ یہ ہے جس کا وعدہ رحمان نے دیا تھا۔ اور رسولوں نے سچ سچ کہہ دیا تھا۔ اللہ نے تو لکھ دیا تھا کہ تم قیامت تک رہو گے تو اب قیامت کا دن آ چکا ہے۔ وہ اللہ عزیز ہے یعنی بلند جناب والا بڑی سرکار والا ہے۔ بہت عزت والا ہے پورے غلبے والا ہے نہ اس پر کسی کا بس نہ کسی کا زور۔ ہر چیز اس کے سامنے پست و عاجز۔ وہ قابل تعریف ہے اپنے اقوال و افعال شرع و فعل میں۔ ان تمام میں اس کی ساری مخلوق اس کی ثنا خواں ہے۔ «جل و علا» ۔
5۔ 1 یعنی ہماری ان آیتوں کے بطلان اور تکذیب کی جو ہم نے پیغمبروں پر نازل کیں، یہ سمجھتے ہوئے کہ ہم ان کی گرفت سے عاجز ہونگے، کیونکہ ان کا عقیدہ تھا کہ مرنے کے بعد ہم مٹی میں مل جائیں گے تو ہم کس طرح دوبارہ زندہ ہو کر کسی کے سامنے اپنے کیے دھرے کی جواب دہی کریں گے؟ ان کا یہ سمجھنا گویا اس بات کا اعلان تھا کہ اللہ تعالیٰ ہمارا مواخذہ کرنے پر قادر ہی نہیں ہوگا، اس لئے قیامت کا خوف ہمیں کیوں ہو؟
(آیت 5) {وَ الَّذِيْنَ سَعَوْ فِيْۤ اٰيٰتِنَا مُعٰجِزِيْنَ …: ” رِجْزٍ “} کا معنی ہے {”أَسْوَأُ الْعَذَابِ“} (بد ترین عذاب) یعنی جن لوگوں کی کوشش ہے کہ ہماری آیات کا مقابلہ کرتے ہوئے عاجز کر دیں اور نیچا دکھا دیں، کبھی انھیں جادو کہتے ہیں، کبھی شعر اور کبھی پہلے لوگوں کے افسانے، تاکہ لوگوں کو ان پر ایمان لانے سے روکیں، ان کے لیے بدترین قسم کے عذاب کی سزا ہے، جو نہایت المناک ہے۔ مراد جہنم ہے، جس سے زیادہ بری اور درد ناک سزا کوئی نہیں۔
اے نبیؐ، علم رکھنے والے خوب جانتے ہیں کہ جو کچھ تمہارے رب کی طرف سے تم پر نازل کیا گیا ہے وہ سراسر حق ہے اور خدائے عزیز و حمید کا راستہ دکھاتا ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
اور جنہیں علم ہے وه دیکھ لیں گے کہ جو کچھ آپ کی جانب آپ کے رب کی طرف سے نازل ہوا ہے وه (سراسر) حق ہے اور اللہ غالب خوبیوں والے کی راه کی رہبری کرتا ہے
احمد رضا خان بریلوی
اور جنہیں علم والا وہ جانتے ہیں کہ جو کچھ تمہاری طرف تمہارے رب کے پاس سے اترا وہی حق ہے اور عزت والے سب خوبیوں سراہے کی راہ بتاتا ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
اور جنہیں علم دیا گیا ہے وہ جانتے ہیں وہ کچھ (قرآن) آپ کے پروردگار کی طرف سے آپ پر نازل کیا گیا ہے وہ حق ہے اور وہ غالب اور لائقِ ستائش (خدا) کے راستہ کی طرف راہنمائی کرتا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اور وہ لوگ جنھیں علم دیا گیا ہے، دیکھتے ہیں کہ جو تیری طرف تیرے رب کی جانب سے نازل کیا گیا ہے وہی حق ہے اور وہ اس کا راستہ دکھاتا ہے جو سب پر غالب ہے، تمام خوبیوں والا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
قیامت آ کر رہے گی ٭٭
پورے قرآن میں تین آیتیں ہیں جہاں قیامت کے آنے پر قسم کھا کر بیان فرمایا گیا ہے۔ ایک تو سورۃ یونس میں «وَيَسْتَنْۢبِـــُٔـوْنَكَ اَحَقٌّ ھُوَ ڼ قُلْ اِيْ وَرَبِّيْٓ اِنَّهٗ لَحَقٌّ ې وَمَآ اَنْتُمْ بِمُعْجِزِيْنَ» ۱؎ [10-يونس:53] ’ لوگ تجھ سے دریافت کرتے ہیں کہ کیا قیامت کا آنا حق ہے؟ تو کہہ دے کہ ہاں ہاں میرے رب کی قسم وہ یقیناً حق ہی ہے اور تم اللہ کو مغلوب نہیں کر سکتے ‘ دوسری آیت یہی۔ تیسری آیت سورۃ التغابن میں «زَعَمَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْٓا اَنْ لَّنْ يُّبْعَثُوْا ۭ قُلْ بَلٰى وَرَبِّيْ لَتُبْعَثُنَّ ثُمَّ لَتُـنَبَّؤُنَّ بِمَا عَمِلْتُمْ ۭ وَذٰلِكَ عَلَي اللّٰهِ يَسِيْرٌ» ۱؎ [64-التغابن:7] یعنی ’ کفار کا خیال ہے کہ وہ قیامت کے دن اٹھائے نہ جائیں گے۔ تو کہہ دے کہ ہاں میرے رب کی قسم تم ضرور اٹھائے جاؤ گے ‘
’ پھر اپنے اعمال کی خبر دیئے جاؤ گے اور یہ تو اللہ پر بالکل ہی آسان ہے۔ ‘ پس یہاں بھی کافروں کا انکار قیامت کا ذکر کر کے اپنے نبی کو ان کے بارے قسمیہ بتا کر پھر اس کی مزید تاکید کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ وہ اللہ جو عالم الغیب ہے جس سے کوئی ذرہ پوشیدہ نہیں سب اس کے علم میں ہے۔ گو ہڈیاں سڑ گل جائیں ان کے ریزے متفرق ہو جائیں لیکن وہ کہاں ہیں؟ کتنے ہیں؟ سب وہ جانتا ہے وہ ان سب کو جمع کرنے پر قادر ہے۔ جیسے کہ پہلے انہیں پیدا کیا۔ وہ ہر چیز کا جاننے والا ہے۔ اور تمام چیزیں اس کے پاس اس کی کتاب میں بھی لکھی ہوئی ہیں۔ پھر قیامت کے آنے کی حکمت بیان فرمائی کہ ایمان والوں کو ان کی نیکیوں کا بدلہ ملے گا۔ وہ مغفرت اور رزق کریم سے نوازے جائیں اور جنہوں نے اللہ کی باتوں سے ضد کی، رسولوں کی نہ مانی انہیں بدترین اور سخت سزائیں ہوں۔ نیک کار مومن جزا اور بدکار سزا پائیں گے۔ جیسے فرمایا جہنمی اور جنتی برابر نہیں۔ جنتی کامیاب اور مقصد پانے والے ہیں۔ ۱؎ [59-الحشر:20] اور آیت میں ہے «اَمْ نَجْعَلُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ كَالْمُفْسِدِيْنَ فِي الْاَرْضِ ۡ اَمْ نَجْعَلُ الْمُتَّقِيْنَ كَالْفُجَّارِ» ۱؎ [38-ص:28] ، یعنی ’ مومن اور مفسد متقی اور فاجر برابر نہیں۔ ‘
پھر قیامت کی ایک اور حکمت بیان فرمائی کہ ایماندار بھی قیامت کے دن جب نیکوں کو جزا اور بدوں کو سزا ہوتے ہوئے دیکھیں گے تو وہ علم الیقین سے عین الیقین حاصل کر لیں گے اور اس وقت کہہ اٹھیں گے کہ ہمارے رب کے رسول ہمارے پاس حق لائے تھے۔ اور اس وقت کہا جائے گا کہ یہ ہے جس کا وعدہ رحمان نے دیا تھا۔ اور رسولوں نے سچ سچ کہہ دیا تھا۔ اللہ نے تو لکھ دیا تھا کہ تم قیامت تک رہو گے تو اب قیامت کا دن آ چکا ہے۔ وہ اللہ عزیز ہے یعنی بلند جناب والا بڑی سرکار والا ہے۔ بہت عزت والا ہے پورے غلبے والا ہے نہ اس پر کسی کا بس نہ کسی کا زور۔ ہر چیز اس کے سامنے پست و عاجز۔ وہ قابل تعریف ہے اپنے اقوال و افعال شرع و فعل میں۔ ان تمام میں اس کی ساری مخلوق اس کی ثنا خواں ہے۔ «جل و علا» ۔
6۔ 1 یہاں رؤیت سے مراد رؤیت قلبی یعنی علم یقینی ہے، محض رؤیت بصری (آنکھ کا دیکھنا) نہیں اہل علم سے مراد صحابہ کرام یا مومنین ہیں۔ یعنی اہل ایمان اس بات کو جانتے اور اس پر یقین رکھتے ہیں۔ 6 ۔ 2 یہ عطف ہے حق پر، یعنی وہ بھی جانتے ہیں کہ یہ قرآن کریم اس راستے کی طرف رہنمائی کرتا ہے جو اس اللہ کا راستہ ہے جو کائنات میں سب پر غالب ہے اور اپنی مخلوق میں محمود (قابل تعریف) ہے اور وہ راستہ کیا ہے؟ توحید کا راستہ جس کی طرف تمام انبیا علیھم السلام اپنی اپنی قوموں کو دعوت دیتے رہے۔
(آیت 6) ➊ {وَ يَرَى الَّذِيْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ …: ” يَرَى “} میں رُؤیت (دیکھنے) سے مراد یہاں دل کے ساتھ دیکھنا یعنی جاننا ہے۔{” يَرَى الَّذِيْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ “} کا پہلا مفعول {” الَّذِيْۤ اُنْزِلَ اِلَيْكَ مِنْ رَّبِّكَ “} ہے اور دوسرا مفعول {” الْحَقَّ “} ہے۔ {” هُوَ “} ضمیر فصل ہے۔ خبر {” الْحَقَّ “} پر الف لام کی وجہ سے اور ضمیر فصل کی وجہ سے کلام میں حصر اور تاکید پیدا ہو گئی، اس لیے ترجمہ کیا گیا ہے کہ ”وہی حق ہے۔“ {” الَّذِيْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ “} سے مراد سب سے پہلے صحابہ کرام ہیں، پھر تمام مسلمان جو فکرو دانش اور علم نافع سے بہرہ مند ہوئے، یا اہلِ کتاب میں سے جو لوگ ایمان لائے، جیسے عبد اللہ بن سلام رضی اللہ عنہ۔ اس آیت اور اس سے اگلی آیت میں رسول، وحی الٰہی اور قیامت کے متعلق اہل علم و دانش کا یقین و ایمان اور کفار کا عقیدہ و اعلان بیان فرمایا ہے۔ چنانچہ فرمایا، جن لوگوں کو علم دیا گیا ہے وہ تو جانتے اور یقین رکھتے ہیں کہ جو کچھ آپ کی طرف نازل کیا گیا ہے وہی حق ہے اور وہ اس ذات پاک کا راستہ دکھاتا ہے جو سب پرغالب اور تمام خوبیوں کا مالک ہے۔ کفار اور شیطان لاکھ کوشش کر لیں، وہ اس کے سب پر غالب ہونے اور تمام خوبیوں کا مالک ہونے کے یقین کی وجہ سے اس کے راستے کے سوا کسی اور راستے پر چلنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ اس لیے وہ اس کے بتانے کے مطابق قیامت قائم ہونے پر یقین رکھتے ہیں اور اس کی تیاری کرتے ہیں۔ ➋ بعض مفسرین نے {” وَ يَرَى الَّذِيْنَ “} کا عطف {” لِيَجْزِيَ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا “} پر بیان کیا ہے، مگر بہتر یہی ہے کہ اسے نیا کلام قرار دیا جائے۔
منکرین لوگوں سے کہتے ہیں "ہم بتائیں تمہیں ایسا شخص جو خبر دیتا ہے کہ جب تمہارے جسم کا ذرہ ذرہ منتشر ہو چکا ہو گا اس وقت تم نئے سرے سے پیدا کر دیے جاؤ گے؟
مولانا محمد جوناگڑھی
اور کافروں نے کہا (آؤ) ہم تمہیں ایک ایسا شخص بتلائیں جو تمہیں یہ خبر پہنچا رہا ہے کہ جب تم بالکل ہی ریزه ریزه ہوجاؤ گے تو تم پھر سے ایک نئی پیدائش میں آؤ گے
احمد رضا خان بریلوی
اور کافر بولے کیا ہم تمہیں ایسا مرد بتادیں جو تمہیں خبر دے کہ جب تم پرزہ ہوکر بالکل ریزہ ہوکر بالکل ریزہ ریزہ ہوجاؤ تو پھر تمہیں نیا بَننا ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
اور کافر (ایک دوسرے سے) کہتے ہیں کہ کیا ہم تمہیں ایسا آدمی بتائیں جو تمہیں خبر دیتا ہے کہ جب تم (مرنے کے بعد) بالکل ریزہ ریزہ کر دیئے جاؤگے تو تم ازسرِنو پیدا کئے جاؤگے۔
عبدالسلام بن محمد
اور ان لوگوں نے کہا جنھوں نے کفر کیا کیا ہم تمھیں وہ آدمی بتائیں جو تمھیں خبر دیتا ہے کہ جب تم ٹکڑے ٹکڑے کر دیے جائو گے، پوری طرح ٹکڑے ٹکڑے کیا جانا، تو بلاشبہ تم یقینا بالکل نئی پیدائش میں ہو گے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
کافروں کی جہالت ٭٭
کافر اور ملحد جو قیامت کے آنے کو محال جانتے تھے اور اس پر اللہ کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا مذاق اڑاتے تھے ان کے کفریہ کلمات کا ذکر ہو رہا ہے کہ وہ آپس میں کہتے تھے ”لو اور سنو ہم میں ایک صاحب ہیں جو فرماتے ہیں کہ جب مر کر مٹی میں مل جائیں گے اور چورا چورا اور ریزہ ریزہ ہو جائیں گے اس کے بعد بھی ہم زندہ کئے جائیں گے اس شخص کی نسبت دو ہی خیال ہو سکتے ہیں یا تو یہ کہ ہوش و حواس کی درستی میں وہ عمداً اللہ کے ذمے ایک جھوٹ بول رہا ہے اور جو اس نے نہیں فرمایا وہ اس کی طرف نسبت کر کے یہ کہہ رہا ہے اور اگر یہ نہیں تو اس کا دماغ خراب ہے، مجنون ہے، بے سوچے سمجھے جو جی میں آئے کہہ دیتا ہے“ اللہ تعالیٰ انہیں جواب دیتا ہے کہ یہ دونوں باتیں نہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سچے ہیں، نیک ہیں، راہ یافتہ ہیں، دانا ہیں، باطنی اور ظاہری بصیرت والے ہیں۔ لیکن اسے کیا کیا جائے کہ منکر لوگ جہالت اور نادانی سے کام لے رہے ہیں۔ اور غور و فکر سے بات کی تہہ تک پہنچنے کی کوشش ہی نہیں کرتے۔ جس کی وجہ سے حق بات اور سیدھی راہ ان سے چھوٹ جاتی ہے اور وہ بہت دور نکل جاتے ہیں۔
کیا اس کی قدرت میں تم کوئی کمی دیکھ رہے ہو۔ جس نے محیط آسمان اور بسیط زمین پیدا کر دی۔ جہاں جاؤ نہ آسمان کا سایہ ختم ہو نہ زمین کا فرش۔ جیسے فرمان ہے «وَالسَّمَاءَ بَنَيْنٰهَا بِاَيْىدٍ وَّاِنَّا لَمُوْسِعُوْنَ» ۱؎ [51-الذاريات:47-48] ’ ہم نے آسمان کو اپنے ہاتھوں بنایا اور ہم کشادگی والے ہیں۔ زمین کو ہم نے ہی بچھایا اور ہم بہت اچھے بچھانے والے ہیں۔ ‘
یہاں بھی فرمایا کہ آگے دیکھو پیچھے دیکھو اسی طرح دائیں دیکھو بائیں کی طرف التفات کرو تو وسیع آسمان اور بسیط زمین ہی نظر آئے گی۔ اتنی بڑی مخلوق کا خالق اتنی زبردست قدرتوں پر قادر کیا تم جیسی چھوٹی سی مخلوق کو فنا کر کے پھر پیدا کرنے پر قدرت کھو بیٹھے؟ وہ تو قادر ہے کہ اگر چاہے تمہیں زمین میں دھنسا دے۔ یا آسمان تم پر توڑ دے یقیناً تمہارے ظلم اور گناہ اسی قابل ہیں۔ لیکن اللہ کا حکم اور عفو ہے کہ وہ تمہیں مہلت دیئے ہوئے ہے۔ جس میں عقل ہے جس میں دور بینی کا مادہ ہو جس میں غور و فکر کی عادت ہو۔ جس کی اللہ کی طرف جھکنے والی طبیعت ہو۔ جس کے سینے میں دل، دل میں حکمت اور حکمت میں نور ہو وہ تو ان زبردست نشانات کو دیکھنے کے بعد اس قادر و خالق اللہ کی اس قدرت میں شک کر ہی نہیں سکتا کہ مرنے کے بعد پھر جینا ہے۔ آسمانوں جیسے شامیانے اور زمینوں جیسے فرش جس نے پیدا کر دئیے اس پر انسان کی پیدائش کیا مشکل ہے؟ جس نے ہڈیوں، گوشت، کھال کو ابتداً پیدا کیا۔ اسے ان کے سڑ گل جانے اور ریزہ ریزہ ہو کر جھڑ جانے کے بعد اکٹھا کر کے اٹھا بٹھانا کیا بھاری ہے؟ اسی کو اور آیت میں فرمایا «اَوَلَيْسَ الَّذِيْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ بِقٰدِرٍ عَلٰٓي اَنْ يَّخْلُقَ مِثْلَهُمْ» ۱؎ [36-يس:81] ، یعنی ’ آسمانوں اور زمینوں کو پیدا کر دیا کیا وہ ان کے مثل پیدا کرنے پر قادر نہیں؟ بے شک وہ قادر ہے ‘ اور آیت میں ہے «لَخَــلْقُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ اَكْبَرُ مِنْ خَلْقِ النَّاسِ وَلٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُوْنَ» ۱؎ [40-غافر:57] یعنی ’ انسانوں کی پیدائش سے بہت زیادہ مشکل تو آسمان و زمین کی پیدائش ہے۔ لیکن اکثر لوگ بےعلمی برتتے ہیں۔ ‘
7۔ 1 یہ اہل ایمان کے مقابلے میں منکرین آخرت کا قول ہے جو آپس میں انہوں نے ایک دوسرے سے کہا۔ 7۔ 2 اس سے مراد حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں جو ان کی طرف اللہ کے نبی بن کر آئے تھے 7۔ 3 یعنی عجیب و غریب خبر، ناقابل فہم خبر۔ 7۔ 4 یعنی مرنے کے بعد جب تم مٹی میں مل کر ریزہ ریزہ ہوجاؤ گے تمہارا ظاہری وجود ناپید ہوجائے گا تمہیں قبروں سے دوبارہ زندہ کیا جائے گا اور دوبارہ وہی شکل وصورت تمہیں عطاکردی جائے گی جس میں تم پہلے تھے یہ گفتگو انہوں نے آپس میں استہزا اور مذاق کے طور پر کی
(آیت 7) {وَ قَالَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا هَلْ نَدُلُّكُمْ …:} اہلِ علم کے بعد کفار کا قول ذکر فرمایا کہ انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جیسی شخصیت کا ذکر، جن کی شہرت محتاج بیان نہیں، حقارت کے انداز سے ”ایک آدمی“ کہہ کر کیا، یعنی لوگوں سے کہا، کیا ہم تمھیں ”ایک آدمی“ بتائیں جو تمھیں یہ بتاتا ہے کہ جب تم ریزہ ریزہ کر کے منتشر کر دیے جاؤ گے تو پھر ایک نئی پیدائش کے ساتھ زندہ کر دیے جاؤ گے۔
نہ معلوم یہ شخص اللہ کے نام سے جھوٹ گھڑتا ہے ہے یا اسے جنون لاحق ہے" نہیں، بلکہ جو لوگ آخرت کو نہیں مانتے وہ عذاب میں مبتلا ہونے والے ہیں اور و ہی بری طرح بہکے ہوئے ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
(ہم نہیں کہہ سکتے) کہ خود اس نے (ہی) اللہ پر جھوٹ باندھ لیا ہے یا اسے دیوانگی ہے بلکہ (حقیقت یہ ہے) کہ آخرت پر یقین نہ رکھنے والے ہی عذاب میں اور دور کی گمراہی میں ہیں
احمد رضا خان بریلوی
کیا اللہ پر اس نے جھوٹ باندھا یا اسے سودا ہے بلکہ وہ جو آخرت پر ایمان نہیں لاتے عذاب اور دور کی گمراہی میں ہیں،
علامہ محمد حسین نجفی
کیا یہ اللہ پر جھوٹا بہتان باندھتا ہے یا اسے جنون ہے (پیغمبرِ اسلام(ص) تو نہیں) بلکہ وہ لوگ جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتے وہ عذاب اور دور دراز کی گمراہی (سخت گمراہی) میں مبتلا ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
کیا اس نے اللہ پر ایک جھوٹ باندھا ہے، یا اسے کچھ جنون ہے؟بلکہ جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے وہ عذاب اور بہت دور کی گمراہی میں ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
کافروں کی جہالت ٭٭
کافر اور ملحد جو قیامت کے آنے کو محال جانتے تھے اور اس پر اللہ کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا مذاق اڑاتے تھے ان کے کفریہ کلمات کا ذکر ہو رہا ہے کہ وہ آپس میں کہتے تھے ”لو اور سنو ہم میں ایک صاحب ہیں جو فرماتے ہیں کہ جب مر کر مٹی میں مل جائیں گے اور چورا چورا اور ریزہ ریزہ ہو جائیں گے اس کے بعد بھی ہم زندہ کئے جائیں گے اس شخص کی نسبت دو ہی خیال ہو سکتے ہیں یا تو یہ کہ ہوش و حواس کی درستی میں وہ عمداً اللہ کے ذمے ایک جھوٹ بول رہا ہے اور جو اس نے نہیں فرمایا وہ اس کی طرف نسبت کر کے یہ کہہ رہا ہے اور اگر یہ نہیں تو اس کا دماغ خراب ہے، مجنون ہے، بے سوچے سمجھے جو جی میں آئے کہہ دیتا ہے“ اللہ تعالیٰ انہیں جواب دیتا ہے کہ یہ دونوں باتیں نہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سچے ہیں، نیک ہیں، راہ یافتہ ہیں، دانا ہیں، باطنی اور ظاہری بصیرت والے ہیں۔ لیکن اسے کیا کیا جائے کہ منکر لوگ جہالت اور نادانی سے کام لے رہے ہیں۔ اور غور و فکر سے بات کی تہہ تک پہنچنے کی کوشش ہی نہیں کرتے۔ جس کی وجہ سے حق بات اور سیدھی راہ ان سے چھوٹ جاتی ہے اور وہ بہت دور نکل جاتے ہیں۔
کیا اس کی قدرت میں تم کوئی کمی دیکھ رہے ہو۔ جس نے محیط آسمان اور بسیط زمین پیدا کر دی۔ جہاں جاؤ نہ آسمان کا سایہ ختم ہو نہ زمین کا فرش۔ جیسے فرمان ہے «وَالسَّمَاءَ بَنَيْنٰهَا بِاَيْىدٍ وَّاِنَّا لَمُوْسِعُوْنَ» ۱؎ [51-الذاريات:47-48] ’ ہم نے آسمان کو اپنے ہاتھوں بنایا اور ہم کشادگی والے ہیں۔ زمین کو ہم نے ہی بچھایا اور ہم بہت اچھے بچھانے والے ہیں۔ ‘
یہاں بھی فرمایا کہ آگے دیکھو پیچھے دیکھو اسی طرح دائیں دیکھو بائیں کی طرف التفات کرو تو وسیع آسمان اور بسیط زمین ہی نظر آئے گی۔ اتنی بڑی مخلوق کا خالق اتنی زبردست قدرتوں پر قادر کیا تم جیسی چھوٹی سی مخلوق کو فنا کر کے پھر پیدا کرنے پر قدرت کھو بیٹھے؟ وہ تو قادر ہے کہ اگر چاہے تمہیں زمین میں دھنسا دے۔ یا آسمان تم پر توڑ دے یقیناً تمہارے ظلم اور گناہ اسی قابل ہیں۔ لیکن اللہ کا حکم اور عفو ہے کہ وہ تمہیں مہلت دیئے ہوئے ہے۔ جس میں عقل ہے جس میں دور بینی کا مادہ ہو جس میں غور و فکر کی عادت ہو۔ جس کی اللہ کی طرف جھکنے والی طبیعت ہو۔ جس کے سینے میں دل، دل میں حکمت اور حکمت میں نور ہو وہ تو ان زبردست نشانات کو دیکھنے کے بعد اس قادر و خالق اللہ کی اس قدرت میں شک کر ہی نہیں سکتا کہ مرنے کے بعد پھر جینا ہے۔ آسمانوں جیسے شامیانے اور زمینوں جیسے فرش جس نے پیدا کر دئیے اس پر انسان کی پیدائش کیا مشکل ہے؟ جس نے ہڈیوں، گوشت، کھال کو ابتداً پیدا کیا۔ اسے ان کے سڑ گل جانے اور ریزہ ریزہ ہو کر جھڑ جانے کے بعد اکٹھا کر کے اٹھا بٹھانا کیا بھاری ہے؟ اسی کو اور آیت میں فرمایا «اَوَلَيْسَ الَّذِيْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ بِقٰدِرٍ عَلٰٓي اَنْ يَّخْلُقَ مِثْلَهُمْ» ۱؎ [36-يس:81] ، یعنی ’ آسمانوں اور زمینوں کو پیدا کر دیا کیا وہ ان کے مثل پیدا کرنے پر قادر نہیں؟ بے شک وہ قادر ہے ‘ اور آیت میں ہے «لَخَــلْقُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ اَكْبَرُ مِنْ خَلْقِ النَّاسِ وَلٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُوْنَ» ۱؎ [40-غافر:57] یعنی ’ انسانوں کی پیدائش سے بہت زیادہ مشکل تو آسمان و زمین کی پیدائش ہے۔ لیکن اکثر لوگ بےعلمی برتتے ہیں۔ ‘
8۔ 1 یعنی دو باتوں میں سے ایک بات تو ضرور ہے، کہ یہ جھوٹ بول رہا ہے اور اللہ کی طرف سے وحی و رسالت کا دعویٰ، یہ اس کا اللہ پر افترا ہے۔ یا پھر اس کا دماغ چل گیا ہے اور دیوانگی میں ایسی باتیں کر رہا ہے جو غیر معقول ہیں۔ 8۔ 2 اللہ تعالیٰ نے فرمایا، بات اس طرح نہیں ہے، جس طرح یہ گمان کر رہے ہیں بلکہ واقعہ یہ ہے کہ عقل و فہم اور ادراک حقائق سے یہی لوگ قاصر ہیں، جس کی وجہ سے یہ آخرت پر ایمان لانے کی بجائے اس کا انکار کر رہے ہیں، جس کا نتیجہ آخرت کا دائمی عذاب ہے اور یہ آج ایسی گمراہی میں مبتلا ہیں جو حق سے غایت درجہ دور ہے۔
(آیت 8) ➊ { اَفْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا …:} یعنی اس کا یہ کہنا کہ ریزہ ریزہ کر دیے جانے کے بعد تم نئے سرے سے پھر زندہ کیے جاؤ گے، دو حال سے خالی نہیں، یا تو ہوش و حواس کی درستی میں وہ جان بوجھ کر اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھ رہا ہے اور اس کی طرف نسبت کر کے وہ بات کہہ رہا ہے جو اس نے نہیں فرمائی، یا اسے جنون ہے، اس کا دماغ خراب ہے، بے سوچے سمجھے جو جی میں آئے کہہ دیتا ہے۔ [ نَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنْ ذٰلِکَ ] ➋ { بَلِ الَّذِيْنَ لَا يُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ …:} رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پوری عمر قریش مکہ کے سامنے گزری تھی۔ (دیکھیے یونس: ۱۶) آپ کے متعلق یہ دونوں باتیں اتنی بے کار تھیں کہ ان کی تردید کی ضرورت ہی نہیں تھی، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا صادق اور امین ہونا سب کے ہاں مسلّم تھا۔(دیکھیے انعام: ۳۳) جیسا کہ ابوسفیان کے اس اعتراف پر کہ انھیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق جھوٹ بولنے کا کوئی واقعہ معلوم نہیں، ہرقل نے کہا تھا: ”یہ نہیں ہو سکتا کہ وہ لوگوں پر تو جھوٹ نہ بولے، مگر اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھنے لگے۔“ [ دیکھیے بخاري: ۷ ] رہی دیوانہ یا پاگل ہونے کی بات تو آپ کی عقل کا کمال دوست و دشمن سب کے سامنے تھا، اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا، ان دونوں باتوں میں سے ایک بھی نہیں، اصل بات یہ ہے کہ جو لوگ آخرت کے منکر ہیں وہ جہالت اور نادانی سے کام لے رہے ہیں اور غوروفکر سے بات کی تہ تک پہنچنے کی کوشش ہی نہیں کرتے، جس کی وجہ سے وہ حق بات اور سیدھی راہ سے بہت دور نکل گئے ہیں اور اس راستے پر چل رہے ہیں جو انھیں سیدھا جہنم کے عذاب میں لے جانے والا ہے۔ الٹا سیدھی راہ پر چلنے والے کو جھوٹا یا دیوانہ بتا رہے ہیں۔
کیا اِنہوں نے کبھی اُس آسمان و زمین کو نہیں دیکھا جو اِنہیں آگے اور پیچھے سے گھیرے ہوئے ہے؟ ہم چاہیں تو اِنہیں زمین میں دھسا دیں، یا آسمان کے کچھ ٹکڑے اِن پر گرا دیں در حقیقت اس میں ایک نشانی ہے ہر اُس بندے کے لیے جو خدا کی طرف رجوع کرنے والا ہو
مولانا محمد جوناگڑھی
کیا پس وه اپنے آگے پیچھے آسمان وزمین کو دیکھ نہیں رہے ہیں؟ اگر ہم چاہیں تو انہیں زمین میں دھنسا دیں یا ان پر آسمان کے ٹکڑے گرادیں، یقیناً اس میں پوری دلیل ہے ہر اس بندے کے لئے جو (دل سے) متوجہ ہو
احمد رضا خان بریلوی
تو کیا انہوں نے نہ دیکھا جو ان کے آگے اور پیچھے ہے آسمان اور زمین ہم چاہیں تو انہیں زمین میں دھنسادیں یا ان پر آسمان کا ٹکڑا گرادیں، بیشک اس میں نشانی ہے ہر رجوع لانے والے بندے کے لیے
علامہ محمد حسین نجفی
کیا انہوں نے اسے نہیں دیکھا جو ان کے آگے پیچھے ہے (ان کو محیط ہے) یعنی آسمان و زمین! اگر ہم چاہیں تو انہیں زمین میں دھنسا دیں یا ان پر آسمان کے کچھ ٹکڑے گرا دیں۔ بے شک اس میں اللہ کی طرف رجوع کرنے والے بندہ کیلئے ایک نشانی ہے۔
عبدالسلام بن محمد
تو کیا انھوں نے اس کی طرف نہیں دیکھا جو آسمان و زمین میں سے ان کے آگے ہے اور جو ان کے پیچھے ہے، اگر ہم چاہیں انھیں زمین میں دھنسا دیں، یا ان پر آسمان سے کچھ ٹکڑے گرا دیں۔ یقینا اس میں ہر رجوع کرنے والے بندے کے لیے ضرور ایک نشانی ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
کافروں کی جہالت ٭٭
کافر اور ملحد جو قیامت کے آنے کو محال جانتے تھے اور اس پر اللہ کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا مذاق اڑاتے تھے ان کے کفریہ کلمات کا ذکر ہو رہا ہے کہ وہ آپس میں کہتے تھے ”لو اور سنو ہم میں ایک صاحب ہیں جو فرماتے ہیں کہ جب مر کر مٹی میں مل جائیں گے اور چورا چورا اور ریزہ ریزہ ہو جائیں گے اس کے بعد بھی ہم زندہ کئے جائیں گے اس شخص کی نسبت دو ہی خیال ہو سکتے ہیں یا تو یہ کہ ہوش و حواس کی درستی میں وہ عمداً اللہ کے ذمے ایک جھوٹ بول رہا ہے اور جو اس نے نہیں فرمایا وہ اس کی طرف نسبت کر کے یہ کہہ رہا ہے اور اگر یہ نہیں تو اس کا دماغ خراب ہے، مجنون ہے، بے سوچے سمجھے جو جی میں آئے کہہ دیتا ہے“ اللہ تعالیٰ انہیں جواب دیتا ہے کہ یہ دونوں باتیں نہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سچے ہیں، نیک ہیں، راہ یافتہ ہیں، دانا ہیں، باطنی اور ظاہری بصیرت والے ہیں۔ لیکن اسے کیا کیا جائے کہ منکر لوگ جہالت اور نادانی سے کام لے رہے ہیں۔ اور غور و فکر سے بات کی تہہ تک پہنچنے کی کوشش ہی نہیں کرتے۔ جس کی وجہ سے حق بات اور سیدھی راہ ان سے چھوٹ جاتی ہے اور وہ بہت دور نکل جاتے ہیں۔
کیا اس کی قدرت میں تم کوئی کمی دیکھ رہے ہو۔ جس نے محیط آسمان اور بسیط زمین پیدا کر دی۔ جہاں جاؤ نہ آسمان کا سایہ ختم ہو نہ زمین کا فرش۔ جیسے فرمان ہے «وَالسَّمَاءَ بَنَيْنٰهَا بِاَيْىدٍ وَّاِنَّا لَمُوْسِعُوْنَ» ۱؎ [51-الذاريات:47-48] ’ ہم نے آسمان کو اپنے ہاتھوں بنایا اور ہم کشادگی والے ہیں۔ زمین کو ہم نے ہی بچھایا اور ہم بہت اچھے بچھانے والے ہیں۔ ‘
یہاں بھی فرمایا کہ آگے دیکھو پیچھے دیکھو اسی طرح دائیں دیکھو بائیں کی طرف التفات کرو تو وسیع آسمان اور بسیط زمین ہی نظر آئے گی۔ اتنی بڑی مخلوق کا خالق اتنی زبردست قدرتوں پر قادر کیا تم جیسی چھوٹی سی مخلوق کو فنا کر کے پھر پیدا کرنے پر قدرت کھو بیٹھے؟ وہ تو قادر ہے کہ اگر چاہے تمہیں زمین میں دھنسا دے۔ یا آسمان تم پر توڑ دے یقیناً تمہارے ظلم اور گناہ اسی قابل ہیں۔ لیکن اللہ کا حکم اور عفو ہے کہ وہ تمہیں مہلت دیئے ہوئے ہے۔ جس میں عقل ہے جس میں دور بینی کا مادہ ہو جس میں غور و فکر کی عادت ہو۔ جس کی اللہ کی طرف جھکنے والی طبیعت ہو۔ جس کے سینے میں دل، دل میں حکمت اور حکمت میں نور ہو وہ تو ان زبردست نشانات کو دیکھنے کے بعد اس قادر و خالق اللہ کی اس قدرت میں شک کر ہی نہیں سکتا کہ مرنے کے بعد پھر جینا ہے۔ آسمانوں جیسے شامیانے اور زمینوں جیسے فرش جس نے پیدا کر دئیے اس پر انسان کی پیدائش کیا مشکل ہے؟ جس نے ہڈیوں، گوشت، کھال کو ابتداً پیدا کیا۔ اسے ان کے سڑ گل جانے اور ریزہ ریزہ ہو کر جھڑ جانے کے بعد اکٹھا کر کے اٹھا بٹھانا کیا بھاری ہے؟ اسی کو اور آیت میں فرمایا «اَوَلَيْسَ الَّذِيْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ بِقٰدِرٍ عَلٰٓي اَنْ يَّخْلُقَ مِثْلَهُمْ» ۱؎ [36-يس:81] ، یعنی ’ آسمانوں اور زمینوں کو پیدا کر دیا کیا وہ ان کے مثل پیدا کرنے پر قادر نہیں؟ بے شک وہ قادر ہے ‘ اور آیت میں ہے «لَخَــلْقُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ اَكْبَرُ مِنْ خَلْقِ النَّاسِ وَلٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُوْنَ» ۱؎ [40-غافر:57] یعنی ’ انسانوں کی پیدائش سے بہت زیادہ مشکل تو آسمان و زمین کی پیدائش ہے۔ لیکن اکثر لوگ بےعلمی برتتے ہیں۔ ‘
9۔ 1 یعنی اس پر غور نہیں کرتے؟ اللہ تعالیٰ ان کی زجر و توبیخ کرتے ہوئے فرما رہا ہے کہ آخرت کا یہ انکار، آسمان اور زمین کی پیدائش میں غور و فکر نہ کرنے کا نتیجہ ہے، ورنہ جو ذات آسمان جیسی چیز، جس کی بلندی اور وسعت ناقابل بیان ہے اور زمین جیسی چیز، جس کا طول و عرض بھی ناقابل فہم ہے، پیدا کرسکتا ہے، اس کے لئے اپنی ہی پیدا کردہ چیز کا دوبارہ پیدا کردینا اور اسے دوبارہ اسی حالت میں لے آنا، جس میں وہ پہلے تھی، کیوں کر ناممکن ہے۔ 9۔ 1 یعنی یہ آیت دو باتوں پر مشتمل ہے ایک اللہ کے کمال قدرت کا بیان جو ابھی مذکور ہوا دوسری کفار کے لیے تنبیہ و تہدید کہ جو اللہ آسمان و زمین کی تخلیق پر اس طرح قادر ہے کہ ان پر اور ان کے مابین ہر چیز پر اس کا تصرف اور غلبہ ہے وہ جب چاہے ان پر اپنا عذاب بھیج کر ان کو تباہ کرسکتا ہے زمین میں دھنسا کر بھی، جس طرح قارون کو دھنسایا یا آسمان کے ٹکڑے گرا کر جس طرح اصحاب الایکہ کو ہلاک کیا گیا۔
(آیت 9) ➊ { اَفَلَمْ يَرَوْا اِلٰى مَا بَيْنَ اَيْدِيْهِمْ وَ مَا خَلْفَهُمْ …:} فرمایا، آخرت کا انکار زمین و آسمان کی پیدائش میں غوروفکر نہ کرنے کا نتیجہ ہے، ورنہ اگر یہ اپنے آگے اور پیچھے چاروں طرف پھیلے ہوئے آسمان اور زمین کے پیدا کرنے پر غور کرتے، جن کی وسعت ان کے خیال سے بھی زیادہ ہے تو زمین وآسمان کو پیدا کرنے والے کے لیے انسان کو دوبارہ پیدا کرنے پر نہ تعجب کرتے، نہ اس کا انکار کرتے، کیونکہ آسمان و زمین کی پیدائش کے مقابلے میں ان کی تخلیق تو کوئی حیثیت ہی نہیں رکھتی، جیسا کہ فرمایا: «ءَاَنْتُمْ اَشَدُّ خَلْقًا اَمِ السَّمَآءُ بَنٰىهَا» [ النازعات: ۲۷ ] ”کیا پیدا کرنے میں تم زیادہ مشکل ہو یا آسمان؟ اس نے اسے بنایا۔“ اور فرمایا: «لَخَلْقُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ اَكْبَرُ مِنْ خَلْقِ النَّاسِ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُوْنَ» [ المؤمن: ۵۷ ] ”یقینا آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنا لوگوں کے پیدا کرنے سے زیادہ بڑا (کام) ہے اور لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔“ ➋ { اِنْ نَّشَاْ نَخْسِفْ بِهِمُ الْاَرْضَ …: ” كِسَفًا “ ”كِسْفَةٌ“} کی جمع ہے، ٹکڑے۔ اس میں کفار کو ڈرایا ہے کہ یہی آسمان و زمین جن کو تم اپنے لیے نفع بخش اور زندگی کا سبب سمجھتے ہو، اللہ تعالیٰ چاہے تو انھی چیزوں کو تمھاری ہلاکت کا موجب بنا سکتا ہے۔ پھر وہ چاہے تو تمھیں اس زمین میں دھنسا دے، جیسے اس نے قارون کو دھنسا دیا، یا آسمان سے عذاب کے کچھ ٹکڑے گرا دے، جیسے اس نے اصحاب الایکہ کے ساتھ کیا۔ ➌ { اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيَةً لِّكُلِّ عَبْدٍ مُّنِيْبٍ:} یعنی جو شخص کسی قسم کا تعصّب یا ہٹ دھرمی نہ رکھتا ہو، بلکہ اخلاص کے ساتھ اپنے رب سے ہدایت کا طالب ہو اور اس کی طرف رجوع رکھتا ہو، اس کے لیے تو آسمان و زمین کے اس عظیم الشّان نظام میں بہت بڑا سبق موجود ہے کہ جس نے اتنا بڑا حکمت سے بھرا ہوا نظام بنایا ہے، وہ دوبارہ زندہ بھی کر سکتا ہے اور یہ بھی سبق ہے کہ اس کی عنایت اور اس کے فضل ہی سے ہم بچے ہوئے ہیں، ورنہ وہ ایک ہی لمحہ میں ہمیں ہلاک کر سکتا ہے۔ یہ زمین اس کی ہے اور آسمان بھی اسی کا ہے، پھر ہم بھاگ کر کہاں جا سکتے ہیں؟ مگر جو اپنے رب کی طرف رجوع کے بجائے اس سے بغاوت اختیار کر چکا ہو، اس کے لیے یہ سب کچھ دیکھنے کے باوجود اس میں کوئی سبق نہیں۔
ہم نے داؤدؑ کو اپنے ہاں سے بڑا فضل عطا کیا تھا (ہم نے حکم دیا کہ) اے پہاڑو، اس کے ساتھ ہم آہنگی کرو (اور یہی حکم ہم نے) پرندوں کو دیا ہم نے لوہے کو اس کے لیے نرم کر دیا
مولانا محمد جوناگڑھی
اور ہم نے داؤد پر اپنا فضل کیا، اے پہاڑو! اس کے ساتھ رغبت سے تسبیح پڑھا کرو اور پرندوں کو بھی (یہی حکم ہے) اور ہم نے اس کے لئے لوہا نرم کردیا
احمد رضا خان بریلوی
اور بیشک ہم نے داؤد کو اپنا بڑا فضل دیا اے پہاڑو! اس کے ساتھ اللہ کی رجوع کرو اور اے پرندو! اور ہم نے اس کے لیے لوہا نرم کیا
علامہ محمد حسین نجفی
اور بلاشبہ ہم نے داؤد(ع) کو اپنے ہاں سے (بڑی) فضیلت عطا کی تھی (اور پہاڑوں سے کہا) اے پہاڑو ان کے ساتھ تسبیح کرو اور پرندوں کو بھی (یہی حکم دیا) اور ہم نے ان کیلئے لوہا نرم کر دیا۔
عبدالسلام بن محمد
اور بلاشبہ یقینا ہم نے دائود کو اپنی طرف سے بڑا فضل عطا کیا، اے پہاڑو! اس کے ساتھ تسبیح کو دہرائو اور پرندے بھی اور ہم نے اس کے لیے لوہے کو نرم کر دیا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
داؤد علیہ السلام پر انعامات الٰہی ٭٭
اللہ تعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ اس نے اپنے بندے اور رسول داؤد علیہ السلام پر دنیوی اور اخروی رحمت نازل فرمائی۔ نبوت بھی دی بادشاہت بھی دی لاؤ لشکر بھی دیئے طاقت و قوت بھی دی۔ پھر ایک پاکیزہ معجزہ عطا فرمایا کہ ادھر نغمہ داؤدی ہوا میں گونجا، ادھر پہاڑوں اور پرندوں کو بھی وجد آ گیا۔ پہاڑوں نے آواز میں آواز ملا کر اللہ کی حمد و ثناء شروع کی پرندوں نے پر ہلانے چھوڑ دیئے اور اپنی قسم قسم کی پیاری پیاری بولیوں میں رب کی وحدانیت کے گیت گانے لگے۔
صحیح حدیث میں ہے کہ { رات کو سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ قرآن پاک کی تلاوت کر رہے تھے جسے سن کر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ٹھہر گئے دیر تک سنتے رہے پھر فرمانے لگے انہیں نغمہ داؤدی کا کچھ حصہ مل گیا ہے } ۱؎ [صحیح مسلم:793] ۔ ابوعثمان نہدی رحمہ اللہ کا بیان ہے کہ واللہ! ہم نے سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے زیادہ پیاری آواز کسی باجے کی بھی نہیں سنی۔ «اوبی» کے معنی حبشی زبان میں یہ ہیں کہ تسبیح بیان کرو۔ لیکن ہمارے نزدیک اس میں مزید غور کی ضرورت ہے لغت عرب میں یہ لفظ ترجیع کے معنی میں موجود ہے۔ پس پہاڑوں کو اور پرندوں کو حکم ہو رہا ہے کہ وہ داؤد علیہ السلام کی آواز کے ساتھ اپنی آواز بھی ملا لیا کریں۔ «تاویب» کے ایک معنی دن کو چلنے کے بھی آتے ہیں۔ جیسے «سری» کے معنی رات کو چلنے کے ہیں لیکن یہ معنی بھی یہاں کچھ زیادہ مناسبت نہیں رکھتا یہاں تو یہی مطلب ہے کہ داؤد علیہ السلام کی تسبیح کی آواز میں تم بھی آواز ملا کر خوش آوازی سے رب کی حمد و ثناء بیان کرو۔ اور فضل ان پر یہ ہوا کہ ان کے لئے لوہا نرم کر دیا گیا نہ انہیں لوہے کی بھٹی میں ڈالنے کی ضرورت نہ ہتھوڑے مارنے کی حاجت ہاتھ میں آتے ہی ایسا ہو جاتا تھا جیسے دھاگے، اب اس لوہے سے بفرمان اللہ آپ زرہیں بناتے تھے۔ بلکہ یہ بھی کہا گیا ہے کہ دنیا میں سب سے پہلے زرہ آپ ہی نے ایجاد کی ہے۔ ہر روز صرف ایک زرہ بناتے اس کی قیمت چھ ہزار لوگوں کے کھلانے پلانے میں صرف کر دیتے۔ زرہ بنانے کی ترکیب خود اللہ کی سکھائی ہوئی تھی کہ کڑیاں ٹھیک ٹھیک رکھیں حلقے چھوٹے نہ ہوں کہ ٹھیک نہ بیٹھیں بہت بڑے نہ ہوں کہ ڈھیلا پن رہ جائے بلکہ ناپ تول اور صحیح اندازے سے حلقے اور کڑیاں ہوں۔ ابن عساکر میں ہے داؤد علیہ السلام بھیس بدل کر نکلا کرتے اور رعایا کے لوگوں سے مل کر ان سے اور باہر کے آنے جانے والوں سے دریافت فرماتے کہ داؤد کیسا آدمی ہے؟ لیکن ہر شخص کو تعریفیں کرتا ہوا ہی پاتے۔ کسی سے کوئی بات اپنی نسبت قابل اصلاح نہ سنتے۔
ایک مرتبہ اللہ تعالیٰ نے ایک فرشتے کو انسانی صورت میں نازل فرمایا۔ داؤد علیہ السلام کی ان سے بھی ملاقات ہوئی تو جیسے اوروں سے پوچھتے تھے ان سے بھی سوال کیا انہوں نے کہا داؤد ہے تو اچھا اگر ایک کمی اس میں نہ ہوتی تو کامل بن جاتا۔ آپ نے بڑی رغبت سے پوچھا کہ وہ کیا؟ فرمایا وہ اپنا بوجھ مسلمانوں کے بیت المال پر ڈالے ہوئے ہیں خود بھی اسی میں سے لیتا ہے اور اپنی اہل و عیال کو اسی میں سے کھلاتا ہے۔ داؤد علیہ السلام کے دل میں یہ بات بیٹھ گئی کہ یہ شخص ٹھیک کہتا ہے اسی وقت جناب باری کی طرف جھک پڑے اور گریہ و زاری کے ساتھ دعائیں کرنے لگے کہ اللہ مجھے کوئی کام کاج ایسا سکھا دے جس سے میرا پیٹ بھر جایا کرے۔ کوئی صنعت اور کاریگری مجھے بتا دے جس سے میں اتنا حاصل کر لیا کروں کہ وہ مجھے اور میرے بال بچوں کو کافی ہو جائے۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں زرہیں بنانا سکھائیں اور پھر اپنی رحمت سے لوہے کو ان کے لئے بالکل نرم کر دیا۔ سب سے پہلے زرہیں آپ نے ہی بنائی ہیں۔ ایک زرہ بنا کر فروخت فرماتے اور اس کی قیمت کے تین حصے کرتے ایک اپنے کھانے پینے وغیرہ کے لئے ایک صدقے کے لئے ایک رکھ چھوڑتے تاکہ دوسری زرہ بنانے تک اللہ کے بندوں کو دیتے رہیں۔ داؤد علیہ السلام کو جو نغمہ دیا گیا تھا وہ تو محض بے نظیر تھا۔ اللہ کی کتاب زبور پڑھنے بیٹھتے۔ تو آواز نکلتے ہی چرند صبر و سکون کے ساتھ محویت کے عالم میں آپ کی آواز سے متاثر ہو کر کتاب اللہ کی تلاوت میں مشغول ہو جاتے۔ سارے باجے شیاطین نے نغمہ داؤدی سے نکالے ہیں۔ آپ کی بے مثل خوش آواز کی یہ چڑاؤنی جیسی نقلیں ہیں۔ اپنی ان نعمتوں کو بیان فرما کر حکم دیتا ہے کہ اب تمہیں بھی چاہئے کہ نیک اعمال کرتے رہو۔ میرے فرمان کے خلاف نہ کرو۔ یہ بہت بری بات ہے کہ جس کے اتنے بڑے اور بےپایاں احسان ہوں۔ اس کی فرمانبرداری ترک کر دی جائے۔ میں تمہارے اعمال کا نگران ہوں۔ تمہارا کوئی عمل چھوٹا بڑا نیک بد مجھ سے پوشیدہ نہیں۔
10۔ 1 یعنی نبوت کے ساتھ بادشاہت اور کئی امتیازی خوبیوں سے نوازا۔ 10۔ 2 ان میں سے ایک حسن صوت کی نعمت تھی، جب وہ اللہ کی تسبیح پڑھتے تو پتھر کے ٹھوس پہاڑ بھی تسبیح خوانی میں مصروف ہوجاتے، اڑتے پرندے ٹھہر جاتے اور زمزمہ خواں ہوجاتے، یعنی پہاڑوں اور پرندوں کو ہم نے کہا، چناچہ یہ بھی داؤد ؑ کے ساتھ مصروف تسبیح ہوجاتے۔ والطیر کا عطف یا جبال کے محل پر ہے اس لیے کہ جبال تقدیرا منصوب ہے اصل عبارت اس طرح ہے نادینا الجبال والطیر (ہم نے پہاڑوں اور پرندوں کو پکارا) یا پھر اس کا عطف فضلا پر ہے اور معنی ہوں گے وسخرنا لہ الطیر (اور ہم نے پرندے ان کے تابع کردیئے (فتح القدیر) 10۔ 3 یعنی لوہے کو آگ میں تپائے اور ہتھوڑی سے کوٹے بغیر، اسے موم، گوندھے ہوئے آٹے اور گیلی مٹی کی طرح جس طرح چاہتے موڑ لیتے، بٹ لیتے اور جو چاہے بنا لیتے۔
(آیت 10) ➊ {وَ لَقَدْ اٰتَيْنَا دَاوٗدَ مِنَّا فَضْلًا: ” فَضْلًا “} پر تنوین تعظیم کے لیے ہے، اس لیے ترجمہ ”بڑا فضل“ کیا گیا ہے۔ پچھلی آیات کے ساتھ داؤد علیہ السلام کے ذکر کی مناسبت یہ ہے کہ پچھلی آیت میں فرمایا کہ زمین وآسمان میں ہر اس بندے کے لیے عظیم نشانی اور عبرت ہے جو اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرنے والا ہو۔ اب اپنے رجوع کرنے والے کچھ بندوں کا اور ان کے چند واقعات کا ذکر فرمایا، ان میں سے ایک داؤد علیہ السلام ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان پر بہت سی عنایات فرمائیں اور انھیں متعدّد قسم کی نعمتیں بخشیں۔ ان پر اللہ تعالیٰ کی چند عنایات کا یہاں ذکر کیا جاتا ہے جو قرآن یا حدیث میں آئی ہیں۔ وہ بکریاں چرانے والے ایک عام نوجوان تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے ہاتھوں کفار کے بادشاہ جالوت جیسے گراں ڈیل دشمن کو قتل کروا کر بنی اسرائیل کا محبوب بنا دیا اور پھر ایسا عروج عطا فرمایا کہ وہ طالوت کی وفات کے بعد بنی اسرائیل کے بادشاہ بن گئے اور اللہ تعالیٰ نے انھیں سلطنت کے ساتھ علم و حکمت بھی عطا فرمایا۔ (بقرہ: ۲۵۱) انھیں نبوت بخشی اور زبور عطا فرمائی۔ (نساء: ۱۶۳) انھیں زبردست قوت عطا فرمائی۔ (سورۂ ص: ۱۷) انھیں اور ان کے بیٹے سلیمان علیہ السلام کو خاص علم عطا فرمایا۔ (نمل: ۱۵) انھیں پرندوں کی بولی سکھائی۔ (نمل:۱۶) انھیں توبہ و انابت کا وصف عطا فرمایا اور ان کی مغفرت فرمائی۔ (سورۂ ص: ۲۴، ۲۵) انھیں صحیح فیصلہ کرنے کی استعداد اور عدل کرنے کی توفیق بخشی۔ (انبیاء: ۷۹۔ ص: ۲۶) ان کے لیے لوہا نرم کر دیا اور انھیں زرہیں بنانا سکھایا۔ (انبیاء: ۸۰۔ سبا: ۱۰، ۱۱) انھیں نہایت خوب صورت آواز عطا فرمائی اور پہاڑوں اور پرندوں کو ان کے ساتھ تسبیح دہرانے کا حکم دیا۔ (انبیاء: ۷۹۔ سبا: ۱۰) ان کے لیے (زبور) پڑھنا ہلکا کر دیا گیا تھا، چنانچہ وہ گھوڑوں پر زین ڈالنے کا حکم دیتے اور ان پر زین ڈالنے سے پہلے اسے پڑھ لیتے تھے۔ [ دیکھیے بخاري، أحادیث الأنبیاء، باب قول اللہ تعالٰی: «و آتینا داوٗد زبورا» : ۳۴۱۷ ] انھیں صوم و صلاۃ کی اور اس کے ساتھ جہاد فی سبیل اللہ میں استقامت کی وہ توفیق بخشی جس کی تفصیل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان فرمائی کہ ”وہ رات کا نصف سو جاتے، پھر ایک ثلث قیام کرتے اور ایک سدس پھر سو جاتے تھے اور ایک دن روزہ رکھتے اور ایک دن افطار کرتے تھے۔“ [ أبوداوٗد، الصیام، باب في صوم یوم و فطر یوم: ۲۴۴۸، و قال الألباني صحیح ] اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب دشمن سے مڈبھیڑ ہوتی تو (داؤد علیہ السلام) بھاگتے نہیں تھے۔“ [ بخاري، الصوم، باب صوم داوٗد علیہ السلام: ۱۹۷۹، عن عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنھما ] اور وہ صرف اپنے ہاتھ کی کمائی سے کھاتے تھے۔ [ دیکھیے بخاري، البیوع، باب کسب الرجل و عملہ بیدہ: ۲۰۷۲ ] تلاش کرنے سے ان پر اللہ تعالیٰ کی مزید عنایات بھی مل سکتی ہیں۔ ➋ {يٰجِبَالُ اَوِّبِيْ مَعَهٗ وَ الطَّيْرَ:} اس سے پہلے لفظ {”قُلْنَا“} (ہم نے کہا) محذوف ہے، جو خود بخود سمجھ میں آرہا ہے۔ {” اَوِّبِيْ “ ”آبَ يَؤُبُ أَوْبًا“} (ن) لوٹنا اور {”أَوَّبَ يُأَوِّبُ“} (تفعیل) لوٹانا، دہرانا۔ یعنی ہم نے پہاڑوں سے کہا کہ اے پہاڑو! ان کے ساتھ تسبیح اور تلاوت کے کلمات دہراؤ اور اے پرندو! تم بھی۔ گویا {” وَ الطَّيْرَ “} کا عطف {”جِبَالٌ“} کے محل پر ہے، اس لیے منصوب ہے، یا یہ {”سَخَّرْنَا لَهُ“} محذوف کا مفعول ہے، یعنی ہم نے ان کے لیے پرندے بھی تسبیح کرنے کے لیے مسخّر کر دیے، جیسا کہ سورۂ ص میں فرمایا: «وَ الطَّيْرَ مَحْشُوْرَةً كُلٌّ لَّهٗۤ اَوَّابٌ» [ صٓ: ۱۹ ] ”اور پرندوں کو بھی (مسخّر کر دیا) جب کہ وہ اکٹھے کیے ہوئے سب اس کے لیے بہت رجوع کرنے والے تھے۔“ پہاڑوں اور پرندوں کی تسبیح کا بیان سورۂ انبیاء (۷۹) میں گزر چکا ہے۔ ➌ { وَ اَلَنَّا لَهُ الْحَدِيْدَ:} داؤد علیہ السلام کے لیے لوہا نرم کرنے کی کیفیت اکثر مفسرین نے یہ لکھی ہے کہ وہ اللہ کے حکم سے آگ میں پگھلائے بغیر ان کے ہاتھ میں موم یا گندھے ہوئے آٹے کی طرح ہوتا تھا۔ اگر ایسا ہو تو اس میں کوئی تعجب کی بات نہیں، مگر یہ صرف قتادہ کا قول ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بات ثابت نہیں۔ اگر اللہ تعالیٰ نے انھیں لوہا پگھلا کر نرم کرنے کا سلیقہ سکھا دیا ہو تو یہ بھی {” وَ اَلَنَّا لَهُ الْحَدِيْدَ “} ہی ہے۔ آج کل کسی معجزے یا کرامت کے بغیر ہنر کی بدولت لوہا لوگوں کے ہاتھوں میں نرم ہو چکا ہے۔ داؤد علیہ السلام کے لیے سب سے پہلے لوہے کی بھٹی ایجاد کرنے، اسے اپنی مرضی کے مطابق ڈھالنے اور سب سے پہلے زرہیں بنانے کا اور اس بات کا شرف بھی کچھ کم نہیں کہ بعد میں آنے والوں نے انھی سے یہ ہنر حاصل کیے۔ نیز دیکھیے سورۂ انبیاء (۸۰)۔
اس ہدایت کے ساتھ کہ زرہیں بنا اور ان کے حلقے ٹھیک اندازے پر رکھ (اے آل داؤدؑ) نیک عمل کرو، جو کچھ تم کرتے ہو اُس کو میں دیکھ رہا ہوں
مولانا محمد جوناگڑھی
کہ تو پوری پوری زرہیں بنا اور جوڑوں میں اندازه رکھ تم سب نیک کام کیا کرو۔ (یقین مانو) کہ میں تمہارے اعمال دیکھ رہا ہوں
احمد رضا خان بریلوی
کہ وسیع زِر ہیں بنا اور بنانے میں اندازے کا لحاظ رکھ اور تم سب نیکی کرو، بیشک تمہارے کام دیکھ رہا ہوں،
علامہ محمد حسین نجفی
اور ان سے کہا کہ کشادہ زرہیں بناؤ اور کڑیوں کے جوڑنے میں مناسب اندازہ رکھو اور (اے آلِ داؤد(ع)) تم سب نیک عمل کرو (کیونکہ) تم لوگ جو کچھ کرتے ہو میں خوب دیکھ رہا ہوں۔
عبدالسلام بن محمد
یہ کہ کشادہ زرہیں بنا اور کڑیاں جوڑنے میں اندازہ رکھ اور نیک عمل کرو، یقینا میں اسے جو تم کرتے ہو خوب دیکھنے والا ہوں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
داؤد علیہ السلام پر انعامات الٰہی ٭٭
اللہ تعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ اس نے اپنے بندے اور رسول داؤد علیہ السلام پر دنیوی اور اخروی رحمت نازل فرمائی۔ نبوت بھی دی بادشاہت بھی دی لاؤ لشکر بھی دیئے طاقت و قوت بھی دی۔ پھر ایک پاکیزہ معجزہ عطا فرمایا کہ ادھر نغمہ داؤدی ہوا میں گونجا، ادھر پہاڑوں اور پرندوں کو بھی وجد آ گیا۔ پہاڑوں نے آواز میں آواز ملا کر اللہ کی حمد و ثناء شروع کی پرندوں نے پر ہلانے چھوڑ دیئے اور اپنی قسم قسم کی پیاری پیاری بولیوں میں رب کی وحدانیت کے گیت گانے لگے۔
صحیح حدیث میں ہے کہ { رات کو سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ قرآن پاک کی تلاوت کر رہے تھے جسے سن کر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ٹھہر گئے دیر تک سنتے رہے پھر فرمانے لگے انہیں نغمہ داؤدی کا کچھ حصہ مل گیا ہے } ۱؎ [صحیح مسلم:793] ۔ ابوعثمان نہدی رحمہ اللہ کا بیان ہے کہ واللہ! ہم نے سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے زیادہ پیاری آواز کسی باجے کی بھی نہیں سنی۔ «اوبی» کے معنی حبشی زبان میں یہ ہیں کہ تسبیح بیان کرو۔ لیکن ہمارے نزدیک اس میں مزید غور کی ضرورت ہے لغت عرب میں یہ لفظ ترجیع کے معنی میں موجود ہے۔ پس پہاڑوں کو اور پرندوں کو حکم ہو رہا ہے کہ وہ داؤد علیہ السلام کی آواز کے ساتھ اپنی آواز بھی ملا لیا کریں۔ «تاویب» کے ایک معنی دن کو چلنے کے بھی آتے ہیں۔ جیسے «سری» کے معنی رات کو چلنے کے ہیں لیکن یہ معنی بھی یہاں کچھ زیادہ مناسبت نہیں رکھتا یہاں تو یہی مطلب ہے کہ داؤد علیہ السلام کی تسبیح کی آواز میں تم بھی آواز ملا کر خوش آوازی سے رب کی حمد و ثناء بیان کرو۔ اور فضل ان پر یہ ہوا کہ ان کے لئے لوہا نرم کر دیا گیا نہ انہیں لوہے کی بھٹی میں ڈالنے کی ضرورت نہ ہتھوڑے مارنے کی حاجت ہاتھ میں آتے ہی ایسا ہو جاتا تھا جیسے دھاگے، اب اس لوہے سے بفرمان اللہ آپ زرہیں بناتے تھے۔ بلکہ یہ بھی کہا گیا ہے کہ دنیا میں سب سے پہلے زرہ آپ ہی نے ایجاد کی ہے۔ ہر روز صرف ایک زرہ بناتے اس کی قیمت چھ ہزار لوگوں کے کھلانے پلانے میں صرف کر دیتے۔ زرہ بنانے کی ترکیب خود اللہ کی سکھائی ہوئی تھی کہ کڑیاں ٹھیک ٹھیک رکھیں حلقے چھوٹے نہ ہوں کہ ٹھیک نہ بیٹھیں بہت بڑے نہ ہوں کہ ڈھیلا پن رہ جائے بلکہ ناپ تول اور صحیح اندازے سے حلقے اور کڑیاں ہوں۔ ابن عساکر میں ہے داؤد علیہ السلام بھیس بدل کر نکلا کرتے اور رعایا کے لوگوں سے مل کر ان سے اور باہر کے آنے جانے والوں سے دریافت فرماتے کہ داؤد کیسا آدمی ہے؟ لیکن ہر شخص کو تعریفیں کرتا ہوا ہی پاتے۔ کسی سے کوئی بات اپنی نسبت قابل اصلاح نہ سنتے۔
ایک مرتبہ اللہ تعالیٰ نے ایک فرشتے کو انسانی صورت میں نازل فرمایا۔ داؤد علیہ السلام کی ان سے بھی ملاقات ہوئی تو جیسے اوروں سے پوچھتے تھے ان سے بھی سوال کیا انہوں نے کہا داؤد ہے تو اچھا اگر ایک کمی اس میں نہ ہوتی تو کامل بن جاتا۔ آپ نے بڑی رغبت سے پوچھا کہ وہ کیا؟ فرمایا وہ اپنا بوجھ مسلمانوں کے بیت المال پر ڈالے ہوئے ہیں خود بھی اسی میں سے لیتا ہے اور اپنی اہل و عیال کو اسی میں سے کھلاتا ہے۔ داؤد علیہ السلام کے دل میں یہ بات بیٹھ گئی کہ یہ شخص ٹھیک کہتا ہے اسی وقت جناب باری کی طرف جھک پڑے اور گریہ و زاری کے ساتھ دعائیں کرنے لگے کہ اللہ مجھے کوئی کام کاج ایسا سکھا دے جس سے میرا پیٹ بھر جایا کرے۔ کوئی صنعت اور کاریگری مجھے بتا دے جس سے میں اتنا حاصل کر لیا کروں کہ وہ مجھے اور میرے بال بچوں کو کافی ہو جائے۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں زرہیں بنانا سکھائیں اور پھر اپنی رحمت سے لوہے کو ان کے لئے بالکل نرم کر دیا۔ سب سے پہلے زرہیں آپ نے ہی بنائی ہیں۔ ایک زرہ بنا کر فروخت فرماتے اور اس کی قیمت کے تین حصے کرتے ایک اپنے کھانے پینے وغیرہ کے لئے ایک صدقے کے لئے ایک رکھ چھوڑتے تاکہ دوسری زرہ بنانے تک اللہ کے بندوں کو دیتے رہیں۔ داؤد علیہ السلام کو جو نغمہ دیا گیا تھا وہ تو محض بے نظیر تھا۔ اللہ کی کتاب زبور پڑھنے بیٹھتے۔ تو آواز نکلتے ہی چرند صبر و سکون کے ساتھ محویت کے عالم میں آپ کی آواز سے متاثر ہو کر کتاب اللہ کی تلاوت میں مشغول ہو جاتے۔ سارے باجے شیاطین نے نغمہ داؤدی سے نکالے ہیں۔ آپ کی بے مثل خوش آواز کی یہ چڑاؤنی جیسی نقلیں ہیں۔ اپنی ان نعمتوں کو بیان فرما کر حکم دیتا ہے کہ اب تمہیں بھی چاہئے کہ نیک اعمال کرتے رہو۔ میرے فرمان کے خلاف نہ کرو۔ یہ بہت بری بات ہے کہ جس کے اتنے بڑے اور بےپایاں احسان ہوں۔ اس کی فرمانبرداری ترک کر دی جائے۔ میں تمہارے اعمال کا نگران ہوں۔ تمہارا کوئی عمل چھوٹا بڑا نیک بد مجھ سے پوشیدہ نہیں۔
11۔ 1 سابغات محزوف موصوف کی صفت ہے دروعا سابغات یعنی پوری لمبیں زرہیں، جو لڑنے والے کے پورے جسم کو صحیح طریقے سے ڈھانک لیں اور اسے دشمن کے وار سے محفوظ رکھیں۔ 11۔ 2 تاکہ چھوٹی بڑی نہ ہوں یا سخت یا نرم نہ ہوں یعنی کڑیوں کے جوڑنے میں کیل اتنے باریک نہ ہوں کہ جوڑ حرکت کرتے رہیں اور ان میں قرار وثبات نہ آئے اور نہ اتنے موٹے ہوں کہ اسے توڑ ہی ڈالیں یا جس سے حلقہ تنگ ہوجائے اور اسے پہنا نہ جاسکے یہ زرہ بافی کی صنعت کے بارے میں حضرت داؤد ؑ کو ہدایات دی گئیں۔ 11۔ 3 یعنی ان نعمتوں کے بدلے میں عمل صالح کا اہتمام کرو تاکہ میرا عملی شکر بھی ہوتا رہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ جس کو اللہ تعالیٰ نعمتوں سے سرفراز فرمائے، اسے اسی حساب سے اللہ کا شکر بھی ادا کرنا چاہیے اور شکر میں بنیادی چیز یہی ہے نعمت دینے والے کو راضی رکھنے کی بھرپور سعی کی جائے یعنی اس کی اطاعت کی جائے اور نافرمانی سے بچا جائے۔
(آیت 11) ➊ { اَنِ اعْمَلْ سٰبِغٰتٍ: ” سٰبِغٰتٍ “} کامل اور وسیع، یہ {”دُرُوْعٌ“} محذوف کی صفت ہے، یعنی ہم نے اس سے کہا کہ مکمل اور کشادہ زرہیں تیار کر، جو لڑنے والے کے پورے جسم کو صحیح طریقے سے ڈھانپ لیں اور اسے دشمن کے وار سے محفوظ رکھیں۔ ➋ {وَ قَدِّرْ فِي السَّرْدِ: ” السَّرْدِ “} کسی موٹی چیز کو سینا، پرونا، جیسے زرہ بننا، چمڑے کو سینا، یہاں لوہے کی کڑیوں کو ترتیب سے جوڑنا مراد ہے۔ (مفردات) کڑیاں جوڑنے میں اندازہ رکھنے کا مطلب یہ ہے کہ چھوٹی بڑی نہ ہوں، نہ ایسی کھلی ہوں کہ جوڑ زیادہ حرکت کرتے رہیں، نہ اتنی تنگ ہوں یا کیل اتنے موٹے ہوں کہ آدمی انھیں پہن کر حرکت ہی نہ کر سکے۔ بلکہ ہر کڑی اور ہر جوڑ جسم میں اس کی جگہ درست بیٹھے اور آپس میں صحیح طریقے سے مرتب ہو۔ ➌ { وَ اعْمَلُوْا صَالِحًا:} اس خطاب میں داؤد علیہ السلام کی آل کو بھی شامل فرما لیا ہے، اس لیے {”اِعْمَلْ“} کے بجائے {” اعْمَلُوْا “} فرمایا۔ ➍ { اِنِّيْ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِيْرٌ:} اس میں وعدہ بھی ہے اور وعید بھی، یعنی تم جو کچھ کر رہے ہو میں اسے خوب دیکھ رہا ہوں، صالح اعمال پر جزا دوں گا اور برے اعمال پر سزا دوں گا۔
اور سلیمانؑ کے لیے ہم نے ہوا کو مسخر کر دیا، صبح کے وقت اس کا چلنا ایک مہینے کی راہ تک اور شام کے وقت اس کا چلنا ایک مہینے کی راہ تک ہم نے اُس کے لیے پگھلے ہوئے تانبے کا چشمہ بہا دیا اور ایسے جن اس کے تابع کر دیے جو اپنے رب کے حکم سے اس کے آگے کام کرتے تھے اُن میں سے جو ہمارے حکم سے سرتابی کرتا اس کو ہم بھڑکتی ہوئی آگ کا مزہ چکھاتے
مولانا محمد جوناگڑھی
اور ہم نے سلیمان کے لئے ہوا کو مسخر کردیا کہ صبح کی منزل اس کی مہینہ بھر کی ہوتی تھی اور شام کی منزل بھی اور ہم نے ان کے لئے تانبے کا چشمہ بہا دیا۔ اور اس کے رب کے حکم سے بعض جنات اس کی ماتحتی میں اس کے سامنے کام کرتے تھے اور ان میں سے جو بھی ہمارے حکم سے سرتابی کرے ہم اسے بھڑکتی ہوئی آگ کے عذاب کا مزه چکھائیں گے
احمد رضا خان بریلوی
اور سلیمان کے بس میں ہوا کردی اس کی صبح کی منزل ایک مہینہ کی راہ اور شام کی منزل ایک مہینے کی راہ اور ہم نے اس کے لیے پگھلے ہوئے تانبے کا چشمہ بہایا اور جنوں میں سے وہ جو اس کے آگے کا م کرتے اس کے رب کے حکم سے ادر جو ان میں ہما رے حکم سے پھرے ہم اسے بھڑ کتی آ گ کا عذاب چکھائیں گے،
علامہ محمد حسین نجفی
اور ہم نے سلیمان(ع) کیلئے ہوا کو مسخر کر دیا جس کا صبح کا سفر ایک مہینہ کی راہ تک تھا اور شام کا ایک مہینہ کی راہ تک اور ہم نے ان کیلئے پگھلے ہوئے تانبے کا چشمہ جاری کیا اور جنات میں سے کچھ ایسے تھے جو ان (سلیمان(ع)) کے پروردگار کے حکم سے ان کے سامنے کام کرتے تھے اور ان (جنوں) میں سے جو ہمارے حکم سے سرتابی کرتا تھا ہم اسے بھڑکتی ہوئی آگ کا مزہ چکھاتے تھے۔
عبدالسلام بن محمد
اور سلیمان کے لیے ہوا کو (تابع کردیا)، اس کا صبح کا چلنا ایک ماہ کا اور شام کا چلنا ایک ماہ کا تھا اور ہم نے اس کے لیے تانبے کا چشمہ بہایا، اور جنوں میں سے کچھ وہ تھے جو اس کے سامنے اس کے رب کے اذن سے کام کرتے تھے اور ان میں سے جو ہمارے حکم سے کجی کرتا ہم اسے بھڑکتی آگ کا کچھ عذاب چکھاتے تھے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
اللہ کی نعمتیں اور سلیمان علیہ السلام ٭٭
داؤد علیہ السلام پر جو نعمتیں نازل فرمائی تھیں ان کو بیان کر کے پھر آپ کے فرزند سلیمان علیہ السلام پر جو نعمتیں نازل فرمائی تھیں ان کا بیان ہو رہا ہے کہ ان کے لئے ہوا کو تابع فرمان بنا دیا۔ مہینے کی راہ صبح ہی صبح ہو جاتی تھی اور اتنی ہی مسافت کا سفر شام کو ہو جاتا۔ مثلاً دمشق سے تخت مع فوج و اسباب کے اڑا اور تھوڑی دیر میں اصطخر پہنچا دیا جو تیز سوار کیلئے بھی مہینے بھر کا سفر تھا۔ اسی طرح شام کو وہاں سے تخت اڑا اور شام ہی کو کابل پہنچ گیا۔ تانبے کو بطور پانی کے کر کے اللہ تعالیٰ نے اس کے چشمے بہا دیئے تھے کہ جس کام میں جس طرح جس وقت لانا چاہیں تو بلا دقت لے لیا کریں۔ یہ تانبا انہیں کے وقت سے کام میں آ رہا ہے۔ سدی کا قول ہے کہ تین دن تک یہ بہتا رہا۔ جنات کو ان کی ماتحتی میں کر دیا وہ جو چاہتے تھے اپنے سامنے ان سے کام لیتے۔ ان میں سے جو جن احکام سلیمان علیہ السلام کی تعمیل سے جی چراتا تھا فوراً آگ میں جلا دیا جاتا۔ ابن ابی حاتم میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں جنات کی تین قسمیں ہیں ایک تو پردار ہے۔ دوسری قسم سانپ اور کتے ہیں تیسری قسم وہ ہے جو سواریوں پر سوار ہوتے ہیں اترتے ہیں وغیرہ } ۱؎ [طبرانی کبیر:214/22:صحیح] ۔ یہ حدیث بہت غریب ہے۔ ابن نعیم سے روایت ہے کہ جنات کی تین قسمیں ہیں ایک کے لئے تو عذاب و ثواب ہے ایک آسمان و زمین میں اڑتے رہتے ہیں ایک سانپ کتے ہیں۔ انسانوں کی بھی تین قسمیں ہیں ایک وہ جنہیں اللہ تعالیٰ اپنے عرش تلے سایہ دے گا جس دن اس کے سائے کے سوائے اور کوئی سایہ نہ ہو گا۔ اور ایک قسم مثل چوپایوں کے ہے بلکہ ان سے بھی بدتر۔ اور تیسری قسم انسانی صورتوں میں شیطانی دل رکھنے والے۔
سیدنا حسن رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں جن ابلیس کی اولاد میں سے ہیں اور انسان آدم علیہ السلام کی اولاد میں سے ہیں دونوں میں مومن بھی ہیں اور کافر بھی ہیں عذاب ثواب میں دونوں شریک ہیں دونوں کے ایمان دار ولی ہیں اور دونوں کے بے ایمان شیطان ہیں، «محاریب» کہتے ہیں بہترین عمارتوں کو، گھر کے بہترین حصے کو، مجلس کی صدارت کی جگہ کو۔ بقول مجاہد رحمہ اللہ ان عمارتوں کو جو محلات سے کم درجے کی ہوں۔ ضحاک رحمہ اللہ فرماتے ہیں مسجدوں کو۔ قتادہ رحمہ اللہ کہتے ہیں بڑے بڑے محل اور مسجدوں کو۔ ابن زید رحمہ اللہ کہتے ہیں گھروں کو۔ «تماثیل» تصویروں کو کہتے ہیں یہ تانبے کی تھیں۔ بقول قتادہ رحمہ اللہ وہ مٹی اور شیشے کی تھیں۔ «جواب» جمع ہے «جابیہ» کی۔ «جابیہ» اس حوض کو کہتے ہیں جس میں پانی آتا رہتا ہے۔ یہ مثل تالاب کے تھیں بہت بڑے بڑے لگن تھے تاکہ سلیمان علیہ السلام کی بڑی فوج کے لئے بہت سا کھانا بیک وقت تیار ہو سکے اور ان کے سامنے لایا جا سکے۔ اور جمی ہوئی دیگیں جو بوجہ اپنی بڑائی کے اور بھاری پنے کے ادھر ادھر نہیں کی جا سکتی تھیں۔ ان سے اللہ نے فرما دیا تھا کہ دین و دنیا کی جو نعمتیں میں نے تمہیں دے رکھی ہیں ان پر میرا شکر کرو۔ شکر مصدر ہے بغیر فعل کے یا مفعول لہ ہے اور دونوں تقدیروں پر اس میں دلالت ہے کہ شکر جس طرح قول اور ارادہ سے ہوتا ہے فعل سے بھی ہوتا ہے جیسے شاعر کا قول ہے «افادتکم النعماء منی ثلاثہ» «یدی ولسانی والضمیر المحجبا» اس میں بھی شاعر نعمتوں کا شکر تینوں طرح مانتا ہے فعل سے، زبان سے اور دل سے۔ عبدالرحمٰن سلمی سے مروی ہے کہ نماز بھی شکر ہے اور روزہ بھی شکر ہے اور بھلا عمل جسے تو اللہ کے لئے کرے۔ شکر ہے اور سب سے افضل شکر حمد ہے۔
محمد بن کعب قرظی رحمہ اللہ فرماتے ہیں شکر اللہ تعالیٰ کا تقویٰ ہے اور نیک عمل ہے۔ آل داؤد دونوں طرح شکر ادا کرتے تھے قولاً بھی اور فعلاً بھی۔ ثابت بنانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں داؤد علیہ السلام نے اپنی اہل و عیال، اولاد اور عورتوں پر اس طرح اوقات کی پابندی کے ساتھ نفل نماز تقسیم کی تھی کہ ہر وقت کوئی نہ کوئی نماز میں مشغول نظر آتا تھا۔ بخاری و مسلم میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں اللہ کو سب سے زیادہ پسند داؤد علیہ السلام کی نماز تھی۔ آپ آدھی رات سوتے تہائی رات قیام کرتے اور چھٹا حصہ سو رہتے اسی طرح سب روزوں سے زیادہ محبوب روزے بھی اللہ تعالیٰ کو آپ ہی کے تھے۔ آپ ایک دن روزے سے رہتے اور ایک دن بے روزہ ایک خوبی آپ میں یہ تھی کہ دشمن سے جہاد کے وقت منہ نہ پھیرتے۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:1131] ابن ماجہ میں ہے کہ { سلیمان علیہ السلام کی والدہ ماجدہ نے آپ سے فرمایا پیارے بچے رات کو بہت نہ سویا کرو رات کی زیادہ نیند انسان کو قیامت کے دن فقیر بنا دیتی ہے۔ } ۱؎ [سنن ابن ماجہ:1332،قال الشيخ الألباني:۔ضعیف] ابن ابی حاتم میں ہے اس موقعہ پر داؤد علیہ السلام کی ایک معطول حدیث مروی ہے۔ اسی کتاب میں یہ بھی مروی ہے کہ داؤد علیہ السلام نے جناب باری سے عرض کیا کہ الہ العالمین تیرا شکر کیسے ادا ہو گا؟ شکر گزاری خود تیری ایک نعمت ہے جواب ملا داؤد اب تو نے میری شکر گزاری ادا کر لی جب کہ تو نے اسے جان لیا کہ کل نعمتیں میری ہی طرف سے ہیں۔ پھر ایک واقعے کی خبر دی جاتی ہے کہ بندوں میں سے شکر گزار بندے بہت ہی کم ہیں۔
12۔ 1 یعنی حضرت سلیمان ؑ مع اعیان سلطنت اور لشکر تخت پر بیٹھ جاتے اور جدھر آپ کا حکم ہوتا کہ ہوائیں اسے اتنی رفتار سے لے جاتیں کہ ایک مہینے جتنی مسافت صبح سے دوپہر تک کی ایک منزل میں طے ہوجاتی اور پھر اسی طرح دوپہر سے رات تک ایک مہینے جتنی مسافت طے ہوجاتی اس طرح ایک دن میں دو مہینوں کی مسافت طے ہوجاتی۔ 12۔ 2 یعنی جس طرح حضرت داؤد ؑ کے لئے لوہا نرم کردیا تھا، حضرت سلیمان ؑ کے لئے تانبے کا چشمہ ہم نے جاری کردیا تاکہ تانبے کی دھات سے وہ جو چاہیں بنائیں۔ 12۔ 3 اکثر مفسرین کے نزدیک یہ سزا قیامت والے دن دی جائے گی۔ لیکن بعض کے نزدیک یہ دنیاوی سزا ہے، وہ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے فرشتہ مقرر فرما دیا تھا جس کے ہاتھ میں آگ کی لاٹھی تھی۔ جو جن حضرت سلیمان ؑ کے حکم سے سرتابی کرتا، فرشتہ وہ لاٹھی اسے مارتا، جس سے وہ جل کر بھسم ہوجاتا (فتح القدیر
(آیت 12) ➊ {وَ لِسُلَيْمٰنَ الرِّيْحَ غُدُوُّهَا شَهْرٌ …:} اللہ تعالیٰ کی طرف انابت کرنے والے بندوں میں سے داؤد علیہ السلام کے بعد ان کے فرزند ارجمند سلیمان علیہ السلام کا ذکر فرمایا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے ہوا کو مسخر کر دیا۔ وہ ایک مہینے کی راہ دن کے پہلے پہر اور ایک مہینے کی راہ دن کے پچھلے پہر طے کر لیتی تھی۔ بعض مفسرین نے لکھا ہے کہ اس سے مراد یہ ہے کہ اس زمانے میں بحری جہاز موافق ہواؤں کے ساتھ سفر کرتے تھے۔ آیت میں {”غُدُوٌّ“} سے مراد جانا ہے اور {”رَوَاحٌ“} سے مراد واپسی ہے اور مطلب یہ ہے کہ ایک ماہ تک موافق ہوا سلیمان علیہ السلام کے پایۂ تخت سے مشرق کی طرف چلتی تھی، جس کے ذریعے سے ان کے بحری جہاز تجارتی اور دوسرے مقاصد کے لیے مشرق کی طرف روانہ ہوتے تھے، پھر ایک ماہ کے لیے واپسی کے سفر کے لیے مغرب کی طرف چلتی تھی جس سے وہ جہاز واپس فلسطین کی طرف آ جاتے اور یہ مطلب ہے اس آیت کا: «تَجْرِيْ بِاَمْرِهٖۤ اِلَى الْاَرْضِ الَّتِيْ بٰرَكْنَا فِيْهَا وَ كُنَّا بِكُلِّ شَيْءٍ عٰلِمِيْنَ» [ الأنبیاء: ۸۱ ] ”اس کے حکم سے اس زمین کی طرف چلتی تھی جس میں ہم نے برکت رکھی اور ہم ہر چیز کو جاننے والے تھے۔“ یہ اور اس جیسی تفسیروں کی حقیقت کے لیے دیکھیے سورۂ انبیاء (۸۱)۔ ان آیات کی تفسیر کرتے ہوئے یہ بات ذہن میں رہنا ضروری ہے کہ ان میں اس شخصیت کو عطا ہونے والی چیزوں کا ذکر ہے، جس نے یہ دعا کی تھی: «رَبِّ اغْفِرْ لِيْ وَهَبْ لِيْ مُلْكًا لَّا يَنْۢبَغِيْ لِاَحَدٍ مِّنْۢ بَعْدِيْ» [ صٓ: ۳۵ ] ”اے میرے رب! مجھے بخش دے اور مجھے ایسی بادشاہی عطا فرماجو میرے بعد کسی کے لائق نہ ہو۔“ اور جس کی فوجوں کے ایک صاحبِ علم نے یمن سے آنکھ جھپکنے میں ملکہ سبا کا تخت لا حاضر کیا تھا۔ موجودہ زمانے میں جتنی ترقی ہوئی ہے، یا آئندہ ہو گی سلیمان علیہ السلام کو عطا کردہ قوتوں کے مقابلے میں کچھ بھی حیثیت نہیں رکھتی، پھر اگر ہوا ان کے حکم سے انھیں ایک ماہ کا سفر پہلے پہر اور ایک ماہ کا سفر پچھلے پہر میں طے کروا دے تو اس میں تعجب کی کیا بات ہے۔ رہی اس کی کیفیت کہ ہوا انھیں یہ فاصلہ کیسے طے کرواتی تھی تو وہ اللہ تعالیٰ نے بیان نہیں فرمائی اور جو بات معلوم نہ ہو اس کے متعلق تکلّف نہیں کرنا چاہیے۔ سورۂ ص میں فرمایا: «قُلْ مَاۤ اَسْـَٔلُكُمْ عَلَيْهِ مِنْ اَجْرٍ وَّ مَاۤ اَنَا مِنَ الْمُتَكَلِّفِيْنَ» [ صٓ: ۸۶ ] ”کہہ دے میں تم سے اس پر کوئی اجرت نہیں مانگتا اور نہ میں بناوٹ کرنے والوں سے ہوں۔“ مزید دیکھیے سورۂ انبیاء (۸۱)۔ ➋ { وَ اَسَلْنَا لَهٗ عَيْنَ الْقِطْرِ: ”سَالَ يَسِيْلُ سَيْلًا“} (ض) بہنا۔ {”أَسَالَ يُسِيْلُ إِسَالَةً“} (افعال) بہانا، جاری کرنا۔ {” اَسَلْنَا “} باب افعال کے ماضی معلوم سے جمع متکلم کا صیغہ ہے۔ داؤد علیہ السلام کے لیے لوہا نرم کر دیا، سلیمان علیہ السلام کو وہ نعمت وراثت میں ملی، مزید ان کے لیے تانبے کا چشمہ جاری کر دیا، تاکہ وہ انھیں وافر مقدار میں دستیاب رہے اور ان کے زیرِ فرمان انسان اور جنّ اس سے ان کی اور ان کی افواج کی ضرورت کی ہر چیز، مثلاً ہر قسم کے چھوٹے بڑے برتن اور گھروں کے اندر اور باہر استعمال ہونے والا سامان تیار کرتے رہیں۔ ایک اخبار کے مطابق اب بھی اسرائیل میں یہودی تانبے کے اس مقام کی تلاش میں ہیں۔ ➌ { وَ مِنَ الْجِنِّ مَنْ يَّعْمَلُ بَيْنَ يَدَيْهِ بِاِذْنِ رَبِّهٖ:} سورۂ انبیاء میں ان جنّات کا تذکرہ ”شیاطین“ کے لفظ سے کیا گیا ہے، اس سے معلوم ہوا کہ سورۂ انبیاء میں مذکورہ شیاطین سے مراد انسانی شیاطین نہیں، بلکہ جنّی شیاطین ہیں۔ وہ جنّات جو کام کرتے تھے ان کا تذکرہ اس مقام کے علاوہ سورۂ انبیاء (۸۲) اور سورۂ ص (۳۷، ۳۸) میں ملاحظہ کریں۔ ➍ { وَ مَنْ يَّزِغْ مِنْهُمْ عَنْ اَمْرِنَا …:} اس کی تفسیر سورۂ انبیاء (۸۲) میں ملاحظہ کریں۔
وہ اُس کے لیے بناتے تھے جو کچھ وہ چاہتا، اونچی عمارتیں، تصویریں، بڑے بڑے حوض جیسے لگن اور اپنی جگہ سے نہ ہٹنے والی بھاری دیگیں اے آلِ داؤدؑ، عمل کرو شکر کے طریقے پر، میرے بندوں میں کم ہی شکر گزار ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
جو کچھ سلیمان چاہتے وه جنات تیار کردیتے مثلا قلعے اور مجسمے اور حوضوں کے برابر لگن اور چولہوں پر جمی ہوئی مضبوط دیگیں، اے آل داؤد اس کے شکریہ میں نیک عمل کرو، میرے بندوں میں سے شکرگزار بندے کم ہی ہوتے ہیں
احمد رضا خان بریلوی
اس کے لیے بناتے جو وہ چاہتا اونچے اونچے محل اور تصویریں اور بڑے حوضوں کے برابر لگن اور لنگردار دیگیں اے داؤد والو! شکر کرو اور میرے بندوں میں کم ہیں شکر والے،
علامہ محمد حسین نجفی
وہ ان کیلئے وہ کچھ کرتے تھے جو وہ چاہتے تھے (جیسے) محرابیں (مقدس اونچی عمارتیں) اور مجسمے اور بڑے بڑے پیالے جیسے حوض اور گڑی ہوئی دیگیں۔ اے داؤد(ع) کے خاندان والو! (میرا) شکر ادا کرو اور میرے بندوں میں شکر گزار بہت ہی کم ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
وہ اس کے لیے بناتے تھے جو وہ چاہتا تھا، بڑی بڑی عمارتیں اور مجسّمے اور حوضوں جیسے لگن اور ایک جگہ جمی ہوئی دیگیں۔ اے داؤد کے گھر والو! شکر ادا کرنے کے لیے عمل کرو۔اور بہت تھوڑے میرے بندوں میں سے پورے شکر گزار ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
اللہ کی نعمتیں اور سلیمان علیہ السلام ٭٭
داؤد علیہ السلام پر جو نعمتیں نازل فرمائی تھیں ان کو بیان کر کے پھر آپ کے فرزند سلیمان علیہ السلام پر جو نعمتیں نازل فرمائی تھیں ان کا بیان ہو رہا ہے کہ ان کے لئے ہوا کو تابع فرمان بنا دیا۔ مہینے کی راہ صبح ہی صبح ہو جاتی تھی اور اتنی ہی مسافت کا سفر شام کو ہو جاتا۔ مثلاً دمشق سے تخت مع فوج و اسباب کے اڑا اور تھوڑی دیر میں اصطخر پہنچا دیا جو تیز سوار کیلئے بھی مہینے بھر کا سفر تھا۔ اسی طرح شام کو وہاں سے تخت اڑا اور شام ہی کو کابل پہنچ گیا۔ تانبے کو بطور پانی کے کر کے اللہ تعالیٰ نے اس کے چشمے بہا دیئے تھے کہ جس کام میں جس طرح جس وقت لانا چاہیں تو بلا دقت لے لیا کریں۔ یہ تانبا انہیں کے وقت سے کام میں آ رہا ہے۔ سدی کا قول ہے کہ تین دن تک یہ بہتا رہا۔ جنات کو ان کی ماتحتی میں کر دیا وہ جو چاہتے تھے اپنے سامنے ان سے کام لیتے۔ ان میں سے جو جن احکام سلیمان علیہ السلام کی تعمیل سے جی چراتا تھا فوراً آگ میں جلا دیا جاتا۔ ابن ابی حاتم میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں جنات کی تین قسمیں ہیں ایک تو پردار ہے۔ دوسری قسم سانپ اور کتے ہیں تیسری قسم وہ ہے جو سواریوں پر سوار ہوتے ہیں اترتے ہیں وغیرہ } ۱؎ [طبرانی کبیر:214/22:صحیح] ۔ یہ حدیث بہت غریب ہے۔ ابن نعیم سے روایت ہے کہ جنات کی تین قسمیں ہیں ایک کے لئے تو عذاب و ثواب ہے ایک آسمان و زمین میں اڑتے رہتے ہیں ایک سانپ کتے ہیں۔ انسانوں کی بھی تین قسمیں ہیں ایک وہ جنہیں اللہ تعالیٰ اپنے عرش تلے سایہ دے گا جس دن اس کے سائے کے سوائے اور کوئی سایہ نہ ہو گا۔ اور ایک قسم مثل چوپایوں کے ہے بلکہ ان سے بھی بدتر۔ اور تیسری قسم انسانی صورتوں میں شیطانی دل رکھنے والے۔
سیدنا حسن رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں جن ابلیس کی اولاد میں سے ہیں اور انسان آدم علیہ السلام کی اولاد میں سے ہیں دونوں میں مومن بھی ہیں اور کافر بھی ہیں عذاب ثواب میں دونوں شریک ہیں دونوں کے ایمان دار ولی ہیں اور دونوں کے بے ایمان شیطان ہیں، «محاریب» کہتے ہیں بہترین عمارتوں کو، گھر کے بہترین حصے کو، مجلس کی صدارت کی جگہ کو۔ بقول مجاہد رحمہ اللہ ان عمارتوں کو جو محلات سے کم درجے کی ہوں۔ ضحاک رحمہ اللہ فرماتے ہیں مسجدوں کو۔ قتادہ رحمہ اللہ کہتے ہیں بڑے بڑے محل اور مسجدوں کو۔ ابن زید رحمہ اللہ کہتے ہیں گھروں کو۔ «تماثیل» تصویروں کو کہتے ہیں یہ تانبے کی تھیں۔ بقول قتادہ رحمہ اللہ وہ مٹی اور شیشے کی تھیں۔ «جواب» جمع ہے «جابیہ» کی۔ «جابیہ» اس حوض کو کہتے ہیں جس میں پانی آتا رہتا ہے۔ یہ مثل تالاب کے تھیں بہت بڑے بڑے لگن تھے تاکہ سلیمان علیہ السلام کی بڑی فوج کے لئے بہت سا کھانا بیک وقت تیار ہو سکے اور ان کے سامنے لایا جا سکے۔ اور جمی ہوئی دیگیں جو بوجہ اپنی بڑائی کے اور بھاری پنے کے ادھر ادھر نہیں کی جا سکتی تھیں۔ ان سے اللہ نے فرما دیا تھا کہ دین و دنیا کی جو نعمتیں میں نے تمہیں دے رکھی ہیں ان پر میرا شکر کرو۔ شکر مصدر ہے بغیر فعل کے یا مفعول لہ ہے اور دونوں تقدیروں پر اس میں دلالت ہے کہ شکر جس طرح قول اور ارادہ سے ہوتا ہے فعل سے بھی ہوتا ہے جیسے شاعر کا قول ہے «افادتکم النعماء منی ثلاثہ» «یدی ولسانی والضمیر المحجبا» اس میں بھی شاعر نعمتوں کا شکر تینوں طرح مانتا ہے فعل سے، زبان سے اور دل سے۔ عبدالرحمٰن سلمی سے مروی ہے کہ نماز بھی شکر ہے اور روزہ بھی شکر ہے اور بھلا عمل جسے تو اللہ کے لئے کرے۔ شکر ہے اور سب سے افضل شکر حمد ہے۔
محمد بن کعب قرظی رحمہ اللہ فرماتے ہیں شکر اللہ تعالیٰ کا تقویٰ ہے اور نیک عمل ہے۔ آل داؤد دونوں طرح شکر ادا کرتے تھے قولاً بھی اور فعلاً بھی۔ ثابت بنانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں داؤد علیہ السلام نے اپنی اہل و عیال، اولاد اور عورتوں پر اس طرح اوقات کی پابندی کے ساتھ نفل نماز تقسیم کی تھی کہ ہر وقت کوئی نہ کوئی نماز میں مشغول نظر آتا تھا۔ بخاری و مسلم میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں اللہ کو سب سے زیادہ پسند داؤد علیہ السلام کی نماز تھی۔ آپ آدھی رات سوتے تہائی رات قیام کرتے اور چھٹا حصہ سو رہتے اسی طرح سب روزوں سے زیادہ محبوب روزے بھی اللہ تعالیٰ کو آپ ہی کے تھے۔ آپ ایک دن روزے سے رہتے اور ایک دن بے روزہ ایک خوبی آپ میں یہ تھی کہ دشمن سے جہاد کے وقت منہ نہ پھیرتے۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:1131] ابن ماجہ میں ہے کہ { سلیمان علیہ السلام کی والدہ ماجدہ نے آپ سے فرمایا پیارے بچے رات کو بہت نہ سویا کرو رات کی زیادہ نیند انسان کو قیامت کے دن فقیر بنا دیتی ہے۔ } ۱؎ [سنن ابن ماجہ:1332،قال الشيخ الألباني:۔ضعیف] ابن ابی حاتم میں ہے اس موقعہ پر داؤد علیہ السلام کی ایک معطول حدیث مروی ہے۔ اسی کتاب میں یہ بھی مروی ہے کہ داؤد علیہ السلام نے جناب باری سے عرض کیا کہ الہ العالمین تیرا شکر کیسے ادا ہو گا؟ شکر گزاری خود تیری ایک نعمت ہے جواب ملا داؤد اب تو نے میری شکر گزاری ادا کر لی جب کہ تو نے اسے جان لیا کہ کل نعمتیں میری ہی طرف سے ہیں۔ پھر ایک واقعے کی خبر دی جاتی ہے کہ بندوں میں سے شکر گزار بندے بہت ہی کم ہیں۔
13۔ 1 محاریب محراب کی جمع ہے مطلب ہے بلند محلات، عالی شان عمارتیں یا مساجد و تصویریں۔ یہ تصویریں غیر حیوان چیزوں کی ہوتی تھیں، بعض کہتے ہیں کہ انبیاء ؑ کی تصاویر مسجدوں میں بنائی جاتی تھیں تاکہ انھیں دیکھ کر لوگ بھی عبادت کریں۔ یہ معنی اس صورت میں صحیح ہے جب تسلیم کیا جائے کہ حضرت سلیمان ؑ کی شریعت میں تصویر سازی کی اجازت تھی جو صحیح نہیں۔ تاہم اسلام میں تو نہایت سختی کے ساتھ اس کی ممانعت ہے۔ جفان، جفنۃ کی جمع ہے لگن جواب، جابیۃ کی جمع ہے حوض جس میں پانی جمع کیا جاتا ہے یعنی حوض جتنے بڑے بڑے لگن قدور دیگیں، راسیات جمی ہوئیں۔ کہا جاتا ہے کہ یہ دیگیں پہاڑوں کو تراش کر بنائی جاتی تھیں جنہیں ظاہر ہے اٹھا کر ادھر ادھر نہیں لے جایا جاسکتا تھا اس میں بیک وقت ہزاروں افراد کا کھانا پک جاتا تھا یہ سارے کام جنات کرتے تھے۔
(آیت 13) ➊ {يَعْمَلُوْنَ لَهٗ مَا يَشَآءُ مِنْ مَّحَارِيْبَ:” مَحَارِيْبَ “ ”مِحْرَابٌ“} کی جمع ہے، یہ {”حَرْبٌ“} سے {”مِفْعَالٌ“} کے وزن پر ہے، جو آلہ کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ اصل معنی اس کا جنگ کا آلہ یا ہتھیار ہے، پھر یہ لفظ کئی معانی میں استعمال ہونے لگا، جن سب معانی میں کسی نہ کسی طرح جنگ کا مفہوم شامل ہے۔ چنانچہ قلعہ اور بڑی عالی شان عمارت کو بھی ”محراب“ کہتے ہیں، کیونکہ اس میں رہ کر دشمن سے جنگ کی جاتی ہے۔ عبادت کے لیے خاص کمرے کو بھی ”محراب“ کہتے ہیں، کیونکہ وہ شیطان سے جنگ میں مددگار ہے، جیسا کہ زکریا علیہ السلام کے متعلق فرمایا: «فَنَادَتْهُ الْمَلٰٓىِٕكَةُ وَ هُوَ قَآىِٕمٌ يُّصَلِّيْ فِي الْمِحْرَابِ» [ آل عمران: ۳۹ ] ” تو فرشتوں نے اسے آواز دی، جب کہ وہ عبادت خانے میں کھڑا نماز پڑھ رہا تھا۔“ داؤد علیہ السلام کی عبادت کے لیے مخصوص جگہ کو بھی ”محراب“ کہا گیا ہے، فرمایا: «وَ هَلْ اَتٰىكَ نَبَؤُا الْخَصْمِ اِذْ تَسَوَّرُوا الْمِحْرَابَ» [ صٓ: ۲۱ ] ”اور کیا تیرے پاس جھگڑنے والوں کی خبر آئی ہے، جب وہ دیوار پھاند کر عبادت خانے میں آ گئے۔“ سلیمان علیہ السلام کی سیرت میں سب سے نمایاں وصف جہاد ہے، اس کے لیے اللہ تعالیٰ نے انھیں انسانوں، جنّوں اور پرندوں کی فوجیں عطا فرما رکھی تھیں۔ جنگی ضروریات کی تیاری اور فراہمی سے انھیں خاص دلچسپی تھی، چنانچہ گھوڑوں کی دوڑ کروانے کے بعد ان کی پنڈلیوں اور گردنوں پر محبت سے ہاتھ پھیرنے کا ذکر سورۂ ص (۳۰ تا ۳۳) میں ہے۔ یہ سن کر کہ زمین کے کسی خطے پر شرک کا غلبہ اور مشرک عورت کی حکومت ہے، فوراً جہاد کے لیے تیار ہو جانے کا ذکر ملکہ سبا کے قصے میں ہے۔ (دیکھیے سورۂ نمل) ظاہر ہے اس کے لیے ہر قسم کا جنگی سازو سامان تیار کرنا ضروری تھا، اسے ذخیرہ کرنے کے لیے بڑی بڑی عمارتوں کی ضرورت تھی، دشمن کے علاقے میں پیش قدمی، اس پر حملے اور جنگ کے لیے ان شہروں کے نقشے اور اہم عمارتوں کے ماڈل بہم پہنچانا ضروری تھا۔ بڑی تعداد میں فوجوں کے لیے کھانا پکانے، تقسیم کرنے اور اس کے لیے برتن مہیا کرنے کا کام بہت بڑا کام تھا۔ اللہ تعالیٰ نے ان تمام کاموں کے لیے انسانوں اور پرندوں کے علاوہ جنّوں کو بھی سلیمان علیہ السلام کے تابع کر دیا۔ اگر ان میں سے کوئی ان کے حکم سے سرتابی کرتا، تو اسے اللہ تعالیٰ کی طرف سے آگ کے شعلوں کے ساتھ سزا دی جاتی تھی۔ چنانچہ وہ ان کی جنگی ضروریات کے لیے دور دراز سے ہر قسم کا عمارتی سامان پتھر، مرمر، لکڑی اور لوہا وغیرہ مہیا کرتے اور ان کے ساتھ بڑی بڑی عمارتیں تعمیر کرتے۔ ان عمارتوں میں مسجد اقصیٰ کی عمارت بھی شامل تھی۔ ➋ {وَ تَمَاثِيْلَ:} یہ {”تِمْثَالٌ“} کی جمع ہے، کسی دوسری چیز کی مثل جو چیز بنائی جائے، خواہ جان دار کی ہو یا بے جان کی، ماڈل اور مجسّمہ کی شکل میں ہو، یا کاغذ پر تصویر کی شکل میں ہو۔ جنّات سلیمان علیہ السلام کے لیے کس قسم کی تماثیل بناتے تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کی تفصیل نہیں آئی، بعض مفسرین نے اس کی تفصیل میں جو جان دار اشیاء، مثلاً شیر، چیتے وغیرہ کی تصاویر یا مجسّمے بنانے کا ذکر کیا ہے، وہ ان کی سنی سنائی بات ہے، کیونکہ نہ انھوں نے یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کی ہے، نہ وہ سلیمان علیہ السلام کے ساتھ رہے ہیں اور نہ اپنی معلومات کا ذریعہ بتاتے ہیں، جو سلیمان علیہ السلام تک پہنچتا ہو۔ آیت کے الفاظ یہ ہیں کہ جنات سلیمان علیہ السلام کے حکم سے وہ محاریب اور تماثیل بناتے تھے جو وہ چاہتے تھے۔ ظاہر ہے اللہ کا اتنا جلیل القدر پیغمبر شیروں، ہاتھیوں اور چیتوں یا انسانوں کے لاحاصل مجسّمے بنوائے، ممکن ہی نہیں، خصوصاً اس لیے کہ وہ جس تورات کے احکام پر عامل تھے اس میں جان دار اشیاء کی مورتیاں بنانا حرام تھا۔ حرمت کا یہ حکم اب بھی تورات میں متعدد مقامات پر موجود ہے: ”تو اپنے لیے کوئی تراشی ہوئی مورت نہ بنانا، نہ کسی چیز کی صورت بنانا جو اوپر آسمان میں یا نیچے زمین پر یا زمین کے نیچے پانی میں ہے۔“ (خروج، باب: ۲۰، آیت: ۴) اور ایک جگہ ہے: ”تم اپنے لیے بت نہ بنانا اور نہ کوئی تراشی ہوئی مورت یا لاٹ اپنے لیے کھڑی کرنا اور نہ ملک میں کوئی شبیہ دار پتھر رکھنا کہ اسے سجدہ کرو، اس لیے کہ میں خداوند تمھارا خدا ہوں۔“ (احبار، باب: ۲۶، آیت ۱) ایک اور جگہ ہے: ”تانہ ہو کہ تم بگڑ کر کسی شکل یا صورت کی کھودی ہوئی مورت اپنے لیے بنا لو، جس کی شبیہ کسی مرد یا عورت یا زمین کے کسی حیوان یا ہوا میں اڑنے والے پرندے یا زمین کے رینگنے والے جان دار یا مچھلی سے جو زمین کے نیچے پانی میں رہتی ہو، ملتی ہو۔“ (استثناء، باب: ۴، آیت: ۱۶ تا ۱۸)۔ تورات کی ان صریح آیات سے واضح ہے کہ سلیمان علیہ السلام کی طرف جان دار اشیاء کے مجسّمے بنانے کی نسبت ان پر بہتان ہے، جو اسی طرح ان پر لگایا گیا ہے جیسے ان پر جادوگر ہونے کا یا بیویوں کے عشق میں مبتلا ہو کربت پرستی کا بہتان لگایا گیا ہے، حالانکہ وہ اللہ تعالیٰ کے برگزیدہ پیغمبر تھے اور تورات کے احکام پر پوری طرح عامل تھے۔ اس لیے آیت کا مطلب یہی ہے کہ سلیمان علیہ السلام جو عمارت بنوانا چاہتے یا جن علاقوں کے نقشے یا عمارتوں کے ماڈل بنوانا چاہتے تھے، جنّات ان کے حکم سے تیار کر دیتے تھے۔ اس آیت سے جان دار اشیاء کی تصاویر یا مجسّموں کا جواز نکالنا ہرگز درست نہیں، کیونکہ ان کی حرمت متفق علیہ مسئلہ ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جان دار اشیاء کی تصاویر کی صریح حرمت اور ان پر وعید کے لیے صحیح بخاری اور دوسری کتب احادیث کا مطالعہ فرمائیں۔ اختصار کے پیش نظر انھیں یہاں نقل نہیں کیا گیا۔ ➌ { وَ جِفَانٍ كَالْجَوَابِ وَ قُدُوْرٍ رّٰسِيٰتٍ: ” جِفَانٍ “ ”جَفْنَةٌ“} کی جمع ہے، کھانے کا بڑا برتن، لگن، تھال۔ {”اَلْجَوَابِ“} اصل میں {”اَلْجَوَابِيْ“ } ہے جو {”جَابِيَةٌ“} کی جمع ہے ”حوض“۔ {” قُدُوْرٍ “ ”قِدْرٌ“} کی جمع ہے، ہانڈی، دیگ۔ {” رٰسِيٰتٍ “ ”رَسَا يَرْسُوْ“} سے اسم فاعل مؤنث {”رَاسِيَةٌ“} کی جمع ہے۔ قرآن میں پہاڑوں کو {” رٰسِيٰتٍ “} کہا گیا ہے، زمین میں گڑے ہوئے۔ سلیمان علیہ السلام کی فوجوں کی کثرت کے پیش نظر عام دیگیں جتنی بھی ہوں کافی نہیں تھیں، نہ چھوٹے چھوٹے برتن کھانا کھلانے کے لیے کافی تھے، اس لیے جنّات سلیمان علیہ السلام کے لیے ان کی خواہش کے مطابق پکانے کے لیے تانبے وغیرہ کی یا پہاڑوں کو تراش کر پتھر کی اتنی بڑی بڑی دیگیں تیار کرتے تھے جو ایک ہی جگہ جمی رہتیں۔ انھیں اٹھا کر دوسری جگہ لے جایا نہیں جا سکتا تھا۔ ان میں سے ہر دیگ میں ہزاروں آدمیوں کا کھانا پکتا تھا اور مجاہدین کو اجتماعی طور پر کھانا کھلانے کے لیے جنّات سلیمان علیہ السلام کی حسبِ منشا اتنے بڑے بڑے لگن یا تھال بناتے تھے جو حوضوں کی طرح لمبے چوڑے ہوتے، جن پر ایک وقت میں بہت سے آدمی کھانا کھا لیتے تھے۔ ایک ہی برتن میں بہت سے آدمیوں کے کھانا کھانے کا یہ معمول ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں بھی موجود تھا۔ عبد اللہ بن بسر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: [ كَانَ لِلنَّبِيِّ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَصْعَةٌ يَحْمِلُهَا أَرْبَعَةُ رِجَالٍ يُقَالُ لَهَا الْغَرَّاءُ فَلَمَّا أَضْحَوْا وَسَجَدُوا الضُّحٰی أُتِيَ بِتِلْكَ الْقَصْعَةِ يَعْنِيْ وَقَدْ ثُرِدَ فِيْهَا فَالْتَفُّوْا عَلَيْهَا فَلَمَّا كَثُرُوْا جَثَا رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ فَقَالَ أَعْرَابِيٌّ مَا هٰذِهِ الْجِلْسَةُ؟ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ اللّٰهَ تَعَالیٰ جَعَلَنِيْ عَبْدًا كَرِيْمًا وَلَمْ يَجْعَلْنِيْ جَبَّارًا عَنِيْدًا ثُمَّ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ كُلُوْا مِنْ حَوَالَيْهَا وَ دَعُوْا ذِرْوَتَهَا يُبَارَكْ فِيْهَا ] [ أبو داوٗد، الأطعمۃ، باب ما جاء في الأکل من أعلی الصحفۃ: ۳۷۷۳، قال الألباني صحیح ] ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک لگن یا تھال تھا، جسے چار آدمی اٹھاتے تھے، اسے ”غراء“ کہتے تھے۔ جب ضحی ہوئی اور لوگوں نے ضحی کی نماز پڑھ لی تو وہ لگن لایا گیا، اس میں گوشت کے سالن میں روٹی بھگو کر ثرید بنایا گیا تھا۔ لوگ اس کے گرد بیٹھ گئے، جب لوگ زیادہ ہو گئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گھٹنوں کے بل ہو گئے، ایک اعرابی نے کہا: ”یہ کیا بیٹھنے کا طریقہ ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے مجھے کریم بندہ بنایا ہے، بدبخت و سرکش نہیں بنایا۔“ پھر فرمایا: ”اس کے اردگرد سے کھاؤ، درمیان کو چھوڑے رکھو کہ اس میں برکت ہو۔“ ظاہر ہے جس برتن کو چار آدمی اٹھائیں، اس میں سو دو سو آدمیوں کا کھانا تو ضرور ہو گا اور جو برتن حوض جیسا کھلا ہو، اس میں سے کھانے والوں کا اندازہ آپ خود لگا لیں۔ سلیمان علیہ السلام کے لیے جنّوں کے ان کاموں کے بیان کا مقصد ان کی سلطنت کی وسعت، جہاد کے لیے ان کی افواج کی کثرت، ان کی وسعت قلب، سخاوت اور انسانوں کے علاوہ جنّات پر ان کی ہیبت کا بیان ہے کہ یہ سب کچھ ان پر اللہ تعالیٰ کا خاص انعام تھا۔ ➍ { اِعْمَلُوْۤا اٰلَ دَاوٗدَ شُكْرًا: ” اِعْمَلُوْۤا اٰلَ “} سے پہلے {”قُلْنَا“} اور {” اٰلَ دَاوٗدَ “} سے پہلے حرف ندا {”يَا“} محذوف ہے، جس کی وجہ سے {” اٰلَ “} کا لفظ منصوب ہے۔ {” شُكْرًا “} مفعول لہ ہے۔ آل داؤد میں ان کے گھر والوں کے ساتھ وہ خود بھی شامل ہیں، یعنی ہم نے کہا، اے داؤد کے گھر والو! شکر ادا کرنے کے لیے عمل کرو۔ معلوم ہوا آدمی پر اللہ تعالیٰ کے انعام جتنے زیادہ ہوں، اسے اتنی ہی زیادہ اعمالِ صالحہ کی کوشش کرنی چاہیے۔ مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم یقینا نماز کے لیے اتنا قیام کرتے کہ آپ کے دونوں پاؤں، یا (یہ کہا کہ) آپ کی دونوں پنڈلیوں پر ورم آ جاتا، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے (اس بارے میں) کہا جاتا تو فرماتے: [ أَفَلَا أَكُوْنُ عَبْدًا شَكُوْرًا؟ ] ”تو کیا میں پورا شکر گزار بندہ نہ بنوں؟“ [ بخاري، التہجد، باب قیام النبي صلی اللہ علیہ وسلم اللیل: ۱۱۳۰ ] داؤد علیہ السلام کی نماز، ان کے روزوں اور جہاد کا تذکرہ اس سورت کی آیت (۱۰) میں گزر چکا ہے۔ ➎ { وَ قَلِيْلٌ مِّنْ عِبَادِيَ الشَّكُوْرُ: ” الشَّكُوْرُ “} مبالغے کا صیغہ ہے، اس لیے ترجمہ ”پورے شکر گزار“ کیا ہے۔ اس میں ترغیب ہے کہ تم بھی میرے ان قلیل بندوں میں شامل ہونے کی کوشش کرو جو پورے شکر گزار ہیں۔
پھر جب سلیمانؑ پر ہم نے موت کا فیصلہ نافذ کیا تو جنوں کو اس کی موت کا پتہ دینے والی کوئی چیز اُس گھن کے سوا نہ تھی جو اس کے عصا کو کھا رہا تھا اس طرح جب سلیمانؑ گر پڑا تو جنوں پر یہ بات کھل گئی کہ اگر وہ غیب کے جاننے والے ہوتے تو اس ذلت کے عذاب میں مبتلا نہ رہتے
مولانا محمد جوناگڑھی
پھر جب ہم نے ان پر موت کا حکم بھیج دیا تو ان کی خبر جنات کو کسی نے نہ دی سوائے گھن کے کیڑے کے جو ان کی عصا کو کھا رہا تھا۔ پس جب (سلیمان) گر پڑے اس وقت جنوں نے جان لیا کہ اگر وه غیب دان ہوتے تو اس کے ذلت کے عذاب میں مبتلا نہ رہتے
احمد رضا خان بریلوی
پھر جب ہم نے اس پر موت کا حکم بھیجا جنوں کو اس کی موت نہ بتائی مگر زمین کی دیمک نے کہ اس کا عصا کھاتی تھی، پھر جب سلیمان زمین پر آیا جِنوں کی حقیقت کھل گئی اگر غیب جانتے ہوتے تو اس خواری کے عذاب میں نہ ہوتے
علامہ محمد حسین نجفی
اور جب ہم نے سلیمان(ع) پر موت کا فیصلہ نافذ کیا (اور وہ فوت ہوگئے) تو ان کی موت کا پتہ ان (جنات) کو نہیں دیا مگر اس دیمک نے جو ان کے عصا کو کھا رہی تھی تو جب (عصا کھوکھلا ہوگیا اور) آپ زمین پر گرے تو جنات پر اصلی حالت کھل گئی کہ اگر وہ غیب جانتے ہوتے تو (اتنے عرصے تک) اس رسوا کن عذاب میں مبتلا نہ رہتے۔
عبدالسلام بن محمد
پھر جب ہم نے اس پر موت کا فیصلہ کیا تو انھیں اس کی موت کا پتا نہیں دیا مگر زمین کے کیڑے (دیمک) نے جو اس کی لاٹھی کھاتا رہا، پھر جب وہ گرا تو جنوں کی حقیقت کھل گئی کہ اگر وہ غیب جانتے ہوتے تو اس ذلیل کرنے والے عذاب میں نہ رہتے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
سلیمان علیہ السلام کی وفات ٭٭
سلیمان علیہ السلام کی موت کی کیفیت بیان ہو رہی ہے اور یہ بھی کہ جو جنات ان کے فرمان کے تحت کام کاج میں مصروف تھے ان پر ان کی موت کیسے نامعلوم رہی؟ وہ انتقال کے بعد بھی لکڑی کے ٹیکے پر کھڑے ہی رہے اور یہ انہیں زندہ سمجھتے ہوئے سر جھکائے اپنے سخت سخت کاموں میں مشغول رہے۔
مجاہد رحمہ اللہ وغیرہ فرماتے ہی تقریباً سال بھر اسی طرح گزر گیا۔ جس لکڑی کے سہارے آپ کھڑے تھے جب اسے دیمک چاٹ گئی اور وہ کھوکھلی ہو گئی تو آپ گر پڑے۔ اب جنات اور انسانوں کو آپ کی موت کا پتہ چلا۔ تب تو نہ صرف انسانوں کو بلکہ خود جنات کو بھی یقین ہو گیا کہ ان میں سے کوئی بھی غیب داں نہیں۔ ایک مرفوع منکر اور غریب حدیث میں ہے لیکن تحقیقی بات یہ ہے کہ اس کا مرفوع ہونا ٹھیک نہیں فرماتے ہیں کہ سلیمان علیہ السلام جب نماز پڑھتے تو ایک درخت اپنے سامنے دیکھتے اس سے پوچھتے کہ تو کیسا درخت ہے تیرا نام کیا ہے؟۔ وہ بتا دیتا آپ اسے اسی استعمال میں لاتے۔ ایک مرتبہ جب نماز کو کھڑے ہوئے اور اسی طرح ایک درخت دیکھا تو پوچھا تیرا نام کیا ہے؟ اس نے کہا ضروب۔ پوچھا تو کس لیے ہے؟ کہا اس گھر کو اجاڑنے کے لئے تب آپ نے دعا مانگی کہ اللہ میری موت کی خبر جنات پر ظاہر نہ ہونے دے تاکہ انسان کو یقین ہو جائے کہ جن غیب نہیں جانتے۔ اب آپ ایک لکڑی پر ٹیک لگا کر کھڑے ہوئے اور جنات کو مشکل مشکل کام سونپ دیئے آپ کا انتقال ہو گیا لیکن لکڑی کے سہارے آپ ویسے ہی کھڑے رہے جنات دیکھتے رہے اور سمجھتے رہے کہ آپ زندہ ہیں اپنے اپنے کام میں مشغول رہے ایک سال کامل ہو گیا۔ چونکہ دیمک آپ کی لکڑی کو چاٹ رہی تھی سال بھر گزرنے پر وہ اسے کھا گئی اور اب سلیمان علیہ السلام گر پڑے اور انسانوں نے جان لیا کہ جنات غیب نہیں جانتے ورنہ سال بھر تک اس مصیبت میں نہ رہتے۔ لیکن اس کے ایک راوی عطا بن مسلم خراسانی کی بعض احادیث میں نکارت ہوتی ہے۔
بعض صحابہ رضی اللہ عنہم سے مروی ہے کہ سلیمان علیہ السلام کی عادت تھی آپ سال سال دو دو سال یا کم و بیش مدت کے لئے مسجد قدس میں اعتکاف میں بیٹھ جاتے آخری مرتبہ انتقال کے وقت بھی آپ مسجد بیت المقدس میں تھے ہر صبح ایک درخت آپ کے سامنے نمودار ہوتا۔ آپ اس سے نام پوچھتے فائدہ پوچھتے وہ بتاتا آپ اسی کام میں اسے لاتے بالآخر ایک درخت ظاہر ہوا جس نے اپنا نام ضروبہ بتایا کہا تو کس مطلب کا ہے کہا اس مسجد کے اجاڑنے کے لئے۔ سلیمان علیہ السلام سمجھ گئے فرمانے لگے میری زندگی میں تو یہ مسجد ویران ہو گی نہیں البتہ تو میری موت اور اس شہر کی ویرانی کے لئے ہے۔ چنانچہ آپ نے اسے اپنے باغ میں لگا دیا مسجد کی بیچ کی جگہ میں کھڑے ہو کر ایک لکڑی کے سہارے نماز شروع کر دی۔ وہیں انتقال ہو گیا لیکن کسی کو اس کا علم نہ ہوا۔ شیاطین سب کے سب اپنی اپنی نوکری بجا لاتے رہے کہ ایسا نہ ہو ہم ڈھیل کریں اور اللہ کے رسول علیہ السلام آ جائیں تو ہمیں سزا دیں۔ یہ محراب کے آگے پیچھے آئے ان میں جو بڑا پاجی شیطان تھا اس نے کہا دیکھو جی اس میں آگے اور پیچھے سوراخ ہیں اگر میں یہاں سے جا کر وہاں سے نکل آؤں تو میری طاقت مانو گے یا نہیں؟
چنانچہ وہ گیا اور نکل آیا لیکن اسے سلیمان علیہ السلام کی آواز نہ آئی۔ دیکھ تو سکتے نہ تھے کیونکہ سلیمان علیہ السلام کی طرف نگاہ بھر کر دیکھتے ہی وہ مر جاتے تھے لیکن اس کے دل میں کچھ خیال سا گزرا اس نے پھر اور جرأت کی اور مسجد میں چلا گیا دیکھا کہ وہاں جانے کے بعد وہ نہ جلا تو اس کی ہمت اور بڑھ گئی اور اس نے نگاہ بھر کر آپ کو دیکھا تو دیکھا کہ وہ گرے پڑے ہیں اور انتقال فرما چکے ہیں اب آ کر سب کو خبر کی لوگ آئے محراب کو کھولا تو واقعی اللہ کے رسول علیہ السلام کو زندہ نہ پایا۔ آپ کو مسجد سے نکال لائے۔ مدت انتقال کا علم حاصل کرنے کے لئے انہوں نے لکڑی کو دیمک کے سامنے ڈال دیا ایک دن رات تک جس قدر دیمک نے اسے کھایا اسے دیکھ کر اندازہ کیا تو معلوم ہوا کہ آپ کے انتقال کو پورا سال گزر چکا۔ تمام لوگوں کو اس وقت کامل یقین ہو گیا کہ جنات جو بنتے تھے کہ ہم غیب کی خبریں جانتے ہیں یہ محض ان کی دھونس تھی۔ ورنہ سال بھر تک کیوں مصیبت جھیلتے رہتے۔ اس وقت سے جنات گھن کے کیڑے کو مٹی اور پانی لا دیا کرتے ہیں گویا اس کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔ کہا یہ بھی تھا کہ اگر تو کچھ کھاتا پیتا ہوتا تو بہتر سے بہتر غذا ہم تجھے پہنچاتے۔ لیکن یہ سب بنی اسرائیل کے علماء کی روایتیں ہیں ان میں جو مطابق حق ہوں قبول۔ خلاف حق ہوں مردود دونوں سے الگ ہوں وہ نہ تصدیق کے قابل نہ تکذیب کے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
زید بن اسلم رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ سلیمان علیہ السلام نے ملک الموت سے کہہ رکھا تھا کہ میری موت کا وقت مجھے کچھ پہلے بتا دینا ملک الموت نے یہی کیا تو آپ نے جنات کو بغیر دروازے کے ایک شیشے کا مکان بنانے کا حکم دیا اور اس میں ایک لکڑی پر ٹیک لگا کر نماز شروع کی یہ موت کے ڈر کی وجہ سے نہ تھا۔ ملک الموت اپنے وقت پر آئے اور روح قبض کر کے چلے گئے۔ پھر لکڑی کے سہارے آپ سال بھر تک اسی طرح کھڑے رہے جنات ادھر ادھر سے دیکھ کر آپ کو زندہ سمجھ کر اپنے کاموں میں آپ کی ہیبت کی وجہ سے مشغول رہے لیکن جو کیڑا آپ کی لکڑی کو کھا رہا تھا جب وہ آدھی کھا چکا تو اب لکڑی بوجھ نہ اٹھا سکی اور آپ گر پڑے جنات کو آپ کی موت کا یقین ہو گیا اور وہ بھاگ کھڑے ہوئے۔ اور بھی بہت سے اقوال سلف سے یہ مروی ہے۔
14۔ 1 حضرت سلیمان ؑ کے زمانے میں جنات کے بارے میں مشہور ہوگیا تھا کہ یہ غائب کی باتیں جانتے ہیں، اللہ تعالیٰ نے حضرت سلیمان ؑ کی موت کے ذریعے سے اس عقیدے کے فساد کو واضح کردیا۔
(آیت 14) ➊ { فَلَمَّا قَضَيْنَا عَلَيْهِ الْمَوْتَ …: ” دَآبَّةُ الْاَرْضِ “} دیمک۔ {” تَبَيَّنَتِ الْجِنُّ “ ”تَبَيَّنَ يَتَبَيَّنُ“} (تفعّل) کا معنی واضح طور پر جان لینا بھی ہے اور کسی چیز کا واضح ہو جانا اور کھل کر سامنے آجانا بھی ہے، جیسا کہ شاعر نے کہا ہے: {إِذَا اشْتَبَكَتْ دُمُوْعٌ فِيْ خُدُوْدٍ تَبَيَّنَ مَنْ بَكٰي مِمَّنْ تَبَاكٰي} ”جب رخساروں میں آنسوؤں کی جھڑی لگ گئی تو وہ لوگ صاف ظاہر ہو گئے جو رو رہے تھے، ان لوگوں سے جو رونے کی نمائش کر رہے تھے۔“ ➋ اللہ تعالیٰ نے سلیمان علیہ السلام کو عطا کردہ عظیم سلطنت، علمی کمالات اور ہوا اور جنّوں کی تسخیر وغیرہ کے بیان کے بعد ان کی موت کا تذکرہ فرمایا ہے، یہ بتانے کے لیے کہ موت سے کوئی نہیں بچ سکتا، اگر اس سے کوئی بچتا تو سلیمان علیہ السلام ضرور بچ جاتے، جن کے پاس اتنی عظیم قوتیں تھیں۔ ➌ سلیمان علیہ السلام کے زمانے میں بہت سے لوگ سمجھتے تھے کہ جنّات غیب جانتے ہیں، جیسا کہ آج کل بھی اکثر لوگوں کا یہی حال ہے۔ اللہ تعالیٰ نے جنّوں کے علم غیب کی حقیقت واضح کرنے کے لیے ایک عجیب طریقہ اختیار فرمایا، وہ یہ کہ سلیمان علیہ السلام کی وفات اس حال میں ہوئی کہ وہ اپنی لاٹھی پر ٹیک لگا کر کھڑے تھے۔ جنّات ان کاموں میں مصروف تھے جن کا حکم انھیں سلیمان علیہ السلام نے دے رکھا تھا، انھیں معلوم نہیں ہو سکا کہ سلیمان علیہ السلام فوت ہو چکے ہیں اور وہ بدستور کام میں جتے رہے۔ دیمک ان کی لاٹھی کو اندر سے کھاتی رہی، جب لاٹھی اندر سے کھوکھلی ہو گئی اور سلیمان علیہ السلام کا بوجھ برداشت نہ کر سکی تو وہ گر پڑے۔ تب جا کر لوگوں اور جنّوں کو ان کی وفات کا پتا چلا۔ اس واقعہ سے تمام لوگوں کے سامنے جنّوں کی حقیقت کھل گئی کہ اگر وہ غیب جانتے ہوتے تو ذلیل کرنے والے عذاب میں مبتلا نہ رہتے۔ ➍ اس آیت سے صاف ظاہر ہے کہ سلیمان علیہ السلام کے تابع جنّوں اور شیاطین سے سرکش انسانی قبائل مراد نہیں، کیونکہ ان کے متعلق کوئی بھی علم غیب کا قائل نہیں، نہ خود انھیں اس کا دعویٰ ہو سکتا ہے، بلکہ یہ حقیقی جنّ و شیاطین تھے۔ ➎ اکثر تفاسیر میں لکھا ہے کہ سلیمان علیہ السلام وفات کے بعد لاٹھی کے سہارے ایک سال تک کھڑے رہے۔ بعض حضرات نے یہ بیان کیا ہے کہ سلیمان علیہ السلام نے جنّوں کو حکم دے کر شیشے کا ایک مکان بنوایا اور اس میں لاٹھی کے سہارے کھڑے ہو گئے۔ اسی حالت میں ان کی وفات ہو گئی۔ جنّات ان کو ایک سال تک لاٹھی کے سہارے کھڑے دیکھتے رہے اور انھیں زندہ سمجھ کر ان کی ہیبت کی وجہ سے ان کی بتائی ہوئی تعمیرات اور دوسرے کام کرتے رہے۔ مگر ایک سال تک اس طرح کھڑے رہنے پر سوال پیدا ہوتا ہے کہ سلیمان علیہ السلام نے پورا سال نہ کچھ کھایا، نہ پیا، نہ لباس بدلا، نہ نماز پڑھی یا جماعت کروائی، نہ کسی خدمت گار کے دل میں کوئی فکر پیدا ہوئی، جو ہر روز ان کے لیے ان کاموں کا اہتمام کرتے تھے، نہ امور سلطنت کے متعلق کسی نے ان سے پوچھنے کی ضرورت محسوس کی۔ آیا یہ ممکن بھی ہے؟ میں نے بہت سی تفسیروں کا مطالعہ کیا، مگر انھوں نے اس سوال کی طرف توجہ نہیں فرمائی۔ بعض مفسرین نے اسے استعارہ قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ لاٹھی کو دیمک کے کھانے کا مطلب ان کی سلطنت کا اندرونی طور پر آہستہ آہستہ کمزور ہونا ہے وغیرہ، مگر آیت کے الفاظ اس کا ساتھ نہیں دیتے۔ علامہ مراغی نے اس کا اچھا حل بیان کیا ہے، وہ فرماتے ہیں: {” وَالْكِتَابُ الْكَرِيْمُ لَمْ يُحَدِّدِ الْمُدَّةَ الَّتِيْ قَضَاهَا سُلَيْمَانُ وَهُوَ مُتَوَكِّئٌ عَلٰي عَصَاهُ حَتّٰي عَلِمَ الْجِنُّ بِمَوْتِهِ، وَقَدْ رَوَي الْقَصَّاصُوْنَ أَنَّهَا كَانَتْ سَنَةً، وَ مِثْلُ هٰذَا لَا يَنْبَغِي الرُّكُوْنُ إِلَيْهِ، فَلَيْسَ مِنَ الْجَائِزِ أَنَّ خَدَمَ سُلَيْمَانَ لَا يَتَنَبَّهُوْنَ إِلَي الْقِيَامِ بِوَاجِبَاتِهِ الْمَعِيْشِيَّةِ مِنْ مَأْكَلٍ وَ مَشْرَبٍ وَ مَلْبَسٍ وَ نَحْوِهَا يَوْمًا كَامِلًا دُوْنَ أَنْ يُّحَادِثُوْهُ فِيْ ذٰلِكَ وَ يَطَّلِبُوْا إِلَيْهِ الْقِيَامَ بِخِدْمَتِهِ، فَالْمَعْقُوْلُ أَنَّ الْأَرْضَةَ بَدَأَتِ الْعَصَا وَ سُلَيْمَانُ لَمْ يَتَنَبَّهْ لِذٰلِكَ، وَ بَيْنَمَا هُوَ مُتَوَكِّئٌ عَلَيْهَا حَانَتْ مَنِيَّتُهُ، وَكَانَتِ الْأَرَضَةُ قَدْ فَعَلَتْ فِعْلَهَا فِي الْعَصَا فَانْكَسَرَتْ فَخَرَّ عَلَي الْأَرْضِ فَعَلِمَتِ الْجِنُّ كِذْبَهَا، إِذْ كَانَتْ تَدَّعِيْ أَنَّهَا تَعْلَمُ الْغَيْبَ، إِذْ لَوْ عَلِمَتْهُ مَا لَبِثَتْ تُرْهِقُ نَفْسَهَا فِيْ شَاقِّ الْأَعْمَالِ الَّتِيْ كُلِّفَتْ بِهَا “} ”قرآن کریم نے اس مدت کی تعیین نہیں فرمائی جو سلیمان علیہ السلام نے جنوّں کو ان کی موت کا علم ہونے تک لاٹھی پر ٹیک لگانے کی حالت میں گزاری۔ قصہ گو حضرات نے بیان کیا ہے کہ وہ ایک سال تھی مگر ایسی بات قابل توجہ نہیں ہے، کیونکہ یہ نہیں ہو سکتا کہ سلیمان علیہ السلام کی خدمت کرنے والوں کا پورا ایک دن ان کی معاشی ضروریات یعنی کھانے پینے اور لباس وغیرہ کی طرف خیال ہی نہ جائے، نہ وہ ان سے اس کے بارے میں بات کریں، نہ ان کی خدمت سرانجام دینے کا تقاضا کریں (سال تو بہت دور کی بات ہے)۔ اس لیے معقول بات یہ ہے کہ دیمک پہلے ہی لاٹھی میں لگ چکی تھی، سلیمان علیہ السلام کو اس کی خبر نہیں ہوئی۔ وہ اس پر ٹیک لگائے ہوئے تھے کہ ان کی موت کا وقت آ گیا، جب کہ دیمک لاٹھی کے اندر اپنا کام کر چکی تھی۔ چنانچہ وہ ٹوٹ گئی اور سلیمان علیہ السلام زمین پر گر گئے تو جنوّں کو اپنا جھوٹ معلوم ہو گیا، کیونکہ ان کا دعویٰ تھا کہ وہ غیب جانتے ہیں، اس لیے کہ اگر وہ اسے جانتے ہوتے تو ان مشقت والے کاموں میں اپنی جان نہ مارتے رہتے جن کی انھیں تکلیف دی گئی تھی۔ “ مراغی کی رائے اس لیے بھی مضبوط ہے کہ ایک سال کی مدت کی کوئی روایت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت نہیں، محض اسرائیلی روایات ہیں، جن کا یہ درجہ بھی نہیں کہ انھیں {”لَا نُصَدِّقُ وَلَا نُكَذِّبُ“} کہا جا سکے، بلکہ سب صریح عقل کے خلاف ہونے کی وجہ سے مردود ہیں۔ ابن کثیر رحمہ اللہ نے ایک سال مدت بیان کرنے کے باوجود ان روایات کو اسرائیلیات قرار دیا ہے اور مرفوع روایت کو غریب اور {”فِيْ صِحَّتِهِ نَظْرٌ“} فرمایا ہے اور فی الواقع وہ روایت غیر ثابت ہے۔
سبا کے لیے اُن کے اپنے مسکن ہی میں ایک نشانی موجود تھی، دو باغ دائیں اور بائیں کھاؤ اپنے رب کا دیا ہوا رزق اور شکر بجا لاؤ اُس کا، ملک ہے عمدہ و پاکیزہ اور پروردگار ہے بخشش فرمانے والا
مولانا محمد جوناگڑھی
قوم سبا کے لئے اپنی بستیوں میں (قدرت الٰہی کی) نشانی تھی ان کے دائیں بائیں دو باغ تھے (ہم نے ان کو حکم دیا تھا کہ) اپنے رب کی دی ہوئی روزی کھاؤ اور اس کا شکر ادا کرو، یہ عمده شہر اور وه بخشنے واﻻ رب ہے
احمد رضا خان بریلوی
بیشک سبا کے لیے ان کی آبادی میں نشانی تھی دو باغ دہنے اور بائیں اپنے رب کا رزق کھاؤ اور اس کا شکر ادا کرو پاکیزہ شہر اور بخشنے والا رب
علامہ محمد حسین نجفی
قبیلہ سباء والوں کیلئے ان کی آبادی میں (قدرتِ خدا کی) ایک نشانی موجود تھی (یعنی) دو باغ تھے دائیں اور بائیں (اور ان سے کہہ دیا گیا) کہ اپنے پروردگار کے رزق سے کھاؤ اور اس کا شکر ادا کرو شہر ہے پاک و پاکیزہ اور پروردگار ہے بخشنے والا۔
عبدالسلام بن محمد
بلاشبہ یقینا سبا کے لیے ان کے رہنے کی جگہ میں ایک نشانی تھی۔ دو باغ دائیں اور بائیں (جانب) سے۔ اپنے رب کے دیے سے کھاؤ اور اس کا شکر کرو، پاکیزہ شہر ہے اور بے حد بخشنے والا رب ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
قوم سبا کا تفصیلی تذکرہ ٭٭
قوم سبا یمن میں رہتی تھی۔ تبع بھی ان میں سے ہی تھے۔ بلقیس بھی انہی میں سے تھیں۔ یہ بڑی نعمتوں اور راحتوں میں تھے۔ چین آرام سے زندگی گزار رہے تھے۔ اللہ کے رسول ان کے پاس آئے انہیں شکر کرنے کی تلقین کی۔ رب کی وحدانیت کی طرف بلایا اس کی عبادت کا طریقہ سمجھایا۔ کچھ زمانے تک وہ یونہی رہے لیکن پھر جب کہ انہوں نے سرتابی اور روگردانی کی احکام اللہ بےپرواہی سے ٹال دیئے تو ان پر زور کا سیلاب آیا اور تمام ملک باغات اور کھیتیاں وغیرہ تاخت و تاراج ہو گئیں۔ جس کی تفصیل یہ ہے۔ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال ہوا کہ سبا کسی عورت کا نام ہے۔ یا مرد کا یا جگہ کا؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ ایک مرد تھا جس کے دس لڑکے تھے جن میں سے چھ تو یمن میں جا بسے تھے اور چار شام میں۔ مذحج، کندہ، ازد، اشعری، اغار، حمیریہ یہ چھ قبیلے یمن میں۔ نجم، جذام، عاملہ اور غسان یہ چار قبیلے شام میں۔ } ۱؎ [مسند احمد:316/1:حسن] (مسند احمد)
{ فردہ بن مسیک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ میں اپنی قوم میں سے ماننے والوں اور آگے بڑھنے والوں کو لے کر نہ ماننے اور پیچھے ہٹنے والوں سے لڑوں؟ آپ نے فرمایا ہاں۔ جب میں جانے لگا تو آپ نے مجھے بلا کر فرمایا دیکھو پہلے انہیں اسلام کی دعوت دینا نہ مانیں تب جہاد کی تیاری کرنا۔ میں نے کہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ! یہ سبا کس کا نام ہے؟ تو آپ کا جواب تقریباً وہی ہے جو اوپر مذکور ہوا۔ اس میں یہ بھی ہے کہ قبیلہ انمار میں سے بجیلہ اور خثعم بھی ہیں۔ } ۱؎ [سنن ترمذي:3222،قال الشيخ الألباني:۔حسن صحیح] ایک اور مطول روایت میں اس آیت کے شان نزول کے متعلق اسی کے ساتھ یہ بھی ہے کہ فردہ رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا تھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! جاہلیت کے زمانے میں قوم سبا کی عزت تھی مجھے اب ان کے ارتداد کا خوف ہے۔ اگر آپ اجازت دیں تو میں ان سے جہاد کروں۔ آپ نے فرمایا ان کے بارے میں مجھے کوئی حکم نہیں دیا گیا۔ پس یہ آیت اتری۔ لیکن اس میں غرابت ہے اس سے تو یہ پایا جاتا ہے کہ یہ آیت مدنی ہے، حالانکہ سورت مکیہ ہے۔
محمد بن اسحاق سبا کا نسب نامہ اس طرح بیان کرتے ہیں عبد شمس بن العرب بن قحطان اسے سبا اس لیے کہتے ہیں کہ اس نے سب سے پہلے عرب میں دشمن کے قید کرنے کا رواج ڈالا تھا۔ اس وجہ سے اسے رائش بھی کہتے ہیں۔ مال کو ریش اور ریاش بھی عربی میں کہتے ہیں۔ یہ بھی مذکور ہے کہ اس بادشاہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے تشریف لانے سے پہلے ہی آپ کی پیشن گوئی کی تھی۔ کہ ملک کا مالک ہمارے بعد ایک نبی ہو گا جو حرم کی عزت کرے گا۔ اس کے بعد اس کے خلیفہ ہوں گے، جن کے سامنے دنیا کے بادشاہ سرنگوں ہو جائیں گے پھر ہم میں بھی بادشاہت آئے گی اور بنو قحطان کے ایک نبی بھی ہوں گے اس نبی کا نام احمد ہو گا (صلی اللہ علیہ وسلم ) کاش کہ میں بھی ان کی نبوت کے زمانے کو پالیتا تو ہر طرح کی خدمت کو غنیمت سمجھتا۔ لوگو! جب بھی اللہ کے وہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم ظاہر ہوں تو تم پر فرض ہے کہ ان کا ساتھ دو اور ان کے مددگار بن جاؤ۔ اور جو بھی آپ سے ملے اس پر میری جانب سے فرض ہے کہ وہ آپ کی خدمت میں میرا سلام پہنچا دے (اکیل ہمدانی) قحطان کے بارے میں تین قول ہیں۔ ایک یہ کہ وہ ارم بن سام بن نوح کی نسل میں سے ہے۔ دوسرا یہ کہ عابر یعنی ہود علیہ السلام کی نسل میں سے ہے۔ تیسرا یہ کہ اسماعیل بن ابراہیم علیہما السلام کی نسل سے ہے۔ اس سب کو تفصیل کے ساتھ حافظ ابن عبد البر رحمہ اللہ نے اپنی کتاب الابناہ میں ذکر کیا ہے۔ بعض روایتوں میں جو آیا ہے کہ سبا عرب میں سے تھے اس کا مطلب یہ ہے کہ ان لوگوں میں سے جن کی نسل سے عرب ہوئے۔ ان کا نسل ابراہیمی میں سے ہونا مشہور نہیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
صحیح بخاری میں ہے کہ { قبیلہ اسلم جب تیروں سے نشانہ بازی کر رہے تھے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس سے نکلے تو آپ نے فرمایا اے اولاد اسماعیل! تیر اندازی کئے جاؤ تمہارے والد بھی پورے تیر انداز تھے۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:2899] اس سے تو معلوم ہوتا ہے کہ سبا کا سلسلہ نسب خلیل الرحمن علیہ السلام تک پہنچتا ہے۔ اسلم انصار کا ایک قبیلہ تھا اور انصار سارے کے سارے غسان میں سے ہیں اور یہ سب یمنی تھے۔ سبا کی اولاد ہیں۔ یہ لوگ مدینے میں اس وقت آئے جب سیلاب سے ان کا وطن تباہ ہو گیا۔ ایک جماعت یہاں آ کر بسی تھی دوسری شام چلی گئی۔ انہیں غسانی اس لیے کہتے ہیں کہ اسی نام کی پانی والی ایک جگہ پر یہ ٹھہرے تھے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ مشلل کے قریب ہے۔ سیدنا حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ کے شعر سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ ایک پانی والی جگہ یا اس کنویں کا نام غسان تھا۔ یہ جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس کی دس اولادیں تھیں اس سے مراد صلبی اولادیں نہیں کیونکہ بعض بعض دو دو تین تین نسلوں بعد کے بھی ہیں۔ جیسے کہ کتب انساب میں موجود ہے۔ جو شام اور یمن میں جا کر آباد ہوئے یہ بھی سیلاب کے آنے کے بعد کا ذکر ہے۔ بعض وہیں رہے بعض ادھر ادھر چلے گئے۔
دیوار کا قصہ یہ ہے کہ ان کے دونوں جانب پہاڑ تھے۔ جہاں سے نہریں اور چشمے بہہ بہہ کر ان کے شہروں میں آتے تھے اسی طرح نالے اور دریا بھی ادھر ادھر سے آتے تھے ان کے قدیمی بادشاہوں میں سے کسی نے ان دونوں پہاڑوں کے درمیان ایک مضبوط پشتہ بنوا دیا تھا جس دیوار کی وجہ سے پانی ادھر ادھر ہو گیا تھا۔ اور بصورت دریا جاری رہا کرتا تھا جس کے دونوں جانب باغات اور کھیتیاں لگا دی تھیں۔ پانی کی کثرت اور زمین کی عمدگی کی وجہ سے یہ خطہ بہت ہی زرخیز اور ہرا بھرا رہا کرتا تھا۔ یہاں تک کہ قتادہ رحمہ اللہ کا قول ہے کہ کوئی عورت اپنے سر پر جھلی رکھ کر چلتی تھی۔ کچھ دور جانے تک پھلوں سے وہ جھلی بالکل بھر جاتی تھی۔ درختوں سے پھل خودبخود جو جھڑتے تھے وہ اس قدر کثرت سے ہوتے تھے کہ ہاتھ سے توڑنے کی حاجت نہیں پڑتی تھی۔ یہ دیوار مارب میں تھی صنعاء سے تین مراحل پر تھی اور سد مارب کے نام سے مشہور تھی۔ آب و ہوا کی عمدگی، صحت مزاج اور اعتدال عنایت الہٰیہ سے اس طرح تھا کہ ان کے ہاں مکھی، مچھر اور زہریلے جانور بھی نہیں ہوتے تھے۔ یہ اس لیے تھا کہ وہ لوگ اللہ کی توحید کو مانیں اور دل و جان سے اس کی خلوص کے ساتھ عبادت کریں۔ یہ تھی وہ نشانی قدرت جس کا ذکر اس آیت میں ہے کہ دونوں پہاڑوں کے درمیان آباد بستی اور بستی کے دونوں طرف ہرے بھرے پھل دار باغات اور سرسبز کھیتیاں اور ان سے جناب باری نے فرما دیا تھا کہ اپنے رب کی دی ہوئی روزیاں کھاؤ پیو اور اس کے شکر میں لگے رہو۔ لیکن انہوں نے اللہ کی توحید کو، اور اس کی نعمتوں کے شکر کو بھلا دیا اور سورج کی پرستش کرنے لگے۔ جیسے کہ ہدہد نے سلیمان علیہ السلام کو خبر دی تھی کہ «فَمَكَثَ غَيْرَ بَعِيدٍ فَقَالَ أَحَطتُ بِمَا لَمْ تُحِطْ بِهِ وَجِئْتُكَ مِن سَبَإٍ بِنَبَإٍ يَقِينٍ» ۱؎ [27-النمل:22-24] الخ یعنی ’ میں تمہارے پاس سبا کی ایک پختہ خبر لایا ہوں۔ ایک عورت ان کی بادشاہت کر رہی ہے جس کے پاس تمام چیزیں موجود ہیں عظیم الشان تخت سلطنت پر وہ متمکن ہے۔ رانی اور رعایا سب سورج پرست ہیں۔ شیطان نے ان کو گمراہ کر رکھا ہے۔ بے راہ ہو رہے ہیں ‘
مروی ہے کہ بارہ یا تیرہ پیغمبر ان کے پاس آئے تھے۔ بالاخر شامت اعمال رنگ لائی جو دیوار انہوں نے بنا رکھی تھی وہ چوہوں نے اندر سے کھوکھلی کر دی اور بارش کے زمانے میں وہ ٹوٹ گئی پانی کی ریل پیل ہو گئی ان دریاؤں کے، چشموں کے، بارش کے، نالوں کے، سب پانی آ گئے ان کی بستیاں، ان کے محلات، ان کے باغات اور ان کی کھیتیاں سب تباہ و برباد ہو گئیں۔ ہاتھ ملتے رہ گئے کوئی تدبیر کارگر نہ ہوئی۔ پھر تو وہ تباہی آئی کہ اس زمین پر کوئی پھلدار درخت جمتا ہی نہ تھا۔ پیلو، جھاؤ، کیکر، ببول اور ایسے ہی بےمیوہ بدمزہ بےکار درخت اگتے تھے۔ ہاں البتہ کچھ بیریوں کے درخت اگ آئے تھے جو نسبتاً اور درختوں سے کار آمد تھے۔ لیکن وہ بھی بہت زیادہ خار دار اور بہت کم پھل دار تھے۔ یہ تھا ان کے کفر و شرک کی سرکشی اور تکبر کا بدلہ کہ نعمتیں کھو بیٹھے اور زحمتوں میں مبتلا ہو گئے کافروں کو یہی اور اس جیسی ہی سخت سزائیں دی جاتی ہیں۔ ابو خیرہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں گناہوں کا بدلہ یہی ہوتا ہے کہ عبادتوں میں سستی آ جائے روز گار میں تنگی واقع ہو لذتوں میں سختی آ جائے یعنی جہاں کسی راحت کا منہ دیکھا وہاں فوراً کوئی زحمت آ پڑی اور مزہ مٹی ہو گیا۔
15۔ 1 سبا وہی قوم تھی جس کی ملکہ سبا مشہور ہے جو حضرت سلیمان علیہ والسلام کے زمانے میں مسلمان ہوگئی تھی قوم ہی کے نام پر ملک کا نام بھی سبا تھا آج کل یمن کے نام سے یہ علاقہ معروف ہے یہ بڑا خوش حال ملک تھا یہ ملک بری وبحری تجارت میں بھی ممتاز تھا اور زراعت وباغبانی میں بھی نمایاں اور یہ دونوں ہی چیزیں کسی ملک اور قوم کی خوش حالی کا باعث ہوتی ہیں اسی مال ودولت کی فراوانی کو یہاں قدرت الہٰی کی نشانی سے تعبیر کیا گیا ہے۔ 15۔ 2 کہتے ہیں کہ شہر کے دونوں طرف پہاڑ تھے جن سے چشموں اور نالوں کا پانی بہہ بہہ کر شہر میں آتا تھا ان کے حکمرانوں نے پہاڑوں کے درمیان پشتے تعمیر کرادیئے اور ان کے ساتھ باغات لگائے گئے جس سے پانی کا رخ بھی متعین ہوگیا اور باغوں کو بھی سیرابی کا ایک قدرتی ذریعہ میسر آگیا انہی باغات کو دائیں بائیں دو باغوں سے تعبیر کیا گیا ہے بعض کہتے ہیں جنتین سے دو باغ نہیں بلکہ دائیں بائیں کی دو جہتیں مراد ہیں اور مطلب باغوں کی کثرت ہے کہ جدھر نظر اٹھا کر دیکھیں باغات ہریالی اور شادابی ہی نظرآتی تھی۔ (فتح القدیر) 15۔ 3 یہ ان کے پیغمبروں کے ذریعے سے کہلوایا گیا یا مطلب ان نعمتوں کا بیان ہے، جن سے انکو نوازا گیا تھا۔ 15۔ 4 یعنی منعم و محسن کی اطاعت کرو اور اس کی نافرمانی سے اجتناب۔ 15۔ 5 یعنی باغوں کی کثرت اور پھلوں کی فروانی کی وجہ سے یہ شہر عمدہ ہے۔ کہتے ہیں کہ آب و ہوا کی عمدگی کی وجہ سے یہ شہر مکھی، مچھر اور اس قسم کے دیگر موذی جانوروں سے بھی پاک تھا واللہ عالم۔ 15۔ 6 یعنی اگر تم رب کا شکر کرتے رہو گے تو وہ تمہارے گناہ کا سبب نہیں بنتے، بلکہ اللہ تعالیٰ عفو و درگزر سے کام لیتا ہے۔
(آیت 15) ➊ { لَقَدْ كَانَ لِسَبَاٍ فِيْ مَسْكَنِهِمْ اٰيَةٌ:} اللہ تعالیٰ نے داؤد اور سلیمان علیھما السلام کے ذکر کے بعد، جو انابت و رجوع والے شکر گزار بندے تھے، قومِ سبا کا ذکر فرمایا، جنھیں اللہ تعالیٰ نے ہر طرح کی نعمتیں دیں، مگر انھوں نے ان نعمتوں کی ناشکری کی، انابت کے بجائے اعراض اور سرکشی اختیار کی، اپنے رسولوں کو اور آخرت کو جھٹلا دیا، جس کے نتیجے میں ان پر عذاب آیا اور ساری خوش حالی ختم ہو گئی۔ اس میں قریش کے لیے بھی نصیحت تھی، جنھیں بیت اللہ کی وجہ سے ہر طرح کی نعمت و راحت میسر تھی، انھوں نے اللہ تعالیٰ کے رسول کو جھٹلایا تو قومِ سبا کی طرح ان کی وہ خوش حالی اور امن و سکون ختم ہو گیا، جیسا کہ فرمایا: «وَ ضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلًا قَرْيَةً كَانَتْ اٰمِنَةً مُّطْمَىِٕنَّةً يَّاْتِيْهَا رِزْقُهَا رَغَدًا مِّنْ كُلِّ مَكَانٍ فَكَفَرَتْ بِاَنْعُمِ اللّٰهِ فَاَذَاقَهَا اللّٰهُ لِبَاسَ الْجُوْعِ وَ الْخَوْفِ بِمَا كَانُوْا يَصْنَعُوْنَ (116) وَ لَقَدْ جَآءَهُمْ رَسُوْلٌ مِّنْهُمْ فَكَذَّبُوْهُ فَاَخَذَهُمُ الْعَذَابُ وَ هُمْ ظٰلِمُوْنَ» [ النحل: ۱۱۲، ۱۱۳ ] ”اور اللہ نے ایک بستی کی مثال بیان کی جو امن والی، اطمینان والی تھی، اس کے پاس اس کا رزق کھلا ہر جگہ سے آتا تھا، تو اس نے اللہ کی نعمتوں کی ناشکری کی تو اللہ نے اسے بھوک اور خوف کا لباس پہنا دیا، اس کے بدلے جو وہ کیا کرتے تھے۔ اور بلاشبہ یقینا ان کے پاس انھی میں سے ایک رسول آیا تو انھوں نے اسے جھٹلا دیا، تو انھیں عذاب نے اس حال میں پکڑ لیا کہ وہ ظالم تھے۔“ سلیمان علیہ السلام کے ذکر کے ساتھ سبا کے ذکر کا ایک اور تعلق بھی ہے جو سورۂ نمل میں مذکور سلیمان علیہ السلام اور ملکہ سبا کے قصے سے ظاہر ہے۔ ➋ سبا سے مراد قوم ہے جس کا باپ سبا نامی شخص تھا۔ (دیکھیے سورۂ نمل: ۲۲) پھر ملک کا نام بھی یہی پڑ گیا۔ ➌ { فِيْ مَسْكَنِهِمْ:} یہ علاقہ آج کل یمن کے نام سے معروف ہے۔ ➍ { اٰيَةٌ:} یعنی ان کے لیے ان کے ملک میں بہت بڑی نشانی تھی، جس سے اللہ تعالیٰ کی وحدانیت، اس کی قدرت اور کاری گری کا اظہار ہوتا تھا اور جسے دیکھ کر معلوم ہوتا تھا کہ ایسے مالک کا شکر اور اس کی اطاعت واجب ہے اور اس کی ناشکری اور نافرمانی سے پرہیز لازم ہے۔ ➎ { جَنَّتٰنِ عَنْ يَّمِيْنٍ وَّ شِمَالٍ:} یہ اس نشانی کی تفصیل ہے۔ سبا کی عمارتوں کا ذکر کرتے ہوئے ”ارض القرآن“ کے مصنف نے لکھا ہے: ”اسی سلسلۂ عمارت میں ایک چیز ”بند مآرب“ ہے، جس کو عرب حجاز ”سد“ اور عرب یمن ”عرم“ کہتے ہیں۔ عرب کے ملک میں کوئی دائمی دریا نہیں، پانی پہاڑوں سے بہ کر ریگستانوں میں خشک اور ضائع ہو جاتا ہے، زراعت کے مصرف میں نہیں آتا۔ ”سبا“ مختلف مناسب موقعوں پر پہاڑوں اور وادیوں کے بیچ میں بڑے بڑے بند باندھ دیتے تھے کہ پانی رک جائے اور بقدر ضرورت زراعت کے کام میں آئے۔ مملکت سبا میں اس طرح کے سیکڑوں بند تھے، ان میں سب سے زیادہ مشہور ”سد مآرب“ ہے، جو ان کے دار الحکومت ”مارب“ میں واقع تھا۔ شہر مارب کے جنوب میں دائیں بائیں دو پہاڑ ہیں، سبا نے ان دو پہاڑوں کے بیچ میں تقریباً ۸۰۰ ق م میں ”سد مارب“ کی تعمیر کی تھی۔ یہ بند تقریباً ایک سو پچاس فٹ لمبی اور پچاس فٹ چوڑی ایک دیوار ہے۔ اس کا اکثر حصہ تو اب افتادہ ہے، تاہم ایک ثلث دیوار اب بھی باقی ہے۔ ”ارناڈ“ ایک یورپی سیاح نے اس کے موجودہ حالات پر ایک مضمون فرنچ ایشیا ٹک سوسائٹی کے جرنل (رسالے) میں لکھا ہے، اس کا موجودہ نقشہ نہایت عمدگی سے تیار کیا ہے، اس دیوار پر جا بجا کتبات ہیں، وہ بھی پڑھے گئے۔ اس سد میں اوپر نیچے بہت سی کھڑکیاں تھیں جو حسب ضرورت کھولی اور بند کی جا سکتی تھیں۔ ”سد“ کے دائیں بائیں، مشرق و مغرب میں دو بڑے بڑے دروازے تھے، جن سے پانی تقسیم ہو کر چپ و راست کی زمینوں کو سیراب کرتا تھا۔ اس نظام آب رسانی سے چپ و راست دونوں جانب اس ریگستانی اور شور ملک کے اندر سیکڑوں کوس تک بہشت زار تیار ہو گئی تھی، جس میں انواع و اقسام کے میوے اور خوشبودار درخت تھے۔ قرآن کریم {” جَنَّتٰنِ عَنْ يَّمِيْنٍ وَّ شِمَالٍ “} کہہ کر انھی باغوں کی طرف اشارہ کرتا ہے۔“ (ارض القرآن) دائیں اور بائیں دو باغوں کا ایک مطلب یہ بھی ہے کہ ہر گھر اور ہر گلی کے دائیں بائیں، یعنی ہر طرف باغ ہی باغ تھے۔ ➏ { كُلُوْا مِنْ رِّزْقِ رَبِّكُمْ وَ اشْكُرُوْا لَهٗ:} یعنی ہم نے اپنے رسولوں اور صالح بندوں کی زبانی ان سے یہ بات کہی، یا اللہ تعالیٰ کی بے شمار نعمتوں اور دائیں بائیں کے ان باغات اور کھیتوں کا ان سے تقاضا یہ تھا۔ ➐ { بَلْدَةٌ طَيِّبَةٌ:} ”طیب“ ہر چیز میں سے اعلیٰ کو کہتے ہیں۔ {” بَلْدَةٌ طَيِّبَةٌ “} سے مراد زرخیز اور عمدہ آب و ہوا والی زمین ہے، اس کے مقابلے میں بنجر، شور اور خراب آب و ہوا والی زمین کے لیے ”خبیث“ کا لفظ استعمال ہوتا ہے، جیسا کہ فرمایا: «وَ الْبَلَدُ الطَّيِّبُ يَخْرُجُ نَبَاتُهٗ بِاِذْنِ رَبِّهٖ وَ الَّذِيْ خَبُثَ لَا يَخْرُجُ اِلَّا نَكِدًا» [ الأعراف: ۵۸ ] ”اور جو شہر پاکیزہ ہے اس کی کھیتی اس کے رب کے حکم سے نکلتی ہے اور جو خراب ہے (اس کی کھیتی) ناقص کے سوا نہیں نکلتی۔“ ➑ { وَ رَبٌّ غَفُوْرٌ:} یعنی اگر توحید پر قائم رہو گے، انبیاء کی اطاعت کرو گے اور انابت و رجوع کو اپنا شیوہ بناؤ گے تو اس خوش حالی کے ساتھ اپنے رب کو بھی اپنے لیے مہربان پاؤ گے، جو تمھاری کوتاہیوں پر پردہ ڈالے گا، اس طرح دنیا و آخرت دونوں تمھاری ہوں گی۔
مگر وہ منہ موڑ گئے آخرکار ہم نے اُن پر بند توڑ سیلاب بھیج دیا اور ان کے پچھلے دو باغوں کی جگہ دو اور باغ انہیں دیے جن میں کڑوے کسیلے پھل اور جھاؤ کے درخت تھے اور کچھ تھوڑی سی بیریاں
مولانا محمد جوناگڑھی
لیکن انہوں نے روگردانی کی تو ہم نے ان پر زور کے سیلاب (کا پانی) بھیج دیا اور ہم نے ان کے (ہرے بھرے) باغوں کے بدلے دو (ایسے) باغ دیئے جو بدمزه میوؤں والے اور (بکثرت) جھاؤ اور کچھ بیری کے درختوں والے تھے
احمد رضا خان بریلوی
تو انہوں نے منہ پھیرا تو ہم نے ان پر زور کا اہلا (سیلاب) بھیجا اور ان کے باغوں کے عوض دو باغ انہیں بدل دیے جن میں بکٹا (بدمزہ) میوہ اور جھاؤ اور کچھ تھوڑی سی بیریاں
علامہ محمد حسین نجفی
پس انہوں نے روگردانی کی تو ہم نے ان پر بند توڑ سیلاب چھوڑ دیا اور ان کے ان دو باغوں کو ایسے دو باغوں سے بدل دیا جن کے پھل بدمزہ تھے اور جھاؤ کے کچھ درخت اور کچھ تھوڑی سی بیریاں۔
عبدالسلام بن محمد
پھر انھوں نے منہ موڑ لیا تو ہم نے ان پر بند کا سیلاب بھیجا اور ہم نے انھیں ان کے دو باغوں کے بدلے دو اور باغ دیے جو بد مزہ پھلوں اور جھاؤ کے درختوں اور کچھ تھوڑی سی بیریوں والے تھے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
قوم سبا کا تفصیلی تذکرہ ٭٭
قوم سبا یمن میں رہتی تھی۔ تبع بھی ان میں سے ہی تھے۔ بلقیس بھی انہی میں سے تھیں۔ یہ بڑی نعمتوں اور راحتوں میں تھے۔ چین آرام سے زندگی گزار رہے تھے۔ اللہ کے رسول ان کے پاس آئے انہیں شکر کرنے کی تلقین کی۔ رب کی وحدانیت کی طرف بلایا اس کی عبادت کا طریقہ سمجھایا۔ کچھ زمانے تک وہ یونہی رہے لیکن پھر جب کہ انہوں نے سرتابی اور روگردانی کی احکام اللہ بےپرواہی سے ٹال دیئے تو ان پر زور کا سیلاب آیا اور تمام ملک باغات اور کھیتیاں وغیرہ تاخت و تاراج ہو گئیں۔ جس کی تفصیل یہ ہے۔ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال ہوا کہ سبا کسی عورت کا نام ہے۔ یا مرد کا یا جگہ کا؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ ایک مرد تھا جس کے دس لڑکے تھے جن میں سے چھ تو یمن میں جا بسے تھے اور چار شام میں۔ مذحج، کندہ، ازد، اشعری، اغار، حمیریہ یہ چھ قبیلے یمن میں۔ نجم، جذام، عاملہ اور غسان یہ چار قبیلے شام میں۔ } ۱؎ [مسند احمد:316/1:حسن] (مسند احمد)
{ فردہ بن مسیک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ میں اپنی قوم میں سے ماننے والوں اور آگے بڑھنے والوں کو لے کر نہ ماننے اور پیچھے ہٹنے والوں سے لڑوں؟ آپ نے فرمایا ہاں۔ جب میں جانے لگا تو آپ نے مجھے بلا کر فرمایا دیکھو پہلے انہیں اسلام کی دعوت دینا نہ مانیں تب جہاد کی تیاری کرنا۔ میں نے کہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ! یہ سبا کس کا نام ہے؟ تو آپ کا جواب تقریباً وہی ہے جو اوپر مذکور ہوا۔ اس میں یہ بھی ہے کہ قبیلہ انمار میں سے بجیلہ اور خثعم بھی ہیں۔ } ۱؎ [سنن ترمذي:3222،قال الشيخ الألباني:۔حسن صحیح] ایک اور مطول روایت میں اس آیت کے شان نزول کے متعلق اسی کے ساتھ یہ بھی ہے کہ فردہ رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا تھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! جاہلیت کے زمانے میں قوم سبا کی عزت تھی مجھے اب ان کے ارتداد کا خوف ہے۔ اگر آپ اجازت دیں تو میں ان سے جہاد کروں۔ آپ نے فرمایا ان کے بارے میں مجھے کوئی حکم نہیں دیا گیا۔ پس یہ آیت اتری۔ لیکن اس میں غرابت ہے اس سے تو یہ پایا جاتا ہے کہ یہ آیت مدنی ہے، حالانکہ سورت مکیہ ہے۔
محمد بن اسحاق سبا کا نسب نامہ اس طرح بیان کرتے ہیں عبد شمس بن العرب بن قحطان اسے سبا اس لیے کہتے ہیں کہ اس نے سب سے پہلے عرب میں دشمن کے قید کرنے کا رواج ڈالا تھا۔ اس وجہ سے اسے رائش بھی کہتے ہیں۔ مال کو ریش اور ریاش بھی عربی میں کہتے ہیں۔ یہ بھی مذکور ہے کہ اس بادشاہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے تشریف لانے سے پہلے ہی آپ کی پیشن گوئی کی تھی۔ کہ ملک کا مالک ہمارے بعد ایک نبی ہو گا جو حرم کی عزت کرے گا۔ اس کے بعد اس کے خلیفہ ہوں گے، جن کے سامنے دنیا کے بادشاہ سرنگوں ہو جائیں گے پھر ہم میں بھی بادشاہت آئے گی اور بنو قحطان کے ایک نبی بھی ہوں گے اس نبی کا نام احمد ہو گا (صلی اللہ علیہ وسلم ) کاش کہ میں بھی ان کی نبوت کے زمانے کو پالیتا تو ہر طرح کی خدمت کو غنیمت سمجھتا۔ لوگو! جب بھی اللہ کے وہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم ظاہر ہوں تو تم پر فرض ہے کہ ان کا ساتھ دو اور ان کے مددگار بن جاؤ۔ اور جو بھی آپ سے ملے اس پر میری جانب سے فرض ہے کہ وہ آپ کی خدمت میں میرا سلام پہنچا دے (اکیل ہمدانی) قحطان کے بارے میں تین قول ہیں۔ ایک یہ کہ وہ ارم بن سام بن نوح کی نسل میں سے ہے۔ دوسرا یہ کہ عابر یعنی ہود علیہ السلام کی نسل میں سے ہے۔ تیسرا یہ کہ اسماعیل بن ابراہیم علیہما السلام کی نسل سے ہے۔ اس سب کو تفصیل کے ساتھ حافظ ابن عبد البر رحمہ اللہ نے اپنی کتاب الابناہ میں ذکر کیا ہے۔ بعض روایتوں میں جو آیا ہے کہ سبا عرب میں سے تھے اس کا مطلب یہ ہے کہ ان لوگوں میں سے جن کی نسل سے عرب ہوئے۔ ان کا نسل ابراہیمی میں سے ہونا مشہور نہیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
صحیح بخاری میں ہے کہ { قبیلہ اسلم جب تیروں سے نشانہ بازی کر رہے تھے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس سے نکلے تو آپ نے فرمایا اے اولاد اسماعیل! تیر اندازی کئے جاؤ تمہارے والد بھی پورے تیر انداز تھے۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:2899] اس سے تو معلوم ہوتا ہے کہ سبا کا سلسلہ نسب خلیل الرحمن علیہ السلام تک پہنچتا ہے۔ اسلم انصار کا ایک قبیلہ تھا اور انصار سارے کے سارے غسان میں سے ہیں اور یہ سب یمنی تھے۔ سبا کی اولاد ہیں۔ یہ لوگ مدینے میں اس وقت آئے جب سیلاب سے ان کا وطن تباہ ہو گیا۔ ایک جماعت یہاں آ کر بسی تھی دوسری شام چلی گئی۔ انہیں غسانی اس لیے کہتے ہیں کہ اسی نام کی پانی والی ایک جگہ پر یہ ٹھہرے تھے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ مشلل کے قریب ہے۔ سیدنا حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ کے شعر سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ ایک پانی والی جگہ یا اس کنویں کا نام غسان تھا۔ یہ جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس کی دس اولادیں تھیں اس سے مراد صلبی اولادیں نہیں کیونکہ بعض بعض دو دو تین تین نسلوں بعد کے بھی ہیں۔ جیسے کہ کتب انساب میں موجود ہے۔ جو شام اور یمن میں جا کر آباد ہوئے یہ بھی سیلاب کے آنے کے بعد کا ذکر ہے۔ بعض وہیں رہے بعض ادھر ادھر چلے گئے۔
دیوار کا قصہ یہ ہے کہ ان کے دونوں جانب پہاڑ تھے۔ جہاں سے نہریں اور چشمے بہہ بہہ کر ان کے شہروں میں آتے تھے اسی طرح نالے اور دریا بھی ادھر ادھر سے آتے تھے ان کے قدیمی بادشاہوں میں سے کسی نے ان دونوں پہاڑوں کے درمیان ایک مضبوط پشتہ بنوا دیا تھا جس دیوار کی وجہ سے پانی ادھر ادھر ہو گیا تھا۔ اور بصورت دریا جاری رہا کرتا تھا جس کے دونوں جانب باغات اور کھیتیاں لگا دی تھیں۔ پانی کی کثرت اور زمین کی عمدگی کی وجہ سے یہ خطہ بہت ہی زرخیز اور ہرا بھرا رہا کرتا تھا۔ یہاں تک کہ قتادہ رحمہ اللہ کا قول ہے کہ کوئی عورت اپنے سر پر جھلی رکھ کر چلتی تھی۔ کچھ دور جانے تک پھلوں سے وہ جھلی بالکل بھر جاتی تھی۔ درختوں سے پھل خودبخود جو جھڑتے تھے وہ اس قدر کثرت سے ہوتے تھے کہ ہاتھ سے توڑنے کی حاجت نہیں پڑتی تھی۔ یہ دیوار مارب میں تھی صنعاء سے تین مراحل پر تھی اور سد مارب کے نام سے مشہور تھی۔ آب و ہوا کی عمدگی، صحت مزاج اور اعتدال عنایت الہٰیہ سے اس طرح تھا کہ ان کے ہاں مکھی، مچھر اور زہریلے جانور بھی نہیں ہوتے تھے۔ یہ اس لیے تھا کہ وہ لوگ اللہ کی توحید کو مانیں اور دل و جان سے اس کی خلوص کے ساتھ عبادت کریں۔ یہ تھی وہ نشانی قدرت جس کا ذکر اس آیت میں ہے کہ دونوں پہاڑوں کے درمیان آباد بستی اور بستی کے دونوں طرف ہرے بھرے پھل دار باغات اور سرسبز کھیتیاں اور ان سے جناب باری نے فرما دیا تھا کہ اپنے رب کی دی ہوئی روزیاں کھاؤ پیو اور اس کے شکر میں لگے رہو۔ لیکن انہوں نے اللہ کی توحید کو، اور اس کی نعمتوں کے شکر کو بھلا دیا اور سورج کی پرستش کرنے لگے۔ جیسے کہ ہدہد نے سلیمان علیہ السلام کو خبر دی تھی کہ «فَمَكَثَ غَيْرَ بَعِيدٍ فَقَالَ أَحَطتُ بِمَا لَمْ تُحِطْ بِهِ وَجِئْتُكَ مِن سَبَإٍ بِنَبَإٍ يَقِينٍ» ۱؎ [27-النمل:22-24] الخ یعنی ’ میں تمہارے پاس سبا کی ایک پختہ خبر لایا ہوں۔ ایک عورت ان کی بادشاہت کر رہی ہے جس کے پاس تمام چیزیں موجود ہیں عظیم الشان تخت سلطنت پر وہ متمکن ہے۔ رانی اور رعایا سب سورج پرست ہیں۔ شیطان نے ان کو گمراہ کر رکھا ہے۔ بے راہ ہو رہے ہیں ‘
مروی ہے کہ بارہ یا تیرہ پیغمبر ان کے پاس آئے تھے۔ بالاخر شامت اعمال رنگ لائی جو دیوار انہوں نے بنا رکھی تھی وہ چوہوں نے اندر سے کھوکھلی کر دی اور بارش کے زمانے میں وہ ٹوٹ گئی پانی کی ریل پیل ہو گئی ان دریاؤں کے، چشموں کے، بارش کے، نالوں کے، سب پانی آ گئے ان کی بستیاں، ان کے محلات، ان کے باغات اور ان کی کھیتیاں سب تباہ و برباد ہو گئیں۔ ہاتھ ملتے رہ گئے کوئی تدبیر کارگر نہ ہوئی۔ پھر تو وہ تباہی آئی کہ اس زمین پر کوئی پھلدار درخت جمتا ہی نہ تھا۔ پیلو، جھاؤ، کیکر، ببول اور ایسے ہی بےمیوہ بدمزہ بےکار درخت اگتے تھے۔ ہاں البتہ کچھ بیریوں کے درخت اگ آئے تھے جو نسبتاً اور درختوں سے کار آمد تھے۔ لیکن وہ بھی بہت زیادہ خار دار اور بہت کم پھل دار تھے۔ یہ تھا ان کے کفر و شرک کی سرکشی اور تکبر کا بدلہ کہ نعمتیں کھو بیٹھے اور زحمتوں میں مبتلا ہو گئے کافروں کو یہی اور اس جیسی ہی سخت سزائیں دی جاتی ہیں۔ ابو خیرہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں گناہوں کا بدلہ یہی ہوتا ہے کہ عبادتوں میں سستی آ جائے روز گار میں تنگی واقع ہو لذتوں میں سختی آ جائے یعنی جہاں کسی راحت کا منہ دیکھا وہاں فوراً کوئی زحمت آ پڑی اور مزہ مٹی ہو گیا۔
1 6 ۔ 1 یعنی انہوں نے پہاڑوں کے درمیان پشتے اور بند تعمیر کرکے پانی کی جو رکاوٹ کی تھی اور اسے زراعت وباغبانی کے کام میں لاتے تھے ہم نے تندو تیز سیلاب کے ذریعے سے ان بندوں اور پشتوں کو توڑ ڈالا اور شاداب اور پھل دار باغوں کو ایسے باغوں سے بدل دیا جن میں صرف قدرتی جھاڑ جھنکاڑ ہوتے ہیں جن میں اول تو کوئی پھل لگتا ہی نہیں اور کسی میں لگتا بھی ہے تو سخت کڑوا کسیلا اور بدمزہ جنہیں کوئی کھا ہی نہیں سکتا البتہ کچھ بیری کے درخت تھے جن میں بھی کانٹے زیادہ اور بیر کم تھے۔ عرم، عرمۃ کی جمع ہے پشتہ یا بند یعنی ایسا زور کا پانی بھیجا جس نے اس بند میں شگاف ڈال دیا اور پانی شہر میں بھی آگیا جس سے ان کے مکانات ڈوب گئے اور باغوں کو بھی اجاڑ کر ویران کردیا یہ بند سد مارب کے نام سے مشہور ہے۔
(آیت 16) ➊ { فَاَعْرَضُوْا:} یعنی انھوں نے انابت و رجوع کے بجائے اعراض اور سرکشی کو اور بندگی اور شکرگزاری کے بجائے کفر اور ناشکری کو اختیار کیا اور پیغمبروں اور نیکی کا حکم کرنے والوں کی نصیحتوں سے منہ موڑ لیا۔ ➋ {فَاَرْسَلْنَا عَلَيْهِمْ سَيْلَ الْعَرِمِ: ” الْعَرِمِ “ ”عَرِمَةٌ“} کی جمع ہے، تہ بہ تہ پتھر، مراد پتھروں کا بنا ہوا بند ہے۔ یعنی ان کی سرکشی اور اعراض کی پاداش میں اللہ تعالیٰ نے ان پر بند کا سیلاب بھیجا۔ زور دار مسلسل بارشوں سے اتنا پانی جمع ہوا کہ اس کے سامنے بند ٹھہر نہ سکا اور ٹوٹ پھوٹ گیا۔ پانی کی شدت اتنی تھی کہ باقی بند بھی ٹوٹتے چلے گئے اور سارا قابل کاشت علاقہ زیر آب آگیا۔ پانی کے ریلے سے باغ اور کھیت ہی تباہ نہیں ہوئے بلکہ زمین بھی کٹاؤ کا شکار ہو گئی اور اس کی زرخیز تہ اتر گئی۔بند اور نہریں ختم ہونے سے آئندہ کے لیے زمین کی سیرابی کا ذریعہ ختم ہو گیا۔ جہاں کبھی پانی کی فراوانی تھی وہاں لوگ پینے کے پانی کو بھی ترسنے لگے۔ سیلاب میں اکثر لوگ اور ان کے مال مویشی غرق ہو گئے، جو بچے وہ جان بچا کر مختلف ملکوں کی طرف نکل گئے اور ایسے بکھرے کہ ان کا بکھرنا عربی زبان کا ایک محاورہ بن گیا، چنانچہ کہا جانے لگا کہ فلاں قوم ”سبا“ کی طرح بکھر گئی۔ ➌ {وَ بَدَّلْنٰهُمْ بِجَنَّتَيْهِمْ جَنَّتَيْنِ …: ” ذَوَاتَيْ “} یہ {”ذَاتٌ“} کا تثنیہ ہے، والے۔ {” اُكُلٍ “} پھل۔ {” خَمْطٍ “} بکھٹا، گلے میں اٹکنے والا، بدمزہ۔ {” اَثْلٍ “} جھاؤ۔ یعنی میلوں پھیلی ہوئی وادیوں کی دونوں جانب بہترین پھلوں والے باغوں کی جگہ ہم نے ان کے لیے ایسے دو رویہ باغ اگا دیے جن میں یا تو بکھٹے، کسیلے اور بد مزہ پھلوں والے درخت تھے، یا جھاؤ کے درخت یا تھوڑی سی بیریوں کا کچھ حصہ۔ بکھٹے اور بدمزہ پھلوں اور جھاؤ پر مشتمل قطعوں کو باغ نہیں کہا جا سکتا، بطور تہکم اور مذاق صرف لفظی طور پر باغ کے مقابلے میں باغ کا لفظ استعمال فرمایا ہے، البتہ بیری میں لذت ہوتی ہے۔ اس کی قلت بیان کرنے کے لیے دو لفظ استعمال فرمائے، ایک {” قَلِيْلٍ “} اور دوسرا اس میں سے بھی کچھ تھوڑا سا حصہ یعنی {” شَيْءٍ مِّنْ سِدْرٍ “} کا لفظ استعمال فرمایا۔
یہ تھا ان کے کفر کا بدلہ جو ہم نے ان کو دیا، اور ناشکرے انسان کے سوا ایسا بدلہ ہم اور کسی کو نہیں دیتے
مولانا محمد جوناگڑھی
ہم نے ان کی ناشکری کا یہ بدلہ انہیں دیا۔ ہم (ایسی) سخت سزا بڑے بڑے ناشکروں ہی کو دیتے ہیں
احمد رضا خان بریلوی
ہم نے انہیں یہ بدلہ دیا ان کی ناشکری کی سزا، اور ہم کسے سزا دیتے ہیں اسی کو جو نا شکرا ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
یہ ہم نے انہیں ان کے ناشکراپن کی پاداش میں سزا دی اور کیا ہم ایسی سزا ناشکرے انسان کے سوا کسی اور کو دیتے ہیں؟
عبدالسلام بن محمد
یہ ہم نے انھیں اس کا بدلہ دیا جو انھوں نے نا شکری کی اور ہم یہ بدلہ نہیں دیتے مگر اسی کو جو بہت ناشکرا ہو۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
قوم سبا کا تفصیلی تذکرہ ٭٭
قوم سبا یمن میں رہتی تھی۔ تبع بھی ان میں سے ہی تھے۔ بلقیس بھی انہی میں سے تھیں۔ یہ بڑی نعمتوں اور راحتوں میں تھے۔ چین آرام سے زندگی گزار رہے تھے۔ اللہ کے رسول ان کے پاس آئے انہیں شکر کرنے کی تلقین کی۔ رب کی وحدانیت کی طرف بلایا اس کی عبادت کا طریقہ سمجھایا۔ کچھ زمانے تک وہ یونہی رہے لیکن پھر جب کہ انہوں نے سرتابی اور روگردانی کی احکام اللہ بےپرواہی سے ٹال دیئے تو ان پر زور کا سیلاب آیا اور تمام ملک باغات اور کھیتیاں وغیرہ تاخت و تاراج ہو گئیں۔ جس کی تفصیل یہ ہے۔ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال ہوا کہ سبا کسی عورت کا نام ہے۔ یا مرد کا یا جگہ کا؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ ایک مرد تھا جس کے دس لڑکے تھے جن میں سے چھ تو یمن میں جا بسے تھے اور چار شام میں۔ مذحج، کندہ، ازد، اشعری، اغار، حمیریہ یہ چھ قبیلے یمن میں۔ نجم، جذام، عاملہ اور غسان یہ چار قبیلے شام میں۔ } ۱؎ [مسند احمد:316/1:حسن] (مسند احمد)
{ فردہ بن مسیک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ میں اپنی قوم میں سے ماننے والوں اور آگے بڑھنے والوں کو لے کر نہ ماننے اور پیچھے ہٹنے والوں سے لڑوں؟ آپ نے فرمایا ہاں۔ جب میں جانے لگا تو آپ نے مجھے بلا کر فرمایا دیکھو پہلے انہیں اسلام کی دعوت دینا نہ مانیں تب جہاد کی تیاری کرنا۔ میں نے کہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ! یہ سبا کس کا نام ہے؟ تو آپ کا جواب تقریباً وہی ہے جو اوپر مذکور ہوا۔ اس میں یہ بھی ہے کہ قبیلہ انمار میں سے بجیلہ اور خثعم بھی ہیں۔ } ۱؎ [سنن ترمذي:3222،قال الشيخ الألباني:۔حسن صحیح] ایک اور مطول روایت میں اس آیت کے شان نزول کے متعلق اسی کے ساتھ یہ بھی ہے کہ فردہ رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا تھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! جاہلیت کے زمانے میں قوم سبا کی عزت تھی مجھے اب ان کے ارتداد کا خوف ہے۔ اگر آپ اجازت دیں تو میں ان سے جہاد کروں۔ آپ نے فرمایا ان کے بارے میں مجھے کوئی حکم نہیں دیا گیا۔ پس یہ آیت اتری۔ لیکن اس میں غرابت ہے اس سے تو یہ پایا جاتا ہے کہ یہ آیت مدنی ہے، حالانکہ سورت مکیہ ہے۔
محمد بن اسحاق سبا کا نسب نامہ اس طرح بیان کرتے ہیں عبد شمس بن العرب بن قحطان اسے سبا اس لیے کہتے ہیں کہ اس نے سب سے پہلے عرب میں دشمن کے قید کرنے کا رواج ڈالا تھا۔ اس وجہ سے اسے رائش بھی کہتے ہیں۔ مال کو ریش اور ریاش بھی عربی میں کہتے ہیں۔ یہ بھی مذکور ہے کہ اس بادشاہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے تشریف لانے سے پہلے ہی آپ کی پیشن گوئی کی تھی۔ کہ ملک کا مالک ہمارے بعد ایک نبی ہو گا جو حرم کی عزت کرے گا۔ اس کے بعد اس کے خلیفہ ہوں گے، جن کے سامنے دنیا کے بادشاہ سرنگوں ہو جائیں گے پھر ہم میں بھی بادشاہت آئے گی اور بنو قحطان کے ایک نبی بھی ہوں گے اس نبی کا نام احمد ہو گا (صلی اللہ علیہ وسلم ) کاش کہ میں بھی ان کی نبوت کے زمانے کو پالیتا تو ہر طرح کی خدمت کو غنیمت سمجھتا۔ لوگو! جب بھی اللہ کے وہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم ظاہر ہوں تو تم پر فرض ہے کہ ان کا ساتھ دو اور ان کے مددگار بن جاؤ۔ اور جو بھی آپ سے ملے اس پر میری جانب سے فرض ہے کہ وہ آپ کی خدمت میں میرا سلام پہنچا دے (اکیل ہمدانی) قحطان کے بارے میں تین قول ہیں۔ ایک یہ کہ وہ ارم بن سام بن نوح کی نسل میں سے ہے۔ دوسرا یہ کہ عابر یعنی ہود علیہ السلام کی نسل میں سے ہے۔ تیسرا یہ کہ اسماعیل بن ابراہیم علیہما السلام کی نسل سے ہے۔ اس سب کو تفصیل کے ساتھ حافظ ابن عبد البر رحمہ اللہ نے اپنی کتاب الابناہ میں ذکر کیا ہے۔ بعض روایتوں میں جو آیا ہے کہ سبا عرب میں سے تھے اس کا مطلب یہ ہے کہ ان لوگوں میں سے جن کی نسل سے عرب ہوئے۔ ان کا نسل ابراہیمی میں سے ہونا مشہور نہیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
صحیح بخاری میں ہے کہ { قبیلہ اسلم جب تیروں سے نشانہ بازی کر رہے تھے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس سے نکلے تو آپ نے فرمایا اے اولاد اسماعیل! تیر اندازی کئے جاؤ تمہارے والد بھی پورے تیر انداز تھے۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:2899] اس سے تو معلوم ہوتا ہے کہ سبا کا سلسلہ نسب خلیل الرحمن علیہ السلام تک پہنچتا ہے۔ اسلم انصار کا ایک قبیلہ تھا اور انصار سارے کے سارے غسان میں سے ہیں اور یہ سب یمنی تھے۔ سبا کی اولاد ہیں۔ یہ لوگ مدینے میں اس وقت آئے جب سیلاب سے ان کا وطن تباہ ہو گیا۔ ایک جماعت یہاں آ کر بسی تھی دوسری شام چلی گئی۔ انہیں غسانی اس لیے کہتے ہیں کہ اسی نام کی پانی والی ایک جگہ پر یہ ٹھہرے تھے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ مشلل کے قریب ہے۔ سیدنا حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ کے شعر سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ ایک پانی والی جگہ یا اس کنویں کا نام غسان تھا۔ یہ جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس کی دس اولادیں تھیں اس سے مراد صلبی اولادیں نہیں کیونکہ بعض بعض دو دو تین تین نسلوں بعد کے بھی ہیں۔ جیسے کہ کتب انساب میں موجود ہے۔ جو شام اور یمن میں جا کر آباد ہوئے یہ بھی سیلاب کے آنے کے بعد کا ذکر ہے۔ بعض وہیں رہے بعض ادھر ادھر چلے گئے۔
دیوار کا قصہ یہ ہے کہ ان کے دونوں جانب پہاڑ تھے۔ جہاں سے نہریں اور چشمے بہہ بہہ کر ان کے شہروں میں آتے تھے اسی طرح نالے اور دریا بھی ادھر ادھر سے آتے تھے ان کے قدیمی بادشاہوں میں سے کسی نے ان دونوں پہاڑوں کے درمیان ایک مضبوط پشتہ بنوا دیا تھا جس دیوار کی وجہ سے پانی ادھر ادھر ہو گیا تھا۔ اور بصورت دریا جاری رہا کرتا تھا جس کے دونوں جانب باغات اور کھیتیاں لگا دی تھیں۔ پانی کی کثرت اور زمین کی عمدگی کی وجہ سے یہ خطہ بہت ہی زرخیز اور ہرا بھرا رہا کرتا تھا۔ یہاں تک کہ قتادہ رحمہ اللہ کا قول ہے کہ کوئی عورت اپنے سر پر جھلی رکھ کر چلتی تھی۔ کچھ دور جانے تک پھلوں سے وہ جھلی بالکل بھر جاتی تھی۔ درختوں سے پھل خودبخود جو جھڑتے تھے وہ اس قدر کثرت سے ہوتے تھے کہ ہاتھ سے توڑنے کی حاجت نہیں پڑتی تھی۔ یہ دیوار مارب میں تھی صنعاء سے تین مراحل پر تھی اور سد مارب کے نام سے مشہور تھی۔ آب و ہوا کی عمدگی، صحت مزاج اور اعتدال عنایت الہٰیہ سے اس طرح تھا کہ ان کے ہاں مکھی، مچھر اور زہریلے جانور بھی نہیں ہوتے تھے۔ یہ اس لیے تھا کہ وہ لوگ اللہ کی توحید کو مانیں اور دل و جان سے اس کی خلوص کے ساتھ عبادت کریں۔ یہ تھی وہ نشانی قدرت جس کا ذکر اس آیت میں ہے کہ دونوں پہاڑوں کے درمیان آباد بستی اور بستی کے دونوں طرف ہرے بھرے پھل دار باغات اور سرسبز کھیتیاں اور ان سے جناب باری نے فرما دیا تھا کہ اپنے رب کی دی ہوئی روزیاں کھاؤ پیو اور اس کے شکر میں لگے رہو۔ لیکن انہوں نے اللہ کی توحید کو، اور اس کی نعمتوں کے شکر کو بھلا دیا اور سورج کی پرستش کرنے لگے۔ جیسے کہ ہدہد نے سلیمان علیہ السلام کو خبر دی تھی کہ «فَمَكَثَ غَيْرَ بَعِيدٍ فَقَالَ أَحَطتُ بِمَا لَمْ تُحِطْ بِهِ وَجِئْتُكَ مِن سَبَإٍ بِنَبَإٍ يَقِينٍ» ۱؎ [27-النمل:22-24] الخ یعنی ’ میں تمہارے پاس سبا کی ایک پختہ خبر لایا ہوں۔ ایک عورت ان کی بادشاہت کر رہی ہے جس کے پاس تمام چیزیں موجود ہیں عظیم الشان تخت سلطنت پر وہ متمکن ہے۔ رانی اور رعایا سب سورج پرست ہیں۔ شیطان نے ان کو گمراہ کر رکھا ہے۔ بے راہ ہو رہے ہیں ‘
مروی ہے کہ بارہ یا تیرہ پیغمبر ان کے پاس آئے تھے۔ بالاخر شامت اعمال رنگ لائی جو دیوار انہوں نے بنا رکھی تھی وہ چوہوں نے اندر سے کھوکھلی کر دی اور بارش کے زمانے میں وہ ٹوٹ گئی پانی کی ریل پیل ہو گئی ان دریاؤں کے، چشموں کے، بارش کے، نالوں کے، سب پانی آ گئے ان کی بستیاں، ان کے محلات، ان کے باغات اور ان کی کھیتیاں سب تباہ و برباد ہو گئیں۔ ہاتھ ملتے رہ گئے کوئی تدبیر کارگر نہ ہوئی۔ پھر تو وہ تباہی آئی کہ اس زمین پر کوئی پھلدار درخت جمتا ہی نہ تھا۔ پیلو، جھاؤ، کیکر، ببول اور ایسے ہی بےمیوہ بدمزہ بےکار درخت اگتے تھے۔ ہاں البتہ کچھ بیریوں کے درخت اگ آئے تھے جو نسبتاً اور درختوں سے کار آمد تھے۔ لیکن وہ بھی بہت زیادہ خار دار اور بہت کم پھل دار تھے۔ یہ تھا ان کے کفر و شرک کی سرکشی اور تکبر کا بدلہ کہ نعمتیں کھو بیٹھے اور زحمتوں میں مبتلا ہو گئے کافروں کو یہی اور اس جیسی ہی سخت سزائیں دی جاتی ہیں۔ ابو خیرہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں گناہوں کا بدلہ یہی ہوتا ہے کہ عبادتوں میں سستی آ جائے روز گار میں تنگی واقع ہو لذتوں میں سختی آ جائے یعنی جہاں کسی راحت کا منہ دیکھا وہاں فوراً کوئی زحمت آ پڑی اور مزہ مٹی ہو گیا۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 17) {ذٰلِكَ جَزَيْنٰهُمْ بِمَا كَفَرُوْا …: ” الْكَفُوْرَ “} مبالغے کا صیغہ ہے، بہت کفر کرنے والا، بہت ناشکرا۔ یعنی ہم نے انھیں اس کا بدلا دیا جو انھوں نے ناشکری کی اور ایسی سخت سزا ہم اسی کو دیتے ہیں جو بہت ناشکرا ہو، یعنی کافر و مشرک ہو، کیونکہ بڑی ناشکری اور بڑا ظلم شرک ہی ہے۔ تھوڑی بہت ناشکری والے سے ہمارا معاملہ درگزر کا ہوتا ہے۔ {” وَ هَلْ نُجٰزِيْۤ اِلَّا الْكَفُوْرَ “} کے الفاظ سے معلوم ہو رہا ہے کہ یہاں کچھ الفاظ جو آگے قوسین میں ہیں، محذوف ہیں، یعنی ہم نے انھیں یہ جزا اس کے بدلے میں دی جو انھوں نے ناشکری کی (اور ناشکری میں حد سے بڑھ گئے) اور ہم ایسے بڑے ناشکرے ہی کو یہ سخت بدلا دیا کرتے ہیں۔
اور ہم نے اُن کے اور اُن بستیوں کے درمیان، جن کو ہم نے برکت عطا کی تھی، نمایاں بستیاں بسا دی تھیں اور اُن میں سفر کی مسافتیں ایک اندازے پر رکھ دی تھیں چلو پھرو اِن راستوں میں رات دن پورے امن کے ساتھ
مولانا محمد جوناگڑھی
اور ہم نے ان کے اور ان بستیوں کے درمیان جن میں ہم نے برکت دے رکھی تھی چند بستیاں اور (آباد) رکھی تھیں جو برسرراه ﻇاہر تھیں، اور ان میں چلنے کی منزلیں مقرر کردی تھیں ان میں راتوں اور دنوں کو بہ امن وامان چلتے پھرتے رہو
احمد رضا خان بریلوی
اور ہم نے کیے تھے ان میں اور ان شہروں میں ہم نے برکت رکھی سر راہ کتنے شہر اور انہیں منزل کے اندازے پر رکھا ان میں چلو راتوں اور دنوں امن و امان سے
علامہ محمد حسین نجفی
اور ہم نے ان کے اور ان کی بستیوں کے درمیان جن کو ہم نے برکت دی تھی (سرِ راہ) کئی اور نمایاں بستیاں بسا دیں اور ہم نے ان میں سفر کی منزلیں ایک اندازے پر مقرر کر دیں کہ (جب چاہو) راتوں میں، دنوں میں امن و عافیت سے چلو پھرو۔
عبدالسلام بن محمد
اور ہم نے ان کے درمیان اور ان بستیوں کے درمیان جن میں ہم نے برکت رکھی، نظر آنے والی بستیاں بنا دیں اور ان میں چلنے کا اندازہ مقرر کر دیا، راتوں اور دنوں کو بے خوف ہو کر ان میں چلو۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
قوم سبا پر اللہ کی نعمتیں ٭٭
ان پر جو نعمتیں تھیں ان کا ذکر ہو رہا ہے کہ قریب قریب آبادیاں تھیں۔ کسی مسافر کو اپنے سفر میں توشہ یا پانی ساتھ لے جانے کی ضرورت نہ تھی۔ ہر ہر منزل پر پختہ مزے دار تازے میوے خوشگوار میٹھا پانی موجود ہر رات کو کسی بستی میں گزار لیں اور راحت و آرام امن و امان سے جائیں آئیں کہتے ہیں کہ یہ بستیاں صنعاء کے قرب و جوار میں تھیں، باعد کی دوسری قرأت «بعدہ» ۔
اس راحت و آرام سے وہ پھول گئے اور جس طرح بنو اسرائیل نے من و سلویٰ کے بدلے لہسن، پیاز وغیرہ طلب کیا تھا انہوں نے بھی دور دراز کے سفر طے کرنے کی چاہت کی تاکہ درمیان میں جنگل بھی آئیں غیر آباد جگہیں بھی آئیں کھانے پینے کا لطف بھی آئے۔ قوم موسیٰ علیہ السلام کی اس طلب نے ان پر ذلت و مسکنت ڈالی اسی طرح انہیں بھی فراخی روزی کے بعد ہلاکت ملی۔ بھوک اور خوف میں پڑے۔ اطمینان اور امن غارت ہوا۔ انہوں نے کفر کر کے خود اپنا بگاڑا۔ اب ان کی کہانیاں رہ گئیں۔ لوگوں میں ان کے افسانے رہ گئے۔ تتر بتر ہو گئے۔ یہاں تک کہ جو قوم تین تیرہ ہو جائے تو عرب میں انہیں سبائیوں کی مثل سناتے ہیں۔ عکرمہ رحمہ اللہ ان کا قصہ بیان فرماتے ہوئے کہتے ہیں کہ ان میں ایک کاہنہ اور ایک کاہن تھا جن کے پاس جنات ادھر ادھر کی خبریں لایا کرتے تھے اس کاہن کو کہیں پتہ چل گیا کہ اس بستی کی ویرانی کا زمانہ قریب آ گیا ہے اور یہاں کے لوگ ہلاک ہونے والے ہیں۔ تھا یہ بڑا مالدار خصوصاً جائیداد بہت ساری تھی اس نے سوچا کہ مجھے کیا کرنا چاہیے ان حویلیوں اور مکانات اور باغات کی نسبت کیا انتظام کرنا چاہیے؟
آخر ایک بات اس کی سمجھ میں آ گئی اس کے سسرال کے لوگ بہت سارے تھے اور وہ قبیلہ بھی جری ہونے کے علاوہ مالدار تھا۔ اس نے اپنے لڑکے کو بلایا اور اس سے کہا سنو! کل لوگ میرے پاس جمع ہو جائیں گے میں تجھے کسی کام کو کہوں گا تو انکار کر دینا میں تجھے برا بھلا کہوں گا تو بھی مجھے میری گالیوں کا جواب دینا میں اٹھ کر تجھے تھپڑ ماروں گا تو بھی اس کے جواب میں مجھے تھپڑ مارنا اس نے کہا ابا جی مجھ سے یہ کیسے ہو سکے گا؟ کاہن نے کہا تم نہیں سمجھتے ایک ایسا ہی اہم معاملہ درپیش ہے اور تمہیں میرا حکم مان لینا چاہئے۔ اس نے اقرار کیا دوسرے دن جب کہ اس کے پاس اس کے ملنے جلنے والے سب جمع ہو گئے اس نے اپنے اس لڑکے سے کسی کام کو کہا اس نے صاف انکار کر دیا اس نے اسے گالیاں دیں تو اس نے بھی سامنے گالیاں دیں۔ یہ غصے میں اٹھا اور اسے مارا لڑکے نے بھی پلٹ کر اسے پیٹا یہ اور غضبناک ہوا اور کہنے لگا چھری لاؤ تو میں اسے ذبح کروں گا تمام لوگ گھبرا گئے ہر چند سمجھایا لیکن یہ یہی کہتا رہا کہ میں تو اسے ذبح کروں گا لوگ دوڑے بھاگے اور لڑکے کے ننھیال والوں کو خبر کی وہ سب آ گئے اول تو منت سماجت کی منوانا چاہا لیکن یہ کب مانتا تھا انہوں نے کہا آپ اسے کوئی اور سزا دیجئے اس کے بدلے ہمیں جو جی چاہے سزا دیجئے لیکن اس نے کہا میں تو اسے لٹا کر باقاعدہ اپنے ہاتھوں سے ذبح کروں گا انہوں نے کہا ایسا آپ نہیں کر سکتے اس سے پہلے ہم آپ کو مار ڈالیں گے۔
اس نے کہا اچھا جب یہاں تک بات پہنچ گئی ہے تو میں ایسے شہر میں نہیں رہنا چاہتا جہاں میرے اور میری اولاد کے درمیان اور لوگ پڑیں مجھ سے میرے مکانات جائیدادیں اور زمینیں خرید لو میں یہاں سے کہیں اور چلا جاتا ہوں چنانچہ اس نے سب کچھ بیچ ڈالا اور قیمت نقد وصول کر لی جب اس طرف سے اطمینان ہو گیا تو اس نے اپنی قوم کو خبر دی سنو عذاب اللہ آ رہا ہے زوال کا وقت قریب پہنچ چکا ہے اب تم میں سے جو محنت کر کے لمبا سفر کر کے نئے گھروں کا آرزو مند ہو تو وہ عمان چلا جائے اور جو کھانے پینے کا شوقین ہو وہ بصرہ چلا جائے اور جو مزیدار کھجوریں باغات میں بیٹھ کر آزادی سے کھانا چاہتا ہو وہ مدینے چلا جائے۔ قوم کو اس کی باتوں کا یقین تھا جسے جو جگہ اور جو چیز پسند تھی وہ اسی طرف منہ اٹھائے بھاگا۔ بعض عمان کی طرف، بعض بصرہ کی طرف، بعض مدینے کی طرف۔ اس طرف تین قبیلے چلے تھے۔ اوس اور خزرج اور بنو عثمان جب یہ لوگ بطن مر میں پہنچے تو بنو عثمان نے کہا ہمیں یہ جگہ بہت پسند ہے اب ہم آگے نہیں جائیں گے۔ چنانچہ یہ یہیں بس گئے اور اسی وجہ سے انہیں خزاعہ کہا گیا۔ کیونکہ وہ اپنے ساتھیوں سے پیچھے رہ گئے اور اوس و خزرج برابر مدینے پہنچے اور یہاں آ کر قیام کیا۔
یہ اثر بھی عجیب و غریب ہے۔ جس کاہن کا اس میں ذکر ہے اس کا نام عمرو بن عامر ہے یہ یمن کا ایک سردار تھا اور سبا کے بڑے لوگوں میں سے تھا اور ان کا کاہن تھا۔ سیرۃ ابن اسحاق میں ہے کہ سب سے پہلے یہی یمن سے نکلا تھا اس لیے کہ سد مارب کو کھوکھلا کرتے ہوئے اس نے چوہوں کو دیکھ لیا تھا اور سمجھ لیا تھا کہ اب یمن کی خیر نہیں۔ یہ دیوار گری اور سیلاب سب تہ و بالا کرے گا تو اس نے اپنے سب سے چھوٹے لڑکے کو وہ مکر سکھایا جس کا ذکر اوپر گزرا اس وقت اس نے غصے میں کہا کہ میں ایسے شہر میں رہنا پسند نہیں کرتا میں اپنی جائیدادیں اور زمینیں اسی وقت بیچتا ہوں لوگوں نے کہا عمرو کے اس غصے کو غنیمت جانو چنانچہ سستا مہنگا سب کچھ بیچ ڈالا اور فارغ ہو کر چل پڑا قبیلہ اسد بھی اس کے ساتھ ہو لیا راستے میں عکہ ان سے لڑے برابر برابر کی لڑائی رہی۔ جس کا ذکر عباس بن مرداس اسلمی کے شعروں میں بھی ہے۔ پھر یہ یہاں سے چل کر مختلف شہروں میں پہنچ گئے۔ آل جفتہ بن عمرو بن عامر شام میں گئے اوس و خزرج مدینے میں خزاعہ مرمیں، از مراۃ سراۃ میں۔ ازد عمان عمان میں یہاں سیلاب آیا جس نے مارب کے بند کو توڑ دیا۔ سدی نے اس قصے میں بیان کیا ہے کہ اس نے اپنے مقابلے کے لیے اپنے بیٹے کو نہیں بلکہ اپنے بھتیجے کو کہا تھا۔ بعض اہل علم کا بیان ہے کہ اس کی عورت جس کا نام طریفہ تھا اس نے اپنی کہانت سے یہ بات معلوم کر کے سب کو بتائی تھی۔ اور روایت میں ہے کہ عمان میں غسانی اور ازد بھی ہلاک کر دیئے گئے۔ میٹھے اور ٹھنڈے پانی کی ریل پیل پھلوں اور کھیتوں کی بےشمار روزی کے باوجود سیل عرم سے یہ حالت ہو گئی کہ ایک ایک لقمے کو اور ایک بوند پانی کو ترس گئے یہ پکڑ اور عذاب یہ تنگی اور سزا جو انہیں پہنچی اس سے ہر صابر و شاکر عبرت حاصل کر سکتا ہے کہ اللہ کی نافرمانیاں کس طرح انسان کو گھیر لیتی ہیں عافیت کو ہٹا کر آفت کو لے آتی ہیں۔ مصیبتوں پر صبر، نعمتوں پر شکر کرنے والے اس پر دلائل قدرت پائیں گے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { اللہ تعالیٰ نے مومن کے لیے تعجب ناک فیصلہ کیا ہے اگر اسے راحت ملے اور یہ شکر کرے تو اجر پائے۔ اور اگر اسے مصیبت پہنچے اور صبر کرے تو اجر پائے۔ غرض مومن کو ہر حالت پر اجر و ثواب ملتا ہے اس کا ہر کام نیک ہے۔ یہاں تک کہ محبت کے ساتھ جو لقمہ اٹھا کر یہ اپنی بیوی کے منہ میں دے اس پر بھی اسے ثواب ملتا ہے۔ } ۱؎ [مسند احمد:177/1:حسن] (مسند احمد)
بخاری و مسلم میں ہے آپ فرماتے ہیں { تعجب ہے کہ مومن کے لیے اللہ تعالیٰ کی ہر قضا بھلائی کے لیے ہوتی ہے اگر اسے راحت اور خوشی پہنچتی ہے تو شکر کر کے بھلائی حاصل کرتا ہے اور اگر برائی اور غم پہنچتا ہے تو یہ صبر کرتا ہے اور بدلہ حاصل کرتا ہے۔ یہ نعمت تو صرف مومن کو ہی حاصل ہے کہ جس کی ہر حالت بہتری اور بھلائی والی ہے۔ } ۱؎ [صحیح مسلم:2999] مطرف رحمہ اللہ فرماتے ہیں صبر و شکر کرنے والا بندہ کتنا ہی اچھا ہے کہ جب نعمت اسے ملے تو شکر کرے اور جب زحمت پہنچے تو صبر کرے۔
18۔ 1 برکت والی بستیوں سے مراد شام کی بستیاں ہیں یعنی ہم نے ملک سبا (یمن) اور شام کے درمیاں لب سڑک بستیاں آباد کی ہوئی تھیں بعض نے ظاھرۃ کے معنی متواصلۃ ایک دوسرے سے پیوست اور مسلسل کے لیے ہیں مفسریں نے ان بستیوں کی تعداد 4 ہزار سات سو بتلائی ہے یہ ان کی تجارتی شاہراہ تھی جو مسلسل آباد تھی جس کی وجہ سے ایک تو ان کے کھانے پینے اور آرام کرنے کے لیے زاد راہ ساتھ لینے کی ضرورت نہیں پڑتی تھی دوسرے ویرانی کی وجہ سے لوٹ مار اور قتل و غارت کا جو اندیشہ ہوتا ہے وہ نہیں ہوتا تھا 18۔ 2 یعنی ایک آبادی سے دوسری آبادی کا فاصلہ متعین اور معلوم تھا، اور اس کے حساب سے وہ بہ آسانی اپنا سفر طے کرلیتے تھے۔ مثلا صبح سفر کا آغاز کرتے تو دوپہر تک کسی آبادی اور قریے تک پہنچ جاتے۔ وہاں کھا پی کر قیلولہ کرتے اور پھر سر گرم سفر ہوجاتے تو رات کو کسی آبادی میں جا پہنچتے۔ 18۔ 3 یہ ہر قسم کے خطرے سے محفوظ اور زاد راہ کی مشقت سے بےنیاز ہونے کا بیان ہے کہ رات اور دن کی جس گھڑی میں تم سفر کرنا چاہو کرو نہ جان مال کا کوئی اندیشہ نہ راستے کے لیے سامان سفر ساتھ لینے کی ضرورت۔
(آیت 18) ➊ {وَ جَعَلْنَا بَيْنَهُمْ وَ بَيْنَ الْقُرَى الَّتِيْ بٰرَكْنَا فِيْهَا …:} برکت والی بستیوں سے مراد شام کا علاقہ ہے۔ قرآن مجیدمیں اکثر برکت والی زمین شام کی سر زمین کو کہا گیا ہے۔ دیکھیے سورۂ اعراف (۱۳۷)، بنی اسرائیل (۱) اور سورۂ انبیاء (۷۱ اور ۸۱) یعنی یمن سے شام تک سڑک کے کنارے مسلسل بستیاں تھیں، جو پہاڑیوں یا اونچی جگہوں پر بنائی گئی تھیں اور ایک دوسری سے اتنی قریب تھیں کہ ایک بستی سے دوسری بستی نظر آتی تھی اور ایسے اندازے اور تناسب سے آباد تھیں کہ مسافر کو ہر منزل پر کھانا، پانی اور آرام کا موقع ملتا تھا۔ آبادیوں کے قریب ہونے اور نظر آتے رہنے کی وجہ سے نہ مسافروں کا دل گھبراتا تھا، نہ چوروں ڈاکوؤں کا خوف تھا اور نہ زاد راہ ساتھ لینے کی مشقت تھی۔ ➋ { سِيْرُوْا فِيْهَا لَيَالِيَ وَ اَيَّامًا اٰمِنِيْنَ:} یعنی رات دن کی جس گھڑی میں سفر کرنا چاہو کرو، نہ جان و مال کا کوئی اندیشہ، نہ راستے کے لیے سامان سفر ساتھ لینے کی کوئی ضرورت۔
مگر انہوں نے کہا "اے ہمارے رب، ہمارے سفر کی مسافتیں لمبی کر دے" انہوں نے اپنے اوپر آپ ظلم کیا آخرکار ہم نے انہیں افسانہ بنا کر رکھ دیا اور انہیں بالکل تتربتر کر ڈالا یقیناً اس میں نشانیاں ہیں ہر اُس شخص کے لیے جو بڑا صابر و شاکر ہو
مولانا محمد جوناگڑھی
لیکن انہوں نے پھر کہا کہ اے ہمارے پروردگار! ہمارے سفر دور دراز کردے چونکہ خود انہوں نے اپنے ہاتھوں اپنا برا کیا اس لئے ہم نے انہیں (گزشتہ) فسانوں کی صورت میں کردیا اور ان کے ٹکڑے ٹکڑے اڑا دیئے۔ بلاشبہ ہر ایک صبروشکر کرنے والے کے لئے اس (ماجرے) میں بہت سی عبرتیں ہیں
احمد رضا خان بریلوی
تو بولے اے ہمارے رب! ہمیں سفر میں دوری ڈال اور انہوں نے خود اپنا ہی نقصان کیا تو ہم نے انہیں کہانیاں کردیا اور انہیں پوری پریشانی سے پراگندہ کردیا بیشک اس میں ضروری نشانیاں ہیں ہر بڑے صبر والے ہر بڑے شکر والے کے لیے
علامہ محمد حسین نجفی
(مگر) انہوں نے کہا اے ہمارے پروردگار ہمارے سفروں (ان کی مسافتوں) کو دور دراز کر دے اور (یہ کہہ کر) انہوں نے اپنے اوپر ظلم کیا سو ہم نے انہیں (برباد) کرکے افسانہ بنا دیا اور بالکل ٹکڑے ٹکڑے کر دیا بے شک اس میں نشانیاں ہیں ہر بہت صبر کرنے (اور) بہت شکر کرنے والے کیلئے۔
عبدالسلام بن محمد
تو انھوں نے کہا اے ہمارے رب! ہمارے سفروں کے درمیان دوری پیدا کر دے، اور انھوں نے اپنی جانوںپر ظلم کیا تو ہم نے انھیں کہانیا ں بنا دیا اور انھیں ٹکڑے ٹکڑے کر دیا، ہر طرح ٹکڑے ٹکڑے کرنا، بلاشبہ اس میں ہر بہت صبر کرنے والے، بہت شکرکرنے والے کے لیے یقینا بہت سی نشانیاں ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
قوم سبا پر اللہ کی نعمتیں ٭٭
ان پر جو نعمتیں تھیں ان کا ذکر ہو رہا ہے کہ قریب قریب آبادیاں تھیں۔ کسی مسافر کو اپنے سفر میں توشہ یا پانی ساتھ لے جانے کی ضرورت نہ تھی۔ ہر ہر منزل پر پختہ مزے دار تازے میوے خوشگوار میٹھا پانی موجود ہر رات کو کسی بستی میں گزار لیں اور راحت و آرام امن و امان سے جائیں آئیں کہتے ہیں کہ یہ بستیاں صنعاء کے قرب و جوار میں تھیں، باعد کی دوسری قرأت «بعدہ» ۔
اس راحت و آرام سے وہ پھول گئے اور جس طرح بنو اسرائیل نے من و سلویٰ کے بدلے لہسن، پیاز وغیرہ طلب کیا تھا انہوں نے بھی دور دراز کے سفر طے کرنے کی چاہت کی تاکہ درمیان میں جنگل بھی آئیں غیر آباد جگہیں بھی آئیں کھانے پینے کا لطف بھی آئے۔ قوم موسیٰ علیہ السلام کی اس طلب نے ان پر ذلت و مسکنت ڈالی اسی طرح انہیں بھی فراخی روزی کے بعد ہلاکت ملی۔ بھوک اور خوف میں پڑے۔ اطمینان اور امن غارت ہوا۔ انہوں نے کفر کر کے خود اپنا بگاڑا۔ اب ان کی کہانیاں رہ گئیں۔ لوگوں میں ان کے افسانے رہ گئے۔ تتر بتر ہو گئے۔ یہاں تک کہ جو قوم تین تیرہ ہو جائے تو عرب میں انہیں سبائیوں کی مثل سناتے ہیں۔ عکرمہ رحمہ اللہ ان کا قصہ بیان فرماتے ہوئے کہتے ہیں کہ ان میں ایک کاہنہ اور ایک کاہن تھا جن کے پاس جنات ادھر ادھر کی خبریں لایا کرتے تھے اس کاہن کو کہیں پتہ چل گیا کہ اس بستی کی ویرانی کا زمانہ قریب آ گیا ہے اور یہاں کے لوگ ہلاک ہونے والے ہیں۔ تھا یہ بڑا مالدار خصوصاً جائیداد بہت ساری تھی اس نے سوچا کہ مجھے کیا کرنا چاہیے ان حویلیوں اور مکانات اور باغات کی نسبت کیا انتظام کرنا چاہیے؟
آخر ایک بات اس کی سمجھ میں آ گئی اس کے سسرال کے لوگ بہت سارے تھے اور وہ قبیلہ بھی جری ہونے کے علاوہ مالدار تھا۔ اس نے اپنے لڑکے کو بلایا اور اس سے کہا سنو! کل لوگ میرے پاس جمع ہو جائیں گے میں تجھے کسی کام کو کہوں گا تو انکار کر دینا میں تجھے برا بھلا کہوں گا تو بھی مجھے میری گالیوں کا جواب دینا میں اٹھ کر تجھے تھپڑ ماروں گا تو بھی اس کے جواب میں مجھے تھپڑ مارنا اس نے کہا ابا جی مجھ سے یہ کیسے ہو سکے گا؟ کاہن نے کہا تم نہیں سمجھتے ایک ایسا ہی اہم معاملہ درپیش ہے اور تمہیں میرا حکم مان لینا چاہئے۔ اس نے اقرار کیا دوسرے دن جب کہ اس کے پاس اس کے ملنے جلنے والے سب جمع ہو گئے اس نے اپنے اس لڑکے سے کسی کام کو کہا اس نے صاف انکار کر دیا اس نے اسے گالیاں دیں تو اس نے بھی سامنے گالیاں دیں۔ یہ غصے میں اٹھا اور اسے مارا لڑکے نے بھی پلٹ کر اسے پیٹا یہ اور غضبناک ہوا اور کہنے لگا چھری لاؤ تو میں اسے ذبح کروں گا تمام لوگ گھبرا گئے ہر چند سمجھایا لیکن یہ یہی کہتا رہا کہ میں تو اسے ذبح کروں گا لوگ دوڑے بھاگے اور لڑکے کے ننھیال والوں کو خبر کی وہ سب آ گئے اول تو منت سماجت کی منوانا چاہا لیکن یہ کب مانتا تھا انہوں نے کہا آپ اسے کوئی اور سزا دیجئے اس کے بدلے ہمیں جو جی چاہے سزا دیجئے لیکن اس نے کہا میں تو اسے لٹا کر باقاعدہ اپنے ہاتھوں سے ذبح کروں گا انہوں نے کہا ایسا آپ نہیں کر سکتے اس سے پہلے ہم آپ کو مار ڈالیں گے۔
اس نے کہا اچھا جب یہاں تک بات پہنچ گئی ہے تو میں ایسے شہر میں نہیں رہنا چاہتا جہاں میرے اور میری اولاد کے درمیان اور لوگ پڑیں مجھ سے میرے مکانات جائیدادیں اور زمینیں خرید لو میں یہاں سے کہیں اور چلا جاتا ہوں چنانچہ اس نے سب کچھ بیچ ڈالا اور قیمت نقد وصول کر لی جب اس طرف سے اطمینان ہو گیا تو اس نے اپنی قوم کو خبر دی سنو عذاب اللہ آ رہا ہے زوال کا وقت قریب پہنچ چکا ہے اب تم میں سے جو محنت کر کے لمبا سفر کر کے نئے گھروں کا آرزو مند ہو تو وہ عمان چلا جائے اور جو کھانے پینے کا شوقین ہو وہ بصرہ چلا جائے اور جو مزیدار کھجوریں باغات میں بیٹھ کر آزادی سے کھانا چاہتا ہو وہ مدینے چلا جائے۔ قوم کو اس کی باتوں کا یقین تھا جسے جو جگہ اور جو چیز پسند تھی وہ اسی طرف منہ اٹھائے بھاگا۔ بعض عمان کی طرف، بعض بصرہ کی طرف، بعض مدینے کی طرف۔ اس طرف تین قبیلے چلے تھے۔ اوس اور خزرج اور بنو عثمان جب یہ لوگ بطن مر میں پہنچے تو بنو عثمان نے کہا ہمیں یہ جگہ بہت پسند ہے اب ہم آگے نہیں جائیں گے۔ چنانچہ یہ یہیں بس گئے اور اسی وجہ سے انہیں خزاعہ کہا گیا۔ کیونکہ وہ اپنے ساتھیوں سے پیچھے رہ گئے اور اوس و خزرج برابر مدینے پہنچے اور یہاں آ کر قیام کیا۔
یہ اثر بھی عجیب و غریب ہے۔ جس کاہن کا اس میں ذکر ہے اس کا نام عمرو بن عامر ہے یہ یمن کا ایک سردار تھا اور سبا کے بڑے لوگوں میں سے تھا اور ان کا کاہن تھا۔ سیرۃ ابن اسحاق میں ہے کہ سب سے پہلے یہی یمن سے نکلا تھا اس لیے کہ سد مارب کو کھوکھلا کرتے ہوئے اس نے چوہوں کو دیکھ لیا تھا اور سمجھ لیا تھا کہ اب یمن کی خیر نہیں۔ یہ دیوار گری اور سیلاب سب تہ و بالا کرے گا تو اس نے اپنے سب سے چھوٹے لڑکے کو وہ مکر سکھایا جس کا ذکر اوپر گزرا اس وقت اس نے غصے میں کہا کہ میں ایسے شہر میں رہنا پسند نہیں کرتا میں اپنی جائیدادیں اور زمینیں اسی وقت بیچتا ہوں لوگوں نے کہا عمرو کے اس غصے کو غنیمت جانو چنانچہ سستا مہنگا سب کچھ بیچ ڈالا اور فارغ ہو کر چل پڑا قبیلہ اسد بھی اس کے ساتھ ہو لیا راستے میں عکہ ان سے لڑے برابر برابر کی لڑائی رہی۔ جس کا ذکر عباس بن مرداس اسلمی کے شعروں میں بھی ہے۔ پھر یہ یہاں سے چل کر مختلف شہروں میں پہنچ گئے۔ آل جفتہ بن عمرو بن عامر شام میں گئے اوس و خزرج مدینے میں خزاعہ مرمیں، از مراۃ سراۃ میں۔ ازد عمان عمان میں یہاں سیلاب آیا جس نے مارب کے بند کو توڑ دیا۔ سدی نے اس قصے میں بیان کیا ہے کہ اس نے اپنے مقابلے کے لیے اپنے بیٹے کو نہیں بلکہ اپنے بھتیجے کو کہا تھا۔ بعض اہل علم کا بیان ہے کہ اس کی عورت جس کا نام طریفہ تھا اس نے اپنی کہانت سے یہ بات معلوم کر کے سب کو بتائی تھی۔ اور روایت میں ہے کہ عمان میں غسانی اور ازد بھی ہلاک کر دیئے گئے۔ میٹھے اور ٹھنڈے پانی کی ریل پیل پھلوں اور کھیتوں کی بےشمار روزی کے باوجود سیل عرم سے یہ حالت ہو گئی کہ ایک ایک لقمے کو اور ایک بوند پانی کو ترس گئے یہ پکڑ اور عذاب یہ تنگی اور سزا جو انہیں پہنچی اس سے ہر صابر و شاکر عبرت حاصل کر سکتا ہے کہ اللہ کی نافرمانیاں کس طرح انسان کو گھیر لیتی ہیں عافیت کو ہٹا کر آفت کو لے آتی ہیں۔ مصیبتوں پر صبر، نعمتوں پر شکر کرنے والے اس پر دلائل قدرت پائیں گے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { اللہ تعالیٰ نے مومن کے لیے تعجب ناک فیصلہ کیا ہے اگر اسے راحت ملے اور یہ شکر کرے تو اجر پائے۔ اور اگر اسے مصیبت پہنچے اور صبر کرے تو اجر پائے۔ غرض مومن کو ہر حالت پر اجر و ثواب ملتا ہے اس کا ہر کام نیک ہے۔ یہاں تک کہ محبت کے ساتھ جو لقمہ اٹھا کر یہ اپنی بیوی کے منہ میں دے اس پر بھی اسے ثواب ملتا ہے۔ } ۱؎ [مسند احمد:177/1:حسن] (مسند احمد)
بخاری و مسلم میں ہے آپ فرماتے ہیں { تعجب ہے کہ مومن کے لیے اللہ تعالیٰ کی ہر قضا بھلائی کے لیے ہوتی ہے اگر اسے راحت اور خوشی پہنچتی ہے تو شکر کر کے بھلائی حاصل کرتا ہے اور اگر برائی اور غم پہنچتا ہے تو یہ صبر کرتا ہے اور بدلہ حاصل کرتا ہے۔ یہ نعمت تو صرف مومن کو ہی حاصل ہے کہ جس کی ہر حالت بہتری اور بھلائی والی ہے۔ } ۱؎ [صحیح مسلم:2999] مطرف رحمہ اللہ فرماتے ہیں صبر و شکر کرنے والا بندہ کتنا ہی اچھا ہے کہ جب نعمت اسے ملے تو شکر کرے اور جب زحمت پہنچے تو صبر کرے۔
19۔ 1 یعنی جس طرح لوگ سفر کی صعوبتوں، خطرات اور موسم کی شدتوں کا تذکرہ کرتے ہیں ہمارے سفر بھی اسی طرح دور دور کردے مسلسل آبادیوں کے بجائے درمیان میں سنسان و ویران جنگلات اور صحراؤں سے ہمیں گزرنا پڑے گرمیوں میں دھوب کی شدت اور سردیوں میں بیخ بستہ ہوائیں ہمیں پریشان کریں اور راستے میں بھوک اور پیاس اور موسم کی سختیوں سے بچنے کے لیے زاد راہ کا بھی انتظام کرنا پڑے ان کی یہ دعا اسی طرح کی ہے جیسے بنی اسرائیل نے من وسلویٰ اور دیگر سہولتوں کے مقابلے میں دالوں اور سبزیوں وغیرہ کا مطالبہ کیا تھا یا پھر زبان حال سے ان کی یہ دعا تھی۔ 19۔ 2 یعنی انھیں اس طرح ناپید کیا کہ ان کی ہلاکت کا قصہ زبان زد خلائق ہوگیا۔ اور مجلسوں اور محفلوں کا موضوع گفتگو بن گیا۔ 19۔ 3 یعنی انھیں متفرق اور منتشر کردیا، چناچہ سبا میں آباد مشہور قبیلے مختلف جگہوں پر جا آباد ہوئے، کوئی یثرب و مکہ آگیا، کوئی شام کے علاقے میں چلا گیا کوئی کہیں اور کوئی کہی
(آیت 19) ➊ { فَقَالُوْا رَبَّنَا بٰعِدْ بَيْنَ اَسْفَارِنَا …:} اس کی تفسیر تین طرح سے کی گئی ہے، ایک یہ کہ انھیں یہ نعمتیں راس نہ آئیں، وہ امن و عافیت کی قدر کرنا بھول گئے اور کبرو غرور میں آکر کہنے لگے کہ یہ بھی کوئی سفر ہے کہ ہر تھوڑی مسافت کے بعد بستی پائی جاتی ہے۔ مزا تو جب آتا کہ دور دراز علاقوں، چٹیل میدانوں، دشوار گزار جنگلوں اور پُرخطر وادیوں سے گزر ہوتا۔ شاہ عبدالقادر رحمہ اللہ لکھتے ہیں: ”آرام میں مستی یہ آئی، لگے تکلیف مانگنے کہ جیسے اور ملکوں کی خبر سنتے ہیں کہ سفروں میں پانی نہیں ملتا، آبادی نہیں ملتی، ویسا ہم کو بھی ہو، یہ بڑی ناشکری ہوئی۔“ (موضح) ان کی یہ دعا اسی طرح کی ہے جیسے بنی اسرائیل نے من و سلویٰ اور دوسری سہولتوں کے مقابلے میں دالوں اور سبزیوں وغیرہ کا مطالبہ کیا تھا۔ دوسری تفسیر ابن عاشور کی ہے، وہ فرماتے ہیں: ”میرے نزدیک زیادہ ظاہر بات یہ ہے کہ انھوں نے یہ بات اپنے انبیاء اور صالح لوگوں کے جواب میں کہی، جب وہ انھیں شرک سے منع کرتے تھے، کیونکہ وہ انھیں نصیحت کرتے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے تم پر اتنی نعمتیں کی ہیں، سفر اتنا آسان بنا دیا اور اس قدر خوش حالی عطا فرمائی ہے، سو تم پر اس کا شکر کرنا اور اس اکیلے کی عبادت کرنا واجب ہے، تو انھوں نے آگے سے یہ بات کہی جو آیت میں مذکور ہے، جیسا کہ کفارِ قریش نے کہا تھا: «اللّٰهُمَّ اِنْ كَانَ هٰذَا هُوَ الْحَقَّ مِنْ عِنْدِكَ فَاَمْطِرْ عَلَيْنَا حِجَارَةً مِّنَ السَّمَآءِ اَوِ ائْتِنَا بِعَذَابٍ اَلِيْمٍ» [ الأنفال: ۳۲ ] ”اے اللہ! اگر صرف یہی تیری طرف سے حق ہے تو ہم پر آسمان سے پتھر برسا، یا ہم پر کوئی دردناک عذاب لے آ۔“ دلیل اس کی یہ ہے کہ اس سے پہلے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «فَاَعْرَضُوْا» ”انھوں نے منہ موڑ لیا“ ظاہر ہے منہ کسی دعوت ہی سے موڑا جاتا ہے۔ اس کی تائید اس سے بھی ہوتی ہے کہ ان کی اس بات کے بعد فرمایا: «وَ ظَلَمُوْۤا اَنْفُسَهُمْ» ”اور انھوں نے اپنی جانوں پر ظلم کیا“ یعنی انھوں نے نا شکری اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کیا، قرآن میں ظلم کا لفظ اکثر شرک کے لیے آیا ہے، کیونکہ اس سے بڑا ظلم کوئی نہیں۔“ تیسری تفسیر وہ ہے جس کی طرف تقریباً تمام مفسرین نے اشارہ فرمایا ہے کہ یہ ان کی زبانِ حال کی بات ہے۔ جو شخص بھی اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی نعمتوں کی ناشکری کرتا ہے وہ گویا زبانِ حال سے کہتا ہے کہ پروردگارا! میں ان نعمتوں کا مستحق نہیں ہوں۔ اسی طرح جو قوم اللہ کی نعمتوں کی قدر نہیں کرتی اور سرکشی کا رویہ اختیار کرتی ہے، وہ گویا اپنے رب سے دعا کرتی ہے کہ اے پروردگارا! یہ نعمتیں ہم سے واپس لے لے، کیونکہ ہم اس قابل نہیں ہیں۔ ➋ { وَ ظَلَمُوْۤا اَنْفُسَهُمْ:} یعنی انھوں نے کفر و شرک پر اصرار کیا۔ ➌ { فَجَعَلْنٰهُمْ اَحَادِيْثَ …:} یعنی ہم نے انھیں اس طرح برباد اور منتشر کیا کہ وہ بکھرنے کے لیے کہاوت اور ضرب المثل بن گئے۔ مختلف قبائل کے سیلاب سے بچ نکلنے والے لوگ اپنا وطن چھوڑ کر عرب کے مختلف علاقوں میں چلے گئے۔ غسانیوں نے اردن اور شام کا رخ کیا، اوس اور خزرج کے قبیلے یثرب میں جا بسے، خزاعہ نے جدہ کے قریب تہامہ کے علاقہ میں سکونت اختیار کی۔ ازد کا قبیلہ عمان میں جا کر آباد ہوا، لخم اور کندہ بھی نکلنے پر مجبور ہوئے، حتیٰ کہ سبا نام کی کوئی قوم دنیا میں موجود نہ رہی، صرف کہاوتوں اور افسانوں میں اس کا ذکر باقی رہ گیا۔ ➍ {اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّكُلِّ صَبَّارٍ شَكُوْرٍ:} قوم سبا پر لازم تھا کہ ان بے حساب نعمتوں کی قدر کرتے اور ان کا شکر ادا کرتے جن کا ان آیات میں ذکر ہوا، پھر جب عذاب آیا تو لازم تھا کہ گناہوں سے توبہ کرتے اور مصیبت پر صبر کرتے۔ ان کے سردار ملک کے نظام کو دوبارہ درست کرنے کی کوشش کرتے، امن بحال کرتے، پہلے کی طرح زرعی ضرورتوں اور سفری سہولتوں کا بندوبست کرتے، مگر وہ صبر کا دامن ہاتھ سے چھوڑ کر مختلف علاقوں میں بکھر گئے اور انھوں نے نہ اللہ کے انعامات کا شکر کیا، نہ مصیبت آنے پر تائب ہوئے اور نہ صبر سے وہاں رہ کر ان کے سرداروں نے ملک کی اصلاح کی کوشش کی، بلکہ جس کا جدھر منہ آیا نکل گیا۔ حقیقت یہ ہے کہ صبر اور شکر لازم و ملزوم ہیں۔ شکر وہی کرتا ہے جو تقدیر میں سے اپنے حصے پر صابر ہو اور صبر وہی کرتا ہے جو اللہ تعالیٰ کی ان نعمتوں کی قدر جانتا اور ان کا شکر ادا کرتا ہو جو اسے حاصل ہیں۔ سبا کے واقعات میں نشانیاں تو ہر شخص کے لیے ہیں، مگر ہر صبّار و شکور کے لیے بہت سی نشانیاں اور عبرتیں اس لیے بتائیں کہ وہی ہیں جو اپنی مصیبتوں پر بہت صبر اور نعمتوں پر بہت شکر کرتے ہیں اور دوسروں پر آنے والی مصیبتوں اور انھیں ملنے والی نعمتوں پر ان کے رویے اور اس کے انجام سے عبرت حاصل کرتے ہیں۔ دوسرے لوگ نہ صبر کرتے ہیں، نہ شکر اور نہ ہی دوسروں کے حال سے انھیں عبرت ہوتی ہے۔
اُن کے معاملہ میں ابلیس نے اپنا گمان صحیح پایا اور انہوں نے اُسی کی پیروی کی، بجز ایک تھوڑے سے گروہ کے جو مومن تھا
مولانا محمد جوناگڑھی
اور شیطان نے ان کے بارے میں اپنا گمان سچا کر دکھایا یہ لوگ سب کے سب اس کے تابعدار بن گئے سوائے مومنوں کی ایک جماعت کے
احمد رضا خان بریلوی
اور بیشک ابلیس نے انہیں اپنا گمان سچ کر دکھایا تو وہ اس کے پیچھے ہولیے مگر ایک گروہ کہ مسلمان تھا
علامہ محمد حسین نجفی
بیشک شیطان نے ان لوگوں کے بارے میں اپنا خیال سچا کر دکھایا چنانچہ انہوں نے اس کی پیروی کی۔ سوائے اہلِ ایمان کے ایک گروہ کے۔
عبدالسلام بن محمد
اور بلاشبہ یقینا ابلیس نے ان پر اپنا گمان سچا کر دکھایا تو مومنوں کے ایک گروہ کے سوا وہ سب اس کے پیچھے چل پڑے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
ابلیس اور اس کا عزم ٭٭
سبا کے قصے کے بیان کے بعد شیطان کے اور مریدوں کا عام طور پر ذکر فرماتا ہے کہ وہ ہدایت کے بدلے ضلالت بھلائی کے بدلے برائی لے لیتے ہیں۔ ابلیس نے راندہ درگاہ ہو کر جو کہا تھا کہ میں ان کی اولاد کو ہر طرح برباد کرنے کی کوشش کروں گا اور تھوڑی سی جماعت کے سوا باقی سب لوگوں کو تیری سیدھی راہ سے بھٹکا دوں گا۔ اس نے یہ کر دکھایا اور اولاد آدم کو اپنے پنجے میں پھانس لیا۔ جب آدم اور حوا علیہم السلام اپنی خطا کی وجہ سے جنت سے اتار دیئے گئے اور ابلیس لعین بھی ان کے ساتھ اترا اس وقت وہ بہت خوش تھا اور جی میں اترا رہا تھا کہ جب انہیں میں نے بہکا لیا تو ان کی اولاد کو تباہ کر دینا تو میرے بائیں ہاتھ کا کھیل ہے۔ اس خبیث کا قول تھا کہ میں ابن آدم کو سبز باغ دکھاتا رہوں گا غفلت میں رکھوں گا۔ طرح طرح سے دھوکے دوں گا اور اپنے جال میں پھنسائے رکھوں گا۔ جس کے جواب میں جناب باری جل جلالہ نے فرمایا تھا مجھے بھی اپنی عزت کی قسم موت کے غرغرے سے پہلے جب کبھی وہ توبہ کرے گا میں فوراً قبول کر لوں گا۔ وہ مجھے جب پکارے گا میں اس کی طرف متوجہ ہو جاؤں گا۔ مجھ سے جب کبھی جو کچھ مانگے گا میں اسے دوں گا مجھ سے جب وہ بخشش طلب کرے گا میں اسے بخش دوں گا۔ (ابن ابی حاتم)
اس کا کوئی غلبہ، حجت، زبردستی، مار پیٹ انسان پر نہ تھی۔ صرف دھوکہ، فریب اور مکر بازی تھی جس میں یہ سب پھنس گئے۔ اس میں حکمت الٰہی یہ تھی کہ مومن و کافر ظاہر ہو جائیں۔ حجت اللہ ختم ہو جائے آخرت کو ماننے والے شیطان کی نہیں مانیں گے۔ اس کے منکر رحمان کی اتباع نہیں کریں گے۔ اللہ ہر چیز پر نگہبان ہے مومنوں کی جماعت اس کی حفاظت کا سہارا لیتی ہے اس لیے ابلیس ان کا کچھ بگاڑ نہیں سکتا۔ اور کافروں کی جماعت خود اللہ کو چھوڑ دیتی ہے اس لیے ان پر سے اللہ کی نگہبانی ہٹ جاتی ہے اور وہ شیطان کے ہر فریب کا شکار بن جاتے ہیں۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 20) {وَ لَقَدْ صَدَّقَ عَلَيْهِمْ اِبْلِيْسُ ظَنَّهٗ …:} یعنی ابلیس نے آدم علیہ السلام کو سجدے سے انکار کے بعد جس گمان کا اظہار کیا تھا کہ تو ان کے اکثر کو شکر کرنے والے نہیں پائے گا۔ (دیکھیے اعراف: ۱۷) اس ظالم نے قوم سبا کو گمراہ کر کے ان کے بارے میں اپنے اس گمان کو سچا کر دکھایا، چنانچہ وہ سب اس کے پیچھے لگ گئے، صرف مومنوں کا ایک گروہ اس سے محفوظ رہا۔ اس آیت سے معلوم ہوا کہ سبا میں بھی ہمیشہ کچھ لوگ ایسے موجود رہے جو اللہ واحد کی عبادت پر قائم رہے اور شیطان ان پر اپنا تسلّط قائم نہ کر سکا۔
ابلیس کو اُن پر کوئی اقتدار حاصل نہ تھا مگر جو کچھ ہوا وہ اس لیے ہوا کہ ہم یہ دیکھنا چاہتے تھے کہ کون آخرت کا ماننے والا ہے اور کون اس کی طرف سے شک میں پڑا ہوا ہے تیرا رب ہر چیز پر نگران ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
شیطان کا ان پر کوئی زور (اور دباؤ) نہ تھا مگر اس لئے کہ ہم ان لوگوں کو جو آخرت پر ایمان رکھتے ہیں ﻇاہر کردیں ان لوگوں میں سے جو اس سے شک میں ہیں۔ اور آپ کا رب (ہر) ہر چیز پر نگہبان ہے
احمد رضا خان بریلوی
اور شیطان کا ان پر کچھ قابو نہ تھا مگر اس لیے کہ ہم دکھادیں کہ کون آخرت پر ایمان لاتا اور کون اس سے شک میں ہے، اور تمہارا رب ہر چیز پر نگہبان ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
اور شیطان کو ان پر ایسا اقتدار نہیں تھا کہ جس سے وہ بے اختیار ہو جائیں لیکن یہ سب کچھ اس لئے کہ ہم معلوم کریں کہ کون آخرت پر ایمان رکھتا ہے اور کون اس سے متعلق شک میں ہے اور آپ کا پروردگار ہر چیز پر نگران و نگہبان ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اور اس کا ان پر کوئی غلبہ نہ تھا مگر تاکہ ہم جان لیں کون ہے جو آخرت پر ایمان رکھتا ہے اس سے (الگ) جو اس کے بارے میں شک میں ہے اور تیرا رب ہر چیز پر پوری طرح نگران ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
ابلیس اور اس کا عزم ٭٭
سبا کے قصے کے بیان کے بعد شیطان کے اور مریدوں کا عام طور پر ذکر فرماتا ہے کہ وہ ہدایت کے بدلے ضلالت بھلائی کے بدلے برائی لے لیتے ہیں۔ ابلیس نے راندہ درگاہ ہو کر جو کہا تھا کہ میں ان کی اولاد کو ہر طرح برباد کرنے کی کوشش کروں گا اور تھوڑی سی جماعت کے سوا باقی سب لوگوں کو تیری سیدھی راہ سے بھٹکا دوں گا۔ اس نے یہ کر دکھایا اور اولاد آدم کو اپنے پنجے میں پھانس لیا۔ جب آدم اور حوا علیہم السلام اپنی خطا کی وجہ سے جنت سے اتار دیئے گئے اور ابلیس لعین بھی ان کے ساتھ اترا اس وقت وہ بہت خوش تھا اور جی میں اترا رہا تھا کہ جب انہیں میں نے بہکا لیا تو ان کی اولاد کو تباہ کر دینا تو میرے بائیں ہاتھ کا کھیل ہے۔ اس خبیث کا قول تھا کہ میں ابن آدم کو سبز باغ دکھاتا رہوں گا غفلت میں رکھوں گا۔ طرح طرح سے دھوکے دوں گا اور اپنے جال میں پھنسائے رکھوں گا۔ جس کے جواب میں جناب باری جل جلالہ نے فرمایا تھا مجھے بھی اپنی عزت کی قسم موت کے غرغرے سے پہلے جب کبھی وہ توبہ کرے گا میں فوراً قبول کر لوں گا۔ وہ مجھے جب پکارے گا میں اس کی طرف متوجہ ہو جاؤں گا۔ مجھ سے جب کبھی جو کچھ مانگے گا میں اسے دوں گا مجھ سے جب وہ بخشش طلب کرے گا میں اسے بخش دوں گا۔ (ابن ابی حاتم)
اس کا کوئی غلبہ، حجت، زبردستی، مار پیٹ انسان پر نہ تھی۔ صرف دھوکہ، فریب اور مکر بازی تھی جس میں یہ سب پھنس گئے۔ اس میں حکمت الٰہی یہ تھی کہ مومن و کافر ظاہر ہو جائیں۔ حجت اللہ ختم ہو جائے آخرت کو ماننے والے شیطان کی نہیں مانیں گے۔ اس کے منکر رحمان کی اتباع نہیں کریں گے۔ اللہ ہر چیز پر نگہبان ہے مومنوں کی جماعت اس کی حفاظت کا سہارا لیتی ہے اس لیے ابلیس ان کا کچھ بگاڑ نہیں سکتا۔ اور کافروں کی جماعت خود اللہ کو چھوڑ دیتی ہے اس لیے ان پر سے اللہ کی نگہبانی ہٹ جاتی ہے اور وہ شیطان کے ہر فریب کا شکار بن جاتے ہیں۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 21) ➊ { وَ مَا كَانَ لَهٗ عَلَيْهِمْ مِّنْ سُلْطٰنٍ:} یعنی ابلیس کو یہ طاقت حاصل نہ تھی کہ جو شخص اللہ تعالیٰ کی فرماں برداری کرنا چاہے اسے زبردستی ڈنڈے کے زور سے نافرمانی کی راہ پر کھینچ کر لے جائے۔ اسے صرف یہ اختیار تھا کہ انسان کے دل میں وسوسہ ڈال سکے، اسے سبز باغ دکھا کر دھوکے میں مبتلا کرے اور اس کے سامنے گناہوں کو خوش نما کر کے پیش کرے۔ ➋ { اِلَّا لِنَعْلَمَ مَنْ يُّؤْمِنُ بِالْاٰخِرَةِ:} یعنی ابلیس کو یہ اختیار دینے میں اللہ تعالیٰ کی حکمت یہ تھی کہ معلوم ہو جائے کہ کون آخرت پر ایمان رکھتا ہے اور کون ہے جسے اس میں شک ہے اور سب دیکھ لیں کہ رحمان کی بات ماننے والا کون ہے اور شیطان کی پیروی کرنے والا کون، جنتی کون ہے اور جہنمی کون۔ ➌ {مِمَّنْ هُوَ مِنْهَا فِيْ شَكٍّ:} معلوم ہوا آخرت میں شک کرنا بھی کفر ہے اور سبا والوں کی ناشکری اور سرکشی کا اصل سبب یہ تھا کہ انھیں آخرت پر یقین نہیں تھا۔ قرآن کریم نے متعدد مقامات پر اس حقیقت کو واضح کیا ہے کہ صحیح عقیدہ ہی انسان کو راہِ راست پر قائم رکھ سکتا ہے اور آخرت پر یقین ہی ایسی چیز ہے جو انسان کو سیدھے راستے پر چلنے کا پابند رکھتی ہے۔ ➍ { وَ رَبُّكَ عَلٰى كُلِّ شَيْءٍ حَفِيْظٌ:} تیرا رب ہر چیز پر پوری طرح نگران اور نگہبان ہے، کوئی چیز اس کی حفاظت اور نگرانی سے باہر نہیں، نہ ہی شیطان اس سے زبردست ہو کر کسی کو گمراہ کر سکتا ہے، اس نے خود ہی اپنی حکمت کے تحت اسے آزمائش کے لیے اور حجت تمام کرنے کے لیے انسانوں کے دل میں وسوسہ ڈالنے کا اختیار دے رکھا ہے۔
(اے نبیؐ، اِن مشرکین سے) کہو کہ پکار دیکھو اپنے اُن معبودوں کو جنہیں تم اللہ کے سوا اپنا معبود سمجھے بیٹھے ہو وہ نہ آسمانوں میں کسی ذرہ برابر چیز کے مالک ہیں نہ زمین میں وہ آسمان و زمین کی ملکیت میں شریک بھی نہیں ہیں ان میں سے کوئی اللہ کا مدد گار بھی نہیں ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
کہہ دیجیئے! کہ اللہ کے سوا جن جن کا تمہیں گمان ہے (سب) کو پکار لو، نہ ان میں سے کسی کو آسمانوں اور زمینوں میں سے ایک ذره کا اختیار ہے نہ ان کا ان میں کوئی حصہ ہے نہ ان میں سے کوئی اللہ کا مددگار ہے
احمد رضا خان بریلوی
تم فرماؤ پکارو انہیں جنہیں اللہ کے سوا سمجھے بیٹھے ہو وہ ذرہ بھر کے مالک نہیں آسمانوں میں اور نہ زمین میں اور نہ ان کا ان دونوں میں کچھ حصہ اور نہ اللہ کا ان میں سے کوئی مددگار،
علامہ محمد حسین نجفی
اے رسول(ص)! (ان مشرکین سے) کہیے! تم ان کو پکارو جنہیں تم اللہ کے سوا (معبود) سمجھتے ہو( پھر دیکھو) وہ ذرہ بھر چیز کے بھی مالک نہیں ہیں، نہ آسمانوں اور زمین میں اور نہ ہی ان کی ان دونوں (کی ملکیت) میں کوئی شرکت ہے اور نہ ہی ان میں سے کوئی اس (اللہ) کا مددگار ہے۔
عبدالسلام بن محمد
کہہ دے پکارو ان کو جنھیں تم نے اللہ کے سوا گمان کر رکھا ہے، وہ نہ آسمانوں میں ذرہ برابر کے مالک ہیں اور نہ زمین میں اور نہ ان کا ان دونوں میں کوئی حصہ ہے اور نہ ان میں سے کوئی اس کا مدد گار ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
وحدہ لا شریک ٭٭
بیان ہو رہا ہے کہ اللہ اکیلا ہے، واحد ہے، احد ہے، فرد ہے، صمد ہے، اس کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ بےنظیر، لاشریک اور بےمثل ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، ساتھی نہیں، مشیر نہیں، وزیر نہیں، مددگار و پیشی بان نہیں۔ پھر ضد کرنے والا اور خلاف کرنے والا کہاں؟ جن جن کو پکارا کرتے ہو پکار کر دیکھ لو معلوم ہو جائے گا کہ ایک ذرے کے بھی مختار نہیں۔ محض بےبس اور بالکل محتاج و عاجز ہیں، نہ زمینوں میں ان کی کچھ چلے نہ آسمانوں میں۔ جیسے اور آیت میں ہے «وَالَّذِينَ تَدْعُونَ مِن دُونِهِ مَا يَمْلِكُونَ مِن قِطْمِيرٍ» ۱؎ [35-فاطر:13] کہ ’ وہ ایک کھجور کے چھلکے کے بھی مالک نہیں ‘ اور یہی نہیں کہ انہیں خود اختیار حکومت نہ ہو نہ سہی شرکت کے طور پر ہی ہو نہیں شرکت کے طور پر بھی نہیں۔ نہ اللہ تعالیٰ ان سے اپنے کسی کام میں مدد لیتا ہے۔ بلکہ یہ سب کے سب فقیر محتاج ہیں اس کے در کے غلام اور اس کے بندے ہیں،۔
22۔ 1 یعنی معبود ہونے کا۔ یہاں زعمتم کے دو مفعول محذوف ہیں زعمتموہم الھۃ یعنی جن جن کو تم معبود گمان کرتے ہو۔ 22۔ 2 یعنی انھیں نہ خیر پر کوئی اختیار ہے نہ شرپر، کسی کو فائدہ پہنچانے کی قدرت ہے، نہ نقصان سے بچانے کی، آسمان و زمین کا ذکر نہ عموم کے لئے ہے، کیونکہ تمام خارجی موجودات کے لئے یہی ظرف ہیں۔ 22۔ 3 نہ پیدائش میں نہ ملکیت میں اور نہ تصرف میں۔ 22۔ 4 جو کسی معاملے میں بھی اللہ کی مدد کرتا ہو، بلکہ اللہ تعالیٰ ہی بلا شرکت غیرے تمام اختیارات کا مالک ہے اور کسی کے تعاون کے بغیر ہی سارے کام کرتا ہے۔
(آیت 22) ➊ { قُلِ ادْعُوا الَّذِيْنَ زَعَمْتُمْ …:} سورت کی ابتدا اس بات سے ہوئی کہ آسمان و زمین میں جو کچھ ہے اس کا مالک صرف اللہ تعالیٰ ہے اور دنیا اور آخرت میں حمد کا سزا وار بھی وہی ہے۔ اس کے ساتھ ہی ذکر فرمایا کہ کفار آخرت کا انکار کرتے ہیں، جب کہ وہ ضرور آئے گی۔ اس کے بعد آخرت پر ایمان رکھنے والوں اور اس کے منکروں کی اور ان کے اچھے اور برے انجام کی مثال کے طور پر داؤد و سلیمان علیھما السلام کا اور قومِ سبا کا ذکر فرمایا۔ آخرت کے بیان کے بعد یہاں سے پھر اسی توحید کا بیان شروع ہوتا ہے جس سے سورت کا آغاز ہوا تھا۔ ➋ { لَا يَمْلِكُوْنَ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ …:} یعنی اللہ تعالیٰ تو جسے چاہتا ہے داؤد و سلیمان علیھما السلام کی طرح نواز دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے قومِ سبا کی طرح برباد کر دیتا ہے، کیونکہ وہ آسمان و زمین کی ہر چیز کا مالک ہے، اب تم اپنے بناوٹی معبودوں کو پکارو، بھلا وہ تمھاری کوئی مدد کر سکتے ہیں؟ نہیں، ہر گز نہیں، کیونکہ مدد وہ تب کریں جب ان کے پاس کوئی چیز ہو، وہ تو آسمان و زمین میں موجود ایک ذرے کے مالک بھی نہیں۔ دیکھیے سورۂ فاطر (۱۳)، مومنون (۸۸، ۸۹)، نحل (۷۳)، یونس (۱۰۶) اور سورۂ جنّ (۲۱، ۲۲)۔ ➌ {وَ مَا لَهُمْ فِيْهِمَا مِنْ شِرْكٍ:} یہ اس بات کا رد ہے کہ چلیے پورے مالک نہ سہی، ملکیت و اختیار میں ان کا کچھ حصہ ضرور ہے۔ دیکھیے سورۂ فاطر (۴۰) اور سورۂ احقاف (۴)۔ ➍ { وَ مَا لَهٗ مِنْهُمْ مِّنْ ظَهِيْرٍ:} نہ ہی ان میں سے کوئی اللہ تعالیٰ کا مددگار ہے جس سے کبھی اللہ تعالیٰ نے مدد لی ہو، یا اب مدد لیتا ہو۔ دیکھیے سورۂ بنی اسرائیل (۱۱۱) اور سورۂ کہف (۵۱)۔
اور اللہ کے حضور کوئی شفاعت بھی کسی کے لیے نافع نہیں ہو سکتی بجز اُس شخص کے جس کے لیے اللہ نے سفارش کی اجازت دی ہو حتیٰ کہ جب لوگوں کے دلوں سے گھبراہٹ دور ہو گی تو وہ (سفارش کرنے والوں سے) پوچھیں گے کہ تمہارے رب نے کیا جواب دیا وہ کہیں گے کہ ٹھیک جواب ملا ہے اور وہ بزرگ و برتر ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
شفاعت (سفارش) بھی اس کے پاس کچھ نفع نہیں دیتی بجز ان کے جن کے لئے اجازت ہوجائے۔ یہاں تک کہ جب ان کے دلوں سے گھبراہٹ دور کردی جاتی ہے تو پوچھتے ہیں تمہارے پرودگار نے کیا فرمایا؟ جواب دیتے ہیں کہ حق فرمایا اور وه بلند وباﻻ اور بہت بڑا ہے
احمد رضا خان بریلوی
اور اس کے پاس شفاعت کام نہیں دیتی مگر جس کے لیے وہ اذن فرمائے، یہاں تک کہ جب اذن دے کر ان کے دلوں کی گھبراہٹ دور فرمادی جاتی ہے، ایک دوسرے سے کہتے ہیں تمہارے ربنے کیا ہی بات فرمائی، وہ کہتے ہیں جو فرمایا حق فرمایا اور وہی ہے بلند بڑائی والا،
علامہ محمد حسین نجفی
اور نہ اس (اللہ) کے ہاں کوئی سفارش (کسی کو کوئی) فائدہ دے گی مگر اس کے حق میں جس کیلئے وہ اجازت دے گا (اور جس کو دے گا) یہاں تک کہ جب ان کے دلوں سے گھبراہٹ دور کر دی جائے گی تو وہ پوچھیں گے کہ تمہارے پروردگار نے کیا کہا ہے؟ تو وہ کہیں گے کہ اس نے حق کہا ہے اور وہ بلند و بالا اور بزرگ و برتر ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اور نہ سفارش اس کے ہاں نفع دیتی ہے مگر جس کے لیے وہ اجازت دے، یہاں تک کہ جب ان کے دلوں سے گھبراہٹ دور کی جاتی ہے تو وہ کہتے ہیں تمھارے رب نے کیا فرمایا؟ وہ کہتے ہیں حق (فرمایا) اور وہی سب سے بلند، بہت بڑا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
اللہ تعالیٰ کی عظمت و کبریائی ٭٭
اس کی عظمت و کبریائی عزت و بڑائی ایسی ہے کہ بغیر اس کی اجازت کے کسی کی جرات نہیں کہ اس کے سامنے کسی کی سفارش کے لیے بھی لب ہلا سکے۔ جیسے فرمان ہے «مَن ذَا الَّذي يَشفَعُ عِندَهُ إِلّا بِإِذنِهِ» ۱؎ [2-البقرة:255] ’ کون ہے؟ جو اس کے سامنے کسی کی شفاعت بغیر اس کی رضا مندی کے بغیر کر سکے ‘ اور آیت میں ہے «وَكَمْ مِّنْ مَّلَكٍ فِي السَّمٰوٰتِ لَا تُغْـنِيْ شَفَاعَتُهُمْ شَـيْــــًٔا اِلَّا مِنْ بَعْدِ اَنْ يَّاْذَنَ اللّٰهُ لِمَنْ يَّشَاءُ وَيَرْضٰى» ۱؎ [53-النجم:26] الخ، یعنی ’ آسمانوں کے کل فرشتے بھی اس کے سامنے کسی کی سفارش کے لیے لب ہلا نہیں سکتے مگر جس کے لیے اللہ اپنی رضا مندی سے اجازت دے دے۔ ‘ ایک اور جگہ فرمان ہے «وَلَا يَشْفَعُوْنَ اِلَّا لِمَنِ ارْتَضٰى وَهُمْ مِّنْ خَشْيَتِهٖ مُشْفِقُوْنَ» ۱؎ [21-الأنبياء:28] الخ، ’ وہ لوگ صرف ان کی شفاعت کر سکتے ہیں جن کے لیے اللہ کی رضا مندی ہو وہ تو خود ہی اس کے خوف سے تھرا رہے ہیں۔ ‘ تمام اولاد آدم کے سردار سب سے بڑے شفیع اور سفارشی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی قیامت کے دن مقام محمود میں شفاعت کے لیے تشریف لے جائیں گے کہ اللہ تعالیٰ آئے اور مخلوق کے فیصلے کرے اس وقت کی نسبت آپ فرماتے ہیں { میں اللہ کے سامنے سجدے میں گر پڑوں گا اللہ ہی جانتا ہے کہ کب تک سجدے میں پڑا رہوں گا اس سجدے میں اس قدر اپنے رب کی تعریفیں بیان کروں گا۔ کہ اس وقت تو وہ الفاظ بھی مجھے معلوم نہیں۔ پھر مجھ سے کہا جائے گا اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! اپنا سر اٹھایئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم بات کیجئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بات سنی جائے گی آپ صلی اللہ علیہ وسلم مانگئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیا جائے گا۔ آپ شفاعت کیجئے قبول کی جائے گی۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:7410]
رب کی عظمت کا ایک مقام بیان ہو رہا ہے کہ جب وہ اپنی وحی میں کلام کرتا ہے اور آسمانوں کے مقرب فرشتے اسے سنتے ہیں تو ہیبت سے کانپ اٹھتے ہیں اور غشی والے کی طرح ہو جاتے ہیں جب ان کے دلوں سے گھبراہٹ ہٹ جاتی ہے۔ «فزع» کی دوسری قرأت «فزغ» بھی آئی ہے مطلب دونوں کا ایک ہے۔ تو اب آپس میں ایک دوسرے سے دریافت کرتے ہیں کہ اس وقت رب کا کیا حکم نازل ہوا؟ پس اہل عرش اپنے پاس والوں کو وہ اپنے پاس والوں کو یونہی درجہ بدرجہ حکم پہنچا دیتے ہیں۔ بلا کم و کاست ٹھیک ٹھیک اسی طرح پہنچا دیتے ہیں۔ ایک مطلب اس آیت کا یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ جب سکرات کا وقت آتا ہے۔ اس وقت مشرک یہ کہتے ہیں اور قیامت کے دن بھی جب اپنی غفلت سے چونکیں گے اور ہوش و حواس قائم ہو جائیں گے اس وقت یہ کہیں گے کہ تمہارے رب نے کیا فرمایا؟ جواب ملے گا کہ حق فرمایا، حق فرمایا اور جس چیز سے دنیا میں بےفکر تھے آج اس کے سامنے پیش کر دی جائے گی۔ تو دلوں سے گھبراہٹ دور کئے جانے کے یہ معنی ہوئے کہ جب آنکھوں پر سے پردہ اٹھا دیا جائے گا اس وقت سب شک و تکذیب الگ ہو جائیں گے۔ شیطانی وساوس دور ہو جائیں گے اس وقت رب کے وعدوں کی حقانیت تسلیم کریں گے اور اس کی بلندی اور بڑائی کے قائل ہوں گے۔ پس نہ تو موت کے وقت کا اقرار نفع دے نہ قیامت کے میدان کا اقرار فائدہ پہنچائے لیکن امام ابن جریر رحمہ اللہ کے نزدیک پہلی تفسیر ہی راجح ہے یعنی مراد اس سے فرشتے ہیں۔ اور یہی ٹھیک ہے اور اس کی تائید احادیث و آثار سے بھی ہوتی ہے۔
صحیح بخاری شریف میں اس آیت کی تفسیر کے موقعہ پر ہے کہ { جب اللہ تعالیٰ کسی امر کا فیصلہ آسمان میں کرتا ہے تو فرشتے عاجزی کے ساتھ اپنے پر جھکا لیتے ہیں اور رب کا کلام ایسا واقع ہوتا ہے جیسے اس زنجیر کی آواز جو پتھر پر بجائی جاتی ہو جب ہیبت کم ہو جاتی ہے۔ تو پوچھتے ہیں کہ تمہارے رب نے اس وقت کیا فرمایا؟ جواب ملتا ہے کہ جو فرمایا حق ہے اور وہ اعلی و کبیر ہے۔ بعض مرتبہ ایسا ہوتا ہے کہ جو جنات فرشتوں کی باتیں سننے کی غرض سے گئے ہوئے ہیں اور جو تہہ بہ تہہ ایک دوسروں کے اوپر ہیں وہ کوئی کلمہ سن لیتے ہیں اوپر والا نیچے والے کو وہ اپنے سے نیچے والے کو سنا دیتا ہے اور وہ کاہنوں کے کانوں تک پہنچا دیتے ہیں ان کے پیچھے فوراً ان کے جلانے کو آگ کا شعلہ لپکتا ہے لیکن کبھی کبھی تو وہ اس کے آنے سے پہلے ہی ایک دوسرے کو پہنچا دیتا ہے اور کبھی پہنچانے سے پہلے ہی جلا دیا جاتا ہے۔ کاہن اس ایک کلمے کے ساتھ سو جھوٹ ملا کر لوگوں میں پھیلاتا ہے۔ وہ ایک بات سچی نکلتی ہے لوگ اس کے مرید بن جاتے ہیں کہ دیکھو یہ بات اس کے کہنے کے مطابق ہی ہوئی۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:4701]
مسند احمد میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک مرتبہ صحابہ رضی اللہ عنہم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک ستارہ ٹوٹا اور زبردست روشنی ہو گئی۔ آپ نے دریافت فرمایا کہ جاہلیت میں تمہارا خیال ان ستاروں کے ٹوٹنے کی نسبت کیا تھا؟ انہوں نے کہا ہم اس موقعہ پر سمجھتے تھے کہ یا تو کوئی بہت بڑا آدمی پیدا ہوا یا مرا۔ زہری رحمہ اللہ سے سوال ہوا کہ کیا جاہلیت کے زمانے میں بھی ستارے جھڑتے تھے؟ کہا ہاں لیکن کم۔ آپ کی بعثت کے زمانے سے ان میں بہت زیادتی ہو گئی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا { سنو! انہیں کسی کی موت و حیات سے کوئی واسطہ نہیں۔ بات یہ ہے کہ جب ہمارا رب تبارک و تعالیٰ کسی امر کا آسمانوں میں فیصلہ کرتا ہے تو حاملان عرش اس کی تسبیح بیان کرتے ہیں پھر ساتویں آسمان والے پھر چھٹے آسمان والے یہاں تک کہ یہ تسبیح آسمان دنیا تک پہنچتی ہے۔ پھر عرش کے آس پاس کے فرشتے عرش کو اٹھانے والے فرشتوں سے پوچھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے کیا فرمایا؟ وہ انہیں بتاتے ہیں پھر ہر نیچے والا اوپر والے سے دریافت کرتا ہے اور وہ اسے بتاتا ہے یہاں تک کہ آسمان اول والوں کو خبر پہنچتی ہے۔ کبھی اچک لے جانے والے جنات اسے سن لیتے ہیں تو ان پر یہ ستارے جھڑتے ہیں تاہم جو بات اللہ کو پہنچانی منظور ہوتی ہے اسے وہ لے اڑتے ہیں اور اس کے ساتھ بہت کچھ باطل اور جھوٹ ملا کر لوگوں میں شہرت دیتے ہیں۔ } ۱؎ [صحیح مسلم:2229]
no t(fseer
ابن ابی حاتم میں ہے اللہ تعالیٰ جب اپنے کسی امر کی وحی کرتا ہے تو آسمان مارے خوف سے کپکپا اٹھتے ہیں اور فرشتے ہیبت زدہ ہو کر سجدے میں گر پڑتے ہیں۔ سب سے پہلے جبرائیل علیہ السلام سر اٹھاتے ہیں اور اللہ کا فرمان سنتے ہیں پھر ان کی زبانی فرشتے سنتے ہیں اور وہ کہتے جاتے ہیں کہ اللہ نے حق فرمایا وہ بلندی اور بڑائی والا ہے۔ یہاں تک کہ وہ اللہ کا امین فرشتہ جس کی طرف ہو اسے پہنچا دیتا ہے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما اور قتادہ رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ یہ اس وحی کا ذکر ہے جو عیسیٰ علیہ السلام کے بعد نبیوں کے نہ ہونے کے زمانے میں بند ہو کر پھر ابتداء ختم المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوئی۔ حقیقت یہ ہے کہ اس ابتدائی وحی کے بھی اس آیت کے تحت میں داخل ہونے میں کوئی شک نہیں لیکن آیت اس کو اور سب کو شامل ہے۔
23۔ 1 ' جن کے لئے اجازت ہوجائے ' کا مطلب ہے انبیاء اور ملائکہ وغیرہ یعنی یہی سفارش کرسکیں گے، کوئی اور نہیں۔ اس لئے کہ کسی اور کی سفارش فائدے مند ہوگی، نہ انھیں اجازت ہی ہوگی۔ دوسرا مطلب ہے۔ مستحقین شفاعت۔ یعنی انبیاء (علیہم السلام) و ملائکہ اور صالحین صرف انھیں کے حق میں سفارش کرسکیں گے جو مستحقین شفاعت ہوں گے کیونکہ اللہ کی طرف سے انھیں کے حق میں سفارش کرنے کی اجازت ہوگی، کسی اور کے لئے نہیں (فتح القدیر) مطلب یہ ہوا کہ انبیاء (علیہم السلام) ملائکہ اور صالحین کے علاوہ وہاں کوئی سفارش نہیں کرسکے گا اور یہ حضرات بھی سفارش اہل ایمان گناہ گاروں کے لیے ہی کرسکیں گے کافر و مشرک اور اللہ کے باغیوں کے لیے نہیں قرآن کریم نے دوسرے مقام پر ان دونوں نکتوں کی وضاحت فرمادی ہے۔ (مَنْ ذَا الَّذِيْ يَشْفَعُ عِنْدَهٗٓ اِلَّا بِاِذْنِهٖ) 2۔ البقرۃ:255) (وَلَا يَشْفَعُوْنَ ۙ اِلَّا لِمَنِ ارْتَضٰى) 21۔ الانبیاء:28)
(آیت 23) ➊ { وَ لَا تَنْفَعُ الشَّفَاعَةُ عِنْدَهٗۤ اِلَّا لِمَنْ اَذِنَ لَهٗ:} مشرکین کہتے تھے کہ ہم اپنے معبودوں کو اس لیے پکارتے ہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ سے سفارش کر کے ہماری حاجت روائی اور مشکل کُشائی کروا دیتے ہیں۔ (دیکھیے یونس: ۱۸۔ زمر: ۳) یہ اس کا رد ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں کسی کی سفارش کام نہیں آتی، ہاں، جسے وہ خود اجازت دے اور جس کے حق میں اجازت دے۔{” لِمَنْ اَذِنَ لَهٗ “} (جس کے لیے وہ اجازت دے) میں یہ دونوں باتیں شامل ہیں۔ ظاہر ہے مشرک کو تو شفاعت کرنے کی جرأت ہی نہ ہو گی، اجازت تو دور کی بات ہے اور نہ ہی کسی کو مشرک کے حق میں سفارش کی اجازت ہو گی، کیونکہ اس پر اللہ تعالیٰ نے جنت حرام کر دی ہے۔ (دیکھیے مائدہ: ۷۳) صرف ایمان والوں کے حق میں سفارش ہو گی، مگر اللہ تعالیٰ کی اجازت کے بعد، حتیٰ کہ فرشتے اور رسول بھی اجازت کے بغیر سفارش نہیں کر سکیں گے۔ (دیکھیے نجم: ۲۶) سفارش تو دور کی بات ہے، وہاں اجازت کے بغیر کوئی بول بھی نہیں سکے گا۔ (دیکھیے طٰہٰ: ۱۰۹) حتیٰ کہ سید الانبیاء والرسل صلی اللہ علیہ وسلم بھی سفارش کے لیے جائیں گے تو سجدے میں گر جائیں گے، لمبی مدت تک تسبیح و تحمید کے بعد سر اٹھانے اور سفارش کرنے کی اجازت ملے گی تو سفارش کریں گے، جیسا کہ حدیث شفاعت میں معروف ہے۔ ➋ {حَتّٰۤى اِذَا فُزِّعَ عَنْ قُلُوْبِهِمْ …: ”فَزِعَ يَفْزَعُ“} (س) گھبرا جانا۔ {”فَزَّعَ يُفَزِّعُ“} (تفعیل) گھبراہٹ دور کرنا، خصوصاً جب اس کے ساتھ حرف {”عَنْ“} ہو۔ یہاں ایک سوال ہے کہ اس سے پہلے جملے {” وَ لَا تَنْفَعُ الشَّفَاعَةُ عِنْدَهٗۤ اِلَّا لِمَنْ اَذِنَ لَهٗ “} کے ساتھ اس جملے کا کیا تعلق ہے؟ جواب اس کا یہ ہے کہ تم جن ہستیوں کو اپنا سفارشی سمجھتے ہو اور کہتے ہو کہ وہ اپنے زور یا دبدبے یا اللہ کا محبوب ہونے کی وجہ سے اپنی بات منوا لیتے ہیں، ان کی کیا بساط ہے کہ اجازت کے بغیر سفارش کی جرأت کر سکیں۔ وہاں تو اللہ تعالیٰ کی عظمت اور اس کے جلال کے سامنے عرشِ معلی کے فرشتے اور ان کے نیچے آسمان دنیا تک کے فرشتے، جو برابر احکامِ الٰہی سنتے ہیں، ان کا یہ حال ہے کہ جب رب العزت کوئی وحی فرماتا ہے تو وہ سب اس کی ہیبت سے تھر تھرا اٹھتے ہیں، پھر جب اللہ تعالیٰ اس ہیبت کو ان کے دلوں سے ہٹا لیتا ہے تو ہر گروہ اپنے سے اوپر والے سے پوچھتا ہے کہ رب تعالیٰ نے کیا فرمایا ہے؟ {” قَالُوا الْحَقَّ “} وہ کہتے ہیں، اس نے حق فرمایا ہے۔ {” وَ هُوَ الْعَلِيُّ الْكَبِيْرُ “} اور وہی سب سے بلند اور بہت بڑا ہے۔ چنانچہ وہ فرشتے اپنے نیچے والے فرشتوں کو حق تعالیٰ کی وحی کسی کمی بیشی کے بغیر پہنچاتے ہیں۔ پھر جب مقربین ملائکہ کی یہ حالت ہے، جو وحی کے عادی بنا دیے گئے ہیں، تو مشرکین کسی اور سے کیا توقع رکھتے ہیں؟ بخاری نے اس آیت کی تفسیر میں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے یہ حدیث روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ إِذَا قَضَی اللّٰهُ الْأَمْرَ فِي السَّمَاءِ ضَرَبَتِ الْمَلاَئِكَةُ بِأَجْنِحَتِهَا خُضْعَانًا لِقَوْلِهِ كَالسِّلْسِلَةِ عَلٰی صَفْوَانٍ، قَالَ عَلِيٌّ وَ قَالَ غَيْرُهُ صَفْوَانٍ يَنْفُذُهُمْ ذٰلِكَ، فَإِذَا فُزِّعَ عَنْ قُلُوْبِهِمْ قَالُوْا مَاذَا قَالَ رَبُّكُمْ؟ قَالُوْا لِلَّذِيْ قَالَ الْحَقَّ وَهُوَ الْعَلِيُّ الْكَبِيْرُ، فَيَسْمَعُهَا مُسْتَرِقُو السَّمْعِ، وَ مُسْتَرِقُو السَّمْعِ هٰكَذَا، وَاحِدٌ فَوْقَ آخَرَ وَ وَصَفَ سُفْيَانُ بِيَدِهِ، وَ فَرَّجَ بَيْنَ أَصَابِعِ يَدِهِ الْيُمْنٰي، نَصَبَهَا بَعْضَهَا فَوْقَ بَعْضٍ فَرُبَّمَا أَدْرَكَ الشِّهَابُ الْمُسْتَمِعَ، قَبْلَ أَنْ يَرْمِيَ بِهَا إِلٰی صَاحِبِهِ، فَيُحْرِقُهُ وَ رُبَّمَا لَمْ يُدْرِكْهُ حَتّٰی يَرْمِيَ بِهَا إِلَی الَّذِيْ يَلِيْهِ إِلَی الَّذِيْ هُوَ أَسْفَلُ مِنْهُ حَتّٰی يُلْقُوْهَا إِلَی الْأَرْضِ، وَ رُبَّمَا قَالَ سُفْيَانُ حَتّٰہ تَنْتَهِيَ إِلَی الْأَرْضِ فَتُلْقٰی عَلٰی فَمِ السَّاحِرِ، فَيَكْذِبُ مَعَهَا مِائَةَ كَذْبَةٍ فَيُصَدَّقُ، فَيَقُوْلُوْنَ أَلَمْ يُخْبِرْنَا يَوْمَ كَذَا وَكَذَا يَكُوْنُ كَذَا وَكَذَا؟ فَوَجَدْنَاهُ حَقًّا، لِلْكَلِمَةِ الَّتِيْ سُمِعَتْ مِنَ السَّمَاءِ] [ بخاري، التفسیر، باب قولہ: «إلا من استرق السمع…» : ۴۷۰۱ ] ”جب اللہ تعالیٰ آسمان میں کسی کام کا فیصلہ کرتا ہے تو فرشتے اس کے فرمان کے سامنے عاجزی اختیار کرتے ہوئے اپنے پر پھڑ پھڑاتے ہیں۔ (انھیں اللہ کا فرمان اس طرح سنائی دیتا ہے) جیسے وہ صاف چکنے پتھر پر زنجیر کی آواز ہو، تو جب ان کے دلوں سے گھبراہٹ دور کی جاتی ہے تو وہ (آپس میں) پوچھتے ہیں: ”تمھارے رب نے کیا فرمایا؟“ وہ کہتے ہیں: ”اس نے حق فرمایا اور وہی سب سے بلند، بہت بڑا ہے۔“ اس گفتگو کو چوری سننے والے شیاطین بھی سن لیتے ہیں، جو اس طرح ایک دوسرے کے اوپر ہوتے ہیں۔“ حدیث کے راوی سفیان نے اس کیفیت کو بیان کرنے کے لیے اپنے ہاتھ کو کنارے کے رخ کیا اور انگلیوں کو کھول دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو وہ شیطان وہ بات سن لیتا ہے اور اپنے سے نیچے والے شیطان کو بتا دیتا ہے (یہ سلسلہ نیچے تک چلتا ہے)، یہاں تک کہ سب سے نیچے والا وہ بات کسی جادوگر یا کاہن کو پہنچا دیتا ہے، پھر کبھی اس سے پہلے کہ وہ نیچے والے کو بات پہنچائے اسے آگ کا انگارا آ دبوچتا ہے اور اسے جلا دیتا ہے اور کبھی اس کے لگنے سے پہلے وہ اس بات کو آگے پہنچا دیتا ہے، تو وہ (جادوگر یا کاہن) اس کے ساتھ سو جھوٹ ملا دیتا ہے، تو (جب آسمان سے سنی ہوئی بات صحیح ہو جاتی ہے تو اس کے ماننے والوں کی طرف سے) کہا جاتا ہے کہ کیا فلاں فلاں دن اس (جادو گر یا کاہن) نے ہمیں اس طرح نہیں کہا تھا؟ تو اس ایک بات کی وجہ سے جو شیطان نے آسمان سے سنی تھی کاہن یا ساحر کی بات کو سچا سمجھ لیا جاتا ہے۔“
(اے نبیؐ) اِن سے پوچھو، "کون تم کو آسمانوں اور زمین سے رزق دیتا ہے؟" کہو "اللہ اب لامحالہ ہم میں اور تم میں سے کوئی ایک ہی ہدایت پر ہے یا کھلی گمراہی میں پڑا ہوا ہے"
مولانا محمد جوناگڑھی
پوچھیئے کہ تمہیں آسمانوں اور زمین سے روزی کون پہنچاتا ہے؟ (خود) جواب دیجیئے! کہ اللہ تعالیٰ۔ (سنو) ہم یا تم۔ یا تو یقیناً ہدایت پر ہیں یا کھلی گمراہی میں ہیں؟
احمد رضا خان بریلوی
تم فرماؤ کون جو تمہیں روزی دیتا ہے آسمانوں اور زمین سے تم خود ہی فرماؤ اللہ اور بیشک ہم یا تم یا تو ضرور ہدایت پر ہیں یا کھلی گمراہی میں
علامہ محمد حسین نجفی
آپ کہیے! کہ آسمانوں اور زمین سے تمہیں کون روزی دیتا ہے؟ (پھر) فرمائیے! کہ اللہ! اور بے شک ہم یا تم ہدایت پر ہیں یا کھلی ہوئی گمراہی میں ہیں؟ ۔
عبدالسلام بن محمد
کہہ تمھیں آسمانوں اور زمین سے رزق کون دیتا ہے؟ کہہ دے اللہ۔ اور بے شک ہم یا تم ضرور ہدایت پر ہیں، یا کھلی گمراہی میں ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
اللہ عزوجل کی صفات ٭٭
اللہ تعالیٰ اس بات کو ثابت کر رہا ہے کہ صرف وہی خالق و رازق ہے اور صرف وہی الوہیت والا ہے۔ جیسے ان لوگوں کو اس کا اقرار ہے کہ آسمان سے بارشیں برسانے والا زمینوں سے اناج اگانے والا صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے ایسے ہی انہیں یہ بھی مان لینا چاہئے کہ عبادت کے لائق بھی فقط وہی ہے۔ پھر فرماتا ہے کہ جب ہم تم میں اتنا بڑا اختلاف ہے تو لامحالہ ایک ہدایت پر اور دوسرا ضلالت پر ہے یہ نہیں ہو سکتا کہ دونوں فریق ہدایت پر ہوں یا دونوں ضلالت پر ہوں۔ ہم موحد ہیں اور توحید کے دلائل کھلم کھلا اور واضح ہم بیان کر چکے ہیں اور تم شرک پر ہو جس کی دلیل تمہارے پاس نہیں۔ پس یقیناً ہم ہدایت پر اور یقیناً تم ضلالت پر ہو۔ اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے مشرکوں سے یہی کہا تھا کہ ہم فریقین میں سے ایک ضرور سچا ہے۔ کیونکہ اس قدر تضاد و تباین کے بعد دونوں کا سچا ہونا تو عقلاً محال ہے۔ اس آیت کے ایک معنی یہ بھی بیان کئے گئے ہیں کہ ہم ہی ہدات پر اور تم ضلالت پر ہو، ہمارا تمہارا بالکل کوئی تعلق نہیں۔ ہم تم سے اور تمہارے اعمال سے بری الذمہ ہیں۔ ہاں جس راہ ہم چل رہے ہیں اسی راہ پر تم بھی آ جاؤ تو بیشک تم ہمارے ہو اور ہم تمہارے ہیں ورنہ ہم تم میں کوئی تعلق نہیں۔ اور ایک آیت میں بھی ہے کہ اگر یہ تجھے جھٹلائیں تو کہہ دے کہ میرا عمل میرے ساتھ ہے اور تمہارا عمل تمہارے ساتھ ہے، تم میرے اعمال سے چڑتے ہو اور میں تمہارے کرتوت سے بیزار ہوں۔
سورۃ «قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ ١ لَا أَعْبُدُ مَا تَعْبُدُونَ ٢ وَلَا أَنتُمْ عَابِدُونَ مَا أَعْبُدُ ٣ وَلَا أَنَا عَابِدٌ مَّا عَبَدتُّمْ ٤ وَلَا أَنتُمْ عَابِدُونَ مَا أَعْبُدُ ٥ لَكُمْ دِينُكُمْ وَلِيَ دِينِ ٦» ۱؎ [109-الكافرون:1] الخ، میں بھی اسی بےتعلقی اور برات کا ذکر ہے، رب العالمین تمام عالم کو میدان قیامت میں اکٹھا کر کے سچے فیصلے کر دے گا۔ نیکوں کو ان کی جزا اور بدوں کو ان کی سزا دے گا۔ اسی دن تمہیں ہماری حقانیت و صداقت معلوم ہو جائے گی۔ جیسے ارشاد ہے «وَيَوْمَ تَقُوْمُ السَّاعَةُ يَوْمَىِٕذٍ يَّتَفَرَّقُوْنَ» ۱؎ [30-الروم:14-16] الخ، ’ قیامت کے دن سب جدا جدا ہو جائیں گے۔ ایماندار جنت کے پاک باغوں میں خوش وقت و فرحان ہوں گے اور ہماری آیتوں اور آخرت کے دن کو جھٹلانے والے، کفر کرنے والے، دوزخ کے گڑھوں میں حیران و پریشان ہوں گے۔ ‘ وہ حاکم و عادل ہے، حقیقت کا پورا علم ہے، تم اپنے ان معبودوں کو ذرا مجھے بھی تو دکھاؤ۔ لیکن کہاں سے ثبوت دے سکو گے۔ جبکہ میرا رب لانظیر، بےشریک اور عدیم المثیل ہے، وہ اکیلا ہے، وہ ذی عزت ہے جس نے سب کو اپنے قبضے میں کر رکھا ہے اور ہر ایک پر غالب آ گیا ہے۔ حکیم ہے اپنے اقوال و افعال میں۔ اس طرح شریعت اور تقدیر میں بھی۔ برکتوں والا بلندیوں والا پاک منزہ اور مشرکوں کی تمام تہمتوں سے الگ ہے۔
24۔ 1 ظاہر بات ہے گمراہی پر وہی ہوگا جو ایسی چیزوں کو معبود سمجھتا ہے جن کا آسمان و زمین سے روزی پہنچانے میں کوئی حصہ نہیں ہے، نہ وہ بارش برسا سکتے ہیں، نہ کچھ اگاہ سکتے ہیں۔ اس لئے حق پر یقین اہل توحید ہی ہیں، نہ کہ دونوں۔
(آیت 24) ➊ { قُلْ مَنْ يَّرْزُقُكُمْ مِّنَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ قُلِ اللّٰهُ:} پچھلی آیت میں بیان کرنے کے بعد کہ مشرکین کے بنائے ہوئے شرکاء کائنات میں ایک ذرے کے مالک نہیں، بلکہ سب کا مالک ایک اللہ تعالیٰ ہے، اب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیا کہ ان سے اس بات کا اقرار کروائیں کہ کائنات میں ہر ایک کو رزق بھی وہ اکیلا ہی دے رہا ہے۔ چنانچہ فرمایا، ان سے کہو آسمان سے بارش برسا کر، سورج، چاند اور ستاروں سے گرمی، توانائی اور روشنی بہم پہنچا کر اور تمھارے فائدے کے لیے ہر چیز مسخر کر کے زمین سے تمھارے لیے اور تمھارے چوپاؤں کے لیے خوراک اور زندگی کی ہر ضرورت کون مہیا کرتا ہے؟ یہ سب دل سے مانتے ہیں کہ وہ اللہ ہی ہے، اس لیے اس کا انکار نہیں کر سکتے کہ وہ اللہ تعالیٰ ہے، مگر ان کے لیے اقرار بھی مشکل ہے، کیونکہ اس سے ان کے شرک کی عمارت ڈھے جاتی ہے، کیونکہ وہ اس کا جواز پیش نہیں کر سکتے کہ رزق تو اللہ دے اور عبادت کسی اور کی ہو، اس لیے لامحالہ وہ خاموشی اختیار کریں گے۔ تو اس موقع پر آپ خود اعلان کریں کہ وہ تو صرف اللہ تعالیٰ ہے۔ ➋ { وَ اِنَّاۤ اَوْ اِيَّاكُمْ لَعَلٰى هُدًى …:} یعنی ہم دو فریق بن چکے ہیں، ایک وہ جو آسمان و زمین میں ایک اللہ ہی کو رزاق مانتے ہیں اور اسی کی عبادت کرتے ہیں۔ دوسرے وہ جو اس کے ساتھ ایسی ہستیوں کو شریک بناتے ہیں جو نہ کائنات کے ایک ذرے کے مالک ہیں، نہ کسی کا نفع و نقصان یا رزق ان کے اختیار میں ہے، اور ہم دونوں میں سے ایک گروہ یا ہدایت پر ہے یا واضح گمراہی میں مبتلا ہے، تم خود فیصلہ کر لو کہ ہدایت پر کون ہے اور گمراہ کون؟ اس کا یہ مطلب نہیں کہ اس بات میں کوئی شک ہے کہ ایک رب کو رزاق مان کر اسی کی عبادت کرنے والے حق پر ہیں اور ان کے مخالف باطل پر، بلکہ نہایت حکیمانہ طریقے سے دونوں چیزیں مخاطب کے سامنے رکھ کر خود اس سے انصاف طلب کیا گیا ہے، کیونکہ اس کے پاس کوئی چارہ نہیں کہ وہ کہے دونوں گمراہ ہیں، نہ یہ کہ دونوں حق پر ہیں۔ لا محالہ اسے ماننا پڑے گا کہ ہدایت پر وہی ہے جو اللہ تعالیٰ کو زمین و آسمان کا خالق و رازق ماننے کے بعد عبادت بھی اسی کی کرتا ہے اور وہ شخص یقینا کھلی گمراہی میں ہو گا جو اللہ تعالیٰ کو خالق و رازق تو مانتا ہے، مگر عبادت دوسروں کی کرتا ہے، لہٰذا آپ اپنے منہ سے کہنے کے بجائے کہ مشرک باطل پر ہے، اسے فیصلے کا موقع دے کر اس مقام پر لے آئیں کہ وہ خود کہے کہ ایک اللہ کی عبادت کرنے والا حق پر ہے اور اس کے ساتھ شریک ٹھہرانے والا باطل پر ہے۔ ➌ اس آیت سے معلوم ہوا کہ یہ کہنا غلط ہے کہ جو جہاں لگا ہوا ہے ٹھیک ہے، یا اپنی جگہ سب لوگ ہی درست ہیں، بلکہ حق ایک ہے اور جو حق پر نہیں وہ باطل پر ہے۔ باہم متضاد باتیں دونوں حق نہیں ہو سکتیں، مثلاً یہ نہیں ہو سکتا کہ یہ بھی حق ہو کہ ہر نشہ آور چیز حرام ہے اور یہ بھی حق ہو کہ ہر نشہ آور چیز حرام نہیں۔ نہ ایک مسئلے میں چار متضاد مذہب حق ہو سکتے ہیں۔
ان سے کہو، "جو قصور ہم نے کیا ہو اس کی کوئی باز پرس تم سے نہ ہو گی اور جو کچھ تم کر رہے ہو اس کی کوئی جواب طلبی ہم سے نہیں کی جائے گی"
مولانا محمد جوناگڑھی
کہہ دیجیئے! کہ ہمارے کئے ہوئے گناہوں کی بابت تم سے کوئی سوال نہ کیا جائے گا نہ تمہارے اعمال کی بازپرس ہم سے کی جائے گی
احمد رضا خان بریلوی
تم فرماؤ ہم نے تمہارے گمان میں اگر کوئی جرم کیا تو اس کی تم سے پوچھ نہیں، نہ تمہارے کوتکوں کا ہم سے سوال
علامہ محمد حسین نجفی
آپ کہہ دیجئے! کہ تم سے ہمارے جرائم کی بابت بازپرس نہیں ہوگی اور نہ ہم سے تمہارے اعمال کے بارے میں سوال ہوگا۔
عبدالسلام بن محمد
کہہ دے نہ تم سے اس کے بارے میں پوچھا جائے گا جو ہم نے جرم کیا اور نہ ہم سے اس کے بارے میں پوچھا جائے گا جو تم کرتے ہو۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
اللہ عزوجل کی صفات ٭٭
اللہ تعالیٰ اس بات کو ثابت کر رہا ہے کہ صرف وہی خالق و رازق ہے اور صرف وہی الوہیت والا ہے۔ جیسے ان لوگوں کو اس کا اقرار ہے کہ آسمان سے بارشیں برسانے والا زمینوں سے اناج اگانے والا صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے ایسے ہی انہیں یہ بھی مان لینا چاہئے کہ عبادت کے لائق بھی فقط وہی ہے۔ پھر فرماتا ہے کہ جب ہم تم میں اتنا بڑا اختلاف ہے تو لامحالہ ایک ہدایت پر اور دوسرا ضلالت پر ہے یہ نہیں ہو سکتا کہ دونوں فریق ہدایت پر ہوں یا دونوں ضلالت پر ہوں۔ ہم موحد ہیں اور توحید کے دلائل کھلم کھلا اور واضح ہم بیان کر چکے ہیں اور تم شرک پر ہو جس کی دلیل تمہارے پاس نہیں۔ پس یقیناً ہم ہدایت پر اور یقیناً تم ضلالت پر ہو۔ اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے مشرکوں سے یہی کہا تھا کہ ہم فریقین میں سے ایک ضرور سچا ہے۔ کیونکہ اس قدر تضاد و تباین کے بعد دونوں کا سچا ہونا تو عقلاً محال ہے۔ اس آیت کے ایک معنی یہ بھی بیان کئے گئے ہیں کہ ہم ہی ہدات پر اور تم ضلالت پر ہو، ہمارا تمہارا بالکل کوئی تعلق نہیں۔ ہم تم سے اور تمہارے اعمال سے بری الذمہ ہیں۔ ہاں جس راہ ہم چل رہے ہیں اسی راہ پر تم بھی آ جاؤ تو بیشک تم ہمارے ہو اور ہم تمہارے ہیں ورنہ ہم تم میں کوئی تعلق نہیں۔ اور ایک آیت میں بھی ہے کہ اگر یہ تجھے جھٹلائیں تو کہہ دے کہ میرا عمل میرے ساتھ ہے اور تمہارا عمل تمہارے ساتھ ہے، تم میرے اعمال سے چڑتے ہو اور میں تمہارے کرتوت سے بیزار ہوں۔
سورۃ «قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ ١ لَا أَعْبُدُ مَا تَعْبُدُونَ ٢ وَلَا أَنتُمْ عَابِدُونَ مَا أَعْبُدُ ٣ وَلَا أَنَا عَابِدٌ مَّا عَبَدتُّمْ ٤ وَلَا أَنتُمْ عَابِدُونَ مَا أَعْبُدُ ٥ لَكُمْ دِينُكُمْ وَلِيَ دِينِ ٦» ۱؎ [109-الكافرون:1] الخ، میں بھی اسی بےتعلقی اور برات کا ذکر ہے، رب العالمین تمام عالم کو میدان قیامت میں اکٹھا کر کے سچے فیصلے کر دے گا۔ نیکوں کو ان کی جزا اور بدوں کو ان کی سزا دے گا۔ اسی دن تمہیں ہماری حقانیت و صداقت معلوم ہو جائے گی۔ جیسے ارشاد ہے «وَيَوْمَ تَقُوْمُ السَّاعَةُ يَوْمَىِٕذٍ يَّتَفَرَّقُوْنَ» ۱؎ [30-الروم:14-16] الخ، ’ قیامت کے دن سب جدا جدا ہو جائیں گے۔ ایماندار جنت کے پاک باغوں میں خوش وقت و فرحان ہوں گے اور ہماری آیتوں اور آخرت کے دن کو جھٹلانے والے، کفر کرنے والے، دوزخ کے گڑھوں میں حیران و پریشان ہوں گے۔ ‘ وہ حاکم و عادل ہے، حقیقت کا پورا علم ہے، تم اپنے ان معبودوں کو ذرا مجھے بھی تو دکھاؤ۔ لیکن کہاں سے ثبوت دے سکو گے۔ جبکہ میرا رب لانظیر، بےشریک اور عدیم المثیل ہے، وہ اکیلا ہے، وہ ذی عزت ہے جس نے سب کو اپنے قبضے میں کر رکھا ہے اور ہر ایک پر غالب آ گیا ہے۔ حکیم ہے اپنے اقوال و افعال میں۔ اس طرح شریعت اور تقدیر میں بھی۔ برکتوں والا بلندیوں والا پاک منزہ اور مشرکوں کی تمام تہمتوں سے الگ ہے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 25) {قُلْ لَّا تُسْـَٔلُوْنَ عَمَّاۤ اَجْرَمْنَا …:} یہ بھی بحث و مناظرہ میں حکمت و شائستگی برتنے کی تعلیم ہے، یعنی باوجود یہ کہ مسلمان حق پر ہیں اور ان کے اعمال نیک ہیں، مگر انھیں چاہیے کہ مخاطب کو یوں کہہ کر غور و فکر کی دعوت دیں کہ اپنے صغیرہ گناہوں کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنے لیے جرم کا لفظ استعمال کریں اور ان کے کفرو شرک اور کبیرہ گناہوں کے لیے لفظ ”عمل“ استعمال کریں کہ تم سے اس کے بارے میں سوال نہیں ہو گا جو ہم نے جرم کیے اور ہم سے اس کے بارے میں نہیں پوچھا جائے گا جو عمل تم کر رہے ہو۔ اپنے لیے ماضی کا لفظ {” اَجْرَمْنَا “} استعمال کرنے کا حکم دیا اور ان کے لیے مضارع کا لفظ {” تَعْمَلُوْنَ“} استعمال کرنے کا حکم دیا، یعنی فرض کرو ہم مجرم ہیں تو اس کا خمیازہ ہم بھگتیں گے، تم سے اس کی باز پرس نہیں ہو گی اور تمھارا کوئی عمل گرفت کے قابل ہوا تو اس کی بازپرس تم سے ہو گی، ہم سے نہیں۔ لہٰذا ہم میں سے ہر ایک کو اپنا فائدہ مدنظر رکھنا چاہیے کہ کہیں ہم غلط راستے پر تو نہیں جا رہے۔ ابن کثیر رحمہ اللہ نے فرمایا، اس کا مطلب ان سے براء ت کا اظہار ہے، یعنی نہ تم ہمارے ہو نہ ہم تمھارے، بلکہ ہم تمھیں اللہ تعالیٰ کی طرف، اس کی توحید اور اس اکیلے کی عبادت کی طرف دعوت دیتے ہیں، اگر تم قبول کر لو تو تم ہمارے اور ہم تمھارے ہو گئے اور اگر نہ مانو تو ہم تم سے بری ہیں اور تم ہم سے بری ہو، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «وَ اِنْ كَذَّبُوْكَ فَقُلْ لِّيْ عَمَلِيْ وَ لَكُمْ عَمَلُكُمْ اَنْتُمْ بَرِيْٓـُٔوْنَ مِمَّاۤ اَعْمَلُ وَ اَنَا بَرِيْٓءٌ مِّمَّا تَعْمَلُوْنَ» [ یونس: ۴۱ ] ” اور اگر وہ تجھے جھٹلائیں تو کہہ دے میرے لیے میرا عمل ہے اور تمھارے لیے تمھارا عمل، تم اس سے بری ہو جو میں کرتا ہوں اور میں اس سے بری ہوں جو تم کر رہے ہو۔“ اور فرمایا: «قُلْ يٰۤاَيُّهَا الْكٰفِرُوْنَ (1) لَاۤ اَعْبُدُ مَا تَعْبُدُوْنَ (2) وَ لَاۤ اَنْتُمْ عٰبِدُوْنَ مَاۤ اَعْبُدُ (3) وَ لَاۤ اَنَا عَابِدٌ مَّا عَبَدْتُّمْ (4) وَ لَاۤ اَنْتُمْ عٰبِدُوْنَ مَاۤ اَعْبُدُ (5) لَكُمْ دِيْنُكُمْ وَ لِيَ دِيْنِ» [ الکافرون: ۱ تا ۶ ] ”کہہ دے اے کافرو! میں اس کی عبادت نہیں کرتا جس کی تم عبادت کرتے ہو۔ اور نہ تم اس کی عبادت کرنے والے ہو جس کی میں عبادت کرتا ہوں۔ اور نہ میں اس کی عبادت کرنے والا ہوں جس کی عبادت تم نے کی۔ اور نہ تم اس کی عبادت کرنے والے ہو جس کی عبادت میں کرتا ہوں۔ تمھارے لیے تمھارا دین اور میرے لیے میرا دین ہے۔“
کہو، "ہمارا رب ہم کو جمع کرے گا، پھر ہمارے درمیان ٹھیک ٹھیک فیصلہ کر دے گا وہ ایسا زبردست حاکم ہے جو سب کچھ جانتا ہے"
مولانا محمد جوناگڑھی
انہیں خبر دے دیجیئے کہ ہم سب کو ہمارا رب جمع کرکے پھر ہم میں سچے فیصلے کردے گا۔ وه فیصلے چکانے واﻻ ہے اور دانا
احمد رضا خان بریلوی
تم فرماؤ ہمارا رب ہم سب کو جمع کرے گا پھر ہم میں سچا فیصلہ فرمادے گا اور وہی ہے بڑا نیاؤ چکانے (درست فیصلہ کرنے) والا سب کچھ جانتا،
علامہ محمد حسین نجفی
آپ کہیے (ایک دن) ہمارا پروردگار ہم سب کو جمع کرے گا پھر ہمارے درمیان حق کے ساتھ فیصلہ کرے گا اور وہ بڑا فیصلہ کرنے والا (حاکم اور) بڑا جاننے والا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
کہہ ہم سب کو ہمارا رب جمع کرے گا، پھر ہمارے درمیان حق کے ساتھ فیصلہ کرے گا اور وہی خوب فیصلہ کرنے والا، سب کچھ جاننے والا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
اللہ عزوجل کی صفات ٭٭
اللہ تعالیٰ اس بات کو ثابت کر رہا ہے کہ صرف وہی خالق و رازق ہے اور صرف وہی الوہیت والا ہے۔ جیسے ان لوگوں کو اس کا اقرار ہے کہ آسمان سے بارشیں برسانے والا زمینوں سے اناج اگانے والا صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے ایسے ہی انہیں یہ بھی مان لینا چاہئے کہ عبادت کے لائق بھی فقط وہی ہے۔ پھر فرماتا ہے کہ جب ہم تم میں اتنا بڑا اختلاف ہے تو لامحالہ ایک ہدایت پر اور دوسرا ضلالت پر ہے یہ نہیں ہو سکتا کہ دونوں فریق ہدایت پر ہوں یا دونوں ضلالت پر ہوں۔ ہم موحد ہیں اور توحید کے دلائل کھلم کھلا اور واضح ہم بیان کر چکے ہیں اور تم شرک پر ہو جس کی دلیل تمہارے پاس نہیں۔ پس یقیناً ہم ہدایت پر اور یقیناً تم ضلالت پر ہو۔ اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے مشرکوں سے یہی کہا تھا کہ ہم فریقین میں سے ایک ضرور سچا ہے۔ کیونکہ اس قدر تضاد و تباین کے بعد دونوں کا سچا ہونا تو عقلاً محال ہے۔ اس آیت کے ایک معنی یہ بھی بیان کئے گئے ہیں کہ ہم ہی ہدات پر اور تم ضلالت پر ہو، ہمارا تمہارا بالکل کوئی تعلق نہیں۔ ہم تم سے اور تمہارے اعمال سے بری الذمہ ہیں۔ ہاں جس راہ ہم چل رہے ہیں اسی راہ پر تم بھی آ جاؤ تو بیشک تم ہمارے ہو اور ہم تمہارے ہیں ورنہ ہم تم میں کوئی تعلق نہیں۔ اور ایک آیت میں بھی ہے کہ اگر یہ تجھے جھٹلائیں تو کہہ دے کہ میرا عمل میرے ساتھ ہے اور تمہارا عمل تمہارے ساتھ ہے، تم میرے اعمال سے چڑتے ہو اور میں تمہارے کرتوت سے بیزار ہوں۔
سورۃ «قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ ١ لَا أَعْبُدُ مَا تَعْبُدُونَ ٢ وَلَا أَنتُمْ عَابِدُونَ مَا أَعْبُدُ ٣ وَلَا أَنَا عَابِدٌ مَّا عَبَدتُّمْ ٤ وَلَا أَنتُمْ عَابِدُونَ مَا أَعْبُدُ ٥ لَكُمْ دِينُكُمْ وَلِيَ دِينِ ٦» ۱؎ [109-الكافرون:1] الخ، میں بھی اسی بےتعلقی اور برات کا ذکر ہے، رب العالمین تمام عالم کو میدان قیامت میں اکٹھا کر کے سچے فیصلے کر دے گا۔ نیکوں کو ان کی جزا اور بدوں کو ان کی سزا دے گا۔ اسی دن تمہیں ہماری حقانیت و صداقت معلوم ہو جائے گی۔ جیسے ارشاد ہے «وَيَوْمَ تَقُوْمُ السَّاعَةُ يَوْمَىِٕذٍ يَّتَفَرَّقُوْنَ» ۱؎ [30-الروم:14-16] الخ، ’ قیامت کے دن سب جدا جدا ہو جائیں گے۔ ایماندار جنت کے پاک باغوں میں خوش وقت و فرحان ہوں گے اور ہماری آیتوں اور آخرت کے دن کو جھٹلانے والے، کفر کرنے والے، دوزخ کے گڑھوں میں حیران و پریشان ہوں گے۔ ‘ وہ حاکم و عادل ہے، حقیقت کا پورا علم ہے، تم اپنے ان معبودوں کو ذرا مجھے بھی تو دکھاؤ۔ لیکن کہاں سے ثبوت دے سکو گے۔ جبکہ میرا رب لانظیر، بےشریک اور عدیم المثیل ہے، وہ اکیلا ہے، وہ ذی عزت ہے جس نے سب کو اپنے قبضے میں کر رکھا ہے اور ہر ایک پر غالب آ گیا ہے۔ حکیم ہے اپنے اقوال و افعال میں۔ اس طرح شریعت اور تقدیر میں بھی۔ برکتوں والا بلندیوں والا پاک منزہ اور مشرکوں کی تمام تہمتوں سے الگ ہے۔
26۔ 1 یعنی اس کے مطابق جزا دے گا، نیکوں کو جنت میں اور بدوں کو جہنم میں داخل فرمائے گا۔
(آیت 26) {قُلْ يَجْمَعُ بَيْنَنَا رَبُّنَا ثُمَّ يَفْتَحُ بَيْنَنَا بِالْحَقِّ …:} عبد الرحمان کیلانی رحمہ اللہ لکھتے ہیں: ”اور اگر تم لوگ یہ سمجھتے ہو کہ آخرت کا اور جواب دہی کا تصور ہی غلط ہے تو یقین جانو کہ جو اللہ ہم سب کو عدم سے وجود میں لایا ہے، پھر ہم سب کو دوبارہ مرنے کے بعد زندہ کر کے اکٹھا کرنے کی قدرت بھی رکھتا ہے، آج تم اپنے آپ کو درست سمجھتے ہو اور ہم اپنے آپ کو درست سمجھتے ہیں، لیکن اس دن اللہ تعالیٰ ہمارے درمیان اس طرح انصاف کے ساتھ فیصلہ کر دے گا جس کی تمھیں بھی ٹھیک سمجھ آجائے گی اور اس کا فیصلہ اس لحاظ سے درست ہو گا کہ وہ ہم سب کا خالق ہے اور خالق کو اپنی بنائی ہوئی چیز کی جس قدر سمجھ ہو سکتی ہے دوسروں کو نہیں ہو سکتی۔ وہ تو تمھارے اور ہمارے ارادوں اور نیتوں تک سے واقف ہے، لہٰذا اس کے فیصلے پر کسی غلطی یا زیادتی کا امکان نہیں ہو سکتا۔“
اِن سے کہو، "ذرا مجھے دکھاؤ تو سہی وہ کون ہستیاں ہیں جنہیں تم نے اس کے ساتھ شریک لگا رکھا ہے" ہرگز نہیں، زبردست اور دانا تو بس وہ اللہ ہی ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
کہہ دیجیئے! کہ اچھا مجھے بھی تو انہیں دکھا دو جنہیں تم اللہ کا شریک ٹھہرا کر اس کے ساتھ ملا رہے ہو، ایسا ہرگز نہیں، بلکہ وہی اللہ ہے غالب باحکمت
احمد رضا خان بریلوی
تم فرماؤ مجھے دکھاؤ تو وہ شریک جو تم نے اس سے ملائے ہیں ہشت، بلکہ وہی ہے اللہ عزت والا حکمت والا،
علامہ محمد حسین نجفی
آپ کہیے! (ذرا) مجھے تو دکھاؤ وہ جنہیں تم نے شریک بنا کر اس (اللہ) کے ساتھ ملا رکھا ہے؟ ہرگز نہیں! بلکہ وہ اللہ ہی ہے جو بڑا غالب (اور) بڑا حکمت والا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
کہہ دے مجھے وہ لوگ دکھائو جنھیں تم نے شریک بنا کر اس کے ساتھ ملایا ہے۔ ہرگز نہیں، بلکہ وہی اللہ سب پر غالب، بڑی حکمت والا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
اللہ عزوجل کی صفات ٭٭
اللہ تعالیٰ اس بات کو ثابت کر رہا ہے کہ صرف وہی خالق و رازق ہے اور صرف وہی الوہیت والا ہے۔ جیسے ان لوگوں کو اس کا اقرار ہے کہ آسمان سے بارشیں برسانے والا زمینوں سے اناج اگانے والا صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے ایسے ہی انہیں یہ بھی مان لینا چاہئے کہ عبادت کے لائق بھی فقط وہی ہے۔ پھر فرماتا ہے کہ جب ہم تم میں اتنا بڑا اختلاف ہے تو لامحالہ ایک ہدایت پر اور دوسرا ضلالت پر ہے یہ نہیں ہو سکتا کہ دونوں فریق ہدایت پر ہوں یا دونوں ضلالت پر ہوں۔ ہم موحد ہیں اور توحید کے دلائل کھلم کھلا اور واضح ہم بیان کر چکے ہیں اور تم شرک پر ہو جس کی دلیل تمہارے پاس نہیں۔ پس یقیناً ہم ہدایت پر اور یقیناً تم ضلالت پر ہو۔ اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے مشرکوں سے یہی کہا تھا کہ ہم فریقین میں سے ایک ضرور سچا ہے۔ کیونکہ اس قدر تضاد و تباین کے بعد دونوں کا سچا ہونا تو عقلاً محال ہے۔ اس آیت کے ایک معنی یہ بھی بیان کئے گئے ہیں کہ ہم ہی ہدات پر اور تم ضلالت پر ہو، ہمارا تمہارا بالکل کوئی تعلق نہیں۔ ہم تم سے اور تمہارے اعمال سے بری الذمہ ہیں۔ ہاں جس راہ ہم چل رہے ہیں اسی راہ پر تم بھی آ جاؤ تو بیشک تم ہمارے ہو اور ہم تمہارے ہیں ورنہ ہم تم میں کوئی تعلق نہیں۔ اور ایک آیت میں بھی ہے کہ اگر یہ تجھے جھٹلائیں تو کہہ دے کہ میرا عمل میرے ساتھ ہے اور تمہارا عمل تمہارے ساتھ ہے، تم میرے اعمال سے چڑتے ہو اور میں تمہارے کرتوت سے بیزار ہوں۔
سورۃ «قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ ١ لَا أَعْبُدُ مَا تَعْبُدُونَ ٢ وَلَا أَنتُمْ عَابِدُونَ مَا أَعْبُدُ ٣ وَلَا أَنَا عَابِدٌ مَّا عَبَدتُّمْ ٤ وَلَا أَنتُمْ عَابِدُونَ مَا أَعْبُدُ ٥ لَكُمْ دِينُكُمْ وَلِيَ دِينِ ٦» ۱؎ [109-الكافرون:1] الخ، میں بھی اسی بےتعلقی اور برات کا ذکر ہے، رب العالمین تمام عالم کو میدان قیامت میں اکٹھا کر کے سچے فیصلے کر دے گا۔ نیکوں کو ان کی جزا اور بدوں کو ان کی سزا دے گا۔ اسی دن تمہیں ہماری حقانیت و صداقت معلوم ہو جائے گی۔ جیسے ارشاد ہے «وَيَوْمَ تَقُوْمُ السَّاعَةُ يَوْمَىِٕذٍ يَّتَفَرَّقُوْنَ» ۱؎ [30-الروم:14-16] الخ، ’ قیامت کے دن سب جدا جدا ہو جائیں گے۔ ایماندار جنت کے پاک باغوں میں خوش وقت و فرحان ہوں گے اور ہماری آیتوں اور آخرت کے دن کو جھٹلانے والے، کفر کرنے والے، دوزخ کے گڑھوں میں حیران و پریشان ہوں گے۔ ‘ وہ حاکم و عادل ہے، حقیقت کا پورا علم ہے، تم اپنے ان معبودوں کو ذرا مجھے بھی تو دکھاؤ۔ لیکن کہاں سے ثبوت دے سکو گے۔ جبکہ میرا رب لانظیر، بےشریک اور عدیم المثیل ہے، وہ اکیلا ہے، وہ ذی عزت ہے جس نے سب کو اپنے قبضے میں کر رکھا ہے اور ہر ایک پر غالب آ گیا ہے۔ حکیم ہے اپنے اقوال و افعال میں۔ اس طرح شریعت اور تقدیر میں بھی۔ برکتوں والا بلندیوں والا پاک منزہ اور مشرکوں کی تمام تہمتوں سے الگ ہے۔
27۔ 1 یعنی اس کا کوئی نظیر ہے نہ ہم سر، بلکہ وہ ہر چیز پر غالب ہے اور اس کے ہر کام اور قول میں حکمت ہے۔
(آیت 27) ➊ { قُلْ اَرُوْنِيَ الَّذِيْنَ اَلْحَقْتُمْ بِهٖ شُرَكَآءَ:} یعنی اس سے پہلے کہ آخرت میں پہنچ کر ہمارے اور تمھارے درمیان فیصلہ ہو، تم مجھے یہیں بتاؤ کہ تمھارے ان معبودوں میں کون سی ایسی بات ہے جس کی وجہ سے تم انھیں اللہ کا شریک یا اپنا معبود سمجھ رہے ہو اور ان کی حمایت پر بھروسا کر کے اللہ کے عذاب سے بے خوف ہو رہے ہو۔ ➋ { كَلَّا بَلْ هُوَ اللّٰهُ الْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُ:} نہیں، یہ ہرگز اس کے شریک نہیں ہو سکتے، بلکہ عبادت کا حق دار صرف اللہ تعالیٰ ہے، جو سب پر غالب اور کمال حکمت والا ہے، جب کہ یہ بے چارے نہ عزیز ہیں نہ حکیم، ان کے پاس بندگی و بے چارگی کے سوا کچھ ہے ہی نہیں۔
اور (اے نبیؐ،) ہم نے تم کو تمام ہی انسانوں کے لیے بشیر و نذیر بنا کر بھیجا ہے، مگر اکثر لوگ جانتے نہیں ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
ہم نے آپ کو تمام لوگوں کے لئے خوشخبریاں سنانے واﻻ اور ڈرانے واﻻ بنا کر بھیجا ہے ہاں مگر (یہ صحیح ہے) کہ لوگوں کی اکثریت بےعلم ہے
احمد رضا خان بریلوی
اور اے محبوب! ہم نے تم کو نہ بھیجا مگر ایسی رسالت سے جو تمام آدمیوں کو گھیرنے والی ہے خوشخبری دیتا اور ڈر سناتا لیکن بہت لوگ نہیں جانتے
علامہ محمد حسین نجفی
اور ہم نے آپ کو نہیں بھیجا مگر تمام انسانوں کیلئے بشیر و نذیر بنا کر مگر اکثر لوگ جانتے نہیں ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
اورہم نے تجھے نہیں بھیجا مگر تمام لوگوں کے لیے خوش خبری دینے والا اور ڈرانے والا اور لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
تمام اقوام کے لئے نبوت ٭٭
اللہ تعالیٰ اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے فرما رہا ہے کہ ہم نے تجھے تمام کائنات کی طرف اپنا رسول بنا کر بھیجا ہے۔ جیسے اور جگہ ہے «قُلْ يٰٓاَيُّھَا النَّاسُ اِنِّىْ رَسُوْلُ اللّٰهِ اِلَيْكُمْ جَمِيْعَا» ۱؎ [7-الأعراف:158] یعنی ’ اعلان کر دو کہ اے لوگو! میں تم سب کی طرف اللہ کا رسول ہوں۔ ‘ اور آیت میں ہے «تَبٰرَكَ الَّذِيْ نَزَّلَ الْفُرْقَانَ عَلٰي عَبْدِهٖ لِيَكُوْنَ لِلْعٰلَمِيْنَ نَذِيْرَا» ۱؎ [25-الفرقان:1] ’ بابرکت ہے وہ اللہ جس نے اپنے بندے پر قرآن نازل فرمایا تاکہ وہ تمام جہاں کو ہوشیار کر دے ‘ یہاں بھی فرمایا ”کہ اطاعت گزاروں کو بشارت جنت دے اور نافرمانوں کو خبر جہنم۔ لیکن اکثر لوگ اپنی جہالت سے نبی کی نبوت کو نہیں مانتے“ جیسے فرمایا «وَمَآ اَكْثَرُ النَّاسِ وَلَوْ حَرَصْتَ بِمُؤْمِنِيْنَ» ۱؎ [12-يوسف:103] ’ گو تو ہر چند چاہے تاہم اکثر لوگ بے ایمان رہیں گے۔ ‘ ایک اور جگہ ارشاد ہوا اگر بڑی جماعت کی بات مانے گا تو وہ خود تجھے راہ راست سے ہٹا دیں گے۔ پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت عام لوگوں کی طرف ہے۔ عرب و عجم سب کی طرف سے اللہ کو زیادہ پیارا وہ ہے جو سب سے زیادہ اس کا تابع فرمان ہو۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو آسمان والوں اور نبیوں پر غرض سب پر فضیلت دی ہے۔ لوگوں نے اس کی دلیل دریافت کی تو آپ نے فرمایا دیکھو قرآن فرماتا ہے کہ ہر رسول کو اس کی قوم کی زبان کے ساتھ بھیجا۔ تاکہ وہ اس میں کھلم کھلا تبلیغ کر دے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت فرماتا ہے کہ ہم نے تجھے عام لوگوں کی طرف اپنا رسول صلی اللہ علیہ وسلم بنا کر بھیجا۔ بخاری و مسلم میں فرمان رسالت مآب ہے کہ { مجھے پانچ صفتیں ایسی دی گئی ہیں جو مجھ سے پہلے کسی نبی کو نہیں دی گئیں۔ مہینہ بھر کی راہ تک میری مدد صرف رعب سے کی گئی ہے۔ میرے لیے ساری زمین مسجد اور پاک بنائی گئی ہے۔ میری امت میں سے جس کسی کو جس جگہ نماز کا وقت آ جائے وہ اسی جگہ نماز پڑھ لے۔ مجھ سے پہلے کسی نبی کے لیے غنیمت کا مال حلال نہ تھا میرے لیے غنیمت حلال کر دی گئی۔ مجھے شفاعت دی گئی۔ ہر نبی صرف اپنی قوم کی طرف بھیجا جاتا تھا۔ اور میں تمام لوگوں کی طرف بھیجا گیا ہوں۔ } ۱؎ [صحیح مسلم:3521] اور حدیث میں ہے { سیاہ و سرخ سب کی طرف میں نبی بنا کر بھیجا گیا ہوں۔ } ۱؎ [صحیح مسلم:3] یعنی جن و انس، عرب و عجم کی طرف، پھر کافروں کا قیامت کو محال ماننا بیان ہو رہا ہے کہ پوچھتے ہیں قیامت کب آئے گی؟ جیسے اور جگہ ہے بے ایمان تو اس کی جلدی مچا رہے ہیں اور با ایمان اس سے کپکپا رہے ہیں اور اسے حق جانتے ہیں۔ ۱؎ [42-الشورى:18] جواب دیتا ہے کہ تمہارے لیے وعدے کا دن مقرر ہو چکا ہے جس میں تقدیم و تاخیر کمی و زیادتی ناممکن ہے۔ جیسے فرمان ہے «اِنَّ اَجَلَ اللّٰهِ اِذَا جَاءَ لَا يُؤَخَّرُ ۘ لَوْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ» ۱؎ [71-نوح:4] اور فرمایا «وَمَا نُؤَخِّرُهٗٓ اِلَّا لِاَجَلٍ مَّعْدُوْدٍ» ۱؎ [11-هود:104-105] الخ یعنی ’ وہ مقررہ وقت پیچھے ہٹنے کا نہیں۔ تمہیں اس وقت مقررہ وقت تک ڈھیل ہے جب وہ دن آ گیا پھر تو کوئی لب بھی نہ ہلا سکے گا۔ اس دن بعض نیک بخت ہوں گے اور بعض بدبخت۔ ‘
28۔ 1 اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے ایک تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت عامہ کا بیان فرمایا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پوری نسل انسانیت کا ہادی اور رہنما بنا کر بھیجا گیا ہے۔ دوسرا، یہ بیان فرمایا کہ اکثر لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خواہش اور کوشش کے باوجود ایمان سے محروم رہیں گے۔ ان دونوں باتوں کی و ضاحت اور بھی دوسرے مقامات پر فرمائی ہے۔ مثلا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کے ضمن میں فرمایا، (قُلْ يٰٓاَيُّھَا النَّاسُ اِنِّىْ رَسُوْلُ اللّٰهِ اِلَيْكُمْ) 7۔ الاعراف:158) (تَبٰرَكَ الَّذِيْ نَزَّلَ الْفُرْقَانَ عَلٰي عَبْدِهٖ لِيَكُوْنَ لِلْعٰلَمِيْنَ نَذِيْرَۨا) 25۔ الفرقان:1) ایک حدیث میں ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ' مجھے پانچ چیزیں ایسی دی گئی ہیں جو مجھ سے پہلے کسی نبی کو نہیں دی گئیں 1۔ مہینے کی مسافت پر دشمن کے دل میں میری دھاک بٹھانے میں میری مدد فرمائی گئی ہے۔ 2۔ تمام روئے زمین میرے لئے مسجد اور پاک ہے، جہاں بھی نماز کا وقت آجائے، میری امت وہاں نماز ادا کر دے۔ 3۔ مال غنیمت میرے لئے حلال کردیا گیا، جو مجھ سے قبل کسی کے لئے حلال نہیں تھا۔ 4۔ مجھے شفاعت کا حق دیا گیا ہے۔ 5۔ پہلے نبی صرف اپنی قوم کی طرف بھیجا جاتا تھا، مجھے کائنات کے تمام انسانوں کے لئے نبی بنا کر بھیجا ہے (صحیح بخاری صحیح مسلم، کتاب المساجد) احمر اسود سے مراد بعض نے جن وانس اور بعض نے عرب وعجم لیے ہیں امام ابن کثیر فرماتے ہیں دونوں ہی معنی صحیح ہیں۔ اسی طرح اکثر کی بےعلمی اور گمراہی کی وضاحت فرمائی (وَمَآ اَكْثَرُ النَّاسِ وَلَوْ حَرَصْتَ بِمُؤْمِنِيْنَ) 12۔ یوسف:13) آپ کی خواہش کے باوجود اکثر لوگ ایمان نہیں لائیں گے (وَاِنْ تُطِعْ اَكْثَرَ مَنْ فِي الْاَرْضِ يُضِلُّوْكَ عَنْ سَبِيْلِ اللّٰهِ) 6۔ الانعام:116) اگر آپ اہل زمین کی اکثریت کے پیچھے چلیں گے تو وہ آپ کو گمراہ کردیں گے جس کا مطلب یہی ہوا کہ اکثریت گمراہوں کی ہے
(آیت 28) ➊ {وَ مَاۤ اَرْسَلْنٰكَ اِلَّا كَآفَّةً لِّلنَّاسِ: ” كَآفَّةً “} بمعنی {”عَامَّةً“} ہے، یہ {”اَلنَّاسُ“} سے حال ہے، یعنی ہم نے تجھے نہیں بھیجا، مگر تمام لوگوں کی طرف۔ آخرت اور توحید کے بیان کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کا بیان فرمایا۔ داؤد و سلیمان علیھما السلام کو نبوت کے ساتھ ایسی بادشاہت عطا ہوئی جو ان کا خاصہ تھی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسی رسالت عطا ہوئی جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سوا کسی نبی کو عطا نہیں ہوئی۔ وہ یہ کہ پہلے تمام انبیاء صرف اپنی قوم کی طرف مبعوث ہوتے تھے اور ان کی دعوت محدود وقت تک کے لوگوں کے لیے ہوتی تھی، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو روئے زمین کی تمام اقوام اور سب لوگوں کی طرف مبعوث کیا گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت قیامت تک کے لوگوں کے لیے ہے۔ مزید دیکھیے سورۂ اعراف (۱۵۸)، انبیاء (۱۰۷) اور سورۂ فرقان (۱) کی تفسیر۔ ➋ {” كَآفَّةً “} کا ایک اور معنی بھی کیا گیا ہے کہ {”كَفَّ يَكُفُّ كَفًّا“} (ن) کا معنی روکنا ہے اور {” كَآفَّةً “} میں تاء تانیث کی نہیں، بلکہ مبالغہ کی ہے، جیسا کہ {”عَلَّامَةٌ“} اور {”رَاوِيَةٌ“} میں ہے، بہت روکنے والا، یعنی ہم نے تجھے لوگوں کو (ضلالت سے) بہت روکنے والا ہی بنا کر بھیجا ہے۔ یہ معنی بھی درست ہے۔ ➌ { بَشِيْرًا وَّ نَذِيْرًا:} یعنی آپ کی دعوت میں بشارت و نذارت دونوں جمع ہیں، اطاعت کرنے والوں کے لیے خوش خبری دینا اور نہ ماننے والوں کو عذابِ الٰہی سے ڈرانا۔ ➍ {وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُوْنَ:} یعنی اکثر لوگ آپ کی قدرو منزلت نہیں جانتے، انھیں احساس نہیں کہ کیسی عظیم الشّان ہستی کی بعثت سے انھیں نوازا گیا ہے، اس لیے جہل کی وجہ سے وہ آپ کی مخالفت اور عداوت پر کمر بستہ ہیں۔
یہ لوگ تم سے کہتے ہیں کہ وہ (قیامت کا) وعدہ کب پورا ہو گا اگر تم سچے ہو؟
مولانا محمد جوناگڑھی
پوچھتے ہیں کہ وه وعده ہے کب؟ سچے ہو تو بتا دو
احمد رضا خان بریلوی
اور کہتے ہیں یہ وعدہ کب آئے گا اگر تم سچے ہو،
علامہ محمد حسین نجفی
اور وہ کہتے ہیں کہ اگر تم سچے ہو تو (بتاؤ) یہ وعدہ وعید کب پورا ہوگا؟
عبدالسلام بن محمد
اور وہ کہتے ہیں یہ وعدہ کب (پورا) ہوگا، اگر تم سچے ہو؟
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
تمام اقوام کے لئے نبوت ٭٭
اللہ تعالیٰ اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے فرما رہا ہے کہ ہم نے تجھے تمام کائنات کی طرف اپنا رسول بنا کر بھیجا ہے۔ جیسے اور جگہ ہے «قُلْ يٰٓاَيُّھَا النَّاسُ اِنِّىْ رَسُوْلُ اللّٰهِ اِلَيْكُمْ جَمِيْعَا» ۱؎ [7-الأعراف:158] یعنی ’ اعلان کر دو کہ اے لوگو! میں تم سب کی طرف اللہ کا رسول ہوں۔ ‘ اور آیت میں ہے «تَبٰرَكَ الَّذِيْ نَزَّلَ الْفُرْقَانَ عَلٰي عَبْدِهٖ لِيَكُوْنَ لِلْعٰلَمِيْنَ نَذِيْرَا» ۱؎ [25-الفرقان:1] ’ بابرکت ہے وہ اللہ جس نے اپنے بندے پر قرآن نازل فرمایا تاکہ وہ تمام جہاں کو ہوشیار کر دے ‘ یہاں بھی فرمایا ”کہ اطاعت گزاروں کو بشارت جنت دے اور نافرمانوں کو خبر جہنم۔ لیکن اکثر لوگ اپنی جہالت سے نبی کی نبوت کو نہیں مانتے“ جیسے فرمایا «وَمَآ اَكْثَرُ النَّاسِ وَلَوْ حَرَصْتَ بِمُؤْمِنِيْنَ» ۱؎ [12-يوسف:103] ’ گو تو ہر چند چاہے تاہم اکثر لوگ بے ایمان رہیں گے۔ ‘ ایک اور جگہ ارشاد ہوا اگر بڑی جماعت کی بات مانے گا تو وہ خود تجھے راہ راست سے ہٹا دیں گے۔ پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت عام لوگوں کی طرف ہے۔ عرب و عجم سب کی طرف سے اللہ کو زیادہ پیارا وہ ہے جو سب سے زیادہ اس کا تابع فرمان ہو۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو آسمان والوں اور نبیوں پر غرض سب پر فضیلت دی ہے۔ لوگوں نے اس کی دلیل دریافت کی تو آپ نے فرمایا دیکھو قرآن فرماتا ہے کہ ہر رسول کو اس کی قوم کی زبان کے ساتھ بھیجا۔ تاکہ وہ اس میں کھلم کھلا تبلیغ کر دے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت فرماتا ہے کہ ہم نے تجھے عام لوگوں کی طرف اپنا رسول صلی اللہ علیہ وسلم بنا کر بھیجا۔ بخاری و مسلم میں فرمان رسالت مآب ہے کہ { مجھے پانچ صفتیں ایسی دی گئی ہیں جو مجھ سے پہلے کسی نبی کو نہیں دی گئیں۔ مہینہ بھر کی راہ تک میری مدد صرف رعب سے کی گئی ہے۔ میرے لیے ساری زمین مسجد اور پاک بنائی گئی ہے۔ میری امت میں سے جس کسی کو جس جگہ نماز کا وقت آ جائے وہ اسی جگہ نماز پڑھ لے۔ مجھ سے پہلے کسی نبی کے لیے غنیمت کا مال حلال نہ تھا میرے لیے غنیمت حلال کر دی گئی۔ مجھے شفاعت دی گئی۔ ہر نبی صرف اپنی قوم کی طرف بھیجا جاتا تھا۔ اور میں تمام لوگوں کی طرف بھیجا گیا ہوں۔ } ۱؎ [صحیح مسلم:3521] اور حدیث میں ہے { سیاہ و سرخ سب کی طرف میں نبی بنا کر بھیجا گیا ہوں۔ } ۱؎ [صحیح مسلم:3] یعنی جن و انس، عرب و عجم کی طرف، پھر کافروں کا قیامت کو محال ماننا بیان ہو رہا ہے کہ پوچھتے ہیں قیامت کب آئے گی؟ جیسے اور جگہ ہے بے ایمان تو اس کی جلدی مچا رہے ہیں اور با ایمان اس سے کپکپا رہے ہیں اور اسے حق جانتے ہیں۔ ۱؎ [42-الشورى:18] جواب دیتا ہے کہ تمہارے لیے وعدے کا دن مقرر ہو چکا ہے جس میں تقدیم و تاخیر کمی و زیادتی ناممکن ہے۔ جیسے فرمان ہے «اِنَّ اَجَلَ اللّٰهِ اِذَا جَاءَ لَا يُؤَخَّرُ ۘ لَوْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ» ۱؎ [71-نوح:4] اور فرمایا «وَمَا نُؤَخِّرُهٗٓ اِلَّا لِاَجَلٍ مَّعْدُوْدٍ» ۱؎ [11-هود:104-105] الخ یعنی ’ وہ مقررہ وقت پیچھے ہٹنے کا نہیں۔ تمہیں اس وقت مقررہ وقت تک ڈھیل ہے جب وہ دن آ گیا پھر تو کوئی لب بھی نہ ہلا سکے گا۔ اس دن بعض نیک بخت ہوں گے اور بعض بدبخت۔ ‘
29۔ 1 یہ بطور مذاق پوچھتے تھے، کیونکہ اس کا وقوع ان کے نزدیک بعید اور ناممکن تھا۔
(آیت 29){ وَ يَقُوْلُوْنَ مَتٰى هٰذَا الْوَعْدُ …:} یعنی جس وقت کے متعلق تم نے ابھی کہا ہے کہ ”ہم سب کو ہمارا رب جمع کرے گا، پھر ہمارے درمیان حق کے ساتھ فیصلہ کرے گا“ وہ وقت آخر کب آئے گا؟ ان کے پوچھنے کا مطلب یہ نہیں تھا کہ اس وقت کا علم ہونے پر وہ اس کے لیے تیاری کرنا چاہتے تھے، بلکہ یہ کہہ کر وہ قیامت کو جھٹلا رہے تھے اور اس کا مذاق اڑا رہے تھے، کیونکہ آخرت پر ایمان رکھنے والے اس کے جلدی لانے کا مطالبہ نہیں کیا کرتے، بلکہ اس سے خوف زدہ رہتے ہیں۔ دیکھیے سورۂ شوریٰ (۱۸)۔
کہو تمہارے لیے ایک ایسے دن کی میعاد مقرر ہے جس کے آنے میں نہ ایک گھڑی بھر کی تاخیر تم کر سکتے ہو اور نہ ایک گھڑی بھر پہلے اسے لا سکتے ہو
مولانا محمد جوناگڑھی
جواب دیجیئے کہ وعدے کا دن ٹھیک معین ہے جس سے ایک ساعت نہ تم پیچھے ہٹ سکتے ہو نہ آگے بڑھ سکتے ہو
احمد رضا خان بریلوی
تم فرماؤ تمہارے لیے ایک ایسے دن کا وعدہ جس سے تم نہ ایک گھڑی پیچھے ہٹ سکو اور نہ آگے بڑھ سکو
علامہ محمد حسین نجفی
آپ کہیے! تمہارے لئے وعدہ کا ایک دن مقرر ہے جس سے نہ تم ایک گھڑی پیچھے ہٹ سکتے ہو اور نہ آگے بڑھ سکتے ہو۔
عبدالسلام بن محمد
کہہ تمھارے لیے ایک دن کا طے شدہ وعدہ ہے، جس سے تم نہ ایک گھڑی پیچھے رہو گے اور نہ آگے بڑھو گے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
تمام اقوام کے لئے نبوت ٭٭
اللہ تعالیٰ اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے فرما رہا ہے کہ ہم نے تجھے تمام کائنات کی طرف اپنا رسول بنا کر بھیجا ہے۔ جیسے اور جگہ ہے «قُلْ يٰٓاَيُّھَا النَّاسُ اِنِّىْ رَسُوْلُ اللّٰهِ اِلَيْكُمْ جَمِيْعَا» ۱؎ [7-الأعراف:158] یعنی ’ اعلان کر دو کہ اے لوگو! میں تم سب کی طرف اللہ کا رسول ہوں۔ ‘ اور آیت میں ہے «تَبٰرَكَ الَّذِيْ نَزَّلَ الْفُرْقَانَ عَلٰي عَبْدِهٖ لِيَكُوْنَ لِلْعٰلَمِيْنَ نَذِيْرَا» ۱؎ [25-الفرقان:1] ’ بابرکت ہے وہ اللہ جس نے اپنے بندے پر قرآن نازل فرمایا تاکہ وہ تمام جہاں کو ہوشیار کر دے ‘ یہاں بھی فرمایا ”کہ اطاعت گزاروں کو بشارت جنت دے اور نافرمانوں کو خبر جہنم۔ لیکن اکثر لوگ اپنی جہالت سے نبی کی نبوت کو نہیں مانتے“ جیسے فرمایا «وَمَآ اَكْثَرُ النَّاسِ وَلَوْ حَرَصْتَ بِمُؤْمِنِيْنَ» ۱؎ [12-يوسف:103] ’ گو تو ہر چند چاہے تاہم اکثر لوگ بے ایمان رہیں گے۔ ‘ ایک اور جگہ ارشاد ہوا اگر بڑی جماعت کی بات مانے گا تو وہ خود تجھے راہ راست سے ہٹا دیں گے۔ پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت عام لوگوں کی طرف ہے۔ عرب و عجم سب کی طرف سے اللہ کو زیادہ پیارا وہ ہے جو سب سے زیادہ اس کا تابع فرمان ہو۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو آسمان والوں اور نبیوں پر غرض سب پر فضیلت دی ہے۔ لوگوں نے اس کی دلیل دریافت کی تو آپ نے فرمایا دیکھو قرآن فرماتا ہے کہ ہر رسول کو اس کی قوم کی زبان کے ساتھ بھیجا۔ تاکہ وہ اس میں کھلم کھلا تبلیغ کر دے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت فرماتا ہے کہ ہم نے تجھے عام لوگوں کی طرف اپنا رسول صلی اللہ علیہ وسلم بنا کر بھیجا۔ بخاری و مسلم میں فرمان رسالت مآب ہے کہ { مجھے پانچ صفتیں ایسی دی گئی ہیں جو مجھ سے پہلے کسی نبی کو نہیں دی گئیں۔ مہینہ بھر کی راہ تک میری مدد صرف رعب سے کی گئی ہے۔ میرے لیے ساری زمین مسجد اور پاک بنائی گئی ہے۔ میری امت میں سے جس کسی کو جس جگہ نماز کا وقت آ جائے وہ اسی جگہ نماز پڑھ لے۔ مجھ سے پہلے کسی نبی کے لیے غنیمت کا مال حلال نہ تھا میرے لیے غنیمت حلال کر دی گئی۔ مجھے شفاعت دی گئی۔ ہر نبی صرف اپنی قوم کی طرف بھیجا جاتا تھا۔ اور میں تمام لوگوں کی طرف بھیجا گیا ہوں۔ } ۱؎ [صحیح مسلم:3521] اور حدیث میں ہے { سیاہ و سرخ سب کی طرف میں نبی بنا کر بھیجا گیا ہوں۔ } ۱؎ [صحیح مسلم:3] یعنی جن و انس، عرب و عجم کی طرف، پھر کافروں کا قیامت کو محال ماننا بیان ہو رہا ہے کہ پوچھتے ہیں قیامت کب آئے گی؟ جیسے اور جگہ ہے بے ایمان تو اس کی جلدی مچا رہے ہیں اور با ایمان اس سے کپکپا رہے ہیں اور اسے حق جانتے ہیں۔ ۱؎ [42-الشورى:18] جواب دیتا ہے کہ تمہارے لیے وعدے کا دن مقرر ہو چکا ہے جس میں تقدیم و تاخیر کمی و زیادتی ناممکن ہے۔ جیسے فرمان ہے «اِنَّ اَجَلَ اللّٰهِ اِذَا جَاءَ لَا يُؤَخَّرُ ۘ لَوْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ» ۱؎ [71-نوح:4] اور فرمایا «وَمَا نُؤَخِّرُهٗٓ اِلَّا لِاَجَلٍ مَّعْدُوْدٍ» ۱؎ [11-هود:104-105] الخ یعنی ’ وہ مقررہ وقت پیچھے ہٹنے کا نہیں۔ تمہیں اس وقت مقررہ وقت تک ڈھیل ہے جب وہ دن آ گیا پھر تو کوئی لب بھی نہ ہلا سکے گا۔ اس دن بعض نیک بخت ہوں گے اور بعض بدبخت۔ ‘
30۔ 1 یعنی اللہ نے قیامت کا دن مقرر کر رکھا ہے جس کا علم صرف اسی کو ہے، تاہم جب وہ وقت مقرر آجائے گا تو ایک ساعت بھی آگے، پیچھے نہیں ہوگا (اِ نَّ اَجَلَ اللّٰہِ اِ ذَا جَآءَ لَا یُئَوخَّرُ) 71۔ نوح:4)
(آیت 30) {قُلْ لَّكُمْ مِّيْعَادُ يَوْمٍ لَّا تَسْتَاْخِرُوْنَ عَنْهُ سَاعَةً …:} یعنی تمھارے لیے اس کا ایک وقت مقرر کیا گیا ہے جس سے تم نہ ایک گھڑی پیچھے رہو گے کہ تمھیں توبہ اور رجوع کی مہلت ملے، نہ ایک گھڑی آگے ہو گے کہ مقرر وقت سے پہلے عذاب آ جائے، بلکہ اللہ تعالیٰ نے تمھارے لیے جتنی مہلت طے کر رکھی ہے وہ پوری ہونے کے بعد ہی عذاب آئے گا، خواہ تم کتنی ہی جلدی مچاتے رہو۔ خلاصہ یہ کہ یہ مت پوچھو کہ وہ وقت کب آئے گا، بلکہ اس کے لیے تیاری کرو۔ مزید دیکھیے سورۂ یونس (۴۹)۔
یہ کافر کہتے ہیں کہ "ہم ہرگز اِس قرآن کو نہ مانیں گے اور نہ اس سے پہلے آئی ہوئی کسی کتاب کو تسلیم کریں گے" کاش تم دیکھو اِن کا حال اُس وقت جب یہ ظالم اپنے رب کے حضور کھڑے ہوں گے اُس وقت یہ ایک دوسرے پر الزام دھریں گے جو لوگ دنیا میں دبا کر رکھے گئے تھے وہ بڑے بننے والوں سے کہیں گے کہ "اگر تم نہ ہوتے تو ہم مومن ہوتے"
مولانا محمد جوناگڑھی
اور کافروں نے کہا کہ ہم ہرگز نہ تو اس قرآن کو مانیں نہ اس سے پہلے کی کتابوں کو! اے دیکھنے والے کاش کہ تو ان ﻇالموں کو اس وقت دیکھتا جب کہ یہ اپنے رب کے سامنے کھڑے ہوئے ایک دوسرے کو الزام دے رہے ہوں گے کمزور لوگ بڑے لوگوں سے کہیں گے اگر تم نہ ہوتے تو ہم تو مومن ہوتے
احمد رضا خان بریلوی
اور کافر بولے ہم ہرگز نہ ایمان لائیں گے اس قرآن پر اور نہ ان کتابوں پر جو اس سے آگے تھیں اور کسی طرح تو دیکھے جب ظالم اپنے رب کے پاس کھڑے کیے جائیں گے، ان میں ایک دوسرے پر بات ڈالے گا وہ جو دبے تھے ان سے کہیں گے جو اونچے کھینچتے (بڑے بنے ہوئے) تھے اگر تم نہ ہوتے تو ہم ضرور ایمان لے آتے،
علامہ محمد حسین نجفی
اور کافر کہتے ہیں کہ ہم نہ اس قرآن پر ایمان لائیں گے اور نہ اس سے پہلے نازل شدہ کتابوں پر (یا نہ اس پر جو اس کے آگے ہے یعنی قیامت اور اس کے عذاب پر)۔ (اے پیغمبر(ص)) کاش تم دیکھتے جب ظالم لوگ اپنے پروردگار کے حضور (سوال و جواب کیلئے) کھڑے کئے جائیں گے (اور) ایک دوسرے کی بات رد کر رہا ہوگا چنانچہ وہ لوگ جو دنیا میں کمزور سمجھے جاتے تھے وہ ان سے کہیں گے جو بڑے بنے ہوئے تھے کہ اگر تم نہ ہوتے تو ہم ضرور ایمان لے آئے ہوتے۔
عبدالسلام بن محمد
اور ان لوگوں نے کہا جنھوں نے کفر کیا ہم ہرگز نہ اس قرآن پر ایمان لائیں گے اور نہ اس پر جو اس سے پہلے ہے، اور کاش! تو دیکھے جب یہ ظالم اپنے رب کے پاس کھڑے کیے ہوئے ہوں گے، ان میں سے ایک دوسرے کی بات رد کر رہا ہوگا، جو لوگ کمزور سمجھے گئے تھے ان لوگوں سے جو بڑے بنے تھے، کہہ رہے ہوں گے اگر تم نہ ہوتے تو ہم ضرور ایمان لانے والے ہوتے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
کافروں کی سرکشی ٭٭
کافروں کی سرکشی اور باطل کی ضد کا بیان ہو رہا ہے کہ انہوں نے فیصلہ کر لیا ہے کہ گو قرآن کی حقانیت کی ہزارہا دلیلیں دیکھ لیں لیکن نہیں مانیں گے بلکہ اس سے اگلی کتاب پر بھی ایمان نہیں لائیں گے۔ انہیں اپنے اس قول کا مزہ اس وقت آئے گا جب اللہ کے سامنے جہنم کے کنارے کھڑے کھڑے چھوٹے بڑوں کو بڑے چھوٹوں کو الزام دیں گے۔ ہر ایک دوسرے کو قصوروار ٹھہرائے گا۔ تابعدار اپنے سرداروں سے کہیں گے کہ تم ہمیں نہ روکتے تو ہم ضرور ایمان لائے ہوئے ہوتے ان کے بزرگ انہیں جواب دیں گے کہ کیا ہم نے تمہیں روکا تھا؟ ہم نے ایک بات کہی تم جانتے تھے کہ یہ سب بےدلیل ہے۔ دوسری جانب سے دلیلوں کی برستی ہوئی بارش تمہاری آنکھوں کے سامنے تھی پھر تم نے اس کی پیروی چھوڑ کر ہماری کیوں مان لی؟ یہ تو تمہاری اپنی بےعقلی تھی۔ تم خود شہوت پرست تھے۔ تمہارے اپنے دل اللہ کی باتوں سے بھاگتے تھے رسولوں کی تابعداری خود تمہاری طبیعتوں پر شاق گزرتی تھی۔ سارا قصور تمہارا اپنا ہی ہے ہمیں کیا الزام دے رہے ہو؟
اپنے بزرگوں کی مان لینے والے یہ بےدلیل انہیں پھر جواب دیں گے کہ تمہاری دن رات کی دھوکے بازیاں، جعل سازیاں، فریب کاریاں ہمیں اطمینان دلاتیں کہ ہمارے افعال اور عقائد ٹھیک ہیں ہم سے بار بار شرک و کفر کے نہ چھوڑنے پرانے دین کے نہ بدلنے باپ دادوں کی روش پر قائم رہنے کو کہنا ہماری کمر تھپکنا۔ ہماے ایمان سے رک جانے کا یہی سبب ہوا۔ تم ہی آ آ کر ہمیں عقلی ڈھکوسلے سنا کر اسلام سے روگرداں کرتے تھے۔ دونوں الزام بھی دیں گے۔ برأت بھی کریں گے لیکن دل میں اپنے کئے پر پچھتا رہے ہوں گے۔ ان سب کے ہاتھوں کو گردن سے ملا کر طوق و زنجیر سے جکڑ دیا جائے گا۔ اب ہر ایک کو اس کے اعمال کے مطابق بدلہ ملے گا گمراہ کرنے والوں کو بھی اور گمراہ ہونے والوں کو بھی۔ ہر ایک کو پورا پورا عذاب ہو گا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { جہنمی جب ہنکا کر جہنم کے پاس پہنچائے جائیں گے تو جہنم کے ایک ہی شعلے کی لپٹ سے سارے جسم کا گوشت جھلس کر پیروں پر آ پڑے گا۔ } ۱؎ [میزان:327/2:ضعیف] (ابن ابی حاتم)
حسن بن یحییٰ خشنی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جہنم کے ہر قید خانے، ہر غار، ہر زنجیر، ہر قید، پر جہنمی کا نام لکھا ہوا ہے جب سلیمان درانی رحمہ اللہ کے سامنے یہ بیان ہوا تو آپ بہت روئے اور فرمانے لگے ہائے ہائے پھر کیا حال ہو گا اس کا جس پر یہ سب عذاب جمع ہو جائیں؟۔ پیروں میں بیڑیاں ہوں، ہاتھوں میں ہتھکڑیاں ہوں، گردن میں طوق ہوں پھر جہنم کے غار میں دھکیل دیا جائے۔ اللہ تو بچانا پروردگار تو ہمیں سلامت رکھنا۔ «اللھم سلم اللھم سلم»
31۔ 1 جیسے تورات، زبور اور انجیل وغیرہ۔ 31۔ 2 یعنی دنیا میں یہ کفر و شرک ایک دوسرے کے ساتھی اور اس ناطے سے ایک دوسرے سے محبت کرنے والے تھے، لیکن آخرت میں یہ ایک دوسرے کے دشمن اور ایک دوسرے کو مورد الزام بنائیں گے۔ 31۔ 3 یعنی دنیا میں یہ لوگ، جو سوچے سمجھے بغیر، روش عام پر چلنے والے ہوتے ہیں اپنے ان لیڈروں سے کہیں گے جن کے وہ دنیا میں پیروکار بنے رہے تھے۔ 31۔ 4 یعنی تم ہی نے ہمیں پیغمبروں کے پیچھے چلنے سے روکا تھا، اگر تم اس طرح نہ کرتے تو ہم یقینا ایمان والے ہوتے۔
(آیت 31) ➊ { وَ قَالَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا لَنْ نُّؤْمِنَ بِهٰذَا الْقُرْاٰنِ …:} نبی صلی اللہ علیہ وسلم کفارِ مکہ سے توحید، رسالت اور آخرت پر بات کرتے ہوئے کبھی اپنی وحی کی تائید کے طور پر تورات و انجیل کا ذکر فرماتے کہ قرآن کی طرح ان میں بھی توحید اور آخرت کا ذکر ہے، تو کفارِ مکہ کبر و عناد میں آکر کہتے کہ نہ ہم اس قرآن کو مانیں گے، نہ اس سے پہلی کسی کتاب کو۔ قرآن مجید نے ان کی اس بات کے جواب یا اس کی تردید کی ضرورت محسوس نہیں فرمائی، کیونکہ انھوں نے بات ہی ایسی کی جس کا نتیجہ پہلے تمام پیغمبروں کا انکار تھا، جو واضح طور پر غلط تھا اور انھوں نے یہ بات محض ضد میں آکر کہی تھی، ورنہ وہ پہلے پیغمبروں اور ان کی کتابوں کو جانتے تھے۔ دلیل اس کی یہ ہے کہ انھوں نے کبھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے موسیٰ علیہ السلام جیسے معجزے لانے کا مطالبہ کیا، جیسا کہ سورۂ قصص میں ہے: «لَوْ لَاۤ اُوْتِيَ مِثْلَ مَاۤ اُوْتِيَ مُوْسٰى» [ القصص: ۴۸ ] ”اسے اس جیسی چیزیں کیوں نہ دی گئیں جو موسیٰ کو دی گئیں؟“ کبھی تورات کی طرح لکھی ہوئی کتاب لانے کا مطالبہ کیا، جیسا کہ سورۂ بنی اسرائیل میں ہے: «وَ لَنْ نُّؤْمِنَ لِرُقِيِّكَ حَتّٰى تُنَزِّلَ عَلَيْنَا كِتٰبًا نَّقْرَؤُهٗ» [ بني إسرائیل: ۹۳ ] ”اور ہم تیرے چڑھنے کا ہرگز یقین نہ کریں گے، یہاں تک کہ تو ہم پر کوئی کتاب اتار لائے جسے ہم پڑھیں۔“ اگر پہلے کسی نبی یا اس کی شریعت یا کتاب کو مانتے ہی نہ تھے تو ان مطالبوں کا کیا مطلب؟ اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کی بات کی تردید کے بجائے قیامت کے دن ان کے ہونے والے برے حال کا ذکر فرمایا، جس قیامت کا وہ شدت سے انکار کرتے اور مذاق اڑاتے تھے۔ ➋ { وَ لَوْ تَرٰۤى اِذِ الظّٰلِمُوْنَ مَوْقُوْفُوْنَ عِنْدَ رَبِّهِمْ …: ”رَجَعَ يَرْجِعُ“} (ض) لازم بھی آتا ہے اور متعدی بھی، لوٹنا اور لوٹانا۔ یہاں لوٹانا مراد ہے۔ {” الظّٰلِمُوْنَ “} ظالم سے مراد مشرک ہیں، کیونکہ شرک ظلم عظیم ہے، الف لام کی وجہ سے ”یہ ظالم“ ترجمہ کیا گیا ہے۔ یعنی ان میں سے ہر ایک اپنی گمراہی کا الزام دوسروں پر دھر رہا ہو گا، جیسا کہ عموماً ناکامی کی صورت میں ہوتا ہے۔ یہ مکالمہ جہنم میں داخلے سے پہلے ہو گا، تاہم جہنم میں داخلے کے بعد بھی ان کا یہ جھگڑا جاری رہے گا۔ دیکھیے سورۂ اعراف (۳۸، ۳۹)، ابراہیم (۲۱)، قصص (۶۳)، احزاب (۶۶ تا ۶۸)، مومن (۴۷، ۴۸)، ص (۵۵ تا ۶۱)، بقرہ (۱۶۵ تا ۱۶۷) اور حمٰ السجدہ (۲۹)۔
وہ بڑے بننے والے ان دبے ہوئے لوگوں کو جواب دیں گے "کیا ہم نے تمہیں اُس ہدایت سے روکا تھا جو تمہارے پاس آئی تھی؟ نہیں، بلکہ تم خود مجرم تھے"
مولانا محمد جوناگڑھی
یہ بڑے لوگ ان کمزوروں کو جواب دیں گے کہ کیا تمہارے پاس ہدایت آچکنے کے بعد ہم نے تمہیں اس سے روکا تھا؟ (نہیں) بلکہ تم (خود) ہی مجرم تھے
احمد رضا خان بریلوی
وہ جو اونچے کھینچتے تھے ان سے کہیں گے جو دبے ہوئے تھے کیا ہم نے تمہیں روک دیا ہدایت سے بعد اس کے کہ تمہارے پاس آئی بلکہ تم خود مجرم تھے،
علامہ محمد حسین نجفی
بڑے لوگ کمزور لوگوں سے (جواب میں) کہیں گے کیا ہم نے تمہیں ہدایت سے روکا تھا جبکہ وہ تمہارے پاس آئی تھی۔ بلکہ تم خود ہی مجرم ہو۔
عبدالسلام بن محمد
وہ لوگ جو بڑے بنے تھے، ان لوگوں سے جو کمزور سمجھے گئے، کہیں گے کیا ہم نے تمھیں ہدایت سے روکا تھا، اس کے بعد کہ وہ تمھارے پاس آئی ؟ بلکہ تم مجرم تھے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
کافروں کی سرکشی ٭٭
کافروں کی سرکشی اور باطل کی ضد کا بیان ہو رہا ہے کہ انہوں نے فیصلہ کر لیا ہے کہ گو قرآن کی حقانیت کی ہزارہا دلیلیں دیکھ لیں لیکن نہیں مانیں گے بلکہ اس سے اگلی کتاب پر بھی ایمان نہیں لائیں گے۔ انہیں اپنے اس قول کا مزہ اس وقت آئے گا جب اللہ کے سامنے جہنم کے کنارے کھڑے کھڑے چھوٹے بڑوں کو بڑے چھوٹوں کو الزام دیں گے۔ ہر ایک دوسرے کو قصوروار ٹھہرائے گا۔ تابعدار اپنے سرداروں سے کہیں گے کہ تم ہمیں نہ روکتے تو ہم ضرور ایمان لائے ہوئے ہوتے ان کے بزرگ انہیں جواب دیں گے کہ کیا ہم نے تمہیں روکا تھا؟ ہم نے ایک بات کہی تم جانتے تھے کہ یہ سب بےدلیل ہے۔ دوسری جانب سے دلیلوں کی برستی ہوئی بارش تمہاری آنکھوں کے سامنے تھی پھر تم نے اس کی پیروی چھوڑ کر ہماری کیوں مان لی؟ یہ تو تمہاری اپنی بےعقلی تھی۔ تم خود شہوت پرست تھے۔ تمہارے اپنے دل اللہ کی باتوں سے بھاگتے تھے رسولوں کی تابعداری خود تمہاری طبیعتوں پر شاق گزرتی تھی۔ سارا قصور تمہارا اپنا ہی ہے ہمیں کیا الزام دے رہے ہو؟
اپنے بزرگوں کی مان لینے والے یہ بےدلیل انہیں پھر جواب دیں گے کہ تمہاری دن رات کی دھوکے بازیاں، جعل سازیاں، فریب کاریاں ہمیں اطمینان دلاتیں کہ ہمارے افعال اور عقائد ٹھیک ہیں ہم سے بار بار شرک و کفر کے نہ چھوڑنے پرانے دین کے نہ بدلنے باپ دادوں کی روش پر قائم رہنے کو کہنا ہماری کمر تھپکنا۔ ہماے ایمان سے رک جانے کا یہی سبب ہوا۔ تم ہی آ آ کر ہمیں عقلی ڈھکوسلے سنا کر اسلام سے روگرداں کرتے تھے۔ دونوں الزام بھی دیں گے۔ برأت بھی کریں گے لیکن دل میں اپنے کئے پر پچھتا رہے ہوں گے۔ ان سب کے ہاتھوں کو گردن سے ملا کر طوق و زنجیر سے جکڑ دیا جائے گا۔ اب ہر ایک کو اس کے اعمال کے مطابق بدلہ ملے گا گمراہ کرنے والوں کو بھی اور گمراہ ہونے والوں کو بھی۔ ہر ایک کو پورا پورا عذاب ہو گا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { جہنمی جب ہنکا کر جہنم کے پاس پہنچائے جائیں گے تو جہنم کے ایک ہی شعلے کی لپٹ سے سارے جسم کا گوشت جھلس کر پیروں پر آ پڑے گا۔ } ۱؎ [میزان:327/2:ضعیف] (ابن ابی حاتم)
حسن بن یحییٰ خشنی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جہنم کے ہر قید خانے، ہر غار، ہر زنجیر، ہر قید، پر جہنمی کا نام لکھا ہوا ہے جب سلیمان درانی رحمہ اللہ کے سامنے یہ بیان ہوا تو آپ بہت روئے اور فرمانے لگے ہائے ہائے پھر کیا حال ہو گا اس کا جس پر یہ سب عذاب جمع ہو جائیں؟۔ پیروں میں بیڑیاں ہوں، ہاتھوں میں ہتھکڑیاں ہوں، گردن میں طوق ہوں پھر جہنم کے غار میں دھکیل دیا جائے۔ اللہ تو بچانا پروردگار تو ہمیں سلامت رکھنا۔ «اللھم سلم اللھم سلم»
32۔ 1 یعنی ہمارے پاس کون سی طاقت تھی کہ ہم تمہیں ہدایت کے راستے سے روکتے، تم نے خود ہی اس پر غور نہیں کیا اور اپنی خواہشات کی وجہ سے ہی اسے قبول کرنے سے گریزاں رہے، اور آج مجرم ہمیں بنا رہے ہو؟ حالانکہ سب کچھ تم نے خود ہی اپنی مرضی سے کیا، اس لئے مجرم بھی تم خود ہی ہو نہ کہ ہم۔
(آیت 32) {بَلْ كُنْتُمْ مُّجْرِمِيْنَ:} بلکہ تم خود مجرم تھے جو عقل اور سمجھ رکھنے کے باوجود محض دنیا کے لالچ میں ہمارے پیچھے چلتے رہے اور ہدایت قبول کرنے سے انکار کرتے رہے۔
وہ دبے ہوئے لوگ ان بڑے بننے والوں سے کہیں گے، "نہیں، بلکہ شب و روز کی مکاری تھی جب تم ہم سے کہتے تھے کہ ہم اللہ سے کفر کریں اور دوسروں کو اس کا ہمسر ٹھیرائیں" آخرکار جب یہ لوگ عذاب دیکھیں گے تو اپنے دلوں میں پچھتائیں گے اور ہم اِن منکرین کے گلوں میں طوق ڈال دیں گے کیا لوگوں کو اِس کے سوا اور کوئی بدلہ دیا جا سکتا ہے کہ جیسے اعمال اُن کے تھے ویسی ہی جزا وہ پائیں؟
مولانا محمد جوناگڑھی
(اس کے جواب میں) یہ کمزور لوگ ان متکبروں سے کہیں گے، (نہیں نہیں) بلکہ دن رات مکروفریب سے ہمیں اللہ کے ساتھ کفر کرنے اور اس کے شریک مقرر کرنے کا تمہارا حکم دینا ہماری بےایمانی کا باعﺚ ہوا، اور عذاب کو دیکھتے ہی سب کے سب دل میں پشیمان ہو رہے ہوں گے، اور کافروں کی گردنوں میں ہم طوق ڈال دیں گے انہیں صرف ان کے کئے کرائے اعمال کا بدلہ دیا جائے گا
احمد رضا خان بریلوی
اور کہیں گے وہ جو دبے ہوئے تھے ان سے جو اونچے کھینچتے تھے بلکہ رات دن کا داؤں (فریب) تھا جبکہ تم ہمیں حکم دیتے تھے کہ اللہ کا انکار کریں اور اس کے برابر والے ٹھہرائیں، اور دل ہی دل میں پچھتانے لگے جب عذاب دیکھا اور ہم نے طوق ڈالے ان کی گردنوں میں جو منکر تھے وہ کیا بدلہ پائیں گے مگر وہی جو کچھ کرتے تھے
علامہ محمد حسین نجفی
اور کمزور لوگ (جواب میں) بڑا بننے والوں سے کہیں گے کہ (اس طرح نہیں) بلکہ یہ (تمہارے) شب و روز کے مکر و فریب نے ہمیں قبولِ حق سے باز رکھا جبکہ تم ہمیں حکم دیتے تھے کہ ہم اللہ کے ساتھ کفر کریں اور اس کے ہمسر (شریک) ٹھہرائیں اور یہ لوگ جب عذابِ الٰہی کو دیکھیں گے تو ندامت و پشیمانی کو دل میں چھپائیں گے (دلوں میں پچھتائیں گے) اور ہم کافروں کی گردنوں میں طوق ڈالیں گے یہ لوگ (دنیا میں) جیسے عمل کرتے تھے (آج) ان کا ہی ان کو بدلہ دیا جائے گا۔
عبدالسلام بن محمد
اور وہ لوگ جو کمزور سمجھے گئے، ان لوگوں سے جو بڑے بنے تھے، کہیں گے بلکہ (تمھاری) رات اور دن کی چال بازی نے (ہمیں روکا) جب تم ہمیں حکم دیا کرتے تھے کہ ہم اللہ کے ساتھ کفر کریں اور اس کے لیے شریک ٹھہرائیں۔ اور وہ ندامت کو چھپائیں گے جب عذاب دیکھیں گے اورہم ان لوگوں کی گردنوں میں جنھوں نے کفر کیا، طوق ڈال دیں گے۔ انھیں بدلہ نہیں دیا جائے گا مگر اسی کا جو وہ کیا کرتے تھے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
کافروں کی سرکشی ٭٭
کافروں کی سرکشی اور باطل کی ضد کا بیان ہو رہا ہے کہ انہوں نے فیصلہ کر لیا ہے کہ گو قرآن کی حقانیت کی ہزارہا دلیلیں دیکھ لیں لیکن نہیں مانیں گے بلکہ اس سے اگلی کتاب پر بھی ایمان نہیں لائیں گے۔ انہیں اپنے اس قول کا مزہ اس وقت آئے گا جب اللہ کے سامنے جہنم کے کنارے کھڑے کھڑے چھوٹے بڑوں کو بڑے چھوٹوں کو الزام دیں گے۔ ہر ایک دوسرے کو قصوروار ٹھہرائے گا۔ تابعدار اپنے سرداروں سے کہیں گے کہ تم ہمیں نہ روکتے تو ہم ضرور ایمان لائے ہوئے ہوتے ان کے بزرگ انہیں جواب دیں گے کہ کیا ہم نے تمہیں روکا تھا؟ ہم نے ایک بات کہی تم جانتے تھے کہ یہ سب بےدلیل ہے۔ دوسری جانب سے دلیلوں کی برستی ہوئی بارش تمہاری آنکھوں کے سامنے تھی پھر تم نے اس کی پیروی چھوڑ کر ہماری کیوں مان لی؟ یہ تو تمہاری اپنی بےعقلی تھی۔ تم خود شہوت پرست تھے۔ تمہارے اپنے دل اللہ کی باتوں سے بھاگتے تھے رسولوں کی تابعداری خود تمہاری طبیعتوں پر شاق گزرتی تھی۔ سارا قصور تمہارا اپنا ہی ہے ہمیں کیا الزام دے رہے ہو؟
اپنے بزرگوں کی مان لینے والے یہ بےدلیل انہیں پھر جواب دیں گے کہ تمہاری دن رات کی دھوکے بازیاں، جعل سازیاں، فریب کاریاں ہمیں اطمینان دلاتیں کہ ہمارے افعال اور عقائد ٹھیک ہیں ہم سے بار بار شرک و کفر کے نہ چھوڑنے پرانے دین کے نہ بدلنے باپ دادوں کی روش پر قائم رہنے کو کہنا ہماری کمر تھپکنا۔ ہماے ایمان سے رک جانے کا یہی سبب ہوا۔ تم ہی آ آ کر ہمیں عقلی ڈھکوسلے سنا کر اسلام سے روگرداں کرتے تھے۔ دونوں الزام بھی دیں گے۔ برأت بھی کریں گے لیکن دل میں اپنے کئے پر پچھتا رہے ہوں گے۔ ان سب کے ہاتھوں کو گردن سے ملا کر طوق و زنجیر سے جکڑ دیا جائے گا۔ اب ہر ایک کو اس کے اعمال کے مطابق بدلہ ملے گا گمراہ کرنے والوں کو بھی اور گمراہ ہونے والوں کو بھی۔ ہر ایک کو پورا پورا عذاب ہو گا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { جہنمی جب ہنکا کر جہنم کے پاس پہنچائے جائیں گے تو جہنم کے ایک ہی شعلے کی لپٹ سے سارے جسم کا گوشت جھلس کر پیروں پر آ پڑے گا۔ } ۱؎ [میزان:327/2:ضعیف] (ابن ابی حاتم)
حسن بن یحییٰ خشنی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جہنم کے ہر قید خانے، ہر غار، ہر زنجیر، ہر قید، پر جہنمی کا نام لکھا ہوا ہے جب سلیمان درانی رحمہ اللہ کے سامنے یہ بیان ہوا تو آپ بہت روئے اور فرمانے لگے ہائے ہائے پھر کیا حال ہو گا اس کا جس پر یہ سب عذاب جمع ہو جائیں؟۔ پیروں میں بیڑیاں ہوں، ہاتھوں میں ہتھکڑیاں ہوں، گردن میں طوق ہوں پھر جہنم کے غار میں دھکیل دیا جائے۔ اللہ تو بچانا پروردگار تو ہمیں سلامت رکھنا۔ «اللھم سلم اللھم سلم»
33۔ 1 یعنی ہم مجرم تو تب ہوتے جب ہم اپنی مرضی سے پیغمبروں کی تکذیب کرتے، جب کہ واقعہ یہ ہے کہ تم دن رات ہمیں گمراہ کرنے پر اور اللہ کے ساتھ کفر کرنے اور اس کا شریک ٹھہرانے پر آمادہ کرتے رہے جس سے بالآخر ہم تمہارے پیچھے لگ کر ایمان سے محروم رہے۔ 33۔ 2 یعنی ایک دوسرے پر الزام تراشی تو کریں گے لیکن دل میں دونوں ہی فریق اپنے اپنے کفر پر شرمندہ ہوں گے لیکن شماتت اعدا کی وجہ سے ظاہر کرنے سے گریز کریں گے۔ 33۔ 3 یعنی ایسی زنجریں جو ان کے ہاتھوں کو ان کی گردنوں کے ساتھ باندھیں گے۔ 33۔ 4 یعنی دونوں کو ان کے عملوں کی سزا ملے گی، لیڈروں کو ان کے مطابق اور ان کے پیچھے چلنے والوں کو ان کے مطابق جیسے دوسرے مقام پر فرمایا (لِكُلٍّ ضِعْفٌ وَّلٰكِنْ) 7۔ الاعراف:38) یعنی ہر ایک کو دگنا عذاب ہوگا۔
(آیت 33) ➊ { بَلْ مَكْرُ الَّيْلِ وَ النَّهَارِ …: ”أَيْ بَلْ صَدَّنَا عَنِ الْهُدٰي مَكْرُكُمْ فِي اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ“} یعنی کمزور لوگ ان بڑوں سے کہیں گے کہ صرف یہی نہیں کہ ہم مجرم تھے اور تمھارا ہمیں ہدایت سے روکنے میں کوئی دخل نہ تھا، بلکہ حقیقت یہ ہے کہ تمھاری دن رات کی تدبیروں اور سازشوں نے ہمیں راہِ راست سے روکے رکھا۔ جب تم ہمیں اللہ کے ساتھ کفر کرنے اور اس کے ساتھ شریک بنانے کا حکم دیا کرتے تھے۔ ➋ { وَ اَسَرُّوا النَّدَامَةَ لَمَّا رَاَوُا الْعَذَابَ:} یعنی دونوں فریق ایک دوسرے پر الزام تراشی کریں گے، مگر دونوں ہی اپنے اپنے کفر پر نادم ہوں گے، لیکن اپنی پشیمانی اور ندامت کو چھپانے کی کوشش کریں گے۔ ➌ {وَ جَعَلْنَا الْاَغْلٰلَ فِيْۤ اَعْنَاقِ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا:} آپس کی بحث سے دونوں فریقوں کو معلوم ہو جائے گا کہ دونوں ہی مجرم ہیں اور ان کی یہ بحث لاحاصل ہے۔ لہٰذا ہم دونوں کو ایک جیسی سزا دیں گے، ان کے گلوں میں طوق اور پاؤں میں لوہے کی زنجیریں ڈال کر انھیں جہنم میں پھینک دیا جائے گا۔ ➍ { هَلْ يُجْزَوْنَ اِلَّا مَا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ:} یعنی یہ عذاب ان کے اپنے اعمال ہی کی جزا ہو گی۔
کبھی ایسا نہیں ہوا کہ ہم نے کسی بستی میں ایک خبردار کرنے والا بھیجا ہو اور اس بستی کے کھاتے پیتے لوگوں نے یہ نہ کہا ہو کہ جو پیغام تم لے کر آئے ہو اس کو ہم نہیں مانتے
مولانا محمد جوناگڑھی
اور ہم تو جس بستی میں جو بھی آگاه کرنے واﻻ بھیجا وہاں کے خوشحال لوگوں نے یہی کہا کہ جس چیز کے ساتھ تم بھیجے گئے ہو ہم اس کے ساتھ کفر کرنے والے ہیں
احمد رضا خان بریلوی
اور ہم نے جب کبھی کسی شہر میں کوئی ڈر سنانے والا بھیجا وہاں کے آسودوں (امیروں) نے یہی کہا کہ تم جو لے کر بھیجے گئے ہم اس کے منکر ہیں
علامہ محمد حسین نجفی
اور ہم نے جب بھی کسی بستی میں کوئی ڈرانے والا (نبی(ع)) بھیجا تو وہاں کے آسودہ حال لوگوں نے یہی کہا کہ جس (دین) کے ساتھ تم بھیجے گئے ہو ہم اسے نہیں مانتے۔
عبدالسلام بن محمد
اور ہم نے کسی بستی میں کوئی ڈرانے والا نہیں بھیجا مگر اس کے خوش حال لوگوں نے کہا بے شک ہم اس چیز کے جو دے کر تم بھیجے گئے ہو، منکر ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے تسلیاں ٭٭
اللہ تعالیٰ اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی دیتا ہے اور اگلے پیغمبروں کی سی سیرت رکھنے کو فرماتا ہے فرماتا ہے کہ جس بستی میں جو رسول گیا اس کا مقابلہ ہوا۔ بڑے لوگوں نے کفر کیا۔ ہاں غرباء نے تابعداری کی جیسے کہ قوم نوح نے اپنے نبی سے کہا تھا «قَالُـوْٓا اَنُؤْمِنُ لَكَ وَاتَّبَعَكَ الْاَرْذَلُوْنَ» ۱؎ [26-الشعراء:111] الخ، ’ ہم تجھ پر کیسے ایمان لائیں؟ تیرے ماننے والے تو سب نیچے درجے کے لوگ ہیں۔ ‘ یہی مضمون دوسری آیت «وَمَا نَرٰىكَ اتَّبَعَكَ اِلَّا الَّذِيْنَ هُمْ اَرَاذِلُـنَا بَادِيَ الرَّاْيِ» ۱؎ [11-هود:27] الخ، میں ہے قوم صالح کے متکبر لوگ ضعیفوں سے کہتے تھے «اَتَعْلَمُوْنَ اَنَّ صٰلِحًا مُّرْسَلٌ مِّنْ رَّبِّهٖ قَالُوْٓا اِنَّا بِمَآ اُرْسِلَ بِهٖ مُؤْمِنُوْنَ» ۱؎ [7-الأعراف:75] الخ ’ کیا تمہیں صالح کے نبی ہونے کا یقین ہے؟ انہوں نے کہا ہاں ہم تو مومن ہیں۔ تو متکبرین نے صاف کہا کہ ہم نہیں مانتے۔ ‘ اور آیت میں ہے «وَكَذٰلِكَ فَتَنَّا بَعْضَهُمْ بِبَعْضٍ لِّيَقُوْلُوْٓا اَهٰٓؤُلَاءِ مَنَّ اللّٰهُ عَلَيْهِمْ مِّنْ بَيْنِنَا اَلَيْسَ اللّٰهُ بِاَعْلَمَ بالشّٰكِرِيْنَ» ۱؎ [6-الأنعام:53] الخ، یعنی ’ اسی طرح ہم نے ایک کو دوسرے سے فتنے میں ڈالا تاکہ وہ کہیں کیا یہی لوگ ہیں جن پر اللہ نے ہم سب میں سے احسان کیا۔ کیا اللہ شکر گزاروں کو جاننے والا نہیں؟ ‘
اور فرمایا ہر بستی میں وہاں کے بڑے لوگ مجرم اور مکار ہوتے ہیں اور فرمان ہے «وَاِذَآ اَرَدْنَآ اَنْ نُّهْلِكَ قَرْيَةً اَمَرْنَا مُتْرَفِيْهَا فَفَسَقُوْا فِيْهَا فَحَقَّ عَلَيْهَا الْقَوْلُ فَدَمَّرْنٰهَا تَدْمِيْرًا» ۱؎ [17-الإسراء:16] الخ، ’ جب کسی بستی کی ہلاکت کا ہم ارادہ کرتے ہیں تو اس کے سرکش لوگوں کو کچھ احکام دیتے ہیں وہ نہیں مانتے پھر ہم انہیں ہلاک کر دیتے ہیں۔ ‘ پس یہاں بھی فرماتا ہے کہ ہم نے جس بستی میں کوئی نبی اور رسول بھیجا ہے وہاں کے جاہ و حشمت، شان و شوکت والے رئیسوں، امیروں، سرداروں اور بڑے لوگوں نے جھٹ اپنے کفر کا اعلان کر دیا۔ ابن ابی حاتم میں ہے { ابورزین رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ دو شخص آپس میں شریک تھے ایک تو سمندر پار چلا گیا، ایک وہیں رہا جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مبعوث ہوئے تو اس نے اپنے ساتھی سے لکھ کر دریافت کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا کیا حال ہے؟ اس نے جواب میں لکھا کہ گرے پڑے لوگوں نے اس کی بات مانی ہے۔ شریف قریشیوں نے اس کی اطاعت نہیں کی۔ اس خط کو پڑھ کر وہ اپنی تجارت چھوڑ چھاڑ کر سفر کر کے اپنے شریک کے پاس پہنچا۔ یہ پڑھا لکھا آدمی تھا، کتابوں کا اسے علم حاصل تھا۔ اس سے پوچھا کہ بتاؤ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کہاں ہیں؟ معلوم کر کے آپ کی خدمت میں حاضر ہوا آپ سے پوچھا کہ آپ لوگوں کو کس چیز کی طرف بلاتے ہیں؟
{ آپ نے اسلام کے ارکان اس کے سامنے بیان فرمائے۔ وہ اسے سنتے ہی ایمان لے آیا۔ آپ نے فرمایا تمہیں اس کی تصدیق کیونکر ہو گئی؟ اس نے کہا اس بات سے کہ تمام انبیاء کے ابتدائی ماننے والے ہمیشہ ضعیف مسکین لوگ ہی ہوتے ہیں۔ اس پر یہ آیتیں اتریں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آدمی بھیج کر انہیں کہلوایا کہ تمہاری بات کی سچائی اللہ تعالیٰ نے نازل فرمائی۔ } ۱؎ [ضعیف] اسی طرح { ہرقل نے کہا تھا جب کہ اس نے ابوسفیان سے ان کی جاہلیت کی حالت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت دریافت کیا تھا کہ کیا شریف لوگوں نے ان کی تابعداری کی ہے یا ضعیفوں نے؟ تو ابوسفیان نے جواب دیا کہ ضعیفوں نے۔ اس پر ہرقل نے کہا کہ ہر رسول کی اولاً تابعداری کرنے والے یہی ضعیف لوگ ہوتے ہیں } ۱؎ [صحیح بخاری:7] پھر فرمایا یہ خوش حال لوگ مال و اولاد کی کثرت پر ہی فخر کرتے ہیں اور اسے اس بات کی دلیل بناتے ہیں کہ وہ پسندیدہ اللہ ہیں اگر اللہ کی خاص عنایت و مہربانی ان پر نہ ہوتی تو انہیں یہ نعمتیں نہ دیتا اور جب یہاں رب مہربان ہے تو آخرت میں بھی وہ مہربان ہی رہے گا۔ قرآن نے ہر جگہ اس کا رد کیا ہے۔ ایک اور جگہ فرمایا: «اَيَحْسَبُوْنَ اَنَّمَا نُمِدُّهُمْ بِهٖ مِنْ مَّالٍ وَّبَنِيْنَ» ۱؎ [23-المؤمنون:55-56] الخ، ’ کیا ان کا خیال ہے کہ مال و اولاد کی اکثریت ان کے لیے بہتر ہے؟ نہیں بلکہ برائی ہے لیکن یہ بےشعور ہیں۔ ‘ ایک اور آیت میں ہے «وَلَا تُعْجِبْكَ اَمْوَالُهُمْ وَاَوْلَادُهُمْ اِنَّمَا يُرِيْدُ اللّٰهُ اَنْ يُّعَذِّبَهُمْ بِهَا فِي الدُّنْيَا وَتَزْهَقَ اَنْفُسُهُمْ وَهُمْ كٰفِرُوْنَ» ۱؎ [9-التوبة:85] الخ، ’ ان کی مال و اولاد تجھے دھوکے میں نہ ڈالے اس سے انہیں دنیا میں بھی سزا ہو گی اور مرتے دم تک یہ کفر پر ہی رہیں گے۔ ‘ اور آیت میں ہے «ذَرْنِيْ وَمَنْ خَلَقْتُ وَحِيْدًا» ۱؎ [74-المدثر:11-17] الخ، یعنی ’ مجھے اور اس شخص کو چھوڑ دے جسے بہت سے فرزند دے رکھے ہیں۔ اور ہر طرح کا عیش اس کے لیے مہیا کر دیا ہے۔ تاہم اسے طمع ہے کہ میں اور زیادہ دوں۔ ایسا نہیں یہ ہماری آیتوں کا مخالف ہے۔ زمانہ جانتا ہے کہ اسے میں دوزخ کے پہاڑوں پر چڑھاؤں گا۔ ‘ اس شخص کا واقعہ بھی مذکور ہوا ہے جس کے دو باغ تھے، مال والا، پھلوں والا، اولاد والا تھا۔
لیکن کسی چیز نے کوئی فائدہ نہ دیا عذاب الٰہی سے سب چیزیں دنیا میں ہی تباہ اور خاک سیاہ ہو گئیں۔ اللہ جس کی روزی کشادہ کرنا چاہے، کشادہ کر دیتا ہے اور جس کی روزی تنگ کرنا چاہے، تنگ کر دیتا ہے دنیا میں تو وہ اپنے دوستوں دشمنوں سب کو دیتا ہے۔ غنی یا فقیر ہونا اس کی رضا مندی اور ناراضگی کی دلیل نہیں۔ بلکہ اس میں اور ہی حکمتیں ہوتی ہیں جنہیں اکثر لوگ جان نہیں سکتے، مال و اولاد کو ہماری عنایت کی دلیل بنانا غلطی ہے۔ یہ کوئی ہمارے پاس مرتبہ بڑھانے والی چیز نہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { اللہ تعالیٰ تمہاری صورتوں اور مالوں کو نہیں دیکھتا بلکہ دلوں اور عملوں کو دیکھتا ہے۔ } ۱؎ [صحیح مسلم:2564ـ34] (مسلم) ہاں اس کے پاس درجات دلانے والی چیز ایمان اور نیک اعمال ہیں۔ ان کی نیکیوں کے بدلے انہیں بہت بڑھا چڑھا کر دیئے جائیں گے۔ اور ایک ایک نیکی دس دس گنا بلکہ سات سات سو گنا کر کے دی جائے گی۔ جنت کی بلند ترین منزلوں میں ہر ڈر خوف سے، غم سے پر امن ہوں گے۔ کوئی دکھ درد نہ ہو گا۔ ایذا اور صدمہ نہ ہو گا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { جنت میں ایسے بالاخانے ہیں جن کا ظاہر باطن سے اور باطن ظاہر سے نظر آتا ہے۔ ایک اعرابی نے کہا یہ بالاخانے کس کے لیے ہیں؟ آپ نے فرمایا جو نرم کلامی کرے، کھانا کھلائے، بکثرت روزے رکھے اور لوگوں کی نیند کے وقت تہجد پڑھے۔ } ۱؎ [سنن ترمذي:1984،قال الشيخ الألباني:۔حسن] (ابن ابی حاتم) جو لوگ اللہ کی راہ سے اوروں کو روکتے ہیں، رسولوں کی تابعداری سے لوگوں کو باز رکھتے ہیں، اللہ کی آیتوں کی تصدیق نہیں کرتے، وہ جہنم کی سزا میں حاضر کئے جائیں گے اور برا بدلہ پائیں گے۔
34۔ 1 یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی دی جارہی ہے کہ مکہ کے رؤسا اور چودھری آپ پر ایمان نہیں لا رہے اور آپ کو ایذائیں پہنچا رہے ہیں تو یہ کوئی نئی بات نہیں ہر دور کے اکثر خوش حال لوگوں نے پیغمبروں کی تکذیب ہی کی ہے اور ہر پیغمبر پر ایمان لانے والے پہلے پہل معاشرے کے غریب اور نادار قسم کے لوگ ہی ہوتے تھے جیسے نوح کی قوم نے اپنے پیغمبر سے کہا کہ کیا ہم تجھ پر ایمان لائیں گے جب کہ تیرے پیروکار کمینے لوگ ہیں۔ دوسرے پیغمبروں کو بھی ان کی قوموں نے یہی کہا۔
(آیت 34) {وَ مَاۤ اَرْسَلْنَا فِيْ قَرْيَةٍ مِّنْ نَّذِيْرٍ …: ”تَرَفٌ“} خوش حالی۔{ ”مُتْرَفُوْنَ“} اسم مفعول ہے، وہ لوگ جنھیں خوش حالی عطا کی گئی۔ خوش حالی عطا فرمانے والا اللہ تعالیٰ تھا، جیسا کہ سورۂ مومنون میں فرمایا: «وَ قَالَ الْمَلَاُ مِنْ قَوْمِهِ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا وَ كَذَّبُوْا بِلِقَآءِ الْاٰخِرَةِ وَ اَتْرَفْنٰهُمْ فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا مَا هٰذَاۤ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ يَاْكُلُ مِمَّا تَاْكُلُوْنَ مِنْهُ وَ يَشْرَبُ مِمَّا تَشْرَبُوْنَ» [ المؤمنون: ۳۳ ] ”اور اس کی قوم میں سے ان سرداروں نے جنھوں نے کفر کیا اورآخرت کی ملاقات کو جھٹلایا اور ہم نے انھیں دنیا کی زندگی میں خوش حال رکھا تھا، کہا یہ نہیں ہے مگر تمھارے جیسا ایک بشر، جو اس میں سے کھاتا ہے جس میں سے تم کھاتے ہو اور اس میں سے پیتا ہے جو تم پیتے ہو۔“ اس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی دی ہے کہ آپ ان کی مخالفت پر مغموم نہ ہوں، آپ سے پہلے ہر نبی کی مخالفت اور اس کا مقابلہ مال و ثروت اور جاہ و حشمت والے لوگوں ہی نے کیا اور شروع میں اس کا ساتھ مستضعفین، یعنی کمزور اور غریب لوگوں ہی نے دیا۔ یہی بات ہرقل نے ابو سفیان اور اس کے ساتھیوں سے اس وقت کہی جب اس کے دریافت کرنے پر ابو سفیان نے بتایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کرنے والے غریب اور معمولی قسم کے لوگ ہیں۔ [ دیکھیے بخاري: ۷ ] قرآن مجید میں یہ بات بہت سے مقامات پر بیان کی گئی ہے کہ انبیاء علیھم السلام کی دعوت کی مخالفت سب سے پہلے اور سب سے زیادہ خوش حال اور متکبّر لوگوں ہی نے کی ہے۔ مثلاً دیکھیے سورۂ انعام (۱۲۳)، اعراف (۶۰، ۶۶، ۷۵، ۸۸، ۹۰)، ہود (۲۷)، بنی اسرائیل (۱۶) اور سورۂ مومنون (۲۴، ۳۳ تا ۳۸، ۴۶، ۴۷)۔
انہیں نے ہمیشہ یہی کہا کہ ہم تم سے زیادہ مال اولاد رکھتے ہیں اور ہم ہرگز سزا پانے والے نہیں ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
اور کہا ہم مال واوﻻد میں بہت بڑھے ہوئے ہیں یہ نہیں ہوسکتا کہ ہم عذاب دیئے جائیں
احمد رضا خان بریلوی
اور بولے ہم مال اور اولاد میں بڑھ کر ہیں اور ہم پر عذاب ہونا نہیں
علامہ محمد حسین نجفی
اور ہمیشہ یہ بھی کہا ہم مال و اولاد میں تم سے بڑھے ہوئے ہیں اور ہم کو کبھی عذاب نہیں دیا جائے گا۔
عبدالسلام بن محمد
اور انھوں نے کہا ہم اموال و اولاد میں زیادہ ہیں اور ہم ہرگز عذاب دیے جانے والے نہیں ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے تسلیاں ٭٭
اللہ تعالیٰ اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی دیتا ہے اور اگلے پیغمبروں کی سی سیرت رکھنے کو فرماتا ہے فرماتا ہے کہ جس بستی میں جو رسول گیا اس کا مقابلہ ہوا۔ بڑے لوگوں نے کفر کیا۔ ہاں غرباء نے تابعداری کی جیسے کہ قوم نوح نے اپنے نبی سے کہا تھا «قَالُـوْٓا اَنُؤْمِنُ لَكَ وَاتَّبَعَكَ الْاَرْذَلُوْنَ» ۱؎ [26-الشعراء:111] الخ، ’ ہم تجھ پر کیسے ایمان لائیں؟ تیرے ماننے والے تو سب نیچے درجے کے لوگ ہیں۔ ‘ یہی مضمون دوسری آیت «وَمَا نَرٰىكَ اتَّبَعَكَ اِلَّا الَّذِيْنَ هُمْ اَرَاذِلُـنَا بَادِيَ الرَّاْيِ» ۱؎ [11-هود:27] الخ، میں ہے قوم صالح کے متکبر لوگ ضعیفوں سے کہتے تھے «اَتَعْلَمُوْنَ اَنَّ صٰلِحًا مُّرْسَلٌ مِّنْ رَّبِّهٖ قَالُوْٓا اِنَّا بِمَآ اُرْسِلَ بِهٖ مُؤْمِنُوْنَ» ۱؎ [7-الأعراف:75] الخ ’ کیا تمہیں صالح کے نبی ہونے کا یقین ہے؟ انہوں نے کہا ہاں ہم تو مومن ہیں۔ تو متکبرین نے صاف کہا کہ ہم نہیں مانتے۔ ‘ اور آیت میں ہے «وَكَذٰلِكَ فَتَنَّا بَعْضَهُمْ بِبَعْضٍ لِّيَقُوْلُوْٓا اَهٰٓؤُلَاءِ مَنَّ اللّٰهُ عَلَيْهِمْ مِّنْ بَيْنِنَا اَلَيْسَ اللّٰهُ بِاَعْلَمَ بالشّٰكِرِيْنَ» ۱؎ [6-الأنعام:53] الخ، یعنی ’ اسی طرح ہم نے ایک کو دوسرے سے فتنے میں ڈالا تاکہ وہ کہیں کیا یہی لوگ ہیں جن پر اللہ نے ہم سب میں سے احسان کیا۔ کیا اللہ شکر گزاروں کو جاننے والا نہیں؟ ‘
اور فرمایا ہر بستی میں وہاں کے بڑے لوگ مجرم اور مکار ہوتے ہیں اور فرمان ہے «وَاِذَآ اَرَدْنَآ اَنْ نُّهْلِكَ قَرْيَةً اَمَرْنَا مُتْرَفِيْهَا فَفَسَقُوْا فِيْهَا فَحَقَّ عَلَيْهَا الْقَوْلُ فَدَمَّرْنٰهَا تَدْمِيْرًا» ۱؎ [17-الإسراء:16] الخ، ’ جب کسی بستی کی ہلاکت کا ہم ارادہ کرتے ہیں تو اس کے سرکش لوگوں کو کچھ احکام دیتے ہیں وہ نہیں مانتے پھر ہم انہیں ہلاک کر دیتے ہیں۔ ‘ پس یہاں بھی فرماتا ہے کہ ہم نے جس بستی میں کوئی نبی اور رسول بھیجا ہے وہاں کے جاہ و حشمت، شان و شوکت والے رئیسوں، امیروں، سرداروں اور بڑے لوگوں نے جھٹ اپنے کفر کا اعلان کر دیا۔ ابن ابی حاتم میں ہے { ابورزین رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ دو شخص آپس میں شریک تھے ایک تو سمندر پار چلا گیا، ایک وہیں رہا جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مبعوث ہوئے تو اس نے اپنے ساتھی سے لکھ کر دریافت کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا کیا حال ہے؟ اس نے جواب میں لکھا کہ گرے پڑے لوگوں نے اس کی بات مانی ہے۔ شریف قریشیوں نے اس کی اطاعت نہیں کی۔ اس خط کو پڑھ کر وہ اپنی تجارت چھوڑ چھاڑ کر سفر کر کے اپنے شریک کے پاس پہنچا۔ یہ پڑھا لکھا آدمی تھا، کتابوں کا اسے علم حاصل تھا۔ اس سے پوچھا کہ بتاؤ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کہاں ہیں؟ معلوم کر کے آپ کی خدمت میں حاضر ہوا آپ سے پوچھا کہ آپ لوگوں کو کس چیز کی طرف بلاتے ہیں؟
{ آپ نے اسلام کے ارکان اس کے سامنے بیان فرمائے۔ وہ اسے سنتے ہی ایمان لے آیا۔ آپ نے فرمایا تمہیں اس کی تصدیق کیونکر ہو گئی؟ اس نے کہا اس بات سے کہ تمام انبیاء کے ابتدائی ماننے والے ہمیشہ ضعیف مسکین لوگ ہی ہوتے ہیں۔ اس پر یہ آیتیں اتریں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آدمی بھیج کر انہیں کہلوایا کہ تمہاری بات کی سچائی اللہ تعالیٰ نے نازل فرمائی۔ } ۱؎ [ضعیف] اسی طرح { ہرقل نے کہا تھا جب کہ اس نے ابوسفیان سے ان کی جاہلیت کی حالت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت دریافت کیا تھا کہ کیا شریف لوگوں نے ان کی تابعداری کی ہے یا ضعیفوں نے؟ تو ابوسفیان نے جواب دیا کہ ضعیفوں نے۔ اس پر ہرقل نے کہا کہ ہر رسول کی اولاً تابعداری کرنے والے یہی ضعیف لوگ ہوتے ہیں } ۱؎ [صحیح بخاری:7] پھر فرمایا یہ خوش حال لوگ مال و اولاد کی کثرت پر ہی فخر کرتے ہیں اور اسے اس بات کی دلیل بناتے ہیں کہ وہ پسندیدہ اللہ ہیں اگر اللہ کی خاص عنایت و مہربانی ان پر نہ ہوتی تو انہیں یہ نعمتیں نہ دیتا اور جب یہاں رب مہربان ہے تو آخرت میں بھی وہ مہربان ہی رہے گا۔ قرآن نے ہر جگہ اس کا رد کیا ہے۔ ایک اور جگہ فرمایا: «اَيَحْسَبُوْنَ اَنَّمَا نُمِدُّهُمْ بِهٖ مِنْ مَّالٍ وَّبَنِيْنَ» ۱؎ [23-المؤمنون:55-56] الخ، ’ کیا ان کا خیال ہے کہ مال و اولاد کی اکثریت ان کے لیے بہتر ہے؟ نہیں بلکہ برائی ہے لیکن یہ بےشعور ہیں۔ ‘ ایک اور آیت میں ہے «وَلَا تُعْجِبْكَ اَمْوَالُهُمْ وَاَوْلَادُهُمْ اِنَّمَا يُرِيْدُ اللّٰهُ اَنْ يُّعَذِّبَهُمْ بِهَا فِي الدُّنْيَا وَتَزْهَقَ اَنْفُسُهُمْ وَهُمْ كٰفِرُوْنَ» ۱؎ [9-التوبة:85] الخ، ’ ان کی مال و اولاد تجھے دھوکے میں نہ ڈالے اس سے انہیں دنیا میں بھی سزا ہو گی اور مرتے دم تک یہ کفر پر ہی رہیں گے۔ ‘ اور آیت میں ہے «ذَرْنِيْ وَمَنْ خَلَقْتُ وَحِيْدًا» ۱؎ [74-المدثر:11-17] الخ، یعنی ’ مجھے اور اس شخص کو چھوڑ دے جسے بہت سے فرزند دے رکھے ہیں۔ اور ہر طرح کا عیش اس کے لیے مہیا کر دیا ہے۔ تاہم اسے طمع ہے کہ میں اور زیادہ دوں۔ ایسا نہیں یہ ہماری آیتوں کا مخالف ہے۔ زمانہ جانتا ہے کہ اسے میں دوزخ کے پہاڑوں پر چڑھاؤں گا۔ ‘ اس شخص کا واقعہ بھی مذکور ہوا ہے جس کے دو باغ تھے، مال والا، پھلوں والا، اولاد والا تھا۔
لیکن کسی چیز نے کوئی فائدہ نہ دیا عذاب الٰہی سے سب چیزیں دنیا میں ہی تباہ اور خاک سیاہ ہو گئیں۔ اللہ جس کی روزی کشادہ کرنا چاہے، کشادہ کر دیتا ہے اور جس کی روزی تنگ کرنا چاہے، تنگ کر دیتا ہے دنیا میں تو وہ اپنے دوستوں دشمنوں سب کو دیتا ہے۔ غنی یا فقیر ہونا اس کی رضا مندی اور ناراضگی کی دلیل نہیں۔ بلکہ اس میں اور ہی حکمتیں ہوتی ہیں جنہیں اکثر لوگ جان نہیں سکتے، مال و اولاد کو ہماری عنایت کی دلیل بنانا غلطی ہے۔ یہ کوئی ہمارے پاس مرتبہ بڑھانے والی چیز نہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { اللہ تعالیٰ تمہاری صورتوں اور مالوں کو نہیں دیکھتا بلکہ دلوں اور عملوں کو دیکھتا ہے۔ } ۱؎ [صحیح مسلم:2564ـ34] (مسلم) ہاں اس کے پاس درجات دلانے والی چیز ایمان اور نیک اعمال ہیں۔ ان کی نیکیوں کے بدلے انہیں بہت بڑھا چڑھا کر دیئے جائیں گے۔ اور ایک ایک نیکی دس دس گنا بلکہ سات سات سو گنا کر کے دی جائے گی۔ جنت کی بلند ترین منزلوں میں ہر ڈر خوف سے، غم سے پر امن ہوں گے۔ کوئی دکھ درد نہ ہو گا۔ ایذا اور صدمہ نہ ہو گا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { جنت میں ایسے بالاخانے ہیں جن کا ظاہر باطن سے اور باطن ظاہر سے نظر آتا ہے۔ ایک اعرابی نے کہا یہ بالاخانے کس کے لیے ہیں؟ آپ نے فرمایا جو نرم کلامی کرے، کھانا کھلائے، بکثرت روزے رکھے اور لوگوں کی نیند کے وقت تہجد پڑھے۔ } ۱؎ [سنن ترمذي:1984،قال الشيخ الألباني:۔حسن] (ابن ابی حاتم) جو لوگ اللہ کی راہ سے اوروں کو روکتے ہیں، رسولوں کی تابعداری سے لوگوں کو باز رکھتے ہیں، اللہ کی آیتوں کی تصدیق نہیں کرتے، وہ جہنم کی سزا میں حاضر کئے جائیں گے اور برا بدلہ پائیں گے۔
35۔ 1 یعنی جب اللہ نے ہمیں دنیا میں مال و اولاد کی کثرت سے نوازا ہے، تو قیامت بھی اگر برپا ہوئی تو ہمیں عذاب نہیں ہوگا۔ گویا انہوں نے دار الآخرت کو بھی دنیا پر قیاس کیا کہ جس طرح دنیا میں کافر و مومن سب کو اللہ کی نعمتیں مل رہی ہیں، آخرت میں بھی اسی طرح ہوگا، حالانکہ آخرت تو دار الجزا ہے، وہاں تو دنیا میں کئے گئے عملوں کی جزا ملنی ہے اچھے عملوں کی جزا اچھی اور برے عملوں کی بری۔ جب کہ دنیا دارالامتحان ہے، یہاں اللہ تعالیٰ بطور آزمائش سب کو دنیاوی نعمتوں سے سرفراز فرماتا ہے انہوں نے دنیاوی مال و اسباب کی فروانی کو رضائے الٰہی کا مظہر سمجھا، حالانکہ ایسا بھی نہیں ہے اگر ایسا ہوتا تو اللہ تعالیٰ اپنے فرماں بردار بندوں کو سب سے زیادہ مال و اولاد سے نوازتا۔
(آیت 35) {وَ قَالُوْا نَحْنُ اَكْثَرُ اَمْوَالًا وَّ اَوْلَادًا …:} یعنی انھوں نے ایک تو اپنے اموال و اولاد کی کثرت پر فخر کیا اور انبیاء اور ان کے متبعین کی تحقیر کی، جیسا کہ فرعون نے اپنے آپ کو مصر کا بادشاہ ہونے کی وجہ سے بہتر اور موسیٰ علیہ السلام کو مہین (حقیر) کہا تھا۔ دیکھیے سورۂ زخرف (۵۱ تا ۵۴) {” وَ مَا نَحْنُ بِمُعَذَّبِيْنَ “} دوسرے انھوں نے اپنی خوش حالی کو اللہ تعالیٰ کے راضی ہونے کی دلیل قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگر اللہ تعالیٰ ہم پر ناراض ہوتا تو ہمیں تم سے زیادہ مال و اولاد کیوں دیتا، یہ دلیل ہے کہ ہم پر عذاب ہرگز نہیں آئے گا۔ ({بِمُعَذَّبِيْنَ } میں باء نفی کی تاکید کے لیے ہے) بلکہ اگر قیامت قائم ہوئی تو وہاں بھی ہم ہی کو یہ نعمتیں ملیں گی۔ دیکھیے سورۂ مریم (۷۷ تا ۸۰) اور سورۂ مدثر (۱۱)۔
اے نبیؐ، اِن سے کہو میرا رب جسے چاہتا ہے کشادہ رزق دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے نپا تلا عطا کرتا ہے، مگر اکثر لوگ اس کی حقیقت نہیں جانتے
مولانا محمد جوناگڑھی
کہہ دیجیئے! کہ میرا رب جس کے لئے چاہے روزی کشاده کردیتا ہے اور تنگ بھی کردیتا ہے، لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے
احمد رضا خان بریلوی
تم فرماؤ بیشک میرا رب رزق وسیع کرتا ہے جس کے لیے چاہے اور تنگی فرماتا ہے لیکن بہت لوگ نہیں جانتے،
علامہ محمد حسین نجفی
کہہ دیجئے! کہ میرا پروردگار (اپنے بندوں میں سے) جس کیلئے چاہتا ہے رزق کشادہ کر دیتا ہے اور جس کیلئے چاہتا ہے تنگ کر دیتا ہے لیکن اکثر لوگ (اس حقیقت کو) جانتے نہیں ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
کہہ دے بے شک میرارب رزق فراخ کرتا ہے جس کے لیے چاہتا ہے اور تنگ کر دیتا ہے اور لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے تسلیاں ٭٭
اللہ تعالیٰ اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی دیتا ہے اور اگلے پیغمبروں کی سی سیرت رکھنے کو فرماتا ہے فرماتا ہے کہ جس بستی میں جو رسول گیا اس کا مقابلہ ہوا۔ بڑے لوگوں نے کفر کیا۔ ہاں غرباء نے تابعداری کی جیسے کہ قوم نوح نے اپنے نبی سے کہا تھا «قَالُـوْٓا اَنُؤْمِنُ لَكَ وَاتَّبَعَكَ الْاَرْذَلُوْنَ» ۱؎ [26-الشعراء:111] الخ، ’ ہم تجھ پر کیسے ایمان لائیں؟ تیرے ماننے والے تو سب نیچے درجے کے لوگ ہیں۔ ‘ یہی مضمون دوسری آیت «وَمَا نَرٰىكَ اتَّبَعَكَ اِلَّا الَّذِيْنَ هُمْ اَرَاذِلُـنَا بَادِيَ الرَّاْيِ» ۱؎ [11-هود:27] الخ، میں ہے قوم صالح کے متکبر لوگ ضعیفوں سے کہتے تھے «اَتَعْلَمُوْنَ اَنَّ صٰلِحًا مُّرْسَلٌ مِّنْ رَّبِّهٖ قَالُوْٓا اِنَّا بِمَآ اُرْسِلَ بِهٖ مُؤْمِنُوْنَ» ۱؎ [7-الأعراف:75] الخ ’ کیا تمہیں صالح کے نبی ہونے کا یقین ہے؟ انہوں نے کہا ہاں ہم تو مومن ہیں۔ تو متکبرین نے صاف کہا کہ ہم نہیں مانتے۔ ‘ اور آیت میں ہے «وَكَذٰلِكَ فَتَنَّا بَعْضَهُمْ بِبَعْضٍ لِّيَقُوْلُوْٓا اَهٰٓؤُلَاءِ مَنَّ اللّٰهُ عَلَيْهِمْ مِّنْ بَيْنِنَا اَلَيْسَ اللّٰهُ بِاَعْلَمَ بالشّٰكِرِيْنَ» ۱؎ [6-الأنعام:53] الخ، یعنی ’ اسی طرح ہم نے ایک کو دوسرے سے فتنے میں ڈالا تاکہ وہ کہیں کیا یہی لوگ ہیں جن پر اللہ نے ہم سب میں سے احسان کیا۔ کیا اللہ شکر گزاروں کو جاننے والا نہیں؟ ‘
اور فرمایا ہر بستی میں وہاں کے بڑے لوگ مجرم اور مکار ہوتے ہیں اور فرمان ہے «وَاِذَآ اَرَدْنَآ اَنْ نُّهْلِكَ قَرْيَةً اَمَرْنَا مُتْرَفِيْهَا فَفَسَقُوْا فِيْهَا فَحَقَّ عَلَيْهَا الْقَوْلُ فَدَمَّرْنٰهَا تَدْمِيْرًا» ۱؎ [17-الإسراء:16] الخ، ’ جب کسی بستی کی ہلاکت کا ہم ارادہ کرتے ہیں تو اس کے سرکش لوگوں کو کچھ احکام دیتے ہیں وہ نہیں مانتے پھر ہم انہیں ہلاک کر دیتے ہیں۔ ‘ پس یہاں بھی فرماتا ہے کہ ہم نے جس بستی میں کوئی نبی اور رسول بھیجا ہے وہاں کے جاہ و حشمت، شان و شوکت والے رئیسوں، امیروں، سرداروں اور بڑے لوگوں نے جھٹ اپنے کفر کا اعلان کر دیا۔ ابن ابی حاتم میں ہے { ابورزین رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ دو شخص آپس میں شریک تھے ایک تو سمندر پار چلا گیا، ایک وہیں رہا جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مبعوث ہوئے تو اس نے اپنے ساتھی سے لکھ کر دریافت کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا کیا حال ہے؟ اس نے جواب میں لکھا کہ گرے پڑے لوگوں نے اس کی بات مانی ہے۔ شریف قریشیوں نے اس کی اطاعت نہیں کی۔ اس خط کو پڑھ کر وہ اپنی تجارت چھوڑ چھاڑ کر سفر کر کے اپنے شریک کے پاس پہنچا۔ یہ پڑھا لکھا آدمی تھا، کتابوں کا اسے علم حاصل تھا۔ اس سے پوچھا کہ بتاؤ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کہاں ہیں؟ معلوم کر کے آپ کی خدمت میں حاضر ہوا آپ سے پوچھا کہ آپ لوگوں کو کس چیز کی طرف بلاتے ہیں؟
{ آپ نے اسلام کے ارکان اس کے سامنے بیان فرمائے۔ وہ اسے سنتے ہی ایمان لے آیا۔ آپ نے فرمایا تمہیں اس کی تصدیق کیونکر ہو گئی؟ اس نے کہا اس بات سے کہ تمام انبیاء کے ابتدائی ماننے والے ہمیشہ ضعیف مسکین لوگ ہی ہوتے ہیں۔ اس پر یہ آیتیں اتریں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آدمی بھیج کر انہیں کہلوایا کہ تمہاری بات کی سچائی اللہ تعالیٰ نے نازل فرمائی۔ } ۱؎ [ضعیف] اسی طرح { ہرقل نے کہا تھا جب کہ اس نے ابوسفیان سے ان کی جاہلیت کی حالت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت دریافت کیا تھا کہ کیا شریف لوگوں نے ان کی تابعداری کی ہے یا ضعیفوں نے؟ تو ابوسفیان نے جواب دیا کہ ضعیفوں نے۔ اس پر ہرقل نے کہا کہ ہر رسول کی اولاً تابعداری کرنے والے یہی ضعیف لوگ ہوتے ہیں } ۱؎ [صحیح بخاری:7] پھر فرمایا یہ خوش حال لوگ مال و اولاد کی کثرت پر ہی فخر کرتے ہیں اور اسے اس بات کی دلیل بناتے ہیں کہ وہ پسندیدہ اللہ ہیں اگر اللہ کی خاص عنایت و مہربانی ان پر نہ ہوتی تو انہیں یہ نعمتیں نہ دیتا اور جب یہاں رب مہربان ہے تو آخرت میں بھی وہ مہربان ہی رہے گا۔ قرآن نے ہر جگہ اس کا رد کیا ہے۔ ایک اور جگہ فرمایا: «اَيَحْسَبُوْنَ اَنَّمَا نُمِدُّهُمْ بِهٖ مِنْ مَّالٍ وَّبَنِيْنَ» ۱؎ [23-المؤمنون:55-56] الخ، ’ کیا ان کا خیال ہے کہ مال و اولاد کی اکثریت ان کے لیے بہتر ہے؟ نہیں بلکہ برائی ہے لیکن یہ بےشعور ہیں۔ ‘ ایک اور آیت میں ہے «وَلَا تُعْجِبْكَ اَمْوَالُهُمْ وَاَوْلَادُهُمْ اِنَّمَا يُرِيْدُ اللّٰهُ اَنْ يُّعَذِّبَهُمْ بِهَا فِي الدُّنْيَا وَتَزْهَقَ اَنْفُسُهُمْ وَهُمْ كٰفِرُوْنَ» ۱؎ [9-التوبة:85] الخ، ’ ان کی مال و اولاد تجھے دھوکے میں نہ ڈالے اس سے انہیں دنیا میں بھی سزا ہو گی اور مرتے دم تک یہ کفر پر ہی رہیں گے۔ ‘ اور آیت میں ہے «ذَرْنِيْ وَمَنْ خَلَقْتُ وَحِيْدًا» ۱؎ [74-المدثر:11-17] الخ، یعنی ’ مجھے اور اس شخص کو چھوڑ دے جسے بہت سے فرزند دے رکھے ہیں۔ اور ہر طرح کا عیش اس کے لیے مہیا کر دیا ہے۔ تاہم اسے طمع ہے کہ میں اور زیادہ دوں۔ ایسا نہیں یہ ہماری آیتوں کا مخالف ہے۔ زمانہ جانتا ہے کہ اسے میں دوزخ کے پہاڑوں پر چڑھاؤں گا۔ ‘ اس شخص کا واقعہ بھی مذکور ہوا ہے جس کے دو باغ تھے، مال والا، پھلوں والا، اولاد والا تھا۔
لیکن کسی چیز نے کوئی فائدہ نہ دیا عذاب الٰہی سے سب چیزیں دنیا میں ہی تباہ اور خاک سیاہ ہو گئیں۔ اللہ جس کی روزی کشادہ کرنا چاہے، کشادہ کر دیتا ہے اور جس کی روزی تنگ کرنا چاہے، تنگ کر دیتا ہے دنیا میں تو وہ اپنے دوستوں دشمنوں سب کو دیتا ہے۔ غنی یا فقیر ہونا اس کی رضا مندی اور ناراضگی کی دلیل نہیں۔ بلکہ اس میں اور ہی حکمتیں ہوتی ہیں جنہیں اکثر لوگ جان نہیں سکتے، مال و اولاد کو ہماری عنایت کی دلیل بنانا غلطی ہے۔ یہ کوئی ہمارے پاس مرتبہ بڑھانے والی چیز نہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { اللہ تعالیٰ تمہاری صورتوں اور مالوں کو نہیں دیکھتا بلکہ دلوں اور عملوں کو دیکھتا ہے۔ } ۱؎ [صحیح مسلم:2564ـ34] (مسلم) ہاں اس کے پاس درجات دلانے والی چیز ایمان اور نیک اعمال ہیں۔ ان کی نیکیوں کے بدلے انہیں بہت بڑھا چڑھا کر دیئے جائیں گے۔ اور ایک ایک نیکی دس دس گنا بلکہ سات سات سو گنا کر کے دی جائے گی۔ جنت کی بلند ترین منزلوں میں ہر ڈر خوف سے، غم سے پر امن ہوں گے۔ کوئی دکھ درد نہ ہو گا۔ ایذا اور صدمہ نہ ہو گا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { جنت میں ایسے بالاخانے ہیں جن کا ظاہر باطن سے اور باطن ظاہر سے نظر آتا ہے۔ ایک اعرابی نے کہا یہ بالاخانے کس کے لیے ہیں؟ آپ نے فرمایا جو نرم کلامی کرے، کھانا کھلائے، بکثرت روزے رکھے اور لوگوں کی نیند کے وقت تہجد پڑھے۔ } ۱؎ [سنن ترمذي:1984،قال الشيخ الألباني:۔حسن] (ابن ابی حاتم) جو لوگ اللہ کی راہ سے اوروں کو روکتے ہیں، رسولوں کی تابعداری سے لوگوں کو باز رکھتے ہیں، اللہ کی آیتوں کی تصدیق نہیں کرتے، وہ جہنم کی سزا میں حاضر کئے جائیں گے اور برا بدلہ پائیں گے۔
36۔ 1 اس میں کفار کے مذکورہ مغالطے کا ازالہ کیا جا رہا ہے کہ رزق کی کشادگی اور تنگی اللہ کی رضا یا عدم کی مظہر نہیں ہے بلکہ اس کا تعلق اللہ کی حکمت و مشیت سے ہے۔ اس لئے وہ مال اس کو بھی دیتا ہے جسے وہ پسند کرتا ہے اور اس کو بھی جس کو ناپسند کرتا ہے اور جس کو چاہتا ہے غنی کرتا ہے، جس کو چاہتا ہے فقیر رکھتا ہے۔
(آیت 36) {قُلْ اِنَّ رَبِّيْ يَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ يَّشَآءُ وَ يَقْدِرُ …:} یعنی دنیا کی آسودگی اور خوش حالی اللہ تعالیٰ کے راضی ہونے کی دلیل نہیں ہے، بلکہ اس کی حکمت و مشیّت یعنی بندوں کی آزمائش ہے۔ وہ بعض اوقات ناراض ہونے کے باوجود آزمائش کے لیے اور حجت تمام کرنے کے لیے کافر و فاسق کا رزق فراخ کر دیتا ہے اور کبھی آزمائش کے لیے اور گناہوں کی مغفرت اور درجات کی بلندی کے لیے مومن کا رزق تنگ کر دیتا ہے اور کبھی اپنی حکمت و مصلحت کی بنا پر کافر کا رزق تنگ اور مومن کا فراخ کر دیتا ہے، تاکہ آزمائش قائم رہے اور دنیا کی خوش حالی دیکھ کر سب لوگ کفر ہی کی طرف مائل نہ ہو جائیں۔ (دیکھیے زخرف: ۳۳ تا ۳۵) لیکن اکثر لوگ یہ بات نہیں جانتے اور مال و اولاد کی کثرت کو اللہ تعالیٰ کے خوش ہونے کی دلیل سمجھ لیتے ہیں۔
یہ تمہاری دولت اور تمہاری اولاد نہیں ہے جو تمہیں ہم سے قریب کرتی ہو ہاں مگر جو ایمان لائے اور نیک عمل کرے یہی لوگ ہیں جن کے لیے اُن کے عمل کی دہری جزا ہے، اور وہ بلند و بالا عمارتوں میں اطمینان سے رہیں گے
مولانا محمد جوناگڑھی
اور تمہارے مال اور اوﻻد ایسے نہیں کہ تمہیں ہمارے پاس (مرتبوں سے) قریب کردیں ہاں جو ایمان ﻻئیں اور نیک عمل کریں ان کے لئے ان کے اعمال کا دوہرا اجر ہے اور وه نڈر و بےخوف ہو کر باﻻ خانوں میں رہیں گے
احمد رضا خان بریلوی
اور تمہارے مال اور تمہاری اولاد اس قابل نہیں کہ تمہیں ہمارے قریب تک پہنچائیں مگر وہ جو ایمان لائے اور نیکی کی ان کے لیے دُونا دُوں (کئی گنا) صلہ ان کے عمل کا بدلہ اور وہ بالاخانوں میں امن و امان سے ہیں
علامہ محمد حسین نجفی
اور تمہارے مال اور تمہاری اولاد (کوئی ایسی چیز نہیں ہیں) جو تمہیں ہمارا مقرب بارگاہ بنائیں مگر وہ جو ایمان لائے اور نیک عمل کرے (اسے ہمارا قرب حاصل ہوگا) ایسے لوگوں کیلئے ان کے عمل کی دوگنی جزا ہے اور وہ بہشت کے اونچے اونچے درجوں میں امن و اطمینان سے رہیں گے۔
عبدالسلام بن محمد
اور نہ تمھارے مال ایسے ہیں اور نہ تمھاری اولاد جو تمھیں ہمارے ہاں قرب میں نزدیک کر دیں، مگر جو شخص ایمان لایا اور اس نے نیک عمل کیا تو یہی لوگ ہیں جن کے لیے دو گنا بدلہ ہے، اس کے عوض جو انھوں نے عمل کیا اور وہ بالا خانوں میں بے خوف ہوں گے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے تسلیاں ٭٭
اللہ تعالیٰ اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی دیتا ہے اور اگلے پیغمبروں کی سی سیرت رکھنے کو فرماتا ہے فرماتا ہے کہ جس بستی میں جو رسول گیا اس کا مقابلہ ہوا۔ بڑے لوگوں نے کفر کیا۔ ہاں غرباء نے تابعداری کی جیسے کہ قوم نوح نے اپنے نبی سے کہا تھا «قَالُـوْٓا اَنُؤْمِنُ لَكَ وَاتَّبَعَكَ الْاَرْذَلُوْنَ» ۱؎ [26-الشعراء:111] الخ، ’ ہم تجھ پر کیسے ایمان لائیں؟ تیرے ماننے والے تو سب نیچے درجے کے لوگ ہیں۔ ‘ یہی مضمون دوسری آیت «وَمَا نَرٰىكَ اتَّبَعَكَ اِلَّا الَّذِيْنَ هُمْ اَرَاذِلُـنَا بَادِيَ الرَّاْيِ» ۱؎ [11-هود:27] الخ، میں ہے قوم صالح کے متکبر لوگ ضعیفوں سے کہتے تھے «اَتَعْلَمُوْنَ اَنَّ صٰلِحًا مُّرْسَلٌ مِّنْ رَّبِّهٖ قَالُوْٓا اِنَّا بِمَآ اُرْسِلَ بِهٖ مُؤْمِنُوْنَ» ۱؎ [7-الأعراف:75] الخ ’ کیا تمہیں صالح کے نبی ہونے کا یقین ہے؟ انہوں نے کہا ہاں ہم تو مومن ہیں۔ تو متکبرین نے صاف کہا کہ ہم نہیں مانتے۔ ‘ اور آیت میں ہے «وَكَذٰلِكَ فَتَنَّا بَعْضَهُمْ بِبَعْضٍ لِّيَقُوْلُوْٓا اَهٰٓؤُلَاءِ مَنَّ اللّٰهُ عَلَيْهِمْ مِّنْ بَيْنِنَا اَلَيْسَ اللّٰهُ بِاَعْلَمَ بالشّٰكِرِيْنَ» ۱؎ [6-الأنعام:53] الخ، یعنی ’ اسی طرح ہم نے ایک کو دوسرے سے فتنے میں ڈالا تاکہ وہ کہیں کیا یہی لوگ ہیں جن پر اللہ نے ہم سب میں سے احسان کیا۔ کیا اللہ شکر گزاروں کو جاننے والا نہیں؟ ‘
اور فرمایا ہر بستی میں وہاں کے بڑے لوگ مجرم اور مکار ہوتے ہیں اور فرمان ہے «وَاِذَآ اَرَدْنَآ اَنْ نُّهْلِكَ قَرْيَةً اَمَرْنَا مُتْرَفِيْهَا فَفَسَقُوْا فِيْهَا فَحَقَّ عَلَيْهَا الْقَوْلُ فَدَمَّرْنٰهَا تَدْمِيْرًا» ۱؎ [17-الإسراء:16] الخ، ’ جب کسی بستی کی ہلاکت کا ہم ارادہ کرتے ہیں تو اس کے سرکش لوگوں کو کچھ احکام دیتے ہیں وہ نہیں مانتے پھر ہم انہیں ہلاک کر دیتے ہیں۔ ‘ پس یہاں بھی فرماتا ہے کہ ہم نے جس بستی میں کوئی نبی اور رسول بھیجا ہے وہاں کے جاہ و حشمت، شان و شوکت والے رئیسوں، امیروں، سرداروں اور بڑے لوگوں نے جھٹ اپنے کفر کا اعلان کر دیا۔ ابن ابی حاتم میں ہے { ابورزین رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ دو شخص آپس میں شریک تھے ایک تو سمندر پار چلا گیا، ایک وہیں رہا جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مبعوث ہوئے تو اس نے اپنے ساتھی سے لکھ کر دریافت کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا کیا حال ہے؟ اس نے جواب میں لکھا کہ گرے پڑے لوگوں نے اس کی بات مانی ہے۔ شریف قریشیوں نے اس کی اطاعت نہیں کی۔ اس خط کو پڑھ کر وہ اپنی تجارت چھوڑ چھاڑ کر سفر کر کے اپنے شریک کے پاس پہنچا۔ یہ پڑھا لکھا آدمی تھا، کتابوں کا اسے علم حاصل تھا۔ اس سے پوچھا کہ بتاؤ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کہاں ہیں؟ معلوم کر کے آپ کی خدمت میں حاضر ہوا آپ سے پوچھا کہ آپ لوگوں کو کس چیز کی طرف بلاتے ہیں؟
{ آپ نے اسلام کے ارکان اس کے سامنے بیان فرمائے۔ وہ اسے سنتے ہی ایمان لے آیا۔ آپ نے فرمایا تمہیں اس کی تصدیق کیونکر ہو گئی؟ اس نے کہا اس بات سے کہ تمام انبیاء کے ابتدائی ماننے والے ہمیشہ ضعیف مسکین لوگ ہی ہوتے ہیں۔ اس پر یہ آیتیں اتریں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آدمی بھیج کر انہیں کہلوایا کہ تمہاری بات کی سچائی اللہ تعالیٰ نے نازل فرمائی۔ } ۱؎ [ضعیف] اسی طرح { ہرقل نے کہا تھا جب کہ اس نے ابوسفیان سے ان کی جاہلیت کی حالت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت دریافت کیا تھا کہ کیا شریف لوگوں نے ان کی تابعداری کی ہے یا ضعیفوں نے؟ تو ابوسفیان نے جواب دیا کہ ضعیفوں نے۔ اس پر ہرقل نے کہا کہ ہر رسول کی اولاً تابعداری کرنے والے یہی ضعیف لوگ ہوتے ہیں } ۱؎ [صحیح بخاری:7] پھر فرمایا یہ خوش حال لوگ مال و اولاد کی کثرت پر ہی فخر کرتے ہیں اور اسے اس بات کی دلیل بناتے ہیں کہ وہ پسندیدہ اللہ ہیں اگر اللہ کی خاص عنایت و مہربانی ان پر نہ ہوتی تو انہیں یہ نعمتیں نہ دیتا اور جب یہاں رب مہربان ہے تو آخرت میں بھی وہ مہربان ہی رہے گا۔ قرآن نے ہر جگہ اس کا رد کیا ہے۔ ایک اور جگہ فرمایا: «اَيَحْسَبُوْنَ اَنَّمَا نُمِدُّهُمْ بِهٖ مِنْ مَّالٍ وَّبَنِيْنَ» ۱؎ [23-المؤمنون:55-56] الخ، ’ کیا ان کا خیال ہے کہ مال و اولاد کی اکثریت ان کے لیے بہتر ہے؟ نہیں بلکہ برائی ہے لیکن یہ بےشعور ہیں۔ ‘ ایک اور آیت میں ہے «وَلَا تُعْجِبْكَ اَمْوَالُهُمْ وَاَوْلَادُهُمْ اِنَّمَا يُرِيْدُ اللّٰهُ اَنْ يُّعَذِّبَهُمْ بِهَا فِي الدُّنْيَا وَتَزْهَقَ اَنْفُسُهُمْ وَهُمْ كٰفِرُوْنَ» ۱؎ [9-التوبة:85] الخ، ’ ان کی مال و اولاد تجھے دھوکے میں نہ ڈالے اس سے انہیں دنیا میں بھی سزا ہو گی اور مرتے دم تک یہ کفر پر ہی رہیں گے۔ ‘ اور آیت میں ہے «ذَرْنِيْ وَمَنْ خَلَقْتُ وَحِيْدًا» ۱؎ [74-المدثر:11-17] الخ، یعنی ’ مجھے اور اس شخص کو چھوڑ دے جسے بہت سے فرزند دے رکھے ہیں۔ اور ہر طرح کا عیش اس کے لیے مہیا کر دیا ہے۔ تاہم اسے طمع ہے کہ میں اور زیادہ دوں۔ ایسا نہیں یہ ہماری آیتوں کا مخالف ہے۔ زمانہ جانتا ہے کہ اسے میں دوزخ کے پہاڑوں پر چڑھاؤں گا۔ ‘ اس شخص کا واقعہ بھی مذکور ہوا ہے جس کے دو باغ تھے، مال والا، پھلوں والا، اولاد والا تھا۔
لیکن کسی چیز نے کوئی فائدہ نہ دیا عذاب الٰہی سے سب چیزیں دنیا میں ہی تباہ اور خاک سیاہ ہو گئیں۔ اللہ جس کی روزی کشادہ کرنا چاہے، کشادہ کر دیتا ہے اور جس کی روزی تنگ کرنا چاہے، تنگ کر دیتا ہے دنیا میں تو وہ اپنے دوستوں دشمنوں سب کو دیتا ہے۔ غنی یا فقیر ہونا اس کی رضا مندی اور ناراضگی کی دلیل نہیں۔ بلکہ اس میں اور ہی حکمتیں ہوتی ہیں جنہیں اکثر لوگ جان نہیں سکتے، مال و اولاد کو ہماری عنایت کی دلیل بنانا غلطی ہے۔ یہ کوئی ہمارے پاس مرتبہ بڑھانے والی چیز نہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { اللہ تعالیٰ تمہاری صورتوں اور مالوں کو نہیں دیکھتا بلکہ دلوں اور عملوں کو دیکھتا ہے۔ } ۱؎ [صحیح مسلم:2564ـ34] (مسلم) ہاں اس کے پاس درجات دلانے والی چیز ایمان اور نیک اعمال ہیں۔ ان کی نیکیوں کے بدلے انہیں بہت بڑھا چڑھا کر دیئے جائیں گے۔ اور ایک ایک نیکی دس دس گنا بلکہ سات سات سو گنا کر کے دی جائے گی۔ جنت کی بلند ترین منزلوں میں ہر ڈر خوف سے، غم سے پر امن ہوں گے۔ کوئی دکھ درد نہ ہو گا۔ ایذا اور صدمہ نہ ہو گا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { جنت میں ایسے بالاخانے ہیں جن کا ظاہر باطن سے اور باطن ظاہر سے نظر آتا ہے۔ ایک اعرابی نے کہا یہ بالاخانے کس کے لیے ہیں؟ آپ نے فرمایا جو نرم کلامی کرے، کھانا کھلائے، بکثرت روزے رکھے اور لوگوں کی نیند کے وقت تہجد پڑھے۔ } ۱؎ [سنن ترمذي:1984،قال الشيخ الألباني:۔حسن] (ابن ابی حاتم) جو لوگ اللہ کی راہ سے اوروں کو روکتے ہیں، رسولوں کی تابعداری سے لوگوں کو باز رکھتے ہیں، اللہ کی آیتوں کی تصدیق نہیں کرتے، وہ جہنم کی سزا میں حاضر کئے جائیں گے اور برا بدلہ پائیں گے۔
37۔ 1 یعنی یہ مال اس بات کی دلیل نہیں ہے کہ ہمیں تم سے محبت ہے اور ہماری بارگاہ میں تمہیں خاص مقام حاصل ہے۔ 37۔ 2 یعنی ہماری محبت اور قرب حاصل کرنے کا ذریعہ تو صرف ایمان اور عمل صالح ہے جس طرح حدیث میں فرمایا ' اللہ تعالیٰ تمہاری شکلیں اور تمہارے مال نہیں دیکھتا، وہ تمہارے دلوں اور عملوں کو دیکھتا ہے (صحیح مسلم) 37۔ 3 بلکہ کئی کئی گنا، ایک نیکی کا اجرکم از کم دس گنا مزید سات سو گنا بلکہ اس سے زیادہ تک۔
(آیت 37) ➊ { وَ مَاۤ اَمْوَالُكُمْ وَ لَاۤ اَوْلَادُكُمْ …:} اس جملے کے دو مطلب ہیں، ایک یہ کہ مال و اولاد ایسی چیزیں نہیں ہیں جو اللہ تعالیٰ کے ہاں تقرب کا ذریعہ بن سکیں، بلکہ یہی چیزیں اکثر انسانوں کے لیے تقرب کے بجائے الٹا اس کے غضب اور غصے کا سبب بن جاتی ہیں اور اسے لے ڈوبتی ہیں۔ اس کے بجائے اللہ تعالیٰ کے ہاں تقرب کا معیار ایمان اور اعمالِ صالحہ ہیں۔ {” اِلَّا مَنْ اٰمَنَ وَ عَمِلَ صَالِحًا “} کا دوسرا مطلب یہ ہے کہ اگر کوئی شخص ایمان لائے اور اعمال صالحہ بھی لائے تو یہی مال اور اولاد اس کے لیے اللہ کے ہاں تقرب کا ذریعہ بن سکتے ہیں۔ وہ یوں کہ اپنے مال و دولت کو اللہ کی راہ میں خرچ کرتا رہے اور اولاد کی صحیح تعلیم و تربیت کر کے اسے اللہ کا فرماں بردار بنا دے۔ (تیسیرالقرآن) ➋ { فَاُولٰٓىِٕكَ لَهُمْ جَزَآءُ الضِّعْفِ بِمَا عَمِلُوْا: ” الضِّعْفِ “ ”نِصْفٌ“} کی ضد ہے، یعنی کسی چیز کی مثل اتنا ہی اور، پھر یہی لفظ کئی گنا کے معنوںمیں استعمال ہوتا ہے، جو دس گنا بھی ہو سکتا ہے، سات سو گنا بھی، بلکہ اس سے زیادہ بھی۔ دیکھیے سورۂ بقرہ (۲۶۱)۔ ➌{ وَ هُمْ فِي الْغُرُفٰتِ: ”اَلْغُرْفَةُ“} بلند و بالا عمارت، بالا خانہ۔ ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ إِنَّ أَهْلَ الْجَنَّةِ يَتَرَاءَوْنَ أَهْلَ الْغُرَفِ مِنْ فَوْقِهِمْ كَمَا يَتَرَاءَوْنَ الْكَوْكَبَ الدُّرِّيَّ الْغَابِرَ فِي الْأُفُقِ مِنَ الْمَشْرِقِ أَوِ الْمَغْرِبِ، لِتَفَاضُلِ مَا بَيْنَهُمْ، قَالُوْا يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ! تِلْكَ مَنَازِلُ الْأَنْبِيَاءِ لَا يَبْلُغُهَا غَيْرُهُمْ، قَالَ بَلٰی، وَالَّذِيْ نَفْسِيْ بِيَدِهِ! رِجَالٌ آمَنُوْا بِاللّٰهِ وَ صَدَّقُوا الْمُرْسَلِيْنَ ] [بخاري، بدء الخلق، باب ما جاء في صفۃ الجنۃ …: ۳۲۵۶ ] ”جنتی لوگ اپنے سے اوپر بالا خانوں میں رہنے والوں کو اس طرح دیکھیں گے جیسے وہ اس ستارے کو دیکھتے ہیں جو آسمان کے کنارے پر مشرق یا مغرب میں گزر رہا ہوتا ہے، کیونکہ ان میں سے بعض بعض سے افضل ہو گا۔“ لوگوں نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! یہ تو انبیاء کے گھر ہوں گے، جہاں ان کے سوا کوئی نہیں پہنچ سکے گا؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیوں نہیں! اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! وہ لوگ (وہاں پہنچیں گے) جو اللہ تعالیٰ پر ایمان لائے اور انھوں نے رسولوں کی تصدیق کی۔“ ➍ { اٰمِنُوْنَ:} بے خوف اس لیے ہوں گے کہ جنت کی نعمتیں ابدی اور دائمی ہوں گی اور ان کا دنیا والا خوف دور ہو جائے گا۔
رہے وہ لوگ جو ہماری آیات کو نیچا دکھانے کے لیے دوڑ دھوپ کرتے ہیں، تو وہ عذاب میں مبتلا ہوں گے
مولانا محمد جوناگڑھی
اور جو لوگ ہماری آیتوں کے مقابلے کی تگ ودو میں لگے رہتے ہیں یہی ہیں جو عذاب میں پکڑ کر حاضر رکھے جائیں گے
احمد رضا خان بریلوی
اور ہو جو ہماری آیتوں میں ہرانے کی کوشش کرتے ہیں وہ عذاب میں لادھرے جائیں گے
علامہ محمد حسین نجفی
اور جو لوگ ہماری آیتوں کے بارے میں (ہمیں نیچا دکھانے کیلئے) کوشش کرتے ہیں وہ عذاب میں حاضر کئے جائیں گے۔
عبدالسلام بن محمد
اور جو لوگ ہماری آیات کے بارے میں کو شش کرتے ہیں، اس حال میں کہ نیچا دکھانے والے ہیں، وہی لوگ عذاب میں حاضر کیے جانے والے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
اللہ تعالیٰ روزی کشادہ و تنگ کرتا ہے ٭٭
پھر فرماتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی حکمت کاملہ کے مطابق جسے چاہے بہت ساری دنیا دیتا ہے اور جسے چاہے بہت کم دیتا ہے کوئی سکھ چین میں ہے کوئی دکھ درد میں مبتلا ہے۔ رب کی حکمتوں کو کوئی نہیں جان سکتا اس کی مصلحتیں وہی خوب جانتا ہے۔ جیسے فرمایا «اُنْظُرْ كَيْفَ فَضَّلْنَا بَعْضَهُمْ عَلٰي بَعْضٍ وَلَلْاٰخِرَةُ اَكْبَرُ دَرَجٰتٍ وَّاَكْبَرُ تَفْضِيْلًا» ۱؎ [17-الإسراء:21] ’ تو دیکھ لے کہ ہم نے کس طرح ایک کو دوسرے پر فضیلت دے رکھی ہے اور البتہ آخرت درجوں اور فضیلتوں میں بہت بڑی ہے۔ ‘ یعنی جس طرح فقر و غنا کے ساتھ درجوں کی اونچ نیچ یہاں ہے۔ اسی طرح آخرت میں بھی اعمال کے مطابق درجات و درکات ہوں گے۔ نیک لوگ تو جنتوں کے بلند و بالا خانوں میں اور بد لوگ جہنم کے نیچے کے طبقے کے جیل خانوں میں۔ { دنیا میں سب سے بہتر شخص رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کے مطابق وہ ہے جو سچا مسلمان ہو اور بقدر کفایت روزی پاتا ہو اور اللہ کی طرف سے قناعت بھی دیا گیا ہو۔ } ۱؎ [صحیح مسلم:1054]
اللہ کے حکم یا اس کی اباحت کے ماتحت تم جو کچھ خرچ کرو گے اس کا بدلہ وہ تمہیں دونوں جہان میں دے گا۔ صحیح حدیث میں ہے کہ { ہر صبح ایک فرشتہ دعا کرتا ہے کہ اللہ بخیل کے مال کو تلف اور برباد کر۔ دوسرا دعا کرتا ہے اللہ خرچ کرنے والے کو نیک بدلہ دے۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:1442] { بلال رضی اللہ عنہ سے ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بلال خرچ کر اور عرش والے کی طرف سے تنگی کا خیال بھی نہ کر۔ } ۱؎ [طبرانی:1020:ضعیف] ابن ابی حاتم میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں تمہارے اس زمانے کے بعد ایسا زمانہ آ رہا ہے جو کاٹ کھانے والا ہو گا۔ مال ہو گا لیکن مالدار نے گویا اپنے مال پر دانت گاڑے ہوئے ہوں گے کہ کہیں خرچ نہ ہو جائے۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی آیت میں «وَمَآ اَنْفَقْتُمْ مِّنْ نَّفَقَةٍ اَوْ نَذَرْتُمْ مِّنْ نَّذْرٍ فَاِنَّ اللّٰهَ يَعْلَمُهٗ وَمَا للظّٰلِمِيْنَ مِنْ اَنْصَارٍ» الخ، کی تلاوت فرمائی۔ } ۱؎ [المیزان:6983:ضعیف] اور حدیث میں ہے بدترین لوگ وہ ہیں جو بے بس اور مضطر لوگوں کی چیزیں کم داموں خریدتے پھریں۔ یاد رکھو ایسی بیع حرام ہے، مضطر کی بیع حرام ہے۔ مسلمان مسلمان کا بھائی ہے نہ اس پر ظلم کرے نہ اسے رسوا کرے۔ اگر تجھ سے ہو سکے تو دوسرے کے ساتھ اچھا سلوک اور بھلائی کر ورنہ اس کی ہلاکت کو تو نہ بڑھا (ابو یعلیٰ موصلی) یہ حدیث اس سند سے غریب ہے اور ضعیف بھی ہے۔ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہیں اس آیت کا غلط مطلب نہ لے لینا۔ اپنے مال کو خرچ کرنے میں میانہ روی کرنا۔ روزیاں بٹ چکی ہیں، رزق مقسوم ہے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 38){ وَ الَّذِيْنَ يَسْعَوْنَ فِيْۤ اٰيٰتِنَا …:} اس کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورۂ حج (۵۱) اور سورۂ سبا (۵) {” مُحْضَرُوْنَ “} یعنی کبھی تھوڑی دیر کے لیے بھی اس سے غائب نہیں ہو سکیں گے، ہمیشہ اس میں حاضر رکھے جائیں گے۔
اے نبیؐ، ان سے کہو، "میرا رب اپنے بندوں میں سے جسے چاہتا ہے کھلا رزق دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے نپا تلا دیتا ہے جو کچھ تم خرچ کر دیتے ہو اُس کی جگہ وہی تم کو اور دیتا ہے، وہ سب رازقوں سے بہتر رازق ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
کہہ دیجیئے! کہ میرا رب اپنے بندوں میں جس کے لئے چاہے روزی کشاده کرتا ہے اور جس کے لئے چاہے تنگ کردیتا ہے، تم جو کچھ بھی اللہ کی راه میں خرچ کرو گے اللہ اس کا (پورا پورا) بدلہ دے گا اور وه سب سے بہتر روزی دینے واﻻ ہے
احمد رضا خان بریلوی
تم فرماؤ بیشک میرا رب رزق وسیع فرماتا ہے اپنے بندوں میں جس کے لیے چاہے اور تنگی فرماتا ہے جس کے لیے چاہے اور جو چیز تم اللہ کی راہ میں خرچ کرو وہ اس کے بدلے اور دے گا اور وہ سب سے بہتر رزق دینے والا
علامہ محمد حسین نجفی
آپ(ص) کہہ دیجئے! میرا پروردگار اپنے بندوں میں سے جس کا چاہتا ہے رزق کشادہ کر دیتا ہے اور جس کا چاہتا ہے تنگ کر دیتا ہے اور جو کچھ تم (راہِ خدا میں) خرچ کرتے ہو تو وہ اس کی جگہ عطا کرتا ہے اور وہ بہترین روزی دینے والا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
کہہ دے بے شک میرا رب رزق فراخ کرتاہے اپنے بندوں میں سے جس کے لیے چاہتا ہے اور اس کے لیے تنگ کر دیتا ہے اور تم جو بھی چیز خرچ کرتے ہو تو وہ اس کی جگہ اور دیتا ہے اور وہ سب رزق دینے والوں سے بہتر ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
اللہ تعالیٰ روزی کشادہ و تنگ کرتا ہے ٭٭
پھر فرماتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی حکمت کاملہ کے مطابق جسے چاہے بہت ساری دنیا دیتا ہے اور جسے چاہے بہت کم دیتا ہے کوئی سکھ چین میں ہے کوئی دکھ درد میں مبتلا ہے۔ رب کی حکمتوں کو کوئی نہیں جان سکتا اس کی مصلحتیں وہی خوب جانتا ہے۔ جیسے فرمایا «اُنْظُرْ كَيْفَ فَضَّلْنَا بَعْضَهُمْ عَلٰي بَعْضٍ وَلَلْاٰخِرَةُ اَكْبَرُ دَرَجٰتٍ وَّاَكْبَرُ تَفْضِيْلًا» ۱؎ [17-الإسراء:21] ’ تو دیکھ لے کہ ہم نے کس طرح ایک کو دوسرے پر فضیلت دے رکھی ہے اور البتہ آخرت درجوں اور فضیلتوں میں بہت بڑی ہے۔ ‘ یعنی جس طرح فقر و غنا کے ساتھ درجوں کی اونچ نیچ یہاں ہے۔ اسی طرح آخرت میں بھی اعمال کے مطابق درجات و درکات ہوں گے۔ نیک لوگ تو جنتوں کے بلند و بالا خانوں میں اور بد لوگ جہنم کے نیچے کے طبقے کے جیل خانوں میں۔ { دنیا میں سب سے بہتر شخص رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کے مطابق وہ ہے جو سچا مسلمان ہو اور بقدر کفایت روزی پاتا ہو اور اللہ کی طرف سے قناعت بھی دیا گیا ہو۔ } ۱؎ [صحیح مسلم:1054]
اللہ کے حکم یا اس کی اباحت کے ماتحت تم جو کچھ خرچ کرو گے اس کا بدلہ وہ تمہیں دونوں جہان میں دے گا۔ صحیح حدیث میں ہے کہ { ہر صبح ایک فرشتہ دعا کرتا ہے کہ اللہ بخیل کے مال کو تلف اور برباد کر۔ دوسرا دعا کرتا ہے اللہ خرچ کرنے والے کو نیک بدلہ دے۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:1442] { بلال رضی اللہ عنہ سے ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بلال خرچ کر اور عرش والے کی طرف سے تنگی کا خیال بھی نہ کر۔ } ۱؎ [طبرانی:1020:ضعیف] ابن ابی حاتم میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں تمہارے اس زمانے کے بعد ایسا زمانہ آ رہا ہے جو کاٹ کھانے والا ہو گا۔ مال ہو گا لیکن مالدار نے گویا اپنے مال پر دانت گاڑے ہوئے ہوں گے کہ کہیں خرچ نہ ہو جائے۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی آیت میں «وَمَآ اَنْفَقْتُمْ مِّنْ نَّفَقَةٍ اَوْ نَذَرْتُمْ مِّنْ نَّذْرٍ فَاِنَّ اللّٰهَ يَعْلَمُهٗ وَمَا للظّٰلِمِيْنَ مِنْ اَنْصَارٍ» الخ، کی تلاوت فرمائی۔ } ۱؎ [المیزان:6983:ضعیف] اور حدیث میں ہے بدترین لوگ وہ ہیں جو بے بس اور مضطر لوگوں کی چیزیں کم داموں خریدتے پھریں۔ یاد رکھو ایسی بیع حرام ہے، مضطر کی بیع حرام ہے۔ مسلمان مسلمان کا بھائی ہے نہ اس پر ظلم کرے نہ اسے رسوا کرے۔ اگر تجھ سے ہو سکے تو دوسرے کے ساتھ اچھا سلوک اور بھلائی کر ورنہ اس کی ہلاکت کو تو نہ بڑھا (ابو یعلیٰ موصلی) یہ حدیث اس سند سے غریب ہے اور ضعیف بھی ہے۔ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہیں اس آیت کا غلط مطلب نہ لے لینا۔ اپنے مال کو خرچ کرنے میں میانہ روی کرنا۔ روزیاں بٹ چکی ہیں، رزق مقسوم ہے۔
39۔ 1 پس وہ کبھی کافر کو بھی خوب مال دیتا ہے، لیکن کس لئے؟ خلاف معمول کے طور پر، اور کبھی مومن کو تنگ دست رکھتا ہے، کس لئے؟ اس کے اجر وثواب میں اضافے کے لئے۔ اسلئے مال کی فروانی اس کی رضا کی اور اس کی کمی، اس کی نارضگی کی دلیل نہیں ہے۔ یہ تکرار بطور تاکید کے ہے۔ 39۔ 2 اخلاف کے معنی ہیں، عوض اور بدلہ دینا، یہ بدلہ دنیا میں بھی ممکن ہے اور آخرت میں تو یقینی ہے حدیث قدسی میں آتا ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے انفق انفق علیک۔ تو خرچ کر میں تجھ پر خرچ کروں گا۔ 39۔ 3 کیونکہ ایک بندہ اگر کسی کو دیتا ہے تو اس کا یہ دینا اللہ کی توفیق وتیسر اور اس کی تقدیر سے ہی ہے حقیقت میں دینے والا اس کار ازق نہیں ہے جس طرح بچوں کا باپ بچوں کا یا بادشاہ اپنے لشکر کا کفیل کہلاتا ہے حالانکہ امیر اور مامور بچے اور بڑے سب کا رازق حقیقت میں اللہ تعالیٰ ہی ہے جو سب کا خالق ہے اس لیے جو شخص اللہ کے دیے ہوئے مال میں سے کسی کو کچھ دیتا ہے تو وہ ایسے مال میں تصرف کرتا ہے جو اللہ ہی نے اسے دیا ہے۔
(آیت 39) ➊ {قُلْ اِنَّ رَبِّيْ يَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ يَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖ وَ يَقْدِرُ لَهٗ:} یہ الفاظ دوبارہ لانے کی وجہ یہ ہے کہ دونوں جگہ مقصد مختلف ہے۔ پہلی آیت میں کفار کی بات کا رد مقصود ہے اور یہاں اہلِ ایمان کو خرچ کرنے کی ترغیب مقصود ہے۔ اس کے علاوہ یہاں {” يَقْدِرُ “} کے ساتھ {” لَهٗ “} کا اضافہ ہے، یعنی اللہ تعالیٰ اپنے بندوں میں سے جس کا رزق چاہتا ہے فراخ کر دیتا ہے اور اسی کا رزق جب چاہتا ہے تنگ کر دیتا ہے۔ اس لیے کوئی شخص اگر یہ سمجھ کر بخل کرے اور اللہ کے راستے میں خرچ نہ کرے کہ خرچ کرنے سے میرا رزق تنگ ہو جائے گا تو یہ اس کی بھول ہے، رزق کی تنگی یا فراخی کا تعلق اس کے بخل یا سخاوت سے نہیں، بلکہ اللہ تعالیٰ کی مشیّت سے ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلال رضی اللہ عنہ سے فرمایا: [ أَنْفِقْ بِلاَلُ! وَلاَ تَخْشَ مِنْ ذِي الْعَرْشِ إِقْلَالًا] [ سلسلۃ الأحادیث الصحیحۃ: 160/6، ح: ۲۶۶۱۔ مسند البزار: 204/4، ح: ۱۳۶۶ ] ”بلال! خرچ کر اور عرش والے کی طرف سے فقیری سے مت ڈر۔“ ➋ { ” يَقْدِرُ لَهٗ “} (اس کے لیے تنگ کر دیتا ہے) میں {”عَلَيْهِ“} کے بجائے {” لَهٗ “} کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ مومن کا رزق تنگ بھی اس کے فائدے ہی کے لیے کرتا ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ کے عطا کردہ پر قناعت کرنا اور اس پر راضی ہو جانا بہت بڑی سعادت ہے اور اس میں حساب بھی کم ہے۔ عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنھما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ قَدْ أَفْلَحَ مَنْ أَسْلَمَ وَ رُزِقَ كَفَافًا وَ قَنَّعَهُ اللّٰهُ بِمَا آتَاهُ ] [ مسلم، الزکاۃ، باب في الکفاف والقناعۃ: ۱۰۵۴ ] ”یقینا وہ شخص کامیاب ہو گیا جو اسلام لایا اور اسے گزارے کے مطابق رزق دیا گیا اور اللہ نے اسے جو کچھ دیا اس پر قانع کر دیا۔“ ➌ {وَ مَاۤ اَنْفَقْتُمْ مِّنْ شَيْءٍ فَهُوَ يُخْلِفُهٗ:} یعنی اللہ کی راہ میں اس کے حکم کے مطابق زیادہ سے زیادہ یا کم سے کم جو چیز بھی خرچ کرو گے اللہ تعالیٰ اس کی جگہ دنیا میں اور عطا فرمائے گا اور آخرت کے اجر کا تو کوئی اندازہ نہیں کر سکتا۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ مَا مِنْ يَوْمٍ يُصْبِحُ الْعِبَادُ فِيْهِ إِلَّا مَلَكَانِ يَنْزِلَانِ فَيَقُوْلُ أَحَدُهُمَا اللّٰهُمَّ أَعْطِ مُنْفِقًا خَلَفًا، وَ يَقُوْلُ الْآخَرُ اللّٰهُمَّ أَعْطِ مُمْسِكًا تَلَفًا ] [ بخاري، الزکاۃ، باب قول اللّٰہ تعالٰی: «فأما من أعطی …» : ۱۴۴۲ ] ”جس دن بھی بندے صبح کرتے ہیں، اس میں دو فرشتے اترتے ہیں، ان میں سے ایک کہتا ہے، اے اللہ! خرچ کرنے والے کو اس کی جگہ اور دے اور دوسرا کہتا ہے، اے اللہ! روک کر رکھنے والے کے مال کو تباہ کر۔“ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: [ يَا ابْنَ آدَمَ! أَنْفِقْ أُنْفِقْ عَلَيْكَ، وَ قَالَ يَمِيْنُ اللّٰهِ مَلْأَی سَحَّاءُ لَا يَغِيْضُهَا شَيْءٌ، اللَّيْلَ وَ النَّهَارَ ] [ مسلم، الزکاۃ، باب الحث علی النفقۃ…: ۹۹۳۔ بخاري: ۴۶۸۴ ] ”اے آدم کے بیٹے! تو خرچ کر، میں تجھ پر خرچ کروں گا۔“ اور فرمایا: ”اللہ کا دایاں ہاتھ بھرا ہوا ہے، بہت برسنے والا ہے، دن رات خرچ کرنے سے اس میں کوئی چیز کمی نہیں لاتی۔“ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ مَا نَقَصَتْ صَدَقَةٌ مِنْ مَّالٍ وَ مَا زَادَ اللّٰهُ عَبْدًا بِعَفْوٍ إِلَّا عِزًّا وَمَا تَوَاضَعَ أَحَدٌ لِلّٰهِ إِلَّا رَفَعَهُ اللّٰهُ ] [ مسلم، البر و الصلۃ، باب استحباب العفو والتواضع: ۲۵۸۸ ] ”کوئی صدقہ مال میں کمی نہیں لاتا اور معاف کرنے سے اللہ تعالیٰ بندے کی عزت ہی میں اضافہ فرماتا ہے اور اللہ کے لیے کوئی نیچا نہیں ہوتا، مگر اللہ تعالیٰ اسے اونچا کر دیتا ہے۔“ ➍ { وَ هُوَ خَيْرُ الرّٰزِقِيْنَ:} اس لیے کہ دوسرے تمام دینے والے اسی کے دیے میں سے دیتے ہیں، وہ اکیلا ہے جو ہر چیز اپنے پاس سے دیتا ہے۔
اور جس دن وہ تمام انسانوں کو جمع کرے گا پھر فرشتوں سے پوچھے گا "کیا یہ لوگ تمہاری ہی عبادت کیا کرتے تھے؟"
مولانا محمد جوناگڑھی
اور ان سب کو اللہ اس دن جمع کرکے فرشتوں سے دریافت فرمائے گا کہ کیا یہ لوگ تمہاری عبادت کرتے تھے
احمد رضا خان بریلوی
اور جس دن ان سب کو اٹھائے گا پھر فرشتوں سے فرمائے گا کیا یہ تمہیں پوجتے تھے
علامہ محمد حسین نجفی
اور جس دن وہ لوگوں کو جمع کرے گا پھر فرشتوں سے کہے گا (پوچھے گا) کیا یہ لوگ تمہاری ہی عبادت کرتے تھے؟
عبدالسلام بن محمد
اور جس دن وہ ان سب کو جمع کرے گا، پھر فرشتوں سے کہے گا کیا یہ لوگ تمھاری ہی عبادت کیا کرتے تھے؟
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
مشرکین سے سوال ٭٭
مشرکین کو شرمندہ لاجواب اور بےعذر کرنے کے لئے ان کے سامنے فرشتوں سے سوال ہو گا۔ جن کی مصنوعی شکلیں بنا کر یہ مشرک دنیا میں پوجتے رہے کہ وہ انہیں اللہ سے ملا دیں۔ سوال ہو گا کہ کیا تم نے انہیں اپنی عبادت کرنے کو کہا تھا؟ جیسے سورۃ الفرقان میں ہے «ءَ اَنْتُمْ اَضْلَلْتُمْ عِبَادِيْ هٰٓؤُلَاءِ اَمْ هُمْ ضَلُّوا السَّبِيْلَ» ۱؎ [25-الفرقان:17] یعنی ’ کیا تم نے انہیں گمراہ کیا تھا؟ یا یہ خود ہی بہکے ہوئے تھے؟ ‘ عیسیٰ علیہ السلام سے یہی سوال ہو گا کہ کیا تم لوگوں سے کہہ آئے تھے کہ اللہ کو چھوڑ کر میری اور میری ماں کی عبادت کرنا؟ آپ جواب دیں گے کہ اللہ! تیری ذات پاک ہے جو کہنا مجھے سزاوار نہ تھا، اسے میں کیسے کہہ دیتا؟ اسی طرح فرشتے بھی اپنی برأت ظاہر کریں گے اور کہیں گے تو اس سے بہت بلند اور پاک ہے کہ تیرا کوئی شریک ہو۔ ہم تو خود تیرے بندے تھے اور ہم ان سے بیزار رہے اور اب بھی ان سے الگ ہیں۔ یہ شیاطین کی پرستش کرتے تھے۔ شیطانوں نے ہی ان کے لیے بتوں کی پوجا کو مزین کر رکھا تھا اور انہیں گمراہ کر دیا تھا ان میں سے اکثر کا شیطان پر ہی اعتقاد تھا۔ جیسے فرمان باری ہے «اِنْ يَّدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖٓ اِلَّآ اِنَاثًا وَاِنْ يَّدْعُوْنَ اِلَّا شَيْطٰنًا مَّرِيْدًا۔ لَّعَنَهُ اللَّـهُ ۘ وَقَالَ لَأَتَّخِذَنَّ مِنْ عِبَادِكَ نَصِيبًا مَّفْرُوضًا» ۱؎ [4-النساء:117-118] یعنی ’ یہ لوگ اللہ کو چھوڑ کر عورتوں کی پرستش کرتے ہیں اور سرکش شیطان کی عبادت کرتے ہیں۔ جس پر اللہ کی پھٹکار ہے۔ ‘ پس جن جن سے تم مشرکو! لو لگائے ہوئے تھے ان میں سے ایک بھی آج تمہیں کوئی نفع نہ پہنچا سکے گا۔ اس شدت و کرب کے وقت یہ سارے جھوٹے معبود تم سے یک سو ہو جائیں گے کیونکہ انہیں کسی کے کسی طرح کے نفع و ضرر کا اختیار تھا ہی نہیں۔ آج ہم خود مشرکوں سے فرما دیں گے کہ لو جس عذاب جہنم کو جھٹلا رہے تھے آج اس کا مزہ چکھو۔
40۔ 1 یہ مشرکوں کو ذلیل و خوار کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ فرشتوں سے پوچھے گا، جیسے حضرت عیسیٰ ؑ کے بارے میں آتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان سے بھی پوچھے گا ' کیا تو نے لوگوں سے کہا تھا کہ مجھے اور میری ماں (مریم) کو، اللہ کے سوا، معبود بنا لینا؟ ' (وَاِذْ قَال اللّٰهُ يٰعِيْسَى ابْنَ مَرْيَمَ ءَاَنْتَ قُلْتَ للنَّاسِ اتَّخِذُوْنِيْ وَاُمِّيَ اِلٰــهَيْنِ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ ۭ قَالَ سُبْحٰنَكَ مَا يَكُوْنُ لِيْٓ اَنْ اَقُوْلَ مَا لَيْسَ لِيْ ۤ بِحَقٍّ ڲ اِنْ كُنْتُ قُلْتُهٗ فَقَدْ عَلِمْتَهٗ ۭ تَعْلَمُ مَا فِيْ نَفْسِيْ وَلَآ اَعْلَمُ مَا فِيْ نَفْسِكَ ۭاِنَّكَ اَنْتَ عَلَّامُ الْغُيُوْبِ) 5۔ المائدہ:116) حضرت عیسیٰ ؑ فرمائیں گے ' یا اللہ تو پاک ہے، جس کا مجھے حق نہیں تھا، وہ بات میں کیوں کر کہہ سکتا تھا؟ ' اسی طرح اللہ تعالیٰ فرشتوں سے بھی پوچھے گا جیساہ سورة الفرقان (وَيَوْمَ يَحْشُرُهُمْ وَمَا يَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ فَيَقُوْلُ ءَ اَنْتُمْ اَضْلَلْتُمْ عِبَادِيْ هٰٓؤُلَاۗءِ اَمْ هُمْ ضَلُّوا السَّبِيْلَ) 25۔ الفرقان:17) میں بھی گزرا۔ کہ کیا یہ تمہارے کہنے پر تمہاری عبادت کرتے تھے؟
(آیت 40) ➊ {وَ يَوْمَ يَحْشُرُهُمْ جَمِيْعًا ثُمَّ يَقُوْلُ لِلْمَلٰٓىِٕكَةِ…:} اس کا عطف{” وَ لَوْ تَرٰۤى اِذِ الظّٰلِمُوْنَ مَوْقُوْفُوْنَ عِنْدَ رَبِّهِمْ “} پر ہے۔ پہلے مستکبرین کے مستضعفین سے بری ہونے کا ذکر فرما کر اس دن ان کی بری حالت کا نقشہ کھینچا ہے، اب فرشتوں کے ان سے بری ہونے کا ذکر فرما کر اس دن ان کے ذلیل وخوار اور بے یار و مددگار ہونے کا ذکر فرمایا۔ ➋ مفسر عبدالرحمان کیلانی رحمہ اللہ لکھتے ہیں: ”مشرکین خواہ دور نبوی کے ہوں یا اس سے پہلے دور کے یا مابعد کے دور کے، وہ یہ نہیں کہتے تھے کہ ہم ان بتوں کو پوجتے ہیں، یا ان قبروں کو پوجتے ہیں، بلکہ ان کے اعتقاد کے پیچھے ان کا ایک پورا گھڑا ہوا فلسفہ ہوتا ہے۔ مثلاً سورج کی پوجا کرنے والے پہلے سورج کی روح کا ایک خیالی نقشہ یا تصویر قائم کرتے ہیں، پھر اس خیالی تصویر کے مطابق اس کا مجسّمہ بناتے ہیں، پھر یہ سمجھتے ہیں کہ اس مجسّمے کے ساتھ سورج کی روح کا ہر وقت تعلق قائم رہتا ہے اور ہم جو سورج کے مجسّمے کو پوجتے ہیں تو دراصل یہ اس بت کی نہیں بلکہ ہم سورج دیوتا کی عبادت کرتے ہیں۔ مشرکین نے اس طرح کی کئی دیویاں اور دیوتا بنا رکھے تھے، پھر یہ مجسّمے مظاہر قدرت ہی کے نہیں بلکہ بعض صفات کے بھی ہوتے تھے اور ان صفات کو بھی سیاروں سے منسوب کر دیا جاتا تھا۔ مثلاً فلاں علم کی دیوی، فلاں دولت کی دیوی ہے وغیرہ وغیرہ، پھر کچھ مشرک فرشتوں کے خیالی مجسّمے بنا کر ان کی پوجا کرتے تھے۔ مشرکین عرب کی ایک کثیر تعداد ایسی ہی تھی جو فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں قرار دیتے تھے اور لات، منات اور عزیٰ کے مجسّمے بنا کر ان کی عبادت کرتے، تو سمجھتے یہی تھے کہ ہم ان بتوں کی نہیں بلکہ ان فرشتوں کی عبادت کرتے ہیں جن کی ارواح ان مجسّموں یا بتوں سے وابستہ رہتی ہیں۔ اسی طرح قبر پرست بھی یہ سمجھتے تھے کہ ہم اس قبر کے پرستار نہیں، بلکہ ہماری سب نیاز مندیاں اور نذریں نیازیں تو صاحب قبر کے لیے ہیں، جس کی روح اس کی قبر کے ساتھ وابستہ رہتی ہے۔ ان تمام معبودوں سے چونکہ فرشتے ہی برتر مخلوق ہیں، لہٰذا قیامت کے دن اللہ تعالیٰ مشرکوں کو شرمندہ کرنے اور انھیں حسرت دلانے کے لیے انھی سے سوال کرے گا کہ یہ لوگ تمھاری ہی عبادت کرتے تھے؟ کیا تم نے انھیں ایسا کہا تھا کہ تمھاری عبادت کیا کریں، یا کچھ اس قسم کی آرزو تم نے کی تھی؟ اور یہ سوال اگرچہ فرشتوں سے ہو گا مگر مقصد ان کی پوجا کرنے والوں کو رسوا اور لاجواب کرنا ہو گا۔“ ➌ قیامت کے روز یہ سوال فرشتوں ہی سے نہیں ہو گا بلکہ ان تمام ہستیوں سے کیا جائے گا جن کی دنیا میں عبادت ہوتی تھی۔ سورۂ فرقان میں ہے: «وَ يَوْمَ يَحْشُرُهُمْ وَ مَا يَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ فَيَقُوْلُ ءَاَنْتُمْ اَضْلَلْتُمْ عِبَادِيْ هٰۤؤُلَآءِ اَمْ هُمْ ضَلُّوا السَّبِيْلَ» [ الفرقان: ۱۷ ] ”اور جس دن وہ انھیں اور جن کو وہ اللہ کے سوا پوجتے تھے، اکٹھا کرے گا، پھر کہے گا کیا تم نے میرے ان بندوں کو گمراہ کیا، یا وہ خود راستے سے بھٹک گئے تھے؟“ اور سورۂ مائدہ میں ہے: «وَ اِذْ قَالَ اللّٰهُ يٰعِيْسَى ابْنَ مَرْيَمَ ءَاَنْتَ قُلْتَ لِلنَّاسِ اتَّخِذُوْنِيْ وَ اُمِّيَ اِلٰهَيْنِ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ» [ المائدۃ: ۱۱۶ ] ”اور جب اللہ فرمائے گا، اے عیسیٰ ابن مریم! کیا تو نے لوگوں سے یہ کہا کہ اللہ کے سوا مجھے اور میری ماں کو معبود بنا لو؟“
تو وہ جواب دیں گے کہ "پاک ہے آپ کی ذات، ہمارا تعلق تو آپ سے ہے نہ کہ اِن لوگوں سے دراصل یہ ہماری نہیں بلکہ جنوں کی عبادت کرتے تھے، ان میں سے اکثر انہی پر ایمان لائے ہوئے تھے"
مولانا محمد جوناگڑھی
وه کہیں گے تیری ذات پاک ہے اور ہمارا ولی تو تو ہے نہ کہ یہ بلکہ یہ لوگ جنوں کی عبادت کرتے تھے، ان میں کے اکثر کا ان ہی پر ایمان تھا
احمد رضا خان بریلوی
وہ عرض کریں گے پاکی ہے تجھ کو تو ہمارا دوست ہے نہ وہ بلکہ وہ جِنوں کو پوجتے تھے ان میں اکثر انہیں پر یقین لائے تھے
علامہ محمد حسین نجفی
وہ کہیں گے پاک ہے تیری ذات! تو ہمارا آقا ہے نہ کہ وہ (ہمارا تعلق تجھ سے ہے نہ کہ ان سے) بلکہ یہ تو جنات کی عبادت کیا کرتے تھے ان کی اکثریت انہی پر ایمان و اعتقاد رکھتی تھی۔
عبدالسلام بن محمد
وہ کہیں گے تو پاک ہے، تو ہمارا دوست ہے نہ کہ وہ، بلکہ وہ جنوں کی عبادت کیا کرتے تھے، ان کے اکثر انھی پر ایمان رکھنے والے تھے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
مشرکین سے سوال ٭٭
مشرکین کو شرمندہ لاجواب اور بےعذر کرنے کے لئے ان کے سامنے فرشتوں سے سوال ہو گا۔ جن کی مصنوعی شکلیں بنا کر یہ مشرک دنیا میں پوجتے رہے کہ وہ انہیں اللہ سے ملا دیں۔ سوال ہو گا کہ کیا تم نے انہیں اپنی عبادت کرنے کو کہا تھا؟ جیسے سورۃ الفرقان میں ہے «ءَ اَنْتُمْ اَضْلَلْتُمْ عِبَادِيْ هٰٓؤُلَاءِ اَمْ هُمْ ضَلُّوا السَّبِيْلَ» ۱؎ [25-الفرقان:17] یعنی ’ کیا تم نے انہیں گمراہ کیا تھا؟ یا یہ خود ہی بہکے ہوئے تھے؟ ‘ عیسیٰ علیہ السلام سے یہی سوال ہو گا کہ کیا تم لوگوں سے کہہ آئے تھے کہ اللہ کو چھوڑ کر میری اور میری ماں کی عبادت کرنا؟ آپ جواب دیں گے کہ اللہ! تیری ذات پاک ہے جو کہنا مجھے سزاوار نہ تھا، اسے میں کیسے کہہ دیتا؟ اسی طرح فرشتے بھی اپنی برأت ظاہر کریں گے اور کہیں گے تو اس سے بہت بلند اور پاک ہے کہ تیرا کوئی شریک ہو۔ ہم تو خود تیرے بندے تھے اور ہم ان سے بیزار رہے اور اب بھی ان سے الگ ہیں۔ یہ شیاطین کی پرستش کرتے تھے۔ شیطانوں نے ہی ان کے لیے بتوں کی پوجا کو مزین کر رکھا تھا اور انہیں گمراہ کر دیا تھا ان میں سے اکثر کا شیطان پر ہی اعتقاد تھا۔ جیسے فرمان باری ہے «اِنْ يَّدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖٓ اِلَّآ اِنَاثًا وَاِنْ يَّدْعُوْنَ اِلَّا شَيْطٰنًا مَّرِيْدًا۔ لَّعَنَهُ اللَّـهُ ۘ وَقَالَ لَأَتَّخِذَنَّ مِنْ عِبَادِكَ نَصِيبًا مَّفْرُوضًا» ۱؎ [4-النساء:117-118] یعنی ’ یہ لوگ اللہ کو چھوڑ کر عورتوں کی پرستش کرتے ہیں اور سرکش شیطان کی عبادت کرتے ہیں۔ جس پر اللہ کی پھٹکار ہے۔ ‘ پس جن جن سے تم مشرکو! لو لگائے ہوئے تھے ان میں سے ایک بھی آج تمہیں کوئی نفع نہ پہنچا سکے گا۔ اس شدت و کرب کے وقت یہ سارے جھوٹے معبود تم سے یک سو ہو جائیں گے کیونکہ انہیں کسی کے کسی طرح کے نفع و ضرر کا اختیار تھا ہی نہیں۔ آج ہم خود مشرکوں سے فرما دیں گے کہ لو جس عذاب جہنم کو جھٹلا رہے تھے آج اس کا مزہ چکھو۔
41۔ 1 یعنی فرشتے بھی حضرت عیسیٰ ؑ کی طرح اللہ تعالیٰ کی پاکیزگی بیان کر کے اظہار صفائی کریں گے اور کہیں گے کہ ہم تو تیرے بندے ہیں اور تو ہمارا ولی ہے۔ ہمارا ان سے کیا تعلق؟
(آیت 41) ➊ {قَالُوْا سُبْحٰنَكَ اَنْتَ وَلِيُّنَا مِنْ دُوْنِهِمْ:} یعنی فرشتے بھی عیسیٰ علیہ السلام کی طرح اللہ تعالیٰ کی پاکیزگی بیان کر کے اپنی صفائی پیش کریں گے اور کہیں گے، تو اس سے پاک ہے کہ تیرا کوئی شریک ہو، ہم تو تیرے بندے ہیں اور تو ہی ہمارا ولی ہے، تجھ ہی سے ہماری دوستی ہے، ان سے ہماری کوئی دوستی ہے نہ کوئی تعلق۔ ➋ { بَلْ كَانُوْا يَعْبُدُوْنَ الْجِنَّ …:} یعنی گو یہ بظاہر ہمارے بت بنا کر ہماری عبادت کرتے تھے، لیکن حقیقت میں یہ شیاطین کی بندگی کرتے تھے، کیونکہ انھوں نے ہی ان کو یہ راستہ دکھایا تھا کہ تجھے چھوڑ کر دوسروں کو اپنا معبود سمجھیں، ان کے آگے نذر و نیاز پیش کریں اور اپنی حاجت روائی کے لیے انھیں پکاریں۔ {” الْجِنَّ “} سے مراد شیاطین ہیں، جیسا کہ دوسری جگہ فرمایا: «اِنْ يَّدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖۤ اِلَّاۤ اِنٰثًا وَ اِنْ يَّدْعُوْنَ اِلَّا شَيْطٰنًا مَّرِيْدًا» [ النساء: ۱۱۷ ] ”وہ اس کے سوا نہیں پکارتے مگر مؤنثوں کو اور نہیں پکارتے مگر سرکش شیطان کو۔“
(اُس وقت ہم کہیں گے کہ) آج تم میں سے کوئی نہ کسی کو فائدہ پہنچا سکتا ہے نہ نقصان اور ظالموں سے ہم کہہ دیں گے کہ اب چکھو اس عذاب جہنم کا مزہ جسے تم جھٹلایا کرتے تھے
مولانا محمد جوناگڑھی
پس آج تم میں سے کوئی (بھی) کسی کے لئے (بھی کسی قسم کے) نفع نقصان کا مالک نہ ہوگا۔ اور ہم ﻇالموں سے کہہ دیں گے کہ اس آگ کا عذاب چکھو جسے تم جھٹلاتے رہے
احمد رضا خان بریلوی
تو آج تم میں ایک دوسرے کو بھلے برے کا کچھ اختیار نہ رکھے گا او رہم فرمائیں گے ظالموں سے اس آگ کا عذاب چکھو جسے تم جھٹلاتے تھے
علامہ محمد حسین نجفی
(ارشادِ قدرت ہوگا) آج تم میں سے کوئی نہ کسی دوسرے کو نفع پہنچا سکے گا اور نہ نقصان اور ہم ظالموں سے کہیں گے کہ اب عذاب جہنم کا مزہ چکھو جسے تم جھٹلایا کرتے تھے۔
عبدالسلام بن محمد
سو آج تمھارا کوئی کسی کے لیے نہ نفع کا مالک ہے اور نہ نقصان کا اور ہم ان لوگوں سے کہیں گے جنھوں نے ظلم کیا چکھو اس آگ کا عذاب جسے تم جھٹلایا کرتے تھے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
مشرکین سے سوال ٭٭
مشرکین کو شرمندہ لاجواب اور بےعذر کرنے کے لئے ان کے سامنے فرشتوں سے سوال ہو گا۔ جن کی مصنوعی شکلیں بنا کر یہ مشرک دنیا میں پوجتے رہے کہ وہ انہیں اللہ سے ملا دیں۔ سوال ہو گا کہ کیا تم نے انہیں اپنی عبادت کرنے کو کہا تھا؟ جیسے سورۃ الفرقان میں ہے «ءَ اَنْتُمْ اَضْلَلْتُمْ عِبَادِيْ هٰٓؤُلَاءِ اَمْ هُمْ ضَلُّوا السَّبِيْلَ» ۱؎ [25-الفرقان:17] یعنی ’ کیا تم نے انہیں گمراہ کیا تھا؟ یا یہ خود ہی بہکے ہوئے تھے؟ ‘ عیسیٰ علیہ السلام سے یہی سوال ہو گا کہ کیا تم لوگوں سے کہہ آئے تھے کہ اللہ کو چھوڑ کر میری اور میری ماں کی عبادت کرنا؟ آپ جواب دیں گے کہ اللہ! تیری ذات پاک ہے جو کہنا مجھے سزاوار نہ تھا، اسے میں کیسے کہہ دیتا؟ اسی طرح فرشتے بھی اپنی برأت ظاہر کریں گے اور کہیں گے تو اس سے بہت بلند اور پاک ہے کہ تیرا کوئی شریک ہو۔ ہم تو خود تیرے بندے تھے اور ہم ان سے بیزار رہے اور اب بھی ان سے الگ ہیں۔ یہ شیاطین کی پرستش کرتے تھے۔ شیطانوں نے ہی ان کے لیے بتوں کی پوجا کو مزین کر رکھا تھا اور انہیں گمراہ کر دیا تھا ان میں سے اکثر کا شیطان پر ہی اعتقاد تھا۔ جیسے فرمان باری ہے «اِنْ يَّدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖٓ اِلَّآ اِنَاثًا وَاِنْ يَّدْعُوْنَ اِلَّا شَيْطٰنًا مَّرِيْدًا۔ لَّعَنَهُ اللَّـهُ ۘ وَقَالَ لَأَتَّخِذَنَّ مِنْ عِبَادِكَ نَصِيبًا مَّفْرُوضًا» ۱؎ [4-النساء:117-118] یعنی ’ یہ لوگ اللہ کو چھوڑ کر عورتوں کی پرستش کرتے ہیں اور سرکش شیطان کی عبادت کرتے ہیں۔ جس پر اللہ کی پھٹکار ہے۔ ‘ پس جن جن سے تم مشرکو! لو لگائے ہوئے تھے ان میں سے ایک بھی آج تمہیں کوئی نفع نہ پہنچا سکے گا۔ اس شدت و کرب کے وقت یہ سارے جھوٹے معبود تم سے یک سو ہو جائیں گے کیونکہ انہیں کسی کے کسی طرح کے نفع و ضرر کا اختیار تھا ہی نہیں۔ آج ہم خود مشرکوں سے فرما دیں گے کہ لو جس عذاب جہنم کو جھٹلا رہے تھے آج اس کا مزہ چکھو۔
42۔ 1 یعنی دنیا میں تم یہ سمجھ کر ان کی عبادت کرتے تھے کہ یہ تمہیں فائدہ پہنچائیں گے، تمہاری سفارش کریں گے اور اللہ کے عذاب سے تمہیں نجات دلوائیں گے جیسے آج بھی پیر پرستوں اور قبر پرستوں کا حال ہے لیکن آج دیکھ لو کہ یہ لوگ کسی بات پر قادر نہیں۔ 42۔ 2 ظالموں سے مراد، غیر اللہ کے پجاری ہیں،۔ کیونکہ شرک ظلم عظیم ہے اور مشرکین سب سے بڑے ظالم۔
(آیت 42) ➊ {فَالْيَوْمَ لَا يَمْلِكُ بَعْضُكُمْ لِبَعْضٍ نَّفْعًا وَّ لَا ضَرًّا:} یہ فرشتوں اور ان کی عبادت کرنے والوں دونوں سے خطاب ہے۔ یعنی دنیا میں یہ لوگ یہ سمجھ کر تمھاری عبادت کرتے تھے کہ تم انھیں کوئی فائدہ پہنچاؤ گے، یا نقصان سے بچا لو گے اور اللہ کے عذاب سے محفوظ رکھو گے، جیسے آج کل پیر پرستوں اور قبر پرستوں کا حال ہے، مگر آج تم میں سے کوئی نہ کسی کو فائدہ پہنچانے کا اختیار رکھتا ہے نہ نقصان سے بچانے کا۔ عابد و معبود دونوں عاجز ہیں، جیسا کہ فرمایا: «ضَعُفَ الطَّالِبُ وَ الْمَطْلُوْبُ» [ الحج: ۷۳ ] ”کمزور ہے مانگنے والا اور وہ بھی جس سے مانگا گیا۔“ ➋ {وَ نَقُوْلُ لِلَّذِيْنَ ظَلَمُوْا ذُوْقُوْا عَذَابَ النَّارِ …:} ظالموں سے مراد مشرک ہیں، کیونکہ شرک ظلم عظیم ہے اور مشرک سب سے بڑے ظالم ہیں۔ دیکھیے سورۂ انعام (۸۲) اور سورۂ لقمان (۱۳)۔
اِن لوگوں کو جب ہماری صاف صاف آیات سنائی جاتی ہیں تو یہ کہتے ہیں کہ "یہ شخص تو بس یہ چاہتا ہے کہ تم کو اُن معبودوں سے برگشتہ کر دے جن کی عبادت تمہارے باپ دادا کرتے آئے ہیں" اور کہتے ہیں کہ "یہ (قرآن) محض ایک جھوٹ ہے گھڑا ہوا" اِن کافروں کے سامنے جب حق آیا تو انہیں نے کہہ دیا کہ "یہ تو صریح جادو ہے"
مولانا محمد جوناگڑھی
اور جب ان کے سامنے ہماری صاف صاف آیتیں پڑھی جاتی ہیں تو کہتے ہیں کہ یہ ایسا شخص ہے جو تمہیں تمہارے باپ دادا کے معبودوں سے روک دینا چاہتا ہے۔ (اس کے سوا کوئی بات نہیں)، اور کہتے ہیں کہ یہ تو گھڑا ہوا جھوٹ ہے اور حق ان کے پاس آچکا پھر بھی کافر یہی کہتے رہے کہ یہ تو کھلا ہوا جادو ہے
احمد رضا خان بریلوی
اور جب ان پر ہماری روشن آیتیں پڑھی جائیں تو کہتے ہیں یہ تو نہیں مگر ایک مرد کہ تمہیں روکنا چاہتے ہیں تمہارے باپ دادا کے معبودو ں سے اور کہتے ہیں یہ تو نہیں مگر بہتان جوڑا ہوا، اور کافروں نے حق کو کہا جب ان کے پاس آیا یہ تو نہیں مگر کھلا جادو،
علامہ محمد حسین نجفی
اور جب ان کے سامنے ہماری واضح آیتیں پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو وہ کہتے ہیں کہ یہ شخص تو بس یہ چاہتا ہے کہ تمہیں تمہارے باپ دادا کے معبودوں سے روکے اور کہتے ہیں کہ یہ (قرآن) نہیں ہے مگر گھڑا ہوا جھوٹ اور جب بھی کافروں کے پاس حق آیا تو انہوں نے یہی کہا کہ یہ تو کھلا ہوا جادو ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اور جب ان پر ہماری واضح آیات پڑھی جاتی ہیں توکہتے ہیں یہ نہیں ہے مگر ایک آدمی، جو چاہتا ہے کہ تمھیں اس سے روک دے جس کی عبادت تمھارے باپ دادا کرتے تھے اورکہتے ہیں یہ نہیں ہے مگر ایک گھڑا ہوا جھوٹ۔ اور ان لوگوں نے جنھوں نے کفر کیا، حق کے بارے میں کہا، جب وہ ان کے پاس آیا، یہ نہیں ہے مگر کھلا جادو۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
کافر عذاب الٰہی کے مستحق کیوں ٹھہرے؟ ٭٭
کافروں کی وہ شرارت بیان ہو رہی ہے جس کے باعث وہ اللہ کے عذابوں کے مستحق ہوئے ہیں کہ اللہ کا کلام تازہ بتازہ اس کے افضل رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے سنتے ہیں۔ قبول کرنا ماننا اس کے مطابق عمل کرنا تو ایک طرف کہتے ہیں کہ دیکھو یہ شخص تمہیں تمہارے پرانے اچھے اور سچے دین سے روک رہا ہے اور اپنے باطل خیالات کی طرف تمہیں بلا رہا ہے یہ قرآن تو اس کا خود تراشیدہ ہے آپ ہی گھڑ لیتا ہے۔ اور یہ تو جادو ہے اور اس کا جادو ہونا کچھ ڈھکا چھپا نہیں بالکل ظاہر ہے۔
پھر فرماتا ہے کہ ان عربوں کی طرف نہ تو اس سے پہلے کوئی کتاب بھیجی گئی ہے نہ آپ سے پہلے ان میں سے کوئی رسول آیا ہے۔ اس لیے انہیں مدتوں سے تمنا تھی کہ اگر اللہ کا رسول ہم میں آتا اگر کتاب اللہ ہم میں اترتی تو ہم سب سے پہلے مطیع اور پابند ہو جاتے۔ لیکن جب اللہ نے ان کی یہ دیرینہ آرزو پوری کی تو جھٹلانے اور انکار کرنے لگے، ان سے اگلی امتوں کے نتیجے ان کے سامنے ہیں۔ وہ قوت و طاقت، مال و متاع، اسباب دنیوی، ان لوگوں سے بہت زیادہ رکھتے تھے۔ یہ تو ابھی ان کے دسویں حصے کو بھی نہیں پہنچے لیکن میرے عذاب کے بعد نہ مال کام آئے نہ اولاد اور کنبے قبیلے کام آئے۔ نہ قوت و طاقت نے کوئی فائدہ دیا۔ برباد کر دیئے گئے۔ جیسے فرمایا «وَلَقَدْ مَكَّنّٰهُمْ فِيْمَآ اِنْ مَّكَّنّٰكُمْ فِيْهِ وَجَعَلْنَا لَهُمْ سَمْعًا وَّاَبْصَارًا وَّاَفْـــِٕدَةً» ۱؎ [46-الأحقاف:26] یعنی ’ ہم نے انہیں قوت و طاقت دے رکھی تھی۔ آنکھیں اور کان بھی رکھتے تھے دل بھی تھے لیکن میری آیتوں کے انکار پر جب عذاب آیا اس وقت کسی چیز نے کچھ فائدہ نہ دیا۔ اور جس کے ساتھ مذاق اڑاتے تھے اس نے انہیں گھیر لیا۔ ‘ کیا یہ لوگ زمین میں چل پھر کر اپنے سے پہلے لوگوں کا انجام نہیں دیکھتے جو ان سے تعداد میں زیادہ طاقت میں بڑھے ہوئے تھے۔ مطلب یہ ہے کہ رسولوں کے جھٹلانے کے باعث پیس دیئے گئے۔ جڑ سے اکھاڑ کر پھینک دیئے گئے۔ تم غور کر لو! دیکھ لو کہ میں نے کس طرح اپنے رسولوں کی نصرت کی اور کس طرح جھٹلانے والوں پر اپنا عذاب اتارا؟
43۔ 1 شخص سے مراد، حضرت نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہیں، باپ دادا کا دین، ان کے نزدیک صحیح تھا، اس لئے انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ' جرم ' یہ بیان کیا کہ یہ تمہیں ان معبودوں سے روکنا چاہتا ہے جن کی تمہارے آبا عبادت کرتے رہے۔ 43۔ 2 اس دوسرے ھٰذَا سے مراد قرآن کریم ہے، اسے انہوں نے تراشا ہوا بہتان یا گھڑا ہوا جھوٹ قرار دیا۔ 34۔ 3 قرآن کو پہلے گھڑا ہوا جھوٹ کہا اور یہاں کھلا جادو۔ پہلے کا تعلق قرآن کے مفہوم و مطالب سے ہے اور دوسرے کا تعلق قرآن کے معجزانہ نظم و اسلوب اور اعجاز و بلاغت سے۔
(آیت 43) ➊ { وَ اِذَا تُتْلٰى عَلَيْهِمْ اٰيٰتُنَا …:} یہ ذکر کرنے کے بعد کہ قیامت کے دن مشرکین جہنم میں جائیں گے اور ان کے بنائے ہوئے معبود ان کے کچھ کام نہ آئیں گے، اب ان کے اس عذاب کا حق دار ہونے کی وجہ بیان فرمائی، جو یہ تھی کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یا اسلام کے کسی داعی نے ان کے سامنے ہماری واضح آیات پڑھیں تو انھوں نے وہ الفاظ کہے جو اس آیت میں ذکر ہوئے ہیں۔ ➋ { قَالُوْا مَا هٰذَاۤ اِلَّا رَجُلٌ …:} یعنی یہ شخص تمھیں ان ہستیوں کی عبادت سے روکنا چاہتا ہے جن کی عبادت تمھارے آبا و اجداد مدت سے کرتے چلے آئے ہیں۔ مقصد ان کا لوگوں کو اسلام کی دعوت دینے والے کے خلاف بھڑکانا تھا، یہ کہہ کر کہ یہ شخص تمھیں تمھارے آباء کے دین سے روکنا چاہتا ہے، تو کیا تمھارے آبا و اجداد کوئی پاگل تھے جو ان کی عبادت کرتے تھے۔ پھر یہ نہیں کہ انھوں نے ایک آدھ دفعہ یہ کام کیا ہو، بلکہ{” كَانَ يَعْبُدُ اٰبَآؤُكُمْ “} وہ مدت سے ان کی عبادت کرتے چلے آئے ہیں۔ گویا ان کے نزدیک ان کے شرک کے حق ہونے کی واحد دلیل آبا و اجداد کی تقلید تھی، جو سراسر جہل ہے، جس کا علم سے کوئی تعلق نہیں۔ ➌ { وَ قَالُوْا مَا هٰذَاۤ اِلَّاۤ اِفْكٌ مُّفْتَرًى:} یہاں {” هٰذَاۤ “} سے مراد قرآن ہے۔ لفظ {” اِفْكٌ مُّفْتَرًى “} میں قرآن کے متعلق انھوں نے دو باتیں کہیں، ایک تو یہ کہ فی نفسہ یہ جھوٹ ہے، دوسری یہ کہ اسے گھڑ کر اللہ کے ذمے لگا دیا گیا ہے۔ ➍ { وَ قَالَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا لِلْحَقِّ …:} کفار کی پریشان گوئی دیکھیے کہ کبھی اسے جھوٹ کہتے ہیں اور کبھی اسے واضح جادو کہتے ہیں، اور یہ جو فرمایا کہ جب ان کے پاس حق آگیا تو انھوں نے اسے واضح جادو کہا، تو مراد اس سے یہ ہے کہ اگر انھیں حق کا علم نہ ہوتا اور وہ اس قسم کی باتیں کرتے تو شاید معذور ہوتے، اب حق واضح ہو جانے کے بعد انکار کی صورت میں جہنم کے سوا ان کا انجام کیا ہو سکتا ہے؟
حالانکہ نہ ہم نے اِن لوگوں کو پہلے کوئی کتاب دی تھی کہ یہ اسے پڑھتے ہوں اور نہ تم سے پہلے ان کی طرف کوئی متنبہ کرنے والا بھیجا تھا
مولانا محمد جوناگڑھی
اور ان (مکہ والوں) کو نہ تو ہم نے کتابیں دے رکھی ہیں جنہیں یہ پڑھتے ہوں نہ ان کے پاس آپ سے پہلے کوئی آگاه کرنے واﻻ آیا
احمد رضا خان بریلوی
اور ہم نے انہیں کچھ کتابیں نہ دیں جنہیں پڑھتے ہوں نہ تم سے پہلے ان کے پاس کوئی ڈر سنانے والا آیا
علامہ محمد حسین نجفی
حالانکہ ہم نے نہ انہیں کوئی کتابیں دیں جنہیں وہ پڑھتے ہیں اور نہ ہی آپ سے پہلے ان کی طرف کوئی ڈرانے والا (نبی) بھیجا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
حالانکہ ہم نے نہ انھیں کوئی کتابیں دیں جنھیں وہ پڑھتے ہوں اور نہ ان کی طرف تجھ سے پہلے کوئی ڈرانے والا بھیجا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
کافر عذاب الٰہی کے مستحق کیوں ٹھہرے؟ ٭٭
کافروں کی وہ شرارت بیان ہو رہی ہے جس کے باعث وہ اللہ کے عذابوں کے مستحق ہوئے ہیں کہ اللہ کا کلام تازہ بتازہ اس کے افضل رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے سنتے ہیں۔ قبول کرنا ماننا اس کے مطابق عمل کرنا تو ایک طرف کہتے ہیں کہ دیکھو یہ شخص تمہیں تمہارے پرانے اچھے اور سچے دین سے روک رہا ہے اور اپنے باطل خیالات کی طرف تمہیں بلا رہا ہے یہ قرآن تو اس کا خود تراشیدہ ہے آپ ہی گھڑ لیتا ہے۔ اور یہ تو جادو ہے اور اس کا جادو ہونا کچھ ڈھکا چھپا نہیں بالکل ظاہر ہے۔
پھر فرماتا ہے کہ ان عربوں کی طرف نہ تو اس سے پہلے کوئی کتاب بھیجی گئی ہے نہ آپ سے پہلے ان میں سے کوئی رسول آیا ہے۔ اس لیے انہیں مدتوں سے تمنا تھی کہ اگر اللہ کا رسول ہم میں آتا اگر کتاب اللہ ہم میں اترتی تو ہم سب سے پہلے مطیع اور پابند ہو جاتے۔ لیکن جب اللہ نے ان کی یہ دیرینہ آرزو پوری کی تو جھٹلانے اور انکار کرنے لگے، ان سے اگلی امتوں کے نتیجے ان کے سامنے ہیں۔ وہ قوت و طاقت، مال و متاع، اسباب دنیوی، ان لوگوں سے بہت زیادہ رکھتے تھے۔ یہ تو ابھی ان کے دسویں حصے کو بھی نہیں پہنچے لیکن میرے عذاب کے بعد نہ مال کام آئے نہ اولاد اور کنبے قبیلے کام آئے۔ نہ قوت و طاقت نے کوئی فائدہ دیا۔ برباد کر دیئے گئے۔ جیسے فرمایا «وَلَقَدْ مَكَّنّٰهُمْ فِيْمَآ اِنْ مَّكَّنّٰكُمْ فِيْهِ وَجَعَلْنَا لَهُمْ سَمْعًا وَّاَبْصَارًا وَّاَفْـــِٕدَةً» ۱؎ [46-الأحقاف:26] یعنی ’ ہم نے انہیں قوت و طاقت دے رکھی تھی۔ آنکھیں اور کان بھی رکھتے تھے دل بھی تھے لیکن میری آیتوں کے انکار پر جب عذاب آیا اس وقت کسی چیز نے کچھ فائدہ نہ دیا۔ اور جس کے ساتھ مذاق اڑاتے تھے اس نے انہیں گھیر لیا۔ ‘ کیا یہ لوگ زمین میں چل پھر کر اپنے سے پہلے لوگوں کا انجام نہیں دیکھتے جو ان سے تعداد میں زیادہ طاقت میں بڑھے ہوئے تھے۔ مطلب یہ ہے کہ رسولوں کے جھٹلانے کے باعث پیس دیئے گئے۔ جڑ سے اکھاڑ کر پھینک دیئے گئے۔ تم غور کر لو! دیکھ لو کہ میں نے کس طرح اپنے رسولوں کی نصرت کی اور کس طرح جھٹلانے والوں پر اپنا عذاب اتارا؟
44۔ 1 اس لیے وہ آرزو کرتے تھے کہ ان کے پاس بھی کوئی پیغمبر آئے اور کوئی صحیفہ آسمانی نازل ہو لیکن جب یہ چیزیں آئیں تو انکار کردیا۔
(آیت 44) {وَ مَاۤ اٰتَيْنٰهُمْ مِّنْ كُتُبٍ يَّدْرُسُوْنَهَا۠ …:} اس آیت کی تفسیر دو طرح سے ہو سکتی ہے، ایک یہ کہ ہم نے انھیں ان کے مشرکانہ اقوال و افعال کی اجازت پر مشتمل کوئی کتاب نہیں دی جو ان کے پاس موجود ہو اور وہ اسے پڑھتے پڑھاتے ہوں اور نہ ہی ہم نے آپ سے پہلے ان کی طرف ایسا کوئی آگاہ کرنے والا بھیجا ہے جو ان کے مشرکانہ اقوال و افعال کی تائید کرتا ہو۔ دیکھیے سورۂ روم (۳۵)، فاطر (۴۰)، زخرف (۲۱) اور سورۂ احقاف (۴) اس کی دوسری تفسیر یہ ہے کہ ہماری طرف سے خاص ان کے لیے کوئی کتابیں نازل نہیں ہوئیں، نہ ہی آپ سے پہلے ان کے پاس کوئی ڈرانے والا آیا، اس لیے ضروری تھا کہ ان پر کتاب نازل ہو اور ان کی طرف پیغمبر مبعوث ہو، اسی لیے ہم نے آپ کو یہ قرآن دے کر ان کی طرف مبعوث فرمایا۔ دیکھیے سورۂ سجدہ (۳)۔
اِن سے پہلے گزرے ہوئے لوگ جھٹلا چکے ہیں جو کچھ ہم نے اُنہیں دیا تھا اُس کے عشر عشیر کو بھی یہ نہیں پہنچے ہیں مگر جب انہوں نے میرے رسولوں کو جھٹلایا تو دیکھ لو کہ میری سزا کیسی سخت تھی
مولانا محمد جوناگڑھی
اور ان سے پہلے کے لوگوں نے بھی ہماری باتوں کو جھٹلایا تھا اور انہیں ہم نے جو دے رکھا تھا یہ تو اس کے دسویں حصے کو بھی نہیں پہنچے، پس انہوں نے میرے رسولوں کو جھٹلایا، (پھر دیکھ کہ) میرا عذاب کیسا (سخت) تھا
احمد رضا خان بریلوی
اور ان سے اگلوں نے جھٹلایا اور یہ اس کے دسویں کو بھی نہ پہنچے جو ہم نے انہیں دیا تھا پھر انہوں نے میرے رسولوں کو جھٹلایا تو کیسا ہوا میرا انکا کرنا
علامہ محمد حسین نجفی
اور وہ ان سے پہلے گزرے ہوئے (نبیوں کو) جھٹلا چکے ہیں اور جو کچھ (ساز و سامان اور قوت و طاقت) ان کو عطا کیا تھا یہ (کفارِ مکہ) تو اس کے عشرِ عشیر کو بھی نہیں پہنچے۔ لیکن جب انہوں نے میرے رسولوں کو جھٹلایا تو میری سزا کیسی (سخت) تھی؟
عبدالسلام بن محمد
اور ان لوگو ں نے (بھی) جھٹلایا جو ان سے پہلے تھے اور یہ اس کے دسویں حصے کو بھی نہیں پہنچے جو ہم نے انھیں دیا تھا، پس انھوں نے میرے رسولوں کو جھٹلایا تو میرا عذاب کیسا تھا؟
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
کافر عذاب الٰہی کے مستحق کیوں ٹھہرے؟ ٭٭
کافروں کی وہ شرارت بیان ہو رہی ہے جس کے باعث وہ اللہ کے عذابوں کے مستحق ہوئے ہیں کہ اللہ کا کلام تازہ بتازہ اس کے افضل رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے سنتے ہیں۔ قبول کرنا ماننا اس کے مطابق عمل کرنا تو ایک طرف کہتے ہیں کہ دیکھو یہ شخص تمہیں تمہارے پرانے اچھے اور سچے دین سے روک رہا ہے اور اپنے باطل خیالات کی طرف تمہیں بلا رہا ہے یہ قرآن تو اس کا خود تراشیدہ ہے آپ ہی گھڑ لیتا ہے۔ اور یہ تو جادو ہے اور اس کا جادو ہونا کچھ ڈھکا چھپا نہیں بالکل ظاہر ہے۔
پھر فرماتا ہے کہ ان عربوں کی طرف نہ تو اس سے پہلے کوئی کتاب بھیجی گئی ہے نہ آپ سے پہلے ان میں سے کوئی رسول آیا ہے۔ اس لیے انہیں مدتوں سے تمنا تھی کہ اگر اللہ کا رسول ہم میں آتا اگر کتاب اللہ ہم میں اترتی تو ہم سب سے پہلے مطیع اور پابند ہو جاتے۔ لیکن جب اللہ نے ان کی یہ دیرینہ آرزو پوری کی تو جھٹلانے اور انکار کرنے لگے، ان سے اگلی امتوں کے نتیجے ان کے سامنے ہیں۔ وہ قوت و طاقت، مال و متاع، اسباب دنیوی، ان لوگوں سے بہت زیادہ رکھتے تھے۔ یہ تو ابھی ان کے دسویں حصے کو بھی نہیں پہنچے لیکن میرے عذاب کے بعد نہ مال کام آئے نہ اولاد اور کنبے قبیلے کام آئے۔ نہ قوت و طاقت نے کوئی فائدہ دیا۔ برباد کر دیئے گئے۔ جیسے فرمایا «وَلَقَدْ مَكَّنّٰهُمْ فِيْمَآ اِنْ مَّكَّنّٰكُمْ فِيْهِ وَجَعَلْنَا لَهُمْ سَمْعًا وَّاَبْصَارًا وَّاَفْـــِٕدَةً» ۱؎ [46-الأحقاف:26] یعنی ’ ہم نے انہیں قوت و طاقت دے رکھی تھی۔ آنکھیں اور کان بھی رکھتے تھے دل بھی تھے لیکن میری آیتوں کے انکار پر جب عذاب آیا اس وقت کسی چیز نے کچھ فائدہ نہ دیا۔ اور جس کے ساتھ مذاق اڑاتے تھے اس نے انہیں گھیر لیا۔ ‘ کیا یہ لوگ زمین میں چل پھر کر اپنے سے پہلے لوگوں کا انجام نہیں دیکھتے جو ان سے تعداد میں زیادہ طاقت میں بڑھے ہوئے تھے۔ مطلب یہ ہے کہ رسولوں کے جھٹلانے کے باعث پیس دیئے گئے۔ جڑ سے اکھاڑ کر پھینک دیئے گئے۔ تم غور کر لو! دیکھ لو کہ میں نے کس طرح اپنے رسولوں کی نصرت کی اور کس طرح جھٹلانے والوں پر اپنا عذاب اتارا؟
45۔ 1 یہ کفار مکہ کو تنبیہ کی جا رہی ہے کہ تم نے جھٹلایا اور انکار کا راستہ اختیار کیا ہے، وہ نہایت خطرناک ہے تم سے پچھلی امتیں بھی اسی راستے پر چل کر تباہ ہوچکی ہیں۔ یہ امتیں مال ودولت، قوت وطاقت اور عمروں کے لحاظ سے تم سے بڑھ کر تھیں، تم ان کے دسویں حصے کو بھی نہیں پہنچتے لیکن اس کے باوجود وہ اللہ کے عذاب سے نہیں بچ سکیں، اسی مضمون کو سورة احقاف کی (وَلَقَدْ مَكَّنّٰهُمْ فِيْمَآ اِنْ مَّكَّنّٰكُمْ فِيْهِ وَجَعَلْنَا لَهُمْ سَمْعًا وَّاَبْصَارًا وَّاَفْـــِٕدَةً ڮ فَمَآ اَغْنٰى عَنْهُمْ سَمْعُهُمْ وَلَآ اَبْصَارُهُمْ وَلَآ اَفْــِٕدَتُهُمْ مِّنْ شَيْءٍ اِذْ كَانُوْا يَجْـحَدُوْنَ ۙبِاٰيٰتِ اللّٰهِ وَحَاقَ بِهِمْ مَّا كَانُوْا بِهٖ يَسْتَهْزِءُوْنَ) 46۔ الاحقاف:26) میں بیان فرمایا۔
(آیت 45) ➊ {وَ كَذَّبَ الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ…: ” مِعْشَارَ “} اور {”عُشْرٌ“} دونوں کا معنی دسواں حصہ ہے۔ یعنی پہلی اقوام جو تباہ کی گئیں، انھیں جو قد و قامت، قوت و دولت اور شان و شوکت عطا کی گئی تھی ان عرب کے کافروں کے پاس تو اس کا دسواں حصہ بھی نہیں۔ دیکھیے سورۂ روم (۹)، مومن (۲۱) اور سورۂ احقاف (۲۶)۔ ➋ { فَكَذَّبُوْا رُسُلِيْ فَكَيْفَ كَانَ نَكِيْرِ:” نَكِيْرِ “} اصل میں {”نَكِيْرِيْ“} ہے، آیات کے فواصل (آخری حروف) کی موافقت کے لیے یاء حذف کر دی اور کسرہ یہ بتانے کے لیے باقی رکھا کہ یہاں یاء محذوف ہے، یعنی میرا انکار، میرا عذاب۔ انھوں نے میرے رسولوں کو جھٹلایا تو دیکھ لو اس پر میں نے انھیں کیسی سخت سزا دی اور کس طرح برباد کیا کہ ان کا نشان تک نہیں ملتا، تو ان بے چاروں کی کیا حیثیت ہے کہ یہ ہماری گرفت سے بچ سکیں گے۔
اے نبیؐ، اِن سے کہو کہ "میں تمہیں بس ایک بات کی نصیحت کرتا ہوں خدا کے لیے تم اکیلے اکیلے اور دو دو مل کر اپنا دماغ لڑاؤ اور سوچو، تمہارے صاحب میں آخر ایسی کونسی بات ہے جو جنون کی ہو؟ وہ تو ایک سخت عذاب کی آمد سے پہلے تم کو متنبہ کرنے والا ہے"
مولانا محمد جوناگڑھی
کہہ دیجیئے! کہ میں تمہیں صرف ایک ہی بات کی نصیحت کرتا ہوں کہ تم اللہ کے واسطے (ضد چھوڑ کر) دو دو مل کر یا تنہا تنہا کھڑے ہو کر سوچو تو سہی، تمہارے اس رفیق کو کوئی جنون نہیں، وه تو تمہیں ایک بڑے (سخت) عذاب کے آنے سے پہلے ڈرانے واﻻ ہے
احمد رضا خان بریلوی
تم فرماؤ میں تمہیں ایک نصیحت کرتا ہوں کہ اللہ کے لیے کھڑے رہو دو دو اور اکیلے اکیلے پھر سوچو کہ تمہارے ان صاحب میں جنون کی کوئی بات نہیں، وہ تو نہیں مگر نہیں مگر تمہیں ڈر سنانے والے ایک سخت عذاب کے آگے
علامہ محمد حسین نجفی
(اے نبی(ص)) آپ کہہ دیجئے! میں تمہیں صرف ایک بات کی نصیحت کرتا ہوں کہ تم دو، دو اور ایک ایک ہو کر خدا کیلئے کھڑے ہو جاؤ اور پھر غور و فکر کرو (ضرور تمہیں معلوم ہو جائے گا کہ) تمہارے ساتھی (رسولِ(ص) خدا) میں کسی قسم کا کوئی جنون (اور دیوانگی) نہیں ہے وہ تو صرف ایک سخت عذاب کے آنے سے پہلے تمہیں ڈرانے والا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
کہہ دے میں تو تمھیں ایک ہی بات کی نصیحت کرتا ہوں کہ اللہ کے لیے دو دو اور ایک ایک کر کے کھڑے ہو جائو، پھر خوب غور کرو کہ تمھارے ساتھی میں جنون کی کون سی چیز ہے۔ وہ تو ایک شدید عذاب سے پہلے محض تمھیں ڈرانے والا ہی ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
ضد اور ہٹ دھرمی کفار کا شیوہ ٭٭
حکم ہوتا ہے کہ یہ کافر جو تجھے مجنون بتا رہے ہیں ان سے کہہ کہ ایک کام تو کرو خلوص کے ساتھ تعصب اور ضد کو چھوڑ کر ذرا سی دیر سوچو تو۔ آپس میں ایک دوسرے سے دریافت کرو کہ کیا محمد صلی اللہ علیہ وسلم مجنون ہے؟ اور ایمانداری سے ایک دوسرے کو جواب دے۔ ہر شخص تنہا تنہا بھی غور کرے۔ اور دوسروں سے بھی پوچھے لیکن یہ شرط ہے کہ ضد اور ہٹ کو دماغ سے نکال کر تعصب اور ہٹ دھرمی چھوڑ کر غور کرے۔ تمہیں خود معلوم ہو جائے گا تمہارے دل سے آواز اٹھے گی کہ حقیقت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مجنون نہیں۔ بلکہ وہ تم سب کے خیرخواہ ہیں درد مند ہیں۔ ایک آنے والے خطرے سے جس سے تم بےخبر ہو وہ تمہیں آگاہ کر رہے ہیں۔ بعض لوگوں نے اس آیت سے تنہا اور جماعت سے نماز پڑھنے کا مطلب سمجھا ہے اور اس کے ثبوت میں ایک حدیث پیش کرتے ہیں لکین وہ حدیث ضعیف ہے۔ اس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا { میں تین چیزیں دیا گیا ہوں جو مجھ سے پہلے کوئی نہیں دیا گیا یہ میں فخر کے طور پر نہیں کہ رہا ہوں۔ میرے لیے مال غنیمت حلال کیا گیا مجھ سے پہلے کسی کے لیے وہ حلال نہیں ہوا وہ مال غنیمت کو جمع کر کے جلا دیتے تھے۔ اور میں ہر سرخ و سیاہ کی طرف بھیجا گیا ہوں اور ہر نبی صرف اپنی قوم کی طرف بھیجا جاتا رہا۔ میرے لیے ساری زمین مسجد اور وضو کی چیز بنا دی گئی ہے۔ تاکہ میں اس کی مٹی سے تیمم کر لوں اور جہاں ہوں اور نماز کا وقت آ جائے نماز ادا کر لوں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اللہ کے سامنے با ادب کھڑے ہو جایا کرو دو دو اور ایک ایک۔ اور ایک مہینہ کی راہ تک میری مدد صرف رعب سے کی گئی ہے۔ } ۱؎ یہ حدیث سندا ضعیف ہے۔ اور بہت ممکن ہے کہ اس میں آیت کا ذکر اور اسے جماعت سے یا الگ نماز پڑھ لینے کے معنی میں لے لینا یہ راوی کا اپنا قول ہو اور اس طرح بیان کر دیا گیا ہو کہ بظاہر وہ الفاظ حدیث کے معلوم ہوتے ہوں کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خصوصیات کی حدیثیں بہ سند صحیح بہت سے مروی ہیں اور کسی میں بھی یہ الفاظ نہیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
آپ لوگوں کو اس عذاب سے ڈرانے والے ہیں جو ان کے آگے ہے اور جس سے یہ بالکل بےخبر بےفکری سے بیٹھے ہوئے ہیں۔ صحیح بخاری شریف میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن صفا پہاڑی پر چڑھ گئے اور عرب کے دستور کے مطابق «یا صباحاہ» کہہ کر بلند آواز کی جو علامت تھی کہ کوئی شخص کسی اہم بات کے لیے بلا رہا ہے۔ عادت کے مطابق اسے سنتے ہی لوگ جمع ہو گئے۔ آپ نے فرمایا اگر میں تمہیں خبر دوں کہ دشمن تمہاری طرف چڑھائی کر کے چلا آ رہا ہے اور عجب نہیں کہ صبح شام ہی تم پر حملہ کر دے تو کیا تم مجھے سچا سمجھو گے؟ سب نے بیک زبان جواب دیا کہ ہاں بےشک ہم آپ کو سچا جانیں گے۔ آپ نے فرمایا سنو! میں تمہیں اس عذاب سے ڈرا رہا ہوں جو تمہارے آگے ہے۔ یہ سن کر ابولہب ملعون نے کہا تیرے ہاتھ ٹوٹیں کیا اسی کے لیے تو نے ہم سب کو جمع کیا تھا؟ اس پر سورہ «تَبَّتْ يَدَا أَبِي لَهَبٍ وَتَبَّ ١ مَا أَغْنَىٰ عَنْهُ مَالُهُ وَمَا كَسَبَ ٢ سَيَصْلَىٰ نَارًا ذَاتَ لَهَبٍ ٣ وَامْرَأَتُهُ حَمَّالَةَ الْحَطَبِ ٤ فِي جِيدِهَا حَبْلٌ مِّن مَّسَدٍ ٥» ، اتری۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:4801] یہ حدیثیں «وَاَنْذِرْ عَشِيْرَتَكَ الْاَقْرَبِيْنَ» کی تفسیر میں گزر چکی ہیں۔ مسند احمد میں ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نکلے اور ہمارے پاس آ کر تین مرتبہ آواز دی۔ فرمایا لوگو! میری اور اپنی مثال جانتے ہو؟ انہوں نے کہا اللہ کو اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو پورا علم ہے۔ آپ نے فرمایا میری اور تمہاری مثال اس قوم جیسی ہے جس پر دشمن حملہ کرنے والا تھا انہوں نے اپنا آدمی بھیجا کہ جا کر دیکھے اور دشمن کی نقل و حرکت سے انہیں مطلع کرے۔ اس نے جب دیکھا کہ دشمن ان کی طرف چلا آ رہا ہے اور قریب پہنچ چکا ہے تو وہ لپکتا ہوا قوم کی طرف بڑھا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ میرے اطلاع پہنچانے سے پہلے ہی دشمن حملہ نہ کر دے۔ اس لیے اس نے راستے میں سے ہی اپنا کپڑا ہلانا شروع کیا کہ ہوشیار ہو جاؤ دشمن آ پہنچا، ہوشیار ہو جاؤ دشمن آ پہنچا، تین مرتبہ یہی کہا۔ } ۱؎ [مسند احمد:348/5:صحیح لغیرہ] ایک اور حدیث میں ہے { میں اور قیامت ایک ساتھ ہی بھیجے گئے قریب تھا کہ قیامت مجھ سے پہلے ہی آ جاتی۔ } ۱؎ [مسند احمد:348/5:حسن لغیرہ]
46۔ 1 یعنی میں تمہیں تمہارے موجودہ طرز عمل سے ڈراتا اور ایک ہی بات کی نصیحت کرتا ہوں اور وہ یہ کہ تم ضد، اور انانیت چھوڑ کر صرف اللہ کے لئے ایک ایک دو دو ہو کر میری بابت سوچو کہ میری زندگی تمہارے اندر گزری ہے اور اب بھی جو دعوت میں تمہیں دے رہا ہوں کیا اس میں کوئی ایسی بات ہے کہ جس سے اس بات کی نشان دہی ہو کہ میرے اندر دیوانگی ہے؟ تم اگر عصبیت اور خواہش نفس سے بالا ہو کر سوچو گے تو یقینا سمجھ جاؤ گے کہ تمہارے رفیق کے اندر کوئی دیوانگی نہیں ہے۔ 46۔ 2 یعنی وہ تو صرف تمہاری ہدایت کے لئے آیا ہے تاکہ تم اس عذاب شدید سے بچ جاؤ جو ہدایت کا راستہ نہ اپنانے کی وجہ سے تمہیں بھگتنا پڑے گا۔ حدیث میں آتا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن صفا پہاڑی پر چڑھ کر فرمایا ' یا صباحاہ ' جسے سن کر قریش جمع ہوگئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ' بتاؤ، اگر میں تمہیں خبر دوں کہ دشمن صبح یا شام کو تم پر حملہ آور ہونے والا ہے، تو کیا میری تصدیق کرو گے، انہوں نے کہا، کیوں نہیں ' آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ' تو پھر سن لو کہ میں تمہیں سخت عذاب آنے سے پہلے ڈراتا ہوں۔ ' یہ سن کہ ابو لہب نے کہا ' تَبَّالکَ! اَلِھٰذا جَمَعْتَنَا ' تیرے لئے ہلاکت ہو، کیا اس لئے تو نے ہمیں جمع کیا تھا ْ جس پر اللہ تعالیٰ نے سورة تَبَّتْ یَدَآ اَبِیْ لَھَبٍ نازل فرمائی (صحیح بخاری)
(آیت 46) ➊ { قُلْ اِنَّمَاۤ اَعِظُكُمْ بِوَاحِدَةٍ …: ” جِنَّةٍ “} کا معنی جنون، دیوانگی اور پاگل پن ہے۔ مشرکین کے باطل اقوال کے رد کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نہایت قوی دلائل، مؤثر اسالیب اور مختلف انداز سے حق بات سمجھانے کی تلقین فرمائی۔ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کذّاب اور ساحر کے علاوہ مجنون، یعنی دیوانہ بھی کہتے تھے۔ تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا، ان سے کہو کہ میں تمھیں صرف ایک نصیحت کرتا ہوں کہ بڑی مجلسوں میں تو شوروغل، بھیڑ بھاڑ اور اجتماعی دباؤ کی وجہ سے آدمی صحیح طرح سوچ نہیں سکتا، تم ضد اور تعصّب کو نکال کر اکیلے اکیلے یا دو دو ہو کر سوچو کہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) آخر تمھارا صاحب ہے، تمھارے ساتھ اس نے نبوت سے پہلے چالیس برس گزارے، جسے تم صادق اور امین کہتے تھے، جس کی معاملہ فہمی اور درست رائے کی شہادت تم بھی دیتے تھے، اب اس نے جب تمھیں اللہ کا پیغام پہنچایا تو تم نے اسے مجنون کہنا شروع کر دیا، لہٰذا تم اس کی لائی ہوئی ہر بات پر پوری طرح غور کرو اور سوچ کر بتاؤ کہ آخر ان میں سے کون سی بات ہے جسے تم جنون کہہ سکو؟ کیا اللہ کو ایک ماننا دیوانگی ہے؟ کیا زنا، چوری، قتل نفس اور بہتان سے منع کرنا دیوانگی ہے؟ کیا صدق، عفاف، امانت، مہمان نوازی اور ہمدردی کا حکم دینا دیوانگی ہے؟ کسی ایک بات پر انگلی رکھ کر تو بتاؤ کہ یہ بات دیوانے کی بات ہے۔ یہ تفسیر {” مَا “} کو استفہامیہ مان کر ہے، اگر {” مَا “} نافیہ ہو تو معنی ہو گا کہ تمھارے ساتھی میں کسی طرح کا جنون نہیں۔ یہ معنی بھی درست ہے۔ ➋ {اِنْ هُوَ اِلَّا نَذِيْرٌ لَّكُمْ …:} یعنی پیغمبر تو تمھیں ایک نہایت سخت عذاب آنے سے پہلے اس سے ڈرانے والا ہے، تو تم اچھی طرح سوچ کر فیصلہ کرو کہ اپنی قوم کو شدید عذاب آنے سے پہلے آگاہ کر کے اس سے بچانے کی کوشش کرنے والا دیوانہ ہوتا ہے یا اس کا ہمدرد اور خیر خواہ۔ بخاری نے اس آیت کی تفسیر میں یہ حدیث نقل فرمائی ہے، ابن عباس رضی اللہ عنھما بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن صفا پہاڑی پر چڑھے اور فرمایا: {”يَا صَبَاحَاهُ“} (جو کسی اہم خطرے سے آگاہ کرنے کے لیے کہا جاتا تھا) تو قریش آپ کے پاس جمع ہو گئے اور کہنے لگے: ”تمھیں کیا ہوا؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ أَرَأَيْتُمْ لَوْ أَخْبَرْتُكُمْ أَنَّ الْعَدُوَّ يُصَبِّحُكُمْ أَوْ يُمَسِّيْكُمْ أَمَا كُنْتُمْ تُصَدِّقُوْنِيْ؟ ] ”یہ بتاؤ کہ اگر میں تمھیں اطلاع دوں کہ دشمن تم پر صبح حملہ کرے گا یا شام حملہ کرے گا تو کیا تم مجھے سچا سمجھو گے؟“ انھوں نے کہا: [ بَلٰی ] ”کیوں نہیں!“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ فَإِنِّيْ نَذِيْرٌ لَّكُمْ بَيْنَ يَدَيْ عَذَابٍ شَدِيْدٍ ] ”تو پھر میں تمھیں ایک نہایت سخت عذاب سے پہلے اس سے ڈرانے والا ہوں۔“ تو ابو لہب نے کہا: [ تَبًّا لَكَ أَلِهٰذَا جَمَعْتَنَا؟ ] ”تیرے لیے ہلاکت ہو، کیا تو نے ہمیں اس لیے جمع کیا ہے؟“ تو اللہ تعالیٰ نے یہ (سورت) اتاری: «تَبَّتْ يَدَاۤ اَبِيْ لَهَبٍ وَّ تَبَّ» [ بخاري، التفسیر، باب: «إن ھو إلا نذیر لکم…» : ۴۸۰۱ ]
اِن سے کہو، "اگر میں نے تم سے کوئی اجر مانگا ہے تو وہ تم ہی کو مبارک رہے میرا اجر تو اللہ کے ذمہ ہے اور وہ ہر چیز پر گواہ ہے"
مولانا محمد جوناگڑھی
کہہ دیجیئے! کہ جو بدلہ میں تم سے مانگوں وه تمہارے لئے ہے میرا بدلہ تو اللہ تعالیٰ ہی کے ذمے ہے۔ وه ہر چیز سے باخبر (اور مطلع) ہے
احمد رضا خان بریلوی
تم فرماؤ میں نے تم سے اس پر کچھ اجر مانگا ہو تو وہ تمہیں کو میرا اجر تو اللہ ہی پر ہے اور وہ ہر چیز پر گواہ ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
کہہ دیجئے! میں نے (تبلیغِ رسالت(ص) کے سلسلہ میں) تم سے جو اجر مانگا ہے وہ تمہارے ہی (فائدہ کے) لئے ہے میری اجرت تو بس اللہ کے ذمہ ہے اور وہ ہر چیز پر گواہ ہے۔
عبدالسلام بن محمد
کہہ میں نے تم سے جو بھی اجرت مانگی ہے تو وہ تمھاری ہوئی۔ میری اجرت تو اللہ ہی پر ہے اور وہ ہر چیز پر گواہ ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
مشرکین کو دعوت اصلاح ٭٭
حکم ہو رہا ہے کہ مشرکوں سے فرما دیجئے کہ میں جو تمہاری خیر خواہی کرتا ہوں تمہیں احکام دینی پہنچتا رہا ہوں وعظ و نصیحت کرتا ہوں اس پر میں تم سے کسی بدلے کا طالب نہیں ہوں۔ بدلہ تو اللہ ہی دے گا جو تمام چیزوں کی حقیقت سے مطلع ہے۔ میری تمہاری حالت اس پر خوب روشن ہے۔ پھر جو فرمایا اسی طرح کی آیت «رَفِيْعُ الدَّرَجٰتِ ذو الْعَرْشِ يُلْقِي الرُّوْحَ مِنْ اَمْرِهٖ عَلٰي مَنْ يَّشَاءُ مِنْ عِبَادِهٖ لِيُنْذِرَ يَوْمَ التَّلَاقِ» ۱؎ [40-غافر:15] الخ، ہے یعنی ’ اللہ تعالیٰ اپنے فرمان سے جبرائیل علیہ السلام کو جس پر چاہتا ہے اپنی وحی کے ساتھ بھیجتا ہے ‘ وہ حق کے ساتھ فرشتہ اتارتا ہے۔ وہ علام الغیوب ہے اس پر آسمان و زمین کی کوئی چیز مخفی نہیں۔ اللہ کی طرف سے حق اور مبارک شریعت آ چکی ہے۔ باطل پراگندہ بودار ہو کر برباد ہو گیا۔ جیسے فرمان ہے «بَلْ نَقْذِفُ بالْحَقِّ عَلَي الْبَاطِلِ فَيَدْمَغُهٗ فَاِذَا هُوَ زَاهِقٌ وَلَـكُمُ الْوَيْلُ مِمَّا تَصِفُوْنَ» ۱؎ [21-الأنبياء:18] ’ ہم باطل پر حق کو نازل فرما کر باطل کے ٹکڑے اڑا دیتے ہیں اور وہ چکنا چور ہو جاتا ہے۔ ‘ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فتح مکہ والے دن جب بیت اللہ میں داخل ہوئے تو وہاں کے بتوں کو اپنی کمان کی لکڑی سے گراتے جاتے تھے اور زبان سے فرماتے جاتے تھے «وَقُلْ جَاءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ إِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوقًا» ۱؎ [17-الإسراء:81] ’ حق آ گیا باطل مٹ گیا وہ تھا ہی مٹنے والا۔ ‘ ۱؎ [صحیح بخاری:4720] (بخاری، مسلم) باطل کا اور ناحق کا دباؤ سب ختم ہو گیا۔ بعض مفسرین سے مروی ہے کہ مراد یہاں باطل سے ابلیس ہے۔ یعنی نہ اس نے کسی کو پہلے پیدا کیا نہ آئندہ کر سکے نہ مردے کو زندہ کر سکے نہ اسے کوئی اور ایسی قدرت حاصل ہے بات تو یہ بھی سچی ہے لیکن یہاں یہ مراد نہیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
پھر جو فرمایا اس کا مطلب یہ ہے کہ خیر سب کی سب اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے اور اللہ کی بھیجی ہوئی وحی میں وہی سراسر حق ہے اور ہدایت و بیان و رشد ہے۔ گمراہ ہونے والے آپ ہی بگڑ رہے ہیں اور اپنا ہی نقصان کر رہے ہیں۔ سیدنا سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے جب کہ مفوضہ کا مسئلہ دریافت کیا گیا تھا تو آپ نے فرمایا تھا اسے میں اپنی رائے سے بیان کرتا ہوں اگر صحیح ہو تو اللہ کی طرف سے ہے۔ اور اگر غلط ہو تو میری اور شیطان کی طرف سے ہے اور اللہ اور اس کا رسول صلی اللہ علیہ وسلم اس سے بری ہے۔ وہ اللہ اپنے بندوں کی باتوں کا سننے والا ہے اور قریب ہے۔ پکارنے والے کی ہر پکار کو ہر وقت سنتا اور قبول فرماتا ہے۔ بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ اپنے اصحاب سے فرمایا تم کسی بہرے یا غائب کو نہیں پکار رہے۔ جسے تم پکار رہے ہو وہ سمیع و قریب مجیب ہے۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:2992]
47۔ 1 اس میں اپنی بےغرضی اور دنیا کے مال و متاع بےرغبتی کا مزید اظہار فرما دیا تاکہ ان کے دلوں میں اگر یہ شک و شبہ پیدا ہو کہ اس دعوی نبوت سے اس کا مقصد کہیں دنیا کمانا تو نہیں، تو وہ دور ہوجائے۔
(آیت 47) ➊ { قُلْ مَا سَاَلْتُكُمْ مِّنْ اَجْرٍ فَهُوَ لَكُمْ …:} یہ دوسری تلقین ہے کہ اس بات کی صراحت کر دیں کہ اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچانے پر میں تم سے کوئی اجرت یا معاوضہ تو نہیں مانگتا، میں نے تم سے جو بھی اجرت مانگی ہے تو وہ تمھاری ہوئی۔ یہ ایسے ہی ہے جیسے کوئی شخص دوسرے سے کہے کہ اگر تم نے مجھے کچھ دیاہے تو وہ تم لے لو، جب اسے معلوم ہو کہ اس نے اسے کچھ نہیں دیا، مطلب صرف اس بات کا اظہار ہوتا ہے کہ تم نے مجھے کچھ دیا ہی نہیں جو میں تمھیں واپس دوں۔ ایسے ہی یہاں فرمایا کہ اگر میں نے تم سے کوئی مزدوری مانگی ہے تو وہ تمھاری ہوئی۔ مطلب یہ کہ میں نے تم سے کوئی مزدوری مانگی ہی نہیں، میری دعوت تو محض تمھاری خیر خواہی کے لیے ہے، جیسا کہ ہود علیہ السلام نے اپنی قوم کو فرمایا: «{ وَ مَاۤ اَسْـَٔلُكُمْ عَلَيْهِ مِنْ اَجْرٍ اِنْ اَجْرِيَ اِلَّا عَلٰى رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ }» [ الشعراء: ۱۲۷] ”اور میں اس پر تم سے کسی اجرت کا سوال نہیں کرتا، میری اجرت تو رب العالمین ہی کے ذمے ہے۔“ دوسرا معنی یہ ہے کہ میں نے یہ پیغام پہنچا کر تم سے کسی چیز کا سوال کیا ہے تو وہ تمھارے ہی فائدے کی چیز ہے۔ میرا تم سے مطالبہ صرف یہ ہے کہ تم اپنے رب تعالیٰ کی طرف جانے والا راستہ اختیار کرو، جیسا کہ فرمایا: «{ قُلْ مَاۤ اَسْـَٔلُكُمْ عَلَيْهِ مِنْ اَجْرٍ اِلَّا مَنْ شَآءَ اَنْ يَّتَّخِذَ اِلٰى رَبِّهٖ سَبِيْلًا }» [ الفرقان: ۵۷ ] ”کہہ دے میں تم سے اس پر کسی مزدوری کا سوال نہیں کرتا مگر جو چاہے کہ اپنے رب کی طرف کوئی راستہ اختیار کرے۔“ ➋ {وَ هُوَ عَلٰى كُلِّ شَيْءٍ شَهِيْدٌ:} یعنی الزام لگانے والے جو کچھ چاہیں کہتے رہیں مگر حقیقت یہ ہے کہ میری مزدوری اللہ کے ذمے ہے اور وہ سب کچھ جانتا ہے اور وہ میرے صدق اور خلوص نیت پر گواہ ہے کہ اس کا پیغام پہنچانے میں مجھے دنیا کی کسی چیز کا طمع نہیں، نہ میں اس کے سوا کسی سے کسی مزدوری یا بدلے کا طلب گار ہوں، نہ اس کی خواہش رکھتا ہوں۔
ان سے کہو "میرا رب (مجھ پر) حق کا القا کرتا ہے اور وہ تمام پوشیدہ حقیقتوں کا جاننے والا ہے"
مولانا محمد جوناگڑھی
کہہ دیجیئے! کہ میرا رب حق (سچی وحی) نازل فرماتا ہے وه ہر غیب کا جاننے واﻻ ہے
احمد رضا خان بریلوی
تم فرماؤ بیشک میرا رب حق پر القا فرماتا ہے بہت جاننے والا سب نبیوں کا،
علامہ محمد حسین نجفی
کہہ دیجئے! کہ میرا پروردگار جوکہ بڑا غیب دان ہے حق کو (باطل پر) ڈالتا (مارتا) ہے۔
عبدالسلام بن محمد
کہہ بے شک میرا رب (دل میں) حق ڈالتا ہے، سب غیبوں کو بہت خوب جاننے والا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
مشرکین کو دعوت اصلاح ٭٭
حکم ہو رہا ہے کہ مشرکوں سے فرما دیجئے کہ میں جو تمہاری خیر خواہی کرتا ہوں تمہیں احکام دینی پہنچتا رہا ہوں وعظ و نصیحت کرتا ہوں اس پر میں تم سے کسی بدلے کا طالب نہیں ہوں۔ بدلہ تو اللہ ہی دے گا جو تمام چیزوں کی حقیقت سے مطلع ہے۔ میری تمہاری حالت اس پر خوب روشن ہے۔ پھر جو فرمایا اسی طرح کی آیت «رَفِيْعُ الدَّرَجٰتِ ذو الْعَرْشِ يُلْقِي الرُّوْحَ مِنْ اَمْرِهٖ عَلٰي مَنْ يَّشَاءُ مِنْ عِبَادِهٖ لِيُنْذِرَ يَوْمَ التَّلَاقِ» ۱؎ [40-غافر:15] الخ، ہے یعنی ’ اللہ تعالیٰ اپنے فرمان سے جبرائیل علیہ السلام کو جس پر چاہتا ہے اپنی وحی کے ساتھ بھیجتا ہے ‘ وہ حق کے ساتھ فرشتہ اتارتا ہے۔ وہ علام الغیوب ہے اس پر آسمان و زمین کی کوئی چیز مخفی نہیں۔ اللہ کی طرف سے حق اور مبارک شریعت آ چکی ہے۔ باطل پراگندہ بودار ہو کر برباد ہو گیا۔ جیسے فرمان ہے «بَلْ نَقْذِفُ بالْحَقِّ عَلَي الْبَاطِلِ فَيَدْمَغُهٗ فَاِذَا هُوَ زَاهِقٌ وَلَـكُمُ الْوَيْلُ مِمَّا تَصِفُوْنَ» ۱؎ [21-الأنبياء:18] ’ ہم باطل پر حق کو نازل فرما کر باطل کے ٹکڑے اڑا دیتے ہیں اور وہ چکنا چور ہو جاتا ہے۔ ‘ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فتح مکہ والے دن جب بیت اللہ میں داخل ہوئے تو وہاں کے بتوں کو اپنی کمان کی لکڑی سے گراتے جاتے تھے اور زبان سے فرماتے جاتے تھے «وَقُلْ جَاءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ إِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوقًا» ۱؎ [17-الإسراء:81] ’ حق آ گیا باطل مٹ گیا وہ تھا ہی مٹنے والا۔ ‘ ۱؎ [صحیح بخاری:4720] (بخاری، مسلم) باطل کا اور ناحق کا دباؤ سب ختم ہو گیا۔ بعض مفسرین سے مروی ہے کہ مراد یہاں باطل سے ابلیس ہے۔ یعنی نہ اس نے کسی کو پہلے پیدا کیا نہ آئندہ کر سکے نہ مردے کو زندہ کر سکے نہ اسے کوئی اور ایسی قدرت حاصل ہے بات تو یہ بھی سچی ہے لیکن یہاں یہ مراد نہیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
پھر جو فرمایا اس کا مطلب یہ ہے کہ خیر سب کی سب اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے اور اللہ کی بھیجی ہوئی وحی میں وہی سراسر حق ہے اور ہدایت و بیان و رشد ہے۔ گمراہ ہونے والے آپ ہی بگڑ رہے ہیں اور اپنا ہی نقصان کر رہے ہیں۔ سیدنا سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے جب کہ مفوضہ کا مسئلہ دریافت کیا گیا تھا تو آپ نے فرمایا تھا اسے میں اپنی رائے سے بیان کرتا ہوں اگر صحیح ہو تو اللہ کی طرف سے ہے۔ اور اگر غلط ہو تو میری اور شیطان کی طرف سے ہے اور اللہ اور اس کا رسول صلی اللہ علیہ وسلم اس سے بری ہے۔ وہ اللہ اپنے بندوں کی باتوں کا سننے والا ہے اور قریب ہے۔ پکارنے والے کی ہر پکار کو ہر وقت سنتا اور قبول فرماتا ہے۔ بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ اپنے اصحاب سے فرمایا تم کسی بہرے یا غائب کو نہیں پکار رہے۔ جسے تم پکار رہے ہو وہ سمیع و قریب مجیب ہے۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:2992]
48۔ 1 قذف کے معنی تیراندازی اور خشت باری کے بھی ہیں اور کلام کرنے کے بھی، یہاں اس کے دوسرے معنی ہیں یعنی وہ حق کے ساتھ گفتگو فرماتا، اور اپنے رسولوں پر وحی نازل فرماتا اور ان کے ذریعے سے لوگوں کے لیے حق واضح فرماتا ہے۔
(آیت 48) ➊ { قُلْ اِنَّ رَبِّيْ يَقْذِفُ بِالْحَقِّ: ”قَذَفَ يَقْذِفُ“} کا معنی پھینکنا ہے، یہ ڈالنے کے معنی میں بھی آتا ہے: {”أَيْ يَقْذِفُ بِالْحَقِّ فِيْ قُلُوْبِ أَصْفِيَاءِهِ “} یعنی وہ اپنے خاص بندوں کے دلوں میں حق ڈال دیتا ہے۔ جب ثابت ہو گیا کہ یہ نبی نہ مجنون ہے، نہ دنیا کا طالب، نہ تم اس کے کسی قول یا فعل کو جھوٹ، جادو یا دیوانگی ثابت کر سکے تو ثابت ہوا کہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے، اس لیے فرمایا، اے نبی! جو لوگ توحید، انبیاء کی رسالت اور آخرت کے منکر ہیں ان سے کہہ دے کہ بے شک میرا رب وحی کے ذریعے سے اپنے چنے ہوئے بندوں کے دل میں حق بات ڈالتا ہے، اسی نے میرے دل میں بذریعہ وحی اس حق کا القا فرمایا ہے، جیسا کہ فرمایا: «يُلْقِي الرُّوْحَ مِنْ اَمْرِهٖ عَلٰى مَنْ يَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖ لِيُنْذِرَ يَوْمَ التَّلَاقِ» [ المؤمن: ۱۵ ] ”وہ اپنے بندوں میں سے جس پر چاہتا ہے اپنے حکم سے وحی اتارتا ہے، تاکہ آپس کی ملاقات کے دن سے ڈرائے۔“ {” يَقْذِفُ بِالْحَقِّ “} کا دوسرا معنی {”يَقْذِفُ بِالْحَقِّ عَلَي الْبَاطِلِ“} ہے، یعنی کہہ دے بے شک میرا رب حق کو باطل پر پھینک مارتا ہے تو وہ اس کا دماغ کچل دیتا ہے، پس وہ اچانک مٹنے والا ہوتا ہے، جیسا کہ فرمایا: «بَلْ نَقْذِفُ بِالْحَقِّ عَلَى الْبَاطِلِ فَيَدْمَغُهٗ فَاِذَا هُوَ زَاهِقٌ» [ الأنبیاء: ۱۸ ] ”بلکہ ہم حق کو باطل پر پھینک مارتے ہیں تو وہ اس کا دماغ کچل دیتا ہے، پس اچانک وہ مٹنے والا ہوتا ہے۔“ یعنی تمھارے اس حق کو جھوٹ یا جادو یا دیوانگی کہنے سے اس کا کچھ نہیں بگڑے گا، میرا رب اس حق کو باطل پر اس زور سے پھینک مارے گا کہ وہ یکایک ہی مٹ جائے گا۔ اس آیت میں تیسری بات کی تلقین ہے کہ آپ مشرکین کو صراحت سے کہہ دیجیے کہ تم لوگ نہ حق سے جھگڑے میں غالب آ سکتے ہو نہ لڑائی میں، کیونکہ میرا رب میرے دل میں حق کا القا کرتا ہے، کیونکہ وہ تمام غیبوں کو خوب جاننے والا ہے۔ اب جو شخص غیب جانتا ہی نہیں، نہ اسے اللہ تعالیٰ کی طرف سے غیب کی کوئی بات بتائی جاتی ہے تو وہ حق کے ساتھ کیا جھگڑا کرے گا؟ پھر میرا رب حق کو باطل پر مار کر اس کا دماغ کچل دیتا، تو اہل باطل اہل حق کے ساتھ کیا لڑائی کریں گے؟ ➋ { عَلَّامُ الْغُيُوْبِ:} وہ تمام غیبوں کو خوب جاننے والا ہے۔ غیب کی ان باتوں میں سے جو چاہے اپنے جس پیغمبر کے دل میں چاہے ڈال دیتا ہے اور وہی خوب جانتا ہے کہ غیب کی کس بات کی اطلاع کس پیغمبر کو دینی ہے۔ دیکھیے سورۂ جنّ (۲۶ تا ۲۸)۔
کہو "حق آگیا ہے اور اب باطل کے کیے کچھ نہیں ہو سکتا"
مولانا محمد جوناگڑھی
کہہ دیجیئے کہ حق آچکا باطل نہ تو پہلے کچھ کرسکا ہے اور نہ کرسکے گا
احمد رضا خان بریلوی
تم فرماؤ حق آیا اور باطل نہ پہل کرے اور نہ پھر کر آئے
علامہ محمد حسین نجفی
آپ(ص) کہہ دیجئے! حق آگیا ہے اور باطل نہ کچھ ایجاد کر سکتا ہے اور نہ دوبارہ پلٹا سکتا ہے (بالکل مٹ گیا ہے)۔
عبدالسلام بن محمد
کہہ دے حق آگیا اور باطل نہ پہلی دفعہ کچھ کرتا ہے اور نہ دوبارہ کرتا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
مشرکین کو دعوت اصلاح ٭٭
حکم ہو رہا ہے کہ مشرکوں سے فرما دیجئے کہ میں جو تمہاری خیر خواہی کرتا ہوں تمہیں احکام دینی پہنچتا رہا ہوں وعظ و نصیحت کرتا ہوں اس پر میں تم سے کسی بدلے کا طالب نہیں ہوں۔ بدلہ تو اللہ ہی دے گا جو تمام چیزوں کی حقیقت سے مطلع ہے۔ میری تمہاری حالت اس پر خوب روشن ہے۔ پھر جو فرمایا اسی طرح کی آیت «رَفِيْعُ الدَّرَجٰتِ ذو الْعَرْشِ يُلْقِي الرُّوْحَ مِنْ اَمْرِهٖ عَلٰي مَنْ يَّشَاءُ مِنْ عِبَادِهٖ لِيُنْذِرَ يَوْمَ التَّلَاقِ» ۱؎ [40-غافر:15] الخ، ہے یعنی ’ اللہ تعالیٰ اپنے فرمان سے جبرائیل علیہ السلام کو جس پر چاہتا ہے اپنی وحی کے ساتھ بھیجتا ہے ‘ وہ حق کے ساتھ فرشتہ اتارتا ہے۔ وہ علام الغیوب ہے اس پر آسمان و زمین کی کوئی چیز مخفی نہیں۔ اللہ کی طرف سے حق اور مبارک شریعت آ چکی ہے۔ باطل پراگندہ بودار ہو کر برباد ہو گیا۔ جیسے فرمان ہے «بَلْ نَقْذِفُ بالْحَقِّ عَلَي الْبَاطِلِ فَيَدْمَغُهٗ فَاِذَا هُوَ زَاهِقٌ وَلَـكُمُ الْوَيْلُ مِمَّا تَصِفُوْنَ» ۱؎ [21-الأنبياء:18] ’ ہم باطل پر حق کو نازل فرما کر باطل کے ٹکڑے اڑا دیتے ہیں اور وہ چکنا چور ہو جاتا ہے۔ ‘ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فتح مکہ والے دن جب بیت اللہ میں داخل ہوئے تو وہاں کے بتوں کو اپنی کمان کی لکڑی سے گراتے جاتے تھے اور زبان سے فرماتے جاتے تھے «وَقُلْ جَاءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ إِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوقًا» ۱؎ [17-الإسراء:81] ’ حق آ گیا باطل مٹ گیا وہ تھا ہی مٹنے والا۔ ‘ ۱؎ [صحیح بخاری:4720] (بخاری، مسلم) باطل کا اور ناحق کا دباؤ سب ختم ہو گیا۔ بعض مفسرین سے مروی ہے کہ مراد یہاں باطل سے ابلیس ہے۔ یعنی نہ اس نے کسی کو پہلے پیدا کیا نہ آئندہ کر سکے نہ مردے کو زندہ کر سکے نہ اسے کوئی اور ایسی قدرت حاصل ہے بات تو یہ بھی سچی ہے لیکن یہاں یہ مراد نہیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
پھر جو فرمایا اس کا مطلب یہ ہے کہ خیر سب کی سب اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے اور اللہ کی بھیجی ہوئی وحی میں وہی سراسر حق ہے اور ہدایت و بیان و رشد ہے۔ گمراہ ہونے والے آپ ہی بگڑ رہے ہیں اور اپنا ہی نقصان کر رہے ہیں۔ سیدنا سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے جب کہ مفوضہ کا مسئلہ دریافت کیا گیا تھا تو آپ نے فرمایا تھا اسے میں اپنی رائے سے بیان کرتا ہوں اگر صحیح ہو تو اللہ کی طرف سے ہے۔ اور اگر غلط ہو تو میری اور شیطان کی طرف سے ہے اور اللہ اور اس کا رسول صلی اللہ علیہ وسلم اس سے بری ہے۔ وہ اللہ اپنے بندوں کی باتوں کا سننے والا ہے اور قریب ہے۔ پکارنے والے کی ہر پکار کو ہر وقت سنتا اور قبول فرماتا ہے۔ بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ اپنے اصحاب سے فرمایا تم کسی بہرے یا غائب کو نہیں پکار رہے۔ جسے تم پکار رہے ہو وہ سمیع و قریب مجیب ہے۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:2992]
49۔ 1 حق سے مراد قرآن اور باطل سے مراد کفر و شرک ہے۔ مطلب ہے اللہ کی طرف سے اللہ کا دین اور اس کا قرآن آگیا ہے۔ جس سے باطل ختم ہوگیا ہے، اب وہ سر اٹھانے کے قابل نہیں رہا ہے۔
(آیت 49) ➊ { قُلْ جَآءَ الْحَقُّ:} یہ چوتھی تلقین ہے کہ انھیں واضح کر دیں کہ ان کا باطل بہت جلد ختم ہو جائے گا اور اس کا نام و نشان تک نہیں رہے گا۔ دوسری جگہ فرمایا: «وَ قُلْ جَآءَ الْحَقُّ وَ زَهَقَ الْبَاطِلُ اِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوْقًا» [ بني إسرائیل: ۸۱ ] ”اور کہہ دے حق آگیا اور باطل مٹ گیا، بے شک باطل ہمیشہ سے مٹنے والا تھا۔“ ➋ { وَ مَا يُبْدِئُ الْبَاطِلُ وَ مَا يُعِيْدُ: ”أَبْدَأَ يُبْدِءُ إِبْدَاءً“} (افعال) کوئی کام شروع میں کرنا اور اعادہ کا معنی ہے اسے دوبارہ کرنا۔ ہر زندہ شخص ان دونوں سے خالی نہیں ہوتا، یا وہ کوئی کام ابتداءً کرتا ہے یا دوبارہ، البتہ مُردہ ان میں سے کچھ بھی نہیں کر سکتا۔ یہ ایک مقولہ ہے جو عرب کسی شخص یا قوم کے نیست و نابود ہونے پر استعمال کرتے ہیں: {”إِنَّهُ مَا يُبْدِئُ وَمَا يُعِيْدُ“} یعنی وہ بالکل مٹ گیا، اس کا نشان بھی باقی نہ رہا۔ ➌ اس آیت کے نزول کے تھوڑا عرصہ بعد ہی یہ پیش گوئی سچی ہو گئی۔ عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں داخل ہوئے اور بیت اللہ کے اردگرد تین سو ساٹھ بت نصب تھے، تو آپ ہر بت کو ایک لکڑی کے ساتھ، جو آپ کے ہاتھ میں تھی، ٹھوکر مارتے جاتے اور کہتے تھے: «جَآءَ الْحَقُّ وَ زَهَقَ الْبَاطِلُ اِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوْقًا» اور «جَآءَ الْحَقُّ وَ مَا يُبْدِئُ الْبَاطِلُ وَ مَا يُعِيْدُ» [ بخاري، التفسیر، باب: «و قل جاء الحق و زھق الباطل» : ۴۷۲۰ ]
کہو "اگر میں گمراہ ہو گیا ہوں تو میری گمراہی کا وبال مجھ پر ہے، اور اگر میں ہدایت پر ہوں تو اُس وحی کی بنا پر ہوں جو میرا رب میرے اوپر نازل کرتا ہے، وہ سب کچھ سنتا ہے اور قریب ہی ہے"
مولانا محمد جوناگڑھی
کہہ دیجیئے کہ اگر میں بہک جاؤں تو میرے بہکنے (کا وبال) مجھ پر ہی ہے اور اگر میں راه ہدایت پر ہوں تو بہ سبب اس وحی کے جو میرا پروردگار مجھے کرتا ہے وه بڑا ہی سننے واﻻ اور بہت ہی قریب ہے
احمد رضا خان بریلوی
تم فرماؤ اگر میں بہکا تو اپنے ہی برے کو بہکا اور اگر میں نے راہ پائی تو اس کے سبب جو میرا رب میری طرف وحی فرماتا ہے بیشک وہ سننے والا نزدیک ہے
علامہ محمد حسین نجفی
کہہ دیجئے! اگر (تمہارے خیال کے مطابق) میں گمراہ ہوگیا ہوں تو اس کا وِزر و وبال میری جان پر ہے اور اگر میں ہدایت یافتہ ہوں تو یہ اس وحی کا ثمرہ ہے جو میرا پروردگار میری طرف بھیجتا ہے بے شک وہ بڑا سننے والا بالکل قریب ہے۔
عبدالسلام بن محمد
کہہ دے اگر میں گمراہ ہوا تو اپنی جان ہی پر گمراہ ہوں گا اور اگر میں نے ہدایت پائی تو اسی کی وجہ سے جو میرا رب میری طرف وحی بھیجتا ہے، یقینا وہ سب کچھ سننے والا، قریب ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
مشرکین کو دعوت اصلاح ٭٭
حکم ہو رہا ہے کہ مشرکوں سے فرما دیجئے کہ میں جو تمہاری خیر خواہی کرتا ہوں تمہیں احکام دینی پہنچتا رہا ہوں وعظ و نصیحت کرتا ہوں اس پر میں تم سے کسی بدلے کا طالب نہیں ہوں۔ بدلہ تو اللہ ہی دے گا جو تمام چیزوں کی حقیقت سے مطلع ہے۔ میری تمہاری حالت اس پر خوب روشن ہے۔ پھر جو فرمایا اسی طرح کی آیت «رَفِيْعُ الدَّرَجٰتِ ذو الْعَرْشِ يُلْقِي الرُّوْحَ مِنْ اَمْرِهٖ عَلٰي مَنْ يَّشَاءُ مِنْ عِبَادِهٖ لِيُنْذِرَ يَوْمَ التَّلَاقِ» ۱؎ [40-غافر:15] الخ، ہے یعنی ’ اللہ تعالیٰ اپنے فرمان سے جبرائیل علیہ السلام کو جس پر چاہتا ہے اپنی وحی کے ساتھ بھیجتا ہے ‘ وہ حق کے ساتھ فرشتہ اتارتا ہے۔ وہ علام الغیوب ہے اس پر آسمان و زمین کی کوئی چیز مخفی نہیں۔ اللہ کی طرف سے حق اور مبارک شریعت آ چکی ہے۔ باطل پراگندہ بودار ہو کر برباد ہو گیا۔ جیسے فرمان ہے «بَلْ نَقْذِفُ بالْحَقِّ عَلَي الْبَاطِلِ فَيَدْمَغُهٗ فَاِذَا هُوَ زَاهِقٌ وَلَـكُمُ الْوَيْلُ مِمَّا تَصِفُوْنَ» ۱؎ [21-الأنبياء:18] ’ ہم باطل پر حق کو نازل فرما کر باطل کے ٹکڑے اڑا دیتے ہیں اور وہ چکنا چور ہو جاتا ہے۔ ‘ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فتح مکہ والے دن جب بیت اللہ میں داخل ہوئے تو وہاں کے بتوں کو اپنی کمان کی لکڑی سے گراتے جاتے تھے اور زبان سے فرماتے جاتے تھے «وَقُلْ جَاءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ إِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوقًا» ۱؎ [17-الإسراء:81] ’ حق آ گیا باطل مٹ گیا وہ تھا ہی مٹنے والا۔ ‘ ۱؎ [صحیح بخاری:4720] (بخاری، مسلم) باطل کا اور ناحق کا دباؤ سب ختم ہو گیا۔ بعض مفسرین سے مروی ہے کہ مراد یہاں باطل سے ابلیس ہے۔ یعنی نہ اس نے کسی کو پہلے پیدا کیا نہ آئندہ کر سکے نہ مردے کو زندہ کر سکے نہ اسے کوئی اور ایسی قدرت حاصل ہے بات تو یہ بھی سچی ہے لیکن یہاں یہ مراد نہیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
پھر جو فرمایا اس کا مطلب یہ ہے کہ خیر سب کی سب اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے اور اللہ کی بھیجی ہوئی وحی میں وہی سراسر حق ہے اور ہدایت و بیان و رشد ہے۔ گمراہ ہونے والے آپ ہی بگڑ رہے ہیں اور اپنا ہی نقصان کر رہے ہیں۔ سیدنا سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے جب کہ مفوضہ کا مسئلہ دریافت کیا گیا تھا تو آپ نے فرمایا تھا اسے میں اپنی رائے سے بیان کرتا ہوں اگر صحیح ہو تو اللہ کی طرف سے ہے۔ اور اگر غلط ہو تو میری اور شیطان کی طرف سے ہے اور اللہ اور اس کا رسول صلی اللہ علیہ وسلم اس سے بری ہے۔ وہ اللہ اپنے بندوں کی باتوں کا سننے والا ہے اور قریب ہے۔ پکارنے والے کی ہر پکار کو ہر وقت سنتا اور قبول فرماتا ہے۔ بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ اپنے اصحاب سے فرمایا تم کسی بہرے یا غائب کو نہیں پکار رہے۔ جسے تم پکار رہے ہو وہ سمیع و قریب مجیب ہے۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:2992]
50۔ 1 یعنی بھلائی سب اللہ کی طرف سے ہے، اور اللہ تعالیٰ نے جو وحی اور حق مبین نازل فرمایا، اس میں رشدو ہدایت ہے، صحیح راستہ لوگوں کو اس سے ملتا ہے۔ پس جو گمراہ ہوتا ہے، تو اس میں انسان کی اپنی ہی کوتاہی اور ہوائے نفس کا دخل ہوتا ہے۔ اسی لیے اس کا وبال بھی اسی پر ہوگا 50۔ 2 جس طرح حدیث میں فرمایا ' تم بہری اور غائب ذات کو نہیں پکار رہے ہو ' بلکہ اس کو پکار رہے ہو جو سننے والا، قریب اور قبول کرنے والا ہے۔
(آیت 50) ➊ { قُلْ اِنْ ضَلَلْتُ فَاِنَّمَاۤ اَضِلُّ عَلٰى نَفْسِيْ:} یہ پانچویں تلقین ہے کہ آپ انھیں سمجھانے کے لیے کہیں کہ اگر تمھارے بتوں کو اور تمھارے آباء کے دین کو چھوڑنے کی وجہ سے میں گمراہ ہو گیا ہوں، جیسا کہ میرے بارے میں تم کہتے پھرتے ہو تو اس گمراہی کا وبال مجھی پر پڑے گا، تم پر اس کی ذمہ داری نہیں اور اگر میں ہدایت یافتہ ہوں، جیسا کہ حقیقت ہے، تو یہ میرا کمال یا خوبی نہیں ہے بلکہ اس کی وجہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے میری راہ نمائی ہے اور میں تمھیں صاف بتا چکا ہوں کہ میں اپنے نفس کی یا کسی اور کی پیروی کرتا ہی نہیں، بلکہ صرف وحی کی پیروی کرتا ہوں جو میری طرف کی جاتی ہے، جیسا کہ فرمایا: «قُلْ اِنَّمَاۤ اَتَّبِعُ مَا يُوْحٰۤى اِلَيَّ مِنْ رَّبِّيْ» [ الأعراف: ۲۰۳ ] ”کہہ دے میں تو اسی کی پیروی کرتا ہوں جو میرے رب کی جانب سے میری طرف وحی کی جاتی ہے۔“ اس آیت میں یہ ادب بھی سکھایا گیا کہ خامی اور غلطی کی نسبت اپنی طرف کرنی ہے اور ہدایت کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف، کیونکہ ساری خیر اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے اور ہدایت اور بھلائی صرف اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ وحی اور اس کے بیان کردہ حق میں ہے، پھر جو گمراہ ہوتا ہے وہ اپنے نفس کی وجہ سے گمراہ ہوتا ہے اور جسے ہدایت ملتی ہے اسے اللہ کی طرف سے ملتی ہے، جیساکہ عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے ایک مسئلہ پوچھا گیا تو انھوں نے فرمایا: [ أَقُوْلُ فِيْهَا بِرَأْيِيْ، فَإِنْ يَّكُ خَطَأً فَمِنِّيْ وَ مِنَ الشَّيْطَانِ، وَ إِنْ يَّكُ صَوَابًا، فَمِنَ اللّٰهِ ] [ مسند أحمد: 279/4، ح: ۱۸۴۸۹ ] ”میں اس کے بارے میں اپنی رائے سے کہتا ہوں، اگر وہ خطا ہوئی تو میری طرف سے اور شیطان کی طرف سے ہو گی اور اگر درست ہوئی تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے۔“ ➋ {اِنَّهٗ سَمِيْعٌ قَرِيْبٌ:} ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے، جب ہم کسی وادی کی بلندی پر پہنچتے تو ہم ”لاالٰہ الا اللہ“ اور ”اللہ اکبر“ کہتے اور ہماری آوازیں بلند ہو جاتیں۔ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ يَا أَيُّهَا النَّاسُ! ارْبَعُوْا عَلٰی أَنْفُسِكُمْ، فَإِنَّكُمْ لَا تَدْعُوْنَ أَصَمَّ وَ لَا غَائِبًا، إِنَّهُ مَعَكُمْ، إِنَّهُ سَمِيْعٌ قَرِيْبٌ، تَبَارَكَ اسْمُهُ وَ تَعَالٰی جَدُّهُ ] [ بخاري، الجہاد والسیر، باب ما یکرہ من رفع الصوت في التکبیر: ۲۹۹۲ ] ”لوگو! اپنی جانوں پر رحم کرو، کیونکہ تم نہ کسی بہرے کو پکار رہے ہو نہ غائب کو، وہ تو تمھارے ساتھ ہے، بے شک وہ سب کچھ سننے والا ہے، قریب ہے۔ اس کا نام بہت برکت والا اور اس کی شان بہت بلند ہے۔“