بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ سبأ — Surah Saba
آیت نمبر 42
کل آیات: 54
قرآن کریم سبأ آیت 42
آیت نمبر: 42 — سورۃ سبأ islamicurdubooks.com ↗
فَالۡیَوۡمَ لَا یَمۡلِکُ بَعۡضُکُمۡ لِبَعۡضٍ نَّفۡعًا وَّ لَا ضَرًّا ؕ وَ نَقُوۡلُ لِلَّذِیۡنَ ظَلَمُوۡا ذُوۡقُوۡا عَذَابَ النَّارِ الَّتِیۡ کُنۡتُمۡ بِہَا تُکَذِّبُوۡنَ ﴿۴۲﴾
(اُس وقت ہم کہیں گے کہ) آج تم میں سے کوئی نہ کسی کو فائدہ پہنچا سکتا ہے نہ نقصان اور ظالموں سے ہم کہہ دیں گے کہ اب چکھو اس عذاب جہنم کا مزہ جسے تم جھٹلایا کرتے تھے
پس آج تم میں سے کوئی (بھی) کسی کے لئے (بھی کسی قسم کے) نفع نقصان کا مالک نہ ہوگا۔ اور ہم ﻇالموں سے کہہ دیں گے کہ اس آگ کا عذاب چکھو جسے تم جھٹلاتے رہے
تو آج تم میں ایک دوسرے کو بھلے برے کا کچھ اختیار نہ رکھے گا او رہم فرمائیں گے ظالموں سے اس آگ کا عذاب چکھو جسے تم جھٹلاتے تھے
(ارشادِ قدرت ہوگا) آج تم میں سے کوئی نہ کسی دوسرے کو نفع پہنچا سکے گا اور نہ نقصان اور ہم ظالموں سے کہیں گے کہ اب عذاب جہنم کا مزہ چکھو جسے تم جھٹلایا کرتے تھے۔
سو آج تمھارا کوئی کسی کے لیے نہ نفع کا مالک ہے اور نہ نقصان کا اور ہم ان لوگوں سے کہیں گے جنھوں نے ظلم کیا چکھو اس آگ کا عذاب جسے تم جھٹلایا کرتے تھے۔

📖 تفسیر ابن کثیر

مشرکین سے سوال ٭٭

مشرکین کو شرمندہ لاجواب اور بےعذر کرنے کے لئے ان کے سامنے فرشتوں سے سوال ہو گا۔ جن کی مصنوعی شکلیں بنا کر یہ مشرک دنیا میں پوجتے رہے کہ وہ انہیں اللہ سے ملا دیں۔ سوال ہو گا کہ کیا تم نے انہیں اپنی عبادت کرنے کو کہا تھا؟ جیسے سورۃ الفرقان میں ہے «ءَ اَنْتُمْ اَضْلَلْتُمْ عِبَادِيْ هٰٓؤُلَاءِ اَمْ هُمْ ضَلُّوا السَّبِيْلَ» ۱؎ [25-الفرقان:17] ‏‏‏‏ یعنی ’ کیا تم نے انہیں گمراہ کیا تھا؟ یا یہ خود ہی بہکے ہوئے تھے؟ ‘ عیسیٰ علیہ السلام سے یہی سوال ہو گا کہ کیا تم لوگوں سے کہہ آئے تھے کہ اللہ کو چھوڑ کر میری اور میری ماں کی عبادت کرنا؟ آپ جواب دیں گے کہ اللہ! تیری ذات پاک ہے جو کہنا مجھے سزاوار نہ تھا، اسے میں کیسے کہہ دیتا؟ اسی طرح فرشتے بھی اپنی برأت ظاہر کریں گے اور کہیں گے تو اس سے بہت بلند اور پاک ہے کہ تیرا کوئی شریک ہو۔ ہم تو خود تیرے بندے تھے اور ہم ان سے بیزار رہے اور اب بھی ان سے الگ ہیں۔ یہ شیاطین کی پرستش کرتے تھے۔ شیطانوں نے ہی ان کے لیے بتوں کی پوجا کو مزین کر رکھا تھا اور انہیں گمراہ کر دیا تھا ان میں سے اکثر کا شیطان پر ہی اعتقاد تھا۔ جیسے فرمان باری ہے «اِنْ يَّدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖٓ اِلَّآ اِنَاثًا وَاِنْ يَّدْعُوْنَ اِلَّا شَيْطٰنًا مَّرِيْدًا۔ لَّعَنَهُ اللَّـهُ ۘ وَقَالَ لَأَتَّخِذَنَّ مِنْ عِبَادِكَ نَصِيبًا مَّفْرُوضًا» ۱؎ [4-النساء:117-118] ‏‏‏‏ یعنی ’ یہ لوگ اللہ کو چھوڑ کر عورتوں کی پرستش کرتے ہیں اور سرکش شیطان کی عبادت کرتے ہیں۔ جس پر اللہ کی پھٹکار ہے۔ ‘ پس جن جن سے تم مشرکو! لو لگائے ہوئے تھے ان میں سے ایک بھی آج تمہیں کوئی نفع نہ پہنچا سکے گا۔ اس شدت و کرب کے وقت یہ سارے جھوٹے معبود تم سے یک سو ہو جائیں گے کیونکہ انہیں کسی کے کسی طرح کے نفع و ضرر کا اختیار تھا ہی نہیں۔ آج ہم خود مشرکوں سے فرما دیں گے کہ لو جس عذاب جہنم کو جھٹلا رہے تھے آج اس کا مزہ چکھو۔

📖 احسن البیان

42۔ 1 یعنی دنیا میں تم یہ سمجھ کر ان کی عبادت کرتے تھے کہ یہ تمہیں فائدہ پہنچائیں گے، تمہاری سفارش کریں گے اور اللہ کے عذاب سے تمہیں نجات دلوائیں گے جیسے آج بھی پیر پرستوں اور قبر پرستوں کا حال ہے لیکن آج دیکھ لو کہ یہ لوگ کسی بات پر قادر نہیں۔ 42۔ 2 ظالموں سے مراد، غیر اللہ کے پجاری ہیں،۔ کیونکہ شرک ظلم عظیم ہے اور مشرکین سب سے بڑے ظالم۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 42) ➊ {فَالْيَوْمَ لَا يَمْلِكُ بَعْضُكُمْ لِبَعْضٍ نَّفْعًا وَّ لَا ضَرًّا:} یہ فرشتوں اور ان کی عبادت کرنے والوں دونوں سے خطاب ہے۔ یعنی دنیا میں یہ لوگ یہ سمجھ کر تمھاری عبادت کرتے تھے کہ تم انھیں کوئی فائدہ پہنچاؤ گے، یا نقصان سے بچا لو گے اور اللہ کے عذاب سے محفوظ رکھو گے، جیسے آج کل پیر پرستوں اور قبر پرستوں کا حال ہے، مگر آج تم میں سے کوئی نہ کسی کو فائدہ پہنچانے کا اختیار رکھتا ہے نہ نقصان سے بچانے کا۔ عابد و معبود دونوں عاجز ہیں، جیسا کہ فرمایا: «‏‏‏‏ضَعُفَ الطَّالِبُ وَ الْمَطْلُوْبُ» ‏‏‏‏ [ الحج: ۷۳ ] ”کمزور ہے مانگنے والا اور وہ بھی جس سے مانگا گیا۔“ ➋ {وَ نَقُوْلُ لِلَّذِيْنَ ظَلَمُوْا ذُوْقُوْا عَذَابَ النَّارِ …:} ظالموں سے مراد مشرک ہیں، کیونکہ شرک ظلم عظیم ہے اور مشرک سب سے بڑے ظالم ہیں۔ دیکھیے سورۂ انعام (۸۲) اور سورۂ لقمان (۱۳)۔
← پچھلی آیت (41) پوری سورۃ اگلی آیت (43) →