بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ سبأ — Surah Saba
آیت نمبر 44
کل آیات: 54
قرآن کریم سبأ آیت 44
آیت نمبر: 44 — سورۃ سبأ islamicurdubooks.com ↗
وَ مَاۤ اٰتَیۡنٰہُمۡ مِّنۡ کُتُبٍ یَّدۡرُسُوۡنَہَا وَ مَاۤ اَرۡسَلۡنَاۤ اِلَیۡہِمۡ قَبۡلَکَ مِنۡ نَّذِیۡرٍ ﴿ؕ۴۴﴾
حالانکہ نہ ہم نے اِن لوگوں کو پہلے کوئی کتاب دی تھی کہ یہ اسے پڑھتے ہوں اور نہ تم سے پہلے ان کی طرف کوئی متنبہ کرنے والا بھیجا تھا
اور ان (مکہ والوں) کو نہ تو ہم نے کتابیں دے رکھی ہیں جنہیں یہ پڑھتے ہوں نہ ان کے پاس آپ سے پہلے کوئی آگاه کرنے واﻻ آیا
اور ہم نے انہیں کچھ کتابیں نہ دیں جنہیں پڑھتے ہوں نہ تم سے پہلے ان کے پاس کوئی ڈر سنانے والا آیا
حالانکہ ہم نے نہ انہیں کوئی کتابیں دیں جنہیں وہ پڑھتے ہیں اور نہ ہی آپ سے پہلے ان کی طرف کوئی ڈرانے والا (نبی) بھیجا ہے۔
حالانکہ ہم نے نہ انھیں کوئی کتابیں دیں جنھیں وہ پڑھتے ہوں اور نہ ان کی طرف تجھ سے پہلے کوئی ڈرانے والا بھیجا۔

📖 تفسیر ابن کثیر

کافر عذاب الٰہی کے مستحق کیوں ٹھہرے؟ ٭٭

کافروں کی وہ شرارت بیان ہو رہی ہے جس کے باعث وہ اللہ کے عذابوں کے مستحق ہوئے ہیں کہ اللہ کا کلام تازہ بتازہ اس کے افضل رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے سنتے ہیں۔ قبول کرنا ماننا اس کے مطابق عمل کرنا تو ایک طرف کہتے ہیں کہ دیکھو یہ شخص تمہیں تمہارے پرانے اچھے اور سچے دین سے روک رہا ہے اور اپنے باطل خیالات کی طرف تمہیں بلا رہا ہے یہ قرآن تو اس کا خود تراشیدہ ہے آپ ہی گھڑ لیتا ہے۔ اور یہ تو جادو ہے اور اس کا جادو ہونا کچھ ڈھکا چھپا نہیں بالکل ظاہر ہے۔

پھر فرماتا ہے کہ ان عربوں کی طرف نہ تو اس سے پہلے کوئی کتاب بھیجی گئی ہے نہ آپ سے پہلے ان میں سے کوئی رسول آیا ہے۔ اس لیے انہیں مدتوں سے تمنا تھی کہ اگر اللہ کا رسول ہم میں آتا اگر کتاب اللہ ہم میں اترتی تو ہم سب سے پہلے مطیع اور پابند ہو جاتے۔ لیکن جب اللہ نے ان کی یہ دیرینہ آرزو پوری کی تو جھٹلانے اور انکار کرنے لگے، ان سے اگلی امتوں کے نتیجے ان کے سامنے ہیں۔ وہ قوت و طاقت، مال و متاع، اسباب دنیوی، ان لوگوں سے بہت زیادہ رکھتے تھے۔ یہ تو ابھی ان کے دسویں حصے کو بھی نہیں پہنچے لیکن میرے عذاب کے بعد نہ مال کام آئے نہ اولاد اور کنبے قبیلے کام آئے۔ نہ قوت و طاقت نے کوئی فائدہ دیا۔ برباد کر دیئے گئے۔ جیسے فرمایا «وَلَقَدْ مَكَّنّٰهُمْ فِيْمَآ اِنْ مَّكَّنّٰكُمْ فِيْهِ وَجَعَلْنَا لَهُمْ سَمْعًا وَّاَبْصَارًا وَّاَفْـــِٕدَةً» ۱؎ [46-الأحقاف:26] ‏‏‏‏ یعنی ’ ہم نے انہیں قوت و طاقت دے رکھی تھی۔ آنکھیں اور کان بھی رکھتے تھے دل بھی تھے لیکن میری آیتوں کے انکار پر جب عذاب آیا اس وقت کسی چیز نے کچھ فائدہ نہ دیا۔ اور جس کے ساتھ مذاق اڑاتے تھے اس نے انہیں گھیر لیا۔ ‘ کیا یہ لوگ زمین میں چل پھر کر اپنے سے پہلے لوگوں کا انجام نہیں دیکھتے جو ان سے تعداد میں زیادہ طاقت میں بڑھے ہوئے تھے۔ مطلب یہ ہے کہ رسولوں کے جھٹلانے کے باعث پیس دیئے گئے۔ جڑ سے اکھاڑ کر پھینک دیئے گئے۔ تم غور کر لو! دیکھ لو کہ میں نے کس طرح اپنے رسولوں کی نصرت کی اور کس طرح جھٹلانے والوں پر اپنا عذاب اتارا؟

📖 احسن البیان

44۔ 1 اس لیے وہ آرزو کرتے تھے کہ ان کے پاس بھی کوئی پیغمبر آئے اور کوئی صحیفہ آسمانی نازل ہو لیکن جب یہ چیزیں آئیں تو انکار کردیا۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 44) {وَ مَاۤ اٰتَيْنٰهُمْ مِّنْ كُتُبٍ يَّدْرُسُوْنَهَا۠ …:} اس آیت کی تفسیر دو طرح سے ہو سکتی ہے، ایک یہ کہ ہم نے انھیں ان کے مشرکانہ اقوال و افعال کی اجازت پر مشتمل کوئی کتاب نہیں دی جو ان کے پاس موجود ہو اور وہ اسے پڑھتے پڑھاتے ہوں اور نہ ہی ہم نے آپ سے پہلے ان کی طرف ایسا کوئی آگاہ کرنے والا بھیجا ہے جو ان کے مشرکانہ اقوال و افعال کی تائید کرتا ہو۔ دیکھیے سورۂ روم (۳۵)، فاطر (۴۰)، زخرف (۲۱) اور سورۂ احقاف (۴) اس کی دوسری تفسیر یہ ہے کہ ہماری طرف سے خاص ان کے لیے کوئی کتابیں نازل نہیں ہوئیں، نہ ہی آپ سے پہلے ان کے پاس کوئی ڈرانے والا آیا، اس لیے ضروری تھا کہ ان پر کتاب نازل ہو اور ان کی طرف پیغمبر مبعوث ہو، اسی لیے ہم نے آپ کو یہ قرآن دے کر ان کی طرف مبعوث فرمایا۔ دیکھیے سورۂ سجدہ (۳)۔
← پچھلی آیت (43) پوری سورۃ اگلی آیت (45) →